Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-005

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 23 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
شروع میں دعا کر دیتے ہیں ، ان کی کتاب شروع کرتے ہیں۔ دعا کا طریقہ یہ ہے مولانا ، شروع میں الحمد للہ ہو اور پھر درود شریف ہو اور اخر میں آمین اور درود شریف ہو ، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔ الحمد لله رب العالمين ، اللهم صل على سيدنا محمد۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! اس کتاب کو احسن طریقے سے مکمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! اس کتاب کو احسن طریقے سے مکمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! جو ابھی ہم نے قرآن پڑھا ، یا اللہ! اس کا ثواب ہماری جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ اور ائمہ ، فقہاء ، محدثین اور اولیاء اللہ اور شہداء اور ہمارے جو اساتذہ ہم سے رخصت ہو گئے ہیں ، انہیں اور اے اللہ! اس کتاب کے جو ماتن ہیں علامہ محمد ابن عبدالرحمن اور علامہ تفتازانی رحمہ اللہ ، ان سب کو ہماری طرف سے اس کا ثواب پہنچا دیجیے۔ (آمین) اے اللہ! اس کتاب کو ہم سب کے لیے مبارک فرما۔ (آمین) اے اللہ! اس کتاب کو ہمارے لیے آسان بنا دے۔ (آمین) اے اللہ! تمام طلباء کے لیے نہایت آسان بنا دے۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ (آمین) اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں ، یا اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کی تمام تکالیف دور فرما۔ (آمین) اے اللہ! جو بیمار ہیں ، یا اللہ! یا جن کے گھروں میں کوئی بیمار ہیں ، سب کو شفاء نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان سب کے گھروں میں خیر و برکت نازل فرما۔ (آمین) اے اللہ! اطمینان و سکون نازل فرما۔ (آمین) اے اللہ! پریشانیوں کو دور فرما۔ (آمین) اے اللہ! پریشانیوں کو دور فرما۔ (آمین) اے اللہ! اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! کفر کو ذلیل فرما۔ (آمین) اے اللہ! کفار کی جمعیت کو ٹکڑے ٹکڑے فرما دے۔ (آمین) اے اللہ! ان پر اپنا غضب نازل فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ (آمین) اے اللہ! مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! تمام علماء ، طلباء ، مدارس ، مساجد ، مجاہدین ، مبلغین ، سب کی مدد فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کی مدد و نصرت فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ (آمین) اے اللہ! جو مجاہدین دشمن کے قید میں ہیں ، یا اللہ! ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ (آمین) اے اللہ! ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ (آمین) اے اللہ! جو جو بھی جس انداز میں بھی آپ کے دین کا کام کر رہے ہیں ، یا اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کی نصرت فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کو صحیح فہم نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان سب کے وسیلے سے ہماری دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان سب کے وسیلے سے ہماری دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہم سب کے سینوں کو علوم کے لیے کھول دے۔ (آمین) اے اللہ! سب کے سینوں کو منور فرما۔ (آمین) اے اللہ! قرآن و حدیث کے نور سے منور فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہمیں سنتوں پر عمل کرنے والا بنا۔ (آمین) اے اللہ! ہمیں سنتوں پر عمل کرنے والا بنا۔ (آمین) اے اللہ! ہمیں بدعات اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ (آمین) اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں ، یا اللہ! ان سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کی پریشانیاں اور تکالیف دور فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان پر آئندہ زندگی میں رزق کے دروازے کھول دے۔ (آمین) اے اللہ! خوب وسعتِ حلال رزق نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں ، یا اللہ! سب کو وسعتِ حلال رزق نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! تنگ دستی کو دور فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! اس سال کو ہمارے لیے نہایت مبارک فرما دے۔ (آمین) اے اللہ! اس سال کو ہمارے لیے نہایت مبارک فرما دے۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ (آمین) اے اللہ! آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! گناہوں والی مجالس سے بھی ہماری حفاظت فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہمارے گھروں میں دین کا بول بالا ہو۔ (آمین) اے اللہ! ہماری نشست و برخاست میں دین کا بول بالا ہو۔ (آمین) اے اللہ! ہماری حرکات و سکنات میں دین کا بول بالا ہو۔ (آمین) اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی سچی محبت ہمارے دل میں پیدا فرما۔ (آمین) اے اللہ! خصوصاً ان کی ہر سنت پر عمل کرنا ہمارے لیے آسان بنا دے۔ (آمین) اے اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت پر عمل کرنے کو ہمارے لیے آسان فرما دے۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے ، دعا فرمائیں اللہ صحت و عافیت نصیب فرمائے۔ (آمین) اے اللہ! صحت و عافیت نصیب فرما۔ (آمین) ہمیں گھر میں جو پریشانیاں ہیں ، اللہ ان کو دور فرما۔ (آمین) میرے والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ ، وہ بیمار ہیں ، اللہ دعا فرمائیں اللہ انہیں صحت و عافیت نصیب فرمائے۔ (آمین) اے اللہ! ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم فرما۔ (آمین) اے اللہ! جتنے میرے تلامذہ ہیں ، یا اللہ! ان سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! جن کے والدین زندہ ہیں ، یا اللہ! ان کو ، ان کا سایہ ان کے سروں پر تا دیر قائم و دائم رکھ۔ (آمین) اے اللہ! ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! جن کے والدین اور عزیز و اقارب ، جو ہمارے جو عزیز و اقارب ہم سے رخصت ہو چکے ہیں اور اے اللہ! سب کی لغزشات سے درگزر فرما۔ (آمین) اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ (آمین) اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں ، یا اللہ! ان کی لغزشات سے درگزر فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان کی قبروں کو منور فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان کی جو اولاد باقی ہیں ، انہیں خوشیاں نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان پر رزق کے دروازے کھول دے۔ (آمین) اور اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں ، یا اللہ! انہیں بھی خوشیاں نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ (آمین) اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) رات کو جو سبق شروع ہو رہا ہے صرف و نحو کا ، اس کے لیے بھی آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے ، دعا کریں اللہ اس کو نہایت آسان بنا دے۔ (آمین) اے اللہ! اس کو تمام طلباء کے لیے نہایت نافع بنا۔ (آمین) اے اللہ! نہایت نافع بنا۔ (آمین) اے اللہ! نہایت مبارک فرما۔ (آمین) اے اللہ! اس سے نہایت مقبولیت نصیب فرما۔ (آمین) اے اللہ! اس سے ہر ایک کو بے انتہا نفع پہنچے۔ (آمین) اے اللہ! اس سلسلے کو جاری و ساری فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ (آمین) صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ۔ جی! پڑھیے مولانا۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. نَحْمَدُكَ يَا مَنْ شَرَحَ صُدُورَنَا لِتَلْخِيصِ الْبَيَانِ فِي إِيضَاحِ الْمَعَانِي، وَنَوَّرَ قُلُوبَنَا بِلَوَامِعِ التِّبْيَانِ مِنْ مَطَالِعِ الْمَثَانِي، وَنُصَلِّي عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ الْمُؤَيَّدِ دَلائِلُ إِعْجَازِهِ... النَّبِيِّكَ مُحَمَّدٍ الْمُؤَيَّدِ دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ. مُؤَيَّدِ دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ بِأَسْرَارِ الْبَلَاغَةِ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الْمُحْرِزِينَ... الْمُحْرِزِينَ. الْمُحْرِزِينَ ، باب افعال ہے۔ قَصَبَاتِ السَّبْقِ فِي مَيَادِينِ الْفَصَاحَةِ وَالْبَرَاعَةِ، وَبَعْدُ: فَيَقُولُ الْعَبْدُ الْفَقِيرُ إِلَى اللَّهِ الْغَنِيِّ سَعْدُ الدِّينِ بْنُ عُمَرَ الْمَدْعُوُّ بِسَعْدٍ التَّفْتَازَانِيُّ: هَدَاهُ اللَّهُ سَوَاءَ الطَّرِيقِ، وَأَذَاقَهُ حَلاوَةَ التَّحْقِيقِ: قَدْ شَرَحْتُ... قَدْ شَرَحْتُ. قَدْ شَرَحْتُ فِيمَا مَضَى تَلْخِيصَ الْمِفْتَاحِ، وَأَغْنَيْتُهُ بِالْإِصْبَاحِ عَنِ الْمِصْبَاحِ... بِالْإِصْبَاحِ. بِالْإِصْبَاحِ عَنِ الْمِصْبَاحِ، وَأَوْدَعْتُهُ غَرَائِبَ نُكَتٍ سَمَحَتْ بِهَا الْأَنْظَارُ، وَشَحَذْتُهُ بِثِقَالٍ... فِقَارٍ ، فِقَارٍ۔ فِقَارٍ. فَابْتَهَجَتْ بِهَا أُولُو الْأَلْبَابِ، ثُمَّ رَأَيْتُ كَثِيرًا مِنَ الْفُضَلاءِ، وَجَمًّا غَفِيرًا مِنَ الْأَذْكِيَاءِ، يَسْأَلُونَنِي صَرْفَ الْهِمَّةِ نَحْوَ... نَحْوَ اخْتِصَارِهِ. نَحْوَ اخْتِصَارِهِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى بَيَانِ مَعَانِيهِ وَكَشْفِ أَسْرَارِهِ، لِمَا نَشْهَدُهُ مِنْ أَنَّ الْمُحَقِّقِينَ قَدْ تَثَاقَلَتْ هِمَمُهُمْ عَنِ اسْتِطْلَاعِ... عَنِ ، باءِ ہمزۂ وصلی گراتے جاؤ ، عَنِ اسْتِطْلَاعِ۔ عَنِ اسْتِطْلَاعِ طَوَالِعِ أَنْوَارِهِ، وَتَقَاعَدَتْ عَزَائِمُهُمْ عَنِ اسْتِكْشَافِ خَبِيَّاتِ أَسْرَارِهِ، وَأَنَّ الْمُنْتَهِلِينَ قَدْ صَدِئَتْ... بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. تو یہ ، بِسْمِ اللَّهِ ، جار مجرور ہے بھئی! اور جار مجرور آپ نے پڑھا ہے کہ ہمیشہ کسی سے متعلق ہو گا بھئی۔ تو یہ بِسْمِ اللَّهِ بھی یہ کسی سے متعلق ہو گا ، اب اس میں آپ فعلِ عام بھی نکال سکتے ہیں اور فعلِ خاص بھی نکال سکتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فعلِ عام یہاں آپ 'أَبْتَدِئُ' نکالیں گے بھئی ، میں شروع کرتا ہوں ، یہ عام فعل ہے ، ہر کام کے لیے آپ یہ یہ یہاں پر نکالا جائے ، کوئی بھی کام شروع کیا جائے یہ اس... اور اس کو مولانا مؤخر نکالیں گے ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَبْتَدِئُ۔ اس لیے کہ آپ نے ضابطہ پڑھا ہے مولانا: تَقْدِيمُ مَا حَقُّهُ التَّأْخِيرُ يُفِيدُ الحَصْرَ وَالقَصْرَ وَالتَّخْصِيصَ. تَقْدِيمُ مَا حَقُّهُ التَّأْخِيرُ ، وہ جس کا حق کیا تھا؟ تاخیر تھی ، مؤخر ہونا تھا ، اس کو آپ کیا کر دیں؟ مقدم کر دیں ، تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ حصر کا ، قصر کا ، تخصیص کا۔ حصر ، قصر ، تخصیص تینوں کا ایک معنی ہے بھئی۔ تو یہ حصر کا فائدہ دے گا۔ سو اگر پہلے نکالتے ہیں تو پھر تو معنی ہو گا: أَبْتَدِئُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو رحمان ہے اور رحیم۔ لیکن مؤخر نکالیں گے تو پھر حصر آ جائے گا اور حصر ہی اس کے لائق ہے اس مقام کے: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَبْتَدِئُ ، میں اللہ ہی کے نام سے شاید شروع کرتا ہوں ، تو یہ حصر آ گیا ، کسی اور کے نام کے ساتھ سب باقی سب کی نفی ہو گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ضابطہ یاد ہونا چاہیے: تَقْدِيمُ مَا حَقُّهُ التَّأْخِيرُ يُفِيدُ الحَصْرَ بھئی۔ آپ فعلِ خاص بھی نکال سکتے ہیں موقع و محل کے مطابق مولانا۔ کھانا کھانے لگیں تو وہاں کیا نکالیں گے؟ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ آكُلُ. سمجھ میں آیا بھئی؟ لکھنے لگے ہیں: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَكْتُبُ. تو یہاں پر کیا نکالیں گے مولانا؟ جی ، یہاں آپ حضرات نکالیں گے: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَتَعَلَّمُ. میں سیکھتا ہوں ، سمجھ میں آیا بھئی؟ أَتَعَلَّمُ نکالیں گے بھئی۔ آپ سیکھ رہے ہیں مولانا۔ تو أَتَعَلَّمُ نکالیں گے۔ یا أُعَلِّمُ نکالیں گے ، میں سکھاتا ہوں مولانا ، تو استاد کے لیے کیا ہو جائے گا؟ أُعَلِّمُ. اور طالب علم کے لیے؟ أَتَعَلَّمُ. علامہ تفتازانی رحمہ اللہ نے جو جب لکھا ان کے لیے کیا نکالا جائے گا؟ أُصَنِّفُ. وہ کیا کر رہے تھے؟ تصنیف فرما رہے تھے جی۔ نَحْمَدُكَ ، ہم آپ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ يَا مَنْ شَرَحَ صُدُورَنَا ، اے وہ ذات! شَرَحَ صُدُورَنَا ، جس نے کھول دیا ہمارے سینوں کو۔ لِتَلْخِيصِ الْبَيَانِ ، تلخیص کہتے ہیں بات کا خلاصہ نکالنا بھئی۔ (یرحمک اللہ... یغفر اللہ) تلخیص کہتے ہیں بات کا خلاصہ نکالنا۔ اور بیان کہتے ہیں: اَلْكَلَامُ الْفَصِيحُ الْمُعْرِبُ عَمَّا فِي الضَّمِيرِ. ایسا کلامِ فصیح ، معرب کا معنی؟ ظاہر کرنے والا ، ایسا کلامِ فصیح جو ظاہر کرنے والا ہے عَمَّا فِي الضَّمِيرِ ، ضمیر سے مراد قلب ہے۔ اس ایسی چیز کو جو کس کے اندر ہے؟ دل کے اندر ہے۔ ایسا فصیح کلام جو ظاہر کرنے والا ہے کس چیز کو؟ وہ چیز جو دل میں ، یعنی دل میں جو بات ہے اس کو ظاہر کرنے والا کلام مولانا۔ تو وہ فصیح کلام جو دل کی بات کو ظاہر کرے ، اسے کیا کہتے ہیں بھئی؟ بیان کہتے ہیں۔ بیان کہتے ہیں۔ تو ہم آپ کی حمد بیان کرتے ہیں اے وہ ذات! شَرَحَ صُدُورَنَا ، جس نے کھول دیا ہمارے سینوں کو لِتَلْخِيصِ الْبَيَانِ ، کس چیز کے لیے کھول دیا؟ بات کے خلاصہ نکالنے کے لیے بھئی ، بات کا خلاصہ نکالنے کے لیے۔ فِي إِيضَاحِ الْمَعَانِي ، فِي بمعنی مع کے ہے مولانا۔ أَي مَعَ إِيضَاحِ الْمَعَانِي ، معانی کی وضاحت کے ساتھ بھئی۔ معانی کی وضاحت کے ساتھ۔ بھئی ایک خلاصہ نکالا جائے اور بات واضح نہ ہو اس کا کوئی فائدہ ہے بھئی؟ اور ایک وہ خلاصہ ہے جس میں جو طویل کلام میں جتنی بات واضح تھی ، آپ نے خلاصہ نکالا اس میں بھی بات اسی طرح واضح ہے ، یہ مفید ہے مولانا ، تو یہ مراد ہے۔ کہ بات کا خلاصہ نکالنے کے لیے ہمارے سینوں کو کھولا مَعَ إِيضَاحِ الْمَعَانِي ، ساتھ معانی کی وضاحت کے ، یعنی بات کا خلاصہ بھی نکالتے ہیں اور معنی بھی پہلے ہی کی طرح کیا رہتا ہے؟ واضح کا واضح رہتا ہے۔ وَنَوَّرَ قُلُوبَنَا ، اور ہمارے دلوں کو منور فرمایا۔ بِلَوَامِعِ التِّبْيَانِ ، تبیان کہتے ہیں تبیان یہ اسی بیان سے ہے مولانا ، اس کا مادہ بھی وہی ب ، ی ، ن ہے مولانا۔ تو یہ تا شروع میں زائد لائی گئی مولانا ، یہ مصدر میں بڑھائی جاتی ہے مبالغے کے لیے بھئی۔ تِفْعَالُ کا وزن مولانا مبالغے کا مصدر۔ اور عربی میں کوئی ایک حرف بھی زائد و بیکار نہیں ، تو یہاں حرف زیادہ ہوا تو معنی بھی زیادہ ہو جائے گا مولانا۔ بیان کا معنی تھا بات ، تو تبیان کا معنی کیا ہوا؟ مدلل بات بھئی ، دلیل کے ساتھ جو ہو۔ تو بیان کا معنی تھا کلام اور تبیان کا معنی ہوا مدلل کلام۔ لَوَامِعُ جمع ہے لَامِعَةٌ کی بھئی۔ اور لامعہ کہتے ہیں چمکدار کو بھئی۔ روشن ، چمکدار۔ اور لَوَامِعُ کے لیے موصوف محذوف نکالیں گے مولانا: اَلنُّجُومُ. لَوَامِعُ ، یعنی چمکدار ستارے بھئی۔ چمکدار ستارے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مشکل تو نہیں؟ نہیں جی۔ چمکدار بھئی ، تو چمکدار آیا تو کوئی چیز ہوگی لازمی بات ہے چمکدار ، اور وہ کیا مراد ہے؟ ستارے مراد ہیں۔ اور یاد رکھو یہ بِلَوَامِعِ التِّبْيَانِ ، لَوَامِعُ مضاف ہے ، اَلتِّبْيَانِ مضاف الیہ ہے۔ اور یہ از قبیل یہ اضافت از قبیلِ لُجَيْنُ الْمَاءِ ہے بھئی۔ از قبیلِ لُجَيْنُ الْمَاءِ ہے بھئی ، لُجَيْنُ الْمَاءِ... یہ تو گزر چکا ہو گا ، پھر سن لیجیے بھئی۔ بھئی یاد رکھو یہ چیز اس قسم کی چیزیں آپ کو ہمیشہ یاد ہونی چاہئیں۔ آپ کتابیں اٹھائیں گے ، شروحات اٹھائیں گے ، مصنفین تفصیل نہیں بتائیں گے۔ بس یہ کہہ کے آگے چلے جائیں گے: "یہ لجین الماء کی قبیل سے ہے" ، بس! آپ کو خود پتہ ہونا چاہیے کہ لجین الماء کی قبیل سے کیا معنی۔ تو یاد رکھو لجین الماء ، اس میں مشبہ بہ کی اضافت ہے مشبہ کی طرف۔ کس کی اضافت ہے؟ لجین کہتے ہیں چاندی کو۔ لجین کہتے ہیں چاندی اور ماء: پانی۔ تو یہ اصل میں یوں تھا مولانا: اَلْمَاءُ كَاللُّجَيْنِ. چاندی جیسا پانی۔ اَلْمَاءُ كَاللُّجَيْنِ ، پانی کس جیسا؟ چاندی جیسا۔ تو مشبہ کون مولانا؟ کس کو تشبیہ دی آپ نے؟ پانی کو۔ کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟ چاندی سے۔ تو پانی اَلْمَاءُ ہوا مشبہ اور لجین کیا؟ مشبہ بہ۔ تو اصل عبارت یوں تھی: اَلْمَاءُ كَاللُّجَيْنِ. جیسے آپ کہتے ہیں: زَيْدٌ كَالَأَسَدِ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو زید شیر کی طرح ہے ، تو یہاں بھی اسی طرح ، پانی کو ہم نے تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ چاندی کے ساتھ۔ پھر مولانا اس مشبہ بہ کو اٹھایا اور اٹھا کر مشبہ کی طرف مضاف کر دیا بھئی ، تو کیا بن گیا؟ لُجَيْنُ الْمَاءِ. پہلے کیا تھا؟ اَلْمَاءُ كَاللُّجَيْنِ. سمجھ میں آئی عبارت بھئی؟ تو بس یہ کہتے ہوئے گزر جائیں گے مولانا: "یہ لجین الماء کی قبیل سے ہے" ، آپ خود سمجھ جائیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے مولانا؟ مشبہ بہ کی اضافت ہو رہی ہے مشبہ کی طرف اور اصل عبارت اس 'ک' کے ساتھ آپ بنا لیں گے۔ تو یہ بھی اسی طرح: اَلتِّبْيَانِ كَاللَّوَامِعِ. اَلتِّبْيَانِ كَاللَّوَامِعِ. اور لوامع کے لیے موصوف میں نے نکالا تھا مولانا ، وہ کیا ہے؟ اَلنُّجُومُ. تو اَلتِّبْيَانِ كَالنُّجُومِ اللَّوَامِعِ. اَلتِّبْيَانِ ، ایسا مدلل کلام كَالنُّجُومِ اللَّوَامِعِ ، جو چمکدار ستاروں کی طرح ہے۔ ایسا مدلل کلام جو چمکدار ستاروں کی طرح ہے۔ مِنْ مَطَالِعِ الْمَثَانِي ، مِنْ مَطَالِعِ الْمَثَانِي. مطالع جمع ہے مَطْلَعٌ کی ، طلوع ہونے کی جگہ۔ طلوع ہونے کی جگہ۔ اَلْمَثَانِي ، یہ جمع ہے یا تو مَثْنَى کی ، یہ جمع ہے یا تو مَثْنَى کی ، تو ظرف کا صیغہ ہوا۔ دگنا کرنے کی جگہ۔ تثنیہ نہیں ہے بھئی ، تثنیہ کس کو کہیں گے؟ دو ، تو وہی مادہ ہے اس کا بھی۔ تو مَثْنَى کے کیا معنی ہوا؟ دگنا کرنے کی جگہ۔ اور مثانی سے مراد یہاں قرآن ہے مولانا۔ قرآن کو مثانی کیوں کہتے ہیں بھئی؟ ہاں ، کیونکہ اس میں آیات اور قصص اور احکام وغیرہ کیا ہیں؟ اور دگنے سے مراد مکرر ہیں ، مراد کیا ہے؟ مکرر ، تو اس میں بھی آیات ، احکام اور قصص مکرر ہیں مولانا۔ یا یہ جمع ہے مولانا خلاف القیاس مُثَنَّى کی ، مُثَنَّى کی ، اور مثنیٰ کا کیا معنی؟ دگنا خود دگنا کیا ہوا جو ، دگنا کیا ہوا ، یعنی جو مکرر ہو خود مولانا ، اس کو کیا کہیں گے؟ مثنیٰ۔ تو یہ اس کی جمع ہے خلاف القیاس۔ تو قرآن بھی چونکہ دو مرتبہ نازل ہوا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ ایک مرتبہ آسمانِ دنیا پر نازل ہوا اور پھر وہاں سے کیا ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ مبارک پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔ یا اس کو مثنیٰ اس لیے کہا یہ ہے کہ مثانی کے اس کی بعض سورتیں مکرر نازل ہوئی ہیں۔ دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں مولانا بعض سورتیں ، جیسے سورۃ الفاتحہ کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ یہ کتنی مرتبہ نازل ہوئی ہے؟ دو مرتبہ نازل ہوئی ہے ، اسی طرح اور۔ تو ہم قرآن کے... اور مطالع سے ، مطالعہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ طلوع ہونے کی جگہ ، لیکن یہاں مراد قرآن کے الفاظ ہیں بھئی۔ مطالع سے مراد قرآن کے الفاظ۔ بھئی دیکھو! جیسے طلوع ہونے کی جگہ سے سورج اور ستارے طلوع ہوتے ہیں مولانا ، اور سورج کے اور ستاروں کی وجہ سے کیا کرتے تھے لوگ؟ راستہ پہچانتے ہیں ، روشنی ہو گئی ، سورج نکلا ، سب کچھ نظر آیا ، آدمی نے اپنا راستہ اچھی طرح دیکھ لیا۔ یا رات کو ستارے نکلے تو قدیم زمانے میں بھی راستوں کا پتہ رات کو کس سے چلاتے تھے؟ ستاروں سے چلاتے تھے بھئی۔ ستاروں سے چلاتے تھے ، آج بھی دیہات دیہات جو دور دراز کے ہیں وہاں ستاروں کے ذریعے پتہ چلاتے ہیں راستوں کا۔ تو جیسے طلوع ہونے کی جگہ سے سورج اور ستارے نکلتے ہیں اور پھر لوگوں کی رہنمائی کا کام سرانجام دیتے ہیں ، اسی طرح قرآن کے جو الفاظ ہیں اس سے معانی طلوع ہوتے ہیں بھئی ، اور وہ معانی پھر کیا کرتے ہیں؟ لوگوں کی ہدایت کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ سے معنی سمجھ میں آتا ہے یا نہیں آتا مولانا؟ معنی سمجھ میں آئے گا ، اور جب معنی سمجھ میں آئے گا تو پھر انسان اس پر کیا کرے گا؟ عمل کرے گا اور اس کی رہنمائی ہوگی۔ اور مِنْ مَطَالِعِ الْمَثَانِي ، یہ جار مجرور مولانا یہ صفت ہے تبیان کی۔ أَيِ التِّبْيَانِ الْحَاصِلِ مِنْ مَطَالِعِ الْمَثَانِي ، وہ مدلل کلام جو چمکدار ستاروں کی طرح ہے ، وہ حاصل ہونے والا ہے کہاں سے؟ (یرحمک اللہ) وہ کہاں سے حاصل ہونے والا ہے؟ قرآن کے... ترجمہ سمجھ میں آیا؟ دوبارہ سنو بھئی: اور منور کیا ہمارے دلوں کو بِلَوَامِعِ التِّبْيَانِ ، مدلل کلام کے چمکدار ستاروں کے ساتھ ، وہ مدلل کلام ایسا مدلل کلام اَلْحَاصِلِ مِنْ مَطَالِعِ الْمَثَانِي ، جو کہاں سے حاصل ہونے والا ہے؟ قرآن کے الفاظ سے وہ مدلل کلام حاصل ہوتا ہے۔ بھئی یہ دروازے کھڑکیاں کچھ تو کھولو بھئی۔ وہ بھی کھولو بھئی۔ مکمل کھول دو بھئی ، مکمل کھول دو ، کتنا حبس ہو گیا کمرے میں۔ شکر کرو یہ مل گئی۔ کہیں گے گراؤنڈ میں بیٹھو۔ وَنُصَلِّي عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ. اور صلوات... اور ہم رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ بھئی صلوات کی نسبت ذاتِ باری تعالی کی طرف ہو تو کیا معنی آتا ہے؟ رحمت نازل کرنا۔ اور انسان کی طرف ہو تو پھر رحمت کی دعا کرنا ، تو یہاں بھی دیکھیے بھئی اسی طرح ہے۔ وَنُصَلِّي ، جمع متکلم کا صیغہ مولانا ، انسان کی طرف نسبت ہوئی۔ اور ہم رحمت کی دعا کرتے ہیں کن کے لیے؟ آپ کے نبی کے لیے ، محمد ، جن کا اسمِ گرامی کیا ہے؟ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ الْمُؤَيَّدِ ، کہ تائید کی گئی ہے۔ دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ. هٰذَا ضمیر راجع ہے لفظِ محمد کو۔ ان کے عاجز کرنے کے دلائل کی۔ الْمُؤَيَّدِ دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ. بھئی آپ نے پڑھا ہے: فعلِ معروف کس کو چاہتا ہے؟ فاعل کو چاہتا ہے ، ضَرَبَ زَيْدٌ. فعلِ مجہول کس کو چاہتا ہے؟ نائب فاعل کو ، ضُرِبَ زَيْدٌ. اسی طرح یاد رکھو ، ہمیشہ یاد رکھو! جیسے فعل فاعل کے بغیر نہیں آ سکتا ، فعلِ معروف فاعل کے بغیر نہیں آ سکتا ، فعلِ مجہول نائب فاعل کے بغیر... یہ کبھی نہیں ہو سکتا فعل تو ہو اور اس کا فاعل یا نائب فاعل نہ ہو۔ اسی طرح جب بھی اسمِ فاعل آ جائے ، وہ بھی ہمیشہ کس کو چاہے گا؟ فاعل کو چاہے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا اسمِ فاعل تو آ جائے اور اس کا فاعل نہ آئے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں ، وہ فاعل آپ کو نظر کم ہی آئے گا کیونکہ وہ عموماً اسی کے اندر ضمیر ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں: زَيْدٌ ضَارِبٌ بھئی ، زَيْدٌ کیا ہو گا؟ مبتدا ، ضَارِبٌ صیغہ اسمِ فاعل۔ تو جیسے ضَرَبَ فاعل چاہتا ہے ، ضَارِبٌ صیغہ اسمِ فاعل بھی کیا چاہتا ہے؟ کوئی پٹائی کرنے والا ہو گا یا نہیں مولانا؟ ضَارِبٌ کوئی تو موصوف ہونا چاہیے اس کا ، تو اس کے اندر کون سی ضمیر نکالیں گے؟ هُوَ ضمیر نکالیں گے اور وہ هُوَ ضمیر اب کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کی طرف لوٹ رہی ہے۔ تو یہ ہمیشہ اس کے اندر هُوَ ضمیر ہو گی مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اگر اسمِ مفعول ہو تو پھر ہمیشہ اس کے اندر نائب فاعل ہو گا: زَيْدٌ مَضْرُوبٌ. زَيْدٌ مبتدا ، اور مَضْرُوبٌ صیغہ اسمِ مفعول ، اس کے اندر هُوَ ضمیر نائب فاعل مولانا۔ جب مَضْرُوبٌ آ گیا ، اب نائب فاعل ہمیں ہر حال میں چاہیے! ضَارِبٌ آ گیا تو فاعل ہمیں ہر حال میں چاہیے۔ تو مَضْرُوبٌ کے اندر هُوَ ضمیر نائب فاعل ، اور وہ کس کو لوٹے گی پھر؟ زید کی طرف لوٹے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر زید کے لیے کیا بنے گا؟ خبر بنے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شبہ جملہ۔ تو ترکیب کے لیے بھئی انشاء اللہ رات کو کوشش کریں ، ہمت کریں بھئی ، یہ موقع بار بار نہیں آتا ، خوب کوشش کریں انشاء اللہ۔ ساری ترکیب آپ کے لیے بڑی آسان ہو جائے گی انشاء اللہ ، ثم انشاء اللہ۔ تو مَضْرُوبٌ کے اندر نائب فاعل ہو گا۔ پھر مولانا یاد رکھو ، ہاں جیسے ضَرَبَ کے اندر کیا ہوتا ہے فاعل؟ هُوَ ضمیر اس کے اندر فاعل ہے ، لیکن کبھی کبھی فاعل ظاہر بھی تو آ جاتا ہے ، آپ کہتے ہیں: ضَرَبَ زَيْدٌ. اب ضَرَبَ کے اندر ضمیر ہے؟ نہیں ، کیونکہ آگے زید خود اس کا فاعل ظاہر آ رہا ہے۔ اسی طرح اسمِ فاعل میں ہمیشہ ضمیر ہوتی ہے ، لیکن کبھی کبھار کیا ہوتا ہے؟ آگے فاعل اس کا اسمِ ظاہر... جب اس میں ظاہر فاعل آ جائے گا ، اب اس کے اندر ضمیر نہیں ، کیونکہ اس نے ایک کو رفع دینا تھا ہر حال میں ، وہ چاہے اس کے اندر ضمیر ہو یا آگے اس کے اسمِ ظاہر ہو۔ میں کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ. کیا کہیں گے بھئی؟ قَائِمٌ کے اندر کیا ہے؟ هُوَ ضمیر اس کا فاعل ہے جو کس کو لوٹ رہا ہے؟ لیکن میں کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوهُ. اب یہ قَائِمٌ نے رفع کس کو دیا؟ أَبُوهُ کو رفع دیا ، اب اس کے اندر لہذا ضمیر نہیں! تو ترجمہ کیا ہوا؟ زید کہ اس کا باپ کھڑا ہے۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات بھئی؟ تو اسم میں کبھی کبھی فاعل جو ہوتا ہے وہ اسمِ ظاہر آ جاتا ہے ، اور کبھی کبھی نائب فاعل بھی کیا ہوتا ہے؟ اسمِ ظاہر آ جاتا ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے مولانا: الْمُؤَيَّدِ ، یہ کون سا صیغہ ہے؟ اسمِ مفعول ، یہ چاہتا ہے نائب فاعل کو ، اور وہ نائب فاعل اس کے اندر ضمیر نہیں ، کیونکہ آگے خود اس کا نائب فاعل ظاہر آ رہا ہے: دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ. اب اگر آپ سے کوئی سوال کرے: یہ دَلَائِلُ آپ نے رفع کیوں پڑھا؟ تو آپ کیا جواب دیں گے؟ کہ یہ الْمُؤَيَّدِ کے لیے کیا ہے؟ نائب فاعل ہے ، اس نے اس کو رفع دیا ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یاد رکھو! جیسے فاعل کے لیے... جیسے فعلِ معروف کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل ، اسی طرح اسمِ فاعل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ اسی طرح صفتِ مشبہ کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ اسی طرح مولانا اسمِ تفضیل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ آپ کہتے ہیں: اَللَّهُ أَكْبَرُ مولانا ، تو یہ أَكْبَرُ اسمِ تفضیل ہے ، لیکن یہ کس کو چاہتا ہے؟ فاعل ، لہذا اس کے اندر کیا مانیں گے؟ هُوَ ضمیر۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح مبالغے کا جو صیغہ ہو گا ، وہ بھی کس کو چاہے گا؟ فاعل کو چاہے گا ہمیشہ۔ جبکہ اسمِ مفعول کس کو چاہے گا؟ نائب فاعل ، جیسے یہاں ہے۔ اور اس کو مولانا صفت بحالِ متعلقہٖ کہتے ہیں بھئی۔ آپ نے پڑھا ہو گا صفت دو قسم پر ہے: صفت ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو کس میں پایا جاتا ہے؟ موصوف میں ، جَاءَنِي زَيْدٌ الظَّارِبُ. بتائیے مولانا! یہ پٹائی کرنے والا کون ہے؟ زید موصوف ہے اور الظَّارِبُ اس کی صفت ، تو یہ پٹائی کرنے والا کون؟ زید ، تو یہ ضاربیت کا معنی کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ زید کے اندر پایا جا رہا ہے۔ اور کبھی یہ صفت... اس کو کہتے ہیں صفت بحالہٖ ، کیا کہتے ہیں؟ جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو اس کے موصوف کے اندر پایا جائے۔ کبھی یہ صفت... یہ ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو موصوف میں نہیں پایا جاتا بلکہ موصوف کے متعلق میں پایا جاتا ہے ، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ صفت بحالِ متعلقہٖ. مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ الظَّارِبُ أَبُوهُ. وہی فاعل جو چاہیے تھا الضارب کے لیے میں کیا لے آیا؟ أَبُوهُ اس میں ظاہر لے آیا بھئی مولانا۔ اب ترجمہ کیا ہو گا؟ آیا میرے پاس ایسا زید کہ پٹائی کرنے والا ہے وہ یا اس کا باپ بھئی؟ اس کا باپ! اب بتائیے مولانا! یہ ضاربیت زید میں پائی جا رہی ہے یا اس کے باپ میں؟ اس کے باپ میں پائی جا رہی ہے۔ تو یہ صفت بحالِ متعلقہٖ ہے ، زید کے متعلق کی صفت ہے دراصل ، زید کی صفت نہیں۔ تو لفظوں میں صفت ہے زید کی ، اور معنی میں صفت ہے أَبُوهُ کی بھئی۔ بات سمجھ نہیں آ رہی؟ لفظوں میں صفت کس کی ہے؟ زید کی ، اور معنی میں یہ صفت ہے أَبُوهُ اس کے متعلق کی۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ مشکل تو نہیں ہے بھئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے مولانا: الْمُؤَيَّدِ دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ. یہ صفت بحالِ متعلقہٖ ہے۔ لفظوں میں مؤید صفت ہے کس کی؟ لفظِ محمد کی ، اور معنی کے اعتبار سے یہ صفت کس کی ہے؟ دلائل کی بھئی۔ تو مؤید کا معنی ہے جس کی تائید کی جائے ، جس کو قوت دی جائے مولانا۔ تو یہ قوت دی گئی ہے ، کس چیز کو قوت دی گئی ہے؟ دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاجز کر دینے والے جو دلائل ہیں۔ دلائل عاجز کر دینے والے دلائل سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں مولانا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دلائل تھے یا نہیں مولانا؟ معجزات تھے ، اور اس معجزہ کا معنی ہی یہ ہے: آيَةٌ مُعْجِزَةٌ ، ایسی نشانی جو دوسرے کو کیا کر دے؟ کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کی تائید کی گئی تائید کی گئی ہے ان کے معجزات کی ، یعنی ان کو قوت دی گئی تھی کس کے ساتھ؟ معجزات کے ساتھ۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ بِأَسْرَارِ الْبَلَاغَةِ ، قوت دی گئی تھی ان کے معجزات کو کس چیز کے ساتھ؟ بلاغت کے اسرار کے ساتھ۔ بلاغت کے اسرار کے ساتھ۔ اسرار جمع ہے سِرٌّ کی ، سر کہتے ہیں راز کو بھئی۔ سر کہتے ہیں راز کو۔ اسی طرح سر کسی چیز کے اعلیٰ حصے کو بھی کہتے ہیں۔ آپ عربی میں پڑھیں گے: سِرُّ الْأَرْضِ بھئی ، کیا معنی؟ زمین کا اعلیٰ حصہ۔ سِرُّ الْوَادِي ، وادی کا اعلیٰ حصہ۔ اسی طرح عربی میں محاورہ: صُدُورُ الْأَحْرَارِ قُبُورُ الْأَسْرَارِ. صُدُورُ الْأَحْرَارِ ، احرار: آزاد لوگ۔ آزاد لوگوں کے سینے جو ہیں ، قُبُورُ الْأَسْرَارِ ، وہ اسرار کی قبریں ہوتی ہیں۔ آزاد لوگوں کے سینے اسرار کی ، رازوں کی قبریں ہوتی ہیں۔ آزاد لوگوں سے مراد شریف اور معزز لوگ ہیں۔ شریف اور معزز لوگ جو ہیں ان کے سینوں میں راز دفن ہوتے ہیں مولانا ، وہ کسی پر اس کو ظاہر نہیں کرتے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دوسروں کے عیب ہوں ، کوئی بات ہو ، کوئی راز ہو مولانا ، اس کو چھپانا چاہیے۔ اپنے راز کو بھی کسی غیر کے حوالے آپ نے کر دیا تو اور پھر اس سے چھپانے کی توقع رکھیں تو یہ عبث بے کار مولانا غلط ہے مولانا ، جب آپ خود اپنے نفس میں اس کو نہیں چھپا سکے تو دوسرا کیسے چھپائے گا آپ کی بات؟ اور دوسرے کے کوئی راز ہوں تو اس کی مولانا افشاء نہیں کرنا ظاہر نہیں کرنا چاہیے مولانا ، کوئی راز ہو ، کوئی عیب ہو مولانا ، جو دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ بھی کیا فرماتے ہیں؟ اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ جو دوسروں کی پردہ دری کرتا ہے ، اللہ بھی اس کی پردہ دری فرماتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ دوسروں کے عیب چھپانے چاہئیں ، راز بھی جو بھی ہو چھپانا چاہیے بھئی۔ جی! تو اب بلاغت کے اسرار سے کیا مراد ہے؟ بلاغت کی چھپی ہوئی باتیں ، بھئی وہ چیزیں جو ہم اس کتاب میں پڑھیں گے مولانا ، وہ نکات وغیرہ مولانا ، وہ مراد ہیں۔ اور ان کو اسرار کہا اس لیے کیونکہ انہیں ہر کوئی جانتا ہے بھئی؟ ہر ایک نہیں جانتا بھئی ، جس نے پڑھا ہو گا وہی جانے گا ، عالم ہی جانے گا ، غیر عالم اس کو نہیں جانے گا۔ اس لیے ان کو اسرار... تو حضور حضرت... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کی تائید کی گئی تائید کی گئی ہے ان کے معجزات کی ، ان کے معجزات کی کس چیز کے ساتھ؟ بلاغت کے اسرار کے ساتھ ، بلاغت کے اسرار کے ساتھ۔ مراد فصاحت و بلاغت ہے مولانا ، فصاحت اور بلاغت۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں مولانا ، لیکن سب سے بڑا معجزہ کیا ہے؟ قرآن ہے مولانا ، اور قرآن معجزہ کیوں؟ فصاحت اور بلاغت کی وجہ سے ، تو ان کے جو اور معجزات تھے مولانا ، ان کو قوت دی گئی کس چیز کے ساتھ؟ اس قرآن کے ساتھ کہ یہ بھی معجزہ ہے اور یہ فصیح و بلیغ ہے اور قیامت تک رہنے والا ہے مولانا ، تو یہ سب سے بڑا معجزہ ہوا ، اس نے باقی معجزات کو اور کیا کر دیا بھئی؟ قوت دی قوت دی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ الْمُؤَيَّدِ ، اور ہم رحمت کی دعا کرتے ہیں آپ کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ، الْمُؤَيَّدِ کہ تائید کی گئی ہے دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ ان کے عاجز کر دینے والے دلائل کی تائید کی گئی ہے بِأَسْرَارِ الْبَلَاغَةِ بلاغت کے اسرار کے ساتھ ، وَعَلَى آلِهِ اور رحمت کی دعا کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیے بھئی۔ آل سے مولانا حضور مختلف اقوال ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت بعض کہتے ہیں ، خاندان والے بعض ، اور بعض کیا کہتے ہیں اس سے کہ ہر متقی مومن کیا ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں داخل ہے ، اور یہ معنی زیادہ مناسب ہے تاکہ عام ہو جائے معنی بھئی سب کو ، تمام متقی شامل ہو گئے اس میں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا آپ لوگ بھی اس میں مولانا داخل ہو گئے بھئی۔ وَأَصْحَابِهِ ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں ، الْمُحْرِزِينَ قَصَبَاتِ السَّبْقِ. أَحْرَزَ يُحْرِزُ إِحْرَازٌ کے معنی ہیں جمع کرنے کے۔ أَحْرَزَ يُحْرِزُ إِحْرَازٌ کے معنی ہیں جمع کرنے کے۔ قَصَبَاتٌ جمع ہے قَصَبَةٌ کی ، قَصَبَاتٌ جمع ہے قَصَبَةٌ کی ، قَصَبَةٌ مولانا... وہ چھوٹا سا تیر جو گھوڑ دوڑ کے میدان میں آخری کنارے پر لگایا جاتا تھا، جو سوار اس کو لے جاتا وہ کیا ہوتا؟ جیت جایا کرتا تھا۔ سمجھ میں آیا؟ اس کو قصبہ کہتے تھے بھئی۔ تو قصبۃ السبق، سبقت کا تیر مولانا۔ اور وہ صحابہ المحرزین جو جمع کرنے والے ہیں، قصبات السبق، کس چیز کو؟ سبقت کے تیروں کو۔ مضمار کہتے ہیں گھوڑ دوڑ کا میدان، میدان مراد ہے یہاں۔ فی مضمار الفصاحۃ، فصاحت کے میدان میں، والبراعۃ، براعت کے معنی ہیں بلندی اور کمال مولانا۔ کمال اور فصاحت کے میدان میں، وہ صحابہ جو جمع کرنے والے ہیں سبقت کے تیروں کو fصاحت اور کمال کے میدان میں۔ اف! سبقت کے تیروں کو جمع کرنے والے ہیں، کیا معنی مولانا؟ یہ محاورہ ہے مولانا، اردو میں اس کا ترجمہ ہم کریں گے بازی لے جانا۔ وہ صحابہ جو بازی لے جانے والے ہیں مولانا سب پر، فصاحت اور کمال کے میدانوں میں۔ وبعد، اور بعد، ای وبعد بعد الحمد والصلاۃ، اور حمد و صلاۃ کے بعد۔ خطبہ چل رہا ہے مولانا، مختصر المعانی کا۔ اور علامہ تفتازانی نے اس خطبے میں کمال کیا مولانا۔ یہ خطبہ مشتمل ہے براعتِ استہلال پر بھئی۔ براعتِ استہلال کسے کہتے ہیں بھئی؟ مقدمے میں، خطبے وغیرہ میں ایسی باتوں کا ذکر کرنا جو آگے آنے والے مقصود کی طرف کیا کر دیں؟ اشارہ کر دیں۔ تو یہاں بھی ایسے الفاظ ذکر کیے جو آگے آنے والے مقصود کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھیے مولانا، شرح، شرح کا لفظ لے کر آئے مولانا، اشارہ کر دیا کہ میری کتاب دراصل کیا ہے؟ شرح ہے۔ آگے تلخیص کا ذکر کیا کہ یہ کس چیز کی شرح ہے؟ تلخیص کی شرح ہے مولانا۔ بیان کا لفظ لے کر آئے مولانا، اور آگے کیا آنے والا ہے؟ علمِ بیان آنے والا ہے۔ معانی کا لفظ لے کر آئے بھئی، اور آگے کیا آنے والا ہے؟ علمِ معانی بھی آنے والا ہے۔ نیز مولانا، علامہ تفتازانی نے اس عبارت میں علمِ بلاغت کی کئی چوٹی کی کتابیں گنوا دیں مولانا۔ جیسے پہلے تلخیص کا ذکر آیا مولانا، مشہور و معروف متن، آگے ہم پڑھیں گے ساتھ ساتھ۔ اسی طرح ایک کتاب "البیان" نام سے ہے مولانا، اس کا بھی ذکر کر دیا۔ "ایضاح" کا ذکر آیا مولانا، یہ جنہوں نے تلخیص لکھی ہے میں نے آپ کو بتایا تھا، انہوں نے ایک اور چونکہ یہ مختصر ہو گئی تھی تو ایک اور کتاب لکھی، اس کا نام کیا رکھا؟ ایضاح، تو اس کا بھی ذکر آ گیا فی ایضاح المعانی۔ نیز مولانا، شیخ عبدالقاہر جرجانی کی دو مشہورِ زمانہ کتابیں، دلائل الإعجاز کا بھی ذکر آ گیا اور اسرار البلاغۃ کا بھی ذکر آ گیا۔ وبعد، ای بعد الحمد والصلاۃ۔ وبعد مبنی علی الضم ہے مولانا، کیونکہ اس کا مضاف الیہ کیا ہے؟ محذوف ہے۔ فيقول العبد الفقير إلى الله الغني، پس کہتا ہے ایسا بندہ الفقیر، جو محتاج ہے، إلى الله، اللہ کی طرف، الغني، جو غنی ہے، بے پرواہ ہے، بے نیاز ہے۔ تو اس عبارت میں مولانا، صنعتِ طباق ہے بھئی۔ صنعتِ طباق اور صنعتِ تضاد بھئی، یہ ہم انشاءاللہ علمِ بدیع کے اندر پڑھیں گے۔ کلام کے اندر دو متضاد معانی کو جمع کرنا یہ صنعتِ طباق کہلاتا ہے بھئی۔ دو متضاد معانی نظر آ رہے ہیں آپ کو یا نہیں مولانا؟ ایک فقیر ہے اور ایک غنی ہے، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں مولانا۔ مسعود بن عمر، تو کہتا ہے ایسا محتاج بندہ، وہ کون ہے مولانا؟ مسعود بن عمر، مسعود نام ہے، بیٹے ہیں عمر کے۔ المدعو بسعد، جن کو پکارا جاتا ہے، بلایا جاتا ہے کس نام کے ساتھ، کس لقب کے ساتھ؟ سعد۔ میں نے بتایا تھا کہ ان کا لقب سعد الدین ہے، لیکن یہاں انہوں نے اپنا نصفِ لقب ذکر کیا، سعد، اور مضاف الیہ کو حذف کر دیا۔ سعد الدین کا معنی ہے دین کی نیک بختی بھئی، جو دین کے لیے کیا ہے؟ نیک بختی ہے۔ تو یہاں پر "الدین" کو حذف کر دیا عاجزی کرتے ہوئے کہ کہیں یہ وہم نہ پڑے کہ میں اپنے آپ کو، اپنی ذات کو دین کے لیے کیا سمجھتا ہوں؟ نیک بختی، کہ میری ذات دین کے لیے کیا ہے؟ نیک بختی کا باعث ہے، میری ذات کی وجہ سے دین کیا ہو گیا؟ نیک بخت ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس لیے عاجزی کرتے ہوئے اس کو ذکر نہیں کیا۔ التفتازاني، اس کو مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں اگر صفت بنائیں مولانا مسعود کی، مسعود مرفوع تھا تو التفتازانيُّ بھی مرفوع۔ اور اگر آپ اس کو سعد کی صفت بناتے ہیں تو سعد مجرور تو التفتازانيِّ، یہ بھی کیا پڑھیں گے؟ مجرور پڑھیں گے۔ تفتازان کے رہنے والے۔ هداه الله سواء الطريق، اللہ ہدایت دے ان کو سواء الطريق، سیدھے راستے کی طرف۔ سواء الطريق، یہ مولانا اس میں اضافت ہو رہی ہے صفت کی موصوف کی طرف۔ صفت کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ موصوف کی طرف۔ تو عربی میں کبھی اس طرح بھی کرتے ہیں کہ صفت کی اضافت کر دیتے ہیں موصوف کی طرف۔ تو سواء مصدر ہے مولانا، تو اس کو الطريق کو موصوف بنا لیں اور السواء کو اس کی کیا بنا لیں؟ صفت۔ هداه الله الطريق السواء، اور چونکہ یہ صفت ہے اور مصدر ہے تو اس کو مصدر کبھی کس معنی میں ہوتا ہے؟ فاعل کبھی مفعول کے معنی میں، تو یہاں یہ الطريق السويّ، سیدھا راستہ بھئی، الطريق السويّ، کیونکہ مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو اللہ ان کو ہدایت دے الطريق السويّ، سیدھے راستے کی طرف۔ وأذاقه حلاوة التحقيق، اور چکھا دے ان کو تحقیق کی مٹھاس۔ تو یہ اپنے لیے دعا کر رہے ہیں کہ کون کہتا ہے؟ مسعود بن عمر کہتا ہے، اور اللہ اس کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دیں، اور اس کو تحقیق کی مٹھاس چکھا دیں۔ تحقیق کہتے ہیں مولانا، مسئلے کو دلیل سے ثابت کرنا۔ تحقیق کسے کہتے ہیں؟ مسئلے کو دلیل سے ثابت کرنا۔ وأذاقه حلاوة التحقيق، اس کلام کے اندر استعارۃ بالکنایہ ہے بھئی۔ استعارۃ بالکنایہ تو آپ جانتے ہوں گے بھئی، استعارۃ بالکنایہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز کو تشبیہ دی جائے دوسری چیز کے ساتھ، اور عبارت میں مشبہ کو ذکر کیا جائے اور مشبہ بہ کو ذکر نہ کیا جائے۔ مثلاً میں نے زید کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ شیر کے ساتھ۔ تو میں، زید ہوا مشبہ اور شیر کیا ہوا؟ مشبہ بہ، اور میں عبارت میں صرف زید کا ذکر کرتا ہوں، شیر کا ذکر نہیں کرتا، تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ استعارۃ بالکنایہ۔ تو یہاں پر بھی تحقیق کو تشبیہ دی گئی ہے مٹھائی کے ساتھ، شیرینی کے ساتھ۔ اور تو تحقیق ہوئی مشبہ اور شیرینی کیا ہوئی؟ مشبہ بہ، اور عبارت میں کون ذکر ہے؟ مشبہ، تو یہ کیا کہلایا؟ استعارۃ بالکنایہ۔ اب سوال پیدا ہوا کہ ہمیں کیسے پتہ چلا مولانا؟ آپ کو کیسے پتہ چلا بھئی، آپ کوئی عالم الغیب ہیں آپ کہ آپ کہہ رہے ہیں بھئی؟ بھئی اس کے لیے قرینہ چاہیے، اور وہ قرینہ ہے حلاوت، مٹھاس۔ بھئی مٹھاس تحقیق کی ہوتی ہے یا مٹھائی کی ہوتی ہے؟ مٹھائی کی ہوتی ہے مولانا۔ تو مشبہ بہ کے لازم، مٹھائی کے ساتھ کیا لازم ہے؟ مٹھاس لازم ہے، تو مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کر دینا۔ مشبہ کون؟ تحقیق۔ مشبہ بہ کون؟ مٹھائی، اور مٹھائی کے ساتھ کیا لازم ہے؟ مٹھاس، اس مٹھاس کو ہم نے تحقیق کے لیے ثابت کر دیا، تحقیق کی مٹھاس، حالانکہ تحقیق کی مٹھاس نہیں ہوتی بلکہ کس کی مٹھاس ہوتی ہے؟ مٹھائی کی مٹھاس۔ تو یہ لفظِ حلاوت ہمیں بتلا رہا ہے کہ یہاں تحقیق کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟ مٹھائی سے، یہ حلاوت نے ہمیں بتلایا، یہ قرینہ ہے مولانا۔ تو اس کو استعارۃ تخییلیہ کہتے ہیں مولانا۔ کیا کہتے ہیں؟ استعارۃ تخییلیہ، یعنی مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کرنا؟ مشبہ کے لیے ثابت کرنا۔ مثلاً مولانا، میں کہتا ہوں: أنشبت المنية أظفارها، أنشب کا معنی گاڑنا، المنية، موت، أظفارها، پنجے، ناخن۔ موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے، یہاں بھی استعارۃ بالکنایہ ہے، کس طرح؟ کہ موت کو تشبیہ دی گئی ہے درندے کے ساتھ۔ تو موت کیا ہے؟ مشبہ، اور درندہ کیا ہے؟ مشبہ بہ، اور عبارت میں موت مشبہ ذکر ہے یا مشبہ بہ؟ مشبہ ذکر ہے، موت۔ آپ کو کیسے پتہ چلا مولانا کہ یہاں موت کو درندے سے تشبیہ دی گئی ہے؟ أظفارها مولانا، ناخنوں کا ذکر آ گیا، پنجوں کا ذکر آیا، اور پنجے موت کے ہوتے ہیں یا درندے کے ہوتے ہیں؟ تو یہ مولانا، یہ جو ہم نے موت کا ذکر کیا اور مشبہ بہ درندے کو حذف کر دیا، یہ کیا ہے؟ استعارۃ بالکنایہ، اور استعارۃ بالکنایہ کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ استعارۃ تخییلیہ سے، کس سے پتہ چلتا ہے؟ اور استعارۃ تخییلیہ یہاں کیا ہے مولانا؟ أظفارها میں ہے، اور وہ کہتے کس کو ہیں؟ کہ مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کر دینا؟ مشبہ کے لیے ثابت کر دینا، تو یہ استعارۃ تخییلیہ ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ نیز مولانا، اور مٹھائی کے مناسب کیا ہے؟ چکھنا، کہ اس کو کھایا جائے، چکھا جائے مولانا۔ تو یہ أذاقہ ذکر ہوا، یہ استعارۃ ترشیحیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ ترشیحیہ ہے۔ استعارۃ ترشیحیہ کس کو کہتے ہیں؟ مشبہ بہ کے مناسب کو مشبہ کے لیے ثابت کرنا۔ تخییلیہ کیا تھا؟ مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کرنا؟ بھئی مٹھائی ایسی ہو سکتی ہے جس میں مٹھاس نہ ہو؟ جی؟ نہیں، مٹھائی تو ہے ہی وہ جس کے اندر مٹھاس ہو، تو مٹھاس لازم ہے، تو اس لازم کو آپ نے کس کے لیے ثابت کیا؟ یہ کیا ہے؟ استعارۃ تخییلیہ، اور اس کے ساتھ مٹھائی کے مناسب کیا ہے؟ اس کو کھایا جائے، اس کو چکھا جائے، تو یہ استعارۃ ترشیحیہ ہے۔ تو مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کرنا یہ کیا ہے؟ استعارۃ تخییلیہ، اور مشبہ بہ کے مناسب کو مشبہ کے لیے ثابت کرنا یہ کیا ہے؟ استعارۃ ترشیحیہ ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ مشکل ہے؟ اچھی طرح سمجھ لیں، یہ بار بار چیزیں آتی رہیں گی بھئی۔ وأذاقه حلاوة التحقيق، اور چکھائے ان کو تحقیق کی مٹھاس۔ سوال مولانا، کہ چکھانے کی بات کی، کھلانے کی بات کیوں نہیں کی؟ کہ اللہ چکھا دے اس کو تحقیق کی مٹھاس، یہ نہیں کہا کہ اللہ اس کو کھلا دے، کیا؟ اس لیے مولانا کہ اس میں اشارہ کر دیا کہ تحقیق ایسا میدان ہے کہ جس پر کوئی بھی انسان کبھی بھی حاوی نہیں ہو سکتا، زیادہ سے زیادہ اس بحرِ عظیم کے کنارے تک ہی پہنچ سکتا ہے مولانا۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہے؟ اس کنارے تک ہی پہنچ سکتا ہے، اس کو چکھ ہی سکتا ہے، اس کو پوری طرح کھا نہیں سکتا، حاصل پوری طرح، حاوی نہیں ہو سکتا۔ نیز مولانا، یہ دعا ہے بھئی، تو یہ دعائیں دی دو اپنے لیے دعائیں کیں مولانا، هداه الله سواء الطريق وأذاقه حلاوة التحقيق، اور صیغے استعمال کیے ماضی کے۔ هدا، یہ تو ماضی ہے، ہدایت دی، أذاق، چکھائی، لیکن ترجمہ ہم کیا کر رہے ہیں مولانا؟ چکھا دے، ہدایت دے دے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ عربی کے اندر یہ طریقہ ہے کہ دعا عموماً کس صیغے کے ساتھ دی جاتی ہے؟ ماضی کے صیغے کے ساتھ دی جاتی ہے۔ کوئی انتقال کر جائے، آپ کہتے ہیں: رحمہ اللہ، تو رحمہ تو ماضی ہے، ترجمہ تو ہوگا اللہ نے اس پر رحم کیا، لیکن دراصل آپ خبر نہیں دے رہے کہ اللہ نے اس پر رحم کیا، آپ کیا کر رہے ہیں؟ دعا دے رہے ہیں کہ اللہ اس پر رحم فرما دے۔ تو یہ صیغۂ ماضی کے ساتھ دی جاتی ہے عربی میں دعا بطورِ تفاؤل کے۔ بطورِ تفاؤل کا معنی ہے نیک فالی کے طور پر تاکہ اللہ اس دعا کو ضرور قبول فرما لے۔ ماضی کے ساتھ کیوں دی جاتی ہے تاکہ اللہ؟ ضرور قبول فرما لے۔ کیونکہ ماضی کا وقوع یقینی ہوتا ہے، جو باتیں گزر چکی ہیں وہ کیا ہیں؟ یقینی ہیں، ان میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں، تو یہاں بھی ماضی کے صیغے کے ساتھ دی تاکہ اللہ اس دعا کو بھی یقیناً کیا فرما لیں؟ قبول فرما لیں۔ قد شرحت فيما مضى تلخيص المفتاح، یہ مختصر المعانی کس کی شرح ہے؟ تلخیص المفتاح کی، یاد رکھو علامہ تفتازانی نے اس تلخیص المفتاح کی دو شروحات لکھی ہیں، ایک مختصر المعانی ہے اور ایک مطول ہے، مطول۔ تو علامہ تفتازانی نے پہلے مطول لکھی تھی، اور مطول چونکہ بڑی طویل تھی اسی لیے اس کا نام بھی کیا ہے؟ مطول، اور اس کے اندر وہ بڑی تحقیق کرتے ہیں مولانا، مسئلے کی بڑی گہرائی تک جاتے ہیں، تو بہت سے مسائل بڑے طویل ہو جاتے ہیں، بڑے گہرے مسائل اور مشکل اور پیچیدہ اور لمبی بات بہت لمبی ہو جاتی ہے۔ تو وہ آگے ذکر کریں گے کہ میں نے ایک اس کی کیا کی تھی؟ شرح لکھی تھی، مطول، لیکن وہ شرح بڑی طویل تھی، لمبی تھی، مشکل اور پیچیدہ اور بڑی گہری باتیں تھیں اس میں، جس کی وجہ سے لوگ علماء، طلباء میرے پاس آ کر بار بار مجھے کہتے تھے کہ اس کے اندر آپ نے بڑی طویل تحقیقات کی ہیں، تو اب آپ کیا، یہ مشکل ہو گئی ہے طلباء و علماء کے لیے، ہر ایک کے لیے اس کی تحصیل مشکل ہے، تو کوئی ذرا مختصر سی شرح لکھیں۔ تو چنانچہ پھر انہوں نے کیا لکھی؟ مختصر المعانی دوسری شرح لکھی، یہ اس مطول سے کافی مختصر ہے مولانا۔ یہ اب اسی اپنی شرح مطول کا ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: قد شرحت، تحقیق میں نے شرح کی تھی، فيما مضى، اس زمانے کے اندر جو گزر چکا ہے، کس کی شرح کی تھی؟ تلخيص المفتاح، تلخیص المفتاح کی۔ وأغنيته، اور میں نے اس کو بے پرواہ کر دیا تھا، میں نے اس کو بے پرواہ کر دیا تھا بالإصباح، اصبح یصبح اصباح کے معنی ہیں صبح میں داخل ہونا، أصبح زيد، زید صبح کے وقت میں داخل ہوا یعنی زید نے صبح کی، زید نے صبح کی۔ لیکن یہاں صرف صبح کے معنی میں ہے، اور میں نے اس کو بے پرواہ کر دیا تھا صبح کے ساتھ عن المصباح، چراغ سے۔ کس سے؟ چراغ سے۔ بھئی اس تلخیص المفتاح بڑی مقبول کتاب ہے علماء کے درمیان اور اس کی بہت سے علماء نے شروحات لکھیں بھئی۔ علامہ تفتازانی کیا فرماتے ہیں کہ میری شرح بڑی اعلیٰ درجے کی تھی، بہت اونچے درجے کی شرح ہے میری، باقی شرحیں اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: باقی شرحیں جو تھیں اس تلخیص کے لیے چراغ کی طرح تھیں، جیسے چراغ کے اندر آدمی کیا کرتا ہے؟ راستہ دیکھتا ہے، اس کو چیزیں نظر آتی ہیں۔ لیکن میری شرح جو تھی وہ چراغ کی طرح نہیں تھی، وہ صبح کی مثل تھی جس میں بالکل سب کچھ کیا ہو جاتا ہے؟ واضح ہو جاتا ہے بھئی۔ تو باقیوں کی شروحات چراغ کی طرح اور میری شرح کس کی طرح؟ اور جب صبح ہو جائے تو پھر چراغ کی ضرورت رہتی ہے؟ تو کہتے ہیں: میری شرح کے آنے کے بعد ان میں سے کسی شرح کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی، یہی بات کر رہے ہیں کہ میں نے اس کو بے نیاز، بے پرواہ کر دیا تھا صبح کے ساتھ عن المصباح، کس سے؟ چراغ سے۔ وأودعته غرائب نكت، أودع مودع إیداعاً کے معنی ہیں امانت رکھنا، یہاں مراد ہے ذکر کرنا۔ غرائب نكت مولانا، نکتہ، نکتہ کہتے ہیں باریک بات کو، ایک ہوتا ہے نقطہ ق دو نقطوں والا، وہ نقطہ جو آپ مولانا یہ خط میں لگاتے ہیں بھئی، اور ایک ہے نکتہ ک، ک چھوٹا، اس کا معنی ہوتا ہے باریک بات۔ غرائب، انوکھے بھئی، یہ بھی اضافت ہے صفت کی موصوف کی طرف، صفت کی اضافت کس کی طرف ہے؟ تو اصل میں یوں ہے: أودعته نكتاً غريبة، نكتاً؟ جی، تو میں نے اس میں امانت رکھے اپنی اس شرح کے اندر کیا امانت رکھے مولانا؟ انوکھی باریک باتیں بھئی، انوکھی باریک باتیں میں نے اس کے اندر ذکر کیں، مراد یہ ہے۔ ایسے نکتے سمحت بها الأنظار، سمحت کا معنی ہے سخاوت کرنا، سخاوت کرنا۔ سمجھ میں آیا؟ عربی میں کہتے ہیں مولانا: لا سمح الله، لا سمح الله، اللہ نہ کرے، خدا نخواستہ، تو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ اردو میں آپ کہتے ہیں خدا نخواستہ، عربی میں کہتے ہیں لا سمح الله۔ سمحت کا معنی ہے سخاوت کرنا، اور الانظار، یہ فاعل ہے، سمحت بها الأنظار، انظار جمع ہے نظر کی اور وہ فکر کو کہتے ہیں، سوچ کو مولانا۔ سخاوت کی تھی ان کے ساتھ ان نقطہ، کس نے سخاوت کی تھی؟ فکروں نے۔ الأنظار میں الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے، کبھی کبھار عربی میں یوں کرتے ہیں مضاف الیہ کو حذف کر لیتے ہیں اور اس کے عوض الف لام لے آتے ہیں، اصل میں تھا أنظاري، میری فکریں، میری سوچیں، تو یا کیا تھی؟ مضاف الیہ، اس کو حذف کر دیا اور اس کے عوض کیا لے آئے؟ الف لام، تو کیا معنی؟ یہ میری فکریں، ایسے نکتے کہ سخاوت کی تھی جن کے ساتھ کس نے؟ میری فکروں نے، یعنی میں نے خود اپنے عقل سے سوچ کر، غور و فکر کر کے وہ نکات، ان نکات کو کیا کیا تھا؟ ان کو نکالا تھا۔ تو وہ جو نکات تھے میری سوچ کا نتیجہ تھے، یہ نہیں کہ میں نے اوروں سے لے لیے تھے بلکہ میری سوچ کا اور فکر کا نتیجہ تھے۔ وأودعته غرائب نكت سمحت بها الأنظار، اور میں نے اس میں ذکر کیے تھے انوکھے ایسے نکتے کہ جن کی سخاوت کی تھی یا جو نتیجہ تھے میری فکروں کا۔ ووشحته بلطائف فقر، فقر جمع ہےفقرۃ کی، کلام کو کہتے ہیں۔ لطائف جمع ہے لطیف کی بھئی، لطائف جمع ہے لطیف کی، کہتے ہیں: كلام لطيف، انوکھا، عجی، عمدہ کلام مولانا، دلچسپ کلام، كلام لطيف۔ اسی طرح کہتے ہیں: الجنس اللطيف، الجنس اللطيف کس کو کہتے ہیں مولانا؟ عورت کو کہتے ہیں، تو الجنس اللطيف کا ترجمہ، یہ کنایہ ہے عورت سے، الجنس اللطيف کا اردو میں ترجمہ ہوگا صنفِ نازک بھئی، الجنس اللطيف۔ اور میں نے اس کو مزین، یہاں بھی مولانا فقر، لطائف کی اضافت ہے فقر کی طرف اور یہ بھی صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف، اصل میں کیسے ہے؟ ووشحته بفقر لطيفة، بفقر؟ وشح یوشح توشیح کے معنی مزین کرنا، اور میں نے اس شرح کو مزین کیا تھا بلطائف فقر، کس کے ساتھ؟ عمدہ کلام، فقروں کے ساتھ، ایسے فقرے سبقتها يد الأفكار، سبق کا معنی ہوتا ہے ڈھالنا، جیسے سنار، لوہار، لوہے اور سونے کو کیا کرتے ہیں؟ مختلف شکلوں میں ڈھال لیتے ہیں۔ ڈھالا، سبقتها، ان فقروں کو ڈھالا تھا، کس نے بھئی؟ ید الأفكار، فکروں کے ہاتھوں نے، الأفكار میں بھی الف لام عوض ہے کس سے؟ مضاف الیہ سے، اصل میں کیا تھا؟ أفكاري، میرے افکار کے ہاتھوں نے ڈھالا تھا ان فقروں کو، یعنی وہ جو فقرے تھے میں نے ادھر ادھر سے نہیں چرائے بلکہ میری خود فکر کا نتیجہ تھے۔ ڈھالا تھا ان کو، ترجمے پہ غور کریں بھئی۔ اور مزین کیا میں نے اس کو ایسے عمدہ فقروں کے ساتھ جن کو میری فکروں کے ہاتھوں نے ڈھالا تھا۔ یہاں پھر مولانا، استعارۃ بالکنایہ ہے، استعارۃ تخییلیہ ہے اور استعارۃ ترشیحیہ ہے۔ کیسے؟ افکار کو تشبیہ دی ہے سنار کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ سنار کے ساتھ، تو افکار ہوئے مشبہ اور سنار؟ مشبہ بہ، اور عبارت میں کون ذکر؟ مشبہ، اور مشبہ بہ محذوف ہے، تو یہ کیا کہلایا؟ استعارۃ بالکنایہ۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ ید سے، ہاتھ فکر کے نہیں ہوتے، ہاتھ کس کے ہوتے ہیں؟ سنار کے ہوتے ہیں، اس کے ساتھ لازم ہے، تو مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کیا، یہ کیا ہوا؟ استعارۃ تخییلیہ۔ اور پھر اس سنار کے مناسب کیا ہے؟ ڈھالنا، کہ سونے وغیرہ سے کیا بنائے؟ زیور بنائے، ان کو مختلف شکلوں میں ڈھالے۔ تو یہ مشبہ بہ کے مناسب کو کس کے لیے ذکر کیا؟ مشبہ کے لیے، یہ کیا ہے؟ استعارۃ ترشیحیہ۔ ثم رأيت كثيرا من الفضلاء والجم الغفير من الأذکياء، پھر میں نے دیکھا کثیر لوگوں کو من الفضلاء، کس میں سے؟ فضلاء، فضلاء جمع ہے فاضل کی، اور فاضل بمعنی فاضل کے، اور فاضل کس کو کہتے ہیں؟ عالم کو بھئی، زیادہ علم والے کو۔ پھر میں نے فضلاء کی ایک بہت بڑی تعداد کو دیکھا، والجم الغفير من الأذکياء، اور جم، جم کا معنی ہوتا ہے زیادہ، کثیر مولانا، قرآن میں کیا آیا ہے؟ وتحبون المال حبا جما، کہ تم انسان تم محبت کرتے ہو، کس سے؟ مال سے۔ جم کا معنی کثیر بھئی، تو الجم الغفیر کا معنی بھی بہت بڑی تعداد، بہت بڑا ہجوم بھئی۔ پھر میں نے دیکھا کہ فضلاء کی ایک بہت بڑی تعداد، والجم الغفير من الأذکياء، اور ذہین لوگوں کی کا ایک بہت بڑا ہجوم، يسألونني، وہ سارے مجھ سے سوال کر رہے ہیں، مجھ سے طلب کر رہے ہیں، بھئی وہ ذکر کر رہے ہیں علامہ تفتازانی کہ میں نے مطول پہلے لکھی تھی، پھر سارے علماء اور اذکیاء میرے پاس آ کر مجھے کیا کہتے تھے؟ اس کو کیا کریں ذرا؟ مختصر، بس وہی بات ذکر کر رہے ہیں۔ کہ وہ سب مجھ سے سوال کر رہے ہیں صَرف همتي، کہ میں ہمت اپنی ہمت کوشش کو کیا کروں؟ خرچ کروں، صرف کا معنی خرچ کرنا یا پھیرنے کے۔ میں خرچ کروں یا پھیروں اپنی ہمت کو نحو، نحو کا معنی ہے جانب، اختصاره، اس شرح کے اختصار کی جانب، میں اپنی ہمت کو کس طرف پھیروں اس مطول کے اختصار کی جانب۔ والاقتصار على بيان معانيه، اور پھروں اپنی ہمت کو کس جانب؟ اختصار کا معنی اکتفاء کرنا، کس اکتفاء کروں؟ على بيان معانيه، اس، یہ معانیہ کے آخر میں اور کشف استارہ کے آخر میں، یہ دو ضمیریں جو ہیں معانیہ کے آخر میں اور استارہ کے آخر میں، یہ راجع، لوٹ رہی ہیں مولانا تلخیص کی طرف، کس کی طرف؟ تلخیص کی طرف، کہ میں اکتفاء کروں تلخیص کے معانی بتلانے پر، بھئی مطول میں آپ نے بڑی لمبی لمبی تحقیقات ذکر کی ہیں، اب نئی شرح لکھیں اس میں صرف تلخیص کے کیا بیان کریں؟ معانی بیان کریں اور زیادہ تحقیقات بیان نہ کریں۔ وكشف أستاره، کشف کا معنی کھولنا، استار، پردے مولانا، اور اس تلخیص کے پردوں کو کھولوں، یعنی اس کے مشکل مقامات کو کیا کریں؟ حل کریں۔ ایسی شرح لکھیں جس میں تلخیص کے معانی بیان کریں اور جو مشکل مقامات ہیں ان کو کیا کریں؟ حل کریں، باقی زائد جو آپ تحقیقات و تدقیقات کرتے ہیں ان کو ذکر نہ کریں۔ بات سمجھ میں آئی سب کو؟ پھر میں نے دیکھا کہ فضلاء کی ایک بہت بڑی تعداد اور اذکیاء کا ایک بہت بڑا ہجوم يسألونني، وہ سارے مجھ سے طلب کر رہے ہیں صَرف همتي نحو اختصاره، کہ میں ہمت خرچ کروں اس شرح کے اختصار کی جانب میں والاقتصار، اور ہمت کو خرچ کروں کس چیز پر؟ نحو الاقتصار، اکتفاء کرنے کی طرف، اکتفاء کرنے کی طرف اپنی ہمت کو خرچ کروں یا پھیر دوں بھئی، کس چیز پر اکتفاء کرنا؟ کہتے ہیں: على بيان معانيه، صرف تلخیص کے معانی بیان کرنے پر وكشف أستاره، اور صرف اس کے پوشیدہ باتوں، اس کے پردوں کو، اس کے مشکل مقامات، اس کے پردوں کو کھولنے پر بھئی، اس کے مشکل مقامات کو حل کرنے پر۔ لما شاهدوا، جب انہوں نے مشاہدہ کیا۔ لما یا لما، دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔ لما شاهدوا، جب انہوں نے مشاہدہ کیا من أن المحصلين، کہ جو تحصیل کرنے والے ہیں، یعنی ارادۂ تحصیل کرتے ہیں جو طلباء ہیں۔ قد تقاصرت هممهم، تقاصر کا معنی مولانا اظہارِ عجز و بے بسی کرنا، عاجز آ جانا، کہ قد تقاصرت هممهم، کہ محصلین جو ہیں تحقیق عاجز آ گئی ہیں ان کی ہمتیں۔ عاجز آ گئی ہیں، بھئی بڑی گہری باتیں ہیں اس میں تو ان کی ہمتیں کیا ہیں؟ عاجز آ گئی ہیں اس شرح میں، کس چیز سے؟ عن استطلاع توالع أنواره، استطلاع کا معنی مطلع ہونا، استطلاع کا معنی مطلع ہونا، طوالع، طالعہ کی جمع ہے روشن، انوارہ، یہ ہا ضمیر بھی راجع ہے مطول کی طرف ان کی شرح کی طرف۔ اس شرح کے توالع انوارہ، یہ بھی اضافت ہے صفت کی موصوف کی طرف ای انوارہ الطالعۃ، ای انوارہ الطالعۃ، اس شرح کے ایسے انوار جو روشن ہیں، اس شرح کے ایسے انوار ان پر مطلع ہونے سے۔ انہوں نے جب یہ مشاہدہ کیا کہ اس علم کی جو تحصیل کا ارادہ کرنے والے ہیں، تحقیق ان کی ہمتیں عاجز آ گئی ہیں اس بات سے کہ وہ مطلع ہوں کس چیز پر؟ بھئی ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے، مشکل تو نہیں؟ ان کی ہمتیں کس چیز سے عاجز آئی ہیں؟ عن استطلاع، کہ وہ کیا ہیں؟ کہ وہ مطلع ہوں کس چیز پر؟ مطول کے انوار کی روشنی سے، وہ کہ روشن انوارات بھئی، یہ صفت کی اضافت ہے بھئی موصوف، کہ وہ مطلع ہوں اس کے روشن انوارات پر۔ اس سے بھی ان کی ہمتیں کیا ہیں؟ عاجز آ گئی ہیں، پستہ ہو گئی ہیں۔ تو دیکھو کہ علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ میں نے شرح لکھی تھی اس میں بڑی گہری باتیں لکھیں۔ اور گہری باتوں کے ساتھ ساتھ کچھ باتیں تو بڑی واضح تھیں۔ لیکن جو علم حاصل کرنے والے تھے، وہ جو روشن انوارات تھے یعنی وہ جو ظاہر باتیں تھیں ان کو سمجھنے سے بھی ان کی ہمتیں کیا ہو گئی ہیں؟ عاجز آ گئی ہیں، کیونکہ بڑی طویل باتیں ہیں اس کے اندر، تو جو ظاہر باتیں ہیں ان سے بھی وہ عاجز آ گئے ہیں۔ وتقاعدت عزائمهم، اور تقاعد کا معنی ہے دلچسپی نہ لینا، چھوڑ دینا مولانا۔ اور دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے عزائمهم، تحصیلِ علم کرنے والوں کے عزموں نے۔ ان کے عزموں نے دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے عن استکشاف، استکشاف کا معنی کھولنا، ظاہر کرنا۔ خبیات، جمع ہے خبیئۃ کی مولانا، خبیات جمع ہے خبیئۃ، خبیئۃ، پوشیدہ رکھی ہوئی چیز۔ اسرار، راز۔ اور یہاں پھر اضافت ہے صفت کی موصوف کی طرف۔ خبیات صفت بناؤ اس کو مولانا، أسراره الخبيئة، أسراره الخبيئة، ایسے اسرار جو پوشیدہ تھے، ایسے راز جو پوشیدہ تھے۔ ان کو کھولنے سے۔ تو ان کے عزم، عزموں نے دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے کہ وہ اس کے پوشیدہ رکھے ہوئے رازوں کو کھولیں بھئی، اس کے پوشیدہ رکھے ہوئے رازوں کو کھولیں۔ تو کہتے ہیں جو اس کے اندر ظاہری باتیں تھیں ان سے بھی اس میں بھی انہوں نے ان کی ہمتیں پستہ ہو گئیں، اور جو اس کے اندر پوشیدہ اور گہری باتیں تھیں ان میں انہوں نے دلچسپی لینا ہی چھوڑ دیا تھا۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 5 of 69