اطناب کی بحث ہم پڑھ رہے تھے، مولانا اطناب۔ انہوں نے آپ کو اطناب کے کئی طریقے بتلائے۔ ایک طریقہ تھا ایضاح بعد الابہام، بھئی۔ کہ پہلے ایک بات کو اجمالاً ذکر کیا جائے اور بعد میں تفصیلاً ذکر کیا جائے۔ اور دوسرا طریقہ تھا ذکر الخاص بعد العام، بھئی۔ کہ عام ذکر کرنے کے بعد کس کو ذکر کیا جائے؟ خاص کو عطف کے طریقے پر، بھئی۔ تیسرا طریقہ تھا تکرار کا، مولانا۔ کہ اسی جملے کو دوبارہ ذکر کیا جائے کسی نکتے کی وجہ سے۔ چوتھا طریقہ تھا ایغال، بھئی۔ ایغال کہتے تھے کہ شعر کو ختم کرنا ایسے لفظ کے ساتھ چاہے جو کسی نکتے کا فائدہ دے، اور وہ نکتہ... اس نکتے کے بغیر ہی اصل مراد کیا ہو؟ پوری ہو۔ اس کے بعد پانچواں طریقہ تذییل تھا۔ تذییل کہتے تھے ایک جملے کے بعد دوسرے جملے کو لانا کہ دوسرا جملہ پہلے جملے کے معنی پر مشتمل ہو اور اس کو تاکید کے لیے ذکر کیا جاتا ہے، بھئی۔ اور اس کے بعد چھٹا طریقہ ہم نے پڑھا تکمیل، اور تکمیل کو انہوں نے بتلایا کہ احتراس بھی کہتے ہیں، اور تکمیل کہتے ہیں کہ کلام کے... ایسا کلام جو وہم ڈال رہا تھا کس کا؟ خلافِ مقصود کا۔ اس کلام کے اندر ایسا... ایسے لفظ لائے جائیں جو اس خلافِ مقصود کے وہم کو کیا کر دیں؟ دور کر دیں، بھئی۔ جیسے: "فسقی دیارک غیر مفسدها صوب الربیع ودیمة تهمی"۔ تو یہاں پر شاعر نے کہا کہ دعا دے رہا ہے کہ سیراب کرے آپ کے گھروں کو "صوب الربیع" بہار کی بارش، "ودیمة تهمی" اور ایسی جھڑی جو بہنے والی ہو۔ تو اس سے یہ وہم پیدا ہوا، بھئی، کہ یہ تو شاید کس کی... بددعا دے رہا ہے کیونکہ بارش بسا اوقات کس چیز کا سبب بنتی ہے؟ خرابیِ دیار کا سبب بنتی ہے۔ تو اس کو دور کیا "غیر مفسدها" کی قید لگا کر۔ یہ حال بنایا اس حال میں، مولانا، کہ یہ بارش کیا ہو؟ فاسد کرنے والی نہ ہو۔ جی، تو دیکھیے کلام میں خلافِ مقصود کا وہم پڑ رہا تھا، اس کو "غیر مفسدها" سے دور کیا۔ یہ تو تھا وسطِ کلام کی مثال۔ کبھی آخر میں آتا ہے، جیسے: "أذلة علی المؤمنین أعزة علی الکافرین" کہ اگر تم لوگ، جو ہے، اللہ کے دین پر نہیں چلو گے تو اللہ کیا کریں گے؟ ایسی قوم کو لے آئیں گے جو مسلمانوں پر مہربان ہوں گے اور کیا؟ کافروں پر سخت ہوں گے اور اللہ کے دین پر چلنے والے ہوں گے۔ تو یہاں پر "أذلة علی المؤمنین"، مومنین پر وہ کیا ہوں گے؟ مہربان ہوں گے۔ مومنین... وہ قوم مومنین پر مہربان ہو گی تو ایک شبہ پیدا ہوا کہ شاید یہ وہ قوم ضعیف ہو گی، کمزور ہو گی، اسی لیے کیا ہو گی؟ مہربان یا نرم ہو گی مومنین پر، بھئی۔ تو جواب آگے آیا، مولانا، اس وہم کو دور کیا: "أعزة علی الکافرین"، کافروں پر کیا ہوں گے؟ بڑے سخت ہوں گے۔ معلوم ہو بڑے طاقتور اور قوت والے ہوں گے، مولانا، لیکن مومنین کے ساتھ جو نرمی ہو گی وہ صرف شفقت کی وجہ سے ہو گی۔ تواضع کے طور پر ہو گی، اسی لیے کہتے ہیں ذل کو "علی" کے ساتھ متعدی کیا، کیونکہ ذل جو ہے اس کا صلہ "لام" آتا ہے، "أذلة للمؤمنین" ہونا چاہیے، بھئی، "علی" ذکر کیا گیا۔ اس لیے کہ یہاں پر تضمین ہے۔ تضمین کس کو کہتے ہیں؟ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھنا اور اس دوسرے فعل پر صلہ دلالت کرتا ہے، بھئی۔ تو یہاں دیکھا یہ "علی" صلہ نہیں آتا، اس نے بتلایا کہ اذلہ کے اندر کس فعل کے معنی کی رعایت ہے؟ عطف کے، بھئی، شفقت کے۔ کیونکہ عطف کا صلہ "علی" آتا ہے، بھئی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ارادہ کیا گیا ہو "علی" کے ساتھ متعدی کرنے کے میں... "علی" جو لے کر آئے ہیں ہو سکتا ہے اس میں یہ ارادہ بھی ممکن ہے کہ وہ قوم اعلیٰ ہو گی، مولانا، افضل ہو گی کس پر؟ مومنین پر، کیونکہ "علی" کس لیے آتا ہے؟ بلندی کے لیے آتا ہے، کسی چیز کی بلندی بیان کرنے کے لیے، جیسے: "زید علی الفرس"، تو کیا معنی؟ زید گھوڑے پر سوار ہے یعنی اس پر بلند ہے، مولانا۔ تو یہاں بھی اسی طرح یہ لوگ بھی کیا ہوں گے؟ فضیلت ہو گی ان کی مومنین پر، البتہ جو یہ مومنین کے لیے تواضع اختیار کریں گے، ان پر مہربان ہوں گے، یہ صرف تواضع کی وجہ سے ہو گا، بھئی۔ یہ تھا، مولانا، تکمیل اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ احتراس، بھئی، احتراس، بھئی۔ کیونکہ اس کی وجہ سے خلافِ مقصود کا وہم دور ہوا، بھئی، اس سے حفاظت ہوئی۔ ساتواں طریقہ تھا تتمیم، بھئی۔ تتمیم کہتے تھے کہ کلام کے آخر میں فضلہ لایا جائے۔ کیا لایا جائے؟ فضلہ۔ ایسا کلام جو خلافِ مقصود کا وہم بھی جس سے پیدا نہیں ہو رہا تھا، اس میں فضلہ لایا جائے، بھئی۔ یعنی مفعول لے آئیں، حال لے آئیں یا اس جیسی چیزیں لے آئیں، بھئی۔ جو چاہے جملہ ہو چاہے غیرِ جملہ ہو لیکن مستقل نہ ہو۔ جملہ ہے تو جملہ حالیہ بن رہا ہے، جملہ ہے تو صفت بن رہا ہے یعنی مستقل... یا پھر غیرِ جملہ ہو گا، یعنی مستقل نہیں ہو گا، مسند مسند الیہ نہیں ہو گا۔ بعضوں نے کہا کہ شاید فضلہ سے ارادہ ہے مصنف کا "ما یتم اصل المعنی بدونه" کہ جس کے بغیر کیا ہو؟ اصل معنی اس کے بغیر ہی پورا ہو جائے۔ بعضوں نے یہ معنی سمجھا اس کا کہ فضلہ وہ ہے کہ جو زائد ہے، یعنی اصل مراد اس کے بغیر ہی پوری ہو چکی ہے اور یہ اس سے زائد ہے۔ کہتے ہیں یہ بات درست نہیں۔ علامہ تفتازانی نے کہا کہ اس قائل کے اس گمان کو جھٹلا دیتا ہے مصنف کا کلام جو ایضاح میں ہوا۔ مصنف نے تلخیص کی شرح لکھی ایضاح کے نام سے، اس ایضاح کے اندر یہاں پر اس تتمیم کی مثال انہوں نے کیا ذکر کی تھی؟ "لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون"، تم ہرگز کامل نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم خرچ نہ کرو اس چیز کو جس کو تم کیا کرتے ہو؟ پسند کرتے ہو، جس سے تم محبت کرتے ہو، اس کو جب تک خرچ نہیں کرو گے کامل نیکی نہیں پا سکتے۔ اب یہاں پر "مما تحبون" یہ مثال ہے تتمیم کی، اور حالانکہ اس کے بغیر اصل معنی ہی پورے نہیں ہوتے، اصل معنی ہی پورے نہیں ہوتے۔ تو معلوم ہوا فضلہ کا بعضوں نے جو یہ معنی کیا کہ اس کے بغیر ہی اصل معنی پورے ہو جائیں، یہ صحیح نہیں، یہ مثال بتلا رہی ہے، مولانا۔ نیز آپ نے کیا کہا، فضلہ سے کیا مراد ہے کہ جس کے بغیر ہی اصل معنی کیا ہو جائیں؟ بھئی، یہ تو سارے بابِ اطناب کے اندر ہے، اطناب کہتے ہی اس کو ہیں جو کیا ہو؟ اصل مراد پر زائد ہو، تو یہ تو ہر نوع کے اندر ہے، تخصیص... تتمیم کا خاصہ تو نہیں کہ آپ نے تتمیم میں اس کا... تتمیم کے ساتھ خاص کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ پھر اس پر اشکال ہوتا ہے، مولانا۔ اشکال یہ کہ آپ نے کیا کہا: "مما تحبون" یہ کیا ہے؟ تتمیم ہے، اور تتمیم قسم کس کی ہے؟ اطناب کی، اور اطناب کہتے کس کو ہیں جو اصل مراد پر زائد ہو، تو یہ تو اصل مراد پر زائد ہی نہ ہوا۔ اصل مراد پر... کیونکہ اس کے بغیر معنی ہی... تم نے کامل نیکی نہیں پا سکتے جب تک کہ خرچ نہ کرو۔ صرف خرچ کرنا مراد ہے یا پسندیدہ چیز کا خرچ کرنا؟ پسندیدہ۔ تو معلوم ہوا معنی اس کے بغیر پورا ہی نہیں، پھر آپ اس کو اطناب میں کیوں داخل کر رہے ہیں؟ اس کو تو مساوات میں داخل ہونا چاہیے، کیونکہ یہ تو اصل مراد ہے، بھئی۔ کہتے ہیں بھئی، یہاں دراصل دو رخ ہیں اس چیز کے: ایک ہے مطلقِ انفاق، ایک ہے انفاقِ مما تحبون، بھئی، پسندیدہ چیز کا انفاق، بھئی۔ تو مطلقِ انفاق گویا کہ وہ اصل مراد ہوا اور "مما تحبون" کیا ہوا؟ زائد ہوا، کیا ہوا؟ زائد ہوا، زائد نکتہ ہوا۔ اور یہ نکتہ ایسا ہے جس کا ادراک صرف بلیغ ہی کر سکتا ہے، مولانا، ہر ایک کو اس کا پتہ... تو ثواب تو انفاق کے اندر بھی ہے لیکن جس درجے کا ثواب پسندیدہ چیز کے خرچ کرنے میں ہے وہ عام انفاق کے اندر نہیں ہے۔ تو اس میں اشارہ اس بات... اسی بات کی طرف، مولانا، کہ جو عام انفاق کرو اس میں بھی کیا ہے؟ ثواب ہے، لیکن پسندیدہ چیز کے خرچ کرنے میں جو ثواب ہے وہ عام چیز کے خرچ کرنے میں نہیں ہے، مولانا۔ معلوم ہوا کہ کسی چیز کا مقصود ہونا متکلم کے لیے کلام کے اندر، یہ اس کے متنَب... اطناب ہونے کے منافی نہیں ہے، مولانا۔ جیسے یہاں پر یہ مقصود بھی ہے، مولانا، مقصود بھی ہے لیکن اس کے باوجود اس کو کس میں داخل کیا علماء نے؟ اطناب میں داخل کیا، بھئی۔ تو اطناب کا تتمیم، مولانا، اس کا نکتہ کبھی مبالغہ ہو گا، جیسے: "ویطعمون الطعام علی حبه مسکینا..." اچھا، تو یہ "علی حبه" یہ کیا ہے؟ تتمیم ہے، مولانا، اور اس کو مبالغے کے لیے بڑھایا گیا، بھئی۔ وہ کھانا کھلاتے ہیں، کھانا کھلانا، مولانا، غریب و مسکین کو، یہ کیا ہے؟ نیکی کا کام ہے، بھئی، کیا ہے؟ یہ بھی محمود چیز ہے ایک، لیکن "علی حبه" کے ساتھ ذکر کیا، بھئی، "علی حبه"۔ یہ "حبه" کی ضمیر راجع ہے طعام کو، یعنی ساتھ کھانے کی محبت بھی ہوتی ہے انہیں اور اس کی احتیاج بھی ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایسے لوگ ہیں جو غریب کو، مسکین کو کھانا کھلاتے ہیں باوجود اس کے کہ انہیں خود بھی کھانے کی طلب ہوتی ہے اور حاجت ہوتی ہے، لیکن اپنی حاجت پر ترجیح دیتے ہیں اور دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں، یعنی ایثار کرتے ہیں، مولانا۔ تو دیکھیے، کھانا کھلانا "یطعمون الطعام"، اس کے اندر مدح آ چکی تھی، مولانا۔ مدح آ گئی، دوسرے مسکین کو کھانا کھلاتے ہیں تو یہ کیا ہے؟ محمود کام ہے، مدح ہو گئی، لیکن اس مدح میں مزید مبالغہ پیدا کیا گیا کس کے ساتھ؟ "علی حبه"۔ دیکھیے، ایک کھلانا ہے جس میں آپ کو خود حاجت نہیں، بھئی، آپ پیٹ بھر کر کھا چکے ہیں، ایک وہ کہ کھانا تیار پڑا ہے، آپ کو بھی بھوک لگی ہے اور پھر کوئی مسکین آتا ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ اس کو دے دیتے ہیں، تو کون سا اعلیٰ ہوا؟ جس میں خود آدمی کو احتیاج ہو اور پھر دوسرے کو دے دے۔ تو یہ "علی حبه" کے ذریعے اس میں مبالغہ پیدا کیا گیا، بھئی۔ یہ "فی وجهٍ"، مولانا، ایک ترکیب یہ ہے، مولانا۔ دوسری ترکیب کے مطابق "علی حبه" کی ضمیر راجع ہے کس کو؟ ذاتِ باری تعالیٰ کو، اور اس صورت میں یہ اصل مراد ہی ہو گا اور مراد اخلاص ہو گا۔ وہ کھانا کھلاتے ہیں "علی حبه" اللہ کی محبت میں، یعنی اخلاص، خالص ان کی نیت کیا ہوتی ہے؟ اللہ کی رضا ہوتی ہے، کھانا کھلاتے ہیں۔ تو یہ اصل مراد ہی میں داخل، مولانا، اس لیے کہ بغیر اخلاص کے غریب کو کھانا کھلانا محمود نہیں ہے۔ یا مولانا، اعتراض ہم نے پڑھا۔ اعتراض کس کو کہتے تھے کہ اس میں چار شرطیں میں نے آپ کو بتلائی تھیں، بھئی۔ کہ کلام ایک جملے، ایک جملے یا ایک سے زائد جملوں کے بیچ میں لایا جائے، مولانا، جملہ اعتراضیہ کو۔ ایک جملے کو لایا جائے، بھئی، کس میں؟ اثناء کلام میں یا دو کلام ہیں جو متصل ہیں معنیً، ان کے درمیان، بھئی۔ اچھا، یا یوں کہیں: اعتراض یا جملہ ہو گا یا جملے سے زائد ہو گا، یا دو جملے ہوں گے یعنی یا تین جملے ہوں گے۔ نیز کلام کے درمیان ہو گا یا دو کلامین متصلین کے درمیان ہو گا۔ تیسری شرط تھی، ان کے لیے کوئی محل اعراب نہیں ہو گا۔ چوتھی شرط یہ تھی اس کے اندر کہ کسی نکتے کے لیے ہو گا، لیکن وہ نکتہ دفعِ ایہام نہیں ہو گا، وہم کو دور کرنا... اس کے علاوہ کوئی اور نکتہ ہو گا۔ جیسے تنزیہ ہے، مولانا، اللہ کے قول میں: "ویجعلون لله البنات" درمیان میں "سبحانه" یعنی "سبّحتُ سبحانَ"۔ سبحان اسم مصدر، علمِ مصدر ہے، مولانا، بمعنی کس کے؟ تسبیح کے معنی میں، تسبیح کے۔ "سبحانه ولهم..." تو یہاں تنزیہ، پاکی بیان کرنا مقصد ہے، مولانا۔ "ولهم ما یشتهون"، اس کا عطف ہو رہا ہے "لله البنات" پر، تو دو متصل... ایک کلام کے بیچ میں، مولانا، کیا ذکر کیا گیا؟ "سبحانه" جملہ معترضہ۔ یا دعا کے لیے لایا جاتا ہے، جیسے: "إن الثمانین وبلغتها"، کہ "وبلغتها" تو بھی پہنچایا جائے اسی سال کی عمر تک، یعنی دعا دے رہا ہے۔ اور اس کے شروع میں کہتے ہیں جو "واؤ" آتا ہے، یہ واؤ کیا ہوتا ہے؟ اس کو واؤ اعتراضیہ کہتے ہیں، نہ یہ عاطفہ ہے اور نہ حالیہ ہے۔ "والتنبیه"، اور کبھی، مولانا، جملہ معترضہ لانے میں نکتہ تنبیہ کرنا ہوتا ہے، جیسے: "واعلم" جان لے تو، کیا جان لے؟ آگے آ رہا ہے: "أن سوف یأتی کل ما قدرا"۔ تو درمیان میں، مولانا، دیکھیے: "واعلم" جان لے تو، "أن" یہ مخففہ من المثقلہ ہے، اصل میں ہے "أنه سوف"۔ شان یہ ہے کہ عنقریب "یأتی" آ جائے گا "کل ما" ہر وہ چیز "قدرا" جو کیا ہے؟ جو مقدر کی گئی ہے، الف اشباع کے لیے بڑھایا گیا، آواز کو لمبا کرنے کے لیے، بھئی۔ عنقریب... جان لے تو، عنقریب وہ چیز جو مقدر میں ہے وہ آ جائے گی، بھئی۔ اور درمیان میں کہا: "فإن علم المرء ینفعه"، پس آدمی کا علم اس کو کیا کرتا ہے؟ نفع... تو جان لے! اب دیکھو، درمیان میں حکم کیا دے رہا ہے؟ جان لے! درمیان میں تنبیہ کر دی، بھئی، کہ یہ اس... علم آدمی کو کیا کرتا ہے؟ نفع دیتا ہے، تو جس چیز کا امر کر رہا تھا اسی پر تنبیہ کر دی، بھئی۔ اور آگے مفعول آیا: "أن سوف یأتی کل ما..."، "أن" ہی المخففة من المثقلة، یہ مخففہ من المثقلہ ہے، "وضمیر الشأن محذوف"، اور ضمیرِ شان کیا ہے؟ جب بھی "أن" مخففہ من المثقلہ ہو گا، "أنّ" کو کبھی کیا کرتے ہیں؟ "أن"، مولانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مخففہ من المثقلہ، اور اس کا اسم محذوف ہوتا ہے ضمیرِ شان، بھئی: "أنه"۔ اور اس کے بعد پھر فعل متصرف آ جائے تو، مولانا، سوف، سین، قد وغیرہ سے فاصلہ لانا واجب ہوتا ہے، فعل متصرف نہ ہو تو پھر ضروری نہیں، بھئی۔ جی، یعنی "أن المقدر آت البتة"، مقدر جو ہے آنے ہی والا ہے قطعی طور پر، وہ چیز جو مقدر کر دی گئی ہے وہ آنے والی ہے قطعی طور پر، "وإن وقع فیه تأخیر ما" اگرچہ اس میں کچھ تاخیر ہی واقع ہو جائے، بھئی۔ "وفی هذا تسلیة وتسهیل للأمر"، اور اس کے اندر تسلی ہے، مولانا، اور معاملے کا آسان کرنا ہے، بھئی۔ یعنی یہ بتلایا گیا ہے، بھئی، انسان کو، اے انسان! جو انسان کے مقدر میں ہوتا ہے وہ چیز ہو کر ہی رہتی ہے، جو اللہ نے ایک مرتبہ فیصلہ فرما دیا ہے وہ ٹل نہیں سکتا، اور جو چیز نہیں ہونے والی وہ کبھی بھی نہیں ہو گی، تو انسان کو تسلی ہو جاتی ہے، بھئی، کیا ہوتی ہے؟ تسلی ہو جاتی ہے کہ بھئی، جو چیز میری... جس... جو برائی میرے مقدر میں نہیں، جو تکلیف، وہ مجھ تک کبھی بھی نہیں پہنچ سکتی، اور جو آنی ہے وہ آئے گی، اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ "فالاعتراض یباین التتمیم"، اب یہاں سے بتلا رہے ہیں اعتراض کا فرق، بھئی۔ اعتراض کہتے ہیں مباین ہے تتمیم سے، "لأنه إنما یکون بفضلة"، اس لیے کہ تتمیم اب... تتمیم کس کے ساتھ ہوتی ہے ہمیشہ؟ ابھی بتایا، فضلہ ہو گی، زائد... حال وغیرہ ہو گا۔ "والفضلة لا بد لها من إعراب"، اور فضلہ کے لیے ہمیشہ کیا ہو گا؟ اعراب ہو گا، اور حالانکہ جملہ معترضہ کے لیے "لا محل لها من الإعراب"، اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں، اور تتمیم کے لیے محل اعراب ہے، تو دونوں الگ ہو گئے۔ "ویباین التکمیل"، اور یہ اعتراض کس سے مخالف ہے؟ مباین ہے تکمیل سے بھی، "لأنه إنما یکون لدفع إیهام خلاف المقصود"، اس لیے کہ تکمیل کس لیے آتی تھی، مولانا؟ خلافِ مقصود کے وہم کو دور کرنے کے لیے، اور جملہ معترضہ اس لیے نہیں آتا، کیونکہ اس کی تعریف میں بتایا تھا: "لنکتة سوی دفع الإیهام"، دفعِ ایہام کے علاوہ کوئی نکتہ ہو گا۔ "ویباین الإیغال"، اور ایغال کے بھی منافی ہے یہ، مولانا، "لأنه لا یکون إلا فی آخر الکلام"، اس لیے کہ ایغال نہیں ہو گا مگر آخرِ کلام کے اندر۔ ایغال کہاں بتلایا تھا آپ کو، بھئی؟ شعر کے آخر میں یا نثر کے آخر میں آئے گا بعضوں کے قول کے مطابق، جبکہ ضمیر... یہ اعتراض بتلایا کلام کے بیچ میں یا دو کلاموں کے بیچ میں آئے گا، آخر میں نہیں آئے گا۔ "لکنه یشمل بعض صور التذییل"، لیکن یہ شامل ہے، مولانا، تذییل کی بعض صورتوں کو، "وهو ما یکون بجملة لا محل لها من الإعراب"، اور وہ صورت ہے تذییل کی جو جملے کے ساتھ ہو اور "لا محل لها من الإعراب" اس کا کوئی محل اعراب بھی نہ ہو، "وقعت بین جملتین متصلتین معنی"، اور واقع ہو دو ایسے جملوں کے درمیان جو متصل ہوں معنوی اعتبار سے۔ معنوی اعتبار سے یعنی پہلا... ثانی اول کے لیے بیان ہو یا تاکید ہو یا بدل وغیرہ ہو، بھئی۔ تو بھئی، انہوں نے کیا بتلایا؟ تذییل کی بعض صورتوں میں کیا ہوتی ہے؟ جملہ، اور کس کے درمیان آتی ہے؟ دو کلامین متصلین، اور اس کا کوئی محل اعراب بھی... اور یہی شرطیں کس کے اندر ہیں؟ اعتراض میں بھی ہیں، تو یہ تکمیل... تذییل کی بعض صورتیں کس میں داخل ہو گئیں؟ اعتراض میں داخل ہو گئیں۔ "لأنه کما لم یشترط فی التذییل أن یکون بین کلامین لم یشترط فیه أن لا یکون بین کلامین"، اس لیے کہ جیسے تذییل کے اندر یہ شرط نہیں لگائی گئی تھی کہ دو کلاموں کے بیچ میں ہو گا، بھئی، تذییل میں کیا بتایا تھا آپ کو؟ تذییل نکالو ذرا، بھئی، صفحہ 295 پر، بھئی، وسط میں۔ تذییل کہتے ہیں ایک جملے کے بعد دوسرا جملہ لانا کہ ثانی مشتمل ہو پہلے جملے کے معنی پر اور یہ کس لیے ذکر کیا جاتا ہے؟ تاکید کے لیے۔ تو یہاں پر کوئی یہ قید ذکر ہے کہ دو کلامین متصلین کے بیچ ہو گا یا نہیں ہو گا؟ نہیں، قید نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ ان کے... دو کلامین متصلین کے بیچ میں بھی آ سکتا ہے اور اس کے علاوہ میں بھی آ سکتا ہے۔ یہی بات کہہ رہے ہیں: "لأنه کما لم یشترط فی التذییل"، جیسے کہ شرط نہیں لگائی گئی تذییل کے اندر، "أن یکون بین کلامین" کہ یہ دو کلامین کے درمیان ہو گا، تو یہ شرط بھی نہیں لگائی گئی کہ دو کلامین کے درمیان نہیں ہو گا۔ ہونے کی شرط نہیں تو نہ ہونے کی شرط بھی نہیں، معلوم ہوا دونوں جگہ آ سکتا ہے۔ "فتأمل"، بھئی، یہاں، پس تو غور و فکر کر، "حتی یظهر لک"، یہاں تک کہ آپ کے لیے یہ بات ظاہر ہو... ظاہر ہو جائے، "فساد ما قیل"، فساد اس کا جو کہا گیا ہے: "إنه یباین التذییل"۔ بعضوں نے کہا، مولانا، کیا کہا؟ اعتراض مباین ہے تذییل کے، بنا بر اس کے "أنه لم یشترط فیه" کہ تذییل کے اندر شرط نہیں لگائی گئی "أن یکون بین کلام أو کلامین متصلین" کہ وہ ایک کلام کے بیچ میں آئے گا یا دو کلامین متصلین کے۔ بھئی، اعتراض میں کیا شرط لگائی تھی کہ یہ کلام کے بیچ میں آئے گا یا دو کلامین متصلین کے؟ اور یہ شرط چونکہ تذییل میں نہیں ہے، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کے کیا ہوئے؟ مباین ہوئے۔ علامہ تفتازانی اس کو رد کر رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی، قید نہ لگانے سے اس کا نہ ہونا بھی ضروری نہیں، جب قید نہیں ہے تو معلوم ہوا ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی، لہٰذا آپ کی یہ علت ذکر کرنا صحیح نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ مباین نہیں بلکہ بعض صورتوں میں جمع ہو جائیں گے۔ "ومما جاء من الاعتراض الذی وقع بین کلامین"، اور بھئی، "ما" سے کیا... "ما" سے کیا مراد ہے؟ ما کا مدلول کیا ہے؟ اعتراض۔ "مما جاء"، آگے اس کی تفصیل کر رہے ہیں: "من الاعتراض"، بھئی، یعنی ما کا مدلول کیا ہے؟ اعتراض۔ اور "جاء"، جاء بمعنی وقعَ کے ہے، بھئی۔ اور یعنی کہ وہ اعتراض جو واقع ہوا ہو دو ایسے کلامین، دو کلامین کے درمیان، "وهو أکثر من جملة"، اس حال میں کہ وہ اعتراض کیا ہو؟ اکثر من جملہ ہو، وہ بھی اکثر من جملہ ہو۔ بھئی دیکھو، اعتراض کیا کہا تھا؟ اعتراض میں بتلایا تھا جملہ معترضہ وہ اعتراض ایک جملہ بھی ہو سکتا ہے اور اکثر من الجملہ یعنی دو یا تین جملے بھی ہو سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں اب اس کی مثال ذکر کرنے لگے ہیں، پہلے ایک ایک مثال، ایک ایک جملے کی مثال ذکر کی، بھئی، ایک ایک جملہ بیچ میں آیا تھا، اب ذکر کریں گے دو جملے آئیں گے درمیان میں، مولانا۔ اور کس کے بیچ میں آئیں گے؟ کلامین متصلین کے درمیان، یعنی جیسے کہتے ہیں یہ اعتراض اکثر من الجملہ ہے، کتنے جملے ہیں؟ دو جملے، کتنے؟ دو، اسی طرح یہ جن کے بیچ میں آ رہا ہے وہ بھی ایک کلام نہیں ہے بلکہ وہ بھی کتنے جملے ہیں؟ دو جملے ہیں۔ یہی بات کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی: کہ وہ اعتراض جو واقع ہو دو کلامین کے درمیان اس حال میں کہ وہ اعتراض بھی اکثر من الجملہ ہو، جیسے کہ یہ "بھی" کا لفظ اسی لیے بڑھایا نا؟ اسی لیے بڑھایا کہ جس کے بیچ میں واقع ہو رہا ہے وہ بھی آپس میں کیا ہیں؟ دو کلام ہیں، تو یہ بھی کتنے جملے ہیں؟ دو جملے ہیں۔ "أي کما أن الواقع هو بینه أکثر من جملة"، جیسے کہ الواقع، واقع سے مراد ہے، مولانا، الکلام الواقع، کیا مراد ہے؟ الکلام الواقع، الف لام عہدی ہے، مولانا، یا موصوف یہاں محذوف نکالیں: "أن الکلام الواقعَ"۔ اور یہ "هو" جو ضمیر ہے، یہ واقع کا فاعل ہے، مولانا۔ واقع کا کیا ہے؟ فاعل ہے، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے جیسے فعل فاعل چاہتا ہے، اسم فاعل بھی... اور وہ عموماً اس کے اندر کیا ہوتی ہے؟ ضمیر ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھار صفات آپ نے پڑھی ہیں دو قسم کی ہیں، مولانا: صفت بحالہٖ اور صفت بحال متعلقہٖ۔ بھئی: "جاءنی زیدٌ العالمُ"، آیا میرے پاس ایسا زید جو کیا ہے؟ عالم، تو یہ علم کس کے اندر ہے؟ زید میں، تو اس کو کہتے ہیں صفت بحالہٖ، اور کبھی صفت بحال متعلقہٖ: "جاءنی زیدٌ العالمُ أبوه"، آیا میرے پاس ایسا زید کہ عالم ہے اس کا باپ، تو یہ علم زید میں ہے یا زید کے متعلق میں ہے؟ متعلق میں، تو اس کو صفت بحال متعلقہٖ۔ تو جب صفت بحال متعلقہٖ ہو تو فاعل کو ظاہر کرنا ضروری ہے، مولانا، تو یہاں پر بھی اس کو کیا کیا گیا ہے؟ ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ صفت بحال متعلقہٖ ہے، مولانا۔ کلام لفظوں میں صفت ہے کلام کی، لفظوں میں کس کی صفت ہے؟ الکلام الواقع نکالا نا، تو کلام موصوف اور الواقع صفت، لیکن معنی کے اعتبار سے صفت ہے کس کی؟ "هو"، ہوا اعتراض، یعنی ہوا ضمیر راجع ہے اعتراض کو، اعتراض کی صفت ہے۔ جیسے کہ وہ کلام کہ واقع ہو اعتراض اس کے درمیان میں، اکثر من جملۃ، وہ کیا ہو؟ جملے سے زائد ہو۔ تو جیسے وہ اعتراض... جیسے کہ وہ کلام جملے سے زائد ہے، اسی طرح وہ اعتراض بھی کیا ہے؟ جملے سے زائد ہے۔ قولہ تعالیٰ، اچھا جی۔ قولہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کا قول: "فأتوهن من حیث أمرکم الله"، پس آؤ تم اپنی بیویوں کے پاس اس جگہ سے جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، "إن الله یحب التوابین"، یقیناً اللہ محبت کرتے ہیں توبہ رکھنے والوں سے، "ویحب المتطهرین"، اور محبت رکھتے ہیں کس سے؟ پاک رہنے والوں سے۔ تو دیکھو: "إن الله یحب التوابین ویحب المتطهرین"، یہ جملہ اعتراضیہ ہے۔ "فهذا اعتراض"، یہ اعتراض ہے، "أکثر من جملة"، یہ جملے سے زائد ہے، "لأنه کلام یشتمل علی جملتین"، یہ ایسا کلام ہے جو مشتمل ہے دو جملوں پر، "وقع بین کلامین"، جو کس کے درمیان واقع ہیں؟ دو کلاموں کے بیچ میں۔ "أولهما"، وہ دو کلام ان میں سے پہلا ہے یہ قول، بھئی: "فأتوهن من حیث أمرکم الله"، "وثانيهما"، اور ان میں سے دوسرا یہ قول ہے، مولانا: "نساؤکم حرث لکم"، تمہاری بیویاں کیا ہیں؟ تمہاری کھیتیاں ہیں۔ جی، تو دیکھو: "فأتوهن من حیث أمرکم الله، نساؤکم حرث لکم"، تو یہ دو جملے ہیں، اتصال ہے، مولانا، اس لیے کہ ثانی بیان ہے۔ آؤ بیویوں کے پاس وہاں سے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے... جہاں تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے، اور آگے بیان کیا کہ تمہاری بیویاں تمہاری کیا ہیں؟ کھیتیاں ہیں، معلوم ہوا ان کے پاس اتیان بھی موضعِ حرث میں ہو گا، کس میں ہو گا؟ موضعِ حرث میں ہو گا۔ "والکلامان متصلان معنی"، اور یہ دونوں کلام متصل ہیں معنوی طور پر، "فإن قوله: نساؤکم حرث لکم بیان لقوله: فأتوهن من حیث أمرکم الله"، اس لیے کہ اللہ کا یہ قول "نساؤکم حرث لکم" بیان ہے اللہ کے اس قول کے لیے "فأتوهن من حیث أمرکم الله"، "وهو مکان الحرث"، اور وہ کیا ہے، مولانا؟ مکانِ حرث ہے۔ "فإن الغرض الأصلی من الإتیان"، اس لیے کہ غرضِ اصلی آنے سے، جی، "طلب النسل"، وہ کیا ہے؟ نسل کا طلب کرنا ہے۔ بیوی کے پاس آنے کا اصل مقصد کیا ہے؟ نسل کا طلب کرنا تاکہ انسان کی نسل جاری رہے، باقی رہے۔ "لا قضاء الشهوة"، غرضِ اصلی قضائے شہوت نہیں، تو غرضِ اصلی ہے اولاد کا حصول، مولانا، البتہ اس کے لیے شہوت پیدا کر دی گئی، بھئی، اس کے لیے شہوت پیدا کر دی گئی تاکہ نسل باقی رہے، بھئی۔ "والنکتة فی هذا الاعتراض الترغیب فیما أمروا به"، اور نکتہ اس اعتراض کے اندر ترغیب دینا ہے اس چیز کی جس کا حکم دیا گیا، "والتنفیر عما نهوا عنه"، اور متنفر کرنا ہے اس چیز سے جس سے روکا گیا ہے۔ تو یہ درمیان میں کیوں ذکر کیا گیا، بھئی؟ آؤ اپنی بیویوں کے پاس جہاں سے اللہ نے حکم دیا گیا... حکم دیا ہے، تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، معلوم ہوا ان کے پاس قُبل میں آنا جائز ہے، دُبر میں آنا جائز نہیں۔ اور جس چیز کا حکم دیا گیا اس کی ترغیب دینے کے لیے اور جس سے منع کیا گیا اس سے متنفر کرنے کے لیے درمیان میں اللہ نے فرمایا: "إن الله یحب التوابین ویحب المتطهرین" کہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ "وقال قوم"، بعض علماء نے یہ کہا: "وقد یکون النکتة فیه"، ای فی الاعتراض، جی، "غیر ما ذکر"، کبھی کبھار نکتہ اس کے اندر اعتراض میں کیا ہو گا؟ علاوہ اس کے ہو گا جو ذکر کیا گیا۔ بھئی، کیا نکتہ انہوں نے ذکر کیا تھا؟ جی؟ دفعِ ایہام کے علاوہ۔ انہوں نے نکتہ ذکر کیا تھا، بھئی، اعتراض ہمیشہ دفعِ ایہام کے علاوہ کے لیے ہو گا۔ کس کے لیے ہو گا؟ دفعِ ایہام کے علاوہ، تو دو چیزیں ہیں: یہ ہے، مولانا، دفعِ ایہام اور یہ ہے دفعِ ایہام کے علاوہ۔ تو ہمیشہ اعتراض کس لیے آئے گا؟ اس کے لیے آئے گا جو دفعِ ایہام کے علاوہ ہو۔ بعضوں نے کہا اس دفعِ ایہام... "غیر ما ذکر"، یہ مذکور کے علاوہ کے لیے بھی اعتراض آئے گا، اور مذکور کے علاوہ کیا ہے؟ دفعِ ایہام، وہ کیا ہے؟ دفعِ ایہام۔ تو "غیر ما ذکر"، یہ من بیان ہے، مولانا، "مما سوی دفع الإیهام"۔ مذکور کیا تھا، مولانا؟ "ما سوی دفع الإیهام" مذکور تھا، تو دفعِ ایہام کے علاوہ، یہ کیا تھی؟ دفعِ ایہام کے علاوہ، اس کا غیر، مولانا، تو نفی پر نفی داخل ہوئی۔ ایک میں بھی علاوہ ہے، نفی ہے، دوسرے میں پھر غیر آ رہا ہے، تو نفی پر نفی داخل ہو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا۔ معلوم ہوا دفعِ ایہام کے لیے آئے گا کبھی۔ "حتی أنه قد یکون لدفع إیهام خلاف المقصود"، کبھی کبھار اعتراض آئے گا دفعِ ایہام کے لیے، جو دفعِ ایہامِ خلافِ مقصود، خلافِ مقصود کے ایہام کو دور کرنے کے لیے۔ "ثم القائلون بأن النکتة فیه"، پھر یہ جو قائلین ہیں کہ جو یہ کہنے والے ہیں کہ نکتہ کیا ہے اس کے اندر؟ کبھی کبھار دفعِ ایہام ہوتا ہے۔ پہلے قائلین نے کیا کہا تھا؟ نکتہ ہمیشہ کیا ہو گا، بھئی؟ غیرِ دفعِ ایہام ہو گا۔ یہ بعض علماء نے کیا کہا؟ نکتہ دفعِ ایہام بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ جنہوں نے کہا نکتہ دفعِ ایہام بھی ہو سکتا ہے، پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا، بھئی، جدا ہوئے ہیں یہ فرقین، دو گروہوں میں۔ "جوز بعضهم وقوعه"، بعضوں نے جائز قرار دیا ہے وقوع الاعتراض، اعتراض کے واقع ہونے کو، "آخر جملة لا یلیها جملة متصلة بها"، کہاں پر؟ جملے کے آخر میں، جس کے ساتھ کوئی اور جملہ ملا ہوا نہ ہو۔ بھئی، اس سے پہلے انہوں نے کیا کہا تھا؟ ہمیشہ کب آئے گا جملہ معترضہ؟ درمیانِ کلام میں آئے گا، آخرِ کلام میں نہیں آئے گا۔ لیکن بعضوں نے کہا یہ دفعِ ایہام کے لیے بھی آ سکتا ہے اور پھر ان میں سے بعض نے کہا کہ آخرِ کلام میں بھی آ سکتا ہے، ایسا کہ اس کے ساتھ کوئی اور جملہ متصل نہ ہو۔ اب، مولانا، اس کے ساتھ یہ آخر میں آیا، اس کے ساتھ کوئی جملہ متصل نہیں، دو صورتیں ہیں: یا تو سرے سے جملہ ہو ہی نہ آگے، یا آگے جملہ ہے تو لیکن اول کے ساتھ متصل نہیں ہے۔ "وذلک بأن تلی الجملة... بأن تلی الجملة جملة أخری"، کہ ملا ہوا ہو، مولانا، کیا؟ جملہ، ایک اور جملہ، ملا ہوا ہو وہ جملہ جس کے بعد کیا آ رہا ہے؟ اعتراض آ رہا ہے، ایک اور جملے کے ساتھ۔ بھئی، انہوں نے کیا کہا؟ وہ جملہ کسی اور جملے کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو، اس کی صورت بتلا رہے ہیں: "وذلک بأن لا تلی الجملة جملة أخری أصلاً"، اس کی دو صورتیں ہیں: یا تو جملہ آگے سرے سے ہو گا ہی نہیں، یا ہو گا تو لیکن ملا ہوا نہیں ہو گا۔ دیکھیے، یا تو ملا ہی وہ جملہ جس کے بعد اعتراض آ رہا ہے، وہ جملہٴ اخریٰ سے ملا ہی نہیں ہو گا سرے سے، "فیکون الاعتراض فی آخر الکلام"، تو اعتراض کہاں ہو جائے گا؟ آخر میں، آگے کوئی جملہ ہی نہیں ہے۔ "أو تلیها جملة أخری"، یا ملا ہو گا اس کے ساتھ کوئی اور جملہ۔ جی، "بأن لا تلی الجملةَ جملةٌ أخری"، بھئی، یوں پڑھیں اوپر بھی، بھئی: "بأن لا تلی الجملةَ جملةٌ أخری"، کہ وہ جملہ جس کے ساتھ... جس کے بعد کیا آ رہا ہے؟ جملہ معترضہ آ رہا ہے، اس جملے کے ساتھ کوئی اور جملہ ملا ہوا نہ ہو، اصلاً، ای قطعاً، سرے سے کوئی ملا ہی ہوا نہ ہو، "فیکون الاعتراض فی آخر الکلام"، تو جملہ معترضہ کہاں پر آ جائے گا؟ آخر میں، آگے کوئی جملہ ہی نہیں ہے۔ "أو تلیها جملة أخری"، یا اس جملہ... جو پہلا جملہ ہے اس کے ساتھ ایک اور جملہ ملا تو ہوا ہے، اس کے بعد... اس کے پیچھے آ تو رہا ہے، "غیر متصلة بها"، لیکن اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہے، "معنی"، معنوی اعتبار سے۔ صورت بھی سمجھ میں آئی یا نہیں، بھئی؟ دیکھو بھئی، یہ جملہ ہے، اس کے بعد آیا جملہ معترضہ آیا، مولانا۔ انہوں نے کہا کہ جملہ معترضہ کبھی کبھار کہاں آ سکتا ہے؟ کسی جملے کے آخر میں آ سکتا ہے، ایسا جملہ کہ اس کے ساتھ کوئی اور جملہ متصل نہ ہو۔ اس کی دو صورتیں ہیں: اعتراض آیا، آگے سرے سے جملہ ہی نہیں ہے، یا آگے جملہ تو ہے لیکن وہ اس جملے کے ساتھ متصل نہیں ہے۔ "وهذا اصطلاح مذکور فی مواضع من الکشاف"، اور یہ اصطلاح ہے جو مذکور ہے کئی جگہوں میں کشاف کے اندر۔ "فالاعتراض عند هؤلاء"، ان لوگوں کے نزدیک اعتراض جو ہے، "أن یؤتی فی أثناء الکلام"، کہ لایا جائے بیچ کلام کے اندر، "أو فی آخره"، یا کلام کے آخر میں بھی آ سکتا ہے، "أو بین کلامین متصلین"، یا آ سکتا ہے، مولانا، دو کلامین متصلین کے درمیان بھی، "أو غیر متصلین"، یا غیر متصلین۔ "بجملة أو أکثر"، ایک جملے کے ساتھ یا زیادہ کے ساتھ، "لا محل لها من الإعراب"، ایسا جملہ کہ جس کا کوئی محل اعراب بھی نہ ہو، "لنکتة"، نکتے کے... کسی نکتے کے لیے، "سواء کانت دفع الإیهام أو غیره"، برابر ہے کہ وہ دفعِ ایہام ہو یا غیرِ دفعِ ایہام ہو۔ "فیشمل الاعتراض"، اب تعریف بدل گئی، اب پھر بتائیں گے کون کون سی قسموں کو شامل ہے اعتراض اور کون سی قسموں کو شامل نہیں۔ "فیشمل الاعتراض بهذا التفسیر"، تو شامل ہو گا اعتراض اس تفسیر کی بنا پر، "التذییلَ"، کس کو شامل ہو گا؟ تذییل کو بھی، "مطلقاً"، بھئی، یعنی تذییل ساری کی ساری اس میں داخل ہو گئی، اس کی تمام صورتیں، بھئی۔ "لأنه یجب أن یکون بجملة"، اس لیے کہ تذییل میں کیا واجب تھا؟ جملہ ہونا، اور اعتراض جملہ بھی... اعتراض بھی کیا ہے؟ جملہ۔ نیز اس میں ہے "لا محل لها من الإعراب"، اس میں محل اعراب بھی نہیں تذییل میں، بھئی، یہ تو کوئی ذکر نہیں کیا مصنف نے کہ اس میں محل اعراب نہیں ہو گا، کہتے ہیں: "وإن لم یذکره المصنف"، اگرچہ مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا لیکن یہ قید اس کے اندر ملحوظ ہے، تذییل میں محل اعراب نہیں ہوتا۔ "وبعض صور التکمیل"، اور اسی طرح، مولانا، تکمیل کی بعض صورتوں کو بھی اب اعتراض شامل ہوا، "وهو ما یکون بجملة"، اور وہ کس کے ساتھ ہو؟ یعنی تکمیل کی بعض صورتیں وہ یہ ہیں، مولانا، کہ وہ جو جملے کے ساتھ ہو، ایسا جملہ "لا محل لها من الإعراب" جس کا کوئی محل اعراب بھی نہ ہو، "فإن التکمیل قد یکون بجملة وقد یکون بغیرها"، اس لیے کہ تکمیل کبھی جملے کے ساتھ آئے گی اور کبھی غیر جملہ، اور جملہ نہ ہو پھر تو اعتراض میں داخل نہیں، کیونکہ اعتراض کے لیے ضروری تھا کیا ہونا؟ جملہ ہونا۔ "وقد یکون بجملة وقد یکون بغیرها، والجملة التکمیلیة قد تکون ذات إعراب"، اور جملہ تکمیلیہ کبھی تو کیا ہو گا؟ اعراب والا ہو گا، "وقد لا تکون"، اور کبھی کبھار بغیر اعراب کے ہو گا، تو جب بغیر اعراب کے ہو گا تو داخل ہو جائے گا اعتراض میں۔ "لکنها تباین التتمیم"، لیکن یہ اعتراض جو ہے، مولانا، مباین ہے کس کے؟ تتمیم کے، "لأن الفضلة لا بد لها من الإعراب"، کیونکہ تتمیم تو نام تھا فضلے کا اور فضلے کے لیے اعراب کا ہونا ضروری ہے۔ "وقیل: لأنه لا یشترط..."، انہوں نے، بھئی، کیا کہا؟ اعتراض مباین ہو گا کس کے؟ تتمیم کے۔ علامہ تفتازانی نے کیا وجہ ذکر کی؟ کیونکہ تتمیم نام ہے فضلے کا اور فضلے کے لیے ہمیشہ کیا ہو گا؟ محل اعراب، اور اعتراض کے لیے ہمیشہ محل اعراب نہیں ہو گا، تو ایک چیز کے لیے محل اعراب ہو بھی اور نہ بھی ہو یہ نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا یہ دونوں آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔ تو بعضوں نے کہا، یہ تو علامہ تفتازانی نے وجہ بیان کی، کیونکہ تتمیم میں محل اعراب ہے اور اعتراض میں محل اعراب نہیں، یہ وجہ ہے تباین کی۔ بعضوں نے اور کہا۔ بعضوں نے کہا کہ تتمیم میں یہ شرط نہیں لگائی گئی کہ وہ جملہ ہو گا اور اعتراض تو ہمیشہ کیا ہے؟ اعتراض تو ہمیشہ جملہ ہو گا، اور تتمیم میں کیا شرط نہیں لگائی؟ جملہ ہونے کی۔ جب شرط نہیں لگائی تو لازمی بات ہے وہ جملہ بھی نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں بھئی، یہ درست نہیں، شرط نہ لگانے سے اس چیز کا نہ ہونا ضروری نہیں۔ جیسے، مولانا، حیوان کی تعریف کرتے ہیں، مولانا، حیوان کی کیا تعریف کرتے ہیں؟ "هو جسم نام حساس متحرک بالارادة"، جسم ہے، بڑھنے والا ہے، حساس ہے، متحرک بالارادہ ہے۔ بھئی، اس میں ناطق کا لفظ آیا؟ معلوم ہوا ناطق... اس کا تو یہ معنی ہوا اگر آپ کی بات لیں کہ حیوان کی تعریف میں ناطق چونکہ نہیں آیا لہٰذا حیوان کبھی بھی ناطق نہیں ہو گا۔ بھئی، ناطق کا لفظ نہیں آیا، معلوم ہوا ناطق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ تو جیسے انسان حیوان ہے وہ ناطق ہے اور انسان کے علاوہ کیا ہیں؟ غیر ناطق۔ تو کسی چیز کے ذکر نہ کرنے سے اس کا نہ ہونا ضروری نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اعتراض کر رہا ہے کوئی، جواب دے رہا ہے، مولانا: "وقیل: لأنه لا یشترط فی التتمیم أن یکون جملة"، اس لیے کہ یہ تباین کیوں ہے کہ تتمیم کا اعتراض سے تباین اس لیے ہے کہ تتمیم میں شرط نہیں لگائی گئی کہ وہ جملہ ہو، جیسے کہ شرط لگائی گئی تھی کس کے اندر؟ اعتراض میں۔ تو جب اس میں شرط نہیں لگائی گئی تو یہ کبھی بھی جملہ نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں: "وهو غلط"، علامہ تفتازانی کہہ رہے ہیں یہ غلط ہے، "کما یقال"، یہ تو اسی طرح ہے جیسے کہا جائے: "إن الإنسان یباین الحیوان"، انسان کیا ہے؟ حیوان کے مباین ہے۔ کیوں بھئی، مباین کیوں ہے، انسان تو حیوان ہے؟ کہتے ہیں: "لأنه لم یشترط فی الحیوان النطق"، اس لیے النطق... شرط نہیں لگائی گئی حیوان کے اندر، کس چیز کی؟ نطق کی شرط نہیں لگائی گئی، جب نہیں لگائی گئی تو اس حیوان کبھی بھی ناطق نہیں ہو گا۔ یہ بات درست نہیں معلوم، جب یہ بات درست نہیں تو آپ کی دلیل بھی غلط ہوئی۔ "فافهم"، بھئی، اس بات کو سمجھ لو۔ "وبعضهم"، ای وجوز بعض القائلین، اور بعض قائلین جو ہے انہوں نے جائز قرار دیا ہے: "بأن نکتة الاعتراض قد تکون دفع الإیهام"، کبھی کبھار نکتہ کیا ہو گا اعتراض کے اندر؟ دفعِ ایہام ہو گا۔ نہیں، وہ جو یہ کہنے والے تھے کہ نکتہ کبھی کیا ہو سکتا ہے؟ دفعِ ایہام بھی ہو سکتا ہے، انہوں نے جائز قرار دیا ہے کیا؟ "کونه"، ای کون الاعتراض، "غیر جملة"، کہ اعتراض جملے کے بغیر بھی ہو سکتا ہے، یعنی جملہ نہ ہو۔ ابھی تک تو ساری تعریفات کیا چل رہی تھیں، بھئی؟ جملہ ہو گا، اب انہی بعض قائلین، ان میں سے بعضوں نے کیا کہا؟ غیر جملہ بھی ہو سکتا ہے۔ "فالاعتراض عندهم"، ان کے نزدیک اعتراض کی یہ تعریف ہو گی: "أن یؤتی فی أثناء الکلام"، کہ اس لایا جائے، مولانا، کلام کے بیچ میں، "أو بین کلامین متصلین"، دو کلام متصل کے بیچ میں، دو ایسے کلاموں کے درمیان، متصلین معنیً، جو متصل ہوں معنوی لحاظ سے، کس کو لایا جائے؟ "بجملة"، ایک جملے کو، "أو غیرها"، یا غیر جملے کو۔ یعنی جملہ چاہے ہو یا جملہ نہ ہو، "لنکتة"، کسی... تو دیکھا، تعریف ہی ساری بدل گئی، "لنکتة ما"، کسی بھی نکتے کے لیے۔ "فیشمل الاعتراض بهذا التفسیر"، تو اعتراض شامل ہو گا اس تفسیر کی بنا پر، "بعض صور التتمیم وبعض صور التکمیل"، تتمیم کی بھی بعض صورتوں کو اور تکمیل کی بھی بعض صورتوں کو۔ اس لیے کہ تتمیم بھی، مولانا، فضلہ تھا، وہ بھی کبھی جملہ ہوتا تھا اور کبھی جملہ نہیں ہوتا تھا، اور تکمیل بھی، مولانا، آخر میں آتی تھی تو یہ بھی اسی طرح، کبھی جملہ... وہ جملہ... جی۔ "وهو ما یکون واقعاً فی أثناء الکلام"، بھئی، وہ بعض صورتیں تتمیم کی اور بعض صورتیں تکمیل کی جن کو اعتراض شامل ہے وہ یہ ہیں: "وهو ما یکون واقعاً"، وہ بعض ہیں جو واقع ہو جائیں "فی أثناء الکلام"، کہاں پر؟ کلام کے درمیان میں، "أو بین الکلامین المتصلین"، یا کہاں پر واقع ہو؟ دو کلامِ متصل کے بیچ میں، ان صورتوں کو یہ شامل ہو جائے گا۔ "وإما بغیر"، بس اعتراض کی بات ختم ہوئی، بڑی لمبی بحث کی مصنف نے اعتراض پر۔ اب کہتے ہیں: "وإما بغیر ذلک"، اس کا عطف کس پر ہے؟ عطف ہے علی قولہ: "إما بالإیضاح بعد الإبهام"، جہاں سے باب شروع ہوا تھا، فصل شروع ہوئی تھی اطناب کی۔ اطناب کی پہلی بات کیا بتلائی تھی، پہلی قسم؟ ایضاح بعد الابہام، بھئی، اسی پر یہ عطف ہے، بھئی۔ آپ کو آٹھ قسمیں بتائی تھیں اطناب کی، آٹھ قسمیں۔ کون کون سی، بھئی؟ ایضاح بعد الابہام، ذکرِ خاص بعد العام تھا، اور تکرار تھا، ایغال تھا، تکمیل تھی، تذییل تھی، تتمیم تھی اور اعتراض تھا۔ اور اب بتلا رہے ہیں کبھی ان کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے، ہم نے آٹھ قسمیں بتا دیں، انہی میں بند نہیں ہے اطناب، ان کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے۔ "کقوله تعالیٰ"، جیسے کہ اللہ کے اس قول کے اندر: "الذین یحملون العرش ومن حوله یسبحون بحمد ربهم ویؤمنون به"، وہ فرشتے جنہوں نے اٹھایا ہوا ہے اللہ کے عرش کو، "ومن حوله" اور جو عرش کے... جو اس کے گرد ہیں، "یسبحون بحمد ربهم" وہ تسبیح بیان کرتے ہیں، "بحمد ربهم" اپنے رب کی حمد کے ساتھ، تسبیح بھی بیان کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ حمد بھی، بھئی، "ویؤمنون به" اور اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ تو دیکھئے، وہ فرشتے جنہوں نے عرش اٹھایا ہوا ہے، عرش کے گرد ہیں، وہ رب کی تسبیح بھی کر رہے ہیں، تحمید بھی کر رہے ہیں، اور "ویؤمنون به"، یہ مولانا کلام... یہ اطناب ہے، یہ کیا ہے؟ اطناب ہے یہاں آ رہا ہے۔ بھئی، جب وہ انہوں نے عرش بھی اٹھایا ہوا ہے، تسبیح بھی بیان کرتے ہیں، حمد بھی کرتے ہیں، تو جو ان فرشتوں کو مانتا ہے وہ قطعی طور پر یہ بھی مانتا ہے کہ یہ فرشتے کیا کرتے ہیں؟ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، بھئی۔ "فإنه لو اختصر"، اس لیے کہ اگر اختصار کیا جاتا، اختصار کا کیا معنی تھا، بھئی؟ ترکِ اطناب گزرا، کیا معنی؟ ترکِ اطناب۔ تو یہاں اختصار کا معنی ایجاز نہ لیں آپ بلکہ مساوات ہے، تو مساوات پر اختصار کا اطلاق ہوا کیونکہ اس میں ترکِ اطناب ہو گا اور ترکِ اطناب شامل ہے مساوات کو بھی اور ایجاز کو بھی۔ ای ترک... "فإنه لو اختصر"، اگر اختصار کیا جاتا، ای ترک الاطناب، اطناب کو ترک کیا جاتا، "فإن الاختصار قد یطلق علی ما یعم الإیجاز والمساواة کما مر"، اس لیے کہ اختصار جو ہے تحقیق اس کا اطلاق کیا جاتا ہے ایسی چیز پر جو عام ہے، ایجاز کو بھی شامل ہے اور مساوات کو بھی، جیسے کہ گزر گئی، "لم یذکر"۔ "فإنه لو اختصر لم یذکر"، بھئی، تو پھر ذکر نہ کیا جاتا، کس کو ذکر نہ کیا جاتا؟ "ویؤمنون به"۔ "لأن إیمانهم لا ینکره"، اس لیے کہ ان کا ایمان جو ہے "لا ینکره من یثبتهم"، ان کے ایمان کا انکار نہیں کرتا جو ان کو ثابت کرتا ہے، جو ان فرشتوں کو ثابت کرتا ہے یعنی ان کو مانتا ہے وہ ان کے ایمان کا منکر نہیں ہے، "أي لا یجهله"، یہ، مولانا، "لا ینکره" کا معنی کر رہے ہیں علامہ تفتازانی، بھئی، انکار نہیں کرتا یعنی اس سے جاہل نہیں ہے، جاہل نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مرادی معنی کر رہے ہیں، یعنی عادت کے اعتبار سے جس چیز کا انسان کو... جس چیز سے انسان جاہل ہو اس کا انکار نہیں کرتا۔ "لم یذکر ویؤمنون به لأن إیمانهم لا ینکره"، ماتن نے "لا ینکره" کہا تھا، علامہ تفتازانی نے اس کا ترجمہ "لا یجهله" سے کیا، بھئی، کس سے کیا؟ "لا یجهله" سے۔ ماتن نے کہا تھا کیونکہ ایمان کا کوئی انکار نہیں کرتا، علامہ تفتازانی کہتے ہیں ایمان سے کوئی جاہل نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ ماتن نے کیا ذکر کیا؟ عدمِ انکار، اور بات ہو رہی ہے علم کی، کس کی ہو رہی ہے؟ علم کی۔ بھئی، یہ جملہ لایا گیا حالانکہ پہلے کلام سے علم ہے اس کا کہ یہ جو فرشتے ہیں وہ یقیناً کیا ہیں؟ اللہ پر... ہاں، پہلے سے علم ہے، تو "لا ینکره" عدمِ انکار مستلزمِ علم نہیں، مولانا۔ کسی چیز کا انکار نہ کرنا، اس کا یہ معنی ہوتا ہے کہ آدمی کو اس کا پتہ ہے؟ یہ ضروری تو نہیں، بھئی، انکار نہ کرنا علم کو مستلزم نہیں، بھئی۔ جی، ہاں، کبھی ہو سکتا ہے پتہ ہے پھر بھی انکار نہیں کر رہا، کبھی ہو سکتا ہے پتہ ہی نہیں، جب پتہ ہی نہیں تو انکار کس چیز کا، بھئی؟ تو عدمِ انکار مستلزمِ علم نہیں ہے۔ اسی لیے علامہ تفتازانی نے اس کا معنی "لا یجهله" کے ساتھ کیا اور عدمِ جہل مستلزمِ علم ہے، جب جہالت نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ علم ہے، بھئی۔ "فلا حاجة إلی الإخبار به"، لہٰذا کوئی حاجت نہیں اس کے خبر دینے کے لیے، "لکونه معلوماً"، اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ معلوم۔ تو یہ "ویؤمنون به" کی حاجت نہیں، بھئی، کیونکہ یہ چیز معلوم تھی، پھر ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟ کہتے ہیں: "وحسّن ذکره إظهار شرف الإیمان"، حسین کر دیا اس کے ذکر کو ایمان... شرفِ ایمانی کے اظہار نے، بھئی۔ ایمانی رتبے کا، ایمانی درجے کا یا ایمان کے بلند درجے کا اظہار، اس نے اس میں کیا پیدا کر دیا؟ حسن پیدا کر دیا۔ "ویؤمنون به"، بھئی، ایمان کا درجہ بڑا بلند ہے، ایمان، اور اس جملے سے اس کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ فرشتے ہیں، تسبیح بیان کرتے ہیں، حمد بیان کرتے ہیں، ایمان کا پہلے بھی پتہ تھا لیکن پھر صراحتاً بتلا دیا کہ ایمان کوئی معمولی چیز نہیں ہے، بہت عظیم چیز ہے، بھئی، "ویؤمنون به" اور وہ فرشتے کیا کرتے ہیں؟ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، بھئی۔ تو "إظهار شرف الإیمان"، ایمانی شرف... ایمانی شرافت کے اظہار نے حسین بنا دیا "ذکره"، اس جملے کے، اس قول کے ذکر کو "ویؤمنون به"۔ "وترغیباً فیه"، اور اس میں ترغیب دینے نے، اس کو ترغیب دینے کے لیے، سمجھ میں آیا، بھئی؟ "وکون هذا الإطناب بغیر ما ذکر من الوجوه السابقة ظاهر بالتأمل فیها"، اور اس اطناب کا سابقہ وجوہات میں سے نہ ہونا یہ ظاہر ہے غور و فکر کے ساتھ، اس میں غور و فکر کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔ "وکون هذا الإطناب"، اور اس اطناب کا ہونا، "بغیر ما ذکر"، علاوہ اس میں سے جس کو ذکر کیا گیا یعنی وجوہِ سابقہ، ان میں سے نہ ہونا اس اطناب کا، "ظاهر بالتأمل فیها"، یہ بات ان میں غور و فکر کرنے سے... یہ نہ اعتراض میں داخل ہے، نہ، مولانا، تتمیم، تکمیل، ایغال، کسی میں نہیں داخل۔ تو اسی لیے اس کو "وإما بغیر ذلک" کے ساتھ ذکر کیا۔ "واعلم أنه قد یوصف الکلام بالإیجاز والإطناب باعتبار قلة حروفه وکثرتها بالنسبة إلی کلام آخر مساوٍ له"، بھئی، یہ تو انہوں نے کیا... ابھی تک ایجاز، اطناب، بھئی... جی، یہ تو ایجاز، اطناب کا باب ختم ہونے والا ہے، مولانا۔ ایجاز اور اطناب کی یہ تو تعریف انہوں نے معنی کے اعتبار سے کی: لفظ معنی کے برابر ہوں تو مساوات، کم ہوں تو ایجاز، لفظ زیادہ ہوں تو اطناب۔ اب کبھی کہتے ہیں ایجاز اور اطناب معنی کے اعتبار سے نہیں، کسی دوسرے کلام کے اعتبار سے کہا جاتا ہے۔ مثلاً اس کلام کو دیکھیں، یہ ذرا اسی بات کو مختصر کر رہا ہے، یہ کلام ذرا اسی بات کو لمبے انداز میں کر رہا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ یہ متنَب ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ موجز ہے، مولانا۔ "واعلم أنه قد یوصف الکلام بالإیجاز والإطناب باعتبار قلة حروفه وکثرتها"، اور جان لو کبھی کبھار موصوف کیا جاتا ہے کلام کو ایجاز اور اطناب کے ساتھ، قلت اور کثرتِ حروف کے اعتبار سے، "بالنسبة إلی کلام آخر"، کسی دوسرے کلام کی نسبت سے، "مساوٍ له"، جو برابر ہو اس کلام کے، ای لذلک الکلام، جو اس کلام کے برابر ہو کس چیز میں، بھئی؟ "فی أصل المعنی"، کس میں؟ اصل معنی میں۔ یہ کلام بھی اسی معنی کے لیے آیا، یہ کلام بھی اسی معنی کے لیے آیا، البتہ ایک کے لفظ تھوڑے ہیں، ایک کے زیادہ ہیں۔ "فیقال للأکثر حروفاً"، پس اکثر حروف والے کے لیے کیا کہتے ہیں؟ "أنه مطنب"، "وللأقل"، اور اقل کے لیے؟ "أنه موجز"، کہ یہ موجز ہے۔ "کقوله"، جیسے شاعر کا یہ قول ہے: "یصد"، ای یعرض عن الدنیا، وہ منہ پھیرتا ہے یعنی اعراض کرتا ہے دنیا سے، "إذا عنّ"، ای ظهر سؤدد، جب ظاہر ہو جائے... "إذا عنّ"، ای ظہر، جب ظاہر ہو جائے، "سؤدد"، ای سیادة، سرداری۔ سؤدد، سیادت، ایک معنی، مولانا، سرداری۔ دیکھیے، ایک معنی کو ادا کرنا چاہتا ہے شاعر۔ معنی یہ کہ میرا ممدوح جو ہے وہ دنیا سے اعراض کرتا ہے کس کے مقابلے میں؟ ایک طرف سرداری ہے اور چاہے اس کے اندر مشقت ہی کیوں نہ ہو، دوسری طرف دنیا ہے، مال و دولت ہے، وہ کس کو ترجیح دیتا ہے؟ سرداری اور مشقت کو ترجیح دیتا ہے کس پر؟ مال اور ذلت پر، بھئی۔ تو وہ دنیا کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ سرداری کو ترجیح دیتا ہے۔ اب دیکھو "یصد"، دیکھو مصرعہ صرف اتنا ہے: "یصد عن الدنیا إذا عنّ سؤدد"، یہ ایک مصرعہ ہے، یہ کتنا ہے؟ ایک مصرعہ۔ اگلا پورا شعر، بھئی، اس معنی کو ادا کر رہا ہے: "ولست بنظار إلی جانب الغنی"، اور میں ہرگز دیکھنے والا نہیں ہوں، "إلی جانب الغنی"، کس کی طرف؟ دولت کی طرف، بھئی، "إذا کانت العلیا فی جانب الفقر"، جبکہ عزت کس کے اندر ہو؟ فقر کی جانب میں ہو۔ جب عزت مشقت اور فقر کی جانب میں ہو تو میں کس کی طرف نہیں دیکھتا؟ مالداری کی طرف میں آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا، جب عزت فقر کی جانب میں ہو اور میں عزت کو ترجیح دیتا ہوں۔ تو دیکھیے، ایک بات جو پہلے شاعر نے ایک مصرعے میں کہی تھی، دوسرے شاعر نے کس میں کہی؟ پورے شعر کے اندر کہی، تو کون سا کلام موجز ہوا؟ پہلا، اور ثانی کیا ہوا؟ متنَب ہوا۔ "یصد"، ای یعرض عن الدنیا إذا عنّ، ای ظهر سؤدد، جو اعراض کرتا ہے دنیا سے جب ظاہر ہو جائے سرداری، ای سیادة، "ولو برزت فی زي عذراء ناهد"، اگرچہ دنیا ظاہر ہو... اگرچہ وہ دنیا ظاہر ہو، "زي" کہتے ہیں، مولانا، کس کو؟ جی؟ ہیئت کو، حالت کو۔ "عذراء" کہتے ہیں باکرہ کو، مولانا، اور "ناهد" کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ ناہد کہتے ہیں وہ باکرہ... اچھا، جس کے پستان ابھرے ہوئے ہوں، بھئی۔ اچھا، "ولو برزت فی زي عذراء ناهد"، بتلانا یہ چاہتا ہے شاعر کہ میرا ممدوح دنیا سے اعراض کرتا ہے اور کس کی طرف جاتا ہے؟ سرداری کی طرف۔ عزت کو وہ ترجیح دیتا ہے اگرچہ دنیا اپنی حسین ترین صورت میں کیوں نہ اس کے سامنے آ جائے پھر بھی وہ اس کو ترجیح نہیں دیتا، جیسے کہ ایک باکرہ ابھرے ہوئے پستانوں والی، وہ محبوب ترین چیزوں میں سے ہے، اس صورت میں بھی اگر دنیا آ جائے وہ پھر بھی اس کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ کس کو ترجیح دیتا ہے؟ سرداری کو ترجیح دیتا ہے۔ اچھا جی، اب سارے بیزار ہو کے بیٹھ گئے ہیں۔ "الزي: الهیئة"، بھئی، زی کہتے ہیں ہیئت کو، "والعذراء: البکر"، عذراء کہتے ہیں البکر، باکرہ کو، "والنهود: ارتفاع الثدي"، اور نہود کس کو کہتے ہیں؟ پستان کا ابھرنا، بھئی۔ "وقوله"، اور شاعر کا یہ قول: "ولست بنظار إلی جانب الغنی"، اور میں دیکھنے والا نہیں ہوں مالداری کی جانب، "إذا کانت العلیا فی جانب الفقر"، جب عزت فقر کی جانب میں ہو۔ "فقوله: لست بالضم"، "لستُ" جو ہے ضمہ کے ساتھ ہے یعنی مخاطب کا صیغہ نہیں ہے بلکہ متکلم کا ہے، "علی أنه فعل المتکلم"، یہ متکلم کا فعل ہے، "بدلیل ما قبله"، ماقبل کی دلیل کے ساتھ، "وهو قوله"، اور وہ یہ شاعر کا قول ہے۔ بھئی، ماقبل کے شعر کے اندر متکلم کے صیغے آ رہے ہیں، معلوم ہوا "لستُ" بھی کون سا ہے؟ متکلم ہی کا ہے، اور وہ یہ ہے ماقبل میں شعر: "وإنی لصبار علی ما ینوبنی"، اور بیشک میں بڑا صبر کرنے والا ہوں اس پر جو مجھ پر مصیبت آئے، نابَ ینوب کا معنی قریب ہونا، مراد مصیبت کا آنا، میں بیشک صبر کرنے والا ہوں اس چیز پر جو مجھ پر مصیبت آئے، "وحسبک"، اور اے میرے نفس، تیرے لیے یہ بات کافی ہے، "أن الله أثنی علی الصبر"، کہ اللہ تعالیٰ نے بھی صبر کی تعریف کی ہے۔ دیکھیے، یہ شعر ذکر کیا صرف یہ بتلانے کے لیے کہ متکلم کا صیغہ ہے "لستُ"، بھئی، اگلے شعر میں۔ "یصفه"، یہ اپنے نفس کی صفت کا وصف بیان کرتا ہے، "بالميل"، کس کے ساتھ؟ "بالميل إلی المعالی"، بلندیوں کی طرف مائل ہونے کے ساتھ۔ "أي أن السیادة مع التعب أحب إلیه من الراحة"، یعنی سرداری تھکن کے ساتھ یہ زیادہ محبوب ہے مجھے کس سے؟ راحت سے، "مع الخمول"، وہ راحت جو گمنامی کے ساتھ ہو، خمول گمنامی، مولانا۔ تو وہ راحت جو گمنامی کے ساتھ ہو اس سے زیادہ پسندیدہ ہے وہ سرداری جو مشقت کے ساتھ ہو۔ "فهذا البیت إطناب"، تو یہ شعر جو ہے اس کے اندر، مولانا، اطناب ہے، "بالنسبة إلی المصراع السابق"، کس کی نسبت سے؟ ماقبل مصرعے کی نسبت سے، "ویقرب منه"، اور قریب ہے اسی قبیل کے۔ تو دیکھیے، مولانا، دونوں اشعار میں ایک ہی معنی بیان کیا گیا لیکن اول موجز ہے اور ثانی متنَب۔ "ویقرب منه"، اور قریب ہے اسی قبیل کے، قولہ تعالیٰ، اللہ کا یہ قول: "لا یسأل عما یفعل وهم یسألون"، اللہ تعالیٰ سے، "لا یسأل عما یفعل"، پوچھا نہیں جاتا جو وہ... "وهم یسألون"، اور ان سے... وہ پوچھے جائیں گے۔ "وقول الحماسی"، اور حماسی شاعر کا یہ قول، مولانا: "وننکر إن شئنا علی الناس قولهم"، اور اگر ہم چاہیں تو انکار کر دیں لوگوں پر ان کے قول کا، "ولا ینکرون القول حین نقول"، اور وہ انکار نہیں کرتے ہمارے قول کا جب ہم کہتے ہیں۔ تو دیکھیے، اللہ کا... اس آیت کے اندر کہ اللہ سے کسی چیز کا سوال نہیں ہو سکتا لیکن اللہ کیا کریں گے؟ مخلوق سے ہر چیز کا سوال کریں گے، بھئی، ان سے پوچھا جائے گا۔ تو اللہ اپنی قدرت بتلا رہے ہیں، مولانا۔ اسی طرح یہ شاعر بھی اپنے غلبے کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ ہمیں اللہ نے اتنی قوت دی ہے، اتنا غلبہ دیا ہے باقی قوموں کے سامنے، ہماری... باقی قوموں کی ہمارے سامنے یہ حالت ہے کہ ہم کوئی بات کر دیں تو وہ چوں چرا نہیں کر سکتے، ہماری کسی بات کو رد نہیں کر سکتے، لیکن وہ کچھ کلام کریں تو ہم جس کو چاہیں رد کر دیں، ہماری مرضی ہے، بھئی۔ تو یہ معنی ہے: "ننکر إن شئنا"، چاہیں تو انکار کر دیں ہم، "علی الناس قولهم"، بھئی، ان کے قول کا انکار کر دیں، "ولا ینکرون القول حین نقول"، اور وہ انکار نہیں کرتے ہمارے قول کا جب ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم قول کرتے ہیں کوئی۔ "یصف ریاستهم وإنفاذ حکمهم"، شاعر تعریف کرتا ہے اپنی حکومت کی اور اپنے حکم کے نفوذ کی، "أي نحن نغیر ما نرید من قول غیرنا"، ہم جو ہیں بدل دیتے ہیں جو چاہتے ہیں غیر کے قول کو، ہمارے علاوہ کے... جس میں سے جس کے قول کو چاہیں ہم بدل دیتے ہیں، "وأحد لا یجترئ علی الاعتراض علینا"، اور کوئی ایک بھی جرات نہیں کر سکتا ہم پر اعتراض کرنے کی۔ تو دیکھیے، مولانا، آیت میں جو لفظ... بات چھوٹی سی، چند لفظوں میں کہی گئی تھی، وہ کس کے اندر؟ شعر کے اندر، شعر کے اندر بڑی طویل کی گئی، تو آیت موجز ہوئی اور شعر کیا ہوا؟ متنَب ہوا۔ "فالآیة إیجاز بالنسبة إلی البیت"، آیت جو ہے ایجاز ہے، مولانا، شعر کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ بھئی، پیچھے دیکھیے متن میں، پچھلے میں مصنف نے کہا تھا، دو شعروں کو ذکر کیا، وہاں "یقرب" کا لفظ ذکر نہیں کیا، آگے نیچے جب آیت ذکر کرنے لگے تو کہتے ہیں: "ویقرب منه"، اس کے قریب ہے۔ کہتے ہیں یہ "یقرب" کا لفظ کیوں بڑھایا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ دونوں اصل معنی میں کیا ہونے چاہئیں؟ برابر ہونے چاہئیں، اور حالانکہ شعر اور یہ آیت معنی کے اعتبار سے برابر نہیں، کیونکہ آیت کے اندر لفظ آیا ہے "یفعل"، فعل کا ذکر آیا ہے کہ جو بھی فعل کریں اس کے بارے میں مخلوق سے سوال کیا جائے گا، جب... اور وہ فعل عام ہے، مولانا، کلام کو بھی شامل ہے اور غیر کلام کو بھی، جبکہ شعر کے اندر صرف قول کا ذکر ہے، بھئی۔ شعر کے اندر صرف قول کا، تو آیت میں فعل کا ذکر، اور فعل شامل ہے قول کو بھی اور باقی تمام افعال کو بھی، جبکہ شعر میں صرف قول، اور کس میں مبالغہ زیادہ ہے، بھئی؟ پہلے میں، فعل کہ کسی فعل کے بارے میں اللہ سے نہیں پوچھا جا سکتا اور مخلوق سے اللہ تعالیٰ پوچھیں گے، بھئی۔ "وإنما قال: یقرب"، اور "یقرب" ماتن نے کہا، "لأن ما فی الآیة یشتمل علی کل فعل"، اس لیے کہ وہ چیز جو آیت کے اندر تھی وہ مشتمل تھی ہر فعل پر، "والبیت خاص بالقول"، اور بیت جو شعر تھا خاص تھا قول کے ساتھ، "فالکلامان لا یتساویان فی أصل المعنی"، پس دونوں کلام برابر نہیں ہیں اصل معنی کے اندر، "بل کلام الله سبحانه وتعالی أجل وأعلی، وکیف لا؟ والله أعلم"، بلکہ اللہ کا کلام جو ہے وہ اجل ہے، اعظم ہے، مولانا، اعلیٰ، بلند ہے، اور کیسے اللہ کا کلام اجل و اعلیٰ نہ ہو؟ واللہ اعلم، اور اللہ کیا ہیں؟ خوب جاننے والے ہیں، سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ جی، تو دیکھیے، مولانا، مصنف نے کمال کیا، بھئی۔ فنِ اول کو ختم کر رہے ہیں اور ختم کرتے ہوئے یہ شعر ذکر کیا: "وننکر إن شئنا علی الناس قولهم"، اگر ہم چاہیں تو لوگوں کے جس قول کو چاہیں انکار کر دیں، اس کو رد کر دیں لیکن ہمارے قول کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، اس کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔ اس کے اندر اشارہ کر دیا کہ یہ جو میں نے کتاب لکھی ہے علامہ سکاکی کی، اس میں میں نے جگہ جگہ دیگر علماء کا رد کیا ہے، ہم جس کے قول کو چاہیں رد کر دیں کیونکہ ہمارا قول سب پر غالب ہے، اور ہمارے قول کو کوئی رد نہیں کر سکتا کیونکہ ہماری بات بڑی مضبوط ہوتی ہے، اس کی طرف اشارہ انہوں نے کیا، بھئی۔ "تم الفن الأول بعون الله تعالیٰ"، اور پورا ہو گیا، مولانا، فنِ اول اللہ کی مدد کے ساتھ، "وتوفیقه"، اور اس کی توفیق کے ساتھ، "وإیاه أسأل"، اور اللہ ہی سے سوال میں کرتا ہوں، "فی إتمام الفنین الأخیرین"، دونوں... آخری دو فنوں کے پورا کرنے میں، اللہ سے سوال کرتا ہوں کس چیز کا؟ "هدایة طریقه"، اس کے راستے کی رہنمائی کی، بھئی۔ چلیے جی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔