Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-076

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”الْبَابُ الثَّانِي فِي الِاسْمِ الْمَبْنِيِّ، وَهُوَ اسْمٌ وَقَعَ غَيْرَ مُرَكَّبٍ مَعَ غَيْرِهِ، مِثْلُ: أَلِفْ، بَا، تَا، ثَا، وَمِثْلُ: وَاحِدٌ وَاثْنَانِ وَثَلَاثَةٌ، وَكَلَفْظَةِ ”زَيْدٍ“ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ مَبْنِيٌّ بِالْفِعْلِ عَلَى السُّكُونِ، وَمُعْرَبٌ بِالْقُوَّةِ، أَوْ شَابَهَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ بِأَنْ يَكُونَ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى مَعْنَاهُ مُحْتَاجًا إِلَى قَرِينَةٍ كَالْإِشَارَةِ، نَحْوُ: هَؤُلَاءِ“. ”الْبَابُ الثَّانِي فِي الِاسْمِ الْمَبْنِيِّ“؛ دوسرا باب ہے اسم مبنی کے بارے میں۔ بھئی، معرب کا بیان مکمل ہوا اور اب صاحبِ ہدایت النحو مبنی کا بیان کرنے لگے ہیں۔ معرب میں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ معرب جو ہے، وہ ہے جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو۔ تو معرب جو ہے، اس پر انہوں نے آپ کو بتلایا کبھی اس پر رفع آئے گا، اس کا ذکر مرفوعات میں کر دیا۔ کبھی اس پر نصب آئے گا، ان کا ذکر منصوبات میں کر دیا، اور کبھی اس پر جر آئے گا۔ تو معرب مرفوع بھی ہو سکتا ہے، منصوب بھی اور مجرور بھی۔ پھر اس کے بعد کچھ توابع کا بھی بیان ذکر کیا کہ جن پر عامل براہِ راست تو عمل نہیں کرتا، لیکن وہ اپنے سے ماقبل کے تابع ہوتے ہیں، ماقبل پر جو اعراب ہوتا ہے وہی اعراب ان پر بھی آتا ہے۔ اور وہ توابع انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ پانچ ہیں: صفت ہے، عطفِ نسق ہے، تاکید ہے، بدل ہے اور عطفِ بیان ہے۔ اب مبنی کا بیان شروع کر رہے ہیں بھئی! اور مبنی آپ پڑھ چکے ہیں کہ مبنی پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ مبنی پر اعراب محلاً آتا ہے۔ یعنی محل کے اعتبار سے کہتے ہیں: یہ مرفوع ہے یا منصوب ہے یا مجرور۔ محل یعنی جگہ؛ یہ جگہ رفع والی ہے، اگر یہاں پر کوئی معرب آ جاتا تو رفع ظاہر ہو جاتا، لیکن چونکہ یہ مبنی ہے تو اعراب ظاہر نہیں ہوگا۔ تو پھر کس طرح کہتے ہیں؟ مرفوع محلاً، یا پھر منصوب محلاً، یا مجرور محلاً بھئی۔ تو اب مبنی کی تعریف کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهُوَ اسْمٌ“؛ مبنی جو ہے وہ ایسا اسم ہے، ”وَقَعَ غَيْرَ مُرَكَّبٍ مَعَ غَيْرِهِ“؛ جو مرکب نہ ہو ”مَعَ غَيْرِهِ“ اپنے غیر کے ساتھ۔ یعنی اپنے علاوہ کسی اور کے ساتھ مرکب نہ ہو یعنی ترکیب میں واقع نہ ہو، یعنی جوڑا نہ گیا ہو کسی غیر کے ساتھ۔ اور معرب کی تعریف اگر آپ کے ذہن میں ہو، معرب کی تعریف بھی انہوں نے کی تھی کہ وہ ہے جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ غیر سے کیا مراد ہے؟ کہ اس کے ساتھ اس کا عامل ہو، عامل ہو۔ کیونکہ اگر اس پر آپ رفع پڑھنا چاہتے ہیں تو رفع بغیر عامل کے نہیں آتا۔ آپ اس پر نصب پڑھنا چاہتے ہیں تو نصب کے لیے بھی عامل چاہیے، اور جر پڑھنا چاہتے ہیں تو جر کے لیے بھی عامل چاہیے۔ لہٰذا وہ ترکیب میں واقع ہو اور ایسی ترکیب جس میں اس کا عامل بھی ساتھ ہو۔ جبکہ مبنی اس کے برعکس ہے، جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہ ہو، یعنی اس کا عامل ساتھ نہ ہو، عامل ساتھ نہ ہو۔ جیسے، جیسے مثال میں نے ذکر کی تھی وہاں پر: غلامِ زیدٍ۔ ”غُلَامُ“ مضاف، ”زَيْدٍ“ مضاف الیہ۔ اب یہ ”زَيْدٍ“ اس پر تو جر پڑھیں گے، کیونکہ اس کا عامل وہ مضاف ہے، مضاف اس کو جر دے رہا ہے اور مضاف اس وقت موجود ہے۔ لیکن خود ”غُلَامُ“ پر آپ رفع پڑھنا چاہتے ہیں، بھئی کیوں؟ رفع کے لیے تو عامل چاہیے، کوئی عامل یہاں نہیں؛ نصب پڑھنا چاہتے ہیں، نصب کے لیے بھی عامل چاہیے؛ جر پڑھنا چاہتے ہیں، جر کے لیے بھی عامل چاہیے۔ تو لہٰذا اس پر نہ رفع پڑھ سکتے ہیں نہ نصب اور نہ جر۔ لہٰذا کیسے پڑھیں گے؟ ”غُلَامُ زَيْدٍ“۔ تو غلام دیکھو ترکیب میں تو ہے، لیکن اس ترکیب میں اس کے ساتھ اس کا عامل نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہ غلام کا لفظ اس وقت تو بے شک مبنی ہے، لیکن جب ترکیب میں آئے گا، ایسی ترکیب جس میں اس کا عامل بھی ساتھ آ جائے، پھر یہ معرب بن جائے گا۔ تو اس کو کہتے ہیں، یعنی غلامِ زیدٍ اس وقت مبنی ہے، لیکن اس میں صلاحیت ہے کہ کیا بن جائے؟ معرب بن جائے۔ تو اس کو کہتے ہیں: یہ بالقوہ یہ معرب ہے۔ غلامِ زیدٍ میں غلام کا لفظ کیا ہے؟ بالقوہ معرب ہے۔ یہ لفظ آ رہا ہے تیسری چوتھی سطر میں: ”بِالْقُوَّةِ“۔ تو یہ بالقوہ کیا ہے؟ معرب ہے۔ کس کی بات کر رہا ہوں میں؟ غلامِ زیدٍ، یہ غلام کیا ہے؟ اس وقت مبنی ہے، لیکن اس میں صلاحیت ہے کیا بننے کی؟ معرب۔ کب معرب بنے گا؟ جب اس کے ساتھ اس کا عامل آ جائے گا۔ تو غلام کے لفظ کے بارے میں یوں کہیں گے: یہ بالفعل مبنی ہے۔ بالفعل یعنی اس وقت، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس فی الحال کیا ہے؟ مبنی ہے، لیکن اس میں معرب بننے کی صلاحیت، تو کیا کہیں گے؟ مبنی ہے بالفعل اور معرب ہے بالقوہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ جی، تو بالقوہ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ اس میں صلاحیت ہوتی ہے یعنی۔ تو ایک بالفعل ہے، یعنی اس وقت کیا حالت ہے اس کو بالفعل کہا جاتا ہے، اور جو اس میں صلاحیت ہو اس کو بالقوہ کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے کوئی انسان بھئی، جیسے کوئی انسان اس نے کچھ پڑھا نہیں، تو آپ کہیں گے: یہ لاعلم ہے بالفعل۔ یعنی اس وقت کیا ہے؟ علم اس کے پاس ہے ہی نہیں تو یہ کیا ہے؟ لاعلم ہے۔ بالفعل کیا ہے؟ لاعلم۔ ہاں، یہ بالقوہ عالم ہے، یعنی اس میں عالم بننے کی صلاحیت ہے، محنت کرے پڑھے تو سیکھ لے گا بھئی۔ تو بالفعل کیا ہے؟ لاعلم، اور بالقوہ کیا ہے؟ عالم ہے۔ تو یہ بالفعل اور بالقوہ یہ لفظ عام استعمال ہوتے ہیں جگہ جگہ کی کتابوں میں، اس لیے میں نے تفصیل ذکر کر دی، اس کو ذہن میں رکھیں بھئی۔ تو کہتے ہیں، مبنی کی تعریف کر رہے ہیں: ”وَهُوَ اسْمٌ وَقَعَ غَيْرَ مُرَكَّبٍ مَعَ غَيْرِهِ“؛ وہ ایسا اسم ہے جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہ ہو، ”مَعَ غَيْرِهِ“ اپنے غیر کے ساتھ، اپنے غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہ ہو، اور میں نے کیا بتلایا تھا، کیا مراد ہے؟ یعنی اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع نہ ہو۔ ”مِثْلُ: أَلِفْ، بَا، تَا، ثَا“؛ جیسے الف، با، تا، ثا۔ سوال: بات چل رہی ہے اسم کی، اسم کی بات چل رہی ہے نا؟ اور انہوں نے جو مثال ذکر کی الف، با، تا، ثا، یہ تو حروف ہیں حروفِ تہجی بھئی! تو اسم کی مثال ذکر کرنی چاہیے تھی، انہوں نے حروفِ تہجی ذکر کر دیے، حروف ذکر کر دیے۔ جواب: بھئی، ان حروف سے مراد یہ حروف نہیں، ان کے نام مراد ہیں۔ ان کے نام مراد ہیں، اور نام تو اسم ہوتا ہے کسی بھی چیز کا بھئی۔ تو یہ پہلے حرف، یہ جو پہلا حرف ہے اس کا کیا نام ہے؟ الف۔ یہ دوسرے کا؟ با۔ تیسرے کا؟ تا۔ اور چوتھے کا؟ ثا۔ تو یہ ان کے نام مراد ہیں بھئی نام بھئی۔ ”وَمِثْلُ: وَاحِدٌ وَاثْنَانِ وَثَلَاثَةٌ“؛ جیسے عدد ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَكَلَفْظَةِ ”زَيْدٍ“ وَحْدَهُ“؛ اور جیسے کہ زید کا لفظ اکیلا، اکیلا زید کا لفظ۔ ”زَيْدٌ“ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، بھئی کیوں؟ رفع کیوں پڑھیں گے؟ عامل چاہیے۔ ”زَيْدًا“ پڑھنا چاہتے ہیں؟ نہیں پڑھ سکتے۔ ”زَيْدٍ“ پڑھنا چاہتے ہیں؟ نہیں پڑھ سکتے، کیونکہ رفع، نصب، جر سب کے لیے کیا چاہیے؟ عامل۔ اسی لیے انہوں نے کہا: ”وَكَلَفْظَةِ ”زَيْدٍ“ وَحْدَهُ“؛ اکیلا ہو، یعنی اس کے ترکیب میں واقع نہ ہو ساتھ اس کا عامل نہ ہو بھئی۔ ہاں، یہ زید بالفعل مبنی ہے اور بالقوہ معرب ہے، یعنی معرب بننے کی صلاحیت ہے۔ ترکیب میں آئے گا عامل اس کا ساتھ آئے گا تو اس پر رفع بھی آ سکتا ہے، نصب بھی آ سکتا ہے اور جر بھی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مثلاً ھٰذا ہے، ھٰذا۔ ھٰذا، ھٰذا یہ مبنی ہے۔ اس وقت کیا ہے؟ مبنی۔ اور یہ اس میں معرب بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، یہ ترکیب میں بھی آ جائے اس کا عامل بھی ساتھ آ جائے یہ پھر بھی مبنی ہی رہے گا۔ بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا، ترکیب ہم کر رہے تھے، معرفہ اور نکرہ کی پہچان کروائی تھی، اور اسی طرح آپ کو مبنی کے بارے میں بھی بتایا تھا کہ مبنی میں اعراب کیسے بتانا ہے؟ محلاً، اور معرب میں کیسے بتانا ہے؟ لفظاً یا تقدِیراً۔ اور پھر میں نے بتایا تھا کہ مبنی تو آٹھ ہیں، لیکن تین کم از کم ہر وقت یاد ہوں آپ کو۔ نمبر ایک: تمام ضمیریں، نمبر دو: اسمائے اشارہ، اور نمبر تین: اسمائے موصولہ۔ تو دیکھو اسمائے اشارہ کس میں سے ہیں؟ مبنیات۔ یہ جملے کے اندر بھی آ جائیں ان کا اعراب آپ کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً۔ دیکھا، حالانکہ ان کا عامل ساتھ ہوتا ہے، لیکن پھر بھی اس پر رفع ظاہر نہیں ہوتا، ان پر نصب ظاہر نہیں ہوتا، جر ظاہر نہیں ہوتا۔ تو وہاں آپ اعراب بتاتے ہیں کہ یہ ہے مرفوع محلاً ہے، یا منصوب محلاً ہے، یا مجرور محلاً۔ معلوم ہوا یہ ھٰذا جو ہے، ھٰذا، اکیلا ہو پھر بھی مبنی، ترکیب میں آ جائے پھر بھی مبنی ہی ہے۔ تو گویا اس میں یہ بالقوہ بھی معرب نہیں ہے۔ اکیلا اس وقت ھٰذا یہ مبنی ہے، اور ترکیب میں آئے پھر بھی معرب، پھر معرب بنے گا کہ نہیں؟ نہیں۔ تو لہٰذا بالقوہ بھی معرب نہیں ہے۔ زید اکیلا تو مبنی تھا لیکن بالقوہ معرب تھا، لیکن ھٰذا اکیلا بھی مبنی، ترکیب میں آئے پھر بھی مبنی ہی ہے۔ ”وَكَلَفْظَةِ ”زَيْدٍ“ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ مَبْنِيٌّ بِالْفِعْلِ عَلَى السُّكُونِ“؛ اور جیسے کہ اکیلا زید کا لفظ، اس لیے کیونکہ یہ مبنی ہے بالفعل علی السکون، کس پر؟ سکون پر۔ یہ مبنی علی السکون ہے بالفعل، ”وَمُعْرَبٌ بِالْقُوَّةِ“؛ اور معرب بالقوہ ہے بھئی یہ زید کا لفظ۔ ”أَوْ شَابَهَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ“؛ بھئی، مبنی کی تعریف چل رہی ہے۔ ایک ابھی تعریف پوری نہیں ہوئی، ایک قسم ذکر کر دی: وہ ایسا اسم جو ترکیب میں اپنے غیر کے ساتھ واقع نہ ہو۔ ”أَوْ شَابَهَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ“؛ یا وہ مبنی الاصل کے مشابہ ہو۔ مبنی الاصل کتنی چیزیں ہیں؟ آپ پڑھ چکے ہیں۔ تین چیزیں ہیں، شاباش! نمبر ایک: تمام، تمام حروف ہیں۔ نمبر دو: مبنی الاصل پوچھ رہا ہوں بھئی! تمام حروف، فعلِ ماضی اور امرِ حاضر معروف، شاباش شاباش! تو یہ تین مبنی الاصل ہیں۔ اور جو ان کے مشابہ ہو جائے گا وہ بھی مبنی ہوگا۔ اسی لیے کہا: ”أَوْ شَابَهَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ“؛ یا وہ ایسا اسم جو کس کے مشابہ ہو؟ مبنی الاصل کے مشابہ ہو، یعنی حروف جیسا ہو، یا فعلِ ماضی جیسا ہو، یا امرِ حاضر جیسا ہو، وہ بھی مبنی ہے بھئی۔ اور مشابہت سے یاد رکھیے مشابہت مراد نہیں ہے، مناسبت مراد ہے۔ یعنی اس کی مبنی الاصل کے ساتھ کچھ مناسبت آ جائے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کچھ اسم ہیں ان کی، سب سے پہلے تو مبنی الاصل، مبنی الاصل کیا کیا ہیں؟ تمام حروف ہیں، فعلِ ماضی ہے اور امرِ حاضر۔ ان تین کے ساتھ کسی اسم کی مشابہت آ جائے تو وہ اسم بھی کیا بن جائے گا؟ وہ اسم بھی مبنی بن جائے گا۔ اور مشابہت سے مراد مناسبت ہے، ان کے ساتھ اس کی کیا آ جائے؟ مناسبت آ جائے، مناسبت آ جائے۔ اور یہ والی جو قسم ہے، دو قسمیں ہو گئیں نا مبنی کی؟ پہلی قسم کیا؟ جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہ ہو۔ دوسری قسم کیا؟ جو مبنی الاصل کے مشابہ ہو۔ جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہیں، وہ کیا تھا؟ جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہیں، جیسے اکیلا زید کا لفظ، وہ بالفعل تو مبنی تھا لیکن بالقوہ معرب بھی ہو سکتا تھا وہ۔ جبکہ یہ قسم جو مبنی الاصل کے مشابہ ہو، ہے اسم اور کس کے مشابہ ہے؟ مبنی الاصل کے۔ یہ بھی، یہ بھی مبنی ہے، یہ یہ بھی مبنی ہو گیا لیکن یہ ایسا مبنی ہے جس میں بالقوہ بھی معرب بننے کی اب صلاحیت نہیں۔ توجہ ہے؟ پہلی قسم کیا تھی؟ جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہ ہو، وہ بھی مبنی ہے۔ اور دوسرا مبنی کون ہے؟ جو مبنی الاصل کے مشابہ ہو۔ اچھا، پہلی قسم جو ہے وہ جو غیر کے ساتھ ترکیب میں واقع نہ ہو، یعنی اس کا عامل ساتھ ترکیب میں نہ ہو، وہ بالفعل تو مبنی ہے اور بالقوہ معرب ہے۔ لیکن یہ قسم جو مبنی الاصل کے مشابہ ہو، یہ بالقوہ بھی معرب نہیں ہے۔ تو یہ قسم جو ہے، یہ مبنی ہی مبنی رہے گا ہر حال میں، اس میں بالقوہ معرب بننے کی صلاحیت بھی نہیں ہے بھئی۔ تو اس میں معرب بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے یعنی یہ بالقوہ بھی معرب نہیں ہے بھئی۔ اسی لیے کہا: ”أَوْ شَابَهَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ“؛ یا مبنی الاصل کے مشابہ ہو۔ تو مبنی کی پوری تعریف کیا ہوئی؟ دوبارہ دیکھو: ”وَهُوَ اسْمٌ وَقَعَ غَيْرَ مُرَكَّبٍ مَعَ غَيْرِهِ، أَوْ شَابَهَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ“۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے پوری تعریف بھئی، درمیان میں کچھ مثالیں ذکر کر دیں۔ اچھا، مبنی الاصل کے مشابہ ہو، مشابہت سے میں نے کیا بتلایا کیا مراد ہے؟ مناسبت ہے۔ اور یاد رکھیے کچھ خاص مناسبتیں مراد ہیں، وہ جب آ جائیں گی تو وہ لفظ بھی مبنی بن جائے گا، یعنی مبنی الاصل کے ساتھ ان کی خاص مشابہت آ جائے، خاص مناسبت آ جائے۔ وہ کون کون سی مناسبتیں ہیں؟ دو تین یہ ذکر کر رہے ہیں، باقی تفصیل اگلی کتابوں میں آ جائے گی۔ ایک مناسبت جیسے یہ ابھی ذکر کریں گے کہ جیسے اسمِ اشارہ ہے۔ اسمِ اشارہ، یہ بھی مبنی ہے آپ جانتے ہیں۔ مبنی الاصل نہیں ہے، یہ ہے مبنی لیکن مبنی الاصل کے ساتھ اس کی مشابہت ہے۔ بھئی کس طرح مشابہت ہے؟ کہتے ہیں کہ یہ، یہ اسمِ اشارہ، اشارے کا محتاج ہے۔ کس کا؟ اشارے کا محتاج ہے، بغیر اشارے کے پتہ نہیں چلے گا کہ اس سے کون مراد ہے۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں ھٰذا، ھٰذا سے تو کتاب بھی مراد ہو سکتی ہے، ھٰذا سے تو قلم بھی مراد ہو سکتا ہے، ھٰذا سے تو تپائی بھی مراد ہو سکتی ہے، ھٰذا سے تو گلاس بھی مراد ہو سکتا ہے۔ تو ھٰذا کے ذریعے تو کسی بھی چیز کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو اس کے لیے باقاعدہ کوئی اشارہ وغیرہ چاہیے جس سے دوسرے کو پتہ چلے کہ یہ جو ھٰذا بولا جا رہا ہے اس سے کیا مراد ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا یوں کہو، گویا یہ مشارٌ الیہ کا محتاج ہے۔ تو یہ مبنی الاصل کے مشابہ ہے، یعنی یہ جو اسمِ اشارہ ہے اس کی مشابہت ہے حرف کے ساتھ، جیسے حرف اپنا معنی بتانے میں غیر کا محتاج ہے۔ حرف اپنا معنی بتانے میں غیر کا محتاج ہے۔ حرف اپنا معنی بتانے میں غیر کا محتاج ہے، آپ پڑھ چکے ہیں؛ جیسے ”مِنْ“ کا معنی ہے ابتدا۔ ”مِنْ“ کا کیا معنی ہے؟ ابتدا۔ اور ایک ہے لفظ ابتدا، میں نے جیسے ہی کہا: ابتدا، آپ معنی سمجھ گئے یا نہیں؟ ابتدا کا معنی ہے شروع کرنا، آپ معنی سمجھ گئے۔ لیکن میں کہتا ہوں: ”مِنْ“، آپ کو کوئی شروع کرنے کا معنی سمجھ میں آیا؟ نہیں، اب نہیں آیا۔ میں دس دفعہ بھی ”مِنْ“، ”مِنْ“ کہوں، آپ کو شروع کرنے کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ہاں، ابتدا ایک دفعہ کہہ دوں، آپ کو شروع کرنا سمجھ میں آ جائے گا۔ ہاں، ”مِنْ“ کا معنی ہے ابتدا، یہ تب سمجھ میں آئے گا جب جہاں سے ابتدا ہو رہی ہے اس کو ذکر کیا جائے اور اس چیز کو جس کی ابتدا ہو رہی ہے۔ مثلاً: ”ذَهَبْتُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَى الْمَسْجِدِ“؛ میں گیا ”مِنَ الْبَيْتِ“ گھر سے، کمرے سے، ”إِلَى الْمَسْجِدِ“ کہاں تک؟ مسجد تک۔ تو دیکھا، اب ”مِنْ“ کا معنی پتہ چل گیا، ”مِنْ“ کس لیے استعمال ہوا ہے، پتہ چل گیا کہ اس چلنے کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے؟ گھر سے، کمرے سے ابتدا ہو رہی ہے، یہ کس نے بتایا؟ ”مِنْ“ نے بھئی۔ تو ”مِنْ“ کا معنی ہے ابتدا، شروع کرنا، لیکن اکیلا یہ اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتا، یہ غیر کا محتاج ہے، غیر اس کے ساتھ ملے گا تو پھر یہ اپنے معنی پر دلالت کرے گا بھئی۔ اسی طرح اسمِ اشارہ ھٰذا ہے، ھٰذا کا معنی ہے: یہ۔ ھٰذا کے ذریعے تو کتاب کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، کتاب بھی مراد ہو سکتی ہے، قلم بھی مراد ہو سکتا ہے، جدار، دیوار بھی مراد ہو سکتی ہے، تپائی بھی، کوئی بھی چیز مراد ہو سکتی ہے ھٰذا کے ذریعے۔ تو اب آپ لفظ بولتے ہیں: ھٰذا، اس سے کیا مراد ہے؟ تو اس کے لیے کوئی اشارہ چاہیے جس سے دوسرے کو پتہ چلے۔ مثلاً آپ ہاتھ سے اشارہ کر کے کہتے ہیں کتاب کی طرف: ھٰذا، اب سننے والے کو پتہ چلا کہ اس ھٰذا سے کیا مراد ہے؟ کتاب۔ تو جیسے حرف اپنا معنی بتانے میں غیر کا محتاج تھا، اسی طرح اسمِ اشارہ بھی اپنا معنی بتانے میں اشارے وغیرہ کا محتاج ہے، جس کی، کوئی ایسا کوئی قرینہ چاہیے جس سے دوسرے کو پتہ چل جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کوئی قرینہ چاہیے۔ تو یہ بھی حرف جیسا ہوا۔ اسمِ اشارہ بھی کس کی طرح ہوا؟ حرف۔ حرف اپنا معنی بتانے میں حرف حرف بھی محتاج، اسی طرح اسمِ اشارہ بھی محتاج۔ تو یہ محتاج ہونے میں اس کی طرح ہوا، اور حرف تو تھا مبنی الاصل، تو جب اسمِ اشارہ اس جیسا ہوا تو یہ بھی کیا بن گیا؟ مبنی بن گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ شَابَهَ مَبْنِيَّ الْأَصْلِ“؛ یا وہ اسم مبنی الاصل کے مشابہ ہو، ”بِأَنْ يَكُونَ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى مَعْنَاهُ مُحْتَاجًا إِلَى قَرِينَةٍ“؛ بایں صورت کہ یہ اپنے معنی پر دلالت میں محتاج ہو، ”بِأَنْ يَكُونَ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى مَعْنَاهُ“ بایں صورت کہ اپنے معنی پر دلالت میں ”مُحْتَاجًا إِلَى قَرِينَةٍ“ وہ محتاج ہو کسی قرینے کا، ”كَالْإِشَارَةِ“؛ جیسے کہ اشارہ ہے، ”نَحْوُ: هَؤُلَاءِ“؛ جیسے ھؤلاءِ۔ ھؤلاءِ کا معنی ہے: یہ سب، یہ سب بھئی۔ تو اس کے لیے اشارہ وغیرہ کوئی چیز چاہیے کہ پتہ چلے کون سب مراد ہیں بھئی۔ ”نَحْوُ: هَؤُلَاءِ“؛ جیسے ھؤلاءِ، اور نحوھا اور اس جیسے اور جو اسمائے اشارہ ہیں۔ ”أَوْ يَكُونُ عَلَى أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ“؛ یا وہ تین حروف سے کم پر مشتمل ہو۔ بھئی، حروف جو ہیں، حروف مبنی الاصل ہیں اور حروف عام طور پر تین سے کم حروف پر مشتمل ہوتے ہیں۔ حروف کس پر مشتمل ہوتے ہیں؟ عموماً تین سے کم۔ تو جو اسم تین سے کم حروف پر مشتمل ہوا، وہ حروف کی طرح ہو گیا۔ اور جب حروف کی طرح ہوا تو وہ تو ہیں مبنی الاصل، تو یہ بھی مبنی بن جائے گا بھئی۔ یہ معنی: ”أَوْ يَكُونُ عَلَى أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ“؛ یا تین سے کم حروف پر مشتمل ہو، ”أَوْ تَضَمَّنَ مَعْنَى الْحَرْفِ“؛ یا حرف کے معنی کو متضمن ہو، ”نَحْوُ: ذَا، وَمَنْ، وَأَحَدَ عَشَرَ إِلَى تِسْعَةَ عَشَرَ“. جیسے ”ذَا“، ”ذَا“ یہ اسمِ اشارہ ہے۔ ”ذَا“ کیا ہے؟ اسمِ اشارہ۔ بھئی، اسی کے شروع میں ”هَا“ تنبیہ کی بڑھا دیتے ہیں تو کیا کہتے ہیں؟ ”هٰذَا“، ”هٰذَا“۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اسمِ اشارہ ہے اور کتنے حروف ہیں؟ ایک ذال ہے، ایک الف ہے۔ دو حروف، تو تین سے کم حروف ہوئے۔ تو یہ کس کی طرح ہوا؟ حروف کی طرح۔ جب حروف کی طرح ہے تو حروف تو مبنی الاصل ہیں، تو یہ بھی کیا بن گیا؟ مبنی۔ ”وَمَنْ“؛ اور اسی طرح ”مَنْ“ ہے۔ ”مَنْ“ شرطیہ ہے، ”مَنْ“ استفہامیہ ہے، یہ بھی مبنی ہے، کیونکہ کتنے حروف پر مشتمل ہے؟ دو۔ تو یہ تین سے کم حروف پر مشتمل ہوا تو یہ مبنی الاصل کے مشابہ ہو گیا۔ ”وَأَحَدَ عَشَرَ“؛ یہ مثال ہے ”تَضَمَّنَ مَعْنَى الْحَرْفِ“ کی، جو حرف کے معنی کو متضمن ہو۔ بھئی، ”أَحَدَ عَشَرَ“ کا معنی ہے گیارہ۔ اصل میں تھا: ”أَحَدٌ وَعَشَرٌ“، ”أَحَدٌ وَعَشَرٌ“۔ درمیان میں واؤ تھا، اور واؤ کیا ہے؟ حرف، حرف۔ اور وہ واؤ ”عَشَرَ“ میں چھپ گیا، تو ”عَشَرَ“ مبنی بن گیا۔ واؤ کیا تھا؟ حرف، اور حرف تو کیا ہے؟ مبنی الاصل، تو وہ اس ”عَشَرَ“ میں چھپ گیا۔ جب اس میں چھپا تو یہ بھی مبنی بن گیا۔ اور ”أَحَدَ“ وہ تو درمیان، اعراب کہاں پر آتا ہے؟ آخر میں یا درمیان میں؟ آخر میں۔ تو ”أَحَدَ“ کا دال تو درمیان میں آ گیا اس لیے وہ بھی مبنی ہو گیا: ”أَحَدَ عَشَرَ“۔ اس پر تو اعراب آئے گا نہیں، ”عَشَرَ“ آخر میں اعراب آنا تھا، لیکن ”عَشَرَ“ کے اندر کون چھپ گیا؟ حرف چھپ گیا۔ اس لیے انہوں نے کہا: ”أَوْ تَضَمَّنَ مَعْنَى الْحَرْفِ“؛ یا وہ حرف کے معنی کو متضمن ہو۔ جیسے ”أَحَدَ عَشَرَ“ سے لے کر ”إِلَى تِسْعَةَ عَشَرَ“؛ ”أَحَدَ عَشَرَ“ سے لے کر ”تِسْعَةَ عَشَرَ“ یعنی انیس تک بھئی۔ ان سب کے اندر: احد عشر، اثنا عشر، ثلاثۃ عشر، اربعۃ عشر، ان سب میں آپ کیا کہیں گے؟ واؤ کس کے اندر چھپ گیا ہے؟ عشر کے اندر چھپ گیا ہے بھئی۔ ”وَهٰذَا الْقِسْمُ لَا يَصِيرُ مُعْرَبًا أَصْلًا“؛ اور یہ قسم جو ہے، معرب نہیں بنتی اصلاً، یعنی قطعاً قطعی طور پر۔ یعنی ترکیب میں بھی آ جائے، عامل بھی ان کا ساتھ آ جائے، پھر بھی یہ معرب نہیں بنتے۔ یہ بات میں پہلے بیان کر چکا ہوں بھئی۔ کون سی قسم؟ جو کس کے مشابہ ہو؟ مبنی الاصل کے مشابہ ہو۔ یہ معرب نہیں بنتی قطعی طور پر۔ ”وَحُكْمُهُ“؛ حکم کیا ہے مبنی کا؟ کہتے ہیں: ”وَحُكْمُهُ“ حکم اس کا یہ ہے، ”أَنْ لَا يَخْتَلِفَ آخِرُهُ بِاخْتِلَافِ الْعَوَامِلِ“؛ کہ اس کا آخر بدلتا نہیں ہے عوامل کے بدلنے سے۔ بھئی، معرب تو کیا تھا؟ اس کا آخر تو بدلتا ہے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ رفع آیا، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“ نصب آیا، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“ جر آ گیا، لیکن یہ مبنی جو ہے اس کا آخر بدلتا نہیں عوامل کے بدلنے سے۔ کہتے ہیں: ”وَحُكْمُهُ أَنْ لَا يَخْتَلِفَ آخِرُهُ بِاخْتِلَافِ الْعَوَامِلِ“؛ اور حکم اس کا یہ ہے کہ بدلتا نہیں ہے اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے۔ ”وَحَرَكَاتُهُ تُسَمَّى ضَمًّا وَفَتْحًا وَكَسْرًا، وَسُكُونُهُ وَقْفًا“؛ اور اس کی حرکات کو ضمہ، فتحہ اور کسرہ کہتے ہیں، اور اس کے سکون کو وقف کہتے ہیں۔ بھئی، میں پہلے بتا چکا کہ تین طرح کے نام ہیں: ”رَفْعٌ“، ”نَصْبٌ“، ”جَرٌّ“، اور ”ضَمٌّ“، ”فَتْحٌ“، ”كَسْرٌ“، اور اسی کے ساتھ گول تا ملا دیں: ”ضَمَّةٌ“، ”فَتْحَةٌ“، ”كَسْرَةٌ“۔ ”رَفْعٌ“، ”نَصْبٌ“، ”جَرٌّ“ یہ خاص ہیں کس کے ساتھ؟ معرب کے ساتھ۔ اور ”ضَمٌّ“، ”فَتْحٌ“، ”كَسْرٌ“ بغیر تا کے، یہ خاص ہیں کس کے ساتھ؟ مبنی کے ساتھ۔ اور گول تا ساتھ مل جائے: ”ضَمَّةٌ“، ”فَتْحَةٌ“، ”كَسْرَةٌ“، یہ یہ سب کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، معرب کے ساتھ بھی اور مبنی کے ساتھ بھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَحَرَكَاتُهُ تُسَمَّى ضَمًّا وَفَتْحًا وَكَسْرًا، وَسُكُونُهُ وَقْفًا“؛ اور اس کی حرکات کو ضمہ، فتحہ اور کسرہ کہتے ہیں، اور اس کے سکون کو وقف کہتے ہیں۔ ”وَهُوَ عَلَى ثَمَانِيَةِ أَنْوَاعٍ“؛ اور یہ جو مبنی ہے، جو ہے یہ آٹھ قسم پر ہے، مبنی کی آٹھ قسمیں ہیں اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ ”الْمُضْمَرَاتُ، وَأَسْمَاءُ الْإِشَارَاتِ، وَالْمَوْصُولَاتُ، وَأَسْمَاءُ الْأَفْعَالِ، وَالْأَصْوَاتُ، وَالْمُرَكَّبَاتُ، وَالْكِنَايَاتُ، وَبَعْضُ الظُّرُوفِ“. مضمرات، ضمیریں ہیں ساری بھئی۔ واسماء الاشارات، اسمائے اشارہ ہیں۔ موصولات، اسمائے موصولہ ہیں۔ اسماء الافعال، اسمائے افعال ہیں، یہ کچھ اسم ہیں جو ہیں تو اسم، معنی فعل والا ادا کرتے ہیں، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ اسمِ فعل۔ والاصوات، اصوات آوازیں ہیں۔ والمرکبات، کچھ مرکبات ہیں بھئی، جیسے یہ احد عشر سے لے کر تسعۃ عشر وغیرہ بھئی۔ اور کنایات ہیں کچھ، یہ بھی آگے آ جائیں گے۔ وبعض الظروف، اور کچھ ظروف ہیں بھئی۔ یہ ہیں بھئی آٹھ قسمیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
104 approved lectures · 76 of 104