Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-066

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 47
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَاعْلَمْ أَنَّ لَفْظَةَ ”غَيْرٍ“ مَوْضُوعَةٌ لِلصِّفَةِ، وَقَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلِاسْتِثْنَاءِ، كَمَا أَنَّ لَفْظَةَ ”إِلَّا“ مَوْضُوعَةٌ لِلِاسْتِثْنَاءِ، وَقَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلصِّفَةِ، كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، أَيْ: غَيْرُ اللَّهِ، وَكَذٰلِكَ قَوْلُكَ: ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“.“ مستثنیٰ کی بحث چل رہی ہے، اور آپ نے پڑھا تھا کہ مستثنیٰ بـ”إِلَّا“ کے اندر تفصیل ہے۔ ”إِلَّا“ کے بعد اگر مستثنیٰ آئے تو اس پر کیا اعراب پڑھنا ہے؟ میں نے بتلایا تھا سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع؟ اگر منقطع ہو تو منصوب ہوگا۔ اگر متصل ہو تو پھر دیکھو کہ کلام موجب ہے یا غیر موجب؟ اگر کلام موجب ہو تو بھی منصوب ہوگا، اور اگر غیر موجب ہو تو پھر دیکھیں کہ مستثنیٰ مقدم ہے یا غیر مقدم؟ اگر مقدم ہو تو بھی منصوب ہوگا، اور اگر مقدم نہ ہو تو پھر دیکھیں کہ مستثنیٰ منہ مذکور ہے یا مذکور نہیں؟ اگر مستثنیٰ منہ مذکور ہو تو پھر اس مستثنیٰ پر نصب پڑھنا بھی جائز اور اس کو ماقبل سے بدل بنانا بھی جائز، اور اگر مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو تو مستثنیٰ پر جو اعراب آئے گا وہ علٰی حسب العوامل ہوگا، یعنی جیسا عامل ہوگا اسی کے مطابق اعراب آئے گا؛ اگر رفع والا عامل ہے تو رفع آئے گا، نصب والا ہے تو نصب آئے گا، اور جر والا ہے تو جر آئے گا۔ اس کے بعد ”غَيْرُ“ کے بارے میں بھی انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”غَيْرُ“ اصل میں وضع ہے صفت کے لیے، لیکن یہ کبھی کبھار استعمال ہو جاتا ہے استثناء کے لیے، اور جب یہ استثناء کے لیے استعمال ہوگا تو اس پر کیا اعراب پڑھیں گے؟ جب صفت کے لیے استعمال ہو پھر تو وہی اعراب آئے گا جو موصوف کا تھا، لیکن اگر یہ استثناء کے لیے استعمال ہو ”غَيْرُ“ کا لفظ تو پھر اس پر کون سا اعراب آئے گا؟ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ”غَيْرُ“ پر وہی اعراب آئے گا جو مستثنیٰ بـ”إِلَّا“ کا اعراب تھا بھئی۔ اب آگے آپ کو بتلا رہے ہیں وہی بات جو میں نے آپ کو کل بتلائی تھی کہ ”إِلَّا“ اصل میں وضع ہے استثناء کے لیے، لیکن کبھی کبھار کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ صفت کے لیے، اور اسی طرح ”غَيْرُ“ اصل میں وضع ہے صفت کے لیے لیکن کبھی کبھار استثناء کے لیے استعمال ہو جاتا ہے، یعنی دونوں ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ“ جان لے تو، ”أَنَّ لَفْظَةَ ”غَيْرٍ“ مَوْضُوعَةٌ لِلصِّفَةِ“ کہ ”غَيْرُ“ کا لفظ جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے صفت کے لیے، ”وَقَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلِاسْتِثْنَاءِ“ اور کبھی کبھار اس کو استثناء کے لیے بھی استعمال کر لیتے ہیں، ”كَمَا أَنَّ لَفْظَةَ ”إِلَّا“ مَوْضُوعَةٌ لِلِاسْتِثْنَاءِ“ جیسے کہ ”إِلَّا“ کا لفظ اس کو وضع کیا گیا ہے استثناء کے لیے، ”وَقَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلصِّفَةِ“ اور کبھی کبھار اس کو صفت کے لیے استعمال کر لیتے ہیں، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، ”لَوْ كَانَ“ اگر ہوتے ”فِيهِمَا“ ان دونوں میں، یعنی زمین اور آسمان میں، اگر ان دونوں میں ہوتے ”آلِهَةٌ“ اور معبود ”إِلَّا اللَّهُ“ سوائے اللہ کے، ”لَفَسَدَتَا“ تو ان دونوں کا نظام فاسد ہو جاتا۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ اس کائنات میں اور کوئی معبود نہیں سوائے میرے، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ اگر اس کائنات میں اور بھی معبود ہوتے تو پھر اس زمین اور آسمان کا نظام فاسد ہو جاتا؛ کیونکہ ایک معبود چاہتا میں اس طرح کروں، دوسرا معبود چاہتا میں اس طرح کروں، تو لہٰذا یہ نظام چل ہی نہیں سکتا تھا بھئی۔ یہ خوبصورت اور حسین و جمیل نظام جو اللہ نے بنایا ہے، اور جو نہایت خوبصورتی سے یہ نظام جس طرح چل رہا ہے، اگر اور معبود ہوتے تو یہ نظام اس طرح چل ہی نہیں سکتا تھا۔ تو اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، اگر اس زمین اور آسمان کے اندر اور معبود ہوتے سوائے اللہ کے تو البتہ ان کا نظام فاسد ہو جاتا۔ بحث یہ چل رہی ہے کہ ”إِلَّا“ وضع ہے استثناء کے لیے لیکن کبھی کبھار صفت کے لیے استعمال ہو جاتا ہے، اور ”غَيْرُ“ وضع ہے صفت کے لیے اور کبھی کبھار استثناء کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔ جیسے یہ جو مثال ہے: ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، اس میں ”إِلَّا“ آیا اور ”إِلَّا“ اصل میں تو وضع ہے استثناء کے لیے، لیکن یہاں ”إِلَّا“ استثناء کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ”إِلَّا“ صفت کے لیے ہے، یعنی ”غَيْرُ“ کے معنی میں ہے۔ کس معنی میں ہے؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں ہے بھئی، ”غَيْرُ“ کے معنی میں۔ اور میں نے آپ کو بتایا تھا ”غَيْرُ“ ہمیشہ مضاف الیہ چاہتا ہے، مضاف الیہ، اور ”غَيْرُ“ معرفہ کی طرف مضاف ہو جائے پھر بھی یہ کیا رہتا ہے؟ نکرہ رہتا ہے۔ تو یہ ”آلِهَةٌ“ پہلے آیا یہ بھی ہے نکرہ؛ کیونکہ یہ اسم اشارہ بھی نہیں، یہ اسم موصول بھی نہیں، اس پر الف لام بھی داخل نہیں، یہ کسی کا نام بھی نہیں وغیرہ، تو یہ نکرہ ہوا۔ اور اس کے بعد کیا آیا؟ ”إِلَّا اللَّهُ“، اصل میں یہ کیا ہے؟ ”غَيْرُ اللَّهِ“، ”إِلَّا“ کس معنی میں ہے؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں، اور ”غَيْرُ“ مضاف ہوا لفظِ اللہ کی طرف، اور ”غَيْرُ“ لفظِ اللہ کی طرف مضاف ہوگا تو بھی کیا رہے گا؟ نکرہ ہی۔ تو ”آلِهَةٌ“ بھی نکرہ آگے ”غَيْرُ اللَّهِ“ صفت بھی نکرہ، تو یہ موصوف صفت بن جائیں گے۔ اگر ہوتے اس زمین اور آسمان میں اور معبودان ”إِلَّا اللَّهُ“ أَيْ ”غَيْرُ اللَّهِ“ علاوہ اللہ کے، سوائے اللہ کے، اللہ کے علاوہ اگر اور معبود ہوتے اس زمین اور آسمان میں ”لَفَسَدَتَا“ تو اس زمین اور آسمان کا نظام خراب ہو جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بحث کیا چل رہی ہے کہ یہاں یہ جو ”إِلَّا“ آیا یہ ”إِلَّا“ کس معنی میں ہے؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں ہے، یعنی صفت کے لیے ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہ کیوں ”غَيْرُ“ کے معنی میں ہے؟ وجہ یہ ہے اس کی کہ دیکھیے ”إِلَّا“ آتا ہے استثناء کے لیے، اور اس کے مابعد جو ہوگا وہ مستثنیٰ ہوگا، اور مستثنیٰ کی تو دو ہی قسمیں ہیں: یا وہ مستثنیٰ متصل ہوتا ہے یا مستثنیٰ منقطع ہوتا ہے۔ تو یہاں پر یہ لفظِ اللہ کو نہ مستثنیٰ متصل بنایا جا سکتا ہے، نہ مستثنیٰ منقطع بنایا جا سکتا ہے، اور مستثنیٰ کی تو یہی دو صورتیں ہیں: یا متصل ہوگا یا منقطع۔ جب یہ نہ متصل ہو سکتا ہے اور نہ منقطع، تو تیسری تو کوئی صورت ہی نہیں، تو معلوم ہوا یہ ”إِلَّا“ استثناء کے لیے ہے ہی نہیں؛ کیونکہ استثناء کے لیے ہوتا تو یا تو یہ استثنائِ متصل کے لیے ہوتا یا استثنائِ منقطع کے لیے ہوتا، دونوں نہیں ہو سکتے، معلوم ہوا یہ استثناء کے لیے ہے ہی نہیں بلکہ یہ کس لیے ہے؟ صفت کے لیے ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اچھا، تو استثناء کے لیے یہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ مستثنیٰ متصل کیوں نہیں ہو سکتا یا منقطع کیوں نہیں ہو سکتا؟ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے، ماقبل میں جو ”إِلَّا“ سے ماقبل ذکر ہے وہ جمع ہے، ”آلِهَةٌ“ جمع ہے ”إِلٰهٌ“ کی، اور ”إِلٰهٌ“ معبود کو کہتے ہیں۔ آپ پڑھتے ہیں نا ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“، یہ ”إِلٰهٌ“ کیا ہے؟ معبود، معبود، تو یہ ”إِلٰهٌ“ ہے اس کا معنی ہے معبود، اور اس ”إِلٰهٌ“ کی جمع عربی میں آتی ہے ”آلِهَةٌ“۔ تو یہ ”آلِهَةٌ“ جمع ہے ”إِلٰهٌ“ کی، اور یہ نکرہ ہے، یہ کیا ہے؟ نکرہ۔ تو جب مستثنیٰ منہ جمع ہو اور نکرہ ہو اور اس کے بعد ”إِلَّا“ آئے تو وہ پھر ہمیشہ صفت کے معنی میں ہوگا؛ کیونکہ نہ وہاں مستثنیٰ متصل بنا سکتے ہیں نہ مستثنیٰ منقطع بنا سکتے ہیں۔ کب؟ جب ”إِلَّا“ سے ماقبل کیا ہو؟ جمع ہو اور نکرہ، تو جمعِ منکَّر ہو یعنی جمعِ منکَّر، ایسی جمع جو نکرہ ہو۔ تو جب بھی ”إِلَّا“ سے ماقبل جمعِ منکَّر آ جائے تو پھر وہ ”إِلَّا“ ”غَيْرُ“ کے معنی میں ہوگا، صفت کے لیے ہوگا، استثناء کے لیے نہیں۔ اور کیوں نہیں بنا سکتے مستثنیٰ متصل اور منقطع؟ وجہ یہ ہے، میں نے آپ کو بتایا تھا ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، توجہ ہے؟ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، آپ مجھے یہ بتائیے یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے؟ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“؟ جی؟ بھئی دیکھیے، ہاں، ہم نے یہ مثال جو کی تھی مستثنیٰ متصل کی کی تھی، لیکن یاد رکھو آپ نے ویسے ہی آنکھیں بند کر کے نہیں کہنا کہ یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ مستثنیٰ متصل کسے کہتے تھے؟ جو پہلے داخل تھا پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے اس کو نکال دیا تو وہ ہے متصل، اور اگر پہلے داخل ہی نہیں تھا تو وہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ لہٰذا یہی مثال ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، توجہ ہے؟ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، آپ سے کوئی پوچھے یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع؟ آپ جواب میں کہیں یہ مستثنیٰ متصل بھی ہو سکتا ہے یہ مستثنیٰ منقطع بھی ہو سکتا ہے۔ متصل کب ہوگا؟ اگر ”الْقَوْمُ“ سے ایسی جماعت مراد جس میں زید پہلے شامل تھا پھر کیا کیا گیا؟ نکال دیا، تو یہ متصل۔ اور اگر ”الْقَوْمُ“ سے ایسی جماعت مراد ہے جس میں زید پہلے داخل ہی نہیں تھا تو یہ تو پھر کون سا ہوا مستثنیٰ؟ منقطع۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع اس کا سارا دار و مدار اس بات پر ہے کہ پہلے مستثنیٰ مستثنیٰ منہ میں داخل ہے اور پھر ”إِلَّا“ نے آ کر نکالا تو یہ متصل، اور اگر پہلے داخل نہیں تھا تو پھر یہ منقطع ہے۔ لیکن یہ تو وہیں پر طے ہو سکتا ہے نا جہاں آپ کو پتہ چلے کہ یہ پہلے داخل تھا یا پہلے داخل نہیں تھا۔ اگر آپ کو پتہ ہوگا تو آپ اس کو متصل بنائیں گے یا منقطع بنائیں گے، لیکن یہاں جب ”إِلَّا“ سے ماقبل جمعِ منکَّر ہو وہاں یہ پتہ چل ہی نہیں سکتا کہ مابعد ماقبل میں داخل تھا یا داخل نہیں تھا، تو لہٰذا نہ اس کو متصل بنا سکتے ہیں اور نہ منقطع۔ اگر پتہ چل جائے پہلے داخل تھا تو متصل بنا لیں، اگر داخل نہیں تھا تو کیا بنا لیں؟ منقطع بنا لیں، لیکن وہاں ایسا ہو ہی نہیں سکتا، پتہ چل ہی نہیں سکتا، لہٰذا نہ اس کو متصل بنا سکتے ہیں اور نہ منقطع، تو معلوم ہوا پھر ”إِلَّا“ کو استثناء کے معنی میں لیں گے ہی نہیں بلکہ کس معنی میں کرنا پڑے گا؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں لینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، یہاں ”آلِهَةٌ“ آیا، اور ”آلِهَةٌ“ جمع ہے ”إِلٰهٌ“ کی، تو ”آلِهَةٌ“ کا کیا معنی ہوا؟ کئی معبود، کئی معبود۔ اب وہ کئی معبود ان میں مابعد یعنی اللہ کی ذات اگر پہلے داخل تھی پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا گیا؟ نکالا گیا تو ہم کہتے یہ متصل ہے، اور اگر پہلے سے داخل ہی نہیں تھی تو ہم پھر کہتے یہ مستثنیٰ منقطع ہے، لیکن یہاں یہ ہو ہی نہیں سکتا؛ کیونکہ یہ جمعِ منکَّر ہے، جمعِ منکَّر کے اندر اتنی صلاحیت ہی نہیں ہوتی کہ اس سے کسی چیز کا کیا کیا جائے؟ استثناء کیا جائے۔ تو لہٰذا لہٰذا یہ ”إِلَّا“ استثناء کے لیے نہیں ہے بلکہ کس معنی میں ہے؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں، یعنی صفت کے لیے ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾ اس آیت کے اندر ”إِلَّا“ کس معنی میں ہے؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں، اور کس وجہ سے؟ اس کا سبب کیا ہے؟ مانع کیا ہے کہ ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے آپ نہیں بنا سکتے؟ کون سی چیز مانع بن گئی؟ کس چیز نے روک دیا؟ وہ ماقبل کے جمعِ منکَّر ہونے نے۔ کس نے؟ ماقبل اس کے جمعِ منکَّر آ گئی، اس نے یہ مانع بن گئی، اس نے روک دیا کہ یہ ”إِلَّا“ استثناء کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ صفت کے لیے ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں مانع لفظی ہے، مانع کیا ہے؟ لفظی ہے، اور وہ لفظ کیا ہے؟ ”آلِهَةٌ“ کا لفظ ہے بھئی، نکرہ جو ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ تُسْتَعْمَلُ لِلصِّفَةِ“ اور کبھی کبھار ”إِلَّا“ جو ہے صفت کے لیے استعمال ہوتا ہے، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى“ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، اگر اس زمین اور آسمان میں اور معبود ہوتے سوائے اللہ کے ”لَفَسَدَتَا“ تو ان کا نظام فاسد ہو جاتا، ”أَيْ: غَيْرُ اللَّهِ“، دیکھا؟ بتلا دیا ”إِلَّا اللَّهُ“ کس معنی میں ہے؟ ”غَيْرُ اللَّهِ“، یعنی کہ ”غَيْرُ اللَّهِ“ کے معنی۔ ”وَكَذٰلِكَ قَوْلُكَ“ اور اسی طرح آپ کا یہ قول بھی: ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“۔ یاد رکھیے ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ یہاں پر بھی ”إِلَّا“ صفت کے لیے ہے یعنی ”غَيْرُ“ کے معنی میں ہے، یہ استثناء کے لیے نہیں ہے، یعنی یہ کلمۂ توحید جو ہے اس میں بھی یہ ”إِلَّا“ کس لیے ہے؟ یہ صفت کے لیے ہے، استثناء کے لیے نہیں ہے بھئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ ماقبل میں وجہ تھی لفظی، اور یہاں پر وجہ ہے معنوی۔ یعنی یوں کہیں وہاں تھا مانع لفظی اور یہاں مانع معنوی ہے، یعنی یوں کہیں معنی ہے مانع؛ کیونکہ ”إِلَّا“ جو ہے اگر اس کو استثناء کے لیے لیں تو پھر یہ توحید کے خلاف ہے۔ کہ یہ کلمۂ توحید ہے بھئی، یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ توحید کا فائدہ دیتا ہے، یہ بتلاتا ہے کہ اس کائنات کے اندر اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے بھئی، اور یہ معنی تبھی حاصل ہوگا جبکہ یہاں ”إِلَّا“ کو صفت کے لیے بنائیں۔ اگر اس ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے بنائیں تو پھر توحید پورے طور پر حاصل نہیں ہوتی، یہ توحید کے خلاف ہو جاتا ہے معنی بھئی۔ اگر ”إِلَّا“ کو کس لیے بنائیں؟ استثناء کے لیے، تو پھر یہ توحید کا فائدہ نہیں دے گا، کامل توحید کا فائدہ یہ کلمہ نہیں دے گا۔ کس طرح؟ دیکھیے بھئی۔ ”لَا إِلٰهَ“ کوئی معبود نہیں ہے ”إِلَّا اللَّهُ“ سوائے اللہ کے۔ اب کوئی الٰہ نہیں، کوئی معبود نہیں، تو ماقبل میں معبود کی نفی ہوئی اور ”إِلَّا“ کے مابعد اللہ کی ذات کا اثبات ہوا۔ ماقبل میں نفی ہوئی مابعد میں اثبات۔ اب یا تو آپ اس کو مستثنیٰ متصل بنائیں گے تو بھی معنی صحیح نہیں، توحید کے خلاف، یا آپ اس کو مستثنیٰ منقطع بنائیں گے تو بھی توحید کے خلاف۔ تو آپ اس کو مستثنیٰ متصل بنائیں تو بھی توحید کے خلاف، مستثنیٰ منقطع بنائیں تو بھی توحید کے خلاف۔ تو یہ نہ مستثنیٰ متصل ہو سکتا ہے اور نہ مستثنیٰ منقطع ہو سکتا ہے۔ ذرا آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ ماقبل میں جن معبودوں کی نفی ہو رہی ہے یا تو اس سے مراد معبودانِ حق ہیں یا اس سے مراد معبودانِ باطل ہیں۔ اگر وہ معبود جن کی نفی کی گئی اگر اس سے معبودانِ حق مراد لیں تو بھی معنی توحید کے خلاف، اگر وہ معبود جن کی نفی کی گئی اگر اس سے معبودانِ باطلہ مراد لیں تو بھی یہ معنی توحید کے خلاف ہے بھئی۔ کس کی نفی ہو رہی ہے؟ معبودوں کی، کوئی معبود نہیں، تو کن معبودوں کی نفی ہو رہی ہے؟ معبودانِ حق کی یا معبودانِ باطل کی؟ دو ہی احتمال ہیں نا، تیسرا احتمال تو کوئی نہیں۔ اب دیکھیے مثلاً اگر یہ جن معبودان کی نفی ہو رہی ہے ان معبودوں سے مراد لے لیں معبودانِ حق، گویا ترجمہ یوں ہوا: ”لَا إِلٰهَ“ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ”إِلَّا اللَّهُ“ سوائے اللہ کے۔ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ تو دیکھیے نفی ہوئی معبودانِ برحق کی، اور ”إِلَّا“ کو آپ نے بنایا کس لیے؟ مستثنیٰ متصل کے لیے بن جائے گا۔ دیکھیے اللہ بھی معبودِ حقیقی، اللہ کیا ہیں؟ معبودِ حقیقی، ”إِلَّا“ کے مابعد آ رہے ہیں نا معبودِ حقیقی، اور ”إِلَّا“ سے ماقبل جن معبودوں کی نفی ہو رہی ہے ابھی میں نے بتایا اس میں دو احتمال: یا معبودانِ حق ہیں یا معبودانِ باطل۔ ہم پہلی صورت لے لیتے ہیں معبودانِ حق کی، کہ کن معبودوں کی نفی ہو رہی ہے؟ معبودانِ حق کی۔ تو ماقبل میں نفی ہوئی معبودانِ حق کی، کوئی معبودِ برحق نہیں سوائے کس کے؟ اللہ کے۔ تو تمام معبودانِ برحق کی نفی ہو گئی اور اللہ کی ذات کا اثبات ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ماقبل میں کون؟ معبودانِ برحق۔ تو ”إِلَّا“ ہوا استثنائِ متصل کے لیے، کس لیے ہوا؟ استثنائِ متصل کے لیے۔ کیوں؟ کیونکہ اللہ بھی معبودِ برحق، ماقبل میں بھی کن کی نفی؟ معبودانِ برحق کی، تو اللہ بھی کس میں سے؟ معبودانِ برحق میں سے۔ تو پہلے جب کہا کوئی معبودِ برحق نہیں، تمام معبودوں کی نفی ہو گئی، پھر ان میں سے اللہ کی ذات کو نکال کر کیا کر دیا گیا؟ اثبات کر دیا گیا۔ جیسے میں نے کہا تھا ”مَا جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، میرے پاس وہ لوگ نہیں آئے ”إِلَّا زَيْدًا“ سوائے کس کے؟ زید کے۔ تو جب میں نے کہا تھا وہ لوگ نہیں آئے میں نے زید کی بھی نفی کر دی، پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے زید کا کیا کر دیا؟ اثبات۔ تو وہ کون سا مستثنیٰ تھا؟ مستثنیٰ متصل۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح معبودانِ حق کی نفی ہو گئی اور پھر ”إِلَّا“ کے بعد کیا کیا گیا؟ اللہ کی ذات کا اثبات، تو مستثنیٰ کون سا ہوا؟ مستثنیٰ متصل ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہ معنی توحید کے خلاف ہے۔ توحید کے خلاف اس طرح کہ ٹھیک ہے آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہوا: اللہ کے علاوہ اور کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبودِ برحق نہیں۔ تو گویا یہ مستثنیٰ متصل ہوا، مستثنیٰ متصل کسے کہتے تھے؟ کہ مستثنیٰ مستثنیٰ منہ میں پہلے داخل ہو اور بعد میں ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا جائے؟ اس کو نکال دیا جائے۔ تو یہاں پر بھی اگرچہ تمام معبودانِ برحق کی نفی کر دی گئی اور یہ کہا گیا: کوئی معبودِ برحق نہیں سوائے کس کے؟ اللہ کے، یعنی اللہ کے علاوہ کوئی بھی معبودِ برحق نہیں، سب کی نفی کر دی، سب کی نفی کر دی یا نہیں کر دی؟ جی، اور یہی معنی مقصود ہے یا غیر مقصود؟ مقصد بھی یہی ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبودِ حقیقی نہیں صرف اللہ کی ذات ہے۔ لیکن یہ بن تو مستثنیٰ متصل گیا، اور مستثنیٰ متصل کسے کہتے تھے؟ جو پہلے داخل تھا پھر اس کو ”إِلَّا“ کے ذریعے نکال لیا گیا۔ تو یہاں پر آپ نے بھی کیا کیا؟ اللہ کے علاوہ باقی تمام معبودانِ برحق کی کیا کر دی؟ نفی کر دی۔ لیکن ایک لمحے کے لیے ان کو ماننا پڑا، معبودانِ برحق کو ماننا پڑا کہ اللہ ان میں داخل تھے پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کر دیا گیا؟ نکال لیا گیا۔ مستثنیٰ متصل اسی کو کہتے ہیں نا جو پہلے داخل تھا پھر اس کو کیا کر لیا گیا ہو؟ نکال لیا گیا ہو۔ تو یہاں معبودان سے کون سے معبود مراد لیے؟ معبودانِ حق مراد لیے، تو جب آپ نے کہا ”لَا إِلٰهَ“ کوئی بھی معبودانِ برحق میں سے نہیں ہے، کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ”إِلَّا اللَّهُ“ سوائے اللہ کے، تو اللہ کی ذات بھی کیا ہے؟ معبودِ برحق، اور ماقبل میں نفی بھی کس کی؟ معبودانِ برحق کی، تو معلوم ہوا یہ مستثنیٰ متصل ہے۔ مستثنیٰ متصل ہے، مثلاً میں نے کہا تھا ”مَا جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، مستثنیٰ متصل کسے کہتے تھے؟ جو ماقبل میں پہلے داخل ہو اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کر لیا جائے؟ نکال لیا جائے۔ تو یہاں پر بھی ماقبل میں بھی معبودانِ حق کا ذکر اور اللہ کی ذات بھی کیا ہے؟ معبودِ حقیقی ہے، تو یہ مستثنیٰ متصل والی صورت ہو گئی، کون سی صورت ہو گئی؟ مستثنیٰ متصل والی صورت ہوئی۔ اور مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں کہ ”إِلَّا“ کا مابعد پہلے ماقبل میں داخل تھا پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے اس کو کیا کر لیا گیا؟ نکال لیا گیا۔ تو یہاں بھی اللہ کی ذات ماقبل میں پہلے داخل تھی اور پھر تمام معبودانِ حق کی جب نفی ہوئی، تمام معبودانِ حق کی تو نفی کر دی گئی لیکن اللہ کی ذات کا اثبات کر دیا گیا۔ اللہ کی ذات کا اثبات کیا گیا، تو یہ مستثنیٰ متصل ہوا کہ پہلے داخل تھے ماقبل میں پھر نکال کر ماقبل کی نفی کر دی گئی اور اللہ کی ذات کا اثبات کیا گیا، تو یہ مستثنیٰ متصل ہوا۔ کیا ہوا؟ مستثنیٰ متصل۔ اور مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں؟ تو گویا یہاں پر بھی اللہ کی ذات ماقبل میں جو معبودانِ برحق جن کی نفی کی گئی پہلے ان میں داخل تھی، پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے اللہ کی ذات کا استثناء کیا گیا اور اثبات کیا گیا، تو ایک لمحے کے لیے ہی بہرحال اور معبودوں کو ماننا تو پڑا، اگرچہ بالفرض والِمحال ہی ماننا پڑا کہ اللہ پہلے داخل تھے ان میں، پھر ان سب کی تو نفی کر دی گئی لیکن اللہ کی ذات کا ان سے نکال کر اللہ کی ذات کا اثبات کر دیا گیا۔ تو اور معبودوں کو اگرچہ آپ اس وقت نفی کر رہے ہیں لیکن ایک لمحے کے لیے ماننا پڑا یا نہیں ماننا پڑا؟ فرض کرنا پڑا یا نہیں کرنا پڑا؟ جبھی یہ صورت بنے گی نا کہ پہلے داخل تھے پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کر دیا گیا؟ نکال لیا۔ تو پہلے داخل ہونے کی کیا صورت ہے کہ ایک لمحے کے لیے ماننا پڑے گا، اور یہ معنی توحید کے خلاف ہے مولانا؛ کیونکہ توحید تو یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، ایک لمحے کے لیے بھی کسی اور کو معبود ماننا یہ بھی کیا ہے؟ توحید کے خلاف ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا کہ یہاں مستثنیٰ متصل لینا درست نہیں، مستثنیٰ متصل لینا درست نہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو ”آلِهَةٌ“ جن کی نفی ہوئی ان سے آلہۂ حق مراد لینا صحیح نہیں۔ تو پھر دوسری صورت تو یہی ہے کہ آلہہ سے مراد آلہۂ باطلہ مراد دیے جائیں، معبودانِ باطل مراد لیے جائیں، اور اللہ تو معبودِ حقیقی ہے، اللہ کی ذات تو معبودانِ باطلہ میں سے نہیں، تو ان میں داخل ہی نہیں، جب داخل ہی نہیں تو یہ پھر مستثنیٰ منقطع بن جائے گا، مستثنیٰ منقطع بن جائے گا۔ تو چلو اب ہم ذرا اس کو مستثنیٰ منقطع بنا کر دیکھتے ہیں کہ کیا پھر معنی صحیح ہوتا ہے یا نہیں؟ تو اس صورت میں معنی یہ ہو جائے گا ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ کوئی معبودِ باطل نہیں ہے ”إِلَّا اللَّهُ“ مگر اللہ معبودِ حقیقی موجود ہے۔ کوئی معبودِ باطل نہیں ہے مگر اللہ جو معبودِ حقیقی ہے وہ موجود ہے۔ تو کن معبودوں کی نفی ہوئی؟ معبودانِ باطلہ کی نفی ہوئی، اور کون سا مستثنیٰ ہوا؟ مستثنیٰ منقطع ہوا۔ تو مستثنیٰ منقطع ہوا اور معبودانِ باطلہ کی نفی ہو گئی، ٹھیک ہے کہ معبودانِ باطلہ کوئی بھی نہیں ہیں اور اللہ کی ذات کا اثبات ہوا۔ تو معبودانِ باطلہ کی تو نفی ہو گئی لیکن معبودانِ حق کی تو نفی نہیں ہوئی۔ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ اس میں تو صرف کیا بتلایا گیا، آلہہ سے کون سے آلہہ مراد لیے؟ معبودانِ باطل، گویا کہا گیا کوئی معبودِ باطل نہیں ہے، ٹھیک ہے معبودِ باطل تو نہیں ہے، لیکن معبودانِ حق اور ہیں یا اور نہیں ہیں اس کے بارے میں ان کی کوئی نفی کی گئی؟ توحید تو کیا ہے؟ توحید کیا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور معبودِ برحق بھی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ابھی آپ نے کیا معنی کیا کہ کوئی اور معبودِ باطل نہیں، تو ٹھیک ہے معبودِ باطل کی تو نفی ہو گئی لیکن توحید کیا ہے؟ توحید تو یہ ہے نا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ حقیقی بھی نہیں ہے، تو معبودِ باطلہ کی تو ٹھیک ہے یہاں نفی ہو گئی لیکن معبودانِ حق کی تو نفی نہیں ہوئی، ٹھیک ہے اللہ کی ذات کا اثبات ہوا اللہ معبودِ حقیقی ہے، لیکن اللہ کے ساتھ اور معبودِ حقیقی ہیں یا نہیں ہیں؟ ان کی تو نفی نہیں ہوئی، صرف معبودانِ باطل کی نفی ہوئی، معبودانِ حق کی تو نفی نہیں ہوئی، تو پھر تو معنی تو یہ نکلے گا ہو سکتا ہے اور معبودانِ حقیقی ہوں۔ معبودانِ باطل تو کوئی نہیں، ٹھیک ہے، اللہ معبودِ حقیقی ہیں، کس کی نفی کی آپ نے؟ معبودانِ باطل کی، معبودانِ حق کی نفی کی؟ نہیں، چاہیے کیا تھا کہ اللہ کے علاوہ باقی معبودانِ حق کی بھی کیا کرو؟ نفی کرو، اللہ کے علاوہ کوئی اور معبودِ حقیقی بھی نہیں ہے، یہ تھی توحید۔ لیکن اگر یہ مستثنیٰ منقطع بنائیں تو پھر یہ توحید حاصل نہیں ہوتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ خلاصۂ کلام کیا ہوا کہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ اس میں ”إِلَّا“ کو استثنائِ متصل کے لیے بھی نہیں لے سکتے اور استثنائِ منقطع کے لیے بھی نہیں لے سکتے۔ کیوں نہیں لے سکتے؟ اس لیے کیونکہ اگر اس کو مستثنیٰ متصل بنانے کی کوشش کریں تو اس صورت میں آلہہ سے مراد آلہۂ برحق ہوں گے اور اس صورت میں مستثنیٰ متصل ہوگا، اور مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں جو پہلے ماقبل میں داخل ہو اور پھر اس کو نکالا جائے، تو گویا ایک لمحے کے لیے پہلے ماننا پڑے گا اور گویا اور معبودانِ برحق بھی ماننے پڑیں گے، چاہے ایک لمحے کے لیے ہی ہے، پھر اپ اگلے لمحے میں آپ فوراً ان کی نفی بھی کر دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبودِ حقیقی نہیں ہے، لیکن بہرحال ایک لمحے کے لیے تو ماننا پڑا کہ پہلے داخل ہیں اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا گیا؟ نکالا گیا۔ تو جب پہلے داخل ہیں تو ماننا پڑا، جب ماننا پڑا تو یہ معنی تو توحید کے خلاف ہوا، پوری توحید اس سے حاصل نہیں، اور اگر اس آلہہ سے مراد کون سے آلہہ لیں؟ معبودانِ باطلہ مراد لیں تو پھر معبودانِ باطلہ کی تو نفی ہو جائے گی، معبودانِ برحق کی تو نفی نہ ہوئی، تو اس صورت میں معبودانِ حق کی نفی نہیں ہوگی حالانکہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبودِ حقیقی بھی نہیں ہے، سب کی نفی ضروری ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہاں یہاں ”إِلَّا“ سے پہلے جمعِ منکَّر تو نہیں، ”إِلٰهٌ“، ”إِلٰهٌ“ یہ تو مفرد ہے جمع نہیں، ماقبل میں جمعِ منکَّر تھی اس لیے وہاں ”إِلَّا“ کو ”غَيْرُ“ کے معنی میں لینا پڑا تو وہاں سبب لفظی تھا۔ یہاں جمعِ منکَّر تو نہیں ”إِلَّا“ سے پہلے، لیکن یہاں مانع جو ہے وہ معنوی ہے بھئی۔ کیا معنوی چیز کیا ہے؟ کہ اس کو ہم ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے نہیں لے سکتے؛ کیونکہ ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے لیں گے تو دو ہی صورتیں ہیں: یا مستثنیٰ متصل بنائیں گے یا منقطع، متصل بنائیں تو بھی توحید کے خلاف معنی ہو جاتا ہے اور منقطع بنائیں تو بھی توحید کے خلاف معنی ہو جاتا ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا اس ”إِلَّا“ کو ”غَيْرُ“ کے معنی میں لینا پڑے گا: ”لَا إِلٰهَ غَيْرُ اللَّهِ“، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود موجود نہیں ہے۔ خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، یہاں ”إِلَّا“ کو ”غَيْرُ“ کے معنی میں لیا گیا۔ کیوں؟ یہاں ”إِلَّا“ ”غَيْرُ“ کے معنی میں یعنی صفت کے لیے ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ کہ اس سے ماقبل جو ہے وہ ”آلِهَةٌ“ جمعِ منکَّر ہے بھئی، جمع ہے اور نکرہ ہے، تو جمعِ منکَّر ہے، اور جمعِ منکَّر اس سے استثناء صحیح نہیں ہوتا۔ کیوں نہیں استثناء صحیح ہوتا؟ اس لیے کیونکہ استثناء کی تو دو ہی صورتیں ہیں: یا مستثنیٰ متصل ہوتا ہے یا مستثنیٰ منقطع ہوتا ہے۔ یہاں متصل تب بنائیں گے جب ہمیں پتہ ہو کہ پہلے اس میں داخل تھا پھر کیا کیا گیا؟ ”إِلَّا“ کے ذریعے نکالا گیا۔ اور منقطع تب ہوگا جب ہمیں یقینی طور پر پتہ ہو کہ یہ پہلے سے داخل ہی نہیں تھا، اور جمعِ منکَّر کا معنی تو ہوتا ہے، مثلاً دیکھیے بھئی ”رَجُلٌ“ آدمی، ”رِجَالٌ“ کئی آدمی، میں کہنا چاہتا ہوں ”جَاءَنِي رِجَالٌ“ میرے پاس کچھ لوگ آئے ”إِلَّا زَيْدًا“ سوائے کس کے؟ زید کے۔ اب آپ ”إِلَّا“ کو آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ آپ ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے بنانا چاہتے ہیں اور زید کو مستثنیٰ بنانا چاہتے ہیں، تو مستثنیٰ کی تو دو ہی صورتیں ہیں: یا اس کو متصل بنا سکتے ہو یا منقطع بنا سکتے ہو۔ متصل کب بناؤ گے؟ متصل بنانے کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جب پہلے داخل ہو، تو اس کا مطلب ہوگا کہ زید پہلے ”رِجَالٌ“ میں داخل تھا، یقینی طور پر آپ کو پتہ ہو، یقینی طور پر پتہ ہو کہ زید اس میں داخل تھا پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا گیا؟ نکالا گیا تو آپ کہیں گے یہ مستثنیٰ متصل ہے، اور جب آپ کو یقینی طور پر پتہ ہو کہ زید ”رِجَالٌ“ میں داخل نہیں تھا تو پھر آپ کہیں گے یہ مستثنیٰ منقطع ہے، لیکن یہاں پر یہ پتہ چل ہی نہیں سکتا کہ یقینی طور پر داخل ہے یا داخل نہیں۔ اس لیے کیونکہ ”رِجَالٌ“ جمع ہے ”رَجُلٌ“ کی اور ”رِجَالٌ“ ہے نکرہ، اور ”رِجَالٌ“ کا معنی ہے کچھ لوگ، کچھ آدمی۔ اب کچھ آدمی وہ تین چار کھڑے ہیں وہ بھی ہو سکتے ہیں، وہ چار پانچ چھ کھڑے ہیں وہ بھی کچھ آدمی ہیں، دوسری طرف بھی پانچ دس کھڑے ہیں وہ بھی ہو سکتے ہیں، تو وہ تو کوئی بھی کچھ لوگ ہو سکتے ہیں، تو آپ کوئی ایک مخصوص جماعت مراد ہوتی تو پھر آپ کو پتہ ہوتا کہ زید ان میں شامل ہے اور پھر نکالا گیا یا زید تو ان میں شامل ہی نہیں لہٰذا اس کو نکالا بھی نہیں گیا، تو مستثنیٰ متصل یا منقطع آپ بنا لیتے، لیکن یہاں جب وہ جماعت کی تعیین ہی نہیں ہے تو پھر آپ کس طرح کہیں گے کہ یہ اس میں داخل تھا پھر نکالا گیا یا داخل ہی نہیں تھا اس کے اندر؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً میرے دائیں طرف دس آدمیوں کی ایک جماعت کھڑی ہے، میں ان کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ میرے پاس آئے ”جَاءَنِي“ تو اب میں ”رِجَالٌ“ نہیں کہوں گا ”الرِّجَالُ“ کہوں گا: ”جَاءَنِي الرِّجَالُ“، میرے پاس یہ والے آدمی آئے، اور آپ کو پتہ ہے کہ زید ان میں داخل ہے، تو ”جَاءَنِي الرِّجَالُ إِلَّا زَيْدًا“، اب آپ کہیں گے یہ مستثنیٰ متصل ہے؛ کیونکہ زید تو ان میں داخل تھا اور پھر آپ نے ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا ہے؟ نکال دیا۔ یا زید ان میں داخل ہی نہیں تھا یہ تو اور لوگ ہیں، تو اب میں نے کہا ”جَاءَنِي الرِّجَالُ إِلَّا زَيْدًا“، آپ کہیں گے بھئی ”الرِّجَالُ“ سے یہ والی جماعت مراد ہے اور زید تو ان میں داخل ہی نہیں ہے، معلوم ہوا یہ کون سا مستثنیٰ ہے؟ مستثنیٰ منقطع ہے۔ تو لہٰذا ماقبل میں اس جماعت کی تعیین تو ہو، پتہ تو ہو، پھر ہی بتایا جا سکتا ہے کہ مابعد اس میں داخل تھا یا داخل نہیں۔ داخل تھا تو متصل بن جائے گا، نہیں تھا داخل تو منقطع بن جائے گا۔ اور اس کے بجائے اگر میں کہتا ہوں ”جَاءَنِي رِجَالٌ إِلَّا زَيْدًا“، ”رِجَالٌ“ کا معنی تو ہے کچھ لوگ، میرے دائیں طرف دس آدمی کھڑے ہیں یہ بھی کچھ لوگ ہیں، بائیں طرف کھڑے ہیں دس آدمی یہ بھی کچھ لوگ ہیں، میرے سامنے دس آدمی کھڑے ہیں یہ بھی کچھ لوگ ہیں، تو ہر ایک یہ بھی رجال ہیں، وہ بھی رجال ہیں، یہ بھی رجال ہیں۔ اب میں کہتا ہوں ”جَاءَنِي رِجَالٌ إِلَّا زَيْدًا“، اب رجال کی تعیین ہی نہیں یہ والی جماعت ہے، وہ والی جماعت ہے یا تیسری جماعت ہے، کون سی مراد ہے؟ جماعت کا پتہ چلے گا تو پھر آپ یہ بھی پتہ چلے کہ زید ان میں ہے یا نہیں آپ کو پتہ لگ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا جمعِ منکَّر سے استثناء صحیح نہیں؛ کیونکہ اس میں تعیین نہیں ہوتی، اور متصل یا منقطع بنانے کے لیے تو تعیین ضروری ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، تو ”آلِهَةٌ“ جمع ہے ”إِلٰهٌ“ کی، تو یہ جمع ہوئی کچھ معبود، اور کچھ معبود کون سے معبود؟ تعیین ہے نہیں۔ تو کچھ معبود کہ اس میں اللہ کی ذات پہلے داخل تھی یا داخل نہیں تھی، کس بنیاد پر متصل بنائیں یا منقطع بنائیں؟ وہ یہاں ممکن ہی نہیں ہے، تو لہٰذا مجبورا ًپھر ”إِلَّا“ کو کس معنی میں لینا پڑا؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں لینا پڑا۔ تو یہاں مانع بن گیا، ایک مانع آ گیا جو ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے نہیں بننے دے رہا بلکہ ”إِلَّا“ کو ”غَيْرُ“ کے معنی میں کر رہا ہے، اور وہ مانع کیا ہے؟ لفظِ ”آلِهَةٌ“، یعنی لفظی مانع ہے یہاں پر، کیا ہے؟ لفظی مانع ہے، اور ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ یہاں پر تو کوئی جمعِ منکَّر نہیں ہے ماقبل میں ”إِلَّا“ سے پہلے، تو یہاں لفظی مانع نہیں ہے بلکہ معنوی مانع ہے، اور وہ کیا کہ یہاں نہ مستثنیٰ متصل بھی مراد نہیں لے سکتے اور مستثنیٰ منقطع بھی مراد نہیں لے سکتے۔ متصل کیوں نہیں مراد لے سکتے؟ کیونکہ اس صورت میں ماقبل میں جن معبودان کی نفی ہوئی وہ کون سے ہوں گے؟ معبودانِ برحق، تو پہلے اللہ کی ذات ان میں داخل تھی اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے استثناء کیا گیا، تو ایک لمحے کے لیے معبودانِ برحق کو ماننا پڑے گا پھر ہی ان کی نفی ہوگی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی کیا ہوا؟ توحید کے خلاف۔ اور اگر معبودانِ باطلہ مراد لیں تو پھر یہ مستثنیٰ منقطع بنے گا، لیکن وہ بھی نہیں لے سکتے؛ کیونکہ اس صورت میں معبودانِ باطلہ کی تو نفی ہو گئی، معبودانِ برحق کی بھی تو نفی چاہیے تھی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق بھی نہیں ہے، تو ان کی تو نفی نہ ہوئی، تو اس صورت میں یہ معنی بھی توحید کے خلاف توحید کے خلاف ہوا بھئی۔ تو ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾ اس کے اندر بھی ”إِلَّا“ صفت کے لیے، اور ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ اس کے اندر بھی ”إِلَّا“ صفت کے لیے، لیکن وجہ الگ الگ ہے۔ پہلے میں ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے نہیں لے سکتے بلکہ کس لیے لینا پڑے گا؟ صفت کے لیے، اس کی وجہ لفظی ہے، اس کی وجہ لفظی ہے، اور وہ لفظی وجہ کیا؟ کہ ”إِلَّا“ سے پہلے جو لفظ ہے وہ جمعِ منکَّر ہے، جمع ہے اور نکرہ ہے، ”آلِهَةٌ“ جمع ہے ”إِلٰهٌ“ کی، یہ جمع ہے اور نکرہ ہے، اور جو جمع ہو اور نکرہ ہو اس سے استثناء نہیں کیا جا سکتا۔ جب اس سے استثناء کیا ہی نہیں جا سکتا تو نہ مستثنیٰ متصل یہاں ہو سکتا ہے نہ مستثنیٰ منقطع؛ کیونکہ ماقبل میں کون ہے؟ جمع ہے اور وہ لفظ جمع ہے اور نکرہ ہے، اور جمعِ منکَّر جو ہے اس سے استثناء نہیں کیا جا سکتا، نہ وہاں پر ”إِلَّا“ کو استثنائِ متصل کے لیے بھی نہیں بنا سکتے اور استثنائِ منقطع کے لیے بھی نہیں بنا سکتے۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ مستثنیٰ متصل اسے کہیں گے کہ جہاں پہلے ایک چیز ماقبل میں داخل تھی اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کر لیا گیا؟ نکال لیا گیا، اور مستثنیٰ منقطع اسے کہتے ہیں کہ جہاں ایک چیز پہلے سے ہی داخل نہ ہو تو وہ کیا ہے؟ مستثنیٰ منقطع۔ اگر ایک چیز پہلے داخل تھی اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے نکال دی گئی وہ کون سا استثناء ہوا؟ اگر ایک چیز پہلے داخل تھی اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے اس کو نکال دیا گیا تو یہ کون سا مستثنیٰ ہوا؟ متصل، اور اگر پہلے داخل ہی نہیں تھی تو یہ کون سا مستثنیٰ ہوا؟ مستثنیٰ منقطع۔ تو معلوم ہوا مستثنیٰ متصل اور منقطع کا دار و مدار پہلے داخل ہے یا پہلے داخل نہیں اس پر ہے، اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب آپ کو یقینی طور پر پتہ ہو کہ پہلے داخل تھی اور پھر نکالا گیا ہے تو آپ اس کو مستثنیٰ متصل بنا لیں گے، اور اگر یقینی طور پر پتہ ہو کہ یہ پہلے داخل تھی نہیں تو آپ اس کو کیا بنا لیں گے؟ مستثنیٰ منقطع بنا لیں گے۔ معلوم ہوا یقینی طور پر پہلے داخل تھی اور پھر نکالی گئی تو متصل، اگر یقینی طور پر پہلے داخل نہیں تھی تو مستثنیٰ منقطع، اگر یقینی طور پر پتہ ہی نہ ہو تو نہ مستثنیٰ متصل بنا سکتے ہیں نہ مستثنیٰ منقطع بنا سکتے ہیں، اور جمعِ منکَّر، جمعِ منکَّر جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی ”رَجُلٌ“ کی جمع ہے ”رِجَالٌ“، ”رِجَالٌ“ جمع ہے اور نکرہ ہے اس پر الف لام نہیں اور تو جمعِ منکَّر ہے، اور جمعِ منکَّر جو ہے اس کا معنی تو ”رِجَالٌ“ کا معنی ہوا کچھ آدمی۔ اب ”جَاءَنِي رِجَالٌ إِلَّا زَيْدًا“، میرے پاس کچھ لوگ آئے سوائے کس کے؟ زید کے، یہ زید کو اب نہ مستثنیٰ متصل بنا سکتے ہیں نہ منقطع۔ متصل تب بنتا اگر آپ کو یقینی طور پر پتہ ہو کہ جو ماقبل میں رجال کا ذکر ہے ان میں زید پہلے داخل تھا پھر اس کو کیا کیا گیا؟ نکالا گیا، لیکن یقینی طور پر پتہ ہی نہیں؛ کیونکہ رجال کا معنی ہے کچھ لوگ، بھئی کون سے والے لوگ؟ کوئی خاص جماعت ہو تو ہمیں پتہ لگ جائے زید ان میں تھا یا زید ان میں نہیں تھا، تو لہٰذا متصل یہاں نہیں بنا سکتے، اور اس کو مستثنیٰ منقطع بھی نہیں بنا سکتے؛ کیونکہ یقینی طور پر پتہ ہی نہیں ہے کہ ماقبل میں یہ پہلے داخل ہے یا پہلے داخل نہیں، تو لہٰذا پھر اس کو ”غَيْرُ“ کے معنی میں لینا پڑتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾ اس کے اندر بھی ”إِلَّا“ سے پہلے کیا ہے؟ جمعِ منکَّر ہے، اور جمعِ منکَّر جو ہے اس کے اندر اتنا عموم نہیں ہوتا کہ اس سے استثناء کیا جا سکے، یعنی نہ وہاں پر مستثنیٰ متصل بنا سکتے ہیں اور نہ وہاں پر مستثنیٰ منقطع بنا سکتے ہیں، تو لہٰذا مجبورا ًجب ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے ہم لے ہی نہیں سکتے تو اب اس کو کس معنی میں لینا پڑے گا؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں لینا پڑے گا بھئی، کہ ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ﴾ اگر اس زمین اور آسمان میں کچھ معبود ہوتے ”إِلَّا اللَّهُ“ أَيْ ”غَيْرُ اللَّهِ“، ”إِلَّا اللَّهُ“ أَيْ ”غَيْرُ اللَّهِ“ اللہ کے علاوہ، ”لَفَسَدَتَا“ تو اس زمین اور آسمان کا نظام فاسد ہو جاتا۔ تو معلوم ہوا اس کے اندر جو یہاں پر ”إِلَّا“ کو ہم استثناء کے لیے نہیں لے سکتے اور مانع وہ لفظی ہے، لفظ ہے، مانع کیا چیز ہے؟ لفظ، کون سا لفظ؟ ”آلِهَةٌ“ کا لفظ، یعنی یوں کہیں یہاں پر کیا سبب ہے کہ ”إِلَّا“ کو آپ استثناء کے لیے نہیں لے سکتے؟ آپ کہیں گے یہاں مانع لفظی ہے، مانع کیا ہے؟ لفظی ہے۔ کس قسم کا مانع ہے؟ لفظی مانع ہے۔ لفظی مانع ہے، یعنی یہ لفظ ہے ”آلِهَةٌ“ کا لفظ ہے یہ جو جمعِ منکَّر ہے، یہ ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے لینے نہیں دے رہا بلکہ اس کو کس معنی میں کرنا پڑے گا؟ ”غَيْرُ“ کے معنی میں کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مانع یہاں پر کس قسم کا ہے؟ لفظی ہے بھئی، لفظی ہے۔ اور جبکہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“، ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ کے اندر بھی ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے نہیں لیں گے بلکہ ”غَيْرُ“ کے معنی میں لیں گے۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ یہاں تو ماقبل میں جمعِ منکَّر نہیں ہے، یہاں تو ”إِلٰهٌ“ مفرد ہے، تو جواب یہ کہ یہاں نہ مستثنیٰ متصل ہم بنا سکتے ہیں نہ مستثنیٰ منقطع بنا سکتے ہیں؛ کیونکہ دونوں صورتیں توحید کے خلاف ہیں، حالانکہ یہ تو کلمۂ توحید ہے، یہ تو توحید کا فائدہ دیتا ہے، یہاں ادنیٰ سے ادنیٰ معمولی سے معمولی درجے کے اندر بھی خلافِ توحید بات نہیں ہے، خلافِ توحید بات نہیں، تو اگر ہم اس کو استثناء کے لیے بنا لیں گے تو توحید پورے طور پر نہ آئے گی حالانکہ یہ تو کلمہ کس قسم کا فائدہ دے رہا ہے؟ پورے طور پر توحید کا فائدہ دے رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ تو لہٰذا یہاں ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے نہیں بنا سکتے؛ کیونکہ استثناء کے لیے بنائیں گے تو دو ہی صورتیں ہیں: یا مستثنیٰ متصل بنائیں گے یا مستثنیٰ منقطع۔ مستثنیٰ متصل اگر بنائیں تو مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں کہ جس میں مستثنیٰ ماقبل میں پہلے داخل تھا اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کر لیا گیا؟ نکال لیا گیا، تو معلوم ہوا ماقبل میں ایسے معبودوں کا ذکر ہوگا جن میں پہلے اللہ کی ذات داخل ہو اور پھر ان معبودوں کی کیا کر دی جائے؟ نفی کر دی جائے، اور اللہ معبودِ حقیقی ہے، تو ماقبل میں یقیناً ایسے معبودوں کی نفی ہو رہی ہے جو کس قسم کے معبود ہوں گے؟ وہ بھی معبودانِ حقیقی ہوں گے، تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ مابعد جو ہے یعنی اللہ کی ذات ان میں داخل ہے اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا گیا؟ استثناء کیا گیا۔ تو گویا اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے ”لَا إِلٰهَ“ کوئی معبودِ حقیقی نہیں ”إِلَّا اللَّهُ“ سوائے اللہ کے، تو ماقبل میں معبودانِ حقیقی کی نفی ہو رہی ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبودِ حقیقی نہیں، اور استثناء آپ کون سا بنانا چاہتے ہیں؟ متصل۔ بات یہ چل رہی ہے نا کہ یہ ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے بنا ہی نہیں سکتے، نہ متصل کے لیے نہ منقطع۔ متصل کے لیے نہیں بنا سکتے اس کی کیا وجہ؟ منقطع کے لیے بھی نہیں بنا سکتے اس کی کیا وجہ؟ میں وہ بیان کر رہا ہوں، تو یہاں ہم یہاں ”إِلَّا“ کو مستثنیٰ متصل کے لیے، ”إِلَّا“ کو استثنائِ متصل کے لیے نہیں بنا سکتے۔ کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیونکہ یہ معنی توحید کے خلاف ہوگا۔ نیز اسی طرح ”إِلَّا“ کو استثنائِ منقطع کے لیے بھی نہیں بنا سکتے؛ کیونکہ یہ بھی کس کے خلاف ہوگا؟ توحید کے خلاف۔ اب بیان میں یہ کر رہا ہوں کہ یہ استثنائِ متصل بنائیں تو یہ کس طرح توحید کے خلاف ہوتا ہے؟ دیکھیے اس میں استثنائِ متصل کسے کہتے ہیں جس میں مستثنیٰ ماقبل میں پہلے داخل ہو اور پھر کیا کیا جائے اس سے؟ نکالا جائے۔ تو اللہ کی ذات کس میں داخل ہو سکتی ہے؟ معبودانِ باطلہ میں یا معبودانِ حقیقیہ میں؟ ظاہر سی بات ہے اللہ کی ذات معبودِ حقیقی ہے تو وہ کس میں داخل ہے؟ معبودانِ حقیقی ہی میں داخل ہو سکتی ہے، لہٰذا معلوم ہوا ماقبل میں جن معبودوں کی نفی ہو رہی ہے کہ کوئی معبود نہیں، یہ کون سے معبودوں کی نفی ہو رہی ہے؟ معبودانِ حقیقی کی، کوئی معبودِ حقیقی نہیں سوائے کس کے؟ اللہ کے، اور آپ کون سا استثناء بنانا چاہتے ہیں؟ مستثنیٰ متصل، تو معلوم ہوا ماقبل میں پہلے اللہ کی ذات ان میں داخل اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کیا گیا؟ نکالا گیا، تو ماقبل میں کیا ہو رہی ہے؟ اس وقت معبودان تمام معبودانِ حقیقی کی نفی ہو رہی ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اس وقت تمام معبودانِ حقیقی کی نفی ہو رہی ہے سوائے کس کے؟ اللہ کے، لیکن آپ بنانا کیا چاہتے ہیں؟ مستثنیٰ متصل، مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں کہ پہلے داخل ہو اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے نکالا جائے، تو لہٰذا پہلے ایک لمحے کے لیے آپ کو ماننا پڑے گا کچھ اور معبودانِ حقیقی تھے، کچھ اور معبودانِ حقیقی ہیں اور ان میں اللہ کی ذات بھی شامل ہے، اور پھر آپ ان ساروں کی نفی کرتے ہیں اور اللہ کی ذات کا کیا کرتے ہیں؟ استثناء۔ تو ایک لمحے کے لیے داخل ماننا پڑے گا یا نہیں؟ اس کے بعد آپ کہیں گے ”لَا إِلٰهَ“ کوئی معبودِ حقیقی نہیں، اور استثناء کون سا لے رہے ہیں؟ متصل، متصل کسے کہتے ہیں جو پہلے داخل ہو اور پھر اس کا استثناء کیا جائے، تو پہلے داخل فرض کرنا پڑے گا یا نہیں؟ جی، تو ایک لمحے کے لیے فرض کرنا پڑے گا معبودانِ حقیقی اور ان کے اندر کون شامل؟ اللہ کی ذات بھی شامل، تو معبودانِ حقیقی تو آپ نے ایک لمحے کے لیے مان لیے، اگرچہ بطورِ فرض ہی کے ماننا پڑے، بعد میں تو آپ نے نفی کر دی کوئی بھی نہیں اور پھر اللہ کی ذات کا کیا کیا؟ استثناء، لیکن اس نفی سے پہلے کیا ماننا پڑا؟ معبودان کو ایک لمحے کے لیے فرض کرنا پڑا یا نہیں کرنا پڑا؟ کیونکہ متصل بنا رہے ہیں، متصل کہتے ہی اس کو ہیں جو پہلے داخل ہو اور پھر کیا کیا جائے؟ نکالا جائے۔ تو پہلے اللہ کی ذات کو اور معبودان میں داخل کریں گے پھر اس کے بعد کیا کریں گے؟ استثناء کریں گے تبھی مستثنیٰ متصل بن سکتا ہے ورنہ تو اور کوئی صورت نہیں، تو جب اور معبودان کو مانیں گے اگرچہ بطورِ فرض کے ایک لمحے کے لیے ہی ماننا پڑا تو توحید کے خلاف بات ہو گئی۔ اگرچہ اگلے ہی لمحے میں آپ نے کہہ دیا ”لَا إِلٰهَ“ کوئی معبودِ حقیقی نہیں، لیکن پہلے ان میں پہلے ان میں اللہ کی ذات کو داخل کرنے کے لیے ان کو ایک لمحے کے لیے ماننا پڑا اور یہ بات کیا ہو گئی؟ توحید کے خلاف ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا یہاں ”إِلَّا“ کو استثنائِ متصل کے لیے نہیں بنا سکتے، اور اس صورت میں ماقبل میں جن معبودان کی نفی ہو رہی ہے وہ کون سے معبود ماننا پڑیں گے؟ معبودانِ حقیقی، اور معبودانِ حقیقی تو استثناء متصل ہوگا، اللہ کی ذات کو داخل ماننا پڑے گا، چاہے ایک لمحے کے لیے فرض کرتے ہوئے جیسے ہی مانیں گے فوراً یہ بات کیا ہو جائے گی؟ توحید کے خلاف ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اسی طرح یہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ میں ماقبل یہاں ”إِلَّا“ کو مستثنیٰ منقطع کے لیے بھی نہیں بنا سکتے؛ اس لیے کیونکہ مستثنیٰ منقطع کسے کہتے ہیں جو پہلے داخل نہ ہو، اور اللہ کی ذات تو ہے معبودِ حقیقی اور ماقبل میں بھی معبودوں کی نفی ہو رہی ہے، تو معلوم ہوا ماقبل میں کون سے معبودوں کی نفی ہو رہی ہے کہ اللہ کی ذات ان میں داخل نہ ہو؟ وہ یقیناً معبودانِ باطلہ ہیں، کون ہیں؟ معبودانِ باطلہ، تو اللہ کی ذات تو معبودِ حقیقی، ظاہر سی بات ہے وہ معبودانِ باطلہ میں داخل نہیں، تو لہٰذا ”لَا إِلٰهَ“ سے کون سے معبودوں کی نفی ہوئی؟ معبودانِ باطلہ کی، تو ٹھیک ہے یہ مستثنیٰ منقطع بن گیا، لیکن یہ معنی بھی توحید کے خلاف ہو گیا، کس طرح؟ کہ معنی یہ ہوا کوئی معبودِ باطل نہیں مگر اللہ معبودِ حقیقی ہے، تو نفی صرف کس کی ہوئی؟ معبودانِ باطلہ کی نفی ہوئی، معبودانِ حقیقیہ ہو سکتا ہے موجود ہوں، ان کی تو کوئی نفی نہ ہوئی، تو معبودانِ باطلہ کی نفی ہوئی معبودانِ حقیقیہ کی تو نفی نہ ہوئی، تو گویا اس کا تو معنی یہ ہوا کہ اس کلمے میں صرف اتنا کہا جا رہا ہے کہ معبودانِ باطلہ نہیں ہیں، یہ تو نہیں کہا جا رہا معبودانِ حقیقیہ نہیں ہیں۔ توجہ ہے؟ میں وہ معنی بیان کر رہا ہوں جو لیا جائے تو توحید کے خلاف بات چلی جاتی ہے، وہ بیان کر رہا ہوں کس طرح توحید کے خلاف جاتی ہے کہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ میں ”إِلَّا“ کو اگر کس لیے بنائیں؟ مستثنیٰ منقطع کے لیے بنائیں، تو معلوم ہوا ماقبل میں جو کہا گیا کوئی معبود نہیں، اس سے کون سے معبودوں کی نفی ہے؟ معبودانِ باطلہ کی، تو گویا صرف معبودانِ باطلہ کی نفی ہوئی، معبودانِ حقیقیہ کی نفی تو نہ ہوئی حالانکہ مقصد کیا ہے کہ کوئی معبود کوئی معبودِ حقیقی اللہ کے علاوہ نہیں ہے، تو معبودانِ حقیقیہ تو پھر ان کی تو نفی ہوتی ہی نہیں حالانکہ وہ نفی بھی تو چاہیے کہ اللہ کے علاوہ کسی قسم کا کوئی معبود نہیں ہے بھئی، تو پھر ہی پورے طور پر توحید آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خلاصۂ کلام کیا ہوا کہ استثنائِ متصل بنائیں ”إِلَّا“ کو کس لیے بنائیں؟ ”إِلَّا“ کو بنائیں استثنائِ متصل کے لیے، تو اس صورت میں ماقبل میں معبودانِ حقیقیہ کی نفی ہوئی اور معنی یہ ہوا: اللہ کے علاوہ اور کوئی معبودِ حقیقی نہیں۔ بظاہر معنی صحیح لگتا ہے لیکن ذرا گہرائی میں جائیں تو دیکھیں گے یہ معنی توحید کے خلاف جا رہا ہے، پورے طور پر یہاں توحید نہیں ہے، کس طرح توحید نہیں ہے؟ کیونکہ آپ اس کو بنا رہے ہیں مستثنیٰ متصل، اور مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں جس میں مستثنیٰ پہلے ماقبل میں داخل ہو اور پھر بعد میں اس کا کیا کیا جائے؟ استثناء۔ تو معلوم ہوا ماقبل میں آپ کو ایک لمحے کے لیے معبودانِ حقیقیہ کو ماننا پڑے گا کہ ان میں اللہ کی ذات بھی شامل اور پھر ان سب کی نفی کرتے ہوئے اللہ کی ذات کا استثناء کریں گے، تو ایک لمحے کے لیے بطورِ فرض کے بھی جب ماننا پڑا تو توحید کے خلاف ہو گیا معنی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر اس کو استثنائِ منقطع کے لیے بنائیں تو اس صورت میں تو ماقبل میں معبودانِ باطلہ کی نفی ہوئی، معبودانِ حقیقیہ کی نفی تو نہ ہوئی حالانکہ معبودانِ حقیقیہ کی نفی کی بھی ضرورت ہے پھر ہی توحید حاصل ہوگی اس کے بغیر تو توحید حاصل نہیں ہوتی۔ کہ دو مثالیں ذکر کیں: ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾، اور ایک ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“، دونوں کے اندر ”إِلَّا“ آیا اور یہ دونوں میں ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے دونوں میں ”إِلَّا“ جو ہے استثناء کے لیے نہیں ہے بلکہ ”غَيْرُ“ کے معنی میں ہے؛ کیونکہ دونوں میں مانع موجود ہے، ”إِلَّا“ کو ہم استثناء کے لیے نہیں بنا سکتے۔ پہلے میں مانع کیا ہے؟ لفظی، اور دوسرے میں مانع معنوی ہے کہ معنی صحیح نہیں رہتا، توحید پورے طور پر نہیں آتی اگر آپ ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے بنائیں۔ تو دونوں میں مانع ہے، کس چیز سے؟ ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے لینے سے۔ دونوں میں ہم نے ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے لیا ہے یا صفت کے لیے لیا؟ صفت، تو دونوں میں ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے نہیں لے سکتے، مانع موجود ہے۔ تو پہلے میں جو مانع موجود ہے وہ لفظی ہے کہ ماقبل میں کون سا لفظ ہے؟ جمعِ منکَّر، اور دوسرے میں مانع کیا چیز ہے، ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے کیوں نہیں لے سکتے؟ ہاں، مانع معنوی چیز ہے یعنی معنی ہے، کہ میں خرابی آتی ہے، اور کیا خرابی آتی ہے کہ اگر ”إِلَّا“ کو استثناء کے لیے لیں تو پھر پورے طور پر یہاں توحید حاصل نہیں ہوتی حالانکہ یہ تو کلمۂ توحید ہے، یہ تو پورے طور پر توحید کا فائدہ دے رہا ہے، یہاں کسی بھی درجے میں غیرِ توحید نہیں، توحید کے خلاف نہیں بھئی، شرکت نہیں بھئی۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
104 approved lectures · 66 of 104