کل مولانا علم فن اول علم معانی ہم نے شروع کیا تھا علامہ تفتازانی نے اپ کو بتلایا کہ علم معانی کو مقدم کیا علم بیان پر اس لیے کہ علم معانی کس کے درجے میں ہے مفرد کے درجے میں ہے اور علم بیان مرکب کے درجے میں ہے اور مفرد مرکب پر طبعا مقدم ہے تو وضعا بھی اس کو کیا کر دیا مقدم کر دیا اور یہ نہیں کہا کہ مفرد ہے اور وہ مرکب ہے بلکہ یہ کہا مفرد کے درجے میں ہے اور وہ مرکب کے درجے میں ہے اس لیے مولانا کہ علم بیان کے اندر کس چیز کی رعایت رکھی جاتی ہے مطابقت کس کے ساتھ مقتضائے حال کے ساتھ اور علم بیان کے اندر مولانا کلام ایک معنی کو طرق واحد سے ادا کرنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے اس کا ذکر ہوتا ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ مطابقت بھی ملحوظ ہوتی ہے یعنی وہ بھی شرط کے درجے میں ہوتی ہے یہ معنی نہیں کہ وہاں ذکر ہوتی ہے بلکہ وہاں وہ ملحوظ ہوتی ہے تو علم بیان میں مطابقت کا ذکر نہیں ائے گا لیکن اس کے لیے مطابقت کا ہونا ضروری ہے اس کے لیے شرط ہے تو وہاں دو چیزیں اگئیں اور یہاں پر ایک چیز ائی تو لہذا وہ مرکب کے درجے میں اور یہ کس کے درجے میں مفرد کے درجے میں۔
اور پھر بتلایا تھا علم معانی کی تعریف کی تھی "هُوَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ أَحْوَالُ اللَّفْظِ الْعَرَبِيِّ الَّتِي بِهَا يُطَابِقُ اللَّفْظُ مُقْتَضَى الْحَالِ" کہ وہ علم ہے کہ جس کے ذریعے لفظ عربی کے وہ احوال پہچانے جاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے لفظ مطابق ہو جاتا ہے کس کے مقتضائے حال کے تو بتلایا تھا مولانا کہ علم ب علم کے دو معنی کیے تھے ایک ملکہ اور ایک وہ قواعد معلومہ بھئی اور دونوں معانی میں علم استعمال ہوتا ہے اور علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں کہ یہاں دونوں معانی لینا صحیح ہیں بھئی علم بمعنی ملکہ کے لینا بھی یہاں صحیح کہ وہ ملکہ جس کے ذریعے قادر ہوا جائے کس پر ادراکات مدرکات جزئیہ پر تو میں نے ادراکات کے بعد بتلایا تھا مضاف محذوف ہے مدرکات بھئی اس لیے کہ جزئی اور کلی ہونا وہ کس کی صفت ہے مدرک کی مولانا جس چیز کا اپ نے ادراک کیا ہے وہ یا کلی ہوگی یا جزئی ہوگی بھئی۔
تو وہ ملکہ ہے جس کے ذریعے انسان مدرکات جزئیہ کا ادراک کرتا ہے بھئی۔ اور جائز ہے کہتے ہیں کہ اس سے نفس اصول اور قواعد معلومہ کا ارادہ بھی کیا جائے قواعد معلومہ کا بھئی۔ تو علم معانی یہ نام ہے اس ملکے کا بھئی کس چیز کا نام ہے ملکے کا یا علم معانی وہ قواعد معلومہ ہیں ان کا نام ہے دونوں معانی صحیح ہیں۔
اور اس کے بعد پھر ذکر ایا تھا مولانا "يُعْرَفُ بِهِ" متن میں ذکر تھا علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ ماتن نے "يُعْلَمُ بِهِ" نہیں کہا "يُعْرَفُ بِهِ" کہا کیونکہ اس کے ذریعے لفظ عربی کے احوال کی جو جزئیات ہیں مولانا ان کا پتہ چلتا ہے اور جزئیات کے اندر کیا استعمال ہوتی ہے معرفت استعمال ہوتی ہے جبکہ علم کس میں استعمال ہوتا ہے کلیات کے اندر تو یہاں چونکہ جزئیات کا پتہ چلتا ہے اس لیے "يُعْرَفُ بِهِ" کہا "يُعْلَمُ بِهِ" نہیں کہا بھئی۔
سمجھ میں ایا لفظ عربی کے احوال ہیں مولانا اور جیسے تو ان میں تقدیم تاخیر اور حذف اثبات وغیرہ یہ ساری اس کی جزئیات ہیں مانا مولانا تو اس علم کے ذریعے ہمیں ایک ایک جزئی کا پتہ چلتا ہے ایک ایک فرد کا بھئی۔ یعنی یہ معنی نہیں کہ بالفعل پتہ چلے علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا کہ بالقوہ پتہ چلتا ہے یعنی کوئی بھی فرد پایا جائے تو اس علم کی مدد سے ہم اس کو کیا کر لیں گے پہچان لیں گے۔
اور پھر میں نے بتلایا تھا بھئی کہ لفظ عربی کے تین قسم کے احوال ہیں بھئی کچھ احوال وہ ہیں جن کا تعلق معنی مراد سے ہے بھئی اور کچھ احوال وہ ہیں جن کے تعلق اس معنی زائد سے ہے بھئی اور کچھ احوال وہ ہیں جن کا تعلق لفظوں کو حسین بنانے سے ہے بھئی۔ تین قسم کے۔ کون کون سے ہیں ایک اصل معنی یعنی معنی مراد کی ادائیگی سے ان کا تعلق ہے بھئی کہ مرفوع پڑھنا ہے منصوب پڑھنا ہے لفظ کو کس طرح پڑھنا ہے اعلال و ادغام وغیرہ کے ساتھ بھئی۔ اور کچھ کا تعلق کیا ہے وہ معنی زائد یعنی وہ تاکید وغیرہ جو ہے اس سے ہے اور کچھ کا تعلق کس سے ہے لفظوں کو حسین بنانے سے کہ وہ علم بدیع کی صنعتیں استعمال کر کے کلام کو کیا کر دیا جاتا ہے حسین کر دیا جاتا ہے تو یہاں پر بتلایا کون سے احوال کو پہچانا جاتا ہے کہ جن کے ذریعے لفظ مطابق ہوتا ہے کس کے مقتضائے حال کے یعنی وہ معنی ثانی مراد ہے معنی اول مراد نہیں ہے۔
تو یہ قید احترازی ہوئی تو اس سے وہ باقی دو احوال خارج ہوئے۔ اور "اَلْمُرَادُ أَنَّهُ" سے علامہ تفتازانی نے اپ کو بتلایا تھا کہ معرفت دو قسم پر ہے معرفت تصوریہ اور معرفت تصدیقیہ اور یہاں پر کون سی معرفت مراد ہے تصدیقیہ اس لیے کہ دیکھو تقدیم کے معنی کا اپ تصور کر لیں۔ تاخیر کے معنی کا تصور کر لیں۔ تنکیر کا تصور کر لیں۔ تعریف کے معنی کا تصور کر لیں۔ یہ علم معانی نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ ان کے معنی کا تصور کر لینا نہیں بھئی یہ تو تصور ہے اس کا یہ علم معانی نہیں۔ بلکہ اس میں مطابقت ملحوظ ہے کس کے ساتھ مقتضائے حال کے اور مقتضائے حال کے ساتھ مطابقت یہ مطابقت کس معرفت میں ائے گی بھئی معرفت تصدیقیہ میں ہوگی معرفت تصوریہ میں نہیں بھئی کیونکہ تصور میں مطابقت عدم مطابقت نہیں ہوتی بھئی۔
تو انہوں نے "مِنْ حَيْثُ حَيْثِيَّة" کی قید لگائی حیثیث کے احوال کو جانا جاتا ہے اس حیثی تو احوال تو یہی ہیں تقدیم، تاخیر، تنکیر، تعریف۔ لیکن یہ اس حیثیت سے ہیں کہ ان کے ساتھ لفظ مطابق ہو جائے گا کس کے ساتھ مقتضائے حال کے ساتھ تو معلوم ہوا معرفت تصدیقیہ مراد ہوئی نہ کہ تصوریہ۔ اور اس حیثیت کی قید سے مولانا کہتے ہیں علم بیان بھی تعریف سے خارج ہوا اس لیے کہ وہاں بھی لفظ عربی کے احوال سے بحث ہوتی ہے جیسے علم معانی میں تھی لیکن وہاں اس حیثیت سے نہیں کہ لفظ مطابق ہو جائے کس کے ساتھ مقتضائے حال کے بلکہ اس حیثیت سے کہ لفظ حقیقت ہے یا مجاز ہے۔
اس کے بعد بتلایا تھا مولانا کہ یہ جو تعریف متن میں ائی اس میں احوال سے مراد وہ خصوصیات ہیں بھئی۔ اور مقتضائے حال سے مراد وہ کلام کلی ہے جو مشتمل ہو اس خصوصیت پر تو مقتضائے حال کے بارے میں دو تقریریں گزری تھیں پہلے ایک تقریر ظاہری تقریر کے مطابق مقتضائے حال سے کیا مراد تھا خصوصیت مراد تھی۔ اور تحقیقی کلام کے مطابق اس سے کیا مراد تھا کلام کلی جو مشتمل ہو اس خصوصیت پر تو کہتے ہیں یہاں پر مقتضائے حال سے مراد وہ کلام کلی ہے اور احوال سے مراد کیا ہے خصوصیت اس لیے کہ اگر اپ ایسا نہیں کریں گے تو پھر اتحاد لازم ائے گا مطابق اور مطابق بہ میں اور جس طرح مطابق اور مطابق کے اندر اتحاد باطل ہے اسی طرح مطابق اور مطابق بہ کے اندر بھی اتحاد باطل ہے بھئی۔
سمجھ میں ایا بھئی؟ دیکھو مطابق کون ہوا لفظ عربی بھئی۔ کون مطابق ہوا؟ لفظ عربی اور کس کے مطابق ہوا؟ مقتضائے حال کے۔ تو مقتضائے حال کیا ہوا؟ مطابق۔ تو مطابق اور مطابق کا اتحاد باطل ہے یہ دونوں ایک چیز نہیں ہو سکتے کیونکہ چیز غیر کے مطابق ہوتی ہے اپنی نفس کے مطابق تو نفس کے مطابق ہونے کا کیا معنی بھئی۔ اور کس کی مدد سے ہوتا ہے بھئی کس کے سبب سے مطابق ہوتا ہے؟ ان خصوصیات کے۔ تو وہ کیا ہوئیں؟ مطابق بہ۔ تو اگر احوال سے بھی خصوصیات مراد لے لیں اور مقتضائے حال سے بھی کیا مراد لے لیں خصوصیات مراد لے لیں تو تو مطابق بہ بھی ہوئیں اور مطابق بھی ہوئیں اور اتحاد لازم ایا اور یہ تو باطل ہے۔
اس کے بعد ایک اور اشکال ہوا تھا کہ اپ نے کہا لفظ عربی کے احوال سے بحث ہوگی تو مولانا احوال اسناد تو خارج ہوئے۔ ان سے اپ کیوں بحث کرتے ہیں وہ تو لفظ کے احوال نہیں کیونکہ اسناد تو لفظ نہیں یہ تو نسبت ہے دو چیزوں کے دو حصوں کے درمیان کلام کے۔ تو یہ تو نسبت کا نام ہے مولانا تو یہ تو لفظ نہیں جب لفظ نہیں تو پھر اس کے احوال جو ہیں وہ اس علم کے اندر شامل نہیں کیونکہ اس میں تو لفظ کے احوال سے بحث ہوگی بھئی۔ تو بتلایا تھا اسناد بھی حصہ ہے جملے کا۔ تو دراصل جو اسناد کے احوال ہیں وہ بھی احوال ہیں جملے کے۔ ہاں براہ راست نہیں ہیں بلکہ بواسطہ اسناد کے ہیں۔ کس کے؟ بھئی اسناد کس کا جزو ہے؟ جملے کا۔ تو جو اسناد کے احوال ہوئے وہ کس کے احوال ہوئے؟ جملے ہی کے احوال ہوئے کیونکہ جزو کے احوال کس کے احوال ہوتے ہیں؟ کل کے احوال ہوتے ہیں۔ ہاں براہ راست احوال نہ ہوئے جملے کے یہ بلکہ بواسطہ اسناد کے یہ احوال ہوئے کس کے؟ ہاں تو احوال عام ہیں بھئی چاہے براہ راست ہوں بلا واسطہ ہوں اور چاہے بالواسطہ ہوں بھئی۔
اور پھر جو بتلایا مولانا کہ لفظ عربی جو ذکر کیا عربی کی قید کی ضرورت نہیں ہر زبان کے اندر یہی احوال جاری ہوں گے لیکن عربی کی اس لیے ذکر کیا کہ اس فن کو وضع ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ قران کی فصاحت و بلاغت اور اس کے اسرار کو جانا جائے اور قران ہے عربی کے اندر تو اس وجہ سے یہ اس میں کس زبان کی بحث ہوئی ہے عربی زبان کی چونکہ بحث کی ہے اس لیے عربی کی قید لگائی بھئی۔
اور پھر "يَنْحَصِرُ" کے بعد "اَلْمَقْصُودُ" نکالا تھا علامہ تفتازانی نے وجہ حصر کہ اٹھ ابواب میں بند ہے۔ تو اس پر تو اشکال ہوا کہ تین چیزیں بھئی جو وہ تو نکل گئیں اس میں سے ایک تعریف علم معانی کی تعریف بھی ذکر ہوئی ایک وجہ حصر ذکر ہو رہی ہے اور ایک اگے تنبیہ ائے گی جس میں صدق و کذب خبر کا بیان ائے گا تو یہ تینوں تو خارج تو اٹھ اور تین گیارہ یہ گیارہ چیزوں کو بند یہ علم معانی ہے بھئی علم معانی بند ہے ان گیارہ چیزوں میں۔ یوں کہنا چاہیے تھا اٹھ ابواب میں بند نہیں تو علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ مراد مقصود ہے بھئی یہ ٹھیک ہے یہ تین چیزیں یہ تعریف یہ وجہ حصر اور یہ تنبیہ یہ علم معانی میں شامل ہیں لیکن اس کا مقصود نہیں اس کے مقصود وہ ابواب ثمانیہ ہیں بھئی۔
اور بتلایا تھا یہ جو اٹھ ابواب میں بند ہے مقصود علم معانی یہ "اِنْحِصَارُ الْكُلِّ فِي الْأَجْزَاءِ" کی قبیل سے ہے "اِنْحِصَارُ الْكُلِّيِّ فِي الْجُزْئِيَّاتِ" کی قبیل سے نہیں میں نے بتلایا تھا حصر دو قسم پر ہے کبھی کل کا حصر ہوتا ہے اجزاء میں اور کبھی کلی کا حصر ہوتا ہے افراد میں فرق دونوں میں یہ ہے کہ جہاں پر کلی کا حصر ہوگا افراد میں تو ایک ایک فرد پر کلی کا صدق اور حمل صحیح ہوگا اور جہاں کل کا حصر ہوگا جزئیات میں وہاں ایک ایک جزو پر کل کا حمل صحیح نہیں ہوگا۔ تو علم معانی صرف ایک ایک باب کو پکڑیں احوال اسناد خبری علم معانی ہے یہ صحیح نہیں بنتا بھئی علم معانی صرف احوال اسناد خبری کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو نام ہے اس کے یہ سارے ابواب کے مجموعے کا نام ہے تو یہ انحصار یہ اس کے اجزاء ہیں سارے مل کر مجموعہ جو ہے یہ علم معانی کہلاتا ہے بھئی۔
وجہ حصر اب ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ کیوں ان اٹھ ابواب میں بند کیا علم معانی کے مقصود کو کہتے ہیں اس میں ان بند اس انحصار اس لیے کیا کیونکہ کلام یا تو خبر ہوگا یا کیا ہوگا انشاء ہوگا "وَإِنَّمَا انْحَصَرَ فِيهَا لِأَنَّ الْكَلَامَ إِمَّا خَبَرٌ أَوْ إِنْشَاءٌ لِأَنَّهُ لَا مَحَالَةَ يَشْتَمِلُ عَلَى نِسْبَةٍ تَامَّةٍ بَيْنَ الطَّرَفَيْنِ قَائِمَةٍ بِنَفْسِ الْمُتَكَلِّمِ" اس لیے کہ کلام یقینی طور پر قطعی طور پر مشتمل ہوگا لا محالہ قطعی طور پر۔ قطعی طور پر مشتمل ہوگا علی نسبۃ تامۃ کس چیز پر ایسی نسبت تامہ پر بین الطرفین جو کس کے درمیان ہو کلام کی دو طرفین کے درمیان ہو یعنی مسند اور مسند الیہ کے درمیان ہو قائمۃ بنفس المتکلم اور قائم ہو نفس متکلم کے ساتھ۔
بھئی یاد رکھو مولانا نسبت تین قسم پر ہے بھئی یہ بات اچھی طرح سمجھ لو بھئی۔ نسبت تین قسم پر ہے مولانا ایک نسبت کلامیہ ایک نسبت ذہنیہ اور ایک نسبت خارجیہ۔ یرحمک اللہ۔ دیکھیے بھئی یہ ادھر دیکھیے بھئی میں کہتا ہوں زید قائم یہ کلام ہے مولانا۔ تو دیکھیے قائم کا اسناد ہوا کس کی طرف زید کی طرف مولانا یہ نسبت کلامی ہے کیونکہ یہ نسبت کس میں پائی جا رہی ہے کلام میں۔ یہ نسبت کلامی ہے۔
پھر اس نسبت کا اپ نے ذہن میں تصور بھی کیا بھئی ذہن میں بھی کیا کیا مولانا قائم کا اسناد کس کی طرف کیا اپ نے زید کی طرف یہ نسبت ذہنی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے نسبت ذہنی ہے۔ بھئی دونوں میں فرق صرف اعتباری ہے مولانا اعتباری۔ یہی نسبت باعتبار کہ کلام میں موجود ہے یہ نسبت کلامی ہے اور یہی نسبت باعتبار کہ اس کا اپ نے ذہن میں کیا کیا ہے تصور کیا ہے یہ کیا ہے نسبت ذہنی ہے بھئی نسبت ذہنی ہے۔ فرق سمجھ میں ایا دونوں میں بھئی؟ اور نسبت خارجیہ خارج میں بھی دیکھو مولانا کہ قیام زید کے لیے ثابت ہے بھئی۔ قیام کیا ہے زید کے لیے خارج میں بھی زید کھڑا ہے مولانا تو زید کے لیے کیا ثابت ہے قیام ثابت ہے یہ نسبت خارجیہ ہے مولانا خارج میں ہے نفس الامر میں ہے واقع کے اندر ہے مولانا۔ تو یہ کیا ہے نسبت خارجیہ ہے مولانا۔
تو کتنی قسم کی نسبتیں ہوئیں؟ تین قسم کی نسبتیں۔ اول نسبت کلامیہ، ثانی نسبت ذہنیہ، تیسری نسبت خارجیہ۔ نسبت کلامیہ کس کو کہتے ہیں مولانا؟ جو کلام کی دو طرفین میں ہو مولانا۔ نسبت ذہنیہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ نسبت جو اب ذہن میں ہے اور نسبت خارجیہ کس کو کہتے ہیں؟ جو خارج میں ہے زید اور قیام کے درمیان مولانا زید اور قیام میں۔
اب دیکھیے مولانا اس لیے کہ کلام یا تو خبر ہوگا یا انشاء اس لیے کہ وہ قطعی طور پر مشتمل ہوگا ایسی نسبت تامہ پر بین الطرفین کس کے بیچ میں دو طرفین سے کیا مراد ہے مولانا مسند الیہ اور مسند کے درمیان قائم ایسی نسبت تامہ قائمۃ بنفس المتکلم کہ وہ نسبت قائم ہو کس کے ساتھ نفس متکلم یہ محل اشکال ہے مولانا۔ بھئی یہ نسبت کلامی کی بات چل رہی ہے اوپر کلام بتلایا اور نسبت کلامی نفس متکلم کے ساتھ قائم نہیں ہوتی۔ نفس متکلم کے ساتھ تو کون سی نسبت قائم ہے؟ نسبت ذہنی بھئی۔ تو پھر یہ کہنے کا کیا مطلب کہ قائم ہے کس کے ساتھ نفس متکلم اشکال سمجھ میں ایا؟ نفس متکلم کے ساتھ تو کون سی نسبت قائم ہے؟ نسبت ذہنی اس کا اس نے تصور کیا ہے یہ تو نسبت کلامی ہے پھر قائمۃ بنفس المتکلم کیوں کہا بھئی؟ کہتے ہیں بھئی مراد یہ ہے کہ نفس متکلم کے ساتھ قیام کا یہ مطلب کہ متکلم نے اس کا ادراک کیا ہے۔ بھئی کلام میں قیام کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ تو اس کا ادراک کس نے کیا؟ متکلم نے کیا یا نہیں کیا؟ متکلم نے چونکہ اس کا ادراک کیا ہے اس لیے مولانا بنفس المتکلم کہا ورنہ یہ متکلم کے نفس کے ساتھ قائم نہیں بھئی۔
اب وہ نسبت تامہ کیا ہے مولانا بتلا رہے ہیں "وَهُوَ تَعَلُّقُ أَحَدِ الشَّيْئَيْنِ بِالْآخَرِ بِحَيْثُ يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهِ" وہ ربط ہے مولانا تعلق ہے دو چیزوں میں سے ایک کا بالاخر کس کے ساتھ؟ دوسری کے ساتھ بحیث اس طور پر یصح السکوت علیہ کہ اس پر سکوت کرنا صحیح ہو "سَوَاءٌ كَانَ إِيجَابًا أَوْ سَلْبًا أَوْ غَيْرَهُمَا كَمَا فِي الْإِنْشَائِيَّاتِ" برابر ہے چاہے وہ نسبت تعلق اور ربط کس قسم کا ہو؟ ایجابا ہو یا سلبا ہو مولانا اپ کہتے ہیں زید قائم او سلبا یا کیا ہو؟ سلبا ہو مولانا اپ کہتے ہیں ما زید قائما او غیرھما یا کیا ہو مولانا ان کے علاوہ ہو کما فی الانشائیات جیسے کس میں ہوتی ہے؟ انشائیات میں بھئی انشائیات میں مولانا انشاء کے اندر ایجاب و سلب کے ایجاب و سلب والا تعلق نہیں ہوتا سمجھ میں ایا بھئی؟ ایجاب و سلب والا تعلق نہیں ہوتا باعتبار وضع کے مولانا سمجھ میں ایا؟ یعنی اس میں کسی چیز کا ثبوت دوسری کے لیے یا کسی چیز کی نفی دوسری سے نہیں ہاں اس کے ساتھ لازم ہے اس کے ساتھ کیا ہے؟ ایجاب و سلب لازم ہے لیکن وضع کے اعتبار سے اس میں نہیں لازم کیسے اِضْرِبْ بائی معنی اِضْرِبْ زَيْدًا کس معنی میں ہے ضَرْبُ زَيْدٍ مَطْلُوبٌ مِنْكَ اِضْرِبْ زَيْدًا کس معنی میں ہے مولانا ایجاب ایا نہیں ایا مولانا؟ جی؟ ایجاب اگیا مولانا ضرب زید اپ سے مطلوب ہے مولانا اور لَا تَضْرِبْ زَيْدًا کیا معنی تَرْكُ ضَرْبِ زَيْدٍ مَطْلُوبٌ مِنْكَ زید کی ترک ضرب کیا ہے اپ سے تو دیکھو انشاء کے ساتھ لازم ہے مولانا کیا چیز ایجاب و سلب لیکن باعتبار وضع کے یہ نہیں ہے مولانا سمجھ میں ایا؟ ہاں ا جائے گا اس میں لیکن وضع کے اعتبار سے نہیں۔
"وَتَفْسِيرُهَا بِإِيقَاعِ الْمَحْكُومِ بِهِ عَلَى الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ أَوْ سَلْبِهِ عَنْهُ خَطَاءٌ فِي هَذَا الْمَقَامِ لِأَنَّهُ لَا يَشْمَلُ النِّسْبَةَ الَّتِي فِي الْكَلَامِ الْإِنْشَائِيِّ فَلَا يَصِحُّ التَّقْسِيمُ" بھئی علامہ تفتازانی نے نسبت کی ایک تعریف کی۔ علامہ تفتازانی نے کیا تعریف کی وہو تعلق احد الشیئین بالاخر بحیث یصح السکوت علیہ سواء کان ایجابا او سلبا او غیرھما کما فی الانشائیات تو مولانا انہوں نے یہ تعریف کی ایک چیز کا دوسری سے تعلق ہونا اس طور پر کہ اس پر سکوت کرنا صحیح ہو اب چاہے وہ ایجاب کے طریقے پر تعلق ہو چاہے سلب کے طریقے پر ہو یا ان دونوں کے علاوہ ہو۔ تو یہ تعریف انہوں نے اس لیے کی تاکہ اس میں خبر بھی داخل ہو جائے اور انشاء بھی داخل ہو جائے۔ اس لیے کہ نسبت جیسے خبر میں پائی جاتی ہے اسی طرح انشاء میں بھی پائی جاتی ہے۔ تو انہوں نے ایسی تعریف کی جو خبر کو بھی شامل انشاء کو بھی ایجاب و سلب کے طور پر ہو چاہے ان دونوں کے خبر میں ایجاب و سلب کے طریقے پر ہوگی انشاء میں ان کے علاوہ طریقے پر ہوگی بھئی۔
بعض علماء نے یہاں اور تعریف کی تھی نسبت تامہ کی۔ علامہ تفتازانی اس کو رد کریں گے۔ اور نسبت کی تعریف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اگے متن میں نسبت کا لفظ ا رہا ہے وان کان لنسبتہ اس لیے پہلے سے کیا کر رہے ہیں نسبت کی تعریف کر رہے ہیں۔ تو بعض علماء نے یہ تفسیر کی نسبت کی وتفسیرھا اور تفسیر اس نسبت کی بایقاع المحکوم بہ ایقاع کا معنی ہے مولانا محکوم بہ کا واقع کرنا محکوم علیہ پر کیا معنی یعنی ادراک کرنا وقوع نسبت کا کس چیز کا ادراک کرنا میں نے کہا زید قائم بھئی قیام کی نسبت میں نے کس کی طرف کی تو میں نے ادراک کیا وقوع نسبت کا کہ یہ نسبت کیا ہے قیام کی زید یہ واقع ہے مولانا یہ واقع ہے۔ سمجھ میں ایا بھئی؟
تو ایقاع کا معنی ہے ادراک کرنا وقوع نسبت کا اور وقوع نسبت کا کیا معنی؟ کہ یہ نسبت مطابق ہے واقع کے وقوع نسبت کا کیا معنی؟ یہ نسبت مطابق ہے کس کے واقع کے اور سلب المحکوم بہ عن المحکوم علیہ محکم بہ کا سلب کریں ذرا محکوم علیہ سے ما زید قائما تو اپ نے قیام کا سلب کر دیا کس سے؟ زید سے تو اس کا کیا معنی سلب تو یہاں اس میں کیا تھا مولانا ادراک کس چیز کا وقوع نسبت کا تو یہاں کیا ہوگا ادراک عدم وقوع کا یعنی ادراک کرنا کس چیز کا عدم مطابقت نسبت للواقع بھئی یعنی مطابقت ہے واقع کے ساتھ یا مطابقت نہیں ہے اور یہ کلام خبری میں ہوتا ہے ایسا کلام انشائی میں نہیں۔ بھئی دیکھیے مولانا میں نے کہا زید قائم تو اس میں ایقاع نسبت ہے یعنی اپ نے ادراک کیا ہے کہ یہ نسبت کیا ہے واقع ہے کیا معنی واقع ہے یعنی یہ نسبت مطابق ہے کس کے واقع کے ساتھ یا یہ نسبت مطابق نہیں ہے واقع کے ساتھ اور واقع کے ساتھ مطابق ہونا اور مطابق نہ ہونا یہ صرف خبر میں دیکھا جاتا ہے کہ یہ واقع کے مطابق ہے یا واقع کے مطابق واقع کے مطابق ہے تو خبر صادق واقع کے مطابق نہیں تو خبر کاذب تو اگر کہتے ہیں بعض علماء نے جو ایقاع کے ساتھ تفسیر کی ہے مولانا کس کی نسبت تامہ کی تو اس صورت میں یہ نسبت کلامی کلام خبری کو تو شامل ہوا کلام انشائی کو شامل کیونکہ وہاں پر عدم مطابقت اور عدم مطابقت کو دیکھا جب نہیں جاتا تو انشاء خارج ہوا اور جب انشاء خارج ہوا تو پھر اس کی تقسیم کرنا خبر اور انشاء کی طرف صحیح اس میں تو انشاء داخل ہی نہیں ہے تو اپ اس کی جانب تقسیم کیسے کر رہے ہیں لہذا نسبت کی ایسی تعریف کی جائے جو پہلے دونوں کو شامل تو ہو پھر جا کے اگے چل کر ہم دونوں کی کیا کر سکیں تقسیم بھی کر سکیں اور وہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ نسبت کی وہ تعریف کی جائے جو علامہ تفتازانی فرماتے ہیں وہ تعریف جو بعض دیگر علماء نے کی ہے وہ اس مقام پر صحیح نہیں کیونکہ اس سے انشاء خارج ہو جاتا ہے۔
اچھا بھئی اوپر پہلے علامہ تفتازانی نے تفسیر کی تھی کس کی نسبت کی بھئی نسبت کی اور نسبت کس کو کہتے تھے کیا علامہ تفتازانی نے بتلایا وہ ایک چیز کا تعلق ہے دوسری چیز کے ساتھ اس طور پر کہ اس پر سکوت کرنا صحیح ہو چاہے یہ ایجاب کے طریقے پر ہو چاہے سلب کے طریقے پر ہو یا ان کے علاوہ ہو بھئی ان کے علاوہ ہو۔ یہ ان کے علاوہ کی قید علامہ تفتازانی نے بتلایا کس لیے کہ انشائیات میں جو نسبت ہوتی ہے نہ ایجاب کے طریقے پر ہوتی ہے اور نہ سلب کے طریقے پر۔ تو نسبت تامہ کی اسناد کی بات کی تھی اور اگے تقسیم کرنے لگے ہیں کلام کی خبر اور انشاء کی طرف بھئی کس کی طرف خبر اور انشاء کی طرف تقسیم کرنے لگے ہیں تو لہذا ضروری ہوا کہ اسناد کی ایسی تعریف کی جائے کہ جس کی وجہ سے خبر کے ساتھ ساتھ انشاء بھی اس میں داخل ہو جائے جب وہ داخل ہوگا تو پھر ہی اس کی اگے تقسیم صحیح ہو سکتی ہے ورنہ تو تقسیم ہی صحیح نہیں۔
چنانچہ بعض علماء نے یہاں پر اور تفسیر کی علامہ تفتازانی فرماتے ہیں وتفسیرھا بایقاع المحکوم بہ علی المحکوم علیہ او سلبہ عنہ خطاء فی ھذا المقام کہ اس نسبت تامہ کی تفسیر کرنا کس چیز کے ساتھ ایقاع المحکوم بہ علی المحکوم علیہ کہ محکوم بہ کو واقع کیا گیا ہے کس پر محکوم علیہ پر او سلبہ عنہ یا محکوم بہ کا سلب کیا گیا ہے کس سے محکوم علیہ سے خطاء یہ تفسیر غلط ہے فی ھذا المقام اس مقام میں جہاں پر تقسیم ہو رہی ہے خبر اور انشاء کی طرف تو یہ کیوں غلط ہے کیونکہ لانہ لا یشمل النسبۃ التی فی الکلام الانشائی اس لیے کہ یہ شامل نہیں ہے اس نسبت کو جو کس کے اندر ہوتی ہے کلام انشائی میں فلا یصح التقسیم تو پھر تو تقسیم ہی صحیح نہ رہے گی۔
فَالْكَلَامُ إِنْ كَانَ لِنِسْبَتِهِ خَارِجٌ پس کلام اگر اس کے لیے ایسی نسبت ہو، یعنی کلام کے لیے جو نسبت ہے اس کے لیے ایسا خارج ہو۔
فِي أَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں یہ دراصل علامہ تفتازانی بتلانا چاہتے ہیں کہ نسبت خارجی میں تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ ملحوظ ہوگا۔ حال ہونا ضروری نہیں۔ ورنہ مثلا میں کہتا ہوں سیقوم زید زید عنقریب کھڑا ہوگا۔ تو فی الحال وہ کھڑا ہے؟ نہیں۔ تو وہاں تو نسبت خارجی ملحوظ ہے مستقبل میں۔ تو کہتے ہیں جس زمانے میں ہے اسی کا لحاظ رکھا جائے گا۔ فی الحال اس کا وقوع کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔ اسی زمانے کے اعتبار سے ہوگی بھئی۔ وہ نسبت خارجی بھی فی احد الازمنۃ الثلثۃ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔
أَيْ يُطَابِقُ تِلْكَ النِّسْبَةُ ذَلِكَ الْخَارِجَ أَوْ لَا تُطَابِقُهُ بِأَنْ يَكُونَا ثُبُوتِيَّيْنِ أَوْ سَلْبِيَّيْنِ أَوْ مُخْتَلِفَيْنِ... أَيْ فَالْكَلَامُ خَبَرٌ پس خبر ای فالکلام خبر تو پھر کلام کیا ہوگا؟ خبر ہوگا۔ خبر کے اندر خارج میں نسبت خارجی ہوگی انشاء کے اندر نسبت خارجی نہیں ہوتی۔
اور تفسیر اس نسبت کی اس طور پر کہ محکوم بہ کو واقع کیا ہے محکوم علیہ پر یا محکوم بہ کا سلب کیا ہے محکوم علیہ سے یہ تفسیر اس مقام میں غلط ہے اس لیے کہ یہ اس نسبت کو شامل نہیں جو کلام انشائی میں ہوتی ہے تو تقسیم صحیح نہیں رہے گی۔ پس کلام اگر اس کی نسبت کے لیے خارج میں تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں کوئی خارج ہو یعنی وہ نسبت خارجی مطابق ہو اس خارج کے یا مطابق نہ ہو بایں طور کہ دونوں ثبوتی ہوں یا سلبی ہوں یا مختلف ہوں۔
اور اگر ایسا نہ ہو یعنی اس کی نسبت کے لیے ایسا خارج نہ ہو تو پھر وہ کلام انشاء ہے۔ اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ کلام کے لیے یا تو ایسی نسبت ہوگی اس طور پر کہ وہ لفظ سے حاصل ہو رہی ہو اور لفظ اس کو وجود دے رہا ہو بغیر اس ارادے کے کہ یہ دلالت کرے اس نسبت پر جو واقع میں دو چیزوں کے درمیان حاصل ہے، اور وہ انشاء ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ خبر ہے۔ اور خبر کے اندر یہ نسبت خارجی ہوگی اور انشاء میں نسبت خارجی نہیں ہوگی۔ تو پھر کلام خبر ہوگا اور جس میں نسبت خارجی نہ ہو وہ انشاء ہوگا۔ اور پھر کلام خبر ہوگا، اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر کلام انشاء ہے۔ اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ کلام کے لیے یا تو ایسی نسبت ہوگی اس طور پر کہ وہ لفظ سے حاصل ہو رہی ہو اور لفظ اس کو وجود دے رہا ہو بغیر اس ارادے کے کہ یہ دلالت کرے اس نسبت پر جو واقع میں دو چیزوں کے درمیان حاصل ہے، اور وہ انشاء ہے۔
کلامی ہے بھئی۔ إِضْرِبْ زَيْدًا۔ تو إِضْرِبْ اور أَنْتَ کے درمیان اسناد ہے یا اسناد نہیں ہے مولانا؟ اسناد تو لازمی بات ہے کلام بنے گا ہی تب۔ تو یہ ایک نسبت کلامی موجود ہے۔ تو إِضْرِبْ زَيْدًا کے ذریعے میں آپ سے کیا کر رہا ہوں؟ زید کی ضرب کو طلب کر رہا ہوں۔ اب خارج میں بھی دیکھیں گے۔ یہ تو کل نسبت کلامی ہے، خارج میں بھی۔ میرا نفس کیا واقعی اس ضرب کو طلب کر رہا ہے یا یہ لفظ ویسے ہی میں جملہ کہہ رہا ہوں ایک؟ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ میں کہتا ہوں إِضْرِبْ زَيْدًا۔ آپ بتائیے یہ جملہ میں ویسے بول رہا ہوں یا آپ کو حقیقتاً کہہ رہا ہوں زید کی پٹائی کرو؟ جس وقت تو میں ویسے ہی کہہ رہا ہوں بطور مثال کے۔ تو یہ إِضْرِبْ زَيْدًا کے اندر ایک نسبت ہے۔ اور خارج کے اندر اب دیکھیں کہ میرا کلام اب تو اس جملے کے اندر کیا چیز ہے؟ زید کے لیے ضرب کو طلب کیا جا رہا ہے آپ سے۔ اب خارج میں بھی دیکھیں۔ کیا میرا نفس واقعی اس ضرب کو طلب بھی کر رہا ہے یا طلب نہیں کر رہا۔ اگر طلب کر رہا ہے تو نسبت کلامی مطابق ہوئی کس کے ساتھ؟ نسبت خارجی کے ساتھ۔ اور اگر میرا نفس طلب نہیں کر رہا لیکن کلام میں تو میں کہہ رہا ہوں تو یہ نسبت کلامی مطابق نہ ہوئی کس کے ساتھ؟ نسبت خارجی کے ساتھ۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ کتنی عجیب بات آج آپ کو پتہ چلی کہ انشاء کے لیے بھی کیا ہوتا ہے؟ خارج ہوتا ہے۔ لیکن مولانا یہاں مطابقت اور عدم مطابقت کا ارادہ نہیں۔ یہاں بھی مطابقت یا عدم مطابقت ہوگی لیکن اس کا ارادہ نہیں۔ لیکن خبر کے اندر وہاں مطابقت اور عدم مطابقت کا کیا ہوتا ہے؟ ارادہ ہوتا ہے۔ سب کو بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے مولانا کہ کلام کے لیے یا تو ایسی نسبت ہوگی جو کس سے حاصل ہو رہی ہے؟ لفظ سے حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن یہ ارادہ نہیں ہے کہ یہ دلالت کر رہا ہے اس نسبت پر جو حاصل ہو رہی ہے کس میں؟ واقع میں بھی حاصل ہو رہی ہے دو چیزوں کے درمیان، اس کا ارادہ نہیں ہے بھئی۔
وَهُوَ الْإِنْشَاءُ اور وہ کیا ہے؟ انشاء ہے۔ أَوْ يَكُونُ نِسْبَتُهُ بِحَيْثُ يُقْصَدُ أَنَّ لَهَا نِسْبَةً خَارِجِيَّةً تُطَابِقُهَا أَوْ لَا تُطَابِقُهَا، فَهُوَ الْخَبَرُ۔ لِأَنَّ النِّسْبَةَ الْمَفْهُومَةَ مِنَ الْكَلَامِ، الْحَاصِلَةَ (یہ نسبت الحاصلۃ یہ صفت ہے نسبت کی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے أَنَّ النِّسْبَةَ الْمَفْهُومَةَ وہ منصوب ہے تو یہ بھی منصوب پڑھیں)۔ اس لیے کہ وہ نسبت جو مفہوم ہو رہی ہے کلام سے، الْحَاصِلَةَ فِي الذِّهْنِ جو حاصل ہو رہی ہے کس میں؟ ذہن میں۔ لَا بُدَّ (یہ واؤ زائدہ ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟) ضروری ہے کہ وہ کس کے بیچ میں ہو؟ أَنْ تَكُونَ بَيْنَ شَيْئَيْنِ دو چیزوں کے درمیان۔ وَمَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنِ الذِّهْنِ...
یہاں سے علامہ تفتازانی مولانا... یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ایک ہے نسبت خارجی اور دوسری ہے نسبت کلامی اور نسبت ذہنی۔ کہتے ہیں بھئی یہ جو نسبت خارجی ہے وہ مستقل ایک الگ چیز ہے نسبت کلامی اور نسبت ذہنی کے علاوہ بھئی۔ نسبت کلامی اور نسبت ذہنی کے علاوہ نسبت خارجی کیا ہے ایک؟ مستقل چیز ہے۔ اس لیے کہ وہ نسبت جو مفہوم ہو رہی ہے کلام سے اور حاصل ہو رہی ہے ذہن کے اندر لَا بُدَّ أَنْ تَكُونَ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ وہ ضروری ہے کہ ہو کس کے؟ دو چیزوں کے درمیان۔ وَمَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنِ الذِّهْنِ اور ذہن سے قطع نظر لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَاذَيْنِ الشَّيْئَيْنِ فِي الْوَاقِعِ نِسْبَةٌ ثُبُوتِيَّةٌ ان دو چیزوں کے درمیان واقع میں بھی کیا ہوگی؟ نسبت ثبوتی ہوگی بِأَنْ يَكُونَ هَاذَا ذَاكَ بایں صورت کہ یہ وہ ہوگا۔ ہذا ذاک (هَذَا ذَاكَ)، ہذا موضوع اور ذاک کیا ہے؟ محمول۔ یعنی زَيْدٌ قَائِمٌ۔ أَوْ سَلْبِيَّةٌ یا کیا ہوگی مولانا؟ نسبت ان دو چیزوں کے درمیان سلبی ہوگی بِأَنْ لَا يَكُونَ هَاذَا ذَاكَ مثلاً یہ چیز وہ نہیں ہے۔ یعنی زید قائم نہیں ہے۔ تو سلبی ہو گئی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہذا ذاک یہ موضوع محمول۔ اسی طرح لَا يَكُونُ هَذَا ذَاكَ تو یہ بھی کیا ہے موضوع اور محمول۔ ایک کی جگہ کوئی موضوع اٹھا کر رکھ دیں دوسرے کی جگہ کوئی محمول اٹھا کر رکھ دیں تو نسبت ایجابی۔ ایک میں ثبوت ہے اور ایک میں کیا ہے؟
تو بھئی کہتے ہیں علامہ تفتازانی ادھر دیکھیے۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں یہ جو آپ نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ کلام کے اندر اور یہ جس کا آپ نے تصور کیا ذہن کے اندر بھی زید کے لیے قیام کا اثبات کیا۔ کہتے ہیں اس سے قطع نظر مولانا، اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا، نسبت خارجی ایک الگ ہے مولانا، وہ بھی یا سلباً ہوگی یا کیا ہوگی؟ ایجاباً۔ یہ معنی نہیں کہ کلام میں ایجاباً ہے تو خارج میں بھی کیا ہوگی؟ ایجاباً۔ کلام میں سلباً ہے یا ذہن میں سلباً ہے تو خارج میں بھی کیا ہوگی؟ سلباً۔ بلکہ وہ کیا ہے ایک مستقل الگ ہے۔ تو کلام میں جیسی بھی ہو، خا اس سے قطع نظر خارج میں بھی یقیناً یہ جو موضوع محمول کا حمل ہوا کس پر؟ موضوع پر، وہاں پر بھی اسی طرح قیام زید کے لیے یا تو ثابت ہوگا یا ثابت نہیں ہوگا۔ اگر ہے تو ثبوتی ہے، اگر نہیں تو سلبی ہے۔ أَلَا تَرَى کیا تو دیکھتا نہیں أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ زَيْدٌ قَائِمٌ جب تو یہ کہتا ہے کہ زید کھڑا ہے فَإِنَّ نِسْبَةَ الْقِيَامِ مَثَلًا پس تو نسبت قیام مثال کے طور پر حَاصِلَةٌ لِزَيْدٍ قَطْعًا قطعی طور پر زید کے لیے... بھئی کلام سے قطع نظر، میں نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ۔ اور خارج میں بھی زید کیا تھا؟ کھڑا تھا۔ تو اس نسبت کلامی سے قطع نظر زید کے لیے قطعی طور پر قیام کا ثبوت خارج میں ہے یا نہیں ہے مولانا؟ ہے۔ تو اس نسبت کلامی سے الگ اس کا ایک الگ وجود ہے قطعی طور پر۔
سَوَاءٌ قُلْنَا برابر ہے کہ ہم یہ کہیں کہ إِنَّ النِّسْبَةَ مِنَ الْأُمُورِ الْخَارِجِيَّةِ أَوْ لَيْسَتْ مِنْهَا کہ یہ نسبت امور خارجیہ میں سے ہے یا امور خارجیہ میں سے نہیں ہے۔ بھئی یہ دراصل اختلاف ہے۔ حکماء کہتے ہیں نسبت امور خارجیہ میں سے ہے۔ نسبت کیا ہے؟ امور خارجیہ میں سے ہے۔ یہ جو نسبت خارجی ہے کس میں؟ زید اور قیام کے درمیان جو نسبت ہے، حکماء کہتے ہیں کہ یہ نسبت خارجیہ ایک واقعی چیز ہے حتی کہ اس کا وجود بھی ممکن ہے۔ تو واقعی چیز ہے، وجودی چیز ہے۔ جبکہ علماء اہل سنت والجماعت فرماتے ہیں کہ یہ کوئی واقعی چیز نہیں ہے یہ صرف اعتباری چیز ہے۔ یہ کیا ہے؟ آپ نے اعتبار کیا ہے کہ زید اور قیام میں کیا ہے؟ نسبت ہے۔ زید اور قیام میں۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ برابر ہے چاہے آپ نسبت کو امور خارجیہ میں سے مان لیں جیسے حکماء کہتے ہیں، أَوْ لَيْسَتْ مِنْهَا یا یہ کہیں کہ یہ امور خارجیہ میں سے نہیں ہے بلکہ صرف کیا ہے ایک اعتباری چیز ہے، دونوں صورتوں میں کچھ بھی کہہ لیں زید کے لیے تو خارج میں کیا ہے قیام قطعی طور پر ثابت ہے۔
وَهَاذَا مَعْنَى وُجُودِ النِّسْبَةِ الْخَارِجِيَّةِ اور یہ معنی ہے نسبت خارجیہ کے وجود کا۔ کیا معنی نسبت خارجیہ کے وجود کا؟ یعنی خارج میں ایک چیز دوسرے کے لیے قطعی طور پر ثابت ہوگی یا ثابت نہیں ہوگی، یہ معنی ہے نسبت خارجیہ ہے۔ اب آپ چاہے اس کو امور خارجیہ میں سے مانیں یا امور خارجیہ میں سے نہ مانیں۔ دونوں صورتوں میں کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑی طویل بحث کی بتلایا کہ کلام یا خبر ہوگا یا کیا ہوگا؟ انشاء ہوگا۔ تو یہ ایک انشاء کا ایک باب آگیا مولانا۔ کیا آیا؟ انشاء۔ اب بھئی آٹھ ابواب کی وجہ حصر چل رہی ہے۔ تو کلام یا خبر ہوگا یا کیا ہوگا؟ انشاء۔ ایک باب انشاء کا ہو گیا۔ خبر، پھر خبر میں اب تفصیل کرتے ہیں۔ وَالْخَبَرُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ مُسْنَدٍ إِلَيْهِ وَمُسْنَدٍ وَإِسْنَادٍ اور خبر کے لیے ضروری ہے مسند الیہ کا، مسند کا اور اسناد کا ہونا۔ بھئی خبر کس کو کہیں گے؟ جس میں ایک مسند الیہ ہو، ایک مسند ہو اور دونوں کے درمیان کیا ہو مولانا؟ اسناد۔ تو مولانا ایک کس کا باب ہو گیا؟ مسند الیہ کا۔ ایک کس کا ہوا؟ اسناد کا۔ ایک کس کا؟ مسند کا۔ کتنے ابواب ہوئے؟ تین۔ اور ایک پہلے کس کا تھا؟ انشاء کا۔ کتنے ہو گئے؟ چار۔
وَالْمُسْنَدُ قَدْ يَكُونُ لَهُ مُتَعَلِّقَاتٌ اور مسند کے لیے کبھی کبھار کیا ہوں گے مولانا؟ متعلقات ہوں گے۔ بھئی میں کہتا ہوں ضَرَبَ زَيْدٌ... ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا۔ ضَرَبَ مسند، زَيْدٌ مسند الیہ اور ان دونوں کے بیچ کیا ہے؟ اسناد۔ اور آگے عَمْرًا بھی آ رہا ہے، یہ کیا ہے متعلق فعل ہے۔ یہ کیا ہے؟ متعلق فعل ہے۔ یعنی مفعول وغیرہ، تو کبھی کبھار مسند کے متعلقات یعنی مفعول وغیرہ بھی ہوں گے، تو یہ کیا ہوا إِذَا كَانَ فِعْلًا أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ جب کہ مسند فعل ہو یا کیا ہو؟ معنی فعل ہو۔ كَالْمَصْدَرِ وَاسْمِ الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ وَمَا أَشْبَهَ ذَالِكَ جیسے کہ مصدر ہے اور اسم فاعل اور اسم مفعول ہیں اور وہ جو ان کے مشابہ ہیں، جیسے ظرف وغیرہ ہے مولانا اور جو اسم تفضیل ہے مولانا اور صفت مشبہ وغیرہ۔ تو جیسے مولانا فعل کے لیے فاعل چاہیے اور فعل فاعل کو رفع دیتا ہے مفعول کو نصب دیتا ہے، اسی طرح مصدر بھی فاعل کو رفع دیتا ہے مفعول کو کیا کرتا ہے؟ نصب۔ اسم فاعل بھی اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے اور اپنے مفعول کو نصب۔ اسم مفعول اپنے نائب فاعل کو رفع دیتا ہے اور اپنے مفعول کو کیا کرتا ہے؟ نصب۔ تو ان یہ سب مولانا معنی فعل میں داخل ہیں۔ تو فعل ہو یا معنی فعل ہو ان کے لیے کبھی کبھی کیا آ جاتے ہیں؟ ان کے لیے متعلقات بھی آ جاتے ہیں تو یہ کونسا باب ہوا؟ متعلقات فعل۔ تو کتنے ابواب ہو گئے؟ پانچ۔
وَلَا وَجْهَ لِتَخْصِيصِ هَاذَا الْكَلَامِ بِالْخَبَرِ یہاں سے علامہ تفتازانی ماتن پر اعتراض کر رہے ہیں بھئی۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ اس کلام کی تخصیص کی جائے خبر کے ساتھ۔ آپ نے کیا کہا؟ کہ کبھی کبھی خبر کے اندر کیا ہو؟ خبر میں کیا ہوگا؟ مسند ہوگا، مسند الیہ ہوگا، اسناد ہوگا اور کبھی کبھی اس میں کیا آئیں گے؟ متعلقات فعل بھی آئیں گے۔ کہتے ہیں بھئی یہ مسند، مسند الیہ، اسناد، متعلقات فعل یہ خبر میں نہیں، یہ تو انشاء میں بھی آتے ہیں۔ میں کہتا ہوں إِضْرِبْ زَيْدًا۔ إِضْرِبْ کے اندر إِضْرِبْ فعل، أَنْتَ ضمیر اس کے اندر مسند الیہ، اور ان دونوں کے بیچ میں اسناد۔ اور زَيْدًا کیا ہے؟ متعلق۔ تو دیکھو یہ تو انشاء میں بھی آ گئے۔ تو آپ کا خبر کے اندر اس کو ذکر کرنا اس کی کوئی وجہ نہیں۔ وَلَا وَجْهَ لِتَخْصِيصِ هَاذَا الْكَلَامِ بِالْخَبَرِ اور کوئی وجہ نہیں اس کلام کی تخصیص کی کس کے ساتھ؟ خبر کے ساتھ۔
لیکن تخصیص کی وجہ ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تخصیص کی وجہ ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ آگے جتنے ابواب آئیں گے مولانا وہاں پر مسند کی بات آئے گی، مسند الیہ کی بات آئے گی، وہاں پر علماء بحث کرتے ہیں، ان میں جو بھی علماء بحث کرتے ہیں اپنی کتابوں میں مسند میں اس حیثیت سے بحث کرتے ہیں کہ وہ کلام خبری میں آ رہا ہو۔ مسند الیہ میں اس حیثیت سے بحث کرتے ہیں کہ وہ کس میں آ رہا ہو؟ کلام خبری میں۔ اسناد کے ساتھ بحث کریں گے کس اعتبار سے؟ کہ یہ کس میں ہے؟ کلام خبری میں۔ متعلقات فعل سے بحث کریں گے کس حیثیت سے؟ کہ یہ کلام خبری میں ہے۔ وجہ یہ کہ خبر کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔ یہ زیادہ رائج ہے۔ انشاء کم ہے۔ انشاء کیا ہے؟ کم ہے۔ تو خبر بہت زیادہ ہے اس کا فائدہ بے انتہا زیادہ ہے، تو وہ بحث بھی کس سے کرتے ہیں؟ خبر کے طور پر ان چیزوں سے بحث کرتے ہیں۔ باقی انشاء... انشاء میں بھی یہ چیزیں جاری ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں بھئی علماء اس کو چھوڑ دیتے ہیں قیاس پر کہ آپ اس قیاس انشاء میں خود ہی انہی چیزوں پر کیا کر لیجیے گا؟ قیاس کر لیجیے گا۔ مصنف نے کب کہا ہے کہ یہ چیزیں خبر ہی میں ہوں گی انشاء کے اندر نہیں؟ انہوں نے تو باقاعدہ انشاء کا باب باندھا ہے اور اس کے اندر یہ چیزیں ذکر بھی کی ہیں، لیکن یہاں پر کس وجہ سے تخصیص کر دی کہ کلام خبری کا فائدہ زیادہ ہے تو علماء ان میں بحث کرتے ہیں خبر کے اعتبار سے۔
وَكُلٌّ مِنَ الْإِسْنَادِ وَالتَّعَلُّقِ إِمَّا بِقَصْرٍ أَوْ بِغَيْرِ قَصْرٍ اور اسناد اور تعلق میں سے ہر ایک یا تو قصر کے ساتھ ہوگا یا بغیر قصر کے ہوگا۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید نے عمرو کی پٹائی کی۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا۔ اور ایک میں کہتا ہوں عَمْرًا ضَرَبَ زَيْدٌ یا مَا ضَرَبَ زَيْدٌ إِلَّا عَمْرًا۔ تو دیکھیے ایک کلام ہے ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا زید نے کس کی پٹائی کی؟ عمرو کی۔ اور ایک ہے مَا ضَرَبَ زَيْدٌ إِلَّا عَمْرًا کیا معنی؟ زید نے عمرو ہی کی پٹائی کی۔ تو وہی ایک میں حصر اور قصر ہے اور ایک میں حصر اور قصر نہیں ہے۔ تو یہ قصر باب القصر ہو گیا مولانا۔ کہ یہ جو فعل کا تھا، اسناد ہے یا فعل کا جو تعلق ہے، یہ قصر کے ساتھ ہوگا یا قصر کے ساتھ نہیں ہوگا۔ تو یہ کونسا باب ہو گیا؟ قصر والا۔ کتنے باب ہو گئے؟ چھ ہو گئے۔
وَكُلُّ جُمْلَةٍ قُرِنَتْ بِأُخْرَى إِمَّا مَعْطُوفَةٌ عَلَيْهَا أَوْ غَيْرُ مَعْطُوفَةٍ اور ہر جملہ جو دوسرے جملے کے ساتھ ملا ہوا ہے مولانا، ان میں سے دوسرے کا عطف پہلے پر ہو رہا ہوگا یا عطف نہیں ہوگا۔ اگر عطف ہے تو یہ کیا ہے؟ وصل۔ اگر عطف نہیں تو یہ کیا ہے؟ فصل۔ تو یہ مولانا فصل وصل کا باب ہوا۔ وَالْكَلَامُ الْبَلِيغُ إِمَّا زَائِدٌ عَلَى أَصْلِ الْمُرَادِ لِفَائِدَةٍ (یہ وجہ حصر چل رہی ہے نا) اور کلام بلیغ یا تو زائد ہوگا اصل مراد پر کسی فائدے کی وجہ سے، أَوْ غَيْرُ زَائِدٍ یا زائد نہیں ہوگا۔ بھئی کلام بلیغ اگر زائد ہو اصل مراد پر کسی فائدے کی وجہ سے تو یہ کیا ہے؟ اطناب۔ اور اگر زائد نہیں ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ یا برابر ہوگا یا کیا ہوگا؟ اصل مراد سے کم ہوگا۔ تو پھر یہ کیا ہے؟ مساوات اور ایجاز۔ تو یہ باب ہوا ایجاز، اطناب اور مساوات کا۔ تو دیکھا یہ آٹھ ابواب ذکر کر دیے بھئی۔
تو کہتے ہیں وَالْكَلَامُ الْبَلِيغُ إِمَّا زَائِدٌ عَلَى أَصْلِ الْمُرَادِ کلام بلیغ یا تو زائد ہوگا اصل مراد پر لِفَائِدَةٍ کس لیے؟ کسی فائدے کے لیے۔ بھئی یہ لِفَائِدَةٍ کی قید کیوں ذکر کی؟ کہتے ہیں علامہ تفتازانی، احْتَرَزَ بِهِ عَنِ التَّطْوِيلِ کہ اس کے ذریعے احتراز کیا کس سے مولانا؟ تطویل سے احتراز کیا۔ کیونکہ تطویل اور حشو میں بھی کیا ہوگا مولانا؟ کلام زائد ہے اصل مراد پر لیکن فائدے کے لیے نہیں ہے۔ أَلَا أَنَّهُ لَا حَاجَةَ إِلَيْهِ یہ پھر علامہ تفتازانی اعتراض کر رہے ہیں ماتن پر۔ علاوہ اس کے کہ کوئی حاجت نہیں تھی بَعْدَ تَقْيِيدِ الْكَلَامِ بِالْبَلِيغِ کہ کلام تو جب آپ نے مقید کر دیا بلیغ کے ساتھ، تو پھر لازمی بات ہے بھئی کلام بلیغ ہوگا ہی وہ جس کے اندر اگر آپ زائد لفظ لائیں تو وہ لِفَائِدَةٍ ہو مولانا بلا فائدہ نہ ہو۔ تو لِفَائِدَةٍ کی وہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کوئی حاجت نہیں تھی۔ لیکن اس کی بھی حاجت تھی مولانا، اس کو ذکر کرنے کی بھی حاجت تھی۔ علامہ تفتازانی کا اعتراض صحیح نہیں بھئی۔ بھئی یہ لِفَائِدَةٍ کے ذریعے بتلانا چاہتے تھے کہ اطناب کے اندر یہ قید ملحوظ ہے۔ اطناب میں کیا ہے؟ اصل مراد پر زائد ہوگا کلام کس لیے؟ لِفَائِدَةٍ۔ أَوْ غَيْرُ زَائِدٍ یا کیا ہوگا مولانا؟ کلام اصل مراد پر زائد نہیں ہوگا۔ اس کی کتنی صورتیں بنی تھیں؟ دو۔ ایجاز اور مساوات۔
هَاذَا كُلُّهُ ظَاهِرٌ پھر اشکال کر رہے ہیں بھئی علامہ تفتازانی ہیں بڑے علامہ بھئی۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں یہ ساری باتیں ظاہر ہیں بھئی، یہ کیا ہیں؟ یہ ساری باتیں ظاہر ہیں، کیا ضرورت ہے وجہ حصر کو ذکر کرنے کی بھئی۔ اس کے بجائے وجہ حصر کو مصنف کو وجہ حصر نہیں ذکر کرنی چاہیے تھی، بلکہ یہ بتلانا چاہیے تھا کہ قصر کا علیحدہ باب کیوں بنایا؟ فصل وصل کا علیحدہ باب کیوں بنایا؟ ایجاز اطناب مساوات کا علیحدہ باب کیوں بنایا؟ دیکھو تقدیم بھی ایک حال ہے، تنکیر بھی ایک حال ہے، اثبات بھی ایک حال ہے، حذف بھی ایک حال ہے، تعریف بھی ایک حال ہے، تنکیر بھی ایک حال ہے، قصر بھی ایک حال ہے، ایجاز بھی ایک حال ہے، اطناب بھی ایک حال ہے، مساوات بھی ایک حال ہے، فصل بھی ایک حال ہے، وصل بھی ایک حال ہے۔ تو یہ سارے احوال ہیں، ان میں سے آپ قصر کا تو باب بناتے ہیں، ان میں سے آپ فصل وصل کا تو باب بناتے ہیں، ان میں سے آپ ایجاز اطناب مساوات کا تو باب بناتے ہیں، یہ تعریف کا باب کیوں نہیں بنایا؟ تنکیر کا باب کیوں نہیں بنایا؟ تقدیم و تاخیر کا باب کیوں نہیں بنایا؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ کو یہ ذکر کرنا چاہیے تھا، وجہ حصر کو ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تو جواب دیتے ہیں مولانا، یہ کوئی اعتراض نہیں ہے بھئی اے علامہ تفتازانی۔ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً بھئی بڑے علامہ ہیں بھئی۔ ایک چیز آپ کے نزدیک اہم ہے، ایک چیز مصنف کے نزدیک اہم ہے۔ مصنف کے نزدیک وہ چیز اہم تھی انہوں نے اس کو ذکر کیا۔ آپ کے نزدیک یہ چیز اہم ہے تو آپ کیا کریں اس کو ذکر کر دیں۔
هَاذَا كُلُّهُ ظَاهِرٌ لَاكِنَّ لَا طَائِلَ تَحْتَهُ یہ سارا ظاہر ہے لیکن اس کے تحت کوئی فائدہ نہیں۔ لِأَنَّ جَمِيعَ مَا ذَكَرَهُ مِنَ الْقَصْرِ وَالْفَصْلِ وَالْوَصْلِ وَالْإِيجَازِ وَمُقَابِلَيْهِ اس لیے کہ وہ سارے جو مصنف نے ذکر کیے یعنی کہ قصر، فصل اور وصل اور ایجاز اور جو اس کے دو مقابل ہیں یعنی اطناب اور مساوات إِنَّمَا هِيَ مِنْ أَحْوَالِ الْجُمْلَةِ أَوِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ أَوِ الْمُسْنَدِ یہ بھی جملے یا مسند یا مسند الیہ کے احوال میں سے ہیں۔ مِثْلُ التَّأْكِيدِ جیسے کہ تاکید اس کے احوال میں سے ہے۔ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ وَغَيْرِ ذَالِكَ جیسے تقدیم اور تاخیر وغیرہ بھی اس کے جملے کے احوال میں سے ہیں۔ فَالْوَاجِبُ فِي هَاذَا الْمَقَامِ تو واجب اس مقام پر یہ تھا بَيَانُ سَبَبِ إِفْرَادِهَا ان کو علیحدہ کرنے کا کیا سبب ہے؟ وَجَعْلِهَا أَبْوَابًا بِرَأْسِهَا اور ان کو مستقل ابواب بنانے کا کیا سبب ہے؟ یہ ذکر کیا جاتا کہ یہ قصر کو علیحدہ آپ نے کیوں کیا اس کا مستقل باب کیوں باندھا؟ فصل وصل کو آپ نے علیحدہ کیوں کیا اس کا مستقل باب کیوں باندھا؟ یہ چیز ذکر کرنی چاہیے تھی یہ آپ نے ذکر نہیں کی۔ وَقَدْ لَخَّصْنَا ذَالِكَ فِي الشَّرْحِ اور تحقیق ہم نے تلخیص کی ہے اس کی شرح میں۔ یعنی وہاں پر اس مسئلے کو ہم نے مختصر طور پر بیان کیا ہے۔ وہاں علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں مولانا کہ ان قصر، فصل وصل، ایجاز اطناب مساوات کا الگ باب ان کے اس لیے بنائے کہ ان کی مباحث بہت زیادہ ہیں۔ تو ان کو باقاعدہ الگ ابواب کی صورت میں ذکر کر دیا، اس کے جبکہ اس کے مقابلے میں تاکید، تقدیم، تاخیر وغیرہ کے مباحث اتنے زیادہ نہیں اس لیے ان کو علیحدہ باب کی صورت میں بھی ذکر نہیں کیا۔ هَاذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
اچھا بھئی حضرت شیخ کا وہ خواب آپ نے کہا بھئی وہ سنا دوں آپ کو۔ اللہ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا بات یہ ہو رہی تھی میں نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت سے محبت رکھو۔ صرف تبلیغی جماعت کا میں نہیں کہتا، ہر دینی جماعت سے محبت رکھو۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں آپ نے کوئی بات کرنی ہے دشمنان اسلام بہت پڑے ہیں ان کے خلاف بات کریں۔ اپنی جماعتوں کے خلاف بات نہ کریں بھئی۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، ہر ایک کا الگ الگ شعبہ ہے۔ کچھ کے شعبے ذرا زوردار ہیں، کچھ ذرا نرمی سے کام کرتے ہیں، تو یہ سب اپنے ہیں مولانا سب کے ساتھ محبت ہو ہمیشہ۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ بھی تمام جماعتوں سے جو اہل حق کی ہیں ان سے محبت رکھتے تھے بہت زیادہ بھئی۔ اور تبلیغی جماعت والوں کا بڑا اکرام فرماتے تھے وہ جب کوئی جماعت آجاتی ویسے تو حضرت شیخ کسی سے بھی ملتے نہیں تھے بھئی۔ کوئی کہیں سے بھی آیا ہوتا، بہت کم ملتے تھے کسی سے۔ کوئی لوگ بھی آتے عصر سے مغرب کا وقت رکھا ہوا تھا بس اس میں جس کی ملاقات ہو گئی سو ہو گئی، اس کے بعد کوئی کہیں سے بھی آیا ہو کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، وہ پھر ملاقات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت والے جب آتے اور ملنا چاہتے تو ان کو وقت دیتے بھئی ملتے تھے ان کا اکرام کرتے، رائیونڈ سے طلباء جو آتے پڑھنے دورے کے لیے یہاں، ان کا بھی بڑا اکرام کرتے تھے اور سال کے آخر میں جب کتابیں تقسیم فرماتے تو ان کو خصوصاً زائد کتابیں دیتے تھے باقی طلباء کی بنسبت۔
چنانچہ وفات کے بعد جامعہ کے ایک استاذ، بڑے ولی اللہ آدمی ہیں، وہ انہوں نے خواب میں دیکھا بھئی۔ رائیونڈ ہی گئے ہوئے تھے وہیں پر انہوں نے خواب دیکھا بھئی۔ خواب میں دیکھا حضرت شیخ رحمہ اللہ ہیں بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ میں آگے ہوا اور پوچھا بات کی کہ حضرت آپ کا تو انتقال ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو حضرت شیخ رحمہ اللہ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ اور پوچھا کس وجہ سے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کیا بات ہوئی؟ کہا اللہ تعالیٰ کو میری دو باتیں پسند آئیں جس کی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ ایک تو یہ بات کہ جس وقت میرا انتقال ہوا تو میں عصر کی نماز میں حضرت شیخ کو دل کا دورہ پڑا تھا، آدھی نماز پڑھی تھی تین رکعتیں نماز پوری نہیں کر سکے تھے، تو کہتے ہیں جس وقت میرا انتقال ہوا عصر کی نماز میں پوری نہیں کر سکا تھا، تو جیسے ہی فرشتے حساب انتقال کے بعد حساب کتاب کے لیے آئے تو میں نے کہا ذرا ٹھہرو بھئی ٹھہرو، اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ابھی میں نے عصر کی نماز مکمل نہیں کی، مجھے اتنا وقت دے دیجیے کہ میں عصر کی نماز مکمل کر لوں۔ کہتے ہیں اللہ کو میری یہ بات بڑی پسند آئی بھئی۔ اور دوسری یہ بات اللہ کو میری پسند آئی کہ میں تبلیغی جماعت کا اکرام کیا کرتا تھا۔ تو اس پر اللہ نے کیا کیا میری مغفرت فرما دی۔ رحمۃ حق بہانہ می جوید، رحمۃ حق بہا نمی جوید بھئی۔ اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ بہانہ چاہتی ہے۔ معمولی چھوٹی سی بات جسے آپ اہمیت بھی نہیں دیتے، ہو سکتا ہے وہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی بھی چیز عام اور معمولی نہیں۔
اور کونسا واقعہ ہے بھئی؟ تعویذات میں حضرت کے بڑا اثر تھا بہت زیادہ اثر تھا۔ اور پھر یہ ہمارا کچھ خاندانی اثر بھی ہے مولانا ہمارے خاندان میں یہ اثر ہے کہ اللہ نے تعویذات وغیرہ میں دعاؤں میں بہت اثر رکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ... چلیے وجہ چند ایک وجہ ذکر کر دیتا ہوں۔ کہ ہمارے آباؤ اجداد میں بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد سے لے کر یہ تقریباً تقریباً 800 سال تک، 800 سال تک تو قطعی طور پر معلوم ہے جتنے افراد گزرے سارے بڑے بڑے اولیاء تھے بھئی۔ جتنے بھی خاندان میں آئے۔ بعد والوں کے احوال معلوم نہیں مولانا سمجھ میں آیا؟ پہلے لوگ تو لکھا کرتے تھے احوال بعد میں زمانہ اختلاط زیادہ ہوا تو احوال تو اتنی تفصیل سے سب کے دستیاب نہیں۔ اور پھر حضرت شیخ کا اپنا تقویٰ، اصل چیز تو تقویٰ ہی ہے بھئی اس کی وجہ سے سارا زیادہ اثر اسی کی وجہ سے۔ تو جس کے لیے دعا فرماتے تھے مولانا عجیب اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تھے بھئی، عجیب۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔ ایک کا تو مجھے ابھی بھی یاد اس نے بتایا کہ میرے گھر جب سے میں نے مدرسے میں پڑھنا شروع کیا ہے میرے سارے گھر والے میرے مخالف ہیں۔ 8 سال 9 سال گزر گئے ہیں میرے گھر والے والدہ تک ہمارے ساتھ صحیح بات نہیں کرتیں بھئی کہ یہ کیا مولوی بن رہے ہو چھوڑو اس کو آؤ کوئی دنیاوی کام کاروبار وغیرہ کرو سب بھئی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ابھی تک میں دورہ کر رہا تھا میرے یہی حال تھا دورہ کرکے جیسے ہی میں گھر پہنچا، وہی بھئی جو میرے ساتھ ناراض ہیں وہی بھئی جو میرے ساتھ بات بھی نہیں کرتے، وہی گھر والے جو میری پرواہ بھی نہیں کرتے، چھٹیاں جیسے ہی ہوئیں میں گھر پہنچا گھر والے کہتے ہیں بھئی تیاری شروع کر دو ہم نے آپ کے حج پر جانے کا انتظام کر دیا ہے۔ ایک دم ایسے بدل گئے بھئی۔ تو کئیوں نے سنائے ایسے واقعات۔ عجیب ان کی دعاؤں میں تاثیر تھی عجیب تاثیر۔ کبھی کبھی طلباء سے فرمایا بھی کرتے کہ مولانا اللہ ہماری دعائیں قبول فرماتے ہیں ہم جو بھی دعا کرتے ہیں اللہ اس کو قبول فرماتے ہیں۔
تعویذات میں اللہ نے ایسا اثر رکھا تھا کہ انسان حیران ہو جاتا تھا بھئی انسان حیران ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
کتاب الحج آئی حج کے ابواب آئے ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک اور مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی۔ حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
تعویذات میں اللہ نے ایسا اثر رکھا تھا کہ انسان حیران ہو جاتا تھا بھئی انسان حیران ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
یہ سارا ظاہر ہے لیکن اس کے تحت کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ جو سارے مصنف نے ذکر کیے یعنی کہ قصر، فصل اور وصل اور ایجاز اور جو اس کے دو مقابل ہیں یعنی اطناب اور مساوات یہ بھی جملے یا مسند یا مسند الیہ کے احوال میں سے ہیں۔ جیسے کہ تاکید اس کے احوال میں سے ہے۔ جیسے تقدیم اور تاخیر وغیرہ بھی اس کے جملے کے احوال میں سے ہیں۔ تو واجب اس مقام پر یہ تھا ان کو علیحدہ کرنے کا کیا سبب ہے؟ اور ان کو مستقل ابواب بنانے کا کیا سبب ہے؟ یہ ذکر کیا جاتا کہ یہ قصر کو علیحدہ آپ نے کیوں کیا اس کا مستقل باب کیوں باندھا؟ فصل وصل کو آپ نے علیحدہ کیوں کیا اس کا مستقل باب کیوں باندھا؟ یہ چیز ذکر کرنی چاہیے تھی یہ آپ نے ذکر نہیں کی۔ اور تحقیق ہم نے تلخیص کی ہے اس کی شرح میں۔ یعنی وہاں پر اس مسئلے کو ہم نے مختصر طور پر بیان کیا ہے۔ وہاں علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں مولانا کہ ان قصر، فصل وصل، ایجاز اطناب مساوات کا الگ باب ان کے اس لیے بنائے کہ ان کی مباحث بہت زیادہ ہیں۔ تو ان کو باقاعدہ الگ ابواب کی صورت میں ذکر کر دیا، اس کے جبکہ اس کے مقابلے میں تاکید، تقدیم، تاخیر وغیرہ کے مباحث اتنے زیادہ نہیں اس لیے ان کو علیحدہ باب کی صورت میں بھی ذکر نہیں کیا۔
اللہ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا بات یہ ہو رہی تھی میں نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت سے محبت رکھو۔ صرف تبلیغی جماعت کا میں نہیں کہتا، ہر دینی جماعت سے محبت رکھو۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں آپ نے کوئی بات کرنی ہے دشمنان اسلام بہت پڑے ہیں ان کے خلاف بات کریں۔ اپنی جماعتوں کے خلاف بات نہ کریں بھئی۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، ہر ایک کا الگ الگ شعبہ ہے۔ کچھ کے شعبے ذرا زوردار ہیں، کچھ ذرا نرمی سے کام کرتے ہیں، تو یہ سب اپنے ہیں مولانا سب کے ساتھ محبت ہو ہمیشہ۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بھی تمام جماعتوں سے جو اہل حق کی ہیں ان سے محبت رکھتے تھے بہت زیادہ بھئی۔ اور تبلیغی جماعت والوں کا بڑا اکرام فرماتے تھے وہ جب کوئی جماعت آجاتی ویسے تو حضرت شیخ کسی سے بھی ملتے نہیں تھے بھئی۔ کوئی کہیں سے بھی آیا ہوتا، بہت کم ملتے تھے کسی سے۔ کوئی لوگ بھی آتے عصر سے مغرب کا وقت رکھا ہوا تھا بس اس میں جس کی ملاقات ہو گئی سو ہو گئی، اس کے بعد کوئی کہیں سے بھی آیا ہو کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، وہ پھر ملاقات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت والے جب آتے اور ملنا چاہتے تو ان کو وقت دیتے بھئی ملتے تھے ان کا اکرام کرتے، رائیونڈ سے طلباء جو آتے پڑھنے دورے کے لیے یہاں، ان کا بھی بڑا اکرام کرتے تھے اور سال کے آخر میں جب کتابیں تقسیم فرماتے تو ان کو خصوصاً زائد کتابیں دیتے تھے باقی طلباء کی بنسبت۔
چنانچہ وفات کے بعد جامعہ کے ایک استاذ، بڑے ولی اللہ آدمی ہیں، وہ انہوں نے خواب میں دیکھا بھئی۔ رائیونڈ ہی گئے ہوئے تھے وہیں پر انہوں نے خواب دیکھا بھئی۔ خواب میں دیکھا حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ہیں بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ میں آگے ہوا اور پوچھا بات کی کہ حضرت آپ کا تو انتقال ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ اور پوچھا کس وجہ سے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کیا بات ہوئی؟ کہا اللہ تعالیٰ کو میری دو باتیں پسند آئیں جس کی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ ایک تو یہ بات کہ جس وقت میرا انتقال ہوا تو میں عصر کی نماز میں حضرت شیخ کو دل کا دورہ پڑا تھا، آدھی نماز پڑھی تھی تین رکعتیں نماز پوری نہیں کر سکے تھے، تو کہتے ہیں جس وقت میرا انتقال ہوا عصر کی نماز میں پوری نہیں کر سکا تھا، تو جیسے ہی فرشتے حساب انتقال کے بعد حساب کتاب کے لیے آئے تو میں نے کہا ذرا ٹھہرو بھئی ٹھہرو، اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ابھی میں نے عصر کی نماز مکمل نہیں کی، مجھے اتنا وقت دے دیجیے کہ میں عصر کی نماز مکمل کر لوں۔ کہتے ہیں اللہ کو میری یہ بات بڑی پسند آئی بھئی۔ اور دوسری یہ بات اللہ کو میری پسند آئی کہ میں تبلیغی جماعت کا اکرام کیا کرتا تھا۔ تو اس پر اللہ نے کیا کیا میری مغفرت فرما دی۔ رحمۃ حق بہانہ می جوید، رحمۃ حق بہا نمی جوید بھئی۔ اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ بہانہ چاہتی ہے۔ معمولی چھوٹی سی بات جسے آپ اہمیت بھی نہیں دیتے، ہو سکتا ہے وہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی بھی چیز عام اور معمولی نہیں۔
اور کونسا واقعہ ہے بھئی؟ تعویذات میں حضرت کے بڑا اثر تھا بہت زیادہ اثر تھا۔ اور پھر یہ ہمارا کچھ خاندانی اثر بھی ہے مولانا ہمارے خاندان میں یہ اثر ہے کہ اللہ نے تعویذات وغیرہ میں دعاؤں میں بہت اثر رکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ... چلیے وجہ چند ایک وجہ ذکر کر دیتا ہوں۔ کہ ہمارے آباؤ اجداد میں بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد سے لے کر یہ تقریباً تقریباً 800 سال تک، 800 سال تک تو قطعی طور پر معلوم ہے جتنے افراد گزرے سارے بڑے بڑے اولیاء تھے بھئی۔ جتنے بھی خاندان میں آئے۔ بعد والوں کے احوال معلوم نہیں مولانا سمجھ میں آیا؟ پہلے لوگ تو لکھا کرتے تھے احوال بعد میں زمانہ اختلاط زیادہ ہوا تو احوال تو اتنی تفصیل سے سب کے دستیاب نہیں۔ اور پھر حضرت شیخ کا اپنا تقویٰ، اصل چیز تو تقویٰ ہی ہے بھئی اس کی وجہ سے سارا زیادہ اثر اسی کی وجہ سے۔ تو جس کے لیے دعا فرماتے تھے مولانا عجیب اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تھے بھئی، عجیب۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک کا تو مجھے ابھی بھی یاد اس نے بتایا کہ میرے گھر جب سے میں نے مدرسے میں پڑھنا شروع کیا ہے میرے سارے گھر والے میرے مخالف ہیں۔ 8 سال 9 سال گزر گئے ہیں میرے گھر والے والدہ تک ہمارے ساتھ صحیح بات نہیں کرتیں بھئی کہ یہ کیا مولوی بن رہے ہو چھوڑو اس کو آؤ کوئی دنیاوی کام کاروبار وغیرہ کرو سب بھئی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ابھی تک میں دورہ کر رہا تھا میرے یہی حال تھا دورہ کرکے جیسے ہی میں گھر پہنچا، وہی بھئی جو میرے ساتھ ناراض ہیں وہی بھئی جو میرے ساتھ بات بھی نہیں کرتے، وہی گھر والے جو میری پرواہ بھی نہیں کرتے، چھٹیاں جیسے ہی ہوئیں میں گھر پہنچا گھر والے کہتے ہیں بھئی تیاری شروع کر دو ہم نے آپ کے حج پر جانے کا انتظام کر دیا ہے۔ ایک دم ایسے بدل گئے بھئی۔ تو کئیوں نے سنائے ایسے واقعات۔ عجیب ان کی دعاؤں میں تاثیر تھی عجیب تاثیر۔ کبھی کبھی طلباء سے فرمایا بھی کرتے کہ مولانا اللہ ہماری دعائیں قبول فرماتے ہیں ہم جو بھی دعا کرتے ہیں اللہ اس کو قبول فرماتے ہیں۔
یہ سارا ظاہر ہے بھئی، یہ کیا ہیں؟ یہ ساری باتیں ظاہر ہیں، کیا ضرورت ہے وجہ حصر کو ذکر کرنے کی بھئی۔ اس کے بجائے وجہ حصر کو مصنف کو وجہ حصر نہیں ذکر کرنی چاہیے تھی، بلکہ یہ بتلانا چاہیے تھا کہ قصر کا علیحدہ باب کیوں بنایا؟ فصل وصل کا علیحدہ باب کیوں بنایا؟ ایجاز اطناب مساوات کا علیحدہ باب کیوں بنایا؟ دیکھو تقدیم بھی ایک حال ہے، تنکیر بھی ایک حال ہے، اثبات بھی ایک حال ہے، حذف بھی ایک حال ہے، تعریف بھی ایک حال ہے، تنکیر بھی ایک حال ہے، قصر بھی ایک حال ہے، ایجاز بھی ایک حال ہے، اطناب بھی ایک حال ہے، مساوات بھی ایک حال ہے، فصل بھی ایک حال ہے، وصل بھی ایک حال ہے۔ تو یہ سارے احوال ہیں، ان میں سے آپ قصر کا تو باب بناتے ہیں، ان میں سے آپ فصل وصل کا تو باب بناتے ہیں، ان میں سے آپ ایجاز اطناب مساوات کا تو باب بناتے ہیں، یہ تعریف کا باب کیوں نہیں بنایا؟ تنکیر کا باب کیوں نہیں بنایا؟ تقدیم و تاخیر کا باب کیوں نہیں بنایا؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ کو یہ ذکر کرنا چاہیے تھا، وجہ حصر کو ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
تو جواب دیتے ہیں مولانا، یہ کوئی اعتراض نہیں ہے بھئی اے علامہ تفتازانی۔ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً بھئی بڑے علامہ ہیں بھئی۔ ایک چیز آپ کے نزدیک اہم ہے، ایک چیز مصنف کے نزدیک اہم ہے۔ مصنف کے نزدیک وہ چیز اہم تھی انہوں نے اس کو ذکر کیا۔ آپ کے نزدیک یہ چیز اہم ہے تو آپ کیا کریں اس کو ذکر کر دیں۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
اچھا بھئی حضرت شیخ کا وہ خواب آپ نے کہا بھئی وہ سنا دوں آپ کو۔ اللہ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا بات یہ ہو رہی تھی میں نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت سے محبت رکھو۔ صرف تبلیغی جماعت کا میں نہیں کہتا، ہر دینی جماعت سے محبت رکھو۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں آپ نے کوئی بات کرنی ہے دشمنان اسلام بہت پڑے ہیں ان کے خلاف بات کریں۔ اپنی جماعتوں کے خلاف بات نہ کریں بھئی۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، ہر ایک کا الگ الگ شعبہ ہے۔ کچھ کے شعبے ذرا زوردار ہیں، کچھ ذرا نرمی سے کام کرتے ہیں، تو یہ سب اپنے ہیں مولانا سب کے ساتھ محبت ہو ہمیشہ۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بھی تمام جماعتوں سے جو اہل حق کی ہیں ان سے محبت رکھتے تھے بہت زیادہ بھئی۔ اور تبلیغی جماعت والوں کا بڑا اکرام فرماتے تھے وہ جب کوئی جماعت آجاتی ویسے تو حضرت شیخ کسی سے بھی ملتے نہیں تھے بھئی۔ کوئی کہیں سے بھی آیا ہوتا، بہت کم ملتے تھے کسی سے۔ کوئی لوگ بھی آتے عصر سے مغرب کا وقت رکھا ہوا تھا بس اس میں جس کی ملاقات ہو گئی سو ہو گئی، اس کے بعد کوئی کہیں سے بھی آیا ہو کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، وہ پھر ملاقات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت والے جب آتے اور ملنا چاہتے تو ان کو وقت دیتے بھئی ملتے تھے ان کا اکرام کرتے، رائیونڈ سے طلباء جو آتے پڑھنے دورے کے لیے یہاں، ان کا بھی بڑا اکرام کرتے تھے اور سال کے آخر میں جب کتابیں تقسیم فرماتے تو ان کو خصوصاً زائد کتابیں دیتے تھے باقی طلباء کی بنسبت۔
چنانچہ وفات کے بعد جامعہ کے ایک استاذ، بڑے ولی اللہ آدمی ہیں، وہ انہوں نے خواب میں دیکھا بھئی۔ رائیونڈ ہی گئے ہوئے تھے وہیں پر انہوں نے خواب دیکھا بھئی۔ خواب میں دیکھا حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ہیں بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ میں آگے ہوا اور پوچھا بات کی کہ حضرت آپ کا تو انتقال ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ اور پوچھا کس وجہ سے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کیا بات ہوئی؟ کہا اللہ تعالیٰ کو میری دو باتیں پسند آئیں جس کی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ ایک تو یہ بات کہ جس وقت میرا انتقال ہوا تو میں عصر کی نماز میں حضرت شیخ کو دل کا دورہ پڑا تھا، آدھی نماز پڑھی تھی تین رکعتیں نماز پوری نہیں کر سکے تھے، تو کہتے ہیں جس وقت میرا انتقال ہوا عصر کی نماز میں پوری نہیں کر سکا تھا، تو جیسے ہی فرشتے حساب انتقال کے بعد حساب کتاب کے لیے آئے تو میں نے کہا ذرا ٹھہرو بھئی ٹھہرو، اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ابھی میں نے عصر کی نماز مکمل نہیں کی، مجھے اتنا وقت دے دیجیے کہ میں عصر کی نماز مکمل کر لوں۔ کہتے ہیں اللہ کو میری یہ بات بڑی پسند آئی بھئی۔ اور دوسری یہ بات اللہ کو میری پسند آئی کہ میں تبلیغی جماعت کا اکرام کیا کرتا تھا۔ تو اس پر اللہ نے کیا کیا میری مغفرت فرما دی۔ رحمۃ حق بہانہ می جوید، رحمۃ حق بہا نمی جوید بھئی۔ اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ بہانہ چاہتی ہے۔ معمولی چھوٹی سی بات جسے آپ اہمیت بھی نہیں دیتے، ہو سکتا ہے وہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی بھی چیز عام اور معمولی نہیں۔
اور کونسا واقعہ ہے بھئی؟ تعویذات میں حضرت کے بڑا اثر تھا بہت زیادہ اثر تھا۔ اور پھر یہ ہمارا کچھ خاندانی اثر بھی ہے مولانا ہمارے خاندان میں یہ اثر ہے کہ اللہ نے تعویذات وغیرہ میں دعاؤں میں بہت اثر رکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ... چلیے وجہ چند ایک وجہ ذکر کر دیتا ہوں۔ کہ ہمارے آباؤ اجداد میں بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد سے لے کر یہ تقریباً تقریباً 800 سال تک، 800 سال تک تو قطعی طور پر معلوم ہے جتنے افراد گزرے سارے بڑے بڑے اولیاء تھے بھئی۔ جتنے بھی خاندان میں آئے۔ بعد والوں کے احوال معلوم نہیں مولانا سمجھ میں آیا؟ پہلے لوگ تو لکھا کرتے تھے احوال بعد میں زمانہ اختلاط زیادہ ہوا تو احوال تو اتنی تفصیل سے سب کے دستیاب نہیں۔ اور پھر حضرت شیخ کا اپنا تقویٰ، اصل چیز تو تقویٰ ہی ہے بھئی اس کی وجہ سے سارا زیادہ اثر اسی کی وجہ سے۔ تو جس کے لیے دعا فرماتے تھے مولانا عجیب اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تھے بھئی، عجیب۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔ ایک کا تو مجھے ابھی بھی یاد اس نے بتایا کہ میرے گھر جب سے میں نے مدرسے میں پڑھنا شروع کیا ہے میرے سارے گھر والے میرے مخالف ہیں۔ 8 سال 9 سال گزر گئے ہیں میرے گھر والے والدہ تک ہمارے ساتھ صحیح بات نہیں کرتیں بھئی کہ یہ کیا مولوی بن رہے ہو چھوڑو اس کو آؤ کوئی دنیاوی کام کاروبار وغیرہ کرو سب بھئی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ابھی تک میں دورہ کر رہا تھا میرے یہی حال تھا دورہ کرکے جیسے ہی میں گھر پہنچا، وہی بھئی جو میرے ساتھ ناراض ہیں وہی بھئی جو میرے ساتھ بات بھی نہیں کرتے، وہی گھر والے جو میری پرواہ بھی نہیں کرتے، چھٹیاں جیسے ہی ہوئیں میں گھر پہنچا گھر والے کہتے ہیں بھئی تیاری شروع کر دو ہم نے آپ کے حج پر جانے کا انتظام کر دیا ہے۔ ایک دم ایسے بدل گئے بھئی۔ تو کئیوں نے سنائے ایسے واقعات۔ عجیب ان کی دعاؤں میں تاثیر تھی عجیب تاثیر۔ کبھی کبھی طلباء سے فرمایا بھی کرتے کہ مولانا اللہ ہماری دعائیں قبول فرماتے ہیں ہم جو بھی دعا کرتے ہیں اللہ اس کو قبول فرماتے ہیں۔
تعویذات میں اللہ نے ایسا اثر رکھا تھا کہ انسان حیران ہو جاتا تھا بھئی انسان حیران ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
اچھا بھئی حضرت شیخ کا وہ خواب آپ نے کہا بھئی وہ سنا دوں آپ کو۔ اللہ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا بات یہ ہو رہی تھی میں نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت سے محبت رکھو۔ صرف تبلیغی جماعت کا میں نہیں کہتا، ہر دینی جماعت سے محبت رکھو۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں آپ نے کوئی بات کرنی ہے دشمنان اسلام بہت پڑے ہیں ان کے خلاف بات کریں۔ اپنی جماعتوں کے خلاف بات نہ کریں بھئی۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، ہر ایک کا الگ الگ شعبہ ہے۔ کچھ کے شعبے ذرا زوردار ہیں، کچھ ذرا نرمی سے کام کرتے ہیں، تو یہ سب اپنے ہیں مولانا سب کے ساتھ محبت ہو ہمیشہ۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بھی تمام جماعتوں سے جو اہل حق کی ہیں ان سے محبت رکھتے تھے بہت زیادہ بھئی۔ اور تبلیغی جماعت والوں کا بڑا اکرام فرماتے تھے وہ جب کوئی جماعت آجاتی ویسے تو حضرت شیخ کسی سے بھی ملتے نہیں تھے بھئی۔ کوئی کہیں سے بھی آیا ہوتا، بہت کم ملتے تھے کسی سے۔ کوئی لوگ بھی آتے عصر سے مغرب کا وقت رکھا ہوا تھا بس اس میں جس کی ملاقات ہو گئی سو ہو گئی، اس کے بعد کوئی کہیں سے بھی آیا ہو کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، وہ پھر ملاقات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت والے جب آتے اور ملنا چاہتے تو ان کو وقت دیتے بھئی ملتے تھے ان کا اکرام کرتے، رائیونڈ سے طلباء جو آتے پڑھنے دورے کے لیے یہاں، ان کا بھی بڑا اکرام کرتے تھے اور سال کے آخر میں جب کتابیں تقسیم فرماتے تو ان کو خصوصاً زائد کتابیں دیتے تھے باقی طلباء کی بنسبت۔
چنانچہ وفات کے بعد جامعہ کے ایک استاذ، بڑے ولی اللہ آدمی ہیں، وہ انہوں نے خواب میں دیکھا بھئی۔ رائیونڈ ہی گئے ہوئے تھے وہیں پر انہوں نے خواب دیکھا بھئی۔ خواب میں دیکھا حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ہیں بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ میں آگے ہوا اور پوچھا بات کی کہ حضرت آپ کا تو انتقال ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ اور پوچھا کس وجہ سے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کیا بات ہوئی؟ کہا اللہ تعالیٰ کو میری دو باتیں پسند آئیں جس کی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ ایک تو یہ بات کہ جس وقت میرا انتقال ہوا تو میں عصر کی نماز میں حضرت شیخ کو دل کا دورہ پڑا تھا، آدھی نماز پڑھی تھی تین رکعتیں نماز پوری نہیں کر سکے تھے، تو کہتے ہیں جس وقت میرا انتقال ہوا عصر کی نماز میں پوری نہیں کر سکا تھا، تو جیسے ہی فرشتے حساب انتقال کے بعد حساب کتاب کے لیے آئے تو میں نے کہا ذرا ٹھہرو بھئی ٹھہرو، اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ابھی میں نے عصر کی نماز مکمل نہیں کی، مجھے اتنا وقت دے دیجیے کہ میں عصر کی نماز مکمل کر لوں۔ کہتے ہیں اللہ کو میری یہ بات بڑی پسند آئی بھئی۔ اور دوسری یہ بات اللہ کو میری پسند آئی کہ میں تبلیغی جماعت کا اکرام کیا کرتا تھا۔ تو اس پر اللہ نے کیا کیا میری مغفرت فرما دی۔ رحمۃ حق بہانہ می جوید، رحمۃ حق بہا نمی جوید بھئی۔ اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ بہانہ چاہتی ہے۔ معمولی چھوٹی سی بات جسے آپ اہمیت بھی نہیں دیتے، ہو سکتا ہے وہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی بھی چیز عام اور معمولی نہیں۔
اور کونسا واقعہ ہے بھئی؟ تعویذات میں حضرت کے بڑا اثر تھا بہت زیادہ اثر تھا۔ اور پھر یہ ہمارا کچھ خاندانی اثر بھی ہے مولانا ہمارے خاندان میں یہ اثر ہے کہ اللہ نے تعویذات وغیرہ میں دعاؤں میں بہت اثر رکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ... چلیے وجہ چند ایک وجہ ذکر کر دیتا ہوں۔ کہ ہمارے آباؤ اجداد میں بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد سے لے کر یہ تقریباً تقریباً 800 سال تک، 800 سال تک تو قطعی طور پر معلوم ہے جتنے افراد گزرے سارے بڑے بڑے اولیاء تھے بھئی۔ جتنے بھی خاندان میں آئے۔ بعد والوں کے احوال معلوم نہیں مولانا سمجھ میں آیا؟ پہلے لوگ تو لکھا کرتے تھے احوال بعد میں زمانہ اختلاط زیادہ ہوا تو احوال تو اتنی تفصیل سے سب کے دستیاب نہیں۔ اور پھر حضرت شیخ کا اپنا تقویٰ، اصل چیز تو تقویٰ ہی ہے بھئی اس کی وجہ سے سارا زیادہ اثر اسی کی وجہ سے۔ تو جس کے لیے دعا فرماتے تھے مولانا عجیب اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تھے بھئی، عجیب۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔ ایک کا تو مجھے ابھی بھی یاد اس نے بتایا کہ میرے گھر جب سے میں نے مدرسے میں پڑھنا شروع کیا ہے میرے سارے گھر والے میرے مخالف ہیں۔ 8 سال 9 سال گزر گئے ہیں میرے گھر والے والدہ تک ہمارے ساتھ صحیح بات نہیں کرتیں بھئی کہ یہ کیا مولوی بن رہے ہو چھوڑو اس کو آؤ کوئی دنیاوی کام کاروبار وغیرہ کرو سب بھئی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ابھی تک میں دورہ کر رہا تھا میرے یہی حال تھا دورہ کرکے جیسے ہی میں گھر پہنچا، وہی بھئی جو میرے ساتھ ناراض ہیں وہی بھئی جو میرے ساتھ بات بھی نہیں کرتے، وہی گھر والے جو میری پرواہ بھی نہیں کرتے، چھٹیاں جیسے ہی ہوئیں میں گھر پہنچا گھر والے کہتے ہیں بھئی تیاری شروع کر دو ہم نے آپ کے حج پر جانے کا انتظام کر دیا ہے۔ ایک دم ایسے بدل گئے بھئی۔ تو کئیوں نے سنائے ایسے واقعات۔ عجیب ان کی دعاؤں میں تاثیر تھی عجیب تاثیر۔ کبھی کبھی طلباء سے فرمایا بھی کرتے کہ مولانا اللہ ہماری دعائیں قبول فرماتے ہیں ہم جو بھی دعا کرتے ہیں اللہ اس کو قبول فرماتے ہیں۔
تعویذات میں اللہ نے ایسا اثر رکھا تھا کہ انسان حیران ہو جاتا تھا بھئی انسان حیران ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
رحمت حق بہانہ می جوید، رحمت حق بہا نمی جوید بھئی۔ اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ بہانہ چاہتی ہے۔ معمولی چھوٹی سی بات جسے آپ اہمیت بھی نہیں دیتے، ہو سکتا ہے وہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی بھی چیز عام اور معمولی نہیں۔ ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔
ایک اور مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
اچھا بھئی حضرت شیخ کا وہ خواب آپ نے کہا بھئی وہ سنا دوں آپ کو۔ اللہ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا بات یہ ہو رہی تھی میں نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت سے محبت رکھو۔ صرف تبلیغی جماعت کا میں نہیں کہتا، ہر دینی جماعت سے محبت رکھو۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں آپ نے کوئی بات کرنی ہے دشمنان اسلام بہت پڑے ہیں ان کے خلاف بات کریں۔ اپنی جماعتوں کے خلاف بات نہ کریں بھئی۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، ہر ایک کا الگ الگ شعبہ ہے۔ کچھ کے شعبے ذرا زوردار ہیں، کچھ ذرا نرمی سے کام کرتے ہیں، تو یہ سب اپنے ہیں مولانا سب کے ساتھ محبت ہو ہمیشہ۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بھی تمام جماعتوں سے جو اہل حق کی ہیں ان سے محبت رکھتے تھے بہت زیادہ بھئی۔ اور تبلیغی جماعت والوں کا بڑا اکرام فرماتے تھے وہ جب کوئی جماعت آجاتی ویسے تو حضرت شیخ کسی سے بھی ملتے نہیں تھے بھئی۔ کوئی کہیں سے بھی آیا ہوتا، بہت کم ملتے تھے کسی سے۔ کوئی لوگ بھی آتے عصر سے مغرب کا وقت رکھا ہوا تھا بس اس میں جس کی ملاقات ہو گئی سو ہو گئی، اس کے بعد کوئی کہیں سے بھی آیا ہو کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، وہ پھر ملاقات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت والے جب آتے اور ملنا چاہتے تو ان کو وقت دیتے بھئی ملتے تھے ان کا اکرام کرتے، رائیونڈ سے طلباء جو آتے پڑھنے دورے کے لیے یہاں، ان کا بھی بڑا اکرام کرتے تھے اور سال کے آخر میں جب کتابیں تقسیم فرماتے تو ان کو خصوصاً زائد کتابیں دیتے تھے باقی طلباء کی بنسبت۔
چنانچہ وفات کے بعد جامعہ کے ایک استاذ، بڑے ولی اللہ آدمی ہیں، وہ انہوں نے خواب میں دیکھا بھئی۔ رائیونڈ ہی گئے ہوئے تھے وہیں پر انہوں نے خواب دیکھا بھئی۔ خواب میں دیکھا حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ہیں بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ میں آگے ہوا اور پوچھا بات کی کہ حضرت آپ کا تو انتقال ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ اور پوچھا کس وجہ سے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کیا بات ہوئی؟ کہا اللہ تعالیٰ کو میری دو باتیں پسند آئیں جس کی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ ایک تو یہ بات کہ جس وقت میرا انتقال ہوا تو میں عصر کی نماز میں حضرت شیخ کو دل کا دورہ پڑا تھا، آدھی نماز پڑھی تھی تین رکعتیں نماز پوری نہیں کر سکے تھے، تو کہتے ہیں جس وقت میرا انتقال ہوا عصر کی نماز میں پوری نہیں کر سکا تھا، تو جیسے ہی فرشتے حساب انتقال کے بعد حساب کتاب کے لیے آئے تو میں نے کہا ذرا ٹھہرو بھئی ٹھہرو، اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ابھی میں نے عصر کی نماز مکمل نہیں کی، مجھے اتنا وقت دے دیجیے کہ میں عصر کی نماز مکمل کر لوں۔ کہتے ہیں اللہ کو میری یہ بات بڑی پسند آئی بھئی۔ اور دوسری یہ بات اللہ کو میری پسند آئی کہ میں تبلیغی جماعت کا اکرام کیا کرتا تھا۔ تو اس پر اللہ نے کیا کیا میری مغفرت فرما دی۔ رحمۃ حق بہانہ می جوید، رحمۃ حق بہا نمی جوید بھئی۔ اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ بہانہ چاہتی ہے۔ معمولی چھوٹی سی بات جسے آپ اہمیت بھی نہیں دیتے، ہو سکتا ہے وہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی بھی چیز عام اور معمولی نہیں۔
اور کونسا واقعہ ہے بھئی؟ تعویذات میں حضرت کے بڑا اثر تھا بہت زیادہ اثر تھا۔ اور پھر یہ ہمارا کچھ خاندانی اثر بھی ہے مولانا ہمارے خاندان میں یہ اثر ہے کہ اللہ نے تعویذات وغیرہ میں دعاؤں میں بہت اثر رکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ... چلیے وجہ چند ایک وجہ ذکر کر دیتا ہوں۔ کہ ہمارے آباؤ اجداد میں بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد سے لے کر یہ تقریباً تقریباً 800 سال تک، 800 سال تک تو قطعی طور پر معلوم ہے جتنے افراد گزرے سارے بڑے بڑے اولیاء تھے بھئی۔ جتنے بھی خاندان میں آئے۔ بعد والوں کے احوال معلوم نہیں مولانا سمجھ میں آیا؟ پہلے لوگ تو لکھا کرتے تھے احوال بعد میں زمانہ اختلاط زیادہ ہوا تو احوال تو اتنی تفصیل سے سب کے دستیاب نہیں۔ اور پھر حضرت شیخ کا اپنا تقویٰ، اصل چیز تو تقویٰ ہی ہے بھئی اس کی وجہ سے سارا زیادہ اثر اسی کی وجہ سے۔ تو جس کے لیے دعا فرماتے تھے مولانا عجیب اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تھے بھئی، عجیب۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔ ایک کا تو مجھے ابھی بھی یاد اس نے بتایا کہ میرے گھر جب سے میں نے مدرسے میں پڑھنا شروع کیا ہے میرے سارے گھر والے میرے مخالف ہیں۔ 8 سال 9 سال گزر گئے ہیں میرے گھر والے والدہ تک ہمارے ساتھ صحیح بات نہیں کرتیں بھئی کہ یہ کیا مولوی بن رہے ہو چھوڑو اس کو آؤ کوئی دنیاوی کام کاروبار وغیرہ کرو سب بھئی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ابھی تک میں دورہ کر رہا تھا میرے یہی حال تھا دورہ کرکے جیسے ہی میں گھر پہنچا، وہی بھئی جو میرے ساتھ ناراض ہیں وہی بھئی جو میرے ساتھ بات بھی نہیں کرتے، وہی گھر والے جو میری پرواہ بھی نہیں کرتے، چھٹیاں جیسے ہی ہوئیں میں گھر پہنچا گھر والے کہتے ہیں بھئی تیاری شروع کر دو ہم نے آپ کے حج پر جانے کا انتظام کر دیا ہے۔ ایک دم ایسے بدل گئے بھئی۔ تو کئیوں نے سنائے ایسے واقعات۔ عجیب ان کی دعاؤں میں تاثیر تھی عجیب تاثیر۔ کبھی کبھی طلباء سے فرمایا بھی کرتے کہ مولانا اللہ ہماری دعائیں قبول فرماتے ہیں ہم جو بھی دعا کرتے ہیں اللہ اس کو قبول فرماتے ہیں۔
تعویذات میں اللہ نے ایسا اثر رکھا تھا کہ انسان حیران ہو جاتا تھا بھئی انسان حیران ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔
اچھا بھئی حضرت شیخ کا وہ خواب آپ نے کہا بھئی وہ سنا دوں آپ کو۔ اللہ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا بات یہ ہو رہی تھی میں نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت سے محبت رکھو۔ صرف تبلیغی جماعت کا میں نہیں کہتا، ہر دینی جماعت سے محبت رکھو۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں آپ نے کوئی بات کرنی ہے دشمنان اسلام بہت پڑے ہیں ان کے خلاف بات کریں۔ اپنی جماعتوں کے خلاف بات نہ کریں بھئی۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، ہر ایک کا الگ الگ شعبہ ہے۔ کچھ کے شعبے ذرا زوردار ہیں، کچھ ذرا نرمی سے کام کرتے ہیں، تو یہ سب اپنے ہیں مولانا سب کے ساتھ محبت ہو ہمیشہ۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بھی تمام جماعتوں سے جو اہل حق کی ہیں ان سے محبت رکھتے تھے بہت زیادہ بھئی۔ اور تبلیغی جماعت والوں کا بڑا اکرام فرماتے تھے وہ جب کوئی جماعت آجاتی ویسے تو حضرت شیخ کسی سے بھی ملتے نہیں تھے بھئی۔ کوئی کہیں سے بھی آیا ہوتا، بہت کم ملتے تھے کسی سے۔ کوئی لوگ بھی آتے عصر سے مغرب کا وقت رکھا ہوا تھا بس اس میں جس کی ملاقات ہو گئی سو ہو گئی، اس کے بعد کوئی کہیں سے بھی آیا ہو کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، وہ پھر ملاقات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت والے جب آتے اور ملنا چاہتے تو ان کو وقت دیتے بھئی ملتے تھے ان کا اکرام کرتے، رائیونڈ سے طلباء جو آتے پڑھنے دورے کے لیے یہاں، ان کا بھی بڑا اکرام کرتے تھے اور سال کے آخر میں جب کتابیں تقسیم فرماتے تو ان کو خصوصاً زائد کتابیں دیتے تھے باقی طلباء کی بنسبت۔
چنانچہ وفات کے بعد جامعہ کے ایک استاذ، بڑے ولی اللہ آدمی ہیں، وہ انہوں نے خواب میں دیکھا بھئی۔ رائیونڈ ہی گئے ہوئے تھے وہیں پر انہوں نے خواب دیکھا بھئی۔ خواب میں دیکھا حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ہیں بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ میں آگے ہوا اور پوچھا بات کی کہ حضرت آپ کا تو انتقال ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ اور پوچھا کس وجہ سے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کیا بات ہوئی؟ کہا اللہ تعالیٰ کو میری دو باتیں پسند آئیں جس کی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ ایک تو یہ بات کہ جس وقت میرا انتقال ہوا تو میں عصر کی نماز میں حضرت شیخ کو دل کا دورہ پڑا تھا، آدھی نماز پڑھی تھی تین رکعتیں نماز پوری نہیں کر سکے تھے، تو کہتے ہیں جس وقت میرا انتقال ہوا عصر کی نماز میں پوری نہیں کر سکا تھا، تو جیسے ہی فرشتے حساب انتقال کے بعد حساب کتاب کے لیے آئے تو میں نے کہا ذرا ٹھہرو بھئی ٹھہرو، اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ابھی میں نے عصر کی نماز مکمل نہیں کی، مجھے اتنا وقت دے دیجیے کہ میں عصر کی نماز مکمل کر لوں۔ کہتے ہیں اللہ کو میری یہ بات بڑی پسند آئی بھئی۔ اور دوسری یہ بات اللہ کو میری پسند آئی کہ میں تبلیغی جماعت کا اکرام کیا کرتا تھا۔ تو اس پر اللہ نے کیا کیا میری مغفرت فرما دی۔ رحمۃ حق بہانہ می جوید، رحمۃ حق بہا نمی جوید بھئی۔ اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ بہانہ چاہتی ہے۔ معمولی چھوٹی سی بات جسے آپ اہمیت بھی نہیں دیتے، ہو سکتا ہے وہ آپ کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی بھی چیز عام اور معمولی نہیں۔
اور کونسا واقعہ ہے بھئی؟ تعویذات میں حضرت کے بڑا اثر تھا بہت زیادہ اثر تھا۔ اور پھر یہ ہمارا کچھ خاندانی اثر بھی ہے مولانا ہمارے خاندان میں یہ اثر ہے کہ اللہ نے تعویذات وغیرہ میں دعاؤں میں بہت اثر رکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ... چلیے وجہ چند ایک وجہ ذکر کر دیتا ہوں۔ کہ ہمارے آباؤ اجداد میں بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بعد سے لے کر یہ تقریباً تقریباً 800 سال تک، 800 سال تک تو قطعی طور پر معلوم ہے جتنے افراد گزرے سارے بڑے بڑے اولیاء تھے بھئی۔ جتنے بھی خاندان میں آئے۔ بعد والوں کے احوال معلوم نہیں مولانا سمجھ میں آیا؟ پہلے لوگ تو لکھا کرتے تھے احوال بعد میں زمانہ اختلاط زیادہ ہوا تو احوال تو اتنی تفصیل سے سب کے دستیاب نہیں۔ اور پھر حضرت شیخ کا اپنا تقویٰ، اصل چیز تو تقویٰ ہی ہے بھئی اس کی وجہ سے سارا زیادہ اثر اسی کی وجہ سے۔ تو جس کے لیے دعا فرماتے تھے مولانا عجیب اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے تھے بھئی، عجیب۔
ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے تھے مولانا دورہ حدیث کو سبق پڑھا رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے کہنے لگے کتاب الحج آئی بھئی کتاب الحج آئی، حج کے ابواب آئے مولانا ترمذی شریف میں وہ پڑھا رہے ہیں۔ تو پڑھاتے پڑھاتے طلباء سے کہا مولانا میں آپ سب کے لیے حج کی دعا کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، ابھی میں نے دعا کی نہیں بھئی، لیکن میں آپ کے لیے کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ میرا ایک بھی تلمیذ ویسے نہیں رہے گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ سب کو اللہ حج پر لے کر جائے گا۔ کہا ابھی میں نے کی نہیں میں کروں گا إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ کے لیے دعا۔ اور ایک اور موقع پر دعا کی بھئی۔ یہی ابواب الحج چل رہے تھے تو پھر پڑھاتے پڑھاتے دعا کی، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں سب کو حج پر لے جا۔ اور پھر فوراً فرمایا اور مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی۔ عجیب انداز میں فرمایا مولانا دعا قبول ہو گئی ہے بھئی، إِنْ شَاءَ اللَّهُ آپ میرا کوئی بھی تلمیذ نہیں رہے گا سب کے سب کو اللہ تعالیٰ کہاں لے کر جائیں گے حج پر لے کر۔ اور پھر کئیوں نے ہمیں آکر واقعات بھی سنائے اپنے حج پر عجیب طریقے سے چلے گئے۔ ایک کا تو مجھے ابھی بھی یاد اس نے بتایا کہ میرے گھر جب سے میں نے مدرسے میں پڑھنا شروع کیا ہے میرے سارے گھر والے میرے مخالف ہیں۔ 8 سال 9 سال گزر گئے ہیں میرے گھر والے والدہ تک ہمارے ساتھ صحیح بات نہیں کرتیں بھئی کہ یہ کیا مولوی بن رہے ہو چھوڑو اس کو آؤ کوئی دنیاوی کام کاروبار وغیرہ کرو سب بھئی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ابھی تک میں دورہ کر رہا تھا میرے یہی حال تھا دورہ کرکے جیسے ہی میں گھر پہنچا، وہی بھئی جو میرے ساتھ ناراض ہیں وہی بھئی جو میرے ساتھ بات بھی نہیں کرتے، وہی گھر والے جو میری پرواہ بھی نہیں کرتے، چھٹیاں جیسے ہی ہوئیں میں گھر پہنچا گھر والے کہتے ہیں بھئی تیاری شروع کر دو ہم نے آپ کے حج پر جانے کا انتظام کر دیا ہے۔ ایک دم ایسے بدل گئے بھئی۔ تو کئیوں نے سنائے ایسے واقعات۔ عجیب ان کی دعاؤں میں تاثیر تھی عجیب تاثیر۔ کبھی کبھی طلباء سے فرمایا بھی کرتے کہ مولانا اللہ ہماری دعائیں قبول فرماتے ہیں ہم جو بھی دعا کرتے ہیں اللہ اس کو قبول فرماتے ہیں۔
تعویذات میں اللہ نے ایسا اثر رکھا تھا کہ انسان حیران ہو جاتا تھا بھئی انسان حیران ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ایک مرتبہ ایک مریض لایا گیا جس کی بینائی کو ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ علاج کے لیے لائے حضرت شیخ صاحب کے پاس، انہوں نے بتایا کہ یہ اس کی بینائی جو ہے کم ہوتی چلی گئی آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اب بالکل کچھ بھی نہیں اسے دکھائی دیتا، ہاتھ سے پکڑ کر لے کر آئے بھئی اسے۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى نے دم کیا اور کہا مریض سے کہا بھئی اپنے دونوں ہاتھ آگے کرو، اس نے دونوں ہاتھ آگے کیے، حضرت شیخ نے ہاتھوں پر پھونک ماری اور کہا اسے اپنے چہرے پر پھیر لو، اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور اسی وقت اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سب لوگوں کے سامنے وہ چلتا ہوا خود گیا۔ پہلے اسے پکڑ کے لے کر آئے تھے سارے حیران رہ گئے عجیب بھئی۔ عجیب اثر رکھا تھا مولانا بیان نہیں کر سکتا انسان کہ ایسے بھی ہوتا ہے ایک دم بھئی۔ وہ جو پرانے بزرگوں کے واقعات کبھی ہم سنتے تھے وہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
مجھے خود یاد ہے جامعہ کے ایک استاد تھے ان کی ایک ماہ کی چھوٹی سی بیٹی بیمار ہوئی تو اسے لے کر آئے بھئی گھر میں۔ والد صاحب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ہیں کوئی مہمان وغیرہ تھے میں بھی ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا تو اندر سے وہ بچی کے رونے کی آواز آئی وہ ایک دو ماہ یا تین ماہ کی ہو گی۔ پورے زور سے رو رہی ہے مولانا جتنا اس بچی میں زور تھا زور لگا کر رو رہی ہے بھئی۔ تو ایک آدھ منٹ تو آواز آئی تو والد صاحب بھی پریشان ہوئے بے چین ہوئے کہ پتہ نہیں یہ کیا اس طرح بچہ رو رہا ہے بھئی تو اٹھ کر آئے بھئی۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا ہوا یہ کون ہے کیوں رو رہا ہے تو والدہ نے بتلایا کہ یہ فلاں جو استاد کی بیٹی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دوپہر سے رو رہی ہے اور اس وقت عشاء کا وقت تھا۔ دوپہر سے اسی طرح رو رہی ہے بالکل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چپ کر رہی پورا زور لگا کر رو رہی ہے جیسے کوئی زبردست تکلیف ہو بھئی۔ میرے سامنے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آئے اور انہوں نے پتہ نہیں کہ پڑھا کچھ اور پھونک ماری مولانا پھونک مارتے ہی ایک دم بچی ایسے چپ ہو گئی جیسے کوئی اس کا منہ دبا دے بس۔ ایک دم خاموش ہو گئی ایک ہلکی سی آواز بھی اس نے نہیں نکالی اس کے بعد۔ اتنا میں حیران ہو گیا بھئی ایک دم اس طرح۔ چلو آرام آرام سے خاموش ہو پھر بھی بات ہے بھئی ایک دم آواز خاموش ہو گئی خاموش، سکون سے ہو گئی اطمینان سے۔
کل پرسوں ابھی کوئی بتلا رہے تھے ایک دو اپنے مریضوں کا لائے تھے، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہسپتال میں مریض داخل ہے اسے خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں آکسیجن اسے لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بھئی اپنے مریض کو لے جاؤ اس کا کوئی علاج نہیں ہے بس اس نے ایک آدھ دن میں مر جانا ہے بس یہاں ہسپتال میں مرے گا ہماری بدنامی ہوگی اس کو لے جاؤ بھئی لے جاؤ۔ کہتے ہیں میں حضرت شیخ صاحب کے پاس آیا تو حضرت شیخ صاحب نے پھر تعویذ لکھ کر دیا وغیرہ اور دعائیں کچھ بتلائیں کہ یہ پڑھو کہتے ہیں رات کو ساری رات وہ جو بتایا تھا وظیفہ وہ پڑھتے رہے صبح مریض کی حالت ایک دم بدلنا شروع ہو گئی اور پانچ چھ دن بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے چھٹی دے دی۔ تو بالکل یعنی گھر والے اس کی میت لینے ہسپتال پہنچ گئے تھے کہ اب اس کو لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہتے ہیں وہ ابھی تک زندہ ہے بھئی۔ ابھی تک زندہ ہے۔ کہتے ہیں وہ مجھے شخص جو لے کر جو آیا تھا وہ کہتے ہیں ابھی بھی میری ملتا ہے بڑا اکرام کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے۔ تو عجیب اثر تھا ان کے دعاؤں میں عجیب۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
ہم چھوٹے تھے کوئی شرارت وغیرہ بھی کر لیتے تو والد صاحب کو خبر ہو جاتی۔ ہم چھوٹے تھے والدہ سے آ کے لڑتے آپ نے بتایا ہوگا۔ والدہ کہتیں میں نے نہیں بتایا، جب بھی کوئی ایسی بات ہو جائے وہ سیدھے آ کر یوں پوچھتے ہیں جیسے ان کو بات کا پتہ ہے اب میرے سے صرف تصدیق کروا رہے ہیں بس۔ تو پھر اب کہاں انکار کی گنجائش ہے یہ تو یوں لگ رہا ہے جیسے ان کو پتہ ہے سارا کچھ اب میں کہاں سے ان کو ادھر ادھر بات کو کروں بھئی۔ تو مجھے پھر بتانا ہی پڑتا ہے مجبور ہوکر۔ جب بھی کوئی شرارت ہو جائے۔ چھوٹی ویسے تو تسامح کرتے تھے کوئی ایسی بات نہیں لیکن کبھی کوئی ایسی بات ہو جاتی جس پہ سزا دینا ضروری ہوتا تو پھر دیتے تھے سزا۔ ورنہ تسامح کرتے تھے اکثر بھئی۔ بڑے مولانا شاہانہ عام جاہ و جلال تو تھا جلال ان کا لیکن عام جاہ و جلال نہیں شاہانہ جاہ و جلال اور شاہانہ مزاج تھا ان کا بھئی، بڑا شاہانہ مزاج تھا۔
تعویذات کی عجیب عجیب واقعات ہر شخص آتا ہے نئی بات سناتا ہے، ہمارے ساتھ یوں ہوا، ہمارے ساتھ یوں ہوا، انسان سن کے حیران ہوتا ہے۔ ابھی یہ رمضان سے کچھ پہلے ایک میں کراچی ایک دن کے لیے گیا وہاں انہوں نے دو تین واقعے جہاں جاؤں کوئی نہ کوئی نیا واقعہ سننے کو ملتا ہے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى کا۔ تو کسی نے بتایا کہ ان کے کوئی جاننے والے تھے ان کا کسی کے ساتھ ان کے بیٹے نے غالباً، ان کے بیٹے نے کسی کو قتل کر دیا تھا۔ تو اب قتل کر دیا ہے اب وہ پکڑا گیا بیٹا اب وہ اس کو سزا دے رہے ہیں اب وہ جو مخالف ہیں جو مقتول والے ہیں وہ کوشش کر وہ کہتے ہیں ہم کیا کریں گے اس کو موت کی سزا دلوائیں گے بھئی۔ انہوں نے کہتے ہیں پوری کوشش کر لی بھئی غلطی ہو گئی ہے چلو صلح کر لیں آپ جتنے پیسے لینا چاہتے ہیں، یہ ہے وہ ہے بڑی منتیں کہتے ہیں ان کی کی وہ نہیں مانتے وہ کہتے ہیں نہیں بھئی۔ ہم کسی صورت میں فیصلہ نہیں کریں گے معلوم نہیں میرا خیال ہے غلطی سے کوئی قتل ہوا تھا، غلطی سے ہوا ہوگا۔ تو وہ نہیں مانتے کہتے ہیں نہیں بھئی۔ ہر حربہ آزما لیا مولانا کہتے ہیں وہ کوئی صورت نہیں وہ نہیں مان رہے تھے کسی صورت میں۔ آخر کسی نے حضرت شیخ کا بتایا کہ ان کے پاس جائیں بھئی۔ تو چنانچہ وہ آئے تو حضرت شیخ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى کے پاس جب انہوں نے کوئی بات کی تو کوئی پتہ نہیں کیا بات کی حضرت شیخ بڑے سخت ناراض ہو گئے اور ان کو نکال دیا کہ دفع ہو جاؤ ادھر سے نکل جاؤ بھئی نکال دیا بھئی۔ وہ اور پریشان ہوئے بڑی کوشش کی کسی طرح دے دیں کوئی تعویذ وغیرہ نہیں دیا بھئی بھیج دیا۔ تو بعد میں بھی بڑی کوشش کی معافی وغیرہ مانگی لیکن کہتے ہیں نہیں بھئی میں نہیں دیتا تعویذ جاؤ۔ پھر وہ گئے ادھر ادھر کوشش کرتے کرتے کسی جاننے والے سے کوئی عالم تھے اور حضرت شیخ کے قریبی تعلق تھا ان سے بات ہوئی تو ان کے ذریعے پھر سفارش کروائی۔ تو علماء طلباء وغیرہ کی تو بڑی قدر کرتے تھے چنانچہ ان کی سفارش مان لی اور کہا اچھا ان کو بھیج دینا پھر میرے پاس بھئی۔ وہ شخص پھر آیا تو اس کو پھر تعویذ وغیرہ دیا۔ وہ شخص یہاں سے تعویذ لے کر چلا کہتے ہیں جب گھر پہنچا تو وہ مخالف پہلے سے گھر میں بیٹھا ہوا ہے۔ اور کہہ رہا ہے کہ میں تو دو گھنٹے سے یہاں بیٹھا ہوں آپ سے میں وہ فیصلہ کرنے کے لیے آیا تھا آپ مل ہی نہیں رہے تو میں اب دو گھنٹے سے یہیں بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ عجیب بات۔
اللہ کراچی گیا ایک اور عجیب واقعہ سنایا جن کے ساتھ پیش آیا تھا خود۔ یہاں حضرت شیخ کے پاس اب تو بڑے عالم ہیں بڑے بہت بڑے ولی اللہ عالم ہیں وہ تو وہ فرما رہے تھے کہتے ہیں جب میں یہاں پڑھتا تھا حضرت شیخ کے پاس تو دورہ حدیث میں نے کیا بھئی۔ دورہ حدیث کرنے کے بعد بھئی میں حضرت شیخ کی خدمت کرتے تھے بھئی تو کتابوں وغیرہ تصنیف وغیرہ میں کام کرتے تھے حضرت شیخ کوئی کام لکھوانا ہوتا ان کو دے دیتے یہ لکھو کبھی املاء کروا رہے ہیں کتاب کی عبارت وغیرہ، کوئی کتابت کے لیے دے دی۔ تو یہ سارا دن لکھتے رہتے تو کہتے ہیں میری آنکھیں اتنی خراب ہو گئیں بینائی اتنی کمزور ہو گئی کہ مجھے عینک لگی اور موٹے شیشوں کی عینک لگی ہوئی تھی اور اس سے بھی مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا بعض اوقات بالکل دھندلا نظر آتا تھا۔ اور مسلسل میں لکھ لکھ کر میری بینائی اور خراب ہو رہی تھی کوئی اور طالب علم نہیں تھا جو میرے اس وقت خدمت کرے۔ تو مجھے حضرت شیخ نے ایک دن کہا کہ بھئی کل آپ ایسا کرنا ظہر کے وقت آنا ظہر اور عصر کے درمیان آنا تو کوئی کام ہے وہ لکھوانا ہے۔ تو میں تو ایک دن پہلے ہی پریشان ہو گیا کہ میری تو آنکھیں ویسے ہی دکھ رہی ہیں پانی بہہ رہا ہے ان سے اور مجھ سے تو لکھا نہیں جائے گا اور میں کیسے یہ کام کروں گا تو میں نے دوائی وغیرہ ڈالی کچھ بھی نہیں بھئی۔ اگلے دن میں بڑا پریشان ظہر کی نماز میں نے پڑھی اور پڑھ کر میں حضرت شیخ کے پاس آگیا اور دل میں دعائیں کر رہا تھا یا اللہ کچھ ایسا ہو جائے حضرت شیخ مجھے نہ کہیں لکھنے کا۔ میں تو بالکل نہیں لکھ سکتا۔ کہتے ہیں میں وہاں آیا تو حضرت کے پاس بیٹھا تو حضرت شیخ نے میری طرف دیکھا۔ دیکھ کے کہنے لگے کیا ہوا ہے آپ کی آنکھوں کو بھئی؟ میں نے کہا حضرت کچھ نہیں بس یہ رات کو وہ لکھتا رہا تو درد ہو رہا ہے اور پانی بہہ رہا ہے آنکھوں سے اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا دھندلا سا ہے سارا کچھ۔ مجھے کہتے ہیں اچھا قریب آؤ، میں قریب ہوا میری عینک انہوں نے اتاری اتار کے سائیڈ پر رکھی اور میری آنکھوں پر پتہ نہیں کیا پڑھ کر پھونک ماری۔ تو جیسے ہی پھونک ماری اسی وقت میری آنکھیں بالکل روشن ہو گئیں درد وغیرہ سب کچھ غائب ہو گیا اور مجھے سب کچھ صاف دکھائی دینے لگ گیا۔ اور پھر مجھے فرمایا کہ لکھو۔ تو میں نے سارا وہ جو لکھوایا میں نے لکھا کوئی مجھے تکلیف نہیں ہوئی بھئی۔ اور کہتے ہیں وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔ اس بات کو غالباً 25، 30 سال ہو چکے ہیں۔ کہتے ہیں اس کے بعد نہ مجھے عینک کی ضرورت پڑی اور نہ کبھی میری آنکھیں خراب ہوئی ہیں۔ ماشاء اللہ اب بھی بالکل ٹھیک ہیں اور میں سارا کام بغیر عینک کے کرتا ہوں۔ تو یہ تو ان کے دعاؤں میں بڑا اثر تھا۔
میرے خیال میں آپ کے سبق کا وقت ہو رہا ہے۔ چھٹی کرنی ہے؟ چھٹی ہے؟ اچھا۔ تو عجیب اثر تھا ان کے تعویذات میں دعاؤں میں۔ بڑے صاحب کشف انسان تھے۔ بہت صاحب کشف تھے۔ لیکن کبھی ظاہر نہیں کرتے تھے۔ کبھی ظاہر نہیں کرتے تھے۔ ہم گھر میں چھوٹے تھے کوئی شرارت وغیرہ بھی کر لیتے تو والد صاحب کو خبر ہو جاتی۔ ہم چھوٹے تھے والدہ سے آ کے لڑتے آپ نے بتایا ہوگا۔ والدہ کہتیں میں نے نہیں بتایا، جب بھی کوئی ایسی بات ہو جائے وہ سیدھے آ کر یوں پوچھتے ہیں جیسے ان کو بات کا پتہ ہے اب میرے سے صرف تصدیق کروا رہے ہیں بس۔ تو پھر اب کہاں انکار کی گنجائش ہے یہ تو یوں لگ رہا ہے جیسے ان کو پتہ ہے سارا کچھ اب میں کہاں سے ان کو ادھر ادھر بات کو کروں بھئی۔ تو مجھے پھر بتانا ہی پڑتا ہے مجبور ہوکر۔ جب بھی کوئی شرارت ہو جائے۔ چھوٹی ویسے تو تسامح کرتے تھے کوئی ایسی بات نہیں لیکن کبھی کوئی ایسی بات ہو جاتی جس پہ سزا دینا ضروری ہوتا تو پھر دیتے تھے سزا۔ ورنہ تسامح کرتے تھے اکثر بھئی۔
لکھ رہے ہیں یا کچھ، تو وہ املا کی لکھا کرتے تھے۔ تو سال ختم ہو گیا مولانا۔ اب حضرت شیخ رَحِمَهُ اللّٰهُ سال جب ختم ہوا تو وہ کہتے ہیں، وہ جو اس وقت پڑھ رہے تھے، کہتے ہیں میں حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ حضرت میں یہاں ایک سال اور رہنا چاہتا ہوں۔ اب تو مجھے مدرسے کی طرف سے تو اجازت نہیں ہوگی کیونکہ دورہ میں کر چکا ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں ایک سال مزید یہاں رہوں، کچھ میں اپ سے اور کتابیں پڑھ لوں گا، فائدہ حاصل کر لوں گا، اور پھر کچھ اپ کی خدمت بھی کر لوں گا اس سال کے دوران۔
حضرت شیخ ویسے ہی بڑے خوش تھے ان کے کام سے، بھئی بڑے ذہین تھے اور بڑا بہترین اور دل اور اخلاص کے ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ یہ ہم نے اپنی زندگی میں ہم نے دیکھا ہے، جس نے حضرت شیخ کی اخلاص سے خدمت کی اس کو اللہ نے بہت مقام دیا، بہت مقام دیا بھئی۔ جس نے بھی اخلاص سے خدمت کی، تو کہتے ہیں تو حضرت شیخ کو بھی ان کے کام بڑا پسند تھا اور بڑے مخلص اور نیک تھے تو حضرت شیخ نے کہا اچھا بھئی مہتمم صاحب سے بات کی اور مہتمم صاحب بھی بڑی شفقت فرماتے تھے حضرت شیخ صاحب سے بڑا گہرا تعلق تھا، انہوں نے اجازت دے دی کہ ٹھیک ہے رہ لے بھئی ایک سال۔
چنانچہ وہ ایک سال مزید یہاں رہے اور حضرت شیخ کے ساتھ وہ املا وغیرہ بھئی کرتے تھے، تو کہتے ہیں کہ سال کے درمیان جب وفاق کے داخلے جا رہے تھے، کہتے ہیں میں نے وفاق کا امتحان نہیں دیا تھا دورے کا، تو جب وفاق کے داخلے جا رہے تھے، تو میرے ایک دو ساتھی تھے انہوں نے مجھے کہا کہ بھئی وفاق کا اپ نے امتحان نہیں دیا اپ بھی داخلہ بھجوا دیں۔ تو میں نے ان کو کہا نہیں بھئی اب تو سال گزرنے والا ہے میں کتابیں بھول گیا ہوں، اب میں امتحان کی تیاری کہاں سے کروں گا، کہاں سے امتحان دوں گا۔ انہوں نے بڑا اصرار کیا لیکن میں کسی صورت نہیں مانا۔ جب میں نہیں مانا تو وہ میرے ساتھیوں نے خود ہی میری طرف سے داخلہ بھیج دیا بھئی، میرے ساتھیوں نے۔
خیر داخلہ چلا گیا، اب سال کا اخر اگیا بالکل امتحان کے دن ائے، کہتے ہیں ان دنوں حضرت شیخ کے ساتھ میں اٹھ اٹھ گھنٹے کام کیا کرتا تھا بھئی رات کو دو دو بجے تک اڑھائی اڑھائی بجے تک تین تین بجے تک بعض اوقات ہم وہ کتابوں کا کام کرتے تو میں کہتے ہیں پھر واپس ا جاتا تھا اور حضرت شیخ میرے جانے کے بعد بھی کتابوں میں مصروف رہتے تھے بھئی۔ تو کہتے ہیں امتحانات شروع ہوئے مولانا، ایک امتحان ہوا، گزر گیا، دوسرا امتحان ہوا گزر گیا، دوسرے امتحان پہ جا کے حضرت شیخ کو پتہ چلا بھئی۔ تو مجھے جب میں گیا کام کے لیے اس دن تو فرمانے لگے بھئی اپ بھی عجیب ادمی ہیں بھئی اپ نے بتایا بھی نہیں اپ کے امتحان ہو رہے ہیں، یہ تو میں سارا وقت تو میں لے لیتا ہوں اپ کا، اپ سوتے کس وقت ہوں گے، اپ امتحان کی تیاری کس وقت کرتے ہوں گے، پرچے کس طرح دیتے ہوں گے بھئی۔
پھر فرمایا کہ چلو ائندہ سے ہم یوں کریں گے چار پانچ گھنٹے، پانچ گھنٹے کام کریں گے، تو باقی کچھ اپ نیند کر لینا یا کچھ امتحان کی تیاری کر لینا۔ اور پھر حضرت شیخ نے فرمایا اپنا قلم جو جس سے وہ لکھا کرتے تھے مولانا۔ کہتے ہیں وہ قلم مجھے دیا کہ لو مولانا اس قلم سے پرچے کرو بھئی۔ اور عجیب جملہ بھی ساتھ ارشاد فرمایا، فرمایا کہ یہ نہ سمجھو میں تمہیں اپنا قلم دے رہا ہوں، میں تمہیں اپنا ہاتھ دے رہا ہوں بھئی۔ کہتے ہیں میں نے قلم لے لیا، اس سے میں نے امتحانات حل کیے سارے، لیکن میرے پرچے اچھے نہیں ہوئے۔ قلم واپس کر دیا۔
امتحانات اچھے نہ ہوئے، چنانچہ سال پورا ہوا میرا پھر حضرت شیخ سے اجازت لی اور میں ا گیا اور کراچی میں رہنے لگے، تو کراچی میں کہتے ہیں جب پھر وفاق کے نتیجہ ایا بھئی۔ نتیجہ ایا تو میرے ساتھیوں نے کہا بھئی وفاق کا نتیجہ ایا ہے، اپ نتیجے کا پتہ نہیں کرنے گئے، میں نے کہا بھئی میرے تو پرچے بڑے خراب ہوئے ہیں، میں تو فیل ہوں گا، میرے تو پاس ہونے کا امکان بھی نہیں، میں نہیں جاتا۔ تو میرے ساتھی کہتے ہیں گئے، وہ دیکھ کر ائے اور پھر انہوں نے اکر مجھے بتایا مولانا اور اس وقت کہتے ہیں میں نے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللّٰهُ کی عظیم کرامت دیکھی کہ میں وفاق میں پورے پاکستان میں اول ایا تھا بھئی۔ پھر مجھے حضرت شیخ کی وہ بات یاد ائی کہ میں تمہیں قلم نہیں دے رہا، اپنا ہاتھ دے رہا ہوں بھئی۔ حالانکہ جن کے پہلے دوسرے تیسرے نمبر پر جو اتے ہیں اپ کو پتہ ہے ان کے پرچے کئی ہاتھوں سے گزرتے ہیں، بار بار ان کو دیکھا جاتا ہے بھئی۔
اب تو بس باتیں ہی رہ گئیں مولانا۔ حضرت شیخ کو اپ دیکھتے پھر اپ کو پتہ چلتا بھئی۔ ان کی شخصیت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ بھئی۔ حضرت جو مدینہ گئے تھے تو اپ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے روضے پر سلام عرض کیا تو جواب ایا تھا اندر سے۔ اچھا ہاں۔ وہ عمرے کے لیے، ہاں سال میں سفر پر تو کہیں نہیں جاتے تھے، کہیں بھی نہیں بڑی کئی ملکوں سے بلاتے تھے ان کو لیکن نہیں جاتے تھے۔ مصروفیات اتنی زیادہ تھیں ادھر درس و تدریس تھی، تصنیفات وغیرہ اور ہاں سال میں صرف رمضان میں عمرے کے لیے جاتے تھے یا کبھی حج کے لیے بھی چلے جاتے۔
تو ایک مرتبہ طلباء بتلاتے ہیں بھئی، کہ عمرے کے لیے جانے لگے سال کے درمیان میں، تو طلباء سے کہا کہ بھئی میں میری روانگی ہے عمرے کے لیے جا رہا ہوں حَرَمَيْنِ شَرِيفَيْنِ، اور وہاں سے اپ کے لیے کیا تحفہ لاؤں بھئی۔ سارے خاموش رہے۔ پھر فرمایا بھئی کیا تحفہ لاؤں بھئی اپ کیا چاہیں گے۔ تو ایک دو مرتبہ کہا تو ایک طالب علم نے ہمت کی اور کہا، بڑا بہت جلال تھا مولانا، بیان نہیں ہو سکتا کتنا جلال تھا حضرت شیخ کا۔ طلباء کہتے ہیں جو سامنے بیٹھتے تھے ان کے تپائی کے سامنے بیٹھتے تھے پورا سال وہ بھی بتلاتے ہیں کہ پورے سال میں ہماری اتنی جرات نہیں ہوئی کہ ہم نظر بھر کے حضرت کے چہرے کی طرف دیکھ سکیں۔ نظر بھر کے ان کے چہرے کی طرف بھی نہیں دیکھ سکتے۔ اور ہر ایک پہ رعب طاری ہوتا تھا مولانا، کوئی جاننے والا ہوتا کوئی انجان ہوتا، عجیب ان کا رعب تھا، جیسے حدیث میں اتا ہے، حضور صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ مجھے اتنا رعب دیا گیا ہے کہ ایک مہینے کی کیا مسافت پر ہو تو انسان پر وہ رعب پڑتا ہے بھئی۔ تو حضرت شیخ کو بھی بہت اللہ نے رعب عطا فرمایا تھا بھئی۔ عجیب رعب تھا بھئی، سمجھ ایا؟ حدیث میں بھی تو اتا ہے۔ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ۔
تو طلباء سے کہا، تو طلباء نے کہا کہ حضرت ہمارا سلام وہاں روضہ رسول صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر عرض کر دیجیے گا۔ اس ایک کا سنا تو سارے ہی بول پڑے کہ حضرت ہمارا بھی سلام عرض کیجیے گا، ہمارا بھی، کہتے ہیں اچھا ٹھیک ہے بھئی میں اپ کا سلام کہوں گا۔ چنانچہ چلے گئے، وہ عمرے سے جب واپس ائے 15، 20 دن کے بعد، تو پھر اکر اور باتیں کیں اور فرمانے لگے کہ مولانا میں عمرے کے لیے گیا اور وہاں روضہ رسول صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر، میں نے اپ کا سلام بھی حضور صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو پہنچایا اور میں نے کہا وہاں کہا، يَا رَسُولَ اللّٰهِ وہ غریب و مسکین، قَالَ اللّٰهُ وَقَالَ الرَّسُولُ پڑھنے والے طلباء جو ہیں، وہ جو میرے تلامذہ ہیں، وہ سب بھی اپ کو سلام کہہ رہے تھے۔
اور پھر عجیب بات مزید سنائی، اور کہنے لگے کہ مولانا، وَاللّٰهِ جس وقت میں نے اپ کا سلام عرض کیا تو وَاللّٰهِ میں نے حضور صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی اواز اپنے کانوں سے سنی کہ انہوں نے اپ کے سلام کا جواب دیا بھئی۔ طلباء کی یہ سن کر چیخیں نکل گئیں مولانا، دھاڑیں مار مار کے رونے لگے بہت سے طلباء بھئی۔ ہاں، بہت باتیں بھئی کیا سنائیں اور بس بھئی میرا خیال کافی ہے بھئی۔ اللہ اپ سب کو خیر و عافیت اور مسرت سے لے جائے گھر بھئی چھٹیوں میں اور واپس بھی اسی طرح خیر و عافیت اور مسرت سے سب کو لے کر ائے بھئی اللہ۔ چلیے بھئی۔