وَاعْلَمْ أَنَّ إِعْرَابَ غَيْرٍ كَإِعْرَابِ الْمُسْتَثْنَى بِإِلَّا، تَقُولُ: جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ زَيْدٍ، وَغَيْرَ حِمَارٍ، وَمَا جَاءَنِي غَيْرَ زَيْدٍ الْقَوْمُ، وَمَا جَاءَنِي أَحَدٌ غَيْرُ زَيْدٍ وَغَيْرَ زَيْدٍ، وَمَا جَاءَنِي غَيْرُ زَيْدٍ، وَمَا رَأَيْتُ غَيْرَ زَيْدٍ، وَمَا مَرَرْتُ بِغَيْرِ زَيْدٍ۔
گزشتہ سبق میں ہم مُسْتَثْنٰی کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ مُسْتَثْنٰی کے بارے میں گیارہ قسم کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور وہ گیارہ الفاظ کون کون سے ہیں؟ إِلَّا ہے، خَلَا ہے، عَدَا ہے، مَا خَلَا ہے، مَا عَدَا ہے، لَيْسَ ہے، لَا يَكُونُ ہے، غَيْرُ ہے، سِوَى ہے، سَوَاءٌ ہے اور حَاشَا، اور ان میں سے إِلَّا کے اندر تفصیل ہے، جبکہ باقیوں میں سے جو پہلے چھ ہیں یعنی خَلَا، عَدَا، مَا خَلَا، مَا عَدَا، لَيْسَ، لَا يَكُونُ ان کے بعد مُسْتَثْنٰی منصوب ہوتا ہے، اور جبکہ باقی چار جو ہیں غَيْرُ، سِوَى، سَوَاءٌ اور حَاشَا ان کے بعد مُسْتَثْنٰی مجرور ہوتا ہے، جبکہ إِلَّا کے اندر تفصیل میں نے بیان کی تھی کہ إِلَّا کے بعد جو مُسْتَثْنٰی آ رہا ہے اس پر کون سا اعراب پڑھنا ہے تو سب سے پہلے فوراً یہ غور کریں کہ یہ مُسْتَثْنٰی مُنْقَطِع ہے یا مُتَّصِل؟ اگر مُنْقَطِع ہو تو منصوب ہوگا۔ اگر مُتَّصِل ہو پھر غور کر لو کہ یہ کلامِ موجب ہے یا غیرِ موجب؟ اگر موجب ہو تو بھی منصوب پڑھو، اگر غیرِ موجب ہو تو پھر دیکھ لیں کہ مُسْتَثْنٰی مقدم ہے مُسْتَثْنٰی مِنْہ پر یا غیرِ مقدم ہے؟ اگر مقدم ہو تو بھی منصوب ہوگا، اور اگر غیرِ مقدم ہے تو پھر دیکھو کہ مُسْتَثْنٰی مِنْہ مذکور ہے یا غیرِ مذکور؟ اگر مُسْتَثْنٰی مِنْہ مذکور ہو تو پھر اس مُسْتَثْنٰی کے اندر نصب پڑھنا بھی جائز اور اس کو بدل بنانا بھی جائز، اور اگر مُسْتَثْنٰی مِنْہ مذکور نہ ہو تو پھر اس مُسْتَثْنٰی کا اعراب عَلَى حَسَبِ الْعَوَامِل ہوگا، یعنی اگر عامل اگر رفع دینا چاہتا ہے تو رفع آئے گا، نصب والا عامل ہو تو نصب آئے گا، اور جر والا ہو تو جر آئے گا۔
آج ہم غَيْرُ کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، یہ غَيْرُ کا لفظ عبارتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ تو یاد رکھیے بھئی، آگے آپ کو صاحبِ ہدایۃ النحو بھی بتلائیں گے بھئی، ایک ہے لفظِ إِلَّا، ایک ہے لفظِ غَيْرُ۔ إِلَّا استثناء کے لیے وضع ہے۔ وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا، میں نے بتلایا تھا وضع کا معنی ہے مقرر کرنا کہ ہر زبان والوں نے ایک لفظ کو کسی معنی کے لیے، کسی ذات کے لیے وہ مقرر کر لیتے ہیں، جیسے آپ اردو میں کہتے ہیں گلاس، فوراً ایک مخصوص پانی پینے والا برتن آپ کے ذہن میں آ جاتا ہے، آپ کہتے ہیں پیالہ، فوراً ایک مخصوص برتن آپ کے ذہن میں آ جاتا ہے، آپ کہتے ہیں پلیٹ، فوراً ایک مخصوص برتن آپ کے ذہن میں آ گیا، کیونکہ اردو میں ان مخصوص برتنوں کے لیے یہ لفظ وضع ہیں یعنی مقرر کیے گئے ہیں۔ ہاں، عرب کے سامنے یہ کہیں یہ لفظ تو اس کو کچھ ذہن میں نہیں آئے گا کیونکہ انہوں نے یہ لفظ مقرر نہیں کیے۔ تو یہ جو کسی لفظ کو کسی معنی کے لیے یا کسی ذات کے لیے مقرر کیا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں وضع، مقرر کرنا۔
اچھا، تو یاد رکھیے یہ جو لفظِ إِلَّا ہے نا یہ استثناء کے لیے وضع ہے، اس کو کس کے لیے مقرر کیا گیا ہے؟ استثناء کے لیے کہ اس کے بعد مُسْتَثْنٰی آئے گا، مُسْتَثْنٰی آئے گا۔ اور غَيْرُ کا لفظ جو ہے یہ صفت کے لیے وضع ہے، کس لیے وضع ہے؟ یہ صفت کے لیے وضع ہے۔ یہ مابعد کے ساتھ مل کر یہ صفت بنتا ہے ماقبل کی، مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِي رَجُلٌ، میرے پاس ایک آدمی آیا، آپ کے ذہن میں شبہ آئے گا شاید زید آیا ہوگا۔ لہٰذا میں اس شبہے کو پہلے ہی ختم کر دیتا ہوں اور کہتا ہوں: جَاءَنِي رَجُلٌ غَيْرُ زَيْدٍ، میرے پاس ایسا آدمی آیا جو زید کے علاوہ تھا، زید نہیں تھا۔ تو دیکھا، رَجُلٌ ہے موصوف اور غَيْرُ زَيْدٍ کیا ہے؟ صفت ہے اس کی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
چلو، ترکیب والی بات آ گئی، ایک آدھی اور وہ بھی ذکر کر دیتا ہوں۔ یاد رکھیے یہ غَيْرُ ہمیشہ مضاف ہوتا ہے، غَيْرُ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مضاف، یہ مضاف الیہ چاہتا ہے، کیونکہ غیر کا معنی ہے علاوہ، علاوہ۔ بھئی کس کے علاوہ؟ چاہیے یا نہیں چاہیے؟ زید کے علاوہ، عمرو کے علاوہ، بکر کے علاوہ، درجہ ثانیہ والوں کے علاوہ، انسانوں کے علاوہ، کوئی بھی ہو سکتا ہے وہ مضاف الیہ بھئی۔ تو غَيْرُ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مضاف، اور اس کے بعد کیا آتا ہے؟ مضاف الیہ۔ اور یہ غَيْرُ، یہ یہ ایک نکرہ کی صفت بنتا ہے، معرفہ کی صفت نہیں، معرفہ کی صفت نہیں۔ کیونکہ اس کے اندر ابہام ہوتا ہے، مثلاً دیکھیے بھئی، میں کہتا ہوں: زَيْدٌ، یہ ہے معرفہ، ایک اور لفظ ہے میرے پاس: غُلَامٌ، یہ کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ غلام کا لفظ کیا ہے؟ نکرہ۔ میں اس غلام کی معرفہ کی طرف اضافت کر دوں اور یوں کہتا ہوں: غُلَامُ زَيْدٍ، زید کا غلام، دیکھو اب یہ ایک متعین غلام پر دلالت کر رہا ہے۔ پہلے غلام کا لفظ بولتے کسی بھی غلام کو آپ کہہ سکتے تھے: هٰذَا غُلَامٌ، یہ کیا ہے؟ غلام۔ لیکن جب میں نے کہہ دیا: غُلَامُ زَيْدٍ، اب ہر غلام کو نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ جو زید کا مخصوص غلام ہے صرف اسی پر یہ لفظ بولا جا رہا ہے۔ تو معلوم ہوا نکرہ جب اس کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ بن جاتا ہے۔ غلام نکرہ تھا لیکن زید کی طرف اضافت ہوئی اب یہ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔
بات سمجھ میں، نکرہ اور معرفہ میں بھی فرق جانتے ہو یا بھول گئے بھئی؟ میں نے بتلایا تو تھا، معرفہ اسے کہتے ہیں جو کسی معین ذات پر دلالت کرے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چاہے ایک چاہے ایک ہو، چاہے دو ہوں، چاہے دس ہوں، لیکن ہوں متعین۔ مثلاً میں کہتا ہوں: اَلرَّجُلُ، دیکھا، کسی متعین آدمی کی طرف میں نے اشارہ کیا، آپ کو بھی پتہ ہے، سمجھ میں آئی بات؟ ہاں اگر یہ کسی متعین آدمی کی طرف اشارہ نہیں ہو رہا، اس پر دلالت نہیں ہو رہی تو پھر یہ معرفہ نہیں ہے، بے شک آپ الف لام لے بھی آئیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن یہ استعمال ہی تب کرتے ہیں جب کسی معین کی طرف اشارہ کرنا ہو۔ مثلاً میں آپ سے زید کی بات کر رہا تھا، زید کی بات کر رہا تھا کہ کل میرے پاس زید آیا اور پھر ہم دونوں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے، اچانک میں آپ کو زید کی باتیں سنا رہا ہوں، ایک تیسرا آدمی ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا، مثلاً بکر آ گیا، اب میں اس سے چھپانا چاہتا ہوں، میں اور آپ چھپانا چاہتے ہیں کہ ہم زید کی بات کر رہے تھے، تو اب میں زید کا نام نہیں لوں گا بلکہ مثلاً میں اَلرَّجُلُ کا لفظ استعمال کر لیتا ہوں کہ پھر میں نے اس آدمی سے یوں یوں کہا، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ تو تو اب میں اَلرَّجُلُ کا لفظ استعمال کرتا ہوں، میں نے اس آدمی سے کہا، اب بتائیے اَلرَّجُلُ جب میں بول رہا ہوں آپ کو پتہ چل رہا ہے یا نہیں پتہ چل رہا ہے کہ کون مراد ہے؟ دیکھا، تو یہ اَلرَّجُلُ معرفہ ہے، یہ اس متعین ذات پر جیسے یہاں پر اس وقت یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ زید پر دلالت کر رہا ہے۔
تو معرفہ ہمیشہ کسی متعین ذات پر دلالت کرتا ہے، وہ چاہے ایک ہوں، چاہے دو ہوں یا زیادہ ہوں۔ کبھی دو متعین پر دلالت کرے گا، مثلاً میں اَلرَّجُلَانِ تثنیہ بولتا ہوں تو اس پر بھی الف لام ہے، معلوم ہوا کوئی دو خاص آدمی مراد ہیں تو وہ ان کی طرف اشارہ ہے۔ کبھی زیادہ ہوں گے جیسے کل مثال گزری تھی: اَلْقَوْمُ، قوم کسے کہتے ہیں؟ مردوں کی جماعت، تین سے لے کر دس تک، مردوں کی جماعت، تو اَلْقَوْمُ سے مراد کوئی خاص مردوں کی جماعت ہے، کوئی خاص مردوں کی جماعت ہے۔ تو دیکھو معرفہ کسی متعین ذات پر دلالت کرتا ہے، وہ ایک بھی ہو سکتا ہے، دو بھی ہو سکتے ہیں یا دو سے زیادہ بھی۔ اَلرَّجُلُ ہے تو دیکھو ایک ہے، یا زَيْدٌ ہے تو ایک ہے، اَلرَّجُلَانِ ہے تو کتنے پر دلالت؟ دو پر، اَلْقَوْمُ ہو تو دو سے زیادہ پر دلالت ہے۔ تو معرفہ متعین ذات پر دلالت کرتا ہے، اگر متعین ذات پر دلالت نہ کرے پھر وہ نکرہ ہی ہے، معرفہ نہیں ہے بھئی۔ اور نکرہ وہ غیر متعین ذات پر دلالت کرتا ہے بھئی، رَجُلٌ اس سے کوئی بھی آدمی مراد ہو سکتا ہے، غُلَامٌ اس سے کوئی بھی غلام مراد ہو سکتا ہے۔ تو جب نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف کر دی جائے تو وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے، جیسے غُلَامٌ نکرہ تھا لیکن جب میں نے کہا غُلَامُ زَيْدٍ، زید کا غلام، دیکھو اب یہ ایک متعین غلام پر دلالت کر رہا ہے، پہلے غلام کا لفظ بولتے کسی بھی غلام کو آپ کہہ سکتے تھے: هٰذَا غُلَامٌ، یہ کیا ہے؟ غلام، لیکن جب میں نے کہہ دیا غُلَامُ زَيْدٍ اب ہر غلام کو نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ جو زید کا مخصوص غلام ہے صرف اسی پر یہ لفظ بولا جا رہا ہے۔ تو معلوم ہوا نکرہ جب اس کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ بن جاتا ہے۔ غلام نکرہ تھا لیکن زید کی طرف اضافت ہوئی اب یہ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔ اب آپ سمجھ گئے کوئی وہ خاص فلاں جو زید کا غلام ہے وہ مراد ہے تو غُلَامُ زَيْدٍ اب کیا بن گیا؟ معرفہ، اضافت کے بعد۔ لیکن یہ جو غَيْرُ وغیرہ غَيْرُ ہے اور اس طرح کچھ اور الفاظ ہیں یہ معرفہ کی طرف مضاف ہو جائیں یہ پھر بھی نکرہ کے نکرہ ہی رہتے ہیں، ان کے یہ ان میں اتنا ابہام ہوتا ہے یہ معرفہ نہیں بنتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
مثلاً میں، بات چلی تھی کہاں سے کہ غَيْرُ صفت کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ نکرہ کی صفت بنتا ہے: جَاءَنِي رَجُلٌ غَيْرُ زَيْدٍ۔ رَجُلٌ موصوف، غَيْرُ زَيْدٍ اس کی صفت۔ ترکیب کیسے ہوگی؟ جَاءَ، جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف ہے، اور مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، اور موصوف آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کیونکہ آگے نکرہ ہے نکرہ کے بعد نکرہ آ رہا ہے، غَيْرُ زَيْدٍ یہ سارا کیا ہے؟ نکرہ ہے، یہ غَيْرُ کی اضافت زید کی طرف ہے اور زید ہے معرفہ، لیکن غَيْرُ کا لفظ معرفہ کی طرف مضاف ہو جائے پھر بھی یہ نکرہ کا نکرہ ہی رہتا ہے۔ تو رَجُلٌ ہوا مرفوع لفظاً موصوف، غَيْرُ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف مرفوع تھا تو صفت بھی مرفوع، اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: غَيْرُ، اور مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کیونکہ غَيْرُ کے بعد ہمیشہ کون آتا ہے؟ مضاف الیہ، یہ مضاف الیہ کا تقاضا کرتا ہے، ابھی میں نے آپ کو بتایا، تو مضاف، اور زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ اچھا، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر صفت ہوئی رَجُلٌ کے لیے، موصوف صفت مل کر فاعل ہوا جَاءَ فعل کے لیے، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جَاءَنِي رَجُلٌ غَيْرُ زَيْدٍ، ترجمہ کیجیے: آیا میرے پاس ایک ایسا آدمی، نکرہ ہے نا تو وہ آیا میرے پاس ایسا آدمی غَيْرُ زَيْدٍ جو زید کے علاوہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
سوال پیدا ہوتا ہے یہ غَيْرُ کی زید کی طرف اضافت یعنی معرفہ کی طرف اضافت ہو جانے کے باوجود یہ نکرہ کیوں رہتا ہے؟ حالانکہ کوئی چیز معرفہ کی طرف مضاف ہو تو وہ بھی کیا بن جاتی ہے؟ معرفہ۔ تو یہ کیوں نکرہ رہتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ اس میں ابہام بہت ہوتا ہے۔ میں نے کہا تھا غُلَامُ زَيْدٍ، کسی متعین غلام کی طرف اشارہ ہوا تھا یا نہیں ہوا تھا؟ اشارہ ہوا تھا۔ لیکن یہی چیز آپ غَيْرُ زَيْدٍ میں غور کریں، اشارہ نہیں ہوگا کسی متعین کی طرف۔ میں نے کہا غَيْرُ زَيْدٍ، زید کے علاوہ، کوئی متعین آدمی آپ کے ذہن میں آیا؟ نہیں، زید کے علاوہ تو ابوبکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے، عمرو بھی ہو سکتا ہے، کوئی بھی ہو سکتا ہے دنیا کا انسان بھئی۔ تو کوئی تعیین آئی اضافت سے؟ کوئی تعیین نہیں آئی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا غیر کی اضافت اگر معرفہ کی طرف ہو جائے تو بھی وہ نکرہ کا نکرہ رہتا ہے اور اس لیے وہ نکرہ کی صفت بنتا ہے۔
تو بات یہ چل رہی تھی کہ لفظِ إِلَّا جو ہے یہ وضع ہے استثناء کے لیے، اس کو مقرر کیا گیا ہے استثناء کے لیے۔ البتہ کبھی کبھار یہ صفت کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ وضع ہے کس لیے؟ استثناء کے لیے، لیکن کبھی کبھار جب استثناء پر عمل ممکن نہ ہو تو پھر یہ کس لیے استعمال کر لیتے ہیں؟ صفت کے لیے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں غَيْرُ کا لفظ وہ وضع ہے صفت کے لیے، وہ کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے، اس کو وضع ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ ماقبل کی صفت بنے۔ لیکن کبھی کبھار یہ استثناء کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ جب صفت کے لیے نہ بنا سکیں تو کس لیے استعمال کر لیتے ہیں؟ استثناء کے لیے۔ تو گویا لفظِ إِلَّا وضع ہوا استثناء کے لیے اور غَيْرُ وضع ہوا صفت کے لیے اور دونوں ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہو جاتے ہیں۔ إِلَّا وضع تو ہے استثناء کے لیے لیکن کبھی کس لیے استعمال کر لیتے ہیں؟ صفت کے لیے، اور غَيْرُ وضع تو ہے صفت کے لیے لیکن کبھی کبھار استثناء کے لیے استعمال کر لیتے ہیں بھئی۔
اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ یہ غَيْرُ پر اعراب پھر کون سا پڑھیں گے جب یہ استثناء کے لیے استعمال ہو؟ کیونکہ ہماری بحث چل رہی ہے مُسْتَثْنٰی کی، تو اس سے متعلق یہ بحث پہلے تھی وہ اس کو صاحبِ کتاب نے پہلے ذکر کیا کہ غَيْرُ پر اعراب کون سا پڑھیں گے؟ بھئی غَيْرُ کس لیے وضع ہے؟ صفت کے لیے۔ جب یہ صفت کے لیے استعمال ہو پھر تو اعراب میں کوئی مشکل نہیں، جو موصوف کا اعراب ہوگا وہی کس کا اعراب؟ صفت کا بھی۔ لیکن جب یہ استثناء کے لیے استعمال ہو پھر کون سا اعراب اس پر پڑھیں گے؟ سوال سمجھ میں آیا؟ اگر یہ صفت کے لیے ہو پھر تو موصوف والا اعراب آئے گا اس پر، اس میں تو کوئی شبہ نہیں۔ ہاں جب استثناء کے لیے ہو تو پھر اس پر کون سا اعراب آئے گا؟ اس پر رفع پڑھیں گے، نصب یا جر، کیا کریں گے؟ تو جواب اب آپ کو بتلانے لگے ہیں کہ یاد رکھیے جب غَيْرُ استثناء کے لیے استعمال ہو تو اس پر وہی اعراب پڑھنا جو إِلَّا کے بعد جو مُسْتَثْنٰی آتا تھا اس پر جو اعراب آتا تھا۔ اور مُسْتَثْنٰی إِلَّا کے اندر آپ نے تفصیل پڑھی تھی پورا نقشہ آپ کو میں نے بتلایا تھا اور ابھی ہم نے شروع میں اس کا تکرار بھی کیا: اگر مُسْتَثْنٰی مُنْقَطِع ہو تو اس پر نصب پڑھتے ہیں، اگر کلامِ موجب میں ہو تو بھی اس پر نصب پڑھتے ہیں، اگر وہ مُسْتَثْنٰی مِنْہ پر مقدم ہو تو بھی اس پر نصب پڑھتے ہیں، اگر مُسْتَثْنٰی مِنْہ غیر مذکور ہو تو اس پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں اور بدل بھی، اور اگر مُسْتَثْنٰی مِنْہ غیر مذکور ہو کلامِ غیر موجب میں تو پھر عَلَى حَسَبِ الْعَوَامِل۔ یہی تفصیل غَيْرُ کے اندر ہے، اب وہ جو مُسْتَثْنٰی والا اعراب ہے وہ کس پر پڑھیں گے؟ غَيْرُ پر، کس پر؟ غَيْرُ پر پڑھیں گے، جو کس پر جو اعراب کس پہ آتا تھا؟ مُسْتَثْنٰی پر آتا تھا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مُسْتَثْنٰی کسے کہتے تھے؟ جو إِلَّا کے بعد آئے۔ تو إِلَّا کے بعد والے لفظ پہ جو اعراب ہوتا تھا وہ اعراب غَيْرُ پر آئے گا، کب غَيْرُ پر کب آئے گا وہ اعراب؟ جب غَيْرُ کس لیے ہو؟ استثناء کے لیے ہو، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر: وَاعْلَمْ، جان لے تو، أَنَّ إِعْرَابَ غَيْرٍ كَإِعْرَابِ الْمُسْتَثْنَى بِإِلَّا، کہ غَيْرُ کا اعراب جو ہے كَإِعْرَابِ الْمُسْتَثْنَى بِإِلَّا، إِلَّا کے ساتھ جو مُسْتَثْنٰی ہوتا ہے اس جیسے اعراب کی طرح ہے۔ غَيْرُ کا اعراب إِلَّا کے ساتھ جو مُسْتَثْنٰی ہوتا ہے اس کے اعراب کی طرح ہے۔ تَقُولُ، آپ کہتے ہیں: جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ زَيْدٍ وَغَيْرَ حِمَارٍ، اچھا اب ذرا غور کریں ذرا جملوں پہ: جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ زَيْدٍ، غَيْرَ زَيْدٍ، اب یہ غَيْر پر کیا پڑھنا ہے؟ غَيْرَ پڑھنا ہے، غَيْرُ پڑھنا ہے یا غَيْرِ پڑھنا ہے بھئی؟ دیکھو غور کرتے ہیں ہم غور کرتے ہیں، سب سے پہلے دیکھو جملے پر غور کرو، مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یا مُنْقَطِع؟ ذرا غَيْرَ کی جگہ إِلَّا لے آؤ نا إِلَّا، جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا، اچھا إِلَّا زَيْدًا، اب بتائیے یہ مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یا مُنْقَطِع ہے؟ یہ مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے، اور جب مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہو پھر غور کرنا ہے کہ کلام موجب ہے یا غیر موجب؟ مجھے بتائیے یہ کلام موجب ہے یا غیر موجب؟ جی غیر موجب میں تو نفی آتی ہے یا نہی آتی ہے یا استفہام ہوتا ہے، ان تین میں سے کوئی ہے؟ مَا جَاءَ کوئی مَا حرفِ نفی ہے؟ کوئی لَا تَضْرِبْ کوئی فعلِ نہی یہاں آیا؟ نہیں، اور اسی طرح سوال بھی نہیں، تو یہ معلوم ہوا کلامِ موجب ہے، اور کلامِ موجب کے اندر مُسْتَثْنٰی پر کون سا اعراب آتا ہے؟ وہ جو نقشہ یاد ہے؟ نصب آتا ہے، تو گویا یہاں اگر إِلَّا ہوتا تو یوں پڑھتے: جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا، إِلَّا زَيْدًا، لیکن یہاں إِلَّا تو ہے نہیں، غَيْرَ ہے، تو وہ جو إِلَّا کے بعد زَيْدًا پر جو نصب آنا تھا اب وہ کس پر آ جائے گا؟ غَيْرَ پر آ جائے گا، اور تنوین نہیں آئے گی کیونکہ غَيْرَ مضاف ہے اور مضاف پر تو تنوین نہیں آتی، اور اگلا لفظ زَيْدٍ وہ مجرور ہوگا کیونکہ وہ تو مضاف الیہ ہے، تو کیا پڑھیں گے؟ جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ زَيْدٍ، صورت سمجھ میں آ گئی۔ دوسری مثال ابھی سے غَيْرَ زَيْدٍ کو اٹھائیں، غَيْرَ حِمَارٍ رکھیں: جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ حِمَارٍ، اب یہ غَيْر پہ کیا پڑھنا ہے آپ نے مجھے بتانا ہے: جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ حِمَارٍ، مجھے بتائیے مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یا مُنْقَطِع ہے؟ مُنْقَطِع ہے، اور مُسْتَثْنٰی مُنْقَطِع کے اندر مُسْتَثْنٰی کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ نصب ہوتا ہے تو وہی نصب غَيْر پر پڑھو: جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ حِمَارٍ، اور حِمَارٍ تو مجرور ہے کیونکہ مضاف الیہ ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
وَمَا جَاءَنِي غَيْرَ زَيْدٍ الْقَوْمُ وَمَا جَاءَنِي أَحَدٌ غَيْرُ زَيْدٍ وَغَيْرَ زَيْدٍ۔ اچھا اب اس جملے پہ نظر رکھیں: وَمَا جَاءَنِي غَيْرَ زَيْدٍ الْقَوْمُ، توجہ ہے؟ بتائیے مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یا مُنْقَطِع ہے؟ مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے، اصل میں ہے: مَا جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ زَيْدٍ، میرے پاس وہ لوگ نہیں آئے سوائے زید کے۔ اَلْقَوْمُ کو ذرا مقدم کریں غَيْرَ زَيْدٍ پر: مَا جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ زَيْدٍ، اب مجھے بتائیے مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یا مُنْقَطِع ہے؟ وہ نقشہ ہے ذہن میں؟ اسی کے مطابق ترتیب سے ہم چل رہے ہیں۔ مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یہاں کہ مُنْقَطِع ہے؟ مُتَّصِل ہے، مُتَّصِل ہے۔ پھر دیکھیں کلام موجب ہے یا غیر موجب ہے؟ مَا جَاءَ نفی ہے یہ غیر موجب ہے۔ غیر موجب ہو تو پھر دیکھو مُسْتَثْنٰی مُسْتَثْنٰی مِنْہ پر مقدم ہے کہ غیر مقدم ہے؟ مقدم ہے، اور اگر مقدم ہو تو اس پر کیا پڑھتے ہیں؟ نصب پڑھتے ہیں، معلوم ہوا یہاں غَيْرَ پر کیا پڑھیں گے؟ نصب: وَمَا جَاءَنِي غَيْرَ زَيْدٍ الْقَوْمُ، غَيْرَ پڑھیں گے، ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ جو غَيْر پر پیش ڈلی ہوئی ہے یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، کیونکہ جب مُسْتَثْنٰی مُسْتَثْنٰی مِنْہ پر مقدم ہو تو اس پر نصب پڑھتے ہیں اور وہی اعراب یہاں کس پر پڑھنا ہے؟ غَيْرَ پر بھئی، اور یہ اَلْقَوْمُ یہ کیا ہے؟ فاعل ہے، یہ مُسْتَثْنٰی مِنْہ ہے، یہ مؤخر ہے اور غَيْرَ زَيْدٍ یہ مقدم یہ مُسْتَثْنٰی ہے بھئی۔
اگلا جملہ دیکھیے: مَا جَاءَنِي أَحَدٌ غَيْرُ زَيْدٍ، مَا جَاءَنِي أَحَدٌ غَيْرُ زَيْدٍ، اب مجھے بتائیے مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے کہ مُنْقَطِع ہے؟ مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے۔ اچھا پھر دیکھیے، کلام موجب ہے یا غیر موجب ہے؟ مَا جَاءَ نفی ہے، غیر موجب ہے۔ پھر دیکھیے مُسْتَثْنٰی مُسْتَثْنٰی مِنْہ پر مقدم ہے کہ غیر مقدم ہے؟ غیر مقدم، أَحَدٌ خود مقدم ہے تو یہ غیر مقدم ہوا۔ غیر مقدم ہو پھر دیکھیں مُسْتَثْنٰی مِنْہ مذکور ہے یا مذکور نہیں؟ أَحَدٌ یہ کیا ہے؟ مذکور ہے: مَا جَاءَنِي أَحَدٌ، میرے پاس کوئی نہیں آیا، تو یہ أَحَدٌ کیا ہے؟ مذکور، اور جب مُسْتَثْنٰی مِنْہ مذکور ہو کلامِ غیر موجب کے اندر تو پھر مُسْتَثْنٰی بِإِلَّا پر کیا اعراب تھا؟ نصب بھی پڑھ سکتے تھے اور بدل بھی بنا، تو اس پر بھی غَيْرَ زَيْدٍ نصب بھی پڑھ سکتے ہیں اور ماقبل سے بدل یعنی أَحَدٌ سے بدل بھی بنا سکتے ہیں اور أَحَدٌ پر ہے رفع تو غَيْرُ پر بھی کیا پڑھیں؟ رفع، اسی لیے انہوں نے کہا: غَيْرُ زَيْدٍ وَغَيْرَ زَيْدٍ، دیکھو رفع بھی پڑھ سکتے ہیں اور نصب بھی۔ غَيْرُ رفع پڑھا کس وجہ سے؟ رفع کس لیے پڑھا؟ بدل بنایا، أَحَدٌ مرفوع ہے مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے، أَحَدٌ مرفوع ہے تو غَيْرُ بھی مرفوع، اور غَيْرَ زَيْدٍ نصب پڑھا کس وجہ سے؟ مُسْتَثْنٰی ہونے کی وجہ سے، کس وجہ سے؟ ہاں، نصب تو پڑھا مُسْتَثْنٰی ہونے کی وجہ سے اور رفع پڑھا بدل ہونے کی وجہ سے۔
وَمَا جَاءَنِي غَيْرُ زَيْدٍ، جی، مجھے بتائیے مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یا غیر متصل؟ مُسْتَثْنٰی مُتَّصِل ہے یا مُنْقَطِع ہے؟ مُتَّصِل ہے۔ پھر دیکھیں: وَمَا جَاءَنِي غَيْرُ زَيْدٍ، دیکھو یہاں مَا جَاءَنِي أَحَدٌ، اس أَحَدٌ کو حذف کر لیا، تو دیکھو مُسْتَثْنٰی مِنْہ غیر مذکور ہے، اور جب مُسْتَثْنٰی مِنْہ غیر مذکور ہو تو پھر مُسْتَثْنٰی کا اعراب کیا ہوتا تھا؟ عَلَى حَسَبِ الْعَوَامِل، عوامل کے مطابق جیسا عامل ہوتا تھا ویسا اعراب آتا تھا، تو یہاں پر بھی اگر غَيْر کی جگہ إِلَّا ہوتا تو پھر کیسے پڑھتے؟ غَيْر کی جگہ إِلَّا ہوتا: مَا جَاءَنِي إِلَّا زَيْدٌ پڑھتے کیونکہ زَيْدٌ نے جَاءَ کے لیے فاعل بننا تھا۔ توجہ ہے؟ جَاءَ فاعل چاہتا ہے یا نہیں؟ اور وہ أَحَدٌ وہ ختم کر دیا تو اب آگے فاعل تو ہر حال میں چاہیے تو فاعل اب کون بن جائے گا؟ زَيْدٌ، تو مَا جَاءَنِي إِلَّا زَيْدٌ، إِلَّا زَيْدٌ۔ معلوم ہوا اس صورت میں رفع پڑھتے ہیں ہم مُسْتَثْنٰی پر، تو وہی رفع اب کس پر پڑھیں گے؟ غَيْرُ پر: مَا جَاءَنِي غَيْرُ زَيْدٍ۔ اسی طرح: وَمَا رَأَيْتُ غَيْرَ زَيْدٍ، یہ غَيْرَ زَيْدٍ مفعول ہے، إِلَّا ہوتا تو مَا رَأَيْتُ إِلَّا زَيْدًا پڑھتے، وَمَا مَرَرْتُ بِغَيْرِ زَيْدٍ، یہاں پر زَيْدٍ بِغَيْرِ پر با داخل ہے اور وہ کیا دے گی؟ جر دے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جلدی جلدی اب ترکیب کیجیے بھئی:
جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ زَيْدٍ: جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، اَلْقَوْمُ مرفوع لفظاً فاعل، مرفوع لفظاً فاعل، آگے غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ مُسْتَثْنٰی ہونے کی بنا پر، کس بنا پر؟ وہی مُسْتَثْنٰی والا اعراب پڑھ رہے ہیں نا اس پر ہم، تو یہ مُسْتَثْنٰی ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور منصوب لفظاً مضاف اور زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، فعل اپنے فاعل مفعول بہ... یا یوں کریں جیسے ہمارے ہاں رائج ہے: اَلْقَوْمُ کو پہلے بنائیں مُسْتَثْنٰی مِنْہ اور غَيْرَ زَيْدٍ کو کیا بنائیں گے؟ مُسْتَثْنٰی، اعراب وہی ہیں، پھر دوبارہ کریں: جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر مفعول بہ، اَلْقَوْمُ مرفوع لفظاً مُسْتَثْنٰی مِنْہ، غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں ہے؟ مُسْتَثْنٰی ہے، زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مُسْتَثْنٰی، مُسْتَثْنٰی مِنْہ اپنے مُسْتَثْنٰی سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
دوسری ترکیب کیجیے: جَاءَنِي الْقَوْمُ غَيْرَ حِمَارٍ، بالکل اسی طرح ہوگی: جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، اَلْقَوْمُ مرفوع لفظاً مُسْتَثْنٰی مِنْہ، غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ مُسْتَثْنٰی ہے، آگے حِمَارٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مُسْتَثْنٰی، مُسْتَثْنٰی، مُسْتَثْنٰی مِنْہ فاعل تو اَلْقَوْمُ گزرا تھا پیچھے بھئی، تو مُسْتَثْنٰی مِنْہ اپنے مُسْتَثْنٰی سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
اگلی مثال: وَمَا جَاءَنِي غَيْرَ زَيْدٍ الْقَوْمُ: مَا جَاءَ فعل فعلِ منفی، جی نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، جی غَيْرَ، ہاں غَيْرَ، غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ ہاں کیونکہ یہ مُسْتَثْنٰی مقدم ہے اور مُسْتَثْنٰی مقدم ہو تو بھی وہ منصوب، تو غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مُسْتَثْنٰی، مُسْتَثْنٰی، آگے فاعل اَلْقَوْمُ، وہ جو مؤخر کیا ہے مُسْتَثْنٰی مِنْہ کو، وہ فاعل ہے نا اسی کو تو مؤخر کیا ہے ہم نے، تو یہ مُسْتَثْنٰی مِنْہ مقدم یہ تو یہ مُسْتَثْنٰی مقدم ہوا اور اَلْقَوْمُ مرفوع لفظاً مُسْتَثْنٰی مِنْہ، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے تو وہ مُسْتَثْنٰی مِنْہ ہے، تو مُسْتَثْنٰی مِنْہ مؤخر اپنے مُسْتَثْنٰی مقدم سے مل کر یہ فاعل، یا سیدھا یوں کہہ لیں: مُسْتَثْنٰی مِنْہ اپنے مُسْتَثْنٰی سے مل کر یہ فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
اگلی مثال: مَا جَاءَنِي أَحَدٌ غَيْرُ زَيْدٍ وَغَيْرَ زَيْدٍ، پہلے غَيْرُ زَيْدٍ کر لیں: جی، مَا جَاءَنِي أَحَدٌ غَيْرُ زَيْدٍ، جی: مَا جَاءَ فعلِ منفی، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، أَحَدٌ مرفوع لفظاً، آگے کیا پڑھنا ہے؟ غَيْرُ پڑھنا ہے، غَيْرَ پڑھنا ہے؟ غَيْرُ پڑھنا ہے تو پھر اسی کے مطابق ترکیب کرو: أَحَدٌ مرفوع لفظاً... رفع کیوں پڑھتے تھے؟ رفع کیوں پڑھتے تھے؟ یہ غَيْرُ پر رفع کیوں پڑھتے تھے؟ بدل ہونے کی بنا پر، کس بنا پر؟ تو بدل کے لیے ماقبل میں کون چاہیے؟ مبدل منہ چاہیے، تو مبدل منہ بناؤ اب یہاں مُسْتَثْنٰی مِنْہ نہیں بنانا، تو أَحَدٌ مرفوع لفظاً مبدل منہ، مرفوع کیوں؟ مبدل منہ کہنے سے اعراب کا پتہ نہیں چلے گا، مبدل منہ کہنے سے صرف اگلے لفظ کے اعراب کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس پر بھی یہی اعراب آنا ہے، خود مبدل منہ کہنے سے اعراب کا پتہ نہیں کیونکہ مبدل منہ، سمجھ میں آئی بات؟ مبدل منہ منصوب بھی ہو سکتا ہے، یہ تو ضروری نہیں مرفوع ہو، ہاں تو مرفوع کیوں؟ ہاں فاعل ہونے، أَحَدٌ مرفوع لفظاً فاعل ہے، مبدل منہ، آگے غَيْرُ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ بدل ہے، شاباش دیکھا، بدل کہنے سے اعراب کا پتہ چل گیا کہ وہی اعراب ہے جو مبدل منہ کا تھا۔ اچھا، غَيْرُ مرفوع لفظاً مضاف، زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر بدل، مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
اب غَيْرَ زَيْدٍ کریں: مَا جَاءَنِي أَحَدٌ غَيْرَ زَيْدٍ: مَا جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، أَحَدٌ مرفوع لفظاً اب مُسْتَثْنٰی مِنْہ بنے گا، کیا بنے گا؟ کیونکہ آگے ہم مُسْتَثْنٰی والا اعراب پڑھ رہے ہیں نا، غَيْرَ پڑھ رہے ہیں، مُسْتَثْنٰی خود آ رہا ہے، تو أَحَدٌ مرفوع لفظاً مُسْتَثْنٰی مِنْہ، غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ مُسْتَثْنٰی ہے، اور زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مُسْتَثْنٰی، مُسْتَثْنٰی مِنْہ اپنے مُسْتَثْنٰی سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، شاباش۔
مَا جَاءَنِي غَيْرُ زَيْدٍ: مَا جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، غَيْرُ... یہ آخری قسم آ گئی عَلَى حَسَبِ الْعَوَامِل والی، یہ فاعل بنے گا، فاعل، اب عَلَى حَسَبِ الْعَوَامِل ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مَا جَاءَنِي، یہ غَيْرُ زَيْدٍ فاعل ہے مَا جَاءَ کے لیے، تو مَا جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، غَيْرُ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، وہ جو پہلے فاعل تھا أَحَدٌ وہ تو حذف ہو گیا، چلا گیا، اب یہ کیا بن گیا ہے؟ فاعل ہے، تو مرفوع لفظاً مضاف، زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
آگے: وَمَا رَأَيْتُ غَيْرَ زَيْدٍ: مَا رَأَيْتُ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول بہ ہے بھئی، غَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
وَمَا مَرَرْتُ بِغَيْرِ زَيْدٍ: مَا مَرَرْتُ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، با جارہ، غَيْرِ مجرور لفظاً مضاف، مجرور کیوں؟ کیونکہ با جارہ شاباش داخل ہے، تو لفظاً مضاف، مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف؟ کیونکہ غَيْرَ ہمیشہ اپنے بعد کیا چاہتا ہے؟ مضاف الیہ چاہتا ہے، تو غَيْرِ مضاف، زَيْدٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ، شاباش، دیکھا، غَيْرِ میں میں نے پوچھا مجرور کیوں، آپ نے کہا کیونکہ با جارہ داخل ہے، اور زَيْدٍ میں پوچھا مجرور کیوں تو آپ نے کہا کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے، شاباش۔ تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور با جارہ کے لیے، با جارہ اپنے مجرور سے مل کر یہ متعلق ہوا کس سے؟ مَا مَرَرْتُ فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔