کل کے سبق میں مولانا ہم نے پڑھا تھا کہ استعارہ تین قسم پر ہے۔ استعارہ کے اندر مشبہ کا لازم... مشبہ بہٖ کا کوئی مناسب ذکر ہوگا، یا مشبہ کا مناسب ذکر ہوگا، یا دونوں میں سے کسی کا بھی مناسب ذکر نہیں ہوگا۔ اگر کسی کا بھی مناسب ذکر نہیں ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ مطلقہ کہتے ہیں۔ اور اگر مشبہ کا مناسب ذکر ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مجردہ کہیں گے۔ اور مشبہ بہٖ کا مناسب ذکر ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرشّحہ کہیں گے۔ اور جو ہے مرشّحہ زیادہ ابلغ ہے کس کی بنسبت؟ مجردہ کی بنسبت اور مطلقہ کی بنسبت، بھئی۔ کیوں؟ اس کے اندر کہ یہ مولانا مبالغے کی تقویت ہے اس کے اندر، مبالغہ قوی طور پر ہے۔ اور اس کی بنیاد کس پر ہے مولانا؟ تناسیِ تشبیہ پر ہے کہ تشبیہ کو بھلانے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ مشبہ بہٖ ذکر تھا اور مراد اس سے کیا تھا؟ مشبہ تھا۔ تو جب مراد مشبہ ہے تو اس کے لیے مشبہ... لیکن کیا کرتا ہے متکلم؟ وہاں دراصل تھی تشبیہ مولانا، مشبہ بہٖ ذکر تھا اور مراد کیا ہے؟ مشبہ مراد ہے۔ تو لہٰذا کلام کی بنا مشبہ پر ہونی چاہیے لیکن وہ کس پر کرتا ہے؟ مشبہ بہٖ پر کرتا ہے، مشبہ بہٖ کے مناسبات کو ذکر کرتا ہے، بھئی۔ یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ علوِّ رتبی پر وہ چیز مرتب کی جاتی ہے جو کس پر مرتب ہونا تھی؟ علوِّ مکانی پر، جیسے شعر کے شعر کے اندر:
”وَيَصْعَدُ حَتَّى يَظُنَّ الْجَهُولُ بِأَنَّ لَهُ حَاجَةً فِي السَّمَاءِ“
اور وہ اوپر کو چڑھتا ہے یعنی ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ کامل جاہل گمان کرتا ہے کہ اس کے لیے آسمان میں کوئی حاجت ہے۔ بھئی آسمان میں کوئی حاجت ہونا، یہ تو اسی صورت میں گمان کیا جا سکتا ہے جبکہ علوِّ مکانی پایا جائے، اور یہاں تو صرف کیا ہے؟ علوِّ رتبی ہے، لیکن علوِّ رتبی پر کیا مرتب کیا؟ وہ چیز جو کس پر مرتب ہونا تھی؟ علوِّ مکانی پر مرتب ہونا تھی۔ تو یہ دراصل تناسیِ تشبیہ کی وجہ سے تشبیہ کو بھلانے کا اظہار کیا گیا اور یوں سمجھا گیا گویا کہ علوِّ رتبی بھی کس کے افراد میں سے ہے؟ علوِّ مکانی کے افراد میں سے ہے، اور علوِّ مکانی کی صورت میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ شخص اوپر کی طرف چڑھ رہا ہے، یقیناً اس کی کیا ہے؟ آسمان میں کوئی حاجت ہے۔ اور نیز جھول کے اندر بتلایا تھا اور مبالغہ ہے مولانا، یہ کہ عاقل یہ تو یہ سمجھتا ہی نہیں ہے، اس کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ یہ آسمان کی طرف چڑھ رہا ہے تو کیا ہے اس کی کوئی حاجت ہوگی، اس لیے کہ عقلمند جانتا ہے یہ تمام کمالات میں پورا ہے بھئی، تمام کمالات سے متصف ہے، اس کی کوئی حاجت نہیں ہو سکتی بھئی، یہ صرف بلند ہونے کے لیے اوپر کی طرف چڑھ رہا ہے۔ جی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مرشّحہ کی بنا کس پر ہوتی ہے؟ تناسیِ تشبیہ پر ہوتی ہے، جیسے کہ اس شعر کے اندر تعجب کا اظہار، تعجب کیا گیا تھا اور وہ بھی تناسیِ تشبیہ پر مبنی تھا، جیسے: ”قَامَتْ تُظَلِّلُنِي وَمِنْ عَجَبٍ شَمْسٌ تُظَلِّلُنِي مِنَ الشَّمْسِ“، تو یہ تعجب بھی کس بناء پر کیا جا رہا ہے؟ تناسیِ تشبیہ کی بناء پر کیا جا رہا ہے۔ اور اسی طرح دوسرے شعر کے اندر جو پہلے گزرا تھا، نہی عن التعجب تھی، تعجب سے منع کیا گیا تھا کہ اس کی بنیان کی بوسیدگی، بوسیدہ ہونے پر تعجب نہ کرو، تو تعجب سے منع کیا گیا تھا کس بناء پر؟ تناسیِ تشبیہ کی بناء پر۔ جی، تو کہتے ہیں یہاں پر دیکھو تشبیہ یہاں استعارہ کہ تشبیہ کے اندر اصل مشبہ ہے اور فرع کون ہے؟ مشبہ بہٖ۔ اس پر اشکال ہوا، بھئی تشبیہ کے اندر اصل تو مشبہ بہٖ تھا، آپ نے ہمیں بتایا تھا اس لیے کہ وجہِ تشبیہ کے اندر زیادہ قوی اور زیادہ مشہور کون ہوتا ہے؟ مشبہ بہٖ ہوتا ہے، تو مشبہ بہٖ اصل اور مشبہ فرع۔ اور اب آپ اس کا عکس کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں مشبہ اصل اور مشبہ بہٖ فرع؟ کہتے ہیں بھئی جہت مختلف ہے، وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے مشبہ بہٖ اصل اور غرض کے اعتبار سے مشبہ اصل ہے، اس لیے کہ غرض لوٹتی ہے مشبہ کی طرف بھئی، اس سے تعلق ہوتا ہے۔ تو چنانچہ جب تشبیہ کے اندر مولانا جہاں پر اصل بھی موجود ہوتا ہے، اصل سے کون مراد ہے یہاں؟ مشبہ۔ تو تشبیہ کے اندر مشبہ بھی موجود ہوتا ہے اور مشبہ بہٖ بھی، اصل بھی اور فرع بھی، اور اصل کے ہوتے ہوئے کلام کی بنا کس پر ہونی چاہیے؟ اصل پر ہونی چاہیے، لیکن وہاں تشبیہ کے اندر اصل کے ہونے کے باوجود کلام کی بنا کس پر کی جاتی ہے؟ فرع یعنی مشبہ بہٖ پر کی جاتی ہے۔ تو جہاں اصل موجود ہے وہاں آپ فرع پر بنا کر رہے ہیں، تو جہاں سرے سے اصل موجود ہی نہ ہو یعنی استعارے کے اندر، جہاں صرف مشبہ بہٖ ہوتا ہے اور مشبہ بہٖ... مشبہ نہیں، وہاں تو بطریقِ اولیٰ کیا کر سکتے ہیں؟ فرع پر بنا کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد مولانا مجازِ مرکب کی بات آئی تھی بھئی، مجازِ مرکب انہوں نے کہا تھا وہ لفظ ہے جو استعمال ہو اس معنیٰ کے اندر جو مشابہ ہے کس کے ساتھ؟ معنیٰ اصلی کے ساتھ۔ بھئی یہ الفاظ ہیں مرکب، بھئی ان کا ایک معنیٰ ہے، معنیٰ اصلی۔ اس معنیٰ اصلی کے ساتھ ایک دوسرے معنیٰ کو کیا کیا آپ نے؟ تشبیہ دی، اور ان الفاظ کو ان ان دوسرے معانی کے اندر استعمال کر لیا جن کو آپ نے تشبیہ دی تھی کس کے ساتھ؟ بھئی وہ معنیٰ جس کو آپ نے تشبیہ دی تھی کس کے ساتھ؟ لفظ کے معنیٰ اصلی کے ساتھ، تو ان الفاظ کو استعمال کر لیا اس دوسرے معنیٰ کے اندر، یہ کیا کہلائے گا؟ مجازِ مرکب کہلائے گا، بھئی۔ اور یہ تشبیہ تمثیل کے طریقے پر ہو، مولانا۔ تمثیل، تمثیل آپ نے پڑھا تھا تشبیہ میں، تمثیل کسے کہتے ہیں؟ کہ جہاں وجہِ تشبیہ کیا ہو؟ منتزع عن المتعدد ہو، متعدد چیزوں سے وجہِ تشبیہ کو اخذ کیا جائے، بھئی۔ تو یہاں بھی مجازِ مرکب کے اندر بھی کیا ہوگا؟ متعدد چیزوں سے وجہِ تشبیہ کو اخذ کیا جائے گا، بھئی۔ جیسے مولانا ایک شخص ہے، وہ ایک معاملے کے اندر اس کا ارادہ متزلزل ہے، کبھی بنتا ہے اور کبھی ٹوٹتا ہے، تو آپ اس کو کہتے ہیں: ”إِنِّي أَرَاكَ تُقَدِّمُ رِجْلًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَى“، مجھے تو آپ ایسے معلوم ہوتے ہیں، یوں دکھائی دیتے ہیں کہ ایک قدم بڑھاتے ہیں اور پھر اس کو واپس رکھتے ہیں، بھئی۔ تو دیکھا، آپ نے کیا کہا؟ ایک قدم بڑھاتے ہیں اور واپس رکھتے ہیں، بھئی وہ ایک قدم بڑھا رہا ہے اور واپس رکھ رہا ہے؟ نہیں، وہ تو صرف اس کا ارادہ بن رہا ہے اور ارادہ ٹوٹ رہا ہے، جو ایک معنوی چیز ہے، ہمیں آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی۔ اور ایک شخص وہ ہے جس کا ارادہ متزلزل ہے، مجلس سے جانے کے لیے اٹھتا ہے، ایک قدم بڑھاتا ہے، ارادہ بنتا ہے چلو، پھر ارادہ بنتا ہے کہ یہیں رہوں، واپس قدم کر لیتا ہے، پھر قدم بڑھاتا ہے، پھر واپس کر لیتا ہے، تو یہ قدم بڑھانا اور واپس کرنا یہ تو ہمیں آنکھوں سے دکھائی دے رہا ہے، تو آپ نے ایک معنوی چیز کو تشبیہ دے دی کس کے ساتھ؟ حسی چیز کے ساتھ، اور وہ الفاظ جو حسی چیز کے لیے تھے کس کے لیے استعمال کر لیے؟ معنوی چیز کے لیے استعمال کر لیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ اور اس اس مجازِ مرکب کو مولانا ”تمثیل علی سبیل الاستعارۃ“ بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تمثیل علی سبیل الاستعارۃ بھی کہتے ہیں، اور کبھی کبھار صرف تمثیل بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں بھئی تمثیل اگر کہہ دیں، تو تمثیل تو تشبیہ کے اندر بھی آئی تھی، تو فرق کیسے ہوگا دونوں میں؟ کہتے ہیں بھئی اس کو صرف تمثیل کہیں گے اور وہاں پر کہیں گے تشبیہِ تمثیل، یا کہیں گے تشبیہٌ تمثیلیٌّ، بھئی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بتلایا، بھئی، کہ جب اس کا استعمال، مجازِ مرکب کا استعمال عام ہو جائے اسی طرح یعنی استعارے کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ مجازِ مرکب کا۔ تو اس کو متل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ متل۔ اور اسی وجہ سے کہتے ہیں مثل میں تبدیلی نہیں کی جاتی، یہ ضرب المثل بن گئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ اس لیے کیونکہ آپ مشبہ بہٖ کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ تو اب اگر آپ الفاظ میں تبدیلی کر دیں گے تو یہ مشبہ بہٖ کے الفاظ رہے نہیں، یہ تو اس پر پوری طرح دلالت نہیں کر رہے، جب پوری طرح دلالت نہیں کر رہے تو پھر یہاں تشبیہِ تمثیلی بھی نہ رہے گی۔ لہٰذا کہتے ہیں اسی لیے ضرب الامثال کے اندر جس جگہ استعمال کی جائیں اس کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کو دیکھا جاتا ہے جہاں وہ پہلی مرتبہ استعمال ہوئی تھیں، جہاں ان کا ورود ہوا تھا۔ جیسے مولانا ایک... ”الصَّيْفَ ضَيَّعْتِ اللَّبَنَ“، بھئی۔ جی، یہ ایک عورت تھی، کیا کیا تھا اس نے؟ اس کا نکاح ہوا تھا ایک بوڑھے شخص سے جو بڑا مالدار تھا، بھئی۔ اور ہر چیز کی خوب فراوانی تھی، بھئی۔ لیکن چونکہ وہ بوڑھا تھا، اس عورت کو ناپسند تھا، اس نے اس سے طلاق لے لی، بھئی، اور طلاق لینے کے بعد کیا کیا؟ ایک ایک نوجوان سے شادی کر لی لیکن وہ فقیر تھا، محتاج تھا، کچھ بھی نہیں تھا۔ تو پھر شادی کے کچھ عرصے بعد اس کو پھر وہ نعمتیں یاد آئیں، بھئی۔ ایک دن کہتے ہیں کہ بھئی اس کا دل چاہا دودھ وغیرہ پیے، کچھ بھی نہیں ہے، تو کہتے ہیں اس نے وہ پہلے خاوند کے پاس بھیجا بھئی کسی کو، کیا کیا؟ پہلے خاوند کے پاس کسی کو بھیجا بھئی کہ کچھ دودھ تو بھجوا دو ہماری طرف، دودھ پینے کو اج دل کر رہا ہے، تو اس نے کیا کہا؟ ”الصَّيْفَ ضَيَّعْتِ اللَّبَنَ“، کہ تو نے تو دودھ گرمیوں میں ضائع کر دیا تھا، دراصل طلاق اس نے کس وقت لی تھی؟ گرمیوں میں لی تھی، بھئی۔ تو اب جہاں بھی کوئی شخص ایسا کوئی شخص ہو جو خود ایک چیز کو کیا کر دے؟ ضائع کر دے اور پھر بعد میں اس کو طلب کرے، تو اس کے لیے کہا جاتا ہے: ”الصَّيْفَ ضَيَّعْتِ اللَّبَنَ“۔ ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ الِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ“
جی، مولانا اس فصل کے اندر مصنف استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ کو ذکر کریں گے۔ استعارہ بالکنایہ کو اور استعارہ تخییلیہ کو ذکر کریں گے، بھئی۔ بھئی ان کو الگ فصل میں کیوں ذکر کیا؟ کہتے ہیں، مجاز کی بحث چل رہی ہے، مجاز کے ساتھ ہی اس کو کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ مجاز ہے ہی نہیں، مولانا۔ استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ کیا ہے؟ مجاز میں سے نہیں۔ مجاز کس کو کہتے تھے مولانا؟ موضوع لہٗ کے بجائے کلمے کو کس میں استعمال کرنا؟ یا الفاظ کو غیر موضوع لہٗ کے اندر استعمال کر لینا۔ کہتے ہیں یہاں پر ایسا نہیں ہے، دونوں لفظ، استعارہ بالکنایہ بھی جو ہے لفظ اپنے معنیٰ موضوع لہٗ ہی کے اندر استعمال ہوگا، اور استعارہ تخییلیہ کے اندر بھی لفظ اپنے معنیٰ موضوع لہٗ ہی کے اندر استعمال ہوگا، اس لیے یہ مجاز ہیں ہی نہیں۔ مجاز... تو اسی لیے ان کا علیحدہ فصل میں ذکر کیا۔ اور نیز اس لیے تاکہ استعارے کا لفظ آیا تھا، اور استعارے کا لفظ تین چیزوں پر بولا جاتا ہے، تین قسم پر ہے استعارہ: ایک استعارہ مصرحہ، ایک استعارہ بالکنایہ، اور ایک استعارہ تخییلیہ۔ تو مجاز کے اندر جب مجاز میں صرف استعارہ تصریحیہ داخل تھا، تو جب استعارہ تصریحیہ کا تذکرہ آ گیا، تو اس کے ساتھ مصنف کس کو ذکر کریں گے؟ استعارہ بالکنایہ کو بھی، کیونکہ اس کا نام بھی استعارہ ہے، اور استعارہ تخییلیہ کو بھی، کیونکہ اس کا نام بھی کیا ہے؟ استعارہ ہے۔ اس لیے ان دونوں کو ذکر کریں گے، اور تاکہ کیا ہو جائے؟ استعارہ جن چیزوں پر بولا جاتا ہے وہ سب مکمل طور پر ذکر ہو جائیں، بھئی۔ وہ تینوں چیزیں کیا ہیں؟ مکمل طور پر، اور علیحدہ فصل میں ذکر کیا تاکہ کیونکہ یہ اس سے الگ ہے، یہ مجاز میں داخل ہی نہیں، بھئی۔ دیکھیے، میں نے کہا: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“، موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ مصنف کی تعریف، استعارہ بالکنایہ کی مصنف یہ تعریف کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ آپ دیکھیں، ٹھہریں، یہ دیکھیں کہ یہ استعارہ... اس میں مجاز ہے یا مجاز نہیں؟ موت نے اپنے پنجے گاڑ لیے، تو موت کو ہم نے کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ درندے کے ساتھ، اور درندے کے ساتھ کیا لازم ہے؟ پنجے، وہ پنجے کس کے لیے ثابت کر دیے؟ موت کے لیے ثابت کر دیے۔ اچھا، موت جب اپنے پنجے گاڑ دے، تو پھر کوئی بچ سکتا ہے؟ موت سے کوئی بچ سکتا ہے؟ تو آپ بتائیے، لفظ استعمال کر رہا ہوں مشبہ کا، اور مراد بھی کیا ہے؟ مشبہ ہی مراد ہے، مشبہ بہٖ تو مراد نہیں ہے، درندہ مراد ہے یہاں؟ نہیں، درندے کا ارادہ نہیں، موت سے موت ہی مراد ہے یہاں پر۔ اور پیچھے میں نے ذکر کیا... آگے ذکر کیا: اپنے پنجے گاڑ دیے، پنجوں سے کیا مراد ہے؟ پنجوں سے بھی کیا مراد ہے؟ پنجے ہی مراد ہیں۔ تو یہ جو موت ہے، یہ ہے استعارہ بالکنایہ، اور یہ جو اس کے لیے مشبہ بہٖ کے لازم پنجے ہم نے ذکر کر دیے، یہ کیا ہے مولانا؟ استعارہ تخییلیہ ہے مولانا۔ اور اظفار، پنجے اپنے معنیٰ میں ہیں یا کسی اور معنیٰ میں ہیں؟ اپنے ہی معنیٰ میں ہیں، تو دیکھو مجاز ہے؟ مجاز تو کس کو کہتے تھے؟ کلمہ کس کے اندر استعمال ہو؟ اور یہ تو دونوں اپنے معنیٰ موضوع لہٗ کے اندر استعمال ہو رہے ہیں، معلوم ہوا کہ یہ اس میں مجاز تو سرے سے ہے ہی نہیں، اس لیے الگ فصل میں ذکر کیا، بھئی۔ اب یاد رکھو مولانا، استعارہ بالکنایہ مصنف کے نزدیک ایک امرِ معنوی ہے۔ ابھی جو استعارہ تصریحیہ گزرا تھا وہ امرِ لفظی تھا، وہ کیا تھا؟ امرِ لفظی تھا، لفظ کو معنیٰ موضوع لہٗ کے بجائے کس میں استعمال کر لیا؟ غیر موضوع لہٗ میں استعمال کر لیا مولانا، تو وہ لفظ کیا ہے؟ وہ امرِ لفظی ہے، وہ استعارہ ہے۔ جبکہ یہ امرِ معنوی ہے مصنف کے نزدیک، بھئی، استعارہ بالکنایہ بھی اور استعارہ تخییلیہ بھی۔ استعارہ بالکنایہ کس کو کہتے ہیں مصنف کے نزدیک؟ متکلم اپنے نفس میں ایک چیز کو تشبیہ دیتا ہے دوسری چیز کے ساتھ، جیسے منیّہ، موت کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ، تو یہ استعارہ بالکنایہ ہے نفس میں تشبیہ دینا، نفس میں تشبیہ دینا، دل میں تشبیہ دینا، اور یہ معنیٰ مصدری ہے، آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے؟ نہیں، تشبیہ دینا۔ اور پھر استعارہ تخییلیہ ہے، تو میں نے موت کو تشبیہ دی درندے کے ساتھ اپنے دل میں، اور ذکر کیا صرف کس کا؟ مشبہ کا، اور اس مشبہ کے لیے میں کیا ثابت کرتا ہوں؟ مشبہ بہٖ کے لازم کو، درندے کے ساتھ کیا لازم تھے؟ پنجے، وہی پنجے میں نے کس کے لیے ثابت کر دیے؟ موت کے لیے ثابت کر دیے، تو ثابت کرنا پنجوں کا کس کے لیے؟ موت کے لیے، تو دیکھو ثابت کرنا یہ بھی کیا ہے؟ مصدر ہے، کیا ہے؟ مصدر ہے۔ تو متکلم کیا کرتا ہے؟ اپنے دل میں تشبیہ دیتا ہے، یہ تشبیہ دینا دل کے اندر یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ بالکنایہ، اور پھر مشبہ کے لیے ثابت کرتا ہے، کیا ثابت کرتا ہے؟ مشبہ بہٖ کا لازم، اس مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ معلوم ہوا استعارہ بالکنایہ بھی مصدری معنیٰ ہے، مصدر... کیا ہے؟ معنیٰ مصدری ہے، اور استعارہ تخییلیہ بھی کیا ہے؟ معنیٰ... معنیٰ مصدری کے لیے استعمال ہے۔ تو دونوں لفظی امر ہوئے یا معنوی امر ہوئے مولانا؟ معنوی ہے، معنوی ہے۔ ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ الِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ وَالِاسْتِعَارَةِ التَّخْيِيلِيَّةِ وَلَمَّا كَانَتَا عِنْدَ الْمُصَنِّفِ أَمْرَيْنِ مَعْنَوِيَّيْنِ“ اور جب یہ تھے دونوں مصنف کے نزدیک امرِ معنوی، ”غَيْرَ دَاخِلَيْنِ فِي تَعْرِيفِ الْمَجَازِ“ اور یہ دونوں داخل نہیں تھے کس میں؟ مجاز کی تعریف میں، ”أَوْرَدَ لَهُمَا فَصْلًا عَلَى حِدَةٍ“ اس لیے ذکر کیا ان کے لیے علیحدہ فصل کو، ”لِتُسْتَوْفَى الْمَعَانِي“ تاکہ پورے ہو جائیں وہ معانی ”الَّتِي يُطْلَقُ عَلَيْهَا لَفْظُ الِاسْتِعَارَةِ“ تاکہ وہ معانی پورے ہو جائیں جن پر استعارے کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ استعارہ مصرحہ آ گیا تھا، تو اب استعارہ تخییلیہ اور استعارہ بالکنایہ کو ذکر کر دیں گے، تو استعارے کے جن جن چیزوں پر استعارے کا اطلاق ہوتا ہے وہ پوری ہو جائیں گی۔ ”فَقَالَ“ تو مصنف فرماتے ہیں: ”قَدْ يُضْمَرُ التَّشْبِيهُ فِي النَّفْسِ“ کبھی کبھار چھپایا جاتا ہے تشبیہ کو نفس کے اندر، ”أَيْ فِي نَفْسِ مَعْنَى اللَّفْظِ أَيْ فِي الْمُتَكَلِّمِ“، یہ مولانا پتہ نہیں کہاں سے آیا یہ لفظ کتاب کے اندر: ”أَيْ فِي نَفْسِ مَعْنَى اللَّفْظِ“، بھئی۔ ”فِي نَفْسِ مَعْنَى اللَّفْظِ“، معلوم نہیں یہ کہاں سے آیا، کسی لکھنے والے کی غلطی ہے، یہاں یہ کسی اور نسخے میں موجود نہیں، نہ شروحات میں یہ لفظ موجود ہے، نہ دیگر مختصر کے نسخوں میں موجود ہے، اور نہ ہی مطوّل کے اندر یہ لفظ موجود ہے، بھئی۔ یہ کسی لکھنے والے کے اِس غلطی سے آیا مولانا۔ اگلا لفظ کیا ہے؟ ”فِي نَفْسِ الْمُتَكَلِّمِ“۔ ”فِي نَفْسِ...“ یہ لفظ بھی مولانا مختصر کا نہیں ہے، مختصر کے دیگر نسخوں میں یہ لفظ نہیں ملتا، بھئی۔ ہاں مطوّل میں موجود ہے، مطوّل میں علامہ تفتازانی یہاں پر کیا کرتے ہیں؟ ”فِي نَفْسِ الْمُتَكَلِّمِ“ کا لفظ نکالتے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی، تو چلیے، مختصر میں نہیں، مطوّل میں البتہ ہے، تو اس کو برقرار رکھیں، البتہ یہ ”فِي نَفْسِ مَعْنَى اللَّفْظِ“ یہ تو یہاں درست ہی نہیں بنتا۔ تو کبھی کبھار تشبیہ کو چھپاتا ہے ”فِي النَّفْسِ أَيْ فِي نَفْسِ الْمُتَكَلِّمِ“، کس کے اندر مولانا؟ متکلم کے نفس میں چھپایا جاتا ہے تشبیہ کو، ”فَلَا يُصَرَّحُ بِشَيْءٍ مِنْ أَرْكَانِهِ“ لہٰذا تصریح نہیں کی جاتی اس کے ارکان میں سے کسی... ارکانِ تشبیہ کتنے ہیں مولانا؟ چار: مشبہ، مشبہ بہٖ، اور وجہِ تشبیہ، اور اداتِ تشبیہ، چار ہیں مولانا۔ اور یہ استعارہ بالکنایہ میں صرف کس کو ذکر کرتے ہیں؟ مشبہ کو۔ میں نے کہا: موت درندے جیسی ہے، میں نے صرف موت کو ذکر کیا: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ“، تو تشبیہ دی تھی یعنی موت کو؟ کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ درندے کے ساتھ۔ درندے کا ذکر ہے؟ اداتِ تشبیہ ہیں؟ وجہِ تشبیہ ہے؟ صرف کون ذکر ہے؟ مشبہ۔ ”فَلَا يُصَرَّحُ بِشَيْءٍ مِنْ أَرْكَانِهِ سِوَى الْمُشَبَّهِ“ تصریح نہیں کی جاتی ارکانِ تشبیہ میں سے کسی بھی چیز کی سوائے مشبہ کے۔ ”وَأَمَّا وُجُوبُ...“ یہ ایک اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اعتراض یہ مولانا: آپ نے تشبیہ کے اندر ذکر کیا تھا... بھئی یہ بھی کیا ہے؟ تشبیہ، اور آپ نے تشبیہ کے اندر ذکر کیا تھا کہ مشبہ بہٖ کو کبھی بھی نہیں حذف کر سکتے، ہمیشہ کیا رہے گا مشبہ بہٖ؟ اس کو ذکر کرنا پڑے گا، اداتِ تشبیہ بھی حذف کر سکتے ہیں، وجہِ تشبیہ بھی حذف کر سکتے ہیں مولانا، مشبہ کو بھی حذف کر سکتے ہیں، لیکن مشبہ بہٖ کو ہر حال میں کیا کرنا پڑے گا؟ ذکر کرنا پڑے گا۔ تو یہاں پر تو اب آپ نے کیا کہا؟ صرف مشبہ ذکر ہے اور مشبہ بہٖ ذکر نہیں، تو یہ کیسی تشبیہ ہے؟ آپ نے کہا نفس میں تشبیہ دی، ہے تشبیہ اور مشبہ بہٖ ذکر نہیں؟ کہتے ہیں بھئی وہ اصطلاحی تشبیہ میں تھا، وہ ضابطہ کس میں تھا؟ اصطلاحی تشبیہ میں تھا، اور اصطلاحی تشبیہ کے اندر ہم نے کہا تھا کہ وہ استعارہ بالکنایہ، استعارہ تحقیقیہ، اور تجرید کے طریقے پر نہ ہو، ان تینوں طریقوں پر نہ ہو۔ معلوم ہوا یہ اس کے سے الگ ہے مولانا، تو یہ وہ ضابطہ ان پر لاگو نہیں ہوگا، بھئی۔ ”وَأَمَّا وُجُوبُ ذِكْرِ الْمُشَبَّهِ بِهِ“ باقی مولانا مشبہ بہٖ کے ذکر کا جو وجوب تھا، ”فَإِنَّمَا هِيَ فِي التَّشْبِيهِ الْمُصْطَلَحِ“ یہ کس کے اندر تھا صرف؟ اصطلاحی تشبیہ میں تھا، ”وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ غَيْرُ الِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ“ اور آپ یہ جان چکے ہیں کہ وہ تشبیہِ اصطلاحی کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ کے علاوہ ہے۔ یاد ہے مولانا کہ نہیں یاد، بھئی؟ جی، تشبیہ کی تعریف نکالو ذرا مولانا، آپ کو دکھائیں، بھئی۔ جی، صفحہ 313 نکالیں، بھئی۔ صفحہ 313 نکالیں، بھئی۔ دیکھو بھئی: ”التَّشْبِيهُ الدَّلَالَةُ عَلَى مُشَارَكَةِ أَمْرٍ لِأَمْرٍ آخَرَ فِي مَعْنًى، وَالْمُرَادُ هَاهُنَا مَا لَمْ يَكُنْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِعَارَةِ التَّحْقِيقِيَّةِ وَالِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ وَالتَّجْرِيدِ“، جو ان تینوں طریقوں پر نہ ہو، تو ان کو خارج کر دیا تھا مولانا تشبیہ... جی، اب آئیے سبق پر۔ ”وَيُدَلُّ...“ اچھا بھئی، کیا کیا جاتا ہے؟ نفس کے اندر تشبیہ کو چھپایا جاتا ہے، ایک چیز کو تشبیہ دی جاتی ہے کس کے ساتھ؟ دوسری چیز کے ساتھ، اور صرف کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ جی، صرف مشبہ کو۔ بھئی پھر ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہ تشبیہ دی گئی ہے؟ کہتے ہیں بھئی کیا کیا جائے گا؟ مشبہ بہٖ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا جائے گا؟ مشبہ کے لیے۔ ”وَيُدَلُّ عَلَيْهِ“ اور دلالت کی جائے گی ”عَلَى ذَلِكَ التَّشْبِيهِ الْمُضْمَرِ فِي النَّفْسِ“ وہ تشبیہ جو نفس میں چھپی ہوئی ہے اس پر، ”بِأَنْ يُثْبَتَ لِلْمُشَبَّهِ أَمْرٌ“ کہ ثابت کیا جائے مشبہ کے لیے ایسا امر ”مُخْتَصٌّ بِالْمُشَبَّهِ بِهِ“ جو خاص تھا کس کے ساتھ؟ مشبہ بہٖ کے ساتھ، ”مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ هُنَاكَ أَمْرٌ مُتَحَقِّقٌ حِسًّا أَوْ عَقْلًا“ بغیر اس کے کہ وہاں بھی کوئی امر ایسا امر متحقق ہو حساً یا عقلاً، ”يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ ذَلِكَ الْأَمْرِ“ جس پر اس امر کے نام کا اطلاق ہو، مولانا۔ بھئی دیکھو مولانا، میں نے کیا کہا: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“، موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ میں نے موت کے لیے کیا ثابت کر دیے؟ پنجے، تو کیا موت کے لیے کوئی ایسی چیز ہے حساً یا عقلاً جس پر پنجوں کا اطلاق ہو سکے؟ جی، ایسی چیز کوئی نہیں، نہ حساً ہے نہ عقلاً ہے جس پر کس کا اطلاق ہو سکے؟ پنجوں کا اطلاق ہو، یہی بات کر رہے ہیں کہ اس کے لیے کوئی ایسا امر متحقق نہ ہو نہ حساً نہ عقلاً جس پر اس امر کے نام کا اطلاق ہو سکے جو کس کے لیے تھا مولانا؟ مشبہ بہٖ کے لیے جو چیز لازم تھی، اس جیسی کوئی چیز مشبہ کے لیے نہ ہو جس پر اس کے اس لازم کے نام کا اطلاق ہو سکے۔ ”فَيُسَمَّى التَّشْبِيهُ الْمُضْمَرُ فِي النَّفْسِ اسْتِعَارَةً بِالْكِنَايَةِ“ تو وہ تشبیہ جو چھپی ہوئی ہے نفس کے اندر اس کو استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں، ”أَوْ مَكْنِيًّا عَنْهَا“ یا کیا کہتے ہیں؟ مکنی عنہا کہتے ہیں۔ بھئی اس کو استعارہ کیوں کہتے ہیں اور بالکنایہ یہ کنایہ کی قید کیوں ہے اس کے نام میں؟ بتلا رہے ہیں: ”أَمَّا الْكِنَايَةُ“ کنایہ اس لیے کہتے ہیں ”فَلِأَنَّهُ لَمْ يُصَرَّحْ بِهِ“ اس لیے کہ تشبیہ کی تصریح نہیں کی گئی، تشبیہ کی تصریح عبارت میں نہیں ہے مولانا، ”بَلْ إِنَّمَا دُلَّ عَلَيْهِ بِذِكْرِ خَوَاصِّهِ“ بلکہ دلالت کی گئی ہے صرف تشبیہ کے اوپر مشبہ بہٖ کے خواص کو ذکر کر کے، مشبہ بہٖ کا خاصہ ذکر کر کے ہم نے صرف کیا کی اس پر؟ تشبیہ ہے عبارت میں: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“؟ نہیں، صرف اس تشبیہ پر دلالت کی گئی ہے کس کے ساتھ؟ مشبہ بہٖ کے لازم کے ساتھ، مشبہ بہٖ کے... مشبہ بہٖ کا لازم یہ پنجے بتلا رہا ہے کہ یہاں کیا موجود ہے؟ تشبیہ موجود ہے۔ تو دیکھو غیر مصرح ہوئی، تو کنایۃً آئی تشبیہ، کیا آئی؟ کنایۃً آئی مولانا۔ تو اس پر دلالت کی جاتی ہے ”بِذِكْرِ خَوَاصِّهِ أَيْ خَوَاصِّ الْمُشَبَّهِ بِهِ وَلَوَازِمِهِ“، مشبہ بہٖ کے خاصے اور لوازمات کے ساتھ اس تشبیہ پر دلالت کی جاتی ہے۔ ”وَأَمَّا الِاسْتِعَارَةُ“ اور باقی اس کا نام استعارہ کیوں ہے، بھئی؟ بالکنایہ، یہ کنایہ کی وجہ تو بتا دی، کہتے ہیں: ”فَمُجَرَّدُ تَسْمِيَةٍ“ یرحمک اللہ، ”فَمُجَرَّدُ تَسْمِيَةٍ خَالِيَةٍ عَنِ الْمُنَاسَبَةِ“، یہ صرف نام ہی ہے، استعارہ اس کا صرف نام ہی ہے، ”خَالِيَةٍ عَنِ الْمُنَاسَبَةِ“ اس کی کوئی مناسبت اس کے ساتھ نہیں، بس نام اس کا استعارہ پڑ گیا ورنہ دراصل یہ تو استعارہ ہے ہی نہیں۔ استعارہ تو کس کو کہتے تھے؟ لفظ کس کے اندر استعمال ہو؟ غیر موضوع لہٗ میں، اور یہاں کوئی غیر موضوع لہٗ میں استعمال ہے؟ نہیں، تو بس ویسے ہی نام استعارہ ہے، مناسبت کوئی نہیں اس سے۔ ”وَيُسَمَّى...“ اچھا، یہ تو تھا استعارہ بالکنایہ، ”وَيُسَمَّى إِثْبَاتُ ذَلِكَ الْأَمْرِ الْمُخْتَصِّ بِالْمُشَبَّهِ بِهِ لِلْمُشَبَّهِ اسْتِعَارَةً تَخْيِيلِيَّةً“ اور وہ جو آپ نے ثابت کیا امرِ مختص بالمشبہ بہٖ، وہ چیز جو خاص تھی کس کے ساتھ؟ مشبہ بہٖ کے ساتھ، اس کو آپ نے کس کے لیے ثابت کیا؟ مشبہ کے لیے ثابت کیا، اس بات کو کہتے ہیں استعارۃً تخییلیۃً، بھئی کیا کہتے ہیں؟ استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں مولانا۔ ”لِأَنَّهُ قَدِ اسْتُعِيرَ لِلْمُشَبَّهِ“ اس لیے کہ مستعار لیا گیا مشبہ کے لیے ”ذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي يَخْتَصُّ بِالْمُشَبَّهِ بِهِ“ وہ چیز جو خاص تھی کس کے ساتھ؟ مشبہ بہٖ، تو دیکھو پنجے خاص تھے درندے کے ساتھ لیکن ہم نے مستعار لے لیے کس کے لیے؟ موت کے لیے۔ ”وَبِهِ يَكُونُ كَمَالُ الْمُشَبَّهِ بِهِ أَوْ قِوَامُهُ فِي وَجْهِ الشَّبَهِ“ اور اسی کے سبب سے مشبہ بہٖ کا کمال ہوگا یا قوام ہوگا اس کا وجہِ تشبیہ کے اندر، بھئی۔ دیکھو، دو چیزیں ہیں مولانا یہاں۔ میں نے کہا، موت کو میں نے تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ۔ اور وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ وجہِ تشبیہ کیا؟ جیسے درندہ انسان کو، کسی چیز کو ختم کر دیتا ہے، ہلاک کر دیتا ہے، اسی طرح موت بھی کیا کر دیتی ہے؟ ہلاک کر دیتی ہے، بھئی۔ تو وجہِ تشبیہ ہے اہلاک، مولانا۔ اچھا، تو یہ جو مشبہ بہٖ کا لازم، کیا تھا جس کو میں نے ثابت کیا مشبہ کے لیے؟ پنجے۔ اب یہ جو پنجے ہیں، درندے کے اگر پنجے ہوں گے تو وہ کامل طور پر ہلاک کر سکے گا، اگر پنجے نہیں تو وہ کامل طور پر ہلاک نہیں کر سکے گا، اہلاک اس میں کامل نہ رہا۔ بھئی ہلاک تو پھر بھی کر سکتا ہے، اس کے دانت بڑے ہیں مولانا کسی چیز کو، لیکن کامل طور پر اہلاک کب پایا جائے گا؟ جب پنجے بھی ہوں، تو دیکھو کمال... وجہِ تشبیہ کامل ہوئی مولانا، کس کے اندر؟ مشبہ بہٖ میں، وہ وجہِ تشبیہ، وجہِ تشبیہ کیا تھا؟ اہلاک، اور اہلاک مشبہ بہٖ میں کیسے کامل ہوگا؟ پنجوں کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ پنجوں کے ساتھ۔ اور کبھی کبھار مولانا، تو یہ وجہِ تشبیہ میں مشبہ بہٖ کامل ہوتا ہے کبھی اس لازم کی وجہ سے، اس لازم کی وجہ سے مشبہ بہٖ کامل ہو رہا ہے۔ کون ہے مشبہ بہٖ کا لازم؟ پنجے، پنجوں کی وجہ سے کون کامل ہو رہا ہے؟ یعنی وہ درندہ، کس چیز کے اندر کامل ہو رہا ہے؟ ہلاکت میں۔ تو کبھی کبھار اس لازم کی وجہ سے کامل ہوگا، اور کبھی کبھار اس لازم کی وجہ سے وجہِ تشبیہ پائی جائے گی، اگر وہ لازم ہے تو وجہِ تشبیہ ہے، اگر وہ لازم نہیں تو وجہِ تشبیہ بھی نہیں ہوگی، یہ دو قسمیں ہیں، آگے ان کا ذکر ائے گا مولانا، چلیے جی۔ اچھا، تو مولانا بات چل رہی تھی استعارہ بالکنایہ کی، استعارہ بالکنایہ کس کو کہتے ہیں؟ کہ نفس میں تشبیہ دی جائے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ، اور مشبہ کو ذکر کیا جائے اور مشبہ بہٖ کو ذکر نہ کیا جائے، اور اس تشبیہ پر دلالت کی جائے کس چیز کے ساتھ؟ کہ ثابت کیا جائے مشبہ کے لیے مشبہ بہٖ کے کسی لازم کو، کسی لازم کو۔ پھر اس کے بعد بتلایا کہ استعارہ تخییلیہ جو ہے، استعارہ بالکنایہ کی وجہِ تسمیہ بتلائی بھئی، استعارہ کیوں کہتے ہیں اور بالکنایہ کیوں کہتے ہیں؟ تو بتلایا استعارہ اس کو اس کا ویسے ہی نام ہے حالانکہ یہ استعارہ نہیں، اور بالکنایہ اس لیے کہ اس میں تشبیہ کی صراحت نہیں ہے بلکہ کنایۃً کیا موجود ہے؟ تشبیہ موجود ہے۔ اور اس کے بعد وجہِ تسمیہ ذکر کی استعارہ تخییلیہ کی کہ ہاں، اس کے اندر استعارہ موجود ہے اس لیے کہ وہ چیز جو لازم تھی مشبہ بہٖ کے لیے اس کو ہم نے مستعار لے لیا کس کے لیے؟ مشبہ... پنجے لازم تھے مولانا درندے کے لیے، ہم نے مستعار لے لیے کس کے لیے؟ موت کے لیے بھئی، تو اس میں استعارہ موجود ہے۔ تو وہ امر... ”وَبِهِ يَكُونُ كَمَالُ الْمُشَبَّهِ بِهِ أَوْ قِوَامُهُ فِي وَجْهِ الشَّبَهِ“، مولانا۔ یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دو قسم پر ہے مولانا، کتنی قسم پر ہے وہ امرِ مختص جو... وہ چیز جو آپ نے، وہ لازم مشبہ بہٖ کا جس کو آپ نے کس کے لیے ثابت کیا؟ مشبہ کے لیے ثابت کیا۔ جیسے گزشتہ مثال میں کیا تھا؟ کیا چیز لازم تھی مشبہ بہٖ کی؟ پنجے، جس کو کس کے لیے ثابت کیا؟ مشبہ کے لیے۔ تو اب دیکھو وجہِ تشبیہ جو ہے، یا تو وہ جو لازم جو آپ نے ذکر کیا اس لازم کی وجہ سے وجہِ تشبیہ میں کمال اتا ہے، مشبہ بہٖ میں بھی کیا اتا ہے؟ کمال اتا ہے۔ اور وجہِ تشبیہ کیا تھی یہاں پر؟ ہلاک کرنا، کیا کرنا؟ ہلاک کرنا۔ تو پنجے ہوں گے تو یہ ہلاک کرنا کامل طور پر ہوگا، ورنہ کامل طور پر نہیں ہوگا۔ تو کبھی کبھار وہ لازم جو ہے وہ امرِ مختص جس کو آپ نے ثابت کیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، اس کی وجہ سے مشبہ بہٖ میں وجہِ تشبیہ کیا ہوتی ہے؟ کامل ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھار اس کی وجہ سے وجہِ تشبیہ پائی جاتی ہے، اگر وہ نہیں تو وجہِ تشبیہ بھی نہیں ہوگی، بھئی۔ سمجھ میں ایا؟ تو کبھی اس کی وجہ سے کمال ائے گا اس کے اندر مولانا، اور کبھی اس کی وجہ سے قوام ہوگا وجہِ تشبیہ کا، قوام کہتے ہیں اجزائے ترکیبی کو، کس کو؟ اجزائے ترکیبی کو۔ آگے مثال ائے گی وہاں اپ کو بات پوری طرح سمجھ میں ائے گی، دیکھیے جی۔ تو پہلا جس کے اندر مولانا مشبہ بہٖ میں کمال اتا ہے مولانا کس کے سبب سے؟ اس لازم کی وجہ سے، اس کی مثال ہے: ”كَمَا فِي قَوْلِ الْهُذَلِيِّ“ جیسے کہ ہذلی شاعر کا قول ہے مولانا، یہ ابو ذویب ہیں، ان کا نام ابو ذویب مولانا۔ اور یہ مخضرمین میں سے ہیں مولانا، دورِ جاہلیت بھی انہوں نے پایا اور اسلام کو بھی پایا اور مسلمان ہوئے مولانا، لیکن صحابیت کے شرف سے محروم ہیں مولانا۔ کبھی کبھار مولانا چند لمحوں کی تاخیر کتنا نقصان پہنچا دیتی ہے انسان کو۔ یہ کہتے ہیں کہ میں جس وقت مجھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی خبر پہنچی، تو میں نے وہ رات بڑی مشکل سے طویل ترین رات میں نے اپنی زندگی کی کاٹی پریشانی کی وجہ سے، اور صبح ہی صبح میں روانہ ہوا مدینہ منورہ کی طرف، اس اس وقت زمانے میں تو سفر بھی کئی کئی دن ہوتا تھا، کہتے ہیں میں مدینہ منورہ کے اندر داخل ہوا تو مدینہ منورہ میں مولانا چیخ و پکار مچی ہوئی تھی، ہر طرف اہ و بکا کی، شور و غوغا تھا، میں نے پتہ کیا کہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، بھئی۔ تو دیکھو چند لمحات کی تاخیر سے کیا ہوئے؟ شرفِ صحابیت سے محروم رہ گئے، بھئی۔ جی، یہ شعر ہے مولانا اگے اس کا، یہ قبیلہ ہذیل کے تھے بھئی، اسی لیے ہذلی کہا، اور یہ شعر ہے مولانا، دیکھیے:
”وَإِذَا الْمَنِيَّةُ أَنْشَبَتْ“ اور جس وقت موت گاڑ دے، انشبت، أی علقت مولانا گاڑنا، جس وقت موت گاڑ دے ”أَظْفَارَهَا“ اپنے ناخنوں کو، ”أَلْفَيْتَ كُلَّ تَمِيمَةٍ لَا تَنْفَعُ“ تو پائے گا ہر تعویذ جو ہے ”لَا تَنْفَعُ“ وہ غیر نافع ہے۔ جب موت اپنے پنجے گاڑ دے تو پھر کوئی تعویذ وغیرہ نفع نہیں دیتا مولانا، پھر کوئی بچنے کی صورت نہیں ہے، موت انسان کو ہلاک ہی کر دیتی ہے بالاخر۔ یہ شعر اس وقت کہتے ہیں اس موقع پر انہوں نے کہے جب ان کے ایک ہی سال کے اندر مولانا پانچ بیٹے وفات پا گئے، بھئی۔ پانچ بیٹے، اندازہ لگائیں کتنے غم کی حالت ہوگی، تو اس پر یہ شعر وہ کہتے ہیں کہ جب موت اپنے پنجے گاڑ دے تو تمام تعویذات کیا ہیں اپنے اثر ان کا ختم ہو جاتا ہے۔ تو ”أَلْفَيْتَ كُلَّ تَمِيمَةٍ“ تو پائے گا ہر ایک تعویذ کو ”لَا تَنْفَعُ“ کہ وہ نفع نہیں دیتا، ”التَّمِيمَةُ الْخَرَزَةُ الَّتِي تُجْعَلُ مَعَاذَةً“، تمیمہ، خرزہ کہتے ہیں مولانا بتحریک الراء مولانا، یا بسکون الراء بھی، تو بتحریک الراء زیادہ مستعمل، تو خرزہ کہتے ہیں دھاگے میں پروئی ہوئی چیز کو، خرزہ کس کو کہتے ہیں؟ ”الْخَرَزَةُ“ وہ دھاگے میں پروئی ہوئی چیز ہے ”الَّتِي تُجْعَلُ مَعَاذَةً“ جس کو تعویذ بنایا جاتا ہے۔ تمیمہ کا معنیٰ بتایا، تعویذ کو کہتے ہیں مولانا۔ ”أَيْ إِذَا عَلِقَتِ الْمَوْتُ مِخْلَبَهُ“ جب گاڑ دے موت اپنے پنجے ”فِي شَيْءٍ“ کسی چیز کے اندر ”لِيَذْهَبَ بِهِ“ تاکہ اس کو لے جائے یعنی ہلاک کر دے، ”بَطَلَتْ عِنْدَهُ الْحِيَلُ“ تو اس وقت تمام حیلے، تمام ترکیبیں ختم ہو جاتی ہیں، باطل ہو جاتی ہیں، کوئی ترکیب بچانے کوئی ترکیب کام نہیں اتی۔ ”شَبَّهَ الْهُذَلِيُّ فِي نَفْسِهِ“ تشبیہ دی ہے ہذلی شاعر نے اپنے نفس کے اندر ”الْمَنِيَّةَ“ کس کو؟ موت کو، ”بِالسَّبُعِ“ درندے کے ساتھ، کس چیز میں؟ ”فِي اغْتِيَالِ النُّفُوسِ بِالْقَهْرِ وَالْغَلَبَةِ“، اغتیال کا معنیٰ اہلاک مولانا، بے خبری میں مارنا کسی چیز کو، ”فِي اغْتِيَالِ النُّفُوسِ“ نفسوں کو ہلاک کرنا ”بِالْقَهْرِ“ قہر، زبردستی، زبردستی اور غلبے کے ساتھ مولانا، ”مِنْ غَيْرِ تَفْرِقَةٍ بَيْنَ نَفَّاعٍ وَضَرَّارٍ“ جس میں کوئی فرق نہیں کرتے کثیر النفع اور کثیر الضرر، نفاع مبالغے کا صیغہ، ضرار۔ موت کسی میں کوئی فرق نہیں کرتی، کوئی شخص بے انتہا نفع دینے والا ہو اس کو بھی نہیں چھوڑتی، کوئی بے انتہا ضرر دینے والا ہو اس کو بھی، کسی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو ہلاکت... ”وَلَا رِقَّةَ لِمَرْحُومٍ“، رقت کہتے ہیں مولانا ترس کھانا، مرحوم جس پر ترس کھایا جائے۔ کوئی ایسا شخص ہو جس پہ ترس کھاتا ہو ہر شخص، موت اس پر ترس نہیں کھاتی، جب وقت اتا ہے لے جاتی ہے۔ ”وَلَا رِقَّةَ لِمَرْحُومٍ“ اور کوئی نرمی نہیں، رقتِ قلب یعنی ترس نہیں ہوتا مرحوم جس پر رحم کیا جائے، ”وَلَا بُقْيَا عَلَى ذِي فَضِيلَةٍ“، بقیا اسم ہے مولانا ابقیٰ سے، ابقیتُ، ابقیتُ کا صلہ علیٰ ا جائے، ابقیتُ علیٰ فلانٍ، تو معنیٰ ہوتا ہے ترس کھانا، رحم کرنا، بھئی۔ ”وَلَا بُقْيَا“ اور تو یہ اسم ہے، ”وَلَا بُقْيَا عَلَى ذِي فَضِيلَةٍ“ اور کوئی رحم نہیں کیا جاتا کسی فضیلت والے پر۔ یعنی کسی کمزور کو بھی نہیں چھوڑتی اور کسی فضیلت والے کو بھی نہیں چھوڑتی۔ جی، ”فَأَثْبَتَ لَهَا“ پس ثابت کیا ہذلی نے للمنیۃ، موت کے لیے، کیا ثابت کیے؟ ”الْأَظْفَارَ“ ناخن ثابت کیے، ”الَّتِي“ وہ ناخن ”لَا يَكْمُلُ ذَلِكَ الِاغْتِيَالُ فِيهِ أَيْ فِي السَّبُعِ“ کہ کامل نہیں ہوتا وہ اغتیال یعنی ہلاک کرنا کس کے اندر؟ درندے میں، ”بِدُونِهَا“ بغیر ناخنوں کے۔ درندہ ناخنوں کے بغیر کامل طور پر ہلاک کرنے والا نہیں، بھئی ہلاک تو پھر بھی کر دے گا لیکن ہلاک کرنے میں کامل نہیں ہے۔ تو دیکھو، یہ دوسری قسم ائے گی کہ وہاں پر اس لازم کے بغیر وجہِ تشبیہ ہی نہیں ہوگی۔ یہاں لازم جو ثابت کیا موت کے لیے، کیا لازم ثابت کیا؟ پنجے، ان پنجوں کے بغیر بھی وجہِ تشبیہ ہے، وجہِ تشبیہ کیا تھی؟ اہلاک، کیا تھی؟ ہلاک کرنا۔ تو یہ پنجے نہ ہوں تو بھی کیا ہے؟ موت بھی ہلاک کرنے والی، درندہ پھر بھی کیا ہے؟ درندہ ہلاک کرنے والا ہے، تو پنجے نہ ہوں درندہ پھر بھی ہلاک کرنے والا ہے کیونکہ اس کے دانت وغیرہ ہیں، لیکن کامل طور پر ہلاک کرنے والا وہ کب ہوگا؟ جب پنجے بھی ہوں۔ تو دیکھو کمال کمال ایا مشبہ بہٖ میں کس چیز کے اندر؟ وجہِ تشبیہ میں، اس امرِ مختص کی وجہ سے۔ ”تَحْقِيقًا لِلْمُبَالَغَةِ فِي التَّشْبِيهِ“ قوت پیدا کرتے ہوئے مبالغے کے اندر تشبیہ کے اندر۔ سمجھ میں ایا، بھئی؟ مبالغے کی تحقیق کرتے ہوئے، بھئی۔ یا یوں کہو، اس تشبیہ کو ثابت کرتے ہوئے، تحقیقاً کا کیا معنیٰ؟ ثابت کرتے ہوئے مبالغے کو تشبیہ کے۔ ”فَتَشْبِيهُ الْمَنِيَّةِ بِالسَّبُعِ“ پس تشبیہ درندے کی، موت کی درندے کے ساتھ، ”اسْتِعَارَةٌ بِالْكِنَايَةِ“ یہ استعارہ بالکنایہ ہے، ”وَإِثْبَاتُ الْأَظْفَارِ لَهَا اسْتِعَارَةٌ تَخْيِيلِيَّةٌ“ اور اس کے لیے ناخنوں کا ثابت کرنا یہ استعارہ تخییلیہ ہے۔ ”وَكَمَا فِي قَوْلِ الْآخَرِ“ جیسے کہ ایک اور شاعر کے قول میں ہے:
”وَلَئِنْ نَطَقْتُ بِشُكْرِ بِرِّكَ مُفْصِحًا فَلِسَانُ حَالِي بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ“
”وَلَئِنْ نَطَقْتُ“ اور اگر میں کلام کروں، اگر میں بولوں، بھئی، ”مُفْصِحًا“، افصح یفصح کے کیا معنیٰ ہوتے ہیں؟ ظاہر کرنا، اس حال میں کہ میں ظاہر کرنے والا ہوں ”بِشُكْرِ بِرِّكَ“ کس چیز کو؟ اپ کی نیکی کے شکر کو۔ اپ کی نیکی کے شکر کو میں ظاہر کروں، اپ نے میرے ساتھ بڑے احسانات کیے، تو اگر میں گفتگو کروں، باتیں کروں اور بیان کروں ان کو، ”فَلِسَانُ حَالِي بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ“ تو میرے حال کی جو زبان ہے وہ شکایت کو زیادہ بیان کرنے والی ہوگی، وہ زیادہ اس کو... سمجھ میں ایا؟ تو یہ جیسے ایک شخص مثلاً شاعر گیا بادشاہ کے پاس بھئی، بادشاہ نے اس سے کہا: ہم نے تجھے اتنے عطایا دیے بھئی، اپ نے ابھی تک ہمارا ہماری تعریف نہیں کی بھئی، ہمارا شکریہ ادا نہیں کیا، اپ ہماری تعریف نہیں کرتے۔ تو شاعر کہنے لگا: اگر میں زبان سے اپ کا شکریہ ادا کرتا بھی رہوں تو بھی میری حالت اپ کے خلاف شکایت کرتی رہے گی، اپ کے عطایا زیادہ... ورنہ یہ میرے پھٹے پرانے کپڑے نہ ہوتے، یہ میرے پھٹے پرانے کپڑے، یہ میری حالت کیا ہے؟ اپ کے خلاف کیا کر رہی ہے؟ شکایت کر رہی ہے۔ تو اگر میں زبان سے اپ کا شکریہ بھی ادا کرتا رہوں تو میری حالت کیا کر رہی ہے وہ؟ شکایت کر رہی ہے۔ ”فَلِسَانُ حَالِي“ تو میری حالت کی زبان جو ہے ”بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ“ وہ شکایت کے ساتھ زیادہ تکلم کرنے والی ہے۔ ”شَبَّهَ الْحَالَ بِإِنْسَانٍ مُتَكَلِّمٍ“ بھئی تشبیہ دی حال کو شاعر نے کس کے ساتھ؟ بھئی کیا کہا شاعر نے؟ ”لِسَانُ حَالِي“، میری حالت کی زبان، بھئی حالت کی کوئی زبان ہوتی ہے؟ نہیں، معلوم ہوا اپنی حالت کو وہ تشبیہ دے رہا ہے انسانِ متکلم کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ انسانِ متکلم کے ساتھ، اور انسانِ متکلم کے لیے کیا لازم ہے؟ زبان لازم ہے، تو اس کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ حال کے لیے، کس کے لیے؟ حال کے لیے، تو مشبہ بہٖ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کیا۔ ”شَبَّهَ الْحَالَ بِإِنْسَانٍ مُتَكَلِّمٍ“ تشبیہ دی حال کو کس کو کس کے ساتھ؟ انسانِ متکلم کے ساتھ۔ بھئی کس چیز کے اندر؟ کہتے ہیں: ”فِي الدَّلَالَةِ عَلَى الْمَقْصُودِ“، دلالت علی المقصود۔ جیسے مولانا حال کیا کرتا ہے مولانا؟ دلالت علی المقصود کر دیتا ہے، اسی طرح انسانِ متکلم کیا کرتا ہے؟ مقصود پر کیا کرتا ہے؟ بھئی انسان جب بات کرتا ہے تو اپنے مقصود پر کیا کرتا ہے؟ دلالت کرتا ہے، اسی طرح حال بھی کیا کرتا ہے؟ مقصود پر دلالت کرتا ہے، تو یہ وجہِ تشبیہ ہے۔ ”وَهُوَ اسْتِعَارَةٌ بِالْكِنَايَةِ“ اور یہ کون سا استعارہ ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ تو دیکھو ”فَلِسَانُ حَالِي“، حال کو تشبیہ دی انسان کے ساتھ، اور انسان کا ذکر ہے؟ انسانِ متکلم کا ذکر؟ صرف مشبہ ذکر، یہ استعارہ بالکنایہ۔ ”فَأَثْبَتَ لَهَا“ پس ثابت کر دیا اس للحال، حال کے لیے، حال مؤنث سماعی ہے، کیا ثابت کیا؟ ”اللِّسَانَ“، حال کے لیے کیا ثابت کی مولانا شاعر نے؟ زبان ثابت کی، بھئی۔ اب بتائیے مولانا، مشبہ کون؟ حال۔ مشبہ کون؟ حال۔ مشبہ بہٖ؟ انسانِ متکلم، صرف انسان نہیں، انسانِ متکلم۔ وجہِ تشبیہ کیا؟ دلالت علی المقصود۔ وجہِ تشبیہ کیا؟ دلالت علی المقصود۔ اب یاد رکھو، انسان ایک چیز پر دلالت دو طریقوں سے کر سکتا ہے: یا تو وہ دلالت کرے گا بات کے ذریعے، تکلم کرے گا تو کسی چیز پہ دلالت کرے گا، یا اشارے سے کرے گا۔ کیا کرے گا؟ اپ نے مجھ سے پوچھا: زید کدھر ہے؟ میں نے اشارہ کر دیا، صرف۔ دلالت ہوئی یا نہیں ہوئی مولانا؟ دلالت، یا اپ نے پوچھا: زید کدھر ہے؟ میں نے کہا: وہ دروازے کے پاس، دلالت ہوئی یا نہیں مولانا؟ تو انسان دلالت دو طریقے سے کر سکتا ہے، یا زبان سے کرے گا یا کس سے؟ اشارے سے کرے گا۔ لیکن شاعر نے کہا: انسانِ متکلم، معلوم ہوا مطلق انسان نہیں، صرف کون سا انسان مراد ہے؟ جو بولنے والا ہے، اشارہ کرنا انسان بھی نہیں مراد، صرف کون سا انسان؟ تو معلوم ہوا جب صرف بولنے والا انسان، تو اس کی دلالت صرف کس کے ساتھ ہوگی؟ صرف بولنے کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے، اشارہ کرنے کے ساتھ نہیں، کیونکہ ہم نے کہا متکلم ہو، مشیر نہ ہو، اشارہ کرنے والا نہ ہو۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ تو اب وجہِ تشبیہ کیا تھی مولانا؟ دلالت علی المقصود۔ وجہِ تشبیہ کیا تھی؟ دلالت علی المقصود۔ اچھا، اس مشبہ بہٖ کے کس لازم کو اپ نے ثابت کیا تھا مشبہ کے لیے؟ مشبہ بہٖ کا کیا لازم تھا جس کو اپ نے مشبہ کے لیے ثابت کیا؟ زبان کو، کس کو؟ زبان کو۔ اب یہ زبان جو ہے مولانا، یہ ہے تو اس کی وجہ سے وجہِ تشبیہ ہے۔ انسانِ متکلم میں کیا ہے؟ زبان ہے، تو کیا پائی جائے گی؟ دلالت علی المقصود۔ اور اگر زبان ہی نہیں ہے تو پھر دلالت علی المقصود ہو سکتی ہے؟ اشارہ کا تو ہم نے کہا اشارے کی بات ہی نہیں، یہاں صرف انسانِ متکلم کی بات ہو رہی ہے، انسانِ مشیر کی بات یا مطلق انسان کی بات نہیں، تو اس کی دلالت علی المقصود صرف زبان کے ساتھ ہوگی، تکلم کے ساتھ ہوگی۔ تو یہاں پر وہ لازم جس کو ثابت کیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، یہ لازم کی وجہ سے ہی وجہِ تشبیہ ہے کس میں؟ مشبہ بہٖ میں۔ یہ لازم ہے تو مشبہ بہٖ میں وجہِ تشبیہ ہے، یہ لازم نہیں تو مشبہ بہٖ میں وجہِ تشبیہ نہیں۔ تو دیکھو یہاں پر قوامِ وجہِ تشبیہ نہیں پایا جائے گا مولانا، وجہِ تشبیہ کا قوام ہی، اس کے اجزائے ترکیبی ہی ختم ہو گئے۔ وجہِ تشبیہ کیا تھی؟ دلالت علی المقصود، زبان ہے تو دلالت علی المقصود ہے، زبان نہیں تو دلالت علی المقصود بھی نہیں۔ تو فرق ہوا دونوں میں، دیکھو پچھلے میں تھا پنجے، پنجے نہ بھی ہوں مولانا، پھر بھی کیا ہے اس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ اہلاک موجود تھا، لیکن یہاں پر مولانا لسان نہ ہو تو دلالت علی المقصود ہے ہی نہیں، تو دونوں میں فرق ہوا، سمجھ میں ایا بھئی؟ ”فَأَثْبَتَ لَهَا أَيْ لِلْحَالِ اللِّسَانَ“ پس ثابت کر دیا حال کے لیے لسان کو، ”الَّذِي بِهِ قِوَامُهَا أَيْ قِوَامُ الدَّلَالَةِ“ جس کے سبب سے کیا ہے مولانا؟ دلالت کا قوام ہے، اس کے اجزائے ترکیبی ہیں، ”فِيهِ“ کس کے اندر؟ مشبہ بہٖ، ”أَيْ فِي الْإِنْسَانِ“ یعنی انسانِ متکلم کے اندر، بھئی۔ ”وَهَذَا الْإِثْبَاتُ اسْتِعَارَةٌ تَخْيِيلِيَّةٌ“ اور یہ اثبات کیا کہلاتا ہے؟ کہ مشبہ بہٖ کے لیے مشبہ کے لازم کو ثابت کیا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ ”فَعَلَى هَذَا كُلٌّ مِنْ لَفْظَيِ الْأَظْفَارِ وَالْمَنِيَّةِ حَقِيقَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ فِي مَعْنَاهَا“، بھئی دیکھو، میں نے کیا کہا: موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے، موت سے کیا مراد ہے؟ موت سے موت ہی مراد ہے، پنجوں سے کیا مراد ہے؟ پنجے ہی مراد ہیں، تو مجاز ہے؟ بلکہ کیا ہے؟ حقیقت، اپنے حقیقی معنیٰ میں۔ ”فَعَلَى هَذَا“ بناء پر اس کے ”كُلٌّ مِنْ لَفْظَيِ الْأَظْفَارِ وَالْمَنِيَّةِ“ اظفار اور منیّہ دونوں میں سے ہر ایک لفظ، ”حَقِيقَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ فِي مَعْنَاهَا الْمَوْضُوعِ لَهُ“ دونوں میں سے ہر ایک حقیقت ہے جو استعمال ہو رہی ہے اپنے معنیٰ موضوع لہٗ میں، ”وَلَيْسَ فِي الْكَلَامِ مَجَازٌ لُغَوِيٌّ“ اور کلام کے اندر مجازِ لغوی ہے ہی نہیں، ”وَالِاسْتِعَارَةُ بِالْكِنَايَةِ وَالِاسْتِعَارَةُ التَّخْيِيلِيَّةُ فِعْلَانِ مِنْ أَفْعَالِ الْمُتَكَلِّمِ“ اور استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ متکلم کے افعال میں سے دو فعل ہیں مولانا، متکلم کے افعال میں سے دو فعل ہیں۔ یہ ماتن، یہ جو صاحبِ تلخیص کے مذہب کے مطابق بات کر رہے ہیں، صاحبِ تلخیص نے کیا کہا؟ استعارہ بالکنایہ کس کو کہتے ہیں؟ نفس کے اندر تشبیہ دینا، تو یہ کس کا کام ہے تشبیہ دینا؟ متکلم کا۔ اور مشبہ کے لیے مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کرنا، یہ بھی کس کا کام ہے؟ متکلم کا۔ تو یہ دونوں مولانا، تو استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ فعلان، یہ دو فعل ہیں من افعال المتکلم، متکلم کے افعال میں سے، ”مُتَلَازِمَانِ“ اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ جہاں استعارہ بالکنایہ، وہاں استعارہ تخییلیہ، جہاں استعارہ تخییلیہ، وہاں استعارہ بالکنایہ۔ ”إِذِ التَّخْيِيلِيَّةُ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ قَرِينَةً لِلْمَكْنِيَّةِ الْبَتَّةَ“ اس لیے کہ تخییلیہ کے لیے واجب ہے کہ وہ قرینہ ہو کس کے لیے؟ استعارہ مکنیہ کے لیے، یا استعارہ بالکنایہ کے لیے، بھئی استعارہ بالکنایہ کے لیے قرینہ ہمیشہ کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ اپ کو کیسے پتہ چلا بھئی، موت کو میں نے تشبیہ دی ہے درندے سے؟ پنجوں نے بتایا نا، اور یہ پنجوں کا ذکر کیا ہے؟ یہ استعارہ تخییلیہ ہے، یہ کیا ہے؟ تو مولانا استعارہ تخییلیہ کے لیے واجب ہے کہ وہ قرینہ ہو کس کے لیے؟ استعارہ بالکنایہ کے لیے، اور استعارہ بالکنایہ کے ساتھ لازم ہے کہ اس کا قرینہ کیا ہو؟ تخییلیہ ہو، تو دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ ”إِذِ التَّخْيِيلِيَّةُ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ قَرِينَةً لِلْمَكْنِيَّةِ الْبَتَّةَ“ اس لیے کہ تخییلیہ کے لیے واجب ہے کہ وہ قرینہ ہو مکنیہ کے لیے قطعی طور پر، ”وَالْمَكْنِيَّةُ يَجِبُ أَنْ تَكُونَ قَرِينَتُهَا تَخْيِيلِيَّةً الْبَتَّةَ“ اور جو مکنیہ ہے، واجب ہے کہ اس کا قرینہ تخییلیہ ہی ہو قطعی طور پر۔ بات سمجھ میں ائی، بھئی؟ معلوم ہوا استعارہ مصنف کی بات، مصنف نے کیا کہا؟ شارح نے: استعارہ بالکنایہ جہاں ہوگا وہاں کیا ہوگا؟ استعارہ تخییلیہ، اور جہاں استعارہ تخییلیہ ہوگا وہاں استعارہ بالکنایہ، اور استعارہ تخییلیہ کس کو کہتے ہیں؟ مشبہ بہٖ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کرنا؟ مشبہ کے لیے ثابت کرنا۔ معلوم ہوا اپ کی بات سے ایک بات کا پتہ چلا، کیا؟ کہ جہاں بھی استعارہ تخییلیہ ائے گا، وہاں کیا ا جائے گا؟ استعارہ بالکنایہ بھی ا جائے گا، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ کہتے ہیں: اچھا، ہم اپ کو دکھاتے ہیں، استعارہ تخییلیہ تو ا رہا ہے اور استعارہ بالکنایہ نہیں ایا، دیکھیے بھئی:
”فَمِثْلُ قَوْلِنَا“ پس ہمارا اس قسم کا قول: ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ أَهْلَكَتْ فُلَانًا“، موت کے پنجوں نے، وہ موت ”الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“ جو مشابہ ہے کس کے؟ درندے کے ساتھ، تو وہ موت جو مشابہ ہے درندے کے ساتھ اس کے پنجوں نے ”أَهْلَكَتْ فُلَانًا“ فلاں کو کیا کر دیا؟ ہلاک کر دیا۔ تو دیکھو مولانا، یہاں پر موت کے لیے کیا ثابت کیے؟ پنجے ثابت کیے، تو مشبہ بہٖ کا لازم ذکر ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ تخییلیہ تو ہے، لیکن استعارہ بالکنایہ نہیں۔ کیوں؟ استعارہ بالکنایہ کس کو کہتے تھے؟ کہ نفس کے اندر تشبیہ دی جائے اور مشبہ ذکر ہو اور مشبہ بہٖ ذکر نہ ہو۔ تو یہاں پر تو مشبہ بھی ذکر ہے اور مشبہ بہٖ بھی ذکر ہے، المنیۃ بھی ذکر ہے اور الشبیہۃ بالسبع، سبع کا تذکرہ بھی موجود ہے، معلوم ہوا یہ استعارہ بالکنایہ نہیں۔ تو دیکھو استعارہ بالکنایہ نہیں، اور استعارہ تخییلیہ موجود ہے۔ عبارت سمجھ میں ا رہی ہے، بھئی؟ کہتے ہیں بھئی، ہم نے یہ نہیں کہا کہ لازم نہیں ائے گا، ہم نے لازم کی بات نہیں، ہم نے استعارہ تخییلیہ کی بات کی، یا یوں کہیں مولانا صرف نام کا فرق ہے۔ اگر اپ نے دیکھو، مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کیا کس کے اندر؟ استعارہ بالکنایہ میں، مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، کس میں؟ استعارہ بالکنایہ میں، تو یہ کہلائے گا استعارہ تخییلیہ۔ لیکن اگر اپ نے مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کیا مشبہ کے لیے کس میں؟ تشبیہ وغیرہ اور چیزوں میں ثابت کیا، تو پھر ہے تو وہی چیز لیکن اب وہ استعارہ تخییلیہ نہیں کہلائے گی بلکہ کیا کہلائے گی؟ ترشیح کہلائے گی، ترشیحیّہ کہلائے گی، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو وہ ترشیح کہلائے گی۔ تو مشبہ کے لازم، مشبہ بہٖ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کرنا؟ مشبہ کے لیے، اگر یہ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ ہو تو کیا کہلائے گا؟ استعارہ تخییلیہ کہلائے گا، اور اگر یہ تشبیہ کے اندر ہو تو کیا کہلائے گا؟ ترشیح کہلائے گا، یا کسی اور چیز میں ہو۔ ”يَكُونُ تَرْشِيحًا لِلتَّشْبِيهِ“ تو یہ کیا بن گیا مولانا؟ ترشیح ہوا کس کے لیے؟ تشبیہ کے لیے، ”كَمَا أَنَّ أَطْوَلَكُنَّ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ جیسے کہ یہ لفظ ا رہا ہے حدیث کے اندر، بھئی۔ بلکہ مولانا بتلا رہے ہیں علامہ تفتازانی، کہ مشبہ بہٖ کے لازم کو مشبہ کے لیے کیا کیا جاتا ہے؟ ثابت کیا جاتا ہے، تو یہ استعارہ بالکنایہ میں ہو تو کیا کہلائے گا؟ استعارہ تخییلیہ، اور اگر یہی لازم ثابت کیا جائے تشبیہ کے اندر تو کیا کہلائے گا؟ ترشیح کہلاتا ہے۔ کہتے ہیں یہ صرف تشبیہ میں ہی نہیں ہوتا بلکہ مجاز میں، مجازِ مرسل کے اندر بھی یہ بات چلتی ہے بھئی، مجازِ مرسل جس کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ علاقہ تشبیہ کا نہیں ہوتا، علاقہ تشبیہ کا نہیں ہوتا، تو وہاں پر بھی کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز جو کس کے ساتھ لازم تھی؟ موضوع لہٗ کے ساتھ لازم تھی، اس کو ثابت کر دیا جاتا ہے کس کے لیے؟ بھئی مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو کس میں استعمال کرنا؟ غیر موضوع لہٗ، اور موضوع لہٗ میں علاقہ تشبیہ کا ہو تو کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ، اور اگر علاقہ تشبیہ کا نہ ہو تو کیا کہلاتا ہے؟ مجازِ مرسل۔ تو معلوم ہوا ایک موضوع لہٗ ہوگا، ایک غیر موضوع لہٗ، اور لفظ کو استعمال کیا کس کے اندر؟ غیر موضوع لہٗ میں، تو یہ کیا کہلا... علاقہ تشبیہ کا بھی نہیں، تو یہ کیا کہلایا؟ مجازِ مرسل۔ تو دیکھو، اور اس کے اندر بھی کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز جو لازم تھی موضوع لہٗ کے ساتھ، اس کو ثابت کر دیا جاتا ہے کس کے لیے؟ غیر موضوع لہٗ کے لیے ثابت کر دیا جاتا ہے، یعنی اس کے لازم کو ذکر کر دیا جاتا ہے۔ تو ترشیح صرف تشبیہ میں ہی نہیں اتی بلکہ کس کے اندر؟ مجازِ مرسل کے اندر بھی اتی ہے، بات سمجھ میں ائی بھئی؟ جیسے حدیث میں ایا بھئی: ”كَمَا أَنَّ أَطْوَلَكُنَّ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، جیسے کہ اطولکنّ کا لفظ ہے حضور علیہ السلام کے اس قول میں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حدیث: ”أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا“، بھئی۔ حضور نے ازواجِ مطہرات سے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے تیز ہوگی لحوقاً بی، میرے ساتھ ملنے کے اعتبار سے، ”أَطْوَلُكُنَّ يَدًا“، جو زیادہ بخشنے... زیادہ سخاوت کرنے والی ہوگی، یداً، أی نعمۃً، یداً باعتبار نعمت کے، جو زیادہ سخاوت کرنے والی ہوگی باعتبار نعمت کے۔ کیا فرمایا حضور نے؟ کہ تم میں سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے قریب فرمایا کہ تم میں سے سب سے پہلے میری ملاقات کس سے ہوگی؟ جو تم میں سے سب سے زیادہ سخاوت کرنے والی ہے، بھئی۔ تو یہ پیشین گوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، اور ازواجِ مطہرات میں کون سب سے زیادہ سخی تھیں؟ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضور کے انتقال کے بعد سب سے پہلے انتقال بھی کن کا ہوا؟ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا۔ تو حضور نے فرمایا: ”أَسْرَعُكُنَّ“ تم میں سب سے زیادہ تیز، ”لُحُوقًا“ ملنے کے اعتبار سے، کس کے ساتھ ملنے کے اعتبار سے؟ ”بِي“ میرے ساتھ، ”أَطْوَلُكُنَّ“ جو تم میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والی ہے، ”يَدًا“ باعتبار کس کے؟ نعمت کے، باعتبار نعمت کے۔ ”أَطْوَلُ“، اطول ہے مولانا، طول سے ہے، کس سے؟ طول سے، اور طول کہتے ہیں عطا کرنا، ایک ہے طُول، ایک ہے طَول، طُول کا معنیٰ لمبائی اور طَول کا معنیٰ عطا کرنا، بخشنا، کسی چیز کسی کو چیز دینا۔ ”يَدًا“، ید کس کو کہتے ہیں مولانا؟ ہاتھ کو کہتے ہیں، اور یہاں کیا مراد ہے بھئی؟ نعمت مراد ہے۔ تو ہاتھ بول کر نعمت مراد، اور دونوں میں علاقہ کون سا؟ سبب مسبب کا، کیونکہ نعمت کس کے ذریعے دوسرے تک پہنچتی ہے مولانا؟ ہاتھ کے ذریعے پہنچتی ہے، تو علاقہ دونوں میں سبب مسبب کا ایا، تو یہ کیا بن گیا؟ مجازِ مرسل۔ تو ید ید کے اندر مجازِ مرسل ہے، اور مجازِ مرسل ہے۔ تو ید بول کر کیا مراد ہے؟ نعمت، تو ید کا معنیٰ حقیقی وہ عضوِ انسانی ہے، اور معنیٰ مستعمل کون سا ہوا؟ نعمت۔ کیا ہوا معنیٰ مستعمل؟ نعمت۔ تو یہاں پر ید سے وہ عضوِ انسانی مراد ہے یا کیا مراد ہے؟ نعمت مراد ہے۔ نعمت مراد، اور ساتھ ذکر کس کو... تو معنیٰ موضوع لہٗ میں استعمال ہو رہا ہے یا غیر موضوع لہٗ میں؟ تو غیر موضوع لہٗ میں ہے، لیکن اس کے ساتھ ذکر کر دیا اطول کو، اور اطول تو لازم ہے کس کے ساتھ؟ سخاوت کس سے ہوتی ہے؟ ہاتھ کے ساتھ، تو اعطا ہاتھ کے ساتھ ہوگا، تو ہاتھ جو معنیٰ موضوع لہٗ کے ساتھ جو چیز لازم تھی اس کو کس کے لیے ذکر کر دیا؟ غیر موضوع، کیونکہ ید کس معنیٰ میں ہے؟ غیر موضوع لہٗ میں، اور اس کے لیے اطول کو ذکر کر رہے ہیں، اور اطول تو لازم ہے کس کے ساتھ؟ موضوع لہٗ کے ساتھ، تو ایک چیز جو لازم تھی موضوع لہٗ کے ساتھ، اس کو ذکر کر دیا کس کے لیے؟ غیر موضوع لہٗ کے لیے، تو دیکھو یہ ترشیح ہے۔ سمجھ میں ایا، بھئی؟ ”أَيْ نِعْمَةً، تَرْشِيحٌ لِلْمَجَازِ“، یہ کیا ہے؟ ترشیح ہے کس کے لیے؟ مجاز کے لیے۔ ”هَذَا“ أی خذ ھٰذا، اس بات کو اچھی طرح پکڑ لو، مضبوطی سے یاد کر لو۔ ”وَلَكِنَّ تَفْسِيرَ الِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ بِمَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ شَيْءٌ لَا مُسْتَنَدَ لَهُ فِي كَلَامِ السَّلَفِ“ یہ تو تھی مولانا صاحبِ تلخیص تعریف کر رہے تھے استعارہ بالکنایہ کی، اب علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں بھئی کہ مصنف نے یہ نئی تعریف کی، سلف سے، یعنی بزرگوں سے اس بارے میں، متقدمین سے اس بارے میں کوئی بات اس قسم کی منقول نہیں۔ انہوں نے اور تعریف کی استعارہ بالکنایہ کی، بھئی۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ بھئی متقدمین بھئی، دراصل استعارہ بالکنایہ کے اندر تین مذاہب ہیں بھئی۔ ایک مصنف کا، صاحبِ تلخیص کا ہے، ایک سلف کا ہے۔ مصنف کے کلام کے مطابق بھئی استعارہ بالکنایہ گزر گیا، سلف کے کیا کیا جاتا ہے؟ نفس کے اندر تشبیہ دیتا ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ، اور صرف کس کو ذکر کرتے ہیں؟ مشبہ کو ذکر کرتے ہیں اور مشبہ بہٖ کو ذکر نہیں کرتے۔ جبکہ سلف کے نزدیک کیا کیا جاتا ہے؟ مشبہ بہٖ کے لفظ کو مستعار لے لیا جاتا ہے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، لیکن عبارت میں ذکر نہیں کیا جاتا، تصریح نہیں کی جاتی، ہاں اس کے لازم کے ساتھ اس کی طرف کیا کر دیا جاتا ہے؟ اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ سلف یعنی متقدمین کے مذہب کے مطابق، وہ کہتے ہیں: استعارہ بالکنایہ کس کو کہتے ہیں؟ ایک چیز کو تشبیہ دی جائے کس چیز کے ساتھ؟ دوسری چیز کے ساتھ، پھر اس مشبہ بہٖ کے لفظ کو مستعار لے لیا جائے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ جیسے استعارے میں تھا مولانا، اسد بول کر کیا مراد لیتے تھے؟ رجلِ شجاع، تو یہاں بھی اسی طرح ایک چیز کو تشبیہ دی دوسری چیز کے ساتھ، اور یہ جو مشبہ بہٖ ہے اس کے لفظ کو مستعار لے لیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے مستعار لے لیا جاتا ہے، اور پھر اس کے لازم کو ذکر کر دیا جاتا ہے جو دلالت کرتا ہے مقصود پر۔ اس کے لازم کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ جو مقصود پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں، متقدمین یہ کہتے ہیں: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“، موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے، وہ کہتے ہیں المنیّہ کے یہاں پر استعارہ موجود ہے، استعارہ بالکنایہ، کیسے؟ کہ موت کو ہم نے تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ تشبیہ دی، اور پھر اس درندے، سبع کے لفظ کو مستعار لے لیا کس کے لیے؟ کس کے لیے؟ موت کے لیے۔ تو اب لفظ بول رہے ہیں درندہ اور مراد کیا ہے؟ موت، لیکن ہم عبارت میں اس کو ذکر نہیں کرتے کہ ہم نے اس درندے کے لفظ کو مستعار لیا ہے کس کے لیے؟ موت کے لیے، بلکہ ہم صرف عبارت میں اس کے لازم کو ذکر کر دیتے ہیں، کس کے لازم کو؟ وہ مستعار کے لازم کو، کس کے لازم کو؟ مستعار کے لازم کو، اور وہ کیا تھا؟ درندہ، تو درندے کا لازم کیا ہے؟ پنجے، تو یہ پنجے بتلا رہے ہیں کہ ہم نے موت کے لیے سبع کے لفظ کو مستعار لے لیا ہے۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ یہ مشکل ہے بھئی، چلیے دیکھیں پھر اتی ہے اگے عبارت میں۔ ”وَلَكِنَّ تَفْسِيرَ الِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ“ لیکن تفسیر استعارے کی، استعارہ بالکنایہ کی ”بِمَا“ اس چیز کے ساتھ ”ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ“ جو کہ مصنف نے ذکر کی، ”شَيْءٌ“ وہ ایسی چیز ہے ”لَا مُسْتَنَدَ لَهُ فِي كَلَامِ السَّلَفِ“ جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کلامِ سلف کے اندر یعنی کسی سے یہ بات نقل نہیں کی گئی، ”وَلَا هُوَ مَبْنِيٌّ عَلَى مُنَاسَبَةٍ لُغَوِيَّةٍ“ نیز اس کے اندر کوئی مناسبتِ لغوی بھی موجود نہیں ہے۔ دیکھا، اس کا نام استعارہ رکھا ہے، مصنف نے کیا بتلایا بھئی صاحبِ... علامہ تفتازانی نے اپ کو بتلایا کہ اس کا نام ویسے ہی استعارہ ہے، دراصل اس کے اندر کسی چیز کو غیر موضوع لہٗ کے اندر استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ ”وَإِنَّمَا الْمَأْخُوذُ مِنْ كَلَامِ السَّلَفِ“ اور استعارہ بالکنایہ کا وہ معنیٰ جو ماخوذ ہے سلف کلام سے، وہ یہ ہے: ”أَنْ لَا يُصَرَّحَ بِذِكْرِ الْمُسْتَعَارِ“ کہ تصریح نہ کی جائے کس کے ذکر کے ساتھ؟ مستعار۔ اپ نے کیا کیا مولانا؟ موت کے لیے کس چیز کا لفظ مستعار لے لیا؟ درندے کا، لیکن اس درندے کے لفظ کی ہم نے صراحت نہیں کی، ”بَلْ يُذْكَرُ رَدِيفُهُ وَلَازِمُهُ“ بلکہ ذکر کر دیا جائے کس کو؟ ”بَلْ يُذْكَرُ رَدِيفُهُ وَلَازِمُهُ“ بلکہ ذکر کر دیا جائے اس کے ردیف اور لا... ردیف مولانا کہتے ہیں سواری میں ایک سوار مولانا سواری پر سوار ہے، دوسرا اس کے پیچھے سوار ہو جائے، تو اس ثانی کو کیا کہیں گے؟ ردیف کہیں گے اول کے لیے۔ تو یہاں مراد لازم کے معنیٰ میں ہے، ردیف اور لازم عطفِ تفسیری ہے۔ بلکہ ذکر کیا جائے اس کے لازم کو ”الدَّالُّ عَلَيْهِ“ جو اس پر دلالت کرے، جو اس پر دلالت کرے۔ بھئی دیکھو، میں نے کہا: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“، موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے، معلوم ہوا میں نے موت کے لیے درندے کا لفظ مستعار لے لیا ہے، موت کے لیے درندے کا لفظ مستعار لے لیا ہے، تو درندہ بول کر کیا مراد ہے؟ موت، لیکن اس مستعار جس کو میں نے لیا، درندہ بول کر جو موت مراد لے رہا ہوں، اس لفظِ درندے کو میں عبارت میں ذکر ہی نہیں کرتا۔ میں نے مستعار لے تو لیا اس کے لیے لیکن اس پر میں نے تکلم نہیں کیا، اس کو بولا نہیں، اس کو عبارت میں ذکر نہیں کیا اس مستعار لفظ کو، صرف اس کے ایک لازم کو ذکر کر دیا تاکہ دلالت ہوتی رہے۔ میں نے پنجے ذکر کر دیے، یہ پنجے بتلا رہے ہیں اپ کو کہ میں نے سبع کا لفظ مستعار لے لیا ہے کس کے لیے؟ موت کے لیے، ورنہ تو موت کے پنجے نہیں۔ ”بَلْ يُذْكَرُ رَدِيفُهُ وَلَازِمُهُ الدَّالُّ عَلَيْهِ فَالْمَقْصُودُ بِقَوْلِنَا أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ“ پس مقصود ہمارے اس قول سے ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ“، اس سے کیا مقصود ہے؟ ”اسْتِعَارَةُ السَّبُعِ لِلْمَنِيَّةِ“ کہ استعارہ کیا گیا ہے سبع کا کس کے لیے؟ موت کے لیے، ”كَاسْتِعَارَةِ الْأَسَدِ لِلرَّجُلِ الشُّجَاعِ“ جیسے استعارہ کیا گیا تھا اسد کا کس کے لیے؟ رجلِ... اسد بول کر رجلِ شجاع جیسے مراد لیتے تھے، یہاں بھی ہم نے سبع سبع کا لفظ مستعار لے لیا کس کے لیے؟ موت کے لیے، ”إِلَّا أَنَّا لَمْ نُصَرِّحْ بِذِكْرِ الْمُسْتَعَارِ“ لیکن ہم کیا کرتے ہیں مولانا؟ ہم تصریح نہیں کرتے کس کے ذکر کے ساتھ؟ مستعار کے ذکر نہیں کرتے، اعنی السبع، یعنی درندے کا، ”بَلِ اقْتَصَرْنَا عَلَى لَازِمِهِ“ بلکہ ہم اکتفا کرتے ہیں اس کے لازم پر، صرف لازم پر اکتفا کر لیتے ہیں، ”وَهُوَ الْأَظْفَارُ“ وہ اظفار ہیں، ”لِيُنْتَقَلَ مِنْهُ إِلَى الْمَقْصُودِ“ تاکہ انتقال کیا جائے اس سے کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، ”كَمَا هُوَ شَأْنُ الْكِنَايَةِ“ جیسے کہ شان ہوتی ہے کس کی؟ کنائے کی، کنائے کی۔ سمجھ میں ایا؟ تو ہم نے مولانا ایک چیز لفظ کو مستعار لے لیا دوسرے معنیٰ کے لیے، اور اس یہ جو ہم نے مستعار لیا ایک لفظ کو دوسرے کے لیے، اس پر ہم نے تصریح نہیں کی بلکہ کنایۃً اس کو بتلا دیا اپ کو کہ ہم نے کنایۃً میں نے اپ کو بتلا دیا مولانا کہ سبع کے لفظ کو ہم نے مستعار لیا ہے کس کے لیے؟ کنایۃً کیسے بتایا؟ موت کے لیے میں نے پنجے ذکر کر دیے، یہ پنجے اشارہ کر رہے ہیں کہ سبع کے لفظ کو مستعار لے لیا گیا ہے کس کے لیے؟ موت کے لیے۔ تو دیکھو اب مولانا سلف کی بات لی جائے تو اس کا نام استعارہ بھی صحیح اور کنایہ ہونا بھی صحیح۔ دیکھو استعارہ اس لیے کہ مستعار لے لیا گیا سبع کے لفظ کو کس کے لیے؟ موت کے لیے، لیکن اس مستعار کو عبارت میں ذکر نہیں کیا، اس کی طرف کنایۃً اشارہ کر دیا گیا، کیسے؟ پنجوں کا ذکر کر دیا گیا، یہ پنجے بتلا رہے ہیں کہ سبع کے لفظ کو مستعار لے لیا گیا ہے کس کے لیے؟ موت کے لیے، بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ ”فَالْمُسْتَعَارُ هُوَ لَفْظُ السَّبُعِ“ مستعار لفظِ سبع ہے، ”الْغَيْرُ الْمُصَرَّحِ بِهِ“ جس کی تصریح... ”الْغَيْرُ الْمُصَرَّحُ بِهِ“ جس کی تصریح نہیں کی گئی۔ وہ لفظِ سبع ہے، ”الْغَيْرُ الْمُصَرَّحِ بِهِ“ بھئی جس کی تصریح نہیں کی گئی۔ ”وَالْمُسْتَعَارُ مِنْهُ هُوَ الْحَيَوَانُ الْمُفْتَرِسُ“ اور مستعار منہ کیا ہے مولانا؟ حیوانِ مفترس ہے، ”وَالْمُسْتَعَارُ لَهُ هُوَ الْمَنِيَّةُ“ اور مستعار لہ کیا ہے؟ منیّہ ہے۔ ”قَالَ صَاحِبُ الْكَشَّافِ“ اب علامہ زمخشری کا قول بھی نقل کر رہے ہیں، وہ بھی یہی بات ذکر کرتے ہیں، قال صاحب الکشاف فرماتے ہیں: ”إِنَّ مِنْ أَسْرَارِ الْبَلَاغَةِ وَلَطَائِفِهَا“ بے شک بلاغت کے اسرار اور لطائف میں سے یہ بات ہے، ”أَنْ يَسْكُتُوا عَنْ ذِكْرِ الشَّيْءِ الْمُسْتَعَارِ“ کہ بلغاء خاموش رہیں ایک چیز کے مستعار چیز کے ذکر سے کیا رہیں؟ خاموش رہیں۔ بھئی مستعار کو ہم نے ذکر کیا تھا؟ بھئی سبع کا لفظ مستعار لیا موت کے لیے، تو سبع کو ذکر کیا؟ نہیں کیا، تو خاموش رہیں بلغاء مستعار چیز کے ذکر سے، ”ثُمَّ يَرْمُزُوا إِلَيْهِ بِذِكْرِ شَيْءٍ مِنْ لَوَازِمِهِ وَرَوَادِفِهِ“ پھر اشارہ کیا جائے اس کی طرف اس چیز کے لوازم اور روادف، روادف بھی معنیٰ لازم کے ہے، اس چیز کے لوازم کے ذکر کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا جائے۔ ”فَيُنَبِّهُوا بِذَلِكَ الرَّمْزِ عَلَى مَكَانِهِ“ پس متنبہ کریں وہ پھر اس اشارے کے ذریعے سے علی مکانہٖ، مکان مولانا وہ مصدر ہے، مصدرِ میمی بمعنیٰ وجود کے، تو وہ تنبیہ کریں اس اشارے کے ذریعے علی وجودہٖ اس چیز کے وجود پر، یعنی کہ یہاں پر کیا ہے؟ شئے مستعار موجود ہے جس کی طرف ہم کیا کر رہے ہیں؟ اشارہ۔ بھئی یہ پنجے بتلا رہے ہیں کہ یہاں مستعار لیا گیا ہے کس کو کس کے لیے؟ سبع کو موت کے لیے مستعار لیا گیا ہے۔ ”نَحْوُ شُجَاعٌ يَفْتَرِسُ أَقْرَانَهُ“ جیسے اپ کہتے ہیں ایک بہادر شخص، ”شُجَاعٌ يَفْتَرِسُ أَقْرَانَهُ“ ایسا بہادر شخص جو چیر پھاڑ ڈالتا ہے اپنے ہم پلہ لوگوں کو۔ تو دیکھو چیرنا پھاڑنا یہ تو شیر کا کام ہے، اس کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ شجاع کو، معلوم ہوا یہاں شجاع کے لیے اپ نے اسد کے لفظ کو مستعار لے لیا، اور اس مستعار کو عبارت کے اندر ذکر نہیں کیا، لیکن اس کے لازم کو ذکر کر کے اشارہ کر دیا گیا کہ یہاں پر اس لفظ کو مستعار لیا گیا ہے۔ ”فَفِيهِ تَنْبِيهٌ عَلَى أَنَّ الشُّجَاعَ أَسَدٌ“ اس کے اندر تنبیہ ہے کہ شجاع کیا ہے؟ اسد ہے۔ ”هَذَا كَلَامُهُ“ یہ کلام ہے علامہ زمخشری کا، ”وَهُوَ صَرِيحٌ فِي أَنَّ الْمُسْتَعَارَ هُوَ اسْمُ الْمُشَبَّهِ بِهِ“ یہ اس بات میں صریح ہے کہ مستعار وہ مشبہ بہٖ ہے، ”الْمَتْرُوكُ صَرِيحًا“ جس کو کیا کر دیا گیا ہے؟ بھئی مستعار مشبہ بہٖ ہے، وہ کون ہے مولانا؟ موت کو کس سے تشبیہ دی تھی؟ درندے کے ساتھ، یا رجلِ شجاع کو کس سے تشبیہ دی ہے؟ اسد کے ساتھ، تو وہ مستعار ہے اسد کا لفظ بھئی، ”الْمَتْرُوكُ صَرِيحًا“ جس کو صراحتاً جس کی صراحت کو کیا کر دیا گیا ہے؟ جس کی تصریح کو کیا کر دیا گیا ہے؟ ترک کر دیا گیا ہے، ”الْمَرْمُوزُ إِلَيْهِ بِذِكْرِ لَوَازِمِهِ“ اور اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کس چیز کے ساتھ؟ اس کے لازم کے ساتھ۔ سمجھ میں ایا، بھئی؟ تو دو مذاہب ذکر ہوئے، بھئی، کتنے مذاہب؟ دو، استعارہ بالکنایہ کے اندر: ایک صاحبِ تلخیص کا ہے، ایک سلف کا ہے۔ مصنف کے کلام کے مطابق بھئی استعارہ بالکنایہ گزر گیا، سلف کے کیا کیا جاتا ہے؟ نفس کے اندر تشبیہ دیتا ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ اور صرف کس کو ذکر کرتے ہیں؟ مشبہ کو ذکر کرتے ہیں اور مشبہ بہٖ کو ذکر نہیں کرتے، جبکہ سلف کے نزدیک کیا کیا جاتا ہے؟ مشبہ بہٖ کے لفظ کو مستعار لے لیا جاتا ہے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، لیکن عبارت میں ذکر نہیں کیا جاتا، تصریح نہیں کی جاتی، ہاں اس کے لازم کے ساتھ اس کی طرف کیا کر دیا جاتا ہے؟ اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ بھئی یہ تو دو مذاہب تھے، تیسرا مذہب تھا علامہ سکاکی کا بھی استعارہ بالکنایہ میں، اپ نے وہ کیوں نہیں چھیڑا؟ کہتے ہیں بھئی اگے اس کا خود ذکر انے والا ہے، اس لیے ہم نے یہاں اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ ”وَسَيَجِيءُ الْكَلَامُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ السَّكَّاكِيُّ“ اور عنقریب ا جائے گا وہ کلام جو ذکر کیا ہے کس نے؟ کلام، اس بحث پر بھی ا جائے گی جس کو ذکر کیا ہے علامہ سکاکی نے، بھئی۔ ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔