Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: أَسْمَاءُ الْعَدَدِ: مَا وُضِعَ لِيَدُلَّ عَلَى كَمِّيَّةِ آحَادِ الْأَشْيَاءِ، وَأُصُولُ الْعَدَدِ اثْنَتَا عَشْرَةَ كَلِمَةً: وَاحِدَةٌ إِلَى عَشَرَةٍ، وَمِائَةٌ، وَأَلْفٌ. وَاسْتِعْمَالُهُ مِنْ وَاحِدٍ إِلَى اثْنَيْنِ عَلَى الْقِيَاسِ، أَعْنِي: لِلْمُذَكَّرِ بِدُونِ التَّاءِ، وَلِلْمُؤَنَّثِ بِالتَّاءِ. بھئی اب عدد کا بیان شروع ہو گیا بھئی، عدد کا بیان۔ تو کہتے ہیں: ”أَسْمَاءُ الْعَدَدِ مَا وُضِعَ“ اسمائے عدد وہ اسم ہے جس کو وضع کیا جائے ”لِيَدُلَّ عَلَى كَمِّيَّةِ آحَادِ الْأَشْيَاءِ“ تاکہ وہ دلالت کرے چیزوں کے افراد کی مقدار پر۔ کمیت کہتے ہیں مقدار کو، کمیت: مقدار، اور آحاد: افراد بھئی افراد۔ تو دوبارہ تعریف سنیں بھئی، ”أَسْمَاءُ الْعَدَدِ“ کہ اسمائے عدد جو ہے ”مَا“ وہ اسم ہے ”وُضِعَ“ جس کو وضع کیا گیا ہے ”لِيَدُلَّ“ تاکہ وہ دلالت کرے ”عَلَى كَمِّيَّةِ آحَادِ الْأَشْيَاءِ“ چیزوں کے افراد کی مقدار پر۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کہ مثلاً کتنی چیزیں ہیں: دو ہیں، چار ہیں، آٹھ ہیں، دس ہیں، تو یہ چیزوں کے افراد کی مقدار کے پر دلالت کرنے کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے۔ ”وَأُصُولُ الْعَدَدِ اثْنَتَا عَشْرَةَ كَلِمَةً“ اور بنیادی عدد جو ہیں وہ بارہ کلمے ہیں۔ یاد رکھیے عربی زبان میں عدد بیان کرنے کے لیے بنیادی طور پر بارہ کلمے ہیں بھئی، باقی عدد انہی بارہ سے مل کر بنتے ہیں۔ تو بنیادی کلمے کتنے؟ بارہ۔ ایک سے لے کر دس تک اور مائۃ اور الف۔ ایک سے لے کر دس تک اور مائۃ اور الف، یہ ہیں بنیادی کلمات۔ تو کہتے ہیں: ”وَأُصُولُ الْعَدَدِ اثْنَتَا عَشْرَةَ كَلِمَةً“ اور بنیادی عدد جو ہیں وہ بارہ کلمات ہیں ”وَاحِدَةٌ إِلَى عَشَرَةٍ“ ایک سے لے کر دس تک ”وَمِائَةٌ وَأَلْفٌ“ اور ایک مائۃ اور ایک الف ہے۔ مائۃ کا معنیٰ سو اور الف کا معنیٰ ہزار۔ ”وَاسْتِعْمَالُهُ مِنْ وَاحِدٍ إِلَى اثْنَيْنِ عَلَى الْقِيَاسِ“ تو یاد رکھیے، بارہ بنیادی کلمات ہیں: ایک سے لے کر دس تک، مِائَةٌ اور اَلْفٌ۔ تو یہ اَلْفٌ، ہزار، یہ عربی زبان میں سب سے بڑا عدد ہے بھئی۔ تو قدیم عربی میں سب سے بڑا عدد اَلْف تھا بھئی، ہزار، ہزار سے بڑا عدد نہیں تھا۔ اب جدید عربی والے انگریزی وغیرہ سے لے کر ملین اور بلین کا بھی استعمال کرتے ہیں بھئی، ملین اور بلین کا، لیکن قدیم عربی میں اَلْف ہی سب سے بڑا عدد تھا، ملین: دس لاکھ۔ اب طریقۂ استعمال بیان کر رہے ہیں: ”وَاسْتِعْمَالُهُ مِنْ وَاحِدٍ إِلَى اثْنَيْنِ عَلَى الْقِيَاسِ، أَعْنِي: لِلْمُذَكَّرِ بِدُونِ التَّاءِ، وَلِلْمُؤَنَّثِ بِالتَّاءِ“ کہتے ہیں: ان عددوں کا استعمال جو ہے ایک سے لے کر دو تک، ”عَلَى الْقِيَاسِ“ قیاس کے طریقے پر ہے، ”أَعْنِي: لِلْمُذَكَّرِ بِدُونِ التَّاءِ“ یعنی مذکر کے لیے بغیر تا کے ”وَلِلْمُؤَنَّثِ بِالتَّاءِ“ اور مؤنث کے لیے تا کے ساتھ۔ ”تَقُولُ فِي رَجُلٍ“ آدمی کے بارے میں آپ کہتے ہیں: ”وَاحِدٌ“، مذکر جنس گن رہے ہیں جیسے مرد ہے تو کیا کہیں گے؟ ”وَاحِدٌ“، اور مؤنث میں کیا کہیں گے؟ ”وَاحِدَةٌ“، دیکھا تا کے ساتھ۔ مذکر میں ”وَاحِدٌ“ اور مؤنث میں ”وَاحِدَةٌ“۔ جی۔ اور اسی طرح دو آدمی ہوں تو کہیں گے ”اثْنَانِ“ اور مؤنث ہوں تو ”اثْنَتَانِ“۔ جی، تو کہتے ہیں اس کا استعمال ایک سے لے کر دو تک قیاس کے طریقے پر ہے، ”أَعْنِي: لِلْمُذَكَّرِ بِدُونِ التَّاءِ، وَلِلْمُؤَنَّثِ بِالتَّاءِ“ یعنی مذکر کے لیے بغیر تا کے اور مؤنث کے لیے تا کے ساتھ۔ ”تَقُولُ فِي رَجُلٍ“ آپ کہتے ہیں مرد کے بارے میں: ”وَاحِدٌ“، ”وَفِي رَجُلَيْنِ“ اور دو مردوں کے بارے میں: ”اثْنَانِ“، ”وَفِي امْرَأَةٍ“ اور عورت کے بارے میں آپ کہتے ہیں: ”وَاحِدَةٌ“، ”وَفِي امْرَأَتَيْنِ“ اور دو عورتوں کے بارے میں: ”اثْنَتَانِ“۔ تو مذکر کے لیے بغیر تا اور مؤنث کے لیے تا کے ساتھ۔ اور مؤنث میں ”اثْنَتَانِ وَثِنْتَانِ“، ”اثْنَتَانِ“ بھی کہہ سکتے ہیں اور ”ثِنْتَانِ“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ”وَمِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَى عَشَرَةٍ عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ“ جبکہ تین سے لے کر دس تک جو عدد ہیں ”عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ“ وہ خلافِ قیاس ہیں، خلافِ قیاس۔ بھئی کیا معنی خلافِ قیاس؟ کہتے ہیں: ”أَعْنِي: لِلْمُذَكَّرِ بِالتَّاءِ“ یعنی مذکر کے لیے تا کے ساتھ ہوں گے اور آگے آپ کو بتائیں گے مؤنث کے لیے بغیر تا کے۔ بھئی تا تو کس چیز کی علامت ہے؟ تانیث کی علامت ہے، مؤنث کی علامت ہے، تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ مؤنث کے لیے تا کے ساتھ ہو اور مذکر کے لیے بغیر تا کے، لیکن تین سے لے کر دس تک، تین سے لے کر دس تک یہ خلافِ قیاس آتے ہیں، یعنی مذکر کے لیے آئیں گے تا کے ساتھ اور مؤنث کے لیے بغیر تا کے آئیں گے بھئی۔ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں: تین مرد، تو کہیں گے: ”ثَلَاثَةُ رِجَالٍ“، دیکھا ”ثَلَاثَةُ“ تا کے ساتھ ہے، ”ثَلَاثَةُ رِجَالٍ“۔ اور یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھیں، یہ جو ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک ہے، ان کے آگے یہ تو ہیں عدد، یہ کیا ہیں؟ عدد، اور آگے جو لفظ آتا ہے وہ ہے معدود، یعنی جس کا عدد بیان کیا جا رہا ہے، جیسے ”ثَلَاثَةُ رِجَالٍ“، ”ثَلَاثَةُ“ ہوا عدد اور کس کا عدد بیان کیا جا رہا ہے؟ رجل کا، تو رجل کیا ہوا؟ معدود۔ تو کیا کہیں گے: ”ثَلَاثَةُ رِجَالٍ“، اس میں آپ نے عدد کو دیکھا وہ خلافِ قیاس ہے، مذکر کے لیے تا کے ساتھ ہے۔ تو ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک عدد جو ہوگا وہ معدود کے مخالف ہوگا، یعنی معدود اگر مذکر تو عدد مؤنث، اور اگر معدود مؤنث تو عدد مذکر۔ پھر ایک اور بات بھی یاد رکھیے، یہ جو معدود آئے گا اس کو کہتے ہیں تمییز، یہ اس عدد سے ابہام کو دور کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ ابہام کو۔ بھئی دیکھیے تین، تین تو کتابیں بھی ہو سکتی ہیں، تین تو قلم بھی ہو سکتے ہیں، تین کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے، تو اس میں ابہام تھا۔ آگے آنے والے لفظ نے آ کر اس ابہام کو کیا کیا؟ دور کر دیا۔ تو یہ جو معدود ہے اس کو تمییز کہتے ہیں، جو ماقبل کے عدد سے ابہام کو دور کرتا ہے۔ تو یاد رکھیے ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک جو آگے معدود آئے گا یعنی جو تمییز آئے گی وہ جمع ہوگی اور مجرور ہوگی۔ کیا ہوگی؟ جمع ہوگی اور مجرور۔ آپ کہنا چاہتے ہیں: تین مرد، تین مرد، تو عدد لے کر آئیں: ”ثَلَاثٌ“ کہیں گے یا ”ثَلَاثَةٌ“ کہیں گے؟ ”ثَلَاثَةٌ“ خلافِ قیاس تا کے ساتھ کہیں گے۔ اور کس کا عدد بیان کرنا چاہتے ہیں؟ رجل کا، تو رجل کی جمع لے آئیں: ”رِجَالٍ“، اور اس کو مجرور پڑھیں کیونکہ اس عدد کی اس کی طرف اضافت ہو رہی ہے، عدد ہے مضاف اور یہ ہے مضاف الیہ، تو یوں کہیں گے: ”ثَلَاثَةُ رِجَالٍ“۔ آپ کہنا چاہتے ہیں: چار کتابیں، تو کتاب کا لفظ کیا ہے، مذکر کہ مؤنث؟ کتاب کا لفظ مذکر ہے، تو اب چار کتابیں، تو میں ”أَرْبَعٌ“ کہوں گا یا ”أَرْبَعَةٌ“ کہوں گا؟ ”أَرْبَعَةٌ“، اور پھر اس کتاب جو معدود ہے اس کو جمع بنا دو اور اس کو مجرور کر دو اس کی طرف اضافت ہوگی اربعۃ کی، تو کتاب کی جمع کیا؟ کتب، تو ”أَرْبَعَةُ كُتُبٍ“، ”أَرْبَعَةُ كُتُبٍ“۔ اسی طرح اور مثالیں کر لو، مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: سات قلم، تو قلم مذکر ہے کہ مؤنث؟ مذکر ہے، اور تین سے لے کر دس تک جو عدد ہوتا ہے وہ خلافِ قیاس ہوتا ہے، مذکر کے لیے کیا آئے گا؟ تا کے ساتھ، تو لہٰذا سات قلم، سات کیا کہیں گے؟ ”سَبْعَةٌ“ یا ”سَبْعٌ“؟ ”سَبْعَةٌ“ سات کے لیے لائیں گے اور آگے قلم، ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک تمییز کیا آتی ہے؟ جمع مجرور، تو قلم کی جمع بنا لو: اقلام، تو کیسے کہیں گے؟ ”سَبْعَةُ أَقْلَامٍ“، تنوین ختم ہو جائے گی کیونکہ اضافت ہو گئی، ”سَبْعَةُ أَقْلَامٍ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ اور اگر اس کے بجائے مؤنث ہو معدود تو پھر کیسے کہیں گے؟ مثلاً ”كُرَّاسَةٌ“، کراسۃ کاپی کو کہتے ہیں، اب میں کہنا چاہتا ہوں: نو کاپیاں، نو کاپیاں، تو کاپی کا لفظ مذکر ہے کہ مؤنث؟ یہ مؤنث ہے، تو عدد اس کے لیے مذکر لائیں گے اور کیا کہیں گے؟ ”تِسْعٌ“ یا ”تِسْعَةٌ“؟ ”تِسْعٌ“، اور کراسۃ، کراسۃ کی جمع بنا لو: ”كُرَّاسَاتٌ“، الف تا کے ساتھ، جمع مؤنث سالم، کراسات، اور اس کی طرف ”تِسْعٌ“ کی اضافت کر دو: ”تِسْعُ كُرَّاسَاتٍ“۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ جی۔ معلوم ہوا ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک عدد خلافِ قیاس ہوگا، یعنی معدود مذکر ہو تو عدد مؤنث ہوگا اور معدود مؤنث ہو تو عدد مذکر ہوگا۔ تو مذکر کے لیے عدد مؤنث ہوگا اور مؤنث کے لیے عدد مذکر ہوگا، جبکہ معدود یعنی تمییز جو ہے وہ جمع مجرور آئے گی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اب مجھے ایک اور مثال بتا دیجیے، مثلاً اور کیا کہیں؟ مثلاً پنکھے کو کہتے ہیں ”مِرْوَحَةٌ“، ”مِرْوَحَةٌ“، اب کیا کہیں؟ میں کہنا چاہتا ہوں: پانچ پنکھے، تو پنکھے کا عدد مذکر ہے کہ مؤنث؟ مؤنث ہے، تو اس کے لیے عدد کیا لائیں گے؟ مذکر، تو کیا کہیں گے؟ ”خَمْسٌ“، اور مروحۃ کو جمع اور مجرور کر دو: ”خَمْسُ مِرْوَحَاتٍ“، پانچ پنکھے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ تو ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک عدد خلافِ قیاس آتا ہے اور تمییز جو ہے وہ جمع مجرور آتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَى عَشَرَةٍ عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ، أَعْنِي: لِلْمُذَكَّرِ بِالتَّاءِ، تَقُولُ: ثَلَاثَةُ رِجَالٍ إِلَى عَشَرَةِ رِجَالٍ، وَلِلْمُؤَنَّثِ بِدُونِهَا، تَقُولُ: ثَلَاثُ نِسْوَةٍ إِلَى عَشْرِ نِسْوَةٍ، وَبَعْدَ الْعَشَرَةِ تَقُولُ“ اور عشرۃ کے بعد آپ یوں کہیں گے بھئی، عشرۃ کے بعد۔ یاد رکھیے بھئی پہلے سمجھ لیں۔ یہ جو تین سے لے کر دس تک تمییز تھی جمع مجرور تھی، اس کے بعد گیارہ سے لے کر ننانوے تک تمییز مفرد منصوب آئے گی۔ گیارہ سے لے کر ننانوے تک تمییز مفرد ہوگی اور منصوب ہوگی: ”امْرَأَةً“، ”رَجُلًا“، ”كِتَابًا“، ”قَلَمًا“، دیکھا مفرد اور اس پر نصب پڑھنا ہے۔ اور باقی عدد کس طرح بیان کریں گے؟ تو یاد رکھیے گیارہ بارہ، اس میں دونوں جز معدود کے مطابق ہوں گے، یعنی معدود اگر مذکر ہے تو دونوں جز مذکر لے آؤ۔ تو مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: گیارہ آدمی، اب آدمی یہ کیا ہے؟ مذکر ہے، تو اس کے لیے دونوں جز میں مذکر لاؤں گا اور یوں کہوں گا: ”أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا“، دیکھا ”أَحَدَ“ مذکر ہے، اگر مؤنث ہوتا میں کہتا ”إِحْدَى“، اور ”عَشَرَ“ میں نے ”عَشَرَ“ کہا بغیر تا کے، اگر مؤنث ہوتی تو پھر میں ”عَشْرَةَ“ کہتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ تو ”أَحَدَ عَشَرَ“، ”أَحَدَ“ بھی مذکر یعنی مؤنث نہیں، اور ”عَشَرَ“ بھی مذکر یعنی بغیر تا کے، اور آگے جس کا عدد بیان ہو رہا ہے اس کو کیسا لانا ہے؟ مفرد منصوب، ”رَجُلًا“، ”أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا“۔ اور اگر عورتیں ہوں گیارہ تو میں کہوں گا، بولیں اب دونوں جز مطابق بنا دیں: ”إِحْدَى عَشْرَةَ“، ہاں ”عَشْرَةَ“ نہیں کہنا، یہ جو ہے نا گیارہ سے لے کر، گیارہ سے لے کر انیس تک، جب ان میں عشرۃ کے ساتھ تا جڑ جائے تو پھر شین کو ساکن پڑھنا ہے، اہل حجاز کے نزدیک شین کو ساکن پڑھنا ہے۔ اگر عشر کے ساتھ تا جڑی ہوئی نہ ہو پھر تو شین پر زبر پڑھیں، فتحہ پڑھیں: ”أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا“، اور جب اس کے ساتھ تا جڑ جائے پھر شین کو ساکن پڑھنا ہے، تو کیسے پڑھیں گے گیارہ عورتیں؟ ”إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً“، ”امْرَأَةً“ مفرد منصوب، تمییز کیا آرہی ہے؟ مفرد منصوب، ”إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً“، گیارہ عورتیں۔ بھئی یہ شین کو ساکن کیوں کر دیتے ہیں؟ وجہ اس کی یہ کیونکہ چار فتحہ اکٹھے ہو جائیں گے اور وہ زبان پر ثقیل بن جائیں گے: عین پر بھی فتحہ، شین پر بھی فتحہ، را پر بھی فتحہ اور آخری گول تا پر بھی فتحہ، تو چار فتحات اکٹھے ہو جائیں گے اور زبان پر ثقیل بن جائیں گے، لہٰذا اس صورت میں پھر کیا کریں گے؟ ثقل کو ختم کرنے کے لیے شین کو ساکن کر دیں گے۔ بارہ میں بھی اسی طرح بھئی، دونوں جز مطابق۔ میں کہنا چاہتا ہوں: بارہ مرد، کیا کہوں گا؟ ”اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا“، دیکھا ”رَجُلًا“ مفرد منصوب۔ اور میں کہنا چاہتا ہوں: بارہ عورتیں: ”اثْنَتَا عَشْرَةَ امْرَأَةً“۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ جی۔ اور اس کے بعد تیرہ سے لے کر انیس تک، تیرہ سے لے کر انیس تک، پہلا عدد ہوگا مخالف، پہلا جز ہوگا مخالف اور دوسرا جز ہوگا مطابق۔ مثلاً میں رجل کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں اور رجل کیا ہے؟ مذکر، مذکر، تو میں کہنا چاہتا ہوں تیرہ آدمی تو ثلاثۃ عشر، اب اس میں سے ثلاثۃ عشر کے دو جز ہیں۔ پہلے جز کو مخالف لاؤ، کیا معنی مخالف؟ مؤنث یعنی تا کے ساتھ لاؤ ”ثَلَاثَةَ“، اور دوسرے جز کو مطابق لاؤ اس معدود کے، عشر بغیر تا کے، تو کیسے کہیں گے؟ ”ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا“۔ یہ ”رَجُلًا“ یہ تمییز، یہ تو مفرد منصوب رہے گی گیارہ سے لے کر ننانوے تک، تمام جتنے بھی عدد آئیں گے سب میں یہ کیا رہے گی؟ مفرد منصوب۔ ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک تمییز کیا تھی؟ جمع مجرور تھی، ”ثَلَاثَةُ رِجَالٍ“، جمع مجرور، اور گیارہ سے لے کر ننانوے تک مفرد منصوب بھئی، جی۔ لہٰذا میں نے کیا کہنا ہے تیرہ آدمی، پھر دہرائیے کیسے کہوں گا؟ ”ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا“۔ میں کہنا چاہتا ہوں: تیرہ عورتیں، تو کیا کہوں گا؟ پہلے جز کو کر دو مخالف یعنی بغیر تا کے اور دوسرے کو کر دو مطابق یعنی مؤنث کے لیے تا کے ساتھ، تو کیسے کہیں گے؟ ”ثَلَاثَ عَشْرَةَ امْرَأَةً“۔ طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی۔ میں کہنا چاہتا ہوں: سترہ قلم، قلم کیا ہے؟ مذکر، تو پہلا جز کر دو مخالف: ”سَبْعَةَ“، اور دوسرا جز کر دو مطابق: ”عَشَرَ“، ”سَبْعَةَ عَشَرَ قَلَمًا“، ”قَلَمًا“ جمع یا مفرد؟ مفرد منصوب، ”سَبْعَةَ عَشَرَ قَلَمًا“۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ جی۔ میں کہنا چاہتا ہوں اٹھارہ کاپیاں، تو کیسے کہوں گا؟ کاپی کیا ہے؟ کراسۃ، مؤنث ہے، تو پہلا عدد مخالف لے آؤ یعنی بغیر تا کے اور دوسرا جز مطابق اس کے یعنی تا کے ساتھ، تو کیسے کہیں گے؟ کیا ہے، کاپی ہے؟ جی، ”ثَمَانِيَ عَشْرَةَ كُرَّاسَةً“، ”ثَمَانِيَ عَشْرَةَ كُرَّاسَةً“، طریقہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبَعْدَ الْعَشَرَةِ تَقُولُ“ اور عشرۃ کے بعد آپ یوں کہیں گے۔ یاد رکھیے ہر جگہ ”عَشَرَةِ“ یہاں شین متحرک ہی ہے، ”وَبَعْدَ الْعَشَرَةِ“ یہاں شین کو نہیں ساکن کرنا، صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ ہاں، جہاں وہ جہاں گیارہ سے لے کر انیس تک کا یہ حکم میں نے بتایا کیونکہ گیارہ سے لے کر انیس تک عدد مرکب ہوتا ہے: ”أَحَدَ عَشَرَ“، ”اثْنَا عَشَرَ“، ”ثَلَاثَةَ عَشَرَ“، تو وہاں پر، وہاں پر شین کو کیا کرنا ہے؟ جب عشرۃ کے ساتھ تا جڑ جائے تو شین کو ساکن کرنا ہے، ہر جگہ پر ساکن نہیں کرنا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبَعْدَ الْعَشَرَةِ تَقُولُ: أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا، وَاثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا“ دیکھ رہے ہیں آپ؟ ”ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا“، رجل کے بارے میں بیان کرنا ہے تو دیکھو ”ثَلَاثَةَ“ پہلا جز مخالف تا کے ساتھ اور دوسرا جز ”عَشَرَ“ مطابق ہے اس کے بغیر تا کے، ”إِلَى تِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا“، دیکھو یہاں بھی اسی طرح ہے، پہلا تسعۃ میں تا ہے اور عشر میں تا نہیں ہے، تو یہ انیس تک اسی طرح ہے۔ ”وَفِي النِّسَاءِ: إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً“، ہاں ابھی یہ بیان میں نے کر دیا: گیارہ اور بارہ اس میں دونوں جز مطابق ہیں، تیرہ سے لے کر انیس تک پہلا جز مخالف اور دوسرا جز معدود کے مطابق، لیکن گیارہ اور بارہ اس میں دونوں جز کیا ہیں؟ مطابق۔ تو میں کہنا چاہتا ہوں گیارہ عورتیں، کیا کہوں گا؟ ”إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً“، میں کہنا چاہتا ہوں بارہ عورتیں، کیا کہوں گا؟ ”اثْنَتَا عَشْرَةَ امْرَأَةً“۔ دیکھیے یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً“ گیارہ عورتیں ہیں، ”وَاثْنَتَا عَشْرَةَ امْرَأَةً“ اور بارہ عورتیں بھئی۔ ”وَثَلَاثَ عَشْرَةَ“ آگے، آگے پھر وہی طریقہ، تیرہ سے انیس تک کیا ہے؟ پہلا جز مخالف اور دوسرا جز معدود کے مطابق، تو پہلا جز معدود کے مخالف اور دوسرا جز معدود کے مطابق، اور یہاں ہم کس کو بیان کر رہے ہیں؟ امراۃ کو، تو امراۃ ہے مؤنث، تو پہلے جز میں تا نہیں آئے گی وہ مخالف ہوگا اور دوسرے جز میں تا آئے گی، تو کہتے ہیں: ”ثَلَاثَ عَشْرَةَ امْرَأَةً إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ امْرَأَةً“۔ ”وَبَعْدَ ذَلِكَ تَقُولُ“ اور اس کے بعد آپ یوں کہیں گے، یہ تو انیس تک ہو گیا ”إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ امْرَأَةً“، ٹھیک ہے؟ ”وَبَعْدَ ذَلِكَ تَقُولُ: عِشْرُونَ رَجُلًا، وَعِشْرُونَ امْرَأَةً، بِلَا فَرْقٍ بَيْنَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ“، مذکر اور مؤنث میں بغیر کسی فرق کے، یعنی یاد رکھیے یہ جو دہائیاں ہیں نا دہائیاں: ”عِشْرُونَ“، ”ثَلَاثُونَ“، ”أَرْبَعُونَ“، ”خَمْسُونَ“، ”سِتُّونَ“، ”سَبْعُونَ“، ”ثَمَانُونَ“ اور ”تِسْعُونَ“، یہ بیس سے لے کر نوے تک یہ جو دہائیاں ہیں یہ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے یکساں رہتی ہیں، مؤنث ہو تو بھی ”عِشْرُونَ“ کہیں گے، مذکر ہو تو بھی ”عِشْرُونَ“، مذکر ہو تو بھی ”ثَلَاثُونَ“ کہیں گے اور مؤنث معدود ہو تو بھی ”ثَلَاثُونَ“ کہیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبَعْدَ ذَلِكَ تَقُولُ: عِشْرُونَ رَجُلًا، وَعِشْرُونَ امْرَأَةً، بِلَا فَرْقٍ بَيْنَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ، إِلَى تِسْعِينَ رَجُلًا وَامْرَأَةً“، نوے تک یہی حکم ہے: ”تِسْعُونَ رَجُلًا“ اور ”تِسْعُونَ امْرَأَةً“۔ ”وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ“ اب پھر آ گیا، یہ جو اگر ان کے ساتھ اکائیاں بھی مل گئیں: اکیس آدمی، اکیس عورتیں، بائیس آدمی، بائیس عورتیں، تئیس آدمی، تئیس عورتیں، تو پھر کیسے کہیں گے؟ پھر وہی ضابطہ۔ گیارہ اور بارہ میں کیا تھا؟ دونوں جز مطابق، دونوں جز مطابق۔ یعنی کہنے کا مطلب یہ کہ پہلے دونوں جز بھی مطابق تھے تو یہاں پر بھی پہلے دونوں جز مطابق کر دو عشرون کے بعد بھی، پہلے دونوں جز یعنی اکیس اور بائیس کو۔ میں کہنا چاہتا ہوں: اکیس آدمی، تو کیا کہوں گا؟ ”أَحَدٌ“ کہنا ہے مذکر، جیسے وہاں تھا گیارہ کے اندر اور بارہ میں، تو یہاں کیا کہوں گا؟ ”أَحَدٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“، تمییز اسی طرح مفرد منصوب رہے گی، اور میں گیارہ عورتیں کہنا چاہتا ہوں تو کیا کہوں گا؟ ”إِحْدَى وَعِشْرُونَ امْرَأَةً“، ”إِحْدَى وَعِشْرُونَ امْرَأَةً“۔ میں کہنا چاہتا ہوں بائیس آدمی، کیا کہوں گا؟ جی؟ ”اثْنَانِ“، ”اثْنَا“ نہیں، نون کو باقی رکھنا ہے، نون یہاں گرے گا نہیں کیونکہ عطف ہو رہا ہے، وہاں تو دو کلمے جڑ گئے تھے آپس میں، تو نون جو تھا نون، نون تو کلمے کے پورا ہونے کی علامت تھی۔ بھئی آپ جانتے ہیں جب یہ جو تثنیہ کا نون ہے یہ اضافت کے وقت گر جاتا ہے، اسی طرح مفرد کی تنوین اضافت کے وقت گر جاتی ہے، اسی طرح جمع مذکر سالم کا نون اضافت کے وقت گر جاتا ہے، کیوں گرتے ہیں؟ وجہ یہ کہ جب کسی لفظ کے آخر میں تنوین آ جائے تو مطلب ہوتا ہے کہ لفظ پورا ہو گیا، آگے یہ کسی کے ساتھ جڑا ہوا نہیں، تثنیہ کے اور جمع کے آخر میں جب نون آ جائے تو مطلب ہوتا ہے یہ لفظ پورا ہو گیا، آگے یہ کسی اور لفظ کے ساتھ جڑا ہوا نہیں، گویا آسان لفظوں میں یوں کہو کہ یہ تنوین اور یہ جو قائم مقامِ تنوین ہے یعنی نونِ جمع اور نونِ تثنیہ، یہ انقطاع کی علامت ہیں۔ یہ کلمہ منقطع ہے، آگے کسی کے ساتھ جڑا ہوا نہیں۔ لیکن جب ان کے ساتھ مضاف الیہ آ جائے تو پھر اب یہ مضاف پر پورے ہو رہے ہیں یا مضاف الیہ کو بھی جوڑنا ہے؟ مضاف الیہ، تو اضافت تقاضا کرتی ہے اتصال کا، جڑے ہونے کا، اور یہ تنوین اور قائم مقامِ تنوین دلالت کرتے ہیں انقطاع پر، تو لہٰذا اب ان کو نہیں لائیں گے، ان کو گرا دیں گے، لہٰذا ”غُلَامُ زَيْدٍ“، ”غُلَامٌ“ سے تنوین گرا دی اس لیے کیونکہ اگر آپ ”غُلَامٌ“ تنوین کہہ دی اس کا مطلب ہے آگے کوئی مضاف الیہ وغیرہ نہیں ہے، اور آگے تو مضاف الیہ آ رہا ہے، تو لہٰذا اس تنوین کو کیا کر دو؟ گرا دو، ”غُلَامُ زَيْدٍ“، ”غُلَامَا زَيْدٍ“، صورت سمجھ میں آگئی؟ ”مُسْلِمُو مِصْرَ“۔ تو یہ تنوین اور قائم مقامِ تنوین کس چیز کی علامت ہیں؟ انقطاع کی، اور اضافت کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ اتصال کا۔ اسی طرح یہاں پر بھی، یہاں پر بھی یہ اضافت تو نہیں لیکن مرکب ہیں، آپس میں جڑے ہوئے ہیں، تو یہاں پر بھی ”اثْنَانِ“ اور ”اثْنَتَانِ“ کا نون بارہ کے اندر گر جائے گا۔ کیا ہے؟ گر جائے گا، کیونکہ ”اثْنَانِ“ اس کو جوڑ دیا ہے کس سے؟ عشر سے، تو اب نون کو گرانا پڑے گا پھر ہی جڑے گا ورنہ نون تو انقطاع پر دلالت کر رہا ہے، اور یہاں پر انقطاع ہے اثنا کا اثنان کا یا اتصال ہے عشر کے ساتھ؟ اتصال ہے، تو لہٰذا وہاں نون گرے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اس لیے ”اثْنَا عَشَرَ“ اور ”اثْنَتَا عَشْرَةَ“ سے نون گر گیا، لیکن یہاں پر بائیس کے اندر، بائیس کے اندر تو عطف ہو رہا ہے، وہاں تو کسی کے ساتھ اتصال نہیں، تو وہاں پھر نون بھی پڑھیں گے، اور بائیس آدمی کیسے کہیں گے؟ ”اثْنَانِ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“۔ تو وہاں کہیں گے: ”اثْنَانِ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“، دیکھا پہلا جز بھی مطابق ہی ہے۔ اور بائیس عورتوں میں کیا کہیں گے؟ ”اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ امْرَأَةً“۔ تو مذکر میں کہیں گے: ”اثْنَانِ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“ اور مؤنث میں کہیں گے: ”اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ امْرَأَةً“ بھئی، کیونکہ یہاں نون گرے گا نہیں بھئی۔ تو دیکھا اکیس اور بائیس، اس میں آپ نے کیا دیکھا؟ ہاں، دوسرا جز تو بدلے گا ہی نہیں، مذکر کے لیے بھی مؤنث کے لیے یکساں رہے گا، یہاں صرف پہلے جز کی بات کرو، یہاں پہلا جز مطابق رہے گا: اکیس میں بھی اور بائیس میں بھی، مذکر کے لیے مذکر، مؤنث کے لیے مؤنث، مذکر کے لیے ”أَحَدٌ“ اور مؤنث کے لیے ”إِحْدَى“، مذکر کے لیے ”اثْنَانِ“ اور مؤنث کے لیے ”اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ“۔ تو اب کتاب پر دیکھیے دوبارہ بھئی: ”إِلَى تِسْعِينَ رَجُلًا وَامْرَأَةً“، نوے تک بھئی اسی طرح، ”تِسْعِينَ رَجُلًا وَامْرَأَةً“، ”تِسْعُونَ رَجُلًا“ اور ”تِسْعُونَ امْرَأَةً“۔ اور آگے: ”وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا، وَإِحْدَى وَعِشْرُونَ امْرَأَةً، وَاثْنَانِ وَعِشْرُونَ رَجُلًا، وَاثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ امْرَأَةً“۔ جی، اس کے بعد تئیس سے لے کر انتیس تک پھر اسی طرح پہلا عدد مخالف ہو جائے گا۔ تو میں تئیس آدمی کہنا چاہتا ہوں، کیا کہوں گا؟ آدمی مذکر ہے تو عدد کیا ہوگا؟ مؤنث تا کے ساتھ، ”ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“۔ اور میں تئیس عورتیں کہنا چاہتا ہوں، تو وہ امراۃ مؤنث ہے تو ثلاث مخالف آئے گا بغیر تا کے، ”ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ امْرَأَةً“۔ تو کہتے ہیں: ”وَثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا، وَثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ امْرَأَةً، إِلَى تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ رَجُلًا“ ننانوے تک اسی طرح، ”وَتِسْعٍ وَتِسْعِينَ امْرَأَةً“ ننانوے عورتیں۔ ”ثُمَّ تَقُولُ“ پھر آپ یوں کہیں گے، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ اچھا، اس کے بعد مائۃ اور الف آ گئے بھئی۔ یاد رکھیے، مائۃ اور الف ان کی تمییز مفرد مجرور آئے گی۔ ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک تمییز کیا تھی؟ ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک جمع مجرور، ”ثَلَاثَةُ رِجَالٍ“، ”ثَلَاثَةُ أَقْلَامٍ“، ”ثَلَاثَةُ كُتُبٍ“، جمع مجرور تھی، اور گیارہ سے لے کر ننانوے تک تمییز کیا آئے گی؟ مفرد منصوب۔ اب رہ گئے مائۃ اور الف، ان میں یاد رکھیے تمییز مفرد مجرور آئے گی، مفرد مجرور، اور یہ اسی طرح رہیں گے اس کے لیے۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں سو آدمی، تو کیا کہوں گا؟ ”مِائَةُ رَجُلٍ“، اضافت ہو گئی، اور دیکھو رجل مفرد ہے اور مجرور ہے، ”مِائَةُ رَجُلٍ“۔ جی، اور عورتیں ہوں تو وہ بھی اسی طرح: ”مِائَةُ امْرَأَةٍ“، ”أَلْفُ رَجُلٍ“، ”أَلْفُ امْرَأَةٍ“، طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ تَقُولُ: مِائَةُ رَجُلٍ“ سو آدمی، ”وَمِائَةُ امْرَأَةٍ“ اور سو عورتیں، ”وَأَلْفُ رَجُلٍ، وَأَلْفُ امْرَأَةٍ“، ”مِائَتَا رَجُلٍ“ دو سو آدمی، ”مِائَتَا“ بھئی اضافت ہو رہی ہے نا، تو ”مِائَتَانِ“ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، ”مِائَتَا رَجُلٍ، وَمِائَتَا امْرَأَةٍ“ دو سو آدمی اور دو سو عورتیں۔ آگے: ”أَلْفَا رَجُلٍ، وَأَلْفَا امْرَأَةٍ“، اصل میں کیا تھا؟ ”أَلْفَانِ“، نون اضافہ یہ تثنیہ ہے الف کی، تو نون اضافت کی وجہ سے گر گیا بھئی، ”أَلْفَا رَجُلٍ“ دو ہزار آدمی، ”وَأَلْفَا امْرَأَةٍ“ اور دو ہزار عورتیں، ”بِلَا فَرْقٍ بَيْنَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ“ بغیر کسی فرق کے مذکر اور مؤنث کے بیچ، یعنی مائۃ اور الف ایک جیسے ہی رہیں گے ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ”فَإِذَا زَادَ عَلَى الْمِائَةِ وَالْأَلْفِ“ جب عدد بڑھ جائے کس پر؟ مائۃ اور الف پر، ”يُسْتَعْمَلُ عَلَى قِيَاسِ مَا عَرَفْتَ“ تو پھر اس کو استعمال کیا جائے گا اسی طریقے پر جو آپ نے جان لیا، ”وَيُقَدَّمُ الْأَلْفُ عَلَى الْمِائَةِ، وَالْمِائَةُ عَلَى الْآحَادِ، وَالْآحَادُ عَلَى الْعَشَرَاتِ“ اور پھر مقدم کیا جائے گا الف کو مائۃ پر، ”وَالْمِائَةُ عَلَى الْآحَادِ“ اور مائۃ کو آحاد یعنی اکائیوں پر، ”وَالْآحَادُ عَلَى الْعَشَرَاتِ“ اور اکائیوں کو علی العشرات یعنی دہائیوں پر، اکائیوں کو دہائیوں پر مقدم کریں گے۔ مثلاً دیکھیے بھئی، میں کہنا چاہتا ہوں چار ہزار پانچ سو اکیس مرد، چار ہزار پانچ سو اکیس مرد، تو سب سے پہلے ہزار والا لاؤں گا میں، چار ہزار، کیا کہوں گا؟ ”أَرْبَعَةُ آلَافٍ“، الف کیا ہے، مذکر ہے نا؟ تو اس کے لیے اربع ثلاثۃ سے لے کر اربعۃ تک عدد کیا آتا ہے؟ معدود کے مخالف ہوتا ہے، تو الف کیا ہے؟ مذکر ہے، تو عدد کیا لاؤ؟ مؤنث، تو ”أَرْبَعَةُ آلَافٍ“، آگے واؤ لے آؤ حرفِ عطف۔ پھر اس کے بعد پانچ سو، پانچ سو کے لیے کیا کہیں گے؟ ہاں، مائۃ کے آخر میں تا جڑی ہوئی ہے تو مائۃ مؤنث ہے، اور ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک عدد کیا ہوتا ہے؟ مخالف، تو پھر مائۃ کے لیے عدد کیا لائیں گے تا کے ساتھ یا بغیر تا کے؟ بغیر تا کے، تو کیا کہیں گے؟ ”خَمْسُ مِائَةٍ“، ”أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَخَمْسُ مِائَةٍ“، آگے اکیس مرد، پھر واؤ لے آئے اور آگے اکیس مرد، بولیے: ”وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ ”أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَخَمْسُ مِائَةٍ وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“۔ اس میں دیکھیے سب سے پہلے کس کو ہم لائے؟ ہزار کو، اس کو مائۃ پر مقدم رکھا ہے، پھر اس کے بعد مائۃ ہے اس کو عشرات اور اکائیوں پر مقدم رکھا ہے، اور پھر اس کے بعد ”أَحَدٌ وَعِشْرُونَ“، دیکھو اکائی کو دہائی پر کیا کیا ہے؟ ”أَحَدٌ“ پہلے ہے اور ”عِشْرُونَ“ بعد میں ہے، تو اکائی مقدم ہے کس پر؟ دہائی پر۔ یہی بیان کر رہے ہیں کتاب میں دیکھیے بھئی۔ ”وَيُقَدَّمُ الْأَلْفُ عَلَى الْمِائَةِ، وَالْمِائَةُ عَلَى الْآحَادِ، وَالْآحَادُ عَلَى الْعَشَرَاتِ، تَقُولُ:“ مثلاً آپ کہتے ہیں: ”عِنْدِي“ میرے پاس جو ہیں ”أَلْفٌ وَمِائَةٌ وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“، دیکھا پہلے الف پھر مائۃ، اس کے بعد اکائی اور اس کے بعد عشرات یعنی دہائی۔ ”وَأَلْفَانِ وَمِائَتَانِ وَاثْنَانِ وَعِشْرُونَ رَجُلًا“، طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ جی۔ ”وَأَرْبَعَةُ آلَافٍ“، دیکھا الاف کے لیے ”أَرْبَعَةُ“ تا لے کر آئے، ”وَتِسْعُ مِائَةٍ“، دیکھا یہاں مائۃ کے لیے تا نہیں لائے۔ ایک اور بھی رسم الخط کا قیمتی ضابطہ یاد رکھیں بھئی، بہت قیمتی ضابطہ۔ یاد رکھیے ثلاثۃ سے لے کر یہ تسعۃ تک: تین سو ”ثَلَاثُمِائَةٍ“، چار سو ”أَرْبَعُمِائَةٍ“، پانچ سو ”خَمْسُمِائَةٍ“، چھ سو ”سِتُّمِائَةٍ“، سات سو ”سَبْعُمِائَةٍ“، آٹھ سو ”ثَمَانِمِائَةٍ“ اور نو سو ”تِسْعُمِائَةٍ“، ان میں یہ جو مائۃ سے پہلے عدد آ رہا ہے نا، اس عدد کو لکھائی میں بھی مائۃ کے لفظ کے ساتھ ملا کر لکھتے ہیں۔ جی، آپ تسع کو الگ کر دیں اور مائۃ کو الگ کر دیں، نہیں نہیں یہ نہیں صحیح بھئی، صحیح طریقہ کیا ہے کہ اس تسعۃ کو یا ثلاثۃ کو کیا کرو؟ مائۃ کے ساتھ جوڑ کر لکھو، جیسا آپ اس وقت کتاب میں دیکھ رہے ہیں: ”وَتِسْعُمِائَةٍ“، یہ عین کو کیا کیا ہے؟ میم کے ساتھ، تسعۃ کے عین کو میم کے ساتھ دیکھو جوڑ کر لکھا ہے، تو یہ رسم الخط کا ضابطہ ہے بھئی بڑا قیمتی ضابطہ۔ ”وَأَرْبَعَةُ آلَافٍ وَتِسْعُمِائَةٍ وَخَمْسٌ وَأَرْبَعُونَ امْرَأَةً“ کتنا ہوا؟ چار ہزار، تسعمائۃ: نو سو، اور خمس و اربعون: پینتالیس عورتیں۔ ”وَعَلَيْكَ بِالْقِيَاسِ“ اور آپ پر قیاس لازم ہے، یعنی آپ قیاس کو لازم پکڑیں، قیاس کر لیجیے، ہم نے طریقہ سکھا دیا، باقی سب عدد بھی اسی طرح آئیں گے۔ طریقہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ بھئی اب یہ پھر اب تمییز کی بات کرنے لگے ہیں، تمییز کی۔ میں نے آپ کو بتلا دیا تمییز کیسے آتی ہے: ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک تمییز کیا آئے گی؟ جمع مجرور، اور گیارہ سے لے کر ننانوے تک تمییز کیسے آئے گی؟ مفرد منصوب، اور الف اور مائۃ میں تمییز کیا آئے گی؟ مفرد مجرور، وہی اب بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ الْوَاحِدَ وَالِاثْنَيْنِ لَا مُمَيِّزَ لَهُمَا“ کہ واحد اور اثنین، بھئی میں نے کہا تھا ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک تمییز کیا ہوتی ہے؟ جمع مجرور، تو واحد اور اثنان کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں بھئی واحد اور اثنان کی تمییز نہیں آتی، اس میں وہ جو تمییز ہے وہ خود ہی واحد اور تثنیہ پہ دلالت کرتی ہے، تو ”وَاحِدُ رَجُلٍ“ نہیں کہیں گے، صرف ”رَجُلٌ“ کہہ دیں گے، ”رَجُلٌ“ لفظ ہی پتہ چل رہا ہے کتنے رجل ہیں؟ ایک ہے، اور ”اثْنَا رَجُلَيْنِ“ یوں نہیں کہیں گے دو آدمی، بلکہ ”رَجُلَيْنِ“، سیدھا سیدھا ”رَجُلَانِ“ یا ”رَجُلَيْنِ“ کہہ دیں گے، اور رجلان کا لفظ خود ہی بتلا رہا ہے یہ کتنے مرد ہیں؟ دو ہیں۔ تو لہٰذا دیکھا یہاں یہ جو تمییز یا ممیز کہہ لو، تمییز کا دوسرا نام کیا؟ ممیز، ممیز خود ہی عدد سے خود ہی عدد پر دلالت کر دیتا ہے، وہاں کسی اور تمییز وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ تو وہاں کسی عدد وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں، تو کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ الْوَاحِدَ وَالِاثْنَيْنِ لَا مُمَيِّزَ لَهُمَا“ کہ واحد اور اثنین جو ہیں ان کی کوئی ممیز ان کا نہیں ہوتا، یعنی ان کی کوئی تمییز آگے نہیں آتی، ”وَاحِدُ رَجُلٍ“ نہیں کہیں گے، ”اثْنَا رَجُلَيْنِ“ یوں نہیں کہیں گے، ان کا کوئی ممیز نہیں ہوتا، آگے یعنی ان کی تمییز نہیں آتی۔ ممیز کس کا نام ہے؟ تمییز کا۔ ”لِأَنَّ لَفْظَ الْمُمَيِّزِ يُغْنِي عَنْ ذِكْرِ الْعَدَدِ فِيهِمَا“ اس لیے کیونکہ ممیز کا لفظ جو ہے، ممیز جو آگے تمییز آنی تھی وہ لفظ خود ہی ”يُغْنِي“، اغنیٰ یغنی کا معنی ہے بے نیاز کر دینا، بے پرواہ کر دینا، وہ بے پرواہ کر دیتا ہے ”عَنْ ذِكْرِ الْعَدَدِ فِيهِمَا“ اس بات سے کہ عدد کو ذکر کیا جائے ان دونوں میں، یعنی ایک اور دو میں عدد کو ذکر کرنے سے وہ بے نیاز کر دیتا ہے۔ رجل کہہ دیا تو پتہ چل گیا واحد ہے اور رجلان کہہ دیا تو پتہ چل گیا اثنان دو ہیں بھئی۔ ”تَقُولُ: عِنْدِي رَجُلٌ“ آپ کہتے ہیں ”عِنْدِي رَجُلٌ“، دیکھا ”عِنْدِي وَاحِدُ رَجُلٍ“ نہیں بلکہ ”عِنْدِي رَجُلٌ“، ”وَرَجُلَانِ“ ای ”عِنْدِي رَجُلَانِ“۔ ”وَأَمَّا سَائِرُ الْأَعْدَادِ“ سائر کا کیا معنی؟ باقی، باقی، ”وَأَمَّا سَائِرُ الْأَعْدَادِ“ اور جو باقی کے اعداد ہیں ”فَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ مُمَيِّزٍ“ تو ان کے لیے ممیز کا ہونا ضروری ہے، ”فَلَا بُدَّ“ ضروری ہے، ”فَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ مُمَيِّزٍ“ تو ان کے لیے ممیز کا ہونا ضروری ہے، ”فَتَقُولُ:“ پس آپ کہتے ہیں: ”مُمَيِّزُ الثَّلَاثَةِ إِلَى الْعَشَرَةِ مَخْفُوضٌ مَجْمُوعٌ“ کہ ممیز ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک، ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک جو ممیز یعنی تمییز ہوتی ہے ”مَخْفُوضٌ“ مجرور ہوتی ہے، خفض کسے کہتے ہیں؟ جر کو، خفض، ”مَخْفُوضٌ“، ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک تمییز کیا ہوتی ہے؟ ”مَخْفُوضٌ مَجْمُوعٌ“، جمع مجرور ہوتی ہے، معنی سمجھ میں آگیا؟ مخفوض: مجرور، اور مجموع: جمع۔ تو کہتے ہیں: ”مُمَيِّزُ الثَّلَاثَةِ إِلَى الْعَشَرَةِ مَخْفُوضٌ مَجْمُوعٌ“ ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک کی تمییز جو ہے وہ جمع مجرور ہوتی ہے، ”تَقُولُ: ثَلَاثَةُ رِجَالٍ وَثَلَاثُ نِسْوَةٍ“، دیکھا رجال جمع مجرور، نسوۃ جمع مجرور۔ ”إِلَّا إِذَا كَانَ الْمُمَيِّزُ لَفْظَ الْمِائَةِ“ مگر جس وقت کہ ممیز وہ مائۃ کا لفظ ہو ”فَحِينَئِذٍ يَكُونُ مَخْفُوضًا مُفْرَدًا“ تو پھر اس وقت وہ ”مَخْفُوضًا مُفْرَدًا“ مجرور مفرد ہوگا، یعنی مفرد مجرور ہوگا، ”تَقُولُ: ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعُ مِائَةٍ“، دیکھا یہ رسم الخط غلط ہے بھئی، دیکھ رہے ہیں آپ؟ ثلاثۃ کو مائۃ سے الگ لکھا ہے اور تسعۃ کو بھی مائۃ سے الگ، حالانکہ ان کو ملا کر لکھنا چاہیے بھئی۔ تو یہ قیمتی ضابطہ ہے بھئی، یہ عام علماء کو بھی علم نہیں بھئی یہ رسم الخط کا ضابطہ ہے قیمتی، تو ”ثَلَاثُمِائَةٍ وَتِسْعُمِائَةٍ“۔ دیکھو، قیاس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک تمییز کیا آتی ہے؟ جمع مجرور، لہٰذا مائۃ کی جمع مِائَاتٌ یا مِئُونَ، مِائَات یا مِئُونَ، اس کو استعمال کیا جاتا اور یوں کہتے ”ثَلَاثُ مِائَاتٍ“ یا ”ثَلَاثُ مِئِينَ“، لیکن مائۃ کا لفظ آئے تو پھر اس کی جمع استعمال نہیں کرتے کیونکہ اس کی جمع عربی میں عام عدد کے ساتھ اس طرح استعمال نہیں ہوتی بھئی۔ تو جب اس کی تمییز لفظِ مائۃ آئے تو مفرد مجرور ہوگا، ”تَقُولُ: ثَلَاثُمِائَةٍ وَتِسْعُمِائَةٍ، وَالْقِيَاسُ: ثَلَاثُ مِائَاتٍ أَوْ مِئِينَ“ قیاس تو یہ تھا کہ یہ ”ثَلَاثُ مِائَاتٍ“ ہوتا یا ”ثَلَاثُ مِئِينَ“ ہوتا۔ ”وَمُمَيِّزُ أَحَدَ عَشَرَ إِلَى تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ مَنْصُوبٌ مُفْرَدٌ“ اور گیارہ سے لے کر ”إِلَى تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ“ ننانوے تک ممیز یعنی تمییز جو ہوتی ہے ”مَنْصُوبٌ مُفْرَدٌ“ کیا ہوتی ہے؟ مفرد منصوب ہوتی ہے، ”تَقُولُ: أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا، وَإِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَجُلًا، وَتِسْعٌ وَتِسْعُونَ امْرَأَةً“۔ ”وَمُمَيِّزُ مِائَةٍ وَأَلْفٍ وَتَثْنِيَتِهِمَا وَجَمْعِ الْأَلْفِ مَخْفُوضٌ مُفْرَدٌ“ بھئی دیکھیے، وہی باتیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں: مائۃ اور الف کی تمییز کیا آئے گی؟ مفرد مجرور۔ تو مائۃ چاہے مفرد ہو ”مِائَةٌ“، چاہے تثنیہ ہو ”مِائَتَانِ“، اور الف چاہے مفرد ہو ”أَلْفٌ“، چاہے تثنیہ ہو ”أَلْفَانِ“، یا جمع ہو ”آلَافٌ“، سب کی تمییز کیا آئے گی؟ مفرد مجرور۔ سوال: آپ نے الف میں تین درجے ذکر کیے: الف مفرد بھی ہو سکتا ہے، تثنیہ بھی ہو سکتا ہے اور جمع، تو ان تینوں صورتوں میں تمییز کیا آئے گی؟ مفرد مجرور۔ لیکن مائۃ میں آپ نے دو درجے ذکر کیے: مفرد، مائۃ مفرد ہو تو تمییز مفرد مجرور، اور مائۃ اگر تثنیہ ہو تو بھی اس کی تمییز مفرد مجرور، مائۃ اگر جمع ہو پھر؟ کہتے ہیں بھئی مائۃ جمع اس طرح عدد کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ اس لیے اس کا وہ درجہ جمع کو ذکر ہی نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُمَيِّزُ مِائَةٍ وَأَلْفٍ وَتَثْنِيَتِهِمَا وَجَمْعِ الْأَلْفِ مَخْفُوضٌ مُفْرَدٌ“ اور مائۃ اور الف کی تمییز ”وَتَثْنِيَتِهِمَا“ اور ان کی دونوں کی تثنیہ کی تمییز ”وَجَمْعِ الْأَلْفِ“ اور الف کی جمع کی تمییز ”مَخْفُوضٌ مُفْرَدٌ“ وہ مفرد مجرور ہوتی ہے، ”تَقُولُ: مِائَةُ رَجُلٍ، وَمِائَةُ امْرَأَةٍ، وَأَلْفُ رَجُلٍ، وَأَلْفُ امْرَأَةٍ، وَمِائَتَا رَجُلٍ، وَمِائَتَا امْرَأَةٍ، وَأَلْفَا رَجُلٍ، وَأَلْفَا امْرَأَةٍ“ آپ دیکھ رہے ہیں اضافت ہو رہی ہے اور مفرد مجرور ہے تمییز، اور نون بھی اضافت کی وجہ سے گر گیا تثنیہ کا۔ ”وَثَلَاثَةُ آلَافِ رَجُلٍ، وَثَلَاثُ آلَافِ امْرَأَةٍ“ جی، یہاں دیکھیے الف کے فوراً بعد تمییز آ رہی ہے، کس کے بعد؟ الف کے بعد، لہٰذا اس کا اعتبار کیا۔ ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک جمع مجرور اور خلافِ قیاس، یعنی الف کے لیے تا آنی چاہیے یا نہیں؟ الف کا لفظ مذکر ہے، میں کہنا چاہتا ہوں تین ہزار تو کیا کہوں گا؟ ”ثَلَاثَةُ آلَافٍ“، کیونکہ الف کا لفظ مذکر تو عدد کیا ہوگا؟ مؤنث: ”ثَلَاثَةُ آلَافٍ“۔ لیکن اگر اسی کے ساتھ آگے تمییز بھی آ جائے: ”ثَلَاثَةُ آلَافِ رَجُلٍ“، تو اب اس رجل کا اعتبار کریں گے اگر ساتھ ہی جڑا ہوا آ جائے، اور یہ رجل کیا ہے؟ مذکر ہے، تو لہٰذا ”ثَلَاثَةُ“ کے ساتھ تا جوڑ دیں گے، تا تو پہلے ہی جڑی ہوئی ہے لہٰذا اسی طرح رہے گا: ”ثَلَاثَةُ آلَافِ رَجُلٍ“۔ اور اگر امراۃ ہو، امراۃ، ویسے تو کیا تھا تین ہزار صرف بولو تین ہزار: ”ثَلَاثَةُ آلَافٍ“، الف کے لیے تا لاؤ گے ”ثَلَاثَةُ آلَافٍ“، لیکن اسی کے ساتھ امراۃ جڑا ہوا آ گیا، تو اب امراۃ تو کیا ہے؟ مؤنث، تو اب اس کا اعتبار کریں گے اور ماقبل میں جو ثلاثۃ کا عدد ہے اس سے تا کو حذف کریں گے کیونکہ اس الف سے کون مراد ہیں؟ یہ امراۃ ہی تو مراد ہیں، کوئی اور چیز تو مراد نہیں، تو لہٰذا اب گویا یوں کہیں گے: ”ثَلَاثُ آلَافِ امْرَأَةٍ“۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ دیکھیے یہی کہہ رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَثَلَاثَةُ آلَافِ رَجُلٍ، وَثَلَاثُ آلَافِ امْرَأَةٍ، وَقِسْ عَلَى هَذَا“ اور اسی پر آپ قیاس کر لیجیے۔ اب آگے بھئی مذکر مؤنث کا بیان کرنے لگے ہیں کیونکہ عدد کے اندر مؤنث اور مذکر کا ذکر آیا تھا بھئی، کسی کے لیے معدود مذکر ہو تو عدد کو مؤنث لاتے ہیں وغیرہ۔ تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ: اَلِاسْمُ إِمَّا مُذَكَّرٌ وَإِمَّا مُؤَنَّثٌ“ اسم جو ہوتا ہے وہ یا تو مذکر ہوتا ہے اور یا مؤنث۔ ”فَالْمُؤَنَّثُ مَا فِيهِ عَلَامَةُ التَّأْنِيثِ“ تو مؤنث اسم وہ ہے جس میں تانیث کی علامت پائی جائے، جس میں تانیث کی علامت موجود ہو، ”لَفْظًا أَوْ تَقْدِيرًا“ تو تانیث کی علامت چاہے لفظاً ہو چاہے تقدیراً ہو بھئی، تقدیراً ہو۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْمُؤَنَّثُ مَا فِيهِ عَلَامَةُ التَّأْنِيثِ لَفْظًا أَوْ تَقْدِيرًا“ تو مؤنث وہ اسم ہے کہ جس کے اندر تانیث والی علامت پائی جائے لفظوں میں یا تقدیراً ہو۔ لفظاً: لفظوں میں ہو یعنی اس پر ہم باقاعدہ تلفظ کریں، اور تقدیراً ہو یعنی اس پر ہم تلفظ تو نہیں کر رہے لیکن اس کو فرض کر لیا جائے، مان لیا جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ پھر یاد رکھیے یہ جو لفظاً ہے یہ دو قسم پر ہے: لفظاً حقیقۃً ہوگی اور یا لفظاً حکماً ہوگی۔ لفظاً حقیقۃً آگے مثالیں آ رہی ہیں بھئی، جیسے جیسے جیسے ”طَلْحَةُ“، ”طَلْحَةُ“ اس کے آخر میں کیا ہے؟ تائے تانیث جڑی ہوئی ہے اور لفظاً ہے اور حقیقۃً ہے، ہم اس پر باقاعدہ کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں حقیقۃً بھئی، تو یہ یہ تانیث کی علامت لفظاً حقیقۃً ہے۔ اور کبھی تانیث کی علامت لفظاً حکماً ہوتی ہے جیسے ”عَقْرَبٌ“، ”عَقْرَبٌ“، عقرب میں، تو عقرب میں جو چوتھا حرف ہے، عقرب بچھو کو کہتے ہیں: عین قاف را با، عقرب کے اندر یہ جو چوتھا حرف ہے یعنی با، یہ یہ تائے تانیث کے حکم میں ہے، تائے تانیث تو نہیں ہے لیکن اس کے حکم میں ہے، اور اس پر ہم تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ ہاں، تو یہ تانیث کی تا ہے لفظاً حکماً، حقیقۃً نہیں ہے بلکہ حکماً ہے، ہم اس پر تانیث کی علامت پر تلفظ کر رہے ہیں لیکن حقیقۃً تو تانیث کی علامت نہیں لیکن اس کے حکم میں ہے۔ تو بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ تو تانیث کی علامت لفظاً ہوگی یا تقدیراً، اور لفظاً پھر کتنی قسم پر؟ دو قسم پر، یا حقیقۃً ہوگی لفظاً یا حکماً ہوگی بھئی۔ ”أَوْ تَقْدِيرًا“ یا تانیث کی علامت تقدیراً ہوگی۔ ”وَالْمُذَكَّرُ مَا بِخِلَافِهِ“ اور مذکر اسم وہ ہے جو اس کے خلاف ہو، یعنی جس میں تانیث کی علامت نہ لفظاً پائی جائے اور نہ تقدیراً۔ ”وَعَلَامَةُ التَّأْنِيثِ ثَلَاثَةٌ: اَلتَّاءُ“ اور تانیث کی علامتیں تین ہیں: ایک تا ہے جو وقف کی صورت میں ہا بن جاتی ہے، ”ضَارِبَةٌ“ اسی پر وقف کریں: ”ضَارِبَهْ“، دیکھا وہ گول تا کس سے بدل گئی؟ ہا سے، یہ ہے تانیث والی تا۔ ”كَطَلْحَةَ“ جیسے طلحہ، طلحہ کے آخر میں یہ تانیث کی تا ہے، ہاں اگرچہ یہ نام مذکر کا ہے لیکن تا کون سی ہے؟ تانیث والی ہے، تو لہٰذا اسی لیے طلحہ کا نام جہاں کہیں آئے گا آپ اس کو غیر منصرف پڑھیں گے کیونکہ دو اسبابِ منعِ صرف آ گئے: ایک تانیث اور ایک علمیۃ، نام بھی ہے اور تانیث بھی، تو ”كَطَلْحَةَ“، دیکھا میں نے بھی اس کو کیسے پڑھا؟ غیر منصرف پڑھا، اور غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے، اس کا جر بھی فتحہ کی صورت میں آتا ہے، تو ”كَطَلْحَةَ“۔ تو طلحہ کا اعراب بتاؤ اس وقت مجھے؟ مجرور لفظاً، شاباش، تو اس کو تقدیراً نہیں کہنا کیونکہ اس کا جر آتا ہی اس شکل میں ہے اور اس پر ہم تلفظ بھی کر رہے ہیں۔ تو تانیث کی تین علامتیں ہیں: ایک تا ہے، ”وَالْأَلِفُ الْمَقْصُورَةُ“ اور ایک الفِ مقصورہ ہے، الفِ مقصورہ یہ عام الف بھئی، کسی اسم کے آخر میں آئے، ”كَحُبْلَى“، ”حُبْلَى“، دیکھا یہ الفِ مقصورہ ہے۔ ”وَالْأَلِفُ الْمَمْدُودَةُ“ اور ایک الفِ ممدودہ ہے ”كَحَمْرَاءَ“، ”حَمْرَاءَ“ کاف جمارہ داخل ہے اور یہ بھی غیر منصرف ہے کیونکہ الفِ تانیث قائم مقام دو سببوں کے ہے، آپ پڑھ چکے تو یہ غیر منصرف ہے، تو یہ مؤنث ہے احمر کی حمراء بھئی، سرخ۔ تو تانیث کی کتنی علامتیں؟ تین علامتیں: ایک تا، ایک الفِ مقصورہ اور ایک الفِ ممدودہ بھئی۔ الفِ ممدودہ وہ ہے کہ الف کے بعد ہمزہ آئے، الف کے بعد کیا آئے؟ ہمزہ آئے، اس کو الفِ ممدودہ کہتے ہیں اور اس کو خوب لمبا کیا جاتا ہے، خوب لمبا۔ پھر اس میں یاد رکھیے، الفِ مقصورہ کسے کہتے ہیں؟ جو عام الف ہے۔ اور الفِ ممدودہ؟ جس میں الف کے بعد ہمزہ آئے اور اس کو خوب لمبا کیا جاتا ہے۔ اس میں یاد رکھیے یہ جو ہوتا ہے نا الفِ ممدودہ، یہ دراصل دو الف تھے، حمراء کے آخر میں کیا تھے؟ دو الف تھے، دو الف تھے۔ پہلا الف زائد ہے اور دوسرا الف تانیث والا ہے، تو دو الف جمع ہو گئے، اور ضابطہ ہے کہ الفِ زائد کے بعد کوئی حرفِ علت آ جائے تو اس کو ہمزہ سے بدلتے ہیں۔ کیا ضابطہ ہے؟ الفِ زائد کے بعد کوئی حرفِ علت آ جائے تو اس کو ہمزہ سے بدلتے ہیں۔ تو حمراء کے آخر میں دو الف تھے، تو دوسرے دوسرا الف تانیث تھا اس کو کس سے بدل دیا؟ ہمزہ سے، تو ”حَمْرَاءُ“ ہوا، صورت سمجھ میں آگئی؟ ”كَحَمْرَاءَ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ الفِ زائد کے بعد اگر کیا آ جائے؟ حرفِ علت آ جائے تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ ہمزہ سے، جیسے ”قَالَ يَقُولُ قَوْلًا فَهُوَ قَائِلٌ“، اصل میں کیا تھا؟ ”قَاوِلٌ“، قول سے ہے نا، قول واوی ہے، تو الف کے بعد واو تھا، اس واو کو کس سے بدلا؟ یا سے بدل دیا گیا۔ آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَالْمُقَدَّرَةُ إِنَّمَا هُوَ التَّاءُ فَقَطْ“ اور وہ جو تانیث کی علامت مقدر ہوتی ہے وہ صرف تا ہوتی ہے، انہوں نے بتایا تھا نا کہ علامتِ تانیث یا لفظاً ہوگی یا تقدیراً، تو تقدیراً صرف تا ہوگی، یہ الفِ ممدودہ یا الفِ مقصورہ یہ مقدر نہیں ہوں گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُقَدَّرَةُ إِنَّمَا هُوَ التَّاءُ فَقَطْ“ مقدرہ جو ہے وہ صرف تا ہی ہوتی ہے، ”كَأَرْضٍ وَدَارٍ“ جیسے ارض اور دار۔ اب بھئی ارض یہ عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے اور دلیل اس کی کہ اس کی تصغیر بنائیں، تصغیر نکالیں تو وہ ”أُرَيْضَةٌ“ آتی ہے۔ اسی طرح دار، دار گھر کو کہتے ہیں، دار یہ بھی عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے اور دلیل اس کی یہ ہے اس کے مؤنث ہونے کی کہ اس کی تصغیر نکالیں تو وہ ”دُوَيْرَةٌ“، ”دُوَيْرَةٌ“ مؤنث، اس میں دیکھو تانیث کی علامت موجود ہے بھئی۔ تو لہٰذا یوں کہیں گے کہ ارض مؤنث ہے اور تا کیا ہے؟ علامتِ تانیث یہاں مقدر ہے، تقدیراً ہے، اسی طرح دار میں بھی، اور اس کا پتہ کس سے چلا؟ تصغیر سے۔ یاد رکھیے، مشہور ضابطہ ہے: ”اَلتَّصْغِيرُ يَرُدُّ الْأَشْيَاءَ إِلَى أُصُولِهَا“ کہ تصغیر جو ہے ”يَرُدُّ الْأَشْيَاءَ“ یہ چیزوں کو لوٹا دیتی ہے ”إِلَى أُصُولِهَا“ ان کی اصل کی طرف۔ آپ نے کسی لفظ کی اصل معلوم کرنی ہے تو اس کی تصغیر کو دیکھ لیں، آپ کو اس سے اس کی اصل کا پتہ چل جائے گا۔ دیکھو ”أَرْضٌ“ زمین کو کہتے ہیں، یہاں پر تا نہیں ہے، لیکن ہم نے اس کی تصغیر دیکھی تو وہ عربی میں استعمال ہوتی ہے ”أُرَيْضَةٌ“، ”أُرَيْضَةٌ“، اس سے اس کی اصل کا پتہ چل گیا، معلوم ہوا کہ ارض کے ساتھ اصل میں کیا جڑی ہوئی تھی؟ تا جڑی ہوئی تھی، تا مقدر ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ کس نے بتایا؟ تصغیر نے۔ تو ضابطہ کیا ہے؟ ”اَلتَّصْغِيرُ يَرُدُّ الْأَشْيَاءَ إِلَى أُصُولِهَا“۔ اسی طرح دار، دار کی تصغیر ہم نے نکالی تو تصغیر اس کی دیکھی تو وہ ”دُوَيْرَةٌ“ ہے، معلوم ہوا اس کے اندر بھی تانیث کی علامت مقدر ہے، اس تصغیر میں تائے تانیث موجود ہے۔ نیز دار، دار کے درمیان الف آ رہا ہے، الف ہے، اب پتہ نہیں یہ الف واؤ تھا یا یا تھا، لیکن جب اس کی تصغیر نکالی: ”دُوَيْرَةٌ“، دیکھا وہاں کیا موجود ہے؟ واؤ، معلوم ہوا یہ الف اصل میں کیا تھا؟ واؤ تھا، واؤ سے بدل کر الف ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ضابطہ کیا ہوا؟ ”اَلتَّصْغِيرُ يَرُدُّ الْأَشْيَاءَ إِلَى أُصُولِهَا“۔ اسی طرح جمع تکسیر ہے، ایک تو جمع سالم ہے نا، جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم، ایک جمع تکسیر ہے جس میں مفرد کا وزن جمع میں جا کر ٹوٹ جاتا ہے، تو التکسیر اس میں بھی یہی ضابطہ ہے: ”اَلتَّكْسِيرُ يَرُدُّ الْأَشْيَاءَ إِلَى أُصُولِهَا“ کہ جمع تکسیر جو ہے وہ بھی چیزوں کو ان کی اصل کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ تو آپ نے کسی لفظ کی اصل معلوم کرنی ہو عربی زبان میں تو اس کی تصغیر دیکھ لو یا اس کی جمع تکسیر دیکھ لو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ تو یہ دو ضابطے ہیں اور دونوں کو اکٹھا بھی یاد کر سکتے ہیں آپ: ”اَلتَّصْغِيرُ وَالتَّكْسِيرُ يَرُدَّانِ الْأَشْيَاءَ إِلَى أُصُولِهَا“، تصغیر اور تکسیر جو ہیں ”يَرُدَّانِ“ یہ دونوں لوٹا دیتے ہیں ”الْأَشْيَاءَ“ چیزوں کو ”إِلَى أُصُولِهَا“ ان کی اصل کی طرف۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُقَدَّرَةُ إِنَّمَا هُوَ التَّاءُ فَقَطْ كَأَرْضٍ وَدَارٍ بِدَلِيلِ أُرَيْضَةٍ وَدُوَيْرَةٍ“ اور مقدر جو ہے وہ صرف تا ہوتی ہے جیسے ارض اور دار، اریضۃ اور دویرۃ کی دلیل کے ساتھ۔ ”ثُمَّ الْمُؤَنَّثُ عَلَى قِسْمَيْنِ: حَقِيقِيٌّ“ پھر مؤنث دو قسم پر ہے: ایک مؤنثِ حقیقی ہے۔ مؤنثِ حقیقی بھئی سمجھ لیں، وہ ہے جس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان ہو، جیسے ”امْرَأَةٌ“، امراۃ کے مقابلے میں کیا ہے؟ مذکر حیوان رجل موجود ہے، یا جیسے ”نَاقَةٌ“ یہ بھی مؤنثِ حقیقی، اس کے مقابلے میں کیا ہے؟ ”جَمَلٌ“ مذکر حیوان موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: مؤنث دو قسم پر ہے، ایک حقیقی: ”وَهُوَ مَا بِإِزَائِهِ“ ازاء: مقابلے میں، ”وَهُوَ مَا بِإِزَائِهِ ذَكَرٌ مِنَ الْحَيَوَانِ“ وہ ہے وہ مؤنث ہے کہ جس کے مقابلے میں مذکر حیوان ہو ”كَامْرَأَةٍ وَنَاقَةٍ“ جیسے امراۃ اور ناقۃ۔ ”وَلَفْظِيٌّ“ اور ایک مؤنثِ لفظی ہے ”وَهُوَ مَا بِخِلَافِهِ“ وہ ہے جو اس مؤنثِ حقیقی کے برعکس ہو، یعنی اس میں تو تھا اس کے مقابلے میں مذکر حیوان ہوگا جبکہ مؤنثِ لفظی میں مقابلے میں مذکر حیوان نہیں ہوگا، ”كَظُلْمَةٍ“ جیسے ظلمت، اب اس کے آخر میں تا تو جڑی ہوئی ہے، یہ ہے تو مؤنث، ظلمت تاریکی کو کہتے ہیں، اس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان نہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مؤنثِ لفظی۔ ”وَعَيْنٍ“ اور جیسے عین کا لفظ، عین کا لفظ، یہ مؤنث ہے اور اس میں تانیث کی علامت مقدر ہے، دلیل کیا ہے؟ ہم نے اس کی تصغیر نکالی تو ”عُيَيْنَةٌ“، ”عُيَيْنَةٌ“ عین یا یا نون اور گول تا، عیینۃ آئی، معلوم ہوا یہاں تا کیا ہے؟ مقدر ہے بھئی۔ عین چشمے کو بھی کہتے ہیں، عین سورج کو بھی کہتے ہیں، عین جاسوس کو بھی کہتے ہیں، عین گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عین سونے کو بھی کہتے ہیں، تو بہت سے معانی آتے ہیں۔ تو عین یہ عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان نہیں تو معلوم ہوا یہ مؤنثِ لفظی ہے۔ ”وَقَدْ عَرَفْتَ أَحْكَامَ الْفِعْلِ إِذَا أُسْنِدَ إِلَى الْمُؤَنَّثِ فَلَا نُعِيدُهَا“ اور تحقیق آپ جان چکے ہیں احکام الفعل، فعل کے احکام جب اس کا اسناد کیا جائے مؤنث کی طرف تو ہم پھر ان کو نہیں دہرائیں گے۔ بھئی مصنف نے جہاں فاعل کی بحث آئی تھی وہاں مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ فعل کا فاعل اگر مؤنثِ حقیقی ہو تو اس کے لیے فعل کیا لائیں گے؟ مؤنث، مثلاً ہند نے پٹائی کی، آپ کہیں گے ”ضَرَبَتْ هِنْدٌ“، تو اس کے لیے فعل کیا لائیں گے؟ مؤنث۔ یہ اس وقت ہے جبکہ فاعل مؤنثِ حقیقی ہو اور درمیان میں فصل نہ ہو، اور اگر فصل آ جائے تو پھر آپ کو اختیار ہے: ”ضَرَبَتِ الْيَوْمَ هِنْدٌ“، اب دیکھو درمیان میں الیوم کا فصل آ گیا ضربت میں اور ہند میں، فاعل میں، تو اب ”ضَرَبَتِ الْيَوْمَ هِنْدٌ“ بھی کہہ سکتے ہیں اور ”ضَرَبَ الْيَوْمَ هِنْدٌ“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ کب؟ جبکہ فاعل کیا ہو؟ مؤنثِ حقیقی، اور اگر فاعل کیا ہو؟ مؤنثِ غیر حقیقی ہو یعنی مؤنثِ لفظی ہو تو پھر چاہے فصل ہو یا فصل نہ ہو آپ کو اختیار ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ فعل کو چاہے مذکر لائیں چاہے مؤنث لے کر آئیں بھئی، جیسے ”طَلَعَ الشَّمْسُ“ اور ”طَلَعَتِ الشَّمْسُ“، دونوں طرح آپ کہہ سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ عَرَفْتَ أَحْكَامَ الْفِعْلِ إِذَا أُسْنِدَ إِلَى الْمُؤَنَّثِ فَلَا نُعِيدُهَا“ اور تحقیق آپ جان چکے ہیں فعل کے احکام جب اس کا اسناد کیا جائے مؤنث کی طرف تو ہم ان کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ ”فَصْلٌ: اَلْمُثَنَّى اسْمٌ أُلْحِقَ بِآخِرِهِ أَلِفٌ أَوْ يَاءٌ مَفْتُوحٌ مَا قَبْلَهَا، وَنُونٌ مَكْسُورَةٌ، لِيَدُلَّ عَلَى أَنَّ مَعَهُ آخَرَ مِثْلَهُ، نَحْوُ: رَجُلَانِ وَرَجُلَيْنِ“ اب تثنیہ کی بحث آ گئی بھئی، تثنیہ۔ تثنیہ کسے کہتے ہیں؟ سمجھ لیں پہلے بھئی، پھر تعریف کو دیکھتے ہیں۔ یاد رکھیے تثنیہ ایسے اسم کو کہتے ہیں کہ جس کے مفرد کے آخر میں الف اور نون کو جوڑ دیا جائے بھئی، الف اور نون کو، یا یا اور نون کو، حالتِ رفعی میں الف اور نون، حالتِ نصبی جری میں یا اور نون: ”رَجُلَانِ“ اور ”رَجُلَيْنِ“۔ تو تثنیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جس کے مفرد کے آخر میں الف اور نون کو ملا دیا گیا ہے یا یا اور نون کو ملا دیا گیا ہے اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ اس کے ساتھ اس جیسا ایک اور بھی ہے، اس کے ساتھ اس جیسا ایک اور بھی ہے۔ مثلاً دیکھیے، مجھے دو کتابیں دیں بھئی۔ دیکھیے بھئی، یہ ایک کتاب ہے، یہ دوسری کتاب ہے، تو یہ کتاب مفرد ہے اور اب میں ان دونوں کے لیے لفظ بنانا چاہتا ہوں تو میں نے کتاب جو مفرد ہے اسی کے ساتھ الف اور نون کو جوڑا تو کیا بن گیا؟ ”كِتَابَانِ“۔ ”كِتَابَانِ“ کا کیا معنی؟ دو کتابیں، یعنی یہ دیکھیے یہ دو کتابیں ہیں بھئی۔ پہلے کیا تھا؟ یہ ایک تھی، یہ ایک طرف جو ہے، یہ ایک تھی، اسی کتاب کے ساتھ میں نے کیا جوڑ دیا؟ الف نون۔ یہ الف نون، ”كِتَابَانِ“، یہ الف نون کیا بتا رہا ہے کہ اس کتاب کے ساتھ اسی جیسی ایک اور کتاب بھی ہے، یعنی اب ایک کتاب نہیں ہے بلکہ کتنی ہیں؟ دو ہیں۔ یا جیسے آپ قلم، میں کہتا ہوں ”قَلَمَانِ“، دیکھو قلم تھا ایک، میں نے اس کے ساتھ کیا جوڑ دیا الف نون یا یا نون، اس الف اور نون نے کیا بتلایا کہ اس قلم کے ساتھ یہ اب اکیلا نہیں ہے، اس کے ساتھ اس جیسا ایک اور قلم بھی ہے، تو اب ”قَلَمَانِ“ دو قلم بھئی، اب ایک قلم نہیں بلکہ دو قلم۔ اور ایک قلم ہے تو دوسرا بھی کیا ہے؟ قلم ہے، اسی جیسا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اسی جیسا ہے یعنی قلم ہی ہے۔ ایک کتاب کے ساتھ دوسری کتاب ہے اسی جیسی یعنی جیسے یہ کتاب ہے وہ بھی کیا ہے؟ کتاب ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر: ”فَصْلٌ: اَلْمُثَنَّى اسْمٌ“ کہ تثنیہ جو ہے ایسا اسم ہے ”أُلْحِقَ بِآخِرِهِ“ کہ ملا دیا جائے اس کے آخر کے ساتھ، ای بآخر مفردہ، یہاں آخر کے بعد مفرد کا لفظ محذوف ہے ہا ضمیر سے پہلے، ملایا جائے کس کے ساتھ؟ اس کے مفرد کے آخر میں ملا دیا جائے ”أَلِفٌ أَوْ يَاءٌ“ ایسا الف یا ایسی یا ”مَفْتُوحٌ مَا قَبْلَهَا“ جس کا ماقبل کیا ہو؟ مفتوح۔ وہ الف مفتوح ہوتا ہے، وہ یا مفتوح ہوتی ہے یا ان کا ماقبل مفتوح ہوتا ہے؟ ماقبل مفتوح ہوتا ہے۔ تو یہ ”مَفْتُوحٌ“ صفت بحال متعلقہ ہے۔ یاد آیا کچھ؟ جی، کیا؟ صفت بحال متعلقہ ہے، وہ کسے کہتے ہیں؟ جو لفظوں میں صفت ہو ماقبل کی اور معنیٰ میں صفت ہو اس کے متعلق کی، تو یہاں بھی کہا: ایسا الف یا ایسی یا کہ مفتوح ہو ماقبلہا، اس کا ماقبل، وہ خود الف اور یا نہیں مفتوح بلکہ ان کا ماقبل، تو یہ مفتوح لفظوں میں صفت ہے ”أَلِفٌ أَوْ يَاءٌ“ کی، وہ مرفوع تو یہ بھی مرفوع، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ اس کی صفت نہیں کیونکہ وہ الف اور یا مفتوح نہیں ہوتے ان کا ماقبل کیا ہوتا ہے؟ مفتوح، تو یہ ”مَا قَبْلَهَا“ یہ ہے نائب فاعل مفتوح کے لیے، مفتوح کون ہوتا ہے؟ ”مَا قَبْلَهَا“ وہ جو ان کا ماقبل ہے۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔ تو تثنیہ ایسا اسم ہے کہ جس کے آخر میں ایسی الف اور یا جوڑ دی جائے جن کا ماقبل مفتوح ہو اور نونِ مکسورہ جوڑ دیا جائے بھئی، ”رَجُلَانِ“ الف جس کا ماقبل مفتوح ہے اور نون، ”رَجُلَيْنِ“ ایسی یا جس کا ماقبل مفتوح ہے اور نونِ مکسورہ، اس کو جوڑ دیا گیا ”لِيَدُلَّ“ تاکہ یہ دلالت کرے ”عَلَى أَنَّ مَعَهُ آخَرَ مِثْلَهُ“ اس بات پر کہ اس کے ساتھ، یہ جس کے آخر میں الف نون ملایا گیا، اس کے ساتھ آخر ایک اور بھی ہے مثلہ اسی جیسا، یعنی اسی کی جنس کا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک قلم ایک نوع کا ہے تو دوسرا بھی اسی نوع کا ہے، ایک کتاب ایک قسم کی ہے تو دوسری کتاب بھی اسی قسم کی ہے، یہ معنی نہیں ہے، معنی یہ ہے کہ اس قلم کے ساتھ ایک اور بھی اسی جیسا قلم ہے، یعنی جیسے اس کی جنس قلم ہے دوسرے کی بھی جنس کیا ہے؟ قلم۔ جیسے اس کتاب کے ساتھ ایک اور بھی کتاب ہے، ہو سکتا ہے ایک صرف کی ہو، ایک نحو کی ہو، لیکن ہیں تو کتابان، تو آپ تو ہمیں کیا کہہ رہے ہیں اس کتاب کے ساتھ اسی جیسی ایک اور کتاب ہے، بھئی اسی جیسی کا یہ معنی نہیں کہ نوع بھی ایک جیسی ہو، قسم بھی ایک جیسی ہو، بلکہ جنس ایک ہے، جیسے یہ کتاب ہے اسی طرح اس کے ساتھ اسی کی جنس کی ایک اور بھی کتاب ہے، وہ بھی یعنی کتاب کی جنس ہے، یہ بھی کتاب کی جنس ہے۔ تو یہ ”لِيَدُلَّ عَلَى أَنَّ مَعَهُ آخَرَ مِثْلَهُ“ تاکہ دلالت کرے اس بات پر کہ اس کے ساتھ اسی جیسا ایک اور بھی ہے ”نَحْوُ: رَجُلَانِ وَرَجُلَيْنِ“ جیسے رجلان اور رجلین۔ ”هَذَا فِي الصَّحِيحِ“ یہ تو صحیح کے اندر ہے بھئی، دیکھیے تثنیہ بنانا چاہتے ہیں آپ تو صحیح کی تثنیہ تو آسان ہے۔ نحو میں صحیح کسے کہتے ہیں اور ناقص کسے کہتے ہیں؟ صَرفی ناقص اور اور نحوی ناقص، یا یوں کہیں، صرفی صحیح اور، صرفی صحیح کسے کہتے تھے؟ جس کے فا عین لام کے مقابلے میں حرفِ علت بھی نہ ہو، ہمزہ بھی نہ ہو اور دو حرف ایک جنس کے بھی نہ ہوں، اس کی بڑی لمبی تعریف، لیکن نحوی بحث کرتا ہے اعراب سے اور اعراب آتا ہے آخری حرف پر، تو صرف آخری حرف کو دیکھیں، اگر کلمے کا آخری حرف حرفِ علت ہے تو اس کو ناقص کہیں گے اور اگر وہ حرفِ علت نہیں تو پھر وہ وہ صحیح کہلاتا ہے۔ تو یہ جو طریقہ بیان کیا الف نون یا یا نون اس کے آخر میں ملائیں گے، ”هَذَا فِي الصَّحِيحِ“ یہ کس میں ہے؟ صحیح کے اندر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”هَذَا فِي الصَّحِيحِ“ یہ تو صحیح کے اندر ہے۔ صحیح کے اندر آپ ایک مفرد سے تثنیہ بنانا چاہتے ہیں آسان طریقہ ہے، اس کے آخر میں الف نون یا یا نون جوڑ دیں بھئی۔ اور اگر وہ اسم مقصور ہے، اسم مقصور ہے یعنی اس کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ اس کے آخر میں الف آ رہا ہے، الف آ رہا ہے، تو پھر کیا کریں گے؟ اور اسی طرح اگر اس کے آخر میں الفِ ممدودہ آئے تو پھر کیا کریں گے؟ اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْمَقْصُورُ فَإِنْ كَانَتْ أَلِفُهُ مُنْقَلِبَةً عَنْ وَاوٍ“ کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَتْ أَلِفُهُ مُنْقَلِبَةً عَنْ وَاوٍ“ اگر اس کا الف بدلا ہے عن واو، کس سے؟ واو سے، اس کا بھئی ہے تو اسم مقصور، آخر میں کیا آ رہا ہے الفِ مقصورہ، لیکن وہ الف کس سے بدل کر آیا ہے؟ واو سے، تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَتْ أَلِفُهُ مُنْقَلِبَةً عَنْ وَاوٍ“ اگر اس کا الف بدلا ہے واو سے ”وَكَانَ ثُلَاثِيًّا“ اور وہ اسم ثلاثی ہے۔ ثلاثی کا یہ معنی نہیں کہ حرفِ اصلی تین ہوں، ثلاثی کا یہاں معنی یہ ہے کہ تین حروف ہوں اس کے، تین سے زیادہ نہ ہوں، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ اپ ثلاثی حرفِ اصلی والے ثلاثی مراد نہیں ہے بلکہ ثلاثی سے مراد تین حروف والا ہے۔ تو کہتے ہیں: اگر اسم مقصور کا الف واو سے بدل کر آیا ہے ”وَكَانَ ثُلَاثِيًّا“ اور وہ اسم کیا ہے؟ ثلاثی ہے، ”رُدَّ إِلَى أَصْلِهِ“ تو اس الف کو پھر لوٹا دیں گے اس کی اصل یعنی واو کی طرف، ”كَـ: عَصَوَانِ فِي عَصًا“۔ بھئی عصا دیکھو آخر میں کیا ہے؟ الف، آپ اس کی تثنیہ بنانا چاہتے ہیں، عصا لاٹھی کو کہتے ہیں۔ بھئی دیکھو ایک ہے عصا، ایک ہے رحا، عصا کے آخر میں بھی الفِ مقصورہ، رحا کے آخر میں بھی الفِ مقصورہ، عصا کہتے ہیں لاٹھی کو، رحا کہتے ہیں پن چکی کو۔ پن چکی جانتے ہو؟ یہ بعض پہاڑی علاقوں میں پہاڑوں پر اوپر سے پانی آتا ہے تو نیچے وہ پانی کے بہاؤ پر بھاری پتھر رکھ دیتے ہیں اور پانی ان کو گھماتا ہے اور اس پر پھر وہ آٹا پیستے ہیں، کوئی خاص ان کا طریقہ ہوتا ہے، وہ ہر وقت گھومتا رہتا ہے کیونکہ مسلسل اوپر سے پانی آ رہا ہے تو وہ بھاری پتھر ہوتا ہے لیکن پانی اس کو گھماتا رہتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ پن چکی، تو یہ ہے رحا۔ اب عصا اس کے آخر میں بھی الفِ مقصورہ، رحا اس کے آخر میں بھی الفِ مقصورہ، اب ہمیں پتہ نہیں کہ کون سا الف واو سے بدلا ہے اور کون سا الف یا سے بدل کر آیا ہے، تو ایک رسم الخط کا ضابطہ یاد رکھنا اس سے بہت جگہ آپ کو مدد مل جائے گی۔ رسم الخط کا ضابطہ یہ ہے کہ جب یا الف سے بدل جائے، آخر میں کیا تھی یا اور وہ کس سے بدل گئی الف سے، تو بھی اس کو یا ہی کی شکل میں لکھتے ہیں اور اس پر کھڑی زبر ڈال دیتے ہیں، لکھتے کس شکل میں ہیں؟ یا کی شکل میں، اور عربی میں اس یا کے نیچے پھر نقطے نہیں ڈالتے، جو یا کس سے بدل جائے؟ الف سے۔ جو یا الف سے نہ بدلے اس کے آخر میں وہ نقطے ڈالتے ہیں اور جو یا الف سے بدل جائے اس کے نیچے نقطے نہیں ڈالتے۔ تو یا جب الف سے بدل جائے تو اس یا کو یا ہی کی شکل میں لکھتے ہیں، لیکن آخر میں اگر واو تھا اور وہ واو الف سے بدل جائے تو اب اس کو واو کی شکل میں نہیں لکھتے بلکہ الف کی شکل میں لکھتے ہیں۔ تو دیکھا عصا اور رحا، عصا کے آخر میں الف، معلوم ہوا یہ کس سے الف بدلا ہے؟ واو سے، اور رحا کے آخر میں اسی طرح یا ہے، معلوم ہوا یہ الف کس سے بدل کر آیا ہے؟ یا سے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور میں نے بتایا ہم تو اس پر کھڑی زبر لکھ دیتے ہیں ہمارے ہاں، لیکن عرب عرب اس پر کھڑی زبر وغیرہ کچھ بھی نہیں لکھیں گے، ہاں اس رحا کی یا کے نیچے وہ نقطے نہیں ڈالیں گے اور جو یا الف سے نہ بدلی ہو اس کے نیچے وہ نقطے ڈالتے ہیں، لہٰذا آپ عربی کتابیں اٹھا کر دیکھیں۔ اب تو آپ کو صرف آتی ہے: ”فِي“، فی کے اندر آخر میں یا ہے اور یا الف سے بدلی ہے؟ نہیں، لہٰذا اس فی کے نیچے آپ کو عربی کتابوں میں ہمیشہ دو نقطے ملیں گے، اور ”عَلَى“، علیٰ کے آخر میں کیا ہے؟ یا ہے لیکن کس سے بدل چکی؟ الف سے، تو اس یا کے نیچے وہ دو نقطے نہیں لکھیں گے، تو یہ دو نقطے نہ لکھنا علامت ہے کہ یہ یا کس سے بدل چکی؟ الف سے۔ تو یہ ساری عربی کتابوں میں آپ غور کر لیں، آپ کو اسی طرح ملے گا: جو یا الف سے بدل جائے اس کے نیچے وہ نقطے نہیں لکھتے اور جس یا جو یا نہ بدلی ہو اس کے نیچے وہ نقطے لکھتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ تو کیا ضابطہ بیان ہوا کہ اگر اسم مقصور کے آخر میں کیا آئے؟ الف آئے اور وہ الف کس سے بدل کر آیا ہے؟ واو سے، اور لفظ بھی کیسا ہے؟ ثلاثی ہے یعنی تین حرف والا ہے، ثلاثی مجرد نہیں مراد بلکہ لفظ میں حروف ہی کل کتنے ہیں؟ تین، جیسے عصا میں عین صاد الف تین حروف ہیں، تو اس کو اس کی جب آپ تثنیہ بنانا چاہیں تو اس الف کو دوبارہ کس کی طرف لوٹا دیں؟ واو کی طرف اور الف نون ساتھ جوڑ دیں: ”عَصَوَانِ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”كَـ: عَصَوَانِ فِي عَصًا“۔ ”وَإِنْ كَانَتْ عَنْ يَاءٍ“ اور اگر وہ الف کس سے بدل کر آیا ہے؟ یا سے بدل کر آیا ہے، ”أَوْ وَاوٍ وَهُوَ أَكْثَرُ مِنَ الثُّلَاثِيِّ“ یا کس سے بدلا ہے؟ واو سے اس حال میں کہ وہ ثلاثی سے زیادہ ہو، یہ قید ہے واو کے ساتھ، واو۔ اوپر بتایا تھا نا اگر الف کس سے بدلا ہو واو سے اور کتنے حروف والا اسم ہو؟ تین والا، اب بتا رہے ہیں اگر الف واو سے بدلا ہے لیکن اسم تین سے زیادہ والا ہے یا اور اگر الف کس سے بدلا ہے؟ یا سے، پھر تو چاہے تین والا ہو یا زیادہ والا ہو اس سے ہماری بحث نہیں کیونکہ یا کے اوپر بات کی ہی نہیں تھی، یا والے سب آگئے، جب الف کس سے بدلا؟ یا سے، چاہے پھر وہ تین حرف والا ہو یا زیادہ والا، سب کا یہی حکم۔ اور اگر الف کس سے بدلا؟ واو سے، تو پھر کیا ہونا چاہیے؟ تین سے زیادہ ہو۔ آگے حکم آ رہا ہے ابھی بات پوری نہیں ہوئی، اگر واو سے الف بدلا تھا اور تین حروف تھے اس کی مثال بیان کر دی اس کو واپس کس میں بدل دیں گے؟ واو سے، لیکن اگر اس کے برعکس اور کوئی بھی صورت ہو باقی سب اس میں آگئے، اور کیا کیا صورتیں آئیں؟ بھئی دیکھو اگر اسم ثلاثی ہے تین حرف والا ہے اور اس کا الف کس سے بدل کر آیا ہے واو سے، تو اس الف کو پھر دوبارہ واو سے بدل دیں گے اور آخر میں الف نون لگا دیں گے جیسے عصا سے کیا بن گیا؟ ”عَصَوَانِ“، اور اس کے علاوہ باقی ساری صورتوں میں، ساری صورتوں میں الف کو یا سے بدل دیں گے۔ اور باقی ساری صورتوں میں کیا کیا صورت ہے؟ کہ اگر الف کس سے بدلا ہو؟ یا سے، چاہے اسم تین حرف والا ہے یا زیادہ والا ہے جو بھی ہے، لیکن الف کس سے بدلا ہو؟ یا سے۔ یا الف بدلا تو واو سے ہے لیکن تین حروف سے زیادہ والا اسم تھا۔ یا یا الف ایسا ہے جو کسی سے بھی بدل کر نہیں آیا، نہ واو سے اور نہ یا سے، تو ان تمام صورتوں میں وہ الف یا سے بدل جائے گا بھئی، کس سے بدل جائے گا؟ یا سے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”إِنْ كَانَتْ عَنْ يَاءٍ“ اور اگر وہ کس سے بدلا ہو الف؟ یا سے بدلا ہو، ہر صورت میں چاہے ثلاثی ہو یا ثلاثی سے زیادہ ہو، ”أَوْ وَاوٍ وَهُوَ أَكْثَرُ مِنَ الثُّلَاثِيِّ“ یا وہ الف کس سے بدلا ہے واو سے اور وہ اس حال میں کہ وہ لفظ ثلاثی سے زیادہ تھا، ”أَوْ لَيْسَتْ مُنْقَلِبَةً عَنْ شَيْءٍ“ یا وہ الف کسی سے بھی نہیں بدلا اسی طرح الف ہی تھا شروع سے ہی، تو ان تمام صورتوں میں ”تُقْلَبُ يَاءً“ یہ الف کس سے بدلے گا؟ یا سے، ”كَـ: رَحَيَانِ فِي رَحًى“۔ دیکھو رحا الف کس سے آیا تھا؟ یا سے، تو تمام صورتیں اس میں آ جائیں گی۔ رحا کی تثنیہ کیا ائے گی؟ ”رَحَيَانِ“۔ ”وَمُلْهَيَانِ فِي مُلْهًى“، ملہیٰ تو اس میں کیا کہیں گے؟ ”مُلْهَيَانِ“۔ ”وَمُلْهَيَانِ فِي مُلْهًى“، الہیٰ یلھی کا معنی ہوتا ہے چکی میں گندم ڈالنا۔ ”وَحُبَارَيَانِ فِي حُبَارَى“، حباریٰ سرخاب ایک پرندہ ہے اس کا نام ہے، تو رحا میں ”رَحَيَانِ“ کہیں گے ”وَمُلْهَيَانِ فِي مُلْهًى“ اور ملہیٰ میں ”مُلْهَيَانِ“ کہیں گے ”وَحُبَارَى“ میں ”وَحُبَارَيَانِ فِي حُبَارَى“، حباریٰ میں کیا کہیں گے؟ ”حُبَارَيَانِ“ کہیں گے، ”وَحُبْلَيَانِ فِي حُبْلَى“ اور حبلیٰ میں ”حُبْلَيَانِ“ کہیں گے۔ دیکھیں جو بھی صورت ہے اس پہلی صورت کے علاوہ وہ جو واو تھا اور ثلاثی تھا اس میں واو الف سے بدلا تھا تو اس کو دوبارہ واو میں بدل دیں گے، باقی تمام صورتوں میں الف کو کس سے بدل رہے ہیں؟ یا کے ساتھ۔ ”وَأَمَّا الْمَمْدُودُ فَإِنْ كَانَتْ هَمْزَتُهُ أَصْلِيَّةً تَثْبُتُ، كَـ: قَرَّاءَانِ فِي قَرَّاءٍ“ تو کہتے ہیں: اور اگر اسم ممدود ہو یعنی جس کے آخر میں کیا آئے؟ الفِ ممدودہ آئے تو پھر اس کی تثنیہ کیسے بنائیں گے؟ کہتے ہیں: اس کے ہمزہ کو دیکھ لیں، ہمزہ کو۔ اگر اس کا ہمزہ اصلی ہے، اس کا ہمزہ اصلی ہے یعنی واو یا یا وغیرہ سے بدل کر نہیں آیا، واو اور یا سے بدل کر نہیں آیا اور تانیث کے لیے نہیں ہے، وہ ہمزہ اصلی ہے تو پھر وہ ثابت رہے گا، اسی کے آخر میں الف نون لگا دیں گے، جیسے ”قَرَّاءٌ“۔ قرّاء کہتے ہیں وہ شخص جو عمدہ تلاوت کرے، عمدہ قاری ہو، بہترین قاری ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ”قَرَّاءٌ“، را مشدد ہے اور قاف پر فتحہ ہے بھئی، ”قَرَّاءٌ“۔ تو اس کا قرّاء اس کا مادہ کیا ہے؟ قرأ: قاف را ہمزہ، تو قرّاء کے آخر میں ہمزہ ہے، تو ہمزہ معلوم ہوا اصلی ہے، وہ تانیث والے الف بھی نہیں ہے اور اور واو یا یا سے بدل کر بھی نہیں آیا، تو جب ایسا ہمزہ ہو تو پھر اس کو ثابت رکھیں گے، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اگر اور اگر وہ ہمزہ وہ جو ہمزہ ہے وہ تانیث کے لیے ہے، یعنی اصل میں تانیث کا الف تھا لیکن الفِ زائدہ کے بعد آیا اور کس سے بدل گیا؟ ہمزہ سے، تو اگر وہ تانیث والی ہمزہ ہے تو پھر اس کو واو سے بدل دیں گے، جیسے ”حَمْرَاءُ“، ”حَمْرَاءُ“ اس کے آخر میں ہمزہ ہے اور یہ کون سی ہمزہ ہے؟ وہی تانیث والی ہے جو ہمزہ سے بدل گئی، تو لہٰذا اس کو پھر واو سے بدل دیں گے تو کیا پڑھیں گے؟ ”حَمْرَاوَانِ“، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اگر وہ ہمزہ واو یا یا سے بدل کر آئی ہے تو پھر آپ کو دونوں طرح کا اختیار ہے: آپ چاہیں اس ہمزہ کو واو سے بدل دیں، آپ چاہیں اس کو اسی طرح برقرار رکھیں۔ جی، تو اسم ممدود کا حکم آپ کو پتہ چل گیا، دوبارہ سن لیں بھئی: اسم ممدود میں اگر ہمزہ اصلی ہے تو پھر اس کو برقرار رکھیں گے جیسے قرّاء کی تثنیہ ”قَرَّاءَانِ“، اور اگر وہ ہمزہ تانیث والی ہے یعنی الفِ تانیث تھا جو کس سے بدلا ہے؟ ہمزہ سے، تو پھر اس کو واو سے بدلیں گے جیسے حمراء اس کی تثنیہ کیا ائے گی؟ ”حَمْرَاوَانِ“، اور اگر وہ ہمزہ جو ہے واو یا یا سے بدل کر آیا ہے کیونکہ آپ نے پڑھا الفِ زائدہ کے بعد واو یا یا آ جائے تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ ہمزہ سے، تو اگر وہ واو اور یا سے بدل کر ہمزہ آئی ہے تو پھر آپ کو اس میں اختیار ہے: آپ چاہیں تو اس کو واو سے بدل دیں اور پھر الف نون ساتھ جوڑ دیں اور آپ چاہیں تو اس کو اسی طرح برقرار رکھیں اور اس کے ساتھ الف نون جوڑ دیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے سب کی مثالیں بھی آگے آ رہی ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْمَمْدُودُ“ اور باقی اسم ممدود جو ہے ”فَإِنْ كَانَتْ هَمْزَتُهُ أَصْلِيَّةً“ اگر اس کی ہمزہ اصلی ہو ”تَثْبُتُ“ تو وہ ثابت رہے گی ”كَـ: قَرَّاءَانِ فِي قَرَّاءٍ“ جیسے قراءان کس کے اندر؟ قراء کی تثنیہ میں، ”وَإِنْ كَانَتْ لِلتَّأْنِيثِ“ اور اگر وہ ہمزہ کس وجہ سے تھی؟ تانیث کے لیے تھی ”تُقْلَبُ وَاوًا“ تو وہ پلٹ جائے گی کس سے؟ واو سے ”كَـ: حَمْرَاوَانِ فِي حَمْرَاءَ“ جیسے حمراء کے اندر ”حَمْرَاوَانِ“، ”وَإِنْ كَانَتْ بَدَلًا مِنْ أَصْلٍ“ اور اگر وہ ہمزہ جو ہے بدل کر آئی ہے کسی اصل سے ”وَاوًا أَوْ يَاءً“ چاہے وہ واو ہو چاہے یا ہو جس سے وہ بدل کر آئی ہے ”جَازَ فِيهِ الْوَجْهَانِ“ تو اس میں دونوں وجہیں جائز ہیں ”كَـ: كِسَاوَانِ وَكِسَاءَانِ“ کساء میں، ”كِسَاءٌ“، کساء جوڑے کو بھی کہتے ہیں اور چادر کو بھی کہتے ہیں، ”كِسَاءٌ“، اور یہ ہمزہ بدل کر آئی ہے واو سے یا یا سے، تو لہٰذا اس کو برقرار رکھنا بھی جائز اور اس کو واو سے بدلنا بھی جائز، برقرار رکھیں اور الف نون ساتھ جوڑ دیں: ”كِسَاءَانِ“، اور آپ چاہیں تو اس کو واو سے بدل دیں: ”كِسَاوَانِ“۔ تو یہی بات کر رہے ہیں: ”كَـ: كِسَاوَانِ وَكِسَاءَانِ“۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ حاصلِ کلام پھر سن لیں۔ اگر اسم مقصور ہو اس کے آخر میں ہمزہ ہے، اگر کیا ہو؟ اسم مقصور ہو، تھک گئے ہیں میرا خیال ہے۔ کیا نام ہے؟ معاذ اللہ بہت تھک گئے۔ آپ تثنیہ بنانا چاہتے ہیں، صحیح کا تو طریقہ انہوں نے بتلا دیا کہ اس کے آخر میں الف نون یا یا نون جوڑ دیں گے موقع کے مطابق: اگر حالتِ رفعی ہے تو الف نون، حالتِ نصبی جری ہے تو یا نون۔ اسم اگر اسم کے آخر میں الف آئے تو پھر کیا کریں گے، اس کی تثنیہ کیسے بنائیں گے؟ تو تفصیل بتا دی کہ الف دو قسم پر ہو سکتا ہے: الفِ مقصورہ بھی ہو سکتا ہے اور الفِ ممدودہ بھی۔ اگر الفِ مقصورہ آخر میں آیا ہے تو پھر آپ دیکھیں کہ وہ اسم کہ وہ الف اگر واو سے بدل کر آیا ہے اور وہ اسم تین حروف پر مشتمل ہے تو پھر اس کو دوبارہ کس سے بدل دیں؟ واو سے بدل دیں، اور اس کے علاوہ باقی تمام صورتوں کے اندر وہ الف کو یا سے بدل دیں۔ اور اگر الفِ ممدودہ ہے تو پھر دیکھیں اس کا ہمزہ اصلی ہے یا تانیث والا ہے یا واو اور یا سے بدل کر آیا ہے۔ اگر وہ اصلی ہے تو اس کو برقرار رکھیں، اگر وہ تانیث والا ہے تو اس کو واو سے بدل دیں اور اگر وہ واو یا یا سے بدل کر آیا ہے تو پھر اس کو واو سے بدلنا بھی جائز اور اس کو برقرار رکھنا بھی جائز۔ ”وَيَجِبُ حَذْفُ نُونِهِ عِنْدَ الْإِضَافَةِ“ اور جائز ہے تثنیہ کے نون کو حذف کرنا اضافت کے وقت، ”تَقُولُ:“ آپ کہتے ہیں گے: ”جَاءَنِي غُلَامَا زَيْدٍ“، دیکھا ”غُلَامَانِ“ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، ”وَمُسْلِمَا مِصْرَ“، ”مُسْلِمَانِ“ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، ”جَاءَنِي غُلَامَا زَيْدٍ“ آئے میرے پاس زید کے دو غلام اور ”مُسْلِمَا مِصْرَ“، ”جَاءَنِي مُسْلِمَا مِصْرَ“ آئے میرے پاس شہر کے دو مسلمان۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور کیوں یہ اضافت کے وقت نون کو کیوں گراتے ہیں؟ وجہ میں نے ذکر کر دی کیونکہ یہ تنوین اور یہ قائم مقامِ تنوین یعنی نونِ تثنیہ اور نونِ جمع یہ انقطاع کی علامت ہیں، اور اضافت اتصال کا تقاضا کرتی ہے، اور انقطاع اور اتصال بیک وقت ہو نہیں سکتا، جہاں انقطاع ہے وہاں اتصال نہیں، جہاں اتصال ہے وہاں انقطاع نہیں۔ تو لہٰذا جب اتصال کرنا ہے تو انقطاع والی علامت کو ختم کرنا ہوگا اور وہ کیا ہے؟ تنوین ہے، نونِ تثنیہ ہے اور نونِ جمع ہے۔ ”وَكَذَلِكَ تُحْذَفُ تَاءُ التَّأْنِيثِ فِي تَثْنِيَةِ الْخُصْيَةِ وَالْأَلْيَةِ“ اور اسی طرح حذف کر دیا جاتا ہے تائے تانیث کو خصیۃ اور الیۃ کی تانیث میں خاصۃً خاص طور پر، ”تَقُولُ: خُصْيَانِ وَأَلْيَانِ، لِأَنَّهُمَا مُتَلَازِمَانِ، فَكَأَنَّهُمَا شَيْءٌ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں تو گویا کہ یہ ایک ہی چیز ہیں، گویا کہ یہ ایک ہی چیز ہیں۔ بھئی دیکھیے، ”خُصْيَةٌ“ اور ”أَلْيَةٌ“، الیۃ کہتے ہیں سرین کو بھئی، انسان زمین پر بیٹھتے ہوئے بدن کا جو حصہ زمین پر رکھتا ہے اس کو الیۃ کہتے ہیں، ایک جانب الیۃ، تو تثنیہ کیا بنے گی؟ ”أَلْيَتَانِ“، اسی طرح خصیۃ کی تثنیہ ”خُصْيَتَانِ“، لیکن یہ دونوں چونکہ الیۃ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، دونوں جانبین ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، تو ”أَلْيَتَانِ“، ”خُصْيَتَانِ“، جب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں تو گویا ایک ہی چیز ہیں، تثنیہ ہے ہی نہیں، جب تثنیہ ہے ہی نہیں تو تو درمیان سے تا کو ختم کر دیا، کیونکہ یہ تا تانیث کی علامت ہے اور تانیث کی علامت درمیانِ کلمہ میں کبھی بھی نہیں آتی، جیسے ”أَلْيَتَانِ“ اس تا کو کیا کیا؟ ختم: ”أَلْيَانِ“، تو ان دونوں میں ”خُصْيَتَانِ“ اور ”خُصْيَانِ“، اور اسی طرح ”أَلْيَتَانِ“ اور ”أَلْيَانِ“، تا کے ساتھ بھی جائز اور تا کے بغیر بھی۔ اور تا کو گراتے کیوں ہیں؟ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم تو گویا ایک ہی چیز ہیں، جب ایک ہی چیز ہیں تو گویا تثنیہ ہے ہی نہیں یہ، جب تثنیہ ہے ہی نہیں ایک ہی چیز ہے، ایک ہی کلمہ ہے، جب ایک ہی کلمہ ہے تو درمیان میں تو تانیث کی علامت پھر نہیں آتی، لہٰذا اس کو کیا کر دیتے ہیں؟ ختم بھی کر دیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُمَا مُتَلَازِمَانِ“ اس لیے کیونکہ باہم ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں ”فَكَأَنَّهُمَا شَيْءٌ وَاحِدٌ“ تو گویا کہ وہ ایک ہی، ہے تو تثنیہ لیکن گویا کہ ایک چیز ہے تثنیہ ہے ہی نہیں، اور جب تثنیہ ہے ہی نہیں ایک ہی چیز ہے ایک ہی کلمہ ہے تو درمیان میں تانیث کی علامت پھر نہیں آتی لہٰذا اس کو کیا کر دیتے ہیں؟ ختم بھی کر دیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ ”وَاعْلَمْ أَنَّهُ إِذَا أُرِيدَ إِضَافَةُ مُثَنًّى إِلَى الْمُثَنَّى يُعَبَّرُ عَنِ الْأَوَّلِ بِلَفْظِ الْجَمْعِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾“ پس تحقیق مائل ہو گئے ہیں، ایک طرف کو جھک گئے ہیں ”قُلُوبُكُمَا“ تم دونوں کے دل۔ اب دیکھیے، دیکھیے ”قُلُوبُكُمَا“، کما تثنیہ کی ضمیر ہے تو جب دو ہوں گے تو ان کے دل بھی دو ہوں گے، تو ہونا یوں چاہیے: ”قَلْبَاكُمَا“، قلب، قلب کی تثنیہ کیا؟ قلبان، اور پھر قلبان کی اضافت کما کی طرف کر دو نون گر جائے گا کیا بنے گا؟ ”قَلْبَاكُمَا“، ”فَقَدْ صَغَتْ قَلْبَاكُمَا“، لیکن عربی میں تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف پسندیدہ نہیں، قلبان یہ بھی تثنیہ اور کما یہ بھی کیا ہے؟ معنیٰ کے اعتبار سے تثنیہ ہے دو پہ دلالت کر رہا ہے، تو عربی میں تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف پسندیدہ نہیں، پھر ایسے موقع پر پہلے جو مضاف ہوتا ہے، جو پہلے آتا ہے یعنی جو مضاف ہوتا ہے اس کو جمع سے بدل لیتے ہیں، تو قلبان کو کس سے بدل دیا گیا؟ قلوب سے، ”فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا“، تحقیق جھک گئے ہیں ایک طرف کو ”قُلُوبُكُمَا“ تم دونوں کے دل۔ اسی طرح قرآن میں ہے: ﴿فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ پس کاٹ دو تم لوگ ”أَيْدِيَهُمَا“ ان دونوں کے ہاتھ، وہ چوری کرنے والا مرد یا چوری کرنے والی عورت، تو ان کے ہاتھ کاٹ دو، تو وہ دو ہیں تو ہاتھ بھی کتنے ہوئے؟ دو، تو ید ہاتھ کو ید کہتے ہیں تو تثنیہ کیا بنے گی؟ یدان، اور یہ حالتِ نصبی حالتِ نصبی میں ہے تو یدین، اور یدین کی اضافت کرو ہما ضمیر کی طرف: ”يَدَيْهِمَا“، ”فَاقْطَعُوا يَدَيْهِمَا“ یہ ہونا چاہیے، لیکن عربی میں تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف پسندیدہ نہیں، لہٰذا تو پہلے تثنیہ کو کس سے بدلتے ہیں؟ جمع سے، اس لیے ایدی سے بدل دیا گیا: ﴿فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ تو پس کاٹ دو تم ان دونوں کے ہاتھ۔ بات سمجھ میں آگئی؟ عربی میں جب تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف کی جائے تو پہلے تثنیہ کو کس سے بدل دیتے ہیں؟ جمع سے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ لِكَرَاهَةِ اجْتِمَاعِ تَثْنِيَتَيْنِ“ اور یہ اس وجہ سے، کراہت کہتے ہیں ناپسندیدہ ہونا، ”لِكَرَاهَةِ اجْتِمَاعِ تَثْنِيَتَيْنِ“ یہ دو تثنیوں کے جمع ہونے کا کے ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے، کیونکہ دو تثنیوں کا جمع ہونا ناپسندیدہ ہے ”فِيمَا تَأَكَّدَ الِاتِّصَالُ بَيْنَهُمَا“ ان چیزوں میں، تأکد کا معنیٰ پکا ہونا، جن میں اتصال بڑا پکا ہو ”لَفْظًا وَمَعْنًى“ باعتبار لفظوں کے بھی اور باعتبار معنیٰ کے بھی۔ بھئی دیکھیے، جب تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف ہو تو ان دونوں میں اتصال بڑا شدید ہے، اتصال بڑا پکا ہے، لفظوں کے اعتبار سے بھی اتصال ہے، معنیٰ کے اعتبار سے بھی اتصال ہے، جب دونوں اعتبار سے اتصال ہے تو اب یہ پسندیدہ نہیں، لہٰذا کیا کرو؟ کچھ فرق پیدا کرو، اور پھر کیا کیا جاتا ہے؟ پہلے تثنیہ جو مضاف ہوتا ہے اس کو کس سے بدل دیتے ہیں؟ جمع سے۔ تو دونوں میں اتصال ہوتا ہے لفظاً بھی اور معناً بھی۔ لفظاً کس طرح اتصال ہے؟ بھئی لفظاً تو ظاہر سی بات ہے، مضاف بھی تثنیہ، مضاف الیہ بھی تثنیہ، تو لفظوں کے اعتبار سے بھی اتصال۔ اور معناً بھی اتصال، معناً کیسے اتصال ہے؟ اس لیے کیونکہ جو مضاف ہوگا وہ مضاف الیہ کی مضاف الیہ کا جز ہے یا اس کی عین ہے، جی۔ یوں کہو مضاف الیہ، مضاف اور مضاف الیہ دونوں ایک ہی ہوں گے یا مضاف جز ہوگا مضاف الیہ کا۔ جب بھی تثنیہ کی اضافت کس کی طرف ہو؟ تثنیہ کی طرف، تو مضاف وہ مضاف الیہ کا یا تو جز ہوگا یا دونوں ایک ہی ہوں گے، دونوں ایک ہی ہوں گے، تو دیکھو معلوم ہوا معناً بھی اتصال ہے، لفظاً بھی اتصال: دونوں تثنیہ، اور معناً بھی اتصال، معناً اتصال کیا معنی؟ کہ مضاف مضاف الیہ کا یا تو جز ہوگا یا اس کا یا دونوں ایک یا دونوں ایک ہوں گے یعنی اس کا کل ہوگا، جز ہوگا یا کل ہوگا۔ کس طرح؟ بھئی دیکھیے نا، ”فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا“، اصل میں کیا ہونا چاہیے؟ ”قَلْبَاكُمَا“، اور کما سے دو انسان مراد، دو انسان مراد، اور قلب بھی کیا ہیں؟ ان کا جز ہیں یا نہیں؟ دیکھا یہ انہی کا جز ہے۔ یا اسی طرح ”أَيْدِيَهُمَا“، ہونا کیا چاہیے؟ ”يَدَيْهِمَا“، اور ید دو ہاتھ، وہ ان دونوں کے کیا ہیں؟ جز ہیں۔ اور کبھی کل ہوتا ہے، عین ہوتا ہے، جیسے ”جَاءَنِي الزَّيْدَانِ نَفْسَاهُمَا“، تو پھر نفسا کو کس سے بدلتے ہیں؟ انفس: ”جَاءَنِي الزَّيْدَانِ أَنْفُسُهُمَا“، یہ تاکید ہے الزیدان کے لیے، آپ تاکید میں پڑھ چکے ہیں کہ نفس اور عین کے ذریعے کیا کی لائی جاتی ہے؟ تاکید۔ اب اس میں دیکھیے: ”نَفْسَاهُمَا“، ہما: وہ دو، اور ان کی نفسا نفسا نفس سے بھی کیا مراد؟ انہی کی دو ذاتیں مراد ہیں، تو دیکھو نفس اور ہما یہ دونوں کیا ہیں؟ دونوں یعنی نفس انہی کا ہے، کوئی اور چیز نہیں، تو یہ دیکھو ایک ہی چیز ہیں دونوں یہاں پر، تو لہٰذا جب تثنیہ کی تثنیہ کی طرف اضافت کی جائے تو پھر جو اول ہوتا ہے وہ ثانی کا جز ہوتا ہے یا اسی کا کل ہوتا ہے، یا یوں کہیں دونوں ایک ہی ہوتے ہیں، تو پھر یہ پسندیدہ نہیں لہٰذا پہلے کو کس سے بدل دیتے ہیں؟ جمع سے۔ یہ معنی ہے: ”وَذَلِكَ لِكَرَاهَةِ اجْتِمَاعِ تَثْنِيَتَيْنِ“ اور یہ اس وجہ سے کہ ناپسندیدہ ہے جمع ہونا دو تثنیوں کا ”فِيمَا تَأَكَّدَ الِاتِّصَالُ بَيْنَهُمَا“ ان دو چیزوں میں کہ جن کے درمیان اتصال یعنی جوڑ جو ہے بڑا پکا ہو ”لَفْظًا وَمَعْنًى“ باعتبار لفظوں کے بھی اور باعتبار معنیٰ کے بھی بھئی۔ سوال: ”فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا“، ”فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا“، یہ ”قُلُوبُ“ مرفوع کیوں؟ یہ فاعل ہے، تو ”صَغَتْ“ یہ مفرد کا صیغہ کیوں آیا؟ یہ بھی تو قلوب جمع ہے تو اس کو جمع کا صیغہ نہیں ہونا چاہیے بھئی؟ کیا جواب دیں گے؟ سب کچھ آپ پڑھ چکے کہ جب فاعل اسمِ ظاہر ہو فعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد، چاہے وہ اسمِ ظاہر مفرد ہو، تثنیہ ہو، جمع ہو۔ تو اس وقت اسمِ ظاہر قلوب بیشک جمع ہے لیکن ہے تو اسمِ ظاہر، اور جب فاعل کیا ہو؟ اسمِ ظاہر، چاہے مفرد ہو چاہے تثنیہ ہو چاہے جمع ہو اس سے ہماری بحث نہیں، فاعل جب بھی کیا ہو؟ اسمِ ظاہر، فعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد رکھتے ہیں، اور پھر مذکر کے لیے مذکر اور مؤنث کے لیے مؤنث لاتے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 86 of 104