گزشتہ سبق میں مولانا ہم نے سجع کے بارے میں پڑھا تھا۔ سجع مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ سجع نثر کے اندر دو فاصلوں کا موافق ہونا ہے حرفِ آخر پر بھئی۔ یعنی دونوں کے آخر میں ایک ہی حرف آئے۔ اور میں نے آپ کو چند یہاں اصطلاحات بتلائی تھیں بھئی، سجع ہے، فاصلہ ہے، قرینہ۔ قرینہ کس کو کہتے ہیں؟ کلام کے ایک چھوٹے ٹکڑے کو جس کے ساتھ دوسرا ٹکڑا بھی ساتھ ملا ہوا ہو۔ اور جب کہ فقرہ عام ہے، اس کے ساتھ کبھی دوسرا ٹکڑا ملا ہو گا اور کبھی دوسرا ٹکڑا نہیں ملا ہو گا۔ اس کے بعد فاصلہ، قرینے کے آخری کلمے کو کہتے ہیں بھئی، آخری کلمے کو۔ اور حرفِ روی، یہ صرف شعر کے اندر جو ہے آخری حرف کو کہتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ شعر کے اندر قافیے کا جو آخری حرف ہے جس پر شعر کی بنا ہوتی ہے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ روی کہتے ہیں، حرفِ روی۔
تو سجع کہتے ہیں دو فاصلتین کا موافق ہونا ایک دوسرے کے ساتھ حرفِ واحد پر۔ اور علامہ سکاکی نے کیا کہا؟ دو قرینتین کے دو آخری کلمے وہ دو کلمے جو ہیں وہ سجع کہلاتے ہیں لیکن اس طور پر کہ ان کا آخر کیا ہو ایک دوسرے کے موافق ہو۔ پھر اس کے بعد اس کی تین قسمیں بتلائی تھیں کہ سجع میں ایک بات تو طے ہو گئی مولانا کہ آخر کیا ہو گا دونوں فاصلتین کا آخر موافق ہو گا یعنی تقفیہ پایا جائے گا۔ اس کو تقفیہ کہتے ہیں موافق ہونا آخری حرف کا۔ پھر تقفیے کے ساتھ ساتھ وزن بھی دو کلموں کا ایک جیسا ہو گا یا وزن ایک جیسا نہیں ہو گا۔ اگر وزن ایک جیسا نہیں تو اس کا نام ہے مطرف۔ اور اگر وزن ایک جیسا ہے پھر دونوں قرینوں کے باقی الفاظ تمام کے تمام یا اکثر وہ بھی ایک دوسرے کی طرح ہوں گے وزن اور تقفیہ میں۔ تو اگر وزن اور تقفیہ میں وہ تمام کے تمام یا اکثر ایک جیسے ہوں تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ مرصع۔ اور اگر ایک جیسے باقی نہ ہوں یا اکثر نہ ہوں تو اس کو کہتے ہیں متوازی۔
اور انہوں نے یہ بھی بتلایا آپ کو کہ بہترین سجع وہ ہے جس کے اندر دونوں قرینے برابر ہوں بھئی، سارے قرینے آپس میں برابر ہوں۔ اور اگر سارے برابر نہ ہوں تو پھر باقیوں میں احسن وہ ہے کہ جس کے اندر اول قرینہ چھوٹا ہو اور ثانی لمبا ہو، یا اول اور ثانی چھوٹے ہوں اور ثالث کیا ہو لمبا ہو۔ لیکن یہ پسندیدہ نہیں ہے کہ اول تو لمبا ہو اور ثانی کیا ہو زیادہ چھوٹا ہو۔ اور اس کے بعد سجعوں کی بنا جو ہوتی ہے وہ آخر کے سکون پر ہوتی ہے۔ تو اگر سجع کے آخر میں حروف حرکتیں ایک جیسی ہیں پھر تو حرکت بھی پڑھنا جائز، سکون بھی پڑھنا جائز۔ لیکن اگر حرکت ایک جیسی نہیں تو پھر کیا پڑھنا چاہیے؟ سکون پڑھنا چاہیے۔ جیسے مَا أَبْعَدَ مَا فَاتْ، وَمَا أَقْرَبَ مَا هُوَ آتْ۔ تو اگر حرکت ہم پڑھتے ہیں تو پہلے میں فَاتَ، دوسرے میں آتٍ، پھر تو ایک جیسا نہیں رہے گا بھئی وزن۔ اور قرآن کے اندر بتلایا تھا سجع کا لفظ نہیں استعمال کیا جاتا بلکہ کیا استعمال کیا جاتا ہے عموما؟ فواصل بھئی، فاصلہ کہا جاتا ہے۔ اور یہ بھی بتلایا کہ بعض علماء یہ تو بات چل رہی تھی کہ سجع صرف نثر میں ہے نظم میں نہیں، لیکن بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ سجع جیسے نثر میں آتی ہے اسی طرح نظم کے اندر بھی آتی ہے۔ اور پھر سجع کی ایک قسم وہ ہے کہ جس کو تشطیر کہتے ہیں مولانا، اور وہ یہ کہ ہر مصرعے کی سجع دوسرے مصرعے کی سجع سے الگ ہو۔ پہلے مصرعے میں بھی آپ دو ٹکڑے لائے کلام کے، دو قرینے لائے اور ان کا مثلا اختتام با پر ہو رہا ہے، تو اگلے مصرعے میں جو دو قرینے آ رہے ہیں ان کا اختتام کسی اور حرف پر ہو گا، اس کو کہتے ہیں تشطیر۔
وَمِنْهُ أَيْ مِنَ اللَّفْظِيِّ الْمُوَازَنَةُ اور قسمِ لفظی میں سے موازنہ ہے، وَهِيَ تَسَاوِي الْفَاصِلَتَيْنِ أَيِ الْكَلِمَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ مِنَ الْفِقْرَتَيْنِ أَوْ مِنَ الْمِصْرَاعَيْنِ فِي الْوَزْنِ دُونَ التَّقْفِيَةِ۔ بھئی سجع کے اندر آپ نے کیا پڑھا کہ آخری حرف کیا ہو گا دونوں کلموں کا موافق ہو گا یعنی تقفیہ پایا جائے گا، ہاں وزن کبھی ایک جیسا ہو گا اور وزن کبھی ایک جیسا نہیں ہو گا، تو یہ عام ہے۔ جب کہ موازنہ جو ہے یہ بھی اسی کی طرح ہے لیکن یہاں پر وزن ایک جیسا ہو گا اور تقفیہ نہیں۔ ایک حرف پر اختتام تو نہیں ہو رہا لیکن وزن دونوں کا ایک جیسا ہے۔ جیسے دیکھو وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ، وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ۔ تو مَصْفُوفَةٌ، مَبْثُوثَةٌ ان دونوں کا وزن کیا ہے؟ ایک جیسا ہے۔ البتہ آخری حرف ایک جیسا نہیں ہے، فا ایک کے آخر میں ہے اور دوسرے کے آخر میں ثا آ رہی ہے، اور یہ جو تائے تانیث ہے اس کا اعتبار نہیں ہے جو وقف کی حالت میں ہا بن جائے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ موازنہ کس کو کہتے ہیں جس میں فاصلتین کا وزن تو ایک جیسا ہو گا لیکن آخری حرف ایک جیسا نہیں۔
وَهِيَ تَسَاوِي الْفَاصِلَتَيْنِ اور یہ مساوی ہونا ہے دو فاصلوں کا، أَيِ الْكَلِمَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ مِنَ الْفِقْرَتَيْنِ یعنی دو آخری کلمے دو فقروں میں سے، أَوْ مِنَ الْمِصْرَاعَيْنِ یا کس میں سے دو مصرعوں میں سے۔ یہاں بتلایا کہ فاصلتین یہاں حقیقت اور مجاز دونوں میں بیک وقت استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ فاصلہ تو درحقیقت کس کے اندر آتا ہے؟ نثر کے اندر آتا ہے، نظم کے اندر وہ فاصلہ نہیں کہلاتا بلکہ کیا کہلاتا ہے؟ قافیہ کہلاتا ہے۔ لیکن یہاں پر نظم کے اندر جو آخری حرف ہے اس پر بھی کس کا اطلاق کر دیا؟ فاصلہ کا، تو یہ مجاز ہے بھئی۔ تو چاہے نظم میں ہو یا نثر میں ہو وزن ایک جیسا ہو گا۔ تو تساوی ہے دو فاصلتین کی فِي الْوَزْنِ وزن کے اندر، دُونَ التَّقْفِيَةِ نہ کہ تقفیہ میں۔ جیسے اللہ کا یہ قول ہے وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ، وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ، اور تکیے ہوں گے مَصْفُوفَةٌ صف در صف بھئی، صف در صف تکیے لگے ہوں گے جنت کے اندر، وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ اور قالین بچھائے گئے ہوں گے۔ فَإِنَّ مَصْفُوفَةً وَمَبْثُوثَةً مُتَسَاوِيَانِ فِي الْوَزْنِ تو مَصْفُوفَةٌ اور مَبْثُوثَةٌ یہ دونوں متساوی ہیں وزن کے اندر، لَا فِي التَّقْفِيَةِ نہ کہ تقفیہ میں، إِذِ الْأُولَى عَلَى الْفَاءِ وَالثَّانِيَةُ عَلَى الثَّاءِ اس لیے کہ پہلا ہے وہ کس پر اختتام ہو رہا ہے؟ فا پر، اور ثانیہ کس پر؟ ثا پر، وَلَا عِبْرَةَ بِتَاءِ التَّأْنِيثِ فِي الْقَافِيَةِ اور کوئی اعتبار نہیں ہے تائے تانیث کا قافیے کے اندر، عَلَى مَا بُيِّنَ فِي مَوْضِعِهِ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اپنی جگہ پر، یعنی علمِ قوافی کے اندر آپ پڑھیں گے آگے جا کر کہ وہ تائے تانیث جو وقف کی صورت میں ہا بن جائے اس کا اعتبار قافیے میں نہیں کیا جاتا بھئی۔
وَظَاهِرُ قَوْلِهِ دُونَ التَّقْفِيَةِ اور کہتے ہیں مصنف نے کیا فرمایا اوپر متن میں بھئی کہ دو فاصلتین کا برابر ہونا وزن کے اندر نہ کہ قافیے کے اندر۔ یہاں دو صورتیں نکلتی ہیں: وزن میں برابر ہو اور آخری حرف میں کبھی بھی موافقت نہیں ہونی چاہیے، ایک تو یہ۔ یا یہ کہ وزن میں تو برابری کی شرط ہے لیکن قافیے میں برابری کی شرط نہیں، تو اس صورت میں پھر دو صورتیں نکل آئیں: برابری ہو بھی سکتی ہے اور نہیں۔ تو دیکھو پہلی صورت ہے کہ وزن میں برابری ہو اور آخری حرف میں موافقت نہ ہو، اگر ہو گی تو پھر یہ موازنہ نہیں کہلائے گا، ایک صورت یہ ہے۔ دوسری صورت کیا؟ نہ ہونے کی شرط ہے یعنی ہو بھی سکتا ہے یعنی ہونے کی شرط نہیں ہے، صورت بھی سمجھ آ رہی ہے یا نہیں بھئی؟ دیکھو مصنف نے کہا کہ وزن میں موافقت ہو تقفیے میں موافقت نہ ہو۔ اس کا مطلب ہے وزن میں ہمیشہ موافقت ہونی چاہیے اور آخری حرف ایک جیسا کبھی بھی نہیں آنا چاہیے، اگر آ گیا تو یہ موازنہ نہیں، ایک تو یہ مفہوم کلام کا بنتا ہے، معلوم ہوا صرف وزن میں برابری ہو اور آخری حرف میں کبھی بھی موافقت نہ ہو۔ دوسرا معنی کلام کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وزن میں تو برابری کی شرط ہے، تقفیے کے اندر ایک جیسا ہونے کی شرط نہیں، چاہے آ جائے چاہے نہ آئے، تو پھر عام ہو جائے گا اس صورت میں۔ لیکن کہتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ تقفیہ نہیں ہونا چاہیے۔ وَظَاهِرُ قَوْلِهِ دُونَ التَّقْفِيَةِ اور ظاہر قول مصنف کا جو ہے دُونَ التَّقْفِيَةِ کہ أَنَّهُ يَجِبُ فِي الْمُوَازَنَةِ عَدَمُ التَّسَاوِي کہ واجب ہے موازنہ کے اندر تقفیے میں عدمِ تساوی، برابری نہیں ہونی چاہیے، حَتَّى لَا يَكُونَ قَوْلُهُ تَعَالَى فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ، وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ مِنَ الْمُوَازَنَةِ یہاں تک کہ اللہ کا یہ قول جو ہے سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ، وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ یہ موازنہ میں سے نہیں ہو گا بھئی۔ ظاہرِ قول یہ بتلا رہا ہے کہ کبھی بھی آخری حرف ایک جیسا نہیں ہونا چاہیے اور یہاں پر تو مَرْفُوعَةٌ، مَوْضُوعَةٌ دونوں کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ عین آ رہا ہے، لہذا یہ موازنہ میں سے نہیں ہے۔ فَيَكُونُ بَيْنَ الْمُوَازَنَةِ وَالسَّجْعِ مُبَايَنَةٌ تو اس صورت میں موازنہ اور سجع کے درمیان کیا ہے؟ مباینت ہے، دونوں ایک دوسرے کے مباین ہیں، اس لیے کہ سجع کے اندر تو تھا کہ آخری حرف ہمیشہ ایک جیسا ہونا چاہیے اور یہاں ہے کہ آخری حرف کبھی بھی ایک جیسا نہیں ہونا چاہیے۔
إِلَّا عَلَى رَأْيِ ابْنِ الْأَثِيرِ ہاں مگر علامہ ابن الاثیر کی رائے کے مطابق، فَإِنَّهُ وہ الگ تعریف کرتے ہیں سجع اور اس موازنہ کی، فَإِنَّهُ يَشْتَرِطُ فِي السَّجْعِ التَّسَاوِيَ فِي الْوَزْنِ وَالْحَرْفِ الْأَخِيرِ اس لیے کہ وہ شرط لگاتے ہیں سجع کے اندر کہ برابری ہونی چاہیے وزن میں بھی اور حرفِ اخیر میں بھی۔ مصنف نے تو کہا تھا سجع میں صرف حرفِ اخیر میں موافقت ہونی چاہیے وزن میں برابری ضروری نہیں، لیکن علامہ ابن الاثیر کیا فرماتے ہیں کہ وزن میں بھی ساتھ برابری ہونی چاہیے اور حرفِ اخیر تو ہو گا ہی ایک جیسا۔ اور موازنہ کے اندر وزن میں برابری ہونی چاہیے نہ کہ حرف کے اندر، یعنی وزن میں برابری کی شرط ہے اور حرف میں برابری کی شرط نہیں، آ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی آ سکتا۔ فَنَحْوُ شَدِيدٌ وَقَرِيبٌ مِنَ الْمُوَازَنَةِ دُونَ السَّجْعِ تو ان کے قول کے مطابق مولانا شَدِيدٌ اور قَرِيبٌ یہ موازنہ میں سے ہیں اس لیے کہ دونوں کا وزن ایک جیسا ہے لیکن آخری حرف دونوں کا ایک جیسا نہیں ہے، دُونَ السَّجْعِ لیکن سجع میں سے نہیں ہیں اس لیے کہ سجع کے اندر تو وزن بھی ایک جیسا ہونا چاہیے اور آخری حرف بھی۔ وَهُوَ أَخَصُّ مِنَ الْمُوَازَنَةِ اس صورت کے اندر مولانا سجع خاص ہو جائے گی کس سے؟ موازنہ سے۔ دیکھو سجع کے اندر ایک ہی صورت ہے کیا؟ وزن بھی ایک جیسا ہو علامہ ابن الاثیر کے قول کے مطابق، وزن بھی ایک جیسا اور آخری حرف بھی ایک جیسا، جب کہ موازنہ میں دو صورتیں ہیں: وزن بھی ایک جیسا اور آخری حرف بھی ایک جیسا، اور وزن ایک جیسا اور آخری حرف ایک جیسا نہ ہو۔ اس میں دو صورتیں اس میں ایک ہی صورت، تو عام کون ہوا؟ موازنہ عام ہوا اور سجع کیا ہوئی؟ خاص ہوئی۔
وَإِذَا تَسَاوَى الْفَاصِلَتَانِ فِي الْوَزْنِ دُونَ التَّقْفِيَةِ اور جب برابر ہوں دونوں فاصلے وزن کے اندر نہ کہ تقفیہ میں۔ اچھا بھئی یہ پھر اسی کی طرح جیسے کون سی گزری تھی قسم اس میں ترصیع گزری تھی بھئی۔ موازنہ کس کو کہتے ہیں بھئی کہ آخری حرف کے اندر وزن کیا ہو؟ وزن ایک جیسا ہو لیکن حرف آخری ایک جیسے نہ ہوں۔ کہتے ہیں آخری حرف میں جب وزن ایک جیسا ہو تو باقی قرینے کے جو الفاظ ہیں ان میں بھی وزن اور تقفیہ کے اندر برابری ہو گی یا برابری نہیں ہو گی۔ اگر برابری ہے تو پھر اس کا نام کیا ہے؟ مماثلہ، اور اگر برابری نہیں پھر تو وہ عام موازنہ ہے۔ تو موازنہ کے اندر آخری کلمے کا کیا ہونا چاہیے؟ وزن کیا ہونا چاہیے؟ برابر ہونا چاہیے۔ چلو آخری کلموں کا تو وزن برابر ہوا، باقی کلموں کے اندر دیکھو اگر باقیوں کے اندر بھی وزن اور تقفیہ ہے ایک دوسرے کے مقابل میں تو پھر یہ مماثلہ کہلائے گا۔
فَإِنْ كَانَ مَا فِي إِحْدَى الْقَرِينَتَيْنِ مِنَ الْأَلْفَاظِ أَوْ أَكْثَرُهُ مِثْلَ مَا يُقَابِلُهُ مِنَ الْأُخْرَى فِي الْوَزْنِ اگر مولانا وہ جو دو قرینوں میں سے ایک کے اندر الفاظ ہیں یا ان میں سے اکثر جو ہیں وہ مثل ہوں اس کے جو ان کے مقابل ہیں قرینہ اُخری میں سے، ایک قرینے کے الفاظ دوسرے قرینے جیسے ہیں فِي الْوَزْنِ وزن کے اندر، سَوَاءٌ كَانَ يُمَاثِلُ فِي التَّقْفِيَةِ أَوْ لَا ہاں وزن میں ایک جیسے ہونے چاہئیں، تقفیہ میں مماثلت ہو یا تقفیہ میں مماثلت نہ ہو باقی الفاظ میں، خُصَّ هَذَا النَّوْعُ مِنَ الْمُوَازَنَةِ بِاسْمِ الْمُمَاثَلَةِ خاص کی گئی ہے یہ نوع موازنہ کی مماثلہ کے اسم کے ساتھ، اس کا نام کیا رکھا گیا ہے؟ مماثلہ۔ وَهِيَ لَا تَخْتَصُّ بِالنَّثْرِ اور یہ خاص نہیں ہے نثر کے ساتھ، كَمَا تَوَهَّمَ الْبَعْضُ مِنْ ظَاهِرِ قَوْلِهِمْ۔ بھئی بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ جو ہے موازنہ یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ نثر کے ساتھ، یا مماثلہ، اور بعضوں نے کہا صرف نظم میں ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی علامہ فرما رہے ہیں کہ یہ نظم اور نثر دونوں میں جاری ہوتا ہے۔ وَهِيَ لَا تَخْتَصُّ بِالنَّثْرِ اور یہ جو ہے خاص نہیں ہے نثر کے ساتھ جیسا کہ بعضوں نے وہم کیا ہے مِنْ ظَاهِرِ قَوْلِهِمْ تَسَاوِي الْفَاصِلَتَيْنِ۔ مصنف نے کیا ذکر کیا تھا متن میں؟ تَسَاوِي الْفَاصِلَتَيْنِ برابر ہونا فاصلتین کا اور فاصلتین میں نے بتلایا صرف کس میں آتے ہیں؟ نثر میں، لیکن یہاں حقیقت میں بھی ہے مجاز یعنی نظم بھی مراد ہے۔ تو ظاہر فاصلے کے لفظ سے تو یہی ہوتا تھا یہ صرف کس میں جاری ہوتا ہے؟ نثر میں، تو وہ یہ سمجھے۔ تو یہ اس کے ساتھ خاص نہیں ہے نثر کے ساتھ، وَلَا بِالنَّظْمِ اور یہ نظم کے ساتھ بھی خاص نہیں، عَلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْبَعْضُ بنا بر اس کے جس کی طرف بعض دیگر علماء گئے ہیں، بَلْ يَجْرِي فِي الْقَبِيلَتَيْنِ بلکہ یہ دونوں قبیلوں میں جاری ہوتا ہے یعنی نظم میں بھی جاری ہوتا ہے اور نثر میں بھی۔ فَلِذَلِكَ أَوْرَدَ لَهُمَا مِثَالَيْنِ اسی لیے مصنف اس کی دو مثالیں لائے ایک نثر اور ایک نظم کی۔ نَحْوُ وَآتَيْنَاهُمَا الْكِتَابَ الْمُسْتَبِينَ، وَهَدَيْنَاهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ تو دیکھو فاصلہ کیا ہے پہلے کے اندر؟ الْمُسْتَبِينَ، دوسرے کے اندر الْمُسْتَقِيمَ۔ تو دیکھو الْمُسْتَبِينَ، الْمُسْتَقِيمَ وزن ایک جیسا لیکن آخری حرف ایک جیسا نہیں، ایک میں نون ہے ایک میں میم ہے۔ اور باقی کلمات دیکھ لو مولانا: آتَيْنَاهُمَا، هَدَيْنَاهُمَا، الْكِتَابَ، الصِّرَاطَ۔
یہ تھی نثر کی مثال، اب شعر کی مثال: مَهَا الْوَهْشِ إِلَّا أَنَّ هَاتَا أَوَانِسُ، قَنَا الْخَطِّ إِلَّا أَنَّ تِلْكَ ذَوَابِلُ۔ شاعر کہتا ہے یہ جو عورتیں ہیں بھئی یہ ان کی آنکھیں بڑی بڑی اور حسین ہوتی ہیں، تو یہ جنگلی گائے کی طرح ہیں کہ اس کی بھی آنکھیں بڑی بڑی ہوتی ہیں اور حسن میں ان کی مثال ذکر کی جاتی ہے۔ لیکن ایک بات ہے کہ ان میں ایک بات زائد ہے جو اس جنگلی گائے میں نہیں کہ ان کی باتیں پسندیدہ ہوتی ہیں اور یہ قابلِ انس ہوتی ہیں، جب کہ ان کے مقابلے میں جنگلی گائے کیا ہوتی ہے انسان سے دور بھاگنے والی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ان کی طرح ہیں لیکن ان میں ایک صفت زائد ہے کہ وہ جو ہیں وہ بھاگتی ہیں انسان سے اور یہ جو ہوتی ہیں عورتیں یہ کیا ہیں قابلِ انس ہیں۔ قَنَا الْخَطِّ یہ عورتیں جو ہیں خطی نیزے کی طرح ہیں۔ خط ایک جگہ کا نام ہے وہاں کے نیزے مشہور تھے۔ تو یہ ان خطی نیزوں کی طرح ہیں قد کے سیدھے ہونے میں، إِلَّا أَنَّ تِلْكَ الْقَنَا ذَوَابِلُ مگر وہ جو نیزے ہیں وہ پتلے ہوتے ہیں یا مرجھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ذَوَابِلُ ذَابِلٌ کی جمع۔ وہ نیزے پتلے ہوتے ہیں یا مرجھائے ہوئے ہوتے ہیں، اور یہ عورتیں ان میں وصف زائد ہے کہ ان کا بدن گداز ہوتا ہے یا یہ بارونق ہوتی ہیں، یہ کیا ہوتی ہیں؟ بارونق۔ تو وہ نیزے پتلے ہوتے ہیں اور یہ عورتیں کیا ہیں گداز بدن والی، یا وہ نیزے کیا ہوتے ہیں مرجھائے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ عورتیں کیا ہوتی ہیں؟ بارونق ہوتی ہیں، عورتوں کی تعریف کر رہا ہے۔
مَهَا الْوَهْشِ جَمْعُ مَهَاةٍ یہ مَهَا، مُهَا دونوں طرح پڑھتے ہیں بھئی۔ جَمْعُ مَهَاةٍ یہ مَهَاةٌ کی جمع ہے وَهِيَ الْبَقَرَةُ الْوَحْشِيَّةُ یہ بقرۂ وحشیہ کو کہتے ہیں۔ إِلَّا أَنَّ هَاتَا أَيْ هَذِهِ النِّسَاءَ مگر یہ جو عورتیں ہیں أَوَانِسُ، أَوَانِسُ جمع ہے آنِسَةٌ کی، نیک دل، خوش کلام اور قابلِ انس لڑکی کو کہتے ہیں، نیک دل، خوش کلام اور قابلِ انس لڑکی۔ قَنَا الْخَطِّ، قَنَا جمع ہے قَنَاةٌ کی، نیزے کو کہتے ہیں۔ خطی نیزے ہیں یہ، إِلَّا أَنَّ تِلْكَ الْقَنَا ذَوَابِلُ مگر یہ کہ وہ نیزے کیا ہیں؟ ذَوَابِلُ جمع ہے کس کی؟ ذَابِلٌ کی، پتلے کو بھی کہتے ہیں مرجھائے ہوئے کو بھی کہتے ہیں، وَهَذِهِ النِّسَاءُ نَوَاضِرُ اور یہ عورتیں جو ہیں یہ کیا ہیں؟ نَوَاضِرُ تروتازہ اور بارونق بھئی۔
وَالْمِثَالَانِ مِمَّا يَكُونُ أَكْثَرُ مَا فِي إِحْدَى الْقَرِينَتَيْنِ مِثْلَ مَا يُقَابِلُهُ مِنَ الْأُخْرَى۔ کہتے ہیں یہ دو مثالیں اس قسم کی ہیں جس کے اندر اکثر الفاظ کیا ہیں بھئی آخری کلموں کا وزن تو ایک جیسا ہے، باقی الفاظ جو ہیں قرینے کے ان میں سے اکثر ایک دوسرے جیسے ہیں وزن کے اندر، سارے نہیں ایک جیسے بھئی، سمجھ میں آیا؟ دیکھو کَیْسے: لِعَدَمِ تَمَاثُلِ آتَيْنَاهُمَا وَهَدَيْنَاهُمَا اس لیے اکثر اس لیے کہ پہلی مثال کے اندر آتَيْنَاهُمَا اور هَدَيْنَاهُمَا کا وزن ایک نہیں۔ آتَيْنَا الف دیکھو ہمزہ متحرک ہے اور اس کے بعد الف ہے آتَيْنَا، اور یہاں کیا ہے؟ هَدَيْنَا پہلے دونوں متحرک حالانکہ وہاں پہلا متحرک ہے اور ثانی کیا ہے؟ ساکن ہے۔ وَكَذَا هَاتَا اور شعر کے اندر هَاتَا اور تِلْكَ مولانا آیا تو هَاتَا اور تِلْكَ کا وزن نہیں اس لیے کہ هَاتَا میں ثانی ساکن ہے اور تِلْكَ میں بھی ساکن، اور هَاتَا کے اندر بلکہ چار حروف ہیں ثالث متحرک ہے اور رابع پھر ساکن ہے جب کہ تِلْكَ میں اس طرح نہیں ہے۔ تو دیکھو دونوں میں ایک ایک لفظ بتلا دیا علامہ تفتازانی نے کہ یہ ایک جیسا وزن ان کا نہیں تو یہ وہ مثال ہے جس میں سارے الفاظ ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ اکثر ہیں۔
وَمِثَالُ الْجَمِيعِ اور مثال ساروں کی مولانا جس کے اندر سارے ایک قرینے کے الفاظ کا وزن دوسرے کے قرینے کے الفاظ کی طرح ہو یہ ابو تمام کا شعر ہے: فَأَجْحَمَ لَمَّا لَمْ يَجِدْ فِيكَ مَطْمَعًا، وَأَقْدَمَ لَمَّا لَمْ يَجِدْ عَنْكَ مَهْرَبًا۔ شیر کے بارے میں کسی اپنے ممدوح کی تعریف کر رہا ہے شاعر تو کہتا ہے وہ شیر جو تھا اس شیر کے ساتھ کوئی لڑائی کی، تو کہتا ہے فَأَجْحَمَ۔ شیر چوں کہ انسان کو کھا لیتا ہے لیکن شاعر کہتا ہے کہ میرا ممدوح جو ہے اتنا بہادر ہے اور اتنا قوی ہے کہ شیر کو اس کے اندر کوئی امید نہیں تھی کہ یہ میرے قابو آ جائے گا اور اس کو میں کیا کر لوں گا؟ کھا لوں گا۔ تو فَأَجْحَمَ پس وہ رک گیا، باز رہا لَمَّا لَمْ يَجِدْ فِيكَ مَطْمَعًا جب اس نے تیرے اندر کوئی امید نہیں پائی، اپنے قابو میں آنے کی کوئی امید نہیں پائی تو شیر کیا ہوا؟ رک گیا۔ لیکن پھر اس شیر نے آپ پر حملہ کر دیا۔ کہتے ہیں لیکن یہ جو حملہ اس نے کیا اس وجہ سے نہیں کیا کہ وہ بڑا بہادر تھا بلکہ اس لیے کہ اب اس کو کوئی راہِ فرار نظر ہی نہیں آئی کہ بس اب تو میری خیر نہیں یہ شخص میرے سامنے آ گیا ہے، تو مجبور ہو کر آپ پر کیا کیا؟ حملہ کیا، اپنی بہادری کی وجہ سے حملہ نہیں کیا۔ وَأَقْدَمَ اور اس نے پیش قدمی کی لَمَّا لَمْ يَجِدْ عَنْكَ مَهْرَبًا جب اس نے آپ سے کوئی بھاگنے کی جگہ نہ پائی۔ تو دیکھو سارے ایک جیسے ہیں: أَجْحَمَ، أَقْدَمَ، لَمَّا لَمْ يَجِدْ، لَمَّا لَمْ يَجِدْ، عَنْكَ، فِيكَ، مَهْرَبًا، مَطْمَعًا، سارے کیا ہیں کلمات ہم وزن۔
وَأَكْثَرُ مَدَائِحِ أَبِي الْفَرَجِ الرُّومِيِّ اور اکثر مدحیہ قصیدے جو ہیں ابوالفرج رومی کے مِنْ شُعَرَاءِ الْعَجَمِ عجمی شاعروں میں سے عَلَى الْمُمَاثَلَةِ وہ کس پر ہیں؟ مماثلت پر ہیں، سمجھ میں آیا؟ شعرائے عجم میں سے یہ فارسی شاعر گزرا ہے اور اس کے کہتے ہیں اکثر اشعار مماثلت پر ہیں یعنی وزن میں دونوں قرینتین کے الفاظ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وَقَدِ اقْتَفَى، اقْتَفَى کا معنی اقتدا کرنا، کسی کے پیچھے چلنا، وَقَدِ اقْتَفَى الْأَنْوَرِيُّ أَثَرَهُ فِي ذَلِكَ اور تحقیق اس کے پیچھے چلا ہے انوری شاعر بھی، أَثَرَهُ اس کے نشانات پر فِي ذَلِكَ اس چیز میں۔ انوری شاعر جو ہے وہ بھی اسی کے نشانات پر چلا ہے، اسی کا طرز اس نے اختیار کیا ہے اور اس کے بھی اکثر اشعار کیسے ہیں؟ مماثلت والے ہیں کہ جن کے اندر کیا ہے؟ فاصلتین کے وزن کے ساتھ ساتھ باقی کلمات کا وزن بھی کیا ہے؟ ایک جیسا ہے اکثر کا۔
وَمِنْهُ أَيْ مِنَ اللَّفْظِيِّ الْقَلْبُ اور لفظی میں سے ایک قسم قلب ہے۔ قلب اس کو کہتے ہیں مولانا کہ کلام جو ہے آپ شروع سے پڑھنا شروع کریں یا آخر کی طرف سے پڑھیں دونوں طرف سے ایک ہی لفظ بنتا ہے۔ مثلا میں کہتا ہوں كَلَامُكَ كَمَالُكَ آپ کا کلام آپ کا کمال ہے۔ كَلَامُكَ یہ لکھو ذرا لفظ لکھو سامنے لکھو اپنے بھئی: كَلَامُكَ كَمَالُكَ۔ لکھ لیا بھئی؟ كَلَامُكَ كَمَالُكَ۔ اچھا اب ذرا آخر سے دیکھو آخر میں کیا آ رہا ہے مولانا؟ کاف، اس کے بعد لام، اس کے بعد الف، کیا بنا؟ کلا۔ پھر آگے میم، کیا بنا؟ کلام۔ اس کے بعد کاف، كَلَامُكَ۔ آگے پڑھو بھئی، اس کے بعد کیا ہے؟ پھر کاف ہے، اس کے بعد میم، پھر کیا ہے؟ الف، کما۔ پھر لام، کمال۔ پھر کاف، كَمَالُكَ۔ وہی کلام جو كَلَامُكَ كَمَالُكَ ادھر سے بن رہا ہے الٹی طرف سے پڑھیں پھر بھی وہی بن رہا ہے كَلَامُكَ كَمَالُكَ، سمجھ میں آئی بھئی؟ یا جیسے قرآن میں آیا ہے مولانا: كُلٌّ فِي فَلَكٍ۔ كُلٌّ فِي فَلَكٍ اب آخر سے ذرا پڑھو: کاف، لام، كُلٌّ، پھر فا، پھر یا، كُلٌّ فِي، پھر فا، لام، کاف، كُلٌّ فِي فَلَكٍ دونوں طرف سے۔ یا جیسے قرآن میں آیا ہے مولانا: رَبَّكَ فَكَبِّرْ۔ رَبَّكَ فَكَبِّرْ آخر سے پڑھیں رَبَّكَ فَكَبِّرْ اسی طرح بنے گا بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں مولانا؟ قلب کہتے ہیں کہ کلام کو ایک طرف سے پڑھیں یا دوسری طرف سے پڑھیں دونوں طرف ایک ہی الفاظ بنیں بھئی۔
اور قسمِ لفظی میں سے ایک قلب ہے، وَهُوَ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ بِحَيْثُ لَوْ عَكَسْتَهُ وَبَدَأْتَ بِحَرْفِهِ الْأَخِيرِ إِلَى الْأَوَّلِ كَانَ الْحَاصِلُ بِعَيْنِهِ هُوَ هَذَا الْكَلَامَ اور وہ کلام کا اس طور پر ہونا ہے کہ اگر آپ اس کو عکس کر دیں، الٹ دیں وَبَدَأْتَ بِحَرْفِهِ الْأَخِيرِ إِلَى الْأَوَّلِ اور شروع کریں آپ اس کے حرفِ اخیر سے اول کی طرف كَانَ الْحَاصِلُ بِعَيْنِهِ هُوَ هَذَا الْكَلَامَ تو حاصل بعینہ یہی کلام ہو گا۔ وَيَجْرِي فِي النَّظْمِ وَالنَّثْرِ اور یہ نظم میں بھی جاری ہوتا ہے اور نثر میں بھی۔ كَقَوْلِهِ جیسے شاعر کہتا ہے: مَوَدَّتُهُ تَدُومُ لِكُلِّ هَوْلٍ، وَهَلْ كُلٌّ مَوَدَّتُهُ تَدُومُ۔ مَوَدَّتُهُ تَدُومُ اس کی محبت دائم رہتی ہے لِكُلِّ هَوْلٍ، لام وقت کے لیے، ہر خوف کے وقت۔ میرا ممدوح جو ہے وہ بڑا محبت کرنے والا ہے اور وفادار ہے، اس کی محبت خطرات اور خوف کے وقت بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ پہلے ہی کی طرح باقی رہتی ہے۔ وَهَلْ كُلٌّ، كُلٌّ مولانا یہ تنوین اس پر پڑھیں، مَوَدَّتُهُ تَدُومُ، أَيْ كُلٌّ تنوین عوض ہے مضاف الیہ کا أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ یا كُلُّ رَجُلٍ کر لیں، وَهَلْ كُلُّ رَجُلٍ اور کیا ہر شخص جو ہے مَوَدَّتُهُ تَدُومُ اس کی محبت باقی رہنے والی ہے؟ یعنی یہ استفہامِ انکاری ہے، کسی اور شخص کی محبت باقی نہیں رہتی لیکن میرا ممدوح جو ہے خطرے اور خوف کی حالت کے باوجود اس کی محبت کیا ہے؟ باقی رہتی ہے، اس کی وفا کی تعریف کر رہا ہے۔ اب دیکھو یہ تو ترجمہ تھا، اب ذرا آخر سے دیکھو: میم، واؤ، دال، تا، مودت، ہا، مَوَدَّتُهُ، دیکھ رہے ہو بھئی؟ پھر تا، دال، واؤ، میم، تَدُومُ، مَوَدَّتُهُ تَدُومُ۔ پھر آگے لام، کاف، لام، لِكُلِّ، ہا، واؤ، لام، لِكُلِّ هَوْلٍ، پھر وہی بن گیا مولانا آخر سے بھی پڑھا تو وہی بن گیا۔
فِي مَجْمُوعِ الْبَيْتِ تو دیکھو پورے شعر کو الٹ دیں تو دوبارہ وہی شعر آپ کو حاصل ہو گا، اس پورے شعر کے اندر ہے یہ قلب۔ وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ فِي كُلٍّ مِنَ الْمِصْرَاعَيْنِ یہ تو تھا پورے شعر کو الٹا تو پورا شعر بن گیا، کبھی کبھی پورے مصرعے کے اندر ہوتا ہے، ایک مصرعے کو الٹ دیں تو دوسرا بن جاتا ہے دوسرے کو الٹ دیں تو پہلا بن جاتا ہے۔ وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ فِي كُلٍّ مِنَ الْمِصْرَاعَيْنِ اور کبھی دونوں مصرعوں میں ہوتا ہے، كَقَوْلِهِ جیسے شاعر کہتا ہے: أَرَانَا الْإِلَهُ یہ ایک مصرع، هِلَالًا أَنَارَا۔ دکھایا ہمیں معبود اللہ نے هِلَالًا ایسا چاند أَنَارَا جو روشن ہے۔ اللہ نے ہمیں ایسا ہلال دکھایا جو کیا ہے؟ روشن ہے۔ تو أَرَانَا الْإِلَهُ ایک مصرع، هِلَالًا أَنَارَا یہ دوسرا مصرع۔ اب مولانا ذرا پہلے کو ہی الٹیں ذرا، صرف پہلے کو الٹیں أَرَانَا الْإِلَهُ کو: ہا، لام، الف، ہلا، پھر آگے لام، ہلال، پھر الف، هِلَالًا، پھر أَنَارَا بن رہا ہے۔ دیکھو پہلے مصرعے کو الٹاؤ تو کیا بن رہا ہے؟ دوسرا مصرع، اور دوسرے کو الٹاؤ تو کیا بن رہا ہے؟ پہلا بن رہا ہے۔ وَفِي التَّنْزِيلِ اور قرآن میں بھی آئی ہے یہ مولانا: كُلٌّ فِي فَلَكٍ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ۔ وَالْحَرْفُ الْمُشَدَّدُ فِي حُكْمِ الْمُخَفَّفِ اور حرفِ مشدد بھی مخفف کے حکم میں ہوتا ہے۔ وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ فِي مُفْرَدٍ اور کبھی کبھار یہ صرف ایک مفرد کلمے میں بھی ہوتا ہے جیسے سَلِسٌ۔ تو سَلِسٌ مولانا دیکھو سین، لام، سین، اس کو آخر سے پڑھو پھر بھی سین، لام، سین۔
وَتَغَايُرُ الْقَلْبِ بِهَذَا الْمَعْنَى لِتَجْنِيسِ الْقَلْبِ ظَاهِرٌ۔ بھئی صنعتِ جناس میں بھی ہم نے پڑھا تھا جناس القلب آیا تھا وہاں بھئی، لیکن کہتے ہیں بھئی وہ جناس القلب ہے یہ صرف قلب ہے، دونوں میں فرق ہے۔ قلب کے اندر کیا ہوتا ہے؟ قلب کے اندر ایک مفرد کلمے کو الٹیں تو دوبارہ وہی کلمہ حاصل ہوتا ہے، جب کہ تجنیس القلب میں ایک کلمے کو الٹیں تو دوسرا کلمہ بن جاتا ہے: عَوْرَاتِنَا، رَوْعَاتِنَا، تو دیکھو الٹ دینے سے دوسرا کلمہ بن رہا تھا وہی کلمہ نہیں، جب کہ یہاں سَلِسٌ اس کو الٹیں تو دوبارہ کیا بن جاتا ہے؟ سَلِسٌ۔ تو جناس القلب میں نیا کلمہ بنتا ہے اور اس کے اندر کیا ہوتا ہے؟ وہی کلمہ بنتا ہے۔ نیز وہاں پر دونوں لفظوں کو ذکر کرنا واجب ہوتا ہے، جب کہ یہاں پر کیا ہوتا ہے؟ وہی لفظ اسی کے اندر مولانا قلب آتا ہے دوبارہ ذکر نہیں کیا جاتا۔ وَتَغَايُرُ الْقَلْبِ بِهَذَا الْمَعْنَى اور مولانا قلب کا مغایر ہونا، یہ جو قلب ہم نے ذکر کیا ہے یہ غیر ہے اس معنی کے اعتبار سے کس سے غیر ہے؟ لِتَجْنِيسِ الْقَلْبِ تجنیسِ قلب سے غیر ہونا اس کا ظَاهِرٌ مولانا ظاہر ہے، فَإِنَّ الْمَقْلُوبَ هُنَا يَجِبُ أَنْ يَكُونَ عَيْنَ اللَّفْظِ الَّذِي ذُكِرَ اس لیے کہ مقلوب کا یہاں پر واجب ہے کہ بعینہ وہی لفظ ہو جس کو ذکر کیا گیا ہے۔ جو لفظ سَلِسٌ ذکر کیا اس کو قلب بھی کر دیں تو پھر کیا ہونا چاہیے؟ یہی لفظ ہونا چاہیے، بِخِلَافِ ثَمَّہ بخلاف وہاں کے جناس القلب میں کہ وہاں ایک لفظ کو الٹتے ہیں تو کیا بن جاتا ہے؟ دوسرا لفظ بن جاتا ہے۔ وَيَجِبُ ثَمَّہ اور واجب ہے وہاں پر، ثَمَّہ اسمِ اشارہ بعید کے لیے، واجب ہے وہاں ذِكْرُ اللَّفْظَيْنِ جَمِيعًا بِخِلَافِ هَاهُنَا دونوں لفظوں کا وہاں پر ذکر کرنا ضروری جب کہ یہاں پر وہی ایک لفظ ہو گا کیوں کہ اس کو الٹتے ہیں تو وہی بنتا ہے۔
وَمِنْهُ أَيِ اللَّفْظِيِّ اور قسمِ لفظی میں سے ہے التَّشْرِيعُ تشریع بھی ہے، وَيُسَمَّى التَّوْشِيحَ وَذَا الْقَافِيَتَيْنِ اس کو توشیح بھی کہتے ہیں ذوالقافیتین دو قافیوں والا بھی کہتے ہیں، وَهُوَ بِنَاءُ الْبَيْتِ عَلَى قَافِيَتَيْنِ اور وہ بنا ہے شعر کی دو قافیوں پر يَصِحُّ الْمَعْنَى عِنْدَ الْوُقُوفِ عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا کہ صحیح ہو معنی دونوں میں سے جس پر بھی وقوف کر لیں۔ یاد رکھو مولانا یہ جو اشعار آپ پڑھتے ہیں عربی کے، بلکہ اسی طرح ہر زبان میں ہوتا ہے، یہ اشعار کے خاص اوزان ہوتے ہیں بھئی، خاص اوزان ہوتے ہیں، تو اگلے سال آپ پڑھیں گے بھی علم العروض اور علم القوافی بھئی اس کے اندر ذکر کریں گے، ہر شعر کا خاص وزن ہوتا ہے۔ یہ فن امام خلیل نے، امام خلیل جو ہیں اس کے موجد ہیں اس فن کے۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی تھی اے اللہ مجھے کوئی ایسا فن سکھلا دیجیے جو اس سے پہلے کسی کو آپ نے نہیں سکھلایا۔ تو چنانچہ کہتے ہیں ایک دن لوہاروں کے بازار میں سے گزر رہے تھے، لوہاروں کے ہتھوڑے چل رہے تھے، ٹھک ٹھک کی آوازیں ہر طرف آ رہی تھیں۔ انہوں نے غور کیا ان پر تو ان میں ایک ترنم تھا ایک خاص قسم کا وزن بن رہا تھا ان کے آپس میں ٹکرانے سے بھئی ساروں کے، اور اس سے پھر انہوں نے کیا کیا؟ یہ علمِ عروض کو ایجاد کیا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے مولانا جیسے دیکھو بھئی اگلے صفحے پر ہے: يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ إِنَّهَا شَرَكُ الرَّدَى وَقَرَارَةُ الْأَكْدَارِ۔ دیکھو وزن بتاتا ہوں میں: يَا خَاطِبَ الدُّ (مُسْتَفْعِلُنْ) دُنْيَا الدَّنِيْ (مُسْتَفْعِلُنْ) يَةِ إِنَّهَا (مُتَفَاعِلُنْ) شَرَكُ الرَّدَى (مُتَفَاعِلُنْ) وَقَرَارَةُ الْ (مُتَفَاعِلُنْ) أَكْدَارِ (مَفْعُولُنْ)، یہ وزن بن رہا ہے۔ آپ خود غور کریں یہ وزن بن رہا ہے یا نہیں؟ دیکھو يَا خَاطِبَ الدُّ (مُسْتَفْعِلُنْ)، روانگی دونوں میں ایک جیسی ہے یا نہیں؟ يَا خَاطِبَ الدُّ (مُسْتَفْعِلُنْ)، دُنْيَا الدَّنِيْ (مُسْتَفْعِلُنْ)، متحرک کے مقابلے میں متحرک آ رہا ہے ساکن کے مقابلے میں ساکن آ رہا ہے: يَا پہلا متحرک ثانی کیا؟ ساکن، مُسْ پہلا متحرک ثانی ساکن، خَا پہلا متحرک ثانی ساکن، تَفْ، مُسْتَفْ تا متحرک فا ساکن، طِبَ الدُّ طا متحرک با بھی متحرک اور دال کیا ہے؟ ساکن، عِلُنْ عین متحرک لام بھی متحرک اور نون ساکن۔ تو دیکھو مُسْتَفْعِلُنْ، يَا خَاطِبَ الدُّ (مُسْتَفْعِلُنْ)، بالکل ایک جیسا وزن بن رہا ہے آخر تک، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اگلے سال آپ پڑھیں گے اوزان ہوتے ہیں، کافی بحریں ہیں مولانا، بحرِ طویل ہے، بحرِ مدید ہے، بحرِ خفیف ہے، رجز ہے، اور ہر ایک کے اوزان ہیں۔ چنانچہ انہوں نے پھر غور کیا مولانا اوزان بنائے بھئی، ایک چیز ذہن میں اللہ نے ڈال دی بتلا دیا۔ اس سے پہلے یہ فن تھا ہی نہیں، اس کے بعد دیکھو ذوق کی چیز ہے یہ، عرب کے پرانے سارا کلام اٹھا کر دیکھا، اس وقت تو علمِ عروض تھا بھی نہیں کسی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ يَا خَاطِبَ الدُّ مُسْتَفْعِلُنْ وزن ہے، نہیں، بس وہ اپنے ذوق کے مطابق ایسے شعر تھے ان کے جو شعر اٹھاتے اس کا ایک خاص وزن بن رہا ہوتا تھا۔ پہلے مصرعے سے ایک وزن شروع ہوا ہے تو آخر تک وہی وزن چلتا رہتا ہے۔ تو سارے اشعار ان کے یعنی ذوق ہی ان کا اتنا اعلی تھا کہ سارے انہوں نے باقاعدہ اوزان پر کہے تھے غیر وزن پر نہیں۔
تو مولانا بہت سی بحریں ہیں، تو یاد رکھو یہ جو اوزان ہوتے ہیں یہ جو میں نے مُسْتَفْعِلُنْ، مُتَفَاعِلُنْ، فَعُولُنْ کہا ان کو کہتے ہیں تفاعیل، کیا کہتے ہیں؟ تفاعیل کہتے ہیں، یہ اجزاء ہیں یہ مل کر ایک شعر بناتے ہیں۔ پہلے مصرعے میں بھی دو، تین یا چار ہوں گے، دوسرے مصرعے میں بھی یہ دو یا تین یا چار آئیں گے ان میں سے، یہ اجزائے شعر ہیں۔ پھر مولانا پہلا مصرع ہوتا ہے اس پہلے مصرعے کا جو آخری جز ہے یہ کہلاتا ہے عروض بھئی، کیا کہلاتا ہے؟ عروض کہلاتا ہے۔ اور دوسرے مصرعے کا جو آخر ہے وہ ضرب کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ ضرب۔ یہاں آیا أَكْدَارِ یہ ضرب ہے، کیا ہے؟ ضرب ہے۔ پھر ہر بحر کے اندر یہ ضربیں مختلف ہیں: کسی کا وزن فَعُولْ آ رہا ہے، کسی کا فَعُولُنْ آ رہا ہے، کسی کا مُسْتَفْعِلُنْ آ رہا ہے، کسی کا مُتَفَاعِلُنْ آ رہا ہے، تو ضرب کے بدلنے سے اور عروض کے بدلنے سے قسمیں بدلتی جاتی ہیں۔ جیسے یہ بحرِ کامل کا ابھی تذکرہ آ رہا ہے اس کی نو ضربیں ہیں مولانا۔ یعنی بحرِ کامل جو ہے اس میں چھ مرتبہ مُتَفَاعِلُنْ آتا ہے: پہلے مصرعے میں بھی تین دفعہ آئے گا مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ، دوسرے مصرعے میں بھی آئے گا مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ۔ سمجھ میں آیا یہ اجزاء؟ تو پہلے مصرعے کا آخر کیا کہلاتا ہے؟ عروض، دوسرے مصرعے کا آخر کیا کہلاتا ہے؟ ضرب۔ اور تو یہ مولانا اب اس کا وزن بدلتا جاتا ہے بعض اوقات، تو بحرِ کامل میں کتنی ضربیں ہیں میں نے بتلایا؟ نو ہیں، کتنی ہیں؟ نو۔ یہ نو قسم پر ہیں مولانا، ایک کے آخر میں آئے گا مُتَفَاعِلُنْ، دوسرے کے آخر میں کیا آئے گا مُسْتَفْعِلُنْ، ایک کے آخر میں کیا آئے گا فَعُولُنْ وغیرہ۔ بنتے اسی مُتَفَاعِلُنْ سے ہیں، اسی مُتَفَاعِلُنْ کے اندر مولانا ایک دو کو حذف کر دیں مُسْتَفْعِلُنْ بن جائے گا۔ کَیسے؟ مُتَفَاعِلُنْ، اس مُتَفَاعِلُنْ کی تا کو ذرا ساکن کر دو کیا بن گیا؟ مُتْفَاعِلُنْ۔ تو اب مُتْفَاعِلُنْ جو ہے ذرا ثقیل ہے تو اس کو بدل دو مُسْتَفْعِلُنْ، وزن ایک ہی ہے: مُتْفَاعِلُنْ، مُسْتَفْعِلُنْ، بنا یا نہیں مولانا؟ تو عروض میں تھوڑی سی تبدیلی آتی ہے آپ پڑھیں گے تفصیل سے، ویسے میں آپ کو سمجھانے کے لیے اس صنعت کی بات انہوں نے چھیڑ دی۔ تو دیکھو مُتْفَاعِلُنْ سے ہی کیا بن گیا؟ مُسْتَفْعِلُنْ۔ تو اب وہی بحرِ کامل ہے لیکن مُتَفَاعِلُنْ کے بجائے آخر میں ایک حرف کو ساکن کر دیتا ہے شاعر تو وہ وزن بدل کے کیا بن گیا؟ مُسْتَفْعِلُنْ، تو یہ الگ ضرب ہوئی۔ پھر بعد میں کیا کرے گا ایک آخر سے حذف ہی کر دے گا وہ، وہ پھر نیا وزن بن جائے گا مولانا، تو وہ پھر دوسری ضرب بن گئی۔ بعض اوقات دو حرف حذف کر دے گا مولانا وہ ایک نئی قسم بن گئی وزن بن گیا وہ پھر تیسری ضرب بن گئی، تو اس طرح کتنی ضربیں ہیں؟ نو ضربیں ہیں نو ضربیں بھئی۔
تو کس صنعت کی بات چل رہی ہے؟ تشریع کی۔ ادھر توجہ کرو بھئی، صنعتِ تشریع اس کو کہتے ہیں کہ شاعر ایسا شعر کہتا ہے جس میں دو قافیے ذکر کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ دو قافیے۔ قافیہ کس کو کہتے تھے؟ شعر کے آخری کلمے کو۔ دو قافیے ذکر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ مولانا پہلا مصرع ہے یہ دوسرا مصرع ہے، اس کے آخر میں سے ایک دو لفظوں کو اڑا دیں تو پھر بھی پورا شعر بنے گا، پھر بھی کیا بن جائے گا؟ پورا شعر بنے گا۔ کس طرح؟ لو بھئی قلم ذرا دو۔ دیکھو بھئی یہ ایک مصرع یہ دوسرا مصرع۔ اس کا وزن کیا ہے؟ مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ، اس کا وزن بھی کیا ہے؟ مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ مُتَفَاعِلُنْ۔ یہ قافیہ ہے اس کا، یہ کیا ہے؟ قافیہ۔ لیکن شاعر ایسے طریقے پر لے کر آتا ہے کہ اس شعر میں سے یہ دو حرف آپ گرا دیں، اب بھی یہ پورا شعر ہے لیکن کس طرح؟ اب یہ والا جز اس کے ساتھ جوڑ دو، اب کتنے ہو گئے؟ دو دو ہو گئے۔ تو شعر پھر بھی بن جائے گا ہاں پہلے جہاں سے دوسرا مصرع شروع ہو رہا تھا ذرا پیچھے سے آپ کو دوسرا مصرع شروع کرنا پڑے گا، بات سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو دو قافیوں پر اس کی شعر کی بنا کرتا ہے، ایک کو ہٹا دیں تو دوسرا قافیہ آ جاتا ہے، وزن اتنا وہ کمال کا مولانا کہ ایک شعر میں گویا دو وزن اکٹھے آ رہے ہیں، ایک کو گرا بھی دیں تو پھر بھی شعر رہے گا آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب یہ خراب ہو گیا اب شعر نہیں رہا۔
دیکھیے: التَّشْرِيعُ وَهُوَ بِنَاءُ الْبَيْتِ عَلَى قَافِيَتَيْنِ وہ بنا کرنا ہے شعر کی مولانا دو قافیوں پر يَصِحُّ الْمَعْنَى صحیح ہو جاتا ہے معنی عِنْدَ الْوُقُوفِ عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا دونوں میں سے کسی ایک پر بھی وقف کرنے پر، پہلے پہ وقف کر لیں پھر بھی شعر پورا دوسرے پر وقف کر لیں پھر بھی شعر پورا، أَيْ مِنَ الْقَافِيَتَيْنِ دونوں قافیوں میں سے۔ فَإِنْ قِيلَ بھئی مصنف نے کیا ذکر کیا؟ بنا کرنا ہے شعر کی دو قافیوں پر کہ معنی صحیح رہے گا آپ جس پر بھی وقف کریں، کیا کہا؟ جس پر بھی وقف کر لیں معنی کیا رہے گا شعر کا؟ صحیح رہے گا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ بھئی معنی کے ساتھ وزن بھی کہنا چاہیے کیوں کہ شعر بغیر وزن کے کبھی نہیں آتا، تو مصنف کو کہنا چاہیے معنی بھی صحیح رہے گا اور وزن بھی صحیح رہے گا۔ تو علامہ تفتازانی آگے جواب دیں گے کہ بھئی انہوں نے کہا نہیں قَافِيَتَيْنِ؟ اور قافیہ آتا ہی شعر میں ہے اور شعر کہتے ہی اس کو ہیں جس کے اندر وزن ہو، لہذا الگ وزن کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، جب قَافِيَتَيْنِ کہہ دیا معلوم ہوا وزن بھی برقرار رہے گا معنی بھی برقرار۔
فَإِنْ قِيلَ كَانَ عَلَيْهِ أَنْ يَقُولَ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مصنف پر واجب تھا کہ وہ یوں کہتا يَصِحُّ الْوَزْنُ وَالْمَعْنَى وزن بھی صحیح رہے گا اور معنی بھی صحیح رہے گا عِنْدَ الْوُقُوفِ عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا دونوں پر وقف کرنے کی صورت میں، لِأَنَّ التَّشْرِيعَ اس لیے کہ تشریع جو ہے هُوَ أَنْ يَبْنِيَ الشَّاعِرُ أَبْيَاتَ الْقَصِيدَةِ ذَاتَ الْقَافِيَتَيْنِ کہ بنا کرے مولانا شاعر ایک قصیدے کے اشعار کی ایسا قصیدہ جو دو قافیوں والا ہو عَلَى بَحْرَيْنِ کتنی بحروں پر؟ دو پر، أَوْ ضَرْبَيْنِ مِنْ بَحْرٍ وَاحِدٍ یا ایک ہی بحر کی کتنی ہوں؟ دو ضربیں ہوں۔ بھئی یہ دیکھو یہ جو وزن ہیں نا ان کو بحریں کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ بحریں۔ تو پھر ایک ہی بحر کے اندر بعض اوقات ضربوں میں فرق پڑتا ہے، میں نے بتلایا ضرب کسے کہتے ہیں؟ دوسرے مصرعے کے آخر کو، تو بحر وہی رہتی ہے اور ضرب میں کیا ہوتا رہتا ہے؟ فرق پڑتا ہے۔ تو یا تو جو دو قافیے بنائے ایک ہی بحر میں سے ہوں گے لیکن کیا ہوں گی؟ ضربیں دو الگ الگ ہوں گی، یا دونوں بالکل الگ الگ بحروں کے ہو جائیں گے، صرف ضربوں کا اختلاف نہیں رہے گا بلکہ بحر ہی کیا ہو جائے گی؟ بدل جائے گی۔ چلیے یہ اگلے سال آپ پڑھ لیں گے ان شاء اللہ۔ تو دیکھا دو بحروں سے ہوں گے وہ قافیے أَوْ ضَرْبَيْنِ مِنْ بَحْرٍ وَاحِدٍ یا ایک ہی بحر کی دو ضربیں ہوں گی بھئی، فَعَلَى أَيِّ الْقَافِيَتَيْنِ وَقَفْتَ كَانَ شِعْرًا مُسْتَقِيمًا تو جس قافیے پر بھی آپ وقف کریں تو پورا شعر ہو گا۔ قُلْنَا تو یہ وہ اعتراض نقل کیا، بعضوں نے کیا کہا کہ معنی کے ساتھ ساتھ ماتن کو کیا ذکر کرنا چاہیے تھا؟ وزن بھی صحیح رہے کیوں کہ وزن کے بغیر تو شعر نہیں۔ کہتے ہیں بھئی قُلْنَا الْقَافِيَةُ إِنَّمَا هِيَ آخِرُ الْبَيْتِ کہ یہاں قافیے کا لفظ ذکر کیا ہے اور قافیہ یہ تو شعر کے آخر کو کہتے ہیں، فَالْبِنَاءُ عَلَى قَافِيَتَيْنِ لَا يُتَصَوَّرُ إِلَّا إِذَا كَانَ الْبَيْتُ بِحَيْثُ يَصِحُّ الْوَزْنُ وَيَحْصُلُ الشِّعْرُ عِنْدَ الْوُقُوفِ عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا پس بنا دو قافیوں پر اس کا تو تصور بھی نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ شعر اس طور پر ہو کہ اس کا وزن صحیح ہو اور شعر اس سے حاصل ہو رہا ہو جب آپ اس پر کیا کریں؟ وقف کریں، وَإِلَّا لَمْ تَكُنِ الْأُولَى قَافِيَةً ورنہ تو پہلا قافیہ ہی نہیں رہے گا۔
كَقَوْلِهِ جیسے شاعر کہتا ہے: يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا اے دنیا سے نکاح کرنے والے یا پیغامِ نکاح دینے والے یعنی دنیا کو طلب کرنے والے، مِنْ خَطَبَ الْمَرْأَةَ عورت کو پیغامِ نکاح بھیجنا۔ مولانا خَطَبَ يَخْطُبُ خُطْبَةً وَخِطْبَةً بھئی، تو خُطْبَةً اگر مصدر آئے تو اس کا معنی ہے تقریر کرنا اور خَطَبَ يَخْطِبُ خِطْبَةً ہو تو اس کا کیا معنی ہے؟ پیغامِ نکاح، تو یہ خِطْبَةٌ سے ہے۔ يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا مِنْ خَطَبَ الْمَرْأَةَ، الدَّنِيَّةِ أَيِ الْخَسِيسَةِ اے گھٹیا دنیا کو طلب کرنے والے، إِنَّهَا شَرَكُ الرَّدَى یقینا یہ دنیا جو ہے ہلاکت کا جال ہے، شَرَكٌ کہتے ہیں جال کو، پھندے کو، الرَّدَى ہلاکت، أَيْ حِبَالَةُ الْهَلَاكِ ہلاکت کا جال ہے، وَقَرَارَةُ الْأَكْدَارِ۔ أَكْدَارٌ كَدَرٌ کی جمع مولانا یہ میل کچیل کو کہتے ہیں، ناگواری کو کہتے ہیں، تلخی کو کہتے ہیں، اور یہ میل کچیل کے ٹھہرنے کی جگہ ہے یعنی میل کچیل کا مرکز ہے۔ وَقَرَارَةُ الْأَكْدَارِ أَيْ مَقَرُّ الْكُدُورَاتِ کدورات یعنی ناگواریوں اور تلخیوں کا یا میل کچیل کا مرکز ہے یہ دنیا۔
تو دیکھو شعر کیسے ہے؟ یوں ہے، پہلا مصرع یوں ہے: يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ إِنَّهَا یہ پہلا مصرع، شَرَكُ الرَّدَى وَقَرَارَةُ الْأَكْدَارِ یہ کیا ہے؟ دوسرا مصرع۔ اب ذرا آپ مولانا وَقَرَارَةُ الْأَكْدَارِ اس کو ختم کر دیں اور شَرَكُ الرَّدَى پر وقف کریں پھر بھی شعر پورا، لیکن اب شعر یوں ہے: يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيْ پہلا مصرع، يَةِ إِنَّهَا شَرَكُ الرَّدَى یہ کیا ہے؟ دوسرا مصرع، تو یہ اب بھی شعر پورا، سمجھ میں آیا بھئی؟ الدَّنِيْ پر پہلا مصرع ختم، يَةِ إِنَّهَا شَرَكُ الرَّدَى یہ کیا ہے؟ دوسرا مصرع، اور عربی میں ایسا ہوتا ہے کہ آدھا کلمہ پہلے مصرعے میں ہوتا ہے اور آدھا کلمہ دوسرے مصرعے میں بعض اوقات یا ایک حرف دوسرے میں ہوتا ہے۔ فَإِنْ وَقَفْتَ عَلَى الرَّدَى اگر آپ وقف کریں الرَّدَى پر فَالْبَيْتُ مِنَ الضَّرْبِ الثَّامِنِ مِنَ الْكَامِلِ تو شعر جو ہے آٹھویں ضرب میں سے ہے بحرِ کامل میں، بحرِ کامل کی کون سی ضرب بن جائے گی؟ آٹھویں ضرب جب کہ آپ الرَّدَى پر وقف کریں یعنی شَرَكُ الرَّدَى پر۔ وَإِنْ وَقَفْتَ عَلَى الْأَكْدَارِ اور اگر آپ آخر تک پڑھیں اور الْأَكْدَارِ پر وقف کریں فَهُوَ مِنَ الضَّرْبِ الثَّانِي مِنْهُ تو پھر وہ بحرِ کامل کی کیا بن جائے گی؟ ضربِ ثانی بن جائے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟
وَالْقَافِيَةُ عِنْدَ الْخَلِيلِ مِنْ آخِرِ حَرْفٍ فِي الْبَيْتِ إِلَى أَوَّلِ سَاكِنٍ يَلِيهِ مَعَ الْحَرَكَةِ الَّتِي قَبْلَ ذَلِكَ السَّاكِنِ۔ امام خلیل قافیے کی تعریف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں آخر کی طرف سے چلو، آخر کی طرف سے شمار کرو، آخری حرف کے ساتھ جو پہلا ساکن آ جائے اس ساکن سے ماقبل کی حرکت سے لے کر آخر تک یہ قافیہ ہے۔ کس کو کہتے ہیں قافیہ؟ آخری حرف کے ساتھ جو پہلا ساکن آئے اس پہلے ساکن سے ماقبل جو حرکت ہے اس حرکت سے لے کر آخر تک یہ کیا ہے؟ قافیہ۔ مثلا میں کہتا ہوں أَكْدَارِ: آخری حرف کیا ہے؟ را، اس کے ساتھ قریب ترین ساکن کون ہے؟ الف، الف سے ماقبل حرکت کون سی؟ دال کو نہیں دیکھنا اس کی صرف حرکت کو، الف کے ساتھ حرکت کون سی ہے؟ فتحہ، اس فتحہ سے لے کر آخر تک یہ مولانا قافیہ ہے، سمجھ میں آیا؟ اچھا شَرَكُ الرَّدَى، الرَّدَى پر ہم وقف کر رہے ہیں شَرَكُ الرَّدَى، اب اس میں ذرا آپ مجھے بتائیں بھئی قافیہ کیا ہے؟ آخری حرف کیا ہے؟ یا الف بن گئی ہے نا، الف ہے، الف کے قریب ترین ساکن ڈھونڈو ذرا: دال متحرک ہے وہ بھی نہیں، را؟ ایک را متحرک ہے ایک ساکن ہے، تو را ساکن ہوئی مولانا شَرَكُ الرَّدَى ایک را ساکن ہے۔ تو دال بھی متحرک، پہلی را بھی ادھر سے متحرک آخر کی طرف سے، دوسری را کیا ہے؟ ساکن، اس را کے ساتھ حرکت کون سی ہے؟ شَرَكُ الرَّدَى کاف پر کیا آ رہا تھا؟ اس حرکت سے لے کر آخر تک یہ کیا کہلائے گا؟ قافیہ کہلائے گا۔
وَالْقَافِيَةُ عِنْدَ الْخَلِيلِ اور قافیہ امام خلیل کے نزدیک مِنْ آخِرِ حَرْفٍ فِي الْبَيْتِ شعر کے اندر آخری حرف سے لے کر إِلَى أَوَّلِ سَاكِنٍ يَلِيهِ وہ پہلا ساکن جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے مَعَ الْحَرَكَةِ الَّتِي قَبْلَ ذَلِكَ السَّاكِنِ اس حرکت کے ساتھ جو اس ساکن سے پہلے ہے۔ فَالْقَافِيَةُ الْأُولَى مِنْ هَذَا الْبَيْتِ هُوَ لَفْظُ الرَّدَى پس جو قافیۂ اولی ہے اس شعر کے اندر وہ لفظِ الرَّدَى ہے مَعَ حَرَكَةِ الْكَافِ مِنْ شَرَكُ اور ساتھ کاف کی حرکت بھی ملانی پڑے گی کس میں سے؟ شَرَكُ میں سے۔ وَالْقَافِيَةُ الثَّانِيَةُ اور قافیۂ ثانیہ جو ہے یہ مِنْ حَرَكَةِ الدَّالِ مِنَ الْأَكْدَارِ إِلَى الْآخِرِ، الْأَكْدَارِ میں دال کی حرکت سے لے کر آخر تک بھئی یہ قافیہ ہے۔ وَقَدْ يَكُونُ الْبِنَاءُ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ الْقَافِيَتَيْنِ وَهُوَ قَلِيلٌ مُتَكَلَّفٌ۔ یہ تو تھا دو قافیوں پر بنا ہوتی ہے، کبھی تین قافیوں پر یا تین سے زیادہ پر بنا ہوتی ہے: ایک کو حذف کریں پھر بھی شعر، دوسرے کو حذف کریں پھر بھی شعر، لیکن کہتے ہیں وہ قلیل ہے اور مُتَكَلَّفٌ مولانا بڑا تکلف والا ہے وہ کام اور بڑی مشقت والا ہے۔ وَمِنْ لَطِيفِ ذِي الْقَافِيَتَيْنِ اور لطیف دو قافیوں والے اشعار میں سے نَوْعٌ ایک قسم وہ ہے يُوجَدُ فِي الشِّعْرِ الْفَارِسِيِّ یہ جو کس کے اندر پائی جاتی ہے؟ فارسی۔ علامہ تفتازانی چوں کہ اپنی اصل زبان ان کی فارسی ہے تو اب اس کے بارے میں بتلا رہے ہیں کہ فارسی میں دو قافیے والے جیسے یہ ابھی ہم نے اوپر ذکر کیے دو قافیے والے عربی اشعار، فارسی میں بھی بعض اشعار دو قافیے والے آپ کو ملیں گے لیکن ان میں شاعر ایک اور کمال کرتا ہے کہ پہلے قافیے کے بعد، کس کے بعد؟ پہلے قافیے کو چھوڑ دو اس کے بعد جو باقی اشعار ہوتے ہیں ان میں وہ ایسے الفاظ لے کر آتا ہے کہ ان لفظوں کو ذرا آپ نکال کر جوڑ لیں آپس میں تو پھر باقاعدہ الگ اشعار تیار ہو جاتے ہیں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ الگ اشعار۔ نَوْعٌ ایک نوع ہے وَهُوَ أَنْ يَكُونَ الْأَلْفَاظُ الْبَاقِيَةُ بَعْدَ الْقَوَافِي الْأُوَلِ اور وہ یہ کہ باقی الفاظ جو ہوں پہلے قافیوں کے بعد بِحَيْثُ وہ اس طور پر ہوتے ہیں إِذَا اجْتَمَعَتْ جب وہ جمع ہو جائیں كَانَتْ شِعْرًا مُسْتَقِيمَ الْمَعْنَى تو ایسا شعر بن جاتا ہے جس کا معنی کیا ہوتا ہے؟ ٹھیک ہوتا ہے۔
وَمِنْهُ أَيْ مِنَ اللَّفْظِيِّ لُزُومُ مَا لَا يَلْزَمُ اور قسمِ لفظی میں سے بھئی یہ لزوم ہے اس چیز کا جو لازم نہیں ہوتی، وَيُقَالُ لَهُ الِالْتِزَامُ وَالتَّضْمِينُ وَالتَّشْدِيدُ وَالْإِعْنَاتُ اور اس کو التزام، تضمین، تشدید اور اعنات کہتے ہیں، وَهُوَ أَنْ يَجِيءَ قَبْلَ حَرْفِ الرَّوِيِّ وہ یہ کہ لایا جائے حرفِ روی سے پہلے وَمَا فِي مَعْنَاهُ اور جو اس کے معنی میں ہو مِنَ الْفَاصِلَةِ فاصلہ میں سے مَا ایسی چیز کو لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ جو سجع کے اندر لازم نہ ہو۔ بھئی لُزُومُ مَا لَا يَلْزَمُ کس کو کہتے ہیں؟ ایسی چیز کا اپنے اوپر لازم کرنا جو لازم نہیں ہے۔ سجع کس کو کہتے ہیں مولانا؟ آخری حرفوں کا موافق ہونا سجع کے اندر۔ تو دیکھیے ایک میں لے کر آیا ہوں مشقت، دوسرا لفظ لایا ہوں رحمت، سجع ہے یا نہیں دونوں میں؟ دونوں میں تا تا آ رہی ہے۔ اچھا اس کے بعد اور کوئی بنائیں بھئی دو لفظ ایک جیسے، ایک میں آ گیا بادل ایک میں آ گیا عادل بھئی، یہ بھی کیا ہے؟ ایک میں آخر میں بھی لام آ رہا ہے دوسرے کے آخر میں بھی کیا آ رہا ہے؟ لام آ رہا ہے۔ لیکن کبھی کبھار شاعر کیا کرتا ہے یا مولانا جو کلامِ منثور جو کہہ رہا ہے وہ کیا کرتا ہے کہ آخر میں تو لام آنا تھا، آخری حرف کیا ہے؟ لام، تو مثلا ایک شعر کے آخر میں لام ہے تو دوسرے میں بھی لام لائے گا، تیسرے میں بھی لام لائے گا، چوتھے میں بھی لام لائے گا کیوں کہ قصیدے کے اندر سارے اشعار کا آخری حرف کا ایک جیسا ہونا ضروری ہے۔ لیکن شاعر اپنے کمال کا اظہار کرتا ہے، وہ لام سے پہلے میم لے کر آیا ہے تو اگلے شعر میں بھی ایسا لفظ لائے گا کہ لام سے پہلے کیا آئے گا؟ میم۔ اس سے تمام اشعار میں وہ اسی طرح کرتا چلا جاتا ہے کہ لام سے پہلے کیا لا رہا ہے؟ میم لا رہا ہے۔ تو دیکھو میم کا لانا لازم نہیں تھا سجع کے اندر لیکن اس نے اپنے اوپر گویا کہ لازم کر لیا، سمجھ میں آیا؟
جیسے قرآن کے اندر ہے مولانا: فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ، وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ۔ اب یہاں بتلائیے مولانا یہاں آخری حرف کون سا ہے قرینۂ اول کا؟ را، قرینۂ ثانیہ کا؟ را۔ تو دیکھو یہاں پر را میں تو موافقت ضروری تھی لیکن یہاں دونوں جگہ را سے پہلے ہا آئی ہے مولانا حالانکہ ہا کا لانا تو ضروری نہیں تھا، تو یہ دیکھو لُزُومُ مَا لَا يَلْزَمُ ہے، ایسی چیز کو لازم کرنا جو لازم نہیں تھی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو میں نے آپ کو بتلایا حرفِ روی آخری حرف کو کہتے ہیں شعر میں، اور قرینے کے اندر آخری حرف جو ہے اس کو وہ ذکر کریں گے کیا کہیں گے؟ حَرْفِ الرَّوِيِّ وَمَا فِي مَعْنَاهُ جو چیز حرفِ روی کے معنی میں ہے۔ حرفِ روی کس کو کہتے ہیں شعر میں؟ آخری حرف کو۔ یہ تو تھا شعر، اگر نثر میں ہو تو نثر میں یہ آخری حرف اس کا نام تو کوئی نہیں ہے لیکن اس کا نام ہے روی تو یہ بھی روی کے ہی معنی میں ہے، روی تو نہیں ہے لیکن روی کے معنی میں ہے۔
وَهُوَ أَنْ يَجِيءَ قَبْلَ حَرْفِ الرَّوِيِّ وہ یہ کہ آنا ہے حرفِ روی سے پہلے۔ حرفِ روی کس کو کہتے ہیں آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی: وَهُوَ الْحَرْفُ الَّذِي تُبْنَى عَلَيْهِ الْقَصِيدَةُ جس پر بنا کی جاتی ہے قصیدے کی وَتُنْسَبُ إِلَيْهِ اور اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے فَيُقَالُ قَصِيدَةٌ لَامِيَّةٌ أَوْ مِيمِيَّةٌ۔ بھئی قصیدے کے آخر میں سارے میں لام آ رہا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قصیدۂ لامیہ، سارے میں میم آ رہا ہے تو کیا کہتے ہیں؟ قصیدۂ میمیہ۔ تو یہ حرفِ روی ہوتا ہے اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے قصیدے کی تو قصیدۂ لامیہ اور میمیہ مثال کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ کس سے ہے؟ کہتے ہیں مِنْ رَوَيْتُ الْحَبْلَ یہ رَوَيْتُ الْحَبْلَ سے ہے، رَوَيْتُ الْحَبْلَ کب کہتے ہیں؟ إِذَا فَتَلْتَهُ جب آپ رسی کو بل دے کر مضبوط کریں، رسی وغیرہ کا بٹنا یعنی اس کو بل دے کر مضبوط کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ فَتْلٌ کہلاتا ہے۔ تو رسی کو آپ بل دے کر مضبوط کریں تو کہتے ہیں رَوَيْتُ الْحَبْلَ میں نے رسی کو بل دیے یعنی اس کو مضبوط کیا۔ تو جب رسی کی لڑیاں جو ہیں آپ ان کو بل دے کر مضبوط کرتے ہیں تو وہ آپس میں مل جاتی ہیں، بل دینے سے ملتی ہیں یا نہیں مولانا؟ تین چار لڑیاں ہوں گی ساری آپس میں مل گئیں مولانا۔ تو جیسے مولانا اس بل دینے نے رسی کی لڑیوں کو ملا دیا اسی طرح حرفِ روی سارے قصیدے کے اشعار کو آپس میں ملاتا ہے کہ ہر ایک کے آخر میں کیا آ جاتا ہے؟ وہی حرف آ جاتا ہے۔ تو یہ مولانا رَوَيْتُ الْحَبْلَ سے ہے إِذَا فَتَلْتَهُ جب آپ اس کو بل دے کر مضبوط کریں رسی کو لِأَنَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْأَبْيَاتِ اس لیے کہ حرفِ روی جمع کر دیتا ہے اشعار کو مولانا كَمَا أَنَّ الْفَتْلَ يَجْمَعُ بَيْنَ قُوَى الْحَبْلِ جیسے کہ بل دینا مولانا یہ جمع کر دیتا ہے قُوَى، قُوَّةٌ کی جمع ہے رسی کی لڑی کو بھی کہتے ہیں مولانا، جیسے کہ بٹنا یہ جمع کر دیتا ہے رسی کی لڑیوں کو۔ أَوْ مِنْ رَوَيْتُ عَلَى الْبَعِيرِ یا تو یہ رَوَيْتُ الْحَبْلَ سے ماخوذ ہے یا رَوَيْتُ عَلَى الْبَعِيرِ سے ماخوذ ہے۔ عربی میں کہتے ہیں رَوَيْتُ عَلَى الْبَعِيرِ کب؟ جب آپ اس کے اوپر سامان کو رِوَاءٌ سے باندھ دیں، کس سے باندھیں؟ رِوَاءٌ یعنی رسی ہے، وہ رسی جس کے ذریعے اونٹ پر سامان کو باندھ دیتے ہیں تاکہ وہ گرے نہ اس کو کیا کہتے ہیں رسی کو؟ رِوَاءٌ۔ تو جیسے وہ رسی سامان کو گرنے نہیں دیتی جمع رکھتی ہے اسی طرح شعر کے اندر بھی حرفِ روی کیا کرتا ہے سارے قصیدے کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔ یا یہ رَوَيْتُ عَلَى الْبَعِيرِ سے ہے کب کہتے ہیں یہ؟ کہتے ہیں إِذَا شَدَدْتَ عَلَيْهِ الرِّوَاءَ جب آپ اس پر رِوَاءٌ باندھ دیں، رِوَاءٌ کسے کہتے ہیں؟ وَهُوَ الْحَبْلُ الَّذِي يُجْمَعُ بِهِ الْأَحْمَالُ یہ وہ رسی ہے جس کے ذریعے بوجھوں کو جمع کیا جاتا ہے، سامان کو باندھا جاتا ہے یعنی جمع کیا جاتا ہے سواری پر۔
دوبارہ متن دیکھیں اوپر: لزومِ ما لا یلزم یہ ہے کہ آئے مولانا حرفِ روی سے پہلے أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ یا جو اس کے معنی میں ہو۔ یہ کیا مراد ہے جو اس کے معنی میں ہو؟ حرفِ روی تو ہے شعر میں اور مَا فِي مَعْنَاهُ یہ کس کے اندر؟ نثر کے اندر۔ تو نثر میں حرفِ روی تو نہیں لیکن آخری حرف تو ہے تو وہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ حرفِ روی کے۔ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ حرفِ روی یا وہ جو اس کے معنی میں ہو یعنی نثر کے اندر ہو، أَيْ قَبْلَ الْحَرْفِ الَّذِي هُوَ فِي مَعْنَى حَرْفِ الرَّوِيِّ مِنَ الْفَاصِلَةِ یعنی وہ حرف جو مولانا حرفِ روی کے معنی میں ہو فاصلہ میں، يَعْنِي الْحَرْفَ الَّذِي وَقَعَ فِي فَوَاصِلِ الْفِقَرِ یعنی وہ حرف جو واقع ہو فقروں کے فواصل میں مَوْقِعَ حَرْفِ الرَّوِيِّ کس کی جگہ پر واقع ہو؟ حرفِ روی کی جگہ پر فِي قَوَافِي الْأَبْيَاتِ وہ حرفِ روی جو کس کے اندر تھا؟ اشعار کے قافیوں میں تھا۔ تو شعر کے قافیے میں جیسے روی آیا تھا نثر کے فاصلے میں جو حرف آیا وہ بھی اسی روی کے حکم میں ہے۔
وَفَاعِلُ يَجِيءُ اور يَجِيءُ کا فاعل جو ہے هُوَ قَوْلُهُ وہ یہ قول ہے مَا لَيْسَ بِلَازِمٍ: آنا ہے حرفِ روی یا حرفِ روی جیسے حرف سے پہلے مَا اس چیز کا آنا لَيْسَ بِلَازِمٍ جو لازم نہیں تھی فِي السَّجْعِ کس کے اندر؟ سجع کے اندر، يَعْنِي يُؤْتَى قَبْلَهُ بِشَيْءٍ لایا جائے اس حرفِ روی یا ما فی معناہ سے پہلے ایسی چیز کو کہ لَوْ جُعِلَ الْقَوَافِي أَوِ الْفَوَاصِلُ أَسْجَاعًا کہ قوافی یا فواصل کو کیا بنا دیں؟ سجعیں بنا دیں، لَمْ يُحْتَجْ إِلَى الْإِتْيَانِ بِذَلِكَ الشَّيْءِ تو احتیاج نہ ہو گی اس چیز کے لانے کی۔ بھئی دیکھو جیسے قرآن میں آیا تَقْهَرْ دوسری جگہ آیا دوسرے قرینے میں تَنْهَرْ، تو اب اگر ہم اس کی اور سجعیں بنائیں مولانا، کیا کریں؟ اور سجع بنا لیں اس کے آخر میں کیا ہے را، تو اور سجعیں بنائیں دیکھیں مولانا مثلا تَقْهَرْ، تَنْهَرْ آیا، تَسْخَرْ، تَنْحَرْ، را سب کے آخر میں آ رہا ہے لیکن اس سے پہلے ہا آ رہی ہے؟ تَنْهَرْ، تَسْخَرْ، تَنْحَرْ، را سے پہلے ہا کسی میں بھی نہیں۔ تو ایسی سجع بنانا ممکن تھی کہ جس کے اندر کیا ہو؟ ہر ایک سے پہلے ہا نہ ہو، لیکن کیا کیا گیا؟ لازم کر لیا گیا کہ را سے پہلے کس کو ذکر کیا جا رہا ہے؟ ہا کو۔
لُزُومُ مَا لَا يَلْزَمُ میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا کہ شعر کے اندر یا پھر نثر کے اندر سجع سے پہلے متکلم کا اپنے اوپر ایسی چیز کو لازم کرنا جو سجع کے اندر لازم نہیں تھی۔ مثلا میں نے بتلایا تھا آیت آ رہی ہے تَقْهَرْ، تَنْهَرْ، تو یہاں پر را سے پہلے ہا کے لانے کا اہتمام کیا گیا حالانکہ سجع میں اس ہا کے لانے کی ضرورت اور اس کا لانا واجب نہیں تھا، اس کے علاوہ بھی تو آ سکتا تھا دیکھو تَقْهَرْ اس کے ساتھ آ سکتا تھا تَسْخَرْ اس کے ساتھ آ سکتا تھا تَنْحَرْ، اب را سے پہلے ہا آ رہی ہے سب میں؟ نہیں، لیکن سجع پھر بھی ہے۔ اسی طرح شعر وغیرہ کے اندر تو یہ کبھی حرکت اور حرف دونوں کے ساتھ ہوتا ہے، کبھی صرف ایک حرکت جو آخری حرف سے پہلے ہے سارے اشعار میں شاعر اسی طرح کرتا ہے کہ را سے پہلے مثلا فتحہ آیا تو شاعر اپنے سارے اشعار میں کیا کرتا ہے را سے پہلے فتحہ لاتا ہے، اور کبھی حرف اور حرکت دونوں میں ہوتا ہے جیسے مولانا یہاں پر کہ را سے پہلے کیا آئی؟ ہا اور ہا پر کیا ہے؟ فتحہ، تو دوسرے کے اندر تَقْهَرْ کے اندر بھی کیا ہے؟ ہا اور اس پر کیا ہے؟ فتحہ، اور کبھی صرف کس چیز کی؟ حرف کی رعایت ہوتی ہے حرکت کی رعایت نہیں، را سے پہلے مثلا ہر جگہ ہا تو آئے گی لیکن کبھی ہا پر ضمہ ہو گا کبھی فتحہ ہو گا کبھی کسرہ ہو گا۔
مَا لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ ایسی چیز جو لازم نہیں ہے سجع کے اندر يَعْنِي يُؤْتَى قَبْلَهُ بِشَيْءٍ لایا جائے اس حرفِ روی سے پہلے ایسی چیز کو کہ لَوْ جُعِلَ الْقَوَافِي أَوِ الْفَوَاصِلُ أَسْجَاعًا کہ اگر ان قوافی اور فواصل کو سجعیں بنایا جائے۔ بھئی فواصل اس وقت بھی سجع ہیں ان میں لیکن ان کی الگ ذرا سجع بنا لو۔ تَقْهَرْ، تَنْهَرْ میں سجع ہے یا نہیں؟ سجع ہے لیکن اس کی الگ ذرا سجعیں بناؤ جس کے آخر میں کیا آئے؟ را ہی آئے۔ تو آپ اور سجعیں بنائیں تَنْهَرْ، تَسْخَرْ، ہا کا لانا واجب تھا؟ نہیں۔ تو وہ چیز جو واجب نہیں تھی وہ اس تَقْهَرْ اور تَنْهَرْ میں کیا بنا دی گئی؟ واجب بناتے ہوئے لائی گئی۔ لَمْ يُحْتَجْ إِلَى الْإِتْيَانِ بِذَلِكَ الشَّيْءِ تو احتیاج نہ ہو اس چیز کے لانے کی وَيَتِمُّ السَّجْعُ بِدُونِهِ اور سجع اس کے بغیر ہی تام ہو جائے۔
بعض علماء نے یہ گمان کیا مولانا، انہوں نے کیا کہا کہ حرفِ روی یہ کس میں آتا ہے؟ شعر میں، اور نثر میں جو اس حرفِ روی کے معنی میں ہے یعنی نثر میں فاصلے کا آخری حرف وہ بھی کس کی طرح ہے؟ روی کی طرح، روی جیسے بالکل آخر میں قافیے کے آتا ہے فاصلے کے جو آخر میں حرف آیا وہ بھی کس کی طرح ہے؟ روی کی طرح۔ تو ان دونوں کا چوں کہ ذکر آیا تو کہتے ہیں ماتن کو کہنا چاہیے تھا مَا لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ أَوِ الْقَافِيَةِ، سجع کے ساتھ ساتھ کس کو ذکر کرنا چاہیے تھا؟ قافیہ کو، اس لیے کہ سجع تو آتا ہے نثر میں اور مَا فِي مَعْنَاهُ اس سے بھی کیا مراد تھی نثر، تو سجع اس کے موافق ہوا، اور مولانا سجع کے مقابلے میں شعر میں جو آتا ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ قافیہ، اور حرفِ روی کے لیے ضروری تھا کہ کس کو ذکر کیا جائے؟ قافیہ کو بھی۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ دیکھو انہوں نے کہا نا یہ ہے شعر مولانا، اس شعر کے آخر میں آ رہا ہے حرفِ روی، ٹھیک ہے؟ تو حرفِ روی سے پہلے ایسی چیز کے لانے کا اہتمام کرنا جو لازم نہیں تھی، اور حرفِ روی آتا ہے شعر میں اور شعر کے آخر میں جو آتا ہے وہ کیا ہوتا ہے قافیہ، تو قافیے کے لفظ کو بھی ذکر کرنا ضروری تھا جیسے انہوں نے سجع کے لفظ کو ذکر کیا اور سجع کس میں آتا ہے؟ نثر میں۔ تو نثر میں سجع آتا تھا اس کو ذکر کیا تو قافیے کو بھی تو ذکر کرنا چاہیے وہ کس میں آتا ہے؟ شعر میں جس میں حرفِ روی بھی اسی میں آتا ہے۔
تو علامہ تفتازانی فرماتے ہیں جس نے یہ اشکال کیا کہ حرفِ روی کی مناسبت سے قافیہ ذکر کرنا چاہیے جیسے کہ مَا فِي مَعْنَاهُ کی رعایت سے سجع کو ذکر کیا، تو اسی طرح حرفِ روی کی مناسبت سے کس کو ذکر کرنا چاہیے؟ قافیہ کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا تاکہ نثر کے ساتھ ساتھ شعر بھی داخل ہو جائے، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ وہ مصنف کے کلام کو سمجھے ہی نہیں۔ مصنف کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس شعر کو کیا بنا دیں؟ سجع بنا دیں، اور وہ جو فواصل آ رہے تھے ان سے بھی کیا بنا دیں؟ سجع بنا دیں، دونوں سے کیا بنا دیں؟ سجع بنا دیں، یہ معنی ہے۔ دونوں سے سجع بنا لو تو اس سجع کے اندر اگر را آ رہی ہے تو را سے پہلے ہا کا لانا تو لازم نہیں تھا لیکن شاعر نے اپنے کلام میں کیا کیا ہوا ہے؟ لازم کیا ہوا ہے۔ فواصل کے اندر جیسے مولانا قرآن میں تَقْهَرْ ہا آ رہی ہے اس سے آپ الگ ذرا سجع بنا لیں: تَسْخَرْ، تَنْحَرْ، یہ سجع بنا لی یا نہیں آپ نے؟ الگ سجع بنائی اس سجع کے اندر ہا کا لانا واجب ہے؟ نہیں۔ تو دیکھو سجع الگ بنانی پڑے گی شعر سے بھی الگ سجع بنائیں گے اور فواصل سے بھی، اور اس سجع کے اندر تو آخر میں مثلا اگر را آ رہی ہے تو ماقبل میں ہا کا لانا لازم نہیں تھا لیکن کلام اللہ میں اس کا کیا کیا گیا؟ اہتمام کیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فَمَنْ زَعَمَ جس نے یہ گمان کیا أَنَّهُ كَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَقُولَ کہ مناسب تھا کہ مصنف یوں فرماتے مَا لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ أَوِ الْقَافِيَةِ، أَوِ الْقَافِيَةِ کا لفظ بھی بڑھاتے لِيُوَافِقَ قَوْلَهُ تاکہ ماتن کا قول اپنے اس قول کے ساتھ موافق ہو جاتا قَبْلَ حَرْفِ الرَّوِيِّ أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ، قَبْلَ حَرْفِ الرَّوِيِّ اوپر جو متن میں آیا تھا اس کے ساتھ بھی مناسبت آ جاتی اور أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ کے ساتھ تو مناسبت موجود ہی ہے، فَهُوَ لَمْ يَعْرِفْ مَعْنَى هَذَا الْكَلَامِ تو اس نے اس کلام کے معنی کو دراصل جانا ہی نہیں، جس نے یہ اعتراض کیا اس نے اس کلام کے معنی کو دراصل جانا ہی نہیں۔
ثُمَّ لَا يَخْفَى پھر یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ يَجِيءُ قَبْلَ كَذَا مَا لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي بَيْتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ۔ کہتے ہیں پھر یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ مصنف نے کیا فرمایا کہ حرفِ روی سے پہلے لانا ہے یا وہ جو حرفِ روی کے معنی میں ہے اس سے پہلے لانا ہے ایسی چیز کو جو لازم نہیں، اس کا پتہ دو یا زیادہ شعروں میں ہی چلے گا اور اس کا پتہ دو فواصل یا زیادہ میں ہی چلے گا، ایک فاصلے میں اس کا پتہ نہیں چلے گا، ایک شعر میں اس کا پتہ نہیں چلے گا۔ بھئی دیکھو مثلا آگے شعر ذکر کریں گے: قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ، بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ۔ تو دیکھو آپ بتائیے حرفِ روی کیا ہے اس شعر کے اندر؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ لمبا نہ ہو جائے کہیں سبق۔ آخری حرف کیا ہے؟ فَحَوْمَلِ، تو حرفِ روی کیا ہے؟ لام، تو لام سے پہلے میم آیا یا نہیں؟ آیا، اور میم کا لانا کوئی لازمی تھا سجع میں؟ نہیں، تو پھر تو یہ میم بھی داخل ہو گئی سجع کے اندر، حالانکہ یہ مراد نہیں ہے شاعر کی کیوں کہ بھئی حرفِ روی سے پہلے کچھ نہ کچھ تو ضرور آئے گا، آئے گا یا صرف وہ آخری حرف آ جائے گا؟ کچھ نہ کچھ تو ضرور آئے گا، تو آپ کی تعریف تو اس پر بھی صادق آ رہی ہے کہ حرفِ روی سے پہلے ایسی چیز لانا جس کا لانا لازم نہیں تھا۔ کہتے ہیں نہیں یہ مراد نہیں ہے بلکہ کچھ نہ کچھ تو آئے گا یہ ہم بھی مانتے ہیں، مطلب یہ ہے اگلے شعر میں بھی دیکھو پہلے شعر میں لام سے پہلے جو لایا ہے دوسرے میں بھی لام سے پہلے اگر وہی لایا ہے تو پھر یہ کیا ہے؟ لُزُومُ مَا لَا يَلْزَمُ ہے ورنہ نہیں، تو اس کا پتہ ایک شعر سے چلے گا یا دو یا تین سے؟ دو یا تین سے پتہ چلے گا۔
پھر یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ مراد ماتن کی اپنے اس قول کے ساتھ يَجِيءُ قَبْلَ كَذَا کہ آئے اس سے پہلے مَا لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ اس سے مراد یہ ہے کہ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي بَيْتَيْنِ کہ یہ کتنوں میں پتہ چلے گا؟ یہ دو شعروں میں ہو گا أَوْ أَكْثَرَ یا زیادہ کے اندر أَوْ فَاصِلَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ یا دو فاصلوں میں ہو گا یا زیادہ میں، وَإِلَّا وگرنہ تو فَفِي كُلِّ بَيْتٍ وَفَاصِلَةٍ ورنہ تو ہر شعر اور ہر فاصلے کے اندر يَجِيءُ قَبْلَ حَرْفِ الرَّوِيِّ أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ حرفِ روی یا جو حرفِ روی کے معنی میں ہے اس سے پہلے آتا ہے مَا ایسی چیز لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ جو سجع میں لازم نہیں ہوتی، وہ آتی ہی ہے کچھ نہ کچھ تو آتا ہی ہے، كَقَوْلِهِ جیسے امرؤ القیس کہتا ہے: قِفَا نَبْكِ اے میرے دو دوستو کھڑے ہو جاؤ نَبْكِ ہم ذرا رو لیں مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ اپنے محبوب اور منزلوں کو یاد کر کے بِسِقْطِ اللِّوَى، سِقْطٌ کہتے ہیں کنارے کو مولانا، اللِّوَى کہتے ہیں ریت کا کنارہ بل کھاتا ہوا ٹیڑھا ہو، تو ریت کے جو بل کھاتے ہوئے کنارے ہیں اس کے پاس کھڑے ہو کر ہم ذرا رو لیں، یہ کہاں پر ہیں ریت کے بل کھاتے ہوئے کنارے اور ٹیلے؟ بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ دخول اور حومل جگہ کے بیچ میں۔ وَقَدْ جَاءَ قَبْلَ اللَّامِ مِيمٌ مَفْتُوحٌ اور تحقیق اس شعر کے اندر بھی لام سے پہلے میمِ مفتوح تو آیا ہے وَهُوَ لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ اور میم کا لانا تو سجع میں لازم نہیں تھا، سمجھ میں آیا؟ تو پھر تو یہ میم بھی داخل ہو جائے گا لزومِ ما لا یلزم میں حالانکہ یہ مراد نہیں ہے بلکہ دو شعر دیکھو دونوں میں وہی آیا ہو تو پھر وہ کیا ہے؟ لزومِ ما لا یلزم۔
وَقَوْلُهُ قَبْلَ حَرْفِ الرَّوِيِّ أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ اور کہتے ہیں ماتن نے جو کہا نا حرفِ روی سے پہلے یا جو حرفِ روی کے معنی میں ہو اس سے پہلے، کہتے ہیں یہ دو لفظ اس لیے لے کر آئے اشارہ کر دیا کہ یہ نثر میں بھی جاری ہوتا ہے اور نظم میں بھی جاری ہوتا ہے، أَنَّهُ يَجْرِي فِي النَّثْرِ وَالنَّظْمِ نَحْوُ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ پس یتیم پر آپ سختی نہ کیجیے وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ اور سائل کو نہ جھڑکیے، فَالرَّاءُ بِمَنْزِلَةِ حَرْفِ الرَّوِيِّ یہ را بمنزلہ حرفِ روی کے ہے، حرفِ روی نہیں کیوں کہ یہ کلامِ منثور ہے مولانا نظم نہیں، وَمَجِيءُ الْهَاءِ قَبْلَهَا فِي الْفَاصِلَتَيْنِ اور ہا کا آنا دونوں فاصلوں میں یہ لُزُومُ مَا لَا يَلْزَمُ ہے لِصِحَّةِ السَّجْعِ بِدُونِهَا اس لیے کہ سجع اس کے بغیر بھی صحیح ہو سکتا تھا جیسے فَلَا تَنْهَرْ، وَلَا تَسْخَرْ، وَلَا تَنْحَرْ۔ دیکھو ان سب لَا تَسْخَرْ، لَا تَنْحَرْ میں سجع بھی ہے اور ہا بھی نہیں ہے، تو اس کے بغیر بھی سجع ہو سکتی تھی۔
وَقَوْلُهُ اور جیسے شاعر کا یہ قول ہے مولانا: سَأَشْكُرُ عَمْرًا إِنْ تَرَاخَتْ مَنِيَّتِي، أَيَادِيَ لَمْ تُمْنَنْ وَإِنْ هِيَ جَلَّتِ، فَتًى غَيْرَ مَحْجُوبِ الْغِنَى عَنْ صَدِيقِهِ، وَلَا مُظْهِرِ الشَّكْوَى إِذَا النَّعْلُ زَلَّتِ، رَأَى خَلَّتِي مِنْ حَيْثُ يَخْفَى مَكَانُهَا، فَكَانَتْ قَذَى عَيْنَيْهِ حَتَّى تَجَلَّتِ۔ تو دیکھو پہلے شعر میں آیا جَلَّتِ، مولانا حرفِ روی کیا ہے؟ تا، تو شاعر پر واجب تھا کہ ہر شعر کے آخر میں تا لائے لیکن اس نے اہتمام کیا کہ تا سے پہلے کیا لے آیا؟ لامِ مشدد تمام شعروں میں اہتمام کیا، تو یہ کیا ہے؟ لُزُومُ مَا لَا يَلْزَمُ ہے، ایسی چیز کو لازم کر لیا جو لازم نہیں تھی۔ سَأَشْكُرُ عَمْرًا شاعر کہتا ہے میں عنقریب عمرو کا شکریہ ادا کروں گا یعنی اس کا حق ادا کروں گا شکریہ کا إِنْ تَرَاخَتْ مَنِيَّتِي اگر مؤخر ہو گئی میری موت، اگر مجھے ڈھیل مل گئی کچھ مولانا کچھ میری عمر لمبی ہو گئی تو میں عمرو کا شکریہ ادا کروں گا، أَيَادِيَ، أَيَادِي مولانا جمع ہے أَيْدٍ کی اور أَيْدٍ جمع ہے يَدٌ کی اور يَدٌ کہتے ہیں ہاتھ کو اور بمعنی احسان کے بھی آتا ہے، احسانات مراد ہیں، احسانات کا شکریہ ادا کروں گا اس کے، یہ بَدَلٌ مِنْ عَمْرٍو یہ عمرو سے کیا ہے؟ بدل، تو وہ عَمْرًا منصوب تو أَيَادِيَ بھی منصوب ہو گا، عمرو کا شکریہ ادا کروں گا یعنی کہ اس کے احسانات کا شکریہ ادا کروں گا۔ لَمْ تُمْنَنْ وہ احسانات جو منقطع نہیں ہوئے، مَنَّ يَمُنُّ کا ایک معنی کیا ہے؟ منقطع ہونا، اس کے ایسے احسانات جو دائمی ہیں منقطع نہیں ہوئے کبھی، وَإِنْ هِيَ جَلَّتِ اگرچہ اپنی ذات کے اعتبار سے یہ احسانات بڑے عظیم ہیں، بڑے جلیل ہیں، سمجھ میں آیا؟ بڑے عظیم عظیم احسانات ہیں لیکن منقطع کبھی نہیں ہوئے۔ خود بتلا رہے ہیں أَيْ لَمْ تُقْطَعْ یعنی جو دائمی ہیں منقطع نہیں ہوئے، أَوْ لَمْ تُخْلَطْ بِمِنَّةٍ۔ یا مولانا یہ تو مَنَّ کا کیا معنی کیا میں نے؟ جو منقطع نہ ہوں، رکیں نہیں۔ ایک مَنَّ يَمُنُّ کا معنی احسان کرنا ہے، ایک مَنَّ يَمُنُّ کا معنی ہے احسان جتلانا، تو یہاں یہ جتلانے والا معنی کریں گے اب دیکھو: ان احسانات کا لَمْ تُمْنَنْ جو جتلائے نہیں گئے، یہی ترجمہ اب علامہ تفتازانی بھی کر رہے ہیں أَوْ لَمْ تُخْلَطْ بِمِنَّةٍ یا وہ احسان جتلانے کے ساتھ ملائے نہیں گئے، ان احسانات کا شکریہ ادا کروں گا جن کے ساتھ احسان جتلانا نہیں ملایا گیا یعنی وہ جتلائے نہیں گئے وَإِنْ عَظُمَتْ وَكَثُرَتْ اگرچہ وہ احسانات خود بڑے عظیم ہیں اور بڑے کثیر ہیں۔
فَتًى عمرو ایسا نوجوان ہے غَيْرَ مَحْجُوبِ الْغِنَى عَنْ صَدِيقِهِ جو روکتا نہیں ہے اپنی دولت کو اپنے دوستوں سے وَلَا مُظْهِرِ الشَّكْوَى، یہ یا غلط ہے مولانا یہ کاتب کی غلطی ہے مُظْهِرِي نہیں ہے مُظْهِرِ الشَّكْوَى، وَلَا مُظْهِرِ الشَّكْوَى اور وہ ایسا نوجوان ہے جو ظاہر نہیں کرتا شکایت کو إِذَا النَّعْلُ زَلَّتِ جب جوتا پھسل جائے، جب جوتا پھسل جائے تو پھر بھی وہ شکایت نہیں کرتا۔ یہ کنایہ ہے تکلیف کے آنے سے، پھسل گیا تو تکلیف آئی یا نہیں؟ تو یہ کنایہ ہے تکلیف سے، کوئی تکلیف، پریشانی، مصیبت آ جائے تو وہ کیا ہے؟ صبر کرتا ہے، شکوہ و شکایت نہیں کرتا اللہ سے۔ زَلَّةُ الْقَدَمِ وَالنَّعْلِ كِنَايَةٌ عَنْ نُزُولِ الشَّرِّ وَالْمِحْنَةِ قدم کا پھسلنا اور جوتے کا پھسلنا یہ کنایہ ہے شر کے نازل ہونے سے اور مشقت کے نازل ہونے سے۔ رَأَى خَلَّتِي، خَلَّةٌ کہتے ہیں مولانا احتیاج، مفلسی، محتاجی کو، رَأَى خَلَّتِي وہ میرے فقر اور میری مفلسی کو دیکھتا ہے مِنْ حَيْثُ ایسی جگہ سے يَخْفَى مَكَانُهَا کہ اس کا مکان بھی مخفی ہوتا ہے، یعنی میں اپنے فقر کو چھپا کر رکھتا ہوں، صبر کرتا ہوں، کسی سے ذکر نہیں کرتا لیکن وہ پھر بھی کیا کر لیتا ہے میرے فقر کو؟ تو وہ دیکھ لیتا ہے میرے فقر کو اس طور پر کہ اس کی جگہ چھپی ہوئی ہوتی ہے لِأَنِّي كُنْتُ أَسْتُرُهَا بِالتَّجَمُّلِ۔ تَجَمُّلٌ کا معنی ہے مصیبتوں پر صبر کرنا، اس لیے کہ میں اس کو چھپا لیتا ہوں اپنے فقر کو کس کے ساتھ؟ مصیبتوں پر صبر کرتے ہوئے یعنی میں صبر کرتے ہوئے اپنے فقر کو چھپا لیتا ہوں لیکن پھر بھی وہ دیکھ لیتا ہے۔ فَكَانَتْ أَيْ خَلَّتِي قَذَى عَيْنَيْهِ تو میری مفلسی جو ہے اس کی آنکھ کا تنکا ہوتی ہے حَتَّى تَجَلَّتِ یہاں تک کہ وہ اس کو دور کر دے أَيِ انْكَشَفَتْ وہ دور ہو جائے۔ بھئی جیسے آنکھ کے اندر تنکا یا ذرہ پڑ جائے تو انسان کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک اس کو نکال نہ دے، تو مجھ پر شاعر کہتا ہے فقر آ جائے تو وہ بھی اس کو اسی طرح سمجھتا ہے اور جب تک اس کو دور نہ کر دے اس کو چین نہیں آتا۔ أَيْ وَزَالَتْ بِإِصْلَاحِهِ إِيَّاهَا بِأَيَادِيهِ اور یہاں تک کہ وہ اس کو زائل کر دے اصلاح کرتے ہوئے اس کی اپنے احسانات کے ساتھ، يَعْنِي مِنْ حُسْنِ اهْتِمَامِهِ، أَحْسَنَ نہیں ہے مولانا یہ الف کاتب کی غلطی ہے، يَعْنِي مِنْ حُسْنِ اهْتِمَامِهِ جَعْلُهُ كَالدَّاءِ اللَّازِمِ، اہتمام کا معنی توجہ دینا اہمیت دینا، اور اس کے حسنِ اہتمام میں سے ہے یہ کہ وہ قرار دیتا ہے اس کو کس کو؟ میرے فقر کو كَالدَّاءِ اللَّازِمِ اس مرض کی طرح جو لازم ہو لِأَشْرَفِ أَعْضَائِهِ اس کے اعضاء میں جو سب سے شریف ہے، معزز ہے۔ اعضاء میں سب سے معزز اور شریف کیا ہے مولانا؟ آنکھ ہے، سب سے بڑی نعمتوں میں سے اللہ کی مولانا آنکھ ہے بھئی۔ تو سب سے معزز عضو کے ساتھ جیسے کوئی بیماری لازم ہو جائے میرے فقر کو بھی وہ اسی کی طرح سمجھتا ہے حَتَّى تَلَافَاهُ یہاں تک کہ وہ اس کی تلافی کر دیتا ہے بِالْإِصْلَاحِ کس کے ساتھ؟ اصلاح کے ساتھ۔ فَحَرْفُ الرَّوِيِّ وَهُوَ، یہ واؤ زائد ہے کاتب کی غلطی ہے، فَحَرْفُ الرَّوِيِّ هُوَ التَّاءُ حرفِ روی کیا ہے مولانا؟ تا ہے، وَقَدْ جِيءَ قَبْلَهُ بِلَامٍ مُشَدَّدَةٍ مَفْتُوحَةٍ اور تحقیق اس سے پہلے شاعر لامِ مشدد کو لایا ہے ایسا لامِ مشدد جو مفتوح ہے وَهُوَ لَيْسَ بِلَازِمٍ فِي السَّجْعِ اور وہ سجع میں لازم نہیں ہے لِصِحَّةِ السَّجْعِ بِدُونِهَا اس لیے کہ سجع اس کے بغیر بھی صحیح ہو سکتی تھی، مثال کے طور پر پہلے آیا جَلَّتْ تو آگے کیا آتا؟ مَدَّتْ، مَنَّتْ، انْشَقَّتْ۔ تو دیکھو سب میں تا آ رہی ہے لیکن لام نہیں، تو اس کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا لیکن شاعر نے اپنے اوپر لازم کر لیا۔
وَأَصْلُ الْحُسْنِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ أَيْ فِي جَمِيعِ مَا ذُكِرَ مِنَ الْمُحَسِّنَاتِ اللَّفْظِيَّةِ۔ دیکھو خلاصۂ کلام سنو بھئی: کہتے ہیں یہ جو ہم نے محسناتِ لفظیہ ذکر کیے یہ کلام کے لفظوں میں حسن پیدا کرتے ہیں، لیکن اصل یہ ہونا چاہیے کہ آپ کی نظر معنی پر ہونی چاہیے، کس پر؟ معنی پر ہونی چاہیے، ہاں اس معنی کو ادا کرتے ہوئے اب آپ کیا کریں لفظوں میں بھی حسن پیدا کر سکتے ہیں، یہ نہیں کہ پہلے توجہ آپ کی اصل میں لفظوں کی طرف ہو اور معنی کی طرف بعد میں ہو۔ سمجھ میں آیا؟ تو اصل توجہ ہونی چاہیے معنی کی طرف کہ آپ بات کیا کرنا چاہتے ہیں، ہاں اب اس معنی کو آپ اچھے سے لفظوں کا لباس پہنا دیں، یہ نہیں کہ آپ کی اصل توجہ کس کی طرف ہے؟ لفظوں کی طرف ہے، لفظ بڑے حسین حسین لے کر آئے اور یہ نہیں دیکھا کہ معنی کیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو معنی ہے لباس پہننے والے کی طرح اور لفظ ہے لباس کی طرح۔ تو یہ ایسا ہی ہے کہ اگر معنی کی آپ رعایت کریں اور لفظ اچھے پہنائیں تو معنی بھی اچھا ہوا، حسین انسان ہے گویا اور اس کو لباس بھی آپ نے کیا پہنا دیا؟ اچھا پہنا دیا۔ اور اگر آپ کی توجہ لباس کی طرف ہے معنی کی طرف توجہ نہیں تو یہ تو اسی طرح ہے جیسے آپ نے کیا کیا ایک نہایت بدشکل انسان کو کیا کر دیا؟ حسین لباس پہنا دیا۔
وَأَصْلُ الْحُسْنِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ اور اصل حسن ان سب کے اندر أَيْ فِي جَمِيعِ مَا ذُكِرَ مِنَ الْمُحَسِّنَاتِ اللَّفْظِيَّةِ ان تمام محسناتِ لفظیہ میں أَنْ تَكُونَ الْأَلْفَاظُ تَابِعَةً لِلْمَعَانِي کہ الفاظ کو تابع ہونا چاہیے معانی کے، دُونَ الْعَكْسِ نہ کہ معانی کو الفاظ کے تابع، أَيْ لَا أَنْ تَكُونَ الْمَعَانِي تَوَابِعَ لِلْأَلْفَاظِ نہ یہ کہ معانی الفاظ کے تابع ہوں۔ بھئی معانی الفاظ کے تابع کیسے ہوں گے؟ صورت بتلا رہے ہیں: بِأَنْ يُؤْتَى بِالْأَلْفَاظِ مُتَكَلَّفَةً مَصْنُوعَةً بایں صورت کہ لایا جائے ایسے الفاظ کو مُتَكَلَّفَةً جن میں کیا کیا گیا ہو؟ تکلف کیا گیا ہو، مَصْنُوعَةً اور مصنوعی الفاظ ہوں یا ان میں صنعت کا ارادہ کیا گیا ہو فَيَتْبَعَهَا الْمَعْنَى تو معنی اس کے تابع ہو، پیچھے آئے اس کے كَيْفَمَا كَانَ جیسا بھی وہ ہو۔ تو اصل توجہ آپ کی لفظوں کی طرف ہے معنی کی طرف تو ہے ہی نہیں تو یقینا معنی کیا ہو گا؟ صحیح نہیں ہو گا، كَمَا يَفْعَلُهُ بَعْضُ الْمُتَأَخِّرِينَ جیسا کہ کرتے ہیں بعض متاخرین الَّذِينَ لَهُمْ شَغَفٌ بِإِيرَادِ الْمُحَسِّنَاتِ اللَّفْظِيَّةِ جن کو دلچسپی ہوتی ہے محسناتِ لفظیہ کو لانے کے ساتھ فَيَجْعَلُونَ الْكَلَامَ كَأَنَّهُ غَيْرُ مَسُوقٍ لِإِفَادَةِ الْمَعْنَى تو وہ کلام کو کیسا کر دیتے ہیں گویا کہ وہ معنی کا فائدہ دینے کے لیے نہیں چلایا گیا بلکہ صرف الفاظ کو ذکر کرنے کے لیے، اعلی اعلی الفاظ ذکر کرنا مقصد ہے معنی کا تو مقصد ہی نہیں ہے، وَلَا يُبَالُونَ بِخَفَاءِ الدَّلَالَاتِ وَرَكَاكَةِ الْمَعَانِي اور وہ پرواہ ہی نہیں کرتے دلالتوں کے خفا کی اور معانی کی کمزوری کی، رَكَاكَةٌ کا معنی کمزور ہونا، بےربط ہونا، بےجوڑ ہونا۔ تو وہ مولانا الفاظ تو لے کر آتے ہیں معنی کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ یہ لفظ اس معنی پر دلالت اچھی طرح کر بھی رہا ہے یا اچھی طرح دلالت نہیں کر رہا، اور یا یہ معنی کمزور ہے یا بےربط تو نہیں، معنی کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی اصل توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ الفاظ لے کر آئیں، صنعتیں اس میں استعمال کریں، فَيَصِيرُ تو یہ اسی طرح ہو جاتا ہے كَغِمْدٍ مِنْ ذَهَبٍ سونے کی نیام ہو عَلَى سَيْفٍ مِنْ خَشَبٍ لکڑی کی تلوار پر۔
بَلِ الْوَجْهُ بلکہ طریقہ یہ ہے أَنْ تُتْرَكَ الْمَعَانِي عَلَى سَجِيَّتِهَا کہ اب معانی کو ان کی طبیعت پر چھوڑ دیں، معانی جیسے ہیں ان کو ویسے ہی رکھیں فَتَطْلُبَ لِأَنْفُسِهَا أَلْفَاظًا پھر ان معانی کی ذات کے لیے آپ ایسے الفاظ تلاش کریں تَلِيقُ بِهَا جو ان کے لائق ہوں۔ تو پہلے توجہ معانی کی طرف اور پھر اس کے لیے کس کو تلاش کرو؟ مناسب الفاظ کو۔ وَعِنْدَ هَذَا تَظْهَرُ الْبَلَاغَةُ اس وقت جب آپ ایسا کریں گے تو پھر بلاغت ظاہر ہو گی وَالْبَرَاعَةُ اور کمال اور مہارت اور فوقیت ظاہر ہو گی وَيَتَمَيَّزُ الْكَامِلُ مِنَ الْقَاصِرِ اور ممتاز ہو جائے گا کامل قاصر سے، پتہ چل جائے گا کون آدمی کامل ہے اور کون کیا ہے؟ قاصر ہے۔ پہلے معنی ذہن میں ہے اب اس کے مطابق الفاظ لاؤ اب مسئلہ مشکل ہے، سمجھ میں آیا؟ تو اب پتہ چل جائے گا کون کامل ہے بلاغت میں کون قاصر ہے۔
وَحِينَ رُتِّبَ، دیکھو خود بتلا رہے ہیں اب چند دو تین بڑی دلچسپ باتیں آپ کو بتلا رہے ہیں: علامہ حریری مولانا مقاماتِ حریری جنہوں نے لکھی دنیا کے اندر جن کا شور ہے، عجیب زبردست کتاب ہے، عجیب عجیب الفاظ لاتے ہیں، عجیب عجیب صنعتیں لے کر آتے ہیں، ان کو بادشاہ نے اپنے دفتر میں جو دیوانِ انشاء تھا مولانا، جو شعبۂ تحریر تھا اس میں مقرر کیا وظیفہ دیا۔ بادشاہ نے کہا کہ بھئی میں نے خطوط لکھنے ہوتے ہیں بادشاہوں کو، امراء کو، جنگی کمانڈروں کو، علماء کو میں نے خطوط لکھنے ہوتے ہیں اور آپ کی تحریر بڑی زبردست ہے، آپ آئیے اور ہمارے اس شعبے کا نظام سنبھالیے اور یہ خطوط میری طرف سے آپ لکھیں گے، میں بتا دوں گا یہ یہ لکھ دو تو آپ اس کے مطابق بہترین مضمون بنا کر کیا کر دیجیے؟ بھیج دیجیے۔ علامہ حریری آ گئے مقرر ہو گئے، کوئی خط وغیرہ بادشاہ نے دیے ہوں گے لکھے بھئی، کہتے ہیں بڑی مشقت میں وہ پڑ گئے بالاخر انہوں نے معذرت کر لی کہ یہ کام میرے سے نہیں ہو سکتا، سمجھ میں آیا؟ کہ یہ کام نہیں ہو سکتا۔ تو ابن الخشاب بھی تھے مولانا ایک بڑے اس زمانے کے ادیب بھئی، وہ بھی بادشاہ کے خطوط وغیرہ لکھتے، تو ان سے کسی نے ذکر کیا تو وہ فرمانے لگے کہ یہ جو علامہ حریری ہیں یہ مقاماتی آدمی ہیں، کیا ہیں؟ یہ مقامات لکھنے والے آدمی ہیں یعنی یہ اپنے ذہن میں اصل میں الفاظ لاتے ہیں اور پھر معانی کو کیا کرتے ہیں اس کے تابع رکھتے ہیں، تو اپنے طور پر تخیلاتی طور پر واقعات بناتے چلے جاتے ہیں، جو واقعے کے اندر ایک چیز ہے معنی پہلے ہے اور پھر اس کے لیے مناسب لفظ لانا یہ کام یہ نہیں کر سکتے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اپنا اپنا مقام ہے، یہ اس کام کو احسن طریقے سے کر سکتے ہیں اس کام کو احسن طریقے سے نہیں کر سکتے، حالانکہ مشکل تو یہ ہے کہ معنی آپ کو دے دیا اور کہا اب اس کو ذرا اچھے الفاظ میں ذکر کرو، یہ کیا ہے؟ مشکل کام ہے نہ یہ کہ آپ ذہن میں پہلے کیا کرتے ہیں الفاظ جمع کر لیتے ہیں اور پھر ان کو ترتیب دے دے کر کیا کرتے ہیں؟ ایک معنی بناتے چلے جاتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟
وَحِينَ رُتِّبَ الْحَرِيرِيُّ اور جس وقت مولانا وظیفے پر مقرر کیا گیا علامہ حریری کو مَعَ كَمَالِ فَضْلِهِ باوجود اپنے کمالِ فضیلت کے، بھئی ان کی بڑی فضیلت تو ہے مہارت تو ہے لیکن اس کے باوجود جب ان کو مقرر کیا گیا فِي دِيوَانِ الْإِنْشَاءِ انشاء کے دفتر میں عَجَزَ وہ عاجز آ گئے، فَقَالَ ابْنُ الْخَشَّابِ تو ابن الخشاب فرماتے ہیں هُوَ رَجُلٌ مَقَامَاتِيٌّ وہ کیسے آدمی ہیں؟ مقاماتی، وَذَلِكَ لِأَنَّ كِتَابَهُ حِكَايَةٌ تَجْرِي عَلَى حَسَبِ إِرَادَتِهِ اس لیے کہ ان کی جو کتاب ہے وہ ایسی حکایتیں ہیں جو ان کے اپنے ارادے کے مطابق چلتی ہیں وَمَعَانِيهِ تَتْبَعُ مَا اخْتَارَهُ مِنَ الْأَلْفَاظِ الْمَصْنُوعَةِ اور وہ الفاظِ مصنوعہ جو انہوں نے اختیار کیے ہوتے ہیں معانی ان کے تابع چلتے ہیں، معانی کیا ہوتے ہیں؟ تابع چلتے ہیں پہلے لفظ کی طرف توجہ ہوتی ہے، فَأَيْنَ هَذَا عَنْ كِتَابٍ پس کہاں یہ مولانا یہ جو انہوں نے فرضی معانی والی کتاب لکھیں کہاں یہ اس کتاب کے مقابلے میں أُمِرَ بِهِ فِي قَضِيَّةٍ جس کے بارے میں حکم دیا گیا کسی معاملے میں۔ سمجھ میں آیا؟ ایک وہ چیز ہے جس کا آپ کو کہا گیا ایسا لکھو، یہ بات بیان کرو الفاظ میں، اس کا درجہ بہت اعلی ہے آپ اس کو اعلی الفاظ میں بیان کریں، اور ایک وہ ہے کہ آپ تخیلاتی کیا کرتے ہیں لفظ پہلے اکٹھے کر لیتے ہیں اور پھر اس کو معنی کے مطابق آپس میں جوڑتے چلے جاتے ہیں، تو دونوں کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔
وَمَا أَحْسَنَ مَا قِيلَ فِي التَّرْجِيحِ اور کتنا اچھا ہے وہ جو کہا گیا ہے ترجیح کے بارے میں بَيْنَ الصَّاحِبِ وَالصَّابِي۔ یہ مولانا ایک ابن عباد تھے بھئی، اسماعیل ابن عباد یہ الصاحب کے لقب سے مشہور ہیں، اور صابی یہ دونوں بڑے ادیب ہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو ابن عباد جو الصاحب کے لقب سے مشہور تھے یہ صاحبِ مقامات کی طرح کیا کرتے تھے جو ارادہ کرتے تھے اس کے مطابق وہ لکھ لیا کرتے تھے یعنی الفاظ جمع کیے اور ان کو معانی کی ایک تخیلاتی چیز کیا کرتے تھے؟ ہاں انشاء کے ماہر تھے لیکن کس انداز کی انشاء جیسے کہ علامہ حریری کی ہے، اور ایک صابی تھے وہ بھی ادیب تھے لیکن وہ بڑے اونچے درجے کے تھے، ان کو جو کہا جاتا ایسا لکھو وہی چیز لکھتے لیکن عجیب عجیب الفاظ اور صنعتیں استعمال کیا کرتے، جب کہ صاحب ابن عباد کیا تھے؟ علامہ حریری کی طرح تھے۔ وَمَا أَحْسَنَ مَا قِيلَ فِي التَّرْجِيحِ بَيْنَ الصَّاحِبِ وَالصَّابِي اور کتنا اچھا ہے وہ جو کہا گیا ہے صاحب اور صابی کے درمیان ترجیح دینے کے سلسلے میں، کیا کہا گیا ہے کہ إِنَّ الصَّاحِبَ كَانَ يَكْتُبُ كَمَا يُرِيدُ کہ صاحب جو تھے وہ لکھا کرتے تھے جیسا وہ ارادہ کرتے تھے وَالصَّابِي يَكْتُبُ كَمَا يُؤْمَرُ اور صابی وہ لکھا کرتے تھے جیسا ان کو حکم دیا جاتا تھا، تو کس کا درجہ اعلی ہوا؟ صابی کا، کیوں کہ جو دوسرے کی رائے کے مطابق لکھ سکتا ہے اپنی رائے کے مطابق تو وہ بطریقِ اولی لکھ سکتا ہے، وَبَيْنَ الْحَالَيْنِ بَوْنٌ بَعِيدٌ اور دونوں حالتوں کے درمیان بڑا فرق ہے، دونوں میں کیا ہے؟ بڑا فرق ہے، بَوْنٌ فرق۔
وَلِهَذَا قَالَ قَاضِي قُمَّ حِينَ كَتَبَ إِلَيْهِ الصَّاحِبُ۔ کہتے ہیں بھئی یہ قاضی تھا، قم ایک شہر ہے مولانا ایران میں، قم کا جو قاضی تھا اس کو ابن عباد نے خط لکھا، کیا لکھا؟ خط لکھا۔ یہ ابن عباد وزیر تھا بھئی، اس نے قاضی کو خط لکھا: أَيُّهَا الْقَاضِي بِقُمَّ قَدْ عَزَلْنَاكَ فَقُمْ۔ اے قم کے قاضی ہم نے تجھے جدا کر دیا، معزول کر دیا فَقُمْ تو اب اٹھ جا، اب چلا جا۔ تو کیا لکھا انہوں نے؟ أَيُّهَا الْقَاضِي بِقُمَّ قَدْ عَزَلْنَاكَ فَقُمْ۔ یہ خط قاضی صاحب کو ملا بھئی، قاضی صاحب حیران ہوئے یہ مجھے کیوں معزول کیا میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا، اور وزیر کی طرف سے بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ وہ مجھے کیا کرے؟ معزول کرے۔ پہلے سوچا مذاق کیا ہے بھئی، پھر غور و فکر کرنے لگے کہ یہ کیوں کیا ایسا؟ پھر بات سمجھ گئے، کہتے ہیں یہ جو ابن عباد ہیں چوں کہ یہ بڑے ادیب ہیں انہوں نے ارادہ کیا کہ قم جو ہے شہر کا نام ہے قم، اس کے ساتھ قافیہ جوڑیں، اس کے ساتھ کیا کریں؟ قافیہ جوڑیں، اور قم کے ساتھ صرف ایک ہی جڑتا ہے قُمْ فعلِ امر قَامَ يَقُومُ سے۔ اب وہ قم کے مقابلے میں قُمْ لانا چاہتے ہیں لیکن کلام ایسا کرنا چاہتے ہیں جو واقعے کے مطابق ہو، کیا ہو؟ واقعے کے مطابق۔ ویسے جوڑ دیں قم اور قُمْ کو تو بات ہی نہیں بن رہی تھی، تو چنانچہ صرف اپنے قافیے کو واقعے کے مطابق کرنے کے لیے انہوں نے مجھے معزول کر دیا ہے، کیا کیا ہے؟ مجھے معزول کر دیا ہے۔ وَلِهَذَا قَالَ قَاضِي قُمَّ لہذا قم کے قاضی فرماتے ہیں کب؟ حِينَ كَتَبَ إِلَيْهِ الصَّاحِبُ جب ان کی طرف صاحب ابن عباد نے یہ لکھا أَيُّهَا الْقَاضِي بِقُمَّ قَدْ عَزَلْنَاكَ فَقُمْ، مولانا فَقُمْ ہونا چاہیے، أَيُّهَا الْقَاضِي بِقُمَّ قَدْ عَزَلْنَاكَ فَقُمْ، قاضی نے کیا فرمایا؟ وَاللَّهِ مَا عَزَلَتْنِي إِلَّا هَذِهِ السَّجْعَةُ، واللہ مجھے اسی سجع نے ہی معزول کیا اور کسی چیز نے مجھے معزول نہیں کیا۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔