گزشتہ سبق میں مولانا علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا تھا کہ "کثیراً ما" یہ منصوب ہے ظرفیت کی بنا پر۔ یہ صفت ہے احیان کی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن یہاں اس وقت احیان کی صفت نہیں ہے، البتہ صفت احیان کی صفت تھی اور پھر اس کو بعد میں اکیلا ہی استعمال کرنے لگے بطورِ ظرف کے بھئی۔ اور یہ بھی آپ کو بتلایا گیا کہ بلاغت ہی کو کبھی کبھار فصاحت بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ قران معجز ہے فصاحت کے اعلیٰ درجوں میں ہونے کی وجہ سے۔ تو یہاں فصاحت کے اعلیٰ درجوں سے کیا مراد ہے؟ بلاغت مراد ہے۔ پھر بتلایا تھا کہ بلاغت کی دو طرفیں ہیں: ایک اعلیٰ ہے اور ایک اسفل ہے۔ اور عبارت آئی تھی مولانا: "وَلَهَا طَرَفَانِ أَعْلَى وَهُوَ حَدُّ الْإِعْجَازِ وَمَا يَقْرُبُ مِنْهُ أَيْ وَمَا يَقْرُبُ مِنْ حَدِّ الْإِعْجَازِ" بھئی۔ تو یہ عطف کیا تھا بعض علماء نے بھئی، یہ بڑی مشکل عبارت تھی، حل ہی نہ ہوتی تھی بھئی۔ تو اس کا عطف ہوتا تھا، "مَا يَقْرُبُ" پر عطف کرتے تھے علماء "حَدُّ الْإِعْجَازِ" پر بھئی۔ تو ایک اعلیٰ طرف ہے اور وہ کون سی ہے مولانا؟ "حَدُّ الْإِعْجَازِ وَمَا يَقْرُبُ مِنْ حَدِّ الْإِعْجَازِ"۔ تو اعلیٰ مقسم بنی اور اعجاز، حدِ اعجاز اور "مَا يَقْرُبُ مِنْ حَدِّ الْإِعْجَازِ" کیا بنی اس کی؟ قسمیں، قسمیں بنی۔ اور یہاں پر یہ بات درست نہیں بنتی تھی، اس لیے کہ مقسم کا حمل ہوتا ہے قسم پر۔ جیسے کلمہ کی قسمیں ہیں اسم، فعل اور حرف، تو ان پر حمل ہوتا ہے کلمہ پر اور آپ کہہ سکتے ہیں: "الِاسْمُ کَلِمَةٌ"، "الْفِعْلُ کَلِمَةٌ"، "الْحَرْفُ کَلِمَةٌ"۔ تو دیکھو کلمہ جو مقسم ہے اس کا آپ حمل کر رہے ہیں بھئی، کس پر؟ قسم پر۔ تو مقسم کا حمل ہوتا ہے قسم پر۔ تو یہاں پر بھی اگر اس طرح کریں تو بات درست نہیں رہتی۔ اس لیے کہ اعلیٰ مقسم ہے اور حدِ اعجاز اور "مَا يَقْرُبُ مِنْ حَدِّ الْإِعْجَازِ" وہ کیا ہیں؟ قسم ہیں۔ تو یوں کہیں گے: "حَدُّ الْإِعْجَازِ أَعْلَى"، حدِ اعجاز کیا ہے؟ اعلیٰ ہے۔ "وَمَا يَقْرُبُ مِنْ حَدِّ الْإِعْجَازِ أَعْلَى"، اور جو حدِ اعجاز کے قریب ہے وہ بھی کیا ہے؟ اور یہ حمل درست نہیں ہے، دوسرا بھئی۔ اس لیے کہ اعلیٰ اس کو کہتے ہیں کہ اس سے اوپر اور کوئی نہ ہو۔ اور یہاں حالانکہ "مَا يَقْرُبُ مِنْ حَدِّ الْإِعْجَازِ" سے اوپر کون ہے؟ حدِ اعجاز خود اس سے اوپر ہے۔ تو اس "مَا يَقْرُبُ مِنْ حَدِّ الْإِعْجَازِ" کو اعلیٰ کہنا صحیح نہیں ہے۔ تو یہ بڑا مشکل مقام تھا بھئی۔ علامہ تفتازانی بھئی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً، وہ فرماتے ہیں کہ میں اس مقام پر سوچ رہا تھا، غور و فکر میں ڈوبا ہوا تھا کہ مجھے اونگھ آ گئی، نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت تھی: "أُلْهِمْتُ بَيْنَ النَّوْمِ وَالْيَقَظَةِ"۔ اس نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں مجھے الہام ہوا من جانب اللہ کہ یہ "مَا يَقْرُبُ مِنْهُ" کا عطف "حَدُّ الْإِعْجَازِ" پر نہ کرو، اس کا عطف "هُوَ" پر کرو بھئی۔ تو اب طرفان دو طرفیں ہیں: اعلیٰ، اور وہ "وَمَا يَقْرُبُ مِنْهُ"، اور "ہ" ضمیر کس کو راجع کرو؟ اب اعلیٰ کو راجع کرو۔ تو وہ اعلیٰ اور "مَا يَقْرُبُ مِنَ الْأَعْلَى" وہ کیا ہیں؟ حدِ اعجاز ہیں۔ تو اب مولانا حدِ اعجاز مقسم بن گیا اور اس کی دو طرفیں، دو قسمیں ہوئیں حدِ اعجاز کی: ایک اعلیٰ اور دوسری "مَا يَقْرُبُ مِنَ الْأَعْلَى" بھئی۔ کہتے ہیں: اب عبارت حل ہو گئی۔ اعلیٰ سب سے اونچے درجے پر جو کلام ہے وہ بھی حدِ اعجاز، اور اس کے قریب قریب جو ہے وہ بھی سارا کیا ہے؟ حدِ اعجاز ہے۔ اعجاز عاجز کر دینے کی حد ہے مولانا، یعنی اس کا انسان مقابلہ نہیں کر سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پھر اس پر میں نے ایک سوال و جواب بھی ذکر کیا تھا کہ بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے کوئی ایسا کلام ہو کہ جس کا انسان مقابلہ نہ کر سکے؟ یہ علمِ بلاغت ہے، اس میں بتا دیا جائے گا کیسے مطابقت کرنی ہے کلام کی، کیسے غلطیوں سے بچنا ہے۔ یہ سارا کچھ جب انسان جان لے تو پھر اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ ایسا کلام کرے جو اعلیٰ ترین درجے پر ہو؟ اور آپ کہہ رہے ہیں جو اعلیٰ درجے پر ہے اس کا تو مقابلہ ہی، بلکہ اعلیٰ کے جو قریب ہے اس کا بھی مقابلہ ممکن نہیں ہے۔ تو میں نے بتلایا تھا بھئی کہ یہ علم آپ کو صرف اتنا بتلائے گا کہ یہ چیز اس کے لیے لائی جاتی ہے، یہ چیز اس مقصد کے لیے لائی جاتی ہے، یہ چیز اس مقصد کے لیے لائی جاتی ہے۔ تو یہ تو پتہ چل جائے گا، لیکن آپ کو یہ کون بتائے گا کہ اس مقام پر اس اس چیز کی ضرورت ہے؟ وہ یہ علم نہیں بتلا سکتا بھئی کہ اس مقام پہ آپ نے کیا کرنا ہے؟ معرفہ لانا ہے، اس مقام پہ نکرہ لانا ہے، اس مقام پہ ضمیر لانی ہے، اس مقام پر اسمِ ظاہر لانا ہے، اس مقام پہ مقدم کرنا ہے، اس مقام پہ مؤخر کرنا ہے۔ تو ایک ہی جگہ کئی چیزوں کا اعتبار کرنا پڑتا ہے۔ تو یہ کون بتائے گا آپ کو کہ ان ساری چیزوں کا یہاں اعتبار کرنا ہے بھئی؟ یہ یہ علم نہیں بتلائے گا۔ ہاں، یہ پتہ چل جائے آپ کو کہ یہ یہ چیزوں کا اعتبار کرنا ہے، پھر یہ علم آپ کو بتلا دے گا کہ کس طرح کرنا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ طریقہ تو سکھلا دے گا، لیکن ان چیزوں کی جو معرفت ہے وہ تو یہ علم نہیں کروا سکتا بھئی۔ اور نیز پھر ان کے اندر بھی کیفیت ہوتی ہے، مثال کے طور پر تاکید لانی ہے، کتنے درجے کی تاکید لانی ہے؟ وہ یہ علم نہیں بتلائے گا آپ کو، ایک درجے کی ہے، دو، تین، چار، پانچ، کتنے تاکید کتنی زیادہ لے کر آنی ہے، یہ وہ علم نہیں۔ ہاں، یہ بتلا دے گا کہ چار لانی ہے تو کیسے لانی ہے، تین لانی ہے تو کیسے۔ لیکن کتنی لانی ہے اس وقت؟ یہ یہ علم سے پتہ نہیں چلے گا بھئی۔ تو لہٰذا اس کلام کا جو اعلیٰ درجے پر ہوگا اس کا مقابلہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ بڑے بڑے بلغاء، بڑے بڑے اس علم کے ماہرین گزرے ہیں جو بلیغ عبارت بنانے پر بھی قادر نہیں ہوتے تھے۔ اس علم کے ماہر ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی بلیغ عبارت، تو بلیغ عبارت ہی نہیں بنا سکتے تو اعلیٰ ترین درجے کی کہاں سے بنائیں بھئی؟ اور پھر بتلایا تھا ایک تو اعلیٰ درجہ ہے اور ایک اسفل، سب سے نچلا درجہ ہے۔ اس نچلے درجے سے اگر کلام اور نیچے گر جائے تو بلغاء کے نزدیک وہ کلام بالکل ردی ہے، بیکار ہے اور جانوروں کی آوازوں کی طرح ہے۔ مثلاً ایک منکر ہے اس کے سامنے آپ بغیر تاکید کے کلام ذکر کرتے ہیں تو آپ کا یہ کلام کرنا بیکار ہے، بالکل ردی ہے، اس کا کوئی ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں بھئی۔ منکر ہے اس کے سامنے آپ کہہ رہے ہیں: "قَامَ زَیْدٌ"، وہ تو پہلے قیامِ زید کا انکار کر رہا ہے کہ زید کھڑا نہیں ہے اور آپ پھر کہہ رہے ہیں: "قَامَ زَیْدٌ"، تو کوئی فائدہ ہوا؟ کوئی تاکید لائے آپ؟ ہاں، تاکیدات لاتے تو پھر فائدہ ہو سکتا تھا، کیونکہ انکار کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ تاکید کا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ بتلایا تھا کہ یہ اعلیٰ اور اسفل کے درمیان بہت سے مرتبے ہیں کلام کے مولانا۔ اور یہ بھی بتلایا تھا آپ کو کہ بلاغتِ کلام کے تابع کچھ اور وجوہ بھی ہیں مولانا جو کلام میں کیا پیدا کرتی ہیں؟ حسن پیدا کرتی ہیں بھئی۔ تو اولاً پہلے خیال رکھا جائے گا فصاحت و بلاغت کا مولانا کلام میں، یعنی کلام میں فصاحت ہو اور وہ مقتضائے حال کے مطابق ہو۔ اس کے بعد کچھ اور وجوہ ہیں، کچھ اور امور ہیں جن سے کلام میں مزید حسن پیدا ہوتا ہے۔ جیسے میں نے ذکر کیا تھا صنعتِ تجنیس ہے، یہ لے آئے آپ کلام میں۔ جیسے شعر میں نے ذکر کیا تھا:
طَرَقْتُ الْبَابَ حَتَّى کَلَّ مَتْنِیْ
وَلَمَّا کَلَّ مَتْنِیْ کَلَّمَتْنِیْ تو دیکھو، ایک جیسے الفاظ لے کر آئے بھئی۔ یا "کَلَامُکَ کَمَالُکَ" بھئی، یہ بھی ایک جیسے، اس میں صنعتِ قلب ہے بھئی۔ اس کے بعد بلاغت فی المتکلم کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ ایسا ملکہ ہے: "يُقْتَدَرُ بِهَا" کہ جس کے ذریعے قادر ہوا جائے، کس چیز پر؟ کلامِ بلیغ کی تالیف پر قادر ہوا جاتا ہے بھئی، یعنی اس کے وہ انسان کلامِ بلیغ کرنے پر قادر ہو جاتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: پس جان لیا گیا، پھر یہ آپ کو بتلایا تھا کہ ابھی تک جو بحث ہوئی اس سے آپ کو اتنا پتہ چل گیا، مصنف بتلا رہے ہیں مولانا صاحبِ تلخیص کہ ہر بلیغ فصیح ہے، "وَلَا عَکْسَ" اور اس کا عکس نہیں کہ ہر فصیح کیا ہو؟ بھئی، ہر بلیغ فصیح ہے، کیونکہ بلیغ کہیں گے ہی اس کو جس کے اندر فصاحت بھی ساتھ ساتھ ہو مطابقت کے۔ لیکن ہر فصیح کا بلیغ ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ اور بتلایا تھا کہ بلیغ سے مراد یہاں بلاغتِ کلام بھی ہے اور متکلم، تو کلامِ بلیغ بھی مراد اور متکلمِ بلیغ بھی مراد۔ تو یا تو یہ اشتراکِ لفظی کے قبیل سے ہے یا اشتراکِ معنوی، کہ لفظ بول رہے ہیں "بلیغ" اور مراد لے رہے ہیں دونوں، کلامِ بلیغ بھی اور متکلمِ۔ تو یا تو یہ اشتراکِ لفظی ہے یا اشتراکِ معنوی۔ اشتراکِ لفظی میں نے بتلایا تھا کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کہ ایک ایک ہی لفظ کو کئی معانی کے لیے الگ الگ وضع کیا جائے۔ جیسے جاریہ کا لفظ لڑکی کے لیے بھی وضع اور کشتی کے لیے بھی وضع، تو یہ دو معانی کے لیے وضع ہے۔ لیکن جمہور کے نزدیک ایک وقت میں ایک ہی معنی مراد ہو سکتا ہے، زیادہ، دونوں معنی اکٹھے مراد۔ لیکن یہاں بلیغ کے دو معنی تھے، الگ الگ وضع تھی، کلام کے لیے الگ بلیغ کی وضع، متکلم کے لیے بلیغ کی الگ وضع، لیکن دونوں مراد لیے جا رہے ہیں۔ تو یہ تو یا تو بنا بر اشتراکِ لفظی کے ہے کہ دو مشترک کے دونوں معنی مراد لیے گئے اور یہ بعض کے نزدیک جائز ہے، سب کے نزدیک نہیں جائز بھئی۔ الحمد للہ، یرحمک اللہ۔ یا یہ مولانا اشتراکِ معنوی کے قبیل سے ہے۔ اشتراکِ معنوی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ کو وضع کیا جائے ایک معنیِ کلی کے لیے جس کے بہت سے افراد ہوں، جیسے انسان وضع ہے مولانا، اس کے کیا ہیں؟ بہت زیادہ افراد ہیں۔ تو یہاں بھی بلیغ کے افراد، بلیغ کلی ہے، یعنی ہر وہ چیز جس پہ کس کا اطلاق ہوتا ہے؟ بلیغ کا اطلاق ہوتا ہے۔ تو یہ کلی ہوئی، اس کے دو افراد ہوئے مولانا: ایک کیا؟ کلامِ بلیغ اور ایک متکلمِ بلیغ، اور اس سے دونوں مراد لے لیے گئے جیسے انسان بولا جائے اور اس سے تمام افراد مراد لے لیے جائیں۔ اور یہ اشتراکِ معنوی کہلاتا ہے۔ "وَلَا عَکْسَ أَيْ بِالْمَعْنَى اللُّغَوِيِّ أَيْ لَيْسَ کُلُّ فَصِيْحٍ بَلِيْغًا"، اور اس کا عکس نہیں ہے۔ کہتے ہیں: عکس سے یہاں بالمعنی اللغوی، عکسِ لغوی مراد ہے مولانا۔ کیا مراد ہے؟ یاد رکھو، عکس تین قسم پر ہے مولانا: ایک عکسِ عرفی ہے، ایک عکسِ عرفی ہے، ایک عکسِ لغوی ہے اور ایک عکسِ منطقی ہے۔ یہ اچھی طرح یاد کر لیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح۔ عکسِ عرفی کا معنی ہے مخالف ہونا، بس۔ عکسِ عرفی کا کیا معنی ہے؟ مخالف ہونا۔ "وَلَا عَکْسَ"، اگر عکسِ عرفی مراد ہو تو معنی یہ ہوگا: اور اس کا مخالف نہیں ہے۔ لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ بھئی وہ آپ نے پڑھا تھا بھئی، کیا پڑھا تھا آپ نے؟ کہ حمد جو ہے عام ہے شکر سے باعتبار متعلق کے، اور خاص ہے باعتبارِ مورد کے۔ یاد آیا بھئی؟ حمد عام ہے کس کے اعتبار سے؟ جی، متعلق کے اعتبار سے بھئی۔ اور کیونکہ وہ نعمت کے مقابلے میں بھی آ سکتی ہے اور غیرِ نعمت کے، جبکہ شکر خاص ہے وہ صرف کس کے مقابلے میں آئے گا؟ اور حمد جو ہے وہ خاص ہے باعتبارِ مورد کے مولانا، یعنی یہ صرف زبان سے ہوگی، جبکہ شکر زبان، قلب، جوارح تینوں سے ہو سکتا ہے بھئی۔ تو مورد کے اعتبار سے شکر عام اور متعلق کے اعتبار سے حمد عام ہے بھئی۔ اور آگے بتلایا تھا: "وَالشُّکْرُ بِالْعَکْسِ"، اور شکر کیا ہے؟ اس کے برعکس۔ یہاں عکسِ عرفی مراد ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا مراد ہے؟ بتلایا بھئی حمد متعلق کے اعتبار سے عام ہے اور مورد کے اعتبار سے۔ اور شکر اس کے برعکس ہے، کیا معنی؟ اس کے مخالف ہے۔ اس کے مخالف کر لو، یعنی متعلق کے اعتبار سے شکر خاص ہے اور مورد کے اعتبار سے عام ہے۔ یہ ہے مخالفت ہونا، بس ماقبل کا مخالف کر لو، بس۔ یہ عکسِ عرفی ہے۔ اور ایک ہے عکسِ لغوی مولانا۔ عکسِ لغوی اس کو کہتے ہیں: موضوع کو محمول بنا دیں، محمول کو موضوع بنا دیں، بس۔ اور کمیت کو برقرار، کمیت کمیت کو کیا کریں؟ برقرار رکھیں۔ پہلا کلی ہے تو ثانی بھی کلی ہو، پہلا جزئی ہے تو ثانی بھی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "کُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ"، ہر انسان کیا ہے؟ اب مولانا محمول کو موضوع بنائیں اور موضوع کو محمول بنائیں بھئی۔ کیا بن جائے گا؟ "کُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ"، ہر حیوان انسان ہے۔ یہ جملہ صحیح ہے؟ نہیں۔ معلوم ہوا "کُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ وَلَا عَکْسَ"، ہر انسان تو حیوان ہے لیکن اس کا عکس نہیں ہے۔ یہ کیا ہے مولانا؟ عکسِ لغوی۔ اور ایک عکسِ منطقی ہے۔ عکسِ منطقی کے اندر مولانا صدق کو برقرار رکھنا ہے۔ عکسِ لغوی میں کس کو برقرار رکھا تھا؟ کمیت کو، اور عکس پہلا کلی تھا "کُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ"، دوسرا بھی کلی رہے گا "کُلُّ حَیَوَانٍ"۔ اور ایک ہے عکسِ منطقی، اس میں صدق کو برقرار رکھنا ہے۔ موضوع کو محمول بنانا ہے اور محمول کو موضوع، اور کمیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں، ہاں صدق برقرار ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا "کُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ"، اب ذرا موضوع محمول کو بدلیں مولانا: "کُلُّ حَیَوَانٍ" یہ تو صادق نہیں آ رہا، تو کل کو ذرا بدل دو: "بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ"، اب صادق ہو گیا۔ کیا ہوا؟ یہ آ گئی مولانا منطقی عکس بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ بھی صادق ہے۔ لغوی عکس تو صادق نہیں تھا، غلط تھا، اور یہ کیا ہے؟ منطقی عکس کیا ہے؟ صادق ہے۔ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح مولانا انہوں نے کہا: "وَلَا عَکْسَ"، اس کا عکس نہیں، یہ کون سا عکس، کون سا عکس مراد ہے؟ عکسِ لغوی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اگر عکسِ منطقی ہوتا وہ تو صحیح تھا، وہ بن جاتا تھا، کیسے؟ پہلا جملہ کیا ہے؟ "کُلُّ بَلِيْغٍ فَصِيْحٌ"، اور اس کا عکس کیا؟ "بَعْضُ الْفَصِیْحِ بَلِیْغٌ"، کیونکہ موجبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ ہی آئے گا مولانا، سمجھ میں آیا؟ موجبہ جزئیہ ہی آئے گا، اور وہ یہاں صادق آتا ہے۔ پھر "وَلَا عَکْسَ" نہیں کہہ سکتے مولانا، کیونکہ بعض فصیح تو کیا ہوتے ہیں؟ بلیغ ہوتے ہیں بھئی، بعض۔ اسی لیے کہا: "بِالْمَعْنَى اللُّغَوِيِّ"، عکس کس معنی میں ہے؟ معنیِ لغوی میں ہے، منطقی میں نہیں۔ "أَيْ لَيْسَ کُلُّ فَصِيْحٍ بَلِيْغًا"، ہر فصیح بلیغ نہیں ہے۔ "لِجَوَازِ أَنْ یَّکُوْنَ کَلَامٌ فَصِیْحٌ غَیْرَ مُطَابِقٍ لِّمُقْتَضَى الْحَالِ"، اس لیے کہ ممکن ہے ایسا کلام ہونا جو فصیح ہو لیکن غیر مطابق ہو کس کے؟ مقتضائے حال کے۔ تو فصیح تو ہے، بلیغ نہیں۔ "وَکَذَا یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ لِأَحَدٍ مَلَکَةٌ"، اور اسی طرح جائز ہے، ممکن ہے کہ کسی ایک کو ایسا ملکہ حاصل ہو "یُقْتَدَرُ بِهَا عَلَى التَّعْبِیْرِ عَنِ الْمَقْصُوْدِ" کہ مقصود کو کیا کر سکے؟ تعبیر کر سکے، "بِلَفْظٍ فَصِیْحٍ" کس کے ساتھ؟ لفظِ فصیح کے ساتھ۔ مقصود کو تعبیر تو کر رہا ہے لفظِ فصیح کے ساتھ، "لٰکِنْ مِنْ غَیْرِ مُطَابَقَةٍ لِّمُقْتَضَى الْحَالِ"، مقتضائے حال کے ساتھ اس کی مطابقت نہیں ہے۔ تو دیکھو فصیح، متکلم فصیح تو ہوا لیکن بلیغ نہ ہوا۔ "وَعُلِمَ أَیْضًا أَنَّ الْبَلَاغَةَ فِی الْکَلَامِ مَرْجِعُهَا إِلَى الِاحْتِرَازِ عَنِ الْخَطَأِ فِیْ تَأْدِیَةِ الْمَعْنَى الْمُرَادِ وَإِلَى تَمْیِیْزِ الْکَلَامِ الْفَصِیْحِ عَنْ غَیْرِهِ"، کہ بلاغت فی الکلام جو ہے اس کا مرجع، اس کی اصل جو ہے دو چیزیں ہیں۔ اس کی اصل دو چیزیں ہیں بلاغت کی مولانا: ایک تو معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا۔ معنیِ مراد کی ادائیگی میں؟ بھئی، معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے کیسے ہم بچیں گے؟ مطابقت کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ جب مطابقت آ جائے گی تو معنیِ مراد کی ادائیگی میں آپ نے غلطی کی؟ نہیں بھئی، غلطی نہیں کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ منکر کے سامنے اگر آپ بغیر تاکید کے کلام لائیں گے تو یہ آپ نے غلطی کی، لیکن اگر آپ تاکید کے ساتھ لائیں گے تو پھر آپ نے غلطی نہیں کی۔ تو یہ ہمیں بلاغت سکھلائے گی کہ ہم نے اس معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے کیسے بچنا ہے، کس موقع پر کس قسم کا کلام ذکر کرنا ہے۔ اور ایک تو یہ چیز، "وَإِلَى تَمْیِیْزِ الْکَلَامِ الْفَصِیْحِ"، اور نیز دوسرا یہ کہ کلامِ فصیح کی پہچان ہو مولانا غیرِ فصیح سے۔ بھئی دو چیزیں ذکر ہوئی تھیں کہ نہیں؟ بلاغت کسے کہتے تھے بھئی؟ بلاغت میں کتنی شرطیں تھیں؟ ایک، ایک کہ مطابقت آئے کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ دوسری شرط کیا تھی؟ کلام بھی سارا کیا ہو؟ فصیح ہو۔ انہی دو باتوں کو بیان کر رہے ہیں: ایک تو یہ کہ معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچانا بچنا ہے اس میں اصل، اور دوسرا کیا ہے؟ کلامِ فصیح ہونا چاہیے اور وہ کس طرح ہوگا کہ آپ کو پہچان ہو کہ کلامِ فصیح کون سا ہے اور غیرِ فصیح کون سا ہے۔ یہی دو باتیں بیان کر رہے ہیں بھئی۔ تو بلاغت کی اصل یہ دو چیزیں ہیں بھئی، مرجع اس کا یہ دو ہیں۔ مرجع کا معنی اصل اور سرچشمہ مولانا۔ خود آگے علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں بھئی کہ بلاغت فی الکلام کا مرجع، بھئی مرجع سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں: "أَيْ مَا یَجِبُ أَنْ یُّحَصَّلَ"، یعنی وہ چیز کہ واجب ہے جس کا حاصل کیا جانا، "حَتَّى یُمْکِنَ حُصُوْلُهَا" یہاں تک کہ ممکن ہو جائے اس بلاغت کا حصول۔ بھئی وہ کیا دو وہ چیزیں جن کا حاصل کرنا ضروری ہے کس کے لیے؟ بلاغت کو حاصل کرنے کے لیے۔ بلاغت کو حاصل کرنے کے لیے کس چیز کو حاصل کرنا ضروری؟ ایک تو غلطی سے بچنا ضروری، اور دوسرا کلامِ فصیح اور غیرِ فصیح کی پہچان ضروری، وہی بات۔ "أَيْ مَا یَجِبُ أَنْ یُّحَصَّلَ حَتَّى یُمْکِنَ حُصُوْلُهَا"، یعنی وہ چیزیں کہ واجب ہیں ان کا حاصل کیا جانا یہاں تک کہ ممکن ہو سکے اس بلاغت کا حصول۔ "کَمَا یُقَالُ"، یہ اسی طرح ہے کہتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے عربی میں: "مَرْجِعُ الْجُوْدِ إِلَى الْغِنَى" بھئی، سخاوت کا مرجع یعنی اس کا اصل غنا ہے۔ سخاوت کا مرجع کیا ہے؟ غنا۔ غنا کہتے ہیں مالداری کو مولانا عربی میں، سمجھ میں آیا؟ مالداری۔ تو سخاوت کا مرجع مالداری ہے۔ بھئی سخاوت تبھی ہوگی جب آپ کے پاس کچھ ہوگا، اگر کچھ ہے ہی نہیں تو سخاوت کر سکتے ہیں؟ نہیں۔ معلوم ہوا سخاوت کی اصل کیا ہے؟ غنا ہے، غنا۔ غنا سے مراد یہاں مالداری نہیں کہ مالدار ہوں آپ تب سخاوت کریں گے، مراد کوئی چیز کسی چیز کا ہونا ہے جو کسی کو دے تو سکیں، اگر کچھ ہی نہیں ہے تو پھر تو کسی کو کچھ دے ہی نہیں سکتے۔ تو غنا سے مراد کچھ چیز کسی چیز کا وجود ہے مولانا۔ اچھا، تو بلاغت کا کی اصل جو ہے لوٹتی ہے: "إِلَى الِاحْتِرَازِ عَنِ الْخَطَأِ فِیْ تَأْدِیَةِ الْمَعْنَى الْمُرَادِ"، کس چیز کی طرف؟ "إِلَى الِاحْتِرَازِ عَنِ الْخَطَأِ"، غلطی سے بچنے کی طرف۔ کس چیز میں غلطی سے بچنا؟ "فِیْ تَأْدِیَةِ الْمَعْنَى الْمُرَادِ"، معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا۔ "وَإِلَّا أَيْ وَإِنْ لَّمْ یَکُنْ کَذٰلِکَ"، اگر ایسا نہ ہو، غلطی سے بچنا اس میں نہ ہو، "لَرُبَّمَا أُدِّیَ الْمَعْنَى الْمُرَادُ بِلَفْظٍ غَیْرِ مُطَابِقٍ لِّمُقْتَضَى الْحَالِ"، تو بسا اوقات ادا کر دیا جائے گا معنیِ مراد کو کس کے ساتھ؟ ایسے لفظ کے ساتھ جو مطابق نہیں ہوگا مقتضائے حال کے بھئی۔ بھئی بلاغت کا مقصد کیا ہے؟ معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے، اور اگر ایسا نہ ہو، معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا نہ ہو تو پھر تو بسا اوقات آپ معنیِ مراد کو ادا کرتے ہیں لیکن وہ مقتضائے حال کے مطابق نہ ہوگا، تو پھر تو وہ بلیغ ہی نہ رہے گا۔ "فَلَا یَکُوْنُ بَلِیْغًا"، تو پھر وہ بلیغ ہی نہ رہے گا۔ "وَإِلَى تَمْیِیْزِ الْفَصِیْحِ عَنْ غَیْرِهِ"، یرحمک اللہ، "وَإِلَى تَمْیِیْزِ الْکَلَامِ الْفَصِیْحِ عَنْ غَیْرِهِ" اور بلاغت لوٹتی ہے کلام کی پہچان ہو، کلامِ فصیح کی پہچان ہو عن غیر الفصیح، کس سے؟ کلامِ غیرِ فصیح سے۔ "وَإِلَّا لَرُبَّمَا أُوْرِدَ الْکَلَامُ الْمُطَابِقُ لِمُقْتَضَى الْحَالِ غَیْرَ فَصِیْحٍ"، ورنہ بسا اوقات لایا جائے گا ایسا کلام جو مطابق تو ہوگا مقتضائے حال کے لیکن کیا اس حال میں ہوگا کہ فصیح نہیں ہوگا بھئی۔ فصیح نہیں ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ کلامِ فصیح کی پہچان نہیں آپ کو غیرِ فصیح سے، تو آپ ایک معنی لے آئے اس کو ادا کر رہے ہیں، وہ مقتضائے حال کے مطابق بھی آپ نے کر دیا، درمیان میں تاکید بھی لے آئے مولانا، لیکن کلامِ فصیح کی پہچان چونکہ آپ کے پاس نہیں تھی تو آپ اس کو کس کے ساتھ ادا کر دیں گے؟ کلامِ غیرِ فصیح کے ساتھ ادا کر دیں گے۔ اب دیکھو کلام غیرِ فصیح اگرچہ مطابق ہے کس کے؟ مقتضائے حال کے، لیکن پھر بھی بلیغ نہیں۔ "فَلَا یَکُوْنُ بَلِیْغًا"، تو پھر وہ بلیغ نہیں ہوگا۔ "لِوُجُوْبِ الْفَصَاحَةِ فِی الْبَلَاغَةِ"، اس لیے کہ بلاغت کے اندر فصاحت واجب ہے۔ "وَیَدْخُلُ فِیْ تَمْیِیْزِ الْکَلَامِ الْفَصِیْحِ"، سمجھ میں آیا؟ یہ مولانا تمہید دراصل باندھ رہے ہیں صاحبِ تلخیص کہ ان دو علموں کی ضرورت کیوں ہے۔ یہ جو بات شروع کی نا کہ "عُلِمَ أَیْضًا أَنَّ الْبَلَاغَةَ فِی الْکَلَامِ مَرْجِعُهَا"، یہاں سے کیا تمہید باندھ رہے ہیں؟ کہ ان دو علموں کی ضرورت کیوں ہے بھئی، یہ علمِ معانی اور علمِ بیان کی بھئی۔ اور پھر کہتے ہیں: "وَیَدْخُلُ فِیْ تَمْیِیْزِ الْکَلَامِ الْفَصِیْحِ"، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی، بھئی جب کلامِ فصیح کی بات کی کہ کلامِ فصیح کی پہچان آپ کو ہونی چاہیے، تو کیا کلماتِ فصیح کی پہچان نہیں ہونی چاہیے؟ کہتے ہیں بھئی اس کو علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ کلامِ فصیح کی تعریف میں کیا آ گیا تھا کہ کلمات کیا ہونے چاہئیں؟ فصیح ہونے چاہئیں۔ "وَیَدْخُلُ فِیْ تَمْیِیْزِ الْکَلَامِ الْفَصِیْحِ"، اور داخل ہو جاتا ہے کلامِ فصیح کی تمیز میں، "عَنْ غَیْرِهِ" غیر سے، غیر سے اس کی جو تمیز، امتیاز کرنا ہے، اس میں داخل ہو جاتا ہے کیا؟ "تَمْیِیْزُ الْکَلِمَاتِ الْفَصِیْحَةِ مِنْ غَیْرِهَا"، کلماتِ فصیحہ کی تمیز کرنا کس سے؟ غیرِ فصیحہ سے۔ "لِتَوَقُّفِهِ عَلَیْهَا"، اس لیے کہ کلامِ فصیح موقوف ہے کس پر؟ کلماتِ فصیحہ پر۔ "وَالثَّانِیْ أَيْ تَمْیِیْزُ الْفَصِیْحِ مِنْ غَیْرِهِ مِنْهُ أَيْ بَعْضُهُ مَا یُبَیَّنُ"، اچھا مولانا، دیکھو بھئی ادھر دیکھو، توجہ کرو بھئی۔ بھئی بلاغت میں کتنی چیزیں ہیں؟ دو۔ اول کیا؟ مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ، مطابقت ہو مقتضائے حال کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لو بھئی یہ آپ اپنی جیب میں رکھو امانت بھئی، ابھی آپ سے واپس لینی ہے۔ آگے مولانا، دوسرا کیا تھا؟ کلام سارا کیا ہو؟ فصیح ہو۔ اچھا، کلام فصیح، تو کلامِ فصیح کس کو کہتے ہیں مولانا؟ جس میں تین عیوب نہ ہوں اور ایک چیز موجود ہو۔ تین عیوب کون سے نہ ہوں؟ اول کیا ہے؟ تنافرِ کلمات، یہ مولانا آپ کے پاس امانت ہے، آپ اپنی جیب میں رکھیں۔ آگے دوسرا عیب کیا ہے؟ ضعفِ تالیف بھی نہ ہو، بھئی یہ ضعفِ تالیف آپ اپنے پاس رکھیں۔ آگے کیا آیا مولانا؟ تعقید، تعقید کتنی قسم پر تھی؟ دو: لفظی اور معنوی۔ تعقیدِ لفظی آپ رکھو بھئی اپنے پاس، تعقیدِ معنوی آپ رکھو مولانا اپنے پاس۔ اچھا، چوتھی شرط کیا تھی کلامِ فصیح کے اندر؟ تمام کلمات کیا ہوں؟ فصیح ہوں، اور کلماتِ فصیح پھر کون سے ہوں گے بھئی؟ جس میں کتنے عیوب نہ ہوں؟ تین۔ اول کیا ہے؟ تنافرِ حروف، لو بھئی یہ تنافرِ حروف آپ اپنی جیب میں رکھیں۔ اس کے بعد بھئی؟ غرابت بھئی، غرابت آپ اپنی جیب میں رکھیں بھئی۔ اگلا بھئی؟ مخالفتِ قیاس، بھئی وہ آپ اپنی جیب میں رکھیں بھئی۔ تو معلوم ہوا کلامِ بلیغ وہ ہوگا جس میں سات عیوب نہ ہوں اور ایک چیز ہو، سات چیزوں کا عدم، معدوم ہونا اور ایک چیز کا موجود ہونا۔ سات چیزیں کون کون سی نہیں ہوں گی بھئی؟ ہاتھ اٹھاؤ بھئی، پہلا جس کے، آپ کے پاس کیا رکھا ہے بھئی؟ مخالفتِ قیاس ہے تمہارے پاس، سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا۔ بھئی سات عیوب نہ ہونے چاہئیں اور ایک چیز ہونی چاہیے، کون کون سے؟ دیکھیے بھئی، ہاں بھئی ہاتھ اٹھاؤ، کیا؟ مخالفتِ قیاس، کلامِ بلیغ کی بات کر رہا ہوں، اس میں مخالفتِ قیاس نہ ہو۔ آگے بھئی، اس میں غرابت بھی نہ ہو۔ اس کے بعد، تنافرِ حروف بھی نہ ہو۔ اس کے بعد بھئی، اچھا بھئی کلامِ بلیغ کے اندر کتنی چیزوں کا ہونا، کیا دو شرطیں ہیں؟ ایک مطابقت ہو اور دوسرا کلام کیا ہو؟ فصیح ہو۔ ہاں بھئی، اب رکھیں آپ بھئی، مطابقت آپ کے پاس ہے مقتضائے حال کے ساتھ۔ اچھا، پھر کلام فصیح ہونا چاہیے، کلامِ فصیح میں کتنے عیوب نہیں ہونے چاہئیں؟ تین۔ اول کیا ہے؟ تنافرِ کلمات، وہ آپ رکھیں بھئی۔ اس کے بعد اگلا کیا ہے؟ ضعفِ تالیف، آپ رکھیں بھئی۔ اس کے بعد کیا ہے؟ تعقید، تعقید دو قسم پر: لفظی اور معنوی۔ اچھا، تعقیدِ لفظی آپ رکھیں بھئی، آگے کیا ہے؟ تعقیدِ معنوی، وہ آپ رکھیں بھئی۔ اس کے بعد کیا ہے بھئی؟ کلمات سارے فصیح ہوں، اور کلمات فصیح کب ہوں گے جب ان میں کتنے عیوب نہ ہوں؟ تین۔ اول کیا ہے؟ تنافرِ حروف، آپ رکھو بھئی۔ اس کے بعد کیا بھئی؟ غرابت بھئی، آپ رکھو بھئی۔ اس کے بعد کیا بھئی؟ مخالفتِ قیاس، آپ رکھو بھئی۔ اچھا، اب سات عیوب نہ ہوں اور ایک چیز ہو۔ سات عیوب کون سے نہ ہوں مولانا؟ سب سے پہلے آپ ہاتھ اٹھاؤ بھئی، کیا؟ ہاتھ اٹھاؤ، تنافرِ حروف یہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ نظر آ رہا ہے آپ کو؟ یہ تنافرِ حروف۔ یہ نہ ہو۔ آگے بھئی، ہاتھ اٹھائے رکھو، ہاتھ اٹھائے رکھو بھئی، غرابت یہ بھی نہ ہو۔ اور بھئی، مخالفتِ قیاس بھی نہ ہو۔ اچھا بھئی، اس کے بعد بھئی، جی ہاتھ اٹھاؤ بھئی، تنافرِ کلمات بھی نہ ہو۔ آگے بھئی، ضعفِ تالیف بھی نہ ہو۔ آگے بھئی، ہاتھ اٹھاؤ، کتنے؟ تعقیدِ لفظی بھی نہ ہو۔ آگے بھئی، تعقیدِ معنوی بھی نہ ہو۔ ہاتھ اٹھاؤ جن جن کے ہاتھ، اونچے کرو سب دیکھیں بھئی، گنو ذرا ان کو بھئی: سات ہیں یا نہیں؟ یہ سات چیزیں نہ ہوں بھئی اس کلام میں، اور ایک ہو وہ کون سی بھئی؟ مطابقت ہو، کیا ہو؟ مطابقت ہو، ہاں یہ ایک ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اچھا۔ اب مولانا دیکھیے بھئی، دیکھیے، یہ ان کا پتہ کس سے چلے گا؟ آپ بھی ہاتھ اٹھاؤ بھئی، ان کا پتہ کس سے چلے گا؟ آگے مولانا پورا متن جو آ رہا ہے اس کی تشریح کر رہا ہوں، سمجھ لو ابھی سے بات کو۔ جی، تنافرِ حروف کس کے پاس ہے؟ جی، تنافرِ حروف کا پتہ کس سے چلے گا؟ ذوق سے۔ کس سے؟ ذوق بتلائے گا یہ کلمات جمع ہو گئے ہیں بھئی۔ جی، یہ ہاں اچھا، ہاتھ نیچے کر لیں بھئی۔ تنافرِ کلمات کدھر ہے بھئی؟ جی ہاں، یہ تنافر، تنافرِ کلمات کا پتہ بھی کس سے چلے گا؟ ذوق سے چلے گا، ہاتھ نیچے کرو بھئی۔ ان دو چیزوں کا پتہ تو ذوق سے چلے گا، ٹھیک؟ اس کے بعد مولانا جی غرابت آ گئی، غرابت کا پتہ کس سے چلے گا کہ کلمہ غریب ہے یا غریب نہیں؟ لغت کی کتابوں سے چلے گا۔ کس سے؟ لغت کی کتابوں سے چلے گا بھئی۔ آپ کو عربی لغت کا پتہ ہوگا تو آپ کو پتہ چل جائے گا کون سے الفاظ مانوس ہیں، کون سے الفاظ مانوس نہیں ہیں، کون سا کلمہ عربی ہے، کون سا کبھی استعمال عربوں نے نہیں کیا۔ تو اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ علمِ لغت سے، علمِ لغت سے۔ ہاتھ نیچے کرو بھئی، اس کا پتہ علمِ لغت سے چلا۔ اس کے بعد کیا ہے؟ مخالفتِ قیاس، مخالفتِ قیاس جیسے "الْأَجْلَلُ" کا لفظ صرفی قانون کے خلاف، اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ علمِ صرف سے پتہ چلے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ اس کے بعد کیا ہے؟ تعقیدِ لفظی ہے مولانا، اور کیا ہے؟ ضعفِ تالیف، ضعفِ تالیف کا پتہ کس سے چلے گا بھئی؟ کس کا کیا تعریف؟ ضعفِ تالیف بھئی کہ کلام مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو، تو اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ علمِ نحو سے۔ اور بھئی آپ کا کیا؟ تعقیدِ لفظی کا پتہ بھی کس سے چلے گا؟ جی، ضعفِ تالیف بھئی وہ جو آپ نے شعر پڑھا تھا، کیا شعر تھا بھئی؟
وَمَا مِثْلُهُ فِي النَّاسِ إِلَّا مُمَلَّکًا
أَبُو أُمِّهِ حَیٌّ أَبُوهُ يُقَارِبُهٗ بھئی یہ ضعفِ تالیف ہے مولانا، فصل وغیرہ آ رہا ہے درمیان میں، اس کا پتہ بھی کس سے چلا؟ نحو سے، کس سے؟ اس کا پتہ بھی علمِ نحو سے چلا مولانا۔ اب کیا رہ گئی بھئی؟ تعقیدِ معنوی رہ گئی، دوسری چیز کیا رہ گئی مولانا؟ تو دیکھو، کچھ چیزوں کا پتہ ہمیں ذوق سے چل گیا، کچھ کا علمِ صرف سے، کچھ کا علمِ لغت سے، کچھ کا علمِ نحو سے۔ دو چیزیں باقی ہیں: ایک مطابقت کیسے آئے گی اور ایک تعقیدِ معنوی سے ہم کیسے بچیں گے؟ تو اب حاجت پیش آئی کہ دو ایسے علم ہونے چاہئیں: ایک جس کے لیے ہمیں مطابقت کا طریقہ آئے، معنیِ مراد کی ادائیگی میں ہم غلطی سے بچ جائیں، اور دوسرا کہ جس کے ذریعے تعقیدِ معنوی سے، تعقیدِ معنوی سے بچا جائے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تعقیدِ معنوی سے۔ تو اول جو ہے معنیِ مراد کی ادائیگی میں سے غلطی سے بچنے کے لیے علماء نے وضع کیا علمِ معانی کو بھئی۔ اور تعقیدِ معنوی سے بچنے کے لیے وضع کیا علمِ بیان کو بھئی، چلیے جی ہاتھ نیچے۔ سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟ اچھی طرح؟ دیکھیے اب یہی بات بعینہٖ کریں گے علامہ تفتازانی اور صاحبِ تلخیص بھئی۔ "وَالثَّانِي أَيْ تَمْيِيزُ الْفَصِيحِ مِنْ غَيْرِهِ"، اور دوسری جو تھی فصیح کے پہچان کس سے ہو جائے؟ غیرِ فصیح سے، "مِنْهُ أَيْ بَعْضُهُ"، علامہ تفتازانی یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ "مِنْهُ" مبتدا ہے مولانا۔ یہ "مِنْهُ" کیا ہے؟ مبتدا ہے، بھئی بڑی مشکل ترکیب ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور "مَا يُبَيَّنُ" اس کی خبر ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یہ مبتدا کیسے بن سکتا ہے؟ "مِنْ" تو جارہ ہے اور جار مجرور ہیں، اور جار مجرور کبھی بھی مبتدا نہیں بن سکتے۔ جواب یہ مولانا کہ "مِنْ" جب بمعنی بعض کے آ جائے تو اس صورت میں یہ اسم ہوتا ہے، حرف نہیں بھئی۔ کیا ہوتا ہے؟ اسم۔ اس لیے کہ حرف تو اس کو کہتے تھے جس کا معنی مستقل نہ ہو، جو اپنے معنی پر استقلالاً دلالت نہ کرتا ہو۔ لیکن اس صورت میں یہ اپنے معنی پر استقلالاً، استقلال کے ساتھ دلالت کرتا ہے اور جو مستقل بالمفہوم ہو وہ حرف نہیں ہوتا بلکہ کیا ہوتا ہے؟ اسم۔ اسی لیے بتلایا: "أَيْ بَعْضُهُ"، یہ "مِنْ" بمعنی بعض کے ہے اور مضاف مضاف الیہ مل کر کیا بن رہے ہیں؟ مبتدا بن رہے ہیں بھئی۔ "بَعْضُهُ" بعض وہ ہیں مولانا "مَا يُبَيَّنُ أَيْ يُوْضَحُ"، تو یہ جو مولانا فصیح کا پتہ غیرِ فصیح سے جو فصیح کی پہچان ہوگی غیرِ فصیح سے، ان کا پتہ کن کن سے چلے گا؟ میں نے بتایا تھا: بعض کا پتہ ذوق سے چلے گا، بعض کا پتہ علمِ لغت سے چلے گا، بعض کا علمِ صرف سے، بعض کا علمِ نحو سے، وہی بات کرنے لگے ہیں۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جن کو بیان کیا جائے، "مَا يُبَيَّنُ" جو بیان ہوں گے، "أَيْ يُوْضَحُ" واضح کیے جائیں گے، "فِي عِلْمِ مَتْنِ اللُّغَةِ" کس کے اندر مولانا؟ علمِ، میں وہی جو میں نے آپ کو بتلایا علمِ لغت سے پتہ چلے گا بھئی۔ "کَالْغَرَابَةِ" جیسے کہ، بھئی یہ کلمہ غریب ہے یا غریب نہیں؟ یہ کیا بتلائے گی ہمیں؟ علمِ لغت بتلائے گا۔ بھئی یہ متن ہے اور متن کو مختصر ہونا چاہیے، پھر یہ "متن" کا لفظ متن میں کیوں بڑھایا؟ "فِي عِلْمِ اللُّغَةِ" کہہ دیتے، "فِي عِلْمِ مَتْنِ اللُّغَةِ" کیوں کہا؟ بتلایا، آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ متنِ لغت جو ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کون سا لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے۔ آپ لغت کی کتاب اٹھاتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں کہ "ضَرَبَ" کا لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے، یہ آپ کو کون بتلائے گا؟ علمِ متنِ لغت بتلائے گا۔ باقی صرف اگر وہ کہہ دیتے علمِ لغت بتلائے گا، بھئی علمِ لغت کے اندر تو تمام ادبی علوم داخل ہو جائیں گے بھئی، صرف بھی داخل، نحو بھی داخل بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو علمِ لغت، کیونکہ نحو اور صرف کیا ہے؟ لغت کے علوم ہیں یا نہیں؟ اس کے ذریعے عربی کا پتہ چلتا ہے یا نہیں چلتا؟ تو پھر تو یہ سارے داخل ہو جاتے، وہ تو عام ہے۔ لیکن متنِ لغت بھئی جس سے لفظوں کی وضع کی پہچان ہوتی ہے کہ کس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے، وہ کون سا علم ہے؟ علمِ متنِ لغت ہے۔ "وَإِنَّمَا قَالَ مَتْنِ اللُّغَةِ"، اور ماتن نے متنِ لغت کہا، "أَيْ مَعْرِفَةِ أَوْضَاعِ الْمُفْرَدَاتِ"، یعنی کیا؟ یعنی یہ پہچاننا مفردات کی وضعوں کو پہچاننا، یعنی مفرد الفاظ کی وضعوں کو پہچاننا کہ کس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ تو یہ مراد متنِ لغت ہے، تو متن کا لفظ ماتن نے ذکر کیا، کیوں؟ "لِأَنَّ اللُّغَةَ أَعَمُّ مِنْ ذٰلِکَ"، اس لیے کہ علمِ لغت جو ہے وہ اس سے عام ہے، وہ تمام علومِ عربیہ پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اچھا بھئی، متنِ لغت سے ہمیں کیا پتہ چلے گا کہ کوئی کلمہ غریب ہے یا غریب نہیں ہے؟ بھئی یہ تو آپ کی بات درست نہیں ہے، ہم نے لغت اٹھائی اس میں تو نہیں لکھا ہوا کہ "مُسَرَّجٌ" کا لفظ غریب ہے۔ لغت میں لکھا ہوتا ہے "مُسَرَّجٌ" کا لفظ غریب ہے؟ لغت میں تو "مُسَرَّجٌ" کا لفظ ہی نہیں ہے۔ "تَکَأْکَأْتُمْ"، لغت میں تو یہ سرے سے درج ہی نہیں ہے، آپ کہہ رہے ہیں کہ "تَکَأْکَأْتُمْ" غریب ہے بھئی۔ یہ ہمیں کیسے پتہ، لغت میں تو درج نہیں ہے کہ یہ غریب ہے یا غریب نہیں، یا اگر ہے بھی تو درج نہیں ہے کہ غریب ہے یا غریب نہیں، "مُسَرَّجٌ" کا لفظ بھی اسی طرح ہے، وہاں تو نہیں لکھا ہوا، اور آپ کہہ رہے ہیں غرابت کا پتہ کس سے چلے گا؟ متنِ لغت سے، اور وہاں تو کوئی درج نہیں ہے کہ یہ غریب ہے یا غریب نہیں ہے۔ کہتے ہیں: بھئی بایں معنی "يَعْنِي بِهِ" ارادہ کیا اس سے یہ کہ: "يُعْرَفُ التَّمْيِيزُ السَّالِمِ مِنَ الْغَرَابَةِ عَنْ غَيْرِهِ"، کہ اس متنِ لغت کا جب پتہ ہوگا تو آپ کو پہچان خود بخود ہو جائے گی کہ کون سا لفظ غرابت سے سالم سلامت ہے اور کون سا لفظ غرابت سے سلامت نہیں ہے، یہ معنی ہے۔ یہ نہیں کہ وہاں لکھا ہوگا یہ غریب ہے، لیکن وہاں جب آپ کو وہ علم ہوگا آپ کے پاس تو اس سے آپ کو خود بخود پہچان لیں گے آپ کہ کون سا کلمہ غریب ہے اور کون سا غریب نہیں ہے۔ اس لغت کے الفاظ آپ نے دیکھے لغت میں تو آپ کو ایک لفظ نہیں ملا بھئی، معلوم ہوا جب نہیں ملا تو یہ کون سا ہے؟ غریب ہے۔ کیوں؟ "تُعْرَفُ الْأَشْيَاءُ بِأَضْدَادِهَا"، چیزوں کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ ان کی ضد سے۔ تو جب ایک چیز ضد کا پتہ چل گیا کہ یہ یہ یہ عربی الفاظ ہیں، معلوم ہوا جو اس کی ضد ہوگی وہ کیا ہیں؟ ان میں غرابت ہے بھئی۔ "يَعْنِي بِهِ يُعْرَفُ التَّمْيِيزُ السَّالِمِ مِنَ الْغَرَابَةِ عَنْ غَيْرِهِ"، کہ پہچان ہوگی کس چیز کی؟ سالم من الغرابۃ، وہ کلمہ جو سالم ہو کس سے؟ سلامت ہو کس سے؟ غرابت سے، اس کی پہچان ہوگی عن غیرہ غیرِ سالم سے، کون سا سالم ہے اور کون سا سالم نہیں۔ بایں معنی کہ: "أَنَّ مَنْ تَتَبَّعَ الْکُتُبَ الْمُتَدَاوَلَةَ"، کہ جس نے تتبع کیا، جستجو کی، چھان بین کی مولانا کتبِ متداولہ، رائج، متداول کا معنی رائج، جس نے رائج کتابوں کی میں تتبع کیا، تلاش کیا، "وَأَحَاطَ بِمَعَانِي الْمُفْرَدَاتِ الْمَأْنُوْسَةِ"، اور اس نے احاطہ کر لیا ان مفردات کا جو مانوس تھے۔ بھئی آپ نے عربی کتابوں کی چھان بین کی اور آپ کو پتہ چل گیا کون کون سے عربی الفاظ مانوس الاستعمال ہیں، عرب عام استعمال کرتے ہیں، تو آپ کو خود بخود جب کوئی دوسرا کلمہ آئے گا پہچان لیں گے کہ یہ تو عرب استعمال ہی نہیں کرتے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ غریب ہے، یہ معنی ہے۔ جس نے تتبع کیا کتبِ متداولہ کا اور احاطہ کیا بمعانی المفردات المأنوسۃ، اور مانوس الاستعمال مفردات کے معانی کا احاطہ کر لیا، "عَلِمَ" اس نے یہ جان لیا "أَنَّ مَا عَدَاهَا" کہ ان کے علاوہ جو کلمات ہیں، "عَمَّا" وہ ان کلمات چیزوں میں سے ہیں، "يَفْتَقِرُ إِلَى تَنْقِيْرٍ"، جو محتاج ہیں کس چیز کے؟ تنقیر، تنقیر کا معنی تلاش اور تحقیق کرنا، چھان بین کرنا۔ یہ الفاظ تو ہمیں معلوم ہو گئے، ان کے علاوہ باقی الفاظ جو بھی ہوں گے پتہ چل جائے گا یہ کس چیز کے محتاج ہیں؟ چھان بین اور تلاش و جستجو اور تحقیق کے محتاج ہیں۔ "أَوْ تَخْرِيْجٍ" یا ان کی یہ کس چیز کے محتاج ہیں؟ بھئی "مُسَرَّجٌ" کی تخریج کی تھی یا نہیں؟ بعضوں نے کہا وہ نہیں ملا تو تخریج کے محتاج ہوئے کہ یہ یا تو کس سے بنا ہے؟ سریج سے بنا ہے یا سراج سے بنا ہے۔ تو محتاج ہوں گے تخریج کے۔ "فَهُوَ غَيْرُ سَالِمٍ مِّنَ الْغَرَابَةِ"، تو وہ کیا ہوں گے؟ غرابت سے سالم نہیں ہوں گے جو جو تنقیر و تخریج کے محتاج ہوں۔ "وَبِهٰذَا تَبَیَّنَ"، اور اس ہماری اس تقریر سے واضح ہو گیا کیا؟ "فَسَادُ مَا قِيْلَ"، فساد اس قول کا جو کہ کیا کہ: "إِنَّهُ لَيْسَ فِي عِلْمِ مَتْنِ اللُّغَةِ"، بھئی بعض علماء نے اعتراض کیا تھا بھئی علامہ زوزنی، علامہ زوزنی نے اعتراض کیا کہ غرابت کا پتہ ماتن نے کیا بتلایا؟ کس سے پتہ چلے گا؟ متنِ لغت سے پتہ چلے گا بھئی۔ علامہ زوزنی نے کہا بھئی انہوں نے کہا لغت سے پتہ چلے گا، کہتے ہیں حالانکہ لغت میں تو یہ کہیں درج نہیں ہے کہ بعض الفاظ کیا ہیں؟ غریب ہوں گے، ان میں آپ کو کیا کرنا پڑے گی؟ تنقیر و تخریج کرنا پڑے گی، لغت میں یہ درج ہے؟ نہیں، یہ تو درج نہیں ہوتا وہاں پر کہ بعض الفاظ آپ کو غریب بھی ملیں گے، ان غریب الفاظ میں آپ کو کیا کرنا پڑے گی؟ تنقیر و تخریج کرنا پڑے گی بھئی، لغت میں تو یہ درج نہیں۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں: بھئی یہ ہم نے جو تقریر کر دی پتہ چلا یہ اعتراض فاسد ہے، صحیح نہیں۔ کیونکہ ہم نے کیا کہا تھا؟ متنِ لغت سے آپ کو یہ پتہ چل جائے گا کہ یہ الفاظ عربی ہیں، یہ مانوس الاستعمال ہیں، تو ان کے علاوہ جو ہوں گے آپ خود بخود پہچان لیں گے وہ کیا ہیں؟ غریب ہیں، وہ غریب ہیں۔ "وَبِهٰذَا تَبَیَّنَ فَسَادُ مَا قِيْلَ"، اس قول کے فساد کا بھی ظاہر ہو گیا ہماری اس تقریر سے، "أَنَّهُ لَيْسَ فِي عِلْمِ مَتْنِ اللُّغَةِ"، کہ نہیں ہے علمِ متنِ لغت کے اندر یہ بات، "أَنَّ بَعْضَ الْأَلْفَاظِ يَحْتَاجُ فِي مَعْرِفَتِهِ"، کہ بعض الفاظ جو ہیں وہ کیا ہیں؟ محتاج ہیں مولانا، کس چیز کے؟ "فِي مَعْرِفَتِهِ" اپنی اپنی معرفت میں وہ محتاج ہیں، "إِلَى أَنْ يُّبْحَثَ عَنْهُ فِي الْکُتُبِ الْمَبْسُوْطَةِ فِي اللُّغَةِ"، کہ ان کے بارے میں بحث کی جائے لغت کی مبسوطہ تفصیلی، لغت کی تفصیلی کتابوں میں ان کے بارے میں۔ ہاں، تو لغت کی کتاب متنِ لغت میں یہ تو نہیں درج کہ بھئی بعض الفاظ کے بارے میں آپ کو تفصیلی کتب کی طرف رجوع کریں، یہ تو وہاں درج نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ اعتراض فاسد ہے بھئی۔ تو بعض کو جانا جائے گا متنِ لغت سے، "أَوْ فِي عِلْمِ التَّصْرِيْفِ"، اور بعض کو کس کے ذریعے جانا جائے گا؟ علمِ صرف کے ذریعے، "کَمُخَالَفَةِ الْقِيَاسِ" جیسے کہ مخالفتِ قیاس۔ "إِذْ بِهِ يُعْرَفُ" اس لیے کہ اس علم صرف کے ذریعے ہی پتہ چلے گا "أَنَّ الْأَجْلَلَ مُخَالِفٌ لِّلْقِيَاسِ"، کہ "الْأَجْلَلُ" کیا ہے؟ مخالفِ قیاس ہے، "دُوْنَ الْأَجَلِّ" بھئی، "الْأَجَلُّ" مخالفِ قیاس نہیں ہے۔ "أَوْ فِي عِلْمِ النَّحْوِ"، یا بعض کا پتہ چلا پتہ علمِ نحو سے چلے گا، "کَضَعْفِ التَّأْلِیْفِ وَالتَّعْقِیْدِ اللَّفْظِیِّ" جیسے کہ ضعفِ تالیف ہے اور تعقیدِ لفظی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی ضعفِ تالیف کس کو کہتے تھے؟ مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو، تو اس کا پتہ نحو سے ہی چلے گا۔ اور تعقیدِ لفظی، بھئی کلام ایسا ہو کہ لفظوں کی وجہ سے ایسا خلل آ جائے کہ معنی کا پتہ نہ چلے، لفظوں میں تعقیدِ لفظی ہے۔ اور تعقیدِ لفظی کے بارے میں علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض اوقات کہ بعض اوقات کیا ہوتا ہے اس میں بھئی؟ کلام نحوی قانون کے مطابق ہوتا ہے لیکن پھر بھی اس کے اندر کیا آ جاتی ہے؟ تعقید آ جاتی ہے۔ اور اس کا پتہ بھی علمِ نحو سے چلے گا، اس لیے کہ یہ اس وقت ہوگا جب آپ خلافِ اصل کریں گے۔ کیا کریں گے؟ مثلاً مولانا فعل کے بعد ہمیشہ فاعل، اصل کیا ہے؟ فاعل کو لانا چاہیے، اور اصل کیا ہے فاعل کے بعد کس کو ذکر کیا جائے؟ مفعول کو ذکر کیا جائے۔ اگر آپ اس کی مخالفت کرتے ہیں، پہلے مفعول کو لے آتے ہیں اور بعد میں کس کو لے آتے ہیں؟ فاعل کو، تو یہ آپ نے خلافِ اصل کیا۔ تو یہ آپ کو علمِ نحو بتلائے گا کہ کیا چیز خلافِ اصل ہے اور کیا چیز خلافِ اصل نہیں ہے، کیا چیز اصل ہے، یہ آپ کو نحو سے پتہ چلے گا۔ اور اس طرح کی کئی چیزیں جمع ہو جائیں تو اب ہیں تو ساری نحو کے، ان سب کا پتہ کس سے چلے گا؟ نہ، ساری نحوی قوانین کے مطابق تو ہیں لیکن ہیں کیا؟ خلافِ اصل۔ تو یہ تعقیدِ لفظی، اس کا پتہ بھی علمِ نحو سے چلے گا بھئی۔ "أَوْ يُدْرَکُ بِالْحِسِّ أَيْ بِالذَّوْقِ"، بعض کا ادراک کس سے ہوگا؟ حس سے، یعنی کہ ذوق سے۔ بتلایا تھا بھئی، تنافرِ حروف اور تنافرِ کلمات اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ "کَالتَّنَافُرِ" جیسے تنافر ہے، "إِذْ بِهِ يُعْرَفُ" اس لیے کہ اس کے ذریعے ہی جانا جاتا ہے "أَنَّ الْمُسْتَشْزِرَ مُتَنَافِرٌ دُوْنَ مُرْتَفِعٍ"، کہ "مُسْتَشْزِرٌ" کا لفظ تو متنافر ہے لیکن اسی کا ہم معنی لفظ "مُرْتَفِعٌ"، مستشزر کا معنی بھی بلند اور مرتفع کا معنی بھی، لیکن مستشزر کیا ہے؟ اس میں تنافرِ حروف ہے اور مرتفع میں تنافرِ حروف نہیں ہے۔ "إِذْ بِهِ يُعْرَفُ أَنَّ الْمُسْتَشْزِرَ مُتَنَافِرٌ"، اسی کے ذریعے جانا جائے گا کہ مستشزر تو متنافر ہے "دُوْنَ مُرْتَفِعٍ"، مرتفع کا لفظ متنافر نہیں ہے۔ "وَکَذَا تَنَافُرُ الْکَلِمَاتِ"، اور اسی طرح تنافرِ کلمات ہے، اس کا پتہ بھی حسِ ذوق سے چلے گا۔ "وَهُوَ أَيْ مَا يُبَیَّنُ فِي الْعُلُوْمِ الْمَذْکُوْرَةِ"، یہاں سے "هُوَ" ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں، "هُوَ" ضمیر کس کو راجع ہے؟ کہتے ہیں: "مَا" کو راجع ہے بھئی۔ بھئی پچھلے صفحے کے آخر میں کیا ایا تھا؟ "مَا يُبَیَّنُ"، کچھ وہ ہیں جو وہ جو بیان کیے جائیں گے ان علوم میں، "أَوْ يُدْرَکُ بِالْحِسِّ"، "يُدْرَکُ" کا عطف کس پر ہے؟ "يُبَیَّنُ" پر ہے۔ کچھ بیان ہوں گے اور کچھ کا ادراک کیا جائے گا، سمجھ میں آیا؟ ادراک کیا، تو "مَا يُبَيَّنُ بِهٰذِهِ الْعُلُوْمِ" اور "مَا يُدْرَکُ بِالْحِسِّ" بھئی۔ تو وہ جو "مَا" ہے بھئی "مَا"، اس کی طرف راجع ہے۔ اس کے علاوہ بھئی دیکھو، کچھ کا پتہ علوم سے چلا، کچھ کا پتہ ذوق سے چلا، اور ان کے علاوہ کیا کیا ہیں؟ تعقیدِ معنوی ہے بھئی وہ فصاحت کے اندر بھئی۔ بھئی ایک تو کیا تھی؟ مطابقت تھی نا، اس کے علاوہ کتنی چیزیں تھیں؟ سات۔ یہ سات چیزیں فصیح کلام کے کلامِ فصیح میں ان سے بچنا ضروری تھا، ان سات چیزوں میں کیا تھا؟ تو ایک تو ہے مطابقت، وہ تو الگ چیز ہے۔ بھئی عیوب کون کون سے ہیں جن سے بچنا ضروری تھا فصیح کلام میں؟ کتنے تھے؟ سات تھے۔ ان سات میں سے کچھ کا پتہ کس سے چلا؟ ذوق سے، کچھ کا پتہ کس سے چلا؟ لغت سے، ایک رہ گئی تعقیدِ معنوی۔ اور مطابقت تو الگ ہے مولانا، وہ تو کوئی عیب نہیں، وہ تو الگ چیز ہے، عیوب کی بات کر رہا ہوں۔ ان عیوب میں سے صرف ایک تعقیدِ معنوی رہ گیا تھا، سمجھ میں آیا؟ تو جو مدرک بالحس ہیں ان کے علاوہ اور جو مدرک بہٰذہ العلوم ہیں ان کے علاوہ وہ کیا ہے؟ تعقیدِ معنوی ہے، یہی بات کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "هُوَ" کی ضمیر "هُوَ مَا عَدَا التَّعْقِیْدَ الْمَعْنَوِيَّ"، یہ متن دیکھو، وہ کیا ہیں؟ تعقیدِ معنوی کے علاوہ ہیں۔ بھئی وہ کون؟ "هُوَ" ضمیر کس کو راجع؟ کہتے ہیں: "أَيْ مَا يُبَیَّنُ فِي الْعُلُوْمِ الْمَذْکُوْرَةِ أَوْ يُدْرَکُ بِالْحِسِّ"، جن کا بیان ان علومِ مذکورہ میں ہوگا یا جن کا ادراک کس کے ساتھ ہوگا؟ حس کے ساتھ۔ "فَالضَّمِیْرُ عَائِدٌ إِلَى مَا"، تو ضمیر عائد ہے کس کی طرف؟ "مَا" کی طرف، اور "مَا" کے تحت دونوں چیزیں آ گئیں: "يُبَیَّنُ فِي الْعُلُوْمِ" بھی آ گئے اور "يُدْرَکُ بِالْحِسِّ" بھی آ گیا۔ "وَمَنْ زَعَمَ"، بعضوں نے گمان کیا: "أَنَّهُ عَائِدٌ إِلَى مَا يُدْرَکُ بِالْحِسِّ"، "مَا يُدْرَکُ بِالْحِسِّ" کی طرف صرف راجع ہے جنہوں نے ایسا کیا، "فَقَدْ سَهَا سَهْوًا ظَاهِرًا" تو انہوں نے کیا کی بڑی ظاہری غلطی کی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ ذوق کے ذریعے جو پتہ چلتی ہیں ان کے علاوہ تعقیدِ معنوی ہے، ذوق سے تو صرف دو چیزوں کا پتہ چلا بھئی، ان کے علاوہ تو کیا کیا ہے؟ غرابت بھی ہے، تعقیدِ لفظی بھی ہے اور کیا ہے؟ ضعفِ تالیف وغیرہ بھی ہیں۔ تو مدرک بالحس کے علاوہ تو یہ بھی ساری چیزیں ہیں، اور ماتن تو کہہ رہے ہیں کہ اس کے علاوہ صرف تعقیدِ معنوی ہے، اور یہ اسی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے جبکہ "هُوَ" کی ضمیر کس کو راجع ہو؟ "مَا يُبَيَّنُ" اور "مَا يُدْرَکُ" دونوں کی طرف راجع ہو بھئی۔ "مَا عَدَا التَّعْقِیْدَ الْمَعْنَوِيَّ"، علاوہ تعقیدِ معنوی کے، "إِذْ لَا يُعْرَفُ بِتِلْکَ الْعُلُوْمِ"، اس لیے کہ نہیں جانا جاتا ان علوم کے ساتھ، "وَلَا بِالْحِسِّ" اور نہ ہی حس کے ساتھ۔ کس چیز کو نہیں پہچانا جاتا؟ "تَمْيِيْزُ السَّالِمِ مِنَ التَّعْقِیْدِ الْمَعْنَوِيِّ عَنْ غَیْرِهِ"، کہ پہچان ہو جائے کس چیز کی؟ وہ کلمہ جو وہ کلام جو سالم ہو، سلامت ہو کس سے؟ تعقیدِ معنوی سے، "عَنْ غَیْرِهِ" غیرِ سالم سے۔ سالم اور غیرِ سالم میں ہم تمیز نہ تو متنِ لغت کے ذریعے کر سکتے ہیں، نہ ہم اس کا صرف کے ذریعے، نہ نحو کے ذریعے، نہ ذوق، کسی چیز کے ذریعے ہمیں پتہ نہیں چلے گا، تو یہ ایک چیز باقی رہ گئی بھئی۔ خلاصۂ کلام اب بتلا رہے ہیں: "فَعُلِمَ"، پس جان لیا گیا، "أَنَّ مَرْجِعَ الْبَلَاغَةِ بَعْضُهُ مُبَیَّنٌ فِي الْعُلُوْمِ الْمَذْکُوْرَةِ"، کہ بلاغت کا مرجع جو ہے بعض کو بیان کیا جائے گا ان علومِ مذکورہ میں: صرف، نحو اور متنِ لغت میں، "وَبَعْضُهُ مُدْرَکٌ بِالْحِسِّ" اور بعض کیا ہیں؟ مدرک بالحس ہیں، "وَبَقِيَ الِاحْتِرَازُ عَنِ الْخَطَأِ فِي تَأْدِیَةِ الْمَعْنَى الْمُرَادِ"، اور باقی کیا رہ گیا مولانا؟ معنیِ مراد کی ادائیگی میں، بھئی بلاغت کے اندر دو چیزیں تھیں: معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا اور کلامِ فصیح کی پہچان ہونا۔ تو کلامِ فصیح کے سلسلے میں سات عیوب ذکر ہوئے تھے، ان سات میں سے چھ ایسے تھے جن کا علم صرف، نحو یا متنِ لغت یا ذوق سے چلتا تھا، تو ان میں سے ایک تعقیدِ معنوی رہ گئی۔ تو ایک معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا اور دوسرا تعقیدِ معنوی سے بچنا۔ وہی خلاصۂ کلام جو میں نے شروع میں آپ کو سمجھایا تھا وہ اب بتا رہے ہیں علامہ تفتازانی۔ تو باقی رہ گیا احتراز عن الخطأ فی تأدیۃ المعنی المراد، معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا، اور کیا رہ گیا باقی؟ احتراز عن التعقید المعنوی، تعقیدِ معنوی سے بچنا۔ "فَمَسَّتِ الْحَاجَةُ إِلَى عِلْمَیْنِ"، پس حاجت پیش آئی دو ایسے علموں کی، "مُفِیْدَیْنِ لِذٰلِکَ" جو فائدہ دیں اس چیز کا، ان دو غلطیوں سے بچائیں۔ "فَوَضَعُوْا عِلْمَ الْمَعَانِي لِلْأَوَّلِ"، تو وضع کیا علمِ معانی کو اول کے لیے، کس کے لیے مولانا؟ کہ معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنے کے لیے۔ "وَعِلْمَ الْبَیَانِ لِلثَّانِیْ"، اور وضع کیا علمِ بیان کو ثانی، یعنی کس کے لیے بھئی؟ تعقیدِ معنوی سے بچنے کے لیے۔ "وَإِلَیْهِ أَشَارَ"، اور اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے ماتن نے، "بِقَوْلِهِ" اپنے اس قول کے ساتھ: "وَمَا يُحْتَرَزُ بِهِ عَنِ الْأَوَّلِ"، اور وہ جس کے ذریعے بچا جائے اول سے، اول کیا ہے؟ یعنی معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچا جائے، وہ کیا ہے؟ علم المعانی، وہ کیا ہے؟ علمِ معانی۔ "وَمَا يُحْتَرَزُ بِهِ عَنِ التَّعْقِیْدِ الْمَعْنَوِيِّ"، اور وہ جس کے ذریعے بچا جائے تعقیدِ معنوی سے، "عِلْمُ الْبَیَانِ" وہ کیا ہے؟ علمِ بیان۔ اچھا، اچھا معلوم ہوا بھئی بلاغت کے اندر علمِ متنِ لغت بھی ضروری ہے، صرف بھی ضروری ہے، نحو بھی ضروری ہے، علمِ معانی بھی ضروری ہے، علمِ بیان بھی ضروری ہے۔ لیکن آپ صرف ان دو علوم کو، آخری دو کو، ان کو بلاغت کے بلاغت کہتے ہیں، باقی تینوں کو بلاغت نہیں کہتے، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی ان دو کا تعلق زیادہ گہرا ہے باقی کی، باقیوں کی بہ نسبت، اگرچہ ضرورت سب کی ہے لیکن ان دو کا تعلق کیا ہے؟ زیادہ ہے اس لیے۔ "وَسَمَّوْا هٰذَیْنِ الْعِلْمَیْنِ"، اور نام رکھا ان دو علموں علموں کا، "عِلْمَ الْبَلَاغَةِ" علمِ بلاغت۔ کیوں؟ "لِمَکَانِ"، مکان مصدر ہے مولانا کون کے معنی میں، "کَانَ يَکُوْنُ کَوْنًا"، وجود کے معنی میں، کون کے معنی میں۔ "لِمَکَانِ أَيْ لِوُجُوْدِ مَزِیْدِ اخْتِصَاصٍ لَّهُمَا بِالْبَلَاغَةِ"، بوجہ ان کے زیادہ اختصاص ہونے کے بالبلاغۃ، کس کے ساتھ؟ ہاں بلاغت کے ساتھ ان کے اختصاص زیادہ ہے مولانا۔ "وَإِنْ کَانَتِ الْبَلَاغَةُ تَتَوَقَّفُ عَلَى غَیْرِهِمَا مِنَ الْعُلُوْمِ"، اگرچہ بلاغت ان کے علاوہ دیگر علوم پر بھی موقوف، علمِ صرف پر بھی، علمِ نحو پر بھی، علمِ متنِ لغت پر بھی موقوف ہے۔ "ثُمَّ احْتَاجُوْا لِمَعْرِفَةِ تَوَابِعِ الْبَلَاغَةِ إِلَى عِلْمٍ آخَرَ"، پھر مولانا، تو بھئی آپ کو بتلایا تھا یہ دو علوم ایک تو کیا بتائے گا؟ معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچائے گا، دوسرا کیا کہے گا؟ تعقیدِ معنوی سے بچائے گا۔ لیکن کچھ اور بھی ایسے کچھ امور اور بھی تو تھے جو تابع تھے بلاغت کے، جس کی وجہ سے کلام کے اندر اور حسن پیدا ہوتا تھا۔ تو ایسے ایک علم کی بھی ضرورت پڑی جس میں وہ امور بیان ہوں جس کی وجہ سے کلام کے اندر مزید حسن پیدا ہو، تو یہ اب وہ علمِ بدیع کا بتلانے لگے ہیں۔ "ثُمَّ احْتَاجُوْا"، پھر علماء محتاج ہوئے "لِمَعْرِفَةِ تَوَابِعِ الْبَلَاغَةِ إِلَى عِلْمٍ آخَرَ" کہ پہچان ہو کس کی مولانا؟ توابعِ بلاغت کی، توابعِ بلاغت کی پہچان کے لیے وہ محتاج ہوئے ایک اور علم کے، "فَوَضَعُوْا لِذٰلِکَ عِلْمَ الْبَدِیْعِ"، وضع کیا انہوں نے اس کے لیے علمِ بدیع کو۔ "وَإِلَیْهِ أَشَارَ"، اور اسی بات کی طرف اشارہ کرنے لگے ہیں ماتن، اشارہ کیا ہے ماتن نے اپنے اس قول کے اندر: "وَمَا يُعْرَفُ بِهِ وُجُوْهُ التَّحْسِیْنِ عِلْمُ الْبَدِیْعِ"، اور وہ علم جس کے ذریعے پہچانا جاتا ہے وجوہِ تحسین کو، امورِ تحسین، وہ امور جو حسن پیدا کرتے ہیں کلام میں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ بدیع بھئی۔ تو معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے جس علم کے ذریعے بچا جائے وہ علمِ معانی، اور جس کے ذریعے تعقیدِ معنوی سے بچا جائے وہ علمِ بیان، اور جس کے ذریعے وجوہِ تحسین کا پتہ چلے وہ علمِ بدیع۔ "وَلَمَّا کَانَ هٰذَا الْمُخْتَصَرُ فِي عِلْمِ الْبَلَاغَةِ وَتَوَابِعِهَا"، اور جب یہ مختصر مولانا علمِ بلاغت کے بارے میں ہے اور اس کے توابع کے بارے میں ہے، "انْحَصَرَ مَقْصُوْدُهُ"، تو اس مختصر کا مقصود بند ہو گیا "فِي ثَلَاثَةِ فُنُوْنٍ"، کتنے میں؟ یہ وجہِ حصر ہوئی، تین علوم میں بند ہوا بھئی۔ "وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ"، اور بہت سے لوگ "يُسَمِّي الْجَمِیْعَ عِلْمَ الْبَیَانِ"، نام رکھتے ہیں ان تینوں علوم کا علمِ بیان بھئی۔ میں نے بتلایا تھا متقدمین ان تینوں علوم پر کیا نام کا لفظ بولتے ہیں؟ علمِ بیان۔ "وَبَعْضُهُمْ يُسَمِّي الْأَوَّلَ عِلْمَ الْمَعَانِي"، اور بعض پہلے کا نام کیا رکھتے ہیں؟ علمِ معانی۔ "وَالْأَخِیْرَیْنِ أَيِ الْبَیَانَ وَالْبَدِیْعَ"، اور آخری دو کا یعنی کہ بیان اور بدیع، ان کا نام کیا رکھتے ہیں؟ "عِلْمَ الْبَیَانِ"، کیا؟ علمِ بیان۔ "وَالثَّلَاثَةَ أَيْ يُسَمِّي الثَّلَاثَةَ"، اور بعض نام رکھتے ہیں تینوں کا "عِلْمَ الْبَدِیْعِ"، کیا؟ علمِ بدیع۔ "وَلَا يَخْفَى وُجُوْهُ الْمُنَاسَبَةِ"، اور اس مناسبت کی وجہیں پوشیدہ نہیں بھئی، ان ناموں کی ان کے مسمیٰ کے ساتھ جو مناسبت ہے وہ پوشیدہ نہیں۔ تو دیکھو یہاں دو تین نام ذکر کیے، کہتے ہیں بعض علماء کیا کرتے ہیں؟ علمِ اول کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ معانی، ثانی کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ بیان، تیسرے کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ بدیع۔ یہ ایک تسمیہ ہے، ایک قسم کے نام ہیں: علمِ معانی، علمِ بیان اور علمِ بدیع، یہ ایک۔ بعض تینوں کو علمِ بیان کہتے ہیں، بعض تینوں کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ بیان۔ بعض یوں کرتے ہیں کہ پہلے پہلے کو علمِ معانی کہتے ہیں اور باقی دونوں کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ بیان کہتے ہیں۔ اور بعض تینوں کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ بدیع۔ تو کتنی قسم کے نام آئے؟ چار قسم کے۔ اول کیا؟ تینوں کا الگ الگ نام: علمِ معانی، علمِ بیان اور علمِ بدیع، یہ ایک قسم۔ دوسرا کیا؟ تینوں کا کیا نام؟ علمِ بیان، وہ دو ہو گئے۔ تیسرا کیا؟ پہلے کا علمِ معانی اور باقی دو کا علمِ بیان۔ اور چوتھا کیا کہ تینوں کا کیا نام؟ علمِ بدیع۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور ان کی ناموں کی اپنے مسمیٰ کے ساتھ جو مناسبت ہے وہ کوئی پوشیدہ نہیں مولانا، پوشیدہ نہیں ہے۔ بھئی علمِ معانی کیوں، علمِ معانی کیوں کہتے ہیں؟ علمِ بیان کیوں کہتے ہیں؟ علمِ بدیع کیوں کہتے ہیں؟ اچھا، کہتے ہیں اس لیے علمِ معانی اس کو اس لیے اس کو اس لیے کہتے ہیں پہلے کو، کیونکہ اس کے ذریعے پتہ چلے گا کہ اس معنیِ خاص کے لیے کلام کو کیسے تیار کرنا ہے، مثلاً تاکید کے لیے کلام کو کیسا کلام ہم لائیں گے تو اس میں تاکید ہوگی اور کیسے کلام میں تاکید، "قَامَ زَیْدٌ" میں تاکید نہیں ہوگی لیکن "زَیْدٌ قَامَ" کے اندر کیا ہوگی؟ یہ ہمیں اس علم سے پتہ چلتا ہے، اس لیے اس کو علمِ معانی کہتے ہیں۔ اس معنی، ان معانی کو کیسے اس کے لیے کلام کو کیسے ڈھالا جائے گا، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ معانی۔ دوسرا کیا ہے؟ علمِ علمِ بیان، بیان کے ذریعے کیا ہوگا؟ تعقیدِ معنوی سے بچا جائے گا، مطلب ہے آپ کو بیان کرنا ائے گا۔ آپ کی بات بیان کسے کہتے ہیں؟ "اَلْمَنْطِقُ الْفَصِيْحُ الْمُعْرِبُ عَمَّا فِي الضَّمِيْرِ"، ایسا واضح کلام جو دل کی بات کو ظاہر کرے۔ تو علمِ بیان کے ذریعے بھی کیا ائے گا آپ کو؟ بیان ائے گا کہ آپ فصیح کلام کے ساتھ اپنے معنیِ مراد کو کیا کریں؟ ادا کریں جسے ہر ایک سمجھ لے۔ اور بدیع، بدیع کا معنی ہے انوکھا مولانا، چونکہ ان امور کی وجہ سے بھی کیا ہو جاتا ہے؟ وہ کلام بڑا انوکھا اور اعلیٰ درجے کا ہو جاتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ بدیع کہتے ہیں۔ یہ ہیں مناسبتیں ان کے ناموں کی، سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے جی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔