Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-162

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Saeed
📍 Location Sacramento, USA
📅 Approved Date 23 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 1
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گذشتہ سبق میں ہم نے تضمین کے بارے میں پڑھا بھئی۔ تضمین کہتے تھے کہ غیر کے شعر کو یا شعر سے زیادہ یا شعر سے کم مصرع ہو یا مصرعے سے کم ہو، اس کو اپنے اشعار کے اندر ذکر کرنا بھئی۔ اور اگر وہ غیر مشہور ہے تو ساتھ ساتھ اس پر تنبیہ بھی کر دینا، تو لہذا یہ سرقہ سے الگ، سرقہ سے ممتاز ہوا کہ سرقہ کے اندر تنبیہ نہیں کی جاتی بھئی۔ اور اس میں سے کہتے ہیں بہترین تضمین وہ ہے جس میں اصل شعر پر زیادتی کی جائے کسی نقطے کے ساتھ، جیسے کہ پھر انہوں نے مثال ذکر کی تھی جس میں توریہ اور تشبیہ تھی۔ اور یہ بھی بتلایا تھا کہ تضمین جس میں آپ غیر کا شعر، مصرع وغیرہ لیتے ہیں اس میں اگر تھوڑی سی تبدیلی بھی کر لی جائے تو یہ بھی کوئی نقصان دہ نہیں، یہ کرنا بھی جائز ہے اس میں بھئی۔ اور بتلایا تھا کہ بسا اوقات ایک شعر یا اس سے زیادہ کی جو تضمین ہے وہ استعانہ کہلاتی ہے، اور ایک شعر سے جو کم ہے، ایک مصرع ہے یا اس سے کم ہے اس کو ايداع کہتے ہیں، اور اگر تھوڑی سی، چند لفظ لیے ہیں ایک شعر میں سے تو اس کو رفو کہتے ہیں۔ اس کے بعد عقد اور حل کے بارے میں پڑھا، عقد کہتے تھے کہ کسی کا منثور کلام ہے، نثر ہے، آپ اس سے نظم بنا لیں، اور حل یہ ہے کہ کسی کا منظوم کلام ہے آپ اس سے کیا بنا لیں؟ نثر بنا لیں۔ اور اس کے بعد تلمیح پڑھی بھئی، تلمیح یہ تھا کہ مولانا اشارہ کیا جائے اپنے کلام کے اندر کسی قصے کی طرف، شعر کی طرف، یا مشہور مثل کی طرف۔ اور اس کی ایک مثال ذکر کی تھی مولانا: ”فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَأَحْلَامُ نَائِمٍ أَلَمَّتْ بِنَا أَمْ كَانَ فِي الرَّكْبِ يُوشَعُ“۔ کہ شاعر نے مولانا حضرت یوشع علیہ السلام کے قصے کی طرف اشارہ کیا اپنے شعر کے اندر۔ ”وَكَقَوْلِهِ: لَعَمْرٌو“، واللام للابتداء وهو مبتدأ، ”مَعَ الرَّمْضَاءِ“، أي الأرض الحارة التي ترمض فيها القدم أي تحترق، حال من الضمير في أرق، ”وَالنَّارِ، وَالنَّارُ تَلْتَظَى، أَرَقُّ وَأَحْفَى مِنْكَ فِي سَاعَةِ الْكَرْبِ“، إشعار إلى البيت المشهور وهو قوله: ”الْمُسْتَجِيرُ بِعَمْرٍو عِنْدَ كُرْبَتِهِ كَالْمُسْتَجِيرِ مِنَ الرَّمْضَاءِ بِالنَّارِ“۔ متن دیکھیے پہلے: ”كَقَوْلِهِ: لَعَمْرٌو مَعَ الرَّمْضَاءِ وَالنَّارِ، وَالنَّارُ تَلْتَظَى أَرَقُّ وَأَحْفَى مِنْكَ فِي سَاعَةِ الْكَرْبِ، إِشْعَارٌ إِلَى الْبَيْتِ الْمَشْهُورِ وَهُوَ قَوْلُهُ: الْمُسْتَجِيرُ بِعَمْرٍو عِنْدَ كُرْبَتِهِ كَالْمُسْتَجِيرِ مِنَ الرَّمْضَاءِ بِالنَّارِ“۔ یہ ایک مشہور شعر ہے مولانا جو بعد میں آیا: ”الْمُسْتَجِيرُ بِعَمْرٍو عِنْدَ كُرْبَتِهِ كَالْمُسْتَجِيرِ مِنَ الرَّمْضَاءِ بِالنَّارِ“۔ مصیبت کے وقت، تکلیف کے وقت عمرو سے فریاد کرنے والا اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص پناہ طلب کر رہا ہو تپتی ہوئی زمین سے، تپتی ہوئی زمین سے آگ کی، تپتی ہوئی زمین سے کس کی پناہ طلب کرے؟ آگ۔ بھئی ایک زمین ہے خوب گرم ہے تپ رہی ہے، اور اب یہ تکلیف میں ہے ایک شخص اس پر کھڑا نہیں ہو سکتا، تو وہ پناہ کی درخواست آگ سے کرتا ہے کہ اے آگ مجھے کیا کر؟ پناہ دے دے۔ تو کہتے ہیں عمرو سے مصیبت کے وقت پناہ طلب کرنا اسی طرح ہے جیسے آپ تپتی ہوئی زمین سے کس کی، تو رمضاء تپتی ہوئی زمین میں تو اتنی تکلیف نہیں ہے جتنی کس کے اندر ہے؟ آگ میں ہے۔ یہ ایک مشہور شعر ہے مولانا، اور یہ جو پہلے شعر آیا ”لَعَمْرٌو مَعَ الرَّمْضَاءِ“، اس کے اندر اس شعر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بھئی۔ کیونکہ تلمیح کس کو کہتے تھے؟ کسی قصے یا شعر یا مثل سائر کی طرف اشارہ کیا جائے، تو اس میں اس شعر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ مولانا دراصل یہ شعر عرب کا قبیلہ ربیعہ جو تھا، عرب کا قبیلہ ربیعہ اس کے اندر کئی اور چھوٹے قبائل تھے، بڑا قبیلہ ربیعہ تھا، تو اس میں بنو شیبان، بنو بکر، اور بنو تغلب والے یہ دو تین قبیلے پھر چھوٹے تھے اس کے اندر۔ تو ان کا سردار جو تھا وہ کلیب نامی ایک شخص تھا، کلیب بھئی، اور بڑا سرکش آدمی تھا بھئی۔ بڑا سرکش آدمی تھا، سردار تھا، یہ جس علاقے کو اپنے اونٹوں کے چرنے کے لیے منتخب کر لیتا تھا، پھر کسی اور کے اونٹوں کو وہاں چرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی بھئی، کہ یہ سردار کا علاقہ ہے بھئی اس کے اندر اور اب کوئی اونٹ بھی نہیں چرا سکتا۔ تو یہ ایک چھوٹی سی بات کی وجہ سے، تو یہ سرکش تھا مولانا، اور کوئی اونٹ دوسرا وہاں نہیں چر۔ پھر اس کے بعد اس واقعے میں کچھ تھوڑی بعض کچھ اسی انداز میں بیان کرتے ہیں، بعض یوں بیان کرتے ہیں کہ اس کی جو زمین تھی جس میں یہ اونٹ اس کے چرا کرتے تھے، اس میں قنبرہ پرندہ ہے اس کا بھئی گھونسلا تھا، کوئی پرندہ ہو گا اس کا گھونسلا تھا، تو اس کو بھی پتہ تھا کہ یہ میری زمین میں قنبرہ پرندوں کا گھونسلا ہے۔ ایک مرتبہ کسی اور کی اونٹنی بھئی، بسوس نامی ایک بڑھیا تھی اس کی اونٹنی، سراب نامی اونٹنی، وہ کہیں چرتے چرتے اس کی زمین میں چلی گئی اور اس نے وہ انڈوں اور گھونسلے کو خراب کر دیا بھئی، انڈے توڑ دیے۔ کلیب وہاں پہنچا، دیکھا تو اس نے کہ گھونسلا خراب ہوا پڑا ہے، انڈے قنبرہ کے ٹوٹے ہوئے ہیں، اس کو بڑا غصہ چڑھا کہ میری زمین میں کیوں آئی یہ اونٹنی؟ اس نے اپنے غلاموں کو کہا کہ بھئی اس اونٹنی کے بچے کو قتل کر دو اور اس کے تھنوں پر تیر مارو جا کر۔ چنانچہ انہوں نے اس کے بچے کو قتل کر دیا اور اس کے تھنوں پر تیر مارے، وہ اونٹنی چیختی چلاتی ہوئی گھر واپس آئی، خون بہہ رہا ہے، دودھ بہہ رہا ہے تھنوں سے، تو وہ جب بڑھیا نے دیکھا بسوس نے کہ یہ میری اونٹنی کا کیا حال کیا ہے، وہ چیخنے چلانے لگی بھئی کہ دیکھو یہ میری اونٹنی کا کیا حال کیا ہے۔ اس بڑھیا کا بھانجا تھا جساس ابن مرہ۔ جساس ابن مرہ نے اس کو بڑا سمجھایا کہ تجھے اس سے اعلی اونٹ وغیرہ لے لیں گے ان سے یہ، لیکن وہ نہ مانی۔ چنانچہ یہ بدلے کے لیے تاک میں رہنے لگا جساس۔ جب کلیب کہتے ہیں ایک مرتبہ نکلا اپنے گھر سے، ذرا دور ہوا، وادی سے نکلا، یہ گھوڑے پر سوار ہوا، نیزہ اٹھایا اس کے پیچھے گیا اور اس کو نیزہ مارا بھئی۔ وہ زمین پر گر پڑا، زخمی ہو گیا، مرنے کے قریب ہے، تو کہنے لگا: اے جساس! اور یہ جساس کا بہنوئی بھی تھا بھئی، جساس کی بہن کی شادی بھی اسی سے ہوئی تھی، تو یہ نیچے گرا اس نے کہا: اے جساس! میری مدد کر بھئی، میں موت کی حالت میں ہوں، مجھے ایک گھونٹ پانی تو پلا دے۔ جساس نے کہا بھئی: پانی تو میں بہت پیچھے چھوڑ آیا ہوں بھئی۔ آگے چل پڑا اس کو چھوڑ کر۔ وہاں پر یہ شخص آیا مولانا، عمرو ابن الحارث آیا بھئی۔ عمرو ابن الحارث بعد میں آیا تو جب وہی کلیب نے اس سے بھی کہا کہ اے عمرو! میری مدد کر تھوڑی سی، مجھے سخت پیاس لگی ہوئی ہے، ایک گھونٹ پانی پلا دے۔ کہتے ہیں عمرو نے آگے ہوا تیزی سے تلوار نکالی اور اس کی گردن اڑا دی بھئی، اس کو وہیں ختم کر دیا۔ تو دیکھو اس نے اس سے فریاد کی تھی اور اس سے تھوڑا پانی طلب کیا تھا، اور بدلے میں عمرو نے کیا کر دیا؟ اس کو قتل کر دیا۔ تو اس پر یہ شعر مشہور ہوا کہ عمرو سے مصیبت کے وقت پناہ طلب کرنا یہ اسی طرح ہے جیسے تپتی ہوئی زمین کے مقابلے میں آپ کس سے پناہ طلب کریں؟ آگ سے۔ تو یہ بڑا مشہور ہوا پورے عرب کے اندر یہ شعر، اور بڑے ظالم کے طور پر یہ مشہور ہوا بھئی۔ کتنا ظالم شخص ہے، موت کے وقت بھی کسی کو پانی تو نہیں دیتا بلکہ جلدی سے اس نے قتل ہی کر دیا بھئی۔ چنانچہ یہ جو اس سردار نے اس بسوس نامی بڑھیا کی اونٹنی کو زخمی کیا تھا، اس پر پھر اس نے کلیب کو قتل کر دیا، پھر انہوں نے پھر بنو بکر، بنو شیبان والے کسی کو قتل کیا، پھر یہ آپس میں جنگیں، جنگ شروع جو ہوئی اونٹنی کے زخمی کرنے پر، چلتی گئی چلتی گئی مولانا۔ چالیس سال تک یہ جنگ ان کے درمیان چلتی رہی بھئی، یہاں تک کہ بڑے مولانا بڑے بڑے سارے گھر اجڑ گئے، بچے یتیم ہوئے، عورتیں بیوہ ہوئیں، سارے ان کے بڑے بڑے لوگ مارے گئے ان جنگوں کے اندر۔ چالیس سال بعد جب بالکل دونوں قبیلوں کی طاقت جواب دے گئی تو پھر معمولی سی، تھوڑی سی بات درمیان میں بات چیت ہوئی اور فیصلہ ہو گیا۔ تو عرب کا معاشرہ اس طرح مولانا جاہلیت کا دور دورہ تھا، ایک اونٹنی کو زخمی کرنے پر اندازہ لگائیں چالیس سال تک ان کے درمیان جنگ رہی بھئی۔ تو یہ وہ مشہور شعر: ”الْمُسْتَجِيرُ بِعَمْرٍو عِنْدَ كُرْبَتِهِ كَالْمُسْتَجِيرِ مِنَ الرَّمْضَاءِ بِالنَّارِ“، یہ مشہور شعر ہے پورے عرب میں۔ اس کی طرف اشارہ کیا یہ پہلا جو شعر ذکر کیا متن کے اندر: ”لَعَمْرٌو مَعَ الرَّمْضَاءِ“، عمرو جو ہے، ”وَالنَّارُ“، اور آگ جو ہے، وہ آگ اس حال میں کہ ”تَلْتَظَى“، بھڑک رہی ہو، جل رہی ہو، ”أَرَقُّ“، وہ زیادہ نرم ہے، زیادہ ترس کھانے والی ہے، ”وَأَحْفَى“، اور زیادہ شفقت کرنے والے ہیں۔ عمرو اور آگ، بھڑکتی ہوئی آگ، وہ زیادہ نرم ہے، ترس کھانے والے ہیں اور شفقت کرنے والے ہیں اس حال میں کہ ”مَعَ الرَّمْضَاءِ“، کس کے ساتھ ہوں؟ تپتی ہوئی زمین کے ساتھ ہوں بھئی۔ ”مِنْكَ“، زیادہ نرم ہیں اور زیادہ شفقت کرنے والے ہیں تجھ سے، ”فِي سَاعَةِ الْكَرْبِ“، مصیبت کے وقت میں۔ یہ شاید پھر بعد میں کسی اور کو کوئی اور شاعر کہہ رہا ہے بھئی، کہ اے مخاطب! عمرو اور آگ اور وہ تپتی ہوئی زمین جو ہے اور وہ آگ جو شعلے مار رہی ہے، وہ عمرو اور آگ تجھ سے زیادہ نرم اور شفقت کرنے والی ہیں مصیبت کے وقت میں۔ یعنی وہ عمرو جو ظلم کے اندر بے انتہا مشہور ہے پورے عرب میں، اے مخاطب وہ بھی تجھ سے نرم ہے اور تجھ سے زیادہ کیا ہے؟ رحم دل ہے، تو اس سے بھی بڑا ظالم ہے بھئی۔ يَرْحَمُكَ اللَّهُ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ مخاطب کو کہہ رہا ہے کہ تو اس سے بھی زیادہ ظالم ہے بھئی۔ دیکھو بھئی: ”لَعَمْرٌو، وَاللَّامُ لِلِابْتِدَاءِ“، یہ لام عمرو پر جو ہے ابتدا کے لیے ہے، تاکید کے لیے آتا ہے مبتدا پر مولانا، ”وَهُوَ مُبْتَدَأٌ“، اور یہ عمرو مبتدا ہے، ”مَعَ الرَّمْضَاءِ“، رمضاء کہتے ہیں تپتی ہوئی زمین مولانا، ”أَيِ الْأَرْضِ الْحَارَّةِ الَّتِي تَرْمَضُ فِيهَا الْقَدَمُ أَيْ تَحْتَرِقُ“، جلتے ہیں۔ ”حَالٌ مِنَ الضَّمِيرِ فِي أَرَقُّ“، یہ ”أَرَقُّ“ کے اندر ضمیر سے حال ہے، یہ ”مَعَ الرَّمْضَاءِ“ جو ہے آگے ”أَرَقُّ“ آ رہا ہے شعر میں، اس سے حال ہے بھئی۔ ”وَالنَّارُ مَرْفُوعٌ مَعْطُوفٌ عَلَى عَمْرٍو“، اس کا عطف بھی کس پر ہے؟ عمرو پر: ”لَعَمْرٌو وَالنَّارُ“، ”أَوْ مَجْرُورٌ مَعْطُوفٌ عَلَى الرَّمْضَاءِ“، یا اس کا عطف رمضاء پر ہے: ”مَعَ الرَّمْضَاءِ وَالنَّارِ“۔ ”أَرَقُّ“ آگے خبر ہے عمرو کی: عمرو زیادہ ترس کھانے والا ہے اس حال میں کہ ”مَعَ الرَّمْضَاءِ وَالنَّارِ“، تپتی ہوئی زمین اور آگ کے ساتھ۔ ”تَلْتَظَى“، یہ ”تَلْتَظَى“ کا معنی کیا بتلایا میں نے بھئی؟ بھڑکتی ہوئی، جل رہی ہو جو، شعلے مار رہی ہو۔ ”حَالٌ مِنْهَا“، یہ حال ہے النار سے حال ہے مولانا، آگ اس حال میں ہو کہ بھڑک رہی ہو۔ ”وَمَا قِيلَ إِنَّهَا صِفَةٌ عَلَى حَذْفِ الْمَوْصُولِ“، یہ ”تَلْتَظَى“ صفت ہے نار کی بھئی۔ ”تَلْتَظَى“ کیا ہے؟ صفت ہے۔ تو النار ہے معرفہ، ”تَلْتَظَى“ تو ہے فعل، اور فعل جب اپنے فاعل کے ساتھ ملے گا جملہ بنے گا اور جملہ ہوتا ہے نکرہ، تو نکرہ تو معرفہ کے لیے صفت نہیں بن سکتا، تو انہوں نے تاویل کی، درمیان میں اسم موصول الذی نکال لیا: ”النَّارُ الَّتِي تَلْتَظَى“، وہ آگ جو کیا کر رہی ہے؟ بھڑک رہی ہے۔ تو اب النار موصوف ہوا، اللتی موصول، ”تَلْتَظَى“ اس کا صلہ، موصول صلہ مل کر یہ صفت ہوئی کس کے لیے؟ النار کے لیے۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: یہ ترکیب تکلف ہے بلا وجہ کے، جب اس کے بغیر مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو اتنا تکلف کرنے اور صفت کو محذوف نکالنے کی، اس میں موصول کو محذوف نکالنے کی ضرورت نہیں۔ ”وَمَا قِيلَ إِنَّهَا صِفَةٌ عَلَى حَذْفِ الْمَوْصُولِ أَيِ النَّارُ الَّتِي تَلْتَظَى تَعَسُّفٌ لَا حَاجَةَ إِلَيْهِ“، اس کی کوئی حاجت نہیں۔ ”أَرَقُّ“، یہ خبر ہے مبتدا کی: عمرو زیادہ ترس کھانے والا ہے اور زیادہ شفقت کرنے والا ہے ”مِنْكَ“، تجھ سے۔ ”أَرَقُّ: خَبَرُ الْمُبْتَدَإِ، مِنْ رَقَّ لَهُ“، ”رَقَّ لَهُ“ سے ہے، ”إِذَا رَحِمَهُ“، جب کوئی دوسرے پر ترس کھائے تو کیا کہتے ہیں؟ ”رَقَّ لَهُ“، جب مثلا ایک شخص زید پر ترس کھاتا ہے تو آپ کہیں گے: ”فُلَانٌ رَقَّ لِزَيْدٍ“۔ ”وَأَحْفَى مِنْ حَفَا عَلَيْهِ“، یہ حفا سے ہے، اس کا کیا معنی ہے؟ ”تَلَطَّفَ وَتَشَفَّقَ“، مہربانی کرنا اور شفقت کرنا۔ ”مِنْكَ“، یہ مولانا ”مِنْكَ“ یہ متعلق ہے ”أَرَقُّ“ اور ”أَحْفَى“ سے، کیونکہ اسم تفضیل جو ہے کس کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے؟ من کے ساتھ: تجھ سے، ”فِي سَاعَةِ الْكَرْبِ“، مشقت کی گھڑی میں۔ ”إِشْعَارٌ إِلَى الْبَيْتِ الْمَشْهُورِ وَهُوَ قَوْلُهُ: الْمُسْتَجِيرُ بِعَمْرٍو عِنْدَ كُرْبَتِهِ“، ”الْمُسْتَجِيرُ أَيِ الْمُسْتَغِيثُ“، یعنی فریاد کرنے والا، ”بِعَمْرٍو عِنْدَ كُرْبَتِهِ“، مصیبت کے وقت۔ ”الضَّمِيرُ لِلْمَوْصُولِ“، یہ ”كُرْبَتِهِ“ کی ضمیر کس کو راجع ہے بھئی؟ کہتے ہیں یہ المستجیر پر جو الف لام داخل ہے، اور آپ نے پڑھا ہے اسم فاعل اور اسم مفعول پر جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ الذی کے معنی میں ہوتا ہے، اسم موصول ہوتا ہے، تو یہ ضمیر اس کو راجع ہے۔ ”الضَّمِيرُ لِلْمَوْصُولِ أَيِ الَّذِي يَسْتَغِيثُ“، دیکھا! وہ جو فریاد کرتا ہے ”عِنْدَ كُرْبَتِهِ بِعَمْرٍو“، اپنی مصیبت کے وقت عمرو سے، ”كَالْمُسْتَجِيرِ مِنَ الرَّمْضَاءِ بِالنَّارِ“، یہ اسی شخص کی طرح ہے جو پناہ طلب کرتا ہے تپتی ہوئی زمین سے آگ کی۔ ”وَعَمْرٌو هُوَ جَسَّاسُ بْنُ مُرَّةَ“، اور عمرو جو ہے وہ جساس ابن مرہ ہے۔ یہ مولانا کہتے ہیں علامہ تفتازانی سے غلطی ہوئی بھئی، جساس ابن مرہ اور ہے، عمرو ابن حارث اور ہے بھئی۔ تو یہ کہہ رہے ہیں: ”وَعَمْرٌو هُوَ جَسَّاسُ بْنُ مُرَّةَ“، عمرو ہی جساس ابن مرہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ ”وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمَّا رَمَى كُلَيْبًا“، کہ جساس ابن مرہ نے جب کلیب کو تیر مارا، ”وَوَقَفَ فَوْقَ رَأْسِهِ“، اور اس کے سر پر کھڑا ہوا یعنی اس کے پاس جا کر کھڑا ہوا، ”قَالَ لَهُ كُلَيْبٌ: يَا عَمْرُو أَغِثْنِي بِشَرْبَةِ مَاءٍ“، شربہ کہتے ہیں ایک گھونٹ یا ایک مرتبہ پیا جانے والا پانی، میری مدد کر ایک گھونٹ پانی کے ساتھ، ”فَأَجْهَزَ عَلَيْهِ“۔ ”أَجْهَزَ عَلَى الْجَرِيحِ“ کا معنی ہوتا ہے زخمی کو جلدی سے قتل کر دینا، ”فَأَجْهَزَ عَلَيْهِ“، پس جلدی سے اس نے اس کو قتل کر دیا۔ ”وَقِيلَ“، تو پھر یہ شعر کہا گیا: ”الْمُسْتَجِيرُ بِعَمْرٍو“ البیت۔ ”فَصْلٌ مِنَ الْخَاتِمَةِ فِي حُسْنِ الِابْتِدَاءِ وَالتَّخَلُّصِ وَالِانْتِهَاءِ“، یہ خاتمے میں سے ایک فصل ہے مولانا، حسن ابتدا، تخلص اور انتہا کے بارے میں۔ یہ آگے اس کی اصطلاحات آ رہی ہیں مولانا۔ ”يَنْبَغِي لِلْمُتَكَلِّمِ“، یہاں سے مولانا صاحب تلخیص یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ بھئی جب آپ کوئی بات کرنے لگیں کسی سے، کوئی تقریر کرنے لگیں، تو مناسب ہے کہ متکلم کے لیے تین جگہوں کا خاص خیال رکھے تکلم کے وقت بھئی۔ ایک کلام کی جو ابتدا آ رہی ہے وہ بہترین الفاظ ہونے چاہئیں، بہترین معنی ہونا چاہیے، روانی ہونی چاہیے تاکہ سننے والے کے کان متوجہ ہو جائیں، ذہن بیدار ہو جائے اور وہ آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے بعد درمیان میں خیال رکھیں، درمیان کلام کے وسط میں اسی طرح عمدہ اور اعلی کلام لے کر آئیں تاکہ اس کی توجہ برقرار رہے کلام میں۔ اور پھر اس کے بعد آخر کے اندر کیا کریں؟ عمدہ اور اعلی کلام لے کر آئیں، تاکہ آخر کے اندر بھی کیا ہو مولانا؟ اچھے طریقے سے آپ کی بات ختم ہو اور اس کا اثر باقی رہے بھئی۔ تو تین جگہ پر: ابتدا کلام کی، وسط کلام کا، اور انتہا میں خاص خیال رکھنا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تین جگہوں میں۔ کیونکہ اگر ابتدا اچھی نہیں ہو گی تو باقی پھر آپ کی بات کوئی سنے گا ہی نہیں کہ شروع میں اتنی بے کار باتیں کیں، معلوم ہوا آگے بھی اسی طرح ہو گا، اگرچہ بعد میں اچھا کلام ہی کیوں نہ آئے بھئی۔ ”وَيَنْبَغِي لِلْمُتَكَلِّمِ شَاعِرًا كَانَ أَوْ كَاتِبًا“، مناسب ہے متکلم کے لیے شاعر ہو یا کاتب ہو، ”أَنْ يَتَأَنَّقَ“، کہ وہ حسین بنائے، خوشنمائی پیدا کرے، ”أَيْ يَتَتَبَّعَ الْأَنَقَ“، یعنی تلاش کرے، الانق کہتے ہیں: ”أَيِ الْأَحْسَنَ“، پسندیدہ عمدہ چیز کو، عمدہ الفاظ کلام کو، عمدہ چیز تلاش کرے، ”يُقَالُ تَأَنَّقَ فِي الرَّوْضَةِ“، عربی میں کہتے ہیں: ”تَأَنَّقَ فِي الرَّوْضَةِ“، کب؟ ”إِذَا وَقَعَ فِيهَا مُتَتَبِّعًا لِمَا يُونِقُهُ أَيْ يُعْجِبُهُ“، جب وہ واقع ہو باغ میں، کوئی شخص باغ میں جائے اور تلاش کر رہا ہو ایسی چیز جو اس کو پسند آ جائے، ”يُونِقُهُ أَيْ يُعْجِبُهُ“، اس کو پسند آ جائے۔ یہ تو ”تَأَنَّقَ“ کا معنی بتلایا بھئی۔ ”فِي ثَلَاثَةِ مَوَاضِعَ“، تین جگہ حسن پیدا کرے کلام میں، اپنے کلام میں، ”حَتَّى يَكُونَ تِلْكَ الْمَوَاضِعُ الثَّلَاثَةُ أَعْذَبَ لَفْظًا“، تاکہ یہ تینوں جگہیں جو ہیں کیا ہو جائیں؟ ”أَعْذَبَ“، میٹھی ہو جائیں باعتبار الفاظ کے، ”بِأَنْ يَكُونَ فِي غَايَةِ الْبُعْدِ عَنِ التَّنَافُرِ وَالثِّقَلِ“، کہ مولانا تنافر اور ثقل وغیرہ سے بے انتہا دوری پر ہو کلام، ”وَأَحْسَنَ سَبْكًا“، اور نیز کلام کیا ہونا چاہیے؟ تاکہ کلام بہترین ہو باعتبار ترکیب کے، ”بِأَنْ يَكُونَ فِي غَايَةِ الْبُعْدِ مِنَ التَّعْقِيدِ“، کہ بے انتہا دور ہو تعقید سے مولانا، تعقید اس میں کسی طور پر بھی نہ ہو، ”وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ الْمُلَبِّسِ“، اور تقدیم و تاخیر بھی نہ ہو اس کے اندر، ایسی تقدیم و تاخیر جو التباس پیدا کرنے والی ہو، ”وَأَنْ يَكُونَ الْأَلْفَاظُ مُتَقَارِبَةً فِي الْجَزَالَةِ أَيْ فِي الْفَصَاحَةِ“، فصاحت کے اعتبار سے، ”وَالْمَتَانَةِ“، اور قوت کے اعتبار سے، ”وَالرِّقَّةِ“، اور نرمی کے اعتبار سے، ”وَالسَّلَاسَةِ“، اور روانی کے اعتبار سے، ”وَيَكُونَ الْمَعَانِي مُتَنَاسِبَةً لِأَلْفَاظِهَا“، اور معانی جو ہیں مناسب ہوں اپنے الفاظ کے بھئی۔ معنی اور الفاظ آپس میں ان میں مناسبت ہو، ”مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكْتَسِيَ اللَّفْظُ الشَّرِيفُ الْمَعْنَى السَّخِيفَ“، بجائے اس کے کہ آپ پہنا دیں کمزور سے معنی کو عمدہ لفظ بھئی، معنی بڑا بے کار سا ہے کوئی بات ہی نہیں ہے بے کار سی بات ہے اور اس کو آپ زبردست قسم کے الفاظ کا لباس پہنا دیں جس میں آپ نے کئی صنعتیں استعمال کی ہوں، اب لفظوں میں تو کئی صنعتیں استعمال کی ہیں عمدہ الفاظ ہیں لیکن معنی کوئی کام کا نہیں ہے، ایسا نہ ہو۔ ”أَوْ بِالْعَكْسِ“، یا اس کا عکس بھی نہ ہو، معنی تو بے انتہا اعلی ہو لیکن الفاظ آپ بڑے ہی کمزور لے کر آئیں ایسا بھی نہ ہو، ”بَلْ يُصَاغَانِ“، بلکہ تیار کیے جائیں لفظ اور معنی دونوں، ”صِيَاغَةَ تَنَاسُبٍ وَتَلَاؤُمٍ“، ایسا تیار کرنا جس میں جو کیا ہو؟ مناسبت والا ہو، لفظ معنی کے مناسب اور معنی لفظ کے مناسب، ”وَتَلَاؤُمٍ“، تلاؤم کا معنی موافق ہونا بھئی، دونوں میں موافقت ہو بھئی، لفظ اعلی ہے تو معنی بھی کیا ہو؟ اعلی ہو۔ ”وَأَصَحَّ مَعْنًى“، اور صحیح ہو کلام معنی کے اعتبار سے، ”بِأَنْ يَسْلَمَ مِنَ التَّنَاقُضِ“، کس طرح بھئی معنی کے اعتبار سے؟ کہتے ہیں کہ تناقض سے سلامت ہو، یعنی وہاں پر کوئی وہم تناقض کا نہ پڑتا ہو مولانا، کہ ایک بات کا پہلے اثبات کر رہے ہیں اور پھر فورا اس کی کیا کر رہے ہیں؟ نفی، ایسا نہ ہو، یا اس جیسی وہم ہی نہ پڑتا ہو، ”وَالِامْتِنَاعِ“، امتناع سے بھی محفوظ ہو، کوئی ایسا معنی نہ لے کر آئیں جو ممتنع ہے ممکن ہی نہیں ہے مولانا، ”وَالِابْتِذَالِ“، کوئی ایسی بات نہ لے کر آئیں مولانا جو بڑی مشہور ہے ہر ایک کو پہلے سے پتہ ہے، جب پہلے سے پتہ ہے پھر آپ کو کیا ضرورت ہے ذکر کرنے کی، ”وَمُخَالَفَةِ الْعُرْفِ“، اور نیز مولانا مخالفت عرف بھی نہ ہو، عرف کون سا عرف مراد ہے؟ بلغاء کا عرف مراد ہے، کوئی ایسی چیز بھی نہ کلام کے اندر لے کر آئے جو عرف بلغاء کے خلاف ہو، ”وَنَحْوِ ذَلِكَ“، یا اس جیسی اور کوئی چیز نہ ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں تین جگہوں میں کلام کا خاص خیال رکھیں: ابتدا، وسط، اور انتہا۔ اور تاکہ کلام کیا ہو جائے؟ ”أَعْذَبَ لَفْظًا“، لفظوں کے اعتبار سے کیا ہو؟ میٹھا ہو، ”وَأَحْسَنَ سَبْكًا“، اور ترکیب کے اعتبار سے کیا ہو؟ اچھا ہو جائے، ”وَأَصَحَّ مَعْنًى“، اور معنی کے اعتبار سے صحیح ہو۔ ”أَحَدُهَا الِابْتِدَاءُ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَا يَقْرَعُ السَّمْعَ“، اس لیے کہ یہ پہلی چیز ہوتی ہے جو کانوں کو کھٹکھٹاتی ہے۔ بھئی پہلے بات جب آپ شروع کرتے ہیں تو کانوں میں یہ ابتدا ہی پڑی، ”فَإِنْ كَانَ عَذْبًا حَسَنَ السَّبْكِ صَحِيحَ الْمَعْنَى“، اگر یہ ابتدا میٹھی ہوئی، حسن السبک اور روانی کے اعتبار سے کیا ہوئی؟ ترکیب کے اعتبار سے اچھی ہوئی، صحیح المعنی اور معنی کے اعتبار سے صحیح ہوئی، ”أَقْبَلَ السَّامِعُ عَلَى الْكَلَامِ فَوَعَى جَمِيعَهُ“، تو سامع متوجہ ہو جائے گا کس کی طرف؟ کلام کی طرف، تو سارے کو یاد کر لے گا، ”وَإِلَّا أَعْرَضَ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ الْبَاقِي فِي غَايَةِ الْحُسْنِ“، اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ اعراض کر لے گا اگرچہ باقی سارا بے انتہا اعلی ہی کیوں نہ ہو، لیکن ابتدا اچھی نہ ہوئی تو وہ بات کی طرف کان نہیں لگائے گا۔ ”فَالِابْتِدَاءُ الْحَسَنُ فِي تِذْكَارِ الْأَحِبَّةِ وَالْمَنَازِلِ“، پس اچھی ابتدا، تذکار کا معنی ہے یاد، احبہ، احباب کی یاد کرنے میں اور گھروں کو یاد کرنے میں اچھی ابتدا کی مثال: ”كَقَوْلِهِ“، جیسے یہ شعر ہے مولانا: ”قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ“۔ ”قِفَا“، مولانا ”قِفَا“، ”قِفَا“ یہ خطاب ہے تثنیہ کا۔ تو عرب کی یہ عادت تھی، تو یا تو یہ ساتھ چلنے والا ایک ہے تو ”قِفَا“ تو تثنیہ کا امر ہے، یہ تو مخاطب تثنیہ ہو پھر کیا جاتا ہے، اعتراض واقع ہوتا ہے۔ تو بھئی جواب دیتے ہیں کہ یہ جو ہے ”قِفَا“ تثنیہ، عرب کی عادت تھی کہ مخاطب واحد کا ایک بھی ہوتا تو بھی اس سے خطاب کون سا کر دیا کرتے؟ تثنیہ والا کر لیتے تھے، تو یہ اسی طریقے پر ہے: ”قِفَا“، تم اے میرے دو ساتھیو! کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ۔ یا مولانا یہ اصل میں تھا ”قِفَنْ“، نون خفیفہ آتا ہے امر کے آخر میں کبھی آپ نے پڑھا ہو گا بھئی، اور نون خفیفہ حالت وقف میں کبھی کبھار اس کو الف سے بدل دیتے ہیں، جیسے گزشتہ اشعار میں ایک مثال گزری تھی مولانا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ ”تَوَقَّفَا“ کا لفظ گزرا تھا بھئی، ”تَوَقَّفَا“، تو ”تَوَقَّفَنْ“ میں نے بتلایا نون کو کس سے بدل دیا؟ الف سے۔ تو یہ جو نون خفیفہ ہوتا ہے یہ وقف کی صورت میں، یعنی کلام اگر اس پر ختم ہو رہا ہے تو اس کو اکثر پھر کیا کر دیا کرتے ہیں؟ الف سے بدل دیا کرتے ہیں۔ تو یہاں پر اگرچہ وصل کلام ہے، وسط کلام ہے، لیکن اس کو بھی محمول کر لیا کس پر؟ وقف کی صورت پر، اس پر قیاس کرتے ہوئے، جیسے وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدلتے ہیں تو انہوں نے وصل کی صورت میں بھی نون کو کس سے بدل دیا؟ الف سے بدل دیا۔ تو معنی ہے ”قِفَنْ“، اے میرے ایک ساتھی! تو ضرور رک جا۔ ”قِفَا“، اے میرے دو ساتھیو! ذرا ٹھہر جاؤ، ”نَبْكِ“، ہم رو لیں، ”مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ“، حبیب کے، محبوب کی یاد سے، اور منزل، اور گھر کی یاد سے۔ اے میرے دو ساتھیو! تو ذرا ٹھہر جاؤ ہم تھوڑی دیر رو لیں اپنے محبوب کو اور اپنے گھر کو یاد کر کے، ”بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ“۔ سقط، خود بتا رہے ہیں: ”السِّقْطُ: مُنْقَطَعُ الرَّمْلِ“، سقط کس کو کہتے ہیں؟ ریت کے کنارے کو کہتے ہیں، ”حَيْثُ يَدِقُّ“، جہاں پر وہ باریک ہو جاتی ہے، ”وَاللِّوَى: رَمْلٌ مُعَوَّجٌ يَلْتَوِي“، لواء وہ ریت ہے معوج جو ٹیڑھی ہو، یلتوی بل کھاتی ہوئی ہو۔ تو بل کھاتے ہوئے ٹیڑھے ریت کے کنارے بھئی۔ ”وَالدَّخُولُ وَحَوْمَلُ: مَوْضِعَانِ“، دخول اور حومل دو جگہیں ہیں، ”وَالْمَعْنَى بَيْنَ“، یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں، اشکال یہ کہ لفظ ”بَيْنَ“ آیا، اور بین کے بعد الدخول آیا اور پھر فحومل پر فا داخل کی بھئی۔ بین آتا ہے کم از کم دو چیزوں کے لیے یا دو سے زیادہ کے لیے: ”جَلَسْتُ بَيْنَ عَمْرٍو وَخَالِدٍ“، میں عمرو اور خالد کے بیچ میں بیٹھا، تو یہ کہنا صحیح نہیں ”جَلَسْتُ بَيْنَ عَمْرٍو“، ایک ہو یہ صحیح نہیں، تو بین ہمیشہ آتا ہے، بین کے بعد متعدد چیزیں آتی ہیں، کم از کم دو آئیں گی مولانا۔ اور یہاں تو لہذا جہاں دو چیزیں آنی چاہیے تھیں لیکن یہاں پر فا آ گیا بھئی، تو فا کے بجائے اگر واؤ آتا کہاں پر؟ ”بَيْنَ الدَّخُولِ وَحَوْمَلِ“، پھر تو بات ٹھیک تھی، لیکن یہاں تو فا آ گیا، اور فا تو جمع کا فائدہ واؤ کی طرح نہیں، تو پھر یہ فا کا لانا تو صحیح نہ ہوا۔ جواب دیتے ہیں مولانا کہ یہاں مضاف محذوف ہے: ”بَيْنَ أَجْزَاءِ الدَّخُولِ“، دخول کے اجزاء کے درمیان میں بھئی۔ اب اجزاء دخول کے اجزاء بنا دیے اور اجزاء تو کئی ہوتے ہیں، تو اب بین کے لفظ کا استعمال کیا ہوا؟ صحیح ہوا، کہ دخول مقام کے اجزاء کے بیچ میں ”فَحَوْمَلِ“، اور حومل مقام کے اجزاء کے بیچ میں۔ یہ معنی ہے: ”وَالْمَعْنَى بَيْنَ أَجْزَاءِ الدَّخُولِ وَحَوْمَلِ“۔ تو دیکھو یہ امرؤ القیس، سبعہ معلقات آپ پڑھ رہے ہیں، پہلا معلقہ امرؤ القیس کا ہے اور یہ اس کا پہلا شعر ہے بھئی۔ اس کے بارے میں یہ انہوں نے حاشیے میں ایک عجیب سی بات لکھی ہے، گو یہ درست معلوم نہیں ہوتی، لیکن عجیب بات لکھی ہے، کہتے ہیں یہ جو امرؤ القیس تھا اس کا باپ بھی بہت بڑا شاعر تھا، اور امرؤ القیس جب ذرا بڑا ہوا ابھی بالغ نہیں ہوا تھا، بالغ ہونے کے قریب پہنچا، دس بارہ سال کا ہو گا، تو اس کے باپ نے دیکھا کہ یہ میرا بیٹا دس بارہ سال کا ہو گیا ہے اس نے ابھی تک کوئی شعر نہیں کہا، تو اپنے خاص ملازمین، خاص غلام جو تھے لوگ ان کو بلایا اور دو تین آدمیوں کو، کہ جاؤ بھئی یہ میرے بیٹے اس کو لے جاؤ اور اس نے آج تک شعر نہیں کہا، معلوم ہوا یہ میرا بیٹا نہیں ہے، اگر میرا بیٹا ہوتا میں تو بہت بڑا شاعر ہوں یہ بھی کیا کرتا؟ شعر کہتا، جاؤ اس کو جنگل میں دور لے جاؤ اور وہاں جا کر اس کو قتل کر کے آ جاؤ۔ کہتے ہیں وہ اس کو لے کر چل پڑے، جب وہاں جنگل کے اندر پہنچے تو اس کو اب پکڑ رہے ہیں، باندھ رہے ہیں، لٹا رہے ہیں، تو پھر امرؤ القیس نے کہتے ہیں اس وقت یہ شعر پڑھا بھئی: ”قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ“۔ تو انہوں نے شعر سنا تو اس کو لے کر واپس آ گئے۔ تو اس کے باپ سے کہنے لگے کہ آپ تو کہتے ہیں اس کو شعر نہیں آتا، اس وقت روئے زمین پر اس سے بڑا شاعر کوئی نہیں ہے۔ اس نے کیسے، وہ کہتا ہے کیسے بھئی؟ کہتے ہیں اس نے ایک ہی مصرعے کے اندر، اس نے کیا کہا: ”قِفَا“، خود بھی رک گیا دوسرے کو بھی کہہ رہا ہے رک جا، تو دیکھو اس نے پانچ چھ چیزیں ایک ہی مصرعے میں کہیں: خود بھی رک گیا دوسرے کو بھی رکنے کا کہہ رہا ہے، خود بھی رویا دوسرے کو ”نَبْكِ“ خود بھی رویا دوسرے کو بھی رونے کا کہہ رہا ہے، اور محبوب کو بھی یاد کر رہا ہے، اور گھر کو بھی یاد کر رہا ہے، تو ابھی آدھا ہی مصرع، ایک ہی مصرع ہوا ہے اور اس نے کتنی چیزوں کو اس میں کتنی چیزیں ذکر کر دیں؟ چھ چیزیں ذکر کر دیں، ابھی شعر بھی پورا نہیں ہوا تو آپ کہتے ہیں اس کو شاعری نہیں آتی! تو باپ کہتا ہے: اچھا اس نے یہ شعر کہا ہے تو معلوم ہوا یہ واقعی میرا بیٹا ہے، اب اس کو چھوڑ دو۔ لیکن یہ معلوم ہوتا ہے یہ ویسے ہی بات ہے مولانا، ایسا نہیں۔ ہاں بہرحال کمال ہے ویسے امرؤ القیس کا کہ ایک ہی مصرعے کے اندر انہوں نے چھ چیزیں ذکر کر دیں بھئی۔ ”وَفِي وَصْفِ دَارٍ“، گھر کی تعریف کے اندر، کہتے ہیں نا بھئی ابتدا اچھی ہونی چاہیے، تو امرؤ القیس نے اپنے معلقے کی ابتدا بڑی اچھی کی ہے۔ اسی طرح گھر کے وصف کے اندر قصیدے کی ابتدا میں ایک شاعر نے یہ شعر کہا: ”قَصْرٌ عَلَيْهِ تَحِيَّةٌ وَسَلَامُ خَلَعَتْ عَلَيْهِ جَمَالَهَا الْأَيَّامُ“۔ وہ ایک محل ہے، گھر کی تعریف کر رہا ہے، وہ ایک محل ہے، ”عَلَيْهِ تَحِيَّةٌ وَسَلَامُ“، تحیہ اور سلام کا ایک معنی بھئی سلام ہے، تحیت کا معنی بھی، اس پر سلام ہو، ”خَلَعَتْ عَلَيْهِ“، ڈال دیا ہے اس پر، ”جَمَالَهَا“، اپنے جمال کو، ”الْأَيَّامُ“، زمانے نے۔ اس گھر پر سلام ہو، اس گھر پر زمانے نے اپنا سارا حسن و جمال ڈال دیا ہے۔ ”خَلَعَ عَلَيْهِ أَيْ نَزَعَ ثَوْبَهُ وَطَرَحَهُ عَلَيْهِ“، یعنی اپنے کپڑے اتار کر اس پر ڈال دیے ہیں زمانے نے۔ ”وَيَنْبَغِي أَنْ يُجْتَنَبَ فِي الْمَدْحِ مِمَّا يُتَطَيَّرُ بِهِ أَيْ يُتَشَاءَمُ“، بھئی کہہ رہے ہیں مدح کے اندر کبھی ابتدا میں ایسی چیز ذکر نہ کرو جس کے نحوست یا بدفالی کا شبہ پڑتا ہو، نحوست یا بدفالی۔ ”وَيَنْبَغِي“ مناسب ہے کہ اجتناب کرے مدح کے اندر ”مِمَّا يُتَطَيَّرُ بِهِ“ ان چیزوں سے جس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ ”يُتَشَاءَمُ“، بدفالی مراد لی جاتی ہے، ”كَقَوْلِهِ“، شاعر کہتا ہے: ”مَوْعِدُ أَحْبَابِكَ بِالْفُرْقَةِ غَدْ“۔ وعدہ کرنا ہے، ”مَوْعِدُ أَحْبَابِكَ“، وعدہ کرنا ہے تیرے احباب کا ”بِالْفُرْقَةِ غَدْ“، فرقت جگہ کا نام ہے، کل فرقت کی جگہ میں۔ مقام فرقت کے بارے میں تیرے احباب کل کا کیا کر رہے ہیں؟ وعدہ کر رہے ہیں۔ تو یہ شعر بھئی ایک شاعر آیا، شاعر تھا ضریر، اور مقاتل ضریر، اور یہ داعی علوی ایک شخص تھا اس کی مدح کرنے کے لیے آیا بھئی کہ اس سے کچھ مال وغیرہ پیسے ملیں گے بھئی، تو اس کو کیا کہنے لگا: وعدہ کرنے والے ہیں تیرے احباب کس مقام میں؟ فرقت مقام میں وعدہ کرنے والے ہیں کل، کب کرنے والے ہیں؟ کل بھئی۔ لیکن چونکہ یہاں کیا آیا تھا بھئی؟ فرقت، اور فرقت کا معنی ہے جدائی، تو معنی یہ نکلتا تھا تیرے احباب وہ موعد، اور موعد کا معنی کیا بنتا ہے؟ وعدہ کر رہے ہیں یعنی جدائی کا وعدہ کر رہے ہیں کل، کہ کل ایک وقت ایسا آ جائے گا تیرے احباب تجھ سے کیا ہو جائیں گے؟ جدا ہو جائیں گے، سب مر جائیں گے دنیا سے چلے جائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ دیکھو یہ اس میں فرقت کو ذکر کر دیا، تو ایسا لفظ ذکر نہ کرو مدح کے اندر جس میں کیا ہو؟ نحوست والا معنی پایا جائے یا جس سے لوگ بدفالی مراد لیں۔ چنانچہ آگے ذکر کرتے ہیں، جب شاعر نے یہ شعر کہا تو داعی علوی اس کو کہنے لگا بھئی کہ تیرے احباب جو ہیں یہ ان کا وعدہ ہو گا اندھے، اور تیرے لیے برا، خوب اس کو بری بھلی اس نے سنائیں بھئی۔ اسی طرح کہتے ہیں جیسے عید آتی ہے، ایران میں مہرجان وغیرہ کوئی عید مناتے تھے، مہرجان عید کا موقع آیا، اسی ممدوح کو بھئی، داعی علوی کے پاس آیا مقاتل ضریر بھئی، اس نے یہ شعر سنایا، کیا؟ عید کے دن کہہ رہا ہے: ”لَا تَقُلْ بُشْرَى وَلَكِنْ بُشْرَيَانِ عِزَّةُ الدَّاعِي وَيَوْمُ الْمَهْرَجَانِ“۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ عید کا دن آیا ایک خوشخبری نہ کہو، یہ نہ کہو ایک خوشخبری، بلکہ کہو دو خوشخبریاں ہیں: ایک داعی علوی کا چہرہ، ایک یہ خوشی کی بات خوشخبری یہ ہے، اور دوسرا عید کا دن ہے بھئی، دوسرا عید کا دن۔ تو ایک خوشخبری نہیں ہے دو خوشخبریاں ہیں آج، دو مبارک چیزیں ہیں، ایک علوی کا چہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور دوسرا دن بھی کون سا ہے؟ مہرجان کا۔ لیکن شروع میں کیا لے کر آیا؟ اب یہ تعریف کر رہا ہے، شروع میں کہہ رہا ہے: ”لَا تَقُلْ بُشْرَى“، خوشخبری نہ کہو، خوشخبری نہ کہو! اگرچہ آگے کہہ رہا ہے دو کہو، لیکن شروع میں تو کیا کہا اس نے؟ خوشخبری نہ کہو۔ اچھا علوی داعی کو بڑا غصہ چڑھا بھئی، اس نے کہا: اچھا بھئی یہ تو نحوست والے الفاظ، عید کا دن ہے اور تو کہہ رہا ہے خوشخبری نہ کہو بھئی، شروع میں ایسا برا لفظ تو لے کر آ گیا ہے! ملازمین غلاموں کو کہا: پکڑو بھئی اس کو زمین پہ الٹا لٹاؤ اور اس کو پچاس جوتے لگاؤ بھئی۔ تو اس کو انہوں نے مارا بھئی، زبردست اس کی پٹائی کی، اس کو کہنے لگا علوی کہنے لگا کہ، کوئی سردار ہو گا بھئی، کہ تجھے انعام دینے کے بجائے تجھے ادب سکھانا زیادہ ضروری ہے، تجھے یہ بھی نہیں پتہ کس موقع پر کس قسم کا کلام کرنا چاہیے اور مدح کس قسم کی کرنی چاہیے۔ ”مَطْلَعُ قَصِيدَةٍ لِابْنِ مُقَاتِلٍ الضَّرِيرِ“، یہ مطلع ہے قصیدے کا ابن مقاتل ضریر کا، ”أَنْشَدَهَا لِلدَّاعِي الْعَلَوِيِّ“، جو اس نے پڑھا داعی علوی کے لیے، ”فَقَالَ لَهُ الدَّاعِي: مَوْعِدُ أَحْبَابِكَ يَا أَعْمَى“، یہ تیرے احباب کا وعدہ ہو گا اے اندھے، ”وَلَكَ الْمَثَلُ السَّوْءُ“، اور تیرے لیے برا حال ہو۔ ”وَأَحْسَنُهُ أَيْ أَحْسَنُ الِابْتِدَاءِ مَا نَاسَبَ الْمَقْصُودَ“، بہترین ابتدا وہ ہے جو مقصود کے مناسب ہو، ”بِأَنْ يَشْتَمِلَ عَلَى إِشَارَةٍ إِلَى مَا سِيقَ الْكَلَامُ لِأَجْلِهِ“، مشتمل ہو ایسے اشارے پر، اشارے پر الی ما اس چیز کی طرف سیق الکلام لاجلہ جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے۔ بھئی بہترین ابتدا وہ ہے کہ ابتدائے کلام میں ایسی چیزیں لے آئیں جو آگے مقصود کی طرف اشارہ کرتی ہوں، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ براعت استہلال کہتے ہیں۔ ”وَيُسَمَّى كَوْنُ الِابْتِدَاءِ مُنَاسِبًا لِلْمَقْصُودِ بَرَاعَةَ الِاسْتِهْلَالِ“، اور یہ جو ابتدا مناسب مقصود کے ہو اس کو براعت استہلال کہتے ہیں، ”مِنْ بَرَعَ الرَّجُلُ إِذَا فَاقَ أَصْحَابَهُ فِي الْعِلْمِ وَغَيْرِهِ“، بھئی ”بَرَعَ الرَّجُلُ“ سے ہے، ”بَرَعَ الرَّجُلُ“ کہتے ہیں جب آدمی اپنے ساتھیوں پر علم وغیرہ میں بلند ہو جائے تو کیا کہتے ہیں؟ ”بَرَعَ الرَّجُلُ“۔ تو یہ بھی براعت استہلال، یہ ابتدا بھی مولانا براعت، بلند ہے باقی ابتداؤں پر کیونکہ اس ابتدا کے اندر کیا ہو رہی ہے؟ مناسبت ہو رہی ہے کس کے ساتھ؟ مقصود کے ساتھ۔ تو براعت استہلال کا یہ معنی ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ ابتدا اعلی ہو گئی کیونکہ مقصود سے مناسبت ہو گئی۔ ”كَقَوْلِهِ فِي التَّهْنِئَةِ“، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے مبارکباد کے اندر: ”بُشْرَى فَقَدْ أَنْجَزَ الْإِقْبَالُ مَا وَعَدَا وَكَوْكَبُ الْمَجْدِ فِي أُفُقِ الْعُلَا صَعِدَا“۔ خوشخبری ہو، تحقیق پورا کر دیا عزت نے وہ جو اس نے وعدہ کیا تھا، اور بزرگی کا ستارہ سر بلندی کے افق میں، بزرگی کا ستارہ عزت کے افق میں ”صَعِدَا“، بلند ہو گیا۔ ”الْعُلَا“، عزت مولانا، ”الْعُلَا“، عزت۔ ”أَنْجَزَ“، ”أَنْجَزَ“، ”أَنْجَزَ“ کا معنی ہے پورا کرنا، ”أَنْجَزَ“، پورا کرنا، ”الْإِقْبَالُ“ اس کا فاعل، خوشخبری ہو تحقیق پورا کر دیا اقبال یعنی عزت نے، بلندیوں نے پورا کر دیا ما وہ جو انہوں نے وعدہ کیا تھا، اور بزرگی کا ستارہ عزت کے افق کے اندر ”صَعِدَا“، کیا ہوا؟ بلند ہوا۔ ”مَطْلَعُ قَصِيدَةٍ لِأَبِي مُحَمَّدٍ الْخَازِنِ“، یہ مطلع ہے قصیدے کا جو کس کا تھا؟ محمد خازن کا، ”يُهَنِّئُ الصَّاحِبَ بِوَلَدٍ لِابْنَتِهِ“، جو مبارکباد دے رہا ہے صاحب ابن عباد کو اس کی بیٹی کی پیدائش پر۔ تو دیکھو مولانا بیٹی کی پیدائش پر مبارکباد دے رہا ہے تو قصیدے کے شروع میں پہلا لفظ ہی لے آیا: ”بُشْرَى“، خوشخبری ہو، فورا پتہ چل گیا آگے کوئی خوشی والی خبر آنے والی ہے۔ ”وَقَوْلُهُ فِي الْمَرْثِيَةِ“، اور اسی طرح ایک شاعر کا قول ہے مرثیے کے اندر: ”هِيَ الدُّنْيَا تَقُولُ بِمِلْءِ فِيهَا حَذَارِ حَذَارِ مِنْ بَطْشِي وَفَتْكِي“۔ مرثیے کے اندر بھئی، جیسے مولانا ایک شاعر کوئی مر گیا تو وہاں پر یہ کہہ رہا ہے بھئی، یہ دنیا جو ہے، کسی کے مرنے پر اشعار کہہ رہا ہے تو شروع میں ہی کہہ رہا ہے مولانا، اشارہ دے رہا ہے کہ یہ میں مرثیہ کہنے لگا ہوں۔ کیسے؟ شروع میں ہی کہتا ہے: ”هِيَ الدُّنْيَا“، یہ دنیا جو ہے، ”تَقُولُ“، کہتی ہے، ”بِمِلْءِ فِيهَا أَيْ بِمِلْءِ فَمِهَا“، مولانا، ”بِمِلْءِ فَمِهَا“، اور یہ آپ نے پڑھا ہے، فم اصل میں کیا تھا؟ فوہ تھا، کیا تھا؟ فوہ، اور چنانچہ پھر واؤ کو میم سے بدل دیا گیا، تو کبھی کبھار یوں کیا جاتا ہے مولانا پھر وہ واؤ کو یا سے بدل کر واپس لے آتے ہیں، یا کبھی میم کو ہی برقرار رکھتے ہیں دونوں صورتیں ہیں، ”فَمِهَا“ بھی صحیح، ”فِيهَا“ بھی صحیح۔ یہ دنیا ”تَقُولُ“، کہتی ہے، ”بِمِلْءِ فِيهَا“، اپنے منہ بھر کر، منہ بھر کر کہتی ہے یعنی بلند آواز سے کہتی ہے: ”حَذَارِ حَذَارِ“، یہ مولانا فعل ہے، امر ہے امر، بچو تم بچو تم، ”أَيِ احْذَرْ“، ”مِنْ بَطْشِي“، میری پکڑ سے، ”أَيْ أَخْذِيَ الشَّدِيدِ“، شدید پکڑ سے، ”وَفَتْكِي أَيْ قَتْلِي بَغْتَةً“، فتک کہتے ہیں اچانک ہلاک کرنا کسی کو، ”أَيْ قَتْلِي بَغْتَةً“، اور میرے اچانک قتل کر دینے سے۔ تو دیکھو شاعر نے مرثیے کی ابتدا میں ہی کہہ دیا کہ یہ جو دنیا یہ جگہ ہی ایسی ہے، یہ تو ہر وقت اعلان کرتی پھر رہی ہے کہ ”حَذَارِ حَذَارِ مِنْ بَطْشِي وَفَتْكِي“، میری شدید پکڑ اور میرے اچانک ہلاک کر دینے سے اے لوگو بچ جاؤ۔ تو دیکھو مرثیے کی ابتدا میں ایسی شعر لے کر آئے جس کی مقصد سے مناسبت تھی۔ یہ تو ایک ابتدا تھا، ”وَثَانِيهَا أَيْ ثَانِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي يَنْبَغِي لِلْمُتَكَلِّمِ أَنْ يَتَأَنَّقَ فِيهَا: التَّخَلُّصُ أَيِ الْخُرُوجُ مِمَّا شُبِّبَ الْكَلَامُ بِهِ مِنْ تَشْبِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ“، یاد رکھو مولانا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا، عرب لوگ کیا کرتے ہیں؟ عرب شعراء جب بھی اشعار کہتے تھے، کسی قسم کے بھی اشعار، مرثیہ بھی بعض اوقات کہہ رہے ہیں یا اور کوئی شعر کسی کی مدح کر رہے ہیں کسی کی ہجو کر رہے ہیں کچھ بھی، شروع شروع کے اشعار کے اندر عورتوں کا حسن ذکر ہوتا ہے، ان کے اوصاف ذکر ہوتے ہیں، ان کے حسن و جمال کا تذکرہ ہوتا ہے، محبوب اور معشوق کی باتیں ذکر ہوتی ہیں، جوانی کے ایام کا تذکرہ ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں تشبیب، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیب۔ تو تشبیب چونکہ ہر کلام کے شروع میں وہ تشبیب کرتے تھے تو بعد میں تشبیب کا لفظ عام ہو گیا، ہر چیز کی ابتدا کو کیا کہنے لگے؟ تشبیب۔ تو مولانا دوسرا مقام ہے دیکھو، آپ یہ ابتدا کی، اب ابتدا کے بعد آپ منتقل ہو رہے ہیں مقصد کی طرف، کس کی طرف؟ مقصد کی طرف۔ تو کہتے ہیں یہ جو انتقال ہو رہا ہے ابتدا سے مقصد کی طرف، ان میں مناسبت ہونی چاہیے، کسی مناسب طریقے کے ساتھ تم انتقال کرو، یہ نہیں ایک دم ایک بات کرتے کرتے چھلانگ لگائی دوسری بات بیچ میں شروع کر دی، نہیں بھئی، درمیان میں کیا ہو؟ مناسبت ہو، کوئی مناسب طریقے سے جیسے آگے مثالوں میں بات آئے گی جی۔ ”التَّخَلُّصُ أَيِ الْخُرُوجُ مِمَّا شُبِّبَ الْكَلَامُ بِهِ“، یعنی نکلنا ہے اس چیز سے جس سے کلام کی ابتدا کی گئی، دیکھا بھئی! تشبیب تو کہتے تھے وہ جوانی کی باتوں کا تذکرہ، لیکن اب ”شَبَّبَ“، تشبیب کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ ابتدا کے معنی میں، چونکہ وہ جوانی کا تذکرہ ابتدائے اشعار میں ہوتا تھا تو ہر چیز کی ابتدا کو تشبیب کہنے لگے۔ جس سے کلام کی ابتدا کی گئی ہے، ”أَيْ اُبْتُدِئَ وَافْتُتِحَ“، جس سے ابتدا کی گئی، افتتاح کیا گیا، ”قَالَ الْإِمَامُ الْوَاحِدِيُّ: مَعْنَى التَّشْبِيبِ ذِكْرُ أَيَّامِ الشَّبَابِ“، شباب کے، جوانی کے ایام کو ذکر کرنا، ”وَاللَّهْوِ“، اور لہو و لعب کو، ”وَالْغَزَلِ“، اور عورتوں، غزل کہتے ہیں عورتوں کا ذکر، اور عورتوں کے ذکر کو چھیڑنا، ”وَذَلِكَ يَكُونُ فِي ابْتِدَاءِ قَصَائِدِ الشِّعْرِ فَيُسَمَّى ابْتِدَاءُ كُلِّ أَمْرٍ تَشْبِيبًا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذِكْرِ الشَّبَابِ“، اگرچہ اس میں جوانی کی باتیں ذکر نہیں ہوتی تھیں۔ تو کلام کی ابتدا کی جائے، نکلنا ہے، دوسری قسم کیا ہے؟ نکلنا ہے ابتدا سے، جس سے نکلنا ہے جس سے کلام کی ابتدا کی گئی، کلام کی ابتدا کس سے کی گئی؟ ”مِنْ تَشْبِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ“، یعنی کہ تشبیب وغیرہ سے، ابتدا میں جو تشبیب وغیرہ کی تھی اب اس سے نکل کر مقصود کی طرف جائیں۔ آگے آ رہا ہے: ”إِلَى الْمَقْصُودِ“، کس کی طرف نکلیں بھئی؟ مقصود کی طرف جو نکلیں، ”مَعَ رِعَايَةِ الْمُلَائَمَةِ بَيْنَهُمَا“، کہ ان دونوں کے بیچ کیا ہو مولانا؟ مناسبت ہو، تشبیب کے بیچ میں یعنی جو ابتدا ہے اس کے درمیان اور مقصود کے درمیان۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو اصل کلام یوں بنا: ”التَّخَلُّصُ إِلَى الْمَقْصُودِ“، نکلنا ہے کس سے، کس کی طرف نکلنا ہے؟ مقصود کی طرف نکلنا، کس سے؟ ”مِمَّا شُبِّبَ الْكَلَامُ بِهِ“، جس کے ساتھ کلام کی ابتدا کی گئی تھی، کس سے ابتدا کی گئی تھی؟ بیان ہے: ”مِنْ تَشْبِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ“، یعنی تشبیب وغیرہ سے، ”مِنْ تَشْبِيبٍ: مِنْ وَصْفٍ لِلْجَمَالِ“، تشبیب کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ”وَصْفٍ لِلْجَمَالِ“ وغیرہ کو، ”أَوْ غَيْرِهِ“، یا تشبیب ہو یا تشبیب کے علاوہ کوئی اور چیز ہو ابتدا کے اندر، ”كَالْأَدَبِ“، یعنی اوصاف ادبیہ ذکر ہوں، ”وَالِافْتِخَارِ“، فخر کی باتیں ذکر ہوں، ”وَالشِّكَايَةِ“، یا شکایت ذکر ہو، ”وَغَيْرِ ذَلِكَ“، یا مدح ہجو وغیرہ ہو، تو ان سے نکلنا ”إِلَى الْمَقْصُودِ“، کس کی طرف؟ ”مَعَ رِعَايَةِ الْمُلَائَمَةِ بَيْنَهُمَا“، دونوں میں مناسبت کی رعایت رکھتے ہوئے، ”أَيْ بَيْنَ مَا شُبِّبَ بِهِ الْكَلَامُ وَبَيْنَ الْمَقْصُودِ“۔ ”وَاحْتَرَزَ بِهَذَا عَنِ الِاقْتِضَابِ“، بھئی اس قید کے ذریعے اقتضاب سے احتراز کیا۔ بھئی دیکھو یہ نکلنا دو طرح ہے، ایک ابتدا سے آپ جا رہے ہیں مقصود کی طرف، تو درمیان میں کبھی مناسبت ہو گی اور کبھی مناسبت نہیں، اگر مناسبت نہیں تو یہ اقتضاب کہلاتا ہے، اس کا بھی آگے تذکرہ آئے گا مولانا۔ تو کہتے ہیں انہوں نے کہا جب درمیان میں مناسبت ہو تو کون نکل گیا؟ اقتضاب نکل گیا، کیونکہ اقتضاب کے اندر مناسبت نہیں تھی بھئی۔ ”وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ التَّخَلُّصَ“، تخلص سے ارادہ کیا شارح نے: ”مَعْنَاهُ اللُّغَوِيَّ“، کس کا ارادہ کیا؟ معنی لغوی۔ بھئی تخلص کا ایک معنی ہے نکلنا، اور ایک ہے ابتدائے کلام سے مقصود کی طرف منتقل ہونا مناسبت کے ساتھ۔ تخلص کا لغوی معنی کیا؟ نکلنا، ایک چیز سے نکلنا۔ اور اصطلاحی معنی کیا ہے؟ ابتدائے کلام سے انتقال کرنا کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، کس کے ساتھ؟ درمیان میں مناسبت ہو، اس کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں تخلص جو یہاں ماتن نے لفظ ذکر کیا یہ لغوی معنی میں ہے، اصطلاحی معنی میں نہیں۔ کیونکہ اگر اصطلاحی معنی ہو تو اصطلاحی معنی تو تخلص کا جو ہے وہی آگے دوبارہ بھی ذکر ہو رہا ہے: ”مِمَّا شُبِّبَ الْكَلَامُ بِهِ إِلَى الْمَقْصُودِ مَعَ رِعَايَةِ الْمُلَائَمَةِ“، تو تخلص یہاں لغوی معنی میں استعمال ہے اور آگے اس کا مصداق بتلایا، معنی بتلایا بھئی۔ بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے یا نہیں؟ ”وَإِلَّا فَالتَّخَلُّصُ فِي الْعُرْفِ هُوَ الِانْتِقَالُ مِمَّا افْتُتِحَ بِهِ الْكَلَامُ إِلَى الْمَقْصُودِ مَعَ رِعَايَةِ الْمُنَاسَبَةِ“، تو یہ تخلص لغوی معنی میں استعمال ہوا بھئی، ورنہ تخلص تو عرف بلغاء کے اندر ”هُوَ الِانْتِقَالُ“، وہ تو انتقال ہے، ”مِمَّا افْتُتِحَ بِهِ الْكَلَامُ إِلَى الْمَقْصُودِ“، وہ چیز جس سے افتتاح کی گئی ہے کلام کی اس سے انتقال کرنا ہے مقصود کی طرف، ”مَعَ رِعَايَةِ الْمُنَاسَبَةِ“، کس کے ساتھ ہے؟ مناسبت کی رعایت۔ تو دیکھو تخلص کا اتنا لمبا معنی ہے، اور متن کے اندر جو آ رہا ہے تخلص وہاں اگر یہ معنی ہم کریں یہ جو اتنا لمبا ہے تو پھر تکرار لازم آئے گا مولانا، ایک تخلص کا معنی بھی انتقال، اور آگے انتقال کرنا ابتدائے کلام سے مقصود کی طرف، اور آگے خود بھی وہ ذکر کر رہا ہے ابتدائے کلام سے انتقال کرنا ”إِلَى الْمَقْصُودِ“، کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، تو تخلص کا بھی وہی معنی ہے اور آگے معنی بھی وہی ذکر ہو رہا ہے تو یہ تو کیا لازم آئے گا؟ تکرار لازم آئے گا۔ ”وَإِنَّمَا يَنْبَغِي أَنْ يَتَأَنَّقَ فِي التَّخَلُّصِ“، اور مناسب ہے مولانا کہ خوشگوار بنائے، ”أَنْ يَتَأَنَّقَ“، عمدہ چیز کو تلاش کرے، ”فِي التَّخَلُّصِ“، انتقال کے اندر مولانا، ”لِأَنَّ السَّامِعَ يَكُونُ مُتَرَقِّبًا لِلِانْتِقَالِ مِنَ الِافْتِتَاحِ إِلَى الْمَقْصُودِ كَيْفَ يَكُونُ“، اس لیے کہ سامع منتظر ہوتا ہے کہ یہ جو انتقال ہو رہا ہے افتتاح سے کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، ”كَيْفَ يَكُونُ“، یہ کیسا ہو گا؟ منتظر رہتا ہے، ”فَإِنْ جَاءَ حَسَنًا مُتَلَائِمَ الطَّرَفَيْنِ“، اگر وہ اچھا ہو آ جائے اور دونوں طرفین ایسا آئے جس کے دونوں طرفین آپس میں مناسب ہوں، ”حَرَّكَ مِنْ نَشَاطِهِ“، تو یہ انتقال حرکت دیتا ہے اس کو، یہ من زائدہ ہے، ”أَيْ حَرَّكَ نَشَاطَهُ“، تو یہ انتقال اگر اچھے طریقے پر ہو گا تو یہ تحریک دیتا ہے اس کی بشاشت کو، ”وَأَعَانَ عَلَى إِصْغَاءِ مَا بَعْدَهُ“، اور یہ انتقال معاون بنتا ہے مابعد کی طرف کان لگانے میں۔ اگر اچھے طریقے سے انتقال کیا تو وہ آگے آنے والے کلام کی سننے کی طرف بھی کیا کرے گا؟ متوجہ ہو گا اور کان لگائے گا، تو دیکھو یہ انتقال معاون بن گیا کان لگانے میں اگر اچھے طریقے سے ہوا۔ ”وَإِلَّا فَبِالْعَكْسِ“، ورنہ اس کا عکس ہو گا کہ وہ آپ کی بات نہیں سنے گا بھئی۔ چلیے جی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
64 approved lectures · 85 of 64