Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-074

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 47
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل ہم نے پڑھا مولانا کہ اِن جو ہے، اس کے ساتھ مضارع کا صیغہ آنا چاہیے، یعنی استقبال والا۔ لیکن کبھی کبھار عدول کیا جاتا ہے اس سے کس کی طرف؟ ماضی کی طرف۔ کس وجہ سے؟ کہ آپ ایک غیر حاصل چیز کو کس کے درجے میں اتارنا چاہتے ہیں؟ حاصل چیز کے درجے میں۔ اس لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ اور پھر آگے یہ غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں کیوں اتارا جاتا ہے؟ اس کی چار پانچ وجہیں آپ نے پڑھیں۔ پہلی وجہ یہ کہ قوتِ اسباب کی وجہ سے، کہ اسباب بڑے قوی ہیں تو ہم نے قوتِ اسباب کی وجہ سے غیر حاصل ہی کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ حاصل کے درجے۔ یا کبھی اس لیے کہ اس کا ہونا بڑا یقینی، جب ہونا ہے ہی اس نے تو ہم نے ابھی سے کس کے درجے میں اتار لیا؟ حاصل کے درجے میں اتار لیا۔ اور کبھی کبھار تفاؤل کے لیے، نیک فالی کے طور پر، مخاطب ایک چیز کو پسند کرتا ہے، تو ہم نے اس غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اتارا، نیک فالی کے طور پر تاکہ مخاطب اس سے خوش ہو، اسے مسرت حاصل ہو۔ اور کبھی کبھار اظہارِ رغبت کے لیے، کہ متکلم کیا کرنا چاہتا ہے؟ اپنی رغبت بتلانا چاہتا ہے کہ یہ چیز مجھے بڑی مرغوب ہے، تو اس غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اتار دیتا ہے۔ اور وجہ اس کی یہ کہ جب کسی چیز کی کہتے ہیں رغبت بڑھ جاتی ہے تو انسان کے ذہن پر ہر وقت وہ چیز سوار رہتی ہے، اس چیز کا تصور بڑھ جاتا ہے، تو بسا اوقات اس کو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ چیز گویا کہ مجھے حاصل ہو چکی ہے۔ اور اس کے بعد 'وعلیہ' کے ذریعے مصنف نے بتلایا اور اسی پر یعنی استعمالِ ماضی کس کے ساتھ؟ اِن کے ساتھ۔ کس لیے؟ اظہارِ رغبت کے لیے۔ اسی پر مبنی ہے یہ اللہ کا قول بھی: "إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا"۔ تو یہاں پر بھی "إِنْ يُرِدْنَ" ہونا چاہیے، لیکن عدول کیا گیا کس کی طرف؟ ماضی کی طرف۔ یہ اس وجہ سے، یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جو پاک دامنی ہے، یہ بڑی مرغوب ہے، بڑی مرغوب ہے۔ اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی یہ الگ انداز مصنف نے کیوں اپنایا؟ کیوں اس طرح بات کو ذکر کیا؟ تو جواب میں نے بتلایا تھا کہ بھئی اصل میں ما قبل میں جو تھا وہ کلام، انسانی کلام تھا اور ما بعد کیا ہے؟ اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ رغبت سے منزہ ہیں، پاک ہیں بھئی۔ نیز انداز اس لیے بدلا کہ پہلے تھا اظہارِ رغبت کی وجہ سے انسان، ایک شخص کسی چیز کا تصور کرتا ہے، بار بار اس کا خیال کرتا ہے، اور یہ بات اللہ کے حق میں صحیح نہیں کہ کیا اللہ کے ایک چیز کا تصور کریں اور خیال کریں؟ اللہ اس سے منزہ ہیں مولانا، پاک ہیں۔ تو مراد یہاں کامل رضا بتلانا مقصود ہے، اللہ بتلا رہے ہیں کہ میری کامل رضا کس کے اندر ہے؟ پاک دامنی کے اندر ہے۔ اس کے بعد پھر اشکال ہوا کہ یہاں سے تو یوں معلوم ہو رہا ہے گویا کہ ان باندیوں کو مجبور نہ کرو اگر وہ پاک دامنی کا ارادہ کرتی ہیں۔ یعنی اگر وہ پاک دامنی کا ارادہ نہیں کرتیں تو پھر ان کو مجبور کر سکتے ہیں۔ تو شرط ہے تو مشروط ہے۔ شرط کیا ہے؟ پاک دامنی کا ارادہ ہے تو عدمِ اکراہ ہے، ان کو مجبور نہ کرو۔ پاک دامنی کا ارادہ ہو تو مجبور نہ کرو۔ اور جب شرط منتفی، تو مشروط بھی منتفی ہو کہ اگر پاک دامنی کا ارادہ نہ ہو تو پھر مجبور کر سکتے ہیں، اکراہ کر سکتے ہیں۔ تو جواب دیا تھا مولانا کہ یہ جو آپ بات کر رہے ہیں یہ مفہومِ مخالف آپ لے رہے ہیں، مفہومِ مخالف کے ذریعے واقعی یہ بات ظاہر ہوتی ہے یہاں سے کہ جب ارادۂ تحصن نہ ہو تو پھر اکراہ کر سکتے ہیں آپ۔ لیکن کہتے ہیں وہ لوگ جو قائلین ہیں مفہومِ مخالف کے، وہ بھی مفہومِ مخالف اس وقت لیا کرتے ہیں جب کہ شرط کا کوئی اور فائدہ نہ ہو۔ شرط کا اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ شرط حکم سے خارج کرنے کے لیے ہے مولانا، حکم سے خارج کرتی ہے اس چیز کو جس کے اندر شرط نہ ہو۔ شرط کیا تھی مولانا؟ شرط تھی اگر وہ پاک دامنی کا ارادہ کریں۔ حکم کیا تھا؟ انہیں مجبور نہ کرو، مجبور نہ کرو۔ تو شرط یہ بتلانے کے لیے آئی کہ جس کے اندر یہ شرط پائی جائے، وہ حکم کے اندر داخل ہے، اور جس میں یہ شرط نہیں ہے وہ حکم سے خارج ہے۔ یہی بتلانے کے لیے آئی نا؟ شرط ہے تو یہ حکم میں داخل ہے آگے عدمِ اکراہ میں، اور اگر شرط نہیں تو حکم سے خارج ہے۔ تو کہتے ہیں وہ بھی یہ لوگ جو مفہومِ مخالف کے قائل ہیں، وہ بھی کہتے ہیں کہ شرط کا جب کوئی اور فائدہ نہ ہو تب اس سے کیا مراد لیں گے ہم؟ مفہومِ مخالف۔ اور اگر اس کا کوئی اور فائدہ ہو تو پھر مفہومِ مخالف نہیں مراد لیں گے۔ جیسے یہاں پر اس کا ممکن ہے کہتے ہیں یہ فائدہ ہو مولانا کہ بھئی ممکن کے ساتھ تعبیر کی اس لیے کہ کلامِ الٰہی ہے مولانا، کوئی قطعی بات ہے کہ یہی مقصد ہے کلامِ الٰہی کے اندر؟ قطعی نہیں ہے مولانا، قطعی بات نہیں۔ آپ ایک توجیہ بیان کر رہے ہیں تو یہ قطعی نہیں ہے کلامِ الٰہی سے کہ اللہ نے اسی چیز کا ارادہ کیا ہو۔ کہتے ہیں ہاں ممکن ہے کہ اس سے ارادہ کیا گیا ہو کس چیز کا؟ مبالغے کا ارادہ کیا گیا ہو، تو یہ ایک زائد فائدہ ہوا اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ جب یہ اتنی لونڈیاں اور باندیاں خسیس ذات جن کا میلان بھی ہے کس کی طرف؟ زنا کی طرف، جب یہ پاک دامنی کو اختیار کرنا چاہیں تو ان کا آقا جو ان سے اعلیٰ ہے اس کو بطریقِ اولیٰ کس چیز کو پسند کرنا چاہیے؟ پاک دامنی کو پسند کرنا چاہیے۔ یہ اسی طرح ہے مولانا، یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کہتا ہے مولانا کہ استاد کے سامنے اس کی جگہ پر نہیں بیٹھنا چاہیے کیونکہ یہ بے ادبی ہے۔ تو کیا معنی؟ مطلب سامنے نہیں ہے، بعد میں کر سکتے ہیں بھئی؟ نہیں، بعد میں بھی بے ادبی ہے لیکن استاد کے سامنے کیا ہے؟ ہاں، مبالغہ بتلانا، بطریقِ اولیٰ یہ کیا ہے؟ بے ادبی ہے۔ یہ اسی انداز کا کلام ہے۔ دوسرا جواب یہ بتلایا تھا کہ بھئی جو مفہوم ہو رہا ہے، مفہومِ مخالف، وہ ظاہر کے اعتبار سے ہے اور اس کے مقابلے میں اجماع ہے اور اجماع ایک قطعی دلیل ہے اور اس کی وجہ سے یہ ظاہر کیا ہو جائے گا؟ مدفوع ہو جائے گا اور دور ہو جائے گا۔ اور تیسرا جواب بھی میں نے ایک بتلایا تھا کہ یہاں واقعے کے مطابق جو ہے شرط کو ذکر کیا گیا، اس لیے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مجبور کرتے تھے اپنی باندیوں کو کس چیز پر؟ زنا پر، تو ان کو کہا گیا بھئی کہ تمہاری باندیاں جب اس کو نہیں چاہتیں تو تم انہیں کیوں مجبور کرتے ہو؟ اور وجہ یہ بھی ہے مولانا کہ مجبور کرنا وہیں پر آئے گا جب دوسرا اس کام کو نہ چاہتا ہو، اگر چاہتا ہو تو پھر تو وہاں پر اکراہ ہے ہی نہیں۔ تو یہ واقعے کی وجہ سے، کے مطابق ہونے کی وجہ سے قید کو ذکر کیا۔ پھر اس کے بعد آپ کو بتلایا مولانا علامہ سکاکی نے کہ کبھی کبھار بھئی ماضی کے ساتھ، اِن کے ساتھ ماضی کا صیغہ ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ غیر حاصل، کس لیے؟ تعریض کے لیے۔ یعنی ایک کام، ایک فعل کی نسبت کرنا ایک کی طرف اور مراد کس کو لینا؟ غیر کو مراد لینا۔ جیسے اللہ کا یہ قول ہے مولانا: "وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ"۔ تحقیق اے پیغمبر! آپ کی طرف بھی وحی کی گئی ہے اور ان لوگوں کے، ان انبیاء کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے، کہ اگر آپ شرک کریں گے تو آپ کے عمل کیا ہو جائے گا؟ ضائع ہو جائے گا۔ تو یہاں اِن کے ساتھ "أَشْرَكْتَ" کا ذکر کیا گیا۔ علامہ سکاکی کیا فرما رہے ہیں یہاں کہ یہ مضارع سے عدول کیا گیا کس کی جانب؟ ماضی کی طرف۔ کس لیے؟ تعریض کے لیے، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شرک کی نسبت کر دی اور شرک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی بھی صادر نہیں ہوا، کبھی بھی صادر نہیں ہوا۔ تو گویا علیٰ سبیل الفرض ہم نے غیر حاصل کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ حاصل کے درجے میں اتار دیا، کس لیے؟ یہ اشارہ کرنے کے لیے ان لوگوں کی طرف جن سے شرک ہوا ہے کہ ان کے عمل کیا ہو چکے ہیں؟ ضائع ہو چکے ہیں شرک کی وجہ سے۔ اس پر علامہ خلخالی نے اعتراض کیا تھا کہ آپ کا یہ کہنا کہ اس کے دو باتیں آپ نے کیں: ایک تو تعریض ہے ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا ہے، کہتے ہیں یہ بات ہمیں قبول نہیں بلکہ تعریض ہے ان کو بھی جنہوں نے شرک کیا ہے اور جنہوں نے شرک نہیں کیا ان، وہ سب، سب کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ بھئی شرک کرو گے تو تمہارے اعمال کیا ہو جائیں گے؟ ضائع ہو جائیں گے۔ دوسری بات آپ نے یہ کہا کہ مضارع سے عدول کیا گیا ماضی کی طرف اس وجہ سے تعریض آئی، کہتے ہیں نہیں، اس وجہ سے تعریض نہیں آئی بلکہ مضارع ہی کو رہنے دیتے پھر بھی کیا تھی؟ تعریض تھی۔ کیونکہ آپ نے ایک ایسے کام، ایسے فعل کی نسبت کر دی ایسی ذات کی طرف جو اس سے ممکن ہی نہیں۔ جب اس سے ممکن ہی نہیں ہے تو معلوم ہوا وہ مراد ہی نہیں ہے بلکہ کون مراد ہیں؟ غیر مراد ہیں، تو یہ تعریض آ گئی اگرچہ مضارع ذکر کر دیا جائے۔ تو علامہ تفتازانی نے جواب دیا ان کی طرف سے بھئی، کہ یہاں پر جو تعریض ہے وہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے شرک کیا ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ تعریض کا مقصد ہے ڈانٹنا اور ڈانٹنا اسی کو ہو گا جس سے غلطی ہوئی ہو، جس سے غلطی ہی نہ ہوئی ہو اس کو پہلے سے نہیں ڈانٹا جاتا۔ اور دوسرا آپ نے یہ کہا کہ مضارع ہی کا ذکر کر دیتے پھر بھی کیا آ جاتی؟ تعریض آ جاتی، کہتے ہیں یہ بات بھی ہمیں قبول نہیں، اس لیے کہ مضارع ذکر ہوتا تو کلام اپنی اصل پر ہوتا اور کلام اپنی اصل پر ہونے کے لیے کسی نکتے کی ضرورت نہیں، لیکن جب عدول ہوا کس کی طرف؟ ماضی کی طرف عدول ہوا، اور اصل سے ہمیشہ عدول ہوتا ہے کسی نکتے کی وجہ سے، تو وہ نکتہ یہاں پر کیا ہوا؟ تعریض ہوئی، تو اگر اصل پر رکھیں تو تعریض کا نکتہ نہیں، اور اصل سے عدول ہم کریں گے تو پھر کیا ہو گا؟ تعریض ہو گی۔ بہرحال، جو کچھ بھی ہو یہ مقام مولانا خدشے سے خالی نہیں۔ اسی لیے مصنف نے بھی کیا کیا؟ اس قول کی نسبت سکاکی کی طرف کر دی اگرچہ ما قبل کا سارا کلام بھی کس کا چل رہا ہے؟ علامہ سکاکی ہی کا چل رہا ہے۔ اور اسی طرح تعریض کی ایک اور مثال ذکر کی کہ بھئی سنانا، فعل کی نسبت کرنا ایک کی طرف اور سنانا دوسرے کو۔ جیسے: "وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي"۔ یہ متکلم اپنی طرف نسبت کر رہا ہے لیکن اصل میں مراد کون ہے؟ مخاطب مراد ہیں۔ اور کیا دلیل ہے بھئی کہ یہاں تعریض ہے اور مخاطب کو سنانا مقصود ہے؟ کہتے ہیں اسی آیت کے آخر میں دیکھو: "وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ"، انہی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اگر تعریض نہ ہوتی تو کلام تقاضا کر رہا تھا کس قسم کا؟ کیا آنا چاہیے تھا بھئی؟ "وَإِلَيْهِ أُرْجَعُ"، کہ اسی کی طرف میں لوٹایا جاؤں گا۔ اور کہتے ہیں اس کے حسن کی وجہ کیا ہے، یہاں یہ تعریض کیوں کی گئی؟ کہتے ہیں یہاں تعریض بڑی پسندیدہ ہے مولانا، اس لیے کہ مخاطبین جو ہیں وہ دشمن ہیں آپ کے اور دشمن کو آپ حق سنانا چاہتے ہیں، اور حق ایسے طریقے پر سنانا چاہیے کہ جس کی وجہ سے ان کا غضب زیادہ نہ ہو اور اس کا یہی طریقہ ہے مولانا کہ غلط کام کی نسبت ان کی طرف نہ کی جائے بلکہ کس کی طرف کی جائے؟ اپنی طرف کی جائے۔ تو جب آپ ان کی صراحتاً نسبت غلط کام کی طرف نہیں کریں گے تو ان کا غصہ نہیں بڑھے گا، جب غصہ نہیں بڑھے گا تو وہ آپ کی بات توجہ سے سنیں گے اور ان پر اثر انداز ہو گی، حق کو وہ قبول کریں گے۔ تو گویا مخاطب یہ بتلاتا ہے کہ جو بات میں اپنے لیے پسند کر رہا ہوں وہی تمہارے لیے بھی پسند کرتا ہوں۔ 'اِن' اور 'اِذا' کی بات ختم ہوئی مولانا، اب مصنف آپ کو 'لو' کے بارے میں بتلائیں گے۔ حروفِ شرط کی بات چل رہی ہے، اس کی تفصیلات سے آپ کو آگاہ کیا۔ تو یاد رکھیں کہ 'لو' جو ہے، تین چیزوں کا فائدہ دیتا ہے۔ آپ نے نحو میں پڑھا ہو گا کہ 'لو' تین چیزوں کا فائدہ دیتا ہے: ایک: شرطیت کا، یعنی ایک چیز کو معلق کر دیتا ہے دوسری چیز کے ساتھ، تعلیق کا فائدہ دیتا ہے۔ دوسرا: تغییر الشرطیۃ یا تغییر الشرطِ إلی الزمن الماضی بھئی۔ اس شرط کو بدل دیتا ہے کس زمانے کی طرف؟ جیسے 'اِن' اور 'اِذا' ماضی کو بھی کس میں کر دیتے تھے؟ بھئی "إِنْ أَشْرَكْتَ" ترجمہ ماضی کا کریں گے یا مستقبل کا کریں گے؟ تو 'اِن' نے دیکھو ماضی کو مستقبل میں بدل دیا، جبکہ 'لو' اس کا برعکس ہے، وہ مستقبل کو بھی کس میں بدل دے گا؟ ماضی میں بدل دے گا۔ اور تیسرا فائدہ ہے 'لو' کا امتناع بھئی۔ بتلائے گا، 'لو' یہ بتلاتا ہے کہ ایک چیز ممتنع ہے، منتفی ہے دوسری چیز کی وجہ سے۔ کتنے فائدے دیے 'لو' نے؟ تین فائدے: اوّل: شرطیت کا، یعنی شرطیت کیا معنی؟ تعلیق کا، ایک چیز کو معلق کر دیتا ہے دوسری چیز کے ساتھ۔ دوسرا کیا فائدہ دیا؟ تغییر الشرط إلی الزمن الماضی، شرط کو بدل دیا کس زمانے کی طرف؟ ماضی کے زمانے کی طرف بدل دیا۔ اور تیسرا فائدہ: امتناع، کہ ایک چیز ممتنع ہے، منتفی ہے کس وجہ سے؟ دوسری چیز کے منتفی ہونے کی وجہ سے۔ چنانچہ قدیم علمائے نحو بھئی، جتنے قدیم ہیں ائمہ، ان سب کا اتفاق ہے اس بات پر کہ 'لو' جو ہے وہ آتا ہے امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ امتناعِ اوّل کے۔ 'لو' کس لیے آتا ہے؟ توجہ سے بیٹھنا بھئی، 'لو' آتا ہے امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ امتناعِ اوّل کے۔ یعنی ثانی منتفی ہے، ثانی نہیں ہے، کیوں نہیں ہے بھئی؟ کیونکہ اوّل نہیں ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ"، اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرا کیا کرتا؟ اکرام کرتا۔ تو 'لو' نے تین فائدے دیے مولانا۔ کیا فائدہ دیا؟ معلق کر دیا کس کو؟ اکرام کو کس کے ساتھ؟ مجیئت کے ساتھ۔ دوسرا فائدہ کیا دیا؟ زمانۂ ماضی میں، اگر تو آتا تو میں کرتا، یہ زمانۂ ماضی ہے بس۔ اور تیسرا کیا فائدہ دیا؟ امتناع کا، کہ یہ اکرام ممتنع ہے، کیوں ممتنع ہے؟ یہ منتفی ہے، تیرا اکرام نہیں ہوا، کیوں نہیں ہوا؟ کہ تیرا آنا نہیں۔ تو 'لو' آتا ہے انتفائے... تو اوّل کون ہوا مولانا؟ "لَوْ جِئْتَنِي"، اور ثانی کیا ہوا؟ اکرام کرنا۔ تو اوّل ہے آنا، ثانی ہے اکرام کرنا۔ اگر تو آتا تو میں کیا کرتا تیرا؟ اکرام کرتا۔ تو دیکھو ثانی، اکرام کرنا منتفی ہے کس وجہ سے؟ کیونکہ اوّل نہیں۔ تو تیرا اکرام نہیں ہوا کیونکہ تو آیا نہیں ہے۔ تو قدیم علمائے نحو، ان کا گویا سب کا اتفاق ہے اس بات پر کہ 'لو' کس لیے آتا ہے؟ امتناعِ ثانی کے لیے، کس وجہ سے؟ امتناعِ اوّل کی وجہ سے۔ وجہ اس کی یہ، کہتے ہیں اوّل سبب ہے، ثانی مسبب ہے۔ آنا سبب ہے اکرام کا۔ تو جب سبب منتفی، تو مسبب بھی منتفی ہوا۔ جب علت ہی نہیں ہے تو معلول بھی نہیں۔ اکرام کا سبب کیا تھا؟ آنا تھا۔ جب آنا ہی نہیں ہے تو اکرام بھی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ قدیم علمائے نحو کا مسلک ہے مولانا۔ اس پر تمام علمائے نحو، بڑے تمام ائمہ متفق تھے مولانا، یہاں تک کہ چھٹی، ساتویں صدی ہجری کا زمانہ آیا اور دنیائے نحو کی عظیم شخصیت علامہ ابن حاجب پیدا ہوئے اور انہوں نے پھر آ کر کئی بڑے بڑے جو مسلمہ اصول تھے بڑے ائمہ کے، ان کو آ کر انہوں نے توڑ دیا اور ان کو رد کر دیا مولانا۔ ان میں سے ایک یہ اصول تھا جس کو انہوں نے توڑ دیا اور رد کر دیا، کہتے ہیں اے علمائے نحو! آپ یہ کہتے ہیں کہ 'لو' آتا ہے امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ امتناعِ اوّل کے، یہ بات آپ کی درست نہیں ہے بھئی، آپ کی درست نہیں ہے۔ بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، 'لو' آتا ہے امتناعِ اوّل کے لیے بوجہ امتناعِ ثانی کے، امتناعِ ثانی کے۔ اچھا، تو اے علمائے نحو! آپ کیا فرماتے ہیں کہ اوّل سبب ہے اور سبب کے منتفی ہونے سے کیا ہوا؟ مسبب بھی منتفی ہو گیا۔ کہتے ہیں بھئی یہ اس بات، سبب کا نہ ہونا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسبب بھی نہ ہو۔ سبب کا نہ ہونا یہ ضروری نہیں، یہ دلیل نہیں اس بات کی کہ مسبب بھی نہ ہو۔ ہو سکتا ہے مسبب کسی اور وجہ سے پایا جائے، اس کی کوئی اور دلیل، اس کی کوئی اور علت موجود ہو۔ مثلاً آپ کیا کہتے ہیں: اگر سورج ہوتا تو روشنی ہوتی۔ اگر سورج ہوتا تو روشنی ہوتی۔ اگر سورج ہوتا تو روشنی ہوتی۔ تو کیا سورج جب نہیں ہو گا تو روشنی بھی نہیں ہو گی؟ جی، ہو سکتی ہے روشنی یا نہیں ہو سکتی؟ کیسے ہو سکتی ہے؟ بھئی لائٹ ہے بھئی، بلب ہے، بجلی کی اور چراغ ہے وغیرہ۔ تو دیکھو سورج سبب ہے روشنی کا لیکن سورج کے منتفی ہونے سے ضروری نہیں کہ مسبب بھی کیا ہو جائے؟ منتفی ہو جائے، بلکہ ہو سکتا ہے اس مسبب کے اور بھی اسباب ہوں اور جن کی وجہ سے وہ کیا ہو؟ پایا جائے، وہ ان کی وجہ سے پایا جائے۔ لہٰذا وہ کہتے ہیں اے علمائے نحو! آپ کی بات درست نہیں بلکہ بات اصل یہ ہے کہ 'لو' آتا ہے امتناعِ اوّل کے لیے بوجہ امتناعِ ثانی کے۔ یعنی امتناعِ ثانی یہ دلیل ہوتا ہے کس چیز کی؟ امتناعِ اوّل کی۔ کیا معنی؟ ثانی نہیں ہو گا تو یہ دلیل ہے اوّل کی، نہ کہ اوّل کا نہ ہونا دلیل ہے ثانی کی۔ بھئی سورج کا نہ ہونا یہ دلیل ہو سکتا ہے روشنی نہ ہونے کی؟ نہیں، کیونکہ روشنی پھر بھی... لیکن روشنی کا نہ ہونا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ سورج بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب روشنی کی نفی ہو گئی تو تمام روشنیوں کی، تمام اسباب کی نفی ہو گئی اور ان اسباب میں ایک سبب کیا تھا؟ سورج کی بھی نفی ہو گئی۔ تو جب میں نے کہا روشنی نہیں ہے، تو لازمی بات ہے مولانا نہ لائٹ ہے، نہ چراغ ہے، نہ موم بتی ہے اور نہ ہی سورج ہے، تو سورج کی بھی کیا ہو گئی؟ نفی ہو گئی۔ تو کہتے ہیں بھئی اوّل کا نہ ہونا یہ دلیل نہیں ہے کس چیز کی؟ ثانی کی۔ بلکہ ثانی کا نہ ہونا، مسبب کا نہ ہونا یہ دلیل ہے کس چیز کی؟ سبب نہیں ہے، سبب نہیں ہے۔ جیسے قرآن میں ہے مولانا، اللہ فرماتے ہیں: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، اگر ہوتے اس زمین اور آسمان کے اندر اللہ کے علاوہ اور معبود، تو ان دونوں کا نظام درہم برہم ہو جاتا، فاسد ہو جاتا، خراب ہو جاتا۔ تو دیکھیے مولانا، عدمِ فساد دلیل ہے کس چیز کی؟ عدمِ تعددِ آلہہ کی مولانا، کہ معبود زیادہ نہیں ہیں، معبود ایک ہے صرف۔ تو یہ عدمِ فساد دلیل ہے کس چیز کی؟ تو ثانی دلیل ہے اوّل کی، نہ کہ اوّل دلیل ہے ثانی کی بھئی۔ اوّل ثانی کی دلیل نہیں بلکہ ثانی دلیل ہے اوّل کی۔ دونوں مسلک سمجھ میں آئے آپ کو بھئی؟ ایک قدیم علمائے نحو کا اور ایک پھر کس کا؟ ابن حاجب کا۔ قدیم علمائے نحو کیا فرماتے ہیں؟ کہ 'لو' آتا ہے امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ امتناعِ اوّل کے، یعنی اوّل کا منتفی ہونا دلیل ہوتا ہے کس چیز کی؟ ثانی کے۔ علامہ ابن حاجب فرماتے ہیں نہیں، بلکہ 'لو' کس لیے آتا ہے؟ امتناعِ اوّل کے لیے بوجہ امتناعِ ثانی کے، یعنی ثانی کا منتفی ہونا دلیل ہوتا ہے کس چیز کی؟ اوّل کے منتفی ہونے کی۔ اور اس رائے کو تمام متاخرین نے پسند کیا مولانا، تمام علمائے نحو علامہ ابن حاجب کے ساتھ ہو گئے بھئی، واقعی آپ کی بات درست ہے بھئی، آپ کی بات درست ہے۔ دیکھیے مولانا، پڑھیے جی: "ولو للشرط"، اور 'لو' جو ہے وہ مولانا شرط کے لیے آتا ہے، "أي لتعليق حصول مضمون الجزاء"، یعنی معلق کرنے کے لیے جزاء کے مضمون کے حصول کو۔ بھئی مضمون، مضمونِ جزاء کس کو کہیں گے اور مضمونِ شرط کس کو کہیں گے؟ مضمونِ کلام کس کو کہتے ہیں مولانا؟ "زيد قائم" مولانا، مسند کون؟ مسند؟ اور مسند الیہ کون؟ تو مضمونِ کلام آپ سے کوئی پوچھے، مضمونِ کلام کیا؟ بھئی مسند کا مصدر نکال لو، "قائم" کا مصدر کیا نکالیں گے؟ قیام، اس کو مضاف کر دو کس کی طرف؟ مسند الیہ کی طرف، "قيام زيد"، تو مضمونِ کلام کیا نکل آیا؟ "قيام زيد"۔ "أنت قائم"، اس کا مضمونِ کلام کیا نکلے گا؟ "قيامك"، آپ کا قیام بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مضمونِ جزاء کو، کے حصول کو معلق کیا جاتا ہے کس کے ساتھ؟ مضمونِ شرط کے ساتھ، مضمونِ شرط کے ساتھ۔ "فرضاً"، بطورِ فرض کے، فی الماضی زمانۂ ماضی میں۔ یہ "فرضاً" یہ متن نہیں ہے مولانا، یہ شرح ہے، شرح کے اندر علامہ تفتازانی نے "فرضاً" کا لفظ بڑھایا۔ کیوں؟ کہتے ہیں بھئی ابھی علامہ تفتازانی نے کیا فرمایا: "لتعليق حصول مضمون الجزاء"، مضمونِ جزاء کے حصول اس کو معلق کرتے ہیں کس کے ساتھ؟ مضمونِ شرط کے حصول کے ساتھ۔ اور مضمونِ شرط اور مضمونِ جزاء، دونوں موجود ہیں یا دونوں منتفی ہیں؟ بھئی 'لو' کس لیے آتا ہے؟ منتفی کرنے کے لیے آتا ہے نا۔ اگر تو آیا ہوتا تو اکرام ہوتا، معلوم ہوا نہ تیرا آنا ہے اور نہ ہی تیرا اکرام ہے۔ تو یہ کہہ رہے ہیں 'لو' تعلیق کے لیے آ رہا ہے کہ مضمونِ جزاء حاصل ہے کس کے ساتھ؟ کس کے ساتھ معلق ہے؟ مضمونِ شرط کے حصول کے ساتھ۔ بھئی حصول تو یہاں ہے ہی نہیں، یہاں تو انتفاء ہے، تو یہ آپ نے کیسے کہہ دیا؟ تو علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں ہاں بھئی بطورِ فرض کے، بطورِ فرض کے۔ تو مولانا اب آگے جو کلام آ رہا ہے، آگے کلام آ رہا ہے کہ شرط قطعی طور پر منتفی ہے اور آپ کیا کہہ رہے ہیں، حصولِ شرط کی بات کر رہے ہیں تو یہ دونوں تو باتیں آپس میں ضد ہیں، آپس میں تناقض آیا مولانا۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں، حصولِ شرط ہے، اس کو معلق، اس کے ساتھ معلق کر رہے ہیں، اور آگے کیا آ رہا ہے؟ حصولِ شرط ہے ہی نہیں بلکہ شرط کیا ہے؟ منتفی ہے کیونکہ 'لو' آتا ہے انتفاء کے لیے، تو ایک طرف حصول ہے، ایک طرف انتفاء، یہ تناقض آ گیا، تو علامہ تفتازانی نے "فرضاً" کے لفظ کے ذریعے بتلا دیا کہ یہ جو حصولِ شرط ہوتا ہے یہ بطورِ فرض کے ہوتا ہے، بطورِ فرض کے۔ "في الماضي"، زمانۂ ماضی کے اندر، "مع القطع بانتفاء الشرط"، ساتھ قطعی ہونے کے، کس چیز کے قطعی ہونے کے؟ شرط کے منتفی، یعنی شرط کا منتفی ہونا قطعی ہوتا ہے، "فيلزم انتفاء الجزاء"، تو لازم آتا ہے کیا؟ جزاء کا بھی منتفی ہونا، "كما تقول: لو جئتني لأكرمتك"، جیسے آپ کہتے ہیں: "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ"، اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرا کیا کرتا؟ اکرام کرتا، "معلقاً للإكرام بالمجيء"، اس حال میں کہ آپ معلق کرنے والے ہیں اکرام کو مجیئت کے ساتھ، "مع القطع بانتفائه"، ساتھ قطعی طور پر اس بات کے کہ شرط کیا ہے؟ منتفی ہے، کہ آپ آئے نہیں، "فيلزم انتفاء الإكرام"، تو لازم آتا ہے مولانا کہ اکرام بھی منتفی ہے، "فهي لامتناع الثاني"، تو یہ 'لو' کس لیے آیا؟ امتناعِ ثانی، بھئی ثانی کون ہے؟ "أعني الجزاء"، یعنی جزاء ہے، تو امتناعِ ثانی ہے کس وجہ سے؟ "لامتناع الأول"، یعنی شرط بھئی، "يعني أن الجزاء منتفٍ بسبب انتفاء الشرط"، یعنی جزاء جو ہے منتفی ہے شرط کے منتفی ہو جانے کی وجہ سے، "هذا هو المشهور بين الجمهور"، یہ بات ہی مشہور ہے جمہور کے درمیان۔ "واعترض عليه ابن الحاجب"، اعتراض کیا اس پر علامہ ابن حاجب نے، "بأن الأول سبب"، کہ اوّل سبب ہے، "والثاني مسبب"، اور ثانی کیا ہے؟ مسبب ہے، اور آپ نے کیا کہا؟ اوّل کا نہ ہونا دلیل ہے کس چیز کی؟ ثانی بھی نہیں ہے۔ کہتے ہیں یہ بات درست نہیں، "وانتفاء السبب لا يدل على انتفاء المسبب"، اور سبب کا انتفاء یہ دلالت نہیں کرتا مسبب کے منتفی ہونے پر، "لجواز أن يكون للشيء أسباب متعددة"، کیونکہ ممکن ہے کہ ایک شے کے کیا ہوں؟ بہت سے اسباب ہوں، "بل الأمر بالعكس"، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، اور کیا ہے؟ یہ 'لو' آتا ہے امتناعِ اوّل کے لیے بوجہ امتناعِ ثانی کے، "لأن انتفاء المسبب يدل على انتفاء جميع أسبابه"، اس لیے کہ انتفائے مسبب یہ دلالت کرتا ہے کہ اس کے سارے اسباب کیا ہیں؟ منتفی ہیں۔ جب سارے اسباب منتفی ہوئے تو اوّل میں ذکر کردہ سبب بھی کیا ہوا؟ منتفی ہو گیا، "فهي لامتناع الأول لامتناع الثاني"، تو یہ امتناعِ اوّل کے لیے آتا ہے بوجہ امتناعِ ثانی، "ألا ترى أن قوله تعالى: لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا"، کیا تو دیکھتا نہیں اللہ کے اس قول کے اندر: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، اگر ہوتا ان دونوں میں یعنی زمین اور آسمان میں اللہ کے علاوہ اور معبود ہوتے، تو ان کا نظام خراب ہو جاتا۔ کہتے ہیں یہ جو، کیا تو دیکھتا نہیں یہ اللہ کا یہ قول، "إنما سيق ليستدل بامتناع الفساد"، اس کو چلایا گیا ہے تاکہ استدلال کیا جائے مولانا، کس چیز کے ساتھ؟ فساد کے امتناع کے ساتھ استدلال کیا گیا ہے کس چیز پر؟ "على امتناع تعدد آلهة"، کہ تعددِ آلہہ بھی... جب فساد، دیکھتا، آپ تو دیکھتے ہیں فساد نہیں ہے دنیا کے اندر، عالم کے اندر، جب فساد نہیں ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ تعددِ آلہہ بھی نہیں ہے، تو ثانی کو دلیل بنایا اوّل کے لیے، "دون العكس"، اس کا عکس نہیں، "واستحسن المتأخرون رأي ابن الحاجب"، اور پسند کیا متاخرین نے علامہ ابن حاجب کی رائے کو، "حتى كادوا يجمعون على أنها لامتناع الأول لامتناع الثاني"، یہاں تک کہ قریب ہے کہ وہ اجماع کر لیں کہ 'لو' جو ہے وہ امتناعِ اوّل کے لیے آتا ہے بوجہ امتناعِ ثانی کے، "إما لما ذكره"، بھئی کیوں؟ یا تو اس وجہ سے جو علامہ ابن حاجب نے ذکر کی، انہوں نے کیا وجہ ذکر کی تھی؟ ہاں، انہوں نے علامہ ابن حاجب نے کہا تھا سبب کا نہ ہونا اس کے ساتھ لازم نہیں کہ مسبب بھی نہ ہو، ہاں مسبب کے نہ ہونے کے ساتھ لازم ہے کہ سبب بھی نہ ہو۔ تو یا تو اس وجہ سے جو علامہ ابن حاجب نے ذکر کی مولانا، "وإما لأن الأول ملزوم والثاني لازم"، یا اس وجہ سے کہ اوّل کیا ہے؟ ملزوم ہے اور ثانی کیا ہے؟ لازم ہے، "وانتفاء اللازم يوجب انتفاء الملزوم من غير عكس"، اور ثانی لازم ہے اور جب لازم منتفی ہے تو یہ ثابت کر دیتا ہے ملزوم کے انتفاء کو، اس کا عکس نہیں ہے۔ یعنی ملزوم کی نفی سے لازم کی نفی نہیں ہوتی، "لجواز أن يكون اللازم أعم"، اس لیے کہ ممکن ہے کہ لازم عام ہو، لازم کیا ہو؟ عام ہو۔ بھئی سورج کے ساتھ روشنی کیا ہے؟ لازم ہے۔ تو جب روشنی کی نفی ہو گی، لازم کی نفی ہو گی تو ملزوم سورج کی بھی کیا ہو جائے گی؟ نفی ہو جائے گی۔ لیکن ملزوم سورج جس کے ساتھ کیا لازم تھی؟ روشنی، تو اس ملزوم کی نفی سے روشنی کی نفی ہونا لازم نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے روشنی کسی اور سبب سے ہو۔ یہ تعبیر بدل دی مولانا، کیا کیا؟ علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ نے فرمایا تھا اوّل سبب ہے، ثانی کیا ہے؟ مسبب ہے۔ تعبیر بدل دی کہ اوّل ملزوم ہے، ثانی کیا ہے؟ لازم ہے۔ تعبیر اس لیے بدلی کہ ہمیشہ اوّل سبب نہیں ہوتا، کبھی سبب ہوتا ہے اور کبھی سبب نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک کلام آپ نے یہ کیا: "لو كانت الشمس طالعة فالنهار موجود"، اگر سورج طلوع ہوتا تو نہار موجود ہوتا۔ تو سورج کا طلوع ہونا سبب ہے کس چیز کا؟ دن کے ہونے کا سبب ہے۔ تو کبھی تو اوّل کیا ہوتا ہے؟ سبب ہوتا ہے جیسے علامہ ابن حاجب، کبھی سبب نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: "لو كان النهار موجوداً فالشمس طالعة"، اگر دن ہوتا تو سورج بھی کیا ہوتا؟ طلوع ہوتا، لیکن دن ہے نہیں لہٰذا سورج بھی... تو اب بتائیے مولانا، اگر دن ہوتا تو سورج کیا ہوتا؟ تو دن یہ سبب ہے سورج کے لیے یا معاملہ برعکس ہے بھئی؟ معاملہ برعکس ہے، سورج کیا ہے؟ سبب ہے دن کے لیے۔ تو یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ پہلا سبب ہی ہو، ثانی مسبب ہو، بلکہ کبھی کیا ہوتا ہے؟ اس کے علاوہ بھی معاملہ ہو جاتا ہے، تو اس لیے تعبیر کو علماء نے بدلا مولانا اور کیا کہا کہ یوں کہو: اوّل ملزوم ہے اور ثانی کیا ہے؟ لازم ہے اور لازم جب منتفی ہوا تو ملزوم بھی منتفی ہو گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ جمہور کا مسلک تھا اور پھر اس کے بعد علامہ ابن حاجب کے قول پر تمام نحوی متحد ہوئے۔ تو اب مولانا، علامہ تفتازانی محاکمہ کر رہے ہیں، درمیان میں فیصلہ کر رہے ہیں کہ کس کی بات صحیح ہے اور کس کی بات صحیح نہیں۔ چنانچہ فیصلہ کرتے ہوئے علامہ ابن حاجب کے اعتراض کو رد کرتے ہیں کہ اے علامہ! آپ کا اعتراض صحیح نہیں ہے بھئی، آپ کا اعتراض صحیح نہیں ہے۔ آپ نے غور نہیں کیا اصل میں زیادہ، آپ زیادہ غور کرتے تو آپ بات کی تہہ تک پہنچ جاتے۔ کہتے ہیں بات دراصل یہ ہے اے علامہ صاحب کہ 'لو' جو ہے، دو طریقے ہیں اس کے استعمال کے: ایک طریقہ ہے استدلال کا، اور ایک طریقہ ہے ترتیبِ خارجی کا۔ 'لو' کے استعمال کے کتنے طریقے ہیں؟ دو طریقے ہیں، توجہ سے بھئی، 'لو' کے استعمال کے دو طریقے ہیں: ایک ہے استدلال کا اور ایک کون سا طریقہ ہے؟ ترتیبِ خارجی کا، ترتیبِ خارجی کا۔ یہ دو طریقوں سے 'لو' آتا ہے مولانا، اور یہ دونوں طریقے اہلِ لغت سے ثابت ہیں۔ کبھی وہ 'لو' کو استدلال کے طریقے پر ذکر کرتے ہیں اور کبھی ترتیبِ خارجی کے طریقے پر اس کو استعمال کرتے ہیں، اور دونوں ثابت ہیں اہلِ لغت سے، اہلِ زبان سے۔ لیکن آگے پھر ذکر کریں گے علامہ تفتازانی ایک طریقے کو قرار دیں گے اہلِ لغت والا اور ایک طریقے کو قرار دیں گے کس کا؟ مناطقہ کا طریقہ۔ لیکن میں نے آپ کو بتلا دیا بھئی کہ دونوں طریقے ثابت ہیں کس سے؟ اہلِ لغت سے۔ لیکن ایک کو مناطقہ کا طریقہ اس لیے قرار دیں گے کیونکہ مناطقہ اس سے زیادہ بحث کرتے ہیں، مناطقہ استدلالی طریقے سے زیادہ بحث کرتے ہیں، ایک چیز کو دلیل بناتے ہیں کس کے لیے؟ دوسری چیز کے لیے دلیل بناتے ہیں۔ تو استدلالی طریقۂ استعمال کن کا ہوا؟ مناطقہ کا، اور عام اہلِ لغت جو ہیں وہ زیادہ تر ترتیبِ خارجی والے طریقے پر استعمال کرتے ہیں، ترتیبِ خارجی۔ تو اس ترتیبِ خارجی والے طریقے کو کیا کہیں گے؟ اہلِ لغت کا، ترتیبِ خارجی والا اہلِ لغت کا طریقہ ہے اور استدلالی طریقہ کن کا ہے؟ مناطقہ کا، مناطقہ کا۔ استدلالی طریقہ کیا ہے؟ استدلالی طریقہ یہ ہے مولانا کہ ایک چیز کو دلیل بنایا جائے، دو چیزیں ہیں مولانا: ایک معلوم ہے، ایک مجهول ہے، معلوم کے ذریعے استدلال کیا جائے کس چیز پر؟ مجهول چیز پر۔ جیسے مولانا آپ کو دھواں نظر آیا، ایک دھواں ہے، ایک آگ ہے، آپ کو نہیں پتہ مولانا کہ نیچے آگ ہے، آپ کو نظر نہیں آ رہی لیکن اس دھوئیں سے آپ نے معلوم کے ذریعے استدلال کیا کس چیز پر؟ مجهول پر، کہ جب دھواں ہے تو یقیناً کیا موجود ہے؟ آگ موجود ہے۔ تو استدلالی طریقہ یہ ہے دلیل پکڑی جاتی ہے معلوم چیز کے ذریعے کس پر؟ تو دو چیزوں میں سے جو ذکر ہوں گی یقیناً ایک معلوم ہو گی اور ایک مجهول ہو گی، ایک مجهول ہو گی۔ جیسے: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، اگر زمین اور آسمان میں اور معبود ہوتے اللہ کے علاوہ تو ان کا نظام خراب ہو جاتا۔ اب دو چیزیں ہیں آپ کے پاس مولانا: ایک ہے معبود زیادہ ہیں یا معبود زیادہ نہیں ہیں، یہ مجهول چیز ہے مولانا، اور ایک معلوم ہے کہ زمین میں فساد نہیں ہے۔ معبودوں کا زیادہ ہونا منتفی ہے یہ مجهول ہے، اور فساد کا نہ ہونا یہ کیا ہے؟ بھئی آپ مشاہدہ نہیں کرتے بھئی؟ دنیا کا نظام صحیح چل رہا ہے یا خراب چل رہا ہے بھئی عالم کا؟ وقت کے مطابق شب و روز ہو رہے ہیں مولانا، ہر چیز اپنے اپنے مقام پر صحیح چل رہی ہے، تو معلوم ہوا فساد نہیں۔ تو یہ چیز تو معلوم ہے، لیکن اور آلہہ ہیں، اور آلہہ بھی منتفی ہیں یہ کیا ہے؟ تو اس معلوم کے ذریعے استدلال کیا گیا کس چیز پر؟ مجهول پر، کہ جب یہ فساد نہیں ہے یہاں پر تو معلوم ہوا تعددِ آلہہ بھی نہیں ہے۔ تو استدلالی طریقے میں یاد رکھو دو چیزوں میں سے ایک معلوم ہو گی، ایک مجهول، اور معلوم کے ذریعے استدلال کیا جائے گا کس چیز پر؟ مجهول چیز پر۔ اور دوسرا طریقہ ہے ترتیبِ خارجی کا۔ ترتیبِ خارجی یہ ہے کہ دو چیزیں ہیں دونوں معلوم ہیں، اوّل بھی معلوم ہے اور ثانی بھی، لیکن ثانی کی علت نہیں معلوم۔ آپ صرف یہ بتلا دیتے ہیں 'لو' کے ذریعے کہ اس ثانی کی علت اوّل ہے، اس ثانی کی علت کیا ہے؟ اوّل ہے۔ دو چیزیں ہیں دونوں پائی جا رہی ہیں مولانا: "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ"، عدمِ مجیئت بھی معلوم، عدمِ اکرام بھی معلوم۔ آپ کو پتہ ہے آیا بھی نہیں، آپ کو یہ بھی پتہ ہے اکرام بھی... لیکن یہ ثانی کون ہے؟ ثانی؟ عدمِ اکرام، اس عدمِ اکرام کی علت نہیں معلوم تھی تو اس کو ہم نے 'لو' کے ذریعے بیان کر دیا کہ وہ کیا ہے؟ عدمِ مجیئت ہے، کیا ہے؟ تو دیکھو ایک ترتیبِ خارجی ہے، ترتیبِ خارجی کے اندر دونوں چیزیں معلوم ہیں، البتہ ثانی کی علت معلوم نہیں، آپ نے 'لو' کے ذریعے بتلا دیا کہ یہ جو ثانی ہے اس کی علت کیا ہے؟ اوّل ہے۔ اوّل کیا ہے؟ "لَوْ جِئْتَنِي"، ثانی کیا ہے؟ "لَأَكْرَمْتُكَ"۔ تو عدمِ اکرام بھی معلوم، عدمِ مجیئت بھی معلوم، لیکن عدمِ اکرام کی کیا وجہ ہے بھئی، کیوں نہیں اکرام کیا؟ بتلا دیا 'لو' کے ذریعے "لَوْ جِئْتَنِي"، اس 'لو' نے بتلا دیا کہ اس کی علت کیا ہے؟ عدمِ مجیئت، نہ آنا ہے بس۔ تو مولانا ترتیبِ خارجی معلوم ہوئی، معلوم ہوا اوّل علت ہے، ثانی کیا ہے؟ معلول۔ اوّل سبب ہے، ثانی مسبب ہے، اور سبب مقدم ہوتا ہے کس پر؟ مسبب پر۔ تو ترتیبِ خارجی معلوم ہوئی کہ اوّل پہلے ہے اور ثانی بعد میں ہے۔ یہ بات بھی سمجھ میں آ گئی۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ اے علامہ ابن حاجب! آپ نے غور نہیں کیا دراصل کہ 'لو' کے استعمال کے دو طریقے ہیں: کبھی یہ استدلالی طریقے پر آتا ہے جو مناطقہ کا طریقہ ہے، اور کبھی یہ ترتیبِ خارجی کے طریقے پر آتا ہے جو اہلِ لغت کا طریقہ ہے، اور آپ نے، آپ نے اس ترتیبِ خارجی والے طریقے کو یہ سمجھا کہ شاید یہ بھی کون سا طریقہ ہے؟ مناطقہ والا طریقہ ہے اور اس پر اعتراض کر دیا۔ آپ نے کیا سمجھا؟ ترتیبِ خارجی کس کا طریقہ ہے؟ وہی، حالانکہ یہ دوسرا طریقہ ہے بھئی، یہ اہلِ لغت والا طریقہ ہے، تو جب آپ یہ سمجھے تو یہ تو ویسا تھا نہیں، تو آپ نے کیا کر دیا؟ اعتراض کر دیا، حالانکہ بات ایسی نہیں، یہ تو طریقہ ہی دوسرا ہے، اہلِ لغت والا طریقہ ہے اور وہ جو اعتراض آپ کر رہے ہیں وہ کس کو لے کر کر رہے ہیں؟ مناطقہ کے طریقے کو لے کر۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو ایک استدلالی طریقہ ہے، استدلالی طریقے کے اندر کیا ہوتا ہے؟ معلوم چیز کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے کس چیز پر؟ یعنی یہ بتلایا جاتا ہے ثانی دلیل ہے کس چیز کی؟ اوّل کی، جبکہ ایک ترتیبِ خارجی والا طریقہ ہے وہاں یہ نہیں بتایا جاتا کون دلیل ہے یا دلیل نہیں ہے، بس یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ اوّل سبب ہے کس کا؟ ثانی کا، بس صرف اتنا بتایا جاتا ہے، دلیل کے ساتھ، استدلال کے ساتھ اس کا تعلق نہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی: "وأنا أقول"، اور میں یہ کہتا ہوں، دیکھا اپنی طرف نسبت کر رہے ہیں علامہ تفتازانی، "منشأ هذا الاعتراض قلة التأمل"، اس اعتراض کے پیدا ہونے کا سبب کیا ہے؟ قلتِ تامل ہے، غور و فکر کا کم ہونا ہے، "لأنه ليس معنى قولهم"، اس لیے کہ ان کے، جو انہوں نے کیا کہا، جو ان کا قول تھا مولانا، کیا قول تھا؟ "لو لامتناع الثاني لامتناع الأول"، کہ ان کے اس قول کا معنی: "لو لامتناع الثاني لامتناع الأول"، کہ 'لو' آتا ہے امتناعِ ثانی کے لیے کس وجہ سے؟ امتناعِ اوّل کی وجہ سے، اس قول کا یہ معنی نہیں ہے کہ "أنه يستدل بامتناع الأول على امتناع الثاني"، کہ اوّل کا امتناع جو ہے اس کے ذریعے دلیل پکڑی جا رہی ہے کس پر؟ امتناعِ ثانی پر۔ یہ تو صرف ترتیب بیان ہو رہی ہے، یہاں استدلال کا تعلق نہیں، صرف یہ بتلایا جا رہا ہے اوّل سبب ہے اور ثانی کیا ہے؟ مسبب ہے۔ "حتى يرد عليه"، یہاں تک کہ وارد ہو اس پر: "أن انتفاء السبب أو الملزوم لا يوجب انتفاء المسبب أو اللازم"، تاکہ اس پر وہ اعتراض جو آپ نے کیا تھا، آپ نے کیا اعتراض کیا تھا؟ آپ نے کہا تھا کہ بھئی اوّل کا نہ ہونا یہ دلیل نہیں ہے اس بات کی کہ ثانی بھی نہ ہو۔ تو یہ تو مولانا آپ کہہ رہے ہیں اوّل کا نہ ہونا دلیل نہیں ہے، یہاں تو دلیل کی بات ہی نہیں ہو رہی، بلکہ یہاں تو صرف ترتیب بتائی۔ یہاں تک کہ اس پر یہ اعتراض وارد ہو کہ سبب کا منتفی ہونا یا ملزوم کا منتفی ہونا یہ ثابت نہیں کرتا مسبب کے نہ ہونے کو یا لازم کے نہ ہونے کو، یعنی آپ کا اعتراض اس پر وارد نہیں ہوتا، "بل معناه"، بلکہ اس کا معنی یہ ہے، "أنها للدلالة"، یہ اس بات پر دلالت کے لیے ہے کہ: "على أن انتفاء الثاني في الخارج إنما هو بسبب انتفاء الأول"، صرف اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ انتفائے ثانی خارج کے اندر کیوں ہے؟ بھئی خارج میں ثانی کیوں منتفی ہے؟ کہتے ہیں: "إنما هو بسبب انتفاء الأول"، وہ کس وجہ سے کہ اوّل منتفی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ "فمعنى: لو شاء الله لهداكم"، تو معنی کیا، اس کلام کا معنی اگر اللہ چاہتے تو تمہیں ہدایت دے دیتے، اس کا کیا معنی ہے؟ "أن انتفاء الهداية إنما هو بسبب انتفاء المشيئة"، کہ یہ جو ہدایت منتفی ہے اس کا سبب کیا ہے؟ انتفائے مشیئت، ہدایت اس لیے منتفی ہے کہ اللہ نہیں چاہتے۔ "يعني أنها تستعمل للدلالة"، یعنی اس کو استعمال کیا گیا ہے 'لو' کو اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ علت کیا ہے مولانا؟ مضمونِ جزاء منتفی ہے یعنی ہدایت منتفی ہے، اس کی علت کیا ہے؟ عدمِ مشیئت۔ "أن علة انتفاء مضمون الجزاء في الخارج هي انتفاء مضمون الشرط"، کہ خارج کے اندر مضمونِ جزاء کے منتفی ہونے کی علت کیا ہے؟ مضمونِ شرط کا منتفی ہونا ہے بھئی، کیونکہ شرط منتفی ہے، تو یعنی یہ بتلایا گیا کہ ہدایت پر ہونا یہ تمہارا یہ مسبب ہے اور اللہ کی مشیئت کیا ہے؟ سبب ہے، اور تمہارا ہدایت پر ہونا منتفی ہے کیونکہ اللہ کی مشیئت منتفی نہیں۔ تو صرف علت بتلائی گئی کہ تم ہدایت پر کیوں نہیں ہو، اس کی علت کیا ہے؟ کہ اللہ کی مشیئت نہیں، بس صرف یہ بتلایا۔ دلیل نہیں بنایا گیا کہ اوّل دلیل ہے ثانی کی۔ "من غير التفات إلى أن علة العلم بانتفاء الجزاء ما هي"، بغیر توجہ کیے اس بات کی طرف کہ جزاء کا منتفی ہونا جو معلوم ہے، جزاء کا منتفی ہونا اس کی علت کیا ہے؟ اس کی کیا ہے؟ کیا ہے؟ یعنی مولانا ایک چیز کے علم کے ذریعے، ایک چیز کے انتفاء کا علم ہے، اس سے استدلال نہیں کیا جا رہا دوسری چیز کے انتفاء پر، انتفاء پر۔ دیکھیے مولانا، آگے پھر نظیر ایک اس کی ذکر کرتے ہیں: "ألا ترى أن قولهم"، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ کس کا قول مولانا؟ اہلِ لغت کا یہ قول مولانا: "لولا"، یہ 'لولا' یہاں ایک اور 'لا' ہونا چاہیے مولانا، 'لولا' ہے یہاں، "لولا لامتناع الثاني"، 'لولا' کس لیے آتا ہے؟ امتناعِ ثانی کے لیے آتا ہے، "لوجود الأول"، وجودِ اوّل کے لیے۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے 'لولا' کے بارے میں نحو کی کتابوں میں پڑھا ہے 'لولا' کو۔ 'لولا' آتا ہے مولانا کس لیے آتا ہے؟ "لامتناع الثاني لوجود الأول"، اس کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے کہ ثانی ممتنع ہے کس وجہ سے؟ اوّل کے وجود کی وجہ سے۔ 'لولا' کس لیے آتا ہے؟ ثانی ممتنع ہے کس کی وجہ سے؟ اوّل کے وجود کی وجہ سے۔ "لَوْلَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ"، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے بھئی، ایک مرتبہ ایک فیصلہ فرمایا ایک عورت کے رجم کرنے کا کہ زنا کی وجہ سے اس نے زنا کیا اس کو رجم کر دیا جائے، اور اتفاق سے وہ حاملہ تھی، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اور بتلایا کہ یہ عورت جو ہے اس کا تو قصور ہے، اس کو تو رجم کیا جانا چاہیے، اس کے پیٹ میں جو حمل ہے اس کا کیا قصور ہے کہ وہ بھی مر جائے گا، ختم ہو جائے گا؟ تو چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً رجوع کیا مولانا، صحابہ عجیب لوگ تھے مولانا، کہ اگر عمر آج، آج علی نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہی ہو گیا تھا کہ اس کی، عمر کی وجہ سے ایک جان کیا ہوتی؟ چلی جاتی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں جی، تو یہ عجیب لوگ مولانا، جوں جوں زمانہ دور ہو رہا ہے گناہ وغیرہ مولانا بڑھتے ہی جا رہے ہیں، آپ دیکھتے جا رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہم جتنا دور ہو رہے ہیں گناہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ پرانے لوگ عجیب تھے بھئی اور صحابہ تو حضور کے شاگرد تھے بھئی۔ حجاج ابن یوسف کے بارے میں آتا ہے بھئی، کتنا ظالم شخص تھا لیکن وہ لوگ پھر بھی قرآن و حدیث کے کیسے زبردست عالم تھے! کہتے ہیں حجاج ابن یوسف کے پاس ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت آئی اور آ کر اس نے اپنا کوئی مسئلہ پیش کیا، یہ گورنر تھا، کہ میری یہ حاجت ہے، یہ مسئلہ پورا کر دو۔ حجاج نے مولانا ٹال دیا اس کو کہ یہ کام نہیں ہو سکتا۔ بوڑھی عورت تھی بھئی، بڑا غصہ چڑھا اور کہنے لگی: کیا حجاج تو نے میرا کام نہیں کیا؟ اللہ تجھے اسی طرح نیست و نابود کر دے، اللہ تیرا نام اسی طرح دنیا سے مٹا دے اور ختم کر دے جیسے قرآن کے پہلے پارہ، پہلے 15 پاروں کے اندر 'کلاّ' کا لفظ، اس کا نشان نہیں ملتا۔ قرآن کے پہلے 15 پاروں میں جیسے 'کلاّ' کے لفظ کا نشان نہیں ملتا، اسی طرح اللہ تیرے بھی نشان کو کیا کر دے؟ پہلے 15 پاروں میں 'کلاّ' نہیں آتا بھئی۔ حجاج نے یہ بات سنی تو سر جھکا کر بیٹھ گیا مولانا۔ چند لمحے سر جھکایا اور پھر سر اٹھا کر بوڑھی عورت کو کہنے لگا: اے بوڑھی عورت! تیری بات درست ہے، واقعی پہلے 15 پاروں میں 'کلاّ' کا لفظ نہیں آتا۔ اور اگر تیری بات غلط ہوتی تو آج میں تیری گردن یہاں پر اڑا دیتا۔ تو کیسے لوگ تھے مولانا! بوڑھی عورت کا علم دیکھو بھئی، کتنا غور تھا قرآن کے اندر کہ پہلے 15 پاروں کے اندر 'کلاّ' کا لفظ ہی نہیں، اور پھر حجاج کے علم کا اندازہ لگاؤ، چند لمحوں کے اندر انہوں نے غور کر کے بتلا دیا کہ واقعی پہلے 15 پاروں کے اندر 'کلاّ' کا لفظ نہیں ہے۔ تو 'لولا' آتا ہے مولانا امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ وجودِ اوّل کے لیے۔ تو دیکھو ہلاکتِ عمر منتفی ہے، ثانی منتفی ہے کس کی وجہ سے؟ اوّل کے وجود کی وجہ سے۔ وجودِ علی کی وجہ سے ہلاکتِ عمر کیا ہے؟ منتفی ہے۔ ثانی کی، ثانی منتفی ہے کس کی وجہ سے؟ اوّل کے وجود کی وجہ سے۔ کیونکہ 'لو' نفی کے لیے آتا ہے نا، ابھی آپ نے پہلے اس سے پہلے کیا پڑھا؟ 'لو' آتا ہے اوّل منتفی ثانی کے انتفاء کی وجہ سے، اور جب 'لو لا' آیا مولانا، 'لا' بھی آ گیا تو نفی پر نفی داخل ہوئی اور نفی پر نفی داخل ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا فائدہ دیتی ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں مولانا: زید نہیں آیا، زید نہیں آئے گا، زید... یہ کلامِ منفی ہے، اس پر ذرا نفی داخل کرو: یہ نہیں ہو سکتا کہ زید نہ آئے، کیا معنی؟ زید آئے گا، زید... تو نفی پر نفی داخل ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا۔ "لولا لامتناع الثاني لوجود الأول"، 'لولا' آتا ہے امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ وجودِ اوّل کے، جیسے: "لَوْلَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ"، "معناه أن وجود علي سبب لعدم هلاك عمر رضي الله تعالى عنهما"، اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت علی کا وجود جو ہے یہ سبب ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدمِ ہلاکت کا۔ تو صرف خارج میں علت بتلائی گئی بھئی، عدمِ ہلاکت کا سبب بتلایا گیا وہ کیا ہے؟ وجودِ علی۔ "لا أن وجوده دليل على أن عمر لم يهلك"، ایسا نہیں ہے کہ اس میں کیا کیا گیا ہو؟ دلیل، حضرت علی کے وجود سے دلیل پکڑی جا رہی ہو کس پر؟ عدمِ ہلاکت پر۔ بھئی استدلالی طریقے میں کیا ہوتا ہے؟ دلیل پکڑی جاتی ہے، اور ترتیبِ خارجی کے طریقے میں کیا ہوتا ہے؟ استدلالی طریقے میں کیا ہوتا ہے مولانا؟ ایک چیز معلوم ہوتی ہے اور ایک چیز مجهول، اور معلوم کے ذریعے استدلال کرتے ہیں کس پر؟ مجهول پر۔ اور ترتیبِ خارجی کے اندر دونوں چیزیں معلوم ہوتی ہیں، البتہ یہ نہیں پتہ ہوتا ثانی کی علت کیا ہے، تو 'لو' کے ذریعے اس کی کیا چیز بیان کی جاتی ہے؟ علت اور سبب۔ تو یہاں پر بھی ثانی، عدمِ ہلاکت کی علت بتلائی گئی، یہاں پر استدلال نہیں کیا گیا۔ استدلال کیوں نہیں کیا گیا؟ کہتے ہیں استدلال ہوتا ہے معلوم چیز کے ذریعے کس چیز کا؟ مجهول کا، اور یہاں تو دونوں چیزیں معلوم ہیں: عدمِ ہلاکتِ عمر بھی معلوم ہے اور حضرت علی کا وجود بھی معلوم ہے، تو ایک معلوم سے دوسرے معلوم پر کبھی استدلال نہیں کیا جاتا، معلوم ہوا یہ دلیل نہیں ہے مولانا۔ "لا أن وجوده دليل على أن عمر لم يهلك"، یہ معنی نہیں ہے کہ ان کا حضرت علی کا وجود دلیل ہے کہ حضرت عمر ہلاک نہیں ہوئے۔ "ولهذا صح مثل قولنا: لو جئتني لأكرمتك لكنك لم تجئ"، اور اسی وجہ سے صحیح ہے ہمارے اس قول کے مثل جو ہیں: "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ لَكِنَّكَ لَمْ تَجِئْ"، اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرا کیا کرتا؟ اکرام کرتا، لیکن تو نہیں آیا، تو نہیں آیا۔ لیکن تو نہیں آیا۔ تو یہاں مولانا بتلایا گیا کہ خارج میں عدمِ اکرام کی علت کیا ہے؟ خارج میں عدمِ اکرام کی علت کیا ہے؟ عدمِ مجیئت۔ اکرام کیوں نہیں ہوا؟ عدمِ مجیئت کی وجہ سے۔ تو یہ کون سا طریقہ ہے؟ اہلِ عربیت کا یا اہلِ لغت کا، اہلِ منطق کا؟ یہ اہلِ لغت کا طریقہ ہے بھئی، اہلِ لغت کا۔ "لَكِنَّكَ لَمْ تَجِئْ" بتلا رہا ہے کہ یہ اہلِ لغت کا طریقہ ہے۔ کیونکہ مناطقہ کیا کہتے ہیں مولانا؟ شرط ہے، دیکھیے "لَوْ جِئْتَنِي"، یہ "جِئْتَنِي" شرط، "لَأَكْرَمْتُكَ" اس کی جزاء۔ تو مناطقہ کہتے ہیں کہ رفعِ مقدم، یہ مفیدِ نتیجہ نہیں ہے۔ مناطقہ کیا کہتے ہیں؟ رفعِ مقدم یعنی جو مقدم ہے، شرط ہے اور جزاء ہے نا، کون مقدم ہے؟ شرط، تو شرط کو رفع کر دو، نفی کر دو۔ تو یہ نتیجے کو مفید نہیں، اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ مثلاً "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ"، مقدم کون ہے؟ "جِئْتَنِي"، اس کو ذرا رفع کرو: "لَكِنَّكَ لَمْ تَجِئْ"، نفی کی یا نہیں کی مجیئت کی؟ کی؟ نفی کر دی۔ اور مناطقہ کے نزدیک مجیئت کی یعنی مقدم کی جب نفی کر دی جائے تو نتیجہ، نتیجہ پھر اس کا کوئی فائدہ کوئی نہیں ہوتا مولانا۔ لیکن یہاں پر یہ فائدہ دے رہا ہے، معلوم ہوا کہ یہ کس چیز، کس طریقے پر ہے؟ اہلِ لغت کے طریقے پر ہے۔ اگر مناطقہ کے طریقے پر ہوتا تو پھر صحیح نہیں تھا۔ کیوں نہیں صحیح تھا؟ پھر کیوں فائدہ نہ دیتا؟ لیکن تو نہیں آیا، کیوں فائدہ نہ دیتا؟ بھئی کیا تھا؟ اگر تو نہیں آیا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تیرا اکرام بھی نہیں ہوا؟ ہو سکتا ہے تو نہ آیا ہو پھر بھی تیرا کیا ہو؟ اکرام ہو۔ ہو سکتا ہے سورج نہیں نکلا پھر بھی کیا موجود ہے؟ روشنی موجود ہے مولانا۔ تو مقدم کی نفی سے ثانی کی نفی ضروری نہیں کیونکہ ثانی کا وجود کسی اور سبب سے بھی آ سکتا ہے۔ تو لہٰذا مناطقہ کے نزدیک اگر ثانی کی، اوّل کی نفی کر دیں تو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، لیکن اہلِ لغت کے طریقے پر اگر اوّل کی کیا کر دیں؟ نفی کر دیں، اس کو رفع کر دیں، اس کی نقیض لے آئیں تو کیا ہوتا ہے؟ فائدہ پھر بھی حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے صحیح ہے ہمارا اس قسم کے قول جو ہے: "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ لَكِنَّكَ لَمْ تَجِئْ"، "أعني عدم الإكرام بسبب عدم المجيء"، یعنی عدمِ اکرام کیا ہے؟ سبب ہے عدمِ مجیئت کا خارج کے اندر۔ "قال الحماسي"، حماسی شاعر کہتا ہے مولانا۔ حماسہ کتاب آپ اگلے سال پڑھیں گے مولانا۔ حماسہ یا حیماسہ، حماسہ کہتے ہیں جنگ و جدل کو، سختی اور شدت کو۔ اس کتاب کے اندر بھی ابو تمام نے عرب کے بڑے بڑے مشہور شعراء کے کلام کو جمع کیا ہے اور صرف وہ اشعار جمع کیے ہیں جو جنگ و جدل سے متعلق ہیں۔ تو حماسہ کہتے ہیں جنگ و جدل کو، تو اس کے اندر جو اشعار آئے، جن شعراء کے، ان کو کیا کہتے ہیں؟ حماسی بھئی، کیا کہتے ہیں؟ نسبت ہے، جیسے لاہور میں ہو جو اس کو کیا کہتے ہیں؟ لاہوری۔ تو اس کے اندر جن کے اشعار ہیں ان کو حماسی کہتے ہیں، حماسے والے۔ یعنی وہ شاعر جو جنگ و جدل والے اشعار کہنے والے ہیں، جوشیلے اشعار کہنے والے ہیں، بھڑکانے والے ہیں، مشتعل کرنے والے ہیں۔ تو ایک حماسی شاعر کہتا ہے، جب حماسی کا لفظ آئے مطلب ہے حماسہ کتاب میں جتنے شاعروں کا کلام جمع ہے ان میں سے کوئی ایک شاعر مراد ہے۔ "قال الحماسي"، جیسے ایک حماسی شاعر کہتا ہے: "ولو طار ذو حافر"، اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے، کہتا ہے میرا گھوڑا بڑا تیز رفتار ہے، برق رفتار ہے، ہواؤں سے باتیں کرتا ہے، بجلی کی کڑک کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے۔ کہتا ہے: "ولو طار ذو حافر"، اگر اڑتے کھروں والے، حافر کس کو کہتے ہیں؟ کھر، گھوڑے وغیرہ کے۔ اگر کھر والے اڑتے، "قبلها"، اس سے پہلے، "لطارت"، تو میرا گھوڑا بھی اڑتا، "ولكنه لم يطر"، لیکن کھروں والے اڑتے نہیں۔ لیکن کھروں والے اڑتے نہیں۔ تو دیکھو دو چیزیں ہیں، کون سی دو چیزیں ہیں؟ کھروں والے، اوّل کیا ہے؟ کھروں والے گھوڑوں کا نہ اڑنا، انتفاء، نفی لے کر آ رہا ہے نا، 'لو' آ رہا ہے۔ کھروں والے گھوڑوں کا نہ اڑنا، یہ معلوم ہے یا مجهول ہے؟ معلوم ہے۔ آپ کو پہلے سے پتہ ہے بھئی کہ کھر والے گھوڑے اڑتے، یعنی کھر والے جانور اڑتے نہیں۔ دوسری بات مولانا، کیا؟ شاعر کا گھوڑا بھی نہیں اڑا، یہ بھی آپ کو معلوم ہے یا معلوم نہیں ہے؟ ہو سکتا ہے اڑا ہو؟ نہیں، قطعی بات ہے۔ تو یہ بھی آپ کو معلوم۔ تو دونوں چیزیں معلوم ہیں، تو جب دونوں چیزیں معلوم ہیں اور پھر آگے کیا کیا جا رہا ہے مولانا، کس کی، کس کو رفع کیا جا رہا ہے؟ اوّل کو۔ اوّل کی نقیض لے آئے، اوّل کو رفع کر دیا۔ اور اس کے ذریعے استدلال کیا جا رہا ہے، کیا بتلایا جا رہا ہے بھئی؟ کہ سبب بتلایا جا رہا ہے۔ میرے گھوڑے کے نہ اڑنے کا سبب یہ ہے کہ کھر والے اڑتے نہیں۔ تو اوّل بھی معلوم تھا کھر والے نہیں اڑتے، ثانی بھی معلوم تھا شاعر کا گھوڑا نہیں اڑا، لیکن ثانی کہ تیرا گھوڑا شاعر کا نہیں اڑا اس کی علت معلوم نہیں تھی بھئی۔ تو تو کہتا ہے ہواؤں سے باتیں کرتا ہے، تو تو کہتا ہے بجلی کی کڑک ہے، پھر یہ اڑا کیوں نہیں، اس کی علت کیا ہے؟ تو اس نے بتایا علت یہ ہے کہ وہ کھر والا ہے اور کھر والے اڑتے نہیں۔ "يعني أن عدم طيران تلك الفرس بسبب أنه لم يطر ذو حافر"، یعنی میرے اس گھوڑے کے نہ اڑنے کا سبب یہ ہے کہ کھر والے نہیں اڑے۔ "وقال المعري"، اور ابو العلاء معری فرماتے ہیں: "ولو دامت الدولات كانوا كغيرهم رعايا ولكن ما لهن دوام"، اچھا، دوسرا بھئی، دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں، شاعر کہتا ہے: "ولو دامت الدولات"، دُولات یا دَولات مولانا جمع ہے دَولۃ یا دُولۃ دونوں طرح صحیح ہے، اور اگر دولت سے مراد، دولت کس کو کہتے ہیں؟ حکومت کو، بادشاہت کو، اور مراد اہلِ بادشاہت ہیں یعنی بادشاہ مراد ہیں۔ اگر بادشاہ باقی رہتے، "كانوا كغيرهم"، تو وہ بادشاہ بھی غیروں کی طرح ہوتے، اور غیر کیا ہیں مولانا؟ رعایا ہیں، کیا ہیں؟ رعایا ہیں۔ "ولكن ما لهن دوام"، لیکن ان دولات کے لیے دوام نہیں ہے۔ تو شاعر کہتا ہے میں جس کی تعریف کر رہا ہوں، میرا ممدوح، کسی کی شان میں، کسی کی مدح میں اشعار کہے۔ کہتا ہے وہ اتنا بڑا بادشاہ ہے، اتنا بڑا بادشاہ ہے کہ سب لوگ اس کے رعایا ہیں، سارے اس کے ماتحت ہیں، سارے اس کے ماتحت ہیں۔ اچھا سارے ماتحت ہیں؟ تو بھئی جو گزشتہ بادشاہ ہیں وہ اس کے ماتحت کیوں نہیں؟ آپ تو کیا کہتے ہیں سارے ماتحت، تو جو گزشتہ بادشاہ گزر گئے وہ کیوں نہیں ماتحت؟ علت معلوم نہیں تھی۔ اس نے علت بتلا دی کہ بھئی بات دراصل یہ ہے کہ بادشاہ کو دوام نہیں، ایک آتا ہے ختم ہو جاتا ہے، پھر دوسرا آتا ہے وہ مر جاتا ہے، ختم۔ تو چونکہ وہ ختم ہو چکے ہیں، فنا ہو چکے ہیں، ہیں ہی نہیں، اس لیے وہ میرے اس ممدوح کی رعایا نہیں، ورنہ اگر وہ بادشاہ زندہ ہوتے جو پہلے حکومتیں کرتے تھے تو اب میرے ممدوح کے زمانے میں وہ بھی میرے ممدوح کی کیا ہوتے؟ رعایا ہوتے کیونکہ اس کے اندر ایسی خوبیاں ہیں کہ یہ سب پر حکومت کرتا ہے۔ تو دیکھیے دو باتیں معلوم ہیں مولانا، دیکھیے "ولو دامت الدولات"، اگر حکومتیں یعنی بادشاہ باقی رہتے، یعنی بادشاہ باقی نہیں رہے، بادشاہ باقی... تو بادشاہوں کا ختم ہونا معلوم ہے یا مجهول ہے؟ معلوم ہے۔ "كانوا كغيرهم رعايا"، وہ بھی اس کے لیے کیا ہوتے؟ رعایا۔ اور وہ تو اس کے لیے رعایا نہیں، تو یہ بھی معلوم۔ ان بادشاہوں کا فنا ہو جانا بھی معلوم اور اس کے لیے رعایا نہ ہونا بھی معلوم کہ وہ اس کی رعایا نہیں ہیں۔ لیکن وجہ نہیں معلوم کہ وہ کیوں نہیں ہیں اس کی رعایا؟ تو علت بتلا دی مولانا: "ولكن ما لهن دوام"، اس کے ذریعے اوّل کو کیا کر دیا؟ اوّل کی نقیض لے آئے مولانا، اور مناطقہ کے نزدیک اوّل کی نقیض لے آؤ تو اس سے نتیجے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ایک سبب کی نفی سے مسبب کی نفی لازم نہیں بلکہ ہو سکتا ہے مسبب کسی اور وجہ سے ہو۔ "وأما المنطقيون فقد جعلوا إن ولو أداة اللزوم"، باقی مناطقہ جو ہیں انہوں نے 'اِن' اور 'لو' کو اداتِ لزوم قرار دیا ہے، "وإنما يستعملونها في القياسات"، اور وہ ان اداتِ لزوم کو استعمال کرتے ہیں کن کے اندر مولانا؟ اپنے قیاس کے اندر استعمال کرتے ہیں، "لحصول العلم بالنتائج"، تاکہ علم حاصل کریں کس چیز کا؟ نتائج کا۔ "فهي عندهم للدلالة"، تو یہ اداتِ لزوم ان کے نزدیک موضوع ہیں، ان کو وضع کیا گیا ہے، "للدلالة"، اس بات پر دلالت کرنے کے لیے، "على أن العلم"، وہی مولانا جو میں نے بات بیان کر دی مناطقہ کی، وہی بات بیان کر رہے ہیں، اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ: "أن العلم بانتفاء الثاني علة للعلم بانتفاء الأول"، کہ ثانی کا منتفی ہونا معلوم ہے، اس کی علت کیا ہے؟ یہ علت ہے اوّل کے منتفی ہونے کے علم کی۔ یعنی ایک چیز یہ بھی معلوم، ایک چیز یہ بھی معلوم، لیکن اس ایک کے معلوم ہونے کا سبب کیا ہے؟ بھئی دو چیزیں ہیں نا: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، تو آلہہ کا نہ ہونا یہ بھی معلوم ہوا آپ کو، اور فساد کا نہ ہونا بھی، لیکن یہ اوّل کا آپ کو پتہ کیسے چلا، یہ تو مجهول تھا؟ کس سے پتہ چلا؟ فساد کے نہ ہونے سے۔ یہ معنی ہے۔ یعنی ایک کے معلوم ہونے کا سبب کیا ہے؟ دوسرا ہے۔ خارج میں علت کیا ہے اس کی بات نہیں ہے، آپ کو جو علم ہوا وہ کیوں ہوا؟ کہتے ہیں ایک کی وجہ سے کیا ہوا دوسرے کا علم، تو ایک کے علم کی علت ہے دوسرا، نہ کہ خارج کے اندر اس کی علت ہے۔ یہ معنی ہے: "أن العلم بانتفاء الثاني علة للعلم بانتفاء الأول"، کہ ثانی کے انتفاء کا جو علم ہے اس کی علت کیا ہے؟ اوّل کا منتفی ہونا ہے۔ "لضرورة انتفاء الملزوم بانتفاء اللازم"، یہاں آپ کو عجیب فائدہ بتلائیں، عجیب نکتہ بتائیں مولانا، ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھنا، کام آئے گا۔ کتابوں کے اندر جہاں بھی 'بالضرورۃ' اور 'بالضرورۃ' کا لفظ آئے مولانا، اس کا معنی ہوتا ہے بالبداہت اور بالیقین کے۔ یہ اجنبی نکتہ مولانا حضرت شیخ ترمذی نے ہمیں بتلایا تھا بھئی، یاد کر لو کبھی کام آئے گا مختلف کتابوں میں۔ کتابوں میں 'بالضرورۃ' کا لفظ آ جائے تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ بالبداہت اور بالیقین، بالیقین۔ کہ یہ چیز بدیہی ہے، یہ چیز یقینی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک اور نکتہ آپ کو بڑا قیمتی نکتہ بتلائیں بھئی، آپ کے بڑا کام آئے گا، یاد رکھنا ہمیشہ۔ ہدایہ وغیرہ آپ پڑھ رہے ہیں بھئی، ہدایہ میں 'معنی' کا لفظ آتا ہے اکثر جگہ۔ یاد رکھو یہ 'معنی' کا لفظ، اس کا معنی ہے علت، اس کا کیا معنی ہے؟ علت۔ تو لفظِ علت کے بجائے صاحبِ ہدایہ، صاحبِ قدوری وغیرہ قدیم علماء 'معنی' کا لفظ استعمال کرتے ہیں، 'علت' کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ وجہ اس کی یہ کہ 'علت' کا لفظ فلاسفہ اور مناطقہ زیادہ استعمال کرتے تھے، چنانچہ ہمارے قدیم علماء نے اس لفظ کو ناپسند کیا بھئی، اس کو فلاسفہ بہت پسند کرتے ہیں ہم نہیں اس کو استعمال کریں گے، اس کے بجائے انہوں نے کیا لفظ استعمال کیا؟ 'معنی' کا لفظ استعمال کیا۔ سب سے پہلے پھر امام طحاوی رحمہ اللہ آئے، انہوں نے آ کر اس لفظ کو استعمال کیا کہ بھئی ایک اتنا اچھا لفظ ہے، جب مناطقہ استعمال کرتے ہیں تو کیا ہوا، ہم کیوں اس کو ترک کریں؟ ہم بھی اس کو کیا کرتے ہیں، اس کے بعد پھر باقی علماء نے بھی آہستہ آہستہ اس کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ تو ہدایہ کے اندر کئی جگہ 'معنی' کا لفظ آئے گا اور اس کا کیا ترجمہ کریں گے آپ؟ علت کا ترجمہ کریں گے۔ اصولِ شاشی کے اندر کئی جگہ، اصول کی کتابوں میں 'معنی' کا لفظ آئے گا، کیا ترجمہ کریں گے؟ علت کریں گے، قدوری وغیرہ کے اندر بھئی، جی ہاں۔ اب یہ آپ تجربہ کر لینا، دیکھنا وہاں معنی کتنا زبردست بن جاتا ہے۔ یہ بھی نکتہ حضرت شیخ ترمذی رحمہ اللہ نے بتلایا تھا اور اس کو ہمیشہ یاد رکھیں بھئی، یہ آپ کو ملے گا نہیں۔ تو مولانا: "فهي عندهم"، یہ اداتِ لزوم ان کے نزدیک، یہ 'لو' جو ہے ان کے نزدیک موضوع ہے اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ ثانی کا انتفاء جو معلوم ہے، اس کی علت کیا ہے کہ اوّل کا انتفاء بھی، اوّل کا منتفی ہونے کا علم یہ علت ہے کس چیز کا؟ ثانی کے منتفی ہونے کے علم کی۔ "لضرورة انتفاء الملزوم بانتفاء اللازم"، بوجہ بدیہی اور یقینی ہونے کے، کس چیز کے یقینی ہونے کے؟ انتفائے ملزوم سے انتفائے لازم کا ہونا یقینی ہے۔ جب روشنی نہیں ہے تو سورج کا نہ ہونا، کیوں بھئی؟ جب روشنی نہیں تو سورج کا نہ ہونا یقینی ہے، لیکن سورج کا نہ ہونا اس کے ساتھ ضروری نہیں کہ روشنی بھی نہ ہو۔ اس لیے مولانا کہ بدیہی ہے انتفائے ملزوم سے انتفائے لازم، "من غير التفات إلى أن علة انتفاء الجزاء في الخارج ما هي"، بغیر اس بات کی طرف توجہ کیے کہ انتفائے جزاء کی علت خارج میں کیا ہے۔ یعنی مناطقہ جو ہیں وہ خارج کے اندر علت نہیں بتلاتے بلکہ علم کے اندر کیا بتلاتے ہیں؟ ایک کا علم علت ہے دوسرے کے علم کے لیے، خارج میں کیا چیز علت ہے اس کے لیے، یہ اس سے بحث نہیں کرتے۔ "وقوله تعالى: لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا، وارد على هذه القاعدة"، اور اللہ کا قول: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، اگر ہوتے زمین اور آسمان میں اور معبود اللہ کے علاوہ تو یہ فاسد ہو جاتے دونوں، "وارد على هذه القاعدة"، اللہ کا یہ قول بھی اسی قاعدۂ مذکورہ پر وارد ہوا ہے، آیا ہے، یعنی مناطقہ کے طریقے پر۔ "ولكن الاستعمال على قاعدة أهل اللغة هو الشائع المستفيض"، لیکن استعمال لغت کے قاعدے پر وہی زیادہ شائع ہے اور عام اور مشہور ہے۔ "وتحقيق هذا البحث على ما ذكرنا من أسرار هذا الفن"، اور تحقیق اس بحث کی بناء پر اس کے جو ہم نے ذکر کی، اس فن کے، کہتے ہیں مولانا یہ اس فن کے اسرار میں سے ہے، ہم نے کتنی عجیب بدیع تحقیقی بات آپ کو سنائی مولانا۔ شارح بھی خوش ہیں کہ یہ میری تحقیق ہے اور کسی نے اس سے پہلے ایسی تحقیق نہیں کی۔ "وفي هذا المقام مباحث أخر شريفة أوردناها في الشرح"، اور اس مقام پر اور مباحث بھی ہیں شریفہ جو بڑے بلند ہیں، "أوردناها في الشرح"، آپ چونکہ تحقیق کو پسند کرنے والے لوگ ہیں، آپ کی تسلی نہیں ہوئی ہو گی تو ہم نے اور مباحث کس میں ذکر کیے ہیں؟ اپنی شرح کے اندر ذکر کیے ہیں، تو آپ وہاں جا کر کیا کر سکتے ہیں؟ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
64 approved lectures · 30 of 64