Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-081

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: اَلْكِنَايَاتُ: هِيَ أَسْمَاءٌ تَدُلُّ عَلَى عَدَدٍ مُبْهَمٍ، وَهِيَ كَمْ وَكَذَا، أَوْ حَدِيثٍ مُبْهَمٍ، وَهُوَ كَيْتَ وَذَيْتَ. وَاعْلَمْ أَنَّ كَمْ عَلَى قِسْمَيْنِ: اِسْتِفْهَامِيَّةٌ، وَمَا بَعْدَهَا مَنْصُوبٌ مُفْرَدٌ عَلَى التَّمْيِيزِ، نَحْوُ: ”كَمْ رَجُلًا عِنْدَكَ؟“، وَخَبَرِيَّةٌ، وَمَا بَعْدَهَا مَجْرُورٌ مُفْرَدٌ، نَحْوُ: ”كَمْ مَالٍ أَنْفَقْتُهُ“، أَوْ مَجْمُوعٌ، نَحْوُ: ”كَمْ رِجَالٍ لَقِيتُهُمْ“، وَمَعْنَاهُ التَّكْثِيرُ. مبنیات کا بیان چل رہا ہے۔ آج ہم کنایات کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، کنایات۔ کہتے ہیں: ”اَلْكِنَايَاتُ: هِيَ أَسْمَاءٌ تَدُلُّ عَلَى عَدَدٍ مُبْهَمٍ“ کہ کنایات وہ اسماء ہیں جو دلالت کرتے ہیں عدد مبہم پر ”وَهِيَ كَمْ وَكَذَا“ اور وہ ”كَمْ“ اور ”كَذَا“ ہیں۔ ”أَوْ حَدِيثٍ مُبْهَمٍ“ یا وہ دلالت کرتے ہیں حدیث مبہم پر۔ حدیث کا معنی ہے بات، بات بھئی۔ یا مبہم بات پر ”وَهُوَ كَيْتَ وَذَيْتَ“ اور وہ ”كَيْتَ“ اور ”ذَيْتَ“ ہیں بھئی۔ بھئی، کنایہ بعض اوقات بات سے کیا جاتا ہے، بعض اوقات عدد سے مثلاً کیا جاتا ہے۔ مثلاً بھئی، آپ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ زید کے بارے میں بات کر رہے ہیں بھئی۔ مثلاً آپ کا اور زید کا کوئی جھگڑا ہوا ہے، اب آپ اپنے ساتھی کو اس جھگڑے کے بارے میں بتلا رہے ہیں، درمیان میں ایک تیسرا آدمی مثلاً عمرو آ گیا۔ تو اب آپ اس سے چھپانا چاہتے ہیں کہ آپ نے زید کو کیا کہا تھا۔ اپنے ساتھی کو تو آپ بتا چکے ہیں کچھ تفصیل بھئی۔ تو اب آپ کنایہ کرتے ہیں اور اپنے ساتھی کو یوں کہتے ہیں: ”تو پھر میں نے زید کو یوں یوں کہا۔“ دیکھا؟ بات نہیں ذکر کی بلکہ کیا کہہ دیا؟ ”یوں یوں کہا۔“ اس بات سے کنایہ کر دیا۔ یا یوں کہیں: ”پھر میں نے زید کو ایسے ایسے کہا۔“ دیکھا؟ وہ بات نہیں ذکر کی بلکہ ایسے ایسے کا لفظ لے آئے، تو یہ آپ نے اس ایسے ایسے کے ذریعے کیا مراد ہے؟ وہی بات مراد ہے جو آپ کے ساتھی کو علم ہو چکا ہے کہ آپ نے کیا کہا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو ”یوں یوں کہا“ یا ”ایسے ایسے“ کا لفظ استعمال کیا، اس کے ذریعے کنایہ کیا اسی بات سے۔ اس کے ذریعے وہی بات مراد ہے جو آپ نے کس سے کی تھی؟ زید سے۔ لیکن آپ نے وہ بات ذکر نہیں کی کیونکہ اگر آپ ابھی وہ ذکر کرتے تو یہ آنے والے آدمی کو بھی اس کا پتہ چل جاتا، تو آپ نے اس بات سے کیا کر لیا؟ کنایہ کر لیا، دوسرے لفظ کے ساتھ یا اس کی طرف اشارہ کر دیا کہ میں نے زید کو ایسے ایسے کہا، یا یوں کہہ دیا پھر میں نے زید کو یوں یوں کہا، تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ عربی میں اس کے لیے ہے ”كَيْتَ“ اور ”ذَيْتَ“۔ تو عربی میں آپ مثلاً کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ كَيْتَ وَكَيْتَ“، ”فَقُلْتُ لَهُ كَيْتَ وَكَيْتَ“۔ یا آپ یوں کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ ذَيْتَ وَذَيْتَ“، تو میں نے اس کو یوں یوں کہا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے، یہاں یہ جو ایسے ایسے کہا یا یوں یوں کہا، یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے، اور کس چیز سے کنایہ ہے؟ ایک بات سے کیا ہے؟ کنایہ ہے بھئی، ایک جملے سے کنایہ ہے۔ اسی طرح کبھی کبھار عدد سے بھی کنایہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ دوسرے کو بتا رہے تھے کہ مثلاً میں نے زید کو، زید اور اس کے ساتھیوں کو سو سو روپیہ دیا۔ اچانک تیسرا آدمی درمیان میں آیا، اب آپ اس کو نہیں بتانا چاہتے یا کسی وجہ سے آپ ویسے ہی جلدی بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ یوں کہتے ہیں کہ: ”پھر میں نے ان کو اتنے اتنے روپے دیے۔“ دیکھا؟ وہ عدد نہیں ذکر کیا کہ اتنے دیے بلکہ کیا کہہ دیا؟ اتنے اتنے۔ تو اس عدد سے اتنے کے، تو اس عدد سے آپ نے کنایہ کر لیا اور اتنے کا لفظ استعمال کیا۔ تو اس کو بھی کنایہ کہتے ہیں اور اس کے لیے عربی میں ”كَمْ“ اور ”كَذَا“ استعمال ہوتا ہے، ”كَمْ“ اور ”كَذَا“۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ ”فَصْلٌ: اَلْكِنَايَاتُ: هِيَ أَسْمَاءٌ تَدُلُّ عَلَى عَدَدٍ مُبْهَمٍ“ یہ وہ اسماء ہیں جو دلالت کرتے ہیں مبہم عدد پر، ”وَهِيَ كَمْ وَكَذَا“ اور وہ ”كَمْ“ اور ”كَذَا“ ہیں، ”أَوْ حَدِيثٍ مُبْهَمٍ“ یا یہ وہ اسماء ہیں جو دلالت کرتے ہیں مبہم حدیث، حدیث کا کیا معنی ہے؟ بات۔ مبہم بات پر دلالت کرتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو بھی حدیث کہا جاتا ہے، حدیث۔ تو حدیث کا ویسے معنی ہوتا ہے بات بھئی، جو بھی ہم بات کریں وہ کیا ہے؟ حدیث ہے۔ لیکن خاص طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وغیرہ کا نام حدیث رکھا گیا۔ تو خاص طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا نام حدیث رکھا گیا۔ والد صاحب رحمہ اللہ اس کی عجیب وجہ بیان فرماتے تھے۔ وہ فرماتے تھے: اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اتنا اونچا مقام رکھتی ہیں کہ ان کی باتوں کے سامنے اور کوئی بات، بات کہلانے کے لائق ہی نہیں۔ بات ہے تو ان کی بات ہے۔ اسی لیے انہی کی بات کو کیا کہتے ہیں، جب حدیث لفظ ذکر کیا جائے تو کس کی باتیں مراد ہوتی ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بھئی۔ یعنی ان کی حدیث کے سامنے اور کسی کی حدیث یا کسی کی بات وہ حدیث ہے ہی نہیں، جب حدیث کہہ دیا تو مراد حضور علیہ السلام کی بات ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: یا اس کے ذریعے کنایہ کیا جاتا ہے مبہم بات سے، ”وَهُوَ كَيْتَ وَذَيْتَ“، جی۔ اس میں دونوں کے اندر تینوں لغتیں ہیں: ”كَيْتَ“، ”كَيْتُ“، ”كَيْتِ“۔ اسی طرح ”ذَيْتَ“، ”ذَيْتُ“، ”ذَيْتِ“۔ تو یہ تینوں طرح اس پر حرکتیں استعمال ہوتی ہیں، یہ مبنی ہیں بھئی۔ اس پر جو حرکت ہے وہی رہے گی۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ كَيْتَ وَكَيْتَ“، یا آپ کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ كَيْتُ وَكَيْتُ“، یا آپ کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ كَيْتِ وَكَيْتِ“، دیکھا؟ یہ مبنی ہے بھئی۔ اور اسی طرح ”ذَيْتَ“ کے اندر بھی تینوں حرکتیں ہیں، تو آپ مثلاً کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ ذَيْتَ وَذَيْتَ“، یا آپ کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ ذَيْتُ وَذَيْتُ“، یا آپ کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ لَهُ ذَيْتِ وَذَيْتِ“۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَاعْلَمْ أَنَّ كَمْ عَلَى قِسْمَيْنِ: اِسْتِفْهَامِيَّةٌ، وَمَا بَعْدَهَا...“ بھئی، آگے آپ کو تفصیل بتلا رہے ہیں ”كَمْ“ کے بارے میں کہ ”كَمْ“ دو قسم پر ہے بھئی، ایک ”كَمْ“ استفہامیہ ہے اور ایک ”كَمْ“ خبریہ ہے۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، ”كَمْ“ استفہامیہ وہ ہے جس کے ذریعے کوئی سوال کیا جائے، کسی سے کوئی بات پوچھی جائے، اور ”كَمْ“ خبریہ وہ ہے جس کے ذریعے کوئی خبر دی جائے بھئی، خبر دی جائے بھئی۔ اور یہ کثرت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، کثرت۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: ”كَمْ رَجُلٍ لَقِيتُهُ“، میں نے بہت سے آدمیوں سے ملاقات کی۔ تو ”كَمْ“ نے کیا فائدہ دیا؟ ”كَمْ“ خبریہ ہے، کثرت کا فائدہ دیا بھئی، کثرت کا۔ اچھا، تو بہرحال بات یہ چل رہی ہے کہ ”كَمْ“ دو قسم پر ہے: ایک ”كَمْ“ استفہامیہ ہے اور ایک ”كَمْ“ خبریہ ہے۔ ”كَمْ“ استفہامیہ کے ذریعے کیا کیا جائے گا؟ سوال پوچھا جائے گا، اور ”كَمْ“ خبریہ کے ذریعے خبر دی جائے گی، کوئی بات بتلائی جائے گی بھئی، بات بتلائی جائے گی۔ تو اب دونوں میں فرق کیسے ہوگا؟ فرق بھی آپ کو بتلا رہے ہیں کہ بھئی، یہ ”كَمْ“ جو ہے نا ”كَمْ“، یہ مبہم ہے، مبہم۔ اس میں ابہام ہے۔ اور آگے اس کی پھر تمییز آتی ہے ابہام کو دور کرنے کے لیے۔ تو تمییز آئے گی، اور استفہامیہ کے اندر جو ہے وہ تمییز منصوب ہوگی۔ مثلاً میں آپ سے پوچھتا ہوں: آپ نے کتنے آدمیوں سے ملاقات کی؟ یہ میں سوال کر رہا ہوں: آپ نے کتنے آدمیوں سے ملاقات کی؟ تو میں کہوں گا: ”كَمْ رَجُلًا لَقِيتَهُ؟“، ”كَمْ رَجُلًا لَقِيتَهُ؟“ دیکھا؟ ”كَمْ“ یہ ممیز ہے اور آگے ”رَجُلًا“ کیا ہے؟ اس کی تمییز ہے۔ تو استفہامیہ کے اندر تمییز جو آئے گی وہ مفرد منصوب آئے گی، دیکھا؟ ”كَمْ رَجُلًا“، ”رَجُلٌ“ مفرد لایا میں، ”رِجَالٌ“ جمع نہیں لے کر آیا۔ تو ”كَمْ“ استفہامیہ میں جو تمییز ہوگی وہ مفرد ہوگی اور منصوب ہوگی، ”كَمْ رَجُلًا“ بھئی، دیکھو ”رَجُلًا“ پر نصب ہے بھئی۔ تو ”كَمْ“ استفہامیہ میں تمییز کیا آئے گی؟ مفرد منصوب۔ جبکہ ”كَمْ“ خبریہ کے اندر جو تمییز ہوگی وہ مفرد مجرور بھی آ سکتی ہے اور جمع مجرور بھی۔ وہاں ”كَمْ“ کی اضافت ہو جاتی ہے اپنی تمییز کی طرف۔ پہلے استفہامیہ کیسے تھا؟ ”كَمْ رَجُلًا“۔ اور خبریہ کیا ہوگا؟ ”كَمْ رَجُلٍ“، دیکھا؟ مفرد مجرور، ”رَجُلٍ“ مفرد ہے اور مجرور ہے۔ ”كَمْ رَجُلٍ“، یہ آپس میں ”كَمْ“ مضاف ہے اور ”رَجُلٍ“ مضاف الیہ ہے۔ یا اس کو جمع بنا دو بھئی ”رَجُلٍ“ کو: ”كَمْ رِجَالٍ“، ”كَمْ رِجَالٍ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”كَمْ“ خبریہ کے اندر تمییز کیا ہوگی؟ یا مفرد مجرور ہوگی یا جمع مجرور ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ“ جان لے تو، ”أَنَّ كَمْ عَلَى قِسْمَيْنِ“ کہ ”كَمْ“ دو قسم پر ہے، ”اِسْتِفْهَامِيَّةٌ“ ایک ”كَمْ“ استفہامیہ ہے، ”وَمَا بَعْدَهَا مَنْصُوبٌ مُفْرَدٌ عَلَى التَّمْيِيزِ“ اور اس کا جو مابعد ہوتا ہے، اس ”كَمْ“ کا مابعد جو اس کے بعد آ رہا ہو، وہ منصوب ہوتا ہے لفظ، ”مُفْرَدٌ“ اور مفرد ہوتا ہے، ”عَلَى التَّمْيِيزِ“ کس بناء پر بھئی؟ منصوب کیوں ہوتا ہے؟ تمییز ہونے کی بناء پر، ”نَحْوُ: كَمْ رَجُلًا عِنْدَكَ؟“ کتنے آدمی ہیں آپ کے پاس؟ ”وَخَبَرِيَّةٌ“ اور دوسرا ”كَمْ“ خبریہ ہے، ”وَمَا بَعْدَهَا مَجْرُورٌ مُفْرَدٌ“ اور اس کا مابعد جو ہے وہ مجرور ہوگا، مفرد ہوگا، ”نَحْوُ: كَمْ مَالٍ أَنْفَقْتُهُ“ دیکھا؟ ”كَمْ مَالٍ“ کتنا مال، ہاں لیکن یہ ”كَمْ“ خبریہ ہے، کتنا نہیں، سوال نہیں ہے، خبر دے رہے ہیں اور کثرت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی ”كَمْ مَالٍ أَنْفَقْتُهُ“ میں نے بہت سا مال خرچ کیا، کتنا ہی مال میں نے خرچ کیا بھئی، یعنی بہت سا مال خرچ کیا۔ ”أَوْ مَجْمُوعٌ“ یا ”كَمْ“ خبریہ کا مابعد مجرور جمع ہوگا، ”نَحْوُ: كَمْ رِجَالٍ لَقِيتُهُمْ“، یہ ”لَقِيتُ“ ہونا چاہیے، زیادہ مناسب یہ ہے بھئی: ”كَمْ رِجَالٍ لَقِيتُهُمْ“، کتنے ہی آدمیوں سے میں نے ملاقات کی، کتنے ہی آدمیوں سے میں نے ملاقات کی، یعنی بہت سے آدمیوں سے میں نے ملاقات کی بھئی۔ تو یہی کہہ رہے ہیں: ”وَمَعْنَاهُ التَّكْثِيرُ“ اور اس ”كَمْ“ خبریہ کا معنی تکثیر ہوتا ہے، کثرت کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَتَدْخُلُ مِنْ فِيهِمَا“ اور ان دونوں کے درمیان ”مِنْ“ داخل ہو جاتا ہے، یعنی ”كَمْ“ اور آگے اس کی جو تمییز آ رہی ہے۔ ”كَمْ رَجُلًا لَقِيتَهُ“، تو ”كَمْ رَجُلًا“، ”كَمْ رَجُلًا لَقِيتَ“۔ تو یہاں ”مِنْ“ درمیان میں لے آئیں: ”كَمْ مِنْ رَجُلٍ لَقِيتَ“، اور خبریہ کیا تھا؟ ”كَمْ رَجُلٍ لَقِيتُ“، وہاں بھی ”مِنْ“ لے آئیں: ”كَمْ مِنْ رَجُلٍ لَقِيتُ“۔ تو سوال یہ تھا کہ دونوں ایک جیسے ہو گئے، استفہامیہ بھی ہو گیا ”كَمْ مِنْ رَجُلٍ“ اور خبریہ بھی ہو گیا ”كَمْ مِنْ رَجُلٍ“، تو دونوں میں فرق کیسے ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی، فرق موقع کے، استعمال کے اعتبار سے پتہ چل جائے گا بھئی۔ جہاں جملہ آپ بولیں گے، جہاں جس مقام پر یہ جملہ بولیں گے، سننے والے کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ اس وقت سوال پوچھ رہا ہے یا خبر، وہاں اور قرینے وغیرہ ہوتے ہیں ان سے پتہ چل جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَدْخُلُ مِنْ فِيهِمَا“ اور ”مِنْ“ ان دونوں کے درمیان داخل ہو جاتا ہے، یعنی ”كَمْ“ خبریہ اور ”كَمْ“ استفہامیہ اور اس کی تمییز میں۔ ”تَقُولُ: كَمْ مِنْ رَجُلٍ لَقِيتَهُ؟ وَكَمْ مِنْ مَالٍ أَنْفَقْتُهُ“ کتنے لوگوں سے تو نے ملاقات کی؟ ”وَكَمْ مِنْ مَالٍ أَنْفَقْتُهُ“ اور بہت سا مال میں نے خرچ کیا بھئی۔ ”أَنْفَقْتُ“ ہونا چاہیے زیادہ مناسب یہ ہے۔ بھئی دیکھیے، دونوں کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں، ”كَمْ“ استفہامیہ کی بھی اور ”كَمْ“ خبریہ کی بھی۔ اور سوال عموماً مخاطب سے، سامنے والے سے پوچھا جاتا ہے، اس لیے بار بار مخاطب کے صیغے آ رہے ہیں: ”كَمْ مِنْ رَجُلٍ لَقِيتَهُ؟“ کتنے لوگوں سے تو نے ملاقات کی؟ اور خبر عموماً اپنے بارے میں دی جاتی ہے تو لہٰذا ”كَمْ مِنْ مَالٍ أَنْفَقْتُهُ“ متکلم کا صیغہ ہونا چاہیے، زیادہ مناسب ہے۔ ضروری نہیں ہے لیکن زیادہ مناسب کیا ہے؟ ہاں، تو دونوں کی مثالیں چل رہی ہیں، تو جو ”كَمْ“ خبریہ والی ہو اس میں ہم کون سا صیغہ بنا لیتے ہیں؟ مخاطب والا، اور ”كَمْ“ استفہامیہ میں ہم مخاطب والا صیغہ بنا لیتے ہیں اور ”كَمْ“ خبریہ میں متکلم والا بھئی۔ ”وَقَدْ يُحْذَفُ التَّمْيِيزُ لِقِيَامِ قَرِينَةٍ“ اور کبھی کبھار اس کی تمییز کو حذف کر لیا جاتا ہے قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے، ”نَحْوُ: كَمْ مَالُكَ؟“ دیکھا؟ ”كَمْ مَالُكَ؟“، ”كَمْ“ کے بعد ”مَالُ“ مرفوع آ گیا۔ بھئی، ”كَمْ“ کے بعد تو یا منصوب آتا ہے یا مجرور آتا ہے، تو یہ مرفوع آ گیا۔ تو اس کا رفع بتلا رہا ہے کہ یہاں پر تمییز محذوف ہے۔ تمییز کیا ہے؟ محذوف ہے۔ تو یہ قرینہ ہے یہاں پر۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يُحْذَفُ التَّمْيِيزُ لِقِيَامِ قَرِينَةٍ“ اور کبھی کبھار تمییز کو حذف کر دیا جاتا ہے قرینہ قائم ہوتے وقت، ”نَحْوُ: كَمْ مَالُكَ؟ أَيْ كَمْ دِينَارًا مَالُكَ؟“ کتنے دینار ہے تمہارا مال؟ ”وَكَمْ ضَرَبْتُ“ دیکھا؟ ”كَمْ“ کے بعد تو فعل آ گیا بھئی، ”كَمْ“ کے بعد تو تمییز آیا کرتی ہے، تو یہ فعل کا آنا بتلا رہا ہے، یہ قرینہ ہے کہ معلوم ہوا یہاں تمییز کیا ہے؟ محذوف ہے۔ ”وَكَمْ ضَرَبْتُ، أَيْ كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“ بہت سی ضربیں میں نے لگائیں۔ آپ بتائیے: ”كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتُ“ ہونا چاہیے یا ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“؟ آگے ”ضَرَبْتُ“ متکلم کا صیغہ ہے، اور اپنے آپ سے کوئی سوال پوچھا جاتا ہے اپنے بارے میں، یا خبر دی جاتی ہے عموماً؟ خبر۔ تو ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“ میں نے بہت سی ضربیں لگائیں بھئی۔ اور اگر ”ضَرْبَةً“ پڑھیں: ”كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتُ؟“ میں نے کتنی ضربیں لگائیں بھئی؟ تو پھر اپنے بارے میں کیا ہو جائے گا؟ سوال۔ تو بہرحال سوال بھی ہو سکتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے، اپنے بارے میں بھی بعض اوقات سوال ہو سکتا ہے، ایک چیز کی طرف توجہ نہ ہو، لیکن زیادہ مناسب کیا ہے؟ سوال کے لیے کون سا صیغہ یہاں ہم استعمال کر لیتے ہیں؟ مخاطب والا، اور خبر کے لیے متکلم والا، اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے بھئی۔ ”وَاعْلَمْ أَنَّ كَمْ فِي الْوَجْهَيْنِ يَقَعُ مَنْصُوبًا إِذَا كَانَ بَعْدَهُ فِعْلٌ غَيْرُ مُشْتَغِلٍ عَنْهُ بِضَمِيرِهِ“ اب بھئی، ”كَمْ“ کا اعراب بتانے لگے ہیں۔ یہ تو آپ نے پڑھ ہی لیا کہ یہاں ہم مبنیات کی بحث پڑھ رہے ہیں بھئی، تو ”كَمْ“ بھی کیا ہے؟ مبنی ہے بھئی۔ تو اس پر اعراب تو ظاہر نہیں ہوگا، مبنی پر اعراب کون سا آتا ہے؟ محلاً آتا ہے، وہ محلاً مرفوع ہوتا ہے، محلاً منصوب ہوتا ہے اور محلاً مجرور۔ تو اس ”كَمْ“ کا کیا اعراب ہوگا؟ یہ آگے چل کر آپ کو بتائیں گے کہ یہ ”كَمْ“ مرفوع بھی ہو سکتا ہے، یہ منصوب بھی ہو سکتا ہے اور یہ مجرور بھی ہو سکتا ہے۔ اب سب سے پہلے منصوب بتلانے لگے ہیں کہ ”كَمْ“ منصوب کب ہوگا؟ کہتے ہیں: اگر ”كَمْ“ کے بعد کوئی فعل آئے اور وہ فعل اس کی ضمیر میں مشغول نہ ہو تو پھر یہ ”كَمْ“ منصوب ہوگا بھئی، منصوب ہوگا۔ توجہ ہے؟ ”كَمْ“ کے بعد کیا آئے؟ فعل۔ درمیان میں تمییز آ رہی ہے، تمییز کے بعد مثلاً آگے کیا آ رہا ہے؟ فعل۔ تو ”كَمْ“ کے بعد آگے چل کر ایک فعل آ رہا ہے اور وہ فعل اس کی ضمیر میں مشغول نہیں تو پھر یہ ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ منصوب ہوگا، منصوب ہوگا، اور پھر کیا بنے گا؟ مفعول بنے گا، یا کیا بنے گا؟ کہتے ہیں: یہ ”كَمْ“ کی تمییز کو دیکھ لینا، اس کی تمییز سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اس ”كَمْ“ کو، یہ ”كَمْ“ مفعول بہ ہے، یا یہ ”كَمْ“ مفعول مطلق ہے، یا یہ ”كَمْ“ کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے یعنی ظرف ہے۔ اگر ”كَمْ“ کے بعد ظرف آ جائے، ”كَمْ“ کے بعد ظرف آ جائے تو وہ ظرف کیا ہے؟ اسی ”كَمْ“ سے ابہام کو دور کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ ”كَمْ“ بھی کیا ہے؟ ظرف ہی ہے، تو یہ اور ظرف کیا ہوتا ہے؟ مفعول فیہ، اور مفعول فیہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ اور ”كَمْ“ کے بعد اگر کوئی عام مفعول آ جاتا ہے تو پھر وہ تمییز جو ہے مفعول بن سکتی ہے تو پھر یہ ”كَمْ“ کیا بن جائے گا؟ مفعول بن جائے گا۔ دیکھیے، آگے سب کی مثالیں آ رہی ہیں لیکن توجہ سے میری بات سن لو، مثالوں سے بات واضح ہو جائے گی۔ تو ”كَمْ“ کے بعد اگر تمییز جو آ رہی ہے اس پہ آپ نے نظر رکھنی ہے۔ سب سے پہلی بات دوبارہ سن لیں: سب سے پہلے دیکھیں کہ ”كَمْ“ سے آگے چل کر کوئی فعل آ رہا ہو اور وہ فعل اس ”كَمْ“ کی ضمیر میں مشغول نہیں، مشغول نہ ہو تو پھر یہ ”كَمْ“ منصوب ہوگا، اور منصوب پھر کیا ہوگا؟ مفعول بہ ہوگا، یا مفعول فیہ ہوگا، یا مفعول مطلق ہوگا، وہ اس ”كَمْ“ کی تمییز کو دیکھ کر پتہ چلے گا۔ اگر ”كَمْ“ کی تمییز جو ہے وہ مصدر ہے، کیا ہے؟ مصدر، تو مصدر تو کیا بنتا ہے؟ مفعول مطلق، تو یہ ”كَمْ“ بھی کیا بنے گا؟ مفعول مطلق۔ اگر ”كَمْ“ کے آگے کوئی ظرف کا صیغہ ہے جس میں زمانے اور جگہ والا معنی ہے، تو یہ ”كَمْ“ بھی کیا بنے گا؟ ظرف یعنی مفعول فیہ ہوگا، مفعول فیہ ہونے کی بناء پر منصوب ہوگا۔ اور اگر اس ”كَمْ“ کے بعد مصدر بھی نہیں اور ”كَمْ“ کے بعد ظرف بھی نہیں تو پھر یہ ”كَمْ“ مفعول بہ ہونے کی بناء پر منصوب ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً دیکھیے بھئی، میں کہتا ہوں: ”كَمْ يَوْمًا صُمْتُ؟“، ”صُمْتُ“ صاد کے ساتھ، صام يصوم کے معنی ہیں روزہ رکھنا، ”صُمْتُ“ میں نے روزہ رکھا، ہاں ”كَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“، جی کیا معنی ہوگا؟ ”كَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“، اپنے سے سوال کیا جاتا ہے یا خبر دی جاتی ہے؟ خبر۔ اور نیز تمییز بھی مجرور ہے، وہ بھی بتلا رہی ہے یہ ”كَمْ“ خبریہ ہے تو کیا ترجمہ کریں گے؟ ”كَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“، ”كَمْ“ تکثیر، کثرت بیان کرتا ہے جب خبر میں آئے، خبر میں آئے تو۔ میں نے بہت سے دن روزے رکھے، کثرت بیان کر رہا ہے نا، میں نے کتنے ہی دن روزے رکھے، ”كَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“۔ ترکیب بھئی: دیکھو ”كَمْ يَوْمٍ“ اور آگے ”صُمْتُ“، ”صُمْتُ“ کیا ہے؟ فعل، اور میں نے روزے رکھے، اور ماقبل میں کیا ہے؟ ”كَمْ“ کے بعد کیا ہے؟ ”كَمْ“ کے بعد ”يَوْمٍ“ کا لفظ ہے، اور ”يَوْمٍ“ کیا ہے؟ ظرف، تو معلوم ہوا یہ ”كَمْ“ بھی کیا بنے گا؟ ظرف۔ ترکیب کیسے ہوگی؟ ”كَمْ“ مبہم ممیز، آگے تمییز آ رہی ہے نا، تو ”كَمْ“ ممیز، ہاں اور اعراب اس کا محلاً آئے گا، ٹھیک ہے مبنی ہے۔ لیکن کیا ہوگا محلاً؟ منصوب، مجرور یا مرفوع؟ اگلے لفظ کو دیکھو، ”يَوْمٍ“ کیا ہے؟ ظرف، تو لہٰذا ”كَمْ“ بھی کیا بنے گا؟ ظرف، جی بناؤ مفعول فیہ بنے گا اور مفعول فیہ کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، تو بتاؤ: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، اور ”كَمْ يَوْمٍ“ ہے، ”كَمْ يَوْمٍ“، ”يَوْمٍ“ کا جر کیا بتلا رہا ہے کہ یہ ”كَمْ“ اس کی طرف مضاف ہے، ویسے تو جر تو دو ہی وجہ سے آتا ہے نا: یا حرف جر ہوگا، حرف جر تو یہاں کوئی نہیں، معلوم ہوا ”كَمْ“ کیا بن رہا ہے؟ مضاف۔ جی، تو کیسے کریں گے؟ ”كَمْ“ دوبارہ بتاؤ: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ٹھیک ہے؟ آگے ”يَوْمٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ، اور نیز یہی کیا ہے؟ تمییز بھی ہے۔ تو لہٰذا جب یہ تمییز ہے، اضافت ہو رہی ہے، اب بے شک آپ مبہم ممیز نہ بھی کہیں، لیکن خود آپ کو پتہ ہونا چاہیے یہ ”يَوْمٍ“ کیا ہے؟ اسی ”كَمْ“ کی تمییز ہے، اس سے ابہام کو دور کر رہی ہے۔ تو لہٰذا ذکر کر دیں تو زیادہ اچھی بات ہے تاکہ وضاحت ہو جائے پوری طرح۔ تو دوبارہ ذکر کریں: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”يَوْمٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ، تمییز۔ ”كَمْ“ اپنی تمییز سے مل کر یہ، ”كَمْ“ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر جو اس کی تمییز بھی ہے، تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ ہوا، کیونکہ نصب آپ نے ابھی بتایا ہے منصوب ہے، یہ مفعول فیہ ہوا آگے آنے والے فعل ”صُمْتُ“ کے لیے۔ اور ”صُمْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ مقدم ہے وہ، لیکن اس کو مقدم کہنے کی ضرورت نہیں، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا کیونکہ آپ خبر دے رہے ہیں۔ معنی کیا ہے ”كَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“؟ میں نے بہت سے دن روزے رکھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ طریقہ آیا؟ جی، تو اگلے لفظ کو آپ نے دیکھنا ہے۔ دوسری ترکیب: ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“، ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف۔ مبہم ممیز کہنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آگے یہ آپس میں مضاف مضاف الیہ بن رہے ہیں، آگے تمییز منصوب تو نہیں آ رہی، لیکن بہرحال ذکر کر دیں کہ تاکہ آپ کو پتہ چلے یہ آگے جو مضاف الیہ ہے وہ دراصل کیا ہے؟ اسی کی تمییز ہے، اسی کا معنی بیان کر رہا ہے بھئی۔ تو ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“، جی اب کوئی آپ سے پوچھے: یہ منصوب کیوں؟ آپ اگلے لفظ کو دیکھیں: ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“، یہ ”ضَرْبَةٍ“ کیا بتلا رہا ہے؟ یہ ”ضَرْبَةٌ“ مصدر ہے، مصدر ہے: ضَرَبْتُ ضَرْبَةً، جی۔ اور مصدر اسی فعل کا ہم معنی ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو مفعول مطلق کہتے ہیں۔ معلوم ہوا یہ ”كَمْ“ بھی کیا ہے؟ مفعول مطلق بنے گا۔ اب بتائیے: ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“، ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، اور ”ضَرْبَةٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ ہے اور تمییز ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول مطلق ہوا مابعد فعل کے لیے، اور ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، اور اس میں تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“۔ ترجمہ کیجیے: میں نے بہت سی ضربیں لگائیں۔ اپنے سے سوال نہیں ہوتا میں نے کتنی ضربیں، ہاں ہو بھی سکتا ہے بعض اوقات توجہ نہیں ہے، میں نے کتنا مارا بھئی؟ تو اپنے ساتھی سے پوچھتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو استفہام بھی ہو سکتا ہے، خبر بھی ہو سکتی ہے، متکلم کے بارے میں بھی اور اپنے بارے میں بھی، لیکن زیادہ مناسب یہ ہے جیسے کتاب میں یہ چل رہے ہیں، ہم اس کو کیا بناتے ہیں؟ ”كَمْ“ استفہامیہ ہوتا تو ہوتا ”كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتُ؟“، اور ہے ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“ تو یہ ”كَمْ“ خبریہ ہے، کیا معنی کریں گے؟ میں نے بہت سی ضربیں لگائیں۔ اور اگر یہ ہوتا ”كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتُ؟“، اب کیا ہوگی ترکیب؟ ”كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتُ“، وہی ترکیب ہے ساری: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، اب مضاف نہیں کہنا کیونکہ آگے مضاف الیہ نہیں آ رہا، ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، اور ”ضَرْبَةً“ منصوب لفظاً، تمییز، جی۔ مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر کیا بنے گا؟ مفعول مطلق، بنے گا وہی جو پہلے میں بیان کر چکا ہوں، مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مفعول مطلق ہوا ”ضَرَبْتُ“ فعل کے لیے، اور ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل اور مفعول مطلق، یہ سب مل کر کیا ہوا؟ جملہ استفہام ہے، جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، اور ترجمہ کیا ہوگا؟ میں نے کتنی ضربیں لگائیں؟ آپ پوچھ رہے ہیں بھئی، مثلاً آپ کی توجہ نہیں تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ترکیب آ گئی اچھی طرح؟ اب ایک اور ترکیب کیجیے: ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“، توجہ ہے؟ ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“، جی: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”كَمْ رَجُلٍ“ پڑھا یا ”كَمْ رَجُلًا“؟ ”كَمْ رَجُلٍ“۔ اچھا، تو ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، اور ”رَجُلٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ، تمییز۔ اور مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“، جی کیا بنے گا؟ یہ ”رَجُلٌ“، ”رَجُلٌ“ یہ تو مصدر بھی نہیں ہے، مفعول مطلق بھی نہیں بنتا، یہ ظرف بھی نہیں ہے، ظرف مفعول فیہ بھی نہیں بنتا، پھر کیا بنے گا؟ یہ مفعول بہ بنے گا۔ کتنے آدمیوں کی میں نے پٹائی کی، کتنے آدمیوں کی؟ معلوم ہوا آپ کی ضرب ان پر واقع ہوئی ہے تو وہ کیا بن گئے؟ مفعول بہ۔ جی، تو ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“، تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول بہ ہوا ”ضَرَبْتُ“ فعل کے لیے۔ ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، اس کے اندر تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“۔ ترجمہ کیجیے: میں نے کتنے ہی لوگوں کی، کتنے ہی آدمیوں کی پٹائی کی، یا اور واضح لفظوں میں کریں: میں نے بہت سے لوگوں کی پٹائی کی۔ اور اگر ہوتا ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتُ؟“، تو ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً، تمییز۔ مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ ”ضَرَبْتُ“ کے لیے۔ ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا کیونکہ سوال ہے اب، جی ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتُ؟“، اور ترجمہ کیا ہوگا؟ میں نے کتنے آدمیوں کی پٹائی کی؟ اب آپ سوال پوچھ رہے ہیں کسی سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ كَمْ فِي الْوَجْهَيْنِ يَقَعُ مَنْصُوبًا إِذَا كَانَ بَعْدَهُ فِعْلٌ غَيْرُ مُشْتَغِلٍ عَنْهُ بِضَمِيرِهِ“ جان لے تو کہ ”كَمْ“ دونوں صورتوں میں منصوب واقع ہوگا، دونوں صورتیں کون سی بھئی؟ چاہے ”كَمْ“ خبریہ ہو چاہے ”كَمْ“ استفہامیہ ہو۔ تو جان لے کہ ”كَمْ“ دونوں صورتوں میں، یعنی چاہے خبریہ ہو چاہے انشائیہ ہو ”يَقَعُ مَنْصُوبًا“ وہ منصوب واقع ہوگا ”إِذَا كَانَ بَعْدَهُ فِعْلٌ غَيْرُ مُشْتَغِلٍ عَنْهُ بِضَمِيرِهِ“ جبکہ ”كَمْ“ کے بعد ایک ایسا فعل ہو جو اس سے اعراض نہ کر رہا ہو اس کی ضمیر کی وجہ سے، جو اس میں اس سے اعراض نہ کر رہا ہو اس کی ضمیر کی وجہ سے۔ بھئی دیکھیے، ابھی جو مثال گزری: ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“، یہاں پر ”كَمْ رَجُلٍ“ کو کیا بنایا تھا؟ مفعول بہ، کیوں؟ کیونکہ ”ضَرَبْتُ“ کے آگے کوئی مفعول بہ نہیں تھا اور ”ضَرَبْتُ“ کے لیے مفعول بہ تو چاہیے۔ بعض اوقات آگے ضمیر آ جاتی ہے جو مفعول بہ بن رہی ہے جو اسی کو لوٹ رہی ہے، مثلاً ہوتا ہے: ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“۔ اب ”ضَرَبْتُهُ“ ہے تو ”ضَرَبْتُ“ تو ایک مفعول چاہتا ہے اور وہ ہا ضمیر آگے اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جب ہا ضمیر اور وہ ہا ضمیر اسی ”كَمْ رَجُلٍ“ کو راجع ہے۔ کس کو راجع؟ توجہ ہے؟ ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“، اب ”كَمْ“ کے بعد دیکھو ”ضَرَبْتُ“ فعل آ رہا ہے لیکن وہ فعل اب ”كَمْ رَجُلٍ“ میں عمل نہیں کر سکتا۔ کیوں نہیں کر سکتا؟ کیونکہ وہ فعل اس ”كَمْ رَجُلٍ“ سے اعراض کر رہا ہے، اس سے منہ موڑ رہا ہے۔ بھئی، کیوں منہ موڑ رہا ہے؟ کیونکہ اس کے لیے ایک مفعول چاہیے تھا اور وہ مفعول آگے اسی کے ساتھ جو ضمیر جڑی ہوئی ہے وہ مفعول ہے۔ تو جب وہ اس میں عمل کر رہا ہے تو دوسرے مفعول کو تو یہ نصب دے ہی نہیں سکتا، یہ تو صرف ایک ہی مفعول کو کیا کرتا ہے؟ نصب دیتا ہے۔ تو دیکھا، اب وہ آگے آنے والا فعل کیا ہے؟ اسی ”كَمْ رَجُلٍ“ کی ضمیر میں عمل کر رہا ہے اور اس کی ضمیر میں عمل کرنے کی وجہ سے وہ اس ”كَمْ رَجُلٍ“ سے یوں کہیں گے منہ موڑ رہا ہے، اس میں عمل نہیں کر سکتا، اس سے وہ اعراض کر رہا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اشتغل کا معنی ہوتا ہے کسی چیز میں مشغول ہونا، اور اس کا صلہ ”عَنْ“ آ جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے منہ موڑنا، اعراض کرنا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جیسے ابھی میں ترکیب ذکر کر رہا تھا: ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“، اب تو ”ضَرَبْتُ“ کے لیے ”كَمْ رَجُلٍ“ کو مفعول نہیں بنا سکتے، اب ترکیب بدل جائے گی کیونکہ ”ضَرَبْتُ“ کیا کر رہا ہے؟ ”كَمْ رَجُلٍ“ کو نصب، توجہ نہیں ہے میرا خیال آپ کی: ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“۔ ابھی تک آپ نے کیا ترکیب کی تھی؟ ”كَمْ“ کو منصوب بنایا تھا، لیکن اب یہاں ”كَمْ رَجُلٍ“ کو منصوب نہیں بنا سکتے۔ کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیونکہ ”ضَرَبْتُ“ کے لیے مفعول چاہیے تھا، وہ اس ”كَمْ رَجُلٍ“ کو اپنا مفعول بنا ہی نہیں سکتا، آگے اس کے بعد کیا آ رہی ہے؟ ضمیر، وہ اس کو مفعول بنا رہا ہے، تو پھر اس صورت میں ترکیب ہی بدل جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس صورت کو نکالنے کے لیے انہوں نے قید بڑھا دی کہ جب کہ ”كَمْ“ دونوں صورتوں میں منصوب ہوگا ”إِذَا كَانَ بَعْدَهُ فِعْلٌ غَيْرُ مُشْتَغِلٍ عَنْهُ بِضَمِيرِهِ“ جبکہ اس کے بعد ایسا فعل ہو جو اس سے منہ نہ موڑ رہا ہو۔ اشتغل کا صلہ کیا ہے؟ ”عَنْ“، اور اشتغل کا معنی ہوتا ہے کسی چیز میں مشغول ہونا، لیکن جب اس کا صلہ ”عَنْ“ آ جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے اس چیز سے منہ موڑنا، جبکہ اس کے بعد ایسا فعل ہو جو اس سے منہ نہ موڑ رہا ہو ”بِضَمِيرِهِ“ اس کی ضمیر کی وجہ سے۔ بعض اوقات ضمیر آئے گی پھر وہ منہ موڑے گا، پھر وہ ”كَمْ“ منصوب نہیں ہوگا بھئی۔ تو اس صورت کو نکالنے کے لیے یہ قید بڑھا دی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ دیکھیں، کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ كَمْ فِي الْوَجْهَيْنِ يَقَعُ مَنْصُوبًا إِذَا كَانَ بَعْدَهُ فِعْلٌ غَيْرُ مُشْتَغِلٍ عَنْهُ بِضَمِيرِهِ“ جان لے تو کہ ”كَمْ“ جو ہے دونوں صورتوں میں، یعنی چاہے انشائیہ ہو چاہے خبریہ ہو، وہ منصوب واقع ہوگا جبکہ اس کے بعد ایسا فعل ہو جو اس سے منہ نہ موڑ رہا ہو، جو اس سے اعراض نہ کر رہا ہو اس کی ضمیر کی وجہ سے، ”نَحْوُ: كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتَ؟ وَكَمْ غُلَامٍ مَلَكْتُ، مَفْعُولًا بِهِ“ اس حال میں کہ یہ کیا ہے ”كَمْ“؟ ان دونوں مثالوں میں مفعول بہ ہے، ”وَنَحْوُ: كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتَ؟ وَكَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ، مَصْدَرًا“ اس حال میں کہ ان دونوں مثالوں میں ”كَمْ“ کیا ہے؟ مصدر ہے یعنی مفعول مطلق ہے، ”وَكَمْ يَوْمًا سِرْتَ؟ وَكَمْ يَوْمٍ صُمْتُ، مَفْعُولًا فِيهِ“ اس حال میں کہ ان دونوں مثالوں میں ”كَمْ“ کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے۔ جی، ترکیب کیجیے۔ ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتُ“، دیکھا؟ ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتُهُ“ ہوتا تو پھر ”كَمْ“ نے منصوب نہیں ہونا تھا، ہاں لیکن اب یہ صرف نصب والی مثالیں ہیں ساری بھئی، جی: ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتُ“۔ تو ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتُ“ کر لیں، معنی کیا ہوگا؟ میں نے کتنے آدمیوں کی پٹائی کی، اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ مخاطب والا صیغہ بنا لیں: ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتَ؟“۔ جی، ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتَ؟“، اب ترکیب جلدی جلدی کیجیے: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً، تمییز۔ مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مفعول بہ ہوا ”ضَرَبْتَ“ فعل کے لیے۔ ”ضَرَبْتَ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، جی۔ تو معنی کیا ہوگا؟ میں نے کتنے لوگوں کی پٹائی کی، ہاں ”ضَرَبْتَ“ چلیں، ”ضَرَبْتُ“ جو ہے وہی کر لیں۔ ”كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتُ؟“، جی ترجمہ کیا ہوا؟ میں نے کتنے مردوں کی پٹائی کی؟ آپ سوال پوچھ رہے ہیں کسی سے۔ ”وَكَمْ غُلَامٍ مَلَكْتُ“، جی ترکیب کیجیے: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”غُلَامٍ“ مجرور لفظاً، تمییز مضاف الیہ۔ جی، مبہم ممیز مضاف اپنی تمییز مضاف الیہ سے مل کر مفعول بہ ہوا ”مَلَكْتُ“ فعل کے لیے۔ اگر ”مَلَكْتُهُ“ ہوتا تو پھر یہ ترکیب نہیں ہونی تھی۔ تو ”مَلَكْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”كَمْ غُلَامٍ مَلَكْتُ“، جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بھئی، انشائیہ میں ”غُلَامًا“ ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معنی کرو: ”كَمْ غُلَامٍ مَلَكْتُ“۔ کیا مشکل ہے؟ کیا مشکل ہے؟ مجھے یہ تو بتاؤ ایسے سوچ میں ڈوب جاتے ہو جیسے متوسطہ والے ہو۔ ہاں، بھئی عربی تو اردو جیسے لفظ ہوتے ہیں، خود ترجمہ کر لیا کرو: ”كَمْ غُلَامٍ مَلَكْتُ“ میں بہت سے غلاموں کا مالک ہوں بھئی۔ ”مَفْعُولًا بِهِ“ اس حال میں کہ ان دونوں مثالوں میں ”كَمْ“ منصوب ہے کس بناء پر؟ مفعول بہ ہونے کی بناء پر۔ ”وَنَحْوُ: كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتَ؟ وَكَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“، جی ترکیب کیجیے: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، ”ضَرْبَةً“ منصوب لفظاً، تمییز۔ مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مفعول مطلق ہوا، شاباش ”ضَرْبَةً“ سے آپ کو پتہ چل گیا، مفعول مطلق ہوا ”ضَرَبْتَ“ فعل کے لیے۔ ”ضَرَبْتَ“ فعل با فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا کیونکہ منصوب آئی ہے تمییز۔ اچھا، ”وَكَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“، اچھا ترجمہ کیجیے ”كَمْ ضَرْبَةً ضَرَبْتَ؟“: تو نے کتنی پٹائی کی، کتنی ضربیں لگائیں۔ ”وَكَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”ضَرْبَةٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ، تمییز۔ مبہم ممیز مضاف اپنی تمییز مضاف الیہ سے مل کر، بلکہ بس ایک دفعہ مبہم ممیز اور تمییز کہہ دیا اب اس کو بار بار نہ ذکر کریں، ٹھیک ہے؟ بس آپ کو پتہ چل گیا۔ تو ”كَمْ“ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول مطلق ہوا ”ضَرَبْتُ“ فعل کے لیے، تو ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، ”ضَرْبَةٍ“ ہے بھئی ”ضَرْبَةٍ“ ہے۔ ترجمہ کیجیے ”كَمْ ضَرْبَةٍ ضَرَبْتُ“: میں نے بہت سی ضربیں لگائیں۔ ”مَصْدَرًا“ اس حال میں کہ ان دونوں مثالوں میں ”كَمْ“ کیا ہے؟ مصدر ہے۔ ”وَكَمْ يَوْمًا سِرْتَ؟“، سار یسیر کے معنی ہوتے ہیں چلنے کے۔ ”كَمْ يَوْمًا سِرْتَ؟“ ترجمہ کیجیے: تو کتنے دن چلا؟ سار یسیر کے معنی چلنا۔ جی، ترکیب کیجیے: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، ”يَوْمًا“ منصوب لفظاً، تمییز۔ مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مفعول فیہ ہوا ”سِرْتَ“ فعل کے لیے، ”سِرْتَ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا: تو کتنے دن چلا؟ ”وَكَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“، صام يصوم کا معنی روزہ رکھنا۔ ہاں، یہ ”يَوْمًا“ نہیں ہونا چاہیے بھئی، ”يَوْمٍ“ ہونا چاہیے: ”كَمْ يَوْمٍ“، کیونکہ ایک خبریہ کی مثال چل رہی ہے اور ایک انشائیہ کی، تو ”كَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“۔ جی، ترکیب کیجیے: ”كَمْ“ منصوب محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”يَوْمٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ، تمییز۔ ہاں، بس اب دوبارہ مبہم ممیز تمییز کی ضرورت نہیں۔ جی، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ ”صُمْتُ“ کے لیے، ”صُمْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا: ”كَمْ يَوْمٍ صُمْتُ“، کیا معنی؟ میں نے بہت سے دن روزے رکھے، ”مَفْعُولًا فِيهِ“ اس حال میں کہ ان دونوں مثالوں میں ”كَمْ“ کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے۔ بھئی، یہ تو وہ صورتیں تھیں جب ”كَمْ“ منصوب تھا۔ جتنی مثالیں گزریں سب میں ”كَمْ“ کیا تھا؟ منصوب۔ ”وَمَجْرُورًا“ اور ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مجرور واقع ہوگا، ”إِذَا كَانَ قَبْلَهُ حَرْفُ جَرٍّ أَوْ مُضَافٌ“ جبکہ ”كَمْ“ سے پہلے حرف جر ہو یا مضاف ہو، ”نَحْوُ: بِكَمْ رَجُلًا مَرَرْتَ؟“ ”بِكَمْ رَجُلًا مَرَرْتَ؟“ تو کتنے آدمیوں پر گزرا؟ ”وَعَلَى كَمْ رَجُلٍ حَكَمْتُ“ اور بہت سے لوگوں پر میں نے فیصلہ کیا، اور بہت سے لوگوں پر میں نے حکم چلایا۔ جی، ترکیب کیجیے: ”بِكَمْ رَجُلًا مَرَرْتَ؟“، با جارہ، ”كَمْ“ مجرور محلاً، ہاں اب مجرور ہوگا کیونکہ با جارہ آ گئی، ”كَمْ“ مجرور محلاً، مبہم ممیز، ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً، تمییز، مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مجرور ہوا با جارہ کے لیے۔ اب وہ مفعول مطلق وغیرہ نہیں بنانا، اب با جارہ داخل ہو گئی ہے، اب یہ مجرور ہوا با جارہ کے لیے۔ جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا، ہاں ”ثَبَتَ“ سے کیا ضرورت ہے جب ”مَرَرْتَ“ خود موجود ہے، جار مجرور مل کر متعلق ”مَرَرْتَ“ فعل سے، فعل اپنے، اچھا ”مَرَرْتَ“ فعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، یہ ”رَجُلًا“ کا نصب بتلا رہا ہے یہ انشاء ہے، سوال ہے بھئی۔ ”بِكَمْ رَجُلًا مَرَرْتَ؟“ کتنے آدمیوں پر تو گزرا؟ ”وَعَلَى كَمْ رَجُلٍ حَكَمْتُ“، جی: علی جارہ، ”كَمْ“ مجرور محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”رَجُلٍ“ مجرور لفظاً، تمییز مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”حَكَمْتُ“ فعل سے، ”حَكَمْتُ“ فعل با فاعل، تو فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، خبریہ کہ انشائیہ؟ خبریہ۔ کیسے پتہ چلا؟ ”رَجُلٍ“ سے، شاباش۔ تو جملہ فعلیہ خبریہ ہوا: کتنے ہی لوگوں پر میں نے حکم چلایا، یا کتنے لوگوں پر میں نے فیصلہ کیا۔ ”وَغُلَامَ كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتَ؟“ جی: ”غُلَامَ“ منصوب لفظاً، مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ ”ضَرَبْتَ“ کے لیے یہ مفعول بن رہا ہے، پہلے ”كَمْ“ بن رہا تھا نا مفعول، اب یہ ”غُلَامَ“ مفعول بن رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”غُلَامَ“ منصوب، وہ دوبارہ بولیں: ”غُلَامَ كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتَ؟“، ”غُلَامَ“ منصوب لفظاً، مضاف، ”كَمْ“ مجرور محلاً، مضاف الیہ مضاف، ”رَجُلًا“ ہاں ہاں ”كَمْ“ مجرور محلاً، مبہم ممیز، ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً، تمییز، مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ ”ضَرَبْتَ“ فعل کے لیے۔ ”ضَرَبْتَ“ فعل با فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، شاباش۔ ترجمہ کیجیے ”غُلَامَ كَمْ رَجُلًا ضَرَبْتَ؟“: ہاں، ”كَمْ رَجُلًا“ کتنے لوگ، ”غُلَامَ كَمْ رَجُلًا“ کتنے لوگوں کے غلام، ”ضَرَبْتَ“ تو نے ان کی پٹائی کی، تو نے کتنے لوگوں کے غلاموں کی پٹائی کی؟ سوال پوچھا جا رہا ہے۔ ”وَمَالَ كَمْ رَجُلٍ سَلَبْتُ“، سلب کا معنی ہوتا ہے چھیننا۔ ”وَمَالَ كَمْ رَجُلٍ سَلَبْتُ“ میں نے بہت سے مردوں کا مال سلب کیا، چھینا۔ جی ترکیب کیجیے: ”مَالَ“ منصوب لفظاً، مضاف، منصوب کیوں؟ مفعول بہ ہے، شاباش۔ اچھا، اور مضاف، آگے ”كَمْ“ منصوب، منصوب کیوں؟ ”كَمْ“ مجرور کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ ”كَمْ“ مجرور محلاً، مضاف الیہ، مضاف، اگلے کے لیے پھر یہ مضاف ہے نا، جی اور ”رَجُلٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا ”مَالَ“ کے لیے، ”مَالَ“ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا ”سَلَبْتُ“ فعل کے لیے، ”سَلَبْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، خبریہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ ”رَجُلٍ“ سے، شاباش۔ ترجمہ کیجیے: میں نے بہت سے لوگوں کا مال چھین لیا۔ بھئی، یہ تو وہ صورتیں تھیں جب ”كَمْ“ مجرور تھا۔ پہلی صورت کیا گزری: ”كَمْ“ منصوب، باقی اب مثالیں جو گزریں ان میں ”كَمْ“ مجرور تھا۔ اب ”وَمَرْفُوعًا“ اور ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، کب؟ ”إِذَا لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرَيْنِ“ جب ان دونوں چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ہو۔ ”كَمْ“ مرفوع ہوگا جب ان دونوں چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ہو، کون سی دو چیزیں؟ جو ماقبل میں دو صورتیں گزریں: ایک نصب والی اور ایک جر والی، ان دونوں میں سے کوئی صورت نہ ہو تو پھر ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا بھئی۔ اس میں پھر کیا کیا آ گیا؟ ایک صورت تو یہ: ”كَمْ“ کے بعد فعل آیا ہی نہیں۔ یا فعل تو آیا لیکن وہ فعل کیا ہے؟ اس کی ضمیر میں مشغول ہے، وہ اس کو نصب دے ہی نہیں سکتا۔ جب نصب نہیں دے سکتا تو پھر اس پر رفع ہی پڑھنا پڑے گا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو دو صورتیں اب آئیں گی بھئی جی، جب پہلی دو صورتیں نہ ہوں، یعنی نصب اور جر والی صورت نہ ہو تو پھر ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مرفوع۔ اب مرفوع ہونے میں پھر دو صورتیں ہوں گی: کبھی یہ مرفوع ہوگا مبتدا ہونے کی بناء پر اور کبھی مرفوع ہوگا خبر ہونے کی بناء پر۔ توجہ ہے؟ مرفوع ہوگا کبھی مبتدا اور کبھی خبر ہونے کی، تو مبتدا کب ہوگا اور خبر کب ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی: خبر تب ہوگا جب ”كَمْ“ کے بعد ظرف کا صیغہ آ جائے، کیا آ جائے؟ ظرف کا صیغہ آ جائے، اور ظرف تو آپ جانتے ہیں وہ مبتدا نہیں بن سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو پھر کیا کریں گے؟ نصب بھی نہیں دے سکتے، پڑھنا تو رفع ہی ہے کیونکہ نصب والی صورت نہیں ہے، پڑھنا کیا ہے؟ رفع ہی ہے۔ تو پھر مبتدا بھی نہیں بنا سکتے تو پھر کیا بنا دیں گے؟ خبر بنا دیں گے۔ اور اگر ”كَمْ“ کے بعد ظرف نہیں ہے تو پھر مبتدا ہی بنا دو۔ توجہ ہے؟ نصب اور جر والی صورت نہ ہو تو ”كَمْ“ پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع۔ اب رفع مبتدا ہونے کی بناء پر بھی ہو سکتا ہے اور خبر ہونے کی بناء پر بھی ہو سکتا ہے۔ خبر کب ہوگا؟ بس اتنا سمجھ لو، کہتے ہیں: خبر تب ہوگا جب وہ جو نصب اور جر والی صورت بھی نہ ہو اور ”كَمْ“ کے بعد کیا آ جائے؟ ظرف آ جائے، تو بس پھر یہ مرفوع تو ہوگا لیکن خبر ہونے کی بناء پر ہوگا، مبتدا ہونے کی بناء پر نہیں۔ اور اگر ظرف نہیں ہے اس کے بعد تو پھر یہ مرفوع ہوگا مبتدا ہونے کی بناء پر، صورت سمجھ میں۔ اس میں بھی دو صورتیں بنیں گی: ”كَمْ“ کے بعد یا تو سرے سے فعل آئے گا ہی نہیں، یا فعل تو آئے گا لیکن وہ کیا ہوگا؟ اس کی ضمیر میں مشغول ہوگا۔ دیکھو آگے مثالیں آ رہی ہیں، ان شاء اللہ وہ خوب واضح ہو جائے گی ترکیب۔ کہتے ہیں: ”وَمَرْفُوعًا“ اور ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، ”إِذَا لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرَيْنِ“ جب کہ ان دو امور، ان دو چیزوں میں سے کوئی چیز بھی نہ ہو۔ اور پھر مرفوع کیوں ہوگا؟ ”مُبْتَدَأً“ کس بناء پر؟ مبتدا ہونے کی بناء پر، ”إِنْ لَمْ يَكُنْ ظَرْفًا“ اگر وہ ظرف نہ ہو۔ آگے آ رہا ہے چند لفظوں کے بعد: ”وَخَبَرًا“ اور مرفوع ہوگا خبر ہونے کی بناء پر، توجہ ہے؟ خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہوگا ”إِنْ كَانَ ظَرْفًا“ اگر ”كَمْ“ کیا ہو؟ ظرف ہو۔ جی، اب درمیان میں مثالیں ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: مبتدا ہونے کی بناء پر ”إِنْ لَمْ يَكُنْ ظَرْفًا“ اگر یہ ظرف نہ ہو، ”نَحْوُ: كَمْ رَجُلًا أَخُوكَ؟“ دیکھا؟ ”كَمْ رَجُلًا“ کے بعد سرے سے فعل آیا ہی نہیں۔ جی، اب ترکیب کیجیے، ترکیب انہوں نے آپ کو بتا دی: ”كَمْ“ مرفوع محلاً، شاباش مرفوع کیونکہ بتایا تو ہے، اور ”كَمْ“ کے بعد ”رَجُلًا“ یہ ظرف ہے؟ ظرف نہیں ہے تو معلوم ہوا یہ مبتدا ہونے کی بناء پر ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مرفوع۔ تو ”كَمْ“ مرفوع محلاً، مبہم ممیز، ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً، تمییز۔ مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر مبتدا، اور ”أَخُوكَ“: ”أَخُو“ مضاف، اعراب بھئی: مرفوع لفظاً، مضاف، مرفوع کیوں؟ خبر ہے، مبتدا کے لیے کیا چاہیے؟ خبر، اور خبر مرفوع ہوتی ہے، تو ”أَخُو“ مرفوع لفظاً، مضاف، خبر ہونے کی بناء پر، اور کاف مجرور محلاً، مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا، کیسے پتہ چلا؟ ”رَجُلًا“ سے بھئی۔ ترجمہ کیجیے: ”كَمْ رَجُلًا أَخُوكَ؟“: ”كَمْ رَجُلًا“ کتنے آدمی، ”أَخُوكَ“ تیرے بھئی ہیں، کتنے آدمی تیرے بھئی ہیں؟ ”وَكَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“، یہ دوسری مثال آ گئی، اس میں دیکھو ”كَمْ“ کے بعد آگے فعل آیا ہے لیکن وہ فعل اس ”كَمْ“ کو نصب نہیں دے سکتا کیونکہ فعل کے خود بعد کیا آ رہی ہے؟ ضمیر ہے، وہ اس کو نصب دے رہا ہے، اور وہ اسی ”كَمْ“ کو راجع ہے ضمیر۔ جی: ”كَمْ“ مرفوع محلاً، مبہم ممیز، مضاف، ”رَجُلٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، مبتدا۔ ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے ہا ضمیر، ہا ضمیر منصوب محلاً، مفعول بہ، جی جو کس کو راجع؟ ”كَمْ رَجُلٍ“ کو راجع، یہ عائد آ گیا، اس کے بغیر خبر نہیں بن سکتا تھا جملہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھو، یہ ہا ضمیر ”كَمْ رَجُلٍ“ کو راجع، تو یہ ”ضَرَبْتُ“ یہ ”كَمْ رَجُلٍ“ میں عمل نہیں کر سکتا، کیوں؟ کیونکہ وہ اسی کی ضمیر میں کیا کر رہا ہے؟ عمل کر رہا ہے، توجہ ہے؟ تو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ترجمہ کیجیے ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“: میں نے بہت سے مردوں کی پٹائی کی، ترجمہ وہی ہوگا جو پہلے تھا ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“ اور ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“، دونوں میں ایک ہی بات ہے۔ ”وَخَبَرًا“ اور ”كَمْ“ مرفوع ہوگا خبر ہونے کی بناء پر ”إِنْ كَانَ ظَرْفًا“ اگر ”كَمْ“ کیا ہو؟ ظرف ہو۔ ”نَحْوُ: كَمْ يَوْمًا سَفَرُكَ؟“ دیکھا؟ ”كَمْ“ کے بعد ظرف ہے اور آگے فعل سرے سے آیا ہی نہیں، فعل آتا تو یہ مفعول فیہ بھی بن سکتا تھا، پھر ”كَمْ“ نے کیا ہونا تھا؟ منصوب، تو اب یہ مفعول فیہ، توجہ ہے؟ ”كَمْ“ کے بعد اگر فعل ہوتا تو یہ ”يَوْمًا“ کی وجہ سے ”كَمْ“ کیا بنتا؟ مفعول فیہ، لیکن اب تو فعل ہے ہی نہیں تو مفعول فیہ بنے گا ہی نہیں۔ تو پھر اس ”كَمْ“ نے مرفوع ہونا ہے، اور مرفوع ہونے میں دو صورتیں تھیں: یا تو وہ مبتدا ہوگا یا خبر، اور یہاں کیا ہوگا؟ خبر، کیونکہ اس کے بعد کیا ہے؟ ظرف ہے بھئی، ظرف ہے، جی: ”كَمْ“ مرفوع محلاً، مبہم ممیز، ”يَوْمًا“ منصوب لفظاً، تمییز۔ مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر خبر مقدم، بتایا تو ہے یہ کیا ہوگا؟ خبر، یہ خبر مقدم۔ اور ”سَفَرُكَ“: ”سَفَرُ“ اعراب بھئی: مرفوع لفظاً، مضاف، مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے، شاباش، کیونکہ خبر گزر گئی۔ مبتدا، اور کاف ضمیر مجرور محلاً، مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدائے مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا، ترجمہ کیجیے: ”كَمْ يَوْمًا سَفَرُكَ؟“، ایک ایک لفظ کے معنی، ایک ایک لفظ کا معنی آپ کو سمجھ میں آ رہا ہے: تمہارا سفر کتنے دن کا ہے؟ ”وَكَمْ شَهْرٍ صَوْمِي“، دیکھا؟ ”كَمْ“ کے بعد شہر، مہینے کا ذکر آیا، اور مہینہ کیا ہے؟ زمانہ، ظرف ہے، تو یہ اب، اور آگے ”صَوْمِي“ فعل آ ہی نہیں رہا بھئی، فعل آتا تو یہ مفعول فیہ بن جاتا، معلوم ہوا یہ مرفوع ہے، اور پھر مرفوع کس بناء پر ہے؟ خبر ہونے۔ جی، ترکیب کیجیے: ”كَمْ“ مرفوع محلاً، مضاف، ”شَهْرٍ“ مجرور لفظاً، مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر مقدم، اور ”صَوْمِي“ جی اب پتہ چلے گا بھئی: ”صَوْمِي“ اعراب بتاؤ: ”صَوْمِي“ مرفوع، مرفوع محلاً کیوں؟ مرفوع کیوں؟ شاباش، اتنا تو پتہ چل گیا یہ ہے مبتدا، کیونکہ ماقبل میں ابھی انہوں نے بتایا وہ خبر ہے۔ پھر کون سا مرفوع ہے؟ آپ کو میں نے بتایا تھا: جب بھی کوئی اسم مضاف ہو جائے یائے متکلم کی طرف، علاوہ جمع مذکر سالم، اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیا ہوتا ہے؟ تقدیری۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیں، یہ اعراب ہمیشہ انسان کو پریشان کرتا ہے، جب بھی کسی اسم کے ساتھ یائے متکلم آ جائے تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیا ہوگا؟ تقدیری، علاوہ جمع مذکر سالم کے۔ تو ”صَوْمِي“ مرفوع تقدیراً، مضاف، اور یا ضمیر مجرور محلاً، مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدائے مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ”كَمْ شَهْرٍ صَوْمِي“ ترجمہ کیجیے: کتنے ہی مہینے میرا روزہ ہے، میرا روزہ تھا، یعنی میں نے بہت سے مہینے روزہ رکھا بھئی۔ تو حاصل کلام یہ ہوا کہ ”كَمْ“ جو ہے اس کا کیا اعراب ہوگا، انہوں نے آپ کو پہچان کروا دی بھئی۔ یہ ”كَمْ“ ہے تو مبنی، محلاً اس پر اعراب آئے گا، لیکن محلاً اس پر رفع ہوگا، نصب ہوگا یا جر ہوگا، یہ تینوں صورتیں انہوں نے آپ کے سامنے بیان کر دیں۔ اور خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ ”كَمْ“ جو ہے اس کے بعد آگے کوئی فعل آئے گا یا فعل نہیں آئے گا بھئی۔ اگر ”كَمْ“ کے بعد فعل نہ ہوا، توجہ ہے بھئی؟ خلاصہ میں بیان کر رہا ہوں اپنے لفظوں میں بھئی کہ ”كَمْ“ کے بعد آگے کوئی فعل ہوگا یا فعل نہیں بھئی؟ اولاً تو ”كَمْ“ کے بعد اس کی تمییز آتی ہے، اس کے بعد کی بات کر رہا ہوں کہ تمییز کے بعد آگے کوئی فعل ہوگا یا فعل نہیں؟ تو ”كَمْ“ کے بعد اگر آگے فعل نہ ہو تو پھر ”كَمْ“ مرفوع ہوگا۔ اور یہ ”كَمْ“ مرفوع ہو سکتا ہے مبتدا ہونے کی بناء پر بھی اور خبر ہونے کی بناء پر بھی۔ مبتدا تب ہوگا جب اس کے بعد جو تمییز ہے وہ ظرف نہ ہو، اور اس کے بعد اگر تمییز جو ظرف ہے تو پھر ”كَمْ“ مرفوع ہوگا خبر مقدم، خبر مقدم ہونے کی وجہ سے بھئی۔ اور اگر ”كَمْ“ کے بعد فعل آئے تو پھر دیکھیں کہ وہ فعل اسی ”كَمْ“ کی ضمیر میں مشغول تو نہیں؟ اگر وہ اسی ”كَمْ“ کی ضمیر میں مشغول ہے تو پھر وہ ”كَمْ“ میں عمل نہیں کر سکتا، جب ”كَمْ“ میں عمل نہیں کر سکتا تو اس صورت میں ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، مرفوع بھئی۔ اس صورت میں ”كَمْ“ مرفوع ہوگا بھئی مبتدا ہونے کی بناء پر بھئی، جیسے مثال گزر گئی بھئی: ”كَمْ رَجُلٍ ضَرَبْتُهُ“ بھئی۔ تو یہاں ”كَمْ“ کے بعد فعل تو آ رہا ہے لیکن وہ فعل اسی ”كَمْ“ کی ضمیر میں مشغول ہے، وہ اس ”كَمْ“ میں عمل نہیں کر سکتا تو ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا مبتدا ہونے کی بناء پر بھئی۔ اور اگر ”كَمْ“ کے بعد فعل آیا لیکن وہ فعل اس کی ضمیر میں مشغول نہیں، جب ”كَمْ“ کی ضمیر میں مشغول نہیں تو اس صورت میں ”كَمْ“ منصوب ہوگا بھئی، ”كَمْ“ منصوب ہوگا۔ اور پھر منصوب ہونے کی صورت میں وہ مفعول بہ بھی ہو سکتا ہے، وہ مفعول فیہ یعنی ظرف بھی ہو سکتا ہے اور وہ مفعول مطلق بھی ہو سکتا ہے۔ اب اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ وہ ”كَمْ“ کے بعد آنے والی تمییز سے پتہ چلے گا۔ ”كَمْ“ کی تمییز اگر ظرف ہے تو یہ ”كَمْ“ کیا بنے گا؟ مفعول فیہ۔ اگر ”كَمْ“ کے بعد آنے والی تمییز جو ہے وہ اسی فعل کا مصدر ہے تو پھر اس صورت میں ”كَمْ“ مفعول مطلق بنے گا، ورنہ پھر ”كَمْ“ کیا بنے گا؟ مفعول بہ بنے گا، منصوب ہوگا ان تمام صورتوں میں۔ اور اگر ”كَمْ“ سے پہلے حرف جر آ جائے یا مضاف آ جائے تو پھر اس صورت میں ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ مجرور ہوگا بھئی، یہ تھا بھئی خلاصۂ کلام بھئی۔ تو اولاً انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ ”كَمْ“ دو قسم پر ہے: ایک ”كَمْ“ استفہامیہ اور ایک ”كَمْ“ خبریہ۔ اور ”كَمْ“ استفہامیہ اور خبریہ کا پتہ ان کی تمییز سے چلے گا۔ بعض اوقات اور بھی قرینے ہوں گے اور عموماً اس کی تمییز سے ہی اولاً آپ کو پتہ چل جائے گا بھئی۔ اگر تمییز منصوب ہوئی تو معلوم ہوا یہ ”كَمْ“ استفہامیہ ہے، اور اگر تمییز جو ہے مجرور ہوئی تو معلوم ہوا یہ ”كَمْ“ خبریہ ہے۔ پھر جو تمییز مجرور ہے ”كَمْ“ خبریہ میں، یہ مفرد مجرور بھی آ سکتی ہے اور جمع مجرور بھی۔ اور کبھی تمییز سے پتہ نہیں چلتا، پھر کوئی قرینہ وغیرہ بتلا دے گا۔ مثلاً ”كَمْ“ کے بعد کبھی ”مِنْ“ زائد آ جاتا ہے اور تمییز ”مِنْ“ کے بعد چلی جاتی ہے، اب تمییز لفظوں کے اعتبار سے مجرور ہے: ”كَمْ مِنْ رَجُلٍ“، ”كَمْ مِنْ رَجُلٍ ضَرَبْتُ“۔ اب دیکھیے، یہاں پتہ نہیں چل رہا کہ ”كَمْ“ کون سا ہے، تو استفہامیہ میں بھی ”مِنْ“ آ جاتا ہے اور خبریہ میں بھی ”مِنْ“ آ جاتا ہے، جب ”مِنْ“ آئے گا وہ تو جر دے دے گا۔ اب ہمیں کیسے پتہ چلے گا؟ تو یاد رکھیے، پھر اس صورت میں کوئی قرینہ وہاں موجود ہوتا ہے، گفتگو میں بات چیت وغیرہ سے دوسرے کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس وقت سوال پوچھا جا رہا ہے یا اس وقت خبر دی جا رہی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قرینے بعض چیزوں کا قرینوں سے پتہ چلتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”زید وہاں گیا تھا۔ زید لاہور گیا تھا۔“ تو یہ سوال ہے یا خبر ہے؟ جواب: یہ خبر ہے، میں آپ کو بتلا رہا ہوں: ”زید لاہور گیا تھا۔“ لیکن یہی جملہ میں کہتا ہوں: ”زید لاہور گیا تھا؟“ اب فوراً سوال بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض اوقات اور قرینے ہوتے ہیں جو اسی جملے پہ دلالت کر دیتے ہیں کہ اس وقت مراد استفہام ہے یا مراد خبر ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ ”كَمْ“ مبنی ہے، اس کا اعراب محلاً آئے گا، تو لفظوں سے پتہ نہیں چلے گا کہ اس پر رفع ہے، نصب ہے یا جر۔ تو اس کا اعراب کیا ہوگا؟ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ”كَمْ“ منصوب بھی ہو سکتا ہے، مرفوع بھی ہو سکتا ہے اور مجرور بھی ہو سکتا ہے۔ مجرور تب ہوگا جب اس پر حرف جر داخل ہو یا اس پر مضاف داخل ہو، تو یہ مضاف الیہ بنے گا اور مجرور ہوگا محلاً۔ اور مرفوع، مرفوع یہ ہوگا مبتدا ہونے کی بناء پر یا خبر ہونے کی بناء پر، خبر ہونے کی بناء پر۔ اور منصوب، منصوب یہ مفعول بہ بھی ہو سکتا ہے، یہ مفعول مطلق بھی ہو سکتا ہے اور مفعول فیہ یعنی ظرف بھی ہو سکتا ہے، ظرف بھی ہو سکتا ہے۔ اور پھر ہمیں پتہ کیسے چلے گا؟ انہوں نے آپ کو طریقہ بتلا دیا: مجرور کا تو آپ کو پتہ چل گیا، مجرور کب ہوگا؟ جب اس پر حرف جر ہو یا مضاف اس پر مضاف داخل ہو بھئی، تب مجرور ہوگا۔ اب مرفوع اور منصوب کا پتہ کیسے چلائیں گے؟ تو یاد رکھیے کہ ”كَمْ“ کے بعد تو تمییز آئے گی، تمییز آئے گی، اور تمییز کے بعد آگے دیکھیں کہ کوئی فعل آ رہا ہے یا فعل نہیں آ رہا۔ اگر مابعد میں فعل نہیں آ رہا تو پھر یہ ”كَمْ“ مرفوع ہوگا۔ اگر ”كَمْ“ کے بعد تمییز آئی اور تمییز کے بعد فعل نہیں آیا کوئی اور لفظ آیا تو پھر یہ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، اور پھر یہ مرفوع مبتدا بھی ہو سکتا ہے اور خبر بھی۔ اس کا پتہ اس کی تمییز سے چلے گا۔ اگر ”كَمْ“ کے بعد جو تمییز آ رہی ہے وہ ظرف ہے، زمانے یا جگہ کا نام ہے تو پھر یہ ”كَمْ“ کیا ہوگا؟ خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہوگا کیونکہ ظرف جو ہے، ظرف یہ خبر بن سکتا ہے، مبتدا نہیں بن سکتا۔ تو ”كَمْ“ کے بعد اگر ظرف آیا اور آگے فعل نہیں ہے تو یہ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا خبر ہونے کی بناء پر۔ اور اگر آگے فعل تو نہیں آ رہا، ”كَمْ“ کے بعد تمییز ہے اور تمییز کے بعد فعل نہیں ہے، تو میں نے بتایا ”كَمْ“ مرفوع ہوگا، اور مرفوع پھر یہ خبر ہونے کی بناء پر بھی ہو سکتا ہے اور مبتدا ہونے کی بناء پر، خبر ہونے کی بناء پر تب ہوگا جب ”كَمْ“ کے بعد جو تمییز آئے وہ ظرف ہو، اور اگر تمییز ظرف نہ ہو تو پھر یہ ”كَمْ“ مبتدا ہوگا، مرفوع ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور اگر ”كَمْ“ کے بعد تمییز آئی اور تمییز کے بعد آگے فعل آ گیا تو پھر دیکھو، اس فعل کے ساتھ کوئی ایسی ضمیر تو نہیں جڑی ہوئی جو اسی کی طرف لوٹ رہی ہو، ”كَمْ“ کی طرف؟ اگر اس کے ساتھ ایسی ضمیر جڑی ہوئی ہے جو کس کی طرف لوٹ رہی ہے؟ ”كَمْ“ کی طرف، تو پھر فعل تو اس ضمیر میں عمل کر رہا ہے۔ تو اگر فعل اس ”كَمْ“ کی ضمیر میں عمل کر رہا ہے، تو ضمیر سے بھی یہی ”كَمْ“ مراد اور ”كَمْ“ خود بھی موجود ہے، تو ایک وقت میں فعل ایک ہی میں عمل کرے گا، دونوں میں تو عمل نہیں کر سکتا کیونکہ ایک ہی چیز ہیں دونوں، تو جب ضمیر میں عمل کر رہا ہے ”كَمْ“ کی تو پھر ”كَمْ“ میں وہ عمل نہیں کر سکتا، جب ”كَمْ“ میں عمل نہیں کر سکتا تو ”كَمْ“ مرفوع ہوگا مبتدا ہونے کی بناء پر۔ اور اگر ”كَمْ“ کے بعد تمییز آئی، تمییز کے بعد فعل موجود ہے لیکن فعل اس کی ضمیر میں عمل نہیں کر رہا، اس کے ساتھ کوئی ضمیر جڑی ہوئی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں ”كَمْ“ منصوب ہوگا، منصوب۔ اور پھر منصوب ہوگا یا تو یہ مفعول مطلق ہوگا، یا یہ مفعول بہ ہوگا، یا یہ مفعول فیہ ہوگا اور اس کا پتہ ”كَمْ“ کے بعد جو تمییز آ رہی ہے اس سے پتہ چلے گا۔ اگر تمییز جو ہے وہ مصدر ہوئی، اسی فعل کا مصدر، تو پھر یہ ”كَمْ“ منصوب ہوگا مفعول، مفعول مطلق ہونے کی بناء پر، اور اگر ”كَمْ“ کے بعد جو تمییز ہے وہ ظرف ہے تو پھر یہ ”كَمْ“ منصوب ہوگا مفعول فیہ ہونے کی بناء پر، اور اگر ”كَمْ“ کے بعد نہ تو مصدر ہے اور نہ مفعول فیہ ہے تو پھر ”كَمْ“ منصوب ہوگا مفعول بہ ہونے کی بناء پر، اور سب کی مثالیں بھی گزر گئیں۔ ترکیب اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھا، ”كَمْ“ کا اعراب انہوں نے آپ کو بتلا دیا: ”كَمْ“ منصوب بھی ہو سکتا ہے، ”كَمْ“ مجرور بھی ہو سکتا ہے اور ”كَمْ“ مرفوع بھی ہو سکتا ہے، اور ساروں کی ہم نے الحمد للہ ترکیب بھی کر لی اور آپ نے سمجھ بھی لی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
104 approved lectures · 81 of 104