Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-069

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 53
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَاعْلَمْ أَنَّ الْإِضَافَةَ عَلَى قِسْمَيْنِ مَعْنَوِيَّةٌ وَلَفْظِيَّةٌ، أَمَّا الْمَعْنَوِيَّةُ فَهِيَ أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ غَيْرَ صِفَةٍ مُضَافَةٍ إِلَى مَعْمُولِهَا، وَهِيَ إِمَّا بِمَعْنَى اللَّامِ نَحْوُ غُلَامُ زَيْدٍ أَوْ بِمَعْنَى مِنْ نَحْوُ خَاتَمُ فِضَّةٍ أَوْ بِمَعْنَى فِي نَحْوُ صَلَاةُ اللَّيْلِ۔ گزشتہ سبق میں ہم مجرورات کے بارے میں پڑھ رہے تھے اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مجرور جو ہے وہ صرف مضاف الیہ ہوتا ہے۔ وہ صرف کیا ہے؟ مضاف الیہ ہے اور وہ ہر ایسے اسم کو کہتے ہیں جس کی طرف کسی چیز کی نسبت کی جائے بواسطۂ حرفِ جار کے، یعنی جس پر حرفِ جار داخل ہو۔ تو جس پر حرفِ جار داخل ہوا، معلوم ہوا اس کی طرف کسی چیز کی نسبت کی جا رہی ہے اور کس کے واسطے سے؟ حرفِ جار کے واسطے۔ اور یہ حرفِ جار کبھی لفظوں میں ہوتا ہے اور کبھی تقدیراً ہوتا ہے۔ اگر لفظوں میں موجود ہو تو اصطلاحِ نحو کے اندر اس کو جار مجرور کہتے ہیں اور اگر تقدیراً ہو، لفظوں میں موجود نہ ہو تو پھر اس کو اصطلاحِ نحو میں مضاف اور مضاف الیہ کہتے ہیں بھئی۔ تو گویا خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ مجرور جو ہیں دو ہو گئے بھئی۔ وہ مضاف الیہ کی دو قسمیں ہیں نا، تو وہ دونوں دو مجرور ہو گئے۔ ایک کو اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟ جار مجرور اور دوسرے کو مضاف اور مضاف الیہ۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو مجرور دو ہوئے بھئی: ایک وہ جس پر حرفِ جار داخل ہو اور ایک وہ جس پر مضاف داخل ہو، یعنی مضاف الیہ بھئی۔ اب اضافت کی بات آ گئی تو مصنف جو ہے آپ کو اضافت کی تفصیل بتلانا چاہتے ہیں اور وہ آپ کو بتلائیں گے کہ اضافت جو ہے وہ دو قسم پر ہے: ایک اضافتِ لفظیہ ہے اور ایک اضافتِ معنویہ ہے۔ کتنی قسمیں ہیں اضافت کی؟ دو قسمیں: ایک اضافتِ لفظیہ اور ایک اضافتِ معنویہ۔ اضافتِ لفظیہ پہلے سمجھ لیں تو پھر اضافتِ معنویہ بھی آپ کو سمجھ میں آ جائے گی بھئی۔ بھئی دیکھیے یہ چار پانچ سطریں چھوڑ کر آگے آ رہا ہے: أَمَّا اللَّفْظِيَّةُ فَهِيَ أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ صِفَةً مُضَافَةً إِلَى مَعْمُولِهَا، وَهِيَ فِي تَقْدِيرِ الِانْفِصَالِ نَحْوُ ضَارِبُ زَيْدٍ وَحَسَنُ الْوَجْهِ، وَفَائِدَتُهَا تَخْفِيفٌ فِي اللَّفْظِ فَقَطْ۔ مل گئی عبارت بھئی؟ یہ ہے اضافتِ لفظیہ۔ بھئی اضافتِ لفظیہ یہ ہے کہ مضاف جو ہے، مضاف وہ صفت کا صیغہ ہو، یعنی صفت کے صیغے تو کئی میں نے آپ کو بتلائے ہیں بھئی، اسمِ فاعل بھی ہے، اسمِ مفعول بھی ہے، صفتِ مشبہ بھی ہے اور اسمِ تفضیل وغیرہ بھی ہیں، لیکن یہاں صفت سے مراد صرف اسمِ فاعل، اسمِ مفعول اور صفتِ مشبہ ہیں۔ کیا کیا مراد ہیں؟ اسمِ فاعل، اسمِ مفعول اور صفتِ مشبہ۔ اسمِ فاعل جیسے ضَارِبٌ، مَانِعٌ، مُكْرِمٌ، مُسْتَخْرِجٌ وغیرہ۔ اور اسمِ مفعول جیسے مَمْنُوعٌ، مَضْرُوبٌ، مَفْتُوحٌ، مُكْرَمٌ، مُسْتَخْرَجٌ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور صفتِ مشبہ جیسے شَرِيفٌ، كَرِيمٌ، یہ فَعِيل وزن سب سے مشہور ہے صفتِ مشبہ میں، سمجھ میں آیا؟ تو شَرِيفٌ، كَرِيمٌ، حَسَنٌ وغیرہ بھئی، یہ سب کیا ہیں؟ صفتِ مشبہ۔ تو اضافتِ لفظیہ یہ ہے کہ مضاف جو ہے یہ صفت کا صیغہ ہو اور مضاف ہو رہا ہو اپنے معمول کی طرف۔ کس کی طرف؟ اپنے معمول کی طرف۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ یہ صفت کے صیغے بھی اپنے فعل کی طرح عمل کرتے ہیں۔ ان کا فعل فاعل کو رفع دیتا ہے اور مفعول کو نصب دیتا ہے، تو یہ بھی ایسا ہی کریں گے، فاعل کو رفع دیں گے اور مفعول کو نصب۔ جیسے اسمِ فاعل ہے، جیسے فعل ضَرَبَ ہے۔ یہ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، دیکھو یہ زَيْدٌ کو رفع کس نے دیا؟ ضَرَبَ نے، یہ اس کے لیے فاعل ہے۔ اور یہ عَمْرًا کو نصب کس نے دیا؟ ضَرَبَ نے، کیونکہ یہ اس کے لیے مفعول ہے۔ تو دیکھو ضَرَبَ ایک فاعل کو رفع دیتا ہے، ایک مفعول کو نصب دیتا ہے، تو اس سے جو صفت کا صیغہ بنا، یعنی اسمِ فاعل، وہ بھی ایسا ہی عمل کرے گا، وہ ایک فاعل کو رفع دے گا اور ایک مفعول کو نصب دے گا۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، ترکیب کیا ہوگی؟ زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مبتدا۔ ضَارِبٌ مرفوع لفظاً خبر، صیغہ اسمِ فاعل۔ اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اور یہ عَمْرًا کیوں منصوب ہے؟ کیونکہ یہ مفعول ہے، یہ ضَارِبٌ اس کو نصب دے رہا ہے۔ تو دیکھو ضَرَبَ کیا کر رہا تھا؟ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، ایک اسم کو رفع دے رہا تھا اور ایک اسم کو نصب دے رہا تھا۔ ضَارِبٌ بھی وہی عمل کر رہا ہے، دیکھو ایک اسم ہے اس کو یہ رفع دے رہا ہے، اسی کے اندر جو هُوَ ضمیر ہے اس کو کیا کر رہا ہے؟ رفع دے رہا ہے اور آگے عَمْرًا کو کیا کر رہا ہے؟ نصب دے رہا ہے بھئی۔ تو یہ تو ضمیر کو رفع دے رہا ہے، کبھی اسی کے آگے اسمِ ظاہر ہوگا اس کو بھی رفع دے گا، تو یہ بالکل صفت کے صیغے کس جیسا عمل کرتے ہیں؟ اپنے فعل جیسا عمل کرتے ہیں۔ اور اگر یہ فعلِ مجہول سے بنے ہیں تو فعلِ مجہول کیا کرتا ہے؟ نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے اور اگر مفعول آ گیا ہے تو مفعول کو نصب دیتا ہے۔ تو صفت کا صیغہ بھی اسی طرح عمل کرے گا، یعنی اسمِ مفعول جو بنے گا۔ اگر فعل صرف نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے، فعل کیا کر رہا ہے؟ یعنی فعلِ مجہول ہے، ضُرِبَ عَمْرٌو، ضُرِبَ عَمْرٌو، تو یہ صرف ایک نائب الفاعل کو رفع دے رہا ہے اور مفعول کو آگے نصب نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ حیران ہوں گے، نائب الفاعل کو رفع بھی دے رہا ہے اور مفعول کو نصب، بھئی بعض اوقات یہ نائب الفاعل کیا ہوتا ہے؟ یہ تو اصل میں مفعول تھا نا، اسی کو کیا بنا دیتے ہیں؟ نائب الفاعل۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، یہ زَيْدٌ کیا تھا ضَرَبَ کے لیے؟ فاعل، اور یہ عَمْرًا کیا تھا؟ مفعول۔ پھر اسی فعل کو جب مجہول بنایا تو فاعل تو چلا گیا اور فعل کو مجہول بنا دیا، ضُرِبَ، اور آگے جو مفعول تھا اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ نائب الفاعل، ضُرِبَ عَمْرٌو، ضُرِبَ عَمْرٌو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو فعل کو جب مجہول بناتے ہیں تو مفعول کو نائب الفاعل بنا دیتے ہیں۔ اور بعض اوقات فعل دو مفعول چاہتا ہے، آپ جانتے ہیں۔ فعل کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو مفعول چاہتا ہے۔ تو پھر ایک کو تو آپ نائب الفاعل بنا دیں گے، دوسرا اسی طرح مفعول رہے گا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جب فعل کو مجہول لاتے ہیں تو آگے جو مفعول آ رہا تھا اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ نائب الفاعل۔ اور بعض اوقات فعل کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو۔ تو جب آپ فعل کو مجہول لائیں گے تو ایک مفعول کو تو نائب الفاعل بنا دیں گے، دوسرا تو اسی طرح رہے گا تو وہ اسی طرح مفعول رہے گا۔ جیسے سَمَّيْتُ الرَّجُلَ زَيْدًا، سَمَّيْتُ میں نے نام رکھا، الرَّجُلَ اس آدمی کا، زَيْدًا کیا نام رکھا؟ زید۔ تو سَمَّيْتُ یہ ہے فعل با فاعل، تَ ضمیر ہے فاعل، اور الرَّجُلَ ہے مفعولِ اول اور زَيْدًا ہے مفعولِ ثانی۔ اب میں فعلِ مجہول لاتا ہوں تو الرَّجُلُ بن جائے گا نائب فاعل، سُمِّيَ الرَّجُلُ اس آدمی کا نام رکھا گیا، زَيْدًا کیا نام رکھا گیا؟ زید۔ تو دیکھا سُمِّيَ الرَّجُلُ زَيْدًا، فعلِ مجہول ہے، آگے الرَّجُلُ نائب الفاعل ہے اور زَيْدًا اسی طرح مفعول ہے، کیونکہ ایک کو نائب الفاعل بنا سکتے تھے وہ ہم نے بنا دیا، دوسرا اسی طرح مفعول رہے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بتانے کا مقصد یہ تھا کہ بعض اوقات فعلِ معروف ہوتا ہے، توجہ ہے؟ وہ صرف فاعل چاہتا ہے، فعلِ لازم ہوتا ہے، وہاں مفعول آتا ہی نہیں اس کے لیے، مفعول اس کے لیے آتا ہی نہیں ہے، تو وہ صرف فاعل کو رفع دے گا۔ تو اس سے بننے والا اسمِ فاعل کا صیغہ بھی کیا کرے گا؟ صرف فاعل کو رفع دے گا، مفعول کو نصب نہیں، کیونکہ اس کا فعل مفعول نہیں چاہتا تو یہ بھی مفعول نہیں چاہتا۔ کبھی فعل فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کو بھی چاہتا ہے، مفعول کو بھی نصب دیتا ہے، فاعل کو رفع دے گا اور مفعول کو نصب، تو اس سے جو صفت کا صیغہ بنے گا اسمِ فاعل، وہ بھی کیا کرے گا؟ فاعل کو رفع دے گا اور مفعول کو نصب۔ پھر اسی فعل جو ایک فاعل، جو فاعل کے ساتھ ساتھ ایک مفعول چاہتا ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ پھر یہی فعل جو ایک مفعول چاہتا تھا، اسی کو جب فعلِ مجہول لائیں تو وہ جو مفعول تھا وہ کیا بن جائے گا؟ نائب الفاعل بن جائے گا۔ تو اسی فعلِ مجہول سے بنتا ہے اسمِ مفعول، تو وہ بھی نائب، جیسے یہ فعل نائب الفاعل کو رفع دے رہا ہے اسی طرح اس سے جو صفت کا صیغہ یعنی اسمِ مفعول بنے گا وہ بھی کیا کرے گا؟ وہ بھی نائب الفاعل کو رفع دے گا۔ توجہ ہے؟ بھئی اسمِ فاعل بنتا ہے نا فعلِ معروف سے، اور اسمِ مفعول بنتا ہے فعلِ مجہول سے۔ تو جو فعلِ معروف عمل کر رہا تھا اسمِ فاعل بھی وہی عمل کرے گا۔ فعلِ معروف اگر صرف فاعل کو رفع دیتا تھا، مفعول چاہتا ہی نہیں تھا، تو اسمِ فاعل جو اس سے بنا وہ بھی صرف فاعل کو رفع دے گا، مفعول کو چاہے گا ہی نہیں۔ اور اگر فعلِ معروف ہے اور وہ فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کو نصب بھی دیتا ہے، تو پھر اس سے جو صفت کا صیغہ یعنی اسمِ فاعل بنے گا وہ بھی کیا کرے گا؟ ایک فاعل کو رفع دے گا تو ایک مفعول کو نصب دے گا۔ اور اسی کو جب، یہ جو فعل ایک فاعل چاہتا ہے اور ایک نائب الفاعل، اسی کو کیا بنا دو؟ فعلِ مجہول بنا دو، تو وہی مفعول کیا بن جائے گا؟ وہ نائب الفاعل بن جائے گا، وہ مفعول کیا بنے گا؟ تو یہ فعلِ مجہول صرف نائب الفاعل کو رفع دے رہا ہے، آگے اس کا مفعول کوئی نہیں کیونکہ دو مفعول ہوتے تو دوسرا مفعول رہتا، دوسرا تو ہے ہی نہیں، ایک ہی مفعول تھا اور وہ کیا بن گیا ہے؟ نائب الفاعل۔ تو اس سے جو صفت کا صیغہ یعنی اسمِ مفعول بنے گا وہ بھی کیا کرے گا؟ ایک نائب الفاعل کو رفع دے گا، مفعول کو نصب نہیں۔ اور بعض اوقات فعل ایک فاعل کو رفع دیتا ہے اور دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے، تو اس سے جو بننے والا صفت کا صیغہ ہے وہ بھی اسی طرح عمل کرے گا، فاعل کو رفع دے گا تو کتنے مفعولوں کو نصب دے گا؟ دو مفعولوں کو نصب دے گا۔ اسی فعل کو جب آپ کون سا فعل بنا لیں گے؟ فعلِ مجہول، تو فاعل تو چلا گیا، تو ایک مفعول نائب الفاعل بن جائے گا اور دوسرا اسی طرح مفعول رہے گا۔ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی: سُمِّيَ الرَّجُلُ زَيْدًا، دیکھا زَيْدًا اسی طرح منصوب ہے کیونکہ وہ تو نائب الفاعل نہیں بنا، تو اسی سے جو صفت کا صیغہ بنے گا، فعلِ مجہول سے کون سا صفت کا صیغہ بنتا ہے؟ اسمِ مفعول بنتا ہے، تو وہ اسمِ مفعول بھی ایک نائب الفاعل کو رفع دے گا تو ایک مفعول کو نصب دے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تو تھی اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کی بات۔ اسی طرح صفتِ مشبہ جو ہے، صفتِ مشبہ یاد رکھو یہ فعلِ لازم سے بنتی ہے۔ کس سے؟ فعلِ لازم سے۔ اور فعلِ لازم وہ تو صرف فاعل کو چاہتا ہے، مفعول کو چاہتا ہی نہیں، جیسے شَرُفَ، کا معنی ہے شریف ہونا، اسی سے صفتِ مشبہ کیا ہے؟ شَرِيفٌ، شریف ہونا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ وہ اردو والا شریف ہونا نہیں، بلکہ عربی والا شریف ہونا، عربی میں شریف معزز کو کہتے ہیں۔ تو شَرِيفٌ کا عربی، اردو میں ترجمہ شریف نہیں کریں گے بلکہ شَرِيفٌ کا اردو میں کیا معنی؟ معزز، یعنی شرف والا، شرف والا، معزز بھئی۔ تو لہٰذا صفتِ مشبہ بنتی ہے فعلِ لازم سے، اور فعلِ لازم وہ تو صرف فاعل کو چاہتا ہے، وہاں تو مفعول آتا ہی نہیں۔ جب فعل مفعول کو نہیں چاہتا، مفعول کو نصب نہیں دیتا، تو اس سے جو صفت بن رہی ہے، صفتِ مشبہ، وہ بھی صرف فاعل کو رفع دے گی، مفعول اس کے لیے آئے گا ہی نہیں، کیونکہ فعل کے لیے مفعول نہیں آتا تو صفت کے صیغے کے لیے بھی مفعول نہیں آتا۔ اچھا تو بات یہ چل رہی ہے یہاں اضافتِ لفظیہ کی۔ اضافتِ لفظیہ کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے آپ کو بتایا کہ صیغہ صفت کا ہونا چاہیے، یعنی صیغہ صفت کا ہو کون کون سا؟ اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ، ان تین میں سے کوئی ایک ہو۔ اور اپنے معمول کی طرف اس کی اضافت ہو جائے تو یہ اضافتِ لفظیہ ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضَارِبٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ زید کو۔ اور عَمْرًا منصوب لفظاً مفعول بہ، کس کے لیے؟ ضَارِبٌ صیغۂ صفت کے لیے۔ تو گویا یہ عَمْرٌ یہ معمول ہوا ضَارِبٌ کا۔ بھئی ادھر دیکھو، صفت کا صیغہ اگر فاعل کو رفع دے رہا ہے تو وہ فاعل ان کا معمول ہوا، صفت عامل ہوئی اور وہ کیا ہوا؟ معمول۔ اسی طرح صفت کا صیغہ مفعول کو نصب دے رہا ہے تو مفعول ہوا اس کا معمول اور صفت کا صیغہ کیا ہوا؟ عامل۔ تو فاعل جو ہوتا ہے ان کے لیے وہ بھی معمول ہوتا ہے ان کا، جو ان کا مفعول ہوتا ہے وہ بھی ان کا معمول ہوتا ہے۔ یہ صفت کے صیغے اس میں کیا کرتے ہیں؟ عمل کرتے ہیں، یا رفع دیتے ہیں یا نصب دیتے ہیں۔ تو صیغہ صفت کا ہو اور مضاف ہو اپنے معمول کی طرف۔ تو زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، یہ کوئی آپ سے پوچھے یہ عَمْرًا کو نصب کس نے دیا؟ آپ کہیں گے ضَارِبٌ نے، معلوم ہوا یہ ضَارِبٌ کا معمول ہے۔ کیا ہے؟ معمول ہے۔ اور میں پڑھ رہا ہوں زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، میں اضافت نہیں کر رہا، اسی لیے عَمْرًا منصوب ہے، اگر اضافت ہوتی تو ضَارِبٌ ہوتا مضاف اور عَمْرٌ ہوتا مضاف الیہ، اور مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، لیکن میں اضافت نہیں کر رہا۔ اور دوسری صورت، دوسری وہ یہ بھی آپ دیکھ رہے ہیں ضَارِبٌ پر تنوین آ رہی ہے: زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، اگر یہ مضاف ہوتا تو تنوین نہ آتی بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ تو اسمِ فاعل زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، یہ ضَارِبٌ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب اس ضَارِبٌ کی ذرا اضافت کر دو عَمْرٌ کی طرف، عَمْرٌ اس کا معمول ہے یا نہیں؟ معمول ہے، تو صفت کا صیغہ ہے ضَارِبٌ، اس کی اضافت کر دی آپ نے اس کے معمول کی طرف: زَيْدٌ ضَارِبُ عَمْرٍو۔ اور یہ ضَارِبُ عَمْرٍو، یہ مضاف مضاف الیہ ہیں۔ ضَارِبُ مضاف، عَمْرٍو مضاف الیہ۔ اور دیکھیں صفت کے صیغے کی آپ اضافت کر رہے ہیں، کس کی طرف کر رہے ہیں؟ اپنے معمول کی طرف، تو یہ اضافتِ لفظیہ ہوئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ صیغہ صفت کا ہو اور کون کون سے ہو سکتے ہیں وہ؟ اسمِ فاعل بھی، اسمِ مفعول بھی اور صفتِ مشبہ بھی، اور اس کی اضافت کس کی طرف ہو جائے؟ اپنے معمول کی طرف، تو یہ اضافت کیا کہلاتی ہے؟ یہ اضافتِ لفظیہ کہلاتی ہے، اضافتِ لفظیہ کہلاتی ہے۔ اور اضافتِ معنویہ، اضافتِ معنویہ جو اس کے علاوہ جتنی اضافتیں ہیں وہ سب اضافتِ معنویہ ہیں۔ اس کے علاوہ جتنی اضافتیں ہیں وہ کون سی ہیں؟ اضافتِ معنویہ۔ غُلَامُ زَيْدٍ، غُلَامُ مضاف، زَيْدٍ مضاف الیہ۔ جی، اب بتائیے مجھے یہ اضافتِ لفظیہ ہے یا نہیں؟ تو ہم دیکھیں گے اضافتِ لفظیہ کسے کہتے تھے؟ کہ صیغہ صفت کا ہو، جو مضاف ہو وہ صفت کا صیغہ ہو۔ غُلَامُ تو صفت کا صیغہ ہی نہیں ہے، معلوم ہوا یہ اضافتِ لفظیہ نہیں ہے بلکہ اضافتِ معنویہ ہے۔ بعض اوقات صیغہ صفت ہی کا ہوگا لیکن اپنے معمول کی طرف مضاف نہیں ہوگا، جیسے كَرِيمُ الْبَلَدِ، شہر کا سخی آدمی، كَرِيمُ الْبَلَدِ۔ اب دیکھیے كَرِيمُ صفتِ مشبہ ہے، سخی، اور اس کی اضافت الْبَلَدِ شہر کی طرف ہو رہی ہے، اور شہر، ماقبل میں تو صفتِ مشبہ ہے كَرِيمُ، اور صفتِ مشبہ تو صرف کس کو چاہتی ہے؟ فاعل کو، وہ تو فعلِ لازم سے بنتی ہے، تو فاعل کی طرف اس کی اضافت ہوتی تو ہم کہتے یہ اضافتِ لفظیہ ہے۔ تو الْبَلَدُ، وہ تو اس کے لیے فاعل ہے ہی نہیں، سخی شہر ہے یا شہر والا کوئی ہے؟ شہر والا ہے، شہر تو سخی نہیں، تو كَرِيمُ مضاف، الْبَلَدِ مضاف الیہ، صیغہ صفت ہی کا ہے لیکن کیا اپنے معمول کی طرف مضاف ہے یا غیر معمول کی طرف؟ غیر معمول کی طرف مضاف ہے، تو وہ شرط پوری نہ ہوئی جو اضافتِ لفظی میں تھی۔ کیا؟ اضافتِ لفظی کسے کہتے تھے؟ صیغہ صفت کا ہو، مضاف ہو اپنے معمول کی طرف، اور وہ یہاں پورا نہیں۔ صیغہ تو صفت ہی کا ہے لیکن اپنے معمول کی طرف مضاف نہیں بلکہ کسی اور کی طرف مضاف ہے، تو یہ كَرِيمُ الْبَلَدِ، یہ بھی کون سی اضافت ہوئی؟ اضافتِ معنوی ہوئی، صورت سمجھ... تو اضافتِ لفظی سمجھ گئے اچھی طرح؟ کسے کہتے ہیں؟ صیغہ صفت کا اور مضاف ہو اپنے معمول کی طرف۔ اور اضافتِ معنوی کسے کہتے ہیں؟ جو اس کے علاوہ ہو، اور اس میں پھر دو صورتیں آ گئیں: پہلی صورت یہ کہ صیغہ ہی صفت کا نہ ہو کوئی اور صیغہ ہو اور مضاف ہو رہا ہو، تو وہ بھی اضافتِ معنوی۔ اور دوسری کیا صورت؟ صیغہ تو صفت ہی کا ہے لیکن اپنے معمول کی طرف مضاف نہیں، تو پھر یہ بھی کیا ہے؟ اضافتِ معنوی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: وَاعْلَمْ، تو جان لے، أَنَّ الْإِضَافَةَ عَلَى قِسْمَيْنِ، کہ اضافت جو ہے دو قسم پر ہے، مَعْنَوِيَّةٌ وَلَفْظِيَّةٌ، ایک اضافتِ معنوی ہے اور ایک اضافتِ لفظی ہے۔ جی یاد رکھیے اس کو آپ تین طرح پڑھ سکتے ہیں: مَعْنَوِيَّةٌ وَلَفْظِيَّةٌ، دونوں پر رفع پڑھیں، یا دونوں پر نصب پڑھیں: مَعْنَوِيَّةً وَلَفْظِيَّةً، یا دونوں پر جر پڑھیں: مَعْنَوِيَّةٍ وَلَفْظِيَّةٍ۔ یا چلیں یہ بات آپ کے لیے مشکل ہے ابھی چھوڑ دیں۔ تو کہتے ہیں: وَاعْلَمْ، تو جان لے، أَنَّ الْإِضَافَةَ عَلَى قِسْمَيْنِ، کہ اضافت دو قسم پر ہے، مَعْنَوِيَّةٌ وَلَفْظِيَّةٌ، ایک معنوی ہے اور ایک لفظی ہے۔ أَمَّا الْمَعْنَوِيَّةُ، تو اضافتِ معنوی جو ہے، فَهِيَ، وہ یہ ہے، أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ، کہ مضاف جو ہے، غَيْرَ صِفَةٍ، وہ صفت کے علاوہ صیغہ ہو، مُضَافَةٍ إِلَى مَعْمُولِهَا، جو مضاف ہو رہا ہو اپنے معمول کی طرف۔ اضافتِ معنوی کی تعریف سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھو یہاں غلطی لگتی ہے، ترجمہ عموماً طلبہ غلط کرتے ہیں، کس طرح؟ جیسے میں نے ابھی کیا۔ اضافتِ معنوی کسے کہتے ہیں؟ وہ یہ أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ کہ مضاف جو ہے غَيْرَ صِفَةٍ کیا معنی؟ صفت کے صیغے کے علاوہ ہو، یہ اضافتِ معنوی، توجہ ہے؟ کیا کہہ رہے ہیں؟ مضاف کیا ہو؟ صفت کے صیغے کے علاوہ ہو۔ كَرِيمُ الْبَلَدِ، ابھی میں نے آپ کو بتایا یہ کون سی اضافت ہے؟ اضافتِ معنوی۔ اور ابھی آپ ترجمہ کیا کر رہے ہیں؟ مضاف صفت کے صیغے کے علاوہ ہو، حالانکہ كَرِيمُ الْبَلَدِ میں تو كَرِيمُ کون سا صیغہ ہے؟ صفت ہی کا صیغہ ہے، اور یہ تعریف آپ لگائیں کہ مضاف صفت کا صیغہ نہ ہو تو كَرِيمُ الْبَلَدِ تو اضافتِ معنوی سے خارج ہو گیا۔ توجہ ہے؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ کیا؟ کہ ابھی ہم نے پڑھا كَرِيمُ الْبَلَدِ کیا ہے؟ صیغہ صفت کا مضاف ہے غیر معمول کی طرف تو یہ اضافتِ لفظی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ اضافتِ معنوی۔ تو كَرِيمُ الْبَلَدِ میں کون سی اضافت ہوئی؟ اضافتِ معنوی ہے، پکی بات ہے؟ اضافتِ معنوی ہے، اور كَرِيمُ صیغہ کون سا ہے؟ صفتِ مشبہ، ہاں تو صفت کے صیغہ ہونے کے باوجود اضافت معنوی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جب مضاف کیا ہو؟ صفت کا صیغہ ہو، تو بھی اضافت معنوی ہو سکتی ہے، کب؟ جبکہ وہ اپنے معمول کی طرف مضاف نہ ہو۔ اور اوپر اب ہم ترجمہ کیا کر رہے ہیں؟ أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ غَيْرَ صِفَةٍ کہ مضاف جو ہے وہ صفت کا صیغہ نہ ہو، تو كَرِيمُ الْبَلَدِ تو نکل گیا۔ یہ تو کہہ رہے ہیں مضاف صفت کا صیغہ نہ ہو، اور كَرِيمُ الْبَلَدِ میں تو مضاف صفت کا صیغہ ہے، وہ تو کیا ہوا اس تعریف سے؟ نکل گیا کہ نہیں نکل گیا؟ میرا خیال توجہ نہیں آپ کی سبق کی طرف۔ انہوں نے کیا، میں نے آپ کو کیا بتایا؟ كَرِيمُ الْبَلَدِ مجھے یہ بتاؤ، كَرِيمُ الْبَلَدِ اضافتِ معنوی ہے کہ نہیں؟ اضافتِ معنوی ہے۔ اور مضاف صفت کا صیغہ ہے کہ نہیں؟ تو مضاف صفت کا صیغہ ہو پھر بھی اضافتِ معنوی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتی ہے کہ نہیں ہو سکتی؟ مضاف کیا ہو؟ صفت کا صیغہ ہو، پھر بھی اضافتِ معنوی کب کیسے ہوگی؟ جب وہ اپنے معمول کے علاوہ کی طرف کیا ہو؟ مضاف۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور ادھر ترجمہ کیا کر رہے ہیں؟ أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ غَيْرَ صِفَةٍ کہ مضاف جو ہے وہ صفت نہ ہو، معلوم ہوا مضاف صفت ہو تو وہ اضافتِ معنوی نہیں۔ بات کس کی چل رہی ہے؟ کتاب میں، اضافتِ معنوی، اور کیا تعریف کر رہے ہیں؟ کہ مضاف صفت کا صیغہ نہ ہو۔ اور كَرِيمُ الْبَلَدِ میں تو كَرِيمُ کیا ہے؟ صفت کا صیغہ ہے، معلوم ہوا یہ اضافتِ معنوی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ انہوں نے تو کہا وہ صفت کا صیغہ نہ ہو، اور ہم نے تو ابھی کیا بتایا کہ یہ بھی کیا ہے اضافتِ معنوی۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ كَرِيمُ الْبَلَدِ ہے اضافتِ معنوی اور آپ یہ ترجمہ کریں کہ مضاف صفت کا صیغہ نہ ہو، یہ تو اس سے كَرِيمُ الْبَلَدِ تو نکل جائے گا حالانکہ كَرِيمُ الْبَلَدِ بھی کیا ہے؟ اضافتِ معنوی۔ اشکال اب بھی بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ اچھی طرح؟ اچھا تو وجہ یہ ہے ہم ترجمے میں غلطی کرتے ہیں، بھئی دیکھو، ذرا دوبارہ ذرا نظر رکھو عبارت پہ۔ اضافتِ معنوی یہ ہے کہ أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ کہ مضاف جو ہے، توجہ ہے؟ کہ مضاف جو ہے، یہاں تک عبارت ذرا روک لو، آگے دیکھو، یہ غَيْرَ کے لفظ کو ذرا ہٹا دو، غَيْرَ کے لفظ کو: صِفَةٍ مُضَافَةٍ إِلَى مَعْمُولِهَا، صفت مضاف ہو رہی ہو اپنے معمول کی طرف، یہ کون سی اضافت ہے؟ ذرا غَيْرَ کا لفظ ہٹا دو، صرف اس پہ نظر رکھو: صِفَةٍ مُضَافَةٍ إِلَى مَعْمُولِهَا، صفت کا صیغہ ہو اور مضاف ہو رہا ہو اپنے معمول کی طرف، یہ کون سی اضافت؟ اضافتِ لفظیہ، یہ اضافتِ لفظی ہے۔ اس پر اب غَيْرَ داخل کر دو، اس سے غیر ہو، اس سارے پر غَيْرَ داخل ہو رہا ہے، صرف صفت پر غَيْرَ نہیں داخل ہو رہا، توجہ ہے؟ صفت کا صیغہ ہو، مضاف ہو رہا ہو اپنے معمول کی طرف، اس سے غیر ہونا چاہیے مضاف، اس کے علاوہ ہونا چاہیے مضاف۔ اور اس کے علاوہ کون سی صورت آ گئی؟ چاہے صفت کا صیغہ ہی نہ ہو وہ بھی آ گیا اس میں، چاہے صفت کا صیغہ تو ہے لیکن اپنے معمول کی طرف مضاف نہیں ہے وہ بھی اس میں آ گیا۔ اب عبارت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ تو عموماً ترجمہ جو ہے وہ طلبہ یوں کرتے ہیں کہ مضاف صفت کا صیغہ نہ ہو جو مضاف ہو رہا ہو اپنے معمول کی طرف، یہ غلط ترجمہ ہے، بلکہ یوں ترجمہ کریں گے: اضافتِ معنویہ، فَهِيَ وہ یہ ہے، أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ کہ مضاف جو ہے، غَيْرَ صِفَةٍ مُضَافَةٍ إِلَى مَعْمُولِهَا علاوہ ہو ایسی صفت کے جو مضاف ہو رہی ہو اپنے معمول کی طرف۔ ایسی صفت جو اپنے معمول کی طرف مضاف ہو رہی ہو اس کے علاوہ ہو مضاف۔ ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ وَهِيَ إِمَّا بِمَعْنَى اللَّامِ، اب آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ اصطلاح میں اس کو مضاف مضاف الیہ کہتے ہیں اور یہاں حرفِ جار مقدر ہوتا ہے، یہ مضاف مضاف الیہ کے درمیان کیا مقدر ہوتا ہے؟ حرفِ جار۔ اب یاد رکھنا یہ حرفِ جار لَام بھی مقدر ہو سکتا ہے، مِنْ بھی اور فِي بھی۔ لَام بھی، مِنْ بھی اور فِي بھی، تین حروفِ جار مقدر ہو سکتے ہیں۔ اب کہاں لَام ہوگا؟ کہاں مِنْ ہوگا؟ اور کہاں فِي ہوگا؟ تو فِي وہاں مقدر ہوگا جہاں مضاف الیہ وہ ظرف ہو مضاف کے لیے۔ توجہ ہے؟ ایک ہے مضاف، ایک ہے مضاف الیہ۔ مضاف پہلے آتا ہے، مضاف الیہ بعد میں۔ یہ جو بعد میں آ رہا ہو، یہ ماقبل یعنی مضاف کے لیے اگر ظرف ہو تو پھر یہ اضافت فِي کے ساتھ ہوگی۔ یہاں فِي کا لفظ مقدر ہوگا۔ جیسے صَلَاةُ اللَّيْلِ، صَلَاةُ مضاف، اللَّيْلِ مضاف الیہ، رات کی نماز۔ اب بتائیے، ایک لفظ ہے صَلَاةُ، آگے مضاف الیہ ہے اللَّيْلِ، یہ اللَّيْلِ کیا ہے نماز کے لیے؟ ظرف ہے، وقت ہے، وقت یا ظرف کسے کہتے ہیں؟ وقت یا جگہ کو نا، تو یہ اللَّيْلِ کیا ہے؟ ظرف ہے یعنی وقت ہے کس کے لیے؟ اس نماز کے لیے، صَلَاةُ کے لیے۔ مابعد ظرف ہو کس کے لیے؟ ماقبل کے لیے، یعنی مضاف الیہ ظرف ہو کس کے لیے؟ مضاف کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں ہمیشہ کیا مقدر ہوگا؟ فِي، کیونکہ فِي ظرفیت کے لیے آتا ہے۔ فِي کا معنی ہوتا ہے ایک چیز دوسری چیز میں ہے، اس کے اندر ہے، تو وہ جگہ بھی ہو سکتی ہے اور زمانہ بھی، تو صَلَاةُ اللَّيْلِ أَي صَلَاةٌ فِي اللَّيْلِ۔ تو یہ یہاں پر جو ہے فِي مقدر ہے۔ اور کبھی کبھار مِنْ مقدر ہوگا، کیا مقدر ہوگا؟ مِنْ۔ مِنْ کہاں مقدر ہوگا؟ یاد رکھیے ایک ہے مضاف، ایک ہے مضاف الیہ۔ جب مضاف الیہ جو بعد میں آ رہا ہے وہ جنس ہو مضاف کے لیے، کیا ہو؟ جنس ہو۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ مضاف الیہ سے مضاف بنا ہو۔ آسان آپ کو سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ جیسے خَاتَمُ فِضَّةٍ، خَاتَمُ فِضَّةٍ، فِضَّةٍ چاندی کو کہتے ہیں، خَاتَمُ انگوٹھی کو، خَاتَمُ فِضَّةٍ چاندی کی انگوٹھی، تو خَاتَمُ ہے مضاف اور فِضَّةٍ ہے مضاف الیہ، اور یہ انگوٹھی کس سے بنی ہے؟ چاندی سے، تو یہ جو مضاف الیہ ہے یہ جنس ہے کس کے لیے؟ مضاف کے لیے، یعنی مضاف اس سے بنا ہے۔ تو جہاں پر بھی مضاف الیہ مضاف کے لیے جنس ہو وہاں مِنْ مقدر ہوگا، تو خَاتَمُ فِضَّةٍ اصل میں کیا ہے؟ خَاتَمٌ مِنْ فِضَّةٍ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسرا ہے لَام۔ لَام کہاں مقدر ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی جہاں ان کے علاوہ ہر جگہ پر لَام مقدر ہوگا۔ جب مضاف الیہ مضاف کے لیے ظرف بھی نہ ہو اور جنس بھی نہ ہو تو پھر کیا مقدر ہوگا؟ لَام، جیسے غُلَامُ زَيْدٍ، زید کا غلام۔ اب یہ زَيْدٌ غلام کے لیے ظرف بھی نہیں ہے اور یہ زَيْدٌ غلام کے لیے جنس بھی نہیں ہے، غلام اس سے نہیں بنا، تو لہٰذا یہ لَام کے ساتھ ہوئی اضافت۔ تو غُلَامُ زَيْدٍ اصل میں کیا ہے؟ غُلَامٌ لِزَيْدٍ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: وَهِيَ إِمَّا بِمَعْنَى اللَّامِ، اور یہ اضافت یا تو لَام کے معنی میں ہوگی، نَحْوُ غُلَامُ زَيْدٍ، غُلَامُ زَيْدٍ۔ یہ دیکھیے نَحْوُ ہے مضاف اور غُلَامُ زَيْدٍ کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ توجہ ہے؟ نَحْوُ کیا ہے؟ مضاف، اور غُلَامُ زَيْدٍ یہ سارا مضاف الیہ ہے، نَحْوُ کا معنی ہے مِثْلُ، مثال پہ ذکر کر رہے ہیں نا، جس میں اضافت کس کے ساتھ ہو؟ لَام کے ساتھ۔ تو یہ غُلَامُ زَيْدٍ یہ مضاف ہے نَحْوُ کے لیے، تو لہٰذا آپ اس کو یوں بھی پڑھ سکتے ہیں: نَحْوُ غُلَامِ زَيْدٍ، یہ غُلَامِ مضاف بن رہا ہے مضاف الیہ بن رہا ہے نا، اور مضاف الیہ پر کیا آتا ہے؟ جر آتا ہے، تو غُلَامِ زَيْدٍ۔ تو نَحْوُ ہوا مضاف، غُلَامِ ہوا اس کے لیے مضاف الیہ، اور اگلے زَيْدٍ کے لیے مضاف۔ ماقبل کے لیے مضاف الیہ اور مابعد کے لیے مضاف، اور زَيْدٍ پر بھی جر پڑھیں گے کیونکہ وہ بھی کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ نَحْوُ غُلَامِ زَيْدٍ۔ اور آپ چاہیں تو اعرابِ حکائی پڑھ لیں۔ اعرابِ حکائی میں نے بتایا تھا، کسی اور جگہ غُلَامُ زَيْدٍ لفظ آیا ہے آپ بھی اسی طرح پڑھ دیتے ہیں، تو کیسے پڑھیں گے؟ نَحْوُ غُلَامُ زَيْدٍ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب آپ سے کوئی کہے بھئی یہ تو غُلَامُ زَيْدٍ آپ پڑھ رہے ہو، یہ تو مضاف الیہ ہے مجرور ہونا چاہیے، آپ کہتے ہیں ہم اعرابِ حکائی پڑھ لیتے ہیں، کسی اور جملے میں کیا استعمال ہوا تھا؟ مرفوع، ہم بھی اسی طرح یہاں استعمال کر لیتے ہیں، تو ہے اس وقت بھی یہ مجرور، ہے کیا؟ مجرور ہے، لیکن اعراب ہم وہ والا پڑھ رہے ہیں، اعرابِ حکائی۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ یہ غُلَامُ کا لفظ، غُلَامُ کا لفظ مرفوع ہے لفظاً، لفظوں میں غُلَامُ زَيْدٍ رفع پڑھ رہا ہوں نا، مرفوع ہے لفظاً، لفظ کے اعتبار سے بے شک مرفوع ہے اور یہ مرفوع کیوں ہے؟ اعرابِ حکائی ہے، اعرابِ حکائی۔ لیکن مجرور محلاً ہے یہ۔ لفظاً مرفوع ہے لیکن مجرور محلاً، محلاً کیوں مجرور؟ کیونکہ یہ اصل میں تو نَحْوُ کے لیے مضاف ہے، چاہے آپ جو بھی اعراب اس پر پڑھیں، ہے تو مضاف الیہ یہ تو پکی بات ہے، اور مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو یہ مجرور ہے ہی ہر حال میں۔ لیکن ہم اعراب وہ کسی اور جملے میں رفع آیا تھا ہم بھی ویسا یہاں پڑھ لیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اعرابِ حکائی، یعنی حکایت میں، کسی حکایت میں، کسی بات میں یہ مرفوع آیا تھا وہی اعراب ہم یہاں پڑھ لیتے ہیں تو اس کو اعرابِ حکائی کہتے ہیں۔ جیسے گزشتہ سبق میں حَرَامُ آیا تھا، وہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا بِرَفْعِ حَرَامٍ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں، اور آپ بِرَفْعِ حَرَامُ اعرابِ حکائی بھی پڑھ سکتے ہیں، ہے البتہ وہ مجرور ہی چاہے آپ رفع پڑھیں چاہے جر پڑھیں ہے مجرور ہی۔ رفع بھی پڑھیں گے تو لفظاً مرفوع لیکن محلاً کیا ہے؟ مجرور، محل یہ جگہ جر والی ہے تو محلاً مجرور۔ تو نَحْوُ غُلَامُ زَيْدٍ، أَوْ بِمَعْنَى مِنْ، یا وہ اضافت مِنْ کے ساتھ ہوگی، یا اضافت مِنْ کے معنی میں ہوگی جیسے خَاتَمُ فِضَّةٍ أَيْ خَاتَمٌ مِنْ فِضَّةٍ، أَوْ بِمَعْنَى فِي، یا اضافت جو ہے فِي کے معنی میں ہوگی، نَحْوُ صَلَاةُ اللَّيْلِ أَيْ صَلَاةٌ فِي اللَّيْلِ۔ تو اضافتِ معنویہ یا تو فِي کے معنی میں ہوتی ہے یا مِنْ کے معنی میں یا لَام کے معنی میں۔ فِي کے معنی میں کب ہوتی ہے؟ جب مضاف الیہ مضاف کے لیے ظرف ہو، فِي کے معنی میں، جب مضاف الیہ مضاف کے لیے ظرف ہو۔ اور یہ مِنْ کے معنی میں کب ہوتی ہے؟ جب مضاف الیہ مضاف کے لیے جنس ہو۔ اور ان کے علاوہ ہو تو پھر وہ کس معنی میں ہوتی ہے؟ لَام کے معنی میں ہوتی ہے۔ وَفَائِدَةُ هَذِهِ الْإِضَافَةِ، اور اس اضافت کا فائدہ، یعنی اضافتِ معنوی، اب فائدہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ اضافتِ معنویہ کا فائدہ کیا ہے؟ ادھر دیکھیے بھئی، یاد رکھو اضافتِ لفظیہ، اس میں اضافت کی جاتی ہے ایک لفظ کی دوسرے لفظ کی طرف، تو اگر اضافت کر دی جائے معرفہ کی طرف تو مضاف بھی معرفہ بن جائے گا، جیسے غُلَامُ کی اضافت کی زَيْدٍ کی طرف اور زَيْدٍ کیا ہے؟ معرفہ، تو غُلَامُ کا لفظ بھی کیا بن جائے گا؟ معرفہ، غُلَامُ زَيْدٍ، اب یہ غُلَامُ کا لفظ بھی معرفہ ہے۔ اب اس سے ہر غلام نہیں مراد بلکہ کون سا غلام مراد ہے؟ زید کا غلام۔ یا اس کی ضمیر کی طرف اضافت کر دو: غُلَامُهُ، یہ ضمیر بھی کیا ہے؟ معرفہ، تو اب بھی غُلَامُ کا لفظ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ یا اسمِ اشارہ کی طرف اضافت کر دو: غُلَامُ هَذَا، تو اسمِ اشارہ کیا ہے؟ معرفہ، تو غُلَامُ کا لفظ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اضافتِ معنوی تعریف کا فائدہ دیتی ہے، یعنی کسی لفظ کو معرفہ بنا دیتی ہے جب اس کی اضافت کس کی طرف کی جائے؟ معرفہ کی طرف۔ اور اگر اضافت کی جائے نکرہ کی طرف تو پھر یاد رکھیے یہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، تخصیص۔ جیسے غُلَامُ رَجُلٍ، غُلَامُ بھی نکرہ، رَجُلٍ بھی نکرہ، میں نے غُلَامُ کی اضافت کر دی رَجُلٍ کی طرف تو تخصیص آ گئی۔ تخصیص کسے کہتے تھے؟ دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا۔ مثلاً دیکھیے بھئی، دنیا میں فرض کریں ایک لاکھ غلام ہیں، ان ایک لاکھ غلاموں میں سے پچاس ہزار مردوں کے غلام ہیں تو پچاس ہزار عورتوں کے غلام ہیں۔ جب میں نے کہا غُلَامٌ تو ہر غلام پر یہ لفظ بولا جا رہا ہے چاہے وہ مرد کا غلام ہو چاہے عورت کا، وہ ہر ایک غلام ہے۔ لیکن جب میں نے اضافت کر دی غُلَامُ رَجُلٍ، اب نکرہ کی طرف اضافت کی ہے نا تو تخصیص آ گئی، اب کیا ترجمہ ہے؟ مرد کا غلام، تو وہ عورتوں والے غلام وہ نکل گئے، اب ان پر یہ لفظ نہیں بولا جا سکتا۔ تو پہلے ایک لاکھ غلاموں پر غُلَامٌ کا لفظ بولا جا رہا تھا اب غُلَامُ رَجُلٍ صرف کتنے پر بولا جا رہا ہے؟ پچاس ہزار پر، تو دیکھو احتمالات کم ہو گئے۔ اور احتمالات کم ہو جائیں اس کو تخصیص کہتے ہیں۔ تو دیکھو نکرہ کی طرف جب اضافت کی جائے تو تخصیص آ جاتی ہے۔ کسی لفظ کی جب اضافت معرفہ کی طرف کی جائے تو وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ اور اگر نکرہ کی طرف اضافت کی جائے تو پھر معرفہ تو نہیں بنتا البتہ اس میں تخصیص آ جاتی ہے۔ تو اضافتِ معنوی کے یہ دو فائدے ہیں، بڑے فائدے بھئی۔ اضافتِ معنوی کے یہ دو بڑے فائدے ہیں، کون کون سے؟ کہ یہ تعریف کا فائدہ دے گی یا تخصیص۔ تعریف کا فائدہ کب دے گی؟ جب معرفہ کی طرف اضافت کرو۔ اور تخصیص کا فائدہ کب دے گی؟ جب نکرہ کی طرف اضافت کرو۔ اور نیز لفظوں میں بھی تخفیف آئے گی۔ اصل میں تھا غُلَامٌ لِزَيْدٍ، تو دیکھو غُلَامٌ میں تنوین ختم ہوئی یا نہیں غُلَامُ کی؟ تو غُلَامٌ، دیکھو آخر میں ایک نونِ ساکن بھی میں پڑھ رہا ہوں، اور جب اضافت کی وہ نونِ ساکن کیا ہوا؟ گر گیا، ختم ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اضافتِ معنوی لفظوں میں بھی تخفیف کا فائدہ دیتی ہے اور معنی کے اندر بھی فائدہ دیتی ہے کہ لفظ کو یا تو معرفہ بنا دیتی ہے یا اس میں تخصیص پیدا کر دیتی ہے۔ اسی طرح نونِ تثنیہ نونِ جمع بھی گر جائے گا: غُلَامَا زَيْدٍ، اصل میں تھا غُلَامَانِ زَيْدٍ، تو نون گر گیا۔ یا مُسْلِمُو مِصْرٍ، نون اضافت سے گر گیا، مُسْلِمُونَ مِصْرٍ تھا۔ تو اضافتِ معنوی لفظوں میں بھی تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، لفظوں میں، یعنی لفظ ہلکے ہو جاتے ہیں۔ ایک دو لفظ گر گئے تو ادائیگی آسان ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ تو ایک دو حروف جب گر گئے ادائیگی آسان ہو گئی۔ تو اضافتِ معنوی لفظوں میں بھی تخفیف کا فائدہ دیتی ہے کیونکہ تنوین اور قائم مقامِ تنوین کیا ہیں؟ گر جاتے ہیں۔ اور معنی میں بھی فائدہ دیتی ہے، کیا؟ تعریف یا تخصیص کا۔ تو لیکن چونکہ اس کا بڑا فائدہ ہے یہ معنی کے اندر جو فائدہ دیتی ہے تعریف یا تخصیص کا، اس لیے اس کو اضافتِ معنویہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اضافتِ معنویہ، ورنہ یہ لفظوں میں بھی فائدہ دے رہی ہے۔ کہ لفظوں میں کیا فائدہ دیا؟ تخفیف کر دی اس میں، ہلکا کر دیا لفظ کو۔ سمجھ گئے؟ جتنے حروف زیادہ ہوں زبان پر ادائیگی مشکل ہوتی ہے، جتنے حروف کم ہوں گے زبان پر ادائیگی آسان۔ تو جب اضافت کریں گے نونِ تثنیہ بھی گر جائے گا، نونِ جمع بھی گر جائے گا اور تنوین بھی گر جائے گی، تو لفظ ہلکا ہو جائے گا۔ تو لفظوں میں بھی تخفیف آئے گی اور معنی کے اندر بھی تبدیلی آئی کہ تعریف یا تخصیص آ گئی۔ جبکہ آگے آپ کو بتائیں گے کہ اضافتِ لفظیہ وہ صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے معنی میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، اب اضافت کر دو: زَيْدٌ ضَارِبُ عَمْرٍو، صرف ضَارِبٌ سے تنوین گری، بس۔ اور ضَارِبُ عَمْرٍو، ضَارِبُ کی اضافت کس کی طرف؟ عَمْرٍو، معرفہ کی طرف، تو اس ضَارِبُ کو معرفہ ہو جانا چاہیے، کہتے ہیں نہیں نہیں، کوئی معرفہ نہیں، یہ جیسے پہلے نکرہ تھا اب بھی نکرہ ہے۔ کیونکہ یہ اضافتِ لفظی ہے، لفظی، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، یہ صرف لفظوں میں فائدہ دیتی ہے تخفیف کا اور کوئی معنی کے اندر فائدہ نہیں دیتی۔ معنی کے اندر فائدہ نہیں دیتی یعنی نہ تعریف کا فائدہ اور نہ تخصیص کا۔ معرفہ کی طرف اضافت کر دو تو تعریف کا فائدہ نہیں، صرف لفظوں میں تخفیف آئی۔ نکرہ کی طرف اضافت کر دو تو بھی تخصیص کا فائدہ نہیں، صرف لفظوں میں تخفیف۔ خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ اضافتِ معنوی کس کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تعریف اور تخصیص کے ساتھ ساتھ لفظوں میں بھی تخفیف آتی ہے۔ اور اضافتِ لفظی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، نہ تعریف اور نہ تخصیص۔ اسی لیے اس کو اضافتِ لفظی کہتے ہیں کہ صرف لفظوں کا فائدہ دے رہی ہے، معنی میں کوئی فائدہ نہیں۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: وَفَائِدَةُ هَذِهِ الْإِضَافَةِ تَعْرِيفُ الْمُضَافِ إِنْ أُضِيفَ إِلَى مَعْرِفَةٍ، اور فائدہ اس اضافت کا، کون سی اضافت کا؟ اضافتِ معنویہ کا، اس اضافت کا فائدہ جو ہے تَعْرِيفُ الْمُضَافِ وہ مضاف کی تعریف ہے یعنی اس کو معرفہ بنا دینا ہے، کب؟ إِنْ أُضِيفَ إِلَى مَعْرِفَةٍ جب اس کی اضافت کس کی طرف کی جائے؟ معرفہ کی طرف، كَمَا مَرَّ جیسے کہ گزر گئی مثال، أَوْ تَخْصِيصُهُ یا یہ اضافت کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا یعنی مضاف کی تخصیص کا، کب؟ إِنْ أُضِيفَ إِلَى نَكِرَةٍ جب اس کی اضافت نکرہ کی طرف کر دی جائے، كَغُلَامِ رَجُلٍ، كَغُلَامُ رَجُلٍ جیسے کہ غُلَامُ رَجُلٍ۔ یہاں بھی اسی طرح پڑھ سکتے ہیں: کاف جارہ ہے، غُلَامِ رَجُلٍ بھی پڑھ سکتے ہیں اور غُلَامُ رَجُلٍ۔ غُلَامِ رَجُلٍ پڑھیں گے تو پھر تو جر پڑھ رہے ہیں اور جر ہی آنا چاہیے۔ اور اگر آپ غُلَامُ رَجُلٍ پڑھتے ہیں تو پھر اعرابِ حکائی کہ کسی اور جملے میں غُلَامُ رَجُلٍ تھا آپ نے بھی اسی طرح بول دیا، اسی طرح مثال ذکر کر دی جیسے غُلَامُ رَجُلٍ کا لفظ بھئی۔ وَأَمَّا اللَّفْظِيَّةُ، اور باقی اضافتِ لفظیہ جو ہے، فَهِيَ، وہ یہ ہے، أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ صِفَةً مُضَافَةً إِلَى مَعْمُولِهَا، وہ یہ کہ مضاف جو ہے ایسی صفت ہو مُضَافَةً إِلَى مَعْمُولِهَا جو مضاف ہو رہی ہو اپنے معمول کی طرف، وَهِيَ فِي تَقْدِيرِ الِانْفِصَالِ، اور یہ کس تقدیر میں ہوتی ہے؟ انفصال کی تقدیر، انفصال کا معنی جدا ہونا، جدا ہونا۔ بھئی ابھی میں نے آپ کو بتایا اضافتِ لفظی، اضافتِ لفظی، اس میں صفت کا صیغہ مضاف ہوتا ہے کس کی طرف؟ اپنے معمول کی طرف، اور یہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اضافتِ لفظی، توجہ ہے؟ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ صرف لفظوں میں تخفیف آئے گی، یعنی تنوین اور یا قائم مقامِ تنوین وہ گر جائے گا، اور کوئی فائدہ ہوگا؟ نہیں، جب اور کوئی فائدہ نہیں تو یہ گویا لفظ ابھی بھی الگ الگ ہی ہیں۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ عَمْرًا، جیسے الگ الگ تھے اضافت کے بعد ابھی بھی اسی طرح ہیں: زَيْدٌ ضَارِبُ عَمْرٍو، بے شک میں نے اضافت کر دی ہے لیکن آپ ابھی بھی یوں ہی سمجھیں گویا الگ الگ ہی ہیں، ضَارِبٌ عَمْرًا ہی ہے۔ کیا معنی الگ الگ ہیں؟ بھئی اضافت کا تو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ جو مضاف ہوتا ہے وہ مضاف الیہ سے یا تعریف اخذ کرتا ہے یا تخصیص، اور یہ ضَارِبُ عَمْرٍو، یہ ضَارِبُ نے عَمْرٍو سے نہ تعریف اخذ کی اور نہ تخصیص۔ جب نہ تعریف اخذ کی نہ تخصیص اخذ کی تو یوں سمجھو گویا الگ الگ ہیں ابھی بھی۔ پہلے ضَارِبٌ جیسے نکرہ تھا اسی طرح اب بھی نکرہ کا نکرہ ہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مشکل مقام ہے یہ سمجھ لو بھئی۔ وَهِيَ فِي تَقْدِيرِ الِانْفِصَالِ، یہ کس تقدیر میں ہے؟ انفصال، یہ اضافتِ لفظیہ انفصال کی تقدیر میں ہی ہوتی ہے، انفصال کی طرح ہی ہوتی ہے، اسی طرح فرض کر لیں اسی طرح ہوتی ہے۔ کیا معنی انفصال کی طرح ہوتی ہے؟ یعنی نہ تعریف اخذ کرتا ہے مضاف اور نہ تخصیص۔ جیسے جدا تھا بالکل نکرہ پہلے: ضَارِبٌ عَمْرًا، ضَارِبٌ عَمْرًا میں کوئی اضافت ہے؟ نہیں ہے اضافت، تو ضَارِبٌ کیا ہے؟ نکرہ ہے، اور کون سا نکرہ؟ اس میں نہ تخصیص ہے نہ تعریف۔ اس کی اضافت کر دو، یہ اب بھی اسی طرح کا نکرہ ہے، تعریف بھی نہیں اخذ کی اور تخصیص بھی نہیں اخذ کی، صرف لفظوں میں تخفیف آئی کہ تنوین یا قائم مقامِ تنوین گر جائے گا اور کوئی فائدہ نہیں۔ تو یہ ابھی بھی اسی طرح ہے جیسے کہ جدا ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے وَهِيَ فِي تَقْدِيرِ الِانْفِصَالِ اور یہ اضافت تقدیرِ انفصال میں ہوتی ہے یعنی جدائی کی تقدیر میں ہوتی ہے کہ جدا ہی ہے۔ نَحْوُ ضَارِبُ زَيْدٍ وَحَسَنُ الْوَجْهِ، ضَارِبُ زَيْدٍ اصل میں کیا تھا؟ ضَارِبٌ زَيْدًا، زید کی پٹائی کرنے والا، پھر اضافت کر دی: ضَارِبُ زَيْدٍ، تو صیغہ صفت کا ہے، مضاف ہے اپنے معمول کی طرف تو یہ اضافتِ لفظی ہوئی۔ تو اس نے صرف کیا فائدہ دیا؟ کہ با سے تنوین گر گئی، ضَارِبٌ کے آخر سے تنوین گر گئی۔ باقی ضَارِبٌ جیسے پہلے نکرہ تھا ابھی بھی اسی طرح نکرہ ہے، نہ اس نے تعریف اخذ کی مضاف الیہ سے اور نہ تخصیص۔ اسی طرح وَحَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ ہے صفتِ مشبہ، الْوَجْهِ ہے مضاف، حَسَنُ الْوَجْهِ، تو یہ الْوَجْهُ اس کے لیے فاعل تھا، اچھا چہرہ، خوبصورت چہرہ، پھر اس کی طرف اضافت کر دی، تو صفت کا صیغہ ہے حَسَنُ، اس کی اضافت ہوئی اپنے معمول یعنی اپنے فاعل کی طرف: حَسَنُ الْوَجْهِ۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اضافتِ لفظی ہوئی۔ اس نے صرف کیا فائدہ دیا؟ حَسَنٌ کے آخر سے صرف تنوین گری ہے، اور جیسے حَسَنٌ اضافت سے پہلے نکرہ تھا ابھی بھی کیا ہے؟ نکرہ ہی ہے، نہ اس میں تعریف آئی نہ اس میں تخصیص آئی۔ اسی لیے کہا آگے خود بیان کر رہے ہیں: وَفَائِدَتُهَا تَخْفِيفٌ فِي اللَّفْظِ فَقَطْ، اور اس اضافت کا فائدہ یعنی اضافتِ لفظیہ کا فائدہ وہ صرف لفظوں میں تخفیف ہے، صرف لفظوں میں تخفیف ہے اور کوئی فائدہ نہیں، یعنی تعریف بھی نہیں اور تخصیص بھی نہیں۔ جیسے قرآن میں اس کی مثال آتی ہے، قرآن میں: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا۔ هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا، عَارِضٌ کہتے ہیں بادل کو، بادل کو۔ مُمْطِرُنَا، مُمْطِرٌ کہتے ہیں برسانے والا، مُمْطِرُنَا ہم پر برسانے والا۔ تو دیکھو ترکیب کیا ہے؟ هَذَا مرفوع محلاً مبتدا، عَارِضٌ مرفوع لفظاً، ہاں صیغہ اسمِ فاعل نہیں، بادل کا نام ہی عَارِضٌ ہے، بس اسی طرح رکھیں اس کو، تو یہ عَارِضٌ مرفوع لفظاً موصوف، موصوف۔ کیونکہ میں نے آپ کو ضابطہ بتایا ہے: نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو آپس میں کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت بنتے ہیں۔ تو عَارِضٌ نکرہ ہے تو مُمْطِرُنَا بھی آگے نکرہ آ رہا ہے، تو دونوں نکرہ کے بعد نکرہ آیا تو پہلے کو موصوف دوسرے کو صفت۔ آپ کہیں گے مُمْطِرُنَا آخر میں تو ضمیر آ رہی ہے، برسانے والا مُمْطِرٌ برسانے والا، مُمْطِرُنَا ہم پر برسانے والا، تو یہ تو مُمْطِرُنَا تو مُمْطِرٌ کی اضافت ہے نَا ضمیر کی طرف، مُمْطِرٌ کی اضافت، توجہ ہے؟ مُمْطِرٌ کی اضافت کس کی طرف؟ نَا ضمیر کی طرف، اور ضمیر تو معرفہ ہے اور معرفہ کی طرف جب مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ ہو جاتا ہے، تو مُمْطِرُنَا ہوا معرفہ اور عَارِضٌ ہوا نکرہ، تو نکرہ کی صفت تو نکرہ آ سکتی ہے معرفہ نہیں، جواب یہ کہ مُمْطِرُنَا اس کے درمیان اضافتِ لفظی ہے، مُمْطِرٌ ہے مضاف، نَا ضمیر ہے مضاف الیہ، اور مُمْطِرٌ اسمِ فاعل ہے صفت کا صیغہ ہے اور نَا ضمیر اس کے لیے معمول ہے، ہم پر برسانے والا، برسانے والا ہے بارش کو اور کس پر؟ ہم پر، تو ہم پر برسا رہا ہے تو یہ مفعول ہوا، نَا ضمیر کیا ہوئی؟ مفعول۔ تو مُمْطِرٌ کی اضافت ہوئی اپنے معمول نَا ضمیر کی طرف، اور صفت کے صیغے کی اضافت اپنے معمول کی طرف ہو جائے تو یہ اضافتِ لفظی ہوتی ہے، اور اضافتِ لفظی کس تقدیر میں ہے؟ انفصال کی تقدیر میں ہے، یعنی ابھی بھی الگ ہی ہے، یوں سمجھو گویا اضافت ہوئی ہی نہیں۔ جب اضافت ہوئی ہی نہیں تو مُمْطِرٌ جیسے پہلے نکرہ تھا اب بھی کیا ہے؟ نکرہ، نہ اس نے تعریف اخذ کی اور نہ تخصیص۔ جب یہ نکرہ ہے تو عَارِضٌ بھی نکرہ ہوا، مُمْطِرُنَا بھی نکرہ ہوا، تو نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ اسی لیے میں نے کہا عَارِضٌ مرفوع لفظاً موصوف، مُمْطِرُ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، اور نَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر صفت۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بلکہ بلکہ مُمْطِرٌ اسمِ فاعل ہے، برسانے والا، ہم پر برسانے، مُمْطِرٌ مرفوع، دوبارہ سنو ترکیب: هَذَا مرفوع محلاً مبتدا، عَارِضٌ مرفوع لفظاً موصوف، مُمْطِرُ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، اور صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ ہاں صفت کو موصوف سے جوڑتے ہیں، تو وہ هُوَ ضمیر راجع کس کو؟ عَارِضٌ کو موصوف کو۔ آگے نَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ تو اسمِ فاعل اپنے فاعل اور مضاف الیہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو هَذَا مبتدا ہے، عَارِضٌ خبر ہے اور مُمْطِرُنَا اس کی صفت ہے۔ اب ترجمہ کیجیے، موصوف صفت کے ترجمہ کرنے کا طریقہ بتایا تھا میں نے کہ نکرہ میں کیا کرو؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی، هَذَا عَارِضٌ یہ ایسا بادل ہے مُمْطِرُنَا جو ہم پر بارش برسائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 69 of 104