فَصْلٌ: الظُّرُوفُ الْمَبْنِيَّةُ عَلَى أَقْسَامٍ، مِنْهَا: مَا قُطِعَ عَنِ الْإِضَافَةِ بِأَنْ حُذِفَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ، كَقَبْلُ وَبَعْدُ وَفَوْقُ وَتَحْتُ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ﴾ أَيْ مِنْ قَبْلِ كُلِّ شَيْءٍ وَمِنْ بَعْدِ كُلِّ شَيْءٍ۔
مبنیات میں سے آج ظروف کا بیان ہوگا بھئی۔ اب بھئی، ظروف کی بحث شروع ہو رہی ہے۔ مبنیات میں سے آٹھواں اور آخری مبنی وہ بعض ظروف ہیں بھئی۔ یاد رکھیے، ظروف سارے کے سارے مبنی نہیں ہیں، کچھ ظروف کیا ہیں؟ مبنی۔ تمام ظروف نہیں مبنی۔ آپ بھی دیکھتے ہیں، ظرف پر نصب پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے؟ دیکھا، نصب پڑھتے ہیں، معلوم ہوا وہ معرب ہے۔ جیسے: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا الْيَوْمَ“، دیکھا؟ یہ ”الْيَوْمَ“ پر میں نصب پڑھ رہا ہوں۔ کوئی آپ سے پوچھے: منصوب کیوں ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ مفعول فیہ ہے، یہ ظرف ہے۔ تو معلوم ہوا یہ معرب ہے، جبھی اس پر اعراب آ رہا ہے۔ تو تمام ظروف مبنی نہیں، ہاں کچھ ظروف کیا ہیں؟ مبنی ہیں۔ اسی لیے مصنف نے بھی کیا عنوان دیا: ”الظُّرُوفُ الْمَبْنِيَّةُ“، وہ ظروف جو کہ مبنی ہیں۔ اب ان کا بیان ہو رہا ہے۔
کہتے ہیں: ”الظُّرُوفُ الْمَبْنِيَّةُ عَلَى أَقْسَامٍ“، وہ ظروف جو مبنی ہیں ”عَلَى أَقْسَامٍ“، وہ کئی قسم پر ہیں۔ ”مِنْهَا مَا قُطِعَ عَنِ الْإِضَافَةِ“، ان میں سے ایک قسم وہ ہے جن کو کاٹا گیا ہو اضافت سے۔ جن کو اضافت سے ”قُطِعَ عَنِ الْإِضَافَةِ“، جن کو اضافت سے کاٹا گیا ہو۔ بھئی کس کیا صورت ہے اس کی؟ با تصویریہ ہے، صورت بتلا رہا ہے: ”بِأَنْ حُذِفَ“، بہ ایں صورت کہ حذف کیا گیا ہو ”الْمُضَافُ إِلَيْهِ“، مضاف الیہ کو۔ یعنی ان کے مضاف الیہ کو حذف کر لیا گیا، تو اضافت سے کٹ گئے۔
بھئی یاد رکھیے، یہ ”قَبْلُ“، ”بَعْدُ“، ”فَوْقُ“، ”تَحْتُ“ وغیرہ، یہ ہمیشہ مضاف الیہ چاہتے ہیں۔ ”قَبْلُ“ کا معنیٰ پہلے، بھئی کس سے پہلے؟ آگے مضاف الیہ چاہیے: ”قَبْلَ عَمْرٍو“، ”قَبْلَ زَيْدٍ“، ”قَبْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ“، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی طرح ”بَعْدُ“، یہ بھی مضاف الیہ چاہتا ہے، بعد میں، اس کا معنیٰ ہے بعد میں، بھئی کس کے بعد؟ ”بَعْدَ عَمْرٍو“، ”بَعْدَ بَكْرٍ“، یا ”بَعْدَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ“ وغیرہ، کوئی بھی مضاف الیہ آ سکتا ہے۔ اسی طرح ”فَوْقُ“ اور ”تَحْتُ“، فوق کا معنیٰ اوپر، تحت کا معنیٰ نیچے، تو کس کے اوپر؟ کس کے نیچے؟ آگے مضاف الیہ چاہیے۔
تو ان کے لیے مضاف الیہ چاہیے اور پھر ان کے استعمال کے تین طریقے ہیں: ایک صورت یہ کہ یہ مضاف الیہ چاہتے ہیں اور اس مضاف الیہ کو ان کے ساتھ ذکر کر دیا جائے، جیسے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“، میرے پاس زید آیا عمرو سے پہلے۔ دیکھا؟ قبل کے بعد مضاف الیہ کو ذکر کر دیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف کر دیتا ہوں، اور جب لفظوں سے مضاف الیہ حذف کیا، تو اس کے لیے مضاف الیہ تو ضرور چاہیے تھا، تو اس کو اس کا بہت بڑا نقصان ہو گیا۔ جب نقصان ہوا، تو پھر اس کو ضمے کی پٹی لگا دی گئی، ضمے کی پٹی۔ تو گویا یوں کہو، اس کا مضاف الیہ حذف کیا گیا تھا، تو اس کے عوض اس کو اس کو مبنی علی الضم کر دیا گیا۔ تو اب میں یوں کہوں گا، میں نے عمرو کو لفظوں سے حذف کر دیا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلُ“۔
تو یہ ”قَبْلُ“ کیا ہے؟ مبنی ہے اس وقت، منصوب محلاً ہے، کیونکہ مفعول فیہ ہے، ظرف ہے بھئی، ظرف کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ تو یہ اس وقت مبنی ہے، اس لیے وہ نصب اس پر ظاہر نہیں ہو رہا۔ اچھا، اور یہ جو میں نے مضاف الیہ کو حذف کیا، یاد رکھیے یہ میں نے ایسے حذف کیا کہ لفظوں سے صرف حذف کیا ہے، معنیٰ میں ابھی بھی مراد ہے۔ میں کہنا وہی چاہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“، لیکن میں نے عمرو کو ترجمہ پہلے کیا تھا؟ ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو“، میرے پاس زید عمرو سے پہلے آیا۔ اب میں نے عمرو کو حذف کر دیا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلُ“، لیکن معنیٰ اب بھی وہی ہے: میرے پاس زید عمرو سے پہلے آیا۔ یعنی یوں کہو، عمرو کو لفظوں سے حذف کیا، لیکن ارادے میں اب بھی موجود ہے، نیت میں اب بھی موجود، اس کو کہتے ہیں منویٌ، نیت میں ہے۔ منویٌ، مرمِیٌ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے بھئی ناقص سے۔
تو مضاف الیہ لفظوں سے حذف کر دیا، لیکن نیت میں ابھی بھی موجود، تو اس صورت میں مضاف الیہ تو چاہیے تھا، آپ نے حذف کر دیا، تو ظرف کو کیا بنا دیا؟ مبنی علی الضم بنا دیا، ضمے کے ضمے کی حرکت اس کو دے دی بھئی۔
اور تیسری صورت یہ ہے کہ عمرو کو میں لفظوں سے بھی اڑاتا ہوں اور نیت سے بھی ختم کر دیتا ہوں، بس۔ گویا میں صرف یہ کہتا ہوں: زید پہلے آیا، زید پہلے آیا۔ دیکھا، عمرو کو میں نے نیت سے بھی ختم کر دیا۔ تو اب اس صورت میں میں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلًا“، ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلًا“، اب اسی طرح معرب ہی رہے گا، اسی طرح معرب رہے گا۔ اور ظرف کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے نا، اور مضاف الیہ تو ہے نہیں، تو تنوین آئے گی اس پر: ”جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلًا“۔
تو معلوم ہوا یہ ظروف کے استعمال کے، یہ جو بعض ظروف ہیں ”قَبْلُ“، ”بَعْدُ“ وغیرہ، ان کے استعمال کے تین طریقے ہیں: ان کے لیے مضاف الیہ تو ضرور چاہیے، تو ایک صورت یہ ہے کہ وہ مضاف الیہ ان کے ساتھ لفظوں میں ذکر ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ لفظوں سے حذف، لیکن نیت میں موجود۔ تیسری صورت یہ ہے کہ لفظوں سے بھی حذف اور نیت سے بھی حذف ختم کر دیا بھئی۔
تو یاد رکھیے، وہ صورت جس میں مضاف الیہ لفظوں میں موجود ہے، تو اس کی ضرورت پوری ہو رہی ہے، تو اس صورت میں یہ معرب ہوتا ہے۔ اور اسی طرح جب مضاف الیہ کو لفظوں سے بھی حذف کر دیا، نیت سے بھی حذف کر دیا، تو گویا اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے ہی نہیں۔ اس کو ایسے بنا دیا جیسے اس کے لیے چاہیے ہی نہیں، تو گویا اس کا نقصان ہی کوئی نہیں ہوا۔ جب نقصان ہی کوئی نہیں ہوا، تو اب بھی یہ کیا ہوگا؟ معرب رہے گا۔ اور وہ صورت جس میں مضاف الیہ لفظوں سے تو حذف کر دیا، لیکن نیت میں ابھی بھی مراد ہے، تو پھر تو آپ نے نقصان کر دیا، اس کو تو لفظوں میں ہونا چاہیے تھا، آپ نے لفظوں سے اس کو اڑا دیا ہے، تو لہٰذا اس صورت میں اس کو مبنی علی الضم۔ تو یہ صورت وہ صورت یہاں ذکر کر رہے ہیں، کیونکہ اس صورت میں یہ مبنی ہیں، باقی دو صورتوں میں تو یہ مبنی نہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”مِنْهَا“، ظروف میں سے جو ہے، ما ایک وہ قسم ہے، قطعت وہ ظروف ہیں ”قُطِعَ عَنِ الْإِضَافَةِ“، جن کو اضافت سے کاٹ دیا گیا ہو۔ اس کی صورت کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”بِأَنْ حُذِفَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ“، بہ ایں صورت کہ مضاف الیہ کو حذف کر لیا جائے، ”كَقَبْلُ وَبَعْدُ وَفَوْقُ وَتَحْتُ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ﴾“، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: اللہ ہی کے لیے حکم ہے پہلے، کس سے پہلے؟ معلوم ہوا کوئی مضاف الیہ موجود ہے جو لفظوں سے حذف کیا گیا ہے۔ آگے بتلا دیا: ”أَيْ مِنْ قَبْلِ كُلِّ شَيْءٍ وَمِنْ بَعْدِ كُلِّ شَيْءٍ“، ہر چیز سے پہلے اور ہر چیز کے بعد۔ یعنی اللہ ہی کے لیے حکم ہے ہر چیز سے پہلے بھی اور ہر چیز کے بعد بھی، حکم ہر صورت اللہ ہی کے لیے ہے بھئی۔ تو حکم اللہ ہی کے لیے ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کا مضاف الیہ دیکھو محذوف تھا، اس لیے وہ مبنی بنا دیا گیا۔
کہتے ہیں: ”هَذَا إِذَا كَانَ الْمَحْذُوفُ مَنْوِيًّا لِلْمُتَكَلِّمِ“، یہ اس وقت ہے یعنی یہ مبنی ہونا اس وقت ہے ”إِذَا كَانَ الْمَحْذُوفُ مَنْوِيًّا“، جبکہ وہ جو حذف کیا گیا ہو وہ نیت میں ہو ”لِلْمُتَكَلِّمِ“، متکلم کی، وہ متکلم کی نیت میں موجود ہو، ”وَإِلَّا“، اور اگر ایسا نہ ہو، ”لَكَانَتْ مُعْرَبَةً“، تو پھر وہ یہ معرب ہوگا۔ اور اس میں کتنی صورتیں آ گئیں؟ ایک تو مبنی والی گزر گئی، باقی رہ گئیں دو صورتیں، اگر ایسا نہ ہو یعنی لفظوں میں موجود ہو، لفظوں میں موجود ہو یا نیت سے بھی کیا کر دو؟ حذف کر دو۔
تو وہ ”وَعَلَى هَذَا“، اور اسی بنا پر ”قُرِئَ“، پڑھا گیا ہے: ”لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلٍ وَمِنْ بَعْدٍ“۔ اسی یہی آیت بعض قراءتوں کے اندر یوں بھی آئی ہے کہ اس کو کیسے پڑھا گیا ہے؟ ”لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلٍ“، ”مِنْ قَبْلُ“ کے بجائے ”مِنْ قَبْلٍ“، یعنی مضاف الیہ لفظوں سے بھی ختم اور نیت سے بھی ختم، گویا اس کے لیے مضاف چاہیے ہی نہیں، تو گویا اس کا نقصان نہیں ہوا، جب نقصان نہیں ہوا تو یہ جیسے پہلے معرب تھا اب بھی کیا رہے گا؟ معرب۔ اور چونکہ من داخل ہوا ہے تو جر آئے گا۔ تو اللہ کے لیے حکم ہے ”مِنْ قَبْلٍ“، پہلے سے ”وَمِنْ بَعْدٍ“، اور بعد میں۔
”وَتُسَمَّى الْغَايَاتِ“، اور ان کو غایات کہتے ہیں۔ غایہ کہتے ہیں انتہا کو، انتہا کو۔ تو یہ ظروف یہ جب ان کے مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف کر لیا جائے تو پھر ان کو غایہ کہتے ہیں۔ غایہ کا معنیٰ ہوتا ہے انتہا، انتہا۔ دیکھو، میں نے کہا: ”غُلَامُ زَيْدٍ“، تو اب میرے بولنے کی انتہا کس پر ہو رہی ہے؟ زید یعنی مضاف الیہ پر۔ اور جب مضاف الیہ کو میں ختم کر دوں گا، تو پھر میرے بولنے کی انتہا کس پر ہوگی؟ مضاف پر۔ تو یہ بھی چونکہ ان کے مضاف الیہ کو حذف کر لیا گیا، اب بولنے کی انتہا کس پر ہو رہی ہے؟ مضاف پر، یعنی ان ان ان ظروف پر انتہا ہو رہی ہے، تو انہی ظروف کو اب کیا کہتے ہیں؟ غایات بھی کہتے ہیں۔ کس وقت غایات کہتے ہیں؟ جب ان کے مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف، کیونکہ اب ان پر کلام کی انتہا ہو رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”وَتُسَمَّى الْغَايَاتِ“، اور ان کو غایات کہتے ہیں۔
”تُسَمَّى الْغَايَاتِ“، جی ترکیب کیجیے۔ ”تُسَمَّى“ جی، فعل، جی، ہِیَ ضمیر اس کے اندر مرفوع، مرفوع محلاً فاعل۔ اچھا، جی نائب فاعل، فعل مجہول ہے۔ نائب فاعل، لوٹ رہی ہے ظروف کی طرف، جی وہ ظروفِ مبنیہ کی طرف، جی یا وہ ظروف جن کے جن کو اضافت سے کاٹ لیا گیا ہو، جی۔ ”الْغَايَاتِ“ منصوب لفظاً مفعول بہ۔ شاباش! ”الْغَايَاتِ“ منصوب لفظاً مفعول بہ۔ دیکھا؟ یہ میں پوچھنا چاہ رہا تھا۔ یاد رکھیے جو ”سَمَّى“ ہے نا، ”سَمَّى“، یہ دو مفعول چاہتا ہے۔ ”سَمَّيْتُ الرَّجُلَ“، ”سَمَّيْتُ“ میں نے نام رکھا، ”الرَّجُلَ“ اس آدمی کا، دیکھو بات ابھی بھی پوری نہیں۔ ”زَيْدًا“، کیا چاہیے؟ دیکھا، زید۔ میں نے اس آدمی کا نام زید رکھا۔ تو ”سَمَّيْتُ“ میں یہ تا فاعل، ”الرَّجُلَ“ مفعولِ اول، اور ”زَيْدًا“ مفعولِ ثانی۔ پھر اسی کو جب مجہول بناتے ہیں تو فاعل کو حذف کر دیا: ”سُمِّيَ“، اور ”الرَّجُلُ“ پہلے مفعول کو نائب فاعل بنا دیا: ”سُمِّيَ الرَّجُلُ“، اور ”زَيْدًا“ اسی طرح مفعول رہے گا۔ تو ”سُمِّيَ الرَّجُلُ زَيْدًا“، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ آپ نے پریشان نہیں ہونا کہ فعلِ مجہول ہے، اس کے لیے مفعول کیسے آ رہا ہے؟ بھئی فعلِ مجہول میں اسی مفعول کو نائب فاعل بنا دیتے ہیں، لیکن پہلے کو بنا دیتے ہیں، دوسرا تو اسی طرح مفعول رہے گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ”تُسَمَّى الْغَايَاتِ“، تو یہ ”الْغَايَاتِ“ کے زیر دیکھ کر آپ دھوکے میں نہ پڑیں کہ شاید یہ مجرور ہے، یہ منصوب ہے، یہ جمع مؤنث سالم ہے، اور جمع مؤنث سالم کا اعراب کیا پڑھا تھا؟ کہ اس کا نصب بھی جر کی شکل میں آتا ہے۔ تو یہ نصب ہے، جر نہیں، اور اس کی شکل جر جیسی ہے۔ تو منصوب لفظاً، کیونکہ اس پر ہم باقاعدہ کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں، ”الْغَايَاتِ“۔
”وَمِنْهَا حَيْثُ“، اور ان ظروفِ مبنیہ میں سے ایک ”حَيْثُ“ ہے، ”بُنِيَتْ تَشْبِيهًا لَهَا بِالْغَايَاتِ“، کہ یہ مبنی ہے، اس کو مبنی کیا گیا ہے ”تَشْبِيهًا لَهَا بِالْغَايَاتِ“، غایات کے ساتھ اس کے مشابہت کی وجہ سے۔ جس کو مبنی کیا گیا ہے غایات کے ساتھ اس کی اس کی مشابہت بھی غایات کے ساتھ ہے، ”لِمُلَازَمَتِهَا الْإِضَافَةَ إِلَى الْجُمْلَةِ“، اس وجہ سے کہ اس کی ملازمت ہے جملے کے اس طرف اضافت کے ساتھ۔ یعنی اس کے ساتھ اضافت الی الجملہ لازم ہے، یہ اس کے ساتھ لازم رہتا ہے۔ کس کے ساتھ لازم رہتا ہے؟ اضافت الی الجملہ، جملے کی طرف اضافت۔ یعنی ہمیشہ جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے، یعنی اکثر اکثر استعمالات میں کس کی طرف مضاف ہوتا ہے؟ جملے کی طرف۔ تو گویا اس کا مضاف الیہ جملہ ہوتا ہے، ”حَيْثُ“ کا مضاف الیہ جملہ۔ اور مضاف الیہ کو تو مفرد ہونا چاہیے، جملہ تو نہیں ہونا چاہیے، تو جملے کی طرف اضافت بھی گویا لا اضافت ہے۔ یوں سمجھو مضاف الیہ آیا ہی نہیں، چاہیے تھا اور آیا نہیں۔ لفظوں میں بیشک موجود ہے جملہ، لیکن جملے کی طرف اضافت گویا کہ لا اضافت ہے، گویا اضافت ہے ہی نہیں، گویا مضاف الیہ چاہیے تھا اور نہیں آیا، تو یہ کس کی طرح ہوا؟ غایات کی طرح۔ اور جب غایات تو کیا ہوتے تھے؟ مبنی، تو یہ بھی کیا ہے؟ مبنی ہے، جب اس کے اضافت سے گویا اس کو کاٹا گیا ہے۔
تو کہتے ہیں ان ظروف میں سے ایک ”حَيْثُ“ ہے، ”بُنِيَتْ تَشْبِيهًا لَهَا بِالْغَايَاتِ“، اس کو مبنی کیا گیا ہے غایات کے ساتھ اس کی مشابہت کی وجہ سے، ”لِمُلَازَمَتِهَا الْإِضَافَةَ إِلَى الْجُمْلَةِ“، اس وجہ سے کہ یہ لازم ہے جملے کی طرف اضافت، کہ اس کے ساتھ کہ اس کی ملازمت ہے، یہ لازم رہنے والا ہے جملے کی طرف اضافت کے ساتھ، ”فِي الْأَكْثَرِ“، اکثر استعمالات میں۔ یعنی اکثر اسی طرح استعمال ہوتا ہے کلام کے اندر کہ یہ جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے۔
”قَالَ اللهُ تَعَالَى“، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾، استدراج کا معنیٰ ہوتا ہے آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف لے جانا۔ استدراج کا کیا معنیٰ؟ آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف لے جانا۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُمْ﴾ کہ ہم ان ان سرکشوں کو، ان کفار کو آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف لے جائیں گے ﴿مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾، ”حَيْثُ“ جگہ کے معنیٰ میں، ﴿مِنْ حَيْثُ﴾ ایسی جگہ سے ﴿لَا يَعْلَمُونَ﴾ کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف لے جائیں گے ایسی جگہ سے کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا، ایسے راستے سے کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ تو یہاں دیکھیے، ”حَيْثُ“ مضاف ہے ”لَا يَعْلَمُونَ“ کی طرف، اور ”لَا يَعْلَمُونَ“ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ، تو یہ مضاف ہوا کس کی طرف؟ جملے کی طرف۔ اور جملے کی طرف بھی اضافت گویا لا اضافت ہے، اس لیے دیکھیے ”حَيْثُ“ مبنی ہے۔ حالانکہ مِن داخل ہو رہا ہے، اس پر جر آنا چاہیے تھا، لیکن جر نہیں آ رہا، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ مبنی ہے۔
تو انہوں نے کیا کہا؟ ”حَيْثُ“ بھی مبنی ہوتا ہے ”فِي الْأَكْثَرِ“، کس میں؟ اکثر استعمال، یعنی اکثر عربی میں یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ ”وَقَدْ يُضَافُ إِلَى الْمُفْرَدِ“، اور کبھی کبھار یہ مفرد کی طرف بھی مضاف ہو جاتا ہے، ”كَقَوْلِ الشَّاعِرِ“، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے:
أَمَا تَرَى حَيْثَ سُهَيْلٍ طَالِعًا
”أَمَا تَرَى“، تَرَى فعل، أَنْتَ ضمیر اس کے اندر فاعل، اور ”حَيْثُ“ یاد رکھیے یہ مکان کے معنیٰ میں ہے، أَيْ أَمَا تَرَى مَكَانَ سُهَيْلٍ، سہیل ایک ستارہ ہے، یاد رکھیے۔ سہیل کیا ہے؟ سہیل ایک ستارہ ہے جو آسمان پر سال کے دوران کچھ مہینے دکھائی دیتا ہے، کچھ مہینے دکھائی دیتا ہے۔ عرب اس کو جانتے ہیں بھئی، اور کہتے ہیں کہ اونٹ اس کی طرف بالکل نہیں دیکھتا۔ صحرائی جانور اونٹ جو ہے وہ اس کی طرف بالکل نہیں دیکھتا۔ اگر اونٹ کی نظر اس سہیل ستارے پر پڑ جائے تو وہ شدید بیمار ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے بھئی۔ تو دیکھو عجیب اسرار اللہ نے اس کائنات میں رکھے ہیں۔ انسان جتنی بھی ترقی کر لے وہ ان تمام اسرار تک کبھی بھی نہیں پہنچ سکتا بھئی۔ دیکھو ایک ستارے کے ایسے اثرات ہیں کہ اونٹ کو خود بھی علم ہوتا ہے، وہ اس کی طرف دیکھتا ہی نہیں، اس کی طرف دیکھتا ہی نہیں بھئی۔
اللہ! تو یہ ہر چیز کے مختلف روحانی اثرات ہوتے ہیں۔ جیسے مولانا، سبق میں آپ دیکھ لیجیے، سبق میں دیکھ لیجیے۔ اگر طلبہ اچھی نیت کے ساتھ بیٹھے ہوں، با وضو بیٹھے ہوں، تو استاد پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، اور سبق بڑا بہترین ہو جاتا ہے، اور اللہ استاد کے ذہن میں ایسی ایسی باتیں ڈال دیتے ہیں اور ایسے بہترین الفاظ اس کی زبان پر جاری فرما دیتے ہیں کہ ایک ایک چیز بالکل واضح ہوتی چلی جاتی ہے بھئی۔ اور اگر طالبِ علم بے دلی کے ساتھ بیٹھے ہوں یا وضو نہیں کیا ہوا، پڑھنے کو دل نہیں کر رہا، ویسے ہی جیسے مجبوری میں بیٹھے ہوں، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی وہ مدد نہیں آتی۔ اب استاد نے جتنا مرضی بہترین مطالعہ کیا ہو، سبق تیار کیا ہو، وہ بیان کرنا چاہتا ہے، بیان ہو ہی نہیں رہا اس سے، الفاظ اس کی زبان پر آ ہی نہیں رہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو ہر چیز کے روحانی اثرات ہیں، خصوصاً میں تو اس چیز کو بہت زیادہ محسوس کرتا ہوں بھئی، بہت زیادہ۔ طالب علموں کی اگر نیت اچھی نہ ہو سبق پڑھانا عذاب بن جاتا ہے، لفظ ہی نہیں آتے، بیان کرنا ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ کس طرح میں اس بات کو سمجھاؤں۔ اور بعض اوقات خود پتہ چلتا ہے، ایسے سبق چل رہا ہوتا ہے، اتنے مشکل مشکل مقامات آ جاتے ہیں، لیکن اللہ ایسے آسان فرما دیتے ہیں کہ بعد میں استاد کو خود بھی حیرت ہوتی ہے کہ میں نے کیسے اتنا مشکل مقام اتنی آسانی سے بیان کر دیا، میں تو سوچ رہا تھا پتہ نہیں اس کو کتنے کیسے سمجھانا پڑے گا، اور اللہ نے اتنا آسان فرما دیا۔ بلکہ اللہ کی طرف سے اتنی مدد آ جاتی ہے، اتنی مدد آ جاتی ہے کہ بعض اوقات ایک چیز استاد نے مطالعہ بھی نہیں کی ہوتی اور وہ بھی اللہ ذہن میں ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات طالب علم کوئی سوال کر لیتا ہے، سوال کر لیتا ہے، اس کی طلب سچی ہوتی ہے، وہ شوق کے ساتھ پوچھتا ہے، محبت کے ساتھ پوچھتا ہے، اور تو اللہ تعالیٰ سینہ کھول دیتے ہیں اور استاد نے مطالعہ بھی نہیں کیا ہوتا، اس سوال کا پڑھا بھی نہیں ہے، لیکن ایک دم اللہ جواب ذہن میں ڈال دیتے ہیں اور وہ جواب دے دیتا ہے۔ تو ہر چیز کے بڑے ہی روحانی اثرات ہیں بھئی، اثرات ہیں۔
اللہ! ایک دو انگریز ہیں، میں کوشش کر رہا ہوں ان کو اسلام کی طرف دعوت دے رہا ہوں، دعا کرو بھئی اللہ ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو بھی ایمان کی توفیق نصیب فرما دیں بھئی، اور اللہ ہم سب کا خاتمہ بھی ایمان پر فرمائے بھئی۔
”أَمَا تَرَى حَيْثَ سُهَيْلٍ طَالِعًا“، تو یاد رکھیے یہ ”حَيْثَ سُهَيْلٍ“، یہ ”حَيْثُ“ مفعول فیہ ہے مکان کے معنیٰ میں، آگے خود بتا رہے ہیں معنیٰ: أَيْ مَكَانَ سُهَيْلٍ، اور مکان ہے، مفعول فیہ ہے، تو اس کو منصوب ہونا چاہیے، لیکن یہ کیا ہے؟ مبنی، مبنی ہے، مبنی علی الضم ہے۔ سوال: اس وقت تو یہ مفرد کی طرف مضاف ہو رہا ہے؟ تو اس وقت تو اس کی مشابہت غایات کے ساتھ نہیں، لہٰذا اس کو مبنی نہیں ہونا چاہیے۔ جواب: کہ یہ انہی پر محمول ہے۔ جب اکثر وہ اس طرح استعمال ہوتا ہے، تو جو قلیل تھی قلیل استعمال تھا اس کو بھی اکثر کے تابع کر دیا، اسی جیسا کر دیا، اور اس میں بھی کیا ہوتا ہے یہ پھر؟ مبنی ہوتا ہے۔
”أَمَا تَرَى حَيْثَ سُهَيْلٍ طَالِعًا“، کیا تو نہیں دیکھ رہا سہیل ستارے کی جگہ پر طالعاً طلوع ہونے والا، یعنی اس کی جگہ پر جو ستارہ طلوع ہو ہے طلوع ہونے والا ہے، طلوع ہے کیا تو اس کو نہیں دیکھ رہا؟ ”أَيْ مَكَانَ سُهَيْلٍ، فَحَيْثُ هَذَا بِمَعْنَى مَكَانٍ“، تو یہ ”حَيْثُ“ جو ہے مکان کے معنیٰ میں ہے، ”وَشَرْطُهُ أَنْ يُضَافَ إِلَى الْجُمْلَةِ“، اور شرط اس کی یہ ہے کہ یہ مضاف ہوگا کس کی طرف؟ جملے کی طرف۔ یعنی اکثر استعمالات میں اس کے استعمال کی شرط یہ ہے: ”أَنْ يُضَافَ إِلَى الْجُمْلَةِ“، کہ یہ جملے کی طرف مضاف ہوگا۔ ”نَحْوُ: اِجْلِسْ حَيْثُ يَجْلِسُ زَيْدٌ“، ”اِجْلِسْ“ تو بیٹھ جا، ”حَيْثُ يَجْلِسُ زَيْدٌ“، جس جگہ ”يَجْلِسُ زَيْدٌ“ زید بیٹھا ہوا ہے، تو بیٹھ جا جہاں زید بیٹھا ہوا ہے۔ ترکیب کیا ہوگی؟ ”اِجْلِسْ“ فعلِ امر، أَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”حَيْثُ“ مبنی علی الضم ہے، تو ”حَيْثُ“ منصوب محلاً مضاف، ”يَجْلِسُ“ فعل، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ”اِجْلِسْ“ فعل کے لیے۔ ”اِجْلِسْ“ فعلِ امر اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، کیونکہ امر ہے۔
”وَمِنْهَا إِذَا“، اور انہی ظروفِ مبنیہ میں سے ”إِذَا“ ہے، ”وَهِيَ لِلْمُسْتَقْبَلِ“، اور یہ مستقبل کے لیے آتا ہے۔ کس کے لیے آتا ہے؟ مستقبل، یعنی فعلِ ماضی پر اکثر داخل ہی ماضی پر ہوتا ہے اور اس کو مستقبل کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهِيَ لِلْمُسْتَقْبَلِ“، یہ مستقبل کے لیے آتا ہے، ”وَإِذَا دَخَلَتْ عَلَى الْمَاضِي صَارَ مُسْتَقْبَلًا“، اور جب یہ فعلِ ماضی پر داخل ہوتا ہے، ”صَارَ مُسْتَقْبَلًا“، تو وہ فعلِ ماضی بھی مستقبل بن جاتا ہے، ”نَحْوُ: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ﴾“۔ تو ”إِذَا جَاءَ“، دیکھو ”جَاءَ“ ماضی کا صیغہ ہے، لیکن یہ ترجمہ نہ کرنا: جب اللہ کی مدد آئی، بلکہ جب ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ﴾، جب اللہ کی مدد آئے گی، دیکھو مستقبل کی طرف کر دیا اس کو، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
”وَفِيهَا مَعْنَى الشَّرْطِ“، اور اس کے اندر شرط والا معنیٰ ہوتا ہے۔ ”إِذَا“ کے اندر اکثر اکثر عموماً شرط والا معنیٰ ہوتا ہے، متضمن ہوتا ہے معنیٰ شرط کو۔ جب شرط کی طرف شرط والا معنیٰ ہے، تو اس کے لیے پھر جزا بھی چاہیے، شرط اور جزا دونوں چاہیے۔ دیکھو یہ ہے تو ظرف، کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے، لیکن اس کے اندر کون سا معنیٰ آ گیا؟ شرط والا۔ جب شرط والا معنیٰ آیا، تو اس کے لیے شرط بھی چاہیے جس پر یہ داخل ہو رہا ہے، اور ایک جزا بھی چاہیے، ایک جزا بھی چاہیے۔ اور کبھی کبھار یہ صرف ظرفیت کے لیے بھی آتا ہے، یعنی شرط والا معنیٰ اس میں نہیں ہوتا، لیکن عام طور پر اس میں شرط والا معنیٰ ہوتا ہے اکثر بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِيهَا مَعْنَى الشَّرْطِ“، اور اس کے اندر شرط والا معنیٰ ہوتا ہے، ”وَيَجُوزُ أَنْ تَقَعَ بَعْدَهَا الْجُمْلَةُ الِاسْمِيَّةُ“، اور جائز ہے کہ اس کے بعد جملہ اسمیہ واقع ہو۔ بھئی دیکھیے، حروفِ شرط جو ہیں نا، اِن اور لَو وغیرہ حروفِ شرط، وہ ہمیشہ فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ شرط اور وہ حروفِ شرط ہیں، ان کے لیے شرط بھی چاہیے اور جزا بھی، اور شرط ہمیشہ فعل ہوتا ہے، جملہ فعلیہ ہوتا ہے۔ ”إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ“، دیکھا؟ اِن کس پر داخل ہے؟ ”تَضْرِبْ“ فعل پر، کیونکہ شرط جو ہے وہ فعل میں ہوتی ہے۔ اگر تو ایسا کرے گا تو میں بھی ایسا کروں گا۔ تو شرط ہمیشہ کس میں ہوتی ہے؟ فعل کے اندر ہوتی ہے، تو لہٰذا وہ ہمیشہ فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ اور ”إِذَا“ یہ بھی متضمن ہوتا ہے معنیٰ شرط کو، تو کیا اس کے لیے بھی فعل کا ہونا ضروری ہے؟ یہ جملہ فعلیہ پر ہی داخل ہوگا؟ انہوں نے آپ کو بتا دیا: نہیں بھئی نہیں، یہ اصل میں شرط کے لیے وضع نہیں ہے، یہ تو اصل میں کس کے لیے وضع ہے؟ ظرفیت کے لیے۔ ہاں البتہ اس کے اندر کون سا معنیٰ آ جاتا ہے کبھی؟ شرط والا معنیٰ آ جاتا ہے، تو لہٰذا اب اس کے ساتھ جملہ فعلیہ ہونا لازم نہیں، جملہ اسمیہ بھی آ سکتا ہے۔ البتہ پسندیدہ یہی ہے کہ جملہ فعلیہ ہونا چاہیے۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ أَنْ تَقَعَ بَعْدَهَا الْجُمْلَةُ الِاسْمِيَّةُ“، اور جائز ہے کہ اس کے بعد جملہ اسمیہ واقع ہو، ”نَحْوُ: آتِيكَ إِذَا الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“۔ ”آتِيكَ“، ”آتِي“ فعل، أَنَا ضمیر اس کے اندر، ”آتِي“، ”نَأْتِي“، ”أَتَى يَأْتِي إِتْيَانًا“ کا معنیٰ ہوتا ہے آنا، آنا، تو اسی سے متکلم کا صیغہ ہے ”آتِي“۔ ”آتِي“ فعل با فاعل، اس کے اندر أَنَا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، كاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، مفعول بہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ”إِذَا“ ظرف ہے بھئی، اعراب بولیے اس کا: منصوب، اور محلاً کیوں کہہ رہے ہو؟ کیونکہ مبنی ہے، شاباش! تو یہ منصوب محلاً مضاف، ”الشَّمْسُ“ مرفوع لفظاً مبتدا، اور ”طَالِعَةٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ہِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ سوال: ہِیَ کو شمس کی طرف کیسے راجع کر رہے ہو؟ جواب یہ کہ شمس کیا ہے؟ مؤنثِ سماعی ہے، عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے اس لیے اس کی طرف مؤنث ضمیر راجع کی جاتی ہے۔ تو ہِیَ ضمیر مرفوع محلاً راجع ہے شمس یعنی مبتدا کی طرف، کیونکہ خبر کو مبتدا سے جوڑتے ہیں۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر مضاف الیہ، کس کے لیے؟ ”إِذَا“ کے لیے۔ اور ”إِذَا“ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ”آتِي“ فعل کے لیے۔ ”آتِي“ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟
اور یاد رکھیے یہ عموماً میں نے بتایا یہ شرط کے معنیٰ کو متضمن ہوتا ہے، تو ساتھ اس کے جزا بھی آتی ہے، جزا بھی آتی ہے۔ تو اصل میں اصل میں کلام یوں ہونا چاہیے تھا: ”إِذَا الشَّمْسُ طَالِعَةٌ آتِيكَ“، ”آتِيكَ“ کو بعد میں ہونا چاہیے تھا، یہ جزا بنتی۔ تو ”إِذَا الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“ یہ ہے شرط، اور ”آتِيكَ“ یہ کیا ہے؟ جزا، جزا۔ لیکن بعض اوقات اس یہ جزا جیسا جملہ مقدم آ جاتا ہے تو پھر جزا کو حذف کر دیتے ہیں۔ تو اصل میں یوں تھا، یہ ماقبل والے ”آتِيكَ“ اس کو ذرا چھوڑ دو: ”إِذَا الشَّمْسُ طَالِعَةٌ آتِيكَ“، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ”إِذَا الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“ یہ ہے شرط، ”آتِيكَ“ یہ کیا ہے؟ جزا۔ لیکن اس جزا کو حذف کر دیا گیا، کیونکہ شرط سے قبل ایک اور ایسا جملہ آ رہا تھا جو جزا پر دلالت کر رہا تھا۔ یہ ”آتِيكَ“ جو ماقبل میں آیا، یہ اسی ”آتِيكَ“ جزا پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے، لہٰذا اس ”آتِيكَ“ جزا کو حذف کر دیا گیا۔ تو یہ جو ”آتِيكَ“ ہے یہ جزا نہیں، یہ دال بر جزا ہے، جزا پر دلالت کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو جب اس طرح ہو: ”إِذَا الشَّمْسُ طَالِعَةٌ آتِيكَ“، تو اس صورت میں بھی یہ ”إِذَا“ مفعول فیہ بنے گا ”آتِيكَ“ کے لیے، جیسے اس وقت ”آتِيكَ“ کے لیے یہ کیا بن رہا ہے؟ مفعول فیہ۔ اس صورت میں بھی جزا کے لیے یہ کیا بنتا ہے؟ مفعول فیہ بنتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ أَنْ تَقَعَ بَعْدَهَا الْجُمْلَةُ الِاسْمِيَّةُ“، اور جائز ہے کہ اس کے بعد جملہ اسمیہ واقع ہو، ”نَحْوُ: آتِيكَ إِذَا الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، میں تیرے پاس آؤں گا جب سورج طلوع ہوگا۔ ”وَالْمُخْتَارُ الْفِعْلِيَّةُ“، اور مختار یعنی پسندیدہ جو ہے وہ جملہ فعلیہ ہے۔ اس کے بعد جملہ اسمیہ تو آ سکتا ہے، لیکن پسندیدہ کیا ہے؟ جملہ فعلیہ ہے۔ ”نَحْوُ: آتِيكَ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ“۔ جی ترکیب کیجیے: ”آتِي“ فعل با فاعل، اس کے اندر أَنَا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، كاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”إِذَا“ ظرفیہ شرطیہ بھئی، ”إِذَا“ ظرفیہ شرطیہ بھئی منصوب محلاً مضاف، ”طَلَعَتْ“ فعل، ”الشَّمْسُ“ مرفوع لفظاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر مضاف الیہ ہوا ”إِذَا“ کے لیے، ”إِذَا“ کے لیے۔ اور ”إِذَا“ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ”آتِي“ کے لیے۔ ”آتِي“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ یا یوں کہیں، یہ کیا ہوا؟ ”إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ“ کیا ہوئی؟ شرط، اور ”آتِيكَ“ کیا ہے؟ دال بالجزاء۔ تو یوں کہیں: شرط اپنی دال بالجزاء سے مل کر جملہ شرطیہ ہوا۔ یا مطلقاً اسی طرح رکھیں: فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ بہرحال بات آپ کو پتہ چل گئی کہ یہ ”آتِيكَ“ یہ کیا ہے؟ دال بالجزاء ہے بھئی۔
”وَقَدْ تَكُونُ لِلْمُفَاجَأَةِ“، اور کبھی کبھار یہ ”إِذَا“ مفاجات کے لیے ہوتا ہے۔ مفاجات کا معنیٰ ہے اچانک ہونا کسی کام کا: ”خَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَإِذَا السَّبُعُ“، میں گھر سے نکلا ”فَإِذَا السَّبُعُ“، تو اچانک درندہ کھڑا تھا، درندہ موجود تھا۔ دیکھا، اچانک کے لیے کیا آتا ہے؟ ”إِذَا“۔ اور اس میں پھر ”خَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَإِذَا السَّبُعُ مَوْجُودٌ“، یا ”وَاقِفٌ“، خبر کو حذف کرتے ہیں، لفظوں میں ذکر نہیں کرتے۔ تو اسی لیے میں نے کہا: ”خَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَإِذَا السَّبُعُ“، دیکھا، تو آگے ”مَوْجُودٌ“ یا ”وَاقِفٌ“ کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا۔ موجود تھا یا کھڑا تھا۔
کہتے ہیں: ”وَقَدْ تَكُونُ لِلْمُفَاجَأَةِ“، اور ”إِذَا“ جو ہے کبھی کبھار کس لیے آتا ہے؟ مفاجات کے لیے بھی آتا ہے، یعنی اچانک کسی کی چیز کے بیان کے لیے۔ ”فَيُخْتَارُ بَعْدَهَا الْمُبْتَدَأُ“، تو اس صورت میں پسندیدہ اس کے بعد مبتدا ہے، ”نَحْوُ: خَرَجْتُ فَإِذَا السَّبُعُ وَاقِفٌ“۔ انہوں نے ”وَاقِفٌ“ لفظوں میں ذکر کر دیا، لیکن لفظوں میں عموماً اس کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ تو بہرحال انہوں نے وضاحت کر دی۔ ”خَرَجْتُ“ فعل با فاعل، فا عاطفہ، ”إِذَا“ مفاجاتیہ، ”إِذَا“ مفاجاتیہ۔ اور پھر اس کے اندر عامل کون ہے؟ کیونکہ ”إِذَا“ تو ظرف ہے نا، ظرف کے لیے کیا چاہیے؟ عامل۔ تو یاد رکھیے، تو یہ ”إِذَا“ مفاجاتیہ ہے تو اس کے لیے فعلِ محذوف نکالتے ہیں: ”فَفَاجَأْتُ“، تو اچانک میں نے پایا، ”فَفَاجَأْتُ“، اچانک میں نے پایا، کیا پایا؟ ”إِذَا“ زمانے کا نام: زمانَ وقوفِ السَّبُعِ۔
بھئی دیکھیے، ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، اس میں کیا خبر بیان ہو رہی ہے؟ ایک لفظ، پورا جملہ نہیں، پورا جملہ نہیں، جملہ تو میں بول رہا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“۔ اس میں بات کیا بیان ہو رہی ہے آپ سے پوچھا جائے؟ تو طریقہ یہ ہے: آپ خبر کا مصدر بنائیں اور مبتدا کی طرف مضاف کر دیں۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، خبر کیا ہے؟ قائم۔ قائم کا مصدر بنائیں: قیام۔ اس قیام کو مبتدا کی طرف مضاف کریں: قیامُ زیدٍ۔ تو اگر آپ سے کوئی پوچھے اس جملے میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ آپ کہیں اس جملے میں قیامِ زید بیان ہو رہا ہے، کیا بیان ہو رہا ہے؟ قیامِ زید ہو رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے مضمونِ جملہ۔ مضمونِ جملہ اس طرح نکالتے ہیں کہ خبر کا مصدر بنا لیتے ہیں اور مبتدا کی طرف۔ جیسے یا دوسری مثال لے لو: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، اصل میں کیا ہے؟ ”زَيْدٌ ثَابِتٌ فِي الدَّارِ“۔ اب خبر کیا ہے؟ ”ثَابِتٌ فِي الدَّارِ“، اس کا ذرا مصدر بناؤ: ثابت، ثبوت۔ تو مصدر کیا بنا؟ ثبوت فی الدار۔ وہ باقی جار مجرور کو اسی طرح ساتھ جوڑ دو ساتھ رکھو بس۔ تو مصدر کیا ہوا؟ ثبوت۔ تو ثبوت فی الدار، اور اس کی اضافت کرو مبتدا کی طرف: ثبوتِ زید فی الدار۔ تو آپ سے کوئی پوچھے اس جملے کا مضمون کیا ہے، اس میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ آپ کہیں گے: ثبوتِ زید فی الدار بیان ہو رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی ہے: ”خَرَجْتُ فَإِذَا السَّبُعُ وَاقِفٌ“ یا ”مَوْجُودٌ“، میں نکلا گھر سے تو اچانک درندہ کھڑا تھا، تو ”السَّبُعُ وَاقِفٌ“، درندہ کھڑا تھا، اس کا ذرا مضمونِ جملہ نکالو: وقوف، وقوفِ سبع، وقوفِ سبع۔ اور اس سے ماقبل ”إِذَا“ آیا، اور ”إِذَا“ کس چیز کا نام ہے؟ زمانے کا۔ تو ”فَفَاجَأْتُ زَمَانَ وُقُوفِ السَّبُعِ“، ”فَفَاجَأْتُ“، تو میں نے اچانک پایا، کیا پایا؟ ”زَمَانَ وُقُوفِ السَّبُعِ“، درندے کے کھڑے ہونے کا زمانہ۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو اور یہ اس معنیٰ میں ہوا۔ باقی تفصیل اسی طرح ترکیب کر لیں: ”إِذَا“ منصوب محلاً مضاف، ”السَّبُعُ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”وَاقِفٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ھُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ سبع کو۔ سبع مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر مضاف الیہ ہوا ”إِذَا“ کے لیے۔ ”إِذَا“ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ”فَاجَأْتُ“ فعل کے لیے۔ ”فَاجَأْتُ“ فعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں ”فَاجَأْتُ“ فعل محذوف نکالتے ہیں۔ میں گھر سے نکلا، ”فَفَاجَأْتُ زَمَانَ وُقُوفِ السَّبُعِ“، تو میں نے اچانک درندے کے کھڑے ہونے کا زمانہ پایا۔
”وَمِنْهَا إِذْ“، اور ظروفِ مبنیہ میں سے ”إِذْ“ بھی ہے، ”وَهِيَ لِلْمَاضِي“، اور یہ کس لیے ماضی اور یہ ماضی کے لیے آتا ہے۔ یہ اگرچہ مستقبل پر بھی داخل ہو جائے لیکن اس کو کس معنیٰ میں کر دیتا ہے؟ ماضی کے۔ ”وَتَقَعُ بَعْدَهَا الْجُمْلَتَانِ الِاسْمِيَّةُ وَالْفِعْلِيَّةُ“، اور اس کے بعد دونوں جملے واقع ہوتے ہیں: جملہ اسمیہ بھی اور جملہ فعلیہ بھی۔ ”نَحْوُ: جِئْتُكَ إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ“، میں آیا آپ کے پاس ”إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ“، جس وقت سورج طلوع ہوا تھا، دیکھا؟ ماضی والا ترجمہ کرنا ہے، ماضی والا۔ میں آپ کے پاس آیا تھا جب سورج طلوع ہوا تھا۔ یہ تھا جملہ فعلیہ۔ یا آگے کیا ہے؟ ”وَإِذِ الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، اس کے ساتھ وہ ماقبل والا بھی جوڑ دیں: ”جِئْتُكَ إِذِ الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، میں آپ کے پاس آیا تھا جس وقت سورج طلوع تھا۔ بھئی معنیٰ وہی ہے، البتہ ایک میں ”طَلَعَتِ الشَّمْسُ“ جملہ فعلیہ ہے اور ایک میں ”الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“ جملہ اسمیہ ہے، یعنی اس کے بعد دونوں قسم کے جملے آ سکتے ہیں۔
”وَمِنْهَا أَيْنَ وَأَنَّى“، اور ان ظروفِ مبنیہ میں سے ”أَيْنَ“ اور ”أَنَّى“ بھی ہیں، ”لِلْمَكَانِ“، یہ کس لیے آتے ہیں؟ مکان، جگہ۔ ظرف دو قسم پر ہے نا، یا زمانے کا نام ہوتا ہے یا جگہ کا۔ تو یہ جگہ کے لیے آتے ہیں، ”بِمَعْنَى الِاسْتِفْهَامِ“، استفہام کے معنیٰ میں، یعنی سوال پوچھنے کے لیے آتے ہیں۔ ”نَحْوُ: أَيْنَ تَمْشِي“، آپ کہاں چل رہے ہیں؟ آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ”وَأَنَّى تَقْعُدُ“، اور آپ کہاں بیٹھیں گے؟ دیکھا؟ اور چونکہ یہ استفہام کے لیے آتے ہیں، اور تو یہ صدارتِ کلام کو چاہتے ہیں، جملے کے شروع میں آئیں گے، جملے کے شروع میں، تاکہ شروع سے ہی پتہ چل جائے یہ جملہ استفہامیہ آ رہا ہے۔ اور جی، اب ترکیب کیجیے: ”أَيْنَ تَمْشِي“، ”أَيْنَ“ جی اعراب: ”أَيْنَ“ مرفوع محلاً مبتدا؟ بھئی یہ کس چیز کی بحث ہم پڑھ رہے ہیں؟ ظروف کی، پھر؟ منصوب محلاً، مفعول فیہ ہی بنے گا یہ اسی طرح، کس کے لیے؟ آگے آنے والے فعل کے لیے۔ تو ”أَيْنَ“ منصوب محلاً مفعول فیہ، ”تَمْشِي“ فعل، أَنْتَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا کیونکہ استفہام ہے۔ ”أَيْنَ تَمْشِي“، آپ کہاں جا رہے ہیں؟ معنیٰ پہ غور کر لیں، این کہاں، جگہ، جگہ کی بات ہو رہی ہے اور جگہ کیا ہوتی ہے؟ ظرف، مفعول فیہ ہوتی ہے۔ ”وَأَنَّى تَقْعُدُ“، آپ کہاں بیٹھیں گے؟ تو ”أَنَّى“ منصوب محلاً مفعول فیہ مقدم، اور ”تَقْعُدُ“ فعل، اس کے اندر أَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ تو یہ ”أَيْنَ“ اور ”أَنَّى“ جگہ کے لیے آتے ہیں اور استفہام کے معنیٰ میں ہوتے ہیں۔ ”وَبِمَعْنَى الشَّرْطِ“، اور شرط کے معنیٰ میں بھی آتے ہیں بھئی، کبھی شرط کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ پھر دو جملے چاہیں گے: ایک شرط اور ایک جزا۔ جیسے: ”أَيْنَ تَجْلِسْ أَجْلِسْ“، جی جزا، جی۔ تو جب شرط کے معنیٰ میں یہ جزم بھی دیں گے بھئی: ”أَيْنَ تَجْلِسْ أَجْلِسْ“۔ ”أَيْنَ“ منصوب محلاً متضمن معنیٰ شرط مفعول فیہ، ”تَجْلِسْ“ فعل با فاعل، اس کے اندر أَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ”أَجْلِسْ“ فعل، أَنَا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ ہوا۔
یاد رکھیے ہمارے ہاں ایک غلط تعبیر رائج ہے، کہتے ہیں: جملہ شرطیہ جزائیہ ہوا۔ یہ آپ نے کبھی نہیں کہنا، بات سمجھ میں آ گئی؟ بس، جملہ شرطیہ ہوا۔ جملہ شرطیہ جب کہہ دیا تو خود بخود پتہ خود بخود پتہ چل گیا کہ اس میں شرط بھی آئے گی اور جزا، تو شرطیہ جزائیہ کہنے کا کیا مطلب؟ لہٰذا یہ غلط تعبیر ہے جملہ شرطیہ جزائیہ ہوا، اکثر کتابوں میں حالانکہ اردو کی اکثر کتابوں میں آپ کو ملے گا، رائج ہو گیا ہے رائج ہو گیا ہے۔ ہاں عربی کسی کتاب میں آپ کو شرطیہ جزائیہ نہیں ملے گا، صرف وہ اتنا لکھیں گے: یہ جملہ شرطیہ ہے، بس۔ تو آپ نے بھی شرطیہ کہنا ہے، شرطیہ جزائیہ نہیں کہنا بھئی۔ شرط اور جزا مل کر جملہ شرطیہ ہوا۔
”وَأَنَّى تَقُمْ أَقُمْ“، دیکھا، یہ جزم بھی دے رہے ہیں بھئی فعلِ مضارع کو۔ ”أَنَّى“ منصوب محلاً مفعول فیہ متضمن معنیٰ شرط، ”تَقُمْ“ فعل، أَنْتَ ضمیر فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ اور ”أَقُمْ“ فعل، أَنَا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ ہوا بھئی۔ تو ”أَيْنَ تَجْلِسْ أَجْلِسْ“، جہاں آپ بیٹھیں گے، ”أَجْلِسْ“ میں بھی بیٹھوں گا۔ ”وَأَنَّى تَقُمْ أَقُمْ“، جہاں آپ کھڑے ہوں گے، میں بھی کھڑا ہوں گا۔ قیام سے ہے نا، قیام سے۔
”وَمِنْهَا مَتَى لِلزَّمَانِ“، اور انہی ظروفِ مبنیہ میں سے ”مَتَى“ بھی ہے، ”لِلزَّمَانِ“ زمانے کے لیے۔ یہ زمانے کے معنیٰ میں ہوتا ہے، جگہ کے معنیٰ میں نہیں۔ تو یہ زمانے کے لیے ہوگا ”شَرْطًا“، شرط کی حیثیت سے، ”أَوِ اسْتِفْهَامًا“، یا استفہام ہونے کے اعتبار سے۔ یعنی یہ شرط کے لیے آئے گا یا استفہام، جیسے اوپر والے تھے استفہام کے لیے بھی تھے اور شرط کے لیے بھی بعض جگہ تھے۔ ”نَحْوُ: مَتَى تَصُمْ أَصُمْ“، چلیے ترکیب کیجیے: ”مَتَى“ منصوب محلاً مفعول فیہ متضمن معنیٰ شرط، ”تَصُمْ“ فعل، أَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ”أَصُمْ“ فعل با فاعل، ہاں وہ میں نے بتایا تھا جب فعل کے ساتھ فاعل ہو تو یہ تعبیر اچھی ہے، یوں کیا کرو: ”أَصُمْ“ فعل با فاعل، أَنَا ضمیر مرفوع۔ تو تو یہ تعبیر کیا کرو، اور باقی گزشتہ کچھ مثالوں میں ہم نے اس طرح نہیں کہا لیکن ایسا کہنا کوئی ضروری نہیں ہے، بہرحال یہ ایک اچھی تعبیر ہے اس طرح کہہ دو گے اچھے طریقے سے ذرا۔ تو ”أَصُمْ“ فعل با فاعل، أَنَا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ ہوا۔
ایک اور بات بھی یاد رکھو: یہ جو جملہ شرطیہ ہے نا، جملہ شرطیہ، اس میں ایک ہوتی ہے شرط، ایک جملہ، اور ایک کیا ہے؟ جزا۔ یاد رکھو ان میں سے اصل جزا ہے۔ اصل کیا ہے؟ جزا، اور یہ شرط اس کے لیے قید ہوتی ہے۔ تو سارا دار و مدار جزا پر ہے۔ اس جملہ شرطیہ کا سارا دار و مدار کس پر ہے؟ جزا پر۔ یعنی اگر جزا جملہ خبریہ ہے تو اس کو کہیں گے جملہ شرطیہ خبریہ، اور اگر جزا جملہ انشائیہ ہے تو پھر اس کو کہیں گے جملہ شرطیہ انشائیہ۔ بات سمجھ میں آئی؟ دوبارہ سنو: جملہ شرطیہ میں دو جز ہیں: پہلے کو کہتے ہیں شرط، دوسرے کو کہتے ہیں جزا، لیکن ان میں سے اصل کون ہے؟ جزا ہے، جزا اصل جملہ، اور جو شرط ہے وہ اسی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اس کی ایک قید ہے۔ جیسے دیکھو میں کہتا ہوں نا: ”ضَرَبْتُ“ میں نے پٹائی کی، بھئی کس کی کی؟ ذکر نہیں ہے، لیکن جب میں ذکر کر دوں گا: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، میں نے کس کی پٹائی کی؟ زید کی، تو دیکھو یہ زید یہ قید ہے کس کے لیے؟ ”ضَرَبْتُ“ کے لیے۔ پتہ چلا یہ ضرب ادھر ادھر کہیں واقع نہیں ہوئی، کس پہ ہوئی ہے؟ زید پہ واقع ہوئی ہے، تو یہ اس کے لیے قید ہے۔ گویا اصل جملہ ”ضَرَبْتُ“ ہے اور زید اس کے لیے کیا ہے؟ قید۔ اسی طرح یہاں شرط اور جزا دو جز ہیں کلام کے دو جز ہیں: ایک شرط اور ایک جزا۔ ان میں سے اصل کون ہے؟ جزا، اور یہ شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے۔ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی مفعول بہ بھی فعل کے لیے قید ہوتا ہے، حال بھی قید ہوتا ہے، تمیز بھی قید ہوتا ہے، اور چیزیں جتنی ساتھ جڑتی چلی جاتی ہیں وہ سب کیا ہوتی ہیں؟ قید ہوتی ہیں۔ تو یہ بھی شرط بھی کیا ہوتی ہے؟ جزا کے لیے قید ہے، جزا اصل ہے، سارا دار و مدار جزا پہ ہے۔ اور جب جزا پہ دار و مدار ہے تو جزا وہ خبر بھی ہو سکتی ہے اور انشا بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً دیکھو: ”إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ“، اگر آپ پٹائی کریں گے، ”أَضْرِبْ“ میں بھی پٹائی کروں گا۔ اب بتائیے ”أَضْرِبْ“ میں پٹائی کروں گا، انشا ہے یا خبر ہے؟ خبر ہے، خبر ہے، انشا کس اعتبار سے ہے؟ خبر ہے۔ خبر حال کی بھی ہو سکتی ہے، ماضی کی بھی ہو سکتی ہے، مستقبل کی بھی ہو سکتی ہے۔ میں زید کے پاس گیا تھا، یہ خبر ہے۔ میں زید کے پاس جا رہا ہوں، یہ بھی خبر ہے، حال، پہلا ماضی تھا اب کیا ہے؟ حال۔ کبھی مستقبل ہوگا: میں زید کے پاس کل جاؤں گا، یہ بھی کیا ہے؟ خبر۔ تو خبر مستقبل کی بھی ہو سکتی ہے، حال کی بھی ہو سکتی ہے اور ماضی کی بھی ہو سکتی ہے۔ اور انشا، انشا میں خبر نہیں ہوتی، انشا کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا بھئی۔ مثلاً اسی جملے کو لے لیں: ”إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ“، اگر آپ پٹائی کریں گے تو میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا۔ اب اس کو ذرا الگ کرو جزا کو: میں آپ کی پٹائی کروں گا۔ کوئی کہہ سکتا ہے یا نہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ کہہ سکتا ہے، یہ اس پہ عمل نہیں کرے گا، یہ کیا کر رہا ہے؟ جھوٹ۔ یا اور مثال لے لو اور زیادہ ذرا وضاحت ہو جائے، میں کہتا ہوں: میں کل زید کے گھر جاؤں گا۔ کوئی مجھے کہہ سکتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ دیکھا، حالانکہ انشا کے کہنے والے کو تو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا، نہیں کہا جاتا سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا، یہاں سچا جھوٹا کہا جا رہا ہے۔ معلوم ہوا خبر جیسے حال کی ہوتی ہے، ماضی کی ہوتی ہے، اسی طرح مستقبل کی بھی ہوتی ہے، آپ خود اس میں غور کر لیں۔ تو دار و مدار ہے جزا پر، اور جزا جملہ خبریہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ انشائیہ۔ ”إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ“، اگر آپ پٹائی کریں گے، ”إِنْ تَضْرِبْنِي“ اگر آپ میری پٹائی کریں گے، ”أَضْرِبْكَ“ میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا۔ دیکھا؟ یہ ”أَضْرِبْكَ“ یہ جزا ہے، اور یہ کیا ہے؟ خبر، تو اس جملے کو کہیں گے جملہ شرطیہ خبریہ۔ اور کبھی جزا انشا آئے گی، انشا آئے گی، جیسے: ”إِنْ جَاءَكَ زَيْدٌ فَاضْرِبْهُ“، اگر آپ کے پاس زید آئے تو اس کی پٹائی کرنا۔ دیکھا؟ ”فَاضْرِبْهُ“، یہ کیا ہے؟ امر، اور امر کیا ہے؟ انشا۔ تو معلوم ہوا جزا جملہ انشائیہ ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ انشائیہ کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو ”مَتَى تَصُمْ أَصُمْ“، یہ مثال ہوئی ”مَتَى“ کی جو زمانے جو ظرفِ جو مبنیات میں سے ہے، ظرف ہے اور زمانے کے لیے آتا ہے۔ ”مَتَى تَصُمْ أَصُمْ“، جب تو روزہ رکھے گا، ”أَصُمْ“ میں بھی روزہ رکھوں گا۔ ”صَامَ يَصُومُ“ کا معنیٰ روزہ رکھنا۔ ”وَمَتَى تُسَافِرْ“، یہ دیکھو استفہام کی مثال ہے، شرط کے لیے نہیں ہے: ”مَتَى تُسَافِرْ“، آپ کب سفر کریں گے؟ تو یہ دونوں کے لیے یہ آتا ہے، استفہام کے لیے بھی اور شرط کے لیے۔ تو ترکیب کیجیے: ”مَتَى“ منصوب محلاً مفعول فیہ اور متضمن کہہ دیں، متضمن معنیٰ استفہام، ”تُسَافِرْ“ فعل با فاعل، اس کے اندر أَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا کیونکہ استفہام ہے۔ ”مَتَى تُسَافِرْ“، آپ کب سفر کریں گے؟
”وَمِنْهَا كَيْفَ لِلِاسْتِفْهَامِ حَالًا“، اور انہی ظروف میں سے ایک ”كَيْفَ“ بھی ہے، ظروفِ مبنیہ میں سے ”كَيْفَ“، یہ دیکھا ہمیشہ فا پر زبر ہی رہتی ہے، مبنی ہے۔ ”لِلِاسْتِفْهَامِ“، کس لیے آتا ہے؟ استفہام کے لیے۔ ”حَالًا“، یہ ”حَالًا“ کا معنیٰ یہ مفعول بہ ہے، یہ ”حَالًا“ منصوب ہے نا، یہ مفعول بہ ہے۔ پوچھنے کے لیے، کیا پوچھنے کے لیے؟ ”حَالًا“، حال پوچھنے کے لیے۔ یہ حال پوچھنے کے لیے آتا ہے: ”كَيْفَ أَنْتَ“، آپ کا کیا حال ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو انہی میں سے ”كَيْفَ“ ہے ”لِلِاسْتِفْهَامِ حَالًا“، حال پوچھنے کے لیے، ”نَحْوُ: كَيْفَ أَنْتَ، أَيْ فِي أَيِّ حَالٍ أَنْتَ“، دیکھا؟ ”كَيْفَ“ کا معنیٰ کیا کیا: ”فِي أَيِّ حَالٍ“، آپ کس حال میں ہیں؟ ترکیب کیجیے: ”كَيْفَ أَنْتَ“، ”كَيْفَ“ کس کی بحث چل رہی ہے؟ ظروف کی، تو یہ ظروف میں سے ہے مجازاً۔ اچھا، ”كَيْفَ“ منصوب محلاً مفعول فیہ ہوا، جی، کیجیے: مفعول فیہ بناؤ نا! مفعول فیہ بنانا ہے، خبرِ مقدم بناؤ۔ ”كَيْفَ“ منصوب محلاً مفعول فیہ ”ثَابِتٌ“ کے لیے۔ ”أَنْتَ“ کے لیے تو نہیں بن سکتا نا، تو اس کے لیے عامل چاہیے، مفعول فیہ کس کے لیے بن رہا ہے؟ تو عامل یا فعل ہوگا یا شبہ فعل ہوگا۔ تو ”ثَبَتَ“ نکال لیں یا ”ثَابِتٌ“۔ تو ”ثَابِتٌ“ صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر اس کے اندر أَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، کیونکہ صفت کے صیغے کو جس ضمیر سے جوڑتے ہیں اس میں بھی وہی ضمیر ہوتی ہے۔ تو ”ثَابِتٌ“ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبرِ مقدم، اور ”أَنْتَ“ مرفوع محلاً مبتدا مؤخر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا، کیونکہ استفہام ہے، سوال پوچھا جا رہا ہے، ”أَيْ فِي أَيِّ حَالٍ أَنْتَ“، آپ کس حال میں ہیں۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔