وَاعْلَمْ أَنَّ لَهُمْ ضَمِيرًا يَقَعُ قَبْلَ جُمْلَةٍ تُفَسِّرُهُ وَيُسَمَّى ضَمِيرَ الشَّأْنِ فِي الْمُذَكَّرِ وَضَمِيرَ الْقِصَّةِ فِي الْمُؤَنَّثِ، نَحْوُ: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، وَإِنَّهَا زَيْنَبُ قَائِمَةٌ.
وَيُدْخِلُ بَيْنَ الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ صِيغَةَ مَرْفُوعٍ مُنْفَصِلٍ مُطَابِقٍ لِلْمُبْتَدَإِ إِذَا كَانَ الْخَبَرُ مَعْرِفَةً أَوْ أَفْعَلَ مِنْ كَذَا، وَيُسَمَّى فَصْلًا؛ لِأَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَ الْخَبَرِ وَالصِّفَةِ، نَحْوُ: زَيْدٌ هُوَ الْقَائِمُ، وَكَانَ زَيْدٌ هُوَ أَفْضَلَ مِنْ عَمْرٍو، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾.
گزشتہ سبق میں مبنیات میں سے سب سے پہلے مبنی یعنی ضمیریں جو ہیں، ان کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا اور صاحبِ ہدایت النحو نے آپ کو بتایا تھا کہ ضمیر ایسے اسم کو کہتے ہیں جس کو وضع کیا گیا ہو تاکہ وہ دلالت کرے متکلم پر، مخاطب پر یا ایسے غائب پر جس کا ذکر مقدم ہو چکا ہو؛ چاہے اس کا ذکر جو مقدم ہوا وہ لفظاً ہو یا معناً ہو یا حکماً ہو بھئی۔
اور ذکر مقدم ہو چکا ہو لفظاً، کہ اس کی پھر میں نے بتایا تھا دو صورتیں ہیں: کبھی حقیقتاً مقدم ہوگا بھئی اور کبھی تقدیراً مقدم ہوگا لفظاً بھئی۔ حقیقتاً لفظاً مقدم ہو جیسے ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَأَكْرَمْتُهُ“ تو یہاں زید کی طرف ”أَكْرَمْتُهُ“ کی ہا ضمیر راجع ہے اور زید حقیقتاً لفظوں کے اعتبار سے مقدم ہے۔ اور بعض اوقات تقدیراً مقدم ہوتا ہے لفظوں کے اعتبار سے جیسے ”فِي الدَّارِ زَيْدٌ“ اب یہاں زید اگرچہ لفظوں میں تو مؤخر ہے اور ”فِي الدَّارِ“ یعنی ”ثَبَتَ فِي الدَّارِ“ ثَبَتَ یا ثَابِتٌ کی ضمیر زید کو راجع جو مبتدا مؤخر ہے، اور اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو اضمار قبل الذکر ہوا، تو جواب آپ پڑھ چکے ہیں کہ زید اگرچہ لفظوں میں مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، یا یوں کہیں یوں کہیں جو انہوں نے ذکر کیا کہ زید لفظوں میں حقیقتاً اگرچہ مؤخر ہے لیکن تقدیراً کیا ہے؟ مقدم ہے کیونکہ اس کا مقام مقدم ہے، یہ مبتدا ہے اور مبتدا خبر پر مقدم ہوتا ہے۔
اور کبھی کبھار مرجع مقدم ہوگا معنی کے اعتبار سے، یعنی کوئی اور لفظ اس پر دلالت کر رہا ہوگا یا سیاقِ کلام اس پر دلالت کر رہا ہوگا۔ کوئی اور لفظ اس پر دلالت کر رہا ہو یا کسی اور لفظ کے ضمن میں وہ موجود ہو جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ تو ”اعْدِلُوا“ کے ضمن میں کون گزر گیا؟ کس کا ذکر آ گیا؟ عدل، تو ”هُوَ“ ضمیر اس عدل کی طرف راجع جو معناً مقدم ہے بھئی، لفظوں میں نہیں ہے کیونکہ ذکر ہی نہیں ہوا بھئی، تو معناً کیا ہے؟ مقدم ہے۔
دوسری صورت معناً مقدم ہونے کی یہ تھی کہ سیاقِ کلام اس پر دلالت کر رہا ہو، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ﴾ ”وَلِأَبَوَيْهِ“ اور اس میت کے والدین کے لیے ”لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ“ ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ تو یہ وراثت کا بیان چل رہا ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے ”وَلِأَبَوَيْهِ“ یہ ہا ضمیر تو میت کو راجع ہے کہ میت کے والدین، اور میت کا تو یہاں ذکر ہی نہیں ہوا، تو جواب ہو گیا کہ بھئی سیاقِ کلام میت پر دلالت کر رہا ہے اس لیے کیونکہ یہ وراثت کی بات چل رہی ہے اور وراثت وہیں پر آتی ہے جہاں پر کوئی میت ہو، تو جب وراثت کی بات آ گئی تو معناً میت کا ذکر بھی آ گیا۔
یا اس کی اور مثال میں نے ذکر کی تھی جس پر سیاقِ کلام دلالت کر رہا ہو کہ یہ نحو کی کتاب ہے، جگہ جگہ آپ کو کوئی ضمیر ملے گی اور کہیں گے یہ ضمیر نحویوں کو راجع، یا یہ ضمیر عرب کو راجع۔ سوال: نہ تو نحویوں کا پیچھے ذکر ہوا نہ عرب کا ذکر ہوا، تو ضمیر کیسے راجع کر دی؟ تو جواب یہ کہ معناً ان کا ذکر ہو چکا معناً۔ بھئی کس طرح معناً ہوا؟ بھئی اس لیے کیونکہ یہ عربی زبان کے ضابطے بیان ہو رہے ہیں، تو جب عربی کے ضابطے بیان ہو رہے ہیں تو عربی عرب کی زبان ہے تو عرب کا ذکر بھی گویا ضمناً ہو چکا ہے بھئی، معناً ہو چکا ہے، اور نیز اسی طرح یہ نحو کے ضابطے بیان ہو رہے ہیں تو نحویوں کا بیان بھی معناً گویا ہو چکا بھئی، جب ہو چکا تو اب اس کی طرف ضمیر لوٹانا صحیح ہے بھئی۔
اور حکماً کی مثال بھئی کہ مرجع کبھی حکماً مقدم ہوگا بھئی۔ میں نے بتایا تھا حکماً کے اندر مرجع نہ لفظاً مقدم گزرا ہوتا ہے، نہ معناً مقدم گزرا ہوتا ہے لیکن حکم لگا دیا جاتا ہے کہ مرجع کیا ہے؟ گزر چکا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ مجبوری ہے، وہاں پر غائب کی ضمیر لائی جاتی ہے اور اسے ضمیرِ شأن اور ضمیرِ قصہ کہتے ہیں، اور آگے آنے والا جملہ کیا کرتا ہے؟ اس کی تفسیر۔ تو وہاں جان بوجھ کر ایسی ضمیر کو پہلے لایا جاتا ہے جس کا مرجع پیچھے گزرا ہی نہیں، نہ لفظاً گزرا ہے اور نہ معناً، کیونکہ وہاں مقصد کیا ہے؟ تاکہ پہلے ابہام پیدا ہو جائے، کیونکہ سننے والا جب سنے گا غائب کی ضمیر آ گئی اور مرجع تو ہے ہی نہیں تو اس کا ذہن متوجہ ہو جائے گا، تو ابہام پیدا ہوا تو اس کا ذہن متوجہ ہوا اور جب ذہن متوجہ ہوا تو ساتھ ہی آگے تفسیر بھی آ گئی کہ ”هُوَ“ سے کیا مراد ہے، تو اب وہ تفسیر اچھی طرح ذہن میں بیٹھ جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں مرجع ماقبل میں گزرا ہی نہیں ہوتا اور جان بوجھ کر اس کو لایا جاتا ہے مرجع پہلے ہوتا ہی نہیں بھئی، کیونکہ اگر پہلے مرجع گزرا ہو تو مقصد ہی فوت ہو جائے۔ تو پھر ایسے موقع پر نحوی حضرات کا تو ضابطہ ہے کہ غائب کی ضمیر وہاں آئے گی جہاں پہلے اس کا مرجع گزر چکا ہو، تو پھر وہ کیا بات کرتے ہیں اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے؟ کہ ضمیر کا مرجع... نحویوں کا تو ضابطہ کیا ہے؟ ضمیر کا مرجع پہلے آنا چاہیے ضمیر بعد میں، تو اب اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے وہ کیا کہتے ہیں؟ کہ مرجع حکماً گزر چکا ہے۔ مرجع؟ حکماً، حالانکہ حقیقت میں تو کسی اعتبار سے بھی نہیں گزرا، بس صرف حکم لگا دیتے ہیں کہ مرجع گزر چکا ہے حکماً بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اور پھر اس کے بعد آپ نے پڑھا تھا کہ یہ ضمیر دو قسم پر ہے: یا متصل ہوگی یا منفصل۔ اور متصل وہ مرفوع بھی ہو سکتی ہے، منصوب بھی اور مجرور بھی، جبکہ منفصل صرف مرفوع اور منصوب ہوتی ہے۔ پھر یہ متصل جو ہے، مرفوع متصل انہوں نے مثالوں کے ذریعے بتا دیا صرف فعل کے ساتھ ملتی ہے، فعلِ معروف کے ساتھ بھی اور فعلِ مجہول کے ساتھ بھی، جبکہ منصوب متصل فعل کے ساتھ بھی مل سکتی ہے اور حرف کے ساتھ بھی، جبکہ مجرور متصل وہ اسم کے ساتھ بھی مل سکتی ہے اور حرف کے ساتھ بھی۔
اور اس کے بعد انہوں نے ایک ضابطہ یہ ذکر کیا تھا کہ ضمیرِ منفصل استعمال نہیں کرتے، سب سے پہلے کوشش یہ کی جاتی ہے ضمیرِ متصل استعمال کی جائے، ہاں جہاں متصل کا لانا ممکن نہ رہے پھر کون سی ضمیر استعمال کی جاتی ہے؟ پھر منفصل استعمال کی جاتی ہے، اور کچھ جگہیں بھی ذکر کر دی تھیں، جیسے ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ یہاں پر کیا کیا تھا؟ کہ معمول کو عامل پر مقدم کر دیا گیا، یہ ”إِيَّاكَ“ کا کیا تھا؟ مؤخر تھا، اس کو مقدم کیا گیا اور جو مقدم ہو جائے تو پھر اب جڑنے کی یعنی اتصال کی کوئی صورت نہ رہی تو مجبورا کون سی ضمیر لانا پڑی؟ منفصل۔ یا جیسے ”مَا ضَرَبَكَ إِلَّا أَنَا“ یہاں پر ضمیر کو ”إِلَّا“ کے بعد ذکر کرنا تھا حصر کے لیے، جب ”إِلَّا“ کے بعد ذکر کرنا تھا تو عامل یعنی فعل اور ضمیر کے درمیان ”إِلَّا“ آ گیا، جب ”إِلَّا“ آ گیا تو دونوں الگ ہو گئے اتصال کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو مجبورا کون سی ضمیر لانا پڑی؟ منفصل بھئی۔ یا جیسے ”أَنَا زَيْدٌ“ اس میں ”أَنَا“ ضمیر کو جڑنا چاہیے متصل ہونا چاہیے اپنے عامل سے، لیکن عامل تو یہاں معنوی ہے ابتداء، ابتداء کو تو کوئی لفظی چیز ہے ہی نہیں، کوئی لفظ ہوتا تو اس سے جڑ جاتی، لفظ ہے ہی نہیں معنوی چیز ہے، اور لفظ معنی کے ساتھ تو جڑ نہیں سکتا لہٰذا مجبورا منفصل ضمیر لانا پڑی۔ اور جیسے ”مَا أَنْتَ قَائِمًا“ بھئی، یہاں پر بھی ”أَنْتَ“ ضمیرِ مرفوع منفصل لانا پڑا اس لیے کیونکہ مرفوع متصل صرف فعل سے جڑا کرتی ہے اور یہاں پر ماقبل عامل کون ہے؟ ”مَا“ حرف ہے، تو مرفوع متصل تو صرف فعل سے ہوا کرتی ہے حرف سے تو نہیں جڑتی، لہٰذا اس کو مجبورا منفصل لانا پڑا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آگے دیکھیے۔
”وَاعْلَمْ“ جان لے تو ”أَنَّ لَهُمْ“ لَهُمْ، ”هُمْ“ ضمیر راجع ہے نحوی حضرات کو۔ اب سوال وہی کہ بھئی نحویوں کا تو پیچھے کہیں ذکر ہی نہیں ہوا؟ جواب یہ کہ نحو کی کتاب پڑھ رہے ہیں، نحو کے ضابطے چل رہے ہیں، تو جب نحو کی باتیں چل رہی ہیں تو معناً نحویوں کا ذکر بھی ہو چکا بھئی، یعنی سیاقِ کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔
”وَاعْلَمْ أَنَّ لَهُمْ ضَمِيرًا يَقَعُ قَبْلَ جُمْلَةٍ“ جان لے کہ نحویوں کے نزدیک ایک ضمیر ہوتی ہے ”يَقَعُ قَبْلَ“ بھئی میں نے ابھی آپ کو بتایا تھا حکماً ضمیر کا مرجع مقدم ہوتا ہے کبھی حکماً، اور یہ کس میں ہے؟ ضمیرِ قصہ اور ضمیرِ شأن میں، وہی اب بیان کرنے لگے ہیں بھئی، میں نے بتلا دیا۔ ضمیرِ قصہ اور ضمیرِ شأن کسے کہتے ہیں؟ یہ ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے اور آگے آنے والا جملہ کیا کرتا ہے؟ ان کی تفسیر کرتا ہے کہ اس ضمیر سے یہ مراد ہے۔ اور یہ مذکر کی ہو تو ضمیرِ شأن کہلاتی ہے، شأن کا معنی ہے حال حال، شأن یہ ہے یعنی حال یہ ہے حالت یہ ہے، اور اگر یہ مؤنث کی ہو تو یہ ضمیرِ قصہ کہلاتی ہے کہ قصہ یہ ہے۔ اور کہاں مذکر لائیں گے کہاں مؤنث؟ تو یاد رکھیے یہ کلام کے اندر عمدہ جو ہے اگر مذکر ہو تو ضمیر مذکر لائیں گے، اگر عمدہ جو ہے مؤنث ہو تو ضمیر مؤنث لائیں گے۔ عمدہ؟ بھئی یاد رکھیے کلام کے اندر دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک مسند اور ایک مسند الیہ، اور مسند الیہ عمدہ ہوتا ہے بھئی۔ مسند الیہ کیا ہوتا ہے؟ عمدہ ہوتا ہے، اور مسند الیہ کون کون ہے؟ ایک مبتدا ہے، ایک فاعل ہے اور ایک نائب الفاعل ہے۔ جملہ اسمیہ میں عمدہ کون؟ مبتدا، اور جملہ فعلیہ کے اندر فاعل یا نائب الفاعل؛ اگر جملہ فعلِ معروف ہوگا تو فاعل آئے گا، فعلِ مجہول ہوگا تو نائب الفاعل۔ تو بس یہ عمدہ ہیں، تو اس کو دیکھ لو، اگر جملہ اسمیہ ہے کس کو دیکھو؟ مبتدا کو، اور وہ عمدہ ہے، مذکر ہو تو ضمیرِ شأن لاؤ مذکر کی، اور مؤنث ہو تو ضمیرِ قصہ لاؤ۔ تو ہے دونوں ایک ہی چیز، صرف ایک مذکر کی ہے ایک مؤنث کی ہے تو نام ذرا الگ کر دیے: ایک کا نام ضمیرِ شأن، ایک کا نام ضمیرِ قصہ۔ اب دیکھیے یہی بیان کریں گے۔
”وَاعْلَمْ“ جان لے تو ”أَنَّ لَهُمْ ضَمِيرًا يَقَعُ قَبْلَ جُمْلَةٍ تُفَسِّرُهُ“ کہ نحویوں کے نزدیک ایک ایسی ضمیر ہوتی ہے، دیکھو ”ضَمِيرًا“ نکرہ ہے اور اس کے بعد کیا آیا؟ ”يَقَعُ“ فعل، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گی؟ صفت۔ اسی طرح آگے ”جُمْلَةٍ“ نکرہ آ رہا ہے اور ”تُفَسِّرُ“ اس کے بعد فعل آ رہا ہے، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو دیکھیے ترجمے میں ”ایسا“ کا لفظ آئے گا: ”وَاعْلَمْ أَنَّ لَهُمْ ضَمِيرًا يَقَعُ قَبْلَ جُمْلَةٍ تُفَسِّرُهُ“ جان لے کہ نحویوں کے نزدیک ایک ایسی ضمیر ہوتی ہے ”يَقَعُ قَبْلَ جُمْلَةٍ“ جو واقع ہوتی ہے ایسے جملے سے پہلے ”تُفَسِّرُهُ“ جو اس کی تفسیر بیان کرتا ہے، ”وَيُسَمَّى ضَمِيرَ الشَّأْنِ فِي الْمُذَكَّرِ“ اور اس کو ضمیرِ شأن کہتے ہیں مذکر میں ”وَضَمِيرَ الْقِصَّةِ فِي الْمُؤَنَّثِ“ اور ضمیرِ قصہ کہتے ہیں مؤنث میں، ”نَحْوُ: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾“ قل ھو، یہ ”هُوَ“ کیا ہے؟ ضمیرِ شأن۔ شأن یہ ہے، حال یہ ہے، کیا حال ہے؟ ”اللَّهُ أَحَدٌ“ اللہ ایک ہے، اللہ یکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یوں کہو: بات یہ ہے، بات یہ ہے سمجھنے کے لیے۔ کہہ دیجیے بات یہ ہے کہ اللہ ایک ہے۔
”وَإِنَّهَا زَيْنَبُ قَائِمَةٌ“ اور یقیناً ”هَا“ ضمیرِ قصہ ہے، قصہ یہ ہے ”زَيْنَبُ قَائِمَةٌ“ کہ زینب کھڑی ہے۔ وہی چیز، یقیناً بات یہ ہے بات یہ ہے کہ زینب کھڑی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ”قُلْ هُوَ“ یہ ”هُوَ“ ضمیر، اس سے کیا مراد؟ بھئی ”اللَّهُ أَحَدٌ“ یہ اسی کی تو تفسیر کر رہا ہے، ”هُوَ“ سے کیا مراد ہے؟ حال یہ ہے، کیا حال ہے؟ کہ اللہ ایک ہے۔ اور ”إِنَّهَا“ قصہ یہ، کیا قصہ ہے بھئی؟ یہ آگے قصہ ہی کی تو تفسیر ہے ”زَيْنَبُ قَائِمَةٌ“ کہ زینب کھڑی ہے۔ اور دیکھو کلام کے اندر عمدہ مؤنث ہے ”زَيْنَبُ“ تو ہا ضمیر کیا لے کر آئے؟ مؤنث لے کر آئے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ترکیب کیجیے بھئی۔
”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“
”قُلْ“ فعلِ امر، ”أَنْتَ“ ضمیر اس کے اندر... ”قُلْ“ کا کیا معنی ہے؟ آپ کہہ دیجیے، تو ”أَنْتَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اچھا، اور ”قُلْ“ کہہ دیجیے، کیا کہہ دیجیے؟ یہ بات، آگے آنے والی بات یہ مقولہ کہلاتا ہے، یہ کیا ہوتا ہے؟ مقولہ ہوتا ہے، اور یہ پورا جملہ ہوتا ہے بھئی۔ اور پھر یاد رکھیے یہ ضمیرِ شأن یہ مبتدا ہے، ”هُوَ“ مرفوع محلاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے، اور محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے، یہ مرفوع محلاً مبتدا ہے۔ اور اس کے بعد پھر آگے پورا جملہ آئے گا اور وہاں پھر دیکھو مبتدا خبر آئیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لفظِ اللہ مرفوع لفظاً مبتدائے ثانی، لفظِ اللہ مرفوع لفظاً مبتدائے ثانی، اور ”أَحَدٌ“ مرفوع لفظاً خبر مبتدائے ثانی کے لیے۔ مبتدائے ثانی اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی کس کی؟ ”هُوَ“ مبتدا کی۔ آپ کہیں گے کہ عائد نہیں بتلایا، پورے جملے کو کیا بنایا جا رہا ہے؟ ”هُوَ“ کے لیے خبر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ توجہ ہے؟ تو ”اللَّهُ أَحَدٌ“ پورا جملہ ہے اور اس کو خبر بنا رہے ہیں کس کے لیے؟ ”هُوَ“ کے لیے، تو پورے جملے کو جوڑا جا رہا ہے ایک مبتدا کے ساتھ، تو درمیان میں ہم نے بتلایا تھا کیا ہونا چاہیے؟ ربط عائد ہونی چاہیے، عائد ہونا چاہیے۔ یہ عائد کی تیسری صورت آ گئی۔ عائد کی پہلی صورت کیا تھی؟ کہ غائب کی ضمیر ہو جو اس اسم کی طرف لوٹے جس کے ساتھ آپ جملہ یا شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہوں۔ عائد کی دوسری قسم کیا تھی؟ کہ جس سے جوڑ رہے ہیں وہ خود ہی اس جملے میں آ جائے، جیسے: ”الْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ“، وہی حاقہ جس سے آپ ”مَا الْحَاقَّةُ“ کو جوڑ رہے ہیں وہی حاقہ خود کس میں آ گیا؟ ”مَا الْحَاقَّةُ“ کے اندر آ گیا۔ یا جیسے: ”أَنْتَ قَائِمٌ“، قائم کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ ”أَنْتَ“ سے، اور اس قائم کے خود اندر کیا آ گیا؟ ”أَنْتَ“ آ گیا۔ یا ”أَنَا قَائِمٌ“، اس قائم کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ ”أَنَا“ سے، تو اس قائم میں خود کیا آ گیا؟ ”أَنَا“، یہ دوسری قسم تھی۔ یہ آج عائد کی تیسری صورت آ گئی، تیسری صورت یہ ہے کہ جس سے آپ جملے کو جوڑ رہے ہوں وہ خود جملہ اسی کی تفسیر ہے۔ وہ جملہ خود کیا ہے؟ اسی کی تفسیر۔ جب یہ خود اسی کی تفسیر ہے تو یہ ربط تو جڑ گیا ظاہر سی بات ہے۔ ”هُوَ“ سے کیا مراد ہے؟ ”هُوَ“ سے مراد ہی ”اللَّهُ أَحَدٌ“ ہی تو ہے، یہ اسی کی تفسیر تو ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ربط آ گیا اس کے ذریعے کہ یہ خود اسی کی تفسیر ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا یوں کہو یوں کہو دوسرے لفظوں میں کہ جب جملہ اسی کی تفسیر ہے تو کسی عائد کی ضرورت نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب جملہ خود کیا ہے؟ اسی کی تفسیر ہے تو کسی عائد کی ضرورت نہیں کیونکہ دونوں ایک ہی چیز ہیں، ”هُوَ“ کیا ہے؟ ”هُوَ“ سے کیا مراد ہے؟ ”اللَّهُ أَحَدٌ“، تو دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ تو یہ جملہ اسمیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ ”هُوَ“ مبتدائے اول کے لیے۔ مبتدائے اول اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ مقولہ ہوا ”قُلْ“ کے لیے۔ کہہ دو، کیا کہہ دو؟ یہ آگے مقولہ ہے، یہ بات کہہ دو۔ اور مقولہ مفعول ہوتا ہے، تو یہ ”هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ پورا کلام کیا ہے؟ مفعول یعنی منصوب محلاً ہے، منصوب کیونکہ جملہ ہے نا اور جملہ کیا ہوتا ہے مبنی، تو یہ منصوب ہے محلاً، تو یہ مقولہ ہوا ”قُلْ“ کے لیے۔ ”قُلْ“ فعلِ امر اپنے فاعل اور مفعول یعنی مقولے سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، فعلِ امر ہے بھئی، جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی، ”وَإِنَّهَا زَيْنَبُ قَائِمَةٌ“ بھئی اب تو آپ ترکیب کے ماہر ہیں، یہ ترکیب آپ کو خود کرنی چاہیے۔ جی: ”إِنَّ“ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل، آگے ”هَا“ ضمیر اعراب بھئی؟ ”إِنَّ“ کیا عمل کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے، تو نصب دے دیں اور کیا چاہیے، ہاں ”هَا“ ضمیر منصوب محلاً ”إِنَّ“ کا اسم، اور یہ کیا ہے؟ ضمیرِ قصہ ہے یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے، تو یہ ”إِنَّ“ کا اسم۔ آگے ”زَيْنَبُ“؟ شاباش، ”زَيْنَبُ“ کیونکہ پورا جملہ ہوگا نا اس ضمیرِ قصہ کی کیا کرے گا؟ تفسیر، پورا جملہ ہے تو جملہ ہے تو پھر دوبارہ مبتدا اور خبر آئیں گے۔ تو ”زَيْنَبُ“ مرفوع لفظاً مبتدا بھئی، مبتدا۔ اچھا، ”زَيْنَبٌ“ کیوں نہیں پڑھ رہے، تنوین کیوں نہیں آ رہی بھئی؟ کیونکہ یہ کیا ہے؟ شاباش، غیر منصرف۔ اسبابِ منعِ صرف کیا ہیں دو اس کے اندر؟ علمیت ہے، علم ہے نام ہے، اور تانیث ہے مؤنث ہے بھئی، مؤنث کا نام ہے، تو یہ غیر منصرف۔ تو یہ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے ”قَائِمَةٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تو مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ آگے؟ شاباش، اس کے اندر ”هِيَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ شاباش، کہ قائمہ زینب کی خبر ہے تو یہ ”هِيَ“ ضمیر زینب کو راجع۔ تو اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، پھر آگے مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ ”إِنَّ“ کی خبر بھئی، اور ”إِنَّ“ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَيُدْخِلُ بَيْنَ الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ صِيغَةَ مَرْفُوعٍ مُنْفَصِلٍ مُطَابِقٍ لِلْمُبْتَدَإِ“ یہاں سے آپ کو فصل کے بارے میں بتلانے لگے ہیں، کس کے بارے میں؟ فصل۔ بھئی یاد رکھیے: ”زَيْدٌ الْقَائِمُ“ زیدٌ، توجہ ہے؟ ”زَيْدٌ الْقَائِمُ“ یا یوں کہو ملا کر پڑھیں: ”زَيْدُ نِ الْقَائِمُ“ کیونکہ ”زَيْدٌ“ کے آخر میں کیا ہے؟ تنوین کا نون ہے وہ ساکن ہے، ”الْقَائِمُ“ کے آگے شروع میں ہمزہ گر گیا، لام بھی ساکن، ماقبل میں نون بھی ساکن، تو پھر کیا کرتے ہیں؟ حرکت کسرہ کی دے دیتے ہیں جب دو ساکن اکٹھے ہو جائیں، تو کیا پڑھیں گے؟ ”زَيْدُ نِ الْقَائِمُ“ جی، کیا بنیں گے یہ آپس میں؟ بھئی معرفہ ”زَيْدٌ“ بھی، ”الْقَائِمُ“ بھی معرفہ، تو بظاہر شبہ یہ پڑتا ہے شاید یہ موصوف صفت بنیں گے، لیکن آپ تو ان کو مبتدا خبر بنانا چاہتے ہیں۔ تو مبتدا تو ہوتا ہی معرفہ ہے، خبر نکرہ ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار خبر بھی معرفہ لے آتے ہیں بعض وجہ سے، اور خبر کو بھی جب معرفہ لائیں، مبتدا بھی معرفہ ہے تو کیا شبہ پڑتا ہے شاید یہ آپس میں موصوف صفت ہیں؟ تو پھر ایسے موقع پر مبتدا اور خبر کے درمیان ایک ضمیرِ مرفوع منفصل جیسا صیغہ لے آتے ہیں، صیغہ لے آتے ہیں۔ تو یہاں مثلاً: ”زَيْدٌ هُوَ“، ”زَيْدٌ هُوَ الْقَائِمُ“، پہلے کیا تھا؟ ”زَيْدُ نِ الْقَائِمُ“، شبہ پڑتا تھا شاید زید موصوف ہے، ”الْقَائِمُ“ اس کی صفت، لیکن آپ تو دونوں کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ مبتدا خبر، تو پھر اس کے لیے درمیان میں یہ فصل لے آتے ہیں، یعنی ضمیرِ مرفوع منفصل جیسا ایک صیغہ لے آتے ہیں۔ تو کیسے کہیں گے؟ ”زَيْدٌ هُوَ الْقَائِمُ“، یہ ”هُوَ“ درمیان میں لے آئے۔ اب موصوف صفت کا شبہ نہیں پڑتا کیونکہ موصوف صفت کے درمیان تو فصل نہیں آتا، جدائی نہیں آتی، اور یہاں تو ”هُوَ“ کیا کر رہا ہے؟ دونوں کے درمیان جدائی، تو پتہ چل گیا یہ موصوف صفت نہیں ہیں اور یہ آپس میں مبتدا خبر ہیں۔ اگر ”هُوَ“ نہ ہو تو شبہ کیا پڑتا ہے؟ یہ موصوف صفت ہیں، حالانکہ آپ تو کیا بتانا چاہتے ہیں؟ یہ مبتدا خبر ہیں، تو پھر درمیان میں کیا لے آتے ہیں؟ مرفوع منفصل جیسا ایک صیغہ لے آتے ہیں: ”زَيْدٌ هُوَ الْقَائِمُ“۔ اور یاد رکھیے یہ ”هُوَ“ یہ صورت تو ضمیر جیسی ہے لیکن یہ ضمیر نہیں ہے بھئی، اس لیے اس کو فصل کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصل کہتے ہیں۔ تو یہ بصرہ والے اس کو فصل کہتے ہیں جبکہ کوفہ والے اس کو عماد کہتے ہیں، عماد۔ ایک ہی چیز ہے نام الگ الگ ہیں، بصرہ والوں نے اس کا نام کیا رکھا؟ فصل، فصل کے معنی ہیں جدائی، اس نے جدائی کر دی صفت اور خبر کے درمیان، پہلے تو شبہ کیا پڑ رہا تھا؟ صفت، اب اس نے جدا کر کے بتلا دیا کہ یہ صفت نہیں ہے بلکہ یہ خبر ہے اس کی۔ تو اس کو فصل کہتے ہیں۔
تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ عرب جو ہیں وہ مبتدا اور خبر میں جب خبر بھی کیا آ جائے؟ معرفہ آ جائے، درمیان میں کیا لاتے ہیں؟ ضمیرِ مرفوع منفصل جیسا ایک صیغہ لاتے ہیں، یہ ضمیر نہیں ہے اس لیے یہ نہ کہو ضمیرِ فصل، بلکہ اس کا نام وہ کیا رکھتے ہیں؟ فصل، سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ فصل ہے اور یہ ضمیر نہیں ہے، یہ حرف ہے حرف ہے، اور یہ صرف کس لیے آئی؟ تاکہ فرق ہو جائے صفت اور خبر کے درمیان، پتہ چل جائے یہ صفت نہیں ہے آگے جو آ رہی ہے بلکہ وہ خبر ہے۔ کس طرح فرق ہوا؟ کیونکہ موصوف صفت کے درمیان تو فصل نہیں آتا، جدائی نہیں آتی، لیکن جب ”هُوَ“ بیچ میں آ گیا پتہ چل گیا یہ موصوف صفت نہیں، اگر موصوف صفت ہوتے تو درمیان میں ”هُوَ“ کبھی بھی نہ آتا بھئی، تو یہ ”هُوَ“ نے فرق کر دیا۔
نیز اسی طرح اگر خبر اسمِ تفضیل ہو ”مِنْ“ کے ساتھ تب بھی یہ فصل لے آتے ہیں، مثلاً میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو“، زید عمرو سے افضل ہے، تو یہ دیکھو ”أَفْضَلُ“ کیا ہے؟ اسمِ تفضیل، اور یہ ”مِنْ“ کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے: ”أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو“، تو اس صورت میں بھی یہ فصل کو بیچ میں لے آتے ہیں اور یوں کہتے ہیں: ”زَيْدٌ هُوَ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو“۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی ٹھیک ہے جب خبر معرفہ تھی ”زَيْدُ نِ الْقَائِمُ“ توجہ ہے؟ پھر تو شبہ پڑتا تھا یہ آپس میں موصوف صفت ہیں، لیکن جب خبر اسمِ تفضیل ہو ”مِنْ“ کے ساتھ ”زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو“ یہاں تو ”أَفْضَلُ“ زید کے لیے صفت نہیں بن سکتی کیونکہ زید ہے معرفہ اور ”أَفْضَلُ“ کیا ہے؟ نکرہ، حالانکہ موصوف صفت تعریف و تنکیر میں ایک جیسے ہوتے ہیں، موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ معرفہ، تو یہاں تو ”أَفْضَلُ“ نکرہ ہے یہاں تو موصوف صفت کا شبہ پڑتا ہی نہیں، پھر یہاں فصل بیچ میں کیوں لاتے ہیں؟ سوال سمجھ میں آیا؟ جواب یہ کہ یہ ”أَفْضَلُ“ یہ اسمِ تفضیل جو استعمال ہو رہا ہے ”مِنْ“ کے ساتھ، یہ محمول ہے اسی خبر پر جو معرفہ تھی، یہ اسی پر محمول... یعنی اس میں ”هُوَ“ لاتے تھے ہم اس میں بھی ”هُوَ“ لے آئے، سوال: بھئی کیوں، کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ یہ بھی اسی کی طرح ہے، بھئی یہ کیسے اس کی طرح ہے؟ اس میں تو صفت ہونے کا شبہ تھا اس میں تو صفت ہونے کا شبہ ہی نہیں؟ جواب یہ کہ یہ اس کی طرح ہے بایں لحاظ کہ جیسے اس پر الف لام نہیں آ سکتا اس پر بھی الف لام نہیں آ سکتا، تو یہ اس کی طرح ہوا، جب اس کی طرح ہوا تو اسی کا حکم دے دیا، اور اس میں تو ہم فصل بیچ میں لاتے تھے تو اس میں بھی کیا لے آئیں گے؟ فصل لے آئیں گے۔ یہ کیسے اس کی طرح ہے؟ کہ اس پر الف لام نہیں آ سکتا، یاد رکھو آگے چل کر اسمِ تفضیل کی بحث آئے گی، یہ آپ کو بتائیں گے اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں: یا اسمِ تفضیل کے ساتھ ”مِنْ“ آ جاتا ہے: ”أَفْضَلُ مِنْ“، یا اس پر الف لام داخل ہو جاتا ہے: ”الْأَفْضَلُ“ پھر ”مِنْ“ نہیں آئے گا پھر ”الْأَفْضَلُ“، یا تیسرا طریقہ اضافت کے ساتھ کہ آگے مضاف الیہ آ جائے گا: ”أَفْضَلُ الْقَوْمِ“۔ تو اسمِ تفضیل کے استعمال کے کتنے طریقے؟ تین: نمبر ایک ”مِنْ“ کے ساتھ، نمبر دو الف لام کے ساتھ، نمبر تین اضافت کے ساتھ۔ جب ”مِنْ“ کے ساتھ ہو تو پھر الف لام بھی نہیں ہوگا اور اضافت بھی نہیں ہوگی، اور جب اضافت کے ساتھ ہو تو الف لام بھی نہیں ہوگا اور ”مِنْ“ بھی نہیں، اور جب الف لام کے ساتھ ہوگا تو اضافت نہیں اور ”مِنْ“ بھی نہیں، یعنی ایک وقت میں ایک طریقے سے استعمال ہوگا، جب الف لام کے ساتھ ہے تو باقی دو طریقے نہیں، اضافت کے ساتھ ہے تو دوسرے دو طریقے نہیں، ”مِنْ“ کے ساتھ ہے تو دوسرے دو طریقے نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب اسمِ تفضیل ”مِنْ“ کے ساتھ استعمال ہو گیا تو اب اس پر الف لام آ سکتا ہے؟ نہیں، ابھی میں نے بتایا اس پر پھر الف لام نہیں آ سکتا۔ اسی طرح تو یہ بھی اسی جو معرفہ خبر تھی اس کی طرح ہوا، اس پر بھی الف لام نہیں آ سکتا۔ کیا خبر تھی؟ ”زَيْدُ نِ الْقَائِمُ“، ”الْقَائِمُ“ پر الف لام پہلے سے ہی داخل ہے اب ایک اور الف لام آ سکتا ہے؟ نہیں، جب خبر پہلے سے ہی معرفہ ہے تو اس پر ایک اور الف لام نہیں آ سکتا، اسی طرح ”أَفْضَلُ مِنْ“ پر بھی کیا ہے؟ الف لام داخل نہیں ہو سکتا، تو یہ دونوں ایک دوسرے جیسے ہوئے، اور اس میں تو فصل لاتے تھے تو پھر اس میں بھی کیا کرتے ہیں؟ فصل لے آئے، بات بھی سمجھ میں آئی کہ مشکل ہو گئی؟ اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں: ”وَيُدْخِلُ“ یعنی ”يُدْخِلُ الْعَرَبُ“، ”هُوَ“ ضمیر کس کو راجع؟ عرب کو۔ عرب داخل کرتے ہیں ”بَيْنَ الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ“ مبتدا اور خبر کے بیچ میں، کیا داخل کرتے ہیں؟ ”صِيغَةَ مَرْفُوعٍ مُنْفَصِلٍ“ ایک ایسا صیغہ ”مَرْفُوعٍ“ جو کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، ”مُنْفَصِلٍ“ اور منفصل ہوتا ہے۔ دیکھا، یہ نہیں کہا ”ضَمِيرَ مَرْفُوعٍ مُنْفَصِلٍ“ مرفوع منفصل ضمیر داخل کرتے ہیں، بلکہ کیا کہا؟ صیغہ، مرفوع منفصل کا صیغہ، اس لیے کیونکہ اس کی صورت اگرچہ ضمیر جیسی ہے لیکن ضمیر نہیں ہے اس لیے صیغہ کہا کہ صورت اس جیسی ہے۔ تو مرفوع منفصل کا صیغہ داخل کرتے ہیں ”مُطَابِقٍ لِلْمُبْتَدَإِ“ جو مطابق ہوتا ہے مبتدا کے۔ بھئی یہ اہم بات ہے، قیمتی بات ہے، یہ جو فصل ہے نا فصل، یہ مبتدا کے مطابق ہوگی، جیسے ”زَيْدٌ هُوَ الْقَائِمُ“، زید مذکر واحد مذکر غائب تھا تو یہ فصل بھی کیا لائے؟ ”هُوَ“، واحد مذکر غائب جیسی صورت لائے۔ اور اگر زید یہاں ”الزَّيْدَانِ“ ہوتا تو فصل کیا لاتے؟ ”هُمَا“، ”الزَّيْدُونَ“ ہوتا تو فصل کیا لاتے؟ ”هُمْ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو واحد کے لیے واحد، تثنیہ کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع، مذکر کے لیے مذکر، مؤنث کے لیے مؤنث، متکلم کے لیے متکلم، مخاطب کے لیے مخاطب، تو جیسا مبتدا ہوگا اسی طرح کا یہ فصل اسی طرح کی یہ فصل بھی لے کر آئیں گے، اس لیے کہا ”مُطَابِقٍ لِلْمُبْتَدَإِ“ جو مبتدا کے مطابق ہوتا ہے۔
”إِذَا كَانَ الْخَبَرُ مَعْرِفَةً“ کب لے کر کب داخل کرتے ہیں مبتدا اور خبر کے بیچ میں اس مرفوع صیغے کو؟ ”إِذَا كَانَ الْخَبَرُ مَعْرِفَةً“ جب خبر کیا ہو؟ معرفہ ہو، ”أَوْ أَفْعَلَ مِنْ كَذَا“ یا کیا ہو؟ ”أَفْعَلَ مِنْ كَذَا“ ہو یعنی اسمِ تفضیل ”مِنْ“ کے ساتھ ہو۔ بھئی اسمِ تفضیل ”مِنْ“ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے نا، اور ”مِنْ“ کے بعد آگے ایک چیز وغیرہ ذکر ہوتی ہے، جیسے میں نے مثال کی ذکر کی تھی: ”زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو“، تو دیکھو ”أَفْضَلُ“ کی جگہ وہی صیغہ ذکر کر دیا ”أَفْعَلُ“، کون سا صیغہ؟ ”أَفْعَلُ“، اور کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ ”مِنْ“، اور ”مِنْ“ کے بعد کیا ہوتا ہے؟ ایک نام وغیرہ یا چیز ذکر ہوتی ہے اس کو ”كَذَا“ سے ذکر کر دیا، جب خبر کیا ہو؟ ”أَفْعَلَ مِنْ كَذَا“ ہو۔ صورت سمجھ... یہ ”أَفْعَلَ“ میں منصوب پڑھ رہا ہوں ”أَفْعَلَ“، کیونکہ اس کا عطف ہے ”مَعْرِفَةً“ پر، اور ”مَعْرِفَةً“ منصوب، معطوف علیہ منصوب ہو تو معطوف بھی کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ اور یہ ”مَعْرِفَةً“ کیوں منصوب؟ کیونکہ یہ ”كَانَ“ کی خبر ہے: ”إِذَا كَانَ الْخَبَرُ مَعْرِفَةً“، ”كَانَ“ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب، تو جب خبر معرفہ ہو یا ”أَفْعَلَ مِنْ كَذَا“ ہو، ”أَفْعَلَ مِنْ كَذَا“ یعنی اسمِ تفضیل ہو کس کے ساتھ؟ ”مِنْ“ کے ساتھ، تو پھر وہ مرفوع منفصل کا صیغہ بیچ میں لے کر آتے ہیں، ”وَيُسَمَّى فَصْلًا“ اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصل کہتے ہیں، ”لِأَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَ الْخَبَرِ وَالصِّفَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ جدائی کر دیتی ہے خبر اور صفت کے درمیان، یہ فرق کر دیتی ہے خبر اور صفت کے درمیان، ”نَحْوُ: زَيْدٌ هُوَ الْقَائِمُ“۔ اگر یہ ”هُوَ“ نہ ہوتا تو یوں لگتا زید موصوف اور ”الْقَائِمُ“ اس کی صفت، لیکن ”هُوَ“ نے بتلا دیا کہ نہیں ”الْقَائِمُ“ صفت نہیں ہے بلکہ یہ زید کے لیے خبر ہے۔ ترکیب کیجیے۔
”زَيْدٌ هُوَ الْقَائِمُ“
”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، آگے خبر کیا ہے؟ ”الْقَائِمُ“ خبر ہے، اور یہ ”هُوَ“ میں نے بتایا حرف ہے، کیا ہے؟ حرف، یہ ضمیر نہیں ہے لہٰذا ”هُوَ“ اعراب کیا؟ تو کہیں گے: ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“، اسے کوئی محلِ اعراب نہیں کیونکہ یہ اسم ہے ہی نہیں، اسم ہوتا تو اسم پر رفع، نصب، جر آتا ہے، حرف پر کبھی آتا ہے رفع، نصب، جر؟ حرف پر نہیں آتا بھئی، تو کیا کہیں گے؟ لفظ دہراؤ، زبان سے یاد ہونے چاہیے آپ کو: ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“، پھر دہرائیں بھئی: ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“۔ اچھا دوبارہ ترکیب دیکھیے: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے، اور لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اور ”هُوَ“؟ ”هُوَ“ فصل، ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“ یا بعد میں کہہ دیں فصل ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“ فصل بھئی۔ اور آگے ”الْقَائِمُ“ یہ کیا بنے گی؟ خبر، ”الْقَائِمُ“ خبر۔ اور اس کے اندر کیا کریں گے؟ ہم نے ضمیر نکالنی ہے، لیکن میں نے بتایا یہ ہم قریب پہنچ گئے ہیں ان شاء اللہ، یہ اگلے ہی صفحے پر شاید اسمِ موصول آ رہا ہے تو وہاں اس کی ترکیب ہوگی، یہ الف لام جب آ جائے صفت کے صیغے پر، یہ ”الْقَائِمُ“ میں ”الْقَائِمُ“ الف لام اسمِ موصول ہے اور ”قَائِمُ“ یہ اس کا صلہ ہے، اور اس کے اندر جو ”هُوَ“ ضمیر ہے وہ ”الْ“ کو لوٹے گی، الف لام کو الف لام کو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر یہ موصول صلہ مل کر یہ خبر بنیں گے کس کے لیے؟ زید کے لیے، اور مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوگا بھئی۔
”وَكَانَ زَيْدٌ هُوَ أَفْضَلَ مِنْ عَمْرٍو“ توجہ ہے؟ جی ترکیب کیجیے۔ ”كَانَ“ فعل از افعالِ ناقصہ، توجہ ہے؟ مشکل تو نہیں بھئی ترکیب؟ بھئی وہ سب کچھ آپ پڑھ چکے ہیں: ”كَانَ“ یہ عمل کرتا ہے، ”إِنَّ“ یہ عمل کرتا ہے، ما ولا مشابہ بہ لیس یہ عمل کرتے ہیں، اس کے مطابق آسان ہے ترکیب بھئی۔ ”كَانَ“ فعل از افعالِ ناقصہ، آگے ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً ”كَانَ“ کا اسم، مرفوع کیوں؟ کیونکہ ”كَانَ“ کا اسم ہے اور ”كَانَ“ کا اسم مرفوع ہوتا ہے، لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے ”هُوَ“؟ ”هُوَ“ فصل، آگے اعراب بتاؤ: ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“، آگے اعراب بھئی؟ شاباش، ”أَفْضَلَ“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ تفضیل، منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ ”كَانَ“ کی خبر ہے شاباش، اور ”كَانَ“ کی خبر منصوب ہوتی ہے۔ جی، اور اچھا تنوین کیوں نہیں پڑھی اس پر؟ کیونکہ غیر منصرف ہے، کیوں؟ دو اسبابِ منعِ صرف کیا ہیں اس میں؟ ایک ہاں، وزنِ ”أَفْضَلُ“ ”أَكْرَمُ“ وزن ہے وزنِ فعل ہے، اور وصفیت ہے یہ صفت ہے نا زید کی صفت بیان ہو رہی ہے فضیلت بیان ہو رہی ہے۔ جی، جی تو ”أَفْضَلَ“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ تفضیل۔ آگے؟ ہاں اس کے لیے ہمیں صفت کے صیغے کے لیے بھی کیا چاہیے ہوتا ہے؟ فاعل، اور آگے تو ”مِنْ عَمْرٍو“ جار مجرور آ رہے ہیں آگے تو کوئی فاعل ہے نہیں، معلوم ہوا اسی کے اندر کیا کرنا پڑے گا؟ ضمیر نکالنی پڑے گی، تو کون سی ضمیر؟ ”هُوَ“، ”هُوَ“ ضمیر، اعراب اس کا؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل، کس کو راجع؟ جو راجع ہے ”كَانَ“ کے اسم کو، کیونکہ ”كَانَ“ کی خبر کو ”كَانَ“ کے اسم سے جوڑا جاتا ہے۔ آگے ”مِنْ“ جارہ، ”عَمْرٍو“ مجرور لفظاً، مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”أَفْضَلَ“ اسمِ تفضیل کے ساتھ، شاباش، اب سمیٹیے بھئی: ”أَفْضَلَ“ اسمِ تفضیل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر ”كَانَ“ کی خبر، ”كَانَ“ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی ترکیب بہت آسان ہے، بس ذرا توجہ کریں اب آپ کے لیے بہت آسان ہے ان شاء اللہ۔
دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں: ”وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾“ جی، رقیب نگہبان، ﴿كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾ آپ ان پر نگہبان ہیں۔ جی ترکیب کیجیے: ”كُنْتَ“ فعل از افعالِ ناقصہ، جی، تا ضمیر ہاں یہ تا ساتھ جڑی ہوئی ہے، ”كَانَ“ کا اسم اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے، ہاں کیا کہیں؟ شاباش، تا ضمیر مرفوع محلاً ”كَانَ“ کا اسم ہے، جی مرفوع کیوں؟ کیونکہ ”كَانَ“ کا اسم ہے اور ”كَانَ“ کا اسم مرفوع ہوتا ہے۔ آگے ”أَنْتَ“؟ ”أَنْتَ“ جی، کس سوچ میں ڈوب گئے، جلدی بتاؤ بھئی! ”أَنْتَ“ بھئی پتہ چل جانا چاہیے آپ کو: ”كُنْتَ“، ”كَانَ“ کا اسم گزر گیا کہ نہیں گزر گیا؟ اور ”الرَّقِيبَ“ یہ کیا ہے؟ اس کا نصب آپ کو بتا رہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ ”كَانَ“ کی خبر ہے، اس پر نصب آپ کو پتہ چلا یا نہیں بھئی؟ تو معلوم ہوا یہ ہے درمیان میں کیا آ گیا؟ فصل ہے فصل ہے، یہ وہی ضمیر جیسی شکل ہے لیکن ضمیر نہیں، اور بتایا تھا یہ مبتدا کے مطابق ہوتا ہے اسی جیسا ہوتا ہے، تو یہاں مبتدا مخاطب کی ضمیر ہے تو اس کی صورت بھی کیا آ گئی؟ مخاطب کی ضمیر جیسی۔ جی تو ”أَنْتَ“ فصل، ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“ شاباش۔ آگے ”الرَّقِيبَ“ منصوب لفظاً ”كَانَ“ کی خبر، ”الرَّقِيبَ“ کیا ہے؟ خبر، پہلے تو صیغہ دیکھ لیں نا، منصوب لفظاً صیغہ صفتِ مشبہ، ”فَعِيلٌ“ شریف وزن ہے۔ تو اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس... جی؟ ہاں جلدی بتائیے، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اسمِ مفعول میں نائب الفاعل ہوتا ہے باقی صفت کے صیغوں میں فاعل ہوتا ہے، یا اسی طرح فعلِ مجہول میں نائب الفاعل ہوتا ہے باقی سب میں فاعل۔ تو ”الرَّقِيبَ“ منصوب لفظاً صیغہ صفتِ مشبہ، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ”كَانَ“ کے اسم کو، ”كَانَ“ کا اسم کون سی ضمیر ہے؟ تا ضمیر، تا کس کی ضمیر ہے؟ مخاطب کی، میں نے کیا بتایا تھا ضابطہ؟ صفت کے صیغے کو جس قسم کی ضمیر سے جوڑو اس کے اندر اسی قسم کی ضمیر ہوتی ہے، ہاں تو ”الرَّقِيبَ“ کے اندر ”أَنْتَ“ ضمیر ہے مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی اور آگے ”عَلَى“ جارہ اور ”هُمْ“، ”هِمْ“ نہ پڑھنا اس کو یہ صرف اس کی حرکت ہے، ”هُمْ“ ضمیر مجرور محلاً، جار مجرور مل کر متعلق صفتِ مشبہ سے، کیونکہ آٹھ چیزوں سے جار مجرور متعلق ہوتا ہے ان میں سے ایک کیا ہے؟ صفتِ مشبہ، صفتِ مشبہ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر ”كَانَ“ کی خبر، ”كَانَ“ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
تو بصرہ والے اس کو فصل کہتے ہیں اور کوفہ والے اس کو عماد کہتے ہیں، عماد۔ عماد کا معنی ستون، یعنی بچاؤ بچاؤ، ستون کے ذریعے چھت گرنے سے بچتی ہے، تو یہ بھی عماد ہے ستون ہے یعنی مابعد کو خبر سے صفت کی طرف گرنے نہیں دیتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ خبر تو کلام کا ایک بڑا جز ہے نا اور صفت تو ایک چھوٹا جز ہے، صفت کے بغیر بھی بات پوری ہو جاتی ہے لیکن خبر کے بغیر تو بات پوری نہیں، تو صفت جو خبر ہے وہ اس کے وہ اعلیٰ جز، تو اس سے صفت کی طرف اس کو گرنے نہیں دیتا۔
بھئی اوپر آیا: ”وَيُدْخِلُ بَيْنَ الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ“ اور عرب داخل کرتے ہیں مبتدا اور خبر میں، معلوم ہوا یہ ”يُدْخِلُ“ کے اندر جو ضمیر ”هُوَ“ ہے وہ عربوں کی طرف راجع ہے، کس کی طرف؟ عربوں کی طرف۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہاں تو ماقبل میں کہیں عربوں کا ذکر نہیں ہوا۔ تو جواب یہ کہ بھئی سیاقِ کلام عربوں پہ دلالت کر رہا ہے کلام کا چلاؤ، اس لیے کیونکہ یہ عربی زبان کے قوانین ہم پڑھ رہے ہیں، جب قوانین عربی زبان کے ہیں تو گویا عربوں کا ذکر معناً ہو چکا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس لیے ان کی طرف ضمیر راجع کر دی، تو وہ جو صورتیں پڑھی تھیں: ضمیر کا مرجع مقدم ہوگا کبھی لفظاً کبھی معناً کبھی حکماً، یہ کون سی قسم ہے؟ معناً مقدم ہے، معناً کے اندر دو صورتیں تھیں نا: یا تو کسی اور لفظ کے ضمن میں مرجع گزرا ہو یا سیاقِ کلام اس پر دلالت کر رہا ہو۔ تو یہاں یہ عربوں کی طرف، اور ماقبل میں اسی ایک سطر ماقبل میں آیا تھا: ”أَنَّ لَهُمْ“، ”لَهُمْ“ یہ ”لَهُمْ“ ضمیر نحویوں کو راجع کی تھی، سوال پیدا ہوا کہ نحویوں کا تو ماقبل میں ذکر ہی نہیں ہوا، جواب یہ کہ نحو کی کتاب چل رہی ہے تو گویا کہ نحویوں کا ذکر ہو چکا ہے یعنی سیاقِ کلام ان پر دلالت کر رہا ہے، تو یہ وہ معناً کے اندر داخل ہیں۔
فَصْلٌ: أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ: مَا وُضِعَ لِيَدُلَّ عَلَى مُشَارٍ إِلَيْهِ، وَهِيَ خَمْسَةُ أَلْفَاظٍ لِسِتَّةِ مَعَانٍ.
اسماءِ اشارہ کے بارے میں اب بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اسماءِ اشارہ: ”مَا“ وہ اسم ہے ”وُضِعَ“ جس کو وضع کیا گیا ہو ”لِيَدُلَّ عَلَى مُشَارٍ إِلَيْهِ“ تاکہ وہ مشارٌ الیہ پر دلالت کرے۔ مشارٌ الیہ جس کی طرف اشارہ کیا جائے بھئی۔ ”هَذَا“ آپ کہتے ہیں، ”هَذَا“ جس چیز کی طرف اشارہ کریں گے ”هَذَا“ اس پر دلالت کرے گا، مثلاً ”هَذَا“ نے آپ کی طرف کتاب... ”هَذَا“ کے ذریعے آپ نے کتاب کی طرف اشارہ کیا تو اس نے کس پر دلالت کی؟ کتاب پر، ”هَذَا“ کہہ کر آپ نے قلم کی طرف اشارہ کیا تو ”هَذَا“ نے کس پر دلالت کی؟ قلم پر بھئی۔ تو جس چیز کی طرف اشارہ کریں گے وہ مراد ہوگا، یہی بیان کر رہے ہیں: ”مَا وُضِعَ“ جس کو وضع کیا گیا ہے ”لِيَدُلَّ عَلَى مُشَارٍ إِلَيْهِ“ تاکہ دلالت کرے مشارٌ الیہ پر۔ مشارٌ الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کی طرف اشارہ کیا جائے۔ ”وَهِيَ خَمْسَةُ أَلْفَاظٍ لِسِتَّةِ مَعَانٍ“ اور یہ پانچ الفاظ ہیں چھ معانی کے لیے بھئی۔
توجہ ہے؟ پانچ الفاظ یعنی پانچ قسم کے الفاظ ہیں، کتنے؟ ہاں پانچ لفظ نہیں ہیں پانچ قسم کے لفظ ہیں بھئی۔ اچھا بھئی پانچ الفاظ ہیں، معانی کتنے؟ چھ۔ یاد رکھو دراصل معنی چھ تھے، دیکھو جو مشارٌ الیہ ہے، کون؟ مشارٌ الیہ، وہ یا مفرد مذکر ہوگا یا تثنیہ مذکر ہوگا یا جمع مذکر، اسی طرح یا مشارٌ الیہ مفرد مؤنث ہوگا یا تثنیہ مؤنث یا جمع مؤنث، تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ۔ لیکن ان چھ میں سے جو جمع مذکر اور جمع مؤنث ہیں ان کے لیے ایک ہی اسمِ اشارہ استعمال ہوتا ہے، تو کتنے ہو گئے؟ پانچ ہو گئے، تو اس لیے کہا معانی چھ ہیں لیکن الفاظ کتنے ہیں؟ پانچ ہیں، اور پانچ سے مراد پانچ الفاظ نہیں ہیں پانچ قسمیں ہیں، کیونکہ ایک کئی کئی ہیں ایک کے لیے، مفرد مذکر کے لیے کئی ہیں، مفرد مؤنث کے لیے کئی ہیں، تو قسمیں گویا کتنی ہیں؟ پانچ قسمیں ہیں، چھ قسم کے معانی ہیں اور الفاظ کتنے اس کے لیے؟ پانچ قسم کے۔ یہ معنی ہے ”وَهِيَ خَمْسَةُ أَلْفَاظٍ لِسِتَّةِ مَعَانٍ“ اور یہ پانچ قسم کے الفاظ ہیں چھ معانی کے لیے، ”وَذَلِكَ“ اور وہ یہ ہیں: ”ذَا لِلْمُذَكَّرِ“ ”ذَا“ کس لیے آتا ہے؟ واحد مذکر کے لیے۔ یہ جو آپ پڑھتے ہیں نا ”هَذَا“ یہ وہی ”ذَا“ ہے، شروع میں ہا بڑھا دی بھئی، یہ آگے چل کر خود بھی آپ کو بتائیں گے کہ ان کے شروع میں کبھی ہا لگا دیتے ہیں، ہا نہ بھی لگائیں آپ صرف یہ کہہ دیں ”ذَا كِتَابٌ“ یہ کیا ہے؟ کتاب ہے، آپ کا کلام صحیح ہے، لیکن عموماً کیا لگا دیتے ہیں؟ ہا لگا دیتے ہیں شروع میں۔
تو وہ الفاظ یہ ہیں اب ذکر کر رہے ہیں: ”ذَا لِلْمُذَكَّرِ“ ”ذَا“ کس لیے آتا ہے؟ واحد مذکر کے لیے، ”وَذَانِ وَذَيْنِ لِمُثَنَّاهُ“ اور ”ذَانِ“ اور ”ذَيْنِ“ ”لِمُثَنَّاهُ“، ہا ضمیر راجع ہے مذکر کو یعنی لمثنی المذکر، اور ”ذَانِ“ اور ”ذَيْنِ“ مذکر کے تثنیہ کے لیے۔ مذکر مفرد ہو تو ”ذَا“، تثنیہ ہو تو ”ذَانِ“ اور ”ذَيْنِ“۔ بھئی ”ذَانِ“ کہاں استعمال کریں گے، ”ذَيْنِ“ کہاں استعمال کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی حالتِ رفعی میں حالتِ رفعی میں ”ذَانِ“ استعمال کریں گے، حالتِ نصبی جری میں ”ذَيْنِ“ استعمال کریں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیا بات ہوئی؟ بھئی جیسے تثنیہ تھا ”رَجُلَانِ“، حالتِ رفعی میں کیا کہتے تھے؟ ”رَجُلَانِ“، اور نصبی جری میں ”رَجُلَيْنِ“، یہاں بھی اسی طرح ہے: حالتِ رفعی میں کہیں گے ”ذَانِ“ اور حالتِ نصبی جری میں ”ذَيْنِ“ کہیں گے، تثنیہ مذکر میں اس طرح ہے۔ اس پر فوراً آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ یہ بحث تو چل رہی ہے مبنی کی اور مبنی وہ ہے جو بدلتا نہیں، اور ”رَجُلَانِ“ اور ”رَجُلَيْنِ“ تثنیہ وہ تو معرب میں گزرا تھا وہ تو معرب ہے، تثنیہ تو کیا ہے؟ معرب ہے، معرب کی حالت بدلتی ہے مبنی کی حالت تو نہیں بدلتی، اور یہاں آپ ہمیں خود بتا رہے ہیں: حالتِ رفعی میں ”ذَانِ“ اور حالتِ نصبی جری میں وہ الف کس سے بدل گیا؟ یا سے بدل گئی، تو معلوم ہوا یہ تو معرب ہے اور ذکر کس میں کر رہے ہیں آپ؟ مبنی کے اندر، تو اس کو تو معرب کہنا چاہیے آپ اس کو مبنی کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ مبنی ہی ہے، یہ کیا ہے؟ مبنی ہے۔ تو سوال: پھر یہ بدل تو رہا ہے، پھر کیسا مبنی ہے؟ مبنی تو نہیں بدلتا۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ جواب یہ کہ نہیں بھئی آپ غلط سمجھے، بات دراصل یہ ہے: ”ذَانِ“ لفظ ہی الگ ہے، ”ذَيْنِ“ لفظ ہی الگ ہے۔ وہاں کیا تھا؟ اسی ”رَجُلَانِ“ اسی کا الف کس سے بدلتا تھا؟ یا سے۔ یہاں ”ذَانِ“ لفظ ہی الگ ہے، حالتِ رفعی میں یہ ”ذَانِ“ والا لفظ استعمال کر لیتے ہیں، اور ”ذَيْنِ“ لفظ ہی الگ وضع کیا گیا ہے، حالتِ نصبی جری میں یہ والا لفظ لا کر استعمال کر لیتے ہیں۔ تو جب آپ حالتِ نصبی جری میں کہتے ہیں ”ذَيْنِ“ تو یہ وہ ”ذَانِ“ کی الف نہیں بدلا، یہ لفظ ہی الگ ہے، وہ لفظ وضع ہی کیا تھا وہ والا ”ذَانِ“، اور یہ وضع ہی کیا ہے ”ذَيْنِ“۔ اس کو وضع کیا ہے مقامِ رفع میں اس کو استعمال کرنا اور ”ذَيْنِ“ کو استعمال کیا ہے حالتِ نصبی جری میں اس کو استعمال کرنا، تو یہ وہی الف نہیں بدل رہا یہ دونوں لفظ ہی الگ ہیں، ہاں ان کی تثنیہ کے ساتھ مشابہت ہے لیکن یہ اتفاقاً آ گئی، یہ تثنیہ ہے نہیں، یعنی یہ وہ تثنیہ نہیں ہے جس کا الف کس سے بدلتا ہے؟ یا سے۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں آئی؟ وہاں کیا ہوتا ہے تثنیہ میں؟ ”رَجُلَانِ“ اسی وہ ”رَجُلَانِ“ کا الف حالتِ نصبی جری میں کس سے بدلتا ہے؟ یا سے۔ یہاں پر ایسا نہیں ہے کہ اسی ”ذَانِ“ کا الف بدلے، بلکہ ”ذَانِ“ لفظ ہی الگ ہے اس کو وضع ہی اس طرح کیا گیا ہے کہ اس کو مقامِ... اس کو رفع والی جگہ استعمال کرنا ہے، اسی طرح ایک اور لفظ الگ باقاعدہ وضع کیا گیا اور وہ کیا ہے؟ ”ذَيْنِ“، اور اس کو کس لیے وضع کیا؟ تاکہ اس کو کہاں پر استعمال کرنا ہے؟ حالتِ نصبی جری میں۔ تو یہ وہی ”ذَانِ“ نہیں بدلتا بلکہ یہ لفظ ہی الگ ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَذَانِ وَذَيْنِ لِمُثَنَّاهُ“ ”ذَانِ“ اور ”ذَيْنِ“ جو ہے مذکر کے تثنیہ کے لیے ہیں، ”وَتَا وَتِي وَذِي وَتِهْ وَذِهْ وَتِهِي وَذِهِي لِلْمُؤَنَّثِ“ یہ سارے مؤنث کے لیے ہیں، یعنی واحد مؤنث کے لیے بھئی۔ بھئی میں نے ابھی آپ کو بتایا تھا یہ پانچ الفاظ ہیں، پانچ الفاظ کا کیا معنی تھا؟ واحد مذکر کے لیے اور تثنیہ مذکر، پھر واحد مؤنث اور تثنیہ مؤنث، اور جمع دونوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے اسی لیے تو پانچ لفظ کہا ہے انہوں نے، تو وہ جمع کو آخر میں اکٹھا ذکر کریں گے۔ تو پہلے واحد مذکر کو ذکر کیا، پھر تثنیہ مذکر کو، اب واحد مؤنث کو ذکر کریں گے پھر تثنیہ مؤنث کو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَا وَتِي وَذِي وَتِهْ وَذِهْ وَتِهِي وَذِهِي لِلْمُؤَنَّثِ“ یہ کس لیے ہے؟ مؤنث کے لیے۔ بھئی میں نے اسی لیے کہا تھا پانچ الفاظ نہیں ہیں، پانچ قسم کے الفاظ ہیں، دیکھو کتنے سارے لفظ آ گئے لیکن یہ ساروں کو ایک ہی شمار کرتے ہیں کیونکہ یہ سب کس لیے ہیں؟ واحد مؤنث کے لیے، تو یہ ایک قسم ہے سارے۔
”وَتَانِ وَتَيْنِ لِمُثَنَّاهُ“ یہ ”لِمُثَنَّاهُ“ کے آخر میں جو ہا ضمیر ہے یہ مؤنث کو راجع، اور ”تَانِ“ اور ”تَيْنِ“ مؤنث کے تثنیہ کے لیے، ”لِمُثَنَّاهُ“ یعنی لمثنی المؤنث، ”تَانِ“ اور ”تَيْنِ“ مؤنث کے تثنیہ کے لیے۔ یہاں پھر وہی اشکال ہوتا ہے کہ ”تَانِ“ حالتِ رفعی میں استعمال ہوتا ہے، ”تَيْنِ“ کس میں؟ حالتِ نصبی جری میں، تو سوال: پھر تو یہ معرب ہوا؟ جواب: نہیں، ”تَانِ“ لفظ ہی الگ ہے اور ”تَيْنِ“ لفظ... ان کو وضع ہی اس طرح کیا گیا ہے: ”تَانِ“ کو حالتِ رفعی کے لیے وضع کیا گیا ہے اور ”تَيْنِ“ کو حالتِ نصبی جری کے لیے، اور تثنیہ کے ساتھ جو ان کی مشابہت ہو رہی ہے وہ اتفاقاً ہو گئی بھئی۔
”وَأُولَاءِ بِالْمَدِّ وَالْقَصْرِ لِجَمْعِهِمَا“ اور ”أُولَاءِ“، ”أُولَاءِ“ اور ”أُولَى“ ایک کے آخر میں ہمزہ ہے ایک بغیر ہمزہ کے ساتھ۔ ہمزہ ہو آخر میں، الف کے بعد ہمزہ ہو تو یہ مدہ الفِ ممدودہ کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ الفِ ممدودہ، اور اگر الف کے بعد ہمزہ نہ ہو تو یہ الفِ مقصورہ کہلاتا ہے۔ تو ”أُولَى“ بغیر ہمزہ کے اور ”أُولَاءِ“ ہمزہ کے ساتھ، لمبا کرنا ہے کیونکہ ممدودہ ہے۔ تو یہ دونوں طرح یہ لفظ استعمال ہوتا ہے: ”أُولَاءِ بِالْمَدِّ وَالْقَصْرِ“ مد کے ساتھ بھی ہے اور قصر کے ساتھ بھی ہے، ”لِجَمْعِهِمَا“ ہونا چاہیے بھئی یہ، ”لِجَمْعِهِمَا“ ہے آپ کی کتابوں میں؟ ”لِجَمْعِهَا“ ہے؟ نہیں، ”هُمَا“، ”لِجَمْعِهِمَا“ ان دونوں کی جمع کے لیے ہے۔ ان دونوں کون دونوں؟ مذکر اور مؤنث، ہاں، تو مذکر مؤنث دونوں کی جمع کے لیے ”أُولَى“ لفظ استعمال ہوتا ہے: ”أُولَى“ قصر کے ساتھ اور ”أُولَاءِ“ مد کے ساتھ۔
”وَقَدْ يُلْحَقُ بِأَوَائِلِهَا هَاءُ التَّنْبِيهِ“ اور کبھی کبھار ملا دیا جاتا ہے ان کے شروع کے ساتھ ہائے تنبیہ، کس کو؟ ہائے تنبیہ۔ تنبیہ کی ہا بھئی، تنبیہ، تنبیہ کا معنی دوسرے کو متنبہ کرنا۔ بھئی دیکھیے آپ کسی کی توجہ اپنی طرف کروانا چاہتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ہا، آواز نکالی، اس ہا سے کیا ہوا دوسرا آپ کی طرف متوجہ، جیسے آپ کہتے ہیں نا ”يَا زَيْدُ“، ”يَا“ کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ دوسرے کو اپنی طرف متوجہ، اسی طرح یہ ہا بھی دوسرے کو متنبہ کرنے کے لیے عربی میں استعمال ہوتی ہے، تو اس کو ہائے تنبیہ کہتے ہیں اور یہ اسمِ اشارہ پر عام داخل ہوتی ہے، ”نَحْوُ: هَذَا“ دیکھا، یہ وہی ”ذَا“ ہے ”ذَا“ کے شروع میں کیا بڑھا دی؟ تنبیہ والی ہا بڑھا دی۔ ”وَهَذَانِ“ دیکھا وہی ”ذَانِ“ ہے اور شروع میں کیا بڑھا دی؟ تنبیہ والی ہا، تو ”هَذَا وَهَذَانِ وَهَؤُلَاءِ“ دیکھا وہی ”أُولَاءِ“ ہے شروع میں کیا بڑھا دی؟ ہا۔
”وَيَتَّصِلُ بِأَوَاخِرِهَا حَرْفُ الْخِطَابِ“ اور ان کے آخر کے ساتھ مل جاتا ہے حرفِ خطاب، ان کے آخر کے ساتھ... بھئی شروع میں تو ان کے مل جاتی ہے تنبیہ والی ہا، اور آخر میں کیا مل جاتا ہے؟ حرفِ خطاب، جیسے ”ذَاكَ“ دیکھا کاف مل گیا، کاف مل گیا۔ ”وَهُوَ أَيْضًا خَمْسَةُ أَلْفَاظٍ لِسِتَّةِ مَعَانٍ“ اور وہ حرفِ خطاب بھی پانچ الفاظ ہیں پانچ معانی کے لیے... پانچ الفاظ ہیں چھ معانی کے لیے، ”نَحْوُ: كَ، كُمَا، كُمْ، كِ، كُنَّ“، ”كِ“ اور ”كُمَا“ دونوں کے لیے ایک جیسا ہے اس لیے اس کو دوبارہ ذکر نہیں کیا، اور ”كُنَّ“۔ کتنے الفاظ ہو گئے؟ پانچ: ”كَ، كُمَا، كُمْ“ یہ مذکر کے لیے، اور ”كِ، كُمَا، كُنَّ“ یہ مؤنث کے لیے، لیکن ”كُمَا“ دونوں میں ایک جیسا ہے اس لیے اس کو دو دفعہ ذکر نہیں کیا اسی لیے کہا پانچ الفاظ ہیں کیونکہ ”كُمَا“ تثنیہ والا دونوں میں مشترک ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
بھئی یاد رکھیے ادھر دیکھیے، یہ جو اسمِ اشارہ ہے نا اس کے آخر میں کبھی کبھار آخر میں حرفِ خطاب جوڑ دیتے ہیں اور یہ پانچ الفاظ ہیں، انہوں نے آپ کو بتایا اور چھ معانی ہیں۔ پانچ الفاظ کون سے ہیں؟ ”كَ، كُمَا، كُمْ، كِ“ اور ”كُنَّ“، ”كُمَا“ تو گزر گیا تو پانچ الفاظ، اور معانی چھ ہیں: واحد مذکر مخاطب، تثنیہ مذکر مخاطب، جمع مذکر مخاطب، واحد مؤنث مخاطبہ، تثنیہ مؤنث مخاطبہ اور جمع مؤنث مخاطب۔ بھئی میں جس سے بات کر رہا ہوں اس میں یہی چھ صورتیں ہو سکتی ہیں: میرے سامنے یا ایک مرد ہوگا یا دو مرد ہوں گے یا دو سے زیادہ ہوں گے، واحد ہوگا تثنیہ ہوگا یا جمع، یا وہ مؤنث ہوں گی جن سے بات کی جا رہی ہے تو وہ واحد ہوگی یا تثنیہ ہوگی یا جمع۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ حرفِ خطاب ہے، تو یہ حرفِ خطاب جوڑ دیتے ہیں اسمِ اشارہ کے ساتھ، اور یہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ بات کتنے لوگوں سے کی جا رہی ہے۔ مثلاً دور کھڑا زید کھڑا تھا، میرے سامنے ایک مرد کھڑا ہے، میں اس مرد کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ زید ہے، وہ زید ہے، تو میں کیا کہوں گا؟ ”ذَاكَ زَيْدٌ“، ”ذَاكَ زَيْدٌ“۔ دیکھو ”ذَا“ تو اسمِ اشارہ ہے، یہ اس کے ساتھ جو کاف میں نے جوڑا یہ کاف حرفِ خطاب ہے، یہ صرف اتنا بتا رہا ہے کہ میرا مخاطب ایک مرد ہے، ایک مذکر ہے۔ ”ذَاكَ زَيْدٌ“، ترجمہ کیا ہوگا؟ وہ زید ہے۔ یہ کاف کا ترجمہ نہیں ہوگا، معلوم ہوا یہ حرف ہے، اگر حرف نہ ہوتا تو اس کا بھی ترجمہ ہوتا، یہ صرف اتنا بتا رہا ہے کہ میرا مخاطب کیا ہے؟ ایک مرد ہے۔ اگر میرے سامنے دو مرد ہوتے اور میں نے اشارہ اسی زید کی طرف کرنا ہے میں کیسے کہوں گا؟ ”ذَاكُمَا زَيْدٌ“، ترجمہ وہی ہوگا: وہ زید ہے۔ ”ذَاكَ زَيْدٌ“ تب بھی وہی ترجمہ، ”ذَاكُمَا زَيْدٌ“ وہ زید ہے وہی ترجمہ، ”ذَاكُمْ زَيْدٌ“ پھر بھی وہی ترجمہ وہ زید ہے، ”ذَاكِ زَيْدٌ“ وہ زید ہے، ”ذَاكُمَا زَيْدٌ“ وہی ترجمہ، ”ذَاكُنَّ زَيْدٌ“ وہ زید ہے۔ ترجمہ سب کا وہی ہے اور یہ جو آخر میں ”كَ، كُمَا، كُمْ، كِ، كُمَا، كُنَّ“ آ رہا ہے ان کا ترجمہ نہیں ہو رہا، معلوم ہوا یہ حرف ہیں، صورت تو ضمیر جیسی ہے لیکن ضمیر نہیں، یہ حرف ہیں ان کا ترجمہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ آپ کا مخاطب کون ہے۔ جب میں نے کہا ”ذَاكَ زَيْدٌ“ آپ سمجھ گئے میں کتنے لوگوں کو بتا رہا ہوں؟ ایک مذکر کو۔ اب میں جب کہتا ہوں ”ذَاكُمَا زَيْدٌ“ ترجمہ کیا ہوگا؟ ”ذَاكُمَا زَيْدٌ“ وہ زید ہے، ترجمہ وہی ہے، لیکن میں کتنے لوگوں کو یہ بتا رہا ہوں؟ وہ دو مذکر ہیں۔ میں کہتا ہوں ”ذَاكُمْ زَيْدٌ“ ترجمہ کیا ہوگا؟ وہ زید ہے، لیکن میں کتنے لوگوں کو یہ بتا رہا ہوں؟ معلوم ہوا میرے پاس تین یا زیادہ مرد کھڑے ہیں مذکر، میں ان کو بتا رہا ہوں وہ زید ہے۔ میں کہتا ہوں ”ذَاكِ زَيْدٌ“ کیا معنی؟ وہ زید ہے، یہ میں کس کو بتا رہا ہوں؟ ایک عورت، کیسے پتہ چلا آپ کو ایک عورت ہے؟ ”ذَاكِ“ کے آخر میں جو کاف مکسور جو آ رہا ہے یہ بتلا رہا ہے۔ ”ذَاكُنَّ زَيْدٌ“ وہ زید، یہ میں کس کو بتا رہا ہوں؟ تین یا زیادہ عورتوں کو، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ یہ ”كُنَّ“۔ گویا یہ جو حرفِ خطاب ہوتا ہے اسمِ اشارہ کے آخر میں، اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا، ترجمہ نہیں ہوتا، معلوم ہوا یہ حرف ہے ضمیر نہیں۔ یہ صرف کیا بتاتا ہے کہ میرا مخاطب وہ ایک مرد ہے یا دو مرد ہیں یا زیادہ ہیں، ایک مؤنث ہے یا دو مؤنث ہیں یا زیادہ ہیں۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کاف حرفِ خطاب، یا یوں کہیں کاف حرفیہ خطابیہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کاف حرفیہ خطابیہ، اور یہ کہاں جڑتا ہے؟ اسمِ اشارہ کے آخر میں۔ جیسے ہائے تنبیہ کس کے شروع میں جڑتی ہے؟ اسمِ اشارہ کے، تنبیہ والی ہا اسمِ اشارہ کے شروع میں جڑتی ہے اور کاف حرفیہ خطابیہ کہاں جڑتا ہے؟ آخر میں۔ اس لیے اب قرآن میں آپ کو یہ حرفِ خطاب اس طرح جگہ جگہ آپ کو ملے گا اب آپ کو بات سمجھ میں آئے گی، کہیں پر کیا ہوگا مثلاً ”ذَاكَ“ یا ”ذَلِكَ“، کہیں ہوگا ”ذَلِكُمَا“، کہیں ہوگا ”ذَلِكُمْ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس سے اتنا پتہ چل گیا کہ مخاطب ایک ہیں یا دو ہیں یا تین، ترجمہ البتہ اس کا نہیں ہوگا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَيَتَّصِلُ بِأَوَاخِرِهَا حَرْفُ الْخِطَابِ“ اور یہ اسماءِ اشارہ کے آخر کے ساتھ مل جاتا ہے حرفِ خطاب، ”وَهُوَ أَيْضًا خَمْسَةُ أَلْفَاظٍ لِسِتَّةِ مَعَانٍ“ اور یہ بھی پانچ الفاظ ہیں چھ معانی کے لیے، ”نَحْوُ: كَ، كُمَا، كُمْ، كِ، وَكُنَّ، فَذَلِكَ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ“ تو یہ پچیس ہو گئے تو یہ پچیس ہیں، ”الْحَاصِلُ مِنْ ضَرْبِ خَمْسَةٍ فِي خَمْسَةٍ“ جو حاصل ہوتے ہیں پانچ کو پانچ میں ضرب دینے سے۔ بھئی دیکھیے اسمِ اشارہ کی کتنی قسمیں؟ پانچ قسمیں، کون کون سی؟ شروع میں بتایا تھا: جمع کے لیے تو دونوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے، البتہ واحد مذکر کے لیے، تثنیہ مذکر کے لیے، واحد مؤنث کے لیے، تثنیہ مؤنث کے لیے اور آخری دونوں کی جمع مذکر اور مؤنث دونوں کی جمع، تو یہ پانچ قسم کے لفظ ہیں، اور ان سب کے ساتھ یہ حرفِ خطاب جڑتا ہے، کس کے ساتھ؟ اور حرفِ خطاب کتنی قسم کے؟ پانچ قسم کے۔ تو پہلی قسم کیا تھی اسمِ اشارہ کی؟ واحد مذکر، اس کے ساتھ پانچوں قسم کے حرفِ خطاب جڑ گئے کتنی قسمیں ہو گئیں؟ پانچ۔ اگلی قسم کیا ہے؟ تثنیہ، تثنیہ کے ساتھ بھی پانچوں جڑ گئے کتنے ہو گئے؟ دس۔ تو اسی طرح واحد مؤنث کے ساتھ بھی پانچوں جڑ گئے: پندرہ، اور تثنیہ مؤنث کے ساتھ بھی پانچوں حرفِ خطاب جڑ گئے: بیس، اور جمع کے ساتھ بھی پانچ جڑ گئے تو کتنے؟ پچیس، تو پچیس لفظ بن جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”فَذَلِكَ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ، الْحَاصِلُ مِنْ ضَرْبِ خَمْسَةٍ فِي خَمْسَةٍ“ تو یہ پچیس وہ ہیں جو حاصل ہوتے ہیں پانچ کو پانچ میں ضرب دینے سے، ”وَهِيَ“ اور وہ یہ ہیں بھئی، اب کچھ مثالیں ویسے ذکر کر رہے ہیں: ”ذَاكَ إِلَى ذَاكُنَّ“ ”ذَاكَ“ سے لے کر ”ذَاكُنَّ“ تک، کیسے؟ ”ذَاكَ، ذَاكُمَا، ذَاكُمْ، ذَاكِ، ذَاكُمَا“ دوبارہ بے شک ذکر کریں یا نہ کریں اور ”ذَاكُنَّ“۔ ”وَذَانِكَ“ یہ ”ذَانِكَ“ کیا تھا؟ تثنیہ نا، تثنیہ تھا، تو یہ ”ذَاكَ“ سے لے کر ”ذَانِكَ“ سے لے کر ”ذَانِكُنَّ“، کیسے ہوگا؟ ”ذَانِكَ، ذَانِكُمَا، ذَانِكُمْ، ذَانِكِ، ذَانِكُمَا، ذَانِكُنَّ“ تو وہ تثنیہ کو ہم بہرحال دو دفعہ ہی گزار لیتے ہیں، وہ ایک ہی ہے ایک ہی ہے۔ ”وَكَذَلِكَ الْبَوَاقِي“ اور اسی طرح باقی بھی ہیں یعنی واحد مؤنث بھی اور تثنیہ مؤنث بھی اور جمع بھی۔
”وَاعْلَمْ أَنَّ ذَا لِلْقَرِيبِ وَذَلِكَ لِلْبَعِيدِ وَذَاكَ لِلْمُتَوَسِّطِ“ بھئی یاد رکھیے عربی زبان سید الالسنہ ہے تمام زبانوں کی سردار ہے، بے انتہا فصیح و بلیغ زبان ہے، بڑی لمبی بات مختصر لفظوں میں ادا ہو جاتی ہے اس کے اندر، اور اتنے الفاظ ہیں اتنے الفاظ، ذخیرہ اتنا عظیم کہ کوئی زبان اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتی بھئی قریب بھی، اور اس میں ایک حرف بھی بے کار نہیں: دیکھو اسمِ اشارہ ”ذَا“، ”ذَا“ کا معنی یہ، ”ذَاكَ“ یہ بھی اسمِ اشارہ، اور ”ذَلِكَ“ یہ بھی اسمِ اشارہ۔ تو لیکن ان میں ایک حرف بھی زائد نہیں، ”ذَا“ کے اندر حروف تھوڑے: ذال اور الف، تو یہ قریب کے لیے ہے۔ ”ذَلِكَ“ اس میں حروف زیادہ، کیا؟ حروف اس میں چار... ”ذَلِكَ“ میں حروف کتنے؟ چار۔ آپ یہ نہ کہیں ”ذَلِكَ“ میں تو حروف تین ہیں: ذال، لام، کاف، نہیں نہیں تلفظ کا اعتبار ہے: ”ذٰلِكَ“ ذال کے بعد الف پڑھ رہا ہوں یا نہیں پڑھ رہا میں؟ تو ذال، الف، لام، کاف کتنے حروف؟ چار۔ اور ”ذَاكَ“ اس کے اندر کتنے حروف؟ تین۔ تو جس میں حروف کم وہ قریب کے لیے، جس میں حروف سب سے زیادہ وہ دور کے لیے، اور جس میں حروف متوسط وہ متوسط کے لیے۔ تو ”ذَا“ قریب کے لیے، زید قریب ہو تو میں کہوں گا ”ذَا زَيْدٌ“ یا ”هَذَا زَيْدٌ“، زید اگر دور ہوا تو میں کہوں گا ”ذَلِكَ زَيْدٌ“، اور اگر متوسط ہوا تو ”ذَاكَ“ کہوں گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ ذَا لِلْقَرِيبِ“ جان لے کہ ”ذَا“ جو ہے وہ قریب کے لیے ہے، ”وَذَلِكَ لِلْبَعِيدِ“ اور ”ذَلِكَ“ بعید کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی نا؟ تلفظ کا اعتبار ہے: ”ذٰلِكَ“ دیکھو ذال کے بعد میں ایک الف پر تلفظ کر رہا ہوں، تو ذال، الف، لام، کاف چار حروف ہو گئے، تو ”ذَلِكَ“ بعید کے لیے ہے، ”وَذَاكَ لِلْمُتَوَسِّطِ“ اور ”ذَاكَ“ جس میں تین حروف ہیں وہ کس کے لیے ہے؟ متوسط۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصنف نے ترتیب صحیح نہیں رکھی، قریب کے بعد متوسط آنا چاہیے تھا پھر اس کے بعد بعید آنا چاہیے تھا: قریب، متوسط اور پھر بعید، درجہ بدرجہ۔ کہتے ہیں نہیں بھئی مصنف کی ترتیب بالکل ٹھیک ہے، جو متوسط ہے یہ اس کا پتہ قرب اور بعد کے بعد پتہ چلے گا۔ کس کے بعد؟ پہلے قریب آپ کس کو کہہ رہے ہیں اور بعید کس کو کہہ رہے ہیں یہ تو ذرا پتہ چلے، پھر جو ان کے بیچ ہوگا اس کو ہم کہیں گے متوسط۔ جب تک قریب اور بعید کا پتہ نہیں چلے گا متوسط کا پتہ بھی نہیں، مثلاً زید میرے سے دس فٹ دور کھڑا ہے، اب اس کو میں متوسط کہوں یا نہ کہوں؟ کتنا دور ہے؟ دس فٹ دور کھڑا ہے، مجھے نہیں پتہ۔ جب تک پانچ فٹ والے کو میں قریب اور پندرہ والے کو میں بعید نہیں کہوں گا یہ دس والا متوسط نہیں بن سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پانچ فٹ والے کو میں کیا کہوں یہ تو قریب، پندرہ فٹ ایک کھڑا تھا میں کہوں یہ دور ہے، تو دس فٹ والے کو آپ خود ہی کہیں گے یہ متوسط ہے۔ اور اس کی ذرا اور صورت بنا لو: ایک آدمی میرے سے پچاس فٹ دور کھڑا ہے اور ایک سو فٹ دور کھڑا ہے، میں نے کہا یہ پچاس فٹ والا قریب ہے اور سو فٹ والا بعید ہے، اب آپ خود سمجھ گئے جو ان دونوں کے بیچ ہے ستر یا اسی فٹ والا وہ کیا ہے؟ متوسط ہے۔ تو توسط کا پتہ ہی کس سے چلے گا؟ قرب اور بعد طے ہو جانے کے بعد، کیونکہ وہ ان دونوں کے درمیان نسبت کا نام ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں جان لے کہ ”ذَا“ قریب کے لیے ہے اور ”ذَلِكَ“ بعید کے لیے، تو دیکھو پہلے قریب اور بعید کو ذکر کر دیا پھر اس کے بعد ”وَذَاكَ لِلْمُتَوَسِّطِ“ اور ”ذَاكَ“ کس لیے ہے؟ متوسط کے لیے ہے بھئی۔
چلیے بس ہٰذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔