آپ نے پڑھا کبھی کبھار مسند کو نکرہ لایا جاتا ہے۔ کس لیے؟ کیونکہ وہاں حصر کا ارادہ نہیں ہوتا، اور اسی طرح عہد کا ارادہ نہیں ہوتا، یعنی کسی متعین کی طرف اشارہ مقصود نہیں ہوتا۔ جیسے آپ کہتے ہیں: ”زَيْدٌ كَاتِبٌ“ اور ”عَمْرٌو شَاعِرٌ“۔ یہاں حصر بھی مقصود نہیں ہے کیونکہ ”كَاتِبٌ“ نکرہ ہے، ”شَاعِرٌ“ نکرہ ہے، اور کسی متعین کی طرف اشارہ بھی نہیں ہے کیونکہ نکرہ کے ذریعے کسی متعین کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔ اور کبھی کبھار آپ نے پڑھا نکرہ لاتے ہیں مسند کو تفخیم کے لیے، یعنی عظمت بڑھانے کے لیے، جیسے ”هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ“۔ تو یہ ”هُدًى“ نکرہ ہے کس لیے؟ یہاں تنکیر کس لیے ہے؟ تعظیم کے لیے کہ بڑی عظیم ہدایت ہے یہ کتاب متقیوں کے لیے۔ ”أَوْ لِلتَّحْقِيرِ“ یا کبھی اس کا عکس ہوتا ہے مولانا کہ نکرہ لاتے ہیں مسند کو کس لیے؟ تحقیر کے لیے، جیسے ”مَا زَيْدٌ شَيْئًا“ زید کچھ بھی نہیں ہے، ایک حقیر چیز بھی نہیں ہے۔ ”وَأَمَّا تَخْصِيصُهُ“ اور کبھی کبھار مسند کی تخصیص کرتے ہیں، اس کی اضافت کر دیتے ہیں یا وصف لے آتے ہیں۔ اور آپ نے پڑھا ہے نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا فائدہ۔ اور نکرہ کا وصف لایا جائے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ تو تخصیص کی جاتی ہے مسند کی اضافت اور وصف کے ساتھ تاکہ فائدہ زیادہ تام ہو جائے، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ کلام کے اندر جتنی قیودات بڑھتی جائیں گی، غرابت بڑھتی جائے گی اور جتنی غرابت بڑھے گی فائدہ اتنا ہی زیادہ تام ہوگا۔ اس کے بعد علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا بھئی کہ یہاں پر ماتن نے ”أَمَّا تَخْصِيصُهُ“ کہا اور پیچھے جہاں پر حال وغیرہ کا ذکر آیا تھا، جہاں فعل کے معمولات ذکر ہوئے تھے وہاں ”تقیید“ کا لفظ ذکر کیا۔ تو ان دونوں میں بتلایا کوئی فرق نہیں صرف تفننِ عبارت ہے مولانا، وہاں اور انداز میں عبارت لائے یہاں اور۔ اگر وہاں ”تَخْصِيصُهُ“ کہہ دیتے، یہاں ”تَقْيِيدُهُ“ کہہ دیتے پھر بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ لیکن بعضوں نے کہا نہیں تخصیص اور یہ مقام دونوں میں فرق ہے مولانا۔ وہاں تھی بات چل رہی فعل کی اور یہاں بات چل رہی ہے اسم کی۔ اور تخصیص اسم کے اندر ہی آ سکتی ہے کیونکہ تخصیص وہاں آئے گی جہاں عموم ہو، اور عموم کس کے اندر ہوتا ہے؟ اسم میں۔ تو فعل کے اندر عموم ہے ہی نہیں، لہٰذا وہاں تخصیص نہیں کہہ سکتے تھے، وہاں تقیید کہا کیونکہ فعل مطلق ہوتا ہے، وہ مطلق حدث پر دلالت کرتا ہے کسی چیز کے ہونے پر۔ تو وہاں مطلق کے مقابلے میں کیا لاتے ہیں؟ مقید، تو وہاں اس کو مقید کیا جاتا ہے۔ اور یہاں پر عموم ہوتا ہے اور عموم کے مقابلے میں کیا لاتے ہیں؟ خصوص لاتے ہیں، تو یہاں تخصیص پیدا کی جاتی ہے۔ علامہ تفتازانی نے اس قول کو رد کیا تھا ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ کہہ کر۔ کہنا یہ چاہتے تھے کہ عموم دو قسم پر ہے: ایک عمومِ شمولی ہے، ایک عمومِ بدلی ہے۔ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں، آپ نے کیا کہا کہ اسم کے اندر عموم ہے اور فعل کے اندر عموم نہیں ہے۔ یہ عموم سے کیا مراد ہے؟ عمومِ شمولی ہوگا یا عمومِ بدلی؟ اگر عمومِ شمولی مراد ہے تو یہ تو اسم میں بھی نہیں، اور اگر عمومِ بدلی مراد ہے تو یہ تو فعل کے اندر بھی، فعل کے اندر بھی موجود ہے۔ عمومِ شمولی اس کو کہتے ہیں کہ وہ شامل ہو تمام افراد کو بھئی، نکرہ شامل ہو تمام افراد کو ایک وقت میں، جیسے ”قَوْمٌ“ کا لفظ ہے مثال کے طور پر، اس میں عموم کون سا ہے؟ شمولی بھئی، یہ کئی افراد پر بیک وقت بولا جاتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں نکرہ جو ہوتا ہے اس میں کون سا عموم ہوتا ہے؟ عمومِ بدلی، جیسے ”رَجُلٌ“ ہے اس میں جنس بھئی۔ اس میں عموم ہے تو، لیکن علی سبیل البدل ہے بھئی۔ ایک فرد یہ بھی مراد ہو سکتا ہے، دوسرا بھی، تیسرا بھی، چوتھا بھی، تو علی سبیل البدل اس کے اندر کیا ہے؟ عموم ہے۔ تو کہتے ہیں اگر آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ عموم سے مراد یہاں عمومِ شمولی ہے تو آپ کی بات کہ فعل میں عمومِ شمولی نہیں ہوتا، یہ تو ٹھیک، لیکن آپ تو کہہ رہے ہیں اسم میں عموم ہوتا ہے اور عموم سے کیا مراد دیا عمومِ شمولی؟ تو عمومِ شمولی تو اسم کے اندر بھی نہیں، کیونکہ آپ نے خود ضابطہ بتلایا ہے کہ نکرہ سیاقِ اثبات میں واقع ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ خصوص کا فائدہ دیتا ہے۔ ”إِنْسَانٌ لَمْ يَقُمْ“ آپ نے کیا کہا تھا، یہ کس چیز کے لیے، کیا فائدہ دے رہا ہے؟ خصوص کا فائدہ دے رہا ہے۔ اور یہ کس کے حکم میں ہے؟ سالبہ جزئیہ ہوگا۔ تمام انسان نہیں کھڑے، یعنی کچھ کھڑے ہوں پھر بھی آپ کا کلام صحیح ہے، تو یہ سالبہ جزئیہ ہے۔ کچھ نہ کچھ سے نفی ضرور ہونی چاہیے، تو یہ سالبہ جزئیہ ہے۔ تو اگر عمومِ شمولی مراد لیں تو عمومِ شمولی تو اسم کے اندر بھی نہیں۔ وہاں بھی کیا آپ بتلاتے ہیں کہ نکرہ سیاقِ اثبات میں ہے تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ خصوص کا فائدہ دیتا ہے۔ اگر عموم ہوتا تو یہ کس چیز کا فائدہ دیتا؟ عموم کا فائدہ دیتا۔ اور اگر آپ یہ مراد لیتے ہیں کہ عمومِ بدلی مراد ہے، تو عمومِ بدلی جیسے اسم کے اندر ہوتا ہے اسی طرح فعل کے اندر بھی ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں ”جَاءَنِي رَجُلٌ“، اس ”رَجُلٌ“ سے ہر کوئی بھی رجل مراد لیا جا سکتا ہے، کوئی بھی آیا ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي رَجُلٌ“ کہہ سکتے ہیں۔ تو یہ علی سبیل البدل ہر فرد کو، ہر رجل کو شامل ہے۔ لیکن یہ عمومِ بدلی ہے اور عمومِ بدلی تو فعل کے اندر بھی ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، میرے پاس کون آیا؟ آپ اس زید کے آنے کے مثال کے طور پر دو حالتیں تھیں: ہو سکتا ہے سوار ہو کر آیا ہو، ہو سکتا ہے پیدل آیا ہو، تو دو افراد ہوئے یا نہ ہوئے آنے کے؟ دو افراد ہوئے۔ اور ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ دونوں پر بولا جا سکتا ہے۔ سوار آیا ہو پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، پیدل آیا ہو پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں، اسی طرح اور بھی افراد بنا لیں، آہستہ آیا ہو پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، تیز آیا ہو پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ“۔ لیکن جب آپ نے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، تو یہاں دیکھا عمومِ بدلی موجود تھا۔ پھر آپ نے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، حال کو قید لے کر آئے مولانا۔ اب فعل کے اندر کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی۔ کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی۔ دیکھا؟ تو پہلے عموم تھا، عمومِ بدلی، اب کیا آ گئی؟ تخصیص، کہ اب صرف سوار حالت میں جو آیا ہے اسی پر آپ بول سکتے ہیں یہ جملہ۔ جی، تو یہ علامہ تفتازانی کا اعتراض تھا کہ اگر عموم سے عمومِ شمولی مراد تو بھی بات درست نہیں، اگر عمومِ بدلی مراد تو بھی بات درست نہیں۔ اور جواب دیا تھا، بعض دیگر علماء جو جواب دیتے ہیں کہتے ہیں بھئی کہ اسم جو ہوتا ہے اس کی ذات ہی میں عموم ہوتا ہے، اور فعل جو ہوتا ہے اس کی ذات میں عموم نہیں ہوتا، عموم نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں فی الجملہ اس کی ذات میں عموم ہوتا ہے۔ آپ نے کیا کہا، نکرہ سیاقِ اثبات میں کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ خصوص، کہتے ہیں اسی نکرہ کو ذرا تحت النفی لے جاؤ: ”مَا جَاءَنِي رَجُلٌ“۔ اب کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ عموم، میرے پاس کوئی آدمی نہیں آیا، تو عموم کا فائدہ دیا، اور اسی نکرہ نے دیا۔ معلوم ہوا اسی نکرہ میں عموم کا بھی احتمال تھا مولانا، یعنی اس کی ذات میں عموم بھی تھا۔ تو معلوم ہوا آپ کی بات درست نہیں بھئی، آپ کا اعتراض درست نہیں۔ وہاں پر تقیید ہی کہنا چاہیے تھا اور یہاں پر تخصیص ہی ہونا چاہیے۔ ”وَأَمَّا تَرْكُهُ“ سے آپ کو بتلایا تھا کہ کبھی کبھار مسند کو ترک کر دیتے ہیں، کیونکہ کوئی مانع موجود ہوتا ہے کہ تخصیص نہ کرو۔ اور کبھی کبھار اس کو معرفہ لاتے ہیں۔ معرفہ کیوں لاتے ہیں مولانا؟ کیونکہ آپ سامع کو فائدہ دینا چاہتے ہیں حکم کا یا لازمِ حکم کا۔ تو آپ ایک امرِ معلوم کا حکم لگاتے ہیں دوسرے امرِ معلوم پر۔ مخاطب کو کس چیز کا فائدہ دینا چاہتے ہیں؟ حکم کا یا لازمِ حکم کا، یعنی فائدۃ الخبر دینا چاہتے ہیں یا لازمِ فائدۃ الخبر دینا چاہتے ہیں۔ اور اس پر ایک شبہ جو پیدا ہو رہا تھا وہ بھی دور کیا علامہ تفتازانی نے کہ آپ نے کیا کہا، ایک امرِ معلوم کا حکم لگا رہے ہیں دوسرے امرِ معلوم پر۔ تو بھئی اس سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ ایک چیز بھی معلوم ہے، دوسری بھی معلوم ہے، تو امرِ معلوم کا حکم امرِ معلوم پر لگانے سے فائدہ کوئی نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں چیزیں پہلے سے ہی مخاطب کو کیا ہیں؟ معلوم ہیں۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، دونوں الگ الگ معلوم ہیں، ایک، ایک دوسرے کی طرف منسوب ہونے کے لحاظ سے معلوم نہیں ہے۔ تو ایک شخص ہے اس کو زید بھی معلوم اور یہ بھی معلوم ”أَخُوكَ“ اس کا کوئی بھئی بھی ہے، لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ بھئی اس کا کون ہے، زید ہی ہے، تو ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ کے ذریعے فائدہ حاصل ہوا بھئی، آپ نے اس کو بتلایا۔ پھر ماتن نے مولانا دو مثالیں ذکر کیں: ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ اور ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“۔ یہ دونوں مثالیں فائدۃ الخبر کی مثال بھی بن سکتی ہیں اور لازمِ فائدۃ الخبر کی مثال بھی بن سکتی ہیں۔ فائدۃ الخبر کیا؟ مخاطب کو فائدہ دینا ہوتا ہے۔ مخاطب کو فائدہ دینا ہوتا ہے۔ اور لازمِ فائدۃ الخبر میں اپنے علم کی خبر دینی ہوتی ہے کہ مجھے بھی اس بات کا، فائدہ تو اس کو پہلے سے حاصل ہے، اس بات کا اس کو پہلے سے پتہ ہے، آپ اس کو اپنا علم بتلاتے ہیں کہ مجھے بھی علم ہے۔ جیسے ایک شخص ہے، ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ اس فائدۃ الخبر کیسے آئے گا؟ وہ اتنا جانتا ہے کہ فلاں شخص مسمیٰ بـ زید ہے، یہ بات بھی جانتا ہے۔ اور ”أَخُوكَ“ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا کوئی بھئی ہے، مخاطب جانتا ہے کہ میرا کوئی بھئی ہے۔ تو زید کو بھی جانتا ہے فلاں شخص کا نام ہے، اور آپ یہ بھی جانتا ہے کہ میرا کوئی بھئی ہے، لیکن اس کو یہ پتہ نہیں کہ میرا بھئی کون سا ہے۔ آپ نے کہا ”زَيْدٌ أَخُوكَ“، زید کیا ہے تمہارا بھئی ہے، تو آپ نے اس کو کیا فائدہ دیا؟ خبر کا، فائدۃ الخبر دی، یہ فائدۃ الخبر۔ اور اگر اس کو پہلے سے ہی پتہ تھا کہ زید اس کا بھئی ہے، پھر آپ اس کو کہہ رہے ہیں ”زَيْدٌ أَخُوكَ“، تو آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کہ مجھے بھی پتہ ہے کہ زید تمہارا بھئی ہے، تو یہ لازمِ فائدۃ الخبر ہوا۔ اسی طرح ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“ میں بھی۔ پھر دو مثالیں ماتن نے ذکر کیں مولانا: ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ اور ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“۔ کل کے سبق کا خلاصہ بیان کر رہا ہوں بھئی، توجہ سے سنو۔ دو مثالیں بیان کیں۔ اور میں نے بتلایا تھا اضافت کے اندر اصل کیا ہے؟ عہدِ خارجی ہے، عہدِ خارجی ہے۔ اور الف لام کے اندر عہدِ خارجی بھی اصل اور الف لام جنسی بھی اصل۔ تو اضافت کے اندر تعریفِ عہدی اصل ہوئی، اور الف لام کے اندر تعریفِ عہدی بھی اصل اور تعریفِ جنسی بھی اصل ہوئی۔ تو دو مثالیں ذکر کیں: پہلی مثال تعریفِ عہدی کی ہے کیونکہ اضافت کے اندر اصل کیا ہے؟ تعریفِ عہدی۔ اور دوسری مثال ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“، وہ تعریفِ عہدی کی بھی مثال ہے اور تعریفِ جنسی کی بھی مثال ہے۔ تو پہلی مثال میں ”أَخُوكَ“ کے اندر تعریفِ عہدی خارج میں کوئی معین فرد مراد لیں گے کہ اس کو معلوم ہے۔ تعریفِ عہدی ہے، تعریفِ عہدی کون سی ہوتی ہے کہ خارج میں کسی متعین شخص کی طرف کیا کیا جائے؟ اشارہ کیا جائے۔ تو معلوم ہوا جب ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ صرف کس کی مثال ہے؟ تعریفِ عہدی کی مثال ہے۔ اور ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“ کس کی مثال ہے؟ دونوں کی مثال۔ تو ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ صرف تعریفِ عہدی کی مثال ہے، یہ کلام صرف ایسے شخص کو کہا جا سکتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی بھئی ہے۔ کیونکہ تعریفِ عہدی کس کو کہتے ہیں؟ خارج میں وہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی بھئی ہے، تو یہ اسی شخص سے کہا جائے گا۔ اسی لیے ”حَالَ كَوْنِهِ مُعَرَّفًا بِاعْتِبَارِ“ تو یہ ”بِاعْتِبَارِ تَعْرِيفِ الْعَهْدِ وَالْجِنْسِ“ اس کو ماتن نے جو ذکر کیا تھا، علامہ تفتازانی نے اس کو حال بنایا، کس سے؟ ”الْمُنْطَلِقُ“ سے حال بنایا، ”أَخُوكَ“ اور ”الْمُنْطَلِقُ“ دونوں سے، دونوں سے حال نہیں بنایا۔ کیوں نہیں حال بنایا؟ کیونکہ آگے بتلا رہے ہیں بھئی تعریفِ عہد کے اعتبار سے بھی ہے اور تعریفِ، اور تعریفِ عہد اور تعریفِ جنس دونوں ”الْمُنْطَلِقُ“ کے اندر تو ہیں، ”أَخُوكَ“ کے اندر نہیں ہیں۔ تو لہٰذا یہ حال ”الْمُنْطَلِقُ“ ہی سے بن سکتا ہے، دونوں سے نہیں بن سکتا۔ لیکن بہتر یہ تھا مولانا کہ دونوں سے بناتے بھئی، دونوں سے بناتے بھئی۔ علامہ تفتازانی کی یہ تقریر خدشات سے خالی نہیں مولانا، آگے تفریع کرتے ہیں اور پھر تاویل کیا، علامہ شیخ علامہ رضی کے قول کے ذریعے اس کو لے کر آتے ہیں بھئی، علامہ رضی کا قول تو خود صاحبِ تلخیص کے قول کے خلاف ہے بھئی۔ اچھا۔ اچھا، تو یہاں تک بات پتہ چل گئی۔ ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ یہاں صرف تعریف کون سی ہے؟ عہدی۔ اور ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“ یہاں ”الْمُنْطَلِقُ“ کے اندر تعریفِ عہدی بھی ہو سکتی ہے اور تعریفِ جنسی بھی۔ معلوم ہوا ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ صرف ایسے شخص کو کہیں گے جو جانتا ہو کہ خارج میں میرا کوئی بھئی ہے لیکن یہ نہیں پتہ اس کو کہ وہ زید ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَظَاهِرُ لَفْظِ الْكِتَابِ“، تو ظاہرِ لفظِ کتاب یہ بتلاتے ہیں کہ ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ اسی شخص سے کہا جائے گا جو جانتا ہے کہ خارج میں میرا کوئی بھئی ہے۔ لیکن کہتے ہیں اس کی جو شرح ہے اس تلخیص کی، جو اسی مصنف نے لکھی ہے، تو انہی نے لکھی ہے، اس کے اندر وہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ کلام اس شخص کو بھی کہا جا سکتا ہے جو جانتا ہے کہ میرا بھئی ہے اور اس شخص سے بھی کہا جا سکتا ہے جو سرے سے جانتا ہی نہیں کہ اس کا کوئی بھئی ہے۔ تو پہلی صورت اس کو بھی کہہ سکتے ہیں جو جانتا ہے کہ میرا بھئی ہے، یہ تو متن سے ظاہر ہو گیا اوپر خود بھی بتا دیا۔ یہ جو دوسری شق وہ ساتھ ذکر کر رہے ہیں، اس کو بھی کہہ سکتے ہیں جو سرے سے جانتا ہی نہیں ہے، یہ محلِ اختلاف ہے بھئی۔ ظاہرِ کتاب تو بتلا رہی ہے صرف جاننے والے کو کہہ سکتے ہیں اور وہ جو شرح میں ذکر کر رہے ہیں اس کے اعتبار سے نہ جاننے والے کو بھی کہہ سکتے ہیں۔ تو اس کا جواب دیا کہ بھئی بعض محققین نحاۃ نے ذکر کیا ہے کہ تعریفِ اضافت مولانا، اضافت کے ذریعے جو تعریف آ رہی ہے وہ کس اعتبار سے ہے؟ اضافت میں اصل کون سی تعریف ہے بھئی؟ ہاں، تو اضافت کے اندر تعریف اصل میں عہدِ خارجی کے اعتبار سے ہے۔ کہتے ہیں اگر ایسا ہم نہ مانیں تو اس صورت کے اندر ”غُلَامُ زَيْدٍ“ اور ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“ کے اندر فرق نہ رہے گا بھئی۔ فرق نہیں رہے گا۔ کیوں نہیں فرق رہے گا؟ دیکھو ”غُلَامُ زَيْدٍ“ اس سے کیا مراد ہے؟ کوئی خارج میں متعین غلام مراد ہے، زید کا غلام کوئی خاص۔ دیکھو بھئی آپ نے پڑھا ہے یعنی معرفہ کی طرف اضافت کر دیں تو دوسرا بھی کیا بن جاتا ہے؟ تو یہ ”غُلَامُ زَيْدٍ“ والا لفظاً بھی معرفہ، معناً بھی معرفہ، خارج میں متعین شخص کی طرف اشارہ ہوا۔ اور ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“ یہاں اضافت ہے؟ تو ”غُلَامٌ“ نکرہ ہے۔ تو نکرہ کے ذریعے کسی متعین کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ نہیں۔ تو یہاں ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“ میں زید کا کوئی بھی غلام مراد لے سکتے ہیں، اور ”غُلَامُ زَيْدٍ“ کے اندر زید کا کوئی متعین غلام مراد ہے۔ تو ایک معرفہ ہے، ایک نکرہ ہے۔ تو اگر آپ اس کے اندر اضافت میں تعریفِ جنسی کو بھی کیا کر لیں، اصل لے لیں، ہم نے کیا کہا؟ اضافت میں صرف کون سی اصل ہے؟ عہدِ خارجی، خارج میں کسی متعین کی طرف اشارہ ہونا چاہیے۔ اگر آپ کہیں نہیں، جنسی بھی اس کے اندر اصل ہے، تو اس صورت میں ”غُلَامُ زَيْدٍ“ کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ جنسِ غلام، کسی، کوئی بھی غلام زید کا مراد لے سکتے ہیں ”غُلَامُ زَيْدٍ“ سے۔ اور ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“ سے بھی ابھی آپ نے پڑھا کہ کوئی بھی غلام مراد دیا جا سکتا ہے، تو دونوں کے اندر کوئی فرق ہی، دونوں کے اندر کوئی فرق نہ رہے گا۔ معنی کے اعتبار سے، معنی کے اعتبار سے کوئی فرق نہ رہے گا مولانا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کیونکہ عہدِ ذہنی مراد لیں گے نا۔ بھئی الف لام ایک عہدِ ذہنی ہوتا ہے، اور عہدِ ذہنی جیسے کیا، کس طرح قران کی آیت بھئی؟ ”أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ“۔ تو ”الذِّئْبُ“ پر الف لام داخل ہے، یہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ ہے لیکن معنی کے اعتبار سے کیا ہے؟ کوئی ایک بھیڑیا مراد ہے۔ اسی طرح ”غُلَامُ زَيْدٍ“ کے اندر بھی ہم نے کون سا لیا، عہدِ، عہدِ ذہنی مراد لیا۔ اور عہدِ ذہنی بھی وہی جنسی ہوتا ہے نا، جنس فی ضمنِ فردِ غیرِ معین مراد ہوتی ہے۔ جنس مراد ہوتی ہے فی ضمنِ فردِ، جیسے ”الذِّئْبُ“ کے اندر جنسِ گرگ مراد تھی فی فردِ غیرِ معین۔ تو لفظوں کے اعتبار سے ”الذِّئْبُ“ بھی معرفہ لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ، اسی طرح ”غُلَامُ زَيْدٍ“ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ، معنی کے اعتبار سے نکرہ ہے۔ تو ”لَمْ يَبْقَ فَرْقٌ“ سے کیا مراد ہے؟ کہ معنی کے اعتبار سے فرق نہیں رہے گا، اگرچہ لفظوں کے اعتبار سے ابھی بھی دونوں میں فرق ہے، ایک معرفہ ہے ایک نکرہ ہے۔ تو معنی کے اعتبار سے دونوں میں فرق نہ رہے گا، اس سے بھی کوئی ایک غلام مراد لے سکتے ہیں دوسرے سے بھی۔ ”فَلَمْ يَكُنْ أَحَدُهُمَا مَعْرِفَةً وَالْآخَرُ نَكِرَةً“ تو ایک معرفہ نہ رہے گا اور دوسرا نکرہ نہ رہے گا۔ معرفہ نکرہ کی طرح ہوا اور نکرہ معرفہ کی طرح ہوا۔ لیکن کہتے ہیں بسا اوقات کہہ دیا جاتا ہے، تو معلوم ہوا اضافت اصل میں وضع ہے کسی متعین کے لیے، لیکن کبھی کبھار غیر متعین کی طرف بھی کیا کر دیا جاتا ہے؟ اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ شیخ رضی تقریر کر رہے ہیں بھئی، جیسے کہ معرف باللام اصل ہے کس کے اندر، عہدِ خارجی کے اندر، الف لام اصل، اصل میں عہدِ خارجی کے لیے اصل ہے، لیکن کبھی کبھار غیر متعین کی طرف بھی اشارہ کر دیا جاتا ہے، جیسے ”الذِّئْبُ“ کے اندر الف لام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوا؟ غیر متعین کی طرف اشارہ ہوا۔ تو یہ دیکھا شیخ رضی کی تقریر کر رہے ہیں، ان کی تقریر سے کیا لازم آیا کہ الف لام عہدِ خارجی میں تو اصل ہے، عہدِ ذہنی کے اندر اصل نہیں ہے۔ حالانکہ صاحبِ تلخیص نے بتلایا تھا عہدِ ذہنی میں بھی اصل اور عہدِ خارجی میں بھی اصل ہے۔ تو معلوم ہوا یہ تقریر خدشات سے خالی نہیں، بہتر یہ تھا کہ دونوں سے وہ حال بناتے اس کو، تو اتنی لمبی تقریر کرنے کی شاید ضرورت نہ پڑتی۔ تو کہتے ہیں جو یہاں کتاب میں ذکر ہوا یہ اصلِ وضع کے اعتبار سے ہے کہ ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ کس کو کہیں گے؟ جو جانتا ہو کہ خارج میں اس کا کوئی بھئی ہے، تو عہدِ خارجی، کیا مراد؟ اضافت نے تعریفِ عہدِ خارجی کا فائدہ دیا۔ اور وہ جو صاحبِ تلخیص نے اپنی شرح ایضاح میں ذکر کیا کہ اس کو بھی کہہ سکتے ہو جو سرے سے جانتا ہی نہیں ہے، وہاں پر کس کے اعتبار سے ہوا؟ خلافِ اصل کے اعتبار سے ہوا۔ اصل ابھی بتایا بھئی، اضافت اصل میں کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ متعین فرد کی طرف، لیکن کبھی کبھی کس کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ غیر متعین کی طرف بھی۔ تو متعین کی طرف اشارہ ہو یہ تو کتاب والے نے بات کی، کتاب سے یہ سمجھ آ رہا ہے کہ کس کو کہیں گے؟ اس کو معلوم ہے خارج میں میرا کوئی بھئی ہے، معلوم ہو متعین ہے۔ اور کبھی اس کو بھی کہہ دیں گے، شرح میں بتلایا تھا کہ جس کو معلوم ہی نہیں ہے، تو وہ غیر متعین والی صورت ہوئی بھئی، غیر متعین۔ اچھا۔ ”وَعَكْسُهُمَا“ اور یا ان کا عکس کر لیں دونوں مثالوں کا، ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ اور ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“ کا کیا کر لیں؟ خبر کو مبتدا بنا دیں، مبتدا کو خبر۔ تو ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ ہے اب کیا بنا دیا؟ ”أَخُوكَ زَيْدٌ“، اور دوسرے کو کیا بنایا؟ ”الْمُنْطَلِقُ عَمْرٌو“۔ جی۔ ”وَالضَّابِطَةُ“ یہاں سے علامہ تفتازانی نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ سوال پیدا ہوا: کیا دونوں اسم جب معرفہ ہوں تو جس کو مرضی چاہیں مبتدا بنا دیں اور جس کو مرضی چاہیں خبر بنا دیں، کیا ایسا ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ایک ضابطہ یاد رکھنا پڑے گا آپ کو۔ ضابطہ یہ کہ جب ایک چیز کی دو صفات ہوں تعریف والی بھئی، معرفہ کی جو پہچان والی ہیں، ایک چیز کی کتنی صفات ہوں؟ دو صفات ہوں، اور سامع جانتا ہے کہ فلاں صفت سے وہ ذات متصف ہے۔ سامع کیا ہے؟ جانتا ہے۔ تو جس کو جانتا ہے اس کو مبتدا بنا دو، اور دوسری کو کیا بنا دو؟ خبر بنا دو۔ کیا بنا دو؟ خبر۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہ اس طرح۔ اسی بات کو علامہ تفتازانی بڑی تفصیل سے بیان کر رہے ہیں بھئی۔ خلاصۂ کلام میں نے کیا بتلایا؟ ایک چیز کی کتنی صفاتِ تعریف ہیں؟ دو۔ ایک کے بارے میں مخاطب جانتا ہے کہ ذات اس سے متصف ہے، دوسری کے بارے میں جانتا نہیں ہے۔ تو اس کو مبتدا بنا دو اور دوسری کو کیا بنا دو؟ خبر بنا دو۔ خبر بنا دو۔ دیکھیے یہی بات کریں گے بھئی، دوبارہ ترجمہ دیکھیں، یہ ذرا کل تیزی میں ہوا تھا: ”وَالضَّابِطَةُ فِي التَّقْدِيمِ“ ضابطہ تقديم کے اندر یہ ہے ”أَنَّهُ إِذَا كَانَ لِلشَّيْءِ صِفَتَانِ“ جب ایک چیز کی دو صفات ہوں ”مِنْ صِفَاتِ التَّعْرِيفِ“ صفاتِ تعریف میں سے ”وَعَرَفَ السَّامِعُ اتِّصَافَهُ“ اور جانتا ہے سامع اس چیز کے متصف ہونے کو ”بِإِحْدَاهُمَا“ ان دونوں صفات میں سے ایک سے متصف ہونے کو جانتا ہے ”دُونَ الْأُخْرَى“ نہ کہ دوسری کے ساتھ۔ ایک کو جانتا ہے اور ایک کو نہیں جانتا۔ اب آگے پوری تفصیل بتا رہے ہیں، جس کو جانتا ہے اس کو مبتدا بناؤ، جس کو نہیں جانتا اس کو کیا بناؤ؟ یہ چار پانچ لائنوں میں صرف اتنی سی بات علامہ تفتازانی بتلائیں گے آپ کو۔ جس کو جانتا ہے اس کو کیا بناؤ؟ مبتدا، جس کو نہیں جانتا اس کو؟ بس دیکھو یہی بات لمبی کر کے ذرا تفصیل سے بتلائیں گے۔ جی، ”فَأَيُّهُمَا كَانَ“ پس دونوں صفات میں سے ”كَانَ“ جو پائی جائے ”بِحَيْثُ“ اس حیثیت سے ”يَعْرِفُ السَّامِعُ“ کہ جانتا ہے سامع ”اتِّصَافَ الذَّاتِ بِهِ“ ذات کا اس کے ساتھ متصف ہونے کو ”وَهُوَ كَالطَّالِبِ“ اور وہ سامع طالب کی طرح ہے، طلب کرنے والا ہے ”بِحَسْبِ زَعْمِكَ“ آپ کے گمان میں۔ ایک کو تو جانتا ہے اور دوسری کا طلب کرنے والا ہے ”أَنْ تَحْكُمَ عَلَيْهِ بِالْآخَرِ“ کہ آپ دوسری، پہلی پر کیا کر دیں دوسری کا حکم لگا دیں۔ ”فَيَجِبُ“ تو واجب ہے ”أَنْ تُقَدِّمَ اللَّفْظَ الدَّالَّ عَلَيْهِ“ کہ وہ جس کو وہ جانتا ہے آپ اس کے لفظ کو مقدم کر دیں، اس، وہ اس کو مقدم کر دیں اس لفظ کو جو اس صفت پر دال ہے ”وَتَجْعَلَهُ مُبْتَدَأً“ اور اس کو کیا بنا دیں؟ مبتدا بنا دیں، جس وصف کو جانتا ہے اور دوسری کا طالب ہے تو یہ جس کو جانتا ہے آپ اس کو مقدم کریں اور کیا بنا دیں؟ مبتدا۔ اب بتائیں گے دوسرے کو خبر بنانا ہے۔ ”وَأَيُّهُمَا كَانَ“ اور دونوں وصفوں میں سے جو ایسا ہے، جو پایا جائے ”بِحَيْثُ“ اس حیثیت سے ”يَجْهَلُ“ کہ وہ جاہل ہے ”اتِّصَافَ الذَّاتِ بِهِ“ ذات کے اس سے متصف ہونے سے جاہل ہے ”وَهُوَ كَالطَّالِبِ“ اور وہ کس کی طرح ہے؟ طالب کی طرح ہے ”بِحَسْبِ زَعْمِكَ“ آپ کے گمان میں۔ طالب ہے ”أَنْ تَحْكُمَ بِثُبُوتِهِ لِلذَّاتِ أَوْ انْتِفَائِهِ“ کہ آپ حکم لگائیں کہ یہ ذات کے لیے اس کے ثبوت کا حکم لگائیں یا ذات کے لیے اس کے انتفاء کا حکم لگائیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ”يَجِبُ أَنْ تُؤَخِّرَ اللَّفْظَ الدَّالَّ عَلَيْهِ“ واجب ہے کہ اب آپ اس کو مؤخر کر دیں، اس لفظ کو جو اس پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔ دیکھا اتنی خلاصۂ کلام کیا؟ جس صفت کو جانتا ہے اس کو مقدم کر کے مبتدا بنا دو، جس وصف کو نہیں جانتا اور اس کا طالب ہے اس کو مؤخر کر کے خبر بنا دو۔ ”فَإِذَا عَرَفَ السَّامِعُ زَيْدًا بِعَيْنِهِ“ جب پہچانتا ہے سامع زید کو بعینہ ”وَاسْمِهِ“ ذات کے اعتبار سے بھی اور اس کے اسم کے اعتبار سے بھی ”وَلَا يَعْرِفُ“ لیکن یہ نہیں جانتا ”اتِّصَافَهُ بِأَنَّهُ أَخُوهُ“ کہ وہ متصف ہے اس کا بھئی ہونے کے ساتھ ”وَأَرَدْتَ“ اور آپ چاہتے ہیں ”أَنْ تُعَرِّفَهُ ذَلِكَ“ کہ اس کو بتلا دیں یہ ”قُلْتَ زَيْدٌ أَخُوكَ“ آپ کیا کہیں گے؟ دیکھو دو صفت تھیں، دو صفت تھیں۔ ایک ذات ہے، ایک شخص ہے، ایک اس کی صفت ہے مسمیٰ بـ زید، زید کے ساتھ وہ کیا ہے؟ مسمیٰ ہے، اس کا نام زید ہے۔ دوسری صفت اس کی کیا ہے کہ ”أَخُوكَ“، مخاطب جانتا ہے کہ میرا خارج میں کوئی بھئی ہے، لیکن اس وصف کو جانتا ہے کہ یہ جو نام ہے یہ اسی شخص کا ہے، یہ زید اسی، یہ مسمیٰ بـ زید یہی ہے، یہ جانتا ہے کہ یہ ذات اس وصف سے متصف ہے۔ اور اس وصف کے ساتھ متصف ہے یا متصف نہیں وہ اس کو جانتا نہیں ہے، اور اس کا طالب ہے۔ تو آپ اس کو، یہ لفظ جو دلالت کرتا ہے ایسے وصف پر جس کو وہ جانتا ہے اس کو کیا کر دیں؟ مبتدا بنا دیں، اور دوسرا جس کا وہ طالب ہے اس کو کیا بنا دیں؟ خبر بنا دیں۔ ”وَإِذَا عَرَفَ أَخًا لَهُ“ لیکن اگر اس کا عکس ہو، اگر وہ جانتا ہے کہ یہ ذات ایک ذات ہے معین وہ میری کیا ہے؟ بھئی ہے، ”وَلَا يَعْرِفُهُ أَنَّهُ عَلَى التَّعْيِينِ“ لیکن اس کی تعین کو وہ نہیں پہچانتا ”وَأَرَدْتَ أَنْ تُعَيِّنَهُ“ اور ارادہ کرتا ہے کہ آپ اس کی تعین کر دیں ”عِنْدَهُ“ اس کے نزدیک ”قُلْتَ“ تو آپ کیا کہیں گے؟ ”أَخُوكَ زَيْدٌ“، ”أَخُوكَ زَيْدٌ“۔ ”وَلَا يَصِحُّ زَيْدٌ“ اس صورت میں ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ کہنا صحیح نہیں بلاغت کے اعتبار سے۔ ”وَيَظْهَرُ ذَلِكَ فِي قَوْلِنَا“ کہتے ہیں اس یہ ہماری اس بات سے زیادہ واضح ہوگا: ”رَأَيْتُ أُسُودًا غَابُهَا الرِّمَاحُ“ میں نے ایسے شیر دیکھے کہ جن کے جنگل نیزے تھے۔ تو دیکھو نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آیا، ”غَابُهَا“ مبتدا، ”الرِّمَاحُ“ اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ، اور یہ پورا جملہ پھر صفت ہے کس کی؟ ”أُسُودًا“ کی، ”أُسُودًا“، اور موصوف صفت مل کر مفعول ہے ”رَأَيْتُ“ کے لیے۔ تو یہاں پر ”غَابُهَا“ کو مبتدا بنایا یہ بھی معرفہ، ”الرِّمَاحُ“ کو خبر بنایا یہ بھی معرفہ۔ وجہ یہ کہ یہاں پر پہلے ذکر ہوا میں نے بہت سے شیر دیکھے، تو شیر کے بعد، شیر کے آنے سے کون سی چیز ہے جس میں جانے، پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہو گئی؟ جنگل ہے، جنگل کی شان یہ ہو گئی کہ اس کو آپ کو معلوم، مخاطب کو کیا ہونا چاہیے اب؟ جب شیر کا ذکر آ گیا تو اس کو معلوم ہے یا معلوم اس کو ہو جانا چاہیے۔ تو اس کے اندر اس کے پتہ چل گیا یعنی ذات اس وصف سے متصف ہے مخاطب کو معلوم ہے یا اس یا اس کے اندر معلوم ہونے کی کیا ہوئی صلاحیت پیدا ہو گئی۔ اور ”الرِّمَاحُ“ نیزوں کے ساتھ کوئی تعلق تھا شیروں کا؟ نہیں، تو اس کے اس صفت کو وہ نہیں جانتا تھا، اس کو آپ نے کیا بنا دیا؟ خبر، اور پہلے کو کیا بنایا؟ مبتدا۔ یہاں انہوں نے کیا ذکر کیا کہ ”زَيْدٌ أَخُوكَ“ اور ”عَمْرٌو الْمُنْطَلِقُ“ یہ ”الْمُنْطَلِقُ“ کے اندر تعریفِ عہدی بھی ہو سکتی ہے اور تعریفِ جنسی بھی ہو سکتی ہے۔ تو اول تعریفِ عہدی، ثانی تعریفِ جنسی۔ تو یہ کہہ رہے ہیں: ”وَالثَّانِي“ یہ جو ثانی ہے یعنی تعریفِ جنسی، کبھی کبھار قصرِ جنس کا فائدہ دیتی ہے، ”قَصْرُ الْجِنْسِ عَلَى شَيْءٍ“ یعنی جنس کو بند کر دیتی ہے کسی ایک چیز پر، ”تَحْقِيقًا“ یا تو وہ بند کرنا کیا ہوگا، قصر کیسا ہوگا؟ حقیقی ہوگا، جیسے آپ نے کہا ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“ زید ہی امیر ہے، تو آپ نے امارت کو زید کے اندر بند کر دیا جبکہ اس کے علاوہ کوئی امیر نہ ہو، تحقیقا۔ ”أَوْ مُبَالَغَةً“ یا مبالغۃً آپ کیا کرتے ہیں ایک چیز کو دوسری میں بند کر دیتے ہیں، آپ جیسے کہتے ہیں ”عَمْرٌو الشُّجَاعُ“ عمرو ہی بہادر ہے، تو آپ نے شجاعت کو عمرو میں بند کر دیا، لیکن کیا شجاعت اور کسی میں نہیں ہے؟ شجاعت اوروں میں بھی ہے، تو یہ مبالغۃً بند کیا، حقیقتاً بند نہیں۔ اور مبالغۃً کیوں بند کیا؟ ”لِكَمَالِهِ فِيهِ“ کیونکہ اس موصوف کو، اس شے کو اس وصف کے اندر بڑا ہی کمال حاصل ہے، تو اس کے مقابلے میں اور گویا کسی درجے میں، کسی شمار میں ہی نہیں۔ ”أَيْ الْكَامِلُ فِي الشَّجَاعَةِ كَأَنَّهُ لَا يُعْتَدُّ بِشَجَاعَةِ غَيْرِهِ“ یعنی کامل ہے شجاعت کے اندر گویا کہ شمار ہی نہیں ہے غیر کی شجاعت کا۔ کیوں شمار نہیں ہے؟ ”لِقُصُورِهَا عَنْ رُتْبَةِ الْكَمَالِ“ اس لیے کہ غیر کی شجاعت جو ہے وہ کم ہے رتبۂ کمال سے۔ ”وَكَذَا إِذَا جُعِلَ الْمُعَرَّفُ بِلَامِ الْجِنْسِ مُبْتَدَأً“ اور اسی طرح جب اگر کیا کیا جائے، معرف بلام الجنس کو کیا بنایا جائے؟ مبتدا۔ بھئی یہ جو دو اوپر مثالیں متن میں ذکر ہوئیں: ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“، انہوں نے کیا کہا، معرف بلام الجنس کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ قصرِ جنس کا۔ معرف بلام الجنس کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ قصرِ جنس کا فائدہ دیتا ہے۔ تو چاہے اس کو خبر بنائیں، چاہے مبتدا۔ ماتن نے کیا بنایا ”الْأَمِيرُ“ کو؟ خبر۔ ”الشُّجَاعُ“ کو کیا بنایا؟ خبر بنایا۔ کہتے ہیں چاہے آپ اس کو مبتدا بنا دیں پھر بھی فائدہ دے گا قصرِ جنس کا، اور خبر چاہے معرفہ بنا دیں اس کی چاہے اس کی خبر نکرہ بنا دیں۔ ”وَكَذَا إِذَا جُعِلَ الْمُعَرَّفُ بِلَامِ الْجِنْسِ مُبْتَدَأً“ اسی طرح اگر معرف بلام الجنس کو کیا بنا دیا جائے؟ مبتدا، جیسے ”الْأَمِيرُ زَيْدٌ“ اور ”الشُّجَاعُ عَمْرٌو“۔ تو دیکھا آپ نے مبتدا کو خبر بنا دیا، خبر کو مبتدا۔ ”وَلَا تَفَاوُتَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ مَا تَقَدَّمَ“ اور کوئی فرق نہیں ہے ان دونوں کے اندر، کون دونوں بھئی؟ یہ جو علامہ تفتازانی نے ابھی دو مثالیں ذکر کیں: ”الْأَمِيرُ زَيْدٌ“ اور ”الشُّجَاعُ عَمْرٌو“ ان دونوں مثالوں میں، ”وَبَيْنَ مَا تَقَدَّمَ“ اور وہ جو پہلے دو مثالیں ذکر ہوئیں کون سی؟ ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“ متن میں اور ”عَمْرٌو الشُّجَاعُ“۔ کہتے ہیں ماتن کی جو دو مثالیں ہیں اور میری جو دو ذکر کردہ مثالیں ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔ کس چیز میں فرق نہیں؟ ”فِي إِفَادَةِ قَصْرِ الْإِمَارَةِ عَلَى زَيْدٍ“ امارت، امارت دونوں طرح پڑھنا درست ہے مولانا۔ ”فِي إِفَادَةِ قَصْرِ الْإِمَارَةِ عَلَى زَيْدٍ“ کس چیز کے فائدے میں؟ کہ امارت بند ہے کس کے اندر؟ اور شجاعت ”وَالشَّجَاعَةِ عَلَى عَمْرٍو“ اور شجاعت بند ہے عمرو میں۔ جی، تو آپ کہیں ”الشُّجَاعُ عَمْرٌو“ پھر بھی شجاعت بند کس میں؟ عمرو میں۔ آپ عکس کریں ”عَمْرٌو الشُّجَاعُ“ پھر بھی شجاعت کس میں بند؟ عمرو میں۔ اسی طرح آپ کہیں ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“ یا ”الْأَمِيرُ زَيْدٌ“ دونوں صورتوں میں ایک ہی فائدہ ہے۔ تو حاصلِ کلام یہ ہوا مولانا، آپ کہتے ہیں ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“ یا آپ کہتے ہیں ”الْأَمِيرُ زَيْدٌ“، مبتدا کو خبر بنا دیں، خبر کو مبتدا، دونوں صورتوں میں جنس بند ہو رہی ہے دوسری چیز پر۔ جنس بند ہو رہی ہے؟ الف لام جنسی آ رہا ہے نا، جس میں الف لام آ رہا ہے جنسی وہ چیز بند ہو رہی ہے کس میں؟ دوسری چیز کے اندر بند ہو رہی ہے۔ مثلاً ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“، جنس کون سی ہے مولانا؟ الف لام جنسی کس پر داخل ہے؟ امیر پر۔ تو جنسِ امارت کو بند کیا کس کے اندر؟ اور زید مبتدا ہے یا خبر؟ ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“ زید کیا ہے؟ تو دیکھو خبر کو، جو جنسِ امارت تھی اس کو بند کر دیا کس میں؟ مبتدا کے اندر بند کر دیا آپ نے۔ اب اس کا عکس کریں: ”الْأَمِيرُ زَيْدٌ“، تو اب بھی مولانا جنس کون ہے؟ ”الْأَمِيرُ“، اس کو بند کیا کس میں؟ زید میں، اور زید کیا ہے؟ خبر۔ تو چاہے جنس خبر بنے چاہے جنس مبتدا۔ اگر جنس مبتدا بنے گی تو خبر میں بند ہو جائے گی اور اگر خبر بنے گی تو مبتدا میں۔ یہی بات کر رہے ہیں: ”وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمُعَرَّفَ بِلَامِ الْجِنْسِ“ کہ معرف بلام الجنس ”إِنْ جُعِلَ مُبْتَدَأً“ اگر اس کو مبتدا بنا دیا جائے ”فَهُوَ مَقْصُورٌ عَلَى الْخَبَرِ“ تو وہ بند ہوگا خبر پر ”سَوَاءٌ كَانَ الْخَبَرُ مَعْرِفَةً أَوْ نَكِرَةً“ چاہے خبر معرفہ ہو چاہے نکرہ ہو، ”وَإِنْ جُعِلَ خَبَرًا“ اور اگر اس معرف بلام الجنس کو خبر بنا دیا جائے ”فَهُوَ مَقْصُورٌ عَلَى الْمُبْتَدَإِ“ تو وہ مبتدا پر بند ہوگا۔ ”وَالْجِنْسُ قَدْ يَبْقَى عَلَى إِطْلَاقِهِ“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ جنس کبھی مطلق آئے گی، کبھی مقید آئے گی۔ کبھی کیا آئے گی؟ کبھی مطلق آئے گی، کبھی مقید آئے گی۔ اچھا۔ تو جس انداز میں آئے گی اسی انداز میں قصر بھی ہوگا۔ اگر مطلق جنس آئی تو مطلق جنس بند ہو جائے گی دوسرے میں، اگر مقید جنس آئی تو مقید جنس دوسرے میں بند ہو جائے گی۔ جیسے میں کہتا ہوں ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“، ”الْأَمِيرُ“ مطلق ہے یا مقید ہے؟ مطلق ہے، کوئی اس کے ساتھ قید ذکر نہیں۔ معلوم ہوا مطلقِ امارت زید کے اندر بند ہے اور کوئی بھی امیر نہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ فِي الْبَلَدِ“، اب دیکھو ”الْأَمِيرُ“ کو مقید کر دیا میں نے کس سے؟ شہر کے ساتھ۔ تو اب یہ مقید بند ہوگا کس میں؟ زید میں۔ یعنی وہ امیر جو کس میں ہے؟ شہر میں، وہ صرف زید ہی ہے اور کوئی نہیں۔ تو مطلق امارت آپ نے زید نے بند نہیں کی بلکہ وہ امارت جو مقید ہے کس کے ساتھ؟ ”فِي الْبَلَدِ“ کے ساتھ، وہ بند کر دی کس میں؟ یہ معنی ہے ”وَالْجِنْسُ قَدْ يَبْقَى عَلَى إِطْلَاقِهِ“ اور جنس کبھی باقی رہتی ہے اپنے اطلاق پر جیسے کہ گزری بات۔ بھئی ”زَيْدٌ الْأَمِيرُ“ یہ بھی مطلق ہے، ”عَمْرٌو الشُّجَاعُ“، ”الشُّجَاعُ“ بھی کیا رہا ہے؟ تو مطلق شجاعت اور مطلق امارت بند کی تھی۔ ”وَقَدْ يُقَيَّدُ بِوَصْفٍ“ اور کبھی کبھار اس کو مقید کرتے ہیں وصف کے ساتھ ”أَوْ حَالٍ“ یا حال کے ساتھ ”أَوْ ظَرْفٍ“ یا ظرف کے ساتھ ”أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ“ یا اس جیسی کسی اور چیز کے ساتھ، مفعول بہ وغیرہ کے ساتھ۔ جیسے جیسے ”هُوَ الرَّجُلُ“، ”الرَّجُلُ“ جنس ہے اس پر الف لام جنسی آیا۔ ”الْكَرِيمُ“ یہ دیکھا وصف کی مثال ہے۔ ”يُقَيَّدُ بِوَصْفٍ أَوْ حَالٍ أَوْ ظَرْفٍ“ سب کی مثالیں ذکر کریں گے۔ ”هُوَ الرَّجُلُ الْكَرِيمُ“، ”هُوَ“ مبتدا، ”الرَّجُلُ“ خبر، اور خبر کیا ہے؟ معرفہ معرف بلام الجنس ہے۔ اور ”الْكَرِيمُ“ اس کی صفت لائے، تو صفت کی وجہ سے بھی یہ مقید ہو گئی جنس۔ تو مولانا آپ نے جنسِ رجولیت کو بند کر دیا کس کے اندر؟ ”هُوَ“ کے اندر، لیکن مطلقاً نہیں، کس کے ساتھ؟ مقید، یعنی سخاوت کے ساتھ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ”هُوَ الرَّجُلُ“ وہی مرد ہے اور کوئی مرد نہیں، بلکہ وہ سخی مرد ہے اور کوئی سخی مرد نہیں۔ تو یہ مقید کو آپ نے بند کیا دوسرے میں۔ ”وَهُوَ السَّائِرُ رَاكِبًا“ وہی چلنے والا ہے۔ آپ نے مقید کیا ”السَّائِرُ“، اس پر الف لام جنسی تھا، کس سے مقید کیا؟ حال کے ساتھ، ”رَاكِبًا“ کے ساتھ۔ تو اب یہ مقید بند ہوگا دوسرے کے اندر۔ اگر آپ مطلق رکھتے کیا بنتا کلام؟ ”هُوَ السَّائِرُ“ وہی چلنے والا ہے اور کوئی چلنے والا نہیں۔ لیکن جب آپ نے مقید کو بند کیا اب معنی ہوگا ”هُوَ السَّائِرُ رَاكِبًا“ وہی سواری پر چلنے والا ہے اور کوئی سواری پر چلنے والا نہیں۔ معلوم چلنے والے اور بھی ہو سکتے ہیں، لیکن سواری پر یعنی مقید حالت میں چلنے والا اور کوئی نہیں۔ ”وَهُوَ الْأَمِيرُ فِي الْبَلَدِ“ اور وہی امیر ہے شہر کے اندر۔ ”وَهُوَ الْوَاهِبُ أَلْفَ قِنْطَارٍ“، قنطار کہتے ہیں مولانا مالِ کثیر کو، یا کہتے ہیں مولانا ایک لاکھ اشرفیوں کو، ایک لاکھ اشرفیوں کو کیا کہتے ہیں؟ قنطار کہتے ہیں۔ ”وَهُوَ الْوَاهِبُ أَلْفَ قِنْطَارٍ“ وہی عطا کرنے والا ہے ایک ہزار قنطار، ایک ہزار قنطار۔ تو دیکھا ”هُوَ الْوَاهِبُ“، ”الْوَاهِبُ“ معرف بلام الجنس لے کر آئے، اس نے فائدہ دیا کس چیز کا؟ تخصیص، قصر کا فائدہ دیا، وہی عطا کرنے والا ہے۔ لیکن کیا مطلق عطا کرنے والا؟ نہیں نہیں، ایک ہزار قنطار عطا کرنے والا وہی ہے، اور بھی عطا کرنے والے تو اور بھی ہیں لیکن ہزار قنطار عطا کرنے والا اور کوئی نہیں۔ تو آپ نے مقید جنس کو بند کر دیا دوسرے کے اندر۔ ”وَجَمِيعُ ذَلِكَ مَعْلُومٌ بِالِاسْتِقْرَاءِ“ اور یہ سارا جو ہے یہ معلوم ہوتا ہے استقراء کے ساتھ۔ استقراء کہتے ہیں جستجو اور تلاش سے۔ ”وَتَصَفُّحِ تَرَاكِيبِ الْبُلَغَاءِ“ اور بلغاء کی تراکیب میں غور کرنے سے یہ ساری باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ”وَقَوْلُهُ: قَدْ يُفِيدُ“ جی، ماتن نے اوپر کیا کہا؟ ”قَدْ يُفِيدُ قَصْرَ الْجِنْسِ“ معرف بلام الجنس کبھی کبھار فائدہ دیتا ہے، کس کا؟ قصر کا، معلوم ہوا ہمیشہ نہیں دیتا، بعض اوقات فائدہ نہیں بھی دیتا۔ ”وَقَوْلُهُ قَدْ يُفِيدُ بِلَفْظِ قَدْ إِشَارَةٌ“ اور یہ ماتن کا کہنا، ماتن کا کیا کہنا؟ ”قَدْ يُفِيدُ“ کہنا۔ ”بِلَفْظِ قَدْ“ کس کے ساتھ ماتن نے ذکر کیا؟ لفظِ ”قد“ کے ساتھ۔ ”إِشَارَةٌ“ یہ اشارہ ہے ”إِلَى أَنَّهُ قَدْ لَا يُفِيدُ الْقَصْرَ“ کہ کبھی کبھی یہ قصر کا فائدہ نہیں بھی دیتا ”كَمَا فِي قَوْلِ الْخَنْسَاءِ“ جیسے ایک شاعرہ ہے بڑی عرب کی مشہور بھئی، اس نے اپنے بھئی کے وفات پر یہ اشعار کہے، ان میں سے ایک شعر ذکر کر رہے ہیں مثال کے طور پر کہ اس میں معرف باللام آیا ہے، بلام الجنس ہے اور پھر بھی وہ تخصیص کا فائدہ نہیں دے رہا۔ ”إِذَا قَبُحَ الْبُكَاءُ عَلَى قَتِيلٍ ... رَأَيْتُ بُكَاءَكِ الْحَسَنَ الْجَمِيلَا“
جب برا، برا ہو جائے ”الْبُكَاءُ عَلَى قَتِيلٍ“ کسی مقتول پر رونا، ”رَأَيْتُ“ تو میں سمجھتی ہوں ”بُكَاءَكِ“، تو یعنی ”بُكَاءَكِ“ یعنی ”بُكَائِي عَلَيْكِ“ یہ اضافت ہے مصدر کی مفعول کی طرف، تو میں سمجھتی ہوں تجھ پر رونے کو ”الْحَسَنَ الْجَمِيلَا“ کیسا؟ اچھا اور بہتر، عمدہ سمجھتی ہوں بھئی۔ جب لوگ کسی مقتولین پر رونے کو برا سمجھیں تو اس وقت بھی میں تجھ پر رونے کو کیا سمجھتی ہوں؟ اپنے بھئی کا مرثیہ ذکر میں، مرثیے میں یہ شعر کہہ رہی ہے کہ لوگ ایسا وقت ہو کہ جب لوگ میت پر رونے کو برا خیال کرنے لگیں تو اس وقت بھی میں تجھ پر رونے کو اچھا سمجھتی ہوں۔
کہ میں کیا کرتی ہوں؟ اچھا سمجھتی ہوں تیرے اوپر رونے کو بھئی۔
تو دیکھو:
’’رَأَیْتُ‘‘۔ ’’رَأَیْتُ‘‘ افعالِ قلوب میں سے ہے، مولانا آپ نے پڑھا ہے۔ افعالِ قلوب کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو مفعول چاہتا ہے۔ ’’بُکَاءَکَ‘‘ مفعولِ اوّل، ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ مفعولِ ثانی ہے یہ۔ مفعولِ ثانی ہے۔
اور افعالِ قلوب جیسے: ’’رَأَیْتُ زَیْدًا عَالِمًا‘‘۔ میں نے زید کو کیا جانا؟ عالم جانا۔ عالم جانا۔
تو یہ اصل میں، میں اس لیے ذکر کر رہا ہوں کہ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ تو مفعول ہے اور ہماری بات چل رہی ہے مسند کی۔ مسند جو ہے وہ کبھی کیا کرتا ہے؟ تخصیص الجنس کا فائدہ دیتا ہے۔ اور یہاں تو یہ کیا ہے؟ مفعول ہے۔ بھئی ’’بُکَاءَکَ‘‘ مفعولِ اوّل، ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ مفعولِ ثانی ہے۔ تو دیکھیے، یہ افعالِ قلوب اصل میں داخل ہوتے ہیں مبتدا، خبر پر۔ ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘، اصل جملہ کیا تھا؟ اِدھر توجہ کرو بھئی، اصل جملہ کیا تھا؟ ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘۔ آپ نے اس پر ’’رَأَیْتُ‘‘ داخل کیا: ’’رَأَیْتُ زَیْدًا عَالِمًا‘‘، میں نے زید کو کیا جانا؟ عالم جانا۔ تو دیکھو ’’زَیْدًا‘‘ مفعولِ اوّل، ’’عَالِمًا‘‘ مفعولِ ثانی، لیکن درحقیقت یہ مفعولِ اوّل مسند الیہ ہے اور مفعولِ ثانی مسند ہے، کیونکہ آپس میں مبتدا اور خبر ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح ’’بُکَاءَکَ‘‘ مفعولِ اوّل یہ دراصل مبتدا ہے اور ’’الْحَسَنَ الْجَمِیْلَ‘‘ دراصل اس کی خبر ہے، اور خبر پر کیا داخل ہوا؟ الف لامِ جنسی۔ اور یہ کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ قصر کا فائدہ دیتا ہے، لیکن یہاں پر قصر کا فائدہ نہیں دے رہا۔
قصر کا فائدہ کیوں نہیں دے رہا بھئی؟
کہتے ہیں اس لیے کہ شاعرہ کیا کہتی ہے؟ کہ وہ وقت جب سارے لوگ کیا سمجھتے ہیں؟ مقتول پر رونے کو برا سمجھتے ہیں، اس وقت بھی میں تیرے اوپر رونے کو کیا سمجھتی ہوں؟ اچھا سمجھتی ہوں، اچھا سمجھتی ہوں۔ تو مخاطب سب کے رونے کو برا جب سمجھے تو میں اس وقت بھی... تو اس نے یعنی مخاطب جس وقت سب کے رونے کو برا سمجھ رہا ہے، شاعرہ نے اس وقت بھی اپنے بھئی پر رونے کو اس سے نکال کر کیا بتا دیا کہ اس پر رونا پھر بھی اچھا ہے۔ اس پر رونا اچھا ہے۔
لیکن اگر آپ اس پر قصر کا معنی لیں، پھر کیسے معنی ہوگا؟
پھر معنی ہوگا: میرے بھئی پر رونا ہی اچھا ہے۔ میرے بھئی پر رونا ہی اچھا ہے۔ معلوم ہوا مخاطب سمجھ رہا ہے سب پر رونا اچھا ہے، شاعرہ کہتی ہے: نہیں، صرف میرے بھئی پر رونا ہی اچھا ہے۔ اور یہ کلام کس کے ساتھ ہو رہا ہے؟ مخاطب یہ سمجھ رہا ہے کہ سب پر رونا اچھا ہے یا مخاطب سمجھ رہا ہے سب پر رونا برا ہے؟ مخاطب کیا سمجھ رہا ہے؟ سب پر رونا برا ہے۔ خود بتلا رہی ہے: ’’إِذَا قَبُحَ الْبُکَاءُ عَلَی قَتِیْلٍ‘‘ جب مخاطب، باقی لوگ سمجھنے لگیں کہ قتیل پر رونا برا ہے، تو معلوم ہوا اگر تخصیص کریں تو پھر تو یہ اس سے کلام ہوگا جو سب کو کیا سمجھ رہا ہے؟ اچھا سمجھ رہا ہے۔ تو شاعرہ کہتی ہے: نہیں، سب پر رونا اچھا نہیں ہے بلکہ صرف کس پر رونا اچھا ہے؟ میرے بھئی پر رونا۔ اب تخصیص آ گئی، تو تخصیص کی صورت میں محلِ کلام بدل گیا، اور تخصیص نہ ہو تو محلِ کلام اور رہتا ہے۔
اور جی دیکھیے:
’’فَإِنَّہٗ یُعْرَفُ بِحَسَبِ الذَّوْقِ السَّلِیْمِ‘‘ اس لیے کہ پہچانا گیا ہے ذوقِ سلیم کے ساتھ، ’’وَالطَّبْعِ الْمُسْتَقِیْمِ‘‘ اور مستقیم سیدھی طبیعت کے ساتھ پہچانا گیا ہے، ’’وَالتَّدَرُّبِ فِي مَعْرِفَةِ کَلَامِ الْعَرَبِ‘‘ اور کلامِ عرب کی پہچان میں مہارت کے ساتھ، ’’أَنْ لَّیْسَ الْمَعْنٰی ہٰہُنَا عَلَی الْقَصْرِ‘‘ کہ یہاں پر معنی قصر کا نہیں ہے، ’’وَإِنْ أَمْکَنَ ذٰلِکَ بِحَسَبِ النَّظَرِ الظَّاہِرِ وَالتَّأَمُّلِ الْقَاصِرِ‘‘ اگرچہ ممکن ہے بتکلف آپ کیا کر سکتے ہیں؟ قصر بھی کر سکتے ہیں، نظرِ ظاہر کے اعتبار سے اور تاملِ قاصر، تھوڑا معمولی غور و فکر کریں تو پھر آپ کیا کریں گے؟ قصر کریں گے، لیکن گہرائی میں جائیں تو دیکھیں گے یہاں قصر نہیں۔
’’وَقِیْلَ فِي نَحْوِ: زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ، وَالْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ: اَلْاِسْمُ مُتَعَیَّنٌ لِّلْابْتِدَاءِ‘‘۔
یہاں امام رازی کی ایک بات ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ جب آپ یہ کہیں: ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ تو مبتدا کون؟ زید۔ اور خبر کون؟ المنطلق۔ اور جب آپ کہیں: ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘، اب مبتدا کون؟ المنطلق۔ اور زید اس کی خبر؟ امام رازی فرماتے ہیں: نہیں، اب بھی مبتدا زید ہی ہے مؤخر ہے، اور المنطلق اس کی کیا ہے؟ خبر مقدم ہے۔ دراصل وہ یہ فرماتے ہیں کہ جب دو چیزیں آ جائیں معرف، ایک اسمِ ذات ہو اور ایک وصف ہو، تو ہمیشہ مبتدا کون بنے گا؟ ذات، اور وصف ہمیشہ اس کی کیا بنے گی؟ خبر۔ تو زید ذات ہے اور منطلق کیا ہے؟ وصف۔ اب ذات کو چاہے مقدم کر دو، چاہے مؤخر کر دو، اس نے مبتدا رہنا ہے، اس پر حکم لگے گا، آپ حکم لگائیں گے۔ اور جو وصف ہے اس کو ہمیشہ کیا کریں گے؟ خبر ہی بنائیں گے، چاہے وہ مقدم آئے اور چاہے مؤخر آ جائے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ذات خود قائم ہوتی ہے اور وصف قائم بالغیر ہوتا ہے، تو یہ وصف چاہتا ہے کہ اس کی نسبت کسی دوسرے کی طرف کی جائے، تو وصف کسی کے ساتھ قائم ہونا چاہتا ہے نہ کہ ذات کسی کے ساتھ قائم ہونا چاہتی ہے۔
’’وَقِیْلَ فِي نَحْوِ: زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ اور کہا گیا ہے کہ ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ یہ دیکھو منطلق مؤخر ہے، ’’وَالْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ اب منطلق کیا ہے؟ مقدم ہے۔ ’’اَلْاِسْمُ مُتَعَیَّنٌ لِّلْابْتِدَاءِ‘‘ اسم متعین ہے کس کے لیے؟ مبتدا بننے کے لیے، ’’تَقَدَّمَ أَوْ تَأَخَّرَ‘‘ چاہے مقدم ہو اسم، چاہے مؤخر ہو، ’’لِدَلَالَتِہٖ عَلَی الذَّاتِ‘‘ کیونکہ وہ دلالت کر رہا ہے ذات پر، ’’وَالصِّفَةُ مُتَعَیَّنَةٌ لِّلْخَبَرِیَّةِ تَقَدَّمَتْ أَوْ تَأَخَّرَتْ‘‘ اور صفت متعین ہے خبریہ بننے کے لیے، چاہے مقدم ہو جائے چاہے مؤخر ہو جائے، ’’لِدَلَالَتِہَا عَلٰی أَمْرٍ نِّسْبِيٍّ‘‘ بوجہ اس کے کہ یہ دلالت کر رہی ہے ایک ایسے امر پر جو نسبتی ہے، جو کیا ہے؟ نسبتی ہے۔ یعنی صفت ہمیشہ اس کی نسبت کی جاتی ہے غیر کی طرف، وہ غیر کے ساتھ قائم ہوتی ہے، خود قائم نہیں رہتی۔ اس لیے کہ وہ دلالت کرتی ہے ایک امرِ نسبی پر، ’’لِأَنَّ مَعْنَی الْمُبْتَدَأِ: اَلْمَنْسُوْبُ إِلَیْہِ‘‘ اس لیے کہ مبتدا کا کیا معنی ہے؟ منسوب الیہ، منسوب الیہ بھئی، اس کی طرف کسی چیز کی کیا کی جائے؟ نسبت کی جائے، ’’وَمَعْنَی الْخَبَرِ: اَلْمَنْسُوْبُ‘‘ اور خبر کا معنی ہے منسوب، یعنی اس کی نسبت کی جائے۔ مبتدا وہ ہے جس کی طرف نسبت کی جائے، اور خبر جس کی نسبت کی جائے۔ ’’وَالذَّاتُ ہِیَ الْمَنْسُوْبُ إِلَیْہِ‘‘ اور ذات منسوب الیہ ہوتی ہے، اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے، ’’وَالصِّفَةُ ہِیَ الْمَنْسُوْبُ‘‘ اور صفت کی نسبت کی جاتی ہے، ’’فَسَوَاءٌ قُلْنَا: زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ برابر ہے ہم یہ کہیں ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ چاہے یوں کہہ لیں، ’’أَوِ الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ یا یوں کہہ لیں، ’’یَکُوْنُ زَیْدٌ مُبْتَدَأً‘‘ زید مبتدا ہوگا، ’’وَالْمُنْطَلِقُ خَبَرًا‘‘ اور منطلق خبر ہوگی۔ ’’وَہٰذَا رَأْيُ الْإِمَامِ الرَّازِي‘‘ اور یہ رائے ہے کس کی؟ امام رازی کی۔
’’وَرُدَّ‘‘ صاحبِ تلخیص رد کر رہے ہیں اس کو مولانا۔ ’’وَرُدَّ‘‘ اور رد کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں بھئی آپ نے کیا کہا؟ ذات کو ہمیشہ کیا بنانا ہے؟ مبتدا، چاہے مؤخر ہو جائے، اور صفت کو ہمیشہ کیا بنانا ہے؟ خبر، چاہے وہ کیا ہو جائے؟ مقدم ہو جائے۔ کہتے ہیں دیکھیے، ہم ایسی تاویل کریں گے ذات کو صفت بنا دیں گے اور صفت کو ذات بنا دیں گے۔ صفت کو کیا بنا دیں گے؟ ذات بنا دیں گے۔
دیکھیے، آپ نے کیا کہا: ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘، بھئی ’’زَیْدٌ الْمُنْطَلِقُ‘‘ میں کون مبتدا؟ زید، ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ اس کی خبر۔ اس میں تو اختلاف ہی نہیں ہے۔ ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ کے اندر اختلاف آ گیا، امام رازی کیا فرماتے ہیں؟ ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ کو کیا بناؤ؟ خبر بناؤ، اور باقی کیا کہتے ہیں؟ اس کو یہ مقدم ہے، اس کو کیا بناؤ؟ مبتدا بناؤ۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، ہم اس میں دیکھو ’’الْمُنْطَلِقُ زَیْدٌ‘‘ میں ایسی تاویل کریں گے کہ یہ جو ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ صفت ہے یہ ذات بن جائے گی اور ’’زَیْدٌ‘‘ جو اسمِ ذات ہے وہ کیا بن جائے گی؟ صفت بن جائے گی، اس طرح دیکھو:
’’وَرُدَّ بِأَنَّ الْمَعْنٰی: اَلشَّخْصُ الَّذِي لَہُ الصِّفَةُ صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘۔ دیکھا تاویل کی مولانا؟ کہتے ہیں ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ کا کیا معنی ہے؟ وہ ذات، ’’اَلشَّخْصُ‘‘ وہ فرد، ’’اَلَّذِي لَہُ الصِّفَةُ‘‘ جس کے لیے کیا ثابت ہے؟ صفتِ انطلاق بھئی۔ اِدھر دیکھو، ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ مبتدا ہے، ’’زَیْدٌ‘‘ اس کی خبر ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں نہیں، یہ پھر بھی خبر ہی رہے گی اور مبتدا مؤخر کو بنانا پڑے گا کیونکہ وہ ذات ہے اور یہ کیا ہے؟ وصف۔ ہم کہتے ہیں ہم ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ کو ذات بنا کر دکھاتے ہیں آپ کو، اور ’’زَیْدٌ‘‘ کو وصف بنا کر دکھاتے ہیں۔ کیسے؟ ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ سے ہم کیا مراد لیتے ہیں؟ ایسی ذات، ’’لَہُ الصِّفَةُ‘‘ جس کے لیے صفتِ انطلاق ہے۔ تو منطلق سے کون مراد؟ ایسی ذات جس کے لیے کیا ثابت ہے؟ صفتِ انطلاق۔ تو دیکھو ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ ذات بن گئی یا نہیں بن گئی؟ اور ’’زَیْدٌ‘‘، زید سے کیا مراد لیتے ہیں؟ ’’صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘ نام والا، یعنی مسمیٰ بـ زید۔ زید سے آپ نے کیا مراد لیا تھا؟ ذات، اور ہم نے اس کو کیا بنا دیا؟ مسمیٰ بـ زید، اور مسمیٰ ہونا یہ صفت ہے یا صفت نہیں ہے؟ صفت ہے، نام والا ہونا۔ تو دیکھا ہم نے اس کو ’’صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘ بنایا۔ صاحب کون سا صیغہ ہے مولانا؟ اسم فاعل، صفت کا صیغہ ہے۔ تو ہم نے ’’صَاحِبُ الِاسْمِ‘‘ کی تاویل میں کر دیا اس کو، اور یہ کیا بن گیا؟ صفت بن گئی، صفت بن گئی۔ تو اب ’’الْمُنْطَلِقُ‘‘ مبتدا رہا اور ’’زَیْدٌ‘‘ خبر۔
’’یَعْنِي أَنَّ الصِّفَةَ تُجْعَلُ دَالَّةً عَلَی الذَّاتِ‘‘، صفت جو ہے اس کو کیا بنا دیا جاتا ہے؟ کہ وہ دلالت کرنے والی ہوتی ہے ذات پر، ’’وَمُسْنَدًا إِلَیْہَا‘‘ اور اس کو مسند الیہ بنا دیا جاتا ہے، ’’وَالِاسْمُ یُجْعَلُ دَالًّا‘‘ اور اسم کو بنا دیا جاتا ہے ایسا کہ وہ دلالت کرنے والا ہوتا ہے، ’’عَلٰی أَمْرٍ نِّسْبِيٍّ‘‘ کس پر؟ ایک امرِ نسبی یعنی صفت پر، ’’وَمُسْنَدًا‘‘ اور کیا بنا دیا جاتا ہے اس کو؟ مسند بنا دیا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بھئی یہ بات؟
لیکن بہرحال علماء کہتے ہیں بھئی یہ لفظی نزاع ہے اس سے کوئی بات نہیں۔ امام رازی نے کیا فرمایا تھا؟ مبتدا ہمیشہ کون؟ ذات۔ خبر ہمیشہ کون؟ صفت۔ تو بات تو ابھی بھی وہی ہے۔ آپ نے المنطلق کو تو ذات بنا دیا، یہی تو وہ کہہ رہے تھے کہ مبتدا ذات ہوگا۔ آپ نے زید کو صفت بنا دیا، اور وہ یہی تو کہہ رہے تھے خبر ہمیشہ کیا ہوگی؟ صفت ہوگی۔ تو بات پھر بھی ابھی تک اسی طرح ہے۔
’’وَأَمَّا کَوْنُہٗ‘‘، أي کون المسند، ’’جُمْلَةً فَلِلتَّقَوِّي‘‘ اور باقی مسند کا جملہ ہونا وہ کس لیے ہے؟ تقویٰ کے لیے۔ مسند کو کبھی کبھار جملہ لایا جاتا ہے مولانا، کس لیے جملہ لاتے ہیں؟ تقویٰ کے لیے، یعنی تاکید کلام میں پیدا ہوتی ہے جیسے ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘۔ کیسے تاکید ہے؟ قام کا ایک اسناد پہلے ھو ضمیر کی طرف ہوا، پھر اس کا اسناد کس کی طرف؟ زید کی طرف، تو دو اسناد آئے اور دو اسناد سے کلام میں کیا پیدا ہوتی ہے؟ تاکید۔
’’أَوْ لِکَوْنِہٖ سَبَبِیًّا‘‘ یا جملہ اس لیے لاتے ہیں کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ سببی ہوتا ہے: ’’زَیْدٌ أَبُوْہُ مُنْطَلِقٌ‘‘۔ سببی کس کو کہتے ہیں؟ سببی آپ نے پڑھا تھا بھئی، ایک مسندِ سببی ہے، ایک مسندِ غیر سببی ہے۔ غیر سببی میں نے بتایا تھا کہ مسند جملہ ہو اور اس کے اندر ایک وصف ذکر ہوگا، لازمی بات ہے بھئی وصف ہوگا اس میں، وہ وصف اگر اس کے پہلے مبتدا کے لیے ثابت ہے تو مسندِ غیر سببی، اور اگر پہلے مبتدا کے لیے ثابت نہیں تو مسندِ سببی۔ دو چیزیں ذکر ہوئی تھیں یا نہیں؟ دیکھو: ’’زَیْدٌ أَبُوْہُ قَائِمٌ‘‘، ’’زَیْدٌ‘‘ مبتدائے اوّل، ’’أَبُوْہُ‘‘ مبتدائے ثانی، اور ’’قَائِمٌ‘‘ کس کے لیے خبر ہے؟ ’’أَبُوْہُ‘‘ کے لیے، مبتدائے ثانی کے لیے۔ تو مبتدائے ثانی اپنی خبر سے مل کر یہ پورا جملہ اسمیہ ہوا اور پھر یہ پورا جملہ خبر ہوئی کس کی؟ زید کی۔ تو دیکھو زید ہے مبتدائے اوّل، ’’أَبُوْہُ قَائِمٌ‘‘ کے اندر کون سی صفت ہے؟ قیام، یہ قیام زید کے لیے ثابت ہے؟ ثابت نہیں، جب زید کے لیے ثابت نہیں تو یہ کیا ہوا؟ سببی یا غیر سببی؟ سببی۔ دو چیزوں میں سے، یا مولانا غیر کا لفظ لینا ہے یا نہیں کا لفظ لینا ہے۔ ثابت ہے یا ثابت نہیں؟ جی؟ تو یہ قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے؟ ثابت نہیں ہے، آپ نے یہ لے لیا مولانا۔ اب غیر کو لے سکتے ہیں؟ نہیں، تو پھر کیا ہوا؟ سببی ہوا۔ اور اگر ثابت ہوتا، میں کہتا ’’زَیْدٌ ہُوَ قَائِمٌ‘‘، اب یہ زید وہ کھڑا ہے، تو قیام کس کے لیے ثابت؟ زید کے لیے۔ تو اب مولانا قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں؟ ثابت ہے، تو یہ غیر سببی ہوگا۔
کہاں گڑبڑ آئی ہے؟ ایک نہیں ہے اور ایک غیر ہے۔ تو یہاں کیا لیا آپ نے؟ ہے، ہاں نہیں تو آپ نے نہیں لیا بھئی، نہیں کو نہیں لیا۔ تو پھر اب کس کو لینا پڑے گا؟ غیر کو۔ یا تو نہیں لو گے، یا کیا لو گے؟ غیر لو گے۔ اور آپ نے کیا کہا: ’’زَیْدٌ ہُوَ قَائِمٌ‘‘، یہ صفت زید کے لیے ثابت ہے، معلوم ہوا نہیں کو آپ نے چھوڑ دیا بلکہ ثابت ہے کر دی بھئی، اب لہٰذا کس کو لے لو؟ غیر کو۔ تو یہ غیر سببی ہوگا۔ جیسے مولانا صفحہ 135 نکالیں بھئی۔
آپ نے یہاں پڑھا مولانا کہ مسند کبھی کبھار مفرد لایا جاتا ہے، کس لیے مفرد لاتے ہیں؟ کیونکہ مفرد اس لیے کہ وہ غیر سببی ہوتا ہے اور تقویٰ کا فائدہ بھی نہیں دیتا۔ بھئی مفرد کیوں لاتے ہیں؟ ادھر توجہ کرو: غیر سببی ہوتا ہے اور تقویٰ کا فائدہ بھی نہیں دیتا۔ تو معلوم ہوا جملہ اسی وقت لائیں گے جب وہ کیا ہوگا؟ اس کا عکس کرو، غیر سببی کس میں ہے؟ مفرد میں ہے، تو جملے میں کیا ہوگا؟ سببی۔ اور یہاں پر افادۂ تقویٰ نہیں ہے، تو جملے میں افادۂ تقویٰ ہوگا۔ یہی بات تو کہی: ’’فَلِلتَّقَوِّي أَوْ لِکَوْنِہٖ سَبَبِیًّا‘‘، یہ تقویٰ کے لیے ہوگا یا سببی ہونے کے لیے۔ ’’کَمَا مَرَّ‘‘ جیسے کہ بات گزری تھی، ’’أَنَّ إِفْرَادَہٗ لِکَوْنِہٖ غَیْرَ سَبَبِيٍّ مَعَ عَدَمِ إِفَادَةِ التَّقَوِّي‘‘ کہ مسند کو مفرد لانا جو ہوتا ہے کبھی ہوتا ہے اس کے غیر سببی ہونے کی وجہ سے تقویٰ کا فائدہ نہ دینے کے ساتھ، کہ وہ غیر سببی ہوتا ہے اور افادۂ تقویٰ بھی نہیں۔ جب مفرد کی صورت میں غیر سببی ہوتا ہے تو جملے کی صورت میں یقیناً کیا ہوگا؟ سببی۔ نیز مفرد کی صورت میں جب افادۂ تقویٰ نہیں ہے تو جملے کی صورت میں پھر یقیناً کیا ہوگا؟ تقویٰ کا فائدہ ہوگا۔ بھئی وہی پچھلی عبارت ذکر کر رہے ہیں ماتن کی۔ جی۔
’’وَسَبَبُ التَّقَوِّي‘‘ اور تقویٰ کا سبب کیا ہے مولانا؟ ہاں، اب یہاں دو باتیں ذکر کریں گے۔ صاحبِ تلخیص بتلائیں گے کہ تقویٰ کیسے آئی، اور شیخ عبدالقاہر بتلائیں گے تقویٰ کیسے آئی۔ بڑی بڑی دلچسپ بات ہے، دیکھو بھئی کیا کہتے ہیں علامہ سکاکی:
’’وَسَبَبُ التَّقَوِّي فِي مِثْلِ: زَیْدٌ قَامَ عَلٰی مَا ذَکَرَہٗ صَاحِبُ الْمِفْتَاحِ‘‘ تقویٰ کا سبب ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘ کے اندر بنا بر اس کے جس کو ذکر کیا ہے صاحبِ مفتاح علامہ سکاکی نے، علامہ سکاکی کہتے ہیں بھئی تقویٰ کا سبب کیا ہے؟ ’’ہُوَ أَنَّ الْمُبْتَدَأَ لِکَوْنِہٖ مُسْنَدًا إِلَیْہِ یَسْتَدْعِي أَنْ یُّسْنَدَ إِلَیْہِ شَيْءٌ‘‘ کہ وہ جو ہے مبتدا کا مسند الیہ ہونے کی وجہ سے وہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے۔ آپ مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں، مبتدا کو ذکر کرتے ہیں اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ ہوتا ہے۔ مسند الیہ کس کو کہتے ہیں جس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے۔ تو جب آپ نے مسند الیہ کو ذکر کر دیا اب وہ تقاضا کر رہا ہے کہ میری طرف کسی چیز کا اسناد کرو بھئی، اس کے بعد اب ایک لفظ آتا ہے، اس لفظ کے اندر صلاحیت ہوتی ہے اس کی خبر بننے کی تو آپ اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ خبر بنا دیتے ہیں اور اس کا اسناد اس کی طرف کر دیتے ہیں، تو یہ پھر اس کے بعد یہ ایک اسناد آ گیا۔ اس خبر کا اسناد کس کی طرف ہوا؟ مبتدا کی طرف ہو گیا، پھر اسی خبر کے اندر، یہ خبر تھی جملہ، اس جملے کے اندر ایک ضمیر تھی وہ ضمیر بھی کس کو لوٹ رہی تھی؟ مبتدا کو۔ پھر اس کا اسناد... مثلاً زید کو فرض کریں، زید مولانا مسند الیہ ہے، آپ اس کو لے کر آئے اور یہ چاہ رہا تھا میرے لیے مسند لے کر آؤ بھئی۔ اس کے بعد ’’قَامَ‘‘ آیا، ’’قَامَ‘‘ میں صلاحیت تھی زید کے لیے کیا بن جائے؟ خبر بن جائے، آپ نے جوڑ دیا، اسناد کر دیا۔ تو زید کے لیے کیا ثابت ہوا؟ قیام ثابت ہو گیا، پھر اس ’’قَامَ‘‘ کا اسناد ہوا ھو ضمیر کی طرف اور ھو ضمیر دراصل راجع ہے کس کو؟ زید ہی کو راجع ہے۔ تو مولانا تکرارِ اسناد آ گیا، اور اس تکرارِ اسناد کی وجہ سے حکم کے اندر کیا آ گئی؟ تاکید آ گئی۔
تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘ ہو، ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘ نہ ہو، کیونکہ ’’قَائِمٌ‘‘ جو ہے اس کے اندر اس کی مشابہت ’’قَامَ‘‘ کے ساتھ بھی ہے کہ جیسے ’’قَامَ‘‘ میں ضمیر اسی طرح ’’قَائِمٌ‘‘ کے اندر بھی ضمیر، لیکن اس کی مشابہت ’’رَجُلٌ‘‘ کے ساتھ بھی ہے، اسمِ جامد کے ساتھ بھی ہے، جیسے اسمِ جامد بدلتا نہیں خطاب، غیبت، تکلم میں: ’’أَنَا رَجُلٌ، أَنْتَ رَجُلٌ، ہُوَ رَجُلٌ‘‘، یہ خالی عن الضمیر ہے اس لیے بدل نہیں رہا۔ اسی طرح ’’قَائِمٌ‘‘ بھی اس کے مشابہ ہے: ’’أَنَا قَائِمٌ، أَنْتَ قَائِمٌ، ہُوَ قَائِمٌ‘‘، یہ بھی نہیں بدل رہا، تو یہ مشابہ ہوا خالی عن الضمیر کے ساتھ بھی اور نیز یہ مشابہ ہے ضمیر والے کے ساتھ یعنی فعل کے بھی مشابہ ہے۔ تو لہٰذا ’’قَائِمٌ‘‘ نہیں مولانا کیونکہ اس میں شبہ آ گیا، کیا آ گیا؟ شبہ آ گیا، اس میں ضمیر ہے تو لیکن معتبر نہیں ہے، معتبر نہیں ہے۔
دیکھیے: صاحبِ مفتاح ذکر کرتے ہیں کہ مبتدا کا ہونا مسند الیہ، ’’یَسْتَدْعِي أَنْ یُّسْنَدَ إِلَیْہِ شَيْءٌ‘‘ وہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی طرف کسی چیز کا اسناد کیا جائے، ’’فَإِذَا جَاءَ بَعْدَہٗ مَا یَصْلُحُ أَنْ یُّسْنَدَ إِلٰی ذٰلِکَ الْمُبْتَدَأِ‘‘ پس اس کے بعد جب آ جائے ایسی چیز جو صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کا اسناد اس مبتدا کی طرف کر دیا جائے، ’’صَرَفَہُ الْمُبْتَدَأُ إِلٰی نَفْسِہٖ‘‘ تو اس مسند کو مبتدا کیا کر لیتا ہے؟ اپنی طرف پھیر لیتا ہے کیونکہ وہ تقاضا کر رہا ہے، ’’سَوَاءٌ کَانَ خَالِیًا عَنِ الضَّمِیْرِ أَوْ مُتَضَمِّنًا لَّہٗ‘‘ برابر ہے چاہے وہ خالی عن الضمیر ہو یا متضمنِ ضمیر ہو، ’’فَیَنْعَقِدُ بَیْنَہُمَا حُکْمٌ‘‘ تو دونوں میں حکم منعقد ہو جاتا ہے، ’’ثُمَّ إِذَا کَانَ مُتَضَمِّنًا لِّضَمِیْرِہِ الْمُعْتَدِّ بِہٖ‘‘ پھر جب وہ متضمن تھا ضمیر کو، ایسی ضمیر جو معتبر بھی ہے، ’’بِأَنْ لَّا یَکُوْنَ مُشَابِہًا لِّلْخَالِي عَنِ الضَّمِیْرِ کَمَا فِي: زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘ بایں صورت کہ اس کی مشابہت خالی عن الضمیر کے ساتھ نہ ہو جیسے ’’زَیْدٌ قَائِمٌ‘‘ کے اندر ہے، یعنی ضمیر غیر معتبر نہیں ہونی چاہیے بلکہ معتبر ہونی چاہیے یعنی جملہ ہی ہونا چاہیے، ’’صَرَفَہٗ ذٰلِکَ الضَّمِیْرُ إِلَی الْمُبْتَدَأِ ثَانِیًا‘‘ تو پھیر دیتا ہے اس اسناد کو وہ ضمیر مبتدا کی طرف دوسری مرتبہ۔ کون پھیر دیتا ہے مولانا؟ ’’قَامَ‘‘ آپ نے کہا نا ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘، تو قام کا اسناد زید کی طرف ہوا، پھر قام کا اسناد کس کی طرف؟ ھو ضمیر، اور ھو ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، تو اس نے دوبارہ اسناد کو پھیر دیا کس کی طرف؟ کس نے پھیرا؟ ضمیر نے۔ جی۔
’’صَرَفَہٗ ذٰلِکَ الضَّمِیْرُ إِلَی الْمُبْتَدَأِ ثَانِیًا فَیَکْتَسِي الْحُکْمُ قُوَّةً‘‘، پھیر دیا اس اسناد کو اس ضمیر نے مبتدا کی طرف دوسری مرتبہ، پس اوڑھ لیتا ہے حکم قوت کو۔ حکم کس کو اوڑھ لیتا ہے؟ قوت کو اوڑھ لیتا ہے یعنی اس میں قوت آ جاتی ہے۔ ’’فَعَلٰی ہٰذَا یَخْتَصُّ التَّقَوِّي‘‘ بنا بر اس کے مختص ہے تقویٰ۔ معلوم ہوا بھئی مفرد ہوگا تو پھر تقویٰ نہیں کیونکہ اس میں دوبارہ ضمیر... تقویٰ تو کس نے پیدا کی؟ بھئی آپ نے کہا ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘، قام کا اسناد زید کی طرف ہوا، پھر قام کا اسناد ھو کی طرف ہوا، اور ھو نے پھر اس کو پھیر دیا کس کی طرف؟ کیونکہ ھو زید ہی کو راجع ہے۔ تو معلوم ہوا جب ضمیر ہوگی تو تقویٰ آئے گی ورنہ تقویٰ... ورنہ تو ایک ہی اسناد آئے گا۔
’’فَعَلٰی ہٰذَا یَخْتَصُّ التَّقَوِّي بِمَا یَکُوْنُ مُسْنَدًا إِلٰی ضَمِیْرِ الْمُبْتَدَأِ‘‘ اس بنا پر خاص ہے تقویٰ، مختص ہوئی تقویٰ اس مسند کے ساتھ، ’’مَا‘‘ عبارت ہے مسند سے، تقویٰ مختص ہوئی اس مسند سے جو مسند ہو کس کی طرف؟ ضمیرِ مبتدا کی طرف۔ ’’قَامَ‘‘ جو مسند ہے ضمیرِ مبتدا کی طرف، اسی سے تقویٰ آئے گی۔ ’’وَیَخْرُجُ عَنْہُ: زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ اور نکل گئی اس سے ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘، یہ مثال نکل گئی بھئی۔ یہ مثال کیوں نکل گئی؟ کیونکہ اس کے اندر ضمیر جو وہ ضمیر جو مسند الیہ ہے وہ زید مبتدا کو راجع نہیں ہے۔ تو دوبارہ اس... دیکھو ’’زَیْدٌ‘‘ مبتدا، یہ تقاضا کر رہا ہے میری طرف کسی کا اسناد کرو، ’’ضَرَبْتُہٗ‘‘ آیا آپ نے اس کی طرف کیا کر دیا؟ اسناد کر دیا۔ پھر اس کے بعد ضرب فعل، تُ ضمیر اس کے اندر فاعل، تو کیا یہ جو فاعل مسند الیہ ہے یہ زید کو راجع ہے؟ زید کو راجع نہیں، تو اسناد مکرر ہوا؟ مکرر نہیں ہوا، تو لہٰذا یہ خارج ہوا۔
’’وَیَجِبُ أَنْ یُّجْعَلَ سَبَبِیًّا‘‘ اور واجب ہے کہ اس کو کیا بنایا جائے پھر؟ سببی بنایا جائے۔ کیا معنی سببی بنایا جائے؟ بھئی انہوں نے کہا تھا جملہ دو باتوں کے لیے مسند بن کر آتا ہے، یا تو وہ فائدہ دیتا ہے تقویٰ کا یا اس لیے کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ سببی ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ سببی ہوتا ہے۔ اور ابھی بتایا ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر تقویٰ تو ہے نہیں، تو لازمی بات ہے پھر دوسری چیز ثابت ہو جائے گی کہ کس لیے ہوگا یہ؟ سببی ہوگا یہ۔
’’وَأَمَّا عَلٰی مَا ذَکَرَہُ الشَّیْخُ فِي دَلَائِلِ الْإِعْجَازِ: وَہُوَ أَنَّ الِاسْمَ لَا یُؤْتٰی بِہٖ مُعَرًّی عَنِ الْعَوَامِلِ إِلَّا لِحَدِیْثٍ قَدْ نُوِيَ إِسْنَادُہٗ إِلَیْہِ‘‘۔
اچھا، یہ تو تھا مولانا علامہ سکاکی کا مذہب، اب شیخ عبدالقاہر کا مسلک ذکر کر رہے ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ: علامہ سکاکی نے کہا ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر تقویٰ نہیں۔ ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر تقویٰ نہیں ہے، اور شیخ عبدالقاہر کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ کے اندر بھی کیا ہے؟ تقویٰ ہے، تقویٰ ہے۔ جی، کس طرح؟
’’وَأَمَّا عَلٰی مَا ذَکَرَ‘‘ یہ دوسرا انداز ہے، شیخ عبدالقاہر جو واضع ہیں اس فن کے مولانا، سنیے وہ کیا فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں دلائل الاعجاز میں کہتے ہیں: ’’وَہُوَ أَنَّ الِاسْمَ لَا یُؤْتٰی بِہٖ مُعَرًّی عَنِ الْعَوَامِلِ إِلَّا لِحَدِیْثٍ قَدْ نُوِيَ إِسْنَادُہٗ إِلَیْہِ‘‘، اسم کو لایا نہیں جاتا عوامل سے خالی کرنے کے لیے مگر کسی بات کی وجہ سے جس کا ارادہ کیا گیا ہے اس کی طرف اسناد کرنے کا۔ دیکھیے، مبتدا اور خبر ان دونوں میں عامل معنوی ہوتا ہے، ان میں عامل کوئی لفظوں میں آتا نہیں ہے۔ تو آپ لے کر آئے ’’زَیْدٌ‘‘، آپ نے اس کو خالی کر دیا کس سے؟ عوامل سے۔ جی، تو اسم کو کبھی بھی عامل سے خالی نہیں لایا جاتا مگر اس لیے کہ آپ یہ ارادہ کرتے ہیں کہ اس کی طرف ایک اور چیز کا اسناد کریں کیونکہ اس کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا اور خبر۔
اچھا، تو یہ معنی ہے: اسم کو خالی عن العوامل نہیں لایا جاتا مگر کسی بات کی وجہ سے کہ ارادہ کیا گیا ہے اس کے اسناد کا اس کی طرف۔ زید کو میں لے کر آیا، اس پر کوئی عامل ہے؟ نہیں۔ میں اس لیے اس کو خالی عن العوامل لایا کہ میرا ارادہ ہے کہ آگے جو بات آ رہی ہے اس کا اسناد میں کس کی طرف کر دوں؟ اس کی طرف کر دوں۔
’’فَإِذَا قُلْتَ: زَیْدٌ، أَشْعَرْتَ قَلْبَ السَّامِعِ بِأَنَّکَ تُرِیْدُ الْإِخْبَارَ عَنْہُ‘‘، جب آپ نے کہا ’’زَیْدٌ‘‘، آپ نے خبر دی سامع کے دل کو کہ آپ زید کے بارے میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟ خبر دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اس کو آپ عوامل سے خالی لے کر آئے ہیں۔ ’’فَہٰذَا تَوْطِئَةٌ لَّہٗ وَتَقْدِمَةٌ لِّلْإِعْلَامِ بِہٖ‘‘، تو یہ اس کے لیے توطیہ اور تمہید ہے، توطیہ اور تقدیم کا ایک معنی ہے، مقدمہ کا ایک معنی ہے۔ تو یہ اس کے لیے تمہید ہے مولانا اس کے خبر دینے کے بارے میں کہ آپ اس کے بارے میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔
’’فَإِذَا قُلْتَ: قَامَ، دَخَلَ فِي قَلْبِہٖ دُخُوْلَ الْمَأْنُوْسِ‘‘، تو جب آپ نے ’’قَامَ‘‘ کہا، تو یہ جو قام ہے بیٹھ گیا، داخل ہوا اس کے دل کے اندر جیسے ایک مانوس چیز کیا ہوتی ہے؟ داخل ہوتی ہے۔
بھئی آپ نے جب ’’زَیْدٌ‘‘ کہا تو اسم کو خالی عن العوامل اس لیے لایا جاتا ہے کہ آپ اس پر ایک چیز کا حکم لگانا چاہتے ہیں، تو جب آپ نے ’’زَیْدٌ‘‘ کہا تو مخاطب کو پہلے سے اشارہ دے دیا کہ میں اس کو خالی عن العوامل اس لیے لایا ہوں کہ میں اس پر کیا کرنے لگا ہوں؟ حکم لگانے لگا ہوں۔ تو اب وہ مشتاق ہوا اور انتظار کرنے لگا کہ آپ اس پر کیا حکم لگاتے ہیں، تو انتظار کے بعد اب آپ نے قام، ’’زَیْدٌ قَامَ‘‘ کا حکم لگایا تو گویا اب یہ پورا کلام جو ہے یہ اس کے دل میں کس طرح بیٹھ گیا؟ جیسے کہ ایک مانوس چیز ہے، کیونکہ وہ پہلے سے اس کا انتظار کر رہا تھا، اور مانوس چیز ہے۔ تو اس کی وجہ سے کلام میں کیا آیا؟ ثبوت میں شدت آ گئی مولانا، انتظار کے بعد آیا مانوس چیز کی طرح آیا، اور اس کے اندر اب کوئی شک اور شبہ نہیں دل میں خوب جم کر بات بیٹھ گئی۔
’’دَخَلَ فِي قَلْبِہٖ دُخُوْلَ الْمَأْنُوْسِ‘‘ تو داخل ہوا یہ اسناد اس کے دل کے اندر ایک مانوس چیز کی طرح، ’’وَہٰذَا أَشَدُّ لِلثُّبُوْتِ‘‘ اور یہ زیادہ اشد ہے کس کے اعتبار سے؟ یعنی ایک کا ثبوت ہو رہا ہے دوسرے کے لیے، ’’وَأَمْنَعُ مِنَ الشُّبْہَةِ وَالشَّکِّ‘‘ اور یہ زیادہ مانع ہے شک اور شبہے سے۔
’’وَبِالْجُمْلَةِ: لَیْسَ الْإِعْلَامُ بِالشَّيْءِ بَغْتَةً مِّثْلَ الْإِعْلَامِ بِہٖ بَعْدَ التَّنْبِیْہِ عَلَیْہِ‘‘ اور بالجملہ اور خلاصۂ کلام یہ مولانا کہ خبر دینا کسی چیز کے بارے میں اچانک، یہ اس طرح نہیں ہے کہ خبر دی جائے اس کو تنبیہ کے بعد۔ بھئی ایک ہے اچانک خبر دینا، ایک ہے تنبیہ کے بعد خبر دینا، تو اچانک جب کوئی بات ذکر کی جائے وہ دل میں اتنی جم کے نہیں بیٹھے گی، لیکن اگر پہلے سے تنبیہ کر چکے ہیں تو پھر خوب جم کر بیٹھے گی۔ تو آپ نے جب کہا ’’زَیْدٌ‘‘، اس کو اشارہ دے دیا: میں اس کو خالی عن العوامل لایا ہوں، میں اس پر کوئی حکم لگانے والا ہوں، تو اب حکم خوب جم کر دل میں بیٹھا جب ’’قَامَ‘‘ آیا۔
اور اگر آپ کیا کہیں؟ جی؟ ’’قَامَ زَیْدٌ‘‘ کہیں۔ جی، عکس کریں اس کا کیا؟ ’’قَامَ زَیْدٌ‘‘۔ ہاں، ’’قَامَ زَیْدٌ‘‘ کہیں مولانا، تو اب مولانا آپ کوئی اسم لائے ہیں؟ اسم خالی عن العوامل اسم کوئی نہیں لائے، تو اب جو حکم آ رہا ہے وہ اچانک آ رہا ہے، بعد الانتظار نہیں آ رہا۔ تو لہٰذا جو بعد الانتظار آئے گا اس میں تاکید ہوگی، پختگی ہوگی، اور جو بعد الانتظار نہیں آئے گا اس کے اندر پختگی نہیں ہوگی۔ معلوم ہوا مبتدا کو مقدم کریں گے تو پختگی آئے گی، مبتدا یا مسند الیہ کو مؤخر کریں گے تو پختگی نہیں ہے۔
یہ معنی ہے: ’’وَبِالْجُمْلَةِ‘‘ خلاصۂ کلام یہ کہ ’’اَلْإِعْلَامُ بِالشَّيْءِ‘‘ کسی چیز کی خبر دینا اچانک، یہ اس طرح نہیں ہے کہ خبر دی جائے تنبیہ کے بعد، اس پر تنبیہ کرنے کے بعد، ’’وَالتَّقْدِمَةِ‘‘ اور تمہید کے بعد۔ ’’فَإِنَّ ذٰلِکَ یَجْرِي مَجْرٰی تspaceاکِیْدِ الْإِعْلَامِ فِي التَّقَوِّي‘‘ اس لیے کہ یہ قائم مقام ہے کس کے؟ تاکیدِ اعلام بھئی، خبر کی تاکید کے قائم مقام ہے تقویٰ کے اندر۔ یہ جو آپ نے پہلے ایک اسم کو ذکر کیا پھر وہ ایک مانوس چیز کی طرح اس کے دل میں جم کر بات بیٹھ گئی، یہ کس کے قائم مقام ہے؟ تاکید ہی کے قائم مقام ہے، بات خوب پکی ہو گئی۔ ’’فِي التَّقَوِّي‘‘ احکام، تقویٰ اور احکام کا ایک معنی ہے، احکام کا معنی پختہ کرنا، مضبوط کرنا۔
’’فَیَدْخُلُ فِیْہِ‘‘ لہٰذا بھئی شیخ کی بات سے داخل ہو گیا مسندِ تقویٰ میں ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ اور ’’زَیْدٌ مَرَرْتُ بِہٖ‘‘، یہ مثالیں بھی کس میں داخل ہو گئیں؟ تقویٰ میں داخل ہو گئیں، کیونکہ ان میں مسند الیہ مقدم ہے، اور مسند الیہ مقدم جب ہو تو سامع کیا کرنے لگتا ہے؟ انتظار کرنے لگتا ہے، تو بعد میں حکم جم کر بیٹھتا ہے اور اس میں تاکید اور پختگی آ جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ میں بھی تاکید ہے اور ’’زَیْدٌ مَرَرْتُ بِہٖ‘‘ میں بھی، حالانکہ علامہ سکاکی کے نزدیک ’’زَیْدٌ ضَرَبْتُہٗ‘‘ میں تاکید نہیں تھی کیونکہ اسناد دوبارہ زید کی طرف نہیں ہو رہا تھا۔
’’وَمِمَّا یَکُوْنُ الْمُسْنَدُ فِیْہِ جُمْلَةً لَّا لِلسَّبَبِیَّةِ وَلَا لِلتَّقَوِّي: خَبَرُ ضَمِیْرِ الشَّأْنِ‘‘۔
یہ ایک اعتراض کا جواب ہے بھئی۔ اعتراض یہ کہ ماتن نے کیا کہا کہ مسند کو جملہ لاتے ہیں، جملہ کس لیے لے کر آتے ہیں؟ آپ بتلانا فائدہ تقویٰ کا دینا چاہتے ہیں یا بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ مسند کون سا ہے؟ سببی ہے، غیر سببی نہیں۔ بھئی اس کے علاوہ بھی ایک دو مقاصد ہیں، جملہ اس لیے بھی لاتے ہیں:
ایک یہ کہ آپ جملہ اس لیے لے کر آتے ہیں کہ مبتدا ضمیرِ شان گزری ہوتی ہے، تو ضمیرِ شان کی وجہ سے بھی کبھی خبر کو کیا لایا جاتا ہے؟ جملہ، کیونکہ ضمیرِ شان کی خبر ہمیشہ جملہ ہوتی ہے، مفرد نہیں ہوتا۔ تو جملہ کبھی لایا جاتا ہے ضمیرِ شان کے لیے بھی، یہ بھی آپ کو کہنا چاہیے تھا، اس کو آپ نے کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں بھئی وہ مشہور بات ہے اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا۔ نیز اس کا پہلے میں ایک دفعہ کہتے ہیں ذکر کر چکے ہیں ماتن، تو اس کو دوبارہ ذکر نہیں کیا۔
پھر اچھا، تو کبھی کبھی تو بھئی مسند کو مسند الیہ کو مقدم کیا جاتا ہے... نہیں، مسند کو خبر کی صورت میں لاتے ہیں تخصیص کے لیے بھی لاتے ہیں، وہ بھی آپ نے ذکر نہیں کیا، صرف تقویٰ اور سببی کہا، جیسے: ’’أَنَا سَعَیْتُ فِي حَاجَتِکَ‘‘، میں نے ہی آپ کی حاجت میں سعی کی۔ تو دیکھو ’’أَنَا‘‘ مبتدا ہے اور اس کی خبر کیا ہے؟ پورا جملہ: ’’سَعَیْتُ فِي حَاجَتِکَ‘‘، اور اس جملے نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ تخصیص کا۔ تو کہتے ہیں تخصیص کو بھی نہیں انہوں نے ذکر کیا۔ کہتے ہیں بھئی یہاں پر یہ بھی تقویٰ میں داخل ہے، ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ تخصیص... ’’أَنَا‘‘ جب مقدم کیا تو ’’سَعَیْتُ‘‘ کا ایک دفعہ اسناد کس کی طرف ہے؟ تُ ضمیر کی طرف، اس سے بھی متکلم مراد، اور پھر کس کی طرف ہے؟ ’’أَنَا‘‘ کی طرف، تو چاہے تخصیص آ رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ کیا آ رہی ہے؟ تقویٰ بھی آ رہی ہے۔ وہ الگ بات ہے، تقویٰ حاصل بلا قصد ہے اور تخصیص حاصل بالقصد، تو تقویٰ کے لیے ہے کلام چاہے حاصل بالقصد ہو چاہے حاصل بلا قصد ہو۔
’’وَمِمَّا یَکُوْنُ الْمُسْنَدُ فِیْہِ جُمْلَةً‘‘ اور ان میں سے کہ جن کے اندر مسند جملہ ہوتا ہے، ’’لَا لِلسَّبَبِیَّةِ وَلَا لِلتَّقَوِّي‘‘ نہ تو سببی ہونے کے لیے ہوتا ہے اور نہ تقویٰ کے لیے، ان میں سے کیا ہے؟ ’’خَبَرُ ضَمِیْرِ الشَّأْنِ‘‘ ضمیرِ شان کی خبر بھی ہے، ’’وَلَمْ یَتَعَرَّضْ لَہٗ لِشُہْرَةِ أَمْرِہٖ‘‘ اس کے درپے نہیں ہوئے کہ اس کا معاملہ بڑا مشہور ہے، ’’وَکَوْنِہٖ مَعْلُوْمًا مِّمَّا سَبَقَ‘‘ اور بوجہ اس کے معلوم ہونے کے ماقبل سے، ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
’’وَأَمَّا صُوْرَةُ التَّخْصِیْصِ‘‘ باقی تخصیص کی صورت کو کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں: ’’نَحْوُ: أَنَا سَعَیْتُ فِي حَاجَتِکَ‘‘ میں نے ہی کوشش کی آپ کی حاجت میں، ’’وَرَجُلٌ جَاءَنِي‘‘ اور آدمی میرے پاس، آدمی ہی آیا، ’’فَہِیَ دَاخِلَةٌ فِي التَّقَوِّي عَلٰی مَا مَرَّ‘‘ یہ داخل ہے کس کے اندر مولانا؟ تقویٰ کے اندر داخل ہے بنا بر اس کے جو کہ بات گزر چکی ہے۔
’’وَاسْمِیَّتُہَا وَفِعْلِیَّتُہَا وَشَرْطِیَّتُہَا‘‘ اور کبھی کبھار مولانا جملہ لے کر آتے ہیں، یہ تو آپ کو بتایا کس لیے لے کر آتے ہیں؟ تقویٰ کے لیے یا سببی ہونے کے لیے۔ ابھی بتایا مسند کو کیوں لاتے ہیں؟ تقویٰ کے لیے یا سببی ہونے کے لیے لاتے ہیں۔ پھر اس جملے کو کبھی جملہ اسمیہ لاتے ہیں، کبھی جملہ فعلیہ لاتے ہیں، کبھی جملہ شرطیہ لاتے ہیں، کبھی جملہ ظرفیہ لاتے ہیں۔ جملہ ظرفیہ کس کو کہتے ہیں جانتے ہو بھئی؟ جس کا ایک جز کیا ہو؟ ظرف ہو، ایک جز کیا ہو؟ ظرف ہو۔ ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، زید تو ایک اسم ہے اور ’’فِي الدَّارِ‘‘ ظرف ہے، جار مجرور بھی ظرف کہلاتا ہے مجازاً۔ تو جس کا ایک جز ظرف ہو، یا ’’اَلْمَالُ عِنْدِي‘‘ یہ بھی کیا ہے؟ جملہ ظرفیہ ہے۔ اور بعضوں نے یہ کہا جس کا اوّل جز ظرف ہو مولانا، لیکن یہ جس کوئی ایک جز جس کا ظرف ہو وہ جملہ ظرفیہ کہلاتا۔
تو پھر اس جملے کو کبھی اسمیہ لاتے ہیں، کبھی فعلیہ لاتے ہیں، کبھی شرطیہ لاتے ہیں، یہ کیوں؟ کہتے ہیں یہ وجہ ہم بیان کر چکے ہیں جیسے دیکھیے: جملہ اسمیہ کیوں لاتے ہیں بھئی؟ کیونکہ جملہ اسمیہ فائدہ دیتا ہے ثبوت اور دوام کا۔ جملہ فعلیہ کیوں لاتے ہیں؟ وہ فائدہ دیتا ہے استمرار اور تجدد کا۔ اور شرطیہ کس لیے لے کر آتے ہیں بھئی؟ آپ معلق کرنا چاہتے ہیں، اور کبھی یقین کے ساتھ تو ’’إِذَا‘‘ لائیں گے یقینی امر میں، اور کبھی مشکوک امر میں تو ’’إِنْ‘‘ وغیرہ لے کر آئیں گے، یا کبھی ماضی میں تو ’’لَوْ‘‘ لائیں گے۔
’’یَعْنِي أَنَّ کَوْنَ الْمُسْنَدِ جُمْلَةً لِّلسَّبَبِیَّةِ وَالتَّقَوِّي‘‘، مسند کا جملہ ہونا سببی ہونے کے لیے ہے اور تقویٰ کے لیے ہے، ’’وَکَوْنُ تِلْکَ الْجُمْلَةِ‘‘ پھر اس جملے کا، ’’اسْمِیَّةً لِلدَّوَامِ وَالثُّبُوْتِ‘‘ اسمیہ ہونا دوام اور ثبوت کے لیے ہے، ’’وَکَوْنُہَا فِعْلِیَّةً لِّلتَّجَدُّدِ وَالْحُدُوْثِ‘‘ اور اس کا فعلیہ ہونا تجدد اور حدوث کے لیے ہے، ’’وَالدَّلَالَةِ عَلٰی أَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ عَلٰی أَقْصَرِ وَجْہٍ‘‘ نیز اس لیے کہ وہ دلالت کرتا ہے کس پر؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے پر مختصر طریقے سے۔ ’’وَکَوْنُہَا شَرْطِیَّةً لِّلِاعْتِبَارَاتِ الْمُخْتَلِفَةِ الْحَاصِلَةِ مِنْ أَدَوَاتِ الشَّرْطِ‘‘ اور اس کا شرطیہ ہونا مختلف اعتبارات کی وجہ سے ہے جو حاصل ہوتے ہیں کس سے؟ ادواتِ شرط سے۔ ’’وَظَرْفِیَّتُہَا لِاخْتِصَارِ الْفِعْلِیَّةِ‘‘ اور کبھی جملہ ظرفیہ لایا جاتا ہے کیوں؟ کیونکہ اختصار کرتے ہیں کس کا؟ فعل کا، فعلیہ کا اختصار کرنے کے لیے۔
دیکھیے، میں کہتا ہوں: ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، زید کس میں ہے؟ بھئی جار مجرور ہے، جار مجرور ہمیشہ اپنا کوئی، کسی چیز سے متعلق ہوتے ہیں۔ سات آٹھ چیزیں میں نے آپ کو بتلائی تھیں غالباً بھئی، کس سے؟ فعل سے، اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ وغیرہ، تو یہ متعلق ہوتے ہیں۔ تو جہاں پر ظرفِ مستقر آئے مولانا یعنی اس کا متعلق عبارت کے اندر ذکر نہ ہو، وہاں پر ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: ’’زَیْدٌ ثَابِتٌ فِي الدَّارِ‘‘، آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: ’’زَیْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ‘‘۔ تو بنا بر بصرہ والے نحوی کیا کہتے ہیں؟ فعل نکالو، اور کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ اسم نکالو۔ بصرہ والے کہتے ہیں اس لیے فعل نکالو کہ عمل کے اندر اصل کون ہے؟ فعل، اور یہ جار مجرور یہ بھی تو معمول، ظرف بھی معمول ہوتا ہے، اور عامل کے اندر اصل فعل ہے تو اصلِ عامل کو لے کر آؤ۔ اور کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ خبر ہے، اور خبر کے اندر اصل مفرد ہونا ہے اور مفرد کون ہوتا ہے؟ فعل نہیں مفرد، فعل تو جملہ ہے، تو کیا لاؤ؟ اسم فاعل وغیرہ لے کر آؤ، اسم لے کر آؤ۔
اچھا، تو ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘ اصل میں کیا تھا؟ یہ صاحبِ کتاب کہتے ہیں: اصح مذہب یہ ہے فعل نکالو: ’’زَیْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ‘‘۔ تو دیکھو ایک کلام یہ ہے: ’’زَیْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ‘‘، ایک ہے: ’’زَیْدٌ فِي الدَّارِ‘‘، کون سا مختصر ہے؟ جس میں فعل کو کیا کر دیا؟ تو دیکھو جملہ ظرفیہ لے کر آئے کس لیے کہ آپ نے جملہ فعلیہ کو کیا کر دیا؟ مختصر کر دیا۔ یہ معنی ہے: ’’وَظَرْفِیَّتُہَا لِاخْتِصَارِ الْفِعْلِیَّةِ‘‘ فعلیہ کا اختصار کرنے کے لیے، ’’إِذْ ہِیَ مُقَدَّرَةٌ بِالْفِعْلِ عَلَی الْأَصَحِّ‘‘ اس لیے کہ یہ جملہ ظرفیہ جو ہے مقدر ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ، قولِ اصح کے مطابق۔ ’’لِأَنَّ الْفِعْلَ ہُوَ الْأَصْلُ فِي الْعَمَلِ‘‘ اس لیے کہ فعل عمل کے اندر اصل ہے، ’’وَقِیْلَ: بِاسْمِ الْفَاعِلِ‘‘ اور بعضوں نے کہا مولانا کس کے ساتھ مقدر کریں گے؟ اسم فاعل کے ساتھ، ’’لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْخَبَرِ أَنْ یَّکُوْنَ مُفْرَدًا‘‘ کیونکہ خبر کے اندر اصل کیا ہے؟ مفرد ہونا۔
’’وَرُجِّحَ الْأَوَّلُ بِوُقُوْعِ الظَّرْفِ صِلَةً لِّلْمَوْصُوْلِ‘‘ اور اوّل کو ترجیح دی گئی ہے بوجہ واقع ہونے ظرف کے صلہ موصول کے لیے۔ بھئی جار مجرور کا آپ نے پڑھا متعلق اسم فاعل وغیرہ بھی نکال سکتے ہیں اور فعل بھی، لیکن اگر آپ کہتے ہیں: ’’جَاءَ الَّذِي فِي الدَّارِ‘‘، جاء فعل، الذی اسم موصول، فی الدار جار مجرور مل کر اب کس سے متعلق ہوں گے؟ یہاں آپ ’’ثَابِتٌ‘‘ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ثابت سے متعلق ہو کر یہ تو مفرد ہو جائے گا، اور حالانکہ موصول کا صلہ مفرد نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے۔ معلوم ہوا ’’اَلَّذِي فِي الدَّارِ‘‘ کے اندر متعین ہے آپ کو کیا نکالنا پڑے گا؟ فعل ہی نکالنا پڑے گا، فعل ہی۔ تو چنانچہ وہ اپنی دلیل دیتے ہیں مولانا بصرہ والے، کہتے ہیں دیکھو باقی ہر جگہ شک ہے، کوئی کہتا ہے فعل لاؤ، فعل کا بھی احتمال ہے اور اسم کا بھی، لیکن ایک جگہ ہے وہاں پر فعل کا ہونا یقینی، تو اس مشکوک کو بھی محمول کر لو کس پر؟ یقینی پر، تو باقی جگہ بھی کیا لے کر آؤ؟ فعل ہی لے کر آؤ۔
’’وَرُجِّحَ الْأَوَّلُ بِوُقُوْعِ الظَّرْفِ صِلَةً لِّلْمَوْصُوْلِ‘‘ اور ترجیح دی گئی ہے مذہبِ اوّل کو کہ ظرف جو واقع ہوتا ہے صلہ کس کے لیے؟ موصول کے لیے۔ اچھا، وہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ فعل ہی ہوتا ہے، تو اس کو ترجیح دی گئی ہے فعل ہونے کو مولانا، ’’نَحْوُ: اَلَّذِي فِي الدَّارِ أَخُوْکَ‘‘ وہ جو گھر کے اندر ہے تیرا بھئی ہے۔
’’وَأُجِیْبَ بِأَنَّ الصِّلَةَ مِنْ مَّظَانِّ الْجُمْلَةِ‘‘ اور جواب دیا گیا مولانا کہ صلہ ہونا کس میں سے ہے؟ جائے گمان ہے جملے کا، صلہ اصل میں ہوتا ہی جملہ ہے، صلے میں آتا ہی ہمیشہ کیا ہے؟ جملہ آتا ہے، اس وجہ سے مجبوری کی وجہ سے یہاں ہم نے فعل نہیں نکالا بلکہ اسم نہیں نکالا بلکہ کیا نکالا؟ فعل نکالا، ’’بِخِلَافِ الْخَبَرِ‘‘ بخلاف خبر کے کہ وہ آپ قیاس کر رہے ہیں اور خبر یہ قیاس مع الفارق ہے۔ خبر مقام ہے مفرد ہونے کا اور صلہ مقام ہے جملہ ہونے کا، تو آپ ایک جملے کے مقام پر قیاس کر رہے ہیں کس کو؟ مفرد کے مقام کو، لہٰذا آپ کا قیاس صحیح نہیں ہے۔
’’بِأَنَّ الصِّلَةَ مِنْ مَّظَانِّ الْجُمْلَةِ بِخِلَافِ الْخَبَرِ‘‘ اس لیے کہ صلہ جو ہے وہ جملے کے وقوع کی جگہوں میں سے ہے، بخلاف کس کے؟ خبر کے، کہ وہ جملے کا محل نہیں ہے بلکہ وہ مفرد کا محل ہے۔
چلیے، ہٰذَا ہُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔