Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-092

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: اِسْمُ التَّفْضِيْلِ اِسْمٌ مُشْتَقٌّ مِنْ فِعْلٍ لِّيَدُلَّ عَلَى الْمَوْصُوْفِ بِزِيَادَةٍ عَلَى غَيْرِهِ، وَصِيْغَتُهُ أَفْعَلُ، فَلَا يُبْنَى إِلَّا مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ الَّذِيْ لَيْسَ بِلَوْنٍ وَلَا عَيْبٍ، نَحْوُ: زَيْدٌ أَفْضَلُ النَّاسِ. آج ہم اسمِ تفضیل کے بارے میں پڑھیں گے بھئی! تو مصنف فرماتے ہیں: "اِسْمُ التَّفْضِيْلِ اِسْمٌ" کہ اسمِ تفضیل ایسا اسم ہے "مُشْتَقٌّ مِنْ فِعْلٍ" جس کا اشتقاق فعل سے ہوتا ہے "لِّيَدُلَّ عَلَى الْمَوْصُوْفِ" تاکہ یہ دلالت کرے موصوف پر "بِزِيَادَةٍ عَلَى غَيْرِهِ" غیر پر زیادتی کے ساتھ۔ یعنی اس میں غیر کے ساتھ مقابلہ اور اس پر زیادتی بیان کی جائے گی۔ مثلاً زید بھی پٹائی کرنے والا ہے، عمرو بھی پٹائی کرنے والا ہے، اور میں آپ کو بتانا یہ چاہتا ہوں کہ زید عمرو کے مقابلے میں زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، تو پھر اس کے لیے میں اسمِ تفضیل استعمال کروں گا اور کیا کہوں گا؟ "زَيْدٌ أَضْرَبُ مِنْ عَمْرٍو" کہ زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے "مِنْ عَمْرٍو" کس کے مقابلے میں؟ عمرو کے مقابلے میں۔ تو دوبارہ تعریف دیکھیے، تو کہتے ہیں اسمِ تفضیل ایسا اسم ہے جو مشتق ہوتا ہے فعل سے تاکہ یہ دلالت کرے "عَلَى الْمَوْصُوْفِ" ایسی ذات پر جو ایک صفت کے ساتھ موصوف ہو رہی ہے "بِزِيَادَةٍ عَلَى غَيْرِهِ" غیر پر زیادتی کے ساتھ موصوف ہو رہی ہو، اور جس میں غیر پر زیادتی کو بیان کیا گیا ہو بھئی، غیر پر زیادتی کو۔ یہ "عَلَى غَيْرِهِ" کی قید لگائی بھئی۔ "عَلَى الْمَوْصُوْفِ بِزِيَادَةٍ" صرف اتنا نہیں کہا بلکہ "بِزِيَادَةٍ عَلَى غَيْرِهِ"۔ یہ دراصل مبالغے کے صیغوں کو نکالنے کے لیے کہا۔ مبالغے کے صیغے میں بھی زیادتی بیان ہوتی ہے، مثلاً "ضَارِبٌ" کا معنی پٹائی کرنے والا، اور اسی سے مبالغے کا صیغہ ہے "ضَرَّابٌ" اس کا معنی ہے زیادہ پٹائی کرنے والا۔ تو یہ بھی تعریف میں داخل ہو رہا تھا "بِزِيَادَةٍ" کی قید سے، کیونکہ اس میں بھی کیا بیان ہو رہی ہے؟ زیادتی بیان ہو رہی ہے۔ لیکن "عَلَى غَيْرِهِ" کی جب قید لگائی تو اب یہ مبالغے کا صیغہ نکل گیا۔ کیونکہ مبالغے کے صیغے میں کسی کے مقابلے میں زیادتی نہیں بیان ہوتی، مطلقاً زیادتی بیان ہوتی ہے۔ مثلاً زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، یہ نہیں بیان کیا کہ کسی کے مقابلے میں یا سب کے مقابلے میں، صرف مطلقاً ویسے کہہ دیا کہ زید کیا ہے؟ زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، تو آپ کہیں گے: "زَيْدٌ ضَرَّابٌ"۔ لیکن اگر آپ کسی کے مقابلے میں بیان کرنا چاہتے ہیں کہ زید عمرو سے زیادہ یا زید سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، تو پھر مبالغے کا صیغہ نہیں لائیں گے بلکہ کیا لے کر آئیں گے؟ اسمِ تفضیل، کیونکہ اسمِ تفضیل کے اندر مطلقاً زیادتی نہیں ہوتی بلکہ کسی چیز کے مقابلے میں زیادتی بیان ہوتی ہے بھئی۔ تو یہ "عَلَى غَيْرِهِ" کی قید کس لیے لگائی ہے؟ مبالغے کے صیغے کو نکالنے کے لیے، کیونکہ زیادتی تو اس میں بھی بیان ہوئی۔ "زَيْدٌ ضَرَّابٌ" زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، اور "زَيْدٌ أَضْرَبُ" اس میں بھی ہے زیادہ پٹائی، لیکن "أَضْرَبُ" کے اندر، "أَفْعَلُ" جو اسمِ تفضیل ہے اس میں مقابلے میں کوئی اور ہوگا جس کے مقابلے میں کیا بیان کی جا رہی ہے؟ زیادتی بیان کی جا رہی ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَصِيْغَتُهُ أَفْعَلُ" اور اسمِ تفضیل کا جو صیغہ ہے وہ "أَفْعَلُ" ہے بھئی، "أَفْعَلُ" صیغہ ہے بھئی: "أَضْرَبُ"۔ "فَلَا يُبْنَى إِلَّا مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ الَّذِيْ لَيْسَ بِلَوْنٍ وَلَا عَيْبٍ" لہٰذا یہ نہیں بنایا جاتا مگر ثلاثی مجرد سے ہی، وہ ثلاثی مجرد جو کہ لون اور عیب سے نہ ہو بھئی۔ بھئی یاد رکھیے! یہ جو اسمِ تفضیل ہے نا، یہ صرف ثلاثی مجرد سے بنے گا۔ ثلاثی مزید فیہ سے بھی نہیں بنے گا، رباعی مجرد سے بھی نہیں بنے گا، رباعی مزید فیہ سے بھی نہیں بنے گا۔ بھئی کیوں نہیں بنے گا ثلاثی مزید فیہ وغیرہ سے؟ وجہ یہ کہ اس کا صیغہ ایک ہی ہے اور وہ ہے "أَفْعَلُ"۔ تو دیکھیے، "أَفْعَلُ" میں کیا ہے؟ شروع میں تو ہمزہ ہے، باقی ف، ع، ل۔ تو اب اگر آپ ثلاثی مزید سے بھی بنانا چاہیں تو اس کو "أَفْعَلُ" کے وزن پر لانا پڑے گا، اور ثلاثی مزید میں تو آپ نے پڑھا ہے کبھی تاء زائد ہوتی ہے، کبھی سین اور تاء، جیسے بابِ افتعال میں کیا زائد ہے؟ تاء: "اِفْتَعَلَ"، اور بابِ استفعال میں کیا زائد ہے؟ سین اور تاء، کبھی حرف کوئی مشدد ہوگا جیسے "صَرَّفَ"، "كَرَّمَ"، راء کیا ہے؟ مشدد ہے۔ تو جب آپ "أَفْعَلُ" کے وزن پر لائیں گے تو وہ جو زائد حروف ہیں ان کو ختم کرنا پڑے گا۔ "أَفْعَلُ" پر لائیں گے جب استفعال کو، تو سین اور تاء ختم کریں گے یا نہیں کریں گے؟ یا اسی طرح بابِ افتعال کو آپ لے کر آ رہے ہیں "أَفْعَلُ" کے وزن پر تو اس تاء کو کیا کرنا پڑے گا؟ ختم کرنا پڑے گا۔ یا اسی طرح آپ بابِ تفعیل کو ادھر لے کر آتے ہیں تو اس مشدد حرف کو کیا کرنا پڑے گا؟ تخفیف کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب آپ اس کو "أَفْعَلُ" کے وزن پر لے آئیں گے تو پھر کسی کو کیا پتہ چلے گا؟ جب آپ نے وہ جو علامت تھی سین اور تاء، یا بابِ افتعال کی جو علامت تھی تاء، یا بابِ تفعیل کی جو علامت تھی کہ درمیان والا حرف مشدد ہوتا ہے، جب آپ نے علامت کو ہی ختم کر دیا تو کسی کو کچھ پتہ چلے گا کہ یہ ثلاثی مجرد سے ہے یا ثلاثی مزید فیہ سے؟ کسی کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔ لہٰذا اس لیے چونکہ اس کا وزن ہی "أَفْعَلُ" ہے تو یہ صرف ثلاثی مجرد سے ہی بنے گا اور ثلاثی مزید فیہ سے نہیں۔ اسی طرح رباعی مجرد اور رباعی مزید فیہ سے بھی نہیں بنے گا، کیونکہ اس میں تو دو لام آتے ہیں: ف، ع اور دو لام۔ رباعی میں چار حرفِ اصلی ہوتے ہیں نا، تو دو لام آئیں گے۔ تو یہاں "أَفْعَلُ" میں تو ایک لام ہے، تو پھر اس وزن پر لانے کے لیے ایک لام کو ختم کرنا پڑے گا۔ جب ایک لام کو ختم کریں گے تو پتہ ہی نہیں چلے گا یہ رباعی سے ہے یا ثلاثی سے ہے۔ تو اس کا وزن چونکہ "أَفْعَلُ" ہے، لہٰذا نہ ثلاثی مزید فیہ سے یہ بنتا ہے، نہ رباعی مجرد سے اور نہ رباعی مزید فیہ سے۔ تو کہتے ہیں: "وَصِيْغَتُهُ أَفْعَلُ" کہ اس کا صیغہ جو ہے "أَفْعَلُ" ہے "فَلَا يُبْنَى إِلَّا مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ" تو یہ نہیں بنایا جاتا مگر ثلاثی مجرد سے ہی۔ اور نیز وہ ثلاثی مجرد "الَّذِيْ لَيْسَ بِلَوْنٍ وَلَا عَيْبٍ" جو لون اور عیب نہ ہو، اس میں لون اور عیب والا معنی نہ ہو۔ وجہ اس کی یہ کہ لون اور عیب، عیب سے عیبِ ظاہری مراد ہے، ظاہری عیب جو نظر آئے بھئی، ظاہراً نظر آئے آنکھوں سے خرابی، وہ عیب مراد ہے۔ تو رنگ اور عیب سے اسمِ تفضیل نہیں آتا۔ وجہ یہ کہ یہ جو رنگ ہے اور جو عیبِ ظاہری ہے، ان سے بھی ایک "أَفْعَلُ" آتا ہے، لیکن وہ "أَفْعَلُ" صفتی ہوتا ہے، وہ صفتِ مشبہ ہوتا ہے۔ جیسے دیکھو! "أَبْيَضُ"، "أَفْعَلُ" وزن ہے، وہی "أَفْعَلُ"۔ اسمِ تفضیل کا بھی "أَفْعَلُ" وزن، یہ "أَبْيَضُ" جو رنگ ہے اس کا بھی "أَفْعَلُ" وزن۔ لیکن یہ اسمِ تفضیل نہیں ہے، "أَبْيَضُ" کا یہ معنی نہیں زیادہ سفید، بلکہ یہ صفتِ مشبہ ہے، اس کا معنی ہے سفید۔ اسی طرح "أَحْمَرُ"، "أَحْمَرُ" کا "أَفْعَلُ" وزن ہے تو آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ اسمِ تفضیل ہے، بلکہ یہ صفتِ مشبہ ہے، اس کو افعلِ صفتی کہتے ہیں۔ تو یہ صفتِ مشبہ ہے، اور "أَحْمَرُ" کا کیا معنی؟ زیادہ سرخ نہیں بلکہ سرخ ہے۔ اسی طرح عیب ہے۔ عیب میں دیکھ لیجیے، مثلاً "أَعْرَجُ"، "أَعْرَجُ" کا معنی ہے لنگڑا بھئی، لنگڑا۔ اس کا معنی زیادہ لنگڑا نہیں کیونکہ اس میں تفضیل نہیں ہے بلکہ یہ صفتِ مشبہ ہے، ہے وزن وہی "أَفْعَلُ"۔ اور اسی طرح دیکھ لیجیے: "أَعْمَى"، آخر میں یاء کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ تو "أَعْمَى" وہی "أَفْعَلُ" وزن ہے۔ لیکن یہ اسمِ تفضیل نہیں ہے، اس کا معنی زیادہ اندھا نہیں ہے بلکہ کیا معنی ہے؟ اندھا، کیونکہ زیادہ اور تھوڑا اندھا ہونا معنی ہی نہیں بنتا۔ جو اندھا ہے جس کو دکھائی نہیں دیتا اسی کو اندھا کہیں گے نا، تو اس میں تو کمی بیشی کا احتمال ہے ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا معلوم ہوا لون اور عیب سے جو "أَفْعَلُ" آتا ہے وہ افعلِ صفتی ہے۔ جب افعلِ صفتی آتا ہے ان سے، تو اب "أَفْعَلُ" اسمِ تفضیل اس سے بنانا جائز نہیں، ورنہ تو پتہ ہی کسی کو نہیں چلے گا کہ یہ کون سا "أَفْعَلُ" ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "فَلَا يُبْنَى إِلَّا مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ الَّذِيْ لَيْسَ بِلَوْنٍ وَلَا عَيْبٍ" لہٰذا یہ نہیں بنایا جاتا مگر اس ثلاثی مجرد سے کہ جو کہ رنگ اور عیب نہ ہو بھئی۔ ہاں، البتہ عیبِ باطنی سے اسمِ تفضیل آتا ہے۔ میں نے بتایا یہ عیبِ ظاہری، دیکھو اندھا پن کیا ہے؟ آنکھوں سے نظر آتا ہے کہ یہ آدمی اندھا ہے، ایک آدمی لنگڑا ہے آنکھوں سے نظر آ رہا ہے کہ یہ کیا ہے؟ لنگڑا۔ اور ایک ہے عیبِ باطنی، اس سے اسمِ تفضیل آتا ہے، جیسے "أَجْهَلُ"۔ "أَجْهَلُ" کا کیا معنی؟ زیادہ جاہل۔ اب دیکھو، یہ عیب آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح "أَبْلَدُ"، ہمزہ ہے، باء، لام، دال۔ یہ بلید سے اسمِ تفضیل ہے، اور ابلد کہتے ہیں زیادہ کند ذہن، یعنی جس کا ذہن نہیں تو غبی ذہن ہے، تو اس کے لیے اسمِ تفضیل کیا آئے گا؟ "أَبْلَدُ" بھئی۔ اور اسی طرح "أَحْمَقُ" ہے، تو یہ احمق، یہ اسمِ تفضیل کے طور پر بھی آتا ہے بھئی۔ حماقت کیا ہے؟ بے وقوفی، یہ عیبِ باطنی ہے۔ جیسے عرب کہتے ہیں، کوئی بڑا ہی بے وقوف ہو تو عرب کہتے ہیں: "فُلَانٌ أَحْمَقُ مِنْ هَبَنَّقَةَ" کہ فلاں آدمی تو ہبنقہ سے بھی زیادہ احمق ہے، زیادہ بے وقوف ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہبنقہ: ہاء، باء، نون، قاف دو نقطوں والا اور گول ہاء ہے: هَبَنَّقَة۔ یہ عرب میں ایک بڑا بے وقوف گزرا تھا اور پورے عرب میں اس کی بے وقوفی اور حماقت کے چرچے اور شہرت تھی بھئی۔ جب کوئی بڑا بے وقوف نظر آتا ہے تو لوگ کیا کہتے ہیں: "فُلَانٌ أَحْمَقُ مِنْ هَبَنَّقَةَ"۔ کہتے ہیں اتنا بے وقوف تھا کہ یہ ہر وقت اپنے گلے میں ایک ہار لٹکائے رکھتا جس میں ہڈیاں، جوتے وغیرہ اور چمڑے کے ٹکڑے، اس طرح کی چیزوں کا ایک ہار بنایا ہوا تھا اس نے۔ یہ ہر وقت اس نے اپنے گلے میں لٹکایا ہوتا۔ کسی نے کہا بھئی، یہ ہار تم نے کیوں اپنے گلے میں لٹکایا ہوتا ہے؟ کہتا ہے اس کے ذریعے میں اپنے آپ کو پہچانتا ہوں، مجھے پتہ لگ جاتا ہے یہ میں ہوں، یہ میں ہوں۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ یہ سو گیا۔ سویا تو اس کے بھئی نے شرارت کی، اس کے گلے سے ہار اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اب جب یہ سو کر اٹھا تو دیکھا بھئی کے گلے میں ہار ہے، تو بڑی دیر تک بیٹھا سوچ میں گم ہے۔ اس کو دیکھتا ہے، کبھی اپنے آپ کو دیکھتا ہے، کبھی اس کو دیکھتا ہے، کبھی اپنے آپ کو دیکھتا ہے۔ آخر سوچتے سوچتے پھر اس بھئی کو کہنے لگا: بھئی! تم تو میں ہو، یہ میں کون ہوں؟ تم تو میں ہو، یہ میں کون ہوں؟ تو یہ اتنی دیر سے بیٹھا یہ سوچ رہا تھا، پریشان ہو رہا تھا بھئی۔ تو عرب میں جب کوئی زیادہ بے وقوف ہو تو کیا کہتے ہیں: "فُلَانٌ أَحْمَقُ مِنْ هَبَنَّقَةَ" بھئی۔ تو معلوم ہوا "أَحْمَقُ" یہ بھی کیا ہے؟ اسمِ تفضیل بھئی۔ اچھا، تو کہتے ہیں: "نَحْوُ: زَيْدٌ أَفْضَلُ النَّاسِ" زید جو ہے لوگوں میں سب سے افضل ہے۔ ترکیب کیجیے بھئی: "زَيْدٌ" مرفوع لفظاً مبتدا۔ "أَفْضَلُ" مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ تفضیل مضاف بھئی، اور اس کے اندر "هُوَ" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو مبتدا کی طرف راجع ہے کیونکہ یہ خبر ہے، اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے جوڑتے ہیں۔ اور "النَّاسِ" مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ اسمِ تفضیل اپنے فاعل اور مضاف الیہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ زید لوگوں میں سب سے افضل ہے۔ "فَإِنْ كَانَ زَائِدًا عَلَى الثُّلَاثِيِّ" اب آپ کو طریقہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی، آپ نے ہمیں کہا کہ ثلاثی مجرد سے ہی صرف بنے گا، تو ثلاثی مزید فیہ سے کیسے بنائیں گے؟ رباعی مجرد، رباعی مزید فیہ سے کیسے بنائیں گے؟ اسمِ تفضیل والا معنی ہم بیان کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً "أَكْرَمَ يُكْرِمُ إِكْرَامًا"، اکرام کا کیا معنی ہے؟ عزت کرنا۔ اب میں بتانا چاہتا ہوں کہ زید عمرو کے مقابلے میں زیادہ اکرام کرنے والا ہے، تو میں کیسے کہوں گا؟ اسمِ تفضیل تو اس سے بنا ہی نہیں سکتے۔ تو کہتے ہیں بھئی، آپ ثلاثی مجرد سے ایسا اسمِ تفضیل کا صیغہ بنا لو، ایسا اسمِ تفضیل لے آؤ جس میں زیادتی والا معنی ہو، جس میں کثرت والا معنی ہو، جس میں قوت والا معنی ہو، موقع کے مطابق جو آپ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ تو مثلاً زیادہ کے لیے اسمِ تفضیل لے آؤ: "أَزْيَدُ"۔ تو مثلاً میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ زید عمرو سے زیادہ اکرام کرنے والا ہے، تو میں کیا کہوں گا؟ "أَزْيَدُ" کا صیغہ لے آؤں گا۔ دیکھو، "أَزْيَدُ" کا کیا معنی؟ زیادہ، کسی کے مقابلے میں زیادتی بیان ہو رہی ہے۔ اور آگے جس فعل کی زیادتی بیان کر رہا ہوں اس کا مصدر آگے منصوب لے آؤ تمیز ہونے کی بنا پر۔ مصدر لے آؤ، نکرہ ہو کیونکہ تمیز نکرہ ہوتی ہے، اور منصوب لے آؤ، تمیز منصوب ہوتی ہے۔ تو میں یوں کہوں گا: "زَيْدٌ أَزْيَدُ إِكْرَامًا مِنْ عَمْرٍو" زید زیادہ ہے باعتبار اکرام کے "مِنْ عَمْرٍو" کس کے مقابلے میں؟ عمرو کے مقابلے میں۔ تو با محاورہ ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ زید عمرو سے زیادہ اکرام کرنے والا ہے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ موقع محل کے مطابق ثلاثی مجرد سے اس کا اسمِ تفضیل بنا لو، اور پھر آگے جس فعل کی زیادتی بیان کرنا چاہ رہے ہیں اس کے مصدر کو منصوب لے آئیں بوجہ تمیز کے۔ مثلاً ایک اور مثال کر لیں: میں کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھو، استخراج کا معنی ہوتا ہے مسئلہ نکالنا۔ کیا کرنا؟ مسئلہ نکالنا، مثلاً قرآن و حدیث میں غور و فکر کر کے ایک مسئلہ نکالنا اور معلوم کرنا کہ اس کا کیا حکم ہے۔ تو اب میں کہنا چاہتا ہوں: زید بھی استخراج کرتا ہے، مسائل نکالتا ہے، اور اسی طرح عمرو بھی مسائل نکالتا ہے، لیکن زید عمرو کے مقابلے میں زیادہ استخراج کرنے والا ہے، زیادہ تیزی سے، جلدی سے اور بہترین۔ تو موقع کے مطابق میں اسمِ تفضیل لے آؤں گا، اور آگے استخراج کو کیا لے آؤں گا؟ منصوب۔ تو مثلاً میں یوں کہوں گا: "زَيْدٌ أَشَدُّ" دیکھا، "أَشَدُّ" اسمِ تفضیل لے آیا، "زَيْدٌ أَشَدُّ اسْتِخْرَاجًا مِنْ عَمْرٍو" زید عمرو کے مقابلے میں زیادہ شدید استخراج کرنے والا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: "فَإِنْ كَانَ زَائِدًا عَلَى الثُّلَاثِيِّ" اگر وہ فعل جس میں آپ زیادتی بیان کرنا چاہتے ہیں، وہ اگر ثلاثی پر زائد ہو یعنی ثلاثی مجرد پر زائد ہو، چاہے ثلاثی مزید فیہ ہو، چاہے رباعی مجرد ہو، چاہے رباعی مزید فیہ ہو۔ "أَوْ كَانَ لَوْنًا أَوْ عَيْبًا" یا لون اور عیب ہے، "يَجِبُ أَنْ يُبْنَى أَفْعَلُ مِنْ ثُلَاثِيٍّ مُجَرَّدٍ" تو واجب ہے کہ بنایا جائے "أَفْعَلُ" کس سے؟ ثلاثی مجرد سے "لِّيَدُلَّ عَلَى مُبَالَغَةٍ وَشِدَّةٍ وَكَثْرَةٍ" تاکہ وہ دلالت کرے مبالغے پر، مبالغہ: ایک چیز میں زیادتی کو بیان کرنا، تاکہ وہ دلالت کرے کس پر؟ مبالغے پر، "وَشِدَّةٍ" اور شدت پر، "وَكَثْرَةٍ" اور کثرت پر۔ میں نے بتایا موقع کے مطابق جو آپ کو ضرورت ہو اس کے مطابق آپ لے آئیں گے۔ "ثُمَّ يُذْكَرُ بَعْدَهُ مَصْدَرُ ذٰلِكَ الْفِعْلِ" پھر اس کے بعد ذکر کیا جائے اسی فعل کا مصدر "مَنْصُوْبًا عَلَى التَّمْيِيْزِ" جو منصوب ہوگا بنا بر تمیز کے، "كَمَا تَقُوْلُ" جیسے آپ کہتے ہیں: "هُوَ أَشَدُّ اسْتِخْرَاجًا" وہ زیادہ شدید ہے باعتبار استخراج کے۔ تو دیکھو آگے کسی کے مقابلے میں بیان ہو رہا ہے وہ حذف کر دیا، بعض اوقات قرینہ موجود ہوتا ہے تو مفضل علیہ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ حذف۔ یا آپ کہتے ہیں: "فُلَانٌ أَقْوَى حُمْرَةً" فلاں زیادہ قوی ہے باعتبار سرخ ہونے کے، یعنی فلاں زیادہ سرخ ہے، فلاں چیز زیادہ سرخ ہے دوسری کے مقابلے میں، تو آپ کیا کہیں گے: "هٰذَا الْقَلَمُ أَقْوَى حُمْرَةً مِنْ ذٰلِكَ الْقَلَمِ" یہ والا قلم زیادہ سرخ ہے اس قلم کے مقابلے میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دیکھو یہ رنگ تھا، رنگ کے لیے "أَقْوَى" لے آیا یا اس جیسا کوئی بھی۔ اور "وَأَقْبَحُ عَرَجًا" یا یوں کہتے ہیں: "فُلَانٌ أَقْبَحُ عَرَجًا"۔ "أَقْبَحُ"، قبیح سے اسمِ تفضیل ہے، قبیح: برا ہونا۔ فلاں جو ہے "أَقْبَحُ عَرَجًا" فلاں بڑا ہی برا ہے باعتبار لنگڑا ہونے کے۔ مثلاً دو آدمی، ایک بھی لنگڑا دوسرا بھی لنگڑا، لیکن ایک کا لنگڑا پن زیادہ ہے، بڑا قبیح معلوم ہوتا ہے، تو آپ کہیں گے: "فُلَانٌ أَقْبَحُ عَرَجًا"۔ "وَقِيَاسُهُ أَنْ يَّكُوْنَ لِلْفَاعِلِ كَمَا مَرَّ" اور قیاس اسمِ تفضیل کا یہ ہے کہ یہ فاعل کے لیے ہونا چاہیے "كَمَا مَرَّ" جیسے کہ گزر گیا۔ دیکھو، "أَضْرَبُ" زیادتی بیان ہو رہی ہے کس میں؟ ضارب کے اندر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قیاس اس کا یہ ہے کہ یہ فاعل سے آنا چاہیے، ضارب ہو گیا، اور ناصر سے بنا لو: "فُلَانٌ أَنْصَرُ" فلاں زیادہ مدد کرنے والا ہے، تو یہ کس سے بنتا ہے؟ فاعل، فاعل میں زیادتی کو بیان کرتا ہے، کون؟ اسمِ تفضیل۔ لیکن صرف فاعل ہی نہیں کبھی کبھار اسمِ مفعول سے بھی بنتا ہے، اس میں بھی زیادتی کو بیان کرتا ہے۔ جیسے میں کہتا ہوں: "فُلَانٌ أَشْهَرُ مِنْ عَمْرٍو" فلاں عمرو سے زیادہ مشہور ہے، تو دیکھو "أَشْهَرُ" یہ اسمِ تفضیل ہے اور یہ مبالغہ ہے کس میں؟ مشہور، مشہور کون سا وزن ہے؟ مفعول، تو دیکھا یہ اسمِ مفعول سے آیا۔ یا میں کہتا ہوں: "فُلَانٌ أَعْذَرُ مِنْ عَمْرٍو"، "أَعْذَرُ" یہ معذور کے اندر زیادتی بیان ہو رہی ہے، اور معذور کون سا وزن ہے؟ مفعول، تو دیکھا اسمِ مفعول سے آیا۔ اور اسی طرح میں کہتا ہوں: "فُلَانٌ أَشْغَلُ مِنْ عَمْرٍو" کہ فلاں عمرو سے زیادہ مشغول ہے، تو دیکھو "أَشْغَلُ" اسمِ تفضیل آیا کس سے؟ مشغول سے، اور مشغول کون سا وزن ہے؟ مفعول، تو معلوم ہوا کہ یہ صرف فاعل سے نہیں آتا بلکہ مفعول سے بھی آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَقِيَاسُهُ أَنْ يَّكُوْنَ لِلْفَاعِلِ كَمَا مَرَّ" اور قیاس اسمِ تفضیل کا یہ ہے کہ یہ فاعل کے لیے ہو جیسے کہ گزرا، یعنی جیسے مثالیں گزر گئیں۔ "وَقَدْ جَاءَ لِلْمَفْعُوْلِ قَلِيْلًا" اور تحقیق یہ اسمِ مفعول سے بھی آیا ہے قلیلاً یعنی تھوڑا۔ "نَحْوُ: أَعْذَرَ وَأَشْغَلَ وَأَشْهَرَ" جیسے "أَعْذَرُ" یعنی زیادہ معذور، "أَشْغَلُ" کیا معنی؟ زیادہ مشغول، اور "أَشْهَرُ" بمعنی زیادہ مشہور بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ صرف فاعل کی زیادتی کو نہیں بیان کرتا بلکہ مفعول کی زیادتی کو بھی بیان کرتا ہے۔ اسی لیے مصنف نے جو تعریف کی تھی، دوبارہ تعریف کو ذرا دیکھو: "لِّيَدُلَّ عَلَى الْمَوْصُوْفِ" تاکہ یہ دلالت کرے کس پر؟ موصوف پر "بِزِيَادَةٍ" ساتھ زیادتی کے۔ موصوف کا لفظ کہا، فاعل کا لفظ نہیں کہا تاکہ یہ کس کو شامل ہو جائے؟ اسمِ مفعول کو۔ اگر فاعل کہہ دیتے پھر تو مفعول نکل جاتا، حالانکہ ابھی انہوں نے آپ کو بتایا یہ فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کی زیادتی کے بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ لہٰذا مصنف نے موصوف کا لفظ استعمال کیا، بتلا دیا کہ وہ موصوف ہو چاہے فاعل ہو چاہے مفعول ہو بھئی۔ کہتے ہیں: "وَاسْتِعْمَالُهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ" اور اسمِ تفضیل کا استعمال جو ہے تین طریقوں پر ہوتا ہے۔ یاد رکھیے! اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں، اور ایک وقت میں ان تین طریقوں میں سے یہ ایک کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ بیک وقت دو طریقوں سے یا تین سے کبھی بھی استعمال نہیں ہوگا۔ اور وہ تین طریقے: پہلا طریقہ ہے اضافت کا، کہ اسمِ تفضیل کو آپ مضاف بنائیں اور آگے مضاف الیہ لے آئیں۔ دوسرا طریقہ ہے الف لام والا، کہ اسمِ تفضیل پر آپ الف لام لے آئیں۔ تیسرا طریقہ ہے کہ اس کے ساتھ آپ "مِنْ" لے آئیں، "مِنْ" لے آئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کتنے طریقے ہو گئے؟ تین۔ نمبر ایک: اضافت، مثلاً میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ أَفْضَلُ النَّاسِ" زید لوگوں میں سے افضل ہے، تو "أَفْضَلُ" اسمِ تفضیل کی "النَّاسِ" کی طرف کیا ہو رہی ہے؟ اضافت ہو رہی ہے۔ اور کبھی کبھار الف لام ہوگا: "زَيْدٌ الْأَفْضَلُ" زید سب سے افضل ہے بھئی۔ اور تیسرا طریقہ ہے "مِنْ" کے ساتھ، جیسے "زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" زید عمرو کے مقابلے میں زیادہ فضیلت والا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَاسْتِعْمَالُهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ" اسمِ تفضیل کا استعمال جو ہے تین طریقوں پر ہوتا ہے: "إِمَّا مُضَافٌ" یا تو مضاف ہوگا "كَـ: زَيْدٌ أَفْضَلُ الْقَوْمِ"۔ "زَيْدٌ أَفْضَلُ الْقَوْمِ" کیا ترجمہ کریں گے؟ قوم، مردوں کی جماعت تین سے لے کر دس تک، تو اس کا ترجمہ لوگ کے ساتھ کر لیں، اور الف لام ہے معلوم ہوا کوئی خاص لوگ مراد ہیں۔ "زَيْدٌ أَفْضَلُ الْقَوْمِ" زید ان لوگوں میں سب سے افضل ہے، زید ان لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا ہے۔ "أَوْ مُعَرَّفٌ بِاللَّامِ" یا اسمِ تفضیل معرف باللام ہوگا، دوسرا طریقہ ہے یعنی اس پر الف لام داخل ہوگا جیسے: "زَيْدٌ الْأَفْضَلُ"۔ اور پھر الف لام یہ عوض ہوتا ہے مضاف الیہ کا، معلوم ہوا کسی خاص پر فضیلت بیان کی گئی بھئی کسی چیز پر، زید ان لوگوں سے افضل ہے موقع کے مطابق۔ "أَوْ بِمِنْ" یا تیسرا طریقہ ہے کہ "مِنْ" کے ساتھ استعمال ہوگا "نَحْوُ" مثال کے طور پر: "زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" کہ زید عمرو کے مقابلے میں زیادہ افضل ہے، زیادہ فضیلت والا ہے۔ "وَيَجُوْزُ فِي الْأَوَّلِ الْإِفْرَادُ وَمُطَابَقَةُ اسْمِ التَّفْضِيْلِ لِلْمَوْصُوْفِ" اب تینوں طریقے جو ہیں بتلا تو دیا، تین طریقوں پر استعمال ہوتا ہے اسمِ تفضیل: یا مضاف ہوگا یا الف لام کے ساتھ یا "مِنْ" کے ساتھ۔ اب مزید تفصیل بیان کرنے لگے ہیں کہ اور کیا تفصیل ہے؟ کس طریقے سے مفرد، تثنیہ، جمع، مذکر، مؤنث کس طرح لے کر آئیں گے بھئی تینوں طریقوں میں اسمِ تفضیل کو؟ تو یاد رکھیے، جو پہلا طریقہ ہے جس میں اضافت ہو، اس میں اسمِ تفضیل کو مفرد مذکر رکھیں سب کے لیے۔ اسمِ تفضیل کو مفرد رکھیں، تثنیہ اور جمع نہیں، اور مذکر رکھیں سب کے لیے۔ موصوف جو ہے چاہے وہ مفرد ہو، چاہے تثنیہ ہو، چاہے جمع ہو، چاہے مذکر ہو، چاہے مؤنث ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ أَفْضَلُ النَّاسِ"، "اَلزَّيْدَانِ أَفْضَلُ النَّاسِ" دیکھا، افضل اسی طرح ہے، "اَلزَّيْدُوْنَ أَفْضَلُ النَّاسِ"، "هِنْدٌ أَفْضَلُ النَّاسِ"، "اَلْهِنْدَانِ أَفْضَلُ النَّاسِ"، "اَلْهِنْدَاتُ أَفْضَلُ النَّاسِ" دیکھا، سب کے لیے "أَفْضَلُ" مفرد مذکر رکھا میں نے، یہ بھی اس میں جائز۔ پہلا طریقہ کون سا ہے؟ اضافت والا۔ تو سب کے لیے مفرد مذکر رکھیں یہ بھی جائز، اور موصوف کے ساتھ مطابقت کرنا بھی جائز۔ یعنی اگر موصوف مفرد ہے، مذکر ہے تو اس کو بھی مفرد مذکر لاؤ۔ اگر موصوف تثنیہ مذکر ہے تو اس کو بھی تثنیہ مذکر لاؤ۔ اگر موصوف جمع ہے تو اس کو بھی جمع لاؤ، وہ مذکر ہے تو اس کے لیے مذکر لاؤ، مؤنث ہے تو اس کے لیے مؤنث لاؤ۔ "زَيْدٌ أَفْضَلُ النَّاسِ"، اور تثنیہ لے آؤ: "أَفْضَلَانِ"، نون اضافت سے گر گیا، کیا پڑھیں گے؟ "أَفْضَلَا"، تو "اَلزَّيْدَانِ أَفْضَلَا النَّاسِ"۔ جمع لے آؤ: "أَفْضَلُوْنَ"، نون اضافت سے گر گیا: "أَفْضَلُوْ"، تو اب کیسے پڑھیں گے؟ "اَلزَّيْدُوْنَ أَفْضَلُو النَّاسِ"۔ دیکھا موصوف مفرد ہے تو مفرد، تثنیہ ہے تو اس کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع۔ مؤنث کے لیے مؤنث لے آؤ۔ "أَفْضَلُ" کی اسمِ تفضیل گردان یاد ہے؟ "وَأَفْعَلُ التَّفْضِيْلِ الْمُذَكَّرُ مِنْهُ أَضْرَبُ وَجَمْعُهُ أَضَارِبُ، وَالْمُؤَنَّثُ مِنْهُ زُرْبَى، زُرْبَيَاتٌ، زُرَبٌ" دیکھا، "زُرْبَى" مؤنث ہے "فُعْلَى"۔ تو اب کیا کہیں گے؟ افضل سے بناؤ نا: "فُضْلَى"، "هِنْدٌ فُضْلَى" اور آگے "النَّاسِ" کی طرف اضافت کر دو، تو "فُضْلَى" کے آخر سے الف گر جائے گا کیونکہ اجتماعِ ساکنین آ گیا: "هِنْدٌ فُضْلَى النَّاسِ"۔ اور تثنیہ لے آؤ: "فُضْلَيَانِ"، نون گر گیا: "فُضْلَيَا"، الف بھی پھر گر جائے گا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے: "اَلْهِنْدَانِ فُضْلَيَا النِّسَاءِ"۔ اور جمع لے آؤ: "اَلْهِنْدَاتُ فُضْلَيَاتُ النِّسَاءِ"۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو "هِنْدٌ فُضْلَى النِّسَاءِ"۔ معلوم ہوا پہلا طریقہ جو اضافت والا ہے، اس میں مفرد مذکر لانا بھی جائز اور مطابقت بھی جائز۔ دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: "وَيَجُوْزُ فِي الْأَوَّلِ الْإِفْرَادُ" اور پہلے طریقے میں یعنی اضافت والے میں جائز ہے "الْإِفْرَادُ" مفرد لانا بھی، اور میں نے بتا دیا مفرد بھی اور التذكير، یہ قید بھی یاد رکھنا: مفرد بھی ہو اور مذکر بھی ہونا چاہیے، اور بھی جائز: "وَمُطَابَقَةُ اسْمِ التَّفْضِيْلِ لِلْمَوْصُوْفِ" اور اسمِ تفضیل کی مطابقت موصوف کے ساتھ یہ بھی جائز ہے، یعنی مفرد کے لیے مفرد، تثنیہ کے لیے تثنیہ اور جمع کے لیے جمع۔ "نَحْوُ: زَيْدٌ أَفْضَلُ الْقَوْمِ، وَالزَّيْدَانِ أَفْضَلُ الْقَوْمِ" دیکھا، مفرد ہی رہا ہے اور مفرد مذکر ہے دونوں کے لیے، "وَأَفْضَلَا"، دیکھو "زَيْدٌ أَفْضَلُ الْقَوْمِ" اس میں تو ایک ہی صورت ہے نا، اور "اَلزَّيْدَانِ" اس میں "أَفْضَلُ الْقَوْمِ" یہ بھی جائز، "وَأَفْضَلَا الْقَوْمِ" یہ بھی جائز، دونوں صورتیں انہوں نے دے دیں۔ "وَالزَّيْدُوْنَ أَفْضَلُ الْقَوْمِ" دیکھو مفرد مذکر یہ بھی جائز، "وَأَفْضَلُو الْقَوْمِ" یہ بھی جائز۔ دیکھا، دونوں میں تلفظ ایک ہی جیسا ہوگا: "اَلزَّيْدُوْنَ أَفْضَلُ الْقَوْمِ" اور "اَلزَّيْدُوْنَ أَفْضَلُو الْقَوْمِ" اس میں بھی واؤ پھر گر جائے گا تو تلفظ ایک ہی جیسا ہوگا۔ "وَفِي الثَّانِي" دوسرے طریقے کے اندر "يَجِبُ الْمُطَابَقَةُ" مطابقت واجب ہے۔ دوسرا طریقہ کون سا تھا؟ الف لام والا، اس میں موصوف کے ساتھ مطابقت ضروری ہے جیسے: "زَيْدٌ الْأَفْضَلُ، وَالزَّيْدَانِ الْأَفْضَلَانِ، وَالزَّيْدُوْنَ الْأَفْضَلُوْنَ" اور مؤنث بھی بنا لیں: "هِنْدٌ الْفُضْلَى"، "اَلْهِنْدَانِ الْفُضْلَيَانِ"، جمع لاؤ: "اَلْهِنْدَاتُ الْفُضْلَيَاتُ" شاباش بھئی! "وَفِي الثَّالِثِ" اور تیسرا طریقہ وہ کون سا ہے؟ "مِنْ" کے ساتھ۔ یاد رکھیے، یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ اس میں اسمِ تفضیل ہمیشہ مفرد مذکر رہے گا۔ اسمِ تفضیل کیا ہے؟ ہمیشہ مفرد مذکر رہے گا۔ "زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، "اَلزَّيْدَانِ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، "اَلزَّيْدُوْنَ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، "هِنْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، "اَلْهِنْدَانِ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، "اَلْهِنْدَاتُ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" دیکھا، سب کے لیے مفرد مذکر "أَفْضَلُ" چل رہا ہے، صیغہ بدل ہی نہیں رہا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَفِي الثَّالِثِ يَجِبُ كَوْنُهُ مُفْرَدًا مُذَكَّرًا أَبَدًا" تیسری صورت میں واجب ہے اسمِ تفضیل کا مفرد مذکر ہونا ابداً، ہمیشہ۔ "نَحْوُ: زَيْدٌ" دیکھو اب سب کو اکٹھا کریں گے: "زَيْدٌ" مفرد مذکر بھی آ گیا، "وَهِنْدٌ" مفرد مؤنث بھی آ گیا، "وَالزَّيْدَانِ وَالْهِنْدَانِ" دونوں کے تثنیہ بھی آ گئے، "وَالزَّيْدُوْنَ وَالْهِنْدَاتُ" دونوں کے جمع بھی آ گئے، "أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" سب کے لیے ایک ہی خبر بتا دی: "أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" دیکھا، یہ سب کے لیے "أَفْضَلُ" ہی رہے گا۔ "وَعَلَى الْأَوْجُهِ الثَّلَاثَةِ" یہاں تک ساری تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ اسمِ تفضیل کے استعمال کے کتنے طریقے؟ تین طریقے ہیں: اضافت کے ساتھ یا الف لام کے ساتھ یا "مِنْ" کے ساتھ۔ جب اضافت کے ساتھ ہو تو پھر اس میں افراد و تذکیر بھی جائز اور مطابقت بھی جائز۔ اور جب الف لام کے ساتھ ہو تو پھر مطابقت واجب ہے۔ اور جب "مِنْ" کے ساتھ ہو، یاد رکھیے اصل طریقہ اسمِ تفضیل کے استعمال کا "مِنْ" کے ساتھ ہے، یہ اصل طریقہ۔ تینوں میں سے اصل کون سا طریقہ ہے؟ "مِنْ" کے ساتھ ہے بھئی۔ تو اس طریقے میں اسمِ تفضیل ہمیشہ مفرد مذکر رہے گا، موصوف چاہے مفرد ہو، تثنیہ ہو، جمع ہو، مذکر ہو، مؤنث ہو، سب صورتوں میں اسمِ تفضیل کیا رہے گا؟ مفرد مذکر۔ اور پھر اس میں ضمیر جو نکالیں گے وہ موصوف کے مطابق نکالیں گے۔ اسی "أَفْضَلُ" میں ضمیر کون سی نکالیں گے؟ اگر ماقبل میں زید تھا تو "أَفْضَلُ" میں "هُوَ" ضمیر: "أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، اور اگر ماقبل میں "اَلزَّيْدَانِ" تھا آگے تھا "أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" تو پھر "هُمَا" ضمیر نکالیں گے۔ "اَلزَّيْدُوْنَ" تھا اور آگے "اَلزَّيْدُوْنَ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" تو اس میں "هُمْ" ضمیر۔ تو ضمیر موصوف کے مطابق ہوگی، مفرد کے لیے مفرد، تثنیہ کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع، مذکر کے لیے مذکر، مؤنث کے لیے مؤنث لے کر آئیں گے، اور مخاطب کے لیے مخاطب، متکلم کے لیے متکلم کی ضمیر۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "أَنَا أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" تو "أَفْضَلُ" میں کون سی ضمیر؟ "أَنَا"۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَعَلَى الْأَوْجُهِ الثَّلَاثَةِ يُضْمَرُ فِيْهِ الْفَاعِلُ" اور تینوں صورتوں پر فاعل اس میں کیا ہوگا؟ مقدر ہوگا۔ "وَهُوَ يَعْمَلُ فِي ذٰلِكَ الْمُضْمَرِ" اور وہ اسمِ تفضیل اس ضمیر میں عمل کرے گا، یعنی اس کو رفع دے گا کیونکہ فاعل مرفوع ہوتا ہے، وہ ضمیر اس کے اندر فاعل ہے۔ تو اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں بھئی: یا اضافت کے ساتھ، یا الف لام کے ساتھ اور یا "مِنْ" کے ساتھ۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ اسمِ تفضیل ہے اور تین طریقوں میں سے کسی کے ساتھ بھی وہ استعمال نہیں ہوتا، مثلاً "اَللّٰهُ أَكْبَرُ"۔ اب "أَكْبَرُ" اسمِ تفضیل ہے، نہ اس کے آگے کوئی مضاف الیہ آ رہا ہے، نہ اس پر الف لام داخل ہے اور نہ آگے "مِنْ" آ رہا ہے، تو اسمِ تفضیل ہے اور یہ تین طریقوں میں سے کسی کے ساتھ بھی استعمال نہیں ہوا۔ تو جواب یاد رکھیے کہ نہیں، اسمِ تفضیل جب بھی آئے گا ان تین طریقوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہی استعمال ہوگا، لیکن بعض اوقات مفضل علیہ وہ ظاہر ہوتا ہے یا واضح ہوتا ہے یا اس پر کوئی قرینہ دلالت کر رہا ہوتا ہے تو اس کو حذف کر دیتے ہیں۔ جیسے یہاں پر "اَللّٰهُ أَكْبَرُ" یعنی "اَللّٰهُ أَكْبَرُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ" اللہ کی ذات ہر چیز سے زیادہ عظیم ہے، ہر چیز سے زیادہ بڑی ہے، تو "مِنْ كُلِّ شَيْءٍ" اس کو حذف کر دیا گیا کیونکہ بات واضح تھی بھئی۔ یا یوں کہو: "اَللّٰهُ أَكْبَرُ مِنْ كُلِّ كَبِيْرٍ" اللہ کی ذات ہر کبیر سے زیادہ بڑی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے اس کو حذف کر دیا گیا۔ تو جہاں پر کوئی قرینہ وغیرہ موجود ہو تو بعض اوقات "مِنْ" اور اس کے مابعد وغیرہ کو لفظوں سے حذف کر لیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے، کبھی کبھی اسمِ تفضیل کسی کے مقابلے میں زیادتی بیان کرنے کے لیے نہیں آتا، تو اس وقت بھی پھر "مِنْ" وغیرہ اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔ اور ان میں سے دو طریقوں کو اکٹھا استعمال کرنا بھی درست نہیں ہے۔ لہٰذا اگر آپ یوں کہیں: "زَيْدٌ الْأَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" تو یہ درست نہیں ہے، کیونکہ آپ الف لام بھی لے کر آ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ "مِنْ" بھی لے کر آ رہے ہیں، تو تین طریقوں میں سے ایک ہی طریقے کے ساتھ ایک وقت میں استعمال ہوگا بھئی۔ "وَلَا يَعْمَلُ فِي الْمُظْهَرِ أَصْلًا إِلَّا فِي مِثْلِ قَوْلِهِمْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي عَيْنِهِ الْكُحْلُ مِنْهُ فِي عَيْنِ زَيْدٍ" ہاں، یہ بڑا مشکل اور پیچیدہ مسئلہ آ گیا بھئی، اس کو کہتے ہیں مسئلہ کحل۔ کحل سرمے کو کہتے ہیں، سرمے کو۔ تو اس میں چونکہ اس کی مثال کے اندر کحل یعنی سرمے کا ذکر آ رہا ہے، تو یہ کس نام سے مشہور ہے؟ مسئلہ کحل بھئی۔ یاد رکھیے! یہ جو اسمِ تفضیل ہے نا، یہ بے انتہا کمزور عامل ہے۔ یہ صرف ضمیر میں عمل کرتا ہے، اسمِ ظاہر میں عمل نہیں کرتا۔ اور ضمیر میں عمل اس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ ضمیر بھی اس کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے، تو وہ عمل بھی گویا لا عمل ہے، ظاہر تو ہوتا نہیں کچھ۔ تو اس لیے ضمیر میں تو یہ عمل کرے گا ہمیشہ، لیکن آگے اسمِ ظاہر میں یہ عمل کرے اور اس کو رفع دے، یعنی اپنا فاعل بنائے، کہتے ہیں وہ صرف اس جیسی مثالوں میں ہوگا اور کہیں پر یہ اسمِ ظاہر کو رفع نہیں دے گا۔ یہ اس جیسی مثالوں میں، کون سی؟ "مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي عَيْنِهِ الْكُحْلُ مِنْهُ فِي عَيْنِ زَيْدٍ"۔ تو اس میں دیکھیے، یہ "أَحْسَنَ" اسمِ تفضیل ہے اور آگے "الْكُحْلُ" مرفوع آ رہا ہے، اس "الْكُحْلُ" کو یہ "أَحْسَنَ" اسمِ تفضیل رفع دے رہا ہے۔ "الْكُحْلُ" جو ہے وہ اس کے لیے فاعل ہے۔ تو اسمِ تفضیل اسمِ ظاہر کو رفع دے گا صرف اس جیسی مثالوں میں، اور یہ مسئلہ کیا کہلاتا ہے؟ مسئلہ کحل کہلاتا ہے بھئی۔ اور یاد رکھیے، یہی وہ مسئلہ ہے جو شرح جامی کی تصنیف کا سبب بنا۔ شرح جامی آپ انشاء اللہ اگلے سال پڑھیں گے، کافیہ کی مشہور و معروف اور عظیم الشان شرح ہے، اور سینکڑوں سال سے مدارس کے اندر پڑھائی جا رہی ہے بھئی۔ بے انتہا پیچیدہ کتاب نحو کی اور عظیم کتاب بھئی۔ شرح جامی کے مصنف جو ہیں ملا جامی ہیں، یہ افغانستان کے دوسری طرف روس کے علاقے میں رہتے تھے اور بہت بڑے ولی اللہ اور صوفی، بزرگ تھے، تو ان کے بیٹے جو تھے وہ ہندوستان پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے، وہ ہندوستان میں پڑھتے تھے۔ اس زمانے میں ہندوستان میں ایک بہت بڑے عالم اور بہت بڑے نحوی موجود تھے، دور دور سے طلباء ان کے پاس پڑھنے کے لیے آتے تھے، اور وہ نحو کے بہت بڑے ماہر، انہوں نے کافیہ کی شرح بھی لکھی، تو وہ شارحِ ہندی کے نام سے مشہور تھے۔ یعنی ہندوستان کا شرح کرنے والا۔ کافیہ کی انہوں نے شرح لکھی تھی نا، تو کس نام سے مشہور ہوئے؟ شارحِ ہندی بھئی۔ ان کے پاس دور دور سے طلباء پڑھنے کے لیے آتے تھے، ملا جامی کے بیٹے بھی ان کے پاس پڑھنے کے لیے آئے، تو سبق کے دوران یہ مسئلہ کحل آیا۔ شارحِ ہندی نے اس کو تفصیل سے بیان کیا لیکن مسئلہ ہے ہی بڑا مشکل، وہ ملا جامی کے بیٹے کو صحیح سمجھ میں نہیں آیا۔ سبق کے بعد کہتے ہیں وہ استاد کے پاس گئے، استاد کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا کہ استاد جی! یہ مسئلہ اگر آپ مجھے دوبارہ سمجھا دیں، مجھے سمجھ میں نہیں آیا۔ تو شارحِ ہندی نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ بڑا مشکل مسئلہ ہے، یہ صوفیوں کو کہاں سمجھ میں آئے گا! یہ انہوں نے اس سے فرمایا بھئی۔ شارحِ ہندی کا یہ طنز بھرا جملہ ملا جامی کو بھی پہنچ گیا۔ تو کہتے ہیں ملا جامی نے پھر کافیہ کی شرح لکھی اور ایسی عظیم الشان شرح لکھی کہ سینکڑوں سال گزر گئے، آج بھی وہ داخلِ درس ہے بھئی، اور اس کے مقابلے کی اور کوئی شرح نہیں بھئی۔ شارحِ ہندی کی کافیہ کی جو شرح تھی اس کو عام طلباء جانتے بھی نہیں ہیں جبکہ ملا جامی کی شرح کو اللہ نے وہ مقبولیت دی اور اتنا اونچا مقام ہے اس کا، آج بھی تمام طلباء اس کو پڑھتے ہیں بھئی۔ تو انہوں نے گویا شرح جامی لکھ کر بتلا دیا کہ ہم خالی صوفی نہیں ہیں، خالی ذکر و اذکار اور عبادات کرنے والے نہیں بلکہ ہمیں اللہ نے بہت علم دیا ہے لیکن ہماری اصل توجہ تصوف کی طرف ہے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ ہمارے پاس علم نہیں ہے۔ تو یہ واقعہ سبب بنا شرح جامی کی تصنیف کا بھئی۔ تو اسمِ تفضیل جو ہے وہ اسمِ ظاہر میں عمل نہیں کرتا، صرف اس جیسی مثالوں میں عمل کرتا ہے۔ جی، تو یہ لکھ لیجیے بھئی: اسمِ تفضیل کے اسمِ ظاہر میں عمل کرنے کے لیے تین شرائط ہیں۔ شرطِ اول: وہ اسمِ تفضیل صفت بحال متعلقہ ہو، یعنی لفظوں کے اعتبار سے صفت ہو ایک چیز کے لیے، تو معنی کے اعتبار سے صفت ہو اس کے متعلق کے لیے۔ شرطِ ثانی: وہ متعلق مفضل ہو ایک اعتبار سے اور مفضل علیہ ہو دوسرے اعتبار سے۔ لکھ لیا بھئی؟ کیا لکھا؟ وہ متعلق مفضل ہو ایک اعتبار سے اور مفضل علیہ ہو دوسرے اعتبار سے۔ بھئی پہلے یہ سمجھ لیں، مفضل کسے کہتے ہیں اور مفضل علیہ؟ مفضل صیغے سے ہی پتہ چل رہا ہے: مفضل جس کو فضیلت دی گئی، اور مفضل علیہ جس پر فضیلت دی گئی۔ تو یاد رکھیے اسمِ تفضیل جو "مِنْ" سے ماقبل ہے وہ ہے مفضل، اور جو مابعد جس پر فضیلت دی وہ ہے مفضل علیہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، میں نے زید کو فضیلت دی کہ زید زیادہ فضیلت والا ہے، تو زید ہوا مفضل، اور کس پر فضیلت دی؟ عمرو پر، تو عمرو کیا ہوا؟ مفضل علیہ۔ تو بس جس کو فضیلت دی جائے وہ ہوتا ہے مفضل اور جس پر فضیلت دی جائے وہ ہے مفضل علیہ۔ تو دوسری شرط یہ ہوئی کہ مفضل اور مفضل علیہ یہاں ایک ہی ہونا چاہیے۔ مفضل بھی وہی ہو اور مفضل علیہ بھی وہی، البتہ مفضل ہے وہ ایک اعتبار سے تو مفضل علیہ ہے دوسرے اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور تیسری شرط، شرطِ ثالث: وہ اسمِ تفضیل تحت النفی واقع ہو۔ تو یہ نفی اسمِ تفضیل سے زیادتی کے معنی کو ختم کر دے گی، اور "أَحْسَنَ"، "حَسُنَ" کے معنی میں ہو جائے گا۔ "أَحْسَنَ"، "حَسُنَ" بابِ کرم ہے نا، یا یوں کہو جیسے "أَضْرَبُ" بمعنی "ضَرَبَ" کے ہو جائے گا، تو "أَحْسَنَ" کس معنی میں ہو جائے گا؟ "حَسُنَ"۔ "أَنْصَرُ" ہو صاد کے ساتھ، تو یہ کس معنی میں ہو جائے گا؟ "نَصَرَ"۔ کیا لکھا؟ کہ اسمِ تفضیل سے زیادتی کے معنی کو ختم کر دے گی اور "أَحْسَنَ"، "حَسُنَ" کے معنی میں ہو جائے گا۔ بھئی دیکھیے، پہلے اب بات کو سمجھ لیں۔ یہ اسمِ تفضیل جو ہے نا، اس میں دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک تو وہ فعل والا معنی بھی ہوتا ہے اور ایک زیادتی بھی اس میں بیان ہوتی ہے۔ "أَضْرَبُ" کا کیا معنی؟ ضرب بھی بیان ہو رہی ہے اور زیادتی بھی بیان ہو رہی ہے، مطلقاً ضرب نہیں ہے بلکہ اس میں زیادتی بیان ہو رہی ہے۔ "أَنْصَرُ" اس میں مدد بھی بیان ہو رہی ہے اور ساتھ زیادتی کہ زیادہ مدد ہے، یہ بھی بیان ہو رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "أَحْسَنُ" کا کیا معنی؟ اس میں حسن یعنی خوبصورتی بھی بیان ہو رہی ہے اور ساتھ زیادتی بھی کسی پر بیان ہو رہی ہے کہ کسی کے مقابلے میں زیادہ حسین ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا یوں کہو، یہ اسمِ تفضیل جو ہے اس میں فعل کے ساتھ ایک قید آ جاتی ہے زیادتی والی۔ "أَحْسَنُ" میں خوبصورتی بھی ہے اور یعنی فعل بھی ہے اور ساتھ زیادتی بھی ہے، تو یوں کہو گویا اس میں فعل مقید ہوتا ہے، اس کے ساتھ ایک قید بھی ذکر ہے زیادتی والی۔ تو فعل ہوا مقید۔ تو "أَحْسَنُ" میں مطلقاً خوبصورتی بیان ہو رہی ہے یا خوبصورتی مقید ہے زیادتی کے ساتھ؟ مقید ہے زیادتی کے ساتھ، یعنی زیادتی والی قید بھی موجود ہے۔ یا جیسے آپ کہیں "أَضْرَبُ"، "أَضْرَبُ" میں مطلقاً ضرب بیان ہو رہی ہے یا ضرب کے ساتھ زیادتی بھی بیان ہو رہی ہے؟ تو گویا یہ والی ضرب مقید ہے کس کے ساتھ؟ زیادتی کے ساتھ۔ تو گویا یوں کہو، اسمِ تفضیل میں فعل ہوتا ہے لیکن وہ فعل مقید ہوتا ہے زیادتی کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھنا ہمیشہ! مقید پر جب نفی داخل ہو تو وہ نفی قید کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اس قید کی نفی ہو جاتی ہے، خود مقید کی نفی نہیں ہوتی۔ توجہ ہے؟ ابھی میں مثالیں ذکر کروں گا، انشاء اللہ سب سمجھ میں آ جائے گا، لیکن توجہ رکھو۔ مقید پر جب کیا داخل ہو؟ نفی، تو وہ جو نفی ہے وہ اس قید کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اس قید کو ختم کرتی ہے، خود مقید کو ختم نہیں کرتی۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: "آكُلُ خُبْزًا"، اکل یاکل کا معنی کھانا، خبز کہتے ہیں روٹی کو، "آكُلُ خُبْزًا" میں روٹی کھاؤں گا، یہاں خبز مطلق ہے، کوئی قید ہے ساتھ؟ صرف روٹی ذکر ہے۔ اب میں اس کی قید لے آتا ہوں صفت: "آكُلُ خُبْزًا بَارِدًا" میں ٹھنڈی روٹی کھاؤں گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ ٹھنڈی کس کے لیے قید ہے؟ روٹی کے لیے قید ہے، بارد کا معنی ٹھنڈا ہونا، تو "خُبْزًا بَارِدًا" اب بارداً کے ساتھ مقید ہے۔ مطلق روٹی کی بات نہیں کی جا رہی، ٹھنڈی روٹی کی بات کی جا رہی ہے۔ اب میں اس پر حرفِ نفی لاتا ہوں: "لَا آكُلُ خُبْزًا بَارِدًا" میں ٹھنڈی روٹی نہیں کھاؤں گا۔ کیا معنی؟ میں روٹی کھانے کی نفی مطلقاً کر رہا ہوں یا ٹھنڈی روٹی کھانے کی نفی کر رہا ہوں؟ ٹھنڈی روٹی کھانے کی، دیکھا؟ یہ نہ کھانے کی جو بات ہو رہی ہے اس کا تعلق ٹھنڈی کے ساتھ آ گیا، ٹھنڈی کو ختم کرو روٹی گرم ہوئی معلوم ہوا میں کھا لوں گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مقید پر جب نفی داخل ہو، جیسے یہ "خُبْزًا بَارِدًا" مقید تھا، اس پر کیا داخل ہوئی؟ نفی: "لَا آكُلُ"، تو یہ نفی قید کی طرف متوجہ ہوئی، مقید خود روٹی کھانے کی نفی نہیں ہوئی بلکہ قید کی نفی ہوئی کہ ٹھنڈی روٹی میں نہیں کھاؤں گا۔ تو ہمیشہ یاد رکھو، جو مقید ہوتا ہے اس پر جب نفی داخل ہو تو نفی قید کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اس قید کو اٹھا دیتی ہے، اس کی نفی کرتی ہے، خود مقید کی نفی نہیں کرتی۔ تو یاد رکھیے، یہ جو مفعول، صفت، جار مجرور، یہ سب قیدیں ہوتی ہیں۔ مثلاً "ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الدَّارِ" میں نے زید کی پٹائی کی گھر میں، "ضَرَبْتُ زَيْدًا" یہ "زَيْدًا" مفعول ہے اور مفعول بھی فعل کے لیے قید ہوتا ہے۔ تو "ضَرَبْتُ زَيْدًا" یہ مقید ہے زید کے ساتھ، معلوم ہوا یہ ضرب زید کے اوپر واقع ہوئی ہے، زید مضروب ہے۔ اب میں ذرا اس پر حرفِ نفی لاتا ہوں: "مَا ضَرَبْتُ زَيْدًا"، کیا معنی؟ میں نے زید کی پٹائی نہیں کی، یعنی قید کا صرف رفع کیا، یہ نفی قید کی طرف متوجہ ہوئی، ضرب کی طرف نہیں، ہو سکتا ہے میں نے عمرو کی کی ہو۔ ہاں، اگر میں یوں کہتا: "مَا ضَرَبْتُ" میں نے پٹائی نہیں کی، اب سب آ گئے اس میں کیونکہ مطلق ہے۔ لیکن جب میں نے کہا: "مَا ضَرَبْتُ زَيْدًا" تو معنی ہوا کہ میں نے زید کی پٹائی نہیں کی، باقی کسی اور کی ہو سکتا ہے میں نے کی ہو۔ ایک اور قید بڑھا دو: "مَا ضَرَبْتُ زَيْدًا التَّاجِرَ" میں نے پٹائی نہیں کی اس زید کی جو کہ تاجر ہے، تو نفی تاجر قید کی طرف متوجہ ہو گئی، ہو سکتا ہے دوسرا زید ہو جو تاجر نہیں ہے میں نے اس کی پٹائی کی ہو۔ ایک اور قید لے آؤ: "مَا ضَرَبْتُ زَيْدًا التَّاجِرَ فِي الدَّارِ" میں نے تاجر زید کی پٹائی اس گھر میں نہیں کی، تو نفی گھر کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، باہر کی تو بات ہے ہی نہیں اس میں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو جب بھی مقید پر نفی داخل ہو تو نفی اس قید کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اس قید کی نفی ہو جاتی ہے، مقید کی نفی نہیں ہوتی بلکہ قید کی نفی ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی اسمِ تفضیل میں فعل مقید ہوتا ہے زیادتی کے ساتھ، "أَضْرَبُ" کا کیا معنی؟ ضرب بھی ہے اور اس میں زیادتی بھی ہے۔ تو اس پر جب حرفِ نفی داخل ہوگا تو وہ مقید کی نفی نہیں کرے گا بلکہ زیادتی کی۔ تو لہٰذا جب "أَحْسَنَ" پر حرفِ نفی داخل ہوا تو اس میں ایک تو حسن بھی تھا اور زیادتی بھی تھی، تو زیادتی کی نفی ہو گئی، تو یہ صرف حسن یعنی "حَسُنَ" کے معنی میں ہو گیا۔ تو اسمِ تفضیل کے عمل کے لیے تین شرائط ہیں بھئی۔ پہلی شرط کیا؟ وہ صفت بحال متعلقہ ہو۔ صفت بحالہٖ کیا ہوتی ہے کہ لفظوں میں جس کی صفت، معنی میں بھی اسی کی صفت، جیسے "جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ"۔ اور صفت بحال متعلقہ کیا ہوتی ہے کہ لفظوں میں صفت ہو ایک کی، معنی میں صفت ہو اس کے متعلق کی، جیسے "جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ أَبُوْهُ"۔ دیکھو، "الْعَالِمُ" لفظوں میں صفت ہے زید کی، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ عالم صفت کس کی ہے؟ "أَبُوْهُ" اس کے والد کی، تو اس کو کہتے ہیں صفت بحال متعلقہ۔ اور یاد رکھو، خبر بھی صفت کے درجے میں ہوتی ہے، جیسے "زَيْدٌ عَالِمٌ أَبُوْهُ" میں "عَالِمٌ" لفظوں میں خبر ہے زید کی لیکن معنی میں صفت ہے اس کے والد کی، تو یہ بھی صفت بحال متعلقہ ہے۔ اسی طرح حال بھی صفت کے درجے میں ہوتا ہے، جیسے "جَاءَنِيْ زَيْدٌ رَاكِبًا غُلَامُهُ" میں "رَاكِبًا" لفظوں میں حال ہے زید سے، لیکن معنی میں صفت ہے اس کے غلام کی، تو یہ بھی صفت بحال متعلقہ ہے۔ تو یہ معنی کے اعتبار سے سب صفات ہی ہوتی ہیں بھئی۔ اب مثال پر دیکھیے: "مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي عَيْنِهِ الْكُحْلُ مِنْهُ فِي عَيْنِ زَيْدٍ"۔ "مَا رَأَيْتُ" میں نے نہیں دیکھا "رَجُلًا" ایسا آدمی "أَحْسَنَ" کہ زیادہ خوبصورت ہو "فِي عَيْنِهِ" اس کی آنکھوں میں "الْكُحْلُ" سرمہ "مِنْهُ" اسی سرمے کے مقابلے میں "فِي عَيْنِ زَيْدٍ" جب وہ زید کی آنکھ میں ہو۔ کہنے والا کہنا یہ چاہتا ہے کہ یہ سرمہ جب زید کی آنکھ میں لگا ہو تو سب سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے، یعنی کسی آنکھ میں سرمہ اتنا خوبصورت نہیں لگتا جتنا سرمہ زید کی آنکھ میں لگتا ہے۔ تو زیادہ خوبصورت کون لگتا ہے؟ سرمہ، اور کس کے مقابلے میں؟ سرمے ہی کے مقابلے میں۔ یہی سرمہ مفضل ہے جب زید کی آنکھ میں ہو، اور یہی سرمہ مفضل علیہ ہے جب یہ کسی دوسرے کی آنکھ میں ہو۔ تو متعلق مفضل بھی ہے اور مفضل علیہ بھی، لیکن مفضل ہے ایک اعتبار سے کہ وہ زید کی آنکھ میں ہو، اور مفضل علیہ ہے دوسرے اعتبار سے کہ وہ کسی اور کی آنکھ میں ہو۔ اور "أَحْسَنَ" لفظوں میں صفت ہے رجل کی لیکن معنی کے اعتبار سے صفت ہے کحل کی، تو صفت بحال متعلقہ بھی ہو گیا۔ اب ترکیب دیکھیے: "مَا" حرفِ نفی، "رَأَيْتُ" فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ "رَجُلًا" منصوب لفظاً موصوف۔ "أَحْسَنَ" منصوب لفظاً صیغہ اسمِ تفضیل۔ "فِيْ" حرفِ جار، "عَيْنِ" مجرور لفظاً مضاف، "هٖ" ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا "فِيْ" کے لیے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے "أَحْسَنَ" اسمِ تفضیل سے۔ "الْكُحْلُ" مرفوع لفظاً فاعل ہوا "أَحْسَنَ" کے لیے۔ "مِنْ" حرفِ جار، "هٖ" ضمیر مجرور محلاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے "أَحْسَنَ" سے۔ "فِيْ" حرفِ جار، "عَيْنِ" مجرور لفظاً مضاف، "زَيْدٍ" مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ہوا "فِيْ" کے لیے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے "أَحْسَنَ" سے۔ اور یاد رکھیے، دو ایک جیسے جار مجرور جن کا معنی ایک ہو وہ ایک فعل سے متعلق نہیں ہو سکتے، البتہ اسمِ تفضیل دو حدثوں والا ہے یعنی اس میں فعل بھی ہے اور ساتھ ساتھ زیادتی بھی ہے، اس لیے اس کے ساتھ دو ایک جیسے جار مجرور متعلق ہو سکتے ہیں۔ یا ایک اور ترکیب ہے جو مجھے زیادہ پسند ہے کہ "مِنْهُ" کی ہاء ضمیر کو ذوالحال بناؤ، اور "فِي عَيْنِ زَيْدٍ" جار مجرور کو "ثَابِتًا" کے متعلق کر کے حال بناؤ، ذوالحال حال مل کر مجرور ہوا "مِنْ" کے لیے۔ اسی طرح ماقبل میں "الْكُحْلُ" کو ذوالحال اور "فِي عَيْنِهِ" کو اس سے حال بنا دو۔ تو پھر "أَحْسَنَ" صیغہ اسمِ تفضیل اپنے فاعل "الْكُحْلُ" اور اپنے متعلقات سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی رجل کی، موصوف صفت مل کر مفعول بہ ہوا "مَا رَأَيْتُ" کے لیے، جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اور نفی نے ماقبل کے مفضل ہونے کے معنی کو ختم کر دیا، اب مابعد والا مفضل بن چکا ہے کہ زید کی آنکھ میں سرمہ زیادہ حسین ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا يَعْمَلُ فِي الْمُظْهَرِ أَصْلًا إِلَّا فِي مِثْلِ قَوْلِهِمْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي عَيْنِهِ الْكُحْلُ مِنْهُ فِي عَيْنِ زَيْدٍ" اور اسمِ تفضیل اسمِ ظاہر میں عمل نہیں کرتا مگر عربوں کے اس قول کی مثل میں: "مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي عَيْنِهِ الْكُحْلُ مِنْهُ فِي عَيْنِ زَيْدٍ"، "فَإِنَّ الْكُحْلَ فَاعِلٌ لِّأَحْسَنَ" اس لیے کہ کحل فاعل ہے "أَحْسَنَ" کے لیے۔ "وَهٰهُنَا بَحْثٌ" اور یہاں پر بحث ہے، یعنی اس عبارت کو اور انداز میں بھی اور مختصر طریقے سے بھی ادا کیا جا سکتا ہے، اور وہ انشاء اللہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 92 of 104