فَصْلٌ: اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ اسْمٌ مُشْتَقٌّ مِنْ فِعْلٍ لَازِمٍ لِيَدُلَّ عَلَى مَنْ قَامَ بِهِ الْفِعْلُ بِمَعْنَى الثُّبُوتِ، وَصِيغَتُهَا عَلَى خِلَافِ صِيغَةِ اسْمِ الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ وَإِنَّمَا تُعْرَفُ بِالسَّمَاعِ كَحَسَنٍ وَصَعْبٍ وَظَرِيفٍ، وَهِيَ تَعْمَلُ عَمَلَ فِعْلِهَا مُطْلَقًا بِشَرْطِ الِاعْتِمَادِ الْمَذْكُورِ.
آج ہم صفتِ مشبہ کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تو مصنف فرماتے ہیں: ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ اسْمٌ مُشْتَقٌّ مِنْ فِعْلٍ لَازِمٍ“ کہ صفتِ مشبہ ایسا اسم ہے جو مشتق ہے فعلِ لازم سے۔ صفتِ مشبہ کس فعل سے بنتی ہے؟ فعلِ لازم سے بنتی ہے بھئی، فعلِ لازم سے۔ تو یہ ایسی صفت ہے، صفتِ مشبہ ایسا اسم ہے جو مشتق ہوتا ہے فعلِ لازم سے ”لِيَدُلَّ عَلَى مَنْ قَامَ بِهِ الْفِعْلُ“ تاکہ دلالت کرے اس ذات پر جس کے ساتھ فعل قائم ہو۔
جس کے ساتھ فعل قائم ہو۔ دیکھو اس میں فاعل میں بھی یہی تھا کہ اس کے ساتھ بھی فعل قائم ہوتا ہے۔ اس ذات پر دلالت کرتا ہے جس کے ساتھ فعل قائم ہوتا ہے۔ صفتِ مشبہ بھی ایسی ذات پر دلالت کرتی ہے جس کے ساتھ فعل قائم ہوتا ہے یعنی اس پر واقع نہیں ہوتا۔ اگر واقع ہو تو وہ کیا ہے؟ اسمِ مفعول۔ تو یہ دلالت کرتی ہے ایسی ذات پر جس کے ساتھ فعل قائم ہوتا ہے ”بِمَعْنَى الثُّبُوتِ“ کس معنی میں؟ ثبوت کے معنی میں۔ دیکھیے اس کے ذریعے اسمِ فاعل کو نکال دیا، وہ حدوث کے معنی میں ہوتا تھا اور یہ ثبوت کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت ہوتا ہے، زمانے سے اس کا تعلق نہیں بھئی۔
”وَصِيغَتُهَا عَلَى خِلَافِ صِيغَةِ اسْمِ الْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ“ اور اس کے صیغے جو ہیں صفتِ مشبہ کے، وہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں کے خلاف ہیں یعنی ان کے علاوہ ہیں۔ جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغے ہیں ان کے علاوہ ہیں یعنی اس کے اپنے الگ اوزان ہیں۔ ”وَإِنَّمَا تُعْرَفُ بِالسَّمَاعِ“ اور ان کو پہچانا جائے گا سماع سے۔ یعنی ان کا کوئی ضابطہ نہیں ہے، صیغوں کے اوزان کا کوئی ضابطہ نہیں۔ سماع سے پتہ چلے گا کہ عربوں نے کون کون سے وزن پر صفتِ مشبہ استعمال کی ہیں۔ ”كَحَسَنٍ وَصَعْبٍ وَظَرِيفٍ“ جیسے تین مثالیں ذکر کر دیں صفتِ مشبہ کی بھئی۔ حَسَن، یاد رکھیے یہ بھی صفتِ مشبہ ہے۔ وَصَعْبٌ، صَعْب بھی کیا ہے؟ صفتِ مشبہ۔
حَسَن کا معنی اچھا، اچھا ہونا، خوبصورت ہونا۔ تو حَسَن کا معنی ہے اچھا اور خوبصورت بھئی۔ وَصَعْبٌ، صَعْب کا معنی ہے مشکل۔ وَظَرِيفٌ، ظَرِيف کا معنی ہے خوش طبع، ہنسی مذاق کرنے والا، خوش طبع بھئی۔ تو تین اوزان ذکر کر دیے: حَسَن یہ بر وزنِ فَعَل، اور صَعْب بر وزنِ فَعْل، اور ظَرِيف بر وزنِ فَعِيل۔ تو یہ فَعِيل وزن جو ہے صفتِ مشبہ کا سب سے زیادہ عام اور کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ كَرِيمٌ، شَرِيفٌ، سَمِيعٌ، حَبِيبٌ یہ سب کیا ہیں؟ صفتِ مشبہ ہیں۔
”وَهِيَ تَعْمَلُ عَمَلَ فِعْلِهَا مُطْلَقًا“ اور یہ عمل کرتی ہے اپنے فعل والا ہی مطلقاً۔ مطلقاً اپنے فعل والا عمل کرے گی، کیا معنی مطلقاً؟ یعنی اس میں زمانے کی قید نہیں۔ کیونکہ اس میں زمانے کی بات ہی نہیں، اس میں حدوث ہے ہی نہیں، اس میں تو کیا ہے؟ ثبوت ہے۔ ایک چیز کا دوسری کے لیے ثبوت ہے، ہونا نہیں ہے۔ ایک چیز کا ہونا ہو، وہ تو کسی زمانے میں ہوگا، یا ماضی میں یا حال میں یا استقبال میں۔ اس میں ہونا نہیں بلکہ کیا ہے؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت ہے، تو یہ زمانے سے اس کا تعلق نہیں۔ جب زمانے سے تعلق نہیں تو لہٰذا یہاں پر حال اور استقبال کے معنی میں ہونے کی شرط بھی نہیں۔ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول میں تو حال یا استقبال کے معنی میں ہونے کی شرط بھی تھی پھر وہ عمل کرتے ہیں، یہاں ایسی شرط نہیں۔ اسی لیے کہا: ”وَهِيَ تَعْمَلُ عَمَلَ فِعْلِهَا مُطْلَقًا“ اور یہ اپنے فعل کا عمل کرتی ہے مطلقاً یعنی اس میں کوئی قید نہیں۔ مطلقاً کا کیا معنی ہے؟ قید وغیرہ نہیں ہے بھئی، مطلقاً اس کی طرح عمل کرے گی۔
”بِشَرْطِ الِاعْتِمَادِ الْمَذْكُورِ“ بشرطِ مذکورہ اعتماد کے۔ یعنی انہی چیزوں پر اعتماد البتہ کرے گی جن چیزوں پر اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول اعتماد کرتے تھے اور وہ کتنی چیزیں تھیں؟ وہ چھ چیزیں تھیں۔ کتنی چیزیں تھیں؟ چھ چیزیں تھیں۔ تو اس کے عمل کے لیے بھی شرط ہے کہ اس کا اعتماد ان میں سے کسی ایک چیز پر ہو۔ اور پھر ان میں سے اسمِ موصول جو ہے وہ بھی نکل گیا۔ کیونکہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کبھی کس پر اعتماد کرتے تھے؟ اسمِ موصول پر۔ اور کون سا اسمِ موصول مراد تھا؟ الف لام والا۔ اور وہ الف لام جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر آئے وہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ الَّذِي کے معنی میں۔ تو وہ اسمِ موصول پر اعتماد کرتے تھے کبھی کبھار عمل کرنے کے لیے۔ جبکہ صفتِ مشبہ پر جو الف لام آتا ہے وہ تو الف لام اسمی ہے ہی نہیں، وہ تو اسمِ موصول ہے ہی نہیں۔ لہٰذا اسمِ موصول پر اس کا اعتماد بھی نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو باقی پانچ چیزیں ہیں، ان میں سے کسی ایک پر یہ اعتماد کرے گی۔ کبھی مبتدا پر اعتماد ہوگا، کبھی ذو الحال پر، کبھی موصوف پر۔ جب مبتدا پر اعتماد ہو، معلوم ہوا یہ خبر بنے گی۔ جب ذو الحال پر اعتماد ہو، معلوم ہوا یہ حال بنے گی۔ جب موصوف پر اعتماد ہو، معلوم ہوا یہ صفت بنے گی۔ اور اسی طرح کبھی ہمزۂ استفہام پر اعتماد ہوگا اور کبھی حرفِ نفی پر اعتماد ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”بِشَرْطِ الِاعْتِمَادِ الْمَذْكُورِ“ مذکورہ اعتماد کی شرط کے ساتھ۔ ”وَمَسَائِلُهَا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ“ اور اس کے مسائل اٹھارہ ہیں بھئی۔ صفتِ مشبہ کے مسائل اٹھارہ قسم پر ہیں بھئی۔
بھئی اس کے لیے ایک نقشہ بنانا ہوگا کاپی میں، نقشہ بنائیے بھئی۔ تو نقشہ بنائیے، یہ نقشہ آپ بنائیں گے تو پھر آپ کو اس کا عمل صحیح طرح سمجھ میں آئے گا بھئی۔ اور یاد رکھیے نقشے کی چوڑائی زیادہ ہوگی۔ چوڑائی زیادہ ہوگی کیونکہ ہم نے اوپر سے نیچے کی طرف لمبائی میں چھ خانے چاہئیں، چھ خانے۔ اور وہ چھ کے چھ خانے بھی خوب ذرا کھلے کھلے ہوں تاکہ اس میں آپ مثالیں واضح طریقے سے لکھ سکیں بھئی۔ تو خوب چوڑا نقشہ ہوگا بھئی۔
سب سے پہلے اوپر لکھ لیں: ”مَسَائِلُ الصِّفَةِ الْمُشَبَّهَةِ“، ”مَسَائِلُ الصِّفَةِ الْمُشَبَّهَةِ“ صفتِ مشبہ کے مسائل۔ لکھ لیا بھئی؟ اب یوں کیجیے، یہ جو آپ نے اوپر صفحے کے سب سے اوپر درمیان میں، سب سے اوپر اور درمیان میں یہ عنوان دینا ہے: ”مَسَائِلُ الصِّفَةِ الْمُشَبَّهَةِ“۔ اب اس کے نیچے سے ایک لکیر کھینچیے کہ صفحے کے دو حصے بن جائیں بھئی۔ اوپر سے نیچے کی طرف، ہاں، اوپر سے عنوان کے پاس سے شروع کریں عنوان کے پاس درمیان سے نیچے سے، اور صفحے ایک دائیں طرف حصہ ہو جائے گا ایک بائیں طرف حصہ ہو جائے گا صفحے کا۔ دو حصے بن گئے؟ اچھا، اب ایک طرف اوپر لکھیے اس کے: ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ بِاللَّامِ“، ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ بِاللَّامِ“ أي ”الْحَسَنُ“، ”الْحَسَنُ“۔ دیکھا؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ صفتِ مشبہ معرف باللام ہو بھئی، لام کے ساتھ ہو، جیسے مثال کیا ہے: ”الْحَسَنُ“، حسن کے اوپر الف لام آ گیا۔
اچھا، دوسری طرف، دوسری جانب میں لکھیے: ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ بِدُونِ اللَّامِ“، ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ بِدُونِ اللَّامِ“ مِثْلُ ”حَسَنٍ“، مِثْلُ ”حَسَنٍ“۔ ہاں، اور ما قبل والے میں بھی کر دیں مِثْلُ ”الْحَسَنِ“، پہلی جانب میں بھی أي کے بجائے مثل کر دیں: مِثْلُ ”الْحَسَنِ“۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب یہ جو ایک جانب صفحے کا آدھا حصہ ہے، اب اس کو مزید تقسیم کریں، تین خانے اب بنا دیں اس میں کل تین کر دیں جو اس میں آپ نے لکھا نا دائیں جانب والا خانہ ہے جس میں آپ نے لکھا ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ بِاللَّامِ“۔ تو اس میں تین خانے کرنے ہیں یعنی دو لکیریں کھینچ دیں تاکہ تین خانے بن جائیں، اوپر سے نیچے کی طرف۔ اوپر سے نیچے کی طرف دو لکیریں کھینچیں تاکہ اس کے تین خانے بن جائیں۔ دوسری جانب بھی اسی طرح ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ بِدُونِ اللَّامِ“ اس میں بھی اسی طرح اوپر سے نیچے کی طرف، اوپر سے نیچے کی طرف دو لکیریں کھینچیں تاکہ اس نصف کے بھی تین خانے بن جائیں۔ بنا لیا؟
اچھا، اب آئیے پہلے خانے میں۔ پہلا کون سا ہے؟ ”اَلصِّفَةُ الْمُشَبَّهَةُ بِاللَّامِ“۔ اس میں پہلے خانے کے اوپر لکھیے: مَعْمُولُهَا... پہلا خانہ، پہلا خانہ جو دائیں طرف جو سب سے دائیں طرف پہلا خانہ ہے پہلے نصف میں، اس پر لکھیے: مَعْمُولُهَا بِالْإِضَافَةِ، مَعْمُولُهَا بِالْإِضَافَةِ مِثْلُ ”وَجْهِهِ“، مِثْلُ ”وَجْهِهِ“۔ وَجْهٌ چہرے کو کہتے ہیں نا، اسی کے ساتھ ایک اور ضمیر بھی ساتھ جوڑ دیں۔ تو یہ وَجْهٌ کی کیا ہے؟ ہا ضمیر کی طرف اضافت ہو رہی ہے کیونکہ آپ نے پڑھا ہے، تو وَجْهٌ کی یہ ضمیر کی طرف اضافت ہو رہی ہے کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ اسم کے ساتھ ضمیر متصل آ جائے تو آپس میں کیا بنتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں۔ تو کیا لکھا پہلے خانے میں؟ مَعْمُولُهَا بِالْإِضَافَةِ مِثْلُ ”وَجْهِهِ“، یہ وَجْهٌ کے ساتھ ایک ضمیر بھی آپ نے جوڑ دی، وَجْهِهِ۔
دوسرے خانے میں لکھیے: مَعْمُولُهَا بِاللَّامِ، مَعْمُولُهَا بِاللَّامِ مِثْلُ ”الْوَجْهِ“، مِثْلُ ”الْوَجْهِ“۔ اور تیسرے خانے میں لکھیے: مَعْمُولُهَا مُجَرَّدًا عَنْهُمَا، مَعْمُولُهَا... مَعْمُولُهَا مُجَرَّدًا عَنْهُمَا، مُجَرَّدًا عَنْهُمَا مِثْلُ ”وَجْهٍ“، مِثْلُ ”وَجْهٍ“، مِثْلُ ”وَجْهٍ“۔ لکھ لیا بھئی؟ اب دوسرے نصف میں آئیے، اس میں بھی یہی عنوانات آپ نے دینے ہیں۔ پہلے پر عنوان دیجیے، پہلے کا عنوان کیا دیں گے؟ ہاں، مَعْمُولُهَا بِالْإِضَافَةِ۔ دوسری جانب کے پہلے خانے میں بھی اسی طرح لکھیے: مَعْمُولُهَا بِالْإِضَافَةِ مِثْلُ ”وَجْهِهِ“۔ دوسرے خانے میں لکھیے: مَعْمُولُهَا بِاللَّامِ، مَعْمُولُهَا بِاللَّامِ مِثْلُ ”الْوَجْهِ“۔ اور تیسرے میں لکھیے: مَعْمُولُهَا مُجَرَّدًا عَنْهُمَا، مَعْمُولُهَا... مَعْمُولُهَا مُجَرَّدًا عَنْهُمَا، مُجَرَّدًا عَنْهُمَا مِثْلُ ”وَجْهٍ“، مِثْلُ ”وَجْهٍ“۔
اب ان سارے عنوانات کے نیچے لکیر کھینچ دیں، کیونکہ اب نیچے مثالیں شروع ہوں گی تاکہ مثالوں میں اور عنوانات میں فرق ہو جائے۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، بات کو پہلے سمجھ لیں پھر آپ کے لیے آسان ہو جائے گا۔ دیکھو صفتِ مشبہ عمل کرے گی تو صفتِ مشبہ کبھی الف لام کے ساتھ ہوگی اور کبھی بغیر الف لام کے۔ الف لام کے ساتھ ہو تو یہ دائیں جانب کے تین خانوں میں مثالیں آئیں گی، اور بغیر الف لام کے ہو تو بائیں طرف کے تین خانوں میں اس کی مثالیں آئیں گی بھئی۔ پھر جب الف لام کے ساتھ صفتِ مشبہ ہو تو اس کا جو معمول ہوگا وہ یا مضاف ہوگا، معمول یا اس کا مضاف ہوگا یا معرف باللام ہوگا یا ان دونوں سے خالی ہوگا۔ اسی طرح اگر صفتِ مشبہ بغیر الف لام کے ہو تو وہاں بھی یہی تین صورتیں: یا تو اس کا معمول کس کے ساتھ ہوگا؟ اضافت کے ساتھ ہوگا، یا لام کے ساتھ ہوگا، یا ان دونوں کے بغیر ہوگا۔ اور مثال بھی میں نے ساتھ وَجْهُهُ، اَلْوَجْهُ، اور وَجْهٌ تینوں ذکر کر دیے۔ وَجْهُهُ میں کیا ہے؟ مضاف ہے، معمول وَجْهُ صفتِ مشبہ وَجْهٌ میں عمل کرے گی، اور وَجْهٌ کے آخر میں ہا ضمیر جڑی ہوئی ہے تو اس کا معمول دیکھو کیا بن گیا؟ مضاف۔ یہ وَجْهُ مضاف بن رہا ہے۔ دوسری صورت میں عمل اَلْوَجْهُ میں کرے گی اور وہ کیا ہے؟ معرف باللام۔ اور تیسری صورت میں عمل کرے گی وَجْهٌ میں اور وہ ہے بغیر لام کے اور بغیر اضافت کے۔
اب یاد رکھیے، اب مثالیں لکھتے جائیے بھئی۔ پہلا خانہ جو تھا سب سے پہلا خانہ، وہ جو صفتِ مشبہ الف لام کے ساتھ ہو یعنی ”الْحَسَنُ“، ”الْحَسَنُ“ اس کی جانب میں جو تین خانے ہیں ان میں سے جو پہلا خانہ ہے، کون سا؟ مَعْمُولُهَا بِالْإِضَافَةِ۔ تو اس کا معمول کون ہوگا؟ معمول ”وَجْهُهُ“ ہوگا، اور عمل کون کرے گی؟ صفت کیا ہے؟ ”الْحَسَنُ“۔ تو ”الْحَسَنُ“ نیچے مثال اب لکھیے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهُهُ“، ”اَلْحَسَنُ وَجْهُهُ“۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو ”اَلْحَسَنُ وَجْهُهُ“ غور سے ذرا اس کو سمجھ لیں، یہ ”الْحَسَنُ“ یہ صفتِ مشبہ ہے، معرف باللام ہے، اور یہ ”وَجْهُهُ“ میں عمل کر رہی ہے اور ”وَجْهُ“ کو رفع دے رہی ہے۔ تو ”اَلْحَسَنُ وَجْهُهُ“۔ اسی کے نیچے ایک آدھ سطر چھوڑ کر دوسری مثال دیں: ”اَلْحَسَنُ وَجْهَهُ“، ”اَلْحَسَنُ وَجْهَهُ“۔ دیکھو صفتِ مشبہ ہے، معرف باللام ہے، اور یہ عمل کر رہی ہے ایسے معمول میں جو آگے کیا ہو رہا ہے؟ جو آگے مضاف ہو رہا ہے، اور یہاں اس کو نصب دے رہی ہے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهَهُ“۔ تیسری مثال لکھیے جر کے ساتھ: ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“، ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“۔ سب کے درمیان ایک ایک یا دو دو سطروں کا کم از کم فاصلہ دینا ہے بھئی، ایک سطر کا بھی فاصلہ ہو کافی ہے، لیکن بالکل ایک لکیر میں ایک، دوسری میں دوسرا، تیسری میں تیسرا ایسے نہیں لکھنا۔ درمیان میں ایک ایک سطر چھوڑ دیں خالی اور ہو تو دو دو چھوڑ دیں، تو بہرحال جیسے بھی ہو دور دور ہوں۔ تو دیکھا؟ صفتِ مشبہ کیا ہے؟ معرف باللام ہے اور اس کا معمول مضاف ہو رہا ہے اور اس پر کبھی رفع رہا ہے، کبھی نصب، کبھی جر۔
اسی طرح تین مثالیں اگلے خانے میں بھی لکھیے، لیکن وہاں معرف باللام لائیں گے۔ پہلی مثال: ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهُ“ دیکھو رفع دے رہی ہے، ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهُ“، ”الْوَجْهُ“۔ ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهَ“ اگلی اگلی مثال نصب کے ساتھ ہے نیچے والی لکیر میں: ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهَ“۔ تیسری مثال ہے جر کے ساتھ بھئی: ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهِ“، ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهِ“۔ دوسرے خانے میں بھی تین مثالیں لکھ دیں؟ جی۔ اس سے اگلے خانے میں آئیے، اب اس میں وَجْهٌ بغیر اضافت اور بغیر الف لام کے وہ معمول ہے، تو ”اَلْحَسَنُ وَجْهٌ“ پہلی مثال رفع کے ساتھ۔ اس سے نیچے اب لکھیے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهًا“ الف کے ساتھ، ”اَلْحَسَنُ وَجْهًا“ اب اس پر نصب ہے۔ اور اس سے نیچے لکھیے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب اگلے نصف میں آئیے کہ صفتِ مشبہ بغیر الف لام کے ہو اور پھر اس کا معمول کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، منصوب ہوگا، یا مجرور۔ تو پہلی مرفوع کی مثال: ”حَسَنٌ وَجْهُهُ“۔ اب الف لام اس پر نہ لانا، اور ”وَجْهُهُ“ پر رفع لکھنا۔ ”حَسَنٌ“ اب تنوین بھی آئے گی نا کیونکہ الف لام تو نہیں ہے، ”حَسَنٌ“ کے آخر میں تنوین آ جائے گی۔ تو صفتِ مشبہ پر تنوین بھی آئے گی یہاں پر بھئی کیونکہ اس پر الف لام بھی نہیں ہے اور اضافت بھی نہیں ہو رہی، تو ”حَسَنٌ وَجْهُهُ“۔ اس سے نیچے دوسری مثال آئے گی نصب والی: ”حَسَنٌ وَجْهَهُ“، ”حَسَنٌ وَجْهَهُ“۔ اور تیسری مثال اس سے نیچے جو ہے وہ اضافت والی ہے، اضافت والی ہے، اور اضافت میں ”حَسَنٌ“ سے تنوین گر جائے گی: ”حَسَنُ وَجْهِهِ“، ”حَسَنُ وَجْهِهِ“۔
اب دوسرے خانے میں آئیے کہ صفتِ مشبہ کا معمول الف لام کے ساتھ ہو، اسی طرح ”حَسَنٌ الْوَجْهُ“۔ ”حَسَنٌ“ پر تنوین اور ”الْوَجْهُ“ پر رفع، ”حَسَنٌ الْوَجْهُ“۔ نیچے اب دوسری مثال لکھیے نصب کے ساتھ: ”حَسَنٌ الْوَجْهَ“، ”حَسَنٌ الْوَجْهَ“۔ تیسری مثال اضافت کے ساتھ لکھیے اور اس میں حسن سے تنوین گر جائے گی: ”حَسَنُ الْوَجْهِ“، ”حَسَنُ الْوَجْهِ“۔
اب تیسرے خانے میں آئیے، آخری خانے میں، کہ جس میں صفتِ مشبہ بغیر الف لام کے ہے اور اس کا معمول بھی بغیر الف لام کے اور بغیر اضافت کے ہے۔ تو پہلی مثال: ”حَسَنٌ وَجْهٌ“، ”حَسَنٌ وَجْهٌ“۔ دوسری مثال نصب کے ساتھ: ”حَسَنٌ وَجْهًا“ اب آخر میں الف بھی آ جائے گا وَجْهٌ کے، ”حَسَنٌ وَجْهًا“۔ اور تیسری مثال اضافت کے ساتھ تو حسن سے تنوین گر جائے گی: ”حَسَنُ وَجْهٍ“، ”حَسَنُ وَجْهٍ“۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے، دوبارہ دیکھ لیجیے اس نقشے کو۔ صفتِ مشبہ جب الف لام کے ساتھ ہو تو اس کا جو معمول ہے وہ اضافت کے ساتھ ہوگا یا الف لام کے ساتھ ہوگا یا ان دونوں کے بغیر۔ اگر صفتِ مشبہ الف لام کے ساتھ ہو اور اس کا معمول اضافت کے ساتھ ہو تو پھر وہ معمول مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور، تو تین مثالیں ذکر کر دیں: ”اَلْحَسَنُ وَجْهُهُ“ مرفوع ہے معمول، ”اَلْحَسَنُ وَجْهَهُ“ یہاں معمول کیا ہے منصوب، اور تیسری صورت ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“ یہاں پر جو معمول ہے وہ کیا ہے مجرور۔ دوسری صورت کہ صفتِ مشبہ الف لام کے ساتھ ہی ہے، اس کا معمول وہ بھی معرف باللام ہے، تو پھر وہ بھی معمول وہ مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور: ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهُ“ یہ دیکھو مرفوع ہے، ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهَ“ منصوب ہے، ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهِ“ مجرور ہے۔ تیسرے خانے میں کہ صفتِ مشبہ تو الف لام کے ساتھ ہے البتہ اس کا جو معمول ہے وہ بغیر الف لام اور بغیر اضافت کے ہے، وہ بھی پھر یا مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور: ”اَلْحَسَنُ وَجْهٌ“، ”اَلْحَسَنُ وَجْهًا“، ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“۔ تو یہ کل نو قسم کے ہو گئے مسائل ایک جانب، ایک جانب۔ اور دوسری جانب بھی اسی طرح نو قسم کے مسائل ہو گئے، تو کل کتنے ہوئے؟ اٹھارہ۔ یہ ہیں صفتِ مشبہ کے مسائل اٹھارہ قسم کے۔
اب اس میں سے دیکھیے، اس میں سے دیکھیے دو مسائل، دو قسم کے صورتیں وہ ممتنع ہیں، جائز نہیں ہیں۔ دو صورتیں جائز نہیں ہیں: ایک ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“، مل گئی جگہ؟ ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“، اس کے نیچے لکھ دیجیے کہ یہ صورت ممتنع ہے یا لکھ دیجیے جائز نہیں ہے بھئی، کہ یہ صورت جائز نہیں ہے۔ لکھ لیا؟ اب یہ بھی سمجھ لیں کہ یہ کیوں جائز نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے، ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“، ”الْحَسَنُ“ ہے مضاف اور ”وَجْهٍ“ کیا ہے؟ مضاف الیہ ہے بھئی۔ اور ہوتا کیا ہے؟ مضاف نکرہ ہوتا ہے، مضاف الیہ معرفہ ہوتا ہے، اور یہاں برعکس ہے: ”الْحَسَنُ“ مضاف معرفہ ہے اور ”وَجْهٍ“ مضاف الیہ نکرہ ہے، اس لیے یہ جائز نہیں بھئی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟
دوسری صورت: ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“ یہ بھی جائز نہیں، ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“ جس میں اضافت ہے یعنی معمول مجرور ہے اضافت کی وجہ سے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“۔ پہلے خانے میں سب سے نچلی مثال ہے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“، یہ بھی جائز نہیں بھئی۔ یہ کیوں نہیں جائز؟ وجہ اس کی یہ کیونکہ دیکھو یہ صیغہ ہے، ”الْحَسَنُ“ صیغہ ہے صفت کا اور مضاف ہو رہا ہے اپنے معمول کی طرف، اور صفت کا صیغہ مضاف ہو اپنے معمول کی طرف تو یہ اضافتِ لفظی ہے بھئی۔ اور آپ نے پڑھا ہے کہ اضافتِ لفظی ہے بھئی، اضافتِ لفظی میں صیغہ صفت کا ہوتا ہے اور صفت سے کون سی صفت مراد ہے؟ صرف تین صیغے مراد ہیں: اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، اور صفتِ مشبہ، یہ تین صفات مراد ہیں بس۔ تو صفتِ مشبہ بھی ان میں شامل ہوئی۔ تو صیغہ صفت کا ہے اور مضاف ہے کس کی طرف؟ اپنے معمول کی طرف، تو یہ اضافتِ لفظی ہوئی۔
اور اضافتِ لفظی کو اضافتِ لفظی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے۔ لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، اور کیا تخفیف؟ کہ مضاف سے تنوین کو گرا دیتی ہے یا قائم مقامِ تنوین یعنی نونِ تثنیہ اور نونِ جمع کو گرا دیتی ہے۔ اور نیز اسی طرح یاد رکھیے، مضاف الیہ کے ساتھ اگر ضمیر جڑی ہوئی ہو تو اس سے ضمیر کو گرا دیتی ہے۔ اضافتِ لفظی بھئی لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، اور کیا تخفیف کرتی ہے؟ مضاف سے تنوین اور قائم مقامِ تنوین کو گرا دیتی ہے، اور مضاف الیہ کے ساتھ اگر کوئی ضمیر جڑی ہوئی ہو تو اس ضمیر کو گرا دیتی ہے اور اس ضمیر کے عوض پھر مضاف پر وہ جو مضاف الیہ ہے، وہ جو معمول ہے، اس پر الف لام لے آتے ہیں۔ تو ”وَجْهِهِ“ یہ ہا ضمیر کو گرنا چاہیے اور اس پر الف لام: ”الْوَجْهِ“، ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهِ“ پھر یوں ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو اضافتِ لفظی لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے۔ کیا کام کرتی ہے مضاف سے؟ تنوین اور قائم مقامِ تنوین کو گرا دیتی ہے۔ اور یہاں مضاف کون ہے؟ ”الْحَسَنُ“۔ اور مجھے بتائیے، اس اضافت نے ”الْحَسَنُ“ سے تنوین گرائی؟ تو مجھے بتائیے، اس نے تنوین گرائی؟ اضافت نے ”الْحَسَنُ“ سے تنوین گرائی؟ تنوین نہیں گرائی، اس لیے کیونکہ ”الْحَسَنُ“ پر تو الف لام داخل ہے اور الف لام ہو تو تنوین تو آتی ہی نہیں، تنوین تو اضافت سے پہلے کی گری ہوئی ہے۔ یہاں تنوین اضافت کی وجہ سے نہیں گری بلکہ کس کی وجہ سے گری ہے؟ اضافت سے پہلے الف لام کی وجہ سے گری ہے تنوین۔ تو اضافت نے دیکھو مضاف میں کوئی تخفیف پیدا نہیں کی۔ اچھا چلو کم از کم پھر مضاف الیہ میں تخفیف پیدا کر دے اور کیا کرے؟ اس کے ساتھ جو ضمیر جڑی ہوئی ہے اس کو گرا دے، اور یہاں اس نے اضافت کی وجہ سے کوئی اضافت کی وجہ سے وہ ضمیر گری؟ نہیں، وہ بھی ابھی موجود ہے۔ تو دیکھو یہ ہے اضافتِ لفظی: ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“، اور نہ مضاف میں کوئی تخفیف آئی اور نہ مضاف الیہ میں تخفیف آئی۔ اضافتِ لفظی کا تو فائدہ ہی صرف یہ تھا کہ وہ صرف لفظوں میں تخفیف پیدا کرتی اور تو کوئی فائدہ دیتی ہی نہیں ہے۔ تو وہ فائدہ ہی جب حاصل نہیں ہوا تو یہ اضافت بالکل بے کار ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں۔ نہ لفظوں میں تخفیف آ رہی ہے اور نہ معنی کے اندر کوئی تخصیص یا تعریف والا فائدہ حاصل ہو رہا ہے، تو لہٰذا یہ صورت بھی جائز نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے نیچے بھی لکھ لیجیے کہ یہ صورت جائز نہیں بھئی، یہ صورت جائز نہیں بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟
تو یہ دو صورتیں: ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“ یہ بھی جائز نہیں، اور ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“ یہ بھی جائز نہیں۔ اور ایک صورت ہے اس میں اختلاف ہے، ایک صورت، اور وہ ہے ”حَسَنُ وَجْهِهِ“۔ ”حَسَنُ وَجْهِهِ“ مثال مل گئی بھئی؟ صفت صفتِ مشبہ بغیر الف لام کے ہے اور معمول جو ہے وہ اضافت کے ساتھ ہے: ”حَسَنُ وَجْهِهِ“، یعنی دوسرے نصف کے پہلے خانے میں اور سب سے نچلی مثال ہے: ”حَسَنُ وَجْهِهِ“۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعض علماء کہتے ہیں یہ جائز ہے، بعض کہتے ہیں یہ جائز نہیں، بعض علماء کہتے ہیں یہ صورت جائز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں اس لیے، توجہ ہے؟ ”حَسَنُ وَجْهِهِ“، وہ فرماتے ہیں کہ یہ اضافت ہو رہی ہے اور یہ اضافتِ لفظی ہے۔ اور اضافتِ لفظی مضاف سے تنوین اور قائم مقامِ تنوین کو ختم کر دیتی ہے، اور یہاں بھی ”حَسَنٌ“ سے تنوین گر گئی اضافت کی وجہ سے۔ یہاں بھی تنوین گر گئی، اور نیز اضافتِ لفظی مضاف الیہ کے ساتھ اگر کوئی ضمیر جڑی ہوئی ہو اس کو گرا دیتی ہے اور اس کی جگہ الف لام اس پر آ جاتا ہے۔ لیکن یہاں پر ضمیر جڑی ہوئی ہے، ضمیر نہیں گری اور اس کی جگہ الف لام نہیں آیا۔ تو ٹھیک ہے، مضاف میں تو تخفیف آ گئی ”حَسَنٌ“ میں لیکن مضاف الیہ جو ”وَجْهِهِ“ ہے اس کے اندر اس میں تخفیف نہیں آئی، تخفیف نہیں آئی۔ تو تخفیف تھوڑی تو حاصل ہو گئی، تخفیف کا ادنیٰ درجہ تو حاصل ہو گیا لیکن اعلیٰ درجہ بھی تو یہاں ممکن تھا، ہو سکتا تھا یا نہیں؟ تو جب تخفیف کا اعلیٰ درجہ ممکن تھا اور پھر بھی اس پر عمل نہیں کیا گیا لہٰذا یہ صورت بھی جائز نہیں ہے بھئی، یہ صورت بھی جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں تخفیف کا اعلیٰ درجہ ممکن تھا اور اعلیٰ درجہ کیا؟ کہ مضاف میں بھی تخفیف آئے اور مضاف الیہ میں بھی تخفیف آئے۔ یہاں صرف مضاف میں تو تخفیف آئی، مضاف الیہ میں کوئی تخفیف نہیں آئی تو یہ تخفیف آ تو گئی لیکن تھوڑی سی تخفیف آئی اور جہاں زیادہ تخفیف ممکن تھی پھر بھی تھوڑے پر عمل کیا گیا لہٰذا یہ جائز نہیں۔ جب زیادہ ممکن ہے تو پوری تخفیف کرنا پڑے گی، مضاف میں بھی تخفیف کرنا پڑے گی اور مضاف الیہ میں بھی تخفیف کرنا پڑے گی۔ تو وہ فرماتے ہیں یہ صورت بھی جائز نہیں، جبکہ دیگر علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ صورت جائز ہے کہ بے شک اعلیٰ درجے کی تخفیف نہیں آئی لیکن کم از کم کچھ نہ کچھ تخفیف تو حاصل ہوئی، کچھ تو فائدہ حاصل ہو گیا لہٰذا یہ جائز ہے۔ تو لہٰذا اس صورت میں یہ یہ صورت مختلف فیہ ہے۔ یہ صورت کیا ہے؟ مختلف فیہ ہے یعنی اس میں اختلاف ہے علماء کا۔ تو اس کے نیچے لکھ لیجیے: ”مُخْتَلَفٌ فِيهِ“، ”مُخْتَلَفٌ فِيهِ“۔
اور باقی باقی مثالیں جو پندرہ مثالیں باقی رہ گئیں بھئی، پندرہ مسائل باقی رہ گئے۔ ان میں یاد رکھیے کچھ صورتیں احسن ہیں، کچھ صورتیں حسن ہیں، اور کچھ صورتیں قبیح ہیں۔ احسن ہیں یعنی بہترین ہیں۔ کچھ صورتیں حسن ہیں کہ چلو ٹھیک ہیں، بہترین تو نہیں لیکن بہرحال ٹھیک ہیں۔ اور کچھ صورتیں قبیح ہیں یعنی ناپسندیدہ، بری ہیں بھئی، بری ہیں۔ تو کون سی صورت احسن ہے، کون سی صورت حسن ہے، اور کون سی صورت قبیح ہے وہ میں آپ کو ضابطہ بتا دیتا ہوں، آپ خود پھر فوراً نکال سکتے ہیں کہ کون سی صورت کا حکم کیا ہے۔
یاد رکھیے، یاد رکھیے یہ جو صفت ہے نا صفت، اس پر جو ہم نے اعراب پڑھا: ”الْحَسَنُ“ ضمہ پڑھ رہے ہیں، رفع پڑھ رہے ہیں، رفع۔ اسی طرح ”حَسَنٌ“ یہ بھی اس پر بھی میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ رفع۔ یاد رکھیے یہ موقع کے مطابق اس پر آئے گا۔ اگر یہ صفت کیا ہے خبر بن رہی ہوگی تو یہ کیا بنے گی؟ یہ کیا ہوگی؟ مرفوع۔ اگر یہ صفت بن رہی ہوگی تو جو موصوف کا اعراب ہوگا وہی اس حسن کا بھی اعراب ہوگا، اور اگر یہ حال بن رہی ہے تو پھر اس پر نصب آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس کا اعراب کچھ بھی ہو سکتا ہے، اس سے ہماری بحث نہیں، ویسے سمجھانے کے لیے میں نے سب پہ رفع ہی لکھوا دیا آپ کو۔ البتہ اس کا معمول اس میں یہی یا رفع آئے گا یا نصب یا جر۔
اب یاد رکھیے، یہ جو صفتِ مشبہ ہے یہ اپنے معمول کے ساتھ مل کر شبہ جملہ بنے گی۔ بنے گی یا نہیں؟ اپنے فاعل اور مفعول وغیرہ سے مل کر شبہ جملہ، اور شبہ جملہ کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، کوئی ضمیر چاہیے جو اس کی طرف لوٹے۔ اگر یہ صفت بن رہی ہے تو اس میں موصوف کی ضمیر چاہیے، اگر یہ خبر بن رہی ہے تو اس میں مبتدا کے لیے ضمیر چاہیے، اگر یہ حال بن رہی ہے تو اس میں ذو الحال کے لیے ضمیر چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ توجہ ہے؟ تو صفت اس میں ہمیں ایک ضمیر ضرور چاہیے۔
اب وہ صورتیں جن میں ایک ضمیر ہے، ہمیں چاہیے بھی ایک ضمیر اور اس مجموعے میں ہو بھی ایک ضمیر، تو وہ صورت احسن ہے، سب سے اچھی ہے۔ اور بعض صورتوں میں دو ضمیریں ملیں گی آپ کو، تو وہ صورت حسن ہے، حسن ہے۔ کیونکہ ضرورت ایک ضمیر کی تھی اور آئیں دو ضمیریں، تو ایک چیز زائد آ گئی تو یہ پسندی اتنی بہتر نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ صورت پھر حسن ہے۔ اور اگر مجموعے میں کوئی بھی ضمیر نہ ہوئی تو پھر یہ قبیح ہے، بری صورت ہے، ناپسندیدہ ہے۔ کیا ضابطہ ہوا؟ احسن کون سی صورت ہوگی؟ کہ اس مرکب میں یہ جو صفت اور اس کا معمول ہے اس سارے مجموعے میں ایک ضمیر ہمیں چاہیے، اگر ایک ہی ضمیر ہو اس سارے مجموعے میں تو پھر یہ احسن ہے۔ اور اگر دو ہوں تو؟ تو یہ حسن ہے کیونکہ ایک زائد ہے، بے کار ہے ایک ضمیر۔ اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو پھر یہ قبیح ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ قبیح۔
اب یاد رکھیے، یہ صفتِ مشبہ ہے اور صفتِ مشبہ کے اپنے اندر ضمیر کب ہوگی اور کب نہیں ہوگی؟ آپ جانتے ہیں کہ صفتِ مشبہ کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے، تو فاعل اس کے اندر ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور آگے اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے۔ اگر آگے اسمِ ظاہر مرفوع ہے تو معلوم ہوا وہ فاعل ہے، تو پھر اس کے اندر اب ضمیر نہیں ہوگی۔ تو یہ صفتِ مشبہ کے لیے صفتِ مشبہ اس اسمِ ظاہر کو رفع دے رہی ہے، وہ اس کے لیے فاعل ہے، اس کے اپنے اندر کوئی ضمیر نہیں۔ اور اگر آگے اسمِ ظاہر مرفوع نہیں تو پھر معلوم ہوا اسی کے اندر فاعل تو ضرور چاہیے وہ اسی کے اندر پھر ضمیر نکالتے ہیں۔ تو پھر اس صورت میں ”الْحَسَنُ“ کے اندر بھی کیا ہوگی؟ ضمیر ہوگی بھئی۔
اب آئیے سب مثالوں کو دیکھتے ہیں کہ کس کا کیا حکم ہے۔ سب سے پہلی مثال کیا ہے؟ ”اَلْحَسَنُ وَجْهُهُ“، جی۔ ”الْحَسَنُ“ میں ضمیر ہے؟ نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ ”وَجْهُهُ“ آگے مرفوع ہے، وہ اس کا فاعل بن رہا ہے تو اب اس کے اندر ضمیر نہیں۔ جیسے دیکھو آپ کہتے ہیں ”ضَرَبَ زَيْدٌ“، جب ضَرَبَ کے لیے زید فاعل بن رہا ہے تو ضَرَبَ کے اندر کوئی ضمیر نہیں کیونکہ فاعل زید ہے۔ اور جب آگے زید نہیں ہوگا تو پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ ضَرَبَ کے اندر هُوَ ضمیر نکالتے ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح، تو جب ”الْحَسَنُ“ کے آگے ”وَجْهُهُ“ مرفوع ہے تو وہ فاعل ہے، تو ”الْحَسَنُ“ کے اندر کوئی ضمیر نہیں۔ تو ”الْحَسَنُ“ کے اندر کوئی ضمیر نہیں، اور ”وَجْهُهُ“ کے ساتھ کوئی ضمیر ہے؟ اس کے ساتھ ایک ضمیر ہے۔ تو ”اَلْحَسَنُ وَجْهُهُ“ اس پورے مجموعے میں کتنی ضمیریں ہیں؟ ایک ہی ضمیر ہے، تو یہ کون سی صورت ہوگی؟ یہ احسن ہوگی، شاباش۔
اس سے نیچے والی مثال میں آئیے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهَهُ“ کہ معمول منصوب ہے۔ اب مجھے بتائیے، ”الْحَسَنُ“ میں کوئی ضمیر ہے؟ اب اس میں ضمیر ہے کیونکہ آگے فاعل نہیں آ رہا تو اس کے اندر هُوَ ضمیر، اور ”وَجْهَهُ“ کے ساتھ بھی کوئی ضمیر ہے؟ اس کے ساتھ بھی ضمیر ہے۔ تو کتنی ضمیریں ہو گئیں مجموعے میں ”اَلْحَسَنُ وَجْهَهُ“؟ دو ضمیریں ہوئیں، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ یہ حسن ہو گئی۔ یہ حسن ہوئی۔
اور اس سے نیچے والی صورت تو جائز نہیں: ”اَلْحَسَنُ وَجْهِهِ“۔ اگلے خانے میں آئیے: ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهُ“، اب مجھے بتائیے، ”الْحَسَنُ“ میں ضمیر ہے؟ نہیں ہے۔ ”الْوَجْهُ“ میں؟ نہیں ہے۔ نہ ”الْحَسَنُ“ میں ضمیر، نہ ”الْوَجْهُ“ میں ضمیر، تو مجموعے میں کوئی ضمیر نہیں تو کون سی صورت ہوئی؟ یہ قبیح ہے، ناپسندیدہ ہے۔ قبیح ہے۔
اس سے نچلی مثال میں آئیے: ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهَ“، اب مجھے بتائیے، ”الْحَسَنُ“ میں ضمیر ہے؟ اس میں ضمیر ہے کیونکہ آگے فاعل کوئی نہیں، اور ”الْوَجْهَ“ میں؟ نہیں ہے۔ تو مجموعے میں کتنی ضمیریں ہوئیں؟ ایک ضمیر ہوئی، تو معلوم ہوا ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهَ“ یہ کیا ہے؟ یہ احسن ہے۔ احسن ہے، لکھتے جائیے ہر ایک کے ساتھ بھئی، احسن ہے۔
اس سے اگلی صورت کیا ہے؟ ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهِ“ اضافت کے ساتھ۔ تو ”الْحَسَنُ“ میں ضمیر ہے؟ جی اس میں ضمیر ہے۔ ”الْوَجْهِ“ میں ضمیر ہے؟ اس میں ضمیر نہیں، تو مجموعے میں کتنی ضمیریں ہوئیں؟ ایک، معلوم ہوا ”اَلْحَسَنُ الْوَجْهِ“ میں ایک ضمیر ہے تو اس کا کیا حکم ہوا؟ یہ احسن صورت ہے بھئی، احسن ہے۔
اس سے آگے آئیے بھئی: ”اَلْحَسَنُ وَجْهٌ“، ”اَلْحَسَنُ وَجْهٌ“۔ ”الْحَسَنُ“ میں کوئی ضمیر ہے؟ نہیں ہے۔ اور ”وَجْهٌ“ میں؟ اس میں بھی کوئی ضمیر نہیں، تو پورے مجموعے میں کتنی ضمیریں ہوئیں؟ ایک بھی نہیں، تو معلوم ہوا ”اَلْحَسَنُ وَجْهٌ“ یہ صورت قبیح ہے۔
اس سے اگلی مثال دیکھیے بھئی نیچے اس سے: ”اَلْحَسَنُ وَجْهًا“۔ ”الْحَسَنُ“ میں ضمیر ہے؟ اس میں ایک ضمیر ہے، اور ”وَجْهًا“ میں؟ کوئی ضمیر نہیں، تو ”اَلْحَسَنُ وَجْهًا“ پورے مجموعے میں کتنی ضمیریں ہوئیں؟ ایک، تو یہ کون سی صورت؟ یہ احسن صورت ہوئی، شاباش۔
اس سے نیچے والی مثال: ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“، یہ صورت تو جائز ہی نہیں، آپ نے لکھ لیا تھا بھئی۔
اس سے اگلی مثال میں آئیے، بغیر الف لام کے جو صفت ہے: ”حَسَنٌ وَجْهُهُ“، اب بتائیے، ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے؟ نہیں ہے، اور کیونکہ آگے فاعل خود آ رہا ہے، اور ”وَجْهُهُ“ کے ساتھ کوئی ضمیر ہے؟ اس میں ایک ضمیر ہے۔ تو ”حَسَنٌ وَجْهُهُ“ پورے مجموعے میں ایک ضمیر ہوئی تو یہ صورت احسن ہے۔
اس سے اگلی مثال میں آئیے: ”حَسَنٌ وَجْهَهُ“۔ ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے؟ اس میں ایک ضمیر ہے کیونکہ معمول منصوب ہے، فاعل تو چاہیے وہ اسی کے اندر ضمیر ہے، تو ”حَسَنٌ“ میں ایک ضمیر، اور ”وَجْهَهُ“ میں؟ اس میں بھی ایک ضمیر، تو ”حَسَنٌ وَجْهَهُ“ پورے مجموعے میں دو ضمیریں آ گئیں تو یہ کون سی صورت؟ یہ حسن ہو گئی۔
اس سے اگلی صورت کیا ہے؟ ”حَسَنُ وَجْهِهِ“، اس میں میں نے بتایا تھا یہ صورت مختلف فیہ ہے، اس میں علماء کا اختلاف، بعض کہتے ہیں یہ جائز ہے، بعض کہتے ہیں یہ جائز نہیں۔
اس سے اگلی مثال پر آئیے: ”حَسَنٌ الْوَجْهُ“، پڑھیں گے کیسے؟ ”حَسَنٌ الْوَجْهُ“، ملا کر کیسے پڑھیں گے؟ ”حَسَنٌ“، نون ساکن ہے نونِ تنوین، آگے الف لام کا ہمزہ تو گر گیا، لام بھی ساکن۔ تو نون بھی ساکن، لام بھی ساکن، اب کیا کریں گے؟ ہاں، ”السَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، تو وہ نونِ تنوین جو ہے اس کو کسرہ والی حرکت دیں گے: ”حَسَنُ نِالْوَجْهُ“، ”حَسَنُ نِالْوَجْهُ“ دو نون ہیں، ”حَسَنُ نِالْوَجْهُ“۔ جی، اب مجھے بتائیے، ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے؟ اس میں ضمیر نہیں ہے بھئی۔ اور ”الْوَجْهُ“ میں؟ اس میں بھی کوئی ضمیر نہیں، تو معلوم ہوا کہ مجموعے میں کوئی ضمیر نہیں، تو یہ صورت کیا ہوئی؟ قبیح۔ ”حَسَنُ نِالْوَجْهُ“ یہ صورت قبیح ہوئی۔ ”حَسَنُ نِالْوَجْهُ“ یہ صورت کیا ہوئی؟ قبیح ہوئی۔
اگلی مثال دیکھیے: ”حَسَنُ نِالْوَجْهَ“۔ جی، ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے؟ اس میں ہے، اور ”الْوَجْهَ“ میں؟ نہیں ہے، تو مجموعے میں کتنی ضمیریں؟ ایک، تو یہ صورت کیا ہوئی؟ احسن ہوئی۔
اس سے اگلی صورت دیکھیے: ”حَسَنُ نِالْ...“ اضافت ہے، اضافت میں تنوین گر جائے گی، تو ”حَسَنُ الْوَجْهِ“۔ تنوین والا نون اب نہیں آئے گا: ”حَسَنُ الْوَجْهِ“۔ اب بتائیے، ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے؟ ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے ایک، اور ”الْوَجْهِ“ میں؟ ضمیر نہیں ہے، تو کل مجموعے میں کیا ہوئی؟ ایک، معلوم ہوا ”حَسَنُ الْوَجْهِ“ یہ صورت احسن ہے۔
اگلی مثال پر آئیے جی، آخری خانہ: ”حَسَنٌ وَجْهٌ“، ”حَسَنٌ وَجْهٌ“۔ جی، اس کو پڑھیں گے کیسے؟ پڑھیں گے کیسے؟ ”حَسَنٌ وَجْهٌ“، ملا کر کیسے پڑھیں گے؟ ”حَسَنٌ“ کے آخر میں نونِ ساکن ہے، یہ تنوین کس کا نام ہے؟ نونِ ساکن، اور آگے واؤ ہے اور واؤ حروفِ يَرْمَلُونَ میں سے ہے، اور حروفِ يَرْمَلُونَ سے پہلے نونِ ساکن آئے تو اس کو بھی اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں کیا کرتے ہیں؟ ادغام۔ تو وہ نون بھی واؤ بنے گا اور واؤ میں اس کا ادغام، تو کیسے پڑھیں گے؟ ”حَسَنُوَّجْهٌ“، ”حَسَنُوَّجْهٌ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب مجھے بتائیے، ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے؟ اس میں ضمیر نہیں کیونکہ فاعل آگے خود آ رہا ہے، اور ”وَجْهٌ“ میں؟ اس میں بھی کوئی ضمیر نہیں، تو ”حَسَنُوَّجْهٌ“ پورے مجموعے میں کوئی ضمیر نہیں، لہٰذا یہ بھی قبیح ہے۔
اگلی مثال کیجیے: ”حَسَنٌ وَجْهًا“۔ ”حَسَنٌ“ میں کوئی ضمیر ہے؟ اس میں ایک ضمیر ہے، اور ”وَجْهًا“ میں؟ اس میں کوئی ضمیر نہیں، تو پھر یہ احسن صورت ہو گئی، ”حَسَنٌ وَجْهًا“ یہ صورت احسن ہوئی۔
آخری صورت: ”حَسَنُ وَجْهٍ“ ہاں وہاں تو تنوین گر گئی، تو ”حَسَنُ وَجْهٍ“، ”حَسَنُ وَجْهٍ“۔ تو تنوین والا اب نون نہیں ہے یہاں پر تو لہٰذا اب وہ واؤ بھی نہیں بنے گا اور واؤ میں ادغام نہیں ہوگا، ”حَسَنُ وَجْهٍ“۔ ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے؟ ہے، اور ”وَجْهٍ“ میں؟ نہیں، تو مجموعے میں کتنی ضمیریں؟ ایک ہوئی تو یہ صورت بھی احسن ہوئی بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ ساری چیزوں کا حکم آپ کو پتہ چل گیا بھئی۔ تو یہ دیکھیے، یہ ہیں صفتِ مشبہ کے اٹھارہ مسائل۔ اس میں سے کچھ صورتیں جائز نہیں ہیں، کچھ صورتوں میں اختلاف ہے، کچھ صورتیں احسن ہیں، کچھ صورتیں حسن ہیں، اور کچھ صورتیں قبیح ہیں یعنی ناپسندیدہ ہیں، بری ہیں۔
اب آئیے کتاب پر بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَمَسَائِلُهَا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ“ اور صفتِ مشبہ کے مسائل جو ہیں وہ اٹھارہ ہیں ”لِأَنَّ الصِّفَةَ إِمَّا بِاللَّامِ أَوْ مُجَرَّدَةٌ عَنْهَا“ اس لیے کیونکہ صفتِ مشبہ یا تو وہ لام کے ساتھ ہوگی یعنی معرف باللام ہوگی جیسے ”الْحَسَنُ“، ”أَوْ مُجَرَّدَةٌ عَنْهَا“ یا اس لام سے خالی ہوگی جیسے ”حَسَنٌ“ آپ نے دیکھا۔ ”وَمَعْمُولُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“ اور ان میں سے ہر ایک کا معمول ”إِمَّا مُضَافٌ“ یا تو کیا ہوگا؟ مضاف ہوگا جیسے جیسے ”وَجْهِهِ“، ”أَوْ بِاللَّامِ“ یا معمول کس کے ساتھ ہوگا؟ لام کے ساتھ یعنی ”الْوَجْهِ“، ”أَوْ مُجَرَّدٌ عَنْهُمَا“ یا ان دونوں سے خالی ہوگا جیسے کہ ”وَجْهٍ“ بھئی۔ ”فَهٰذِهِ سِتَّةٌ“ تو یہ چھ ہو گئے، چھ قسمیں بن گئیں۔ یہ تینوں: مضاف، مضاف ہو، الف لام کے ساتھ ہو، یا مجرد، ان میں سے تو یہ تین ہو گئے، اور اس کو ”الْحَسَنُ“ سے جوڑیں تین یہ ہو گئے، اور صرف ”حَسَنٌ“ سے جوڑیں تو تین یہ ہو گئے۔ کل کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چھ۔ صفت صفت دو قسم پر نا، یا معرف باللام یا بغیر الف لام کے۔ اور پھر چاہے معرف باللام ہو اس میں بھی معمول یا مضاف ہوگا یا الف لام کے ساتھ ہوگا یا بغیر دو، تو یہ تین صورتیں۔ اور صفت بغیر الف لام کے ہو وہاں بھی یہی تین صورتیں، تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ صورتیں۔ ”فَهٰذِهِ سِتَّةٌ“ تو یہ چھ اقسام ہوئیں۔
پھر ”وَمَعْمُولُ كُلٍّ مِنْهَا إِمَّا مَرْفُوعٌ أَوْ مَنْصُوبٌ أَوْ مَجْرُورٌ“ کہ ان میں سے ہر ایک کا معمول یا تو مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور ہوگا۔ ”فَذٰلِكَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ“ تو یہ اٹھارہ ہو گئے۔ ”وَتَفْصِيلُهَا“ اور اس کی تفصیل جو ہے ”نَحْوُ“ مثال کے طور پر: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ آگے ”الْحَسَنُ وَجْهُهُ وَجْهَهُ وَجْهِهِ“ تینوں صورتیں اکٹھی ذکر کر دیں: ”جَاءَنِي زَيْدُ نِالْحَسَنُ وَجْهُهُ“، ”جَاءَنِي زَيْدُ نِالْحَسَنُ وَجْهَهُ“، ”جَاءَنِي زَيْدُ نِالْحَسَنُ وَجْهِهِ“۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ”ثَلَاثَةُ أَوْجُهٍ“ تو یہ کتنی وجہیں ہوئیں؟ تین۔ ”وَكَذٰلِكَ“ اور اسی طرح ”الْحَسَنُ الْوَجْهِ“، ”الْحَسَنُ الْوَجْهَ“، ”الْحَسَنُ الْوَجْهِ“ یہ بھی کتنی ہو گئیں؟ تین۔ آگے دیکھیے: ”وَالْحَسَنُ وَجْهٌ وَجْهًا وَجْهٍ“ یہ بھی کتنی ہوئیں؟ تین، تو یہ اٹھارہ ہو گئے۔ اس میں صفت دیکھیں الف لام کے ساتھ تھی۔ اب صفت بغیر الف لام کے ہوگی، بغیر الف لام کے۔ جی، آگے ہے: ”وَحَسَنٌ وَجْهُهُ“، حسن پر اعراب حسن پر حرکات تو نہیں لگی ہوئیں، اعراب اور حرکات؟ ہاں، میری کتاب میں حَسُنَ ہوا ہے، حَسُنَ نہیں بھئی، حَسَنٌ وہی صفتِ مشبہ ہے۔ حَسُنَ یہ تو فعل بن گیا بھئی، تو فعل نہیں ہے یہ۔ تو ”حَسَنٌ“، ”حَسَنٌ وَجْهُهُ“، ”حَسَنٌ وَجْهَهُ“، اور ”حَسَنُ وَجْهِهِ“ یہ بھی کتنی ہو گئیں؟ تین۔ اگلی مثال پہ آئیے: ”حَسَنٌ الْوَجْهُ“، ”حَسَنٌ الْوَجْهَ“، اور ”حَسَنُ الْوَجْهِ“ یہ کتنی ہو گئیں؟ تین۔ آخری مثال پہ آئیے: ”وَحَسَنٌ...“ ”وَحَسَنٌ وَجْهٌ“، ”وَحَسَنٌ وَجْهًا“، اور ”حَسَنُ وَجْهٍ“ یہ بھی تین ہو گئیں، کل کتنے ہو گئے؟ اٹھارہ۔
تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ عَلَى خَمْسَةِ أَقْسَامٍ“ اور اس کے یہ جو اٹھارہ مسائل ہیں یہ پانچ قسم پر ہیں۔ میں نے بتایا پانچ قسم پر ہیں؟ کچھ صورتیں جائز نہیں ایک، کچھ میں اختلاف ہے یہ دوسری صورت، کچھ احسن ہیں یہ تیسری صورت، کچھ حسن ہیں یہ چوتھی صورت، اور کچھ قبیح ہیں پانچ، تو کتنی قسم کے مسائل ہو گئے گویا؟ پانچ قسم کے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ عَلَى خَمْسَةِ أَقْسَامٍ“ اور یہ پانچ قسم پر ہوئے ”مِنْهَا مُمْتَنِعٌ“ اس میں سے بعض قسمیں جو ہیں وہ ممتنع ہیں جائز نہیں اور وہ کون سے ہیں؟ آگے مثال ذکر کر دی: ”اَلْحَسَنُ وَجْهٍ“، یہ صورت جائز نہیں۔ کیوں؟ کیوں جائز نہیں؟ کیونکہ مضاف معرفہ ہے اور مضاف الیہ نکرہ ہے حالانکہ برعکس ہوتا ہے، مضاف معرفہ ہوتا ہے مضاف نکرہ ہوتا ہے اور مضاف الیہ معرفہ، اس لیے یہ صورت جائز نہیں۔ اگلی صورت: ”وَالْحَسَنُ وَجْهِهِ“ یہ صورت بھی جائز نہیں، کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ یہ اضافتِ لفظی ہے اور اضافتِ لفظی تخفیف کا فائدہ دیتی ہے اور یہاں نہ مضاف میں تخفیف آئی نہ مضاف الیہ میں۔ مضاف سے تنوین نہیں گری کیونکہ وہ تنوین تو الف لام کی وجہ سے گر چکی ہے، اضافت کی وجہ سے نہیں گری، اور ”وَجْهِهِ“ سے ہا ضمیر نہیں گری تو کوئی تخفیف نہ آئی لہٰذا یہ جائز نہیں۔
”وَمُخْتَلَفٌ فِيهِ“ اور ایک صورت مختلف فیہ ہے یعنی اس میں اختلاف کیا گیا ہے اور وہ کیا ہے؟ وہ ہے ”حَسَنُ وَجْهِهِ“، ”حَسَنُ وَجْهِهِ“۔ یہ صورت اس میں اختلاف کیونکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ”حَسَنٌ“ سے تنوین گر گئی اور لیکن ”وَجْهِهِ“ سے ہا ضمیر نہیں گری تو پوری تخفیف نہیں آئی، تو تخفیف کا جب اعلیٰ درجہ ممکن تھا تو اسی پر عمل کرنا چاہیے تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا، ادنیٰ درجے پر عمل کیا تو جب اعلیٰ ممکن تھا اور اس پر عمل نہیں کیا تو یہ صورت جائز نہیں۔ جبکہ دیگر علماء فرماتے ہیں کہ بہرحال کچھ نہ کچھ تخفیف تو آ گئی لہٰذا یہ صورت بھی جائز ہے۔ تو یہ مختلف فیہ ہے ”حَسَنُ وَجْهِهِ“۔
”وَالْبَوَاقِي أَحْسَنُ“ اور باقی صورتیں احسن ہیں ”إِنْ كَانَ فِيهِ ضَمِيرٌ وَاحِدٌ“ اگر ان میں ایک ہی ضمیر ہو ”وَحَسَنٌ“ اور پھر وہ حسن باقی صورتیں حسن ہیں ”إِنْ كَانَ فِيهِ ضَمِيرَانِ“ اگر اس میں دو ضمیریں ہوں ”وَقَبِيحٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ ضَمِيرٌ“ اور وہ باقی صورتیں قبیح ہیں ”إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ ضَمِيرٌ“ اگر اس میں ضمیر نہ ہو۔
اچھا، اب ہمیں کیسا پتہ چلے گا کہ اس صفت میں ضمیر ہے یا ضمیر نہیں؟ معمول کے ساتھ تو ضمیر ظاہر جڑی ہوئی ہوگی وہ تو ہمیں نظر آ جائے گی۔ صفت میں ہمیں کیسے پتہ چلے گا؟ ہاں شاباش، معمول اگر مرفوع ہو تو معلوم ہوا صفت میں ضمیر نہیں، اور اگر معمول منصوب یا مجرور ہے تو پھر صفت میں ضمیر ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں: ”وَالضَّابِطَةُ“ اور ضابطہ یہ ہے ”أَنَّكَ مَتَى رَفَعْتَ بِهَا مَعْمُولَهَا“ کہ جب آپ اس کے ذریعے رفع دے دیں، ”مَتَى رَفَعْتَ بِهَا“ کہ جب آپ رفع دے دیں بہا اس صفتِ مشبہ کے ذریعے ”مَعْمُولَهَا“ اس کے معمول کو ”فَلَا ضَمِيرَ فِي الصِّفَةِ“ تو پھر صفت میں ضمیر نہیں، کیونکہ وہ جس کو رفع دیا وہ فاعل ہے تو پھر صفت میں ضمیر نہیں۔ ”وَمَتَى نَصَبْتَ أَوْ جَرَرْتَ“ اور جب آپ نصب دیں یا جر دیں ”فَفِيهَا ضَمِيرُ الْمَوْصُوفِ“ تو پھر اس میں موصوف کی ضمیر ہوگی، ”نَحْوُ: زَيْدٌ حَسَنُ وَجْهِهِ“۔ ”نَحْوُ: زَيْدٌ حَسَنُ وَجْهِهِ“، تو یہ وہ مختلف فیہ کو ذکر کر دیا یہاں پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بہرحال مقصد تھا مثال بیان کرنا کہ یہاں ”حَسَنٌ“ میں ضمیر ہے کیونکہ اس کے ذریعے آپ نے رفع نہیں دیا۔
اب ایک اور قیمتی بات یاد رکھیے۔ بھئی دیکھیے، صفتِ مشبہ کے بعد اگر اس کا معمول مرفوع ہو تو وہ مرفوع کیوں ہوگا؟ فاعل ہونے کی بنا پر، وہ اس صفتِ مشبہ کے لیے فاعل بنے گا۔ اگر اس کا معمول مجرور ہو تو وہ مجرور کیوں ہوگا؟ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے۔ اور اگر اس کا معمول منصوب ہو تو پھر منصوب کس وجہ سے ہوگا؟ بھئی دیکھیے، صفتِ مشبہ فعلِ لازم سے بنی ہے، اور صفت بھی اپنے فعل والا ہی عمل کرتی ہے، اور فعل جب فعلِ لازم ہے تو اس کے لیے تو مفعول نہیں آتا، تو پھر وہ تو فعل تو نصب نہیں دیتا تو پھر یہ صفتِ مشبہ جو آگے نصب دے رہی ہے یہ کیا واقع ہوگا؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یاد رکھیے، یہ جو صفتِ مشبہ ہے اس کا عمل اپنے فعل سے زیادہ ہوتا ہے۔ فعل مفعول کو نصب نہیں دیتا لیکن یہ اسم کو... اس کا فعل نصب نہیں دیتا لیکن یہ نصب دیتی ہے۔ پھر وہ کیا بنے گا؟ تو یاد رکھیے، اس کے اس کے معمول کو دیکھیں، یہ کس کو نصب دے رہی ہے، وہ معرفہ ہے یا نکرہ ہے۔ اگر وہ معرفہ ہے تو اس کو کہیں گے وہ منصوب ہے شبیہِ مفعول ہونے کی بنا پر۔ کیا ہے؟ شبیہِ مفعول یعنی مفعول کے مشابہ ہے۔ مفعول نہیں کہیں گے اس کو بلکہ کیا کہیں گے؟ شبیہِ مفعول یعنی مفعول کے مشابہ ہے۔ بھئی مفعول کیوں نہیں کہتے؟ وجہ یہ ہے کہ یہ تو فعلِ لازم ہے، فعلِ لازم کے لیے تو مفعول نہیں آتا، لیکن یہ نصب دے رہی ہے تو اگر وہ معرفہ ہو تو اس کو کہیں گے وہ شبیہِ مفعول ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر اس کا معمول جس کو یہ نصب دے رہی ہے وہ نکرہ ہے پھر اس کو تمیز بنائیں گے۔ معرفہ جو ہے نا معرفہ اس کو تمیز نہیں بنا سکتے کیونکہ تمیز آپ نے پڑھا ہمیشہ نکرہ آتی ہے بھئی۔ تو ”حَسَنٌ وَجْهًا“ یہ ”وَجْهًا“ کیا ہے؟ تمیز ہے، تمیز ہے۔ اور ”حَسَنٌ الْوَجْهَ“ یہ کیا ہے ”الْوَجْهَ“؟ شبیہِ مفعول ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو صفتِ مشبہ کا عمل اپنے فعل سے زائد ہوتا ہے، یہ نصب بھی دیتی ہے حالانکہ اس کا فعل نصب نہیں دیتا یعنی مفعول وغیرہ کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔