Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-069

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 46
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی، خیر کل ہم نے خلافِ مقتضائے ظاہر کے سلسلے میں قلب پڑھا مولانا۔ قلب کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلام کے ایک جز کو دوسرے جز کی جگہ رکھ دیا جائے اور دوسرے جز کو پہلے جز کی جگہ رکھ دیا جائے۔ اس کو قلب کہتے ہیں۔ جی، جیسے ”عَرَضْتُ النَّاقَةَ عَلَى الْحَوْضِ“، اصل میں یہ کیا تھا؟ ”عَرَضْتُ الْحَوْضَ عَلَى النَّاقَةِ“۔ جی، کیونکہ جس پر پیش کیا جا رہا ہے اس کا ذی شعور ہونا ضروری ہے۔ اور اس کو علامہ سکاکی نے قبول کیا ہے۔ علامہ سکاکی فرماتے ہیں قلب جیسا بھی ہو قابلِ قبول ہے، اس سے کلام کے اندر جاذبیت اور عمدگی پیدا ہوتی ہے۔ اور بعض علماء نے اس کو مطلقاً رد کیا ہے کہ یہ مطلوب کے خلاف ہے۔ تو مصنف فیصلہ فرماتے ہیں ان دونوں کے درمیان کہ حق یہ ہے کہ اگر قلب کے اندر کوئی اعتبارِ لطیف ہو علاوہ اس جاذبیت کے جو خود قلب ہی سے پیدا ہوئی ہے، اس کے علاوہ کوئی اور اعتبارِ لطیف ہو تو قبول کیا جائے گا ورنہ قبول نہیں ہوگا۔ جیسے: ”وَمَهْمَهٍ مُغْبَرَّةٍ أَرْجَاؤُهُ ... كَأَنَّ لَوْنَ أَرْضِهِ سَمَاؤُهُ“ کہ بہت سے لق و دق لق و دق صحرا کہ جو غبار آلود ہیں ان کے کنارے، گویا کہ ان کی زمین کا رنگ ان کے فضا کے رنگ جیسا ہے۔ تو یہاں پر زمین اصل ہے بھئی غبار گرد و غبار کے اندر، اور فضا میں گرد و غبار چھایا تو اب اس کو تشبیہ دیں گے کس کے ساتھ؟ زمین کے ساتھ۔ لیکن شاعر نے عکس کیا بھئی، زمین کو مشبہ بنایا اور فضا کے رنگ کو کیا بنایا؟ مشبہ بہٖ بنایا۔ تو یہ قلب کیا اور یہ مبالغے کے لیے ایسا کیا، یہ بتلانے کے لیے کہ اتنا زیادہ غبار ہے اتنا زیادہ غبار فضا میں کہ گویا وہ اصل ہی بن گیا ہے۔ اور اگر کہتے ہیں کوئی اعتبارِ لطیف نہ ہو جیسے: ”فَلَمَّا أَنْ جَرَى سِمَنٌ عَلَيْهَا ... كَمَا طَيَّنْتَ بِالْفَدَنِ السِّيَاعَا“ جب بہہ پڑا موٹاپا اس اونٹنی پر جیسے کہ لیپ دیا ہو آپ نے محل کو گارے پر۔ تو یہاں قلب کیا، گارے کو لیپا جاتا ہے محل پر نہ کہ محل کو گارے پر۔ جی، تو کہتے ہیں یہاں یہ کوئی اعتبارِ لطیف نہیں ہے، لہٰذا یہ قلب کیا ہے؟ مردود ہے۔ شارح نے آپ کو بتلایا کہ بھئی اس میں بھی اعتبارِ لطیف ہو سکتا ہے، مبالغے کے طور پر اس نے یہ کہا ہو، بتلانا یہ چاہتا ہو کہ موٹاپا بے انتہا زیادہ موٹی ہو گئی اونٹنی۔ تو جیسے گارے کی تہہ بے انتہا موٹی ہو گئی تو وہ بالکل اصل بن گئی اور محل کیا بن گیا؟ فَرْع بن گیا اس کے لیے۔ تو ایسے ہی اونٹنی کے اندر بھی موٹاپا بہت زیادہ آیا، مبالغہ کے لیے اس کو ذکر کر دیا۔ جی۔ اس کے بعد احوالِ مسند ہم پڑھ رہے تھے۔ احوالِ مسند، آپ نے پڑھا کہ مسند کو کبھی ترک کیا جاتا ہے۔ یہاں لفظِ ترک ذکر کیا اور ماقبل میں حذف ذکر کیا تھا مسند الیہ میں بھئی۔ مسند الیہ میں کیا کہا تھا؟ ”أَمَّا حَذْفُهُ“، یہاں کیا کہا؟ ”أَمَّا تَرْكُهُ“، کیونکہ وہ کلام کا جزِ اعلیٰ تھا۔ تو وہاں پر گویا اس کو پہلے لے کر آئے پھر اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا، اور یہ جزِ ادنیٰ ہے تو گویا اس کو لے کر ہی نہیں آئے، سرے سے ہی چھوڑ دیا۔ جی، تو ترک کیا جاتا ہے کبھی مسند کو، جیسے: ”فَإِنِّي وَقَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“ بے شک میں اور قیار میرا جو گھوڑا ہے مدینہ منورہ کے اندر اجنبی ہیں۔ تو یہاں پر ”قَيَّارٌ غَرِيبٌ“، قیار کی خبر محذوف ہے، مسند کو حذف کیا۔ کیونکہ اس کا ذکر کرنا عبث تھا، کیونکہ ایک مرتبہ ”لَغَرِيبُ“ ”إِنِّي“ کی خبر آ رہی ہے۔ جب ”إِنَّ“ کی خبر آ رہی ہے تو دوسرے ”غَرِيبٌ“ کو ذکر کرتے تو کیا لازم آتا؟ عبث، تکرار ہوتا بھئی، ضرورت نہیں تھی، اس کو حذف کر دیا۔ اور یہ ”قَيَّارٌ“ جو ہے اس کا عطف ہے ”إِنَّ“ کے محل پر۔ ”إِنَّ“ کے جو اسم ہوتا ہے میں نے بتایا تھا اس پر لفظوں پر بھی حمل کرنا عطف کرنا درست ہے اور اس کے محل پر عطف کرنا بھی درست ہے۔ وجہ یہ کہ ”إِنَّ“ جو ہے اس کے دو رخ ہیں: ایک اعتبار سے یہ موجود، ایک اعتبار سے یہ معدوم۔ موجود اس اعتبار سے کہ یہ رفع بھی دے رہا ہے، نصب بھی دے رہا ہے، اپنے اسم کو نصب دے رہا ہے اور خبر کو رفع، تو موجود ہے اثر کر رہا ہے۔ اور معنی کے اعتبار سے معدوم ہے کہ جملے کے اندر کلام کے اندر اس کی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں آئی یعنی پہلے بھی جملہ تھا اب بھی جملہ ہے، صرف تھوڑی تاکید آ گئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ”أَنَّ“ جو ہوتا ہے وہ لفظوں میں بھی اثر کرتا ہے اور معنی میں بھی اثر کرتا ہے کہ جملے کو جملہ نہیں رہنے دیتا بلکہ کیا بنا دیتا ہے؟ مفرد بنا دیتا ہے۔ تو یہاں چونکہ ”إِنَّ“ لفظاً موجود، معنًی غیر موجود، تو لفظوں کی رعایت کرتے ہوئے کبھی ہم ”إِنَّ“ کے اسم پر عطف کرتے ہیں، نصب پڑھتے ہیں معطوف پر، اور کبھی کبھار محل پر عطف کرتے ہیں تو رفع پڑھتے ہیں۔ تو ”قَيَّارٌ“ کا عطف ہے محل پر۔ تو ”قَيَّارٌ“ کا عطف ہے محل پر اور اس کی خبر محذوف ہے۔ اس ”لَغَرِيبُ“ کو ”قَيَّارٌ“ کی خبر نہیں بنا سکتے، وجہ کیا ہے؟ کہ اس کے اوپر لام داخل ہو رہا ہے اور لام ”إِنَّ“ کی خبر پر داخل ہوتا ہے، مبتدا کی خبر پر داخل نہیں ہوتا۔ تو یہاں جی، اگلی مثال بھئی: ”نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا وَأَنْتَ بِمَا عِنْدَكَ رَاضٍ“ تو اصل میں تھا: ”نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا رَاضُونَ وَأَنْتَ بِمَا عِنْدَكَ رَاضٍ“۔ تو اول سے مسند یعنی خبر کو حذف کیا کیونکہ ثانی موجود وہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تو اول مثال سے فرق یہ کہ وہاں خبر تھی ثانی کی محذوف، یہاں اول کی محذوف ہے۔ اسی طرح ”زَيْدٌ مُنْطَلِقٌ وَعَمْرٌو“، اصل میں کیا تھا؟ ”زَيْدٌ مُنْطَلِقٌ وَعَمْرٌو مُنْطَلِقٌ“۔ تو ”عَمْرٌو“ کی خبر حذف کی کیونکہ ماقبل کا ”مُنْطَلِقٌ“ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اور اسی طرح ”خَرَجْتُ فَإِذَا زَيْدٌ“، تو یہ ”إِذَا“ مفاجاتیہ ہے اور اس کے بعد خبر عموماً کیا ہوتی ہے؟ یہ دلالت ہی وجود پر کرتا ہے تو خبر کو حذف کر لیتے ہیں: ”فَإِذَا زَيْدٌ مَوْجُودٌ“۔ ہاں، کوئی خاص قرینہ ہو تو وجود کے بجائے اور خبر بھی آپ نکال سکتے ہیں۔ جیسے دروازے سے نکلنا ہے یہاں پر ذکر، تو کیا نکال سکتے ہیں آپ؟ ”فَإِذَا زَيْدٌ بِالْبَابِ“ یا ”إِذَا زَيْدٌ حَاضِرٌ“۔ اور جیسے کہتے ہیں: ”إِنَّ مَحَلًّا وَإِنَّ مُرْتَحَلًا“، ہمارے لیے آنا ہے: ”إِنَّ لَنَا مَحَلًّا وَإِنَّ لَنَا مُرْتَحَلًا“۔ تو ”لَنَا“ خبر، مسند کو حذف کیا، حذف کیا۔ کیونکہ عرب میں یہ استعمال عام ہے کہ جب ”إِنَّ“ مکرر آئے اس کا اسم بھی مکرر ہو تو اس صورت میں کیا کرتے ہیں؟ خبر کو حذف کر لیتے ہیں، حتیٰ کہ امام سیبویہ نے اپنی عظیم کتاب کے اندر اس کے لیے باقاعدہ ایک الگ باب منعقد کیا اور اس کا کیا نام رکھا؟ ”بَابُ إِنَّ مَالًا وَإِنَّ وَلَدًا“۔ ”وَقَوْلِهِ تَعَالَى: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي“ ”قُلْ لَوْ أَنْتُمْ“۔ یہ اصل میں عبارت تھی: ”قُلْ لَوْ تَمْلِكُونَ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي“۔ یہ پہلے ”أَنْتُمْ“ کی جگہ کیا تھا؟ ”تَمْلِكُونَ“ مولانا، عبارت یوں ہے: ”قُلْ لَوْ تَمْلِكُونَ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي“۔ تو یہ پہلا مفسَّر اور دوسرا اس کی تفسیر کے لیے لے کر آئے، اور مفسَّر اور تفسیر جب بالکل ایک ہوں تو دوسرے کا ذکر کرنا کیا ہوتا ہے؟ عبث۔ جب ”تَمْلِكُونَ“ پہلے بھی آیا، دوبارہ اسی ”تَمْلِكُونَ“ کے ساتھ آپ تفسیر کر رہے ہیں، ہاں لفظوں میں کچھ فرق ہو پھر ٹھیک ہے۔ جیسے آپ کرتے رہتے ہیں علامہ تفتازانی لفظ کا معنی آپ کو بتلاتے ہیں ”أَيْ“ کے ذریعے، تو ماقبل میں مفسَّر ہوتا ہے اور ”أَيْ“ کے بعد کیا ہوتی ہے؟ تفسیر ہوتی ہے، لیکن دونوں میں فرق ہوتا ہے آپ دیکھتے ہیں بھئی۔ ایک ہی لفظ اسی کو دوبارہ ذکر کرتے ہیں یا نئے کو بھئی؟ نئے کو، وہاں فرق ہوتا ہے۔ لیکن اگر دونوں بعینہٖ ایک ہوں تو دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں۔ تو یہاں پر ایک ”تَمْلِكُونَ“ پہلے ہے، دوبارہ ”تَمْلِكُونَ“ آ رہا ہے تو عبث لازم آ رہا تھا کہ مفسَّر کو بھی ذکر کریں کیونکہ آگے تفسیر موجود ہے تو مفسَّر کو حذف کر دیا۔ پہلے ”تَمْلِكُونَ“ کو کیا کیا؟ حذف کیا جو مسند تھا اور اس کے اندر واؤ فاعل تھا، ”تَمْلِكُونَ“ کے اندر واؤ فاعل جس کو ہم کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ ضمیرِ منفصل ”أَنْتُمْ“ سے۔ ”تَمْلِكُونَ“ کون سا صیغہ ہے؟ جمع مذکر حاضر۔ تو ”تَمْلِكُونَ“ میں فاعل ضمیرِ متصل تھی جمع مذکر حاضر کی۔ تو ”تَمْلِكُونَ“ کو حذف کیا، کیوں حذف کیا؟ کیونکہ آگے تفسیر آ رہی تھی، جب تفسیر آ رہی تھی اس کو حذف کیا۔ تو مسند کو حذف کیا اور اس کے اندر جو ضمیر تھی اس کو نکال لیا۔ جب ضمیر کو نکالا تو وہ متصل رہ گئی یا منفصل بن گئی؟ منفصل بن گئی کیونکہ ”تَمْلِكُونَ“ تو حذف ہوا، تو وہ ”أَنْتُمْ“ یہاں رکھ دی مولانا۔ تو عبارت کیا ہوئی؟ تو اسی لیے علمائے نحو لکھتے ہیں کہ یہ ”لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ“، یہ ”تَمْلِكُونَ“... اور کیوں ایسا کرنا پڑا؟ کیوں کہتے ہیں یہ کہ ”أَنْتُمْ“ اصل میں کیا تھا؟ ”تَمْلِكُونَ“۔ وجہ یہ کہ ”لَوْ“ حرفِ شرط ہے اور شرط ہمیشہ... حرفِ شرط ہمیشہ فعل پر داخل ہوتا ہے، اسم پر اسم پر داخل نہیں ہوتا۔ وجہ یہ کہ شرط کا... شرط آتی ہے کسی فعل کو معلق کرنے کے لیے، کسی چیز کو معلق کرنے کے لیے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، تو دخولِ دار کے ساتھ معلق کیا کس چیز کو؟ وقوعِ طلاق کو۔ تو طلاق معلق ہوئی، تو شرط سے ایک چیز کو معلق کیا جاتا ہے اور تعلیق ہمیشہ زمانے کے اندر ہوتی ہے اور زمانہ کس میں پایا جاتا ہے؟ فعل میں پایا جاتا ہے۔ تو اس لیے شرط حروفِ شرط ہمیشہ فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر تو یہ اسم پر داخل ہو رہا ہے، تو معلوم ہوا کہ یہ اصل میں پہلے کیا تھا؟ فعل تھا، تو اس کو حذف کیا گیا۔ عبارت سمجھ میں آئی سب کو؟ اور اللہ کا یہ قول ہے کہ اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے، تو تم ان کو خرچ نہ کرتے ختم ہونے کے خوف سے۔ ”فَقَوْلُهُ أَنْتُمْ لَيْسَ بِمُبْتَدَإٍ“ یہ ”أَنْتُمْ“ کہتے ہیں مبتدا نہیں ہے۔ کیوں؟ ”لِأَنَّ لَوْ إِنَّمَا تَدْخُلُ عَلَى الْفِعْلِ“ اس لیے کہ ”لَوْ“ کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر داخل ہوتا ہے۔ تو یہ جو ”أَنْتُمْ“ ہے: ”بَلْ هُوَ فَاعِلُ فِعْلٍ مَحْذُوفٍ“ یہ فاعل ہے فعلِ محذوف کا۔ ”وَالْأَصْلُ“ اصل میں یوں تھی عبارت: ”لَوْ تَمْلِكُونَ تَمْلِكُونَ“۔ ”فَحُذِفَ الْفِعْلُ احْتِرَازًا عَنِ الْعَبَثِ“ فعل کو حذف کیا گیا کس سے بچتے ہوئے؟ عبث سے، ”لِوُجُودِ الْمُفَسِّرِ“ کیونکہ مفسِّر یہاں موجود ہے۔ ”ثُمَّ أُبْدِلَ مِنَ الضَّمِيرِ الْمُتَّصِلِ الضَّمِيرُ الْمُنْفَصِلُ“ پھر بدلا گیا ضمیرِ متصل کو کس سے؟ ضمیرِ منفصل سے، ”عَلَى مَا هُوَ الْقَانُونُ عِنْدَ حَذْفِ الْعَامِلِ“ بناء بر اس قانون کے... بناء بر قانون کے جبکہ کس کو حذف کیا جائے؟ عامل، جب عامل فعل کو حذف کیا جائے تو مسند الیہ کو منفصل سے بدل کر وہاں رکھتے ہیں۔ ”فَالْمُسْنَدُ الْمَحْذُوفُ هَاهُنَا فِعْلٌ“ پس وہ مسند جو یہاں پر محذوف ہے وہ فعل ہے، ”وَفِيمَا سَبَقَ اسْمٌ أَوْ جُمْلَةٌ“ اور ماقبل کے اندر اسم تھا یا جملہ تھا۔ ماقبل میں اسم تھا یا جملہ۔ بھئی ماقبل میں کیا تھا؟ ”إِنَّ لَنَا مَحَلًّا وَإِنَّ لَنَا مُرْتَحَلًا“، ”لَنَا“ جار مجرور ہے، اور جار مجرور متعلق ہوتا ہے۔ بعض کے نزدیک اسم نکالتے ہیں اس کا متعلق، بعض کے نزدیک فعل نکالتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ”ثَابِتٌ“ نکالو، بعض کہتے ہیں ”ثَبَتَ“ نکالو۔ تو ”ثَابِتٌ“ نکالتے تو محذوف کیا بنتا؟ اسم۔ اور اگر ”ثَبَتَ“ نکالتے تو محذوف کیا بنتا؟ جملہ بن جاتا۔ جی، یہاں پر ”لَوْ تَمْلِكُونَ أَنْتُمْ“، یہاں صرف فعل محذوف ہے، جملہ نہیں محذوف۔ کیونکہ مسند... مسند الیہ کو ہم نے ذکر مسند الیہ کو ذکر کر دیا ”أَنْتُمْ“ کو اور مسند کو صرف کیا کر دیا؟ حذف کر دیا، حذف کر دیا۔ جبکہ وہاں پر ”ثَابِتٌ“ پورا حذف، تو لیکن ”ثَابِتٌ“ تو ہے ہی مفرد، اور ”ثَبَتَ“ اگر مان لیں ”ثَبَتَ“ پورا حف... حذف، ”ثَبَتَ“ کے اندر کیا موجود؟ ضمیر۔ تو فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں ماقبل مثال سے یہ فرق ہے کہ وہاں پر اسم محذوف ہے یا جملہ محذوف ہے، اور یہاں پر فعل محذوف ہے۔ فرق سمجھ میں آیا؟ ”وَقَوْلِهِ تَعَالَى: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ“ اسی طرح ”فَصَبْرٌ جَمِيلٌ“ ہے، یہ بھی مثال ہے مولانا مسند کو یہاں حذف کیا گیا ہے۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: ”يَحْتَمِلُ الْأَمْرَيْنِ“، یہ دونوں امر... چیزوں کا احتمال رکھتی ہے یہ مثال۔ کیا دو چیزیں؟ کہتے ہیں: ”حَذْفُ الْمُسْنَدِ أَوِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“، وہ حذفِ مسند ہے یا حذفِ مسند الیہ ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جی، یہ دروازے کھولو۔ قرآن میں کیا آتا ہے؟ ”فَصَبْرٌ جَمِيلٌ“۔ اب بحث ہماری چل رہی ہے مسند کو کبھی حذف کیا جاتا ہے، ترک کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں یہ جو ”صَبْرٌ جَمِيلٌ“ ہے، اس میں یہ امکان بھی ہے کہ یہ کیا ہو؟ مبتدا ہو، مسند الیہ ہو اور اس کی خبر یعنی مسند کیا ہو؟ محذوف ہو۔ اور یہ امکان بھی ہے کہ یہ خبر ہو اور اس کا مبتدا محذوف ہو۔ تو یہاں دونوں یہ صورتیں جائز ہیں: خبر... اس کو مبتدا بنا لیں، خبر محذوف نکال لیں، یا اس کو خبر بنا لیں اور مبتدا محذوف۔ تو اس میں دونوں چیزوں کا احتمال ہے بھئی، مسند الیہ کا حذف بھی اور مسند کا بھی۔ ”أَيْ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ أَجْمَلُ“، ”فَصَبْرٌ جَمِيلٌ أَجْمَلُ“۔ یہ ہم نے کیا بنایا اس کو؟ مبتدا، جی؟ مبتدا بنایا اور حذف کس کو کیا؟ خبر، مسند کو۔ صبرِ جمیل زیادہ بہتر ہے، صبرِ جمیل بہتر ہے کس سے؟ صبرِ غیرِ جمیل سے، ”مِنْ صَبْرٍ غَيْرِ جَمِيلٍ“، یہاں محذوف ہے مولانا، کیونکہ آپ جانتے ہیں اسمِ تفضیل تین طریقوں سے استعمال ہوتا ہے۔ تو صبرِ جمیل بہتر ہے صبرِ غیرِ جمیل سے، غیرِ جمیل سے۔ ”أَوْ فَأَمْرِي صَبْرٌ جَمِيلٌ“، یہاں کیا بنایا آپ نے؟ اس کو خبر بنا دیا اور ”أَمْرِي“ یہاں پر مبتدا محذوف نکال لیا یعنی کیا فرمایا: ”أَمْرِي“ میرا معاملہ کیا ہے؟ صبرِ جمیل ہے یعنی مجھے صبرِ جمیل ہی اختیار کرنا چاہیے۔ تو یہاں کس لیے ایسا کیا؟ کہتے ہیں: ”فَفِي الْحَذْفِ تَكْثِيرُ الْفَائِدَةِ“، حذف کے اندر فائدہ بھی بڑھ گیا، ”بِإِمْكَانِ حَمْلِ الْكَلَامِ عَلَى كُلٍّ مِنَ الْمَعْنَيَيْنِ“ کہ امکان نکل آیا کہ آپ حمل کریں کلام کا دونوں معانی میں سے جس پر بھی چاہیں۔ اگر ذکر کر دیا جاتا ”صَبْرٌ جَمِيلٌ أَجْمَلُ“، تو متعین ہو جاتا کہ یہ ”صَبْرٌ جَمِيلٌ“ مبتدا ہے اور ”أَجْمَلُ“ اس کی خبر۔ اور اگر یہ ذکر کیا جاتا ”فَأَمْرِي صَبْرٌ جَمِيلٌ“، ”أَمْرِي“ مبتدا، ”صَبْرٌ جَمِيلٌ“ اس کی خبر، تو اس صورت میں متعین ہو جاتی کہ یہی چیز مراد ہے۔ لیکن جب حذف کر دیا، اب دونوں صورتیں نکل آئیں، آپ کے لیے یہ راستہ بھی نکل آیا، آپ چاہیں اس کو مبتدا بنا لیں، آگے خبر محذوف نکال لیں، اور آپ چاہیں تو اس کے اندر اس کو خبر بنا لیں اور اس کے لیے کیا نکال لیں؟ مبتدا محذوف نکال لیں۔ تو دو صورتیں نکل آئیں، وسعت آ گئی بھئی کلام میں۔ ”بِإِمْكَانِ حَمْلِ الْكَلَامِ“ ساتھ امکان کے، مح... ساتھ کلام کو محمول کرنے کے امکان کے ساتھ ”عَلَى كُلٍّ مِنَ الْمَعْنَيَيْنِ“ دونوں معانی پر، ”بِخِلَافِ مَا لَوْ ذُكِرَ“ بخلاف اس کے کہ اگر اس کو ذکر کیا جاتا، ”فَإِنَّهُ يَكُونُ نَصًّا فِي أَحَدِهِمَا“ تو اس صورت میں وہ ذکر کرنا نص بن جاتا ایک صورت میں، ایک کے ساتھ۔ ”وَلَا بُدَّ لِلْحَذْفِ مِنْ قَرِينَةٍ“ اور کہتے ہیں حذف بھئی، حذف کے لیے کسی قرینے کا ہونا بھی ضروری ہے۔ قرینہ نہیں ہوگا تو ہمیں کیا پتہ چلے گا یہاں پر کیا محذوف ہے؟ ”وَلَا بُدَّ لِلْحَذْفِ مِنْ قَرِينَةٍ“ اور ضروری ہے حذف کے لیے قرینے ہو، ایسا قرینہ بھی ”دَالَّةٍ عَلَيْهِ“ جو اس حذف پر کیا کر رہا ہو؟ دلالت کر رہا ہو، ”لِيُفْهَمَ الْمَعْنَى“ تاکہ معنی کو سمجھا جائے۔ ”كَوُقُوعِ الْكَلَامِ جَوَابًا لِسُؤَالٍ مُحَقَّقٍ“ قرینہ تو کبھی مثلاً مولانا یہ ہوگا کہ یہ جواب ہوگا کلام سوالِ محقق کا، یا جواب ہوگا سوالِ مقدر کا۔ یعنی سوال اگر عبارت میں ذکر ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ سوالِ محقق، اور اگر سوال عبارت میں ذکر نہیں بلکہ محذوف ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ سوالِ مقدر کہیں گے۔ تو عبارت کے اندر جب سوال کیا جاتا ہے تو سوال ہی قرینہ ہوتا ہے، سوال ہی بتلاتا ہے کہ آگے خبر کیا محذوف ہے۔ جیسے دیکھیے مثال دیکھیے، بات سمجھ میں آئے گی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ“ اگر آپ سوال کریں ان سے مشرکین سے کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ ”لَيَقُولُنَّ اللَّهُ“ تو وہ کیا کہیں گے؟ اللہ ہی نے پیدا کیا۔ تو دیکھو کیا کہیں گے؟ اللہ، صرف اللہ ذکر کیا گیا، مسند الیہ ذکر، مسند محذوف۔ عبارت اصل میں یوں: ”خَلَقَهُنَّ اللَّهُ“، وہ کیا کہیں گے؟ ان کو اللہ نے پیدا کیا۔ تو ”خَلَقَهُنَّ“ کو حذف کر لیا، کیوں حذف کر لیا؟ کیونکہ یہ سوال میں موجود تھا۔ انہوں نے کس چیز کے بارے میں سوال کیا؟ کہ کس نے پیدا کیا، تو پیدا کرنا تو خود ہی سوال میں ذکر ہو گیا تو جواب میں اس کو ذکر نہیں کیا گیا۔ تو سوالِ محقق یہ معنی بھئی۔ ”أَيْ خَلَقَهُنَّ اللَّهُ فَحُذِفَ الْمُسْنَدُ“ مسند کو حذف کر دیا گیا، ”لِأَنَّ هَذَا الْكَلَامَ“ اس لیے کہ یہ کلام جو ہے، ”عِنْدَ تَحَقُّقِ مَا فُرِضَ مِنَ الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ“ جبکہ فرض کر لیا جائے تحقق ہاں، ”عِنْدَ تَحَقُّقِ مَا فُرِضَ“ جبکہ ثابت ہو جائے وہ چیز جس کو فرض کیا گیا ہے، اس لیے کہ یہ کلام ”عِنْدَ تَحَقُّقِ“ جب کیا ہو جائے؟ ثابت ہو جائے کیا چیز؟ ”مَا فُرِضَ“ جس کو کیا کیا گیا ہے؟ فرض، کیا چیز فرض کی گئی ہے؟ کہتے ہیں: ”مِنَ الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ“ یعنی شرط اور جزا۔ قر... قران میں یہ ہے نا: ”وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ“، اگر آپ ان سے سوال کریں، تو شرط جزا کی صورت بنائی گئی۔ کہتے ہیں اگر اس شرط جزا کو جو ہم نے فرض کیا ہے، اس کا تحقق بھی ہو جائے، کیا ہو جائے؟ تحقق بھی ہو جائے، ”يَكُونُ جَوَابًا عَنْ سُؤَالٍ مُحَقَّقٍ“ تو اس صورت میں یہ لفظِ اللہ جواب بن جائے گا کس چیز کا؟ سوالِ محقق کا یعنی جو ثابت ہوگا واقع میں بھی، خارج میں بھی۔ کیا کہا انہوں نے بھئی؟ حذف کیا ہے؟ جس کے لیے کیا چاہیے؟ قرینہ، کیونکہ خلافِ اصل ہے، اصل تو یہ ہے ذکر ہونا چاہیے، آپ نے حذف کیا تو حذف کے لیے قرینہ چاہیے۔ قرینہ تو کبھی سوالِ محقق ہوگا اور کبھی سوالِ مقدر۔ سوالِ محقق کی مثال یہ آیت تھی ”وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ“۔ کہ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہاں شرط اور جزا ذکر کی گئی، اگر آپ ان سے سوال کریں تو یہ جواب میں کیا کہیں گے؟ اللہ کہیں گے، اللہ کہیں گے۔ تو کہ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ جو سوال ہے، یہ جو شرط اور جزا ہے، اگر واقع میں بھی ایسا کیا جائے ان سے یہ سوال کیا جائے، تو سوال کیا ہو جائے گا؟ سوال محقق ہو جائے گا، اس کا وجود خارج میں آ جائے گا۔ جب خارج میں وجود آ جائے گا تو یہ سوال قرینہ بن جائے گا اور اس کے جواب میں پھر کیا آئے گا صرف؟ اللہ آئے گا۔ لیکن یہ تقریر علامہ تفتازانی کی درست نہیں مولانا۔ یہ تو پھر ہر سوالِ مقدر کو واقع میں فرض کیا جا سکتا ہے۔ ہر سوالِ مقدر کو کیا ہے؟ تو مقدر تو کوئی رہے گا ہی نہیں، سب کے سب کیا بن جائیں گے؟ محقق بن جائیں گے۔ آگے مثال آ رہی ہے: ”لِيُبْكَ يَزِيدُ ضَارِعٌ“، آپ نے یہ شعر پڑھا ہوا ہے، چاہیے کہ رویا جائے یزید پر، سوال پیدا ہوا: کون روئے اس پر؟ تو جواب کیا دیا گیا؟ اس پر ضارع روئے، کمزور شخص روئے اس پر۔ تو سوال وہاں مقدر ہے: ”مَنْ يَبْكِيهِ“، کون روئے اس پر؟ تو وہ سوالِ مقدر بتلا رہا تھا کہ ”ضَارِعٌ“ مسند الیہ ہے اور اس کی اس کا مسند کیا ہے؟ ”يَبْكِي“ فعل محذوف ہے۔ تو ”مَنْ يَبْكِيهِ“ سوال تھا اور ”ضَارِعٌ“ جواب دیا: ”أَيْ يَبْكِيهِ ضَارِعٌ“، کون روئے؟ ضارع روئے، کمزور شخص روئے۔ تو جب ایک دفعہ ”يَبْكِي“ سوال میں ذکر ہو گیا تو اس کو جواب میں ذکر نہیں کیا اور یہ مثال ذکر کی سوالِ مقدر میں، سوالِ مقدر میں۔ تو اس سوال کو بھی اگر واقع کے اندر آ جائے تو پھر یہ بھی کیا بن جائے گا؟ سوالِ محقق بن جائے گا، تو دونوں کے اندر کوئی فرق رہا؟ نہیں۔ تو لہٰذا بہتر یہ تقریر ہے کہ بھئی عبارت میں اگر سوال ذکر ہے تو محقق، اگر عبارت میں ذکر نہیں تو مقدر۔ اور یہاں یہ جو ”وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ“، یہ معنی نہیں کہ اس سوال کو ہم واقع میں بھی فرض کریں بلکہ فی الحال یہ عبارت میں موجود ہے، فی الحال کیا ہے؟ عبارت میں موجود ہے مولانا۔ ”لِأَنَّ هَذَا الْكَلَامَ عِنْدَ تَحَقُّقِ مَا فُرِضَ مِنَ الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ يَكُونُ جَوَابًا عَنْ سُؤَالٍ مُحَقَّقٍ“ اس لیے کہ یہ کلام جو ہے جب فرض کر لیا جائے وہ چیز جو جب کہ جب کہ ثابت ہو جائے وہ چیز جو فرض کی گئی تھی یعنی کہ شرط اور جزا، اس صورت میں یہ جواب ہوگا کس چیز کا؟ سوالِ محقق کا۔ بھئی اس صورت میں اگر فرض کرنے میں تو ہر ایک سوالِ محقق بن جائے گا۔ ”وَالدَّلِيلُ عَلَى“ اور دلیل اس پر یہ ہے، یہ ایک سوال کا جواب کہ آپ نے کیا کہا: ”خَلَقَهُنَّ اللَّهُ“، جملہ فعلیہ بنایا۔ جملہ فعلیہ، تو ”خَلَقَ“ فعل، ”هُنَّ“ مفعول اور لفظِ اللہ فاعل، تو جملہ فعلیہ ہوا۔ آپ نے اس کو جملہ اسمیہ کیوں نہیں بنایا؟ یوں بھی تو آپ کہہ سکتے تھے، جی: ”اَللَّهُ خَلَقَهُنَّ“، ”اَللَّهُ خَلَقَهُنَّ“ یا ”اَللَّهُ خَالِقُهُنَّ“۔ تو مس... مبتدا خبر کیوں نہیں بنایا جملہ؟ کہتے ہیں: ”وَالدَّلِيلُ“، کہتے ہیں: ”وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمَرْفُوعَ فَاعِلٌ“ دلیل اس بات پر کہ یہ مرفوع جو ہے فاعل ہے، ”وَالْمَحْذُوفَ فِعْلُهُ“ اور محذوف کیا ہے؟ فعل ہی ہے، ”أَنَّهُ جَاءَ عِنْدَ عَدَمِ الْحَذْفِ كَذَلِكَ“ کہتے ہیں اس لیے کہ قرآن میں ایک جگہ عدمِ حذف ہے، حذف نہیں کیا گیا بلکہ ذکر کر دیا گیا ہے۔ تو جب وہ ذکر ہے تو محذوف بھی ہم اس کے مطابق مان لیں گے تاکہ یہ اس کے مطابق ہو جائے، تاکہ یہ اس کے مطابق ہو جائے۔ ”كَقَوْلِهِ“، دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ“، کس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اگر آپ ان سے پوچھیں، تو یہ کیا کہیں گے یقیناً؟ کہ اس کو زبردست اور علم والے نے پیدا کیا ہے ان کو۔ تو دیکھا ”خَلَقَهُنَّ“، یہاں قرآن میں حذف نہیں کیا گیا بلکہ ذکر کیا گیا اور ذکر جملہ فعلیہ کے ساتھ کیا گیا۔ تو جہاں محذوف ہے وہاں بھی کیا نکال لیں گے ہم؟ جملہ فعلیہ۔ ”وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ“ اور اسی طرح جیسے اللہ کا قول ہے: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو اس حال میں کہ وہ گل گئی ہوں بوسیدہ ہو گئی ہوں؟ قل اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے: زندہ کرے گا ان کو الذی وہ ذات جس نے پیدا کیا تھا ان کو پہلی مرتبہ۔ تو دیکھو سوال کے اندر ”يُحْيِي“ آیا مولانا، جواب کے اندر بھی جی؟ ”يُحْيِي“ فعل کو ذکر کر دیا، معلوم ہوا جملہ فعلیہ عموماً نکالا جاتا ہے بھئی۔ تو دیکھو یہاں سوالِ محقق موجود اور پھر بھی جواب میں کیا کیا جا رہا ہے؟ خبر کو کس صورت میں جواب کو کس صورت میں ذکر کیا جا رہا ہے؟ جملہ فعلیہ کی صورت میں، تو لہٰذا جہاں محذوف ہے وہاں بھی اولیٰ یہ ہے کہ اسی صورت میں نکالا جائے۔ ”أَوْ مُقَدَّرٍ“ یا جواب ہوگا سوالِ مقدر کا، ”عَطْفٌ عَلَى مُحَقَّقٍ“ اس کا عطف محقق پر ہے، جیسے قول کس کا؟ ضرار ابنِ نہشل کا فی مرثیۃ یزید ابنِ نہشل، جی۔ تو یہ یز... ضرار ابنِ نہشل کا شعر ہے مولانا، اپنے بھئی یزید ابنِ نہشل کے مرثیے میں، اس کا انتقال ہوا تو اس پر اس نے یہ اشعار پڑھے بھئی۔ کیا کہتا ہے؟ ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“ چاہیے کہ رویا جائے یزید پر، چاہیے کہ رویا جائے یزید پر۔ سوال پیدا ہوا: ”مَنْ يَبْكِيهِ“، کون اس پر روئے؟ کون اس پر روئے؟ ”فَكَأَنَّهُ قِيلَ: مَنْ يَبْكِيهِ؟“ گویا کہ پھر کہا گیا: اس کو کون روئے؟ تو یہ سوالِ مقدر آیا، ”فَقَالَ: ضَارِعٌ أَيْ يَبْكِيهِ ضَارِعٌ“ اس کو کون روئے؟ کمزور شخص، ضارع ذلیل یعنی کمزور۔ ”لِخُصُومَةٍ“، لام وقت کے لیے ہے مولانا، ”لِخُصُومَةٍ“ لام وقت کے لیے ہے، ”أَيْ وَقْتَ خُصُومَةٍ“ خصومت کے وقت۔ جھگڑے کے وقت جو شخص کمزور ہے اس کو چاہیے کہ یزید میرے بھئی پر روئے، کیونکہ وہ کمزوروں کی مدد کیا کرتا تھا۔ تو جو شخص جھگڑے کے وقت مقابلے سے کمزور ہے، عاجز ہے بھئی، تو اس صورت میں چاہیے جی، تو ہر عاجز کو چاہیے کہ اس پر روئے۔ ”لِأَنَّهُ كَانَ مَلْجَأً لِلْأَذِلَّاءِ“ اس لیے کہ وہ ملجا تھا پناہ گاہ تھی مولانا، کس کے لیے؟ اذلاء، ذلیل لوگوں یعنی عاجز اور کمزور لوگوں کے لیے، ”وَعَوْنًا لِلضُّعَفَاءِ“ اور وہ مددگار تھا کس کے لیے؟ ضعیف لوگوں کے لیے۔ یہ تو ایک مصرع ہے: ”لِيُبْكَ يَزِيدُ ضَارِعٌ لِخُصُومَةٍ“، دوسرا ”وَتَمَامُهُ“ یہ دوسرا مصرع یہ ہے مولانا: ”وَمُخْتَبِطٌ مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ“ جی، مختبط کس کو کہتے ہیں؟ بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا۔ مختبط کس کو کہتے ہیں؟ ایک شخص ہے اس کا آپ سے کوئی رشتہ نہیں، کوئی تعلق نہیں، کوئی دوستی نہیں، کسی قسم کا کوئی وسیلہ نہیں، وہ آ کر آپ سے سوال کرے اس کو کیا کہیں گے؟ مختبط کہیں گے، مختبط، بغیر کسی تعلق کے سوال کرنے والا۔ ”مِمَّا“، یہ ”مِنْ“ سببیہ ہے۔ ”مِنْ“ کیا ہے؟ سببیہ، ”مَا“ مصدریہ ہے۔ غور سے دیکھو اس کے مطابق ترجمہ ہوگا ورنہ ترجمہ صحیح نہیں بنے گا آپ سے، ”مِنْ“ کیا ہے؟ سببیہ، سبب کے ساتھ اس کا معنی کریں گے، ”مَا“ کون سا ہے؟ مصدریہ، جی۔ ”تُطِيحُ“، اطاح یطیح کے معنی ہلاک کرنا، تباہ کرنا۔ ”طَوَائِحُ“ جمع ہے مطیحۃ کی، یہ تو متن میں بھی کچھ باتیں آ جائیں گی، طوائح جمع ہے مطیحۃ کی، یہ کہتے ہیں ہلاک کرنے والی، حوادثات مولانا، ہلاک کرنے والے یعنی حوادثات۔ اور کس چیز کو ہلاک کیا ہے؟ ”مَا لَهُ“ محذوف ہے، اس کے مال کو ہلاک کیا ہے۔ ”مِنْ“ کیا ہے مولانا؟ سببیہ، ”مَا“ کیا ہے؟ مصدریہ۔ جی، تو ”مَا تُطِيحُ“ کس معنی میں ہو گیا؟ مصدر بنا لو اس کو، جی، اور ”مِنْ“ کو سبب بناؤ: ”لِأَجْلِ“ یا ”بِسَبَبِ إِهْلَاكِ الطَّوَائِحِ مَالَهُ“۔ ”بِسَبَبِ إِطَاحَةِ“، اطاحۃ کیا ہوا؟ اہلاک ہوا نا، ”بِسَبَبِ إِهْلَاكِ الطَّوَائِحِ مَالَهُ“ بسبب ہلاک کرنے حوادثات کے اس کے مال کو۔ تو چاہیے کہ روئے رویا جائے یزید پر، سوال پیدا ہوا: ”مَنْ يَبْكِيهِ“، کون اس پر روئے؟ جواب دیا: ”ضَارِعٌ“ بھئی، کمزور شخص روئے ”لِخُصُومَةٍ“، جو کمزور کب ہے مولانا؟ ”لِخُصُومَةٍ“ جھگڑے کے وقت میں کمزور ہے، اس لیے کہ وہ کمزوروں کی مدد کیا کرتا تھا۔ ”وَمُخْتَبِطٌ“ اور اس پر بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا روئے۔ بغیر وسیلے کے سوال کیوں کرتا ہے وہ؟ کہتے ہیں وہ بغیر وسیلے کے سوال کرنے سوال کرنے والا ہے بسبب اس کے کہ ہلاک کر دیا ہے اس کے مال کو حوادثات نے۔ تو حوادثات نے مال ہلاک کر دیا، اب وہ بیچارہ بغیر وسیلے کے کیا کر رہا ہے؟ سوال کر رہا ہے، اس کو بھی چاہیے اس مختبط کو بھی چاہیے کہ روئے، کیونکہ وہ بغیر وسیلے کے سوال کرنے والوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ ”وَالْمُخْتَبِطُ: اَلَّذِي يَأْتِي إِلَيْكَ لِلْمَعْرُوفِ“ اور مختبط وہ شخص ہے جو آتا ہے آپ کے پاس نیکی طلب کرنے کے لیے ”مِنْ غَيْرِ وَسِيلَةٍ“ بغیر کسی تعلق، وسیلے کے۔ ”وَالإِطَاحَةُ: اَلإِذْهَابُ وَالإِهْلَاكُ“، اطاحت کہتے ہیں لے جانا اور ہلاک کر دینا۔ ”وَالطَّوَائِحُ: جَمْعُ مُطِيحَةٍ“ طوائح جمع ہے مطیحۃ کی، ”أَيْ عَلَى غَيْرِ الْقِيَاسِ“ خلافُ القیاس، ”كَاللَّوَاقِحِ جَمْعُ مُلْقِحَةٍ“ جیسے لواقح جمع ہے کس کی؟ ملحقہ کی، ملحقہ کا معنی بارش برسانے والی مولانا، ہوا، جی۔ ”وَمِمَّا يَتَعَلَّقُ بِمُخْتَبِطٍ“، ”مِمَّا“ مولانا جار مجرور ہے، یہ کس سے متعلق ہے؟ ”مُخْتَبِطٍ“ اسمِ فاعل سے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ جار مجرور کتنی چیزوں سے متعلق ہوتا ہے؟ سات آٹھ چیزیں ہیں ان میں سے کسی ایک سے متعلق ہوتا ہے، ہمیشہ جار مجرور کے لیے ضرور کوئی نہ کوئی متعلق چاہیے، یہ متعلق ہوں گے ان کے لیے کوئی متعلق چاہیے، جی۔ تو ان میں ایک اسمِ فاعل بھی ہے، ”مُخْتَبِطٍ“ بھی اسمِ فاعل ہے تو اس سے متعلق ہوں گے۔ ”وَ ”مَا“ مَصْدَرِيَّةٌ“ ”مَا“ مصدریہ ہے، ”أَيِ السَّائِلُ يَسْأَلُ مِنْ أَجْلِ إِذْهَابِ الْوَقَائِعِ مَالَهُ“ یعنی وہ سائل جو سوال کرنے والا ہے اس وجہ سے کہ لے گئے ہلاک کر دیا ہے حوادثات نے ”مَالَهُ“ اس کے مال کو۔ تو یہ متعلق ہے ”بِمُخْتَبِطٍ“ کے ساتھ، ”مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِمُخْتَبِطٍ“۔ ”أَوْ بِيَبْكِي“ یا ”مِمَّا“ متعلق ہے ”يَبْكِي“ المقدر کے ساتھ جو مقدر تھا، ”أَيْ يَبْكِي“ اس پر روئے ”لِأَجْلِ إِذْهَابِ الْمَنَايَا“ بوجہ لے جانے کے موتوں کے، کس کو؟ موتیں کس کو لے گئیں؟ یزید کو، منایا جمع ہے منیّۃ کی، یہ موت کو کہتے ہیں۔ تو موتیں لے گئی ہیں یزید کو، کیوں روئے وہ اس پر؟ کیونکہ موتیں لے گئی ہیں یزید کو۔ اس پر اشکال ہوتا ہے: ایک موت آتی ہے انسان پر، یہ موتیں جمع کیوں لے کر آئے بھئی؟ جواب یہ کہ موتیں بول کر مراد اسبابِ موت ہیں، اسباب جمع ہو سکتے ہیں، موت اگرچہ ایک ہی ہے لیکن اسباب اس کے کثیر ہیں موت کے، کثیر ہیں۔ یا اس پر الف لام داخل ہوا، جمع پر الف لام جب داخل ہو جنسی تو اس کی جمعیت باطل ہو جاتی ہے تو اب یہ مفرد پر بھی صادق آتا ہے۔ ”وَتُطِيحُ عَلَى التَّقْدِيرَيْنِ“ اور ”تُطِيحُ“ دونوں تقدیروں میں، دونوں صورتوں میں ”بِمَعْنَى الْمَاضِي“ کس معنی میں ہے؟ ماضی کے معنی میں۔ بھئی وہ سوال کر رہا ہے کیونکہ حوادثات نے اس کے مال کو کیا کر دیا ہے؟ ہلاک کر دیا ہے، تو یہ ماضی ہے۔ البتہ ”تُطِيحُ“ اس کو مضارع کے ساتھ لے کر آئے، جی، ”عُدِلَ إِلَيْهِ“ عدول کیا گیا کس کی طرف؟ مضارع کی طرف، کیوں کیا گیا بھئی؟ ماضی تھی تو ماضی کی صورت میں ذکر کرتے، مضارع کی صورت میں کیوں ذکر کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ مضارع دلالت کرتا ہے حال پر اور ماضی دلالت کرتی ہے گزری ہوئی چیز پر، تو آپ نے شاعر نے کیا کیا؟ اس گزرے ہوئے واقعے کو آپ کے ذہن میں حاضر کرنے کے لیے، اس خوفناک حالت کو آپ کے ذہن میں حاضر کرنے کے لیے اس کو تعبیر کر دیا کس کے ساتھ؟ حال کے ساتھ یعنی مضارع کے ساتھ۔ تاکہ وہ صورتِ حال جو انتہائی بھیانک تھی آپ کی نظروں کے سامنے آ جائے، کیونکہ جو چیز گزر جاتی ہے وہ تو ختم ہوئی مولانا، بھول گیا آدمی، لیکن جب حال کے ساتھ تعبیر کیا تو کیا مقصد تھا کہ وہ صورتِ حال پوری طرح اس کو ابھی اس زمانے میں محسوس کرے اور صورتِ حال اس پر واضح ہو بھئی۔ ”وَتُطِيحُ عَلَى التَّقْدِيرَيْنِ بِمَعْنَى الْمَاضِي عُدِلَ إِلَيْهِ اسْتِحْضَارًا لِصُورَةِ ذَلِكَ الْأَمْرِ الْهَائِلِ“ حاضر کرنے کے لیے اس بھیانک معاملے کی صورت کو، اس بھیانک معاملے کی صورت کو ذہن میں حاضر کرنے کے لیے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی آپ کو بھئی؟ بھئی ساری بحث ترکیب کی ہے۔ ”مِمَّا“ جار مجرور ہے، اب یہ جار مجرور فعل سے بھی متعلق ہو سکتا ہے اور اسمِ فاعل وغیرہ سے بھی متعلق ہو سکتا ہے۔ اور دیکھو، جار مجرور جس سے جڑے گا، معنی اس کے مطابق بدلتا جائے گا۔ تو اگر اس کو جوڑیں گے ”مُخْتَبِطٍ“ سے: بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا ہے، باقی کلام کو ختم کر دیں، جار مجرور کو اس سے جوڑ کر ترجمہ کریں: بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا ہے بسبب اس کے کہ حوادثات نے اس کے مال کو کیا کر دیا ہے؟ ہلاک کر دیا ہے۔ دیکھا، ترجمہ یہ بنے گا۔ اب ذرا اس کو ”يَبْكِي“ سے متعلق کریں، معنی بدل جائے گا: ”يَبْكِيهِ مِمَّا“ جی، وہ روتا ہے بوجہ اس کے کہ حوادثات نے اس کے مال کو ہلاک کر دیا ہے۔ تو دیکھا، فرق آتا ہے مولانا، جار مجرور کو اگر ”مُخْتَبِطٍ“ سے جوڑیں تو وہ بغیر وسیلے کے سوال اس وجہ سے کر رہا ہے، اور اگر ”يَبْكِي“ سے جوڑیں تو وہ رو اس وجہ سے رہا ہے کہ حوادثات نے اس کے مال کو ہلاک کر دیا ہے۔ تو محلِ استشہاد ہے ”ضَارِعٌ“ مولانا اس شعر میں، ”مَنْ يَبْكِيهِ“ سوالِ مقدر کا جواب ہے اور سوالِ مقدر کا جواب ہے تو ”يَبْكِيهِ“ مسند کو ہم نے کیا کر دیا؟ حذف کر دیا سوالِ مقدر کی وجہ سے۔ یہاں ایک اور ترکیب بھی ممکن تھی: ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“، ہم نے کیا پڑھا؟ مجہول پڑھا۔ چاہیے کہ رویا جائے یزید پر، پھر سوال پیدا ہوا: کون روئے؟ آپ نے جواب کیا دیا؟ ضارع اور مختبط روئے۔ ایک ترکیب یہ تھی کہ آپ ”لِيُبْكَ“ پڑھا تھا پہلے، اب ”لِيَبْكِ“ پڑھیں، معروف پڑھیں۔ کیا؟ ”لِيَبْكِ“، چاہیے کہ روئے، کس پر روئے؟ ”يَزِيدَ“، یزید پر روئے، اس کو مفعول بنا لو، پہلے نائب فاعل تھا، اب کیا بنا لیں؟ مفعول۔ ”لِيَبْكِ يَزِيدَ“ چاہیے کہ یزید پر روئے ”ضَارِعٌ“، کون؟ ضارع شخص، عاجز شخص روئے، ”وَمُخْتَبِطٌ“ اور مختبط روئے۔ تو بھئی یہ ترکیب آپ نے کیوں نہیں کی؟ آپ نے اس کو مجہول بنایا، مجہول بنا کے ایک سوالِ مقدر نکالا اور سوالِ مقدر کی وجہ سے پھر ”ضَارِعٌ“ کے مسند کو کیا کر لیا؟ حذف مان لیا۔ اس کے بجائے آپ سیدھی ترکیب کرتے: ”لِيَبْكِ يَزِيدَ ضَارِعٌ“، چاہیے کہ یزید پر روئے عاجز آدمی۔ اب کوئی حذف ماننے کی ضرورت ہے؟ یزید مفعول، ”ضَارِعٌ“ اس کا آگے ”يَبْكِي“ کا فاعل، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول دونوں موجود ہیں، کوئی حذف کرنے کی... محذوف ماننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کہتے ہیں بھئی یہ ترکیب بھی ٹھیک ہے، لیکن دوسری ترکیب ہم نے جو پہلے کی تھی اس کو فعلِ مجہول پڑھا تھا، وہ اس کو فضیلت ہے تین وجہ سے۔ تین وجہ سے وہ ترکیب بہتر ہے مولانا۔ کیا؟ کہتے ہیں ہماری ترکیب جب پڑھیں گے تو اس کے مطابق اسناد میں تکرار آئے گا۔ اسناد میں کیا آئے گا؟ تکرار آئے گا، جی، اور تکرار کی وجہ سے بات پکی ہو جاتی ہے، جی: ”إِذَا تَكَرَّرَ تَقَرَّرَ“۔ نیز پہلے اجمالاً بات آئی، پھر تفصیلاً آئی، اور یہ بھی ذہن میں زیادہ بات بیٹھ جاتی ہے اس سے، پہلے ایک بات اجمالاً آئے اور پھر اس کے بعد تفصیلاً آئے۔ کیسے؟ دیکھو، ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“ پر یزید پر نظر رکھو، پہلی ترکیب کیا تھی؟ ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“، ”لِيُبْكَ“ فعلِ مجہول، ”يَزِيدُ“ اس کا نائب فاعل، نائب فاعل۔ چاہیے کہ رویا جائے، چاہیے کہ رویا جائے۔ اب یہ یزید جس کو نائب فاعل بنایا ہے، یہ دراصل فاعل ہے یا مفعول ہے؟ نائب فاعل کس کو بناتے ہیں؟ مفعول کو۔ ”ضُرِبَ عَمْرٌو“ کا کیا معنی؟ عمرو نے پٹائی کی ہے یا پٹائی اس کی کی گئی ہے؟ کی گئی ہے۔ معلوم ہوا ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“ یزید پر رویا گیا ہے، یزید پر رویا گیا ہے، اور رونے کے لیے کوئی رونے والا چاہیے۔ معلوم ہوا یہاں فاعل بھی موجود ہے لیکن اس کو ذکر نہیں کیا۔ لیکن اجمالاً ذکر آ گیا، کیونکہ جب کہہ دیا ”لِيُبْكَ“ رویا جائے یزید پر، تو رونے کے لیے کیا چاہیے؟ رونے والا چاہیے، اگرچہ ذکر یہاں نہیں۔ ”ضُرِبَ عَمْرٌو“ جب آپ نے کہا تو اس نے بتلا دیا کوئی ضارب بھی ہے، اگرچہ مذکور عبارت میں نہیں ہے۔ تو ”لِيُبْكَ“ کے اندر فاعل کا ذکر ایک مرتبہ اجمالاً آیا، پھر اس کے بعد ”يَبْكِيهِ ضَارِعٌ“ اس کے ذریعے تفصیل آ گئی مولانا، کیا آ گئی؟ کہ وہ رونے والا کون ہے؟ ضارع ہے اور مختبط ہے، مختبط ہے۔ تو کلام میں پہلے اجمال آیا ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“ میں، اور پھر ”يَبْكِيهِ ضَارِعٌ وَمُخْتَبِطٌ“ میں کیا آئی؟ تفصیل آئی، رونے والا بتلا دیا گیا۔ اور یہ پہلے اجمال آئے اور پھر تفصیل آئے تو ذہن میں بات زیادہ بیٹھ جاتی ہے، اور دو اسناد ہوئے مولانا: ایک ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“ ایک یہ جملہ، اور ایک ”يَبْكِيهِ ضَارِعٌ“ دوسرا جملہ، تو دو اسناد آ گئے تو کلام کیا ہوا؟ زیادہ پختہ ہوا، تاکید آ گئی کلام کے اندر۔ ایک یہ وجہ۔ دوسری بات، اگر ہم دوسری ترکیب کریں کس طرح پڑھیں بھئی؟ ”لِيَبْكِ يَزِيدَ“، یزید کو کیا بنا دیں گے؟ مفعول بنا دیں گے، اور مفعول کیا ہوتا ہے کلام کے اندر؟ فضلہ، فضلہ نہیں ہوتا... ہاں، یہ فضلہ ٹھیک کرو، یہ کیا فضلہ کے پیچھے پڑے ہو فضلے کے؟ فضلہ ہوتا ہے، یہ مفعول کیا ہوتا ہے؟ فضلہ ہوتا ہے۔ فضلہ کا معنی زائد چیز بھئی، کیا چیز؟ اس کے بغیر بھی بات ہو جاتی ہے، معنی سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ فضلہ تو کوئی عربی کا لفظ ہی نہیں ہے بھئی۔ جی، تو اگر ہم اس کو ”لِيَبْكِ يَزِيدَ ضَارِعٌ“ پڑھتے تو یزید کیا بنتا؟ مفعول، اور مفعول کلام میں کیا ہوتا ہے؟ فضلہ یعنی زائد چیز ہے، تو اس صورت میں دیکھا، مرثیہ کہا کس کے لیے گیا؟ یزید کے لیے، اور یزید کو کیا بنانا لازم آ رہا ہے؟ فضلہ بنانا لازم آ رہا ہے، اور ہم نے جو ترکیب کی اس کے مطابق یزید کو کیا بنایا؟ نائب الفاعل بنایا، اور نائب الفاعل فضلہ نہیں ہوتا بلکہ عمدہ ہوتا ہے کلام کے اندر۔ تیسری وجہ مولانا اس ترکیب کے بہتر ہونے کی کہ آپ کو فاعل کا پتہ چل گیا نعمتِ غیر مترقبہ کے طور پر۔ ایک چیز انتظار کے بعد آئے، کہتے ہیں اس میں وہ لذت نہیں، ایک چیز بغیر انتظار کے حاصل ہو، اس میں زیادہ لذت ہے۔ بھئی آپ نہیں جاتے کئی مرتبہ اپنے دوستوں کو ملنے جاتے ہیں اس کو اطلاع نہیں دیتے، کہتے ہیں میں اچانک جاؤں گا تاکہ اس کو کیا ہو؟ زیادہ خوشی حاصل ہو، ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ عموماً ہوتا ہے بھئی، اطلاع نہیں دیتے، کہتے ہیں اس لیے کہ جب اس کو میں بتا دوں گا کہ میں اس کو ملنے آ رہا ہوں تو وہ انتظار کرے گا، اسے تو پتہ ہے کہ اب آنا ہی ہے اس نے، تو اس صورت میں وہ خوشی نہیں، لیکن جب آپ اچانک پہنچ جائیں تو اس صورت میں کیا ہے؟ زیادہ خوشی ہے، زیادہ خوشی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ”وَبِكَوْنِ مَعْرِفَةِ الْفَاعِلِ كَحُصُولِ...“ جی، اچھا دیکھیے بھئی: ”وَفَضْلُهُ“ اور فضیلت مولانا، أَيْ رُجْحَانُهُ، فضیلت اس ترکیب کی، أَيْ رُجْحَانُ نَحْوِ ”لِيُبْكَ يَزِيدُ ضَارِعٌ“ مَبْنِيًّا لِلْمَفْعُولِ، یعنی ارجحیت اس ترکیب کی، کون سی ترکیب؟ ”لِيُبْكَ يَزِيدُ ضَارِعٌ“ مبنياً للمفعول جبکہ ”لِيُبْكَ“ کو آپ کیا پڑھیں؟ مبنی للمفعول پڑھیں یعنی فعلِ مجہول پڑھیں، مجہول پڑھیں، ”عَلَى خِلَافِهِ“ اپنے خلاف پر، خلاف اس کا کیا تھا؟ یعنی ”لِيَبْكِ يَزِيدَ ضَارِعٌ“ مبنياً للفاعل جب آپ اس کو مبنی للفاعل پڑھیں، ”نَاصِبًا“ اس حال میں کہ یہ نصب دینے والا ہو کس کو؟ یزید کو، ”وَرَافِعًا لِضَارِعٍ“ اور رفع دینے والا ہو کس کو؟ ضارع کو۔ ”بِتَكْرَارِ الإِسْنَادِ“ کس کے ساتھ؟ اسناد کے تکرار کے ساتھ، ”بِأَنْ أُجْمِلَ أَوَّلًا ثُمَّ فُصِّلَ“ کہ پہلے اجمال کیا گیا پھر تفصیل ذکر کی گئی۔ ”أَمَّا التَّفْصِيلُ فَظَاهِرٌ“ تفصیل تو کہتے ہیں ظاہر ہے مولانا۔ کہتے ہیں فضیلت ہے اسناد کے تکرار کے ساتھ اور پہلے اجمال اور پھر اسناد کا بھی تکرار آیا اس لیے فضیلت، اور پہلے ایک بات اجمالاً آئی پھر تفصیلاً، اس اعتبار سے بھی بہتر۔ ”أَمَّا التَّفْصِيلُ فَظَاهِرٌ“ تفصیل تو ظاہر ہے مولانا، کہ پہلے رونے والا رونے والے کا ذکر اجمالاً ہوا اور پھر صراحتاً ہوا۔ ”وَأَمَّا الإِجْمَالُ“ اور اجمال کس طرح ہے؟ کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُ لَمَّا قِيلَ“ اس لیے کہ جب کہا گیا، کیا کہا گیا؟ ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“ چاہیے کہ رویا جائے کس پر؟ یزید پر، ”عُلِمَ“ تو جان لیا گیا کیا؟ ”أَنَّ هُنَاكَ بَاكِيًا“ یہاں پر کوئی رونے والا ہے، ”يُسْنَدُ إِلَيْهِ هَذَا الْبُكَاءُ“ کہ اسناد کیا گیا ہے اس کی طرف جی، ”يُسْنَدُ إِلَيْهِ هَذَا الْبُكَاءُ“ اس کی طرف اسناد کیا گیا ہے اس رونے کا، ”الْبُكَاءُ“ نائب فاعل بن... ”لِأَنَّ الْمُسْنَدَ إِلَى الْمَفْعُولِ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ فَاعِلٍ مَحْذُوفٍ“ اس لیے کہ مسند کے لیے وہ جو وہ چیز جو مسند ہو کس کی طرف؟ مفعول کی طرف، ”لِيُبْكَ“ کا اسناد کس کی طرف تھا؟ ”ضُرِبَ“ کا اسناد کس کی طرف ہے؟ عمرو کی طرف، عمرو فاعل ہے یا مفعول ہے؟ مفعول ہے، ہاں، تو وہ چیز جس کا اسناد وہ جو مسند ہے مفعول کی طرف، ضروری ہے اس کے لیے کسی فاعل کا ہونا جو کیا ہے؟ محذوف ہے، ”أُقِيمَ هُوَ مَقَامَهُ“ اس کو آپ نے اس کا کیا بنایا ہے؟ قائم مقام بنایا ہے۔ ”وَلَا شَكَّ أَنَّ الْمُتَكَرِّرَ أَوْكَدُ وَأَقْوَى“ اور کوئی شک نہیں کہ جو تکرار والا ہو وہ کیا ہوتا ہے؟ جو چیز مکرر ہو وہ زیادہ اوکد اور اقویٰ ہوتی ہے، ایک معنی ہے دونوں کا۔ اور دوسری بات: ”أَنَّ الإِجْمَالَ ثُمَّ التَّفْصِيلَ أَوْقَعُ فِي النَّفْسِ“ کہ اجمال آئے اور پھر تفصیل آئے، یہ چیز ذہن میں زیادہ واقع ہوتی ہے۔ ”وَبِوُقُوعِ يَزِيدَ غَيْرَ فَضْلَةٍ“ اور یزید دوسری وجہ مولانا، فضیلت ہے اس کو اپنے خلاف پر کس کے ساتھ؟ ”بِوُقُوعِ يَزِيدَ غَيْرَ فَضْلَةٍ“ یزید کے غیرِ یزید کے واقع ہونے پر کہ وہ غیر اس حال میں کہ فضلہ نہیں ہے، ”لِكَوْنِهِ مُسْنَدًا إِلَيْهِ لَا مَفْعُولًا“ اس لیے کہ وہ مسند الیہ ہے، مفعول نہیں ہے، ”كَمَا فِي خِلَافِهِ“ جیسے کہ دوسری خلاف والی ترکیب میں تھا۔ ”وَبِكَوْنِ مَعْرِفَةِ الْفَاعِلِ كَحُصُولِ النِّعْمَةِ غَيْرِ الْمُتَرَقَّبَةِ“ اور نیز تیسری وجہ یہ کہ اس کو فضیلت ہے کہ آپ کو فاعل کی معرفت حاصل ہوئی نعمتِ غیر مترقبہ کے طور پر بھئی۔ نعمتِ غیر مترقبہ کے طور پر کیسے آپ کو فاعل کا پتہ چلا بھئی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ جب آپ نے کہا: ”ضُرِبَ عَمْرٌو“، کلام پورا ہے یا نامکمل ہے؟ کلام پورا ہو گیا، ”ضُرِبَ“ فعل، عمرو اس کا نائب فاعل۔ اب فاعل کی گنجائش ہے لانے کی؟ اب تو فاعل کی گنجائش ہی نہیں، فاعل کی امید بھی اب نہیں۔ تو جب کہا گیا: ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“، تو فاعل کی امید آپ کو نہیں تھی کیونکہ کلام تام ہو گیا تھا، لیکن پھر اچانک اس کے بعد جب ”ضَارِعٌ“ لایا گیا تو آپ کو پتہ چل گیا اور یہ فاعل بعد الانتظار حاصل ہوا یا بغیر انتظار کے؟ تو یہ نعمتِ غیر مترقبہ ہے، بغیر انتظار کے حاصل ہوا، کوئی امید نہیں تھی فاعل کے آنے کی، پھر آپ کو حاصل ہوا۔ اور اس کے بجائے اگر کہہ دیا جاتا ”لِيَبْكِ يَزِيدَ“، رویا جائے کس پر رویا جائے؟ یزید پر، تو یزید تو مفعول ہے اور ہر فعل کے لیے فاعل چاہیے اور ابھی تک فاعل نہیں آیا تو انتظار ہے آگے کیا آنے والا ہے؟ فاعل آنے والا ہے، تو اس صورت میں فاعل کا انتظار کے بعد حصول ہوتا تو وہ نعمتِ غیر مترقبہ کی طرح نہیں ہے بھئی۔ ”وَبِكَوْنِ مَعْرِفَةِ الْفَاعِلِ“ اور فاعل کی معرفت کا ہونے کے ساتھ، کیا ہونے کے ساتھ؟ ”كَحُصُولِ النِّعْمَةِ غَيْرِ الْمُتَرَقَّبَةِ“ حصولِ نعمتِ غیر مترقبہ کی طرح کی طرح فاعل کی معرفت حاصل ہونے کی وجہ سے یہ بہتر ہے۔ ”لِأَنَّ أَوَّلَ الْكَلَامِ غَيْرُ مُطْمِعٍ فِي ذِكْرِهِ“ اولِ کلام جو ہے غیر مطمعٍ فی ذکرہ، وہ طمع دلانے والا نہیں، امید دلانے والا نہیں ہے کس چیز کی؟ جب آپ نے کہا ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“، چاہیے کہ رویا جائے یزید پر، تو کلام تام ہو گیا، اب فاعل کی کوئی امید رہی؟ کوئی امید نہیں تھی اس کے ذکر کی، ”أَيْ ذِكْرِ الْفَاعِلِ“ یعنی فاعل کے ذکر کی امید نہیں تھی، ”لِإِسْنَادِ الْفِعْلِ إِلَى الْمَفْعُولِ وَتَمَامِ الْكَلَامِ بِهِ“ کیونکہ اسناد ہو رہا تھا فعل کا مفعول کی طرف اور بوجہ کلام کے تام ہونے کے اس کے ساتھ۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا بُنِيَ لِلْفَاعِلِ“ بخلاف اس کے کہ جب اس کو کیا بنایا جائے؟ مبنی للفاعل بنایا جائے، ”فَإِنَّهُ مُطْمِعٌ فِي ذِكْرِ الْفَاعِلِ“ تو وہ امید دلانے والا ہوتا ہے فاعل کے ذکر کا کہ وہ آگے آنے والا ہے، ”إِذْ لَا بُدَّ لِلْفِعْلِ مِنْ شَيْءٍ يُسْنَدُ هُوَ إِلَيْهِ“ اس لیے کہ فعل کے لیے ایسی چیز کا ہونا ضروری ہے جس کی طرف فعل کا کیا کیا جائے؟ اسناد کیا جائے۔ تو جب آپ نے فعلِ معروف ذکر کیا تو اب انتظار ہے کہ آگے کوئی نہ کوئی مسند الیہ آئے گا، تو انتظار رہا، تو اب اس میں وہ لذت نہیں جو بغیر انتظار کے تھی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ یہ تو تھا مسند الیہ مسند کو ترک کرنے کے نکات۔ خلاصۂ کلام یہاں تک جو آپ نے پڑھا مولانا: کہ مسند کو کبھی حذف یا ترک کیا جاتا ہے۔ کس لیے ترک کیا جاتا ہے؟ کہ وہ سوالِ محقق کا جواب ہوتا ہے، قرینہ اس پر موجود ہوتا ہے۔ سوالِ محقق کس کو کہتے ہیں؟ کہ سوال کس میں موجود ہو؟ عبارت میں موجود، اور کبھی مسند پر جو قرینہ ہوتا ہے وہ سوالِ مقدر ہوتا ہے۔ سوالِ مقدر کی مثال یہ ذکر کی: چاہیے کہ رویا جائے یزید پر، سوال پیدا ہوا: ”مَنْ يَبْكِيهِ“، کون روئے اس پر؟ جواب دیا گیا: ”يَبْكِيهِ ضَارِعٌ“، کون روئے اس پر؟ عاجز شخص روئے۔ تو ”يَبْكِي“ کو حذف کر دیا جو مسند تھا، اور ”ضَارِعٌ“ جو مسند الیہ فاعل تھا اس کو باقی رکھا، کیوں باقی رکھا؟ مسند کو کیوں حذف کیا؟ کیونکہ اس پر سوال دلالت کر رہا تھا، سوالِ مقدر۔ تو یہاں پر انہوں نے کہا ایک اور ترکیب بھی ہے: ”لِيَبْكِ يَزِيدَ ضَارِعٌ“، اور اس صورت میں ”يَزِيدَ“ مفعول بنتا اور ”ضَارِعٌ“ فاعل بن جاتا۔ لیکن کہتے ہیں ہم نے جو ترکیب کی وہ بہتر ہے تین وجہ سے۔ ایک وجہ تو یہ کہ پہلے اجمال آیا، ”لِيُبْكَ يَزِيدُ“ جب آپ نے کہا چاہیے رویا جائے یزید پر، تو انتظار ہے فا... اجمالاً ذکر ہوا مولانا فاعل کا، پھر آگے ”ضَارِعٌ“ کے ذریعے اس کا تفصیلاً ذکر ہوا اور اس تکرار آیا۔ دوسری دوسرا فائدہ کیا تھا؟ جی؟ ہاں، کہ یزید اگر دوسری ترکیب کریں تو کلام کے اندر فضلہ واقع ہوتا ہے، اور ہماری ترکیب کریں تو فضلہ واقع نہیں ہوتا۔ اور تیسری وجہ یہ کہ انتظار کے بعد اگر دوسری ترکیب کرتے تو انتظار کے بعد فاعل کا پتہ چلتا، اور پہلی ترکیب کریں تو بغیر کسی انتظار کے فاعل کا پتہ چل رہا ہے اور یہ زیادہ الذ ہے۔ اب ذکر: ”وَأَمَّا ذِكْرُهُ فَلِمَا مَرَّ فِي ذِكْرِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“ اور باقی ذکر جو ہے یعنی مسند کا، اسی وجہ سے جو گزر گئی مسند الیہ کے ذکر میں۔ مسند الیہ میں انہوں نے بیان کیا تھا: مسند الیہ کو کبھی کس لیے ذکر کرتے ہیں؟ اصل ہونے کی وجہ سے، جیسے یعنی کہ ”مِنْ كَوْنِهِ“ یہ ”مِنْ“ بیان ہے ”مَا“ کا مولانا، یعنی کہ اس کا اصل ہونا ”مَعَ عَدَمِ الْمُقْتَضِي لِلْعُدُولِ عَنْهُ“ ساتھ کوئی مقتضی بھی نہیں جو اصل سے عدول کا تقاضا کرے۔ مسند میں اصل کیا ہے؟ ذکر کیا جائے یا ترک کیا جائے؟ ذکر کیا جائے، تو اصل بھی یہ ہے کہ ذکر کرو اور کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو تقاضا کر رہی ہے کہ اس کو کیا کر دو؟ حذف، تو اب ذکر کریں گے۔ ”وَمِنَ الِاحْتِيَاطِ لِضَعْفِ التَّعْوِيلِ عَلَى الْقَرِينَةِ“ اور یعنی کہ احتیاط، یہ وہی ”مَا“ کا بیان ہے، یعنی کہ احتیاط کی وجہ سے کبھی اس کو ذکر کرتے ہیں ”لِضَعْفِ التَّعْوِيلِ عَلَى الْقَرِينَةِ“ کیونکہ اعتماد کمزور ہوتا ہے قرینے پر۔ قرینہ موجود تو ہے، قرینہ بتلا رہا ہے کہ آگے مسند یہی حذف ہوگا اگر حذف ہوا، لیکن اس قرینے پر اعتماد ہمارا کیا ہے؟ کمزور ہے، تو ہم کیا کرتے ہیں؟ اس کو ذکر کر دیتے ہیں۔ جیسے ”خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ“، جیسے قرآن میں مولانا ”خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ“ آیا، حالانکہ سوال وہاں موجود ہے، قرینہ موجود ہے، اگر ہم خلق... یہاں ”خَلَقَهُنَّ“ حذف بھی ہو تو پھر بھی دلالت کرے گا کہ یہاں پر ”خَلَقَهُنَّ“ محذوف ہے، لیکن اس پر اعتماد کو اس پر اعتماد نہیں کیا، اس پر اعتماد نہیں کیا کہ شاید مخاطب کو بات سمجھ میں نہ آئے، تو اس کو صراحتاً ذکر کر دیا۔ ”وَمِنَ التَّعْرِيضِ بِغَبَاوَةِ السَّامِعِ“ اور کبھی حذف کیا جاتا ہے کس وجہ سے؟ تعریض کی وجہ سے، اشارہ کرنے کے لیے سامع کی غباوت پر کہ اتنا کند ذہن ہے، جیسے کسی نے پوچھا: ”مَنْ نَبِيُّكُمْ؟“، تمہارا پیغمبر کون ہے؟ آپ نے کہا: ”مُحَمَّدٌ نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“۔ تو صرف جواب میں سوال کیا تھا؟ آپ کا پیغمبر کون؟ آپ صرف یہ کہہ دیتے: ”مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“، تو ”نَبِيُّنَا“ خبر کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ سوال موجود تھا، لیکن سوال کے جواب میں آپ پھر بھی خبر لے کر آتے ہیں، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ یہ سامع اتنا غبی ہے، اگر میں نے ذکر نہ کیا تو شاید اس کو بات سمجھ میں نہ آئے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مسند کو کبھی ترک کرتے ہیں اور کبھی ذکر کرتے ہیں۔ توجہ سے بیٹھو بھئی، توجہ سے، اب آگے ذرا مشکل مسئلہ آنے والا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بلاغت کی عظیم کتاب مختصر المعانی آپ پڑھ رہے ہیں بھئی۔ تو سمجھ میں آیا بھئی، بلاغت؟ تو بلاغت سے کلام میں بڑا حسن، خصوصاً مولانا اشعار کے اندر جو بات کہی جا سکتی ہے اور اشعار کا جو اثر ہوتا ہے وہ عام کلام کا اتنا اثر نہیں ہوتا۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے مولانا: ایک شاعر کہتا ہے: تو نہ ایوں تیری یاد آ کے وعدۂ یار وفا کر گئی تو نہ ایوں تیری یاد آ کے وعدۂ یار وفا کر گئی کمی رہی مسلسل رہی تیری بے چینی چین تباہ کر گئی بوا کھڑکيا راتی کئی واری میں سمجهیا اثر دعا کر گئی بوا کھول کے ویکھیا دل بہوں سڑیا، ساڈے نال مذاق ہوا کر گئی مسند کو ذکر کرنے کے نکات چل رہے تھے۔ کچھ نکات وہ کہا، وہی وجہیں وہی نکات ہیں جو کس میں ذکر ہوئے تھے؟ مسند الیہ میں ذکر ہوئے تھے۔ ”أَوْ لِأَجْلِ أَنْ يَتَعَيَّنَ بِذِكْرِ الْمُسْنَدِ كَوْنُهُ اسْمًا فَيُفِيدَ الثُّبُوتَ، أَوْ فِعْلًا فَيُفِيدَ التَّجَدُّدَ“ یا اس وجہ سے اس کو ذکر کیا جاتا ہے مسند کو کہ متعین ہو جائے اس کا اسم ہونا، تو وہ فائدہ کس کا دے گا؟ ثبوت کا۔ ”أَوْ فِعْلًا“ یا متعین ہو جائے مسند کا فعل ہونا، تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تجدد کا فائدہ دے گا۔ جی، تو یاد رکھو جملے دو قسم پر ہیں: ایک جملہ فعلیہ، ایک جملہ اسمیہ۔ جملہ فعلیہ کس سے آتا ہے؟ حدوث پر دلالت کرتا ہے اور تجدد پر۔ حدوث کا معنی ہے ایک چیز جو پہلے نہ تھی پھر آ گئی، ”ضَرَبَ“ کا کیا معنی؟ ایک زمانے میں پٹائی کی ہے، پہلے نہیں تھی، اس کے بعد پٹائی ہوئی پھر کیا ہوا، اس میں تج... استمرار پر بھی کبھی کبھار دلالت کرتا ہے، تجدد پر۔ جبکہ جملہ اسمیہ جو ہے وہ ثبوت کے لیے آتا ہے، ایک چیز کو کیا کرتا ہے؟ دوسری کے لیے... ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے، قیام ثابت ہے۔ اور کبھی کبھار پھر قرینہ ساتھ ہو تو دوام پر بھی دلالت کرتا ہے، عند البعض، بعض کے نزدیک ثبوت اور دوام دونوں پر اکٹھا دلالت کرتا ہے وہ۔ تو جملہ اسمیہ کس لیے آتا ہے؟ ثبوت اور دوام کے لیے، اور جملہ فعلیہ کس لیے آتا ہے؟ حدوث کے لیے، حدوث کے لیے۔ تو جہاں حدوث ہوگا وہاں تجدد ہے بھئی۔ کیا ہے؟ تجدد ہے، ایک چیز نئی تھی پھر کیا ہوئی؟ آ گئی۔ تو کہتے ہیں مسند کو ذکر کرتے ہیں، مسند کو ذکر کریں گے پتہ چل جائے گا کہ فعل ہے یا اسم، فعل ہے تو کیا؟ تجدد، اسم ہے تو دوام آ جائے گا۔ ”وَأَمَّا إِفْرَادُهُ...“ جی، اور کبھی کبھار مسند کو مفرد لایا جاتا ہے، اس کو مفرد کیوں لایا جاتا ہے؟ یرحمک اللہ۔ افراد... اس کو باقی مسند کو جو مفرد لانا ہے، ”أَيْ جَعْلُ الْمُسْنَدِ غَيْرَ جُمْلَةٍ“ مفرد کو... مسند کو جملہ نہ بنانا، ”فَلِكَوْنِهِ غَيْرَ سَبَبِيٍّ“ بوجہ اس کے کہ وہ مسند کیا ہوتا ہے؟ غیر سببی ہوتا ہے۔ ”مَعَ عَدَمِ إِفَادَةِ تَقَوِّي الْحُكْمِ“ اور ساتھ اس کے وہ تقوی حکم کا فائدہ بھی نہیں دیتا۔ مشکل بحث ہے، توجہ سے بیٹھو بھئی۔ آپ نے نحو کے اندر پڑھا ہے: ایک صفت بحالہٖ ہوتی ہے، ایک صفت بحالِ متعلقہٖ۔ صفت بحالہٖ اس کو کہتے ہیں جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو موصوف میں پایا جائے۔ میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ الرَّاكِبُ“، راکب، یہ سوار ہونے کا معنی کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ زید کے اندر پایا جا رہا ہے یعنی راکب زید ہی ہے کوئی اور راکب نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں: ”رَأَيْتُ رَجُلًا قَائِمًا“، میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو کھڑا ہوا تھا، تو ”رَجُلًا“ موصوف، ”قَائِمًا“ صفت، تو یہ قیام رجل کے اندر ہے جس کی وہ صفت ہے یا غیر میں ہے؟ رجل ہی میں ہے۔ تو صفت بحالہٖ اس کو کہتے ہیں، صفت بحالہٖ۔ یعنی صفت ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جا رہا ہے؟ موصوف ہی میں پایا جا رہا ہے۔ اور ایک صفت بحالِ متعلقہٖ ہے کہ صفت ایسے معنی پر دلالت کرے جو موصوف میں نہیں بلکہ موصوف کے متعلق میں پایا جا رہا ہے۔ جیسے: ”رَأَيْتُ رَجُلًا قَائِمًا أَبُوهُ“، ”رَأَيْتُ رَجُلًا قَائِمًا أَبُوهُ“، میں نے ایک ایسا شخص دیکھا کہ کھڑا تھا اس کا باپ۔ تو مولانا ”قَائِمًا“ لفظوں کے اعتبار سے صفت ہے رجل کی، لیکن قیام رجل کے اندر ہے یا اس کے باپ میں ہے؟ تو دیکھو ”قَائِمًا“ صفت ہے تو رجل کی لیکن ایسے معنی پر دلالت کر رہی ہے جو موصوف میں نہیں ہے بلکہ موصوف کے متعلق میں موجود ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو اس کو کہتے ہیں کیا کہتے ہیں؟ صفت بحالِ متعلقہٖ۔ یہ سب کو پتہ ہے اچھی طرح؟ جی۔ اب یہاں ذکر کریں گے مولانا، صفت بحالہٖ کو وہ کہیں گے صفتِ صفتِ فعلی، صفتِ فعلی۔ اور صفت بحالِ متعلقہٖ اس کو کہیں گے صفتِ سببی، کیا کہیں گے؟ صفتِ سببی۔ صفتِ بحالہٖ کو کیا کہیں گے؟ اچھا، صفتِ فعلی یا یوں کہو غیر سببی، صفتِ غیر سببی۔ اور صفت بحالِ متعلقہٖ کو کیا کہیں گے؟ سببی کہیں گے۔ ایک سببی ہے، ایک غیر سببی ہے، بھول جاتا ہے آدمی کون سی سببی ہے کون سی غیر سببی ہے، میں آپ کو ضابطہ بتلاتا ہوں بھئی۔ قاعدہ خود ہی بنا خود ہی آپ بھی بنا لیں بھئی اس کو۔ میں نے کہا: ”رَأَيْتُ زَيْدًا الْعَالِمَ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا الْعَالِمَ“، یہ عالم یہ معنی زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے؟ ثابت ہے۔ تو آپ دو لفظ ہیں: ایک ہے نہیں، ایک ہے غیر۔ ایک ہے نہیں، ایک ہے غیر، دونوں میں سے ایک لانا ہے آپ نے بس۔ یا نہیں لاؤ یا غیر لاؤ۔ اچھا اب بتائیں، صفت یہ زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے؟ ثابت ہے، نہیں تو نہیں آیا، لہٰذا کس کو لے آؤ؟ غیر کو لے آؤ، یہ صفت کون سی ہوئی؟ غیر سببی، صفت کون سی ہوئی؟ غیر سببی ...اور ”نَقْدٌ“ کیا ہوا؟ وہمی چیز کو ثابت کیا جائے، کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ تو یہاں ایسا بھی نہیں مولانا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ بس سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہ تو یہاں نقض ابطال کے معنی میں ہے، اور ابطال تو عہد کے لیے آتا ہے، یہ کوئی وہمی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا نہ یہ استعارہ تخییلیہ جمہور کی تعریف کے مطابق بن سکتا ہے، اور نہ ہی یہ استعارہ تخییلیہ علامہ سکاکی کی تعریف کے مطابق بن سکتا ہے۔ تو دیکھو، استعارہ بالکنایہ بغیر تخییلیہ کے آ گیا۔ ”وَصَاحِبُ الْمِفْتَاحِ...“ اور اسی طرح جو ثابت کیا ہے علامہ سکاکی نے فی مثلِ: ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ اس مثال کے اندر۔ تو یہاں پر بھی دیکھو، انبت کا اسناد ہے ربیع کی طرف۔ تو یہاں الربیع کے اندر استعارہ بالکنایہ ہے، اور اس کے لیے قرینہ کیا ہے؟ انبات کا اسناد ہو رہا ہے ربیع کی طرف۔ حالانکہ انبات، اگانا، یہ تو ربیع کا کام نہیں ہے بلکہ فاعلِ حقیقی کا کام ہے۔ تو ربیع سے مراد فاعلِ حقیقی ہے، یہ استعارہ بالکنایہ۔ اور انبات جو اس کے لیے ثابت ہے، یہ انبات استعارہ تخییلیہ نہیں، کیونکہ تخییلیہ کہتے ہیں وہمی چیز کو، اور یہاں انبات کوئی وہمی چیز نہیں ہے بلکہ حقیقی ہے۔ ”فَصَارَ الْحَاصِلُ مِنْ مَذْهَبِهِ...“ پس علامہ سکاکی کے مذہب کا حاصل یہ ہے کہ... حاصل یہ کہ استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کبھی استعارہ تخییلیہ بھی ہو سکتا ہے، جیسے مولانا ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ“، منیّہ کے لیے قرینہ کیا... یہاں منیّہ میں کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ، اور اس کے لیے قرینہ کیا ہے؟ اظفار، اور کیا اظفار کون سے مراد ہیں؟ وہمی۔ تو یہ استعارہ کون سا ہوا؟ تخییلیہ۔ اسی طرح ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ میں بھی ہے۔ اور کبھی کبھار اس کا قرینہ استعارہ بالکنایہ کا وہ استعارہ تحقیقیہ ہوگا مولانا، وہمی نہیں بلکہ ایسی چیز ہوگی جس کا تحقق حساً یا عقلاً ہوگا۔ جیسے اللہ کا قول ہے: ”يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ“ اے زمین! تو اپنے پانی کو نگل جا۔ اے زمین! تو اپنے پانی کو نگل جا مولانا۔ عجیب استعارہ ہے، کہتے ہیں فصاحت و بلاغت کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ کہتے ہیں سبعہ معلقات مولانا، یہ سات قصیدے عرب والوں نے لٹکائے ہوئے تھے بیت اللہ کے اندر، بھئی۔ تو غالباً غالباً زہیر بن ابی سلمیٰ یا امرؤ القیس کی جو بہن تھی، امرؤ القیس کا تو انتقال ہو چکا تھا، یہ قصیدہ اس کا لٹکا ہوا تھا بیت اللہ کے مولانا۔ اس نے جب یہ کلام سنا، اللہ فرماتے ہیں، بھئی، طوفانِ نوح آیا۔ طوفانِ نوح کے بعد ہم نے زمین سے کہا: ”يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ“، اے زمین، اپنا پانی نگل جا۔ پانی نگل جا۔ اس نے جب اتنا فصیح و بلیغ کلام سنا، تو گئی بیت اللہ میں جا کر اپنے بھئی کے قصیدے کو اتار لیا کہ اب یہ اس قابل نہیں ہے، اس کے مقابلے میں ایسا کلام آ چکا ہے کہ یہ اس قابل نہیں کہ اس کو کہاں پر لٹکایا جائے؟ بیت اللہ کے اندر، بھئی۔ اے زمین، اپنے پانی کو نگل جا۔ تو دیکھو، یہاں پر اس کے اندر پانی کو کس سے... پانی کے اندر استعارہ ہے غذا سے، پانی کو تشبیہ دی کس سے؟ غذا سے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ پانی کو تشبیہ دی ہے غذا سے، اور پھر اس غذا کے لفظ کو مستعار لے لیا گیا کس کے لیے؟ پانی کے لیے، یہ تو جمہور کے قول پر۔ اور پھر ہم نے اس مستعار استعارے پر تصریح نہیں کی بلکہ اشارہ کر دیا کس کے ذریعے؟ ابلعی کے ذریعے۔ یہ قرینہ ہوا اس کا مولانا۔ اور یہ ابلع... بلع کے اندر بھی استعارہ ہے مولانا، یعنی پانی کا گہرائی میں جانا۔ نگلنے سے کیا مراد ہے؟ زمین کے اندر نیچے چلے جانا، اس کی سطح نیچے چلی جائے، بھئی، گہرائی میں چلا جائے پانی۔ اچھا، تو یہاں پر مولانا دیکھو، نگلنے میں استعارہ ہے اور اس سے کیا مراد ہے؟ پانی کا گہرائی میں جانا۔ پانی کا... تو دیکھو، پانی کے گہرائی میں جانے کو تشبیہ دی نگلنے کے ساتھ۔ اس کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ نگلنے کے ساتھ۔ اور وجہِ تشبیہ کیا ہے مولانا؟ وجہِ تشبیہ کیا ہے، بھئی؟ کہ دونوں چیزیں دونوں میں خفا آ جائے گا، کیا آ جائے گا؟ بھئی، پیٹ میں بھی جب کوئی چیز گئی، مخفی ہو گئی یا نہیں؟ پانی بھی جب گہرائی میں چلا گیا تو کیا ہوا؟ مخفی ہو گیا۔ تو یہاں پر اس نگلنے... اور تو مشبہ کون؟ پانی کا گہرائی میں جانا۔ مشبہ بہٖ کون؟ نگلنا۔ اور لفظ کون سا ذکر؟ مشبہ بہٖ۔ اور مشبہ بہٖ ذکر ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تحقیقیہ۔ تو ماء کے اندر استعارہ بالکنایہ تھا اور اس کا قرینہ ابلعی ہے، اور ابلعی استعارہ تحقیقیہ ہے، تخییلیہ نہیں ہے۔ اور کبھی کبھار کہتے ہیں اس کا قرینہ حقیقت ہوگی جیسے ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ“، دیکھو ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“، ربیع کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ فاعلِ حقیقی کے ساتھ، یہ استعارہ بالکنایہ۔ اور استعارہ بالکنایہ کے لیے قرینہ کیا؟ انبات، اور انبات کس معنی میں ہے؟ حقیقی معنی میں یا غیر حقیقی معنی میں؟ حقیقی معنی میں۔ تو دیکھو، علامہ سکاکی کے مذہب کا خلاصہ یہ کہ استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کبھی استعارہ تخییلیہ بھی ہو سکتا ہے، کبھی استعارہ تحقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، اور کبھی حقیقت بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی کیا ہو سکتی ہے؟ دیکھیے: ”فَصَارَ الْحَاصِلُ مِنْ مَذْهَبِهِ“ حاصل یہ ہے ان کے مذہب سے ”أَنَّ قَرِينَةَ الإِسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ قَدْ تَكُونُ إِسْتِعَارَةً تَخْيِيلِيَّةً“ کہ قرینہ استعارہ بالکنایہ کا کبھی تو کیا ہوگا؟ استعارہ تخییلیہ ہوگا، ”مِثْلُ أَظْفَارِ الْمَنِيَّةِ“ جیسے منیّہ کے اظفار ہیں، اور نَطَقَتْ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر مولانا، ”وَقَدْ تَكُونُ إِسْتِعَارَةً تَحْقِيقِيَّةً“ اور کبھی کیا ہوگا قرینۂ استعارہ؟ تحقیقیہ۔ ”عَلَى مَا ذُكِرَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ“ اللہ کے اس قول میں جیسے ذکر کیا گیا: اے زمین، اپنا پانی نگل جا، ”أَنَّ الْبَلْعَ إِسْتِعَارَةٌ عَنْ غَوْرِ الْمَاءِ“ بلع کیا ہے؟ استعارہ ہے پانی کے گہرائی میں جانے سے ”فِي الْأَرْضِ“ زمین میں، ”وَالْمَاءُ إِسْتِعَارَةٌ بِالْكِنَايَةِ عَنِ الْغِذَاءِ“ اور ماء استعارہ بالکنایہ ہے کس سے؟ غذا سے۔ ”وَقَدْ تَكُونُ حَقِيقَةً“ اور کبھی کبھار مولانا استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کیا ہوگا؟ حقیقت ہوگا، ”كَمَا فِي أَنْبَتَ الرَّبِيعُ“ جیسے کہ ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ“ کے اندر تھا۔ چلیے مولانا، ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
69 approved lectures · 27 of 69