کل آپ نے پڑھا مولانا، علامہ سکاکی نے کی بات انہوں نے ذکر کی تھی کہ امر جو ہے مامور بہٖ کی ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے فی الفور۔ جیسے کہ استفہام ہے بھئی، کہ استفہام کے بعد فورا کس چیز کا تقاضا کرتا ہے متکلم؟ جواب کا بھئی۔ تو اسی طرح یہ بھی فی الفور ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے امر بھی۔ اور نیز کہ جب ایک حکم کے بعد دوسرا حکم اس کے خلاف، پہلے حکم کے خلاف دوسرا حکم دے دیا جائے، تو فہم سبقت کرتا ہے اس بات کی طرف کہ حکم کو بدل دیا گیا ہے، جی۔ اور اس بات کی طرف سبقت نہیں کرتا کہ یہاں دونوں حکموں میں جمع مراد ہے اور تراخی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ جیسے انہوں نے مثال ذکر کی کہ بندہ، آقا اپنے غلام کو کیا کہتا ہے: "کھڑے ہو جاؤ"، پھر اس سے کہتا ہے، جی، کھڑے ہونے سے پہلے پہلے اس کو کہہ دیتا ہے: "لیٹ جاؤ شام تک"۔ تو اس سے فورا یہ سمجھ میں آ جاتا، ذہن میں آتا ہے کہ آقا نے حکم کو بدل دیا اور قیام کے بجائے کس چیز کا حکم دے دیا ہے؟ اضطجاع کا۔ تو یہاں پر یہ وہم نہیں پڑتا کہ آقا کا ارادہ دونوں کو جمع کرنے کا ہے۔ اس لیے کہ جب آقا نے کہا: ”اِضْطَجِعْ حَتَّى الْمَسَاءِ“ تو یہاں پر فی الفور ادائیگی کا تقاضا ہے، کیونکہ غایت ذکر ہے کب تک لیٹنا ہے؟ شام تک۔ لیکن مبدأ، تو اس کے لیے مبدأ بھی چاہیے، مبدأ ذکر نہیں، تو مبدأ کس کے بعد ہوگا؟ امر کے فوراً بعد ہی اس کی ابتدا ہوگی مولانا۔ تو علامہ تفتازانی، صاحبِ تلخیص نے اس کو رد کیا کہ یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے، بلکہ یہ قرینہ ہوگا، وہ قرینہ ہمیں بتلائے گا فی الفور ادائیگی چاہتا ہے یا تراخی کے ساتھ چاہتا ہے، اور یہاں ”حَتَّى الْمَسَاءِ“ کا قرینہ بتلا رہا ہے کہ فی الفور ادائیگی کو چاہتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ پڑھا کہ طلب کی ایک قسم نہی ہے بھئی، اور نہی کیا ہے؟ طلبِ کف عن الفعل کا نام ہے استعلاءً۔ استعلاءً، اور اس کے لیے ایک ہی حرف ہے اور وہ لائے جازمہ ہے۔ اور کبھی کبھار اس کو طلب کے علاوہ، طلبِ کف کے علاوہ اور چیزوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے دھمکی دینے کے لیے، مثال کے طور پر آقا اپنے غلام سے کیا کہتا ہے: ”لَا تَمْتَثِلْ أَمْرِي“، "میرے حکم کی تعمیل نہ کر"۔ اور کوئی بھی آقا اپنے غلام کو حکم کی تعمیل کرنے سے روکتا نہیں، معلوم ہوا یہاں پر، جی، یہاں پر دھمکی دی جا رہی ہے بھئی، دھمکی دی جا رہی ہے، ظاہر مراد نہیں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کہ یہ چار قسمیں جو طلب کی ہم نے آپ کو بتلائیں: تمنی، استفہام، امر اور نہی، ان کے بعد شرط جائز ہے، شرط مقدر ہو، اور آگے جو جواب آ رہا ہو ان کا، وہ مجزوم ہو اس شرطِ مقدر کی وجہ سے۔ جیسے تمنی میں آپ کہتے ہیں: ”لَيْتَ لِي مَالًا أُنْفِقْهُ“، اصل میں عبارت تھی: ”لَيْتَ لِي مَالًا إِنْ أُرْزَقْهُ أُنْفِقْهُ“۔ استفہام میں جیسے: ”أَيْنَ بَيْتُكَ أَزُرْكَ“، اصل میں ہے: ”أَيْنَ بَيْتُكَ إِنْ تُعَرِّفْنِيهِ أَزُرْكَ“۔ اور امر کی مثال جیسے: ”أَكْرِمْنِي أُكْرِمْكَ“، تو یہاں شرط مقدم ہے، مقدر ہے: ”أَكْرِمْنِي إِنْ تُكْرِمْنِي أُكْرِمْكَ“۔ نہی میں: ”لَا تَشْتِمْ يَكُنْ خَيْرًا لَكَ“، تو عبارت اصل میں کیا ہے: ”لَا تَشْتِمْ إِنْ لَا تَشْتِمْ يَكُنْ خَيْرًا لَكَ“۔ تو یہاں پر شرط مقدر ہوتی ہے بعض اوقات ان کے بعد بھئی۔ کہتے ہیں اس لیے کہ وہ چیز جو متکلم کو آمادہ کرنے والی ہے کلامِ طلبی پر، وہ یا تو مطلوب کا مقصود ہونا، وہ کیا ہے؟ مطلوب کا مقصود ہونا ہے۔ کس کے لیے؟ متکلم کے لیے وہ جو مطلوب ہوتا ہے جس کے لیے وہ جو کلامِ طلبی ذکر کر رہا ہے، وہ متکلم کو مقصود ہوتا ہے، لیکن کبھی لذاتہٖ مقصود ہوتا ہے اور کبھی لغیرہٖ، غیر کی وجہ سے مقصود ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ غیر موقوف ہوتا ہے اس کے حصول پر۔ اس مطلوب کے حصول، یہ مطلوب حاصل ہوگا تو وہ غیر بھی حاصل ہو جائے گا۔ جیسے آپ نے کہا کہ: ”أَيْنَ بَيْتُكَ أَزُرْكَ“، "کہاں ہے آپ کا گھر؟ میں آپ کی زیارت کروں گا"۔ تو یہاں پر کلامِ طلبی کیا ہے؟ ”أَيْنَ بَيْتُكَ“، "آپ کا گھر کہاں ہے؟" اب یہاں گھر کا پتہ پوچھنا یہ مقصود لذاتہٖ ہوگا یا مقصود لغیرہٖ؟ اور یہاں جو ہے مقصود لغیرہٖ ہی ہے، کیونکہ آگے جو بات آ رہی ہے وہ بتلا رہی ہے کہ یہاں گھر کا مقصد، اصل مقصد گھر کا پوچھنا نہیں ہے بلکہ اصل مقصد کیا ہے؟ اس کی زیارت ہے۔ تو مقصد تو اس شخص کی زیارت ہے، لیکن اس زیارت کا سبب کیا ہے؟ گھر کی معرفت، گھر کی معرفت ہوگی تو اس شخص کی بھی زیارت ہوگی۔ تو یہ بھی کلام، یہ جو مطلوب ہے، یہ بھی مقصود ہوا، لیکن لذاتہٖ نہیں بلکہ لغیرہٖ۔ تو وہ موقوف ہو گیا ثانی اول پر، اور یہی معنی ہے کس کے؟ شرط کے، شرط کے۔ لہٰذا جب بھی طلب ذکر ہو اور اس کے بعد ایسی چیز ذکر ہو جو اس مطلوب پر موقوف ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو، تو اس صورت میں مخاطب کو غالب گمان یہی ہوگا کہ یہ جو مقصود ہے، یہ اسی مذکور کی وجہ سے ہے، لذاتہٖ مقصود نہیں۔ دیکھو آپ نے کہا: ”أَيْنَ بَيْتُكَ أَزُرْكَ“، تو جب بھی کلامِ طلبی کے بعد، مثلاً یہاں ”أَزُرْكَ“ آیا اور اس میں صلاحیت ہے، یرحمک اللہ، اور اس میں صلاحیت ہے کہ یہ کیا بن سکے؟ جی، جو موقوف علی المطلوب ہو سکتا ہے بھئی۔ ایسی چیز ہے جو موقوف ہو سکتی ہے کس پر؟ مطلوب پر موقوف ہو سکتی ہے، یعنی ماقبل اس کا سبب بن سکتا ہے، تو مخاطب یہ سمجھتا ہے کہ یہ جو ثانی ہے یہ مقصود، یہ مقصود لذاتہٖ ہے اور ماقبل جو ہے مقصود لغیرہٖ ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ جو مجھے کہہ رہا ہے: "میں زیارت کروں گا آپ کی"، معلوم ہوا اصل مقصد زیارت ہے، اور یہ جو ”أَيْنَ بَيْتُكَ“ اس نے ذکر کیا کلامِ طلبی، یہ مقصود لذاتہٖ نہیں ہے بلکہ یہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے کیا کرے گا؟ زیارت حاصل کرے گا۔ تو اس صورت میں معنیٰ شرط پایا جائے گا طلب کے اندر اور یہ بات ظاہر ہے مولانا۔ اس کے بعد عرض کو ذکر نہیں کیا تھا، حالانکہ نحوی پانچ چیزوں کے بعد اِن مقدر بتاتے ہیں، تو اس کے بارے میں بتلایا کہ یہ الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ کس سے پیدا ہے؟ استفہام سے ہی بنتی ہے بھئی، استفہامِ انکاری ہے۔ کلامِ منفی پر استفہامِ انکاری لے آؤ تو کیا بن جاتی ہے؟ عرض بن جاتی ہے، جیسے: ”أَلَا تَنْزِلُ بِنَا تُصِبْ خَيْرًا“، "کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے کہ آپ کو کوئی نفع حاصل ہو بھئی؟" تو یہ دیکھیے، ہمزہ انکاری داخل ہوا ”لَا تَنْزِلُ“ کلامِ منفی پر، تو نفی پر گویا نفی داخل ہو گئی، اور نفی پر نفی داخل ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا فائدہ دیتی ہے، اسی لیے اس کے لیے شرطِ مقدر مثبت نکال رہے ہیں: ”إِنْ تَنْزِلْ بِنَا تُصِبْ خَيْرًا“۔ اور یہاں پر کہتے ہیں: اس، یہ استفہامِ انکاری ہے مولانا، اور اس کو اپنی، تو اس کو حقیقت پہ استفہام پر محمول کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس شخص، مخاطب کے نہ آنے کا یقین ہے، پتہ ہے، اس کو کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ”أَلَا تَنْزِلُ بِنَا“، آپ ہمارے ہاں تشریف نہیں لا، تو یہاں پر قطعی طور پر اس کو پتہ ہے کہ یہ آیا نہیں، تو اس کی وجہ سے اور معلوم ہوا اس کو استفہام پر محمول کرنا ممتنع ہوا، تو اس امتناع کی وجہ سے یہاں پر کیا پیدا ہوا بھئی؟ عرض کا معنی پیدا ہوا قرینے کی مدد سے۔ قرینے کی مدد سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور کہتے ہیں علامہ تفتازانی نے پھر کہا بھئی، کہ اس کے علاوہ اور صورتوں میں بھی شرط کو، بعض اوقات شرط مقدر ہوتی ہے، ان مواضع کے علاوہ میں بھی شرط مقدم ہوتی ہے اور قرینہ اس پر دلالت کر رہا ہوتا ہے۔ بھئی ان جگہوں میں تو شرط مقدر تھی اور صرف جزا عبارت میں ذکر تھی اور وہ جزا فعلِ مضارع تھی اور فعلِ مضارع کیا تھا؟ مجزوم تھا، تو اِن جیسے شرط کو جزم دیتا ہے، جزا کو بھی کیا دیتا ہے مضارع کو؟ جزم دیتا ہے، تو وہ جزا بتلا دیتی تھی۔ کہتے ہیں اس کے علاوہ اور جگہوں کے اندر بھی مواقع ہوتے ہیں، وہاں پر بھی اِن اور شرط کیا ہوتی ہے؟ مقدر ہوتی ہے۔ جیسے: ”أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ“، یہاں پر کیا پکڑا ہے انہوں نے اللہ کے علاوہ، پکڑے ہیں مددگار، تو پس اللہ ہی مددگار ہے۔ یہ فا کہتے ہیں جزائیہ ہے، یہ دلالت کر رہا ہے اس بات پر کہ یہاں پر کیا محذوف ہے؟ شرط محذوف ہے، یعنی اصل میں یوں ہے کلام، شرط یہاں یہ محذوف ہے: ”إِنْ أَرَادُوا وَلِيًّا بِحَقٍّ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ“، اگر وہ سچا مددگار چاہتے ہیں تو اللہ ہی، تو اس پر اشکال ہوا مولانا کہ شرط اور جزا کے اندر مناسبت نہیں، کہ اگر وہ سچا مددگار چاہتے ہیں تو اللہ مددگار ہیں، معلوم ہوا اگر نہیں چاہتے تو اللہ مددگار نہیں؟ حالانکہ یہ تو درست نہیں ہے بھئی، اللہ تو ہر حال میں مددگار ہیں چاہے وہ چاہیں یا نہ چاہیں۔ تو جواب یہ تھا کہ یہ دراصل جزا نہیں ہے بلکہ یہ دال علی الجزا، یہ دلیل ہے جزا کی، جزا کی دلیل ہے۔ جزا اصل میں کلام یوں ہے: ”إِنْ أَرَادُوا وَلِيًّا بِحَقٍّ“، یہ شرط محذوف، اور پھر اس کے ساتھ کیا ہے؟ جزا: ”فَلْيَتَّخِذُوا اللَّهَ وَحْدَهُ“، تو چاہیے کہ کس کو پکڑیں صرف؟ صرف اللہ کو مددگار بنائیں۔ تو آگے یہ ”فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ“ یہ دلیل ہے، اللہ کو مددگار بنائیں کیونکہ اللہ ہی مددگار ہے، اللہ ہی، تو یہ دلیل ہے، اللہ کو مددگار بنائیں کیوں؟ کیونکہ اللہ ہی، تو یہ اس کی دلیل ہے مولانا۔ اس پر کسی نے کہا کہ بھئی یہ ”أَمِ اتَّخَذُوا“ آپ نے مان لیا یہ کون سا استفہامِ انکاری ہے، اور استفہامِ انکاری بمعنی ”لَا يَنْبَغِي“ کے ہوتا ہے۔ تو آپ نے کیا کہا تھا بھئی؟ ماقبل میں بتلایا کہ یہ فا جزائیہ ہے بھئی۔ ہم نے ابھی شرط محذوف نکالی اور فا کو جزائیہ بنایا، تو یہاں اس لیے کہ فا عاطفہ بنانا صحیح نہیں تھا، ماقبل میں تھا استفہام مولانا، جملہ انشائیہ، اور مابعد میں ہے ”فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ“ خبر، اور خبر کا عطف انشاء پر نہیں ہو سکتا، تو بعضوں نے کہا کہ بھئی اس کو آپ عطف کر دیں خبر کا کس پر؟ انشاء پر عطف کر دیں، اس لیے کہ وہ انشاء دراصل خبر کے معنی میں ہے۔ ماقبل میں کلامِ انکاری، استفہامِ انکاری ہے اور استفہامِ انکاری کس کے معنی میں ہوتا ہے؟ ”لَا يَنْبَغِي“ کے معنی میں، کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، تو وہ خبر کے معنی میں ہوا اور جب خبر کے معنی میں ہوا تو ماقبل بھی خبر، مابعد بھی خبر، تو فا کے ذریعے عطف صحیح ہو گیا۔ تو یہ اسی طرح ہو جائے گا جیسے مسبَّب پر سبب کا عطف ہوا کرتا ہے، کہ اللہ، یعنی اللہ کے علاوہ کسی اور کو مددگار نہیں بنانا چاہیے کیونکہ مددگار اللہ ہی ہیں، کیونکہ مددگار، تو ماقبل میں معلول، مابعد میں علت ہے بھئی، کیونکہ اللہ ہی مددگار ہیں اس لیے کسی کو معبود نہیں بنانا چاہیے، اور ایسا ہوتا رہتا ہے بھئی، معلول پر عطف ہوتا رہتا ہے علت کا۔ تو علامہ تفتازانی نے اس کو رد کر دیا کہ بھئی ماقبل میں استفہام ہے اور وہ ٹھیک ہے، اس استفہام میں خبر کے معنی ہیں، استفہام میں کیا ہے؟ وہ انکاری ہے، اس میں خبر کے معنی ہیں، لیکن خبر کے معنی ہونے کا یہ معنی نہیں کہ خبر کے سارے احکام بھی اس پر جاری ہوں گے۔ خبر کے سارے احکام اس پر جاری ہوں، یہ معنی نہیں ہے بھئی۔ اور کہتے ہیں اس پر عقلِ سلیم ہماری اس بات کی کہتے ہیں گواہی دیتی ہے، جیسے آپ کا یہ کہنا تو صحیح ہے: ”لَا تَضْرِبْ زَيْدًا فَهُوَ أَخُوكَ“، "تو زید کی پٹائی نہیں کرتا کیونکہ زید تیرا بھئی ہے"۔ تو یہ فا کے ساتھ یہاں تو عطف ٹھیک ہے مولانا، لیکن ”أَتَضْرِبُ زَيْدًا فَهُوَ أَخُوكَ“ یہ عطف فا کے ساتھ صحیح نہیں: "کیا تو زید کی پٹائی کرتا ہے اس حال میں کہ وہ تیرا بھئی ہے؟" یرحمک اللہ۔ تو یہاں پر فا کے ساتھ عطف نہیں صحیح، واو کے ساتھ ہی عطف کریں گے، حالانکہ پچھلے جملہ کیا تھا: ”لَا تَضْرِبْ زَيْدًا“، اور ”أَتَضْرِبُ زَيْدًا“ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے مولانا۔ اس میں بھی پٹائی سے روکنے کا ذکر ہے، اس سے بھی پٹائی سے، اس میں بھی پٹائی سے روکنے کا ذکر، لیکن پہلے میں فا کے ساتھ عطف جائز تھا، اس میں عطف جائز نہیں۔ معلوم ہوا ایک، ایک لفظ دوسرے لفظ کے معنی میں ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ سارے احکام میں بھی اسی کی طرح ہو جائے۔ اس کے بعد انواعِ طلب میں سے ایک ندا بتلائی تھی آپ کو بھئی، اور ندا جو ہے یہ کسی کو کبھی کبھار، یہ اصل میں تو ہے دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے، لیکن کبھی کبھار یہ اغراء کے لیے آتی ہے، دوسرے کو ابھارنا ہوتا ہے، ابھارنا ہوتا ہے جو پہلے سے ہی آپ کی طرف متوجہ ہے۔ جیسے ایک شخص ہے آپ کے سامنے گلہ اور شکوہ کر رہا ہے کسی کے ظلم و ستم کا، تو آپ اس کو کیا کہتے ہیں: ”يَا مَظْلُومُ“۔ تو اب وہ تو پہلے سے ہی متوجہ ہے، اس کے باوجود آپ حرفِ ندا لا رہے ہیں، تو یہاں ندا سے مقصد توجہ حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ کیا مقصد ہے؟ اس کو ابھارنا ہے کہ اور اپنے ظلم کو، جو تم پر ظلم ہوا ہے اس کو بیان کرو بھئی۔ اور کبھی کبھار ندا آتی ہے اختصاص کے لیے، جیسے: ”أَنَا أَفْعَلُ كَذَا أَيُّهَا الرَّجُلُ“۔ تو یہاں پر یہ ندا ہے لیکن یہ تخصیص کے لیے ہے، اور یہ صرف متکلم مفرد یا متکلم تثنیہ اور جمع کے لیے آتا ہے اور کسی کے لیے نہیں آتا، یہ تخصیص ہے بھئی۔ ”أَنَا أَفْعَلُ“، یہ باب خاص ہے متکلم کے ساتھ، ”أَنَا أَفْعَلُ كَذَا أَيُّهَا الرَّجُلُ“، "میں ہی ایسا کروں گا"۔ ”أَيُّهَا الرَّجُلُ“، یہاں تو ندا میں آپ کیا نکالتے ہیں محذوف؟ ”أَدْعُو“، ”أَدْعُو“، ”يَا زَيْدُ“ کا کیا، کیا نکالتے ہیں تقدیرِ عبارت؟ ”أَدْعُو زَيْدًا“، لیکن یہاں پر ”أَدْعُو“ نہیں نکالیں گے بلکہ کیا نکالیں گے؟ ”أَخُصُّ“، یہ تخصیص کے لیے ہے۔ تخصیص کرتا ہوں میں کس کی؟ رجل کی، تخصیص کرتا ہوں کس کی؟ اور رجل سے کون مراد ہے؟ ذاتِ متکلم خود مراد ہے۔ رجل سے کون مراد ہے؟ تو متکلم کہتا ہے: "میں اپنی تخصیص کرتا ہوں سارے مردوں میں سے، ”أَنَا أَفْعَلُ كَذَا“، میں ایسا ہی کرو، میں ہی ایسا کروں گا، میں اپنی تخصیص کرتا ہوں لوگوں میں سے"۔ تو آپ نے طلبِ اقبال سے اس کو خالی، ندا تو تھی اصل میں توجہ کو طلب کرنے کے لیے، لیکن آپ نے اس کو طلبِ اقبال سے خالی کر دیا اور نقل کیا اس کو اس بات کی طرف کہ تخصیص کرنا چاہتے ہیں اس کے ساتھ یہ اس کے مدلول کی مولانا، ”أَيُّهَا الرَّجُلُ“ کے مدلول کی تخصیص کرنا چاہتے ہیں بھئی، اس چیز میں جس کی نسبت کی گئی تھی ماقبل میں ضمیر کی طرف۔ ”أَنَا أَفْعَلُ كَذَا“، یہ ”أَفْعَلُ“ کی نسبت کس کی طرف تھی؟ متکلم کی ضمیر کی طرف تھی، تو اب اسی حکم کو کس پر، اسمِ ظاہر پر بھی لگا دیا۔ ”أَنَا أَفْعَلُ كَذَا“ کا بھی یہ معنی تھا: "میں ہی یہ کروں گا"، اس میں بھی تخصیص تھی، اب وہی تخصیص پہلے ضمیر پہ لگ رہی تھی، اب کس پر تخصیص کر دی؟ اسمِ ظاہر ”أَيُّهَا الرَّجُلُ“، تو رجل پر بھی وہی حکم لگا دیا بھئی۔ اور پھر یہ جملہ جو ہے پورا مجموعہ ”أَخُصُّ أَيُّهَا الرَّجُلُ“ یہ حال ہے، اسی لیے ماتن نے کہا: ”مُتَخَصِّصًا بَيْنَ الرِّجَالِ“، جی۔ اور کبھی کبھار ندا کا صیغہ استعمال ہوتا ہے استغاثہ کے اندر بھی جیسے: ”يَا لَلَّهِ“، فریاد کے لیے، مستغاث پر داخل ہوتا ہے۔ کبھی تعجب کے لیے جیسے: ”يَا لَلْمَاءِ“، کبھی تحسر اور توجع، حسرت اور غم کو ظاہر کرنے کے لیے مولانا، جیسے کھنڈرات، منازل اور سواریوں کو ندا دی جاتی ہے کبھی اشعار وغیرہ میں آپ دیکھتے ہیں بھئی۔ پھر کہتے ہیں کبھی کبھار، الگ بات کر رہے ہیں کہ کبھی کبھار انشاء کی جگہ خبر واقع ہو جاتی ہے۔ انشاء کا مقام تھا لیکن خبر لے آتے ہیں، کس لیے خبر لاتے ہیں؟ نیک فالی کے لیے لاتے ہیں، یا اس کے وقوع میں حرص کا اظہار مقصد ہوتا ہے، یعنی متکلم حریص ہوتا ہے اس کے وقوع کے اندر کہ ایسا ہو جائے۔ تو انشاء کے بجائے اس کو پھر کس کی صورت میں لے آتا ہے؟ خبر، اس کی مثال جیسے کوئی کسی کو کیا کہتا ہے: ”رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ“، "اللہ اس پر کیا کرے؟ رحم فرمائے"۔ تو یہ نیک فالی کے طور پر، مقام تو انشاء کا تھا کہ اے اللہ اس پر رحم فرما، دعا ہونی چاہیے تھی امر کے صیغے کے ساتھ، لیکن کیا، ”رَحِمَ“ ماضی لے کر آئے اور یہ خبر ہے، کیوں؟ نیک فالی کے طور پر، کہ گویا کہ یہ واقع ہو چکی، اللہ ایسا کر دیں، اللہ ایسا تاکہ کر دیں بھئی۔ اور یا کبھی کبھار حرص کا اظہار ہوتا ہے اس کے وقوع کے اندر، جیسے گزرا تھا بھئی شرط میں کہ طالب کی جب رغبت بڑھ جاتی ہے تو وہ کثرت سے کس کا تصور کرنے لگتا ہے، تو بسا اوقات وہ جو چیز اسے حاصل نہیں ہوئی کس کے درجے میں اتار لیتا ہے؟ حاصل کے درجے میں اتار، اس کے لیے متخیل ہو جاتی ہے تو اسے ماضی کے لفظ سے ذکر کرتا ہے۔ اور بلیغ جب دعا دیتا ہے ماضی کے صیغے کے ساتھ، اس میں دونوں احتمال ہیں: تفاؤل نیک فالی کا بھی احتمال ہے اور اظہارِ حرص کا بھی احتمال ہے، جبکہ غیر بلیغ ان سے غافل ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھار مولانا، خبر لائی جاتی ہے، مقام انشاء امر کا ہے لیکن لائی کیا جاتی ہے؟ خبر لائی جاتی ہے تاکہ امر کی صورت سے احتراز ہو جائے، یعنی مخاطب نہیں متکلم نہیں چاہتا کہ میں مخاطب کے سامنے امر ذکر کروں، کیونکہ امر میں کیا ہے؟ بے ادبی ہے، تو اس کو کس کی صورت میں ذکر کرتا ہے؟ خبر، جیسے غلام آقا سے کہتا ہے: ”يَنْظُرُ الْمَوْلَىٰ إِلَيَّ سَاعَةً“، "کسی وقت آقا میری طرف دیکھے گا"۔ تو یہاں پر دیکھ، کہنا تو یہ تھا: "میری طرف بھی دیکھیے"، لیکن وہ ماضی کے ساتھ، ذکر کرتا ہے۔ یا کبھی کبھار اس لیے ایسا کیا جاتا ہے کہ مخاطب کو ابھارنا ہوتا ہے کس پر؟ مطلوب پر، اس سبب سے کہ، اس وجہ سے کہ مخاطب ان لوگوں میں سے ہے جو پسند نہیں کرتا کہ جھٹلایا جائے کس کو؟ طالب کو جھٹلایا جائے۔ تو طالب نے خبر کی صورت میں انشاء کو ذکر کر دیا اور خبر کے اندر تو چونکہ صدق و کذب کا احتمال ہے، تو اب مخاطب اس بات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس متکلم کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا لازم آئے بھئی۔ جیسے ایک شخص ہے اس نے دوسرے سے کہا کہ: ”تَأْتِينِي غَدًا“، "کل تم میرے پاس آؤ گے"۔ اب کہنا کیا چاہیے تھا کہ: "صبح میرے پاس آنا"، لیکن وہ کیا کہتا ہے: "کل صبح تم میرے پاس آؤ گے"۔ تو مخاطب پسند نہیں کرتا کہ یہاں پر متکلم کی طرف جھوٹ کی نسبت ہو، تو وہ ہر حال میں اس مطلوب پر عمل کرے گا اور صبح پہنچے گا، کیونکہ متکلم نے کیا کیا؟ کلامِ خبری ذکر کیا، اور اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو متکلم کی طرف کس چیز کی نسبت کرنا لازم آئے گی؟ جھوٹ کے۔ پھر اس کے بعد بتلایا بھئی انشاء خبر کی طرح ہے، گزشتہ جتنے احکام جاری ہوئے ان میں سے اکثر جو ہیں انشاء میں بھی جاری ہوں گے۔ ”اَلْفَصْلُ وَالْوَصْلُ. بَدَأَ بِذِكْرِ الْفَصْلِ لِأَنَّهُ الْأَصْلُ، وَالْوَصْلُ طَارٍ عارِضٌ عَلَيْهِ حَاصِلٌ بِزِيَادَةِ حَرْفٍ، لَكِنْ لَمَّا كَانَ الْوَصْلُ بِمَنْزِلَةِ الْمَلَكَةِ وَالْفَصْلُ بِمَنْزِلَةِ الْعَدَمِ، وَالْأَعْدَامُ إِنَّمَا تُعْرَفُ بِمَلَكَاتِهَا، بَدَأَ فِي التَّعْرِيفِ بِذِكْرِ الْوَصْلِ“۔ یہ نیا باب ہے مولانا، فصل اور وصل کا بھئی۔ اور بلاغت کے اندر اس باب کی بڑی اہمیت ہے بھئی، بڑی اہمیت ہے۔ اہم ترین ابواب میں سے ہے یہ بھئی، اور مشکل ابواب میں سے ہے۔ اتنا اہم باب ہے، اتنا اہم باب ہے کہ بعض علماء نے تو کہتے ہیں یہاں تک کہہ دیا کہ جس کو فصل اور وصل آ گئی، اس کو بلاغت آ گئی بھئی۔ جس کو فصل اور وصل کا پتہ نہیں چلا، اس کو بلاغت کا بھی پتہ نہیں چلا۔ ایک ہے مولانا فصل، ایک ہے وصل۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ دو جملے آپ لے کر آئے، وہ دو، ان دو جملوں میں سے پہلا جملہ کیا ہے؟ خبریہ ہے، اور دوسرا انشائیہ ہے۔ دوسرا کیا ہے؟ انشائیہ۔ تو پہلا جملہ خبریہ، ثانی جملہ انشائیہ، دونوں جملوں میں کوئی مناسبت نہیں، لہٰذا درمیان میں حرفِ عطف ہم نہیں لائیں گے۔ درمیان میں حرفِ عطف نہیں لائیں گے، اس کو کہتے ہیں فصل۔ آپ نے جدائی کر دی دونوں میں، عطف نہیں کیا۔ اور یا پہلا جملہ بھی خبریہ، دوسرا جملہ بھی خبریہ، دونوں کے اندر مناسبت ہے مولانا، تو آپ نے کیا کیا؟ پہلے جملے کا عطف کر دیا کس کا، کس پر؟ دوسرے جملے پر عطف کر دیا، تو اس کو کہتے ہیں وصل بھئی۔ آپ نے کیا کیا دوسرے جملے کو پہلے جملے کے ساتھ ملا دیا، جوڑ دیا۔ یا پہلا بھی انشائیہ، دوسرا بھی انشائیہ، دونوں میں مناسبت ہے تو درمیان میں آپ نے کیا ذکر کر دیا؟ حرفِ عطف، تو اس کو کیا کہیں گے؟ وصل۔ تو حرفِ عطف ذکر کر دیا تو یہ کیا ہے؟ وصل، اور نہ ذکر کیا تو یہ فصل ہے۔ اس کو کہتے ہیں: ”اَلْفَصْلُ وَالْوَصْلُ. بَدَأَ بِذِكْرِ الْفَصْلِ“، مصنف نے فصل کے ساتھ ذکر، فصل کے ذکر کے ساتھ شروع کیا اس کو، ابتدا کی، کیا کہا؟ ”اَلْفَصْلُ وَالْوَصْلُ“، یہ نہیں کہا: ”اَلْوَصْلُ وَالْفَصْلُ“۔ کیوں، یہ فصل کو کیوں مقدم کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ فصل: ”لِأَنَّهُ الْأَصْلُ“، کہ فصل کیا ہے؟ اصل ہے۔ اس لیے کہ فصل کہتے ہیں عطف نہ کرنا، اور وصل کس کو کہتے ہیں؟ عطف کرنا، اور عطف کرنے کے لیے حرفِ عطف لائیں گے، تو وصل محتاج ہوا کس کا؟ حرفِ عطف کا، اور فصل میں حرفِ عطف نہیں تو وہ محتاج نہیں حرفِ عطف کا، اور تو یہ فصل غیر محتاج ہوا اور وصل محتاج ہوا، اور غیر محتاج ہمیشہ اصل ہوتا ہے اور محتاج کیا ہوتا ہے؟ فرع ہوتا ہے۔ یرحمک اللہ۔ لہٰذا ذکر کیا: ”بِذِكْرِ الْفَصْلِ“، فصل کے ذکر کے ساتھ، ”لِأَنَّهُ الْأَصْلُ“، کیونکہ وہ کیا ہے؟ اصل ہے۔ ”وَالْوَصْلُ طَارٍ“، اور وصل تو عارضی آیا ہے مولانا، طارٍ کا معنی نازل ہوا ہے، عارض ہوا ہے، ”عَارِضٌ عَلَيْهِ“، اس پر کیا ہوا ہے؟ عارض۔ بھئی اصل تو فصل ہی ہے، وصل جو آیا وہ تو طاری ہوا، عارض ہے مولانا، عارض ہوا اس پر، ”حَاصِلٌ بِزِيَادَةِ حَرْفٍ“، اور حاصل ہوا کس کے ساتھ؟ ایک حرف کی زیادتی کے ساتھ۔ یعنی وصل تو پیش آیا ہے، اصل تو کیا تھا؟ طارٍ کا کیا معنی؟ پیش آیا، پیش آیا ہے، ورنہ تو اصل فصل تھا۔ تو حاصل ہوا ہے حرف کی زیادتی کے ساتھ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصنف نے کیا کہا، شارح نے فصل اصل ہے اس لیے اس کو کیا کر دیا؟ مقدم کر دیا۔ اچھا، اگلا صفحہ ذرا کھول دیکھیے بھئی۔ پہلی سطر میں ہے: ”اَلْوَصْلُ عَطْفُ بَعْضِ الْجُمَلِ“ بھئی۔ اب اشکال ہوا، آپ نے کہا فصل اصل ہے اس لیے اس کو پہلے ذکر کیا، تو پھر آگے وصل کو کیوں پہلے ذکر کر دیا بھئی؟ اگر اصل تھا تو پہلے کس کو ذکر کرتے؟ فصل کو، تو اسی کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ ”لَكِنْ لَمَّا كَانَ الْوَصْلُ بِمَنْزِلَةِ الْمَلَكَةِ وَالْفَصْلُ بِمَنْزِلَةِ الْعَدَمِ“، کہتے ہیں اس لیے کہ وصل ملکہ کے درجے میں ہے اور فصل عدم کے درجے میں ہے۔ ملکہ جانتے ہو بھئی؟ کس کو کہتے ہیں؟ قوت، نفسانی قوت ہوتی ہے جو ذہن کے ساتھ راسخ ہو جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملکہ کہتے ہیں مولانا۔ جیسے دیکھنے کی قوت ہے، سونگھنے کی قوت ہے، اچھا اسی طرح اور؟ تکلم کے مولانا ملکہ ہے وغیرہ، یعنی کلامِ بلیغ کے ساتھ تکلم پر کا ملکہ۔ اچھا، تو دیکھیے کہ وصل جو ہے ملکے کے درجے میں ہے اور فصل عدم کے درجے میں ہے۔ بھئی دو چیزیں ذکر ہوئیں، ایک فصل ایک وصل، کیا وجودی ہے، کیا عدمی ہے؟ فصل وجودی ہے یا عدمی ہے؟ فصل کیا ہے؟ عدمی ہے، حرفِ عطف نہیں ہے، اور وصل کیا ہے؟ وجودی ہے، کیونکہ اس میں کیا ہے؟ حرفِ عطف آیا ہے۔ تو وصل، اور ملکہ بھی کیا ہوتا ہے؟ وجودی ہوتا ہے، ملکہ بھی وجودی ہوتا ہے، اور اس کے مقابلے میں کیا ہے؟ عدمِ ملکہ، مثلاً دیکھنا، دیکھنا، دیکھنے کی قوت یہ کیا ہے؟ یہ ملکہ ہے، اور اس کے مقابلے میں کیا ہے؟ عدمِ ملکہ، یعنی نہ دیکھنے کی قوت کا نہ ہونا۔ تو یہ وصل جو ہے ملکے کے درجے میں ہے اور فصل عدمِ ملکہ کے درجے میں ہے، اور عدمِ ملکہ کا پتہ ملکے سے چلتا ہے۔ عدمِ ملکہ کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ ملکے سے۔ بھئی کسی کو کہو: فلاں نابینا ہے، فلاں کیا ہے؟ نابینا، اس کو کبھی بھی نہیں پتہ چلے گا جب تک اس کو بینائی کا نہیں پتہ، جب بینائی کا تصور ایک شخص کو حاصل ہوگا، اب کہو گے نابینا ہے، فوراً سمجھ جائے گا۔ فوراً اس کو سمجھ جائے گا۔ تو جیسے کسی کو اگر روشنی کہو مولانا، تو روشنی کا اس کو پتہ ہوگا تو اس کو اندھیرے کا بھی خود بخود علم ہو جائے گا، لیکن ایک شخص کو روشنی کا علم نہیں ہے تو اس کو اندھیرے کا بھی کچھ پتہ نہیں چلے گا، جیسے نابینا ہے مولانا، اس کو آپ کہیں اندھیرا ہے، اسے کچھ پتہ نہیں کیونکہ اسے روشنی کا ہی کوئی علم نہیں ہے۔ تو یہاں پر وصل ملکے کے درجے میں ہے، اور ملکے کا پتہ ہوگا تو عدمِ ملکے کا بھی خود بخود پتہ چل جائے گا، تو اسی لیے وصل کو مقدم کیا، کیونکہ وصل کس کے درجے میں ہے؟ ملکے کے درجے میں، اور فصل کس کے درجے میں ہے؟ عدمِ ملکے کے درجے میں ہے۔ وصل ملکے کے درجے میں ہے۔ وصل، وصل میں حرفِ عطف نہیں آتا بھئی؟ وجودی ہوا، اور فصل عدمی ہوا، یہ محتاج نہیں حرفِ عطف کا۔ اور مصنف نے ”بِمَنْزِلَةِ الْمَلَكَةِ“ کہا اور ”بِمَنْزِلَةِ الْعَدَمِ“ کہا، اس لیے کہ ملکہ جو ہے وہ وجودی چیز ہے اور وصل جو ہے وہ اعتباری چیز ہے، وصل کیا ہے؟ اعتباری چیز ہے، وجودی نہیں ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ نے کہا: ”زَيْدٌ قَائِمٌ وَعَمْرٌو جَالِسٌ“، میں نے کہا یہاں فصل ہے یا وصل ہے؟ آپ نے کیا کہا؟ ”زَيْدٌ قَائِمٌ وَعَمْرٌو جَالِسٌ“، فصل ہے یا وصل ہے؟ یہاں وصل ہے، کدھر ہے وصل؟ یہ تو حرفِ عطف ہے، جی؟ یہ تو حرفِ عطف ہے۔ تو اعتباری چیز ہے، وصل کیا ہے؟ اعتباری چیز ہے، اس کا کوئی وجود نہیں مولانا۔ تو اسی لیے ”بِمَنْزِلَةِ الْمَلَكَةِ“ کہا اور اس میں بھی کیا کہا؟ ”بِمَنْزِلَةِ الْعَدَمِ“ کہا، ملکہ اور عدم نہیں قرار دیا۔ ”وَالْأَعْدَامُ إِنَّمَا تُعْرَفُ بِمَلَكَاتِهَا“، اور اعدام جو ہوتے ہیں ان کو پہچانا جاتا ہے کس کے مقابلے میں؟ ملکہ کے مقابلے میں۔ تو یہاں ملک، اسی لیے ابتدا اس سے کی: ”بَدَأَ فِي التَّعْرِيفِ بِذِكْرِ الْوَصْلِ“، تو ابتدا کی مولانا وصل کے ذکر کے ساتھ بھئی۔ ”فَقَالَ: اَلْوَصْلُ عَطْفُ بَعْضِ الْجُمَلِ“، مصنف فرماتے ہیں: ”اَلْوَصْلُ عَطْفُ بَعْضِ الْجُمَلِ عَلَىٰ بَعْضٍ“، عطف کرنا ہے بعض جملوں کا بعض پر، بعض پر، صورت سمجھ میں آئی؟ تو بھئی اس پر اشکال ہوتا ہے، آپ نے کیا کہا؟ عطف، وصل کس چیز کا نام ہے؟ بعض جملوں کا بعض پر عطف کرنا۔ کہتے ہیں آپ کی بات درست نہیں ہے، آپ کی بات سے تو یوں معلوم ہوتا ہے عطف صرف جملوں میں ہوتا ہے، غیر جملے میں نہیں، حالانکہ عطف تو مفرد میں بھی ہوتا ہے، آپ کہتے ہیں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو وَبَكْرٌ وَخَالِدٌ“، ساروں میں عطف کر رہے ہیں بھئی، اور اسی، تو وصل ان میں بھی ہوتا ہے، اسی طرح ان میں فصل بھی ہوتا ہے، تو صرف جملوں کی قید لگائی آپ نے یہ تو درست نہیں۔ تو بعض جواب یہ دیتے ہیں بھئی کہ یہاں ٹھیک ہے، وصل اور فصل مفرد میں بھی جاری ہوتا ہے اور وصل اور فصل جملوں میں بھی جاری ہوتا ہے، لیکن یہاں کون سا مقصد ہے بیان کرنا جو جملوں میں جاری ہوتا ہے، اسی لیے اسی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ تو وصل جو ہے عطف ہے بعض جملوں کا بعض پر، ”وَالْفَصْلُ تَرْكُهُ“، اور فصل کیا ہے؟ چھوڑنا ہے، کس کو؟ ”أَيْ تَرْكُ عَطْفِهِ عَلَيْهِ“، بعض جملوں کا بعض پر عطف کو چھوڑنا ہے۔ ”فَإِذَا أَتَتْ جُمْلَةٌ بَعْدَ جُمْلَةٍ“، جب آ جائے ایک جملہ دوسرے جملے کے بعد، ”فَالْأُولَىٰ إِمَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا مَحَلٌّ مِنَ الْإِعْرَابِ أَوْ لَا“، تو یا تو پہلے کے لیے محلِ اعراب ہوگا یا محلِ اعراب نہیں۔ بھئی یاد رکھو، جملے کے لیے محلِ اعراب ہوتا ہے یا محلِ اعراب نہیں ہوتا؟ اگر جملہ مفرد کی جگہ میں واقع ہے تو وہی مفرد والا اعراب جملے کا ہوگا، اگر مفرد کی جگہ میں نہیں واقع تو پھر اس کا کوئی محلِ اعراب نہیں ہوگا۔ مثلاً آپ کیا کہتے ہیں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ”زَيْدٌ“ کیا ہے مولانا؟ مرفوع، مبتدا، ”قَائِمٌ“ کیا ہے؟ مرفوع، خبر، اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہوتی ہے، تو ”قَائِمٌ“ کیا ہے؟ مرفوع۔ اب اس ”قَائِمٌ“ کو ذرا اٹھا کر یہاں ایک جملہ رکھ دو: ”قَامَ“، کیا رکھو؟ ”قَامَ“، تو ”قَامَ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر فاعل جو زید کو راجع، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر یہ پورا ”قَامَ“ جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہے کس کی؟ زید کی۔ تو پہلے ”قَائِمٌ“ مفرد خبر تھا، اب کیا خبر ہے؟ ”قَامَ“، اور ”قَامَ“ کس کی جگہ ہے؟ مفرد کی جگہ ہے، تو جو مفرد کا اعراب تھا وہی اس جملے کا اعراب ہوگا، یعنی یہ ”قَامَ“ اب مرفوع ہے، کیا ہے؟ مرفوع ہے، لیکن جملہ ہے مبنی، تو اس کا اعراب محلاً ہوگا، یوں کہیں گے محل کے اعتبار سے یہ جملہ کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: ”جَاءَ هَٰذَا“، ”جَاءَ هَٰذَا“، تو ”هَٰذَا“ بھی مولانا کیا ہے؟ فاعل ہے، مرفوع ہے، لیکن مبنی ہے، اسم اشارہ ہے، تو کیا کہتے ہیں؟ ”هَٰذَا“ مرفوع ہے محلاً، تو مبنی کا اعراب محلاً ہوتا ہے ہمیشہ، تو اسی طرح ”زَيْدٌ قَامَ“ کے اندر ”قَامَ“ بھی کیا ہے؟ محلاً مرفوع ہے۔ تو جب بھی جملہ مفرد کی جگہ واقع ہوگا، اس کا کوئی نہ کوئی محلِ اعراب ہوگا بھئی۔ کبھی خبر بنے گا جملہ تو بھی محلِ اعراب، کبھی جملہ کیا بنے گا؟ حال بنے گا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَهُوَ رَاكِبٌ“، تو یہ ”وَهُوَ رَاكِبٌ“ پورا جملہ حالیہ ہے، اور حال کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو یہ جملہ بھی کیا ہے؟ منصوب ہے محلاً، منصوب ہے محلاً۔ تو جملے کے لیے محل ہوتا ہے اعراب کا، اور کبھی نہیں بھی ہوتا۔ تو کہتے ہیں دو جملے آپ لاتے ہیں، پہلا جملہ لے کر آئے، اس کے لیے محلِ اعراب ہوگا یا محلِ اعراب نہیں ہوگا۔ اچھا۔ اچھا، اس کے بعد اگر اس کے لیے محلِ اعراب ہے مولانا، کیا ہے؟ محلِ اعراب۔ معلوم ہوا اس کے لیے کوئی حکم ہے، اس جملے کے لیے کوئی حکم ہے، جب محلِ اعراب ہے تو اس کا تعلق ہو رہا ہے کسی، کوئی حکم ہے، اس کے ساتھ متعلق ہے۔ اب اس حکم کے اندر، اس اعراب کے اندر ثانی جملے کو بھی آپ شریک کرنا چاہیں گے یا شریک نہیں کرنا چاہیں گے؟ دیکھیے یہ پہلا جملہ لے کر آئے مولانا، اور اس جملے کا محلِ اعراب ہے یا نہیں ہے؟ محلِ اعراب ہے، مثلاً میں نے کہا: ”زَيْدٌ قَامَ“، تو ”قَامَ“ کیا ہے؟ محلاً مرفوع ہے، اب میں ایک اور جملہ لاتا ہوں: ”يَجْلِسُ“۔ اب اس ”يَجْلِسُ“ کو میں اس ”قَامَ“ کے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں اعراب کے اندر یا شریک نہیں کرنا چاہتا؟ اگر شریک کرنا چاہتا ہوں تو عطف کریں گے، پھر کیا کریں گے؟ عطف کریں گے۔ کیونکہ عطف ہی کی صورت میں پھر شرکت آئے گی نا، اس پہ رفع ہے، میں اس پر بھی کیا چاہتا ہوں؟ رفع چاہتا ہوں، میں اس کو اس کے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں، اور اس کی پھر کیا صورت ہے؟ عطف کریں گے تو پھر یہ شریک ہوگا، عطف نہیں کریں گے پھر تو فصل ہے، منقطع ہے، پھر تو شریک ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا أَتَتْ جُمْلَةٌ بَعْدَ جُمْلَةٍ فَالْأُولَىٰ إِمَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا مَحَلٌّ مِنَ الْإِعْرَابِ أَوْ لَا“، جب آ جائے گا ایک جملہ دوسرے جملے کے بعد، تو پہلا جملہ ہے اس کے لیے یا تو محلِ اعراب ہوگا یا نہیں، ”وَعَلَى الْأَوَّلِ“، اور پہلی صورت میں، کون سی تھی؟ ”أَيْ عَلَىٰ تَقْدِيرِ أَنْ يَكُونَ لِلْأُولَىٰ مَحَلٌّ مِنَ الْإِعْرَابِ“، اس تقدیر پر کہ اول کے لیے محلِ اعراب ہے، ”إِنْ قُصِدَ تَشْرِيكُ الثَّانِيَةِ لَهَا“، ”أَيْ لِلْأُولَىٰ فِي حُكْمِهِ“، اگر ارادہ کیا جائے ثانی جملے کو شریک کرنے کا کس کے ساتھ؟ اول کے ساتھ، ”فِي حُكْمِهِ أَيْ فِي حُكْمِ الْإِعْرَابِ“، اعراب کے حکم میں شریک کرنے کا ارادہ بھی کیا جائے، ”الَّذِي كَانَ لَهَا“، جو کہ کس کے لیے تھا؟ پہلے کے لیے تھا، اسی میں شریک کرنا چاہیں گے یا شریک نہیں کرنا چاہیں گے؟ اگر شریک کرنا چاہیں، تو اچھا، اعراب بھی ہے اول کے لیے، مثال کے طور پر کیسے اعراب ہے؟ ”مِثْلُ كَوْنِهَا خَبَرَ مُبْتَدَإٍ“، جیسے کہ جملہ اول کیا ہے؟ مبتدا کی خبر۔ جیسے ابھی میں نے مثال دے دی بھئی: ”زَيْدٌ قَامَ“ کے اندر ”قَامَ“ کیا ہے؟ خبر ہے، اس کا اعراب ہے، تو یہ خبر ہے، اس کا اعراب ہے، اسی طرح یہ حال ہو پہلا جملہ، ”أَوْ صِفَةً“، یا کیا ہو مولانا؟ صفت ہو، ”أَوْ نَحْوَ ذَٰلِكَ“، یا اس جیسی اور کوئی ہو جو جس پر اعراب ہو۔ تو آپ ثانی کو کیا کرنا، پہلے کے لیے محلِ اعراب بھی ہے اور ثانی کو آپ اس کے ساتھ شریک بھی کرنا چاہتے ہیں، ”عُطِفَتِ الثَّانِيَةُ عَلَيْهَا“، تو عطف کر دیا جائے گا ثانی کا اس پہلے، علی الاولیٰ، پہلے جملے پر، ”لِيَدُلَّ الْعَطْفُ عَلَى التَّشْرِيكِ الْمَذْكُورِ“، تاکہ عطف دلالت کرے اس، وہ جو آپ نے شریک بنایا ہے اس شرکت پر دلالت کرے، ”كَالْمُفْرَدِ“، جیسے کہ مفرد میں آپ کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں: ”جَاءَ زَيْدٌ“، زید کے بعد عمرو بھی لانا چاہتے ہیں اور عمرو کو بھی کیا آپ شریک کرنا چاہتے ہیں کس کے اندر؟ مجیئت کے اندر، تو آپ کیا کریں گے؟ عطف کریں گے بھئی۔ ”فَإِنَّهُ إِذَا قُصِدَ تَشْرِيكُهُ لِمُفْرَدٍ“، اس لیے کہ جب ارادہ کیا جائے شریک کرنے کا ایک، ایک مفرد کو دوسرے مفرد کے ایسے مفرد کے ساتھ جو اس سے پہلے ہے، جب آپ ارادہ کریں ایک مفرد کو شریک کرنے کا ”لِمُفْرَدٍ قَبْلَهُ“، ایسے مفرد کے ساتھ شریک کرنے کا جو اس سے پہلے ہے، ”فِي حُكْمِ إِعْرَابِهِ“، کس چیز میں؟ اعراب کے حکم میں، یعنی کہ ہونا اس کا فاعل یا مفعول وغیرہ جو بھی ہے اس میں آپ اس کو شریک کرنا چاہتے ہیں، ”وَجَبَ عَطْفُهُ عَلَيْهِ“، تو واجب ہے اس پر اول، ثانی کا اس اول پر عطف کرنا۔ ”فَشَرْطُ كَوْنِهِ“، ”أَيْ كَوْنِ عَطْفِ الثَّانِيَةِ عَلَى الْأُولَىٰ“، دوسرے جملے کی پہلے جملے پر عطف کرنے کی شرط، ”فَشَرْطُ كَوْنِهِ أَيْ كَوْنِ عَطْفِ الثَّانِيَةِ عَلَى الْأُولَىٰ مَقْبُولًا بِالْوَاوِ وَنَحْوِهِ أَنْ يَكُونَ“، یہ ”أَنْ يَكُونَ“ خبر ہے مولانا شرط کی۔ شرط کیا ہے؟ آگے شرط ذکر کریں گے: ”أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا جِهَةٌ جَامِعَةٌ“، ان دونوں جملوں میں کیا ہونی چاہیے؟ جہتِ جامعہ۔ یعنی ان دونوں جملوں میں مناسبت ہونی چاہیے۔ عطف تو کرنا چاہتے ہیں آپ، پہلے کے لیے محلِ اعراب ہے، ثانی کے کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اس محل، اس اعراب کے اندر شریک کرنا چاہتے ہیں، تو ان دونوں میں پھر یہ دیکھو کہ ان دونوں میں کوئی مناسبت بھی ہے یا نہیں؟ عقلی اعتبار سے، عقل میں دونوں جمع ہو جاتے ہیں، ایک کے تصور سے دوسرے کا تصور آتا ہے یا نہیں آتا؟ کسی بھی درجے میں مناسبت ہے یا نہیں؟ اچھا، دیکھیے درمیان ہے ”فَشَرْطُ كَوْنِهِ“، تو خبر، ترکیب آ گئی بھئی؟ ”فَشَرْطُ كَوْنِهِ مَقْبُولًا“، تو اس عطف کے مقبول ہونے کی شرط کیا ہے؟ ”أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا جِهَةٌ جَامِعَةٌ“، کہ ان دونوں کے درمیان کیا ہو؟ جہتِ جامعہ ہو۔ تو اس عطف کے مقبول ہونے کی شرط، اس حال میں کہ وہ عطف بالواو، کس کے ساتھ ہو؟ واو کے ساتھ ہو، واو کے ساتھ۔ تو دیکھیے ترجمہ یوں ہوا: ”فَشَرْطُ كَوْنِهِ“، پس شرط اس عطف کے مقبول ہونے کی، پس اس عطف کے مقبول ہونے کی شرط کیا ہے؟ آپ عطف بالواو کرنا چاہتے ہیں: ”أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا جِهَةٌ جَامِعَةٌ“، کہ ان دونوں جملوں میں کیا ہو؟ جہتِ جامعہ، آپس میں مناسبت ہو، جیسے: ”زَيْدٌ يَكْتُبُ وَيَشْعُرُ“، زید کاتب بھی ہے اور شاعر بھی، کتابت بھی کرتا ہے، شاعری بھی کرتا ہے۔ کتابت سے مراد ہے نثر لکھنا مولانا، یہ لکھنا مراد نہیں ہے نثر، یعنی ایک ہے شاعری جو نظم کہنے والا اس کو شاعر کہتے ہیں، ایک نثر ہے مولانا، عام مضامین وغیرہ لکھنے والا اس کو کیا کہیں گے؟ کاتب کہیں گے۔ تو یہاں دیکھو، ”زَيْدٌ يَكْتُبُ“ مولانا، پہلا جملہ ”يَكْتُبُ“ ہے اور اس کے لیے محلِ اعراب ہے، کیونکہ یہ زید کے لیے کیا بن رہا ہے؟ خبر، اور آپ ”يَشْعُرُ“ کو اس کے ساتھ شریک کرنا چاہتے ہیں، تو شرط کیا ہے؟ ان دونوں میں کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت ہونی چاہیے، کہ یہ عطف تب ہی مقبول ہوگا بلغاء کے ہاں کہ جب ان میں کیا ہو؟ کوئی مناسبت ہو، اور کتابت اور شعر میں مناسبت بھی ہے، کیونکہ دونوں کے اندر کلام کو بنایا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ بنایا جاتا ہے، کتابت میں نثر بنائی جاتی ہے اور شاعری کے اندر شعر بنائے جاتے ہیں۔ ”لِمَا بَيْنَ الْكِتَابَةِ وَالشِّعْرِ مِنَ التَّنَاسُبِ الظَّاهِرِ“، بوجہ اس کے کہ کتابت اور شعر کے درمیان تناسب ہے جو کہ ایسا تناسب ہے جو کہ ظاہر ہے۔ ”أَوْ يُعْطِي وَيَمْنَعُ“، ”زَيْدٌ يُعْطِي وَيَمْنَعُ“، یہ دوسری مثال ہے بھئی۔ تو ”يُعْطِي“ ایک جملہ، ”زَيْدٌ يُعْطِي“، ”يُعْطِي“ کیا بن رہا ہے کلام میں؟ خبر، اور اس کے لیے کیا ہوتا ہے؟ محلِ اعراب ہے، اور آپ ثانی جملے کو اس محلِ اعراب کے اندر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ شریک کرنا چاہتے ہیں، اب شرط کیا تھی کہ دونوں جملوں میں کیا ہونی چاہیے؟ کوئی مناسبت، اور یہاں مناسبت ہے بھی مولانا، ”يُعْطِي وَيَمْنَعُ“ میں کیا ہے؟ مناسبت، اعطاء کا معنی دینا، اور منع کا معنی نہ دینا، تو دونوں ایک دوسرے کے ضدین ہیں، دونوں کیا ہیں ایک دوسرے کے؟ اور ضدین ہونا بھی مناسبت ہے، ضدین ہونا بھی کیا ہے؟ مناسبت ہے۔ آپ کہیں گے: کیسے مناسبت ہے، ایک دوسرے کے ضدین ہیں بھئی؟ بھئی ”تُعْرَفُ الْأَشْيَاءُ بِأَضْدَادِهَا“، اشیاء کا کس سے پتہ چلتا ہے؟ اپنے ضدوں سے ہی تو پتہ چلتا ہے، یہ مناسبت ہی تو ہے۔ مثلاً آپ دن کہیں گے تو دن کا پتہ کس سے چلے گا؟ رات سے، یا رات کہیں گے تو رات کا پتہ دن سے چلے گا۔ دن کہیں گے، خود بخود رات کا تصور ذہن میں آئے گا، گرمی کہیں گے، خود بخود سردی کا تصور ذہن میں آئے گا، اول کہیں گے تو خود بخود کس کا ذہن میں، آخر کا ذکر آئے گا، ظاہر کہیں گے، خود بخود کس کا، باطن کا ذکر، ذہن میں تصور آئے گا۔ تو ان سب میں تضاد ہے مولانا، سفید کہیں گے تو خود بخود سیاہ کا تصور، تو ان میں مناسبت ہے بھئی، خود بخود ذہن میں جمع ہو جاتے ہیں بھئی۔ تو یہ اس لیے اب شرط بھی پائی گئی تو لہٰذا عطف کریں گے اور آپ نے عطف کیا: ”زَيْدٌ يُعْطِي وَيَمْنَعُ“۔ ”لِمَا بَيْنَ الْإِعْطَاءِ وَالْمَنْعِ مِنَ التَّضَادِّ“، اس لیے کہ اعطاء اور منع کے درمیان تضاد ہے، بوجہ اس کے جو اعطاء اور منع کے بیچ ہے، کیا؟ ”مِنَ التَّضَادِّ“، یعنی کہ تضاد، یہ بیان ہے۔ ”بِخِلَافِ: زَيْدٌ يَكْتُبُ وَيَمْنَعُ“، ہاں، دیکھیے اب بتائیے، ”زَيْدٌ يَكْتُبُ“، ”يَكْتُبُ“ کیا ہے؟ خبر ہے، اس کے لیے محلِ اعراب ہے یا نہیں؟ اچھا، اور ثانی کو آپ شریک کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ کرنا چاہتے ہیں، اب شرط ہے ان دونوں میں کوئی مناسبت ہے ”يَكْتُبُ وَيَمْنَعُ“ میں؟ ان میں کوئی مناسبت نہیں، لہٰذا عطف بھی جائز نہیں، کتابت اور منع کرنا اور چیز، کوئی ربط ہی نہیں ہے۔ ”أَوْ يُعْطِي وَيَشْعُرُ“، جیسے ”يُعْطِي وَيَشْعُرُ“ ہے، ان میں بھی کوئی مناسبت نہیں، تو لہٰذا یہ درست نہیں۔ ”وَذَٰلِكَ“، اور یہ اس وجہ سے ہے مولانا، ”لِئَلَّا يَكُونَ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا كَالْجَمْعِ بَيْنَ الضَّبِّ وَالنُّونِ“، تاکہ بھئی یہ جو دو کو جمع کریں، دو جملوں کو آپ جمع کریں، یہ اسی طرح نہ ہو جائے جیسے آپ نے گوہ اور مچھلی کو جمع کر دیا ہو، یرحمک اللہ۔ تو آپ نے کیا کیا یہ، اگر آپ ان دو میں مناسبت ہی نہیں ہے پھر آپ ان دو کو جمع کرتے ہیں تو یہ اسی طرح ہے جیسے آپ نے گوہ اور مچھلی کو جمع کر دیا۔ بھئی مچھلی تو آپ جانتے ہیں پانی کے اندر رہتی ہے، پانی کے بغیر اس کا گزارا ہی نہیں، اور گوہ جو ہے یہ پانی کے قریب بھی نہیں جاتا۔ سمجھ میں آیا؟ پیاس ہی نہیں لگتی اس کو، کبھی پانی کہتے ہیں پیتا ہی نہیں ہے۔ تو دونوں میں کوئی، کسی درجے کی کوئی مناسبت نہیں ہے، تو اگر آپ اس قسم کے دو جملوں کو جمع کریں گے تو گویا آپ نے ایک بالکل دو غیر مناسب چیزوں کو آپس میں جمع کر دیا۔ ”وَقَوْلُهُ: وَنَحْوِهِ“، بھئی درمیان میں مصنف نے کیا کہا تھا؟ کہ عطف کے مقبول، عطف بالواو کے مقبول ہونے کی شرط بھئی، ”وَنَحْوِهِ“، عطف بالواو ہو یا واو جیسوں کے ساتھ عطف ہو، یعنی فا، ثم وغیرہ۔ بھئی توجہ سے بیٹھنا بھئی، کیا کہا تھا: ”مَقْبُولًا بِالْوَاوِ وَنَحْوِهِ“، کہ عطف بالواو کے مقبول ہونے کی شرط اور عطف بنحو الواو کے، یعنی واو کے ساتھ عطف کرنا ہے اس کے مقبول ہونے کے لیے بھی یہ شرط ہے، یا واو جیسے جو ہیں ان کے ساتھ عطف کرنا ہے تو اس عطف کے مقبول ہونے کے لیے بھی یہ شرط ہے، یہ شرط ہے۔ اچھا، کہتے ہیں: ”وَنَحْوُهُ“ جو قول ذکر کیا، ”أَرَادَ بِهِ“، ارادہ کیا مصنف نے اس کے ساتھ اس چیز کا، ”مَا يَدُلُّ عَلَى التَّشْرِيكِ“، جو دلالت کرتے ہیں کس پر؟ شریک بنانے پر حکم کے اندر واو کی طرح، ”كَالْفَاءِ“، جیسے کیا ہے؟ فا ہے، ”ثُمَّ“ ہے، ”حَتَّىٰ“ ہے، یہ بھی عطف کے لیے آتے ہیں۔ ”وَذِكْرُهُ حَشْوٌ“، اس کا ذکر کیا ہے؟ زائد ہے، زائد ہے، ”مُفْسِدٌ“، اور صرف زائد ہی نہیں ہے بلکہ کیا کر رہا ہے؟ فاسد بھی کر رہا ہے معنیٰ کو، ”لِأَنَّ هَٰذَا الْحُكْمَ مُخْتَصٌّ بِالْوَاوِ“، اس لیے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ دونوں میں جہتِ جامعہ ہونی چاہیے یہ شرط ہے، یہ حکم خاص ہے مولانا کس کے ساتھ؟ واو کے ساتھ، واو میں جب عطف کرنا چاہتے ہیں تو دونوں میں جہتِ جامعہ ہونی چاہیے، ثم، حتی وغیرہ میں نہیں۔ ”لِأَنَّ هَٰذَا الْحُكْمَ مُخْتَصٌّ بِالْوَاوِ“، اس لیے کہ یہ حکم خاص ہے واو کے ساتھ، ”لِأَنَّ لِكُلٍّ مِنَ الْفَاءِ وَثُمَّ وَحَتَّىٰ مَعْنًى مُحَصَّلًا غَيْرَ التَّشْرِيكِ وَالْجَمْعِيَّةِ“۔ بھئی ان کے لیے کیوں شرط نہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ فا، ثم، حتی ہر ایک کے ایسے معنیٰ ہیں جو حاصل ہیں علاوہ تشریق اور جمعیت کے۔ بھئی واو صرف کس لیے آتا ہے؟ دو چیزوں کو جمع کرتا ہے، اور کوئی واو فائدہ دیتا ہے؟ اور کوئی اس کا معنی ہے؟ ”جَاءَ زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ میں واو نے اور کوئی فائدہ دیا؟ اتنا پتہ ہے زید بھی آیا اور عمرو بھی، نہ ترتیب آئی، نہ ان کا اکٹھے آنا، یہ بھی نہیں ثابت دونوں اکٹھے آئے، یہ بھی ہو سکتا ہے مولانا زید پہلے آیا ہو اور عمرو بعد میں، یا عکس بھی ہو سکتا ہے عمرو پہلے آیا ہو اور زید بعد میں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے عمرو کے آتے ہی زید آ گیا ہو، یا عمرو کے آنے کے سال بعد زید آیا ہو، تو چاہے اکٹھے آئے ہوں، چاہے الگ الگ آئے ہوں، چاہے جو بھی پہلے آیا ہو، یہ درمیان میں تراخی ہو یا تراخی نہ ہو، واو نے کسی چیز کا فائدہ نہیں دیا، صرف یہ فائدہ دیا کہ آنے میں زید بھی ہے اور آنا زید کے لیے بھی ثابت ہے اور آنا عمرو کے لیے بھی ثابت ہے۔ جبکہ، تو لہٰذا جب واو کے ساتھ عطف کرتے ہیں تو درمیان میں کوئی جہتِ جامعہ ہونی چاہیے، کوئی مناسبت ہونی چاہیے، جبکہ فا، ثم اور حتی کے اور معنیٰ بھی ہیں۔ فا کس لیے آتا ہے مولانا؟ تعقیب مع الوصل کے لیے، اور ثم کس لیے آتا ہے؟ تعقیب مع التراخی کے لیے آتا ہے، اور حتی کس لیے آتا ہے؟ وہ بھی تعقیب مع التراخی کے لیے آتا ہے لیکن وہ تراخی ذہن میں ہوتی ہے، خارج میں نہیں ہوتی، ذہن میں آپ چیزوں کو ترتیب دیتے ہیں اعلٰی سے ادنیٰ کی طرف یا ادنیٰ سے اعلٰی کی طرف۔ تو فا، ثم اور حتی کے ایسے معنیٰ ہیں جو حاصل ہیں، ”غَيْرَ التَّشْرِيكِ“، علاوہ کس کے؟ تشریق، واو تو دو چیزوں کو شریک کرتا تھا نا، یہ علاوہ تشریق کے اور بھی فائدہ دے رہے ہیں، ”وَالْجَمْعِيَّةِ“، اور دونوں کو جمع کرنے کے علاوہ اور زائد فائدہ بھی دے رہے ہیں۔ ”فَإِنْ تَحَقَّقَ هَٰذَا الْمَعْنَى“، پس اگر یہ معنیٰ جو کس کے ساتھ آتا ہے؟ فا، ثم اور حتی کے ساتھ، وہ معنیٰ محصَّل اس کا اگر تحقق ہوا، اس کا کیا ہوا؟ اگر وہ پایا جائے، ”حَسُنَ الْعَطْفُ“، تو عطف کیا ہے؟ بہتر ہے بھئی، ”وَإِنْ لَمْ تُوجَدْ جِهَةٌ جَامِعَةٌ“، اگرچہ جہتِ جامعہ نہ پائی جائے، جہتِ جامعہ نہ پائی جائے۔ بھئی واو میں انہوں نے کیا بتایا؟ دونوں کے درمیان کوئی مناسبت ہونا شرط ہے، اسی وجہ، مناسبت کے بغیر واو کے ساتھ عطف کرنا درست نہیں، لیکن فا، ثم، حتی میں مناسبت بالکل نہ ہو لیکن تراخی ہے، کیا ہے؟ تراخی، تو فا لے آؤ، اگرچہ دونوں میں اور کوئی مناسبت نہیں ہے لیکن اول اور ثانی میں کیا ہے؟ تراخی ہے تو فا لے آؤ، اسی طرح ثم لے آؤ اگر تراخی ہے، اگر صرف تعقیب ہے تراخی نہیں ہے، ایک پہلے ہے اور دوسرا بعد میں ہے، تو پھر بھی فا لے آؤ اگرچہ اور کوئی درمیان میں مناسبت نہیں ہے۔ جیسے: ”زَيْدٌ كَتَبَ فَمَنَعَ“، یا ”زَيْدٌ كَتَبَ فَأَعْطَى“، دیکھو ”كَتَبَ“ اور ”أَعْطَى“ کے اندر کوئی مناسبت نہیں، ابھی انہوں نے آپ کو بتایا، لیکن زید نے تحریر لکھی اور پھر فوراً اس کے بعد کیا کیا؟ اعطاء کیا، اب دونوں میں مناسبت اور تو کوئی نہیں لیکن ایک چیز پہلے ہے دوسری چیز بعد میں ہے، تو تعقیب آ گئی تو اب آپ فا کے ساتھ عطف کر سکتے ہیں، اگرچہ درمیان میں کوئی جہتِ جامعہ نہیں ہے۔ ”فَإِنْ تَحَقَّقَ هَٰذَا الْمَعْنَى حَسُنَ الْعَطْفُ“، پس اگر یہ معنیٰ اس کا تحقق ہو جائے یعنی یہ ثابت ہو جائے تو ”حَسُنَ الْعَطْفُ“، تو عطف اچھا ہے، ”وَإِنْ لَمْ تُوجَدْ جِهَةٌ جَامِعَةٌ“، اگرچہ جہتِ جامعہ نہ پائی جائے، ”بِخِلَافِ الْوَاوِ“، بخلاف کس کے؟ واو کے، اس لیے کہ واو کے اندر جہتِ جامعہ کا ہونا ضروری ہے۔ ”وَلِهَٰذَا“، اور اسی وجہ سے، کس وجہ سے؟ کہ ”لِأَنَّهُ لَا بُدَّ فِي الْوَاوِ مِنْ جِهَةٍ جَامِعَةٍ“، کہ واو کے اندر جہتِ جامعہ کا ہونا ضروری ہے، اسی وجہ سے: ”عِيبَ عَلَىٰ أَبِي تَمَّامٍ“، ابی تمام ہے مولانا، میم مشدد ہے یہ میم بفتح التاء، جی، ابی تمام جو ہے یہ حماسہ کا شاعر، جی، حماسہ، حماسہ کے اشعار جس نے اکٹھے کیے ہیں بھئی، تو بہادری اور شجاعت والے اور جنگوں والے اشعار جمع کیے ہیں اس نے حماسہ کتاب میں بھئی، تو ابی تمام شاعر جو ہے کہتا ہے: ”عِيبَ عَلَىٰ أَبِي تَمَّامٍ قَوْلُهُ“، یہ بدلِ اشتمال ہوگا کس سے مولانا؟ ابی تمام سے، عیب لگایا گیا ہے ابی تمام پر، یعنی کہ اس کے قول پر۔ ابو تمام نے یہ شعر کہا، اس پر بلغاء نے اعتراض کیا، اس نے یہاں عطف بالواو کیا اور عطف بالواو کے لیے کیا ضروری ہے؟ مناسبت، اور ان دو جملے جو آگے دیکھنا ذکر ہوں گے، کوئی مناسبت نہیں، ابو تمام نے پھر عطف کیا ہے۔ ”لَا وَالَّذِي هُوَ عَالِمٌ أَنَّ النَّوَىٰ صَبِرٌ وَأَنَّ أَبَا الْحُسَيْنِ كَرِيمُ“ ”لَا“، لا کے نفی ہے، ماقبل شعر سے تعلق ہے اس کا مولانا، ماقبل شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میری معشوقہ یہ سمجھتی ہے کہ شاید میری محبت اس کے ساتھ ختم ہو گئی ہے اور میں نے اس کی فکر کرنا چھوڑ دی ہے، کہتا ہے: ”لَا“، ایسی بات نہیں ہے، ”وَالَّذِي“، قسم ہے اس ذات کی، ”هُوَ عَالِمٌ“، جو جاننے والی ہے، کس بات کو؟ ”أَنَّ النَّوَىٰ صَبِرٌ“، اس بات کو جاننے والی، یہ مفعول ہے عالم کا، اس بات کو جاننے والی ہے کہ جدائی جو ہے ”صَبِرٌ“، وہ بڑی کڑوی ہے، جدائی کیا ہے؟ بڑی کڑوی ہے، ”وَأَنَّ أَبَا الْحُسَيْنِ كَرِيمُ“، اور جو یہ جاننے والی ہے کہ ابوالحسین بڑا سخی آدمی ہے، بڑا سخی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو، ”عَالِمٌ“، علم یعلم کے بعد اِنَّ آتا ہے یا اَنَّ آتا ہے؟ اَنَّ، کیونکہ وہ جو آگے ہوتا ہے وہ مفعول ہوتا ہے کس کا؟ علم کا، یہاں بھی ”عَالِمٌ“ کے بعد اَنَّ لائیں گے: ”أَنَّ النَّوَىٰ صَبِرٌ“، یہ ایک جملہ، ”وَأَنَّ أَبَا الْحُسَيْنِ كَرِيمُ“، یہ کیا ہے؟ دوسرا جملہ، اور یہ معطوف معطوف علیہ مل کر ”عَالِمٌ“ کے لیے کیا ہوئے؟ قائم مقام ہوئے کس کے؟ جی، منصوب محلاً ہوئے، مفعول ہوئے کس کے لیے؟ ”عَالِمٌ“ کے لیے۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ تو یہ عطف ہوا، تو دیکھیے بھئی قسم ہے اس ذات کی جو یہ جانتی ہے کہ ہجر بڑا کڑوا ہے اور ابوالحسین سخی ہے، تو دیکھو عطف کیا ”وَأَنَّ أَبَا الْحُسَيْنِ كَرِيمُ“، کس پر عطف کیا اس کا؟ ”أَنَّ النَّوَىٰ صَبِرٌ“، ”صَبِرٌ“ پر، اس پر عطف کیا۔ اب وہ ضابطے ذرا لگاؤ بھئی، ”أَنَّ النَّوَىٰ صَبِرٌ“ یہ جملہ، اس کے لیے محلِ اعراب ہے یا محلِ اعراب نہیں ہے؟ کیا ہے یہ؟ منصوب ہے، مفعول ہے کس کا؟ ”عَالِمٌ“ کا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا جیسے فعل، فاعل اور مفعول کو چاہتا ہے، اسم فاعل بھی کس کو چاہتا ہے؟ فاعل اور مفعول کو چاہتا ہے۔ تو یہاں یہ مفعول ہوا ”عَالِمٌ“ کا، تو اس کے لیے محلِ اعراب ہوا، اب اس کے بعد دوسرا جملہ آیا: ”وَأَنَّ أَبَا الْحُسَيْنِ كَرِيمُ“، اب شاعر کیا چاہتا ہے؟ ثانی کو حکم دے دے، کس کا؟ اول، شریک کرنا چاہتا ہے، اسی کا اعراب اس کو بھی دینا چاہتا ہے، تو کیا کریں گے؟ عطف کریں گے، لیکن عطف کے لیے شرط کیا تھی؟ دونوں کے اندر جہتِ جامعہ ہو، اور یہاں کوئی جہتِ جامعہ نہیں، دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے، جدائی کڑوی ہے، ابوالحسین سخی ہے، کوئی مناسبت درمیان میں؟ تو یہ واو کے ساتھ عطف کیا، یہ درست نہیں، یہ بلغاء نے اعتراض کیا ابو تمام پر اور اس کے شعر کو رد کیا بھئی۔ ”إِذْ لَا مُنَاسَبَةَ“، تو یہ عیب ہے مولانا اس شعر کے اندر بھئی، یہ ایک عیب ہے، ”إِذْ لَا مُنَاسَبَةَ بَيْنَ كَرَمِ أَبِي الْحُسَيْنِ“، اس لیے کہ کوئی مناسبت نہیں ہے ابوالحسین کی سخاوت میں، ”وَمَرَارَةِ النَّوَىٰ“، اور مولانا جدائی کی کڑواہٹ میں، ”فَهَٰذَا الْعَطْفُ غَيْرُ مَقْبُولٍ“، یہ عطف جو ہے مقبول نہیں ہے بھئی بلغاء کے ہاں، ”سَوَاءٌ جُعِلَ عَطْفُ مُفْرَدٍ عَلَىٰ مُفْرَدٍ“، چاہے اس کو بنایا جائے بھئی عطفِ مفرد علی المفرد، ”كَمَا هُوَ ظَاهِرٌ“، جیسے کہ یہ ظاہر ہے، اس لیے کہ آپ نے پڑھا ہے اَنَّ اپنے، اَنَّ داخل ہوتا ہے مبتدا اور خبر پر، تو اَنَّ کے بعد ”النَّوَىٰ“ اَنَّ کا اسم اور ”صَبِرٌ“ اس کی خبر، لیکن اَنَّ نے اس پورے جملے کو مفرد کے حکم میں کر دیا، تو یہ مفرد کے حکم میں ہے، مفعول ہوا ”عَالِمٌ“ کا، تو دونوں مفرد کے حکم میں ہیں تو عطفِ مفرد علی المفرد، چاہے آپ اس کو عطفِ مفرد علی المفرد بنا دیں جیسے کہ ظاہر ہے، ”أَوْ عَطْفُ جُمْلَةٍ عَلَىٰ جُمْلَةٍ“، یا اس کو کیا بنا دیں؟ عطفِ جملہ علی الجملہ۔ کیونکہ اصل میں تو جملے ہیں یا نہیں مولانا؟ اَنَّ نے مفرد بنایا، تو چاہے آپ جملے کی تاویل میں اس کو لے لیں: ”بِاعْتِبَارِ وُقُوعِهِمَا مَوْقِعَ مَفْعُولَيْ عَالِمٍ“، اس لیے کس کی جگہ واقع ہوئے ہیں؟ ”عَالِمٌ“ کے دو مفعولوں کی جگہ بھئی، اور عالم افعالِ قلوب میں سے ہے اور افعالِ قلوب کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو، اور وہ دو مفعول آپس میں مبتدا خبر ہوتے ہیں۔ ”زَيْدٌ فَاضِلٌ“ تھا مولانا، آپس میں کیا ہے؟ مبتدا، خبر، پھر میں نے کہا: ”عَلِمْتُ زَيْدًا فَاضِلًا“، میں نے زید کو کیا جانا؟ تو دیکھا وہی جو مبتدا خبر تھے اب ”عَلِمْتُ“ کے لیے کیا بن گئے؟ دو مفعول بن گئے۔ تو یہ بھی دو عالم کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہیں، تو جملے ہیں مولانا تاویل کی جائے، ”لِأَنَّ وُجُودَ الْجَامِعِ شَرْطٌ فِي الصُّورَتَيْنِ“، اس لیے کہ جامع کا ہونا شرط ہے دونوں صورتوں میں، جہتِ جامعہ کا ہونا شرط ہے، بھئی چاہے آپ عطف کریں مفرد کا مفرد پر یا جملے کا عطف کس پر کریں؟ جملے پر، دونوں صورتوں میں آپس میں کیا ہونی چاہیے؟ جہتِ جامعہ ہونی چاہیے بھئی، کوئی مناسبت ہونی چاہیے۔ ”وَقَوْلُهُ: لَا نَفْيٌ“، اور ماتن نے جو کہا نا، شاعر نے کہا: ”لَا وَالَّذِي“، یہ جو ”لَا“ ہے، ”لَا نَفْيٌ لِمَا ادَّعَتْهُ الْحَبِيبَةُ“، یہ نفی ہے اس چیز کی جس کا دعویٰ محبوبہ نے کیا ہے، ”عَلَيْهِ“، شاعر پر، من یہ بیان ہے کس چیز کا دعویٰ کیا ہے؟ یعنی ”انْدِرَاسِ هَوَاهُ“، اس شاعر کی، اس شاعر کی محبت کے مٹنے کا، اندراج کا معنی مٹنا، مٹنا، ہوا کا معنی محبت، ”هَوَاهُ“ شاعر کی محبت، تو محبوبہ نے دعویٰ کیا تھا شاعر کی محبت کے مٹنے اور ختم ہو جانے کا، ”بِدَلَالَةِ الْبَيْتِ السَّابِقِ“، کس کی دلالت کے سبب سے؟ بیتِ سابق کی، گزشتہ شعر کی دلالت سے یہ پتہ چلا۔ ”وَإِلَّا“، ”أَيْ وَإِنْ لَمْ يُقْصَدْ تَشْرِيكُ الثَّانِيَةِ“، اچھا اس کا تعلق اس سے ہے۔ پہلے کے لیے کیا ہے؟ محلِ اعراب، جواب دیں بھئی، توجہ سے بیٹھو، پہلے کے جملے کے لیے کیا ہے؟ محلِ اعراب، اور ثانی کو بھی آپ اس کے ساتھ اس اعراب میں کیا کرنا چاہتے تھے؟ اور اگر شریک نہ کرنا چاہیں، ”وَإِلَّا“، اگر ایسا نہ ہو، ”أَيْ وَإِنْ لَمْ يُقْصَدْ تَشْرِيكُ الثَّانِيَةِ لِلْأُولَىٰ فِي حُكْمِ إِعْرَابِهَا“، اگر ارادہ نہ کیا جائے ثانی کو شریک کرنے کا پہلے جملے کے ساتھ اعراب کے حکم میں، ”فُصِلَتِ الثَّانِيَةُ“، تو پھر کیا کریں گے؟ فصل کریں گے عنہا اول سے، ”لِئَلَّا يَلْزَمَ مِنَ الْعَطْفِ التَّشْرِيكُ الَّذِي لَيْسَ بِمَقْصُودٍ“، تاکہ کہیں لازم نہ آ جائے عطف سے دونوں کا آپس میں شریک کرنا جو کہ مقصود ہی نہیں ہے۔ ”نَحْوُ: وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ، اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“۔ دیکھیے، ”اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“ اس سے پہلے کوئی حرفِ عطف ہے، واو ہے؟ تو یہاں فصل کیا گیا، فصل کیا گیا، اس لیے، کیوں؟ اس سے پہلے ایک جملہ آیا مولانا: ”إِنَّا مَعَكُمْ“، ”إِنَّا مَعَكُمْ“، ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ کی بات نہیں کریں گے کیونکہ یہ ماقبل کے لیے بیان ہے، ماقبل کے لیے بیان ہے، تو بیان اور مبین کا ایک ہی حکم ہوتا ہے، آگے خود بھی آپ کو بتلائیں گے۔ ”إِنَّا مَعَكُمْ“ اس پر عطف، یہ ”قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ“، بھئی ”إِنَّا مَعَكُمْ“ کے لیے محلِ اعراب ہے یا نہیں ہے؟ یہ مقولہ ہے قول کا، اور مقولہ کیا ہوتا ہے؟ مفعول ہوتا ہے، تو اس کا محل کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ دیکھیں: ”قُلْتُ زَيْدٌ قَائِمٌ“، میں نے کہا: "زید قائم ہے"، تو قائل کون؟ متکلم، اور کہا کیا؟ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، تو وہ مفعول ہوا، وہ کیا ہوا؟ مفعول ہوا، تو اس کے لیے محل ہوتا ہے مولانا مقولے کے لیے، منصوب ہوگا، تو ”إِنَّا مَعَكُمْ“ مقولہ ہے قول کا، یہ بھی منصوب ہے مولانا۔ اب آگے آ رہا ہے: ”اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“، اس کا عطف اس جملے پر نہیں کیا گیا۔ ”لَمْ يُعْطَفْ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“، عطف نہیں کیا گیا ”اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“ کا ”عَلَىٰ إِنَّا مَعَكُمْ“، ”إِنَّا مَعَكُمْ“ پر، کیوں؟ ”لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَقُولَتِهِمْ“، اس لیے کہ یہ ان کے مقولے میں سے نہیں ہے۔ انہوں نے کیا کہا؟ انہوں نے، ”وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ“، اور جب یہ مولانا خلوت میں جاتے ہیں اپنے شیاطین، اپنے سرداروں کے پاس، ”قَالُوا“، تو یہ کہتے ہیں: ”إِنَّا مَعَكُمْ“، ہم کیا ہیں؟ تمہارے ساتھ ہیں، ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“، ہم تو مذاق ہی کر رہے تھے، ”اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“، اللہ ان کے مذاق کا بدلہ دیتے ہیں۔ اچھا، تو یہ ”اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“ یہ ان کا مقولہ نہیں ہے بھئی، ان کا مقولہ تو صرف کیا ہے؟ ”إِنَّا مَعَكُمْ“ اور ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“، تو اگر عطف کر دیا جاتا تو پھر کیا وہم پڑتا؟ کہ یہ بھی مقولہ ہے، حالانکہ یہ تو مقولہ نہیں ہے۔ ”فَلَوْ عُطِفَ عَلَيْهِ لَزِمَ تَشْرِيكُهُ“، اگر اس پر عطف کر دیا جاتا تو لازم آتا شریک کرنا اس جملہ ثانیہ کو لہ اس، کس کے ساتھ؟ جی، ”تَشْرِيكُهُ“ ضمیر راجع ہے ”اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“ کو، اور ”لَهُ“ راجع ہے مولانا ”إِنَّا مَعَكُمْ“ کو، تو ”إِنَّا مَعَكُمْ“ کے ساتھ اس کو شریک کرنا لازم آتا، ”فِي كَوْنِهِ مَفْعُولَ قَالُوا“، اس بات میں قالوا کا مفعول ہونے میں، ”إِنَّا مَعَكُمْ“ کے قالوا کا، ”إِنَّا مَعَكُمْ“ قالوا کا مفعول ہے، اس میں دوسرے کو بھی شریک کرنا لازم آتا، ”فَيَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ مِنْ مَقُولِ قَوْلِ الْمُنَافِقِينَ“، تو لازم آتا کیا؟ کہ یہ بھی مقولہ ہے منافقین کے قول کا، ”وَلَيْسَ كَذَٰلِكَ“، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ”فَحُكْمُهُ حُكْمُهُ“، تو اس ثانی کا حکم بھی، اچھا، ”وَإِنَّمَا قَالَ“، ”وَإِنَّمَا قَالَ عَلَىٰ إِنَّا مَعَكُمْ“، بھئی ماتن نے یہ کہا، ماتن نے کیا کہا؟ ”لَمْ يُعْطَفْ“، عطف نہیں کیا گیا کس کا؟ ”اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ“ کا، کس پر؟ ”إِنَّا مَعَكُمْ“ پر۔ تو ”إِنَّا مَعَكُمْ“ کہا، ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ نہیں کہا، حالانکہ یہ قریب تھا، یہ کہنا چاہیے تھا۔ ”وَإِنَّمَا قَالَ عَلَىٰ إِنَّا مَعَكُمْ لِأَنَّ قَوْلَهُ“، کیونکہ ماتن کا یہ جو ہے، کیونکہ یہ جو قول ہے مولانا ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ بیان ہے، یہ بیان ہے کس کے لیے؟ ”إِنَّا مَعَكُمْ“ کے لیے، ”فَحُكْمُهُ حُكْمُهُ“، تو جو حکم ”إِنَّا مَعَكُمْ“ کا ہے وہی حکم کس کا ہے؟ ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ کا، جی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو مولانا یہ بیان ہے، یہ کیا ہے؟ ”إِنَّا مَعَكُمْ“ مبین، ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ اس کا بیان، اور مبین اور بیان کا حکم ایک ہی ہوتا ہے، مبین اور مبین کا ایک ہی حکم ہوتا ہے، جی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بیان وہاں لاتے ہیں جہاں پہلے جملے میں کیا ہو؟ خفا ہو، اس میں کچھ ابہام ہو، جب ابہام ہوگا تو بیان لاتے ہیں تاکہ بات کو کیا کر دیا جائے؟ واضح کر دیا جائے، اس کو ظاہر کر دیا جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلے کو مبین بنایا جاتا ہے، ثانی جملے کو بیان بنایا جاتا ہے، حالانکہ یہاں ”إِنَّا مَعَكُمْ“، "ہم تمہارے ساتھ ہیں"، اس میں کوئی خفا ہے؟ یہ تو بات ظاہر ہے، ہم تمہارے ساتھ ہیں، تو پھر یہ اس کے لیے کیسے بیان بنے گا بھئی؟ تو اسی وجہ سے بعض لوگوں نے اس کو کیا کہا کہ یہ مولانا ماقبل کے لیے تاکید ہے، بیان نہیں بنایا، کیونکہ ماقبل کے جملے میں خفا ہی نہیں تو یہ اس کے لیے بیان نہیں بنا، تو انہوں نے کہا یہ ماقبل کے لیے تاکید ہے۔ وہ مؤکد ہے اور یہ تاکید ہے، بھئی تاکید کیسے ہے؟ اس کا تو معنی ہے ”إِنَّا مَعَكُمْ“، "ہم تمہارے ساتھ ہیں"، اور اس کا معنی ہے ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“، "ہم کیا کرتے ہیں؟ مذاق کرتے ہیں"، تو معنیٰ ہی دونوں کا الگ الگ ہے، یہ مؤکد تاکید کیسے بن سکتے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی معنیٰ دوسرے کا بھی وہی ہے، اس لیے کہ ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ جو انہوں نے کہا، پہلا جملہ کیا ہے؟ ”إِنَّا مَعَكُمْ“، ثانی کیا ہے؟ ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“، اس لیے کہ جو استہزاء کرے گا یقیناً وہ اسلام کی کیا کر رہا ہے؟ نفی کر رہا ہے، اور جو اسلام کی نفی کرے گا یقیناً وہ گمراہی پر ہوگا، اور یقیناً جو گمراہی پر ہوگا وہ کفار کے ساتھ ہوگا، وہ کیا ہوگا؟ کفار کے ساتھ ہوگا، تو آپس میں کیا ہے؟ مناسبت ہے، مناسبت، اور یہ اس کی تاکید ہے مولانا، بعینہٖ اسی کا معنی ہے۔ یا بعضوں نے کہا کہ یہ ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ یہ اس کے لیے بدلِ اشتمال ہے، کیا ہے؟ بدلِ اشتمال ہے۔ کس طرح؟ کہ اس میں ان دونوں میں تعلق ہے، بدلِ اشتمال اسی کو کہتے ہیں نا؟ کس کو کہتے ہیں بدلِ اشتمال؟ ”سُلِبَ زَيْدٌ ثَوْبُهُ“، جو کیا ہو؟ جو مبدل، مبدل منہ سے پر، مبدل منہ اس پر مشتمل ہو، یعنی اس سے متعلق ہو، اس سے کیا ہو؟ متعلق ہو، تو جیسے ”سُلِبَ زَيْدٌ ثَوْبُهُ“، ”ثَوْبُهُ“ کا تعلق ہے کس سے؟ زید سے۔ تو یہاں پر بھی انہوں نے کہا: ”إِنَّا مَعَكُمْ“، ہم تمہارے ساتھ ہیں، اور ان کے ساتھ ہونے کے ساتھ لازم ہے اسلام کی تحقیر، یعنی معلوم ہوا اسلام کو وہ حقیر سمجھتے ہیں اسی لیے کس کے ساتھ ہیں؟ اور تحقیر کے ساتھ کیا ہے؟ استہزاء ہے، کیا ہے؟ تو آپس میں تعلق آ گیا یا نہیں مولانا؟ تعلق آ گیا، اور یہی بدلِ اشتمال میں ہوتا ہے، آپس میں تعلق ہوتا ہے۔ اچھا، بعضوں نے اس کو استینافیہ بنایا بھئی، استیناف جملہ کو، استینافِ بیانی بنایا، استیناف کس کو کہتے ہیں؟ جی، ایک استیناف علمِ نحو کے اندر ہے، ایک استیناف علمِ بلاغت کے اندر ہے۔ بلاغت کے اندر استیناف کہتے ہیں کہ سوالِ مقدر کا جواب ہو جملہ، جملہ سوالِ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جملہ مستانفہ۔ اور علمِ نحو کے اندر ماقبل سے تعلق نہ ہو، چاہے سوالِ مقدر کا جواب ہو یا جواب نہ ہو، اس کو جملہ مستانفہ کہتے ہیں۔ تو یہاں استینافِ بیانی مراد ہے، بعضوں نے کہا جملہ مستانفہ ہے یعنی سوالِ مقدر کا جواب ہے، سوالِ مقدر کس طرح ہے؟ دیکھو، ”إِنَّا مَعَكُمْ“، ہم بے شک تمہارے ساتھ ہیں، اس پر انہوں نے سوال پیدا ہوا بھئی کفار کی طرف سے، کہ کیسے ہمارے ساتھ ہو؟ تم تو مومنین کے پاس جاتے ہو اور ان کے پاس جا کر کہتے ہو ہم مومن ہیں، تو انہوں نے کہا: ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“، وہ تو ہم ان سے کیا کرتے ہیں؟ مذاق، استہزاء کرتے ہیں۔ تو اسی لیے بعضوں نے اس کو بیان نہیں بنایا کیونکہ بیان تو آتا ہے جبکہ پہلے جملے میں خفا ہو، اور یہاں پہلے جملے میں خفا نہیں، چنانچہ بعضوں نے اس کو تاکید بنایا، بعضوں نے اس کو بدلِ اشتمال بنایا، بعضوں نے اس کو جملہ مستانفہ بنایا۔ تو جواب یہ دیا بعضوں نے ماتن کی طرف سے بھئی، شارح کی طرف سے، علامہ تفتازانی کی طرف سے، کہ بھئی بیان سے مراد وہ اصطلاحی بیان نہیں ہے بلکہ یہاں بیان سے مراد ہے وضاحت بھئی، کیا ہے؟ وضاحت، بس ماقبل کلام کی وضاحت ہو رہی ہے، یہ وہ اصطلاحی بیان نہیں ہے کہ پہلے میں خفا ہو اور پھر دوسرا اس کے لیے بیان بنے۔ ”وَأَيْضًا“، اچھا تو ماتن نے کہا ”إِنَّا مَعَكُمْ“، ”إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ“ کے اوپر عطف کا ذکر نہیں کیا، کیونکہ وہ بیان ہے اور مبین اور بیان کا حکم ایک ہی ہوتا ہے۔ ”وَأَيْضًا الْعَطْفُ عَلَى الْمَتْبُوعِ هُوَ الْأَصْلُ“، نیز متبوع پر عطف یہ کیا ہے؟ اصل ہے۔ اس پر کیا، عطف کس پر کرنا چاہیے؟ اصل میں راجح کیا ہے؟ متبوع پر، بھئی ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو وَبَكْرٌ“، کس پر عطف ہے؟ اصل پہ کریں گے یا تابع، یہاں تو تابع نہیں ہے، التابع پر کریں گے یا متبوع پر کریں گے عطف؟ متبوع پر کریں گے، کیا کریں گے؟ متبوع پر، تو یہ تو تابع ہے، وہ متبوع ہے بھئی۔ ”وَعَلَى الثَّانِي“، اچھا جی، یہ دوسری صورت۔ آپ نے کیا کہا تھا؟ پہلے جملے کے لیے محلِ اعراب ہوگا یا محلِ اعراب نہیں ہوگا، اگر محلِ اعراب ہے تو پھر آپ ثانی کو شریک کرنا چاہیں گے یا شریک نہیں؟ اگر شریک کرنا چاہیں تو پھر دیکھیں دونوں میں جہتِ جامعہ ہے یا جہتِ جامعہ نہیں؟ اگر جہتِ جامعہ ہو تو پھر کیا کریں گے؟ واو کے ساتھ وصل کر دیں گے، اور اگر آپ دوسرے کو پہلے کے ساتھ شریک نہیں کرنا چاہتے اعراب میں تو پھر کیا کریں گے؟ فصل کریں گے۔ اچھا، اب پہلی صورت کہ پہلے کے لیے آپ نے کہا تھا محلِ اعراب ہوگا یا محلِ اعراب نہیں ہوگا، جو اگر نہ ہو تو پھر یوں ہوگا، دیکھیے بھئی۔ ”وَعَلَى الثَّانِي“، ”أَيْ عَلَىٰ تَقْدِيرِ أَنْ لَا يَكُونَ لِلْأُولَىٰ مَحَلٌّ مِنَ الْإِعْرَابِ“، کہ نہ ہو جملہ اولیٰ کے لیے محل، محلِ اعراب، ”إِنْ قُصِدَ رَبْطُهَا بِهَا“، اگر ارادہ کیا جائے ربط، کس کا ربط؟ ”رَبْطُهَا بِهَا أَيْ رَبْطُ الثَّانِيَةِ بِالْأُولَىٰ“، ثانی کے ربط کا کس کے ساتھ؟ اول کے ساتھ۔ آپ جملہ ثانیہ کو مربوط کرنا چاہتے ہیں اولیٰ کے ساتھ، ”عَلَىٰ مَعْنًى عَاطِفٍ سِوَى الْوَاوِ“، ایک عاطف کے معنیٰ پر سواے کس کے؟ واو کے، واو کے علاوہ کسی اور عاطف کے معنیٰ پر ربط دینا چاہتے ہیں، بھئی فا تھا، فا کس لیے آتا تھا؟ تعقیب، تعقیب کے طور پر ربط دینا چاہتے ہیں بس، یا مولانا ثم، تعقیب مع التراخی، تراخی کے طور پر دینا چاہتے ہیں، تو آپ ربط دینا چاہتے ہیں ”عَلَىٰ مَعْنًى عَاطِفٍ سِوَى الْوَاوِ“، کسی عاطف کے معنیٰ پر سوائے واو کے، ”عُطِفَتِ الثَّانِيَةُ عَلَى الْأُولَىٰ بِهِ“، تو عطف کیا جائے گا جملہ ثانیہ کا جملہ اولیٰ پر ”بِهِ أَيْ بِذَٰلِكَ الْعَاطِفِ“، اس حرفِ عطف کے ساتھ جس کے معنیٰ کا ساتھ آپ ربط دینا چاہتے ہیں، ”مِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطِ أَمْرٍ آخَرَ“، بغیر کسی امرِ آخر کی شرط کے۔ آپ، بھئی واو کے ساتھ عطف میں ہم نے کیا شرط لگائی تھی؟ جہتِ جامعہ، واو کے ساتھ کہ دونوں میں کیا ہو؟ جہتِ جامعہ ہو، لیکن فا اور ثم وغیرہ کے ساتھ دونوں میں جہتِ جامعہ کا ہونا ضروری نہیں، تو اب جہتِ جامعہ نہ بھی ہو لیکن آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ربط دینا چاہتے ہیں تو آپ اس فا کو لے ائیں گے، جیسے: ”دَخَلَ زَيْدٌ فَخَرَجَ عَمْرٌو“، تو دیکھو داخل ہونا ہے زید کا اور نکلنا ہے عمرو کا، اگرچہ داخل ہونے اور خارج ہونے میں مناسبت ہے لیکن بھئی کس کا داخل ہونا ذکر ہو رہا ہے؟ زید کا، اور خارج ہونا کس کا ذکر ہو رہا ہے؟ تو اب مولانا فا لے آئے درمیان میں، یا ثم: ”ثُمَّ خَرَجَ عَمْرٌو“، ثم لے آئے، ”إِذَا قُصِدَ التَّعْقِيبُ“، جب ارادہ کس کا ہو؟ تعقیب کا، فا کی صورت میں، ”أَوِ الْمُهْلَةُ“، یا کس کا ارادہ ہو؟ مہلت کا، جب پھر ثم لے آئیں گے۔ بات یہ چل رہی تھی کہ اگر دو جملے آئیں اور پہلے جملے کے لیے کوئی محلِ اعراب ہو تو آپ ثانی کو بھی اس اعراب میں شریک کرنا چاہیں گے یا شریک نہیں کرنا چاہیں گے؟ اگر شریک نہ کرنا چاہیں تو اس صورت میں شریک نہیں کرنا چاہتے، ہاں، محلِ اعراب ہی نہیں ہے اول کے لیے، محلِ اعراب نہیں ہے، تو پھر اس کے بعد آپ پھر دیکھیں آپ کہ آپ ربط دینا چاہتے ہیں فا، ثم، حتی وغیرہ کے ساتھ یا ربط نہیں دینا چاہتے؟ اگر آپ فا، ثم وغیرہ کے ساتھ ربط دینا چاہتے ہیں تو پھر آپ کیا کر دیں؟ عطف کر دیں فا کے ساتھ، اس لیے کہ فا، ثم اور حتی وغیرہ میں جہتِ جامعہ کا ہونا ضروری نہیں، وہ شرط نہیں دیکھیں گے، بس پھر عطف کر دیں۔ ”وَذَٰلِكَ“، اور یہ اس وجہ سے، ”لِأَنَّ مَا سِوَى الْوَاوِ مِنْ حُرُوفِ الْعَطْفِ“، اس لیے کہ واو کے علاوہ جو حروفِ عاطفہ ہیں، ”يُفِيدُ مَعَ الِاشْتِرَاكِ“، وہ فائدہ دیتے ہیں اشتراک کے ساتھ ساتھ، اشتراک کا بھی فائدہ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ فائدہ دیتے ہیں: ”مَعَانِيَ مُحَصَّلَةً مُفَصَّلَةً“، ایسے معنیٰ کا بھی جو محص، جو کیا ہیں؟ حاصل ہیں، یعنی جن کو واضع نے، جس کے لیے ان کو وضع کیا ہے، جو وہ معنیٰ جو حاصل ہیں اور مفصلتاً کھولے گئے ہیں، بیان کیے گئے ہیں کس کے اندر؟ علمِ نحو میں، علمِ نحو میں آپ نے پڑھا ہے فا آتی ہے تعقیب مع الوصل کے لیے اور ثم آتا ہے تعقیب مع التراخی کے لیے، تو یہ اشتراک کے ساتھ ان معانی کا فائدہ بھی دیتے ہیں۔ ”فَإِذَا عَطَفْتَ الثَّانِيَةَ عَلَى الْأُولَىٰ بِذَٰلِكَ الْعَاطِفِ“، تو جب آپ نے ثانی جملے کو عطف کر دیا اولیٰ پر اس عاطف، اس حرفِ عطف کے ساتھ، یعنی فا اور ثم وغیرہ کے ساتھ، ”ظَهَرَتِ الْفَائِدَةُ“، تو فائدہ کیا ہو جائے گا؟ پھر بھی فائدہ ظاہر ہو جائے گا بھئی، ”أَيْ حُصُولُ مَعَانِي هَٰذِهِ الْحُرُوفِ“، یعنی ان معانی، ان حروف کے معانی کا حصول ہو جائے گا۔ ”بِخِلَافِ الْوَاوِ“، بخلاف کس کے؟ واو کے، ”فَإِنَّهُ لَا يُفِيدُ إِلَّا مُجَرَّدَ الِاشْتِرَاكِ“، اس لیے کہ وہ فائدہ نہیں دیتا سوائے کس کے؟ اشتراک کے، وہ صرف اشتراک کا فائدہ دیتا ہے، واو صرف اشتراک کا فائدہ دیتا ہے۔ اچھا، ”وَهَٰذَا“، اور یہ اشتراک، ”إِنَّمَا يَظْهَرُ فِيمَا لَهُ حُكْمٌ إِعْرَابِيٌّ“، ظاہر ہوگا اس صورت کے اندر کہ جبکہ ماقبل کے لیے کیا ہو مولانا؟ کوئی حکمِ اعرابی ہو، ”وَأَمَّا فِي غَيْرِهِ“، اور باقی اس کے علاوہ جس کے لیے حکمِ اعرابی نہیں ہے، ”فَفِيهِ خَفَاءٌ وَإِشْكَالٌ“، اس میں خفا ہوگا اور اشکال ہوگا۔ بھئی دیکھو مولانا، باقی حروف بھی ہیں، واو بھی ہے، سب اشتراک کا فائدہ دیتے ہیں، لیکن واو صرف اشتراک کا فائدہ دیتا ہے، باقیوں کے اور بھی فائدے ہیں، تو آپ اشتراک نہیں چاہتے لیکن پھر بھی تعقیب چاہتے ہیں یا تراخی چاہتے ہیں تو ربط دے دیں، تو اشتراک کا فائدہ اگرچہ نہیں آیا لیکن تراخی وغیرہ کا فائدہ پھر بھی آ گیا، لیکن اگر واو کے ساتھ آپ لے کر آئے، واو تو دیتا ہی صرف اشتراک کا فائدہ تھا اور اشتراک کا فائدہ دیتا تھا، تو اب یہاں پر واو کا کوئی فائدہ ظاہر نہیں ہوگا، واو کا کوئی فائدہ یعنی اشتراک ظاہر نہیں ہوگا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ وَعَمْرٌو جَالِسٌ“، دو جملے ہیں، ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ نے بتلایا زید کھڑا ہے، اور ”عَمْرٌو جَالِسٌ“ نے کیا بتلایا؟ عمرو بیٹھا ہوا ہے، دونوں کے وقوع کا پتہ چل گیا، دونوں کے وقوع کا پتہ چل گیا، معلوم ہوا وقوع میں دونوں شریک ہیں، یہ والا مضمون اور یہ والا مضمون دونوں وقوع کے اندر کیا ہیں؟ تو یہ تو واو کے بغیر بھی پتہ چل رہا ہے مولانا، اب میں نے کہا: ”زَيْدٌ قَائِمٌ عَمْرٌو جَالِسٌ“، تو واو پھر اب میں لے آتا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ وَعَمْرٌو جَالِسٌ“، تو واو نے کوئی اور فائدہ دیا؟ اور کوئی فائدہ ہی نہیں دیا، پھر آپ نے کس چیز میں اشتراک کیا ان دونوں کا؟ اب خفا آ جائے گا مولانا اور اشکال ہوگا۔ تو محلِ اعراب کی صورت میں تو اشتراک ظاہر ہوگا کہ جو پہلے کا حکم تھا وہی کس کا بن جائے گا؟ ثانی کا حکم بن جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف وقوع نہیں بلکہ کیا ہو جائے گا؟ اشتراک، اس اعراب کے اندر بھی اشتراک آ جائے گا، لیکن جب اعراب ہی نہ ہو تو اشتراک تو پہلے بھی تھا، تو واو کے لانے کے بعد کوئی زائد فائدہ حاصل نہیں آیا۔ تو اس میں خفا ہوگا اور اشکال ہوگا، یعنی دقت آ جائے گی مولانا، باریکی آ جائے گی۔ ”وَهُوَ السَّبَبُ فِي صُعُوبَةِ بَابِ الْفَصْلِ وَالْوَصْلِ“، اور یہی سبب ہے، یہ خفا اور اشکال سبب ہے بابِ فصل اور وصل میں صعوبت کا، اس میں مشکل ہونے کا سبب یہی ہے کہ اس میں خفا اور اشکال آئے گا اگر اس طرح آپ کریں۔ ”حَتَّىٰ حَصَرَ بَعْضُهُمْ“، یہاں تک کہ بند کر دیا بعض علماء نے کس چیز کو؟ ”اَلْبَلَاغَةَ“، بلاغت کو بند کر دیا ”عَلَىٰ مَعْرِفَةِ الْفَصْلِ وَالْوَصْلِ“، فصل اور وصل کی معرفت پر، تو بعض علماء نے بلاغت کو بند کر دیا کہ بلاغت بند ہے فصل اور وصل کے جاننے میں، فصل اور وصل آ گئی تو بلاغت آ گئی، فصل اور وصل نہ آئی تو بلاغت بھی نہیں آئی۔ یہ مبالغے کے طور پر کلام ہے مولانا، یعنی یہ نہایت اہم باب ہے بھئی، چلیے جی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔