Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-068

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل ہم نے التفات کی کچھ مثالیں پڑھی تھیں۔ ایک التفات کی مثال پڑھی تھی خطاب سے تکلم کی طرف جو ہے، جیسے شاعر نے کہا تھا: ”طَحَا بِكَ قَلْبٌ فِي الْحِسَانِ طَرُوبُ“ کہ لے گیا اے میرے نفس تجھے ایسا دل، ”طَرُوبٌ فِي الْحِسَانِ“ جو مست ہے حسین عورتوں کے اندر، ”بُعَيْدَ الشَّبَابِ“ شباب کے کچھ دیر کے بعد، ”عَصْرًا حَانَ مَشِيبُ“ کہ بڑھاپا قریب ہو گیا اس میں، ”يُكَلِّفُنِي لَيْلَى فِيهِ“ اور اس میں ”يُكَلِّفُنِي“ مجھے مکلف بناتی ہے لیلیٰ کا، مجھے مکلف بناتا ہے قلب لیلیٰ کا۔ حالانکہ کہنا کیا چاہیے تھا؟ ”يُكَلِّفُكِ“ اے نفس، تجھے مکلف بناتا ہے لیلیٰ کا۔ تو پہلے خطاب تھا نفس کو اور اب تکلم کی طرف التفات کیا، جی، تکلم کی طرف التفات کیا۔ اور یہ بھی آپ کو انہوں نے بتایا کہ بعض روایتوں کے اندر اس شعر میں ”تُكَلِّفُنِي“ یہ بعض نسخوں میں آیا ہے: ”تُكَلِّفُنِي“۔ تو اس صورت میں ”تُكَلِّفُ“ کے اندر امکان ہے کہ اس کا کہ اس کا فاعل کون ہو؟ لیلیٰ ہو۔ اس صورت میں لیلیٰ فاعل ہوا، مفعولِ اول ”نِي“ یا آ چکی ہے مولانا، اور مفعولِ ثانی جو ہے وہ کیا ہوگا؟ ”شَدَائِدَ فِرَاقِهَا“۔ جی، اور ”شَدَائِدَ فِرَاقِهَا“۔ جی، اور یا پھر مولانا ”تُكَلِّفُنِي“ جیسے غائب کا صیغہ بن سکتا تھا لیلیٰ کو ہم نے فاعل بنایا، اسی طرح یہ مخاطب کا بھی صیغہ بن سکتا ہے۔ تو ہو سکتا ہے خطاب ہو قلب کی طرف کہ لے گیا اے نفس تجھے قلب، اور پھر کہا: اے قلب! تو مکلف بناتا ہے مجھے لیلیٰ کا۔ تو پہلے قلب اسمِ ظاہر لائے تھے اور اسمِ ظاہر کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ غائب کے درجے میں ہوتا ہے، اور یہاں پر ”تُكَلِّفُ“ لائے خطاب لے کر آئے، تو یہ ایک اور التفات ہوا ہے غائب سے خطاب کی طرف۔ ”وَقَدْ شَتَّ وَلْيُهَا“ اور اس حال میں کہ تحقیق دور ہو چکے ہیں اس سے ملاقات کے دن، ”وَعَادَتْ عَوَادٍ“ اور لوٹ آئے ہیں ہمارے درمیان شواغل اور بڑے بڑے امور۔ اور یہاں آپ کو علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا مولانا کہ ”عَادَتْ“ کے اندر دو احتمال ہیں، بھئی۔ ”عَادَتْ“ معاداة سے بھی ہو سکتا ہے باب مفاعلہ سے بھی بمعنی دشمنی کرنے کے، اور ”عَادَ يَعُودُ“ سے بھی ہو سکتا ہے بمعنی لوٹنے کے۔ اور پھر خطاب سے غیبت کی طرف التفات کی مثال تھی: ”حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ“ یہاں تک کہ تم کشتی میں ہو، اور کشتی ان کو لے کر چل پڑے۔ تو کشتی میں تم ہو، کہنا... ہونا کیا چاہیے تھا؟ ”وَجَرَيْنَ بِكُمْ“۔ اس کے بعد مثال ذکر کی غیبت سے تکلم کی طرف: ”وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ“ اللہ وہ ذات ہے جس نے بھیجا ہواؤں کو پس وہ اٹھاتی ہیں بادلوں کو پس ہم نے ہانکا ان کو، اس کو۔ تو پہلے اسمِ ظاہر اللہ کے ساتھ ذکر ہوا تھا، غائب کے صیغے آئے، پھر ”فَسُقْنَا“ ہم ہانک... ہم نے ہانکا، تکلم لے کر آئے، بھئی۔ اسی طرح سورۂ فاتحہ کے اندر آیا: ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“، ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ غائب کے درجے میں تھا، ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ التفات کیا خطاب کی طرف۔ اور پھر خطاب کی وجہ... التفات کی وجہ ذکر کی عمومی وجہ کہ ہر التفات کس لیے کیا جاتا ہے؟ تاکہ نیا اسلوب آ جائے کلام کے اندر، اور کلام کے اندر تازگی پیدا ہو جائے، سامع کو ہشاش بشاش کرنے کے لیے، اور یہ زیادہ بہتر ہے تازگی کے اعتبار سے کلام، اور یہ زیادہ تنبیہ کرنے والا ہے مخاطب کو۔ جی، کیوں؟ بوجہ کان لگانے کے اس کی طرف، کیونکہ جب نیا کلام آئے گا وہ کان لگائے گا اس کی طرف تو زیادہ اچھے طریقے سے بات سمجھے گا۔ اور کبھی کبھار خاص خاص التفات کے مواقع میں خاص خاص نکات ہوتے ہیں۔ جیسے سورۂ فاتحہ کے اندر التفات کا خاص نکتہ جو علماء بیان کرتے ہیں کہ بندہ جب شروع کرتا ہے... یرحمک اللہ... اس لیے کہ بندہ جب ذکر کرتا ہے الحقیقۃ بالحمد لائقِ حمد ذات کا حاضر دل کے ساتھ۔ کیا کہتا ہے؟ ”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ تمام صفات کس کے لیے ہیں؟ ایسی ذات کے لیے جو جامع ہے تمام صفاتِ کمالیہ کو۔ تو جب اتنی عظیم ذات کا ذکر آیا جس میں ساری کمال والی صفتیں جمع ہیں، تو اپنے نفس میں ایک محرک پاتا ہے جو اس کی تحریک تحریک کرتا ہے کہ اس ذات کی طرف تم متوجہ ہو جاؤ پوری طرح۔ اور اس سے اب پھر اور اس سے خطاب کرو۔ چنانچہ یہ تحریک بڑھتی جاتی ہے، آگے پھر صفت آتی ہے: ”رَبِّ الْعَالَمِينَ“۔ بھئی وہ ذات ایسی تھی جو تمام صف... کمال صفاتِ کاملہ... صفاتِ کمال کو جامع تھی اور تمام جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ پھر اس کے بعد آگے صفت آتی ہے: ”الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ“۔ ”الرَّحْمَنِ“ صفت آتی ہے کہ دنیا میں بھی رحم کرنے والی ہے وہ ذات اور آخرت میں بھی رحم۔ اور پھر ”الرَّحِيمِ“ صفت آتی ہے کہ آخرت میں رحم کرنے والی ہے۔ اس کے بعد ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ تک بات پہنچتی ہے، بھئی، بڑی بڑی عظیم صفات ذکر ہو رہی ہیں کہ قیامت کے دن ہر چیز کی وہ ذات مالک ہوگی۔ تو اتنی عظیم صفات کے بعد وہ محرک جو تھا، اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جو انسان کو مجبور کر رہا تھا اس کی طرف متوجہ ہونے کو۔ تو چنانچہ یہاں آ کر اب وہ انتہا کو پہنچتا ہے، تو انسان بالاخر مجبور ہو جاتا ہے، اس پر واجب ہو جاتا ہے کہ اب میں اس ذات کی طرف متوجہ ہو جاؤں اور اس سے براہِ راست خطاب کروں اور اس کی تخصیص کروں میں اس ذات کی جو اتنی عظیم صفات والی ہے کہ اس کی میں تخصیص کروں کہ وہ انتہائی عاجزی کے قابل وہی ہے۔ اور مدد طلب جس سے کی جائے... مدد طلب کرنے کے قابل بھی وہی ذات ہے۔ چنانچہ انتہائی عاجزی کے ساتھ بندہ اس کی تخصیص کرتا ہے اور کیا کہتا ہے؟ ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ کیونکہ عبادت انتہا درجے کی عاجزی ہے جس میں انسان دوسرے کے سامنے اپنے ماتھے کو زمین پر رکھ دیتا ہے۔ اور استعانت جو ہے، استعانت کے ساتھ بھی اسی کو خاص کیا: ”وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ“ ہم آپ سے مدد طلب... آپ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں، تخصیص کر دی، بھئی۔ اور مفعول کو محذوف کر دیا، اب ذکر نہیں کیا، اشارہ اس بات کی طرف کہ تمام کاموں میں آپ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں، کیونکہ مفعول کو حذف کیا جاتا ہے تعمیم پر دلالت کے لیے۔ تو اس موقع پر اس یہ اس التفات کو اس میں یہ نکتہ ہے مولانا، کیوں؟ اس میں تنبیہ ہے اس بات پر کہ بندہ جب بھی قراءت کو شروع کرے کہ وہ اسے اس کے لیے واجب ہے، ضروری ہے کہ وہ ایسے ہی طریقے پر قراءت پڑھے... قراءت کرے کہ اپنے ذہن کے اندر اس اپنے نفس میں اس محرک کو پائے، محسوس کرے۔ اس کے بعد بات خلافِ مقتضائے ظاہر کی چل پڑی، تو چنانچہ تک پہنچی تو اس کے متعدد اقسام ذکر کیں۔ ایک یہ کہ مخاطب کو سے کا سامنا کرنا ایسے کلام کے ساتھ جس کا وہ انتظار نہیں کر رہا تھا۔ وہ کسی اور کلام کا انتظار کر رہا تھا، آپ اس کے سامنے کوئی اور کلام لے آئے بوجہ اس کے کہ آپ نے اس کا جو کلام تھا اس کو محمول کیا کسی کسی دوسرے معنی پر محمول کیا کہ یہ دوسرا معنی زیادہ اولیٰ ہے آپ کے لیے بجائے کس کے؟ پہلے معنی کے۔ جیسے قبعثری نے حجاج سے کہا، حجاج نے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا: ”لَأَحْمِلَنَّكَ عَلَى الْأَدْهَمِ“ میں تجھے ضرور سیاہ گھوڑے پر سوار کروں گا۔ اوہ، سیاہ... میں تجھے بیڑی پر سوار کروں گا یعنی بیڑیوں میں جکڑ دوں گا، یہ محاورہ ہے: ”لَأَحْمِلَنَّكَ“۔ میں تجھے بیڑیوں میں جکڑ دوں گا، اور ادہم بیڑی کو بھی کہتے ہیں تو ساتھ ساتھ سیاہ گھوڑے کو بھی کہتے ہیں۔ تو اس نے اس کو محمول کیا کس معنی پر؟ سیاہ گھوڑے پر۔ چنانچہ کہا کہ امیر جیسے لوگ جو ہیں وہ تو سوار کیا کرتے ہیں ادہم اور اشہب پر، سفید اور سیاہ گھوڑے پر، جی۔ اور اسی طرح کبھی مقتضائے ظاہر کے خلاف کلام کیا جاتا ہے، کس طرح؟ کہ سائل کو کس کے درجے میں اتار دیا جاتا ہے؟ جو طلب کر رہا ہو اس سوال کے علاوہ کو یعنی غیرِ سوال کو۔ یہ بتلانے کے لیے، تنبیہ کرنے کے لیے کہ تمہارے حال کے لائق یہ تھا کہ تم یہ بات پوچھتے اور یہ بات نہ پوچھتے۔ جیسے اللہ فرماتے ہیں، قرآن میں آتا ہے: ”يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ“ صحابہ بعض حضور ﷺ سے پوچھا یہ چاند چھوٹا بڑا کیوں ہوتا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ تو جواب میں اس کے نفعے ذکر کیے گئے، اس کی وجہ نہیں ذکر کی گئی۔ بتلایا گیا کہ بھئی یہ تمہارے حال کے زیادہ لائق ہے کہ اس کے نفعے یہ یہ ہیں کہ تم اس کے نفعے کے بارے میں پوچھتے۔ کہ یہ لوگوں کے لیے اوقات ہیں، اور حج وغیرہ کا پتہ چلاتے ہیں، جی۔ اور اسی طرح قرآن میں ہے: ”يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ“ یہ آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو بھی خرچ کریں، پس وہ ان ان مواقع پر خرچ کریں۔ تو یہ سوال ضروری نہیں کہ کیا خرچ کریں، یہ سوال کرنا چاہیے کہ کن پر؟ کیونکہ اہم یہ ہے کہ چاہے تھوڑا بھی ہو لیکن اپنی جگہ پر خرچ ہو جائے تو نفع مند ہے، اگر زائد بھی ہو اپنی جگہ پر خرچ نہ ہو تو نفع مند نہیں۔ اور اسی طرح کبھی تعبیر کیا جاتا ہے مولانا معنی مستقبل کو لفظِ ماضی کے ساتھ، جیسے ”صُعِقَ“، ”صُعِقَ“ تو ماضی ہے اور بات کس کی چل رہی ہے؟ قیامت کے قریب کی بات چل رہی ہے، صور پھونکا جائے گا، سب بے ہوش ہو جائیں گے، تو ”يُصْعَقُ“ ہونا تھا، لیکن ”صُعِقَ“ ماضی سے تعبیر کیا، یہ بھی خلافِ مقتضائے ظاہر کے اور ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ تحققِ وقوع پر دلالت کے لیے کہ اس چیز کا ہونا بڑا ہی یقینی جیسے کہ ماضی یقینی ہوتی ہے۔ اور اسی طرح کبھی کبھار اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کو مضارع کی جگہ لے آتے ہیں۔ تو اگرچہ یہ دونوں اسمِ فاعل، اسمِ مفعول مضا... مستقبل کے معنی میں آتے ہیں، لیکن چونکہ ان کا اصل معنی حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے؟ وضع کس لیے ہیں؟ حال کے معنی کے لیے۔ تو ماضی پر یا استقبال پر جب یہ دلالت کر رہے ہیں تو یہ مجازی معنی ہے اور مجاز کیا ہے؟ مقتضائے ظاہر کے خلاف ہے، اس لیے اس کو بھی ذکر کیا۔ ”وَمِنْ“ أَيْ ”وَمِنْ خِلَافِ مُقْتَضَى الظَّاهِرِ الْقَلْبُ“ اور اس مقتضائے ظاہر کے خلاف میں سے ایک قلب بھی ہے، ”وَهُوَ“ اور وہ یہ ہے ”أَنْ يُجْعَلَ أَحَدُ أَجْزَاءِ الْكَلَامِ مَكَانَ الْآخَرِ“ کہ کر دیا جائے کلام کے اجزاء میں سے ایک کو دوسرے کی جگہ، اور دوسرے کو پہلے کی جگہ۔ قلب کس کو کہتے ہیں مولانا؟ الٹنا، الٹنا۔ تو ایک کلام کے جز کو اٹھا کر دوسرے کی جگہ رکھا، اور دوسرے کا جو دوسرے کو اٹھا کر پہلے کی جگہ رکھ دیا، اس کو قلب کہتے ہیں۔ تو جو بات ایک کے لیے ثابت تھی وہ دوسرے کے لیے ثابت کر دی، اور جو دوسرے کے لیے ثابت تھی وہ پہلے کے لیے کر دی۔ جیسے ”عَرَضْتُ النَّاقَةَ عَلَى الْحَوْضِ“ میں نے اونٹنی کو پیش کیا حوض پر۔ اونٹنی کو کس پر پیش کیا؟ حوض پر۔ تو آپ بتائیے، پیش کس پر کیا جاتا ہے، بھئی؟ بے جان چیز پر پیش کیا جاتا ہے کسی چیز کو، یا جاندار پر کسی چیز کو پیش کریں گے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے یا رد کرتا ہے؟ جاندار چیز پر کسی چیز کو کہ وہ شعور رکھتی ہو، اس کو قبول کرے یا اس کو رد کرے۔ تو ہونا تو یہ کہنا تو یہ چاہیے تھا: حوض میں نے پیش کیا اونٹنی پر۔ اب اونٹنی چاہے اس کو پیئے یا اس کو نہ پیئے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہاں عکس کیا: ”عَرَضْتُ النَّاقَةَ عَلَى الْحَوْضِ“ میں نے پیش کیا اونٹنی کو حوض پر، ”مَكَانَ عَرَضْتُ الْحَوْضَ عَلَى النَّاقَةِ“ اس کی جگہ کہنا یہ چاہیے تھا: ”عَرَضْتُ الْحَوْضَ عَلَى النَّاقَةِ“ میں نے پیش کیا حوض کو ناقہ پر۔ کیا معنی؟ ”أَيْ أَظْهَرْتُهُ عَلَيْهَا“ ظاہر کیا میں نے حوض کو اونٹنی پر یعنی اونٹنی کو حوض دکھایا، اونٹنی کو حوض دکھایا۔ تو یہ ہونا چاہیے تھا۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ قلب ہے مولانا، قلب۔ ناقہ کو اٹھا کر حوض کی جگہ رکھ دیا اور حوض کو اٹھا کر ناقہ کی جگہ۔ ”لِتَشْرَبَ“ تاکہ وہ کیا کرے؟ پی لے، اس کو پی لے۔ تو یہ اس لیے کیا ایسا کہ چونکہ حوض وہ ہوتا تو یہ ہے، چیز اٹھا کر آپ اونٹنی کے سامنے رکھتے کہ اس کو کھائے یا اس کو نہ کھائے، لیکن حوض کو تو اٹھا کر لانے سے رہے تو اونٹنی کو آپ لے گئے حوض کے پاس۔ تو جب اونٹنی کو حوض کے پاس لے گئے تو اس وجہ سے تعبیر بھی آپ نے اس طرح کر دی کہ میں نے اونٹنی کو لے جا کر پیش کر دیا کس پر؟ حوض پر پیش کر دیا۔ ”وَقَبِلَهُ“ أَيِ الْقَلْبَ ”السَّكَّاكِيُّ“ اور قبول کیا ہے قلب کو علامہ سکاکی نے ”مُطْلَقًا“ مطلقا قبول کیا ہے، جیسا بھی قلب ہو یہ ٹھیک ہے۔ کیوں؟ ”وَقَالَ: إِنَّهُ مِمَّا يُورِثُ الْكَلَامَ مَلَاحَةً“ اس لیے کہ انہوں نے کہا یہ ان چیزوں میں سے ہے ”يُورِثُ“ جو پیدا کرتے ہیں کلام کے اندر ”مَلَاحَةً“ جاذبیت۔ کہتے ہیں قلب کی وجہ سے کلام میں کیا پیدا ہو جاتی ہے؟ جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ”وَرَدَّهُ غَيْرُهُ“ اور علامہ سکاکی کے علاوہ بعض ایسے ہیں جنہوں نے رد کیا ہے اس کو، یعنی غیر سکاکی نے مطلقا، مطلقا انہوں نے رد کیا ”لِأَنَّهُ عَكْسُ الْمَطْلُوبِ“ اس لیے کہ یہ قلب کیا ہے؟ مطلوب کا عکس ہے، بھئی، ”وَنَقِيضُ الْمَقْصُودِ“ اور مقصود کی نقیض ہے۔ تو علامہ سکاکی نے کہا قلب جیسا بھی ہو، بہتر ہے، پسندیدہ ہے، اس سے کلام میں جاذبیت پیدا ہوتی ہے۔ بعضوں نے کہا قلب سرے سے جائز ہی نہیں، کیونکہ اس میں آپ اپنے مطلوب کو کیا کر دیتے ہیں؟ الٹا کر دیتے ہیں۔ ”وَالْحَقُّ“ وہ فیصلہ کر رہے ہیں دونوں میں مولانا، مصنف فرماتے ہیں اور حق یہ ہے ”أَنَّهُ إِنْ تَضَمَّنَ اعْتِبَارًا لَطِيفًا“ اگر یہ قلب متضمن ہوا کسی باریک اعتبار کو، ”غَيْرَ الْمَلَاحَةِ“ علاوہ کس کے؟ جاذبیت کے، ”الَّتِي أَوْرَثَتْهَا نَفْسُ الْقَلْبِ“ جس کو پیدا کیا ہے نفسِ قلب ہی نے۔ جاذبیت کے علاوہ کوئی اور نکتہ ہوا، ”قُبِلَ“ اس کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔ جاذبیت کے علاوہ، کیونکہ جاذبیت تو خود کس کی وجہ سے آئی ہے؟ قلب کی وجہ سے۔ تو قلب کو اس کی وجہ سے قبول نہیں کریں گے بلکہ کوئی اور نکتہ ہونا چاہیے۔ ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شعر ہے مولانا شاعر کا: ”وَمَهْمَهٍ مُغْبَرَّةٍ أَرْجَاؤُهُ ... كَأَنَّ لَوْنَ أَرْضِهِ سَمَاؤُهُ“ واؤ بمعنی رُبَّ کے۔ ”مَهْمَهٍ“، ”مَفَازَةٍ“ بھئی، جنگل کو کہتے ہیں، لق و دق صحرا بھئی جس میں کوئی پانی وغیرہ، پودے نہ ہوں۔ ”مُغْبَرَّةٍ“، مغبرہ کا کیا معنی؟ غبار آلود، ”أَيْ مُتَلَوِّنَةٍ بِالْغَبَرَةِ“ جو رنگین ہو غبار کے ساتھ، غبرہ کس کو کہتے ہیں؟ غبار، غبار آلود کا ترجمہ کر رہے ہیں، جو رنگین ہو غبار کے ساتھ۔ ”أَرْجَاؤُهُ“ اس کے کنارے، ”أَطْرَافُهُ وَنَوَاحِيهِ“، ”جَمْعُ الرَّجَا“ اور یہ کس کی جمع ہے ارجاء؟ رجا کی، ”مَقْصُورًا“ یہ وہ اس حال میں کہ یہ مقصور ہے مولانا ممدودہ، یعنی ہمزہ نہیں ہے آخر میں۔ کیونکہ الرَّجَاءُ ہمزہ ہوتا تو اس کے معنی امید کے ہوتے۔ ”كَأَنَّ لَوْنَ أَرْضِهِ سَمَاؤُهُ“ گویا کہ زمین کا رنگ، ”عَلَى حَذْفِ الْمُضَافِ“ یہاں کہتے ہیں مضاف محذوف ہے: ”كَأَنَّ لَوْنَ أَرْضِهِ لَوْنُ سَمَائِهِ“ گویا کہ اس کی زمین کا رنگ اس کے آسمان جیسا ہے۔ گویا کہ اس کی زمین کا رنگ اس کے آسمان جیسا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: ”وَمَهْمَهٍ مُغْبَرَّةٍ أَرْجَاؤُهُ“ بہت سے لق و دق صحرا، غبار آلود جن کے کنارے غبار آلود ہیں، گویا کہ ان کی زمین کا رنگ آسمان جیسا ہے۔ تو زمین کے رنگ کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ آسمان کے ساتھ۔ حالانکہ عکس ہونا چاہیے تھا مولانا، کہتے یہ ہیں: اتنا غبار ہے، اتنا غبار ہے ان کی فضا میں کہ گویا آسمان بھی زمین جیسا ہی مٹیالا ہے، جیسے زمین غبار آلود ہے اسی طرح آسمان بھی غبار آلود۔ لیکن عکس کیا کہ قلب کیا کہ زمین کس کی طرح ہے؟ آسمان کی طرح ہے۔ تو یہ بطورِ مبالغے کے کیا، شاعر بتلانا یہ چاہتا ہے اتنا غبار آلود ہے، اتنا غبار آلود ہے کہ اس کا رنگ ایسا بدلا کہ گویا وہ خود آسمان اب اصل بن گیا، اس کا رنگ اتنا زیادہ غبار اس پر آیا کہ وہ اصل بن گیا، تو اب اس کو اصل قرار دے کر زمین کو اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ تشبیہ دے رہا ہے، مبالغہ کر رہا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ اس کا رنگ بہت اس کی فضا بہت زیادہ غبار آلود ہے، جی۔ یا سما کا معنی فضا کر لیں مولانا، فضا بھی کر لیں، گویا کہ اس کی زمین کا رنگ اس کی فضا کے رنگ جیسا ہے۔ ”عَلَى حَذْفِ الْمُضَافِ أَيْ لَوْنُهَا أَيْ لَوْنُ السَّمَاءِ“، جی۔ ”فَالْمِصْرَاعُ الْأَخِيرُ مِنْ بَابِ الْقَلْبِ“ اخری مصرعہ باب القلب سے ہے، ”وَالْمَعْنَى كَأَنَّ لَوْنَ سَمَائِهِ لِغَبَرَتِهَا لَوْنُ أَرْضِهِ“ اور معنی یہ ہے کہ گویا کہ اس کے آسمان یا اس کی فضا کا رنگ غبار کی وجہ سے زمین کے رنگ کی طرح ہے۔ ”وَالإِعْتِبَارُ اللَّطِيفُ“ اور اعتبارِ لطیف کیا تھا؟ علامہ یہ فیصلہ کیا تھا کہ کیا اعتبارِ لطیف ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں: ”هُوَ الْمُبَالَغَةُ فِي وَصْفِ لَوْنِ السَّمَاءِ بِالْغَبَرَةِ“ وہ مبالغہ ہے آسمان کے رنگ کے وصف میں غبار کے ساتھ، جی، جو جی، ”حَتَّى كَأَنَّهُ صَارَ يُشَبَّهُ بِهِ لَوْنُ الْأَرْضِ فِي ذَلِكَ“ یہاں تک کہ گویا کہ وہ آسمان کا رنگ ہو گیا اس حیثیت سے کہ تشبیہ دی جائے گی اس کے ساتھ زمین کے رنگ کی اس میں، غبار میں، ”مَعَ أَنَّ الْأَرْضَ أَصْلٌ فِيهِ“ باوجود اس کے کہ زمین اس کے اندر اصل ہے۔ ”وَإِلَّا“ أَيْ ”وَإِنْ لَمْ يَتَضَمَّنْ اعْتِبَارًا لَطِيفًا“ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی متضمن نہ ہو اعتبارِ لطیف کو، ”رُدَّ“ تو اس قلب کو کیا کیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا، ”لِأَنَّهُ عُدُولٌ عَنْ مُقْتَضَى الظَّاهِرِ“ اس لیے کہ یہ عدول ہے مقتضائے ظاہر سے، اور مقتضائے ظاہر سے عدول بغیر کسی نکتے کے نہیں ہوتا۔ یہ عدول ہے مقتضائے ظاہر کے بغیر کسی ایسے بغیر کسی ایسے نکتے کے ”يُعْتَدُّ بِهَا“ جس کو شمار کیا جائے، جو قابلِ اعتبار ہو، ایسے نکتے کے بغیر ہی قلب کیا، لہٰذا درست نہیں۔ ”كَقَوْلِهِ“ جیسے یہ قول ہے: ”فَلَمَّا أَنْ جَرَى سِمَنٌ عَلَيْهَا ... كَمَا طَيَّنْتَ بِالْفَدَنِ السِّيَاعَا“ ایک مولانا دیوار ہے، دیہات میں جیسے ہوتا ہے، اور ایک دیوار پر جو کیا کیا جاتا ہے؟ دیوار کو لیپا جاتا ہے مولانا، اس پر کیا لگاتے ہیں؟ گارا لگاتے ہیں کچھ عرصے کے بعد، بھئی۔ یا شہروں میں کیا کہیں گے؟ پلستر ہوتا ہے بھئی، پلستر۔ اب آپ مجھے بتلائیے، دیوار اصل ہے یا پلستر اصل ہے؟ دیوار اصل ہے، اس پر پھر پلستر کیا جاتا ہے، نہ کہ یہ کہ پلستر ہو، اس پر دیوار کی جائے، بھئی۔ تو شاعر یہاں کیا کہتا ہے؟ یہاں عکس کرتا ہے، عکس کرتا ہے۔ دیکھیے: ”فَلَمَّا أَنْ جَرَى سِمَنٌ“ جب جاری ہوا، سِمَنٌ، سِمَن کہتے ہیں موٹاپا، جب جاری ہوا موٹاپا ”عَلَيْهَا“ اس اونٹنی پر، جب بہہ پڑا موٹاپا اس اونٹنی پر، ”كَمَا طَيَّنْتَ“ گویا کہ تو نے لیپا ہو ”بِالْفَدَنِ“ محل کے ساتھ، فَدَنٌ أَيِ الْقَصْرِ، تو نے لیپا ہو محل کے ساتھ ”السِّيَاعَا“ کس کو؟ گارے کو۔ محل کو تو نے کس کے ساتھ لیپا ہو؟ محل کے ساتھ لیپا ہے گارے کو، تو گارے کے ساتھ محل کو لیپا جاتا ہے یا محل کے ساتھ گارے کو لیپا جاتا ہے؟ گارے کے ساتھ محل کو لیپا جاتا ہے۔ تو یہ عکس کر رہا ہے مولانا، عکس کر رہا ہے۔ فدن کی جگہ سیاع رکھ دیا، سیاع کی جگہ فدن رکھ دیا۔ جیسے تو نے لیپ دیا ہو محل کے ساتھ گارے کو۔ ”اَلسِّيَاعَ“ کا ترجمہ بتلا رہے ہیں: ”أَيِ الطِّينَ الْمَخْلُوطَ بِالتِّبْنِ“ وہ مٹی جو ملی ہوئی ہو تبن، بھس کے ساتھ۔ تبن کس کو کہتے ہیں، بھئی؟ تنکے، بھس وغیرہ، وہ مٹی جو ملی ہوئی ہو بھس کے ساتھ۔ دیکھا ہوگا آپ نے مولانا دیہات میں، سادی مٹی نہیں لگاتے، اس میں کیا کرتے ہیں؟ بھس وغیرہ ملاتے ہیں۔ جی۔ ”وَالْمَعْنَى“ معنی کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”كَمَا طَيَّنْتَ الْفَدَنَ بِالسِّيَاعِ“ جیسے کہ تو نے لیپا ہے محل کو کس کے ساتھ لیپا ہے؟ گارے کے ساتھ۔ جی۔ ”يُقَالُ“ کہا جاتا ہے محاورہ عربی میں: ”طَيَّنْتُ السَّطْحَ وَالْبَيْتَ“ میں نے چھت کو لیپ دیا اور گھر کو لیپا، تو یہاں دیکھ یہاں کلام صحیح کر دیا، عکس سیدھا کیا اس کو۔ ”وَلِقَائِلٍ“ کہتے ہیں ماتن نے یہ مثال ذکر کی کہ یہ قلب میں اگر کوئی اعتبارِ لطیف نہ ہو تو اس کو ہم رد کریں گے، جیسے یہ مثال ہے۔ تو علامہ تفتازانی آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہاں پر اعتبارِ لطیف ہو سکتا ہے، بھئی۔ کس طرح؟ ”وَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ“ اور کوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے ”إِنَّهُ يَتَضَمَّنُ“ کہ یہ جو قلب ہے، یہ بھی متضمن ہے ”مِنَ الْمُبَالَغَةِ“ مبالغے پر پر پر مشتمل ہے ”فِي وَصْفِ النَّاقَةِ بِالسِّمَنِ“ ناقہ کا وصف جو سمن کے ساتھ کیا ہے، ”مَا لَا يَتَضَمَّنُهُ قَوْلُنَا: كَمَا طَيَّنْتَ الْفَدَنَ بِالسِّيَاعِ“ جس کو متضمن نہیں ہے ہمارا یہ قول: ”كَمَا طَيَّنْتَ الْفَدَنَ بِالسِّيَاعِ“۔ اگر ہم یہ کہہ دیتے کہ محل کو لیپا ہے کس کے ساتھ؟ گارے کے ساتھ، تو اتنا مبالغہ پیدا نہ ہوتا، لیکن جب ہم نے کہا کہ گارے محل کو لیپ دیا ہے کس کے ساتھ؟ محل کے ساتھ، تو یہ مبالغہ آ گیا۔ بتلانا یہ مقصود ہے: اتنا لیپا، اتنا لیپا، اتنی موٹی تہہ جما دی گویا کہ وہ تہہ اصل سے بڑھ گئی اور اصل بن گئی اور جو اصل تھا وہ کیا بن گیا؟ تابع بن گیا۔ تو اب یہ مبالغہ مولانا، اگر ہم ویسے کہیں: محل کو میں نے گارے سے لیپا، کوئی مبالغہ آیا؟ نہیں، بھئی۔ لیکن جب میں نے کہا کہ گا محل کو لیپ دیا، کس پر؟ گارے پر لیپ دیا، تو اس میں مبالغہ بتلا دیا کہ بڑے بہت زیادہ لیپا، گویا کہ گارے ہی کو کیا قرار دے دیا؟ اصل قرار دے دیا۔ ”لِإِيهَامِهِ“ بوجہ وہم ڈالنے، یہ وہم ڈالتا ہے یہ قلب ”أَنَّ السِّيَاعَ قَدْ بَلَغَ مِنَ الْعِظَمِ وَالْكَثْرَةِ“ کہ جو گارا ہے، وہ پہنچ گیا ہے بڑے ہونے میں اور کثرت میں ”إِلَى أَنْ صَارَ بِمَنْزِلَةِ الْأَصْلِ“ اس حد تک کہ کس کے درجے میں ہو گیا ہے؟ اصل کے درجے میں، ”وَالْفَدَنُ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْهِ كَالسِّيَاعِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْفَدَنِ“ اور محل اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسی طرح ہے جیسے کہ گارا کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے تھا؟ محل کی طرف۔ یعنی جیسے محل کی طرف نسبت کرتے ہوئے گارے کی تہہ بڑی پتلی ہوتی ہے، اور محل کی دیواریں خود بڑی موٹی، لیکن یہ وہم پڑتا ہے کہ اس نے عکس کیا، قلب کیا، معلوم ہوا اتنی موٹی تہہ جمائی ہے کہ گویا اس تہہ کے مقابلے میں محل کی وہی حالت ہے جو محل کے مقابلے میں کس کی تھی؟ گارے کی تھی۔ گارے کی تہہ جیسے بڑی پتلی تھی، اب محل اس کے مقابلے میں بڑا پتلا رہ گیا ہے اور تہہ بڑی موٹی لگائی ہے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہاں تک ہم نے پڑھے مولانا مسند الیہ کے احوال، کہ مسند الیہ کو حذف کیوں کیا جاتا ہے؟ اور اس کو پھر ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟ ذکر ہو تو معرفہ کیوں ذکر کرتے ہیں اور معرفہ میں پھر اسمِ اشارہ، اسمِ موصول، معرّف باللام وغیرہ کے نکات پڑھے۔ یا کبھی اس کو نکرہ کیوں ذکر کیا جاتا ہے؟ مقدم کیوں ذکر کرتے ہیں؟ مؤخر کیوں ذکر کرتے ہیں؟ وغیرہ، مقتضائے ظاہر کے خلاف کیوں لاتے ہیں؟ اب احوالِ مسند شروع ہوں گے۔ ”أَحْوَالُ الْمُسْنَدِ“ مسند الیہ... مسند کے احوال، جی۔ ”أَمَّا تَرْكُهُ“ پس مسند کا ترک کرنا، ”فَلِمَا مَرَّ فِي حَذْفِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“ اسی وجہ سے جو گزر گئی کس کے حذ... حذف میں؟ مسند الیہ کے حذف کے نکات انہوں نے بیان کیے تھے۔ مثلاً مولانا کیا کہا تھا کہ ہم کبھی مسند الیہ کو حذف کرتے ہیں کیونکہ ہم اس کو ذکر کرنا عبث ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ عبث ہوتا ہے، وہ پہلے سے ہی معلوم ہے تو پھر دوبارہ ذکر کر رہے ہیں، یہ عبث کام ہے۔ یا آپ مخاطب کے ذہن میں یہ وہم ڈالنا چاہتے ہیں کہ میں عدول کر رہا ہوں دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی کی طرف: ایک دلالت ہے لفظ کی، ایک دلالت ہے عقل کی، تو کون سی دلالت قوی ہے؟ عقل کی۔ تو آپ لفظ کی دلالت سے عدول کر رہے ہیں کس کی طرف؟ عقل کی دلالت کی طرف۔ سمجھ میں آئی بات؟ جی۔ یا اسی طرح مولانا مقام تنگ ہوتا ہے، وہ متکلم کرنے والا غمزدہ ہے مولانا، افس... دکھ میں مبتلا ہے اور اس وقت کلام کرنے کو جی نہیں چاہتا، آدمی مختصر کلام کرنا چاہتا ہے۔ یا وزنِ... وزنِ شعری ٹوٹ رہا ہے اگر ہم اس کو ذکر کر دیں، وغیرہ، یہ نکات ذکر ہوئے تھے وہاں۔ ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کا قول ہے: ”وَمَنْ يَكُ أَمْسَى بِالْمَدِينَةِ رَحْلُهُ ... فَإِنِّي وَقَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“ ”وَمَنْ يَكُ“ اور جو کوئی ہو، ”أَمْسَى“، امسیٰ بمعنی چاہے شام کے معنی میں لے لیں یا صار کے معنی میں لے لیں مولانا، جو ہو جائے، صار کے معنی میں۔ تو ”مَنْ“ مولانا، یہ ”مَنْ“ ہوا مبتدا، ”يَكُ“ فعل از افعالِ ناقصہ، ”هُوَ“ ضمیر اس کا اسم جو کس کو راجع؟ ”مَنْ“ کو۔ اور ”أَمْسَى“ فعل از افعالِ ناقصہ، اور اس کے اندر جی؟ اس کے اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر جو راجع ہے مبتدا کی طرف، وہ اس کا اسم۔ ”بِالْمَدِينَةِ رَحْلُهُ“، ”بِالْمَدِينَةِ“ خبرِ مقدم، ”رَحْلُهُ“ مبتدا مؤخر۔ مبتدا خبر مل کر یہ خبر ہوئے کس کے لیے؟ ”أَمْسَى“ کے لیے۔ ”أَمْسَى“ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ ”يَكُنْ“ کے لیے۔ اور ”يَكُنْ“ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ مبتدا خبر مل کر شرط، جزا محذوف ہے، جزا محذوف ہے۔ جزا کیا ہے مولانا؟ یہ حاشیے پہ انہوں نے دی ہوئی ہے، بھئی، نشان بے شک لگا لیں آپ اس پر، یہ جو صفحہ نمبر لکھا ہوا ہے 130، اس کے ساتھ باہر کی طرف لکھا ہوا ہے: ”وَمَنْ يَكُ أَمْسَى بِالْمَدِينَةِ رَحْلُهُ فَقَدْ حَسُنَتْ حَالُهُ وَسَاءَتْ حَالَتِي وَحَالَةُ قَيَّارٍ“ مل گئی عبارت، بھئی؟ تو یہ کیا: وہ شخص جو ہوا مدینہ کے اندر جس کا ٹھکانہ ہو گیا، رحل کا معنی ٹھکانہ، منزل، بھئی۔ وہ شخص جس کا ٹھکانہ منزل میں... ٹھکانہ اور منزل مدینہ میں ہو گئی، ”فَقَدْ حَسُنَتْ حَالُهُ“ اس کا حال بڑا ہی اچھا ہے، ”وَسَاءَتْ حَالَتِي وَحَالَةُ قَيَّارٍ“ اور میری اور قیار جو میرا گھوڑا ہے یا اونٹ ہے اس کی حالت بڑی بری ہے، کیونکہ میں یہاں پر مسافر ہوں اور اجنبی ہوں، میں یہاں پر اجنبی ہوں۔ تو جس کا ٹھکانہ مدینہ میں ہوا اس کی حالت بڑی اچھی ہے، البتہ میری اور میرے گھوڑے کی حالت اچھی نہیں کیونکہ میں اور میرا گھوڑا یہاں پر اجنبی ہیں۔ ”وَمَنْ يَكُ أَمْسَى بِالْمَدِينَةِ رَحْلُهُ“ اور جس کا ٹھکانہ ہو گیا مدینہ کے اندر، ”فَإِنِّي“ پس یقیناً میں، ”وَقَيَّارٌ“، قیار مولانا دو تین روایتیں ہیں: بعض کہتے ہیں یہ شاعر کے اونٹ کا نام ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ شاعر کے گھوڑے کا نام ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کے غلام کا نام تھا، کہ میں اور قیار اس مدینہ میں ”لَغَرِيبُ“ کیا ہیں؟ اجنبی ہیں۔ ”اَلرَّحْلُ: هُوَ الْمَنْزِلُ وَالْمَأْوَى“، رحل کس کو کہتے ہیں؟ منزل، گھر کو، اور ماویٰ اور ٹھکانے کو۔ ”وَقَيَّارٌ: اِسْمُ جَمَلٍ لِلشَّاعِرِ“ اور قیار جو ہے، یہ اونٹ کا نام ہے شاعر کے، ”وَهُوَ“ اور شاعر کون ہے؟ ”ضَابِئُ بْنُ الْحَارِثِ“ ضابئ ابن الحارث ہے، ”كَمَا فِي الصِّحَاحِ“ جیسا کہ صحاحِ جوہری میں ہے۔ ”وَقِيلَ: اِسْمُ فَرَسٍ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ گھوڑے کا بھی نام ہے، دوسری روایت، بھئی۔ ”وَلَفْظُ الْبَيْتِ خَبَرٌ“ اور شعر کے الفاظ جو ہیں یہ خبر ہیں، ”وَمَعْنَاهُ التَّحَسُّرُ وَالتَّوَجُّعُ“ لیکن اس کا معنی کیا ہے؟ افسوس اور دکھ بتلانا ہے، بھئی، دکھ بتلانا ہے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو شاعر یہ خبر نہیں دینا چاہتا بلکہ اپنے افسوس، غم، دکھ کا اظہار کر رہا ہے اس جملہ خبریہ کے ذریعے، جملے کے ذریعے، سمجھ میں آیا، بھئی؟ اب مولانا، کلام اصل میں یوں ہے: دیکھو، دوسرے مصرع متن جو ہے: ”فَإِنِّي وَقَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“ ”فَإِنِّي وَقَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“ ”فَإِنِّي وَقَيَّارٌ غَرِيبٌ بِهَا لَغَرِيبُ“ تو ”قَيَّارٌ“ کی خبر محذوف ہے یہاں پر، اور خبر مسند ہوتی ہے یا مسند الیہ؟ مسند الیہ... مسند... اچھا، مسند ہوتی ہے۔ تو مسند کو یہاں پر حذف کیا، ترک کے نکات بیان کر رہے ہیں مولانا۔ ضابطہ ایک یاد رکھیں: ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“ ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ وَعَمْرٌو جَالِسٌ“ ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ وَعَمْرٌو جَالِسٌ“، لکھ لیا مولانا؟ جی۔ یہاں مولانا دو ترکیبیں ہیں، دو ترکیبیں: ایک تو یہ دیکھو، ”إِنَّ“ حروفِ مشبہ بالفعل، ”زَيْدًا“ اس کا اسم، ”قَائِمٌ“ اس کی خبر، ”إِنَّ“ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، خبریہ ہو کر معطوف علیہ، واؤ حرفِ عطف، اور ”عَمْرٌو“ مبتدا، مرفوع لفظاً مبتدا، ”جَالِسٌ“ اس کی خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر معطوف۔ تو جملے پر جملے کا عطف کیا، جملے پر پورے جملے پر پورے جملے کا عطف کیا، اس پہ کوئی اشکال نہیں، جملے پر جملے کا عطف ہو گیا، وہ بھی جملہ اسمیہ، یہ بھی جملہ اسمیہ۔ ایک اور ترکیب یاد رکھیں کہ ہم پورے جملے کا عطف جملے پر نہیں کرتے بلکہ جز کا عطف، مفرد کا عطف مفرد پر کرتے ہیں، مبتدا کا عطف کرتے ہیں ”إِنَّ“ کے اسم پر اور خبر کا عطف کرتے ہیں کس پر؟ ”إِنَّ“ کی خبر پر۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ایک تو پورا جملہ بنا کر عطف کریں، اس میں کوئی اشکال نہیں۔ ہاں، اگر مفرد کا عطف مفرد پر کرنا چاہتے ہیں، جملہ بنانے سے پہلے ہی عطف کرنا چاہتے ہیں، تو یاد رکھو ”إِنَّ“ کے اسم جو ہے، اس کے لفظ پر بھی عطف کرنا جائز، اور اس کے معنی کی رعایت کرتے ہوئے مرفوع عطف بھی جائز ہے، رفع کے ساتھ بھی عطف۔ ”إِنَّ“ کس لیے آتا ہے، بھئی؟ کلام میں کیا پیدا کرنے کے لیے؟ تاکید، ”إِنَّ“ کو ذرا ہٹا دو، کیا تھا جملہ؟ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ تھا، آپ ”إِنَّ“ لے کر آئے، ”إِنَّ“ نے کلام میں تاکید پیدا کر دی، کلام میں تاکید پیدا کر دی، اور کوئی کام کیا اس نے کلام میں؟ نہیں، صرف تاکید پیدا کی، کلام میں اور تبدیلی پیدا نہیں کی۔ تو ”إِنَّ“ یاد رکھو مولانا، ”إِنَّ“ من وجہ موجود ہے، من وجہ غیر موجود ہے۔ من وجہ کیا ہے؟ یوں سمجھیں گویا کہ من وجہ اس کا وجود ہے، من وجہ اس کا وجود نہیں ہے۔ بایں اعتبار اس کا وجود ہے کہ اس نے ”زَيْدًا“ کو نصب دیا اور اس کی خبر کو کیا دیا؟ رفع دیا۔ تو لفظی اعتبار سے تو ”إِنَّ“ موجود، معنی کے اعتبار سے ”إِنَّ“ نہیں موجود، اس نے جملے کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، یہ پہلے بھی جملہ تھا، اب بھی جملہ ہے۔ بخلاف اگر ”أَنَّ“ آ جاتا، ”أَنَّ“ کیا کرتا ہے؟ پورے جملے کو کس کی تاویل میں کر دیتا ہے؟ مفرد اور مصدر کی تاویل میں کر دیتا ہے۔ کس کی تاویل میں کرتا ہے ”أَنَّ“؟ مفرد کی تاویل میں کرتا ہے۔ اسی لیے جو مفرد کا مقام ہو وہاں ”أَنَّ“ پڑھتے ہیں، جو جملے کا مقام ہو وہاں ”إِنَّ“ پڑھتے ہیں۔ ”قَالَ“ کے بعد ”إِنَّ“ کیوں پڑھتے ہیں؟ کیونکہ ”قَالَ“ کے بعد مقولہ آتا ہے اور مقولہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے۔ جی، اور ”اِعْلَمْ“ کے بعد آپ ”أَنَّ“ پڑھتے ہیں کیونکہ ”اِعْلَمْ“ کے بعد مفعول آنا ہوتا ہے اور مفعول کیا ہے؟ مفرد ہے، تو وہ ”أَنَّ“ پورے جملے کو مفرد بنا دے گا۔ حرفِ جر کے بعد مولانا آپ ”أَنَّ“ پڑھتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ حرفِ جر داخل ہوتا ہے مجرور پر اور مجرور کیا ہونا چاہیے؟ مفرد ہونا چاہیے، تو ”أَنَّ“ اس کو کیا بنا دے گا؟ مفرد۔ مضاف الیہ کی جگہ پر آپ ”أَنَّ“ پڑھتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مفرد ہوتا ہے، تو ”أَنَّ“ بھی اپنے ما بعد کے ساتھ مل کر کیا ہو جائے گا؟ مفرد۔ تو جو مقام مفرد کا ہو وہاں ”أَنَّ“ پڑھتے ہیں، جو مقام جملے کا ہو وہاں ”إِنَّ“ پڑھتے ہیں۔ تو ”أَنَّ“ کلام کو، بات یہ چل رہی تھی کہ ”أَنَّ“ کلام کو کس کے حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد کے حکم میں کر دیتا ہے، مصدر اس کو بنا دیتا ہے، یہ حروفِ مصدر میں شمار ہوتا ہے، مصدر۔ تو ”إِنَّ“... ”أَنَّ“ جو ہے، ”أَنَّ زَيْدًا“، میں کہتا ہوں: ”أَنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، ”أَنَّ“ نے لفظوں میں بھی تبدیلی کی، ”زَيْدًا“ کو نصب دیا اور خبر کو کیا دیا؟ رفع دیا، ”أَنَّ“ نے۔ اور معنی میں بھی تبدیلی پیدا کر دی کہ اس کو اب جملہ نہیں رہنے دیا بلکہ کیا بنا دیا؟ مفرد رہ گیا، یہ مفرد بن گیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ ”أَنَّ“ نے لفظوں میں بھی تبدیلی پیدا کی اور معنی میں بھی تبدیلی پیدا کی۔ ”إِنَّ“ نے لفظوں میں تو تبدیلی پیدا کی: ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، ”زَيْدًا“ کو نصب دیا، ”قَائِمٌ“ کو رفع، لیکن معنی میں تبدیلی پیدا نہیں کی، صرف تاکید آئی مولانا، پہلے بھی جملہ تھا اور اب بھی جملہ ہے۔ تو ”إِنَّ“ کا ”إِنَّ“ من وجہ موجود، من وجہ معدوم ہے، لفظوں کے اعتبار سے موجود کیونکہ نصب دے رہا ہے، لفظوں میں عمل کر رہا ہے، اور معنی کے اعتبار سے معدوم کیونکہ معنی کے اعتبار سے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر رہا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ معنی کے اعتبار سے معدوم ہے۔ تو معنی کے اعتبار سے جب معدوم ہے، تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ جیسے پہلے مبتدا خبر تھے، اب بھی کیا ہیں؟ مبتدا اور خبر ہیں۔ بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ اب آپ عطف کرنا چاہتے ہیں اس ”إِنَّ زَيْدًا“، ”زَيْدًا“ پر عطف کرنا چاہتے ہیں، اور ”زَيْدًا“ کی کتنی حالتیں ہیں؟ دو حالتیں ہیں: ایک باعتبار ”إِنَّ“ کے لفظوں میں وجود ہے تو ”زَيْدًا“ اس کا کیا ہے؟ اسم ہے، اور ایک باعتبار معنی کے اعتبار سے کہ ”إِنَّ“ گویا ہے ہی نہیں، گویا ”زَيْدًا“ اب بھی کیا ہے؟ مبتدا ہے، کیا ہے؟ مبتدا ہے، اور مبتدا کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ رفع، تو جب آپ محلِ مبتدا پر عطف کر رہے ہیں، تو کیا پڑھیں گے؟ ”عَمْرٌو“ پڑھیں گے یا ”عَمْرًا“ پڑھیں گے؟ ”عَمْرٌو“ پڑھیں گے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو دو طرح عطف جائز ہوا مولانا: ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، اور اس پر اب ذرا عطف کریں: ”وَعَمْرًا جَالِسٌ“، ”وَعَمْرًا“... اب آپ نے کس پر عطف کیا؟ لفظوں کے اعتبار سے ”إِنَّ“ کے اسم پر، کس پر؟ ”إِنَّ“ کے اسم پر، وہ منصوب تھا، یہ بھی منصوب۔ اور آپ کہتے ہیں: ”وَعَمْرٌو جَالِسٌ“، ”عَمْرٌو“ کا عطف کر رہے ہیں ”إِنَّ“ کے اسم پر، لیکن کس اعتبار سے؟ محل کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ محل کے اعتبار سے، کیونکہ محل کے اعتبار سے یہ مبتدا ہے مولانا، ”إِنَّ“ نے کلام کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی۔ تو ”إِنَّ“ کے اسم پر آپ نے پڑھا عطف جائز، لفظوں کے اعتبار سے بھی اور محل کے اعتبار سے۔ لفظوں کے اعتبار سے عطف کریں تو کیا پڑھیں گے؟ جی؟ ”عَمْرًا“ پڑھیں گے، اور اگر محل کے اعتبار سے عطف کریں؟ ”عَمْرٌو“ پڑھیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ ساری اگلی بحث کا اسی سے تعلق ہے۔ لیکن ایک شرط ہے: جب آپ محل پر عطف کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے ایک شرط ہے۔ لفظوں پہ عطف کرنا چاہتے ہیں، پھر تو کوئی اشکال نہیں، بھئی، ”إِنَّ“ وہاں نصب دے رہا تھا، معطوف علیہ کو نصب دے رہا تھا تو معطوف کو بھی کیا دے دے گا؟ نصب دے دے گا، یہ تو آسان سی بات ہے۔ لیکن آپ محل پہ عطف کرنا چاہتے ہیں، ”إِنَّ“ کو بالکل ہی آپ معدوم ماننا چاہتے ہیں، اس کی کیا صورت ہے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس ”إِنَّ“ کی خبر پہلے گزر چکی ہو۔ اس ”إِنَّ“ کی خبر پہلے یا لفظاً گزر چکی ہو یا تقدیرًا گزر چکی ہو۔ اگر ”إِنَّ“ کی خبر لفظاً بھی پہلے نہیں گزری، تقدیرًا بھی پہلے نہیں گزری، تو اب مثلاً آپ کہتے ہیں: ”إِنَّ زَيْدًا وَعَمْرًا جَالِسٌ“ یا ”قَائِمٌ“، اب آپ ”عَمْرًا“ کے بجائے کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ ”عَمْرٌو“، محل پہ عطف کرنا چاہتے ہیں، اور محل پر عطف کے لیے ضروری تھا کہ ”إِنَّ“ کی خبر پہلے گزر چکی ہو، اور ”إِنَّ“ کی خبر پہلے گزری ہے؟ نہیں، لہٰذا اب ”عَمْرٌو“ پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں پڑھ سکتے، بلکہ کیا پڑھیں گے؟ ”عَمْرًا“ ہی پڑھیں گے۔ ضابطہ سب کو سمجھ میں آیا کہ ”إِنَّ“ کے اسم کے لفظوں پر بھی عطف جائز اور اس کے محل پر بھی عطف جائز، لفظوں پر عطف کریں گے تو نصب پڑھیں گے اور محل پہ عطف کریں گے تو رفع پڑھیں گے، اور محل پر عطف کرنے کے لیے ایک شرط ہے رفع پڑھنے کے لیے، کیا شرط ہے؟ کہ ”إِنَّ“ کی خبر پہلے گزر چکی ہو۔ بات سمجھ میں آئی؟ کیوں؟ یہ شرط کیوں لگاتے ہیں نحوی؟ شرط اس لیے لگاتے ہیں کہ جب میں نے کہا: ”إِنَّ زَيْدًا وَعَمْرٌو قَائِمٌ“، میں نے کیا کیا؟ محل پہ عطف کیا اور ”إِنَّ“ کی خبر بھی پہلے نہیں گزری۔ ادھر توجہ کرو، بھئی، توجہ۔ ”إِنَّ“ کی خبر بھی پہلے نہیں گزری اور میں عطف کس پر کرنا چاہتا ہوں؟ محل پر۔ جب محل پر کروں گا تو ”عَمْرًا“ پڑھوں گا یا ”عَمْرٌو“ پڑھوں گا؟ ”عَمْرٌو“ پڑھوں گا، تو ”قَائِمٌ“ دونوں کی خبر بن جائے گی۔ وہ صورت بتا رہا ہوں جب کہ خبر پہلے نہ گزری ہو، جب پہلے خبر نہیں گزری تو لازمی بات ہے ”قَائِمٌ“ دونوں کی خبر بن جائے گی۔ اور ”قَائِمٌ“ دونوں کی خبر نہیں بن سکتی، کیوں نہیں بن سکتی؟ وجہ یہ کہ ”قَائِمٌ“ کو جب ہم بنائیں گے زید کے لیے خبر، تو زید کے اندر عامل کون؟ ”إِنَّ“، تو زید کی خبر کے اندر بھی عامل کون؟ ”إِنَّ“، تو ”قَائِمٌ“ کے اندر عامل ”إِنَّ“ ہوا، کون ہوا؟ ”إِنَّ“۔ لیکن جب ہم اس کو خبر مان رہے ہیں عمرو کے لیے، تو عمرو کو تو ہم نے عطف کیا ہے کس پر؟ ”إِنَّ“ کے اسم کے محل پر، اور محل کے اعتبار سے ”إِنَّ“ کا اسم کا محل کیا تھا؟ مبتدا تھا، کیا تھا؟ مبتدا تھا، اور مبتدا کے اندر عامل کون؟ ابتدا عامل ہوتی ہے، عاملِ معنوی ہے، ابتدا میں کون ہے؟ عاملِ معنوی ہے، مبتدا کے اندر عاملِ معنوی ہے۔ تو جب مبتدا... تو جیسے مبتدا عامل معنوی ہوتا ہے، اسی طرح خبر کے اندر بھی عامل کون ہوتا ہے؟ ابتدا، مبتدا کے اندر عامل ابتدا، خبر کے اندر بھی عامل ابتدا، اور ابتدا ایک عاملِ معنوی ہے، لفظوں میں اس کا وجود نہیں۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کے اندر بھی عامل معنوی ہے، لفظوں میں کوئی نہیں۔ ”قَائِمٌ“ کے اندر بھی عامل کون ہے؟ معنوی ہے۔ تو جب آپ نے کہا: ”إِنَّ زَيْدًا وَعَمْرٌو قَائِمٌ“، تو ”زَيْدًا“ کے اندر تو عامل ”إِنَّ“ ہوا، اور ”قَائِمٌ“ زید کی بھی خبر ہے تو اس کے اندر بھی کون عامل ہوا؟ ”إِنَّ“ ہوا۔ نیز ”عَمْرٌو“، اس کے اندر عامل کون ہوا؟ ابتدا، کیونکہ یہ کس پر عطف ہے؟ محلِ ”إِنَّ“ پر، اور محلِ اسمِ ”إِنَّ“ کا محل کیا ہے؟ ابتدا، تو ”عَمْرٌو“ میں عامل کون ہوا؟ ابتدا عامل ہوئی، عاملِ معنوی آیا، تو ”قَائِمٌ“ کے اندر بھی ”قَائِمٌ“ عمرو کی بھی خبر ہے تو عمرو... ”قَائِمٌ“ کے اندر عامل کون ہوا؟ اس میں بھی ابتدا آئی، اس میں بھی ابتدا آئی۔ تو ایک ہی معمول ہے اور اس میں دو عامل ہیں: ایک ”إِنَّ“ عامل ہے، یرحمک اللہ، ایک ”إِنَّ“ عامل ہے اور ایک ابتدا عامل ہے، اور یہ جائز نہیں مولانا کہ ایک معمول پر کتنے عامل داخل ہوں؟ دو عامل داخل ہوں۔ بحث سب کو سمجھ میں آئی؟ کہ نہیں آئی؟ تو دیکھا، یہ بحث ہے مولانا۔ ”فَإِنِّي وَقَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“، اس پہ نظر رکھنا اور آگے شرح کو دیکھتے جائیں مولانا۔ ”فَالْمُسْنَدُ إِلَى قَيَّارٍ مَحْذُوفٌ“ پس مسند جو قیار کی طرف ہے یعنی قیار کی خبر ہے، ”مَحْذُوفٌ“ وہ محذوف ہے، اور وہ کیا ہے؟ غریب۔ ”قَيَّارٌ غَرِيبٌ بِهَا“، قیار مدینہ میں غریب ہے، اجنبی ہے۔ یہ کیوں حذف کیوں کیا اس خبر کو آپ نے؟ کہتے ہیں: ”لِقَصْدِ الِاخْتِصَارِ“ اختصار کے ارادے سے، ”وَالِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ“ اور عبث سے بچنے کے لیے، یعنی خبر کو ذکر کرنا کیا تھا؟ عبث تھا۔ اشکال ہوا: بھئی، خبر تو کلام کا رکن ہے، اس کو آپ نے عبث اور بے کار کیسے کہا؟ کہتے ہیں: ”بِنَاءً عَلَى الظَّاهِرِ“، یہ اس کا عبث کس بناء پر تھا؟ ظاہر کی بناء پر تھا، کیونکہ ظاہر میں ایک اور غریب بھی موجود تھا، وہ بتلا رہا تھا کہ یہ ہے یہاں پر، تو دو دفعہ غریب آتا تو یہ عبث تھا۔ ”مَعَ ضِيقِ الْمَقَامِ“ اور ساتھ کس کے؟ مقام کی تنگی کے، ”بِسَبَبِ التَّوَجُّعِ“ کس وجہ سے؟ دکھی ہونے کی وجہ سے، ”وَمُحَافَظَةِ الْوَزْنِ“ اور وزن کی حفاظت کے، شعر کا وزن ٹوٹتا اگر ہم ذکر کر دیتے۔ ”وَلَا يَجُوزُ“ اور یہ جائز نہیں ہے ”أَنْ يَكُونَ قَيَّارٌ“ کہ قیار جو ہے ”عَطْفًا عَلَى مَحَلِّ اسْمِ إِنَّ“ کہ وہ ”إِنَّ“ کے اسم کے محل پر عطف ہو۔ کدھر ہے قیار، بھئی؟ دیکھو: ”قَيَّارٌ“ کا عطف ”إِنَّ“ کے یعنی ”إِنِّي“ کی یا ضمیر جو ہے، یہ ”إِنَّ“ کا اسم ہے نا، اس کے محل پر عطف جائز نہیں۔ ”وَغَرِيبٌ خَبَرًا عَنْهُمَا“ اور غریب دونوں کی خبر بن جائے، ایسا کرنا جائز نہیں۔ اگر عبارت یوں بنائیں: یا ضمیر جو ہے ”إِنَّ“ کا اسم، ”قَيَّارٌ“ کا عطف کس پر؟ ”إِنَّ“ کے اسم کے محل پر، اور ”لَغَرِيبُ“ دونوں سے خبر ہے، یہ ترکیب جائز نہیں، کیوں؟ ”لِامْتِنَاعِ الْعَطْفِ عَلَى مَحَلِّ اسْمِ إِنَّ قَبْلَ مُضِيِّ الْخَبَرِ لَفْظًا أَوْ تَقْدِيرًا“ کیونکہ عطف ممتنع ہے، ”إِنَّ“ کے اسم کے محل پر عطف جائز نہیں جب تک کہ خبر نہ گزری ہو لفظاً یا تقدیرًا، ہاں جب خبر گزر جائے پھر جائز ہے۔ ”وَأَمَّا إِذَا قَدَّرْنَا لَهُ خَبَرًا مَحْذُوفًا“ اور جب ہم اس کے لیے مقدر نکالتے ہیں خبر کو محذوف، ”فَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ هُوَ عَطْفًا“ اب جائز ہے کہ عطف چاہے کس پر ہو؟ محلِ اسمِ ”إِنَّ“ پر ہو۔ بھئی پہلے عطف محل پر اس لیے نہیں تھا جائز کہ ”لَغَرِيبُ“ دونوں سے خبر تھی، اگر دونوں کے لیے الگ الگ خبر بنا لو تو پھر عطف محل پر بھی جائز اور اسم پر بھی۔ ”فَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ هُوَ عَطْفًا عَلَى مَحَلِّ اسْمِ إِنَّ“ ”إِنَّ“ کے اسم کے محل پر عطف جائز ہے، ”لِأَنَّ الْخَبَرَ مُقَدَّمٌ تَقْدِيرًا“ اس لیے کہ خبر مقدم ہے تقدیرًا، خبر کیا ہے؟ مقدم ہے تقدیرًا۔ دیکھا؟ ”قَيَّارٌ“ کی خبر کیا ہے؟ ”غَرِيبٌ“، ”بِهَا“ سے پہلے: ”قَيَّارٌ غَرِيبٌ بِهَا“۔ اور یہ ”لَغَرِيبُ“ یہ خبر ہے کس کی؟ ”إِنَّ“ کی، کس کی خبر ہے؟ ”إِنَّ“ کی۔ تو جب یہ ”إِنَّ“ کی خبر ہے، تو ”إِنَّ“ تو لفظوں میں مقدم، تو ”لَغَرِيبُ“ بھی رتبے کے اعتبار سے کیا ہوا؟ مقدم، اصل میں یوں کلام ہوا: ”فَإِنِّي لَغَرِيبٌ وَقَيَّارٌ غَرِيبٌ بِهَا“۔ تو خبر مولانا تقدیرًا ”إِنَّ“ کی جب مقدم ہو چکی، ”إِنَّ“ کی خبر کیا ہے؟ اور ”إِنَّ“ کی جب خبر مقدم ہو جائے، اب ”إِنَّ“ کے اسم پر عطف جائز محلاً بھی اور لفظاً بھی، بحث سمجھ میں آئی، بھئی؟ ”فَلَا يَكُونُ مِثْلَ إِنَّ زَيْدًا وَعَمْرٌو ذَاهِبَانِ“ لہٰذا یہ اس جیسا نہیں ہوگا، یہ مثال اس جیسی نہیں ہوگی۔ دیکھو: ”إِنَّ زَيْدًا“، ”زَيْدًا“ کیا ہے؟ ”إِنَّ“ کا اسم، ”عَمْرٌو“ آپ نے کس پر عطف کیا؟ محل پر یا لفظوں پر؟ محل پر، اور خبر گزری ہے؟ نہیں، خبر تو آگے آ رہی ہے: ”ذَاهِبَانِ“ دونوں کی اکٹھی، اور یہ ترکیب ممتنع ہے، یہ ترکیب کیا ہے؟ ممتنع ہے۔ کیوں ممتنع ہے، بھئی؟ جی، کیونکہ شرط پوری نہیں، شرط کیا تھی؟ خبر پہلے گزر چکی ہو، اور خبر تو دونوں کی ”ذَاهِبَانِ“ اکٹھی آ رہی ہے، معلوم ہوا خبر پہلے گزری نہیں۔ ”بَلْ يَكُونُ“ بلکہ یہ ترکیب جو ہے، یہ ”قَيَّارٌ“ والی اس ترکیب کی طرح ہو جائے گی جیسے: ”إِنَّ زَيْدًا وَعَمْرٌو لَذَاهِبٌ“۔ تو ”إِنَّ“ کا ”زَيْدًا“، ”زَيْدًا“ ”إِنَّ“ کا اسم، ”عَمْرٌو“ اس کے محل پر عطف ہے، اور ”لَذَاهِبٌ“ خبر ہے کس کی؟ ”إِنَّ“ کی، کس کی خبر ہے؟ ”إِنَّ“ کی۔ تو ”زَيْدًا“ اسم، ”لَذَاهِبٌ“ خبر، تو ”لَذَاهِبٌ“ رتبے کے اعتبار سے کیا ہوا؟ مقدم ہوا، اور ”عَمْرٌو“ کی خبر محذوف: ”عَمْرٌو ذَاهِبٌ“۔ جب ”عَمْرٌو“ کی خبر محذوف اور ”إِنَّ“ کی اسم پہلے گزر چکی، جب ”إِنَّ“ کی خبر پہلے گزر جائے، تو اس کے محل پر عطف کرنا بھی جائز، تو یہاں ”عَمْرٌو“ کا عطف ”زَيْدًا“ کے محل پر ہوا کیونکہ ”لَذَاهِبٌ“ رتبۃً کیا ہے؟ مقدم ہے۔ ”وَهُوَ جَائِزٌ“ اور یہ جائز ہے۔ ”وَيَجُوزُ...“ اس پر ایک اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا مولانا کہ بھئی یہ جو ”لَغَرِيبُ“ ہے، اس کو قیار کے لیے خبر بنا لو: ”قَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“، غریب کو کس کے لیے خبر بنا لو؟ اور ”إِنَّ“ کے اسم کے لیے الگ خبر نکال لو: ”فَإِنِّي غَرِيبٌ وَقَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“، الگ نکال لیں؟ کہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا، وجہ یہ کہ اس کی خبر پر لام داخل ہے اور لام ”إِنَّ“ کی خبر پر داخل ہوتا ہے، مبتدا کی خبر پر نہیں داخل ہوتا۔ ”وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مُبْتَدَأً“ یہ بھی جائز ہے مولانا کہ یہ قیار مبتدا ہو، ”وَالْمَحْذُوفُ خَبَرَهُ“ اور محذوف اس کی خبر ہو، ”وَالْجُمْلَةُ بِأَسْرِهَا أَيْ بِجَمِيعِهَا عَطْفٌ عَلَى جُمْلَةِ إِنَّ مَعَ اسْمِهَا وَخَبَرِهَا“ اور جملہ پورا کا پورا جو ہے، عطف ہو ”إِنَّ“ کے جملے پر اس کے اسم اور خبر کے ساتھ۔ یعنی پورے جملے کا عطف پورے جملے پر، پھر تو اشکال ہی کوئی نہیں، ہم تو عطف کس کی بات کر رہے ہیں؟ مفرد کا مفرد پر عطف۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ ترکیب تھی ساری مولانا۔ ترکیب سیکھو بھئی، ترکیب بڑی ضروری ہے، ترکیب کے بغیر کوئی کتاب نہیں چل سکتی۔ ترکیب... میرا تو جی چاہتا ہے مدارس میں یہ طریقہ ہونا چاہیے، کم از کم تین چار سال پہلے صرف، صرف اور نحو پڑھائی جائے۔ اور نحو ترکیب پڑھائی جائے، جب لڑکے کو ترکیب آ جائے گی، نحو آ جائے گی، وہ خود بخود چلے گا، کیونکہ چاہے کسی بھی فن کی کتاب اٹھا لیں، اس میں آدھی تو باتیں تو کس کی آ جاتی ہیں؟ نحو کی باتیں آ جاتی ہیں۔ جی، تو تین چار سال کم از کم اگر ترکیبیں پڑھائی جائیں، نحو پڑھائی جائے، تو پھر بات بنے گی، بھئی۔ پہلے نحو میر وغیرہ بھی گزر جائے، پھر ہدایت النحو ہو جائے مولانا، ہدایت النحو کے بعد پھر اس کے بعد شرح مائۃ عامل اور ترکیب پڑھائی جائے، پھر قافیہ کے اندر بھی ترکیب بھی کچھ ہو جائے گی اور نحو کی مزید باتیں آ جائیں گی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو ترکیب... یہاں عام مدارس میں پہلے کیا پڑھاتے ہیں؟ پہلے ترکیب پڑھاتے ہیں، اس کے بعد ہدایت النحو پڑھاتے ہیں۔ یہ قلب ہے، یہ کیا ہے؟ قلب ہے مولانا، نقیضِ مطلوب ہے۔ بھئی ایک آدمی نے ہدایت النحو پڑھی ہی نہیں ہے، اس کو یہی نہیں پتہ مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں، مفعولِ فیہ کس کو کہتے ہیں، فلاں کس کو کہتے ہیں، ان چیزوں کا پتہ ہی نہیں، اس کو لگا دیتے ہیں رٹا لگاؤ، یہ ترکیب چل رہی ہے، ڈیڑھ صفحے کے بعد خبر آئے گی۔ اب اس بیچارے کو کیا پتہ ہے، بھئی؟ رٹے لگاتا ہے، کوئی فائدہ ہوتا ہے؟ کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں، جب ہدایت النحو پڑھ لے گا، ہدایت النحو کے بعد ترکیب پڑھے گا: ایک سال، دو سال، تین سال، بہترین واقفیت ہو جائے گی اس کی ترکیب کے ساتھ۔ اور پھر ہر کتاب کو اس کے طلبہ کے مطابق ہی پڑھایا جائے، جیسے قافیہ ہے مولانا۔ قافیہ میں بڑی قیل و قال ہوتی ہے، بھئی۔ ”اَلْكَلِمَةُ“ پہ میں نے کہتے ہیں ڈیڑھ سو اعتراضات، جوابات ذکر کیے۔ آگے کہتے ہیں: ”لَفْظٌ“ کے اندر پچاس اور میں نے ذکر کیے کہ ”لَفْظٌ“ کے اندر یہ فا کیوں ائی؟ یہ ظا کیوں آئی، بھئی، یہ یہاں؟ پہلے لام کو کیوں لائے، بعد میں فا کو کیوں لائے، الٹا کیوں نہیں کیا؟ یہ ظا کیوں لے کر آئے، بھئی، طا کیوں نہیں لے کر آئے یہاں؟ یہ مصنف پیدا کیوں ہوا، دنیا میں کیوں آیا؟ عجیب و غریب اشکالات ہوتے ہیں اور ایک فہرست ہوتی ہے، وہ اعتراضات ایسی قطار سے چلتے ہیں، کتاب اور نحو کا پتہ ہی نہیں چلتا گئی کدھر، بھئی۔ ستر ستر اعتراضات، چالس... پچیس تو میرا خیال ہر ایک کرواتا ہوگا، بیس پچیس اعتراضات تو ہر ایک ہی کرواتا ہوگا ”اَلْكَلِمَةُ“ پہ۔ سمجھ میں آیا؟ قافیہ نحوی انداز میں پڑھائی جائے، بھئی، نحوی انداز میں۔ یہ اشکال جواب کیا ہیں، بھئی، وہاں؟ اشکال جواب کہیں بڑا ضروری ہے، وہاں آدمی ذکر کر دے، ہر چیز کو سوالِ مقدر، ہر چیز کو سوالِ مقدر، ہر چیز کو سوالِ مقدر، یہ عجیب ہے۔ اصل میں یہ شروحات کا مطالعہ ہوتا ہے، اور شروحات والے کے تو کام ہوتا ہے کہ ہر ہر اشکال کو حل کرتا جائے، کسی اشکال کو باقی نہ رہنے دے۔ تو چنانچہ وہاں مطالعہ جب ہوتا ہے، انہوں نے اسی انداز میں باتیں کی ہوتی ہیں تاکہ ذرا آسانی سے سمجھ میں آ جائیں۔ تو وہ جتنا مطالعہ ہوتا ہے: ساٹھ، چالیس، پچاس، ساٹھ، ستر اعتراضات جوابات کا، وہ سارے آ کر طلباء کو بھی لکھوا دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان ساروں کو لکھوانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ اپنے پاس محفوظ رکھیں، اپنے ذہن میں رکھیں، اور طالب علم کو آسان سی بحث کروائیں جس کو وہ سمجھ لے آسانی سے۔ اور ہاں، وہ اشکالات کا آپ نے مطالعہ کیا ہے، اب اگر وہ کوئی اعتراض کرے گا تو آپ اس کا جواب دے دیں گے، بس۔ تو یہ ترکیب بڑی ضروری ہے مولانا، ترکیب سیکھو، بھئی، ترکیب۔ آپ کو ترکیب سکھاتے لیکن وقت ہی نہیں ہے، کیا کریں، بھئی؟ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی؟ ہاں، یہ بس یہ ایک منٹ کا شوق ہے، تھوڑی ترغیب دی ہے نا۔ ہاں، سبق شروع ہو جائے تو پھر دو چار دن آئیں گے، پھر بھاگ جائیں گے۔ اچھا جی، نہیں بھئی، میرے پاس تو وقت بھی نہیں ہے، ورنہ جی بڑا چاہتا ہے، بھئی، یہ بنیادی چیز ہے، بہت بنیادی چیز ہے۔ عربی کی کوئی کتاب اٹھائیں، بغیر ترکیب کے آدمی چل ہی نہیں سکتا، حل ہی نہیں کر سکتا، اور دوڑ لگی ہوتی ہے آگے، بھئی۔ اب یہاں جن کو کچھ ترکیب آتی ہے وہ تو یہ کر لیں گے یہ مقام، جن کو نہیں آتی ان کے لیے بڑا مسئلہ بنے گا۔ چلیے، آگے دیکھیے، بھئی۔ ”وَكَقَوْلِهِ“ مولانا ترکِ مسند الیہ کے احوال چل رہے ہیں: ”نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا وَأَنْتَ بِمَا ... عِنْدَكَ رَاضٍ وَالرَّأْيُ مُخْتَلِفُ“ ہم اس چیز پر جو ہمارے پاس ہے، اور تم اس چیز پر جو تمہارے پاس ہے، ”رَاضٍ“ کیا ہو تم؟ راضی ہو۔ ”وَالرَّأْيُ مُخْتَلِفُ“ اس حال میں کہ رائے مختلف ہیں، بھئی، رائے مختلف ہوتی ہیں لوگوں کی۔ تو تمہارے پاس جو کچھ ہے تم اس پر خوش، ہمارے پاس جو ہے ہم اس پر خوش۔ تو یہاں خبر محذوف ہے مولانا: ”نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا“ ہم ”نَحْنُ رَاضُونَ“ ہم کیا ہیں؟ راضی ہیں، اور تو بھی ”أَنْتَ بِمَا عِنْدَكَ رَاضٍ“ تو بھی راضی۔ تو یہ ”رَاضٍ“ خبر نہیں بن سکتی ”نَحْنُ“ کے لیے، کیونکہ ”نَحْنُ“ جمع ہے اور ”رَاضٍ“ مفرد ہے۔ ”فَقَوْلُهُ نَحْنُ مُبْتَدَأٌ“ ”نَحْنُ“ مبتدا ہے، ”مَحْذُوفُ الْخَبَرِ“ جس کی خبر محذوف ہے، ”لِمَا ذَكَرْنَا“ انہی نکات کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کیے، ”أَيْ نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا رَاضُونَ“ ہم جو کچھ ہمارے پاس ہے اس پر راضی ہیں۔ ”فَالْمَحْذُوفُ هَاهُنَا خَبَرُ الْأَوَّلِ“ بھئی یہ مثال جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہ دوسری مثال کیوں لائے؟ کیا فائدہ؟ پہلے مثال ذکر کر دی تھی۔ کہتے ہیں: فرق ہے دونوں مثالوں میں۔ پہلے میں ”فَإِنِّي وَقَيَّارٌ بِهَا لَغَرِيبُ“، آپ نے ”إِنِّي“ کی خبر نکالی تھی یا ”قَيَّارٌ“ کی خبر نکالی تھی؟ جی؟ بھئی یہ ”قَيَّارٌ“ کی خبر ہم نے نکالی تھی، ”لَغَرِيبُ“ کا لام بتلا رہا تھا یہ ”إِنَّ“ کی خبر ہے، کس کی خبر ہے؟ ”إِنَّ“ کی۔ تو ”قَيَّارٌ“ کی خبر ہم نے نکالی تھی، اور ”قَيَّارٌ“ اول ہے یا ثانی ہے؟ ثانی۔ تو دوسرے کی خبر نکالی تھی، اور یہاں ”نَحْنُ“ اول ہے یا ثانی ہے؟ تو یہاں اول کی خبر محذوف، وہاں ثانی کی خبر محذوف تھی۔ ”فَالْمَحْذُوفُ هَاهُنَا خَبَرُ الْأَوَّلِ بِقَرِينَةِ الثَّانِي“ دوسرے کے قرینے کے موجود ہونے کی وجہ سے، ”وَفِي الْبَيْتِ السَّابِقِ بِالْعَكْسِ“ اور گزشتہ شعر میں اس کا عکس تھا۔ ”وَقَوْلِكَ: زَيْدٌ مُنْطَلِقٌ وَعَمْرٌو“ زید چلنے والا ہے، ”وَعَمْرٌو“ اور عمرو۔ تو اصل میں کلام یوں ہے: ”زَيْدٌ مُنْطَلِقٌ وَعَمْرٌو مُنْطَلِقٌ“۔ ”فَحُذِفَ لِلِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ“ تو یہ ”مُنْطَلِقٌ“ کو عطف... حذف کیا مولانا، کیوں؟ عبث سے بچنے کے لیے، کیونکہ ایک مرتبہ ”مُنْطَلِقٌ“ آ چکا تو دوبارہ اس کا ذکر کرنا عبث ہے۔ ”مِنْ غَيْرِ ضِيقِ الْمَقَامِ“ یہ بھی ایک اشکال کا جواب دیا: بھئی، کہ یہ مثال ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کہتے ہیں: بھئی فرق تھا دونوں مثالوں میں، فرق یہ کہ پہلے اشعار گزرے، اشعار کے اندر ہم کیا کرتے؟ اگر مسند کو ذکر کرتے تو مقام تنگ تھا، مسند کو ذکر نہیں کر سکتے تھے، وزن ٹوٹ جاتا تھا، اور یہاں پر مقام بھی تنگ نہیں پھر بھی ہم نے اس کو کیا کر لیا؟ حذف کر لیا، تو فرق آ گیا دونوں میں۔ ”وَقَوْلِكَ: خَرَجْتُ فَإِذَا زَيْدٌ“ اور اسی طرح آپ کا یہ کہنا مولانا: میں نکلا پس اچانک زید تھا، ”فَإِذَا زَيْدٌ“ پس اچانک زید موجود تھا۔ ”أَيْ مَوْجُودٌ“ اس کی خبر نکال لیں، کہتے ہیں: ”أَيْ مَوْجُودٌ أَوْ حَاضِرٌ“ موجود تھا، یا حاضر تھا، ”أَوْ وَاقِفٌ“ یا کھڑا تھا، ”أَوْ بِالْبَابِ“ یا دروازے پر تھا، ”أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ“ یا اس کے مشابہ کوئی بھی خبر نکال لیں کہ میں نکلا تو اچانک زید کھڑا تھا، میں نکلا اچانک زید موجود تھا، میں نکلا اچانک زید دروازے پر تھا۔ ”فَحُذِفَ“ اس خبر کو حذف کر دیا گیا ”لِمَا مَرَّ“ اسی وجہ سے جو گزری، بھئی، کہ کیا کہ اس کا ذکر کیا تھا؟ عبث تھا۔ ”مَعَ اتِّبَاعِ الِاسْتِعْمَالِ“ ساتھ ساتھ استعمال کا اتباع بھی کیا۔ یہ فرق آ گیا گزشتہ مثالوں سے، گزشتہ مثالوں میں استعمال کا اتباع نہیں تھا، یہاں استعمال کا اتباع بھی تھا۔ بھئی عرب کو ہم نے سنا ہے وہ جب إذا مفاجاتیہ لاتے ہیں، تو اس کے بعد خبر کو عموماً کیا کرتے ہیں؟ حذف کرتے ہیں۔ تو ہم نے بھی پیروی کی استعمال میں اور ہم نے بھی خبر کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا۔ ”لِأَنَّ إِذَا الْمُفَاجَأَةِ تَدُلُّ عَلَى مُطْلَقِ الْوُجُودِ“ اس لیے کہ إذا مفاجاتیہ جو ہے، وہ دلالت کرتا ہے مطلقِ وجود پر۔ ”فَإِذَا زَيْدٌ“ یعنی زید کا وجود تھا، زید کا اچانک کیا تھا؟ یعنی وہ موجود تھا۔ تو إذا مفاجاتیہ دلالت ہی وجود پہ کرتا ہے۔ ”وَقَدْ يَنْضَمُّ إِلَيْهَا قَرَائِنُ تَدُلُّ عَلَى نَوْعِ خُصُوصِيَّةٍ“ اور تحقیق کبھی مل جاتے ہیں اس کے ساتھ ایسے قرائن جو دلالت کرتے ہیں ایک نوعِ خصوصیت پر۔ ترکیب میں مولانا دیکھو، نکرہ کے بعد فعل آ جائے، میں نے کیا بتلایا تھا؟ کیا ترجمہ کریں گے؟ موصوف صفت والا عموماً، نکرہ کے بعد کیا آئے؟ اور کیسے کریں گے؟ موصوف سے پہلے ”ایسا“ کا لفظ لایا کرو، موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ دیکھو اب ترجمہ کرو: تحقیق مل جاتے ہیں اس کے ساتھ ایسے قرائن جو دلالت کرتے ہیں ”عَلَى نَوْعِ خُصُوصِيَّةٍ“ کس پر؟ ایک نوعِ خصوصیت پر۔ ”كَلَفْظِ الْخُرُوجِ“ جیسے کہ لفظِ خروج تھا، ”الْمُشْعِرِ بِأَنَّ الْمُرَادَ: فَإِذَا زَيْدٌ بِالْبَابِ“ جو خبر دے رہا تھا کیا؟ کہ مراد یہ ہے: ”فَإِذَا زَيْدٌ بِالْبَابِ“، زید کہاں پر تھا؟ دروازے پر تھا۔ دیکھو، إذا مفاجاتیہ جو ہے مطلق وجود پہ دلالت کرتا ہے: میں نکلا، اچانک زید تھا یعنی زید موجود تھا۔ تو إذا مفاجاتیہ وجود پہ دلالت کرتا ہے، تو خبر حذف کر لیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار کوئی اور قرینہ مل جاتا ہے اور اس قرینے کی وجہ سے خبر میں کچھ اختصاص آ جاتا ہے، اب موجودٌ نہیں نکالتے بلکہ اس کے مطابق نکال لیں گے۔ تو یہاں پر میں دروازے سے نکلا، تو دروازے سے نکلنے نے بتلایا کہ خبر یہاں پر کیا ہے: ”فَإِذَا زَيْدٌ بِالْبَابِ“، زید کہاں پر تھا؟ دروازے پر تھا، یا حاضر تھا، جی۔ کہ مراد کیا ہے کہ زید دروازے پر تھا، ”أَوْ حَاضِرٌ“ یا حاضر تھا، ”أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ“ یا اس جیسی کوئی خبر۔ ”وَقَوْلُهُ“ اور اسی طرح یہ شعر ہے مولانا: ”إِنَّ مَحَلًّا وَإِنَّ مُرْتَحَلًا ... وَإِنَّ فِي السَّفْرِ إِذْ مَضَوْا مَهَلًا“ ہمارے لیے کیا ہے؟ ”مَحَلًّا“ آنا ہے، ”وَإِنَّ مُرْتَحَلًا“ اور ہمارے لیے کوچ کرنا ہے۔ ”وَإِنَّ فِي السَّفْرِ“ اور بے شک مسافروں میں، ”السَّفْرِ“ اسمِ جمع ہے مسافروں کے لیے، مسافر مراد ہیں، اسمِ جمع ہے۔ بے شک ہم سفر... بے شک مسافروں میں ”إِذْ مَضَوْا“ جب وہ چلے جائیں، ”مَهَلًا“ مہلت ہے یعنی بعد ہے، دوری ہے۔ مہلاً بعد ہے یعنی دوری ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم دنیا میں آتے ہیں اور پھر کچھ وقت گزارنے کے بعد ہمیں یہاں دنیا سے جانا پڑتا ہے۔ اور جب سفر پر کوئی شخص جاتا ہے تو پھر کچھ مدت کے بعد ہی واپس آیا کرتا ہے، کچھ مدت کے بعد۔ لیکن یہ جو سفر ہے جس کے جب ہم اس دنیا سے جاتے ہیں، یہ ایسا سفر ہے کہ اس میں جب کوئی اس سفر پر چلا جاتا ہے تو اس میں بڑا بعد آ جاتا ہے، بڑا ہی طویل بعد آ جاتا ہے اور پھر اس شخص کی دوبارہ واپسی نہیں ہوتی، بھئی، اس شخص کی دوبارہ واپسی نہیں ہوتی۔ تو جیسے پہلے لوگ گئے، ہمیں بھی یہاں سے جانا ہے۔ دیکھیے، تو انہوں نے جو چلے گئے یہاں سے جاتے ہیں، سفر پر نکلتے ہیں، انہوں نے اس جانے والوں نے اس سفر میں اتنا مبالغہ کیا، جانے میں اتنا مبالغہ کیا کہ بس چلے ہی گئے، پھر واپس نہیں آئے۔ جانے میں کیا کیا؟ اتنا مبالغہ، اس حد تک چلے گئے کہ چلے ہی چلے گئے، پھر پھر واپس ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا۔ ”إِنَّ مَحَلًّا وَإِنَّ مُرْتَحَلًا“ ہمارے لیے جانا ہے، آنا ہے، ”وَإِنَّ مُرْتَحَلًا“ اور ہمارے لیے کوچ کرنا ہے، ”وَإِنَّ فِي السَّفْرِ“ اور بے شک مسافروں کے اندر ”إِذْ مَضَوْا“ جب وہ چلے جائیں، ”مَهَلًا“ کیا ہے؟ بڑی دوری ہے۔ ”أَيْ إِنَّ لَنَا“ خبر نہ بتلا دی مولانا: ”إِنَّ مَحَلًّا“، یہ اسم ہے، تو کلام یوں ہے: ”إِنَّ لَنَا مَحَلًّا وَإِنَّ لَنَا مُرْتَحَلًا“ ہمارے لیے آنا ہے اور ہمارے لیے جانا۔ ”أَيْ إِنَّ لَنَا فِي الدُّنْيَا حُلُولًا“ ہمارے لیے دنیا کے اندر حلولاً آنا ہے، ”وَلَنَا عَنْهَا إِلَى الْآخِرَةِ ارْتِحَالًا“ اور ہمارے لیے اس دنیا سے آخرت کی طرف کوچ کرنا ہے۔ ”وَالْمُسَافِرُونَ“ اور مسافروں نے یعنی انتقال کرنے والوں نے ”قَدْ تَوَغَّلُوا فِي الْمُضِيِّ“ انہوں نے اتنا مبالغہ کیا ہے جانے میں، توغل کہتے ہیں حد سے گزرنا، اتنے حد سے گزر گئے ہیں جانے کے اندر کہ ”لَا رُجُوعَ لَهُمْ“ کہ ان کے لیے واپسی ہے ہی نہیں۔ ”فَحُذِفَ الْمُسْنَدُ“ مسند کو حذف کیا گیا، ”الَّذِي هُوَ ظَرْفٌ قَطْعًا“ جو قطعی طور پر ظرف ہے یعنی ظرفِ مستقر، ظرف ہے، جار مجرور ہے، کیا ہے؟ کیا تھا مولانا خبر؟ ”لَنَا“ خبرِ مقدم ہم نے محذوف نکالی تھی، یہ ظرف ہے، ظرف، جار مجرور کو ظرف کہتے ہیں۔ ”الَّذِي هُوَ ظَرْفٌ قَطْعًا“ مسند کو حذف کیا گیا جو ظرف ہے قطعی طور پر۔ کیوں حذف کیا؟ ”لِقَصْدِ الِاخْتِصَارِ وَالْعُدُولِ“ کیونکہ آپ کیا قصد ہے آپ کا؟ اختصار بھی کرنا چاہتے ہیں اور عدول کرنا چاہتے ہیں ”إِلَى أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ“ کس کی طرف؟ دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی کی طرف، ”أَعْنِي الْعَقْلَ“ عقل کی طرف۔ ”وَلِضِيقِ الْمَقَامِ“ نیز مقام بھی تنگ تھا، ”عَنِ الْمُحَافَظَةِ عَلَى الشِّعْرِ“ کیونکہ وزن کے شعر کے شعر کے وزن کی بھی حفاظت کرنی۔ ”وَلِاتِّبَاعِ الِاسْتِعْمَالِ“ نیز استعمال کا اتباع بھی کرنا تھا اس میں، ”لِاطِّرَادِ الْحَذْفِ“ کیونکہ حذف عام ہے، ”فِي مِثْلِ: إِنَّ مَالًا وَإِنَّ وَلَدًا“ کس کے اندر؟ ”إِنَّ مَالًا وَإِنَّ وَلَدًا“۔ عرب اس جیسا کلام بولتے ہیں: ”إِنَّ مَالًا وَإِنَّ وَلَدًا“، ”أَيْ إِنَّ لَنَا مَالًا وَإِنَّ لَنَا وَلَدًا“ ہمارا بہت سے ہمارے پاس بڑا مال ہے اور بڑی ہماری اولاد ہے۔ ”وَقَدْ وَضَعَ سِيبَوَيْهِ“ تو دیکھیے، ”إِنَّ مَالًا وَإِنَّ وَلَدًا“ جیسے مقامات میں خبر کو حذف کرتے ہیں۔ جہاں ”إِنَّ“ مکرر ہو اور ”إِنَّ“ کا اسم بھی کیا ہو؟ مکرر ہو، تو وہاں پر خبر کو کیا کر لیا کرتے ہیں؟ حذف کر لیا کرتے ہیں۔ تو دیکھو ”إِنَّ“ دو دفعہ آیا، دو دفعہ ہی اسم آیا: ”مَالًا وَوَلَدًا“، تو جہاں ”إِنَّ“ مکرر ہو اور اس کی اسم مکرر ہو، تو خبر کو کیا کر لیتے ہیں؟ حذف کر لیتے ہیں۔ اور یہ عام ہے عربوں کے ہاں، یہاں تک کہ ”قَدْ وَضَعَ سِيبَوَيْهِ“ یہاں تک کہ وضع کیا ہے امام سیبویہ نے ”فِي كِتَابِهِ“ اپنی کتاب کے اندر ”لِهَذَا بَابًا“ اس کے لیے ایک باب۔ ”فَقَالَ“ اور یوں فرمایا ہے امام سیبویہ نے: ”هَذَا بَابُ إِنَّ مَالًا وَإِنَّ وَلَدًا“ یہ باب ہے ”إِنَّ مَالًا“ اور ”إِنَّ وَلَدًا“ کا۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو امام سیبویہ مولانا عظیم دنیا کے... دنیائے نحو کے عظیم امام گزرے ہیں، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو یہ مولانا، یہ ایک مجلس میں کہتے ہیں آئے، بھئی، علماء کی مجلس ہو رہی تھی۔ تو وہاں آ کر انہوں نے آ کر بیٹھے اور ذکر کیا کہ میں تھک گیا ہوں، میں تھک گیا ہوں۔ تو لفظ غلط بول گئے۔ مجرد سے غالباً بولنا تھا، مزید فیہ سے باب لے آئے، ”عَيِيتُ“ کہنا تھا ”أَعْيَيْتُ“ کہہ دیا، یا ”أَعْيَيْتُ“ کہنا تھا ”عَيِيتُ“ کہہ دیا۔ تو بعض علماء نے وہیں پر ان کو ٹوک دیا کہ بھئی تمہیں یوں نہیں کہنا چاہیے تھا، یوں کہنا چاہیے تھا۔ بھرے مجمعے کے اندر یہ بات سنی ایک دم تو ان کے دل کو جھٹکا لگا، اور کہ اب میں ان نحو کو سیکھوں گا، یہ غلطی مجھ سے ہوئی۔ چنانچہ مولانا سفر پر نکلے، تقریباً تیس سال تک دیہاتوں کے اندر گھومتے پھرتے رہے اور عربی زبان کی تحقیق و جستجو کرتے رہے۔ تیس برس بعد جب وہ دیہاتوں کی خاک چھاننے کے بعد، تکالیف اٹھا کر واپس اپنے شہر پہنچے، تو اب وہ مولانا سیبویہ نہ رہے تھے بلکہ دنیا کے عظیم امام سیبویہ بن چکے تھے، بھئی۔ اور آج بھی نحو کے اندر ان کی بات ایک طرف ہو، پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے، باقی سارے نحویوں کی بات ایک طرف ہو۔ نحو کی عظیم الشان کتاب انہوں نے لکھی ”الْكِتَابُ“ کے نام سے۔ عام ہم کہیں ”الْكِتَابُ“، تو اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ قرآن مراد لیا جاتا ہے، لیکن جب نحو کی بات چل رہی ہو، ”الْكِتَابُ“ کہا جائے تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے؟ امام سیبویہ کی وہ عظیم الشان اور بڑی ہی مشکل اور دقیق کتاب مراد ہوتی ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ وفات کے بعد ان کو مولانا کسی نے خواب میں دیکھا کہ اللہ نے آپ سے کیا معاملہ فرمایا؟ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا کہ کیوں؟ فرمایا: اس لیے کہ میں اس بات کا قائل تھا کہ لفظِ اللہ یہ اعرف المعارف ہے، کیا ہے؟ اعرف المعارف۔ سب سے زیادہ علی الاطلاق پورے الفاظ میں سے سب سے زیادہ تعریف کس لفظ کے اندر ہے؟ لفظِ اللہ کے اندر ہے۔ میں اس بات کا قائل تھا، تو بس اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مغفرت فرما دی اور جنت میں داخل فرمایا، بھئی۔ رحمتِ حق بہانہ می جوید رحمتِ حق بہا نمی جوید جی، یہ عظیم تھی، سب کہو مولانا: رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً، بھئی۔ چلیے، ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
64 approved lectures · 24 of 64