جی، لکھیے۔ تو بلاغت کے امام کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ شیخ عبدالقاہر جرجانی اور علامہ زمخشری۔
لیکن جہاں نحو اور بلاغت کی کتابوں میں مطلق الشيخ کا ذکر آئے۔ جہاں نحو اور بلاغت کی کتابوں میں مطلق الشيخ کا ذکر آئے۔ مطلق الشيخ کا ذکر آئے، یا مطلق الإمام کا ذکر آئے، تو اس سے مراد، تو اس سے مراد شیخ عبدالقاہر جرجانی ہوتے ہیں۔ تو اس سے مراد شیخ عبدالقاہر جرجانی رحمہ اللہ تعالیٰ ہوتے ہیں۔ شیخ عبدالقاہر۔
جی، الگ سطروں میں۔ مختصر المعانی شرح ہے تلخیص المفتاح کی۔ مختصر المعانی شرح ہے تلخیص المفتاح کی۔
متن تلخیص المفتاح کے مصنف، متن تلخیص المفتاح کے مصنف کا نام محمد ابن عبدالرحمن ہے۔ محمد ابن عبدالرحمن ہے۔ آپ کا سنِ پیدائش ہے 666 ہجری۔
بعض علماء نے سنِ پیدائش 660 ہجری ذکر کیا ہے۔
آپ 20 سال سے بھی کم عمر میں قاضی مقرر کر دیے گئے تھے۔
علمِ فقہ، علمِ حدیث، اور علمِ بلاغت کے بڑے ماہر تھے۔ اور علمِ بلاغت کے بڑے ماہر تھے۔
بڑے فصیح اللسان، بڑے فصیح اللسان اور حسین و جمیل صورت والے تھے۔ اور حسین و جمیل صورت والے تھے۔
نہایت متقی پرہیزگار، نہایت متقی پرہیزگار اور سخی انسان تھے۔ اور سخی انسان تھے۔ محتاجوں اور فقراء کی دل کھول کر مدد فرمایا کرتے۔ محتاجوں اور فقراء کی دل کھول کر مدد فرمایا کرتے۔
آپ کی کئی تصانیف ہیں، لیکن سب سے زیادہ شہرت، لیکن سب سے زیادہ شہرت تلخیص المفتاح کو حاصل ہوئی۔
تلخیص المفتاح کی عبارت اور اندازِ بیاں بڑا دلکش اور پیارا ہے۔
چونکہ یہ کتاب نہایت مختصر ہو گئی تھی، چنانچہ آپ نے ایک اور کتاب تصنیف فرمائی، چنانچہ آپ نے ایک اور کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام الإيضاح ہے۔ جس کا نام الإيضاح ہے۔ اور وہ تلخیص المفتاح کے لیے، اور وہ تلخیص المفتاح کے لیے گویا کہ شرح کا درجہ رکھتی ہے۔ گویا کہ شرح کا درجہ رکھتی ہے۔
آپ کا انتقال ہوا 15 جمادى الأولى، 15 جمادى الأولى سن 739 ہجری، سن 739 ہجری میں فالج کے حملے کی وجہ سے۔ فالج کے حملے کی وجہ سے۔
سمجھ میں آیا مولانا؟ یہ یاد رکھو، جمادى الأولى وہی جُمادى مؤنث ہے، موصوف ہے، تو اس کی صفت الأولى آئے گی بھئی۔ اسی طرح جُمادى الثانية بھئی، جُمادى الثانية کہیں گے۔ جُمادى الأول، جُمادى الثاني کہنا صحیح نہیں بھئی۔ غلط ہے بھئی غلط ہے۔ جُمادى، جُمادى ہے لفظ۔ جی؟ جی، پیش ہے۔ جی۔
تو یہ یاد رکھیں بھئی بڑے، اکثر طلباء اس میں غلطی کرتے ہیں۔
صاحبِ مختصر المعانی، صاحبِ مختصر المعانی، مختصر المعانی کے مصنف کا نام، مختصر المعانی کے مصنف کا نام علامہ تفتازانی ہے۔ علامہ تفتازانی ہے۔ علامہ تفتازانی ہے۔
علامہ تفتازانی کا نام مسعود ابن عمر، مسعود ابن عمر ابن عبداللہ ہے۔ مسعود ابن عمر ابن عبداللہ ہے۔ سعد الدین لقب ہے۔ سعد الدین لقب ہے۔
آپ کی پیدائش ہوئی، آپ کی پیدائش ہوئی 722 ہجری، 722 ہجری میں تفتازاں میں۔ تفتازاں میں۔
تفتازاں ایک قریہ اور علاقہ کا نام ہے، تفتازاں ایک قریہ اور علاقہ کا نام ہے خراسان میں۔ خراسان میں۔ تفتازاں ایک قریہ اور علاقہ کا نام ہے خراسان میں۔
پہلے زمانے میں، پہلے زمانے میں سمرقند و بخارا، سمرقند و بخارا، افغانستان اور ایران کا سارا علاقہ، افغانستان اور ایران کا سارا علاقہ خراسان کہلاتا تھا۔ خراسان کہلاتا تھا۔
آپ کی وفات 22 محرم 792 ہجری، آپ کی وفات 22 محرم 792 ہجری میں سمرقند میں ہوئی۔ میں سمرقند میں ہوئی۔ اور پھر سرخس منتقل کر کے، سرخس س، ر، خ، س، اور پھر سرخس منتقل کر کے مدفون کیے گئے۔
یہ بہت بڑے محقق، یہ بہت بڑے محقق، متکلم، متکلم، منطقی، فلسفی، اصولی، اور علمِ معانی و بلاغ، اور ماہرِ علمِ معانی و بلاغت تھے۔ اور ماہرِ علمِ معانی و بلاغت تھے۔
اور صاحبِ قلم تھے، اور صاحبِ قلم تھے، مگر صاحبِ لسان نہ تھے۔ مگر صاحبِ لسان نہ تھے۔ زبان میں کچھ لکنت تھی۔ زبان میں کچھ لکنت تھی۔
بڑی مفید اور اہم کتابیں لکھیں۔ بڑی مفید اور اہم کتابیں لکھیں۔
لکھتے ہوئے یاد رکھو مولانا، مسلسل نہیں لکھا کرتے بھئی۔ کوئی بھی چیز آپ لکھیں، کبھی بھی لکھیں، مسلسل سارا صفحہ ایک جیسا چل رہا ہے، نہیں بھئی۔ چھوٹے چھوٹے پہرے بنا لو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس سے، خوبصورت لگتی ہے لکھائی وغیرہ، اور صفحے کے دونوں جانب کچھ چھوڑ کر لکھا کریں بھئی۔ تھوڑی تھوڑی جگہ چھوڑ دی، کبھی ضرورت پڑ گئی اصلاح وغیرہ کی یا ویسے بھی یہ اچھی لگے گی، اور پہرے بنا لیے کوئی چھوٹا تو چار پانچ سطروں کا، کوئی آٹھ، سات آٹھ سطروں کا بنا لیں، تو اس طرح تقسیم ہو جاتا ہے مضمون۔
جی، کیا لکھا ہوا؟ بڑی مفید اور اہم کتابیں لکھیں۔
بڑے متقی اور پرہیزگار تھے۔ بڑے متقی اور پرہیزگار تھے۔
معقولات و منقولات کے ماہر تھے۔ معقولات و منقولات کے ماہر تھے۔
آپ کی کتابوں کی عبارات، آپ کی کتابوں کی عبارات بڑی شستہ اور پیاری ہوتی ہیں۔ بڑی شستہ اور پیاری ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کی کتابوں کو بڑی مقبولیت نصیب فرمائی۔
اور کئی کتاب، آپ کی کئی کتابیں داخلِ درس ہیں۔ اور آپ کی کئی کتابیں سینکڑوں سالوں سے داخلِ درس ہیں۔
مختصر المعانی اور مطول داخلِ درس ہیں۔ مطول ط کے ساتھ۔ مختصر المعانی اور مطول داخلِ درس ہیں۔
شرح عقائد بھی داخلِ درس ہے۔
ایک چوتھی کتاب تلویح، تلویح ت دو نقطوں والی، تلویح شرح توضیح بھی داخلِ درس ہے۔
آپ کی بہت سی تصانیف ہیں۔ بہت سی تصانیف ہیں۔
سب سے پہلی تصنیف شرح زنجانی ہے۔ سب سے پہلی تصنیف شرح زنجانی ہے۔ سب سے پہلی تصنیف شرح زنجانی ہے۔ یہ آپ نے اس وقت تصنیف فرمائی جبکہ آپ کی عمر صرف 16 سال تھی۔ یہ اس وقت تصنیف فرمائی جبکہ آپ کی عمر صرف 16 سال تھی۔
جی، الگ سطر۔ علامہ تفتازانی شاہی عالم تھے۔ علامہ تفتازانی شاہی عالم تھے۔ تیمور لنگ کے شیخ الاسلام تھے۔ تیمور لنگ کے شیخ الاسلام تھے۔ تیمور لنگ کے شیخ الاسلام تھے۔
بادشاہ کے دربار میں بلا روک ٹوک آ جا سکتے تھے۔ بادشاہ کے دربار میں بلا روک ٹوک آ جا سکتے تھے۔
کھڑے ہو جاؤ بھئی۔ کیوں نہیں لکھ رہے تم بھئی؟ جی؟ کیوں نہیں ہے؟ کہاں سے آئے ہو پڑھنے؟ تو کتنے دن ہو گئے ہیں پڑھتے ہوئے؟ جی؟ ہفتے سے تو لکھنے والا کام ہی ختم ہو گیا۔ چلو بیٹھ جاؤ بھئی، لکھو بھئی۔ یہ چیزیں آپ کو کام آئیں گی بھئی، یہ ہر جگہ سے نہیں ملیں گی آپ کو۔
علامہ تفتازانی کے یہ احوال مولانا ہمیں حضرت شیخ رحمہ اللہ نے لکھوائے تھے۔ محفوظ رکھا اس کو اور آج کام آتے ہیں بھئی، اور اتنے پیارے انداز میں ہیں بھئی، اور کہیں اتنے پیارے انداز میں نہیں ملتے بھئی اور مختصر۔
جی، لکھو بھئی، کیا لکھا ہے؟ بادشاہ کے دربار میں بلا روک ٹوک آ جا سکتے تھے۔
اسی وجہ سے، اسی وجہ سے، اسی وجہ سے ان کی کتابوں کو ان کی زندگی ہی میں علماء پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ان کی کتابوں کو ان کی زندگی ہی میں علماء پڑھتے پڑھاتے تھے۔
تیمور لنگ بہت بڑا بادشاہ تھا، تیمور لنگ بہت بڑا بادشاہ تھا، قریب تھا کہ ساری دنیا کا بادشاہ بن جاتا، قریب تھا کہ ساری دنیا کا بادشاہ بن جاتا۔
بعض علماء فرماتے ہیں کہ تعزیہ کی ابتداء سب سے پہلے تیمور لنگ نے کی۔ کہ تعزیہ کی ابتداء سب سے پہلے تیمور لنگ نے کی۔
تیمور لنگ کو لنگ اس لیے کہتے ہیں، تیمور لنگ کو لنگ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ لنگڑا تھا، کہ یہ لنگڑا تھا، سمجھ میں۔
علامہ تفتازانی کے، علامہ تفتازانی کے مذہب میں، کے مذہب کے بارے میں اکثر علماء فرماتے ہیں کہ وہ حنفی ہیں، کہ وہ حنفی ہیں۔
مگر حق یہ ہے کہ وہ شافعی المسلک ہیں۔ حق یہ ہے کہ وہ شافعی المسلک ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ وہ شافعی المسلک ہیں۔
البتہ انہوں نے اکثر تصانیف فقہ حنفی میں کی ہیں، البتہ انہوں نے اکثر تصانیف فقہ حنفی میں کی ہیں، جس کی وجہ سے علماء نے یہ سمجھ لیا کہ یہ حنفی ہیں۔ جس کی وجہ سے علماء نے یہ سمجھ لیا کہ یہ حنفی ہیں۔
حنفی فقہ میں تصنیفات کرنے کا سبب یہ ہے، حنفی فقہ میں تصنیفات کرنے کا سبب یہ ہے کہ خراسان کا سارا علاقہ احناف کا گڑھ تھا، کہ خراسان کا سارا علاقہ احناف کا گڑھ تھا۔
تو اگر یہ فقہ شافعی میں تصنیفات کرتے تو کون ان کو پڑھتا اور کون ان کو پڑھاتا؟ تو اگر یہ فقہ شافعی میں تصنیفات کرتے تو کون ان کو پڑھتا اور پڑھاتا؟
چنانچہ مجبور ہو کر انہوں نے فقہ حنفی میں کتابیں لکھیں۔ چنانچہ مجبور ہو کر انہوں نے فقہ حنفی میں کتابیں لکھیں۔
علامہ تفتازانی کے معاصر ہیں، علامہ تفتازانی کے معاصر ہیں میر سید السند، میر سید السند الشریف الجرجانی، الشریف الجرجانی جو کہ حنفی ہیں۔ جو کہ حنفی ہیں۔
آپ دونوں میں کئی مناظرے ہوئے، آپ دونوں میں کئی مناظرے ہوئے۔ دو بڑے مناظرے ہوئے، دو بڑے مناظرے ہوئے۔
ایک مناظرہ اس موضوع پر ہوا، ایک مناظرہ اس موضوع پر ہوا کہ انتقام سببِ غضب ہے یا غضب سببِ انتقام ہے؟ کہ انتقام سببِ غضب ہے، کہ انتقام سببِ غضب ہے یا غضب سببِ انتقام ہے؟
سمجھ میں آیا مولانا؟ موضوع یہ تھا کہ پہلے انسان کو غصہ آتا ہے پھر وہ انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، یا پہلے انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے پھر غصہ آتا ہے اس کو؟ علامہ تفتازانی فرماتے تھے کہ انتقام سببِ غضب ہے، کہ انتقام سببِ غضب ہے۔ اس میں انہیں شکست ہوئی۔ اس میں انہیں شکست ہوئی۔
دوسرا مناظرہ اس بارے میں ہوا کہ آیت ﴿أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ﴾ میں علامہ تفتازانی فرماتے تھے، میں علامہ تفتازانی فرماتے تھے کہ استعارہ تبعیہ ت دو نقطوں والی بھئی، استعارہ تبعیہ اور استعارہ تمثیلیہ جمع ہیں، اور استعارہ تمثیلیہ جمع ہیں۔ جبکہ میر سید السند فرماتے تھے، جبکہ میر سید السند فرماتے تھے کہ یہ دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتے، کہ یہ دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔
ثالث، حکم کہہ لو، حکم کون تھا فیصلہ کرنے والا؟ لغمان خوارزمی تھا۔ تیمور لنگ بھی آیا، تیمور لنگ بھی مناظرے میں شرکت، دیکھنے کے لیے آیا۔
میر سید السند نے، میر سید السند نے علامہ تفتازانی ہی کی کتابوں سے حوالے پیش کیے۔
فیصلہ میر سید السند کے حق میں دے دیا گیا۔
یہ مناظرہ 791 ہجری کے آخر میں ہوا، یہ مناظرہ 791 ہجری کے آخر میں ہوا، 91 ہجری کے آخر میں ہوا۔
تیمور لنگ نے، تیمور لنگ نے میر سید السند کا درجہ بڑھا کر انہیں شیخ الاسلام بنا دیا۔ میر سید السند کا درجہ بڑھا کر انہیں شیخ الاسلام بنا دیا۔
علامہ تفتازانی اپنی یہ سبکی برداشت نہ کر سکے، علامہ تفتازانی اپنی یہ سبکی برداشت نہ کر سکے۔
اور اس غم کی وجہ سے، اس کے بعد چند ماہ ہی زندہ رہ سکے۔
جی بس مولانا۔
مولانا علامه تفتازانی شاہی عالم تھے بھئی، بڑا رعب اور دبدبہ تھا ان کا بھئی۔
ایک مرتبہ تیمور لنگ نے کسی ضروری کام سے قاصد کو کہیں روانہ کیا بھئی، کافی دور۔ اور اسے کہا کہ، "جاؤ بھئی، شاہی اصطبل میں چلے جاؤ، سب سے عمدہ گھوڑا لے لو اور اس پر سوار ہو جاؤ اور یہ پیغام جلد سے جلد فلاں جگہ پہنچاؤ بھئی۔ جہاں گھوڑا تھک جائے بھئی، کوئی اور گھوڑا ملے اپنے گھوڑے کو چھوڑ دو، اس گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے کر گھوڑا دوڑاتے ہوئے چلو بھئی۔"
جی، کوئی روکنے کی کوشش کرے اسے کہنا، "بادشاہ نے اجازت دی ہے، بادشاہ کا حکم ہے بھئی۔" پھر وہ گھوڑا جہاں تھک جائے، دوسرا تازہ دم گھوڑا جو نظر آئے اس کو پکڑ لو، اس پر سوار ہو جاؤ اور دوڑاتے ہوئے جلد سے جلد یہ پیغام پہنچاؤ بھئی۔
تو ایک مقام پر جب اس کا گھوڑا دوڑتے دوڑتے تھک چکا تھا اور اتفاق سے علاقہ تھا جہاں پر علامه تفتازانی بھی خیمہ زن تھے بھئی۔ یہ گھوڑے سے اترا اور علامه کے ایک گھوڑے پر سوار ہوا بھئی۔ علامه کے غلاموں نے پکڑ لیا۔
علامه کے غلام بھی کیا تھے دیکھو، کہا بھئی، "کیا علامه کے گھوڑے پر کیسے سوار ہوتے ہو؟" اس نے کہا، "مجھے بادشاہ نے بھیجا ہے اور بادشاہ نے مجھے اجازت دی ہے کہ جو بھی گھوڑا ملے اس پر سوار ہو جاؤ۔"
غلاموں نے کہا، "ہم نہیں جانتے کسی کو بھئی، یہ ہمارے علامه کا گھوڑا ہے، اس پر چلو ہمارے ساتھ آؤ۔" لے آئے بھئی۔ علامه تفتازانی کو اندر خبر دی گئی کہ ایسے ایک شخص اس طرح آیا اور یہ یہ کہتا ہے اور آپ کے گھوڑے پر اس طرح وہ سوار ہوا، علامه باہر نکلے اور ایک زور دار تھپڑ لگایا اس کو۔
بادشاہ کا بادشاہ کا بادشاہ کو نہیں جانتے بھئی، یہ میرا گھوڑا ہے، دفع ہو جاؤ۔ نکال دیا اس کو پٹائی کروا کے۔
چنانچہ بعد میں یہ خبر تیمور لنگ تک بھی پہنچی بھئی۔
کتنا بڑا بادشاہ تھا مولانا کتنا بڑا! اور اس زمانے میں کتنی زبردست حکومتیں ہوا کرتی تھیں! سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کے سر اڑا دیتے تھے وہ بادشاہ، کوئی انہیں پوچھ نہیں سکتا تھا بھئی۔ اس کی کیا حالت ہوئی ہوگی! کہتے ہیں تیمور لنگ پر کے چہرے پر غصے کے آثار، غضب کے آثار نمودار ہوئے۔ کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا، پھر سر اٹھایا اور کہنے لگا کہ، "میں اس شخص کو کیا کہہ سکتا ہوں جس کا قلم میری تلوار سے پہلے شہروں کو فتح کر چکا ہے بھئی۔"
تو پہلے بادشاہ بھی کیا کرتے تھے، علماء کی قدر کیا کرتے تھے بھئی۔
تو یہ بہت بڑے علامه تھے، میر سید السند ان کے معاصر ہیں بھئی۔
هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔