Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-016

Version 2 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 21 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں مولانا غرابت کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا۔ غرابت کسے کہتے ہیں؟ کلمے کا وحشی ہونا۔ وحشی ہونے کی کیا تفسیر کی تھی علامہ تفتازانی نے کہ اس کا معنی ظاہر نہ ہو اور وہ مانوس الاستعمال نہ ہو بھئی۔ استعمال نہیں ہوتا عام، جیسے مسرّج کا لفظ آیا ابن العجاج کے اس شعر کے اندر مولانا، یہ دوسری صدی کا فصیح شاعر ہے بھئی۔ تو وہ کہتا ہے:وَمُقْلَةً وَّحَاجِبًا مُزَجَّجَافَاحِمًا وَّ... فَاحِمًا وَّمَرْسِنًا مُسَرَّجَا اور ظاہر کیا معشوقہ نے مقلۃً، مراد آنکھ ہے بھئی۔ آنکھ کی سفیدی مع سیاہی کے اس کو مقلہ کہتے ہیں تو آنکھ مراد ہوئی۔ ظاہر کیا اپنی آنکھ کو، وَحَاجِبًا مُزَجَّجَا، اور بھنویں جو مزجج تھیں، یعنی کہ باریک اور لمبی تھیں۔ وَفَاحِمًا، اور بالوں کو جو کوئلے جیسے سیاہ تھے بھئی، کوئلے جیسے۔ تو یہ فاحمًا میں نسبت تشبیہی ہے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کبھی کبھار فعل کو بناتے ہیں، نسبت کے لیے فعل بناتے ہیں جیسے مولانا آپ کہتے ہیں: فَسَّقْتُہٗ، کیا معنی؟ میں نے اس کی طرف فسق کی نسبت کی کہ وہ فاسق ہے۔ کَفَّرْتُہٗ، میں نے فلاں کی طرف کفر کی نسبت کی یعنی اسے کافر کہا۔ یہ معنی نہیں کہ اسے کافر بنایا بھئی، اسے کافر کہا بھئی۔ تو اسی طرح تو یہ کبھی کیا، یاءِ نسبت کی لگاتے ہیں مولانا اسم کے آخر میں تو کیا کہتے ہیں؟ جیسے لاہوریٌّ، بھئی منسوب الی لاہور، لاہور کی طرف منسوب۔ اور کبھی اسمِ فاعل بنا لیتے ہیں نسبت کے لیے جیسے لابنٌ، دودھ بیچنے والا، لبن سے بنایا۔ یا تامرٌ، اسمِ فاعل بنا لیا مولانا، تمر بیچنے والا۔ اور کبھی کبھار یہ نسبت تشبیہ کے لیے بھی لے آتے ہیں جیسے فاحمًا ہے۔ یہ فاحمٌ منسوب الی الفحم، فحم نہیں کوئلے والا، کوئلے والا نہیں کوئلے جیسے بھئی، کوئلے جیسا بھئی۔ تو یہ تشبیہ ہے اس کے اندر، کوئلے جیسا۔ وَمَرْسِنًا، اور مرسن ناک ہے، مُسَرَّجَا۔ جی، تو یہ غرابت کے بارے میں بتلا رہے ہیں۔ اب میں نے بتلایا تھا غریب دو قسم پر ہے۔ ایک غریب وہ کلمہ کہ جس کے لیے لغت کی طرف بھی رجوع نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ لغت... عربی میں وہ استعمال ہی نہیں، عربی کلمہ عربی میں وہ استعمال ہی نہیں ہوا، لغت میں آیا ہی نہیں۔ اور ایک غریب وہ ہے جو ہے تو عربی کلمہ لیکن اتنا قلیل الاستعمال ہے، اتنا قلیل استعمال ہوا ہے کہ عام عرب، خالص عرب بھی اس کو نہیں جانتے تو اس کو معنی دیکھنے کے لیے کس کی طرف رجوع کرتے ہیں؟ تو یہ بھی غریب ہے مولانا۔ اب یہ مسرجًا کا لفظ فصیح شاعر کے قول میں آیا، شعر میں آیا تو اب یہ اسمِ مفعول ہے مولانا، اسمِ مفعول۔ اور اسمِ مفعول مشتق ہوتا ہے، اس کے لیے مشتق منہ چاہیے۔ اور مشتق منہ کیا ہوگا؟ تسریج۔ تسریج سے بنے گا۔ لیکن ہم نے لغت کے اندر، عربوں نے دیکھا لغت کے اندر تو تسریج مل ہی نہیں رہا بھئی۔ اب اس کو غلط بھی نہیں کہہ سکتے مولانا۔ کیونکہ اس کو استعمال کون کر رہا ہے؟ ایک فصیح عربی شاعر کر رہا ہے تو ضرورت پڑی کہ کوئی اس کی ایسی توجیہ کی جائے کہ جس سے یہ کلمہ غلطی سے محفوظ ہو جائے۔ چنانچہ لغت میں دیکھا تو دو لفظ ملے: ایک سریج اور ایک سراج۔ تو یہ سَرَجَ کے مادے میں یہ دو لفظ ملے: سریج اور سراج۔ اب ان تو اس کی توجیہ کرتے ہیں ایسی توجیہ جس سے یہ غلطی سے بچ جائے۔ چنانچہ بعضوں نے یہ توجیہ کی کہ یہ سریج سے بنا ہے اور یہ نسبت تشبیہی ہے مولانا۔ نسبت کون سی ہے؟ تشبیہی۔ تو یہ کس... مسرّج کا کیا معنی ہے؟ كالسَّيْفِ السَّرِيْجِيِّ، سریجی تلوار جیسا فِي الدِّقَّةِ وَالاسْتِوَاءِ، باریکی میں اور سیدھا ہونے میں۔ اور بعضوں نے کہا کہ یہ سراج سے بنا ہے مسرّج، أَي كَالسِّرَاجِ، کہ ناک کس کی طرح ہے؟ سراج، چراغ کی طرح ہے فِي الْبَرِيقِ وَاللَّمَعَانِ، چمک دمک میں بھئی۔ اس پر اشکال ذکر کیا تھا کہ بھئی لغت کے اندر ہم دیکھتے ہیں تو وہاں تو سرّج کا مادہ ہمیں مل جاتا ہے۔ سَرَّجَ يُسَرِّجُ تَسْرِيجًا، وہ سَرَّجَ اللهُ وَجْهَهُ بھئی، یہ دعا استعمال ہوتی ہے کہ اللہ اس کے چہرے کو منور کر دے بھئی۔ تو اس سے مان لو، سیدھا سیدھا فعل موجود ہے، سرّج سے اسمِ مفعول بن گیا بھئی، اس میں اشکال ہی کوئی نہیں۔ کہتے ہیں بھئی، جواب دے رہے ہیں علامہ تفتازانی، دو جواب دیتے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی تمام ائمہ نے اس کو غریب قرار دیا ہے۔ کیا قرار دیا ہے؟ غریب۔ تو معلوم ہوا یہ سرّج کا جو کلمہ ہے یہ بھی نوپید ہے، یہ قدیم نہیں۔ کیونکہ قدیم ہوتا تو ان کو بھی ملتا اور وہ اس کو کوئی بھی غریب قرار... کیونکہ اگر اس سے مان لیا جائے پھر تو غرابت اس میں باقی ہی نہیں رہتی بھئی۔ یا مولانا، تو ایک جواب یہ کہ یہ نوپید کلمہ ہو سکتا ہے اس لیے۔ کہتے ہیں یا پھر ہو سکتا ہے سرّج لفظ یہ بھی کیا ہو؟ قدیم ہو، لیکن اس کے باوجود یہ غریب بمعنی ثانی کے ہے کہ جس میں عربوں کو بھی کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ تو پہلے احتمال کی صورت میں تو یہ کلمہ عربی ہے ہی نہیں یعنی استعمال ہی اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اور دوسری صورت میں عربی تو ہے، استعمال تو ہوا ہے لیکن اتنا قلیل ہے، اتنا قلیل ہے کہ عام، خالص عربوں کو بھی اب اس کا معنی معلوم نہیں، وہ لغت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد مخالفتِ قیاس کی مولانا تعریف کی تھی۔ مخالفتِ قیاس کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلمہ صرفی قوانین کے خلاف ہو۔ کہتے ہیں بھئی صرفی قوانین کے خلاف تو بہت سے کلمات آتے ہیں اور پھر بھی آپ ان کو کیا کہتے ہیں؟ فصیح کہتے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی صرفی قوانین سے مراد کیا ہے؟ واضع کی وضع کے خلاف ہونا بھئی۔ واضع کی وضع کے خلاف ہونا۔ تو اب جو کلمات، مثلاً آلٌ ہے، ماءٌ ہے، أَبَى يَأْبَى، عَوِرَ يَعْوَرُ، اب ان سب کے اندر یہ سارے اگرچہ صرفی قوانین کے تو خلاف ہیں لیکن واضع کی وضع کے مطابق ہیں، واضع نے ان کو وضع ہی ایسا کیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو الأَجْلَلُ مثال ہے مخالفتِ قیاس کی بھئی، کہ اس کو واضع نے تو وضع کیا ہے أَجَلَّ کس کے ساتھ؟ ادغام کے ساتھ، اور شاعر نے اس کو کس طرح استعمال کیا؟ فکِّ ادغام کے ساتھ۔ تو یہ واضع کی وضع کے خلاف ہوا مولانا، اس لیے فصاحت سے خارج بھئی۔ بعض علماء نے اور ایک قول ذکر کیا کہ یہ تین، آپ نے کہا تین عیوب نہیں ہونے چاہیے کلمے میں۔ کہتے ہیں ایک چوتھا عیب ہے وہ بھی اس کی بھی قید بڑھاؤ بھئی، اور وہ کیا ہے؟ کراہت فی السمع بھی نہیں ہونی چاہیے کلمے کے اندر بھئی۔ صاحبِ تلخیص فرماتے ہیں کہ یہ قید بڑھانے میں، اس سلسلے میں وہ فرماتے ہیں: وَفِيهِ نَظَرٌ، اس میں کیا ہے؟ نظر ہے، اشکال ہے، اس قید کو نہیں بڑھا سکتے بھئی۔ کیا اشکال ہے؟ وہ تو انہوں نے ذکر نہیں کیا، چنانچہ علامہ تفتازانی اس کی تقریر کریں گے۔ بعض علماء نے اس اشکال کی دوسری تقریر کی، اسے رد کریں گے۔ تو علامہ تفتازانی تقریر یہ کرتے ہیں کہ وَفِيهِ نَظَرٌ سے مراد یہ ہے کہ یہ جو کراہت فی السمع ہے یہ غرابت ہی میں داخل ہے۔ غرابت ہی میں داخل ہے۔ بھئی جب کلمے کا معنی ظاہر نہیں ہے، مانوس الاستعمال ہے ہی نہیں، آپ کبھی سنتے ہی نہیں ہیں اس کو، مدت العمر میں کبھی نہیں سنا بھئی، تو پھر اب وہ کلمہ آپ کو ناگوار گزرے گا۔ کیا گزرے گا؟ اگر ایک لفظ ہے اس کو آپ سنتے رہتے ہیں تو وہ ناگوار نہیں گزرے گا۔ تو یہ لہٰذا یہ غرابت ہی میں داخل ہے تو اس لیے اس کو علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعضوں نے وَفِيهِ نَظَرٌ کی اور تقریر کی تھی کہ بھئی یہ فِيهِ نَظَرٌ سے مراد یہ ہے کہ یہ کانوں کو ناگوار لگنا اس کا تعلق تو لفظ سے ہے ہی نہیں، اس کا تعلق تو آواز سے ہے۔ آواز اچھی ہے تو کانوں کو کلمہ اچھا لگے گا، آواز بری ہے تو کانوں کو کلمہ برا لگے گا۔ تو علامہ تفتازانی پھر اس کو بھی رد کرتے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی، اس کا تعلق آواز سے نہیں ہے کہ کلمہ آواز اچھی ہو تو اچھا لگے، بلکہ جرشیٰ کا لفظ جیسے اس شعر کے اندر آیا تھا مولانا، جرشیٰ کا لفظ قطعی طور پر کیا ہے؟ مستکرہ ہے مولانا، کانوں کو ناگوار گزرتا ہے، چاہے اس کو اچھی آواز والا کہے چاہے بری آواز والا۔ اور اس کا مقابل، اس کا مترادف لفظ جو ہے نفس بھئی۔ نفس اور جرشیٰ کا، جرشیٰ کا ایک معنی۔ نفس کا کلمہ ہے وہ چاہے اچھی آواز والا کہے چاہے بری آواز والا، دونوں صورتوں میں کانوں کو ناگوار نہیں گزرے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا اس کا تعلق آواز سے، کراہت فی السمع کا تعلق آواز سے نہیں ہے بھئی۔ جی، یہاں تک سب کو سمجھ میں آ گئی بات؟ کوئی بات پوچھنی تو نہیں بھئی؟ وَالْفَصَاحَةُ فِي الْكَلَامِ خُلُوصُهُ مِنْ ضَعْفِ التَّأْلِيفِ وَتَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ وَالتَّعْقِيدِ مَعَ فَصَاحَتِهَا فصاحت فی المفرد ختم ہوئی، آج فصاحت فی الکلام بتلائیں گے۔ کہتے ہیں فصاحت فی الکلام جو ہے وہ خالی ہونا ہے اس کا ضعفِ تالیف سے، تنافرِ کلمات سے اور تعقید کے ساتھ مَعَ فَصَاحَتِهَا، أَيْ مَعَ فَصَاحَةِ الْكَلِمَاتِ، ھَا ضمیر کس کو راجع؟ کلمات۔ ساتھ اس کے کلمات بھی فصیح ہونے چاہیے بھئی۔ یہ تین عیوب بھی نہ ہوں اور کلمات بھی سارے کیا ہوں؟ فصیح ہوں۔ تو کل چار قیدیں ہوئیں مولانا کلامِ فصیح میں، تین عدمی ہیں ایک وجودی ہے۔ عدمی کیا مولانا؟ نہ ہونی، کیا نہیں ہونا چاہیے اول؟ ضعفِ تالیف۔ دوسرا تنافرِ کلمات۔ تیسرا تعقید۔ یہ تین نہیں ہونے چاہیے اور ایک ہونا چاہیے، وہ کیا ہے؟ فصاحتِ کلمات۔ تو فصاحتِ کلمات وجودی اور باقی کیا ہیں؟ عدمی بھئی۔ وَهُوَ، اب ترکیب بتلا رہے ہیں علامہ تفتازانی آپ کو۔ وَهُوَ حَالٌ مِّنَ الضَّمِيرِ فِي خُلُوصِهِ۔ کہتے ہیں یہ خلوص فی خلوصہ، خلوصہ کے اندر جو ضمیر ہے یہ اس سے حال واقع ہو رہا ہے۔ تو خلوص کیا ہے؟ مضاف، اور ھَا ضمیر مضاف الیہ۔ تو یہ اس ھَا ضمیر مضاف الیہ جو ہے، جو کس کو راجع ہے؟ کلام کو۔ اس سے یہ مولانا حال واقع ہو رہا ہے کہ خالی ہو کلام اس حال میں مَعَ فَصَاحَتِهَا کہ اس کے کلمات کیا ہوں؟ فصیح ہوں، فصیح ہوں۔ بھئی یہ قید کیوں بڑھائی مَعَ فَصَاحَتِهَا کی؟ کہتے ہیں بتلا رہے ہیں آپ کو: وَاحْتَرَزَ بِهِ عَنْ مِثْلِ، اور احتراز کیا اس کے ذریعے، قید کے ذریعے مصنف نے کس سے؟ زَيْدٌ أَجْلَلُ، وَشِعْرُهُ مُسْتَشْزِرٌ، وَأَنْفُهُ مُسَرَّجٌ، اس جیسے جملوں سے بھئی۔ اس جیسے جملوں سے احتراز کیا، کس طرح؟ دیکھو زَيْدٌ أَجْلَلُ، یہ جملہ ہے۔ اب اس کے اندر دیکھو کیا تین قید، عیوب ذکر کیے؟ اس میں ضعفِ تالیف بھی نہیں مولانا اس جملے کے اندر، اس میں تنافرِ کلمات بھی نہیں ہے، اس میں تعقید بھی نہیں ہے۔ تو لیکن پھر بھی یہ کلامِ فصیح نہیں۔ کیوں؟ وہ چوتھی وجودی شرط نہیں ہے مولانا۔ کیا؟ کہ کلمات کیا ہونے چاہیے سارے؟ فصیح۔ اس کا مولانا أَجْلَلُ کا لفظ فصیح نہیں۔ تو اب دیکھو وہ تینوں عیوب تو اس میں نہیں ہیں لیکن کلام پھر بھی فصیح نہیں۔ اور یہ کس وجہ سے خارج، کیسے خارج ہوا؟ مَعَ فَصَاحَتِهَا کی قید کی وجہ سے تعریف سے خارج ہوا۔ اسی طرح شِعْرُهُ مُسْتَشْزِرٌ، یہ بھی اسی قید کی وجہ سے خارج۔ وَأَنْفُهُ مُسَرَّجٌ، یہ بھی اسی قید کی وجہ سے خارج کہ اس میں ایک کلمہ فصیح نہیں ہے مولانا، فصیح نہیں۔ وَقِيلَ، اور بعضوں نے یہ کہا گیا، یہ ترکیب کی، کہتے ہیں: وَهُوَ حَالٌ مِّنَ الْكَلِمَاتِ۔ بعض علماء نے کیا کہا مولانا؟ بھئی متن ذرا نکالو۔ بعض علماء نے کہا کہ یہ حال ہے۔ علامہ تفتازانی نے کیا ترکیب بتائی؟ مَعَ فَصَاحَتِهَا کس سے حال ہے؟ خلوصہ کی ھَا ضمیر سے۔ اور بعضوں نے کہا یہ جو پیچھے کلمات کا لفظ آیا یہ اس سے حال ہے۔ کس سے حال ہے؟ کلمات۔ تنافرِ کلمات بھئی، تنافرِ کلمات۔ تو یہ جو کلمات ہے اس سے حال ہے مولانا۔ اور جنہوں نے یہ قول ذکر کیا انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا چنانچہ کہ بھئی یہ درمیان میں وَالتَّعْقِيدِ آ گیا۔ وَالتَّعْقِيدِ اجنبی آ گیا مولانا۔ کیا آیا؟ اجنبی آیا۔ تو یہ مَعَ فَصَاحَتِهَا حال ہے کلمات سے تو اگر اس کو کلمات کے ساتھ مصنف ذکر کر دیتے تو بہتر ہوتا، یوں کہتے: وَتَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ مَعَ فَصَاحَتِهَا وَالتَّعْقِيدِ بھئی، وَالتَّعْقِيدِ۔ اس لیے کہ اس صورت میں فصل بالاجنبی آ رہا ہے مولانا، اور حال اور ذوالحال میں فصل بالاجنبی درست نہیں، پسندیدہ نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بہتر نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی فصل بالاجنبی کس لیے؟ کہتے ہیں دیکھیے مولانا دیکھیے۔ تعقی... وَالتَّعْقِيدِ خالی ہونا چاہیے کس سے؟ تعقید۔ تعقید کا عطف کس پر ہے؟ تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ، کس پر؟ تنافر پر۔ اور تنافر کا عطف کس پر ہے؟ ضعفِ تالیف پر۔ اور ضعفِ تالیف ہے مجرور اور جار مجرور مل کر متعلق ہے خلوص سے۔ کس سے متعلق ہے؟ خلوص سے۔ تو مولانا یہ خلوص عامل ہوا تعقید کے اندر، خلوص عامل ہوا ضعف کے اندر بھی، خلوص عامل ہوا تنافر کے اندر بھی، خلوص عامل ہوا کس کے اندر؟ تعقید کے اندر بھی، تعقید میں بھی۔ جبکہ تنا... جبکہ کلمات جو ہے ذوالحال اس میں عامل کون ہے؟ تنافر بھئی۔ تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ بھئی، یہ کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ تو کلمات میں عامل ہے تنافر اور تعقید میں عامل ہے خلوص، تو دونوں کے عامل الگ الگ تو یہ اجنبی ہوئے۔ یہ کیا ہوئے آپس میں؟ اجنبی۔ اور ذوالحال اور حال کے درمیان فصل بالاجنبی لازم آیا اس سے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ قائل کہتے ہیں مَعَ فَصَاحَتِهَا کو کلمات کے ساتھ ذکر کر دیتے تو پھر کیا تھا؟ بہتر تھا بھئی۔ وَقِيلَ هُوَ حَالٌ مِّنَ الْكَلِمَاتِ، اور کہا گیا ہے کہ یہ مَعَ فَصَاحَتِهَا حال ہے کلمات سے۔ يَرْحَمُكَ اللهُ۔ وَلَوْ ذَكَرَهُ بِجَنْبِهَا لَسَلِمَ مِنَ الْفَصْلِ بَيْنَ الْحَالِ وَذِيهَا۔ ذِيهَا أَيْ ذِي الْحَالِ، ھَا ضمیر راجع ہے حال کو، مؤنث سماعی ہے مولانا۔ اور اگر ذکر کر دیتے اس حال کو کس کو؟ مَعَ فَصَاحَتِهَا کو، بِجَنْبِهَا کلمات کے پہلو میں، کلمات کے ساتھ ہی، لَسَلِمَ مِنَ الْفَصْلِ، تو البتہ بچے رہتے فصل بین الحال وذو الحال، حال اور ذوالحال کے درمیان فصل سے بچے رہتے۔ بِالأَجْنَبِيِّ، اجنبی کے ساتھ مولانا، سمجھ میں آیا؟ وَفِيهِ نَظَرٌ، علامہ تفتازانی وَفِيهِ نَظَرٌ کہہ کر اس کو رد کرتے ہیں مولانا۔ کہتے ہیں بھئی اس کو کلمات سے حال بنانا درست نہیں، اس سے بڑی خرابی لازم آئے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ عجیب تحقیق کرتے ہیں علامہ تفتازانی بھئی۔ دیکھیے مولانا، متن پہ آئیے۔ مولانا یاد رکھو، حال جو ہوتا ہے وہ قید ہوتا ہے عاملِ ذوالحال کے لیے۔ حال قید ہوتا ہے کس کے لیے؟ عاملِ ذوالحال کے لیے۔ ذوالحال کے، عاملِ ذوالحال کے لیے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا، آیا میرے پاس زید اس حال میں کہ وہ سوار تھا۔ تو یہ راکبًا حال ہے کس سے؟ زید سے۔ اور زید کے اندر عامل کون؟ جَاءَ۔ اور تو یہ راکبًا قید ہوا کس کے لیے؟ جَاءَ کے لیے۔ قید ہوا جَاءَ کے لیے۔ تو حال قید ہوتا ہے عاملِ ذوالحال کے لیے۔ تو یہ اس کے لیے قید ہے، معلوم ہو اس کی مجیئت مقید بالرکوب ہے، وہ میرے پاس کس حالت میں آیا ہے؟ یعنی اس کے آنا مقید ہے کس کے ساتھ؟ سواری کے ساتھ۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات بھئی سب کو؟ اور اب مولانا تو معلوم ہوا یہ اس یہ مقید ہوا، جَاءَ کیا ہوا؟ مقید ہوا۔ اور اس پر نفی داخل ہو جائے تو آپ نے ضابطہ پڑھا تھا کہ مقید پر جب نفی داخل ہو تو وہ رفع مقید کا کرتی ہے یا قید کا؟ قید کا رفع کرتی ہے۔ تو کہتے ہیں یہاں بھی عبارت اسی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً میں کہتا ہوں: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا بھئی۔ بند کرو بھئی اس کو۔ جی، کیا بات ہو رہی تھی؟جی، اچھا جی، تو مولانا دیکھیے۔ اب بتائیے مولانا، کلمات کے اندر عامل کون؟ تنافر، تو کلمات ہے ذوالحال اور اس کے اندر عامل کون؟ تنافر۔ اور کلمات سے آگے آیا حال مَعَ فَصَاحَتِهَا، اس حال میں وہ کلمات کہ کیا ہوں؟ فصیح ہوں۔ تو مولانا عامل یہ مَعَ فَصَاحَتِهَا قید ہوئی کس کے لیے؟ تنافر کے لیے۔ کس کے لیے؟ تنافر کے لیے قید ہوئی۔ تو تنافر مقید ہوا مولانا، تنافرِ کلمات۔ اچھا، اور اس مقید پر نفی داخل ہوئی مولانا، خلوصہ، خلوص کا کیا معنی؟ خالی ہونا، نہ ہونا بھئی کسی چیز کا۔ تو اس پر نفی داخل ہوئی۔ تو کلام خالی ہو تنافرِ کلمات مع فصاحتہا سے۔ کلام خالی ہو تنافرِ کلمات مع فصاحتہا سے۔ معلوم ہوا اگر تنافرِ کلمات بدونِ فصاحتِ کلمات آ جائے تو بھی کلام فصیح رہے گا۔ تو بھی کیا رہے گا کلام؟ فصیح رہے گا۔ ہاں بھئی تم کھڑے ہو جاؤ بھئی ذرا۔ تم بھی کھڑے ہو جاؤ۔ تم کھڑے ہو بھئی، تم کھڑے ہو۔ بھئی دیکھو مولانا، تم بیٹھ جاؤ۔ یہ ہے مولانا تنافرِ کلمات مع فصاحتہا بھئی۔ تنافرِ کلمات ہے اور ساتھ کیا ہے کلمات؟ اور یہ ہے تنافرِ کلمات بدونِ فصاحتِ کلمات بھئی، بغیر فصاحت کے۔ تو تنافر دو قسم پر ہوا نا؟ ایک مع فصاحتہا، ایک بدونِ فصاحتہا۔ کلمات کے فصیح ہونے کے ساتھ اور ایک کلام کے فصیح ہونے کے بغیر بھئی۔ دو صورتیں ہوئیں، یہ بات تو سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ اب انہوں نے کہا کلام خالی ہو تنافرِ کلمات مع فصاحتہا سے، اب بیٹھ جاؤ۔ اس سے کلام کیا ہو؟ خالی ہو۔ تو ایک تنافر تو رہ گیا یا نہیں مولانا؟ اور وہ کیا ہے؟ تنافرِ کلمات بدونِ فصاحتہا۔ تو معلوم ہوا کوئی کلام ایسا ہو جو اس سے تو خالی ہو لیکن یہ دوسرا چاہے اس میں پایا بھی جائے پھر بھی وہ کیا رہے گا؟ فصیح رہے گا مولانا۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات سب کو؟ چلیے جی بیٹھ جائیے۔ تو خرابی سمجھ میں آئی سب کو؟ کہ تنافرِ کلمات بھی آ جائے گا، تو معلوم ہوا نفی قید کی ہوئی، نفی کس کی ہوئی؟ قید کی۔ معلوم ہوا تنافر پایا جائے لیکن فصاحتِ کلام... فصاحتِ کلمات نہ ہو، پھر بھی اس کلام کو کیا کہیں گے؟ فصیح۔ حالانکہ اس کو کوئی فصیح کہتا ہے؟ کوئی نہیں کہتا بھئی۔ دیکھو، بھئی کلمات کون ہے؟ ذوالحال۔ مَعَ فَصَاحَتِهَا اس سے کیا ہے؟ حال۔ اور حال قید ہوتا ہے کس کے لیے؟ عاملِ ذوالحال کے لیے۔ ذوالحال میں عامل کون؟ تنافر۔ تو معلوم ہوا یہ مَعَ فَصَاحَتِهَا قید ہے کس کے لیے؟ تنافر کے لیے۔ کس کے لیے؟ تنافر کے لیے۔ تو تنافر کیا ہوا؟ مقید۔ اور مقید پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ نفی۔ اور جب نفی مقید پر داخل ہو تو مقید کا رفع کرتی ہے یا قید کا؟ قید کا، قید کا رفع کرتی ہے۔ معلوم ہوا مَعَ فَصَاحَتِهَا نہیں ہونا چاہیے یعنی بدونِ فصاحت ہونا چاہیے۔ کلمات فصیح نہیں ہونے چاہیے، بغیر فصاحتِ کلمات کے، اور تنافر کی نفی ہوئی؟ تنافر کے... تنافر تو مقید تھا، مقید کی نفی تو قید کی ہو گئی۔ تو معلوم ہوا تنافر کلام میں پایا جائے لیکن فصاحتِ کلمات نہ ہو تو بھی یہ کلام کیا رہے گا؟ فصیح رہے گا۔ حالانکہ پھر اس کو کوئی فصیح کہتا ہے؟ نہیں کہتا، اب سمجھ میں آیا؟ وَفِيهِ نَظَرٌ لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ يَكُونُ قَيْدًا لِلتَّنَافُرِ، اور اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ اس صورت میں یہ قید ہو گا کس کے لیے؟ مَعَ الْكَلِمَاتِ، يَرْحَمُكَ اللهُ، یہ قید ہو گا مولانا مَعَ الْكَلِمَاتِ کس کے لیے؟ لِلتَّنَافُرِ، تنافر کے لیے قید ہو گا لَا لِلْخُلُوصِ، خلوص کے لیے قید نہیں ہو گا اس ترکیب پر۔ وَيَلْزَمُ، اور اس سے لازم آئے گا أَنْ يَّكُونَ الْكَلَامُ الْمُشْتَمِلُ عَلَى تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ الْغَيْرِ الْفَصِيحَةِ فَصِيحًا، کہ ایسا کلام جو مشتمل کہ ایسا کلام جو مشتمل ہو کس پر؟ تنافرِ کلمات پر، ایسے کلمات الْغَيْرِ الْفَصِيحَةِ جو کیا ہیں؟ غیر فصیحہ ہیں۔ غیر فصیح ہیں۔ ایسا کلام بھی کیا ہو گا؟ فَصِيحًا، فصیح ہو گا۔ حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے ترجمہ؟ لِأَنَّهُ، اس لیے کہ اس پر بھی یہ بات صادق آ رہی ہے أَنَّهُ خَالِصٌ عَنْ تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ، کہ یہ خالی ہے کس سے؟ تنافرِ کلمات سے، حَالَ كَوْنِهَا فَصِيحَةً، اس حال میں کہ اس کے کلمات کیا ہوں؟ فصیح ہوں۔ وہی بات بھئی۔ بھئی وہ جو دو فرد میں نے بنائے تھے۔ اب ایک کلام ہے اس کے اندر تو تنافرِ کلمات مع فصاحتہا کیا ہے؟ منتفی ہے، کیا ہے؟ منتفی ہے۔ لیکن فصاحتِ کلمات... تنافرِ کلمات بدونِ فصاحت، بدونِ... بدونِ فصاحتِ کلمات وہ کیا ہے اس میں؟ موجود ہے، کیا ہے؟ موجود ہے، موجود ہے۔ تو دیکھو اب اس کے اندر یہ جو انہوں نے ذکر کیا تھا تنافرِ کلمات مع فصاحتہا، اس سے تو کلام کیا ہوا؟ خالی ہوا، لیکن ایک تنافر تو ابھی بھی اس کے اندر باقی ہے۔ تو اب یہ بھی تعریف میں داخل ہو گیا کیونکہ اس پر صادق آ رہا ہے کہ یہ تنافرِ کلمات... یہ جو کلام ہے یہ تنافرِ کلمات مع فصاحتہا سے تو کیا ہے؟ خالی ہے۔ اس سے تو ہم نے کیا کر دیا ہے؟ خالی کر دیا ہے۔ نہیں سمجھ میں آئی بات؟ پھر کھڑے ہو جاؤ بھئی تم دونوں۔ دیکھو یہ کلام ہے، یہ کلام ہے اور اس میں کیا ہے؟ تنافرِ کلمات مع فصاحتہا، اس میں کیا ہے؟ تنافرِ کلمات مع فصاحتہا۔ اور اس میں یہ بھی کلام، اس میں تنافرِ کلمات بدونِ فصاحتہا ہے۔ اور ہم نے کیا کہا، اگر اس کو قید بنا دیں کہ یہ کلام خالی ہونا چاہیے کس سے؟ مع... تو یہ بیٹھ جاؤ، یہ اس سے تو ہوا خالی مولانا۔ اب یہ کلام ہے مولانا، اس پر صادق آ رہا ہے یا نہیں کہ یہ کلمہ... کہ یہ تنافرِ کلمات مع فصاحتہا سے خالی ہے؟ وہ اس میں ہے؟ نہیں۔ اور یہ... لیکن تنافر تو اس میں ہے اور یہ تعریف میں تو داخل ہو رہا ہے بھئی۔ تعریف میں تو کیا ہے؟ داخل ہو رہا ہے مولانا، چلیے بھئی بیٹھ جائیے۔ اس لیے کہ اس پر صادق آ رہا ہے کہ یہ خالص ہے، خالی ہے کس سے مولانا؟ تنافرِ کلمات سے، حَالَ كَوْنِهَا فَصِيحَةً، اس حال میں کہ وہ کیا ہوں؟ فصیح ہوں۔ اس لیے کہ یہ فصیح نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ غیر فصیح ہیں بھئی۔ فَافْهَمْ، یہ باریک بات ہے مولانا، گہری بات، اسے سمجھ لو اچھی طرح۔ فَالضَّعْفُ، ضعف مولانا، ضعفِ تالیف کسے کہتے ہیں بھئی؟ ابھی تک ترکیب بتلائی مولانا، اب ہر ایک کو الگ الگ بتائیں گے۔ فَالضَّعْفُ، ضعف یہ ہے: أَنْ يَّكُونَ تَأْلِيفُ الْكَلَامِ عَلَى خِلَافِ الْقَانُونِ النَّحْوِيِّ الْمَشْهُورِ کہ کلام جوڑا گیا ہو مولانا، علی خلاف... کلام کی تالیف کس پر ہو مولانا؟ مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو بھئی۔ مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو مولانا بَيْنَ الْجُمْهُورِ، جمہور کے درمیان جو مشہور نحوی قانون ہو اس کے خلاف ہو کلام بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مشہور قانون کی بات کی، ایک متفق علیہ قانون ہوتا ہے مولانا جس میں کسی کا اختلاف نہ ہو، اس کے خلاف اگر آ جائے پھر تو کلام ہی فاسد ہے سرے سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، اور اگر ہو تو متفق علیہ قانون تو نہیں ہے، مشہور نحوی قانون ہے اس کے خلاف آ جائے تو کلام صحیح البتہ ضعیف ہے مولانا، ضعفِ تالیف آ گیا اس میں۔ غیر فصیح ہوا۔ كَالإِضْمَارِ قَبْلَ الذِّكْرِ، جیسے مشہور نحوی قانون، جیسے اضمار... کلام میں کیا آئے؟ اضمار قبل الذکر آئے لَفْظًا وَّمَعْنًى وَّحُكْمًا۔ آپ جانتے ہیں مولانا اضمار قبل الذکر مولانا درست نہیں بھئی۔ ضمیر کا مرجع پہلے گزرنا چاہیے اور ضمیر کو بعد میں آنا چاہیے۔ لیکن مرجع کا ذکر کبھی لفظاً ہوتا ہے، کبھی معنیً ہوتا ہے، کبھی حکماً ہوتا ہے۔ لفظاً کی مثال جیسے مولانا ضَرَبَ زَيْ... جی؟ کیا ہوا؟ جیسے ضَرَبَ... ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا بھئی، ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا۔ اب غُلَامُهُ، یہ غلامہ کیا بن رہا ہے بھئی؟ مفعول، اور زیدٌ کیا بن رہا ہے؟ فاعل۔ اب غلامہ کی ھَا ضمیر کس کو راجع ہے؟ زید کو، لیکن لفظوں میں تو مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے زید کیا ہے؟ مقدم ہے تو یہ اضمار قبل الذکر نہیں مولانا، اضمار قبل الذکر نہیں۔ اچھا، مثلاً مولانا میں کیا کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ فَأَكْرَمْتُهُ، میرے پاس زید آیا پس میں نے اس کا اکرام کیا۔ بھئی اکرمتہ کی ھَا ضمیر کس کو راجع؟ اور زید کا ذکر پہلے ہی لفظوں میں آ گیا۔ تو یہ مرجع کی اس کی مثال ہے کہ جس کا ذکر پہلے لفظوں میں آ جائے۔ کبھی مرجع کا ذکر لفظوں میں تو نہیں آتا لیکن وہ معنی کے اعتبار سے گزر... پہلے مذکور ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن میں کیا آیا: اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی بھئی۔ عدل کرو تم، وہ عدل زیادہ قریب ہے تقویٰ کے، تو ھُوَ ضمیر راجع ہے عدل کو بھئی۔ اب اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی پیچھے تو عدل کا ذکر ہی نہیں ہوا تو یہ ھُوَ ضمیر کیسے عدل کو راجع؟ جواب یہ دیتے ہیں مولانا، کہ بھئی اِعْدِلُوْا فعل آ گیا اور اعدلوا فعل کے اندر عدل آیا یا نہیں آیا مولانا مصدر؟ عدل مصدر آ گیا تو ھُوَ ضمیر کس کو راجع کر دی؟ تو معنی کے اعتبار سے مرجع مذکور ہے، لفظوں کے اعتبار سے تو نہیں لیکن معنی کے اعتبار سے مذکور ہے۔ یا جیسے مولانا نحو کی کتابوں میں آپ پڑھتے ہیں بھئی، کبھی کبھی ضمیر نحویوں کو راجع کر دیتے ہیں، یا کبھی ضمیر عربوں کو راجع کر دیتے ہیں۔ بھئی پیچھے تو عرب کا ذکر نہیں آیا، ضمیر کیسے راجع کی؟ یا ھم ضمیر نحویوں کو کیسے راجع کر دی بھئی، نحویوں کا تو کوئی لفظ ہی نہیں گزرا عبارت میں؟ تو کہتے ہیں بھئی معنیً مذکور ہے مرجع، اس لیے کہ یہ کتاب کس کی چل رہی ہے؟ نحو کی، تو گویا ان کا ذکر آ چکا۔ عربوں کی طرف راجع کر دی بھئی، کہ کتاب کس زبان میں ہے؟ کس زبان کے قوانین پر ہے؟ عربی زبان کے، تو گویا عربوں کا ذکر معنیً پہلے ہی مذکور ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یا جیسے قرآن میں آیا ہے: وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ، تو یہاں پر میت کے ترکے کی بات ہو رہی ہے، وَلِأَبَوَيْهِ، ھَا ضمیر راجع ہے میت کو۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی میت کا ذکر تو آیا ہی نہیں پیچھے، لفظ ہی نہیں ذکر تو کیسے راجع ہے؟ تو کہیں گے کیا ہے؟ معنیً مرجع گزر چکا، اس لیے کہ ذکر چل رہا ہے وراثت کا اور وراثت وہیں آئے گی جہاں کیا ہو؟ میت ہو مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ سارے کس میں داخل ہیں؟ معنیً کہ ذکر ہو چکا ہے معنیً۔ اور کبھی مولانا مرجع حکماً مذکور ہو گا، یہ ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ میں ہو گا بھئی۔ ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ آپ جانتے ہیں بھئی، ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے، آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے۔ آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں: إِنَّهُ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ إِنَّهُ، یہ ھَا ضمیر ضمیرِ شان ہے۔ کہ یقیناً شان یہ ہے، کیا شان ہے؟ شان، حال مولانا حال، حالت یہ، حال یہ ہے، کیا حال ہے؟ زَيْدٌ قَائِمٌ کہ زید کیا ہے؟ کھڑا ہے۔ تو یہ ضمیرِ شان کہلاتی ہے اور آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے۔ آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے۔ تو یہ ھَا ضمیر میں نے ذہن میں راجع کی ایک شان، ایک حال کو۔ میں نے ذہن میں تعقل کیا قیامِ زید۔ کس چیز کا تعقل کیا؟ قیام، تو یہ ایک حال ہے مولانا۔ اب اس کی طرف میں نے ھَا ضمیر راجع کر دی۔ إِنَّهُ، حال یہ ہے، پھر فوراً ہی میں نے آگے جملے میں اس کو ذکر بھی کر دیا۔ وہ کیا، میں نے کس چیز کا تعقل کیا تھا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ تو ضمیرِ شان ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے، آگے آنے والا جملہ اس کی کیا کر دیتا ہے؟ تفسیر کرتا ہے۔ تو یہ ضمیر راجع ہے شان اور حال کو مولانا جس کا تعقل آپ نے کس میں کیا ہے؟ ذہن کے اندر کیا ہے۔ یہ مذکر کی ہو تو ضمیرِ شان کہلاتی ہے اور اگر مؤنث کی ہو: إِنَّهَا زَيْنَبُ قَائِمَةٌ، تو یہ ھَا ضمیر ضمیرِ قصہ کہلائے گی۔ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں صرف نام الگ الگ ہیں، مذکر کے لیے ضمیرِ شان، ضمیر کس کو راجع؟ شان کو، اور مؤنث میں إِنَّهَا، ھَا ضمیر راجع قصہ کو مولانا، یہ وہی چیز ہے۔ کہ قصہ یہ ہے، آپ نے قصے کا تعقل کیا، وہ کیا؟ قیامِ زینب کا آپ نے تعقل کیا اور پھر آگے تو ضمیر مبہم آئی، آگے پھر فوراً تفسیر کر دی کہ اس سے کیا مراد ہے؟ زینب کا قیام، وہ تفسیر ہے یہ جملہ اس کی بھئی۔ تو یہ حکماً مرجع مذکور ہے۔ ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ کیا ہے؟ حکماً، جی۔ تو کہتے ہیں بھئی کہ کلام کو جوڑنا مشہور... جمہور کے مابین مشہور نحوی قانون کے خلاف، یہ ضعفِ تالیف ہے۔ جیسے اضمار قبل الذکر آ جائے لفظاً، معنیً، حکماً، کسی بھی اعتبار سے مرجع کا ذکر پہلے نہیں تو یہ ضعفِ تالیف ہے۔ جیسے مولانا: ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا، ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا۔ تو غلامہ کیا بن رہا ہے؟ فاعل بن رہا ہے اور زیدًا کیا ہے؟ مفعول ہے، اور فعل کے فوراً بعد کون آیا کرتا ہے؟ فاعل، اور مفعول بعد میں آتا ہے۔ اور آپ نے غلامہ کی ھَا ضمیر کس کو راجع کی؟ زید کو، اور زید لفظوں میں بھی مؤخر اور رتبے کے اعتبار سے بھی مؤخر، کیونکہ وہ مفعول ہے اور غلامہ فاعل، تو غلامہ کا رتبہ لفظوں میں بھی مقدم اور رتبے کے اعتبار سے بھی مقدم۔ تو زید کا لفظ نہ لفظوں میں مقدم ہے اور نہ رتبے کے اعتبار سے، تو یہ اضمار قبل الذکر آیا مولانا۔ کیا آیا؟ اضمار قبل الذکر آیا مولانا لفظاً، معنیً، حکماً بھئی۔ تو یہ ضعفِ تالیف ہے۔ سب کو بات سمجھ میں آئی؟ وَالتَّنَافُرُ، تنافر یہ ہے مولانا: أَنْ تَكُونَ الْكَلِمَاتُ ثَقِيلَةً عَلَى اللِّسَانِ وَإِنْ كَانَ كُلٌّ مِّنْهَا فَصِيحًا کلمات ثقیل ہوں مولانا زبان پر اگرچہ ان میں سے ہر ایک فصیح ہو۔ تنافرِ کلمات اس کو کہتے ہیں کہ کئی فصیح کلمات ہیں مولانا، غیر فصیح نہیں، فصیح کلمات ہیں لیکن جب ان کو آپس میں جوڑا تو اب وہ زبان پر ثقیل ہو گئے۔ اس قسم کے کلمات ہیں جب وہ اکٹھے ہوئے تو زبان پر کیا ہو گئے؟ ثقیل ہو گئے، جیسے یہ شعر ہے مولانا: وَقَبْرُ حَرْبٍ بِمَكَانٍ قَفْرٍوَلَيْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ یہ قربَ یہ لیسَ کی خبرِ مقدم ہے اور قبرٌ آخر میں آ رہا ہے، یہ اس کا اسمِ مؤخر ہے مولانا۔ وَلَيْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ تو یہ مولانا دیکھو ثقیل ہے۔ قرب، قبر، حرب، قبر، یہ چار لفظ اکٹھے ہوئے یہاں پر مولانا۔ اور ان میں سے ہر ایک فصیح ہے، قرب بھی فصیح، قبر بھی فصیح، حرب بھی فصیح، لیکن جب یہ اکٹھے ہوئے تو زبان پر ثقیل ہے بھئی، ثقیل ہو گئے۔ یہ جنات کا شعر ہے مولانا، جنات کا کہا ہوا:وَلَيْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ... حرب کون؟ کہتے ہیں: وَهُوَ اسْمُ رَجُلٍ، ایک آدمی کا نام ہے۔ نہیں ہے حرب کی قبر کے قریب قبرُ، کوئی قبر بھئی۔ حرب کی قبر کے قریب کوئی قبر نہیں ہے۔ وَصَدْرُ الْبَيْتِ، یہ دوسرا مصرع ہے اور صدرِ بیت یوں ہے، شعر کا اول یوں ہے مولانا: وَقَبْرُ حَرْبٍ بِمَكَانٍ قَفْرٍ قبر حرب کی قبر کہاں پر ہے؟ قفر مکان میں ہے۔ قفر کیا معنی؟ کہتے ہیں: أَيْ خَالٍ عَنِ الْمَاءِ وَالْكَلَإِ، ایسی جگہ جو پانی اور گھاس وغیرہ سے خالی ہے، کلا گھاس۔ تو پانی سے اور گھاس وغیرہ سے خالی ہے یعنی کہیں لق و دق صحرا کے اندر اس کی قبر ہے مولانا۔ ذَكَرَ فِي عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ، ذکر کیا ہے مصنف نے اپنی کتاب عجائب المخلوقات کے اندر بھئی کہ کیا ذکر کیا ہے؟ أَنَّ مِنَ الْجِنِّ نَوْعًا، کہ جنات کی ایک نوع ہے يُقَالُ لَهُ الْهَاتِفُ، جسے کیا کہتے ہیں؟ ہاتف کہتے ہیں۔ فَصَاحَ وَاحِدٌ مِّنْهُمْ، پس چیخا ان جنات میں سے ایک عَلَى حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، کس پر؟ حرب بن امیہ پر۔ فَمَاتَ، تو وہ مر گیا، حرب بن امیہ۔ وہ چیخ ایسی زبردست چیخ تھی وہ اس سے مر گیا۔ فَقَالَ ذَلِكَ الْجِنِّيُّ هَذَا الْبَيْتَ، پس کہا اس جنی نے یہ شعر بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس جنی نے یہ شعر کہا۔ یا افراد کے لیے لگاتے ہیں بھئی، عرب اور عربیٌ کہتے نہیں؟ اچھا جی۔ تو جنٌّ اور جنّیٌّ، عربٌ اور عربیٌّ بھئی، ایک ہو تو عربی۔ اچھا جی، وَقَوْلُهُ... بھئی یہ حرب بن امیہ یہ والد ہیں، یہ جس کے بارے میں جنات... تو یہ جن چیخا اور یہ مر گئے، وہیں ویرانے میں قبر بنی تو اس پر اب یہ جنات کیا کر رہے ہیں؟ یہ جنی نے، جن نے یہ شعر کہا بھئی۔ یہ حرب بن امیہ یہ والد ہیں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، اور یہ دادا ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معاویہ رضی اللہ عنہ۔ معاویہ مولانا بڑا پیارا نام ہے بھئی، یہ نام رکھنا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑا پیارا نام ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، کاتبِ وحی ہیں مولانا، اور خلیفۃ المسلمین ہیں مولانا، اور اس نام کو رکھنا چاہیے بھئی، بڑا پیارا نام ہے۔ اس سے دشمنانِ اسلام کو تکلیف ہوتی ہے مولانا۔ تو چنانچہ یہ کہتے ہیں کہیں سے واپس آ رہے تھے سفر میں، کہیں کوئی سانپ نظر آیا تو سانپ کو انہوں نے مار دیا بھئی پاؤں سے، اور وہ اتفاق سے جن تھا بھئی۔ چنانچہ انہوں نے بھی پھر بدلے کے طور پر ان کو قتل کیا بھئی۔ اسی لیے کہتے ہیں بھئی حدیث میں آتا ہے کسی... بھئی یہ جنات جو ہوتے ہیں عموماً سانپ کی شکل میں ہوتے ہیں، سانپ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ تو کسی سانپ کو مارنے سے پہلے حدیث میں آتا ہے کہ تین دفعہ اسے کہو بھئی کہ اگر تو جن ہے یہاں سے چلا جا ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا، اگر پھر بھی نہ جائے تو پھر قتل کر دو، معلوم ہوا یہ جن نہیں ہے، جن۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جن، جن۔ چنانچہ غالباً حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے بارے میں غالباً یہ واقعہ ہے یا کسی اور عالم کا، تو وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوئی سانپ تھا، میں نے اسی طرح کیا اور اس کو قتل کر دیا بھئی۔ مار دیا، نہیں گیا، چنانچہ وہ جن تھا دراصل۔ رات ہوئی تو رات کو میں سویا، جنات آئے مجھے اٹھا کر لے گئے بھئی سارے۔ اور مجھے ایک جگہ پہنچایا، ایک بڑا دربار لگا ہوا ہے، بڑے جنات وہاں جمع ہیں اور بڑا جاہ و جلال ہے، بادشاہ تخت لگائے ہوئے بیٹھا ہے جنات کا اور مقدمات سن رہا ہے بھئی، سارے اپنے اپنے مقدمات پیش کر رہے ہیں اور وہ فیصلے کر رہا ہے۔ ان کی باری آئی تو یہ مجھے لے کر آگے بڑھے، بادشاہ نے پوچھا کیا بات ہے، کیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا کہ اس نے ہمارے فلاں ساتھی کو یا عزیز کو اس نے جن جو تھا اس کو اس نے مار ڈالا ہے، تو ہم اس لیے اس کو لے کر آئے ہیں بدلہ لینے کے لیے اس سے، ہمیں انصاف دلایا جائے۔ تو بادشاہ نے مجھ سے پوچھا کیا بات ہے، کیوں مارا آپ نے جن کو بھئی؟ میں نے کہا کہ میں نے تو کسی جن کو نہیں مارا، ہاں ایک سانپ کو میں نے مارا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ وہ جن ہے، میں نے تو اسے تین دفعہ حدیث کے مطابق کہا کہ اگر تو جن ہے تو یہاں سے چلا جا ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا، لیکن وہ پھر بھی نہیں گیا تو میں نے قتل کر دیا بھئی، میں نے تو حدیث کے مطابق کیا۔ کہتے ہیں میں نے یہ بات کی تو بادشاہ کے ساتھ ایک بہت بوڑھا جن بیٹھا تھا بھئی پاس، بہت بوڑھا جن اور اس کے کہتے ہیں اس نے جب میری بات سنی تو چہرے کو یوں جھکایا ہوا تھا، میری بات سنی تو چہرہ اوپر اٹھایا اور کہنے لگا کہ ہاں واقعی یہ شخص سچ کہتا ہے، جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تھی میں بھی اس مجلس میں موجود تھا بھئی۔ تو جنات کی عمریں بڑی طویل ہوتی ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑی طویل ہوتی ہیں۔ بلکہ کہتے ہیں مولانا آج بھی صحابہ جنات زندہ ہیں مولانا، جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی۔ بلکہ بڑی ثقہ روایات کے ساتھ سنا ہے، ثقہ روایات کے ساتھ، کہ جس طرح یہ عام انسانوں کی تبلیغی جماعتیں چلتی ہیں اسی طرح جنات کی بھی تبلیغی جماعتیں چلتی ہیں مولانا۔ ان کی بھی تبلیغی جماعتیں ہیں۔ اور ان کے امیر جو ہیں، ان میں جو شامل ہیں ان کی جو مجلس جیسے ان کی ہے مجلسِ شوریٰ، جس میں شامل ہیں اسی طرح ان کی، تو اس میں بعض صحابہ جنات شامل ہیں بھئی۔ صحابہ جنات، ماشاء اللہ، صحابہ جنات۔ ہاں وہ اپنا آپ کسی کو دکھاتے نہیں بھئی، کسی صورت میں نہیں دکھاتے۔ تو جنات کی عمریں... تو تبلیغی جماعت مولانا بڑی پیاری جماعت ہے بھئی، بڑی پیاری جماعت۔ اللہ کی محبوب جماعتوں میں سے ہے۔ بھئی اس جماعت کے ساتھ ہمیشہ اپنی محبت رکھو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کے ساتھ ہمیشہ اپنی محبت رکھو، ہمیشہ بھئی۔ بڑی اس جماعت کی بڑی برکات ہیں، بڑی رحمتیں ہیں بھئی، بڑی رحمتیں۔ بعض طلبہ کی عادت ہوتی ہے مولانا مذاق کرتے رہنا بھئی، نہیں بھئی مذاق کے لیے دنیا میں تھوڑی چیزیں ہیں بھئی، آپ تبلیغی جماعت کے ساتھ کیوں مذاق کرتے ہیں بھئی؟ حدیث میں آتا ہے بعض اوقات ایک آدمی ایک کلمہ کہہ دیتا ہے اس کا چھوٹ... چھوٹی سی بات ہوتی ہے، اسے پروا بھی نہیں ہوتی لیکن اس کلمے کی بدولت اسے جہنمی لکھ دیا جاتا ہے بھئی۔ اور بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات کر دیتا ہے لیکن اتنی قیمتی ہوتی ہے، اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی لیکن اس کلمے کی وجہ سے اس کو جنتی لکھ دیا جاتا ہے۔ تو معمولی سی بات ہو گی، آپ نے مذاق اڑایا حالانکہ محبوب بندوں کی جماعت ہے، کہیں ایسا نہ ہو غضبِ الٰہی حرکت میں آئے اور انسان اپنی عاقبت برباد کر لے۔ بھئی دنیا جہان میں چیزیں ہیں، آپ ہنسی مذاق کریں، تفریح کریں، اور چیزوں کے ساتھ کریں۔ تبلیغ والوں کا مذاق اڑانے کے لیے کیا دشمنان کم پڑ گئے ہیں جو اب آپ بھی مذاق کرتے ہیں بھئی؟ کوئی کبھی ایسا نہ کرے، سمجھ میں آیا؟ یہ ویسے بات کر رہا ہوں، مجھے تو یقین ہے آپ سب کی اس جماعت سے کیا ہو گی؟ محبت ہو گی بھئی، سب کی محبت ہو گی، محبت ہو گی۔ چنانچہ اس کے بارے میں تو حضرت شیخ رحمہ اللہ کا ایک خواب بھی بڑا عجیب خواب ہے، وہ پھر کبھی انشاء اللہ سناؤں گا بھئی، انشاء اللہ۔ نہیں انشاء اللہ پھر کبھی یاد کروائیں، پھر انشاء اللہ سناؤں گا بھئی۔ تو چنانچہ جنات کی بات... تو یہ عموماً سانپ کی شکل میں آتے ہیں۔ بھئی در... درسوں میں بھی جنات بڑے شامل ہوتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑے جنات شامل ہوتے ہیں۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے درس میں بڑے جنات شامل ہوا کرتے تھے بھئی، بڑے جنات آتے تھے۔ ایک مرتبہ سبق پڑھاتے پڑھاتے مولانا کہتے ہیں دروازے سارے بند ہیں، طالب علم بیان کر رہے ہیں بھئی۔ سب دروازے بند ہیں اندر سے اور حضرت شیخ سبق پڑھا رہے ہیں، طالب علم لکھ رہے ہیں، پڑھاتے پڑھاتے کہیں بے توجہی سے یوں دروازے کی طرف نظر اٹھی تو فرمانے لگے: اچھا بھئی آ گئے تم بھئی۔ پھر ایک دم چونک اٹھے کہ یہ میرے منہ سے کیا بات نکل گئی، پھر سبق کی طرف متوجہ ہو گئے۔ کہتے ہیں ہم حیران تھے دروازہ بند ہے، نہ کوئی آیا ہے نہ کوئی گیا ہے، یہ کیسی بات انہوں نے کی۔ معلوم ہوا کسی جن کو دیکھا تھا جو اس وقت آیا تھا۔ ایک مرتبہ ان کے ہاں ملنے والے آئے کوئی، تو وہ جب کہتے ہیں ہم ملنے کے لیے آئے، حضرت شیخ رحمہ اللہ بیٹھک میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص پہلے سے بیٹھا باتیں کر رہا ہے، ہم آئے بیٹھے رہے کچھ دیر، پھر اس کے بعد ہم رخصت ہوئے چلے گئے، وہ شخص اسی طرح بیٹھا باتیں کر رہا تھا ان کے ساتھ۔ تو چند دن کے بعد پھر جب ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں کہیں پھر ذکر آیا تو حضرت شیخ فرمانے لگے: جانتے ہو وہ شخص کون تھا جو اس دن تم آئے تھے بیٹھا ہوا تھا؟ ہم نے کہا نہیں، فرمانے لگے وہ ایک جن تھا بھئی۔ وہ مجھے ملنے آیا تھا، ایک جن تھا بھئی۔ بہت سے جنات کو مسلمان بھی کیا۔ ایک کا تو واقعہ ہمیں بھی سنایا ایک مرتبہ کہ ایک جن آیا تھا، ہم سب گھر والے غالباً گاؤں گئے ہوئے تھے تو کہتے ہیں میں صحن میں بیٹھا ہوا تھا گھر کے، اور کوئی ڈاکٹر آئے تھے ان کو بھی میں نے اندر بلا لیا، اندر بیٹھے ہوئے ہیں صحن کے اندر باتیں کر رہے ہیں تو ایک جن آیا، ایک بہت بڑے اژدہے کی صورت میں آیا بھئی۔ اور آ کر کہنے لگا کہ مجھے مسلمان کر دیجیے، میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اس کو کلمہ پڑھایا اور اس کا نام عبد الرحمن رکھ دیا، پھر وہ چلا گیا بھئی۔ ہاں کہتے ہیں ڈاکٹر کو وہ نظر نہیں آ رہا تھا بھئی، صرف مجھے نظر آ رہا تھا، آیا اور پھر چلا گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بات چل رہی تھی بھئی امیہ... حرب بن امیہ کی بھئی، حرب بن امیہ۔ تو بعضوں نے یہ واقعہ ذکر کیا بھئی، بعضوں نے اور واقعہ ذرا تفصیل سے ذکر، دو تین واقعات ذکر کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ کسی سوقِ عکاظ سے واپس آ رہے تھے، میلہ ایک لگتا تھا مولانا عرب کے اندر، وہاں سے واپس آ رہے تھے، ان کا کوئی ساتھی بھی ان کے ساتھ تھا، حرب بن امیہ بھی تھے مولانا۔ راستے میں کہیں پودے دیکھے، جھاڑیاں دیکھیں، بڑی خوبصورت اچھی جھاڑیاں تھیں، کوئی خاص قسم کے پودے ہوں گے، تو حرب بن امیہ اپنے ساتھی سے کہنے لگے کہ کیوں بھئی یوں نہ کریں، ان جھاڑیوں کو جلا دیتے ہیں اور باقی پھر وہ جڑیں وغیرہ اور یہ چیزیں اکھاڑ کر ہم لے جائیں گے اپنے ساتھ، یہ بڑا قیمتی پودا ہے یا فلاں ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں انہوں نے آگ جلائی، جھاڑیوں کو آگ لگا دی، آگ آہستہ آہستہ پھیلنے لگی، پوری جھاڑیوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ جوں جوں آگ پھیلتی گئی کہتے ہیں اچانک جھاڑیوں میں سے جو ہے چیخ و پکار کی، آہوں اور سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں مولانا، پھر چیخ و پکار شروع ہو گئی، بڑے بہت زیادہ جیسے بین ہو رہا ہو، چیخ رہے ہیں پکار رہے ہیں کوئی، اور پھر اس میں سے سفید سفید سانپ نکلنے لگے جو ہوا میں اڑ رہے تھے، ارد گرد چکر لگا رہے تھے۔ اور پھر چنانچہ وہ کوئی جنات کا مسکن تھا، کوئی جنات وغیرہ جل گئے وغیرہ، تو انہوں نے پھر کیا کیا؟ حرب بن امیہ کو اور اس کے ساتھی کو بھی وہیں پر قتل کر دیا، تو ان کی قبر وہ ویرانے میں بنی، پھر انہوں نے یہ شعر کہے بھئی: وَلَيْسَ قُرْبَ قَبْرِ... یا مولانا، بعض تاریخ ابن کثیر جلد 2 صفحہ 227 میں ایک اور واقعہ ذکر ہے مولانا۔ امیہ بن ابی الصلت کہتے ہیں پہلا شخص تھا جس نے "بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ" پر تلفظ کیا، "بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ" کہا بھئی۔ کہتے ہیں یہ کہیں آ رہے تھے تو ساتھ سفر میں تھے، ساتھ حرب بن امیہ بھی تھے بھئی۔ اور حرب بن امیہ نے کسی سانپ کو مار ڈالا اس سفر میں، اور وہ سانپ دراصل جن تھا بھئی۔ چنانچہ شام ہوئی تو شام کے قریب ایک جنی ظاہر ہوئی بھئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی بھئی، لاٹھی یا لکڑی تھی، اور وہ جنی ظاہر ہوئی اور اس قافلے... اس کا کوئی وہ عزیز ہو گا بھئی، اس جنی نے ساروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا بڑے غصے میں، اور پھر زور سے اپنی لاٹھی زمین پہ ماری تو جتنے اونٹ تھے سارے بدک گئے مولانا، ادھر ادھر جس کا منہ اٹھا بھاگ گیا بھئی۔ بڑی مشکل سے قافلے والوں نے... پھر وہ جنی غائب ہو گئی۔ بڑی مشکل سے قافلے والوں نے جنات کو اکٹھا... اونٹوں کو اکٹھا کیا، لا کر جمع کیا، پھر وہ جنی ظاہر ہوئی اور برا بھلا کہہ رہی ہے اور پھر اس نے زور سے وہ اپنی چھڑی زمین پر ماری، پھر اونٹ ادھر ادھر بدک گئے، بھاگ گئے۔ پھر اکٹھے کر کے لائے، اکٹھے کریں وہ پھر ظاہر ہوتی، پھر لکڑی مارتی، پھر وہ اونٹ ادھر ادھر دوڑ پڑتے، قابو میں ہی کوئی نہیں آ رہا، بڑے پریشان ہوئے کہ یہ کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں، اندھیرا ہوتا چلا گیا، اندھیرا ہو گیا ہے اب کیا کریں گے بھئی؟ چنانچہ وہاں سے چل پڑے کہ کوئی ایسی جگہ جہاں اس مصیبت سے پناہ مل جائے کسی طرح، دور انہیں ایک آگ جلتی ہوئی نظر آئی، آگ کے پاس پہنچے تو دیکھا ایک بڑا بوڑھا جن خیمے کے... خیمہ لگا ہوا ہے اس کے دروازے پر بیٹھا ہوا ہے، پراگندہ حال ہے۔ اور تو اس بوڑھے جن سے انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح مصیبت میں پھنس گئے ہیں، ایک جنیا ہے جو ہمیں چھوڑ ہی نہیں رہی، تنگ کر رہی ہے اس طرح، ہم کیا کریں؟ اس نے کہا کہ اس دفعہ اگر وہ آئے تو تم کہنا: "بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ"۔ چنانچہ اب جب وہ آئی تو امیہ بن ابی الصلت نے کیا کہا؟ "بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ" کہا، تو وہ جنیا بھاگ گئی، غائب ہو گئی۔ لیکن پھر جنات نے پلٹ کر حملہ کیا اور وہ جو سانپ کو مارا تھا حرب بن امیہ نے، چنانچہ بدلے میں حرب بن امیہ کو قتل کر دیا اور وہاں سے چلے گئے بھئی۔ تو چنانچہ وہاں ویرانے میں قبر بنی اور اس پر پھر انہوں نے یہ شعر کہا بھئی: وَلَيْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو تنافرِ کلمات کہ کلمات یہ ہیں تو ہر ایک فصیح لیکن یہ جمع ہو گئے تو اب ان کا زبان پر ادا کرنا ثقیل ہے۔ كَرِيمٌ مَّتَى أَمْدَحْهُشاعر کہتا ہے میرا ممدوح جو ہے وہ ایسا سخی ہے، مَتَى أَمْدَحْهُ، جب میں اس کی مدح بیان کرتا ہوں، أَمْدَحْهُ یہ جزا ہے، تو میں اس کی مدح بیان کرتا ہوں، وَالْوَرَى مَعِي، اس حال میں کہ مخلوق میرے ساتھ ہوتی ہے۔ أَمْدَحْهُ ثانی کیا ہے؟ جزا ہے مولانا، جزا۔ وہ ایسا سخی ہے کہ جب میں اس کی مدح کرتا ہوں تو اس حال میں مدح کرتا ہوں کہ ساری مخلوق کیا ہوتی ہے؟ میرے ساتھ ہوتی ہے، وریٰ مخلوق بھئی۔ یعنی کہنا یہ چاہتا ہے کہ میرا ممدوح جو ہے بادشاہ وہ اتنا نیک ہے، اس کے احسانات و انعامات لوگوں پر اور مخلوق پر اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی اگر ایک شخص بھی اس کی تعریف شروع کرتا ہے تو سارے اس کی تعریف کیا کر دیتے ہیں؟ سب اس کی تعریف شروع کر دیتے ہیں۔ وَإِذَا مَا لُمْتُهُ لُمْتُهُ وَحْدِي یہاں بھی لُمْتُهُ ثانی جو ہے یہ جزا ہے، اور جب میں اس کو ملامت کرتا ہوں، برا بھلا کہتا ہوں، لُمْتُهُ وَحْدِي، تو میں اس کو ملامت کرتا ہوں اس حال میں کہ میں اکیلا ہوتا ہوں۔ یعنی اور کوئی بھی ملامت میں میرا ساتھ نہیں دیتا کیونکہ اس نے کبھی کسی کو نقصان پہنچایا ہی نہیں۔ تو احسان کی بات کرو تو سارے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور ملامت کروں تو کوئی میرے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔ فَالْوَاوُ فِي وَالْوَرَى لِلْحَالِ، کہتے ہیں وَالْوَرَى جو شعر میں آیا تھا اس میں واؤ کس لیے ہے؟ حال کے لیے ہے۔ وَهُوَ مُبْتَدَأٌ، اور وریٰ کیا ہے مولانا؟ مبتدا ہے۔ وَخَبَرُهُ مَعِي، اور اس کی خبر کیا ہے؟ معي، خبر ہے اس کی جو دوسرے مصرعے میں آ رہی ہے۔ وَإِنَّمَا مَثَّلَ بِمِثَالَيْنِ، یہاں سے سوال کا جواب، سوال یہ کہ باقی سب کی ایک ایک مثال ذکر کر رہے ہیں، اس کی دو مثالیں کیوں ذکر کیں مصنف نے؟ تو بتلائیں گے آپ کو مولانا، ایک میں تنافر بہت زیادہ ہے اور ایک میں تنافر ذرا کم درجے کا ہے۔ جو شعر پہلے گزرا وہ جنات والا اس میں تنافر کیا ہے؟ بہت زیادہ، اور دوسرے کے اندر تنافر کم درجے کا ہے۔ وَإِنَّمَا مَثَّلَ بِمِثَالَيْنِ، دو مثالیں ذکر کیں، لِأَنَّ الأَوَّلَ مُتَنَاهٍ فِي الثِّقَلِ وَالثَّانِيَ دُونَهُ، اس لیے کہ پہلا انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہے ثقل کے اندر وَالثَّانِيَ دُونَهُ اور ثانی کیا ہے؟ اس سے کم درجے کا ہے۔ لِأَنَّ مَنْشَأَ الثِّقَلِ فِي الأَوَّلِ نَفْسُ اجْتِمَاعِ الْكَلِمَاتِ، منشا کا معنی سبب، اس لیے کہ ثقل کا سبب اول میں کیا ہے مولانا شعرِ اول میں؟ کلمات کا اجتماع ہے۔ وَفِي الثَّانِي، اور ثانی کے اندر، اِجْتِمَاعُ حُرُوفٍ مِّنْهَا، ان کلمات کے کچھ حروف کا اجتماع ہے۔ بھئی پہلے میں تو قرب، قبر، حرب، قبر، یہ سارے اکٹھے ہو گئے جس کی وجہ سے کیا ہوا؟ ثقل ہوا پیدا اور بہت زیادہ ثقل پیدا ہوا۔ جبکہ دوسرے میں أَمْدَحْهُ مولانا، یہ ح اور ہ اکٹھے ہوئے اور دونوں حرفِ حلقی ہیں تو جس کی وجہ سے کلمے میں تھوڑا سا ثقل آیا، تھوڑا سا ثقل۔ لیکن اتنا زیادہ نہیں کہ وہ مخل بالفصاحت ہو، معمولی ثقل آیا۔ لیکن پھر أَمْدَحْهُ دوبارہ آ گیا مولانا، تو اس تکرار کی وجہ سے اب وہ ثقل پہلے سے دگنا ہو گیا اور یہ مخل بالفصاحت ہوا، مخل بالفصاحت۔ وَفِي الثَّانِي اجْتِمَاعُ حُرُوفٍ مِّنْهَا وَهُوَ فِي تَكْرِيرِ أَمْدَحْهُ، اور وہ کیا ہے؟ أَمْدَحْهُ کی تکرار میں ہے۔ دُونَ مُجَرَّدِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْحَاءِ وَالْهَاءِ، صرف ح اور ہ کا جمع ہونے کی وجہ سے ثقل نہیں ہے مولانا۔ اس لیے کہ صرف ح اور ہ کا ہونے کی وجہ سے اتنا ثقل پیدا ہو جائے کہ کلمہ فصاحت سے خارج ہو جائے، پھر تو یہ تو قرآن میں بھی واقع ہوا ہے۔ معلوم ہوا صرف ح اور ہ کے جمع ہونے سے ثقل نہیں آیا، ہاں تھوڑا سا ثقل آ گیا تھا لیکن فصاحت سے خارج نہیں تھا۔ لیکن جب دوبارہ وہی کلمہ پھر آ گیا تو اب کیا ہوا؟ ثقل دگنا ہوا، اب فصاحت سے خارج۔ لِوُقُوعِهِ فِي التَّنْزِيلِ، بوجہ اس کے واقع ہونے کے تنزیل، قرآن میں۔ مِثْلُ: فَسَبِّحْهُ، جیسے کہ فَسَبِّحْهُ قرآن میں آیا ہے مولانا، ح اور ہ اکٹھے ہیں۔ فَلَا يَصِحُّ الْقَوْلُ، پس بِأَنَّ مِثْلَ هَذَا... مِثْلَ هَذَا الثِّقَلِ مُخِلٌّ بِالْفَصَاحَةِ، لہٰذا یہ کہنا صحیح نہیں کہ یہ ثقل مخل بالفصاحت ہے۔ یعنی ایک دفعہ ح اور ہ اکٹھے ہو جائیں تو یہ مخل بالفصاحت نہیں، ہاں دو دفعہ ہوئے تو اب کیا بن گئے؟ مخل بالفصاحت۔ ایک دفعہ اس لیے نہیں کیونکہ قرآن میں بھی آیا ہے تو پھر لازم آئے گا قرآن کا مشتمل ہونا کس پر؟ کلمۂ غیر فصیح پر، اور کوئی مسلمان یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ یہ کہے کہ قرآن میں کیا آیا ہے؟ کلمۂ غیر فصیح۔ ذَكَرَ الصَّاحِبُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبَّادٍ، ذکر کیا ہے صاحب نے، الصاحب مولانا۔ الصاحب یہ کون ہیں؟ اسماعیل بن عباد۔ اسماعیل بن عباد بہت بڑے ادیب، اریب اور علمِ بلاغت کے ماہر گزرے ہیں مولانا، عربیت کے ماہر مولانا، اور یہ الصاحب کے نام سے مشہور تھے، الصاحب۔ الصاحب کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس زمانے کے ایک اور امامِ دنیا تھے مولانا عربیت کے، ادب کے اور بلاغت کے، استاد ابن العمید ان کا نام تھا، استاد ابن العمید، آگے ذکر آ رہا ہے مولانا۔ تو یہ استاد ابن العمید کے ساتھ رہا کرتے تھے ہمیشہ، ان کی مصاحبت میں رہتے، تو اسی وجہ سے یہ کس نام سے مشہور ہو گئے؟ الصاحب، یعنی یہ ان کے ساتھ رہنے والے ہیں، ساتھ رہنے والے۔ اور یہ وزیر تھے مولانا، بڑے وزیر تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور بڑے وزیر تھے، اور یہ استاد ہیں مولانا فنِ بلاغت کے امام جو ہیں شیخ عبد القاہر جرجانی کے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور بڑے وزیر تھے۔ قدیم زمانے میں مولانا وزراء بھی کیا ہوتے تھے؟ علماء ہوتے تھے، بڑے بڑے علماء بھئی۔ تو وہ ذکر کرتے ہیں اسماعیل بن عباد، كَأَنَّهُ... ابنِ عَبَّادٍ بھئی، ع کے فتحہ کے ساتھ، أَنَّهُ أَنْشَدَ هَذِهِ الْقَصِيدَةَ بِحَضْرَةِ الأُسْتَاذِ، بِحَضْرَةِ الأُسْتَاذِ ابْنِ الْعَمِيدِ، کہ انہوں نے ذکر... پڑھا یہ قصیدہ کس کے سامنے؟ استاد ابن العمید کی موجودگی میں یہ قصیدہ پڑھا۔ فَلَمَّا بَلَغَ هَذَا الْبَيْتَ، جب وہ اس شعر تک پہنچے، قَالَ لَهُ الأُسْتَاذُ، تو استاد ابن العمید نے ان سے کہا: هَلْ تَعْرِفُ فِيهِ شَيْئًا مِّنَ الْهُجْنَةِ؟ کیا تو جانتا ہے اس شعر کے اندر کوئی چیز ہجنت میں سے؟ یعنی عیب میں سے، ہجنت کس کو کہتے ہیں؟ عیب۔ کیا اس شعر میں کوئی عیب تجھے معلوم ہے؟ یہ شعر پڑھا كَرِيمٌ مَّتَى أَمْدَحْهُ۔ قَالَ: نَعَمْ، تو صاحب فرمانے لگے: جی ہاں، مُقَابَلَةُ الْمَدْحِ بِاللَّوْمِ، شعر میں مدح آیا ہے پہلے مصرعے میں، أَمْدَحْهُ، اور دوسرے میں لُمْتُهُ، لوم کا ذکر آیا، ملامت کا، حالانکہ مدح کے مقابلے میں ملامت نہیں آتی بلکہ مدح کے مقابلے میں کیا آئے گی؟ جی؟ ذم، مذمت آئے گی یا ہجو آئے گی، کیا آئے گی؟ ہجو آئے گی۔ نَعَمْ مُقَابَلَةُ الْمَدْحِ بِاللَّوْمِ، مدح کا مقابلہ ہے، لوم کے ساتھ کیا گیا ہے، وَإِنَّمَا يُقَابَلُ بِالذَّمِّ أَوِ الْهِجَاءِ، اور اس کا مقابلہ کس سے کیا جاتا ہے؟ ذم اور ہجا کے ساتھ۔ فَقَالَ الأُسْتَاذُ: غَيْرَ هَذَا... غَيْرَ هَذَا أُرِيدُ، کہ میں اس کے علاوہ کچھ چاہتا ہوں بھئی، یہ عیب نہیں اس کے علاوہ کوئی اور عیب بتاؤ۔ فَقَالَ الصَّاحِبُ: لَا أَدْرِي غَيْرَ ذَلِكَ، اس کے علاوہ تو میں کچھ نہیں جانتا، یہ ایک عیب مجھے معلوم ہے کہ یہ کہ مقابلہ صحیح نہیں۔ فَقَالَ الأُسْتَاذُ، تو استاد ابن العمید فرمانے لگے: هَذَا التَّكْرِيرُ فِي أَمْدَحْهُ أَمْدَحْهُ، یہ جو تکرار آیا ہے کس کے اندر؟ أَمْدَحْهُ أَمْدَحْهُ، یہ ھَا آگے آخر میں آ رہا ہے، خَارِجٌ عَنْ حَدِّ الاعْتِدَالِ، یہ تکرار خارج ہے حدِ اعتدال... حدِ اعتدال سے، وَ... نَافِرٌ كُلَّ التَّنَافُرِ، اور یہ کیا ہے؟یعنی تنافر کرنے والا ہے كُلَّ التَّنَافُرِ، أَيْ تَنَافُرًا قَوِيًّا، بڑا قوی تنافر۔ یہ جو أَمْدَحْهُ أَمْدَحْهُ کے اندر آیا ہے تکرار، یہ حدِ اعتدال سے خارج ہے اور اس میں بڑا قوی، کامل تنافر پایا جا رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو هَذَا التَّكْرِيرُ ہے مبتدا اور خَارِجٌ کیا ہے؟ اس کی خبر ہے بھئی۔ اب درمیان والا بات پڑھیں کہ یہ جو تکرار آ رہا ہے أَمْدَحْهُ أَمْدَحْهُ کے اندر، مَعَ الْجَمْعِ بَيْنَ الْحَاءِ وَالْهَاءِ، جمع کیا گیا ہے ح اور ہ کو، وَهُمَا مِنْ حُرُوفِ الْحَلْقِ، اور یہ حروفِ حلق سے ہیں اور یہ خارج ہیں حدِ اعتدال سے اور ان میں بڑا قوی، کامل تنافر پایا جا رہا ہے۔ فَأَثْنَى عَلَيْهِ الصَّاحِبُ، تو ان کی تعریف کی کس نے؟ صاحب نے، ثنا بیان کی ان کی بھئی۔ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
69 approved lectures · 16 of 69