فَصْلٌ: اَلتَّمْيِيْزُ هُوَ نَكِرَةٌ تُذْكَرُ بَعْدَ مِقْدَارٍ مِنْ عَدَدٍ أَوْ كَيْلٍ أَوْ وَزْنٍ أَوْ مَسَاحَةٍ أَوْ غَيْرِ ذٰلِكَ مِمَّا فِيْهِ إِبْهَامٌ تَرْفَعُ ذٰلِكَ الْإِبْهَامَ، نَحْوُ: عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ دِرْهَمًا، وَقَفِيْزَانِ بُرًّا، وَمَنَوَانِ سَمْنًا، وَجَرِيْبَانِ قُطْنًا، وَعَلَى التَّمْرَةِ مِثْلُهَا زُبْدًا.
منصوبات کی بحث چل رہی ہے اور آج ہم تمیز کے بارے میں پڑھیں گے۔ تو تمیز کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”اَلتَّمْيِيْزُ هُوَ نَكِرَةٌ تُذْكَرُ بَعْدَ مِقْدَارٍ“ کہ تمیز وہ ایسا نکرہ ہے، دیکھو نکرہ، نکرہ کا لفظ نکرہ ہے، اس پر الف لام نہیں داخل، اور اس کے بعد ”تُذْكَرُ“ فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کی صفت ہوتا ہے، اور موصوف صفت کا ترجمہ نکرہ میں کیسے کرتے ہیں؟ نکرہ سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا۔ تو کہتے ہیں: ”اَلتَّمْيِيْزُ هُوَ نَكِرَةٌ“، تمیز ایسا نکرہ ہے، تمیز ایسا نکرہ ہے ”تُذْكَرُ بَعْدَ مِقْدَارٍ“ جس کو مقدار کے بعد ذکر کیا جائے، جس کو مقدار کے بعد ذکر کیا جائے، ”مِنْ عَدَدٍ“، یہ ”مِنْ“ بیان ہے مقدار کا، یعنی کہ عدد، ”أَوْ كَيْلٍ“، یا کیل، ”أَوْ وَزْنٍ“، یا وزن، ”أَوْ مَسَاحَةٍ“، یا پیمائش، ”أَوْ غَيْرِ ذٰلِكَ“، یا اس کے علاوہ، ”مِمَّا فِيْهِ إِبْهَامٌ“، جس کے اندر ابہام ہو، ”تَرْفَعُ ذٰلِكَ الْإِبْهَامَ“، تو یہ تمیز اس سے اس ابہام کو دور کر دیتی ہے، ”نَحْوُ عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ دِرْهَمًا“، مثال کے طور پر: میرے پاس بیس درہم ہیں۔
بھئی، تمیز یاد رکھو، یہ کسی لفظ کے اندر ابہام ہو اس ابہام کو دور کرتی ہے۔ اور تعریف انہوں نے کیا کی؟ ”اَلتَّمْيِيْزُ هُوَ نَكِرَةٌ“، تمیز کیا ہوگی؟ نکرہ، جیسے ماقبل میں حال کے بارے میں آیا تھا، حال ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے، اور اگر بظاہر معرفہ ہو تو بھی اس کو تاویل کر کے کیا بنا لیتے ہیں؟ نکرہ بنا لیتے ہیں۔ جبکہ تمیز یہ ہمیشہ نکرہ ہوگی اور یہ ماقبل کے لفظ میں جو ابہام ہوگا اس ابہام کو دور کرے گی، یعنی ماقبل میں جو مقدار ذکر ہو تمیز آ کر اس ابہام کو کیا کر دے گی؟ دور کر دے گی۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ“، میرے پاس بیس ہیں۔ آپ کہیں گے بھئی کیا بیس ہیں، بات تو پوری کریں، بیس قلم ہیں، بیس کتابیں ہیں، بیس درہم ہیں، کیا چیز ہے بھئی؟ آپ نے بات پوری نہیں کی۔ میں پھر کہتا ہوں: ”عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ“، میرے پاس بیس، تو دیکھو یہ ”عِشْرُوْنَ“ یہ ایک مقدار کا نام ہے، مقدار کا نام ہے، بیس ہے، تیس ہے، چالیس ہے، پچاس ہے، کوئی بھی مقدار ہو سکتی ہے۔
تو یہ ایک مقدار کا نام ہے اور اس کے اندر ابہام ہے کہ یہ مقدار کس چیز کی بیان ہو رہی ہے، تو اس کے آگے پھر تمیز آتی ہے اور وہ اس ابہام کو دور کر دیتی ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ كِتَابًا“، تو دیکھو یہ ”كِتَابًا“ کیا ہے؟ تمیز، اس نے ”عِشْرُوْنَ“ کے ابہام کو دور کر دیا، پتہ چل گیا کہ ”عِشْرُوْنَ“ سے مراد قلم نہیں مراد، ”عِشْرُوْنَ“ سے درہم نہیں مراد، بلکہ ”عِشْرُوْنَ“ سے کتابیں مراد ہیں بھئی۔
اور مقداریں، مقداریں وہ یہ پانچ قسم پر ہیں جو یہ ذکر کر رہے ہیں: یا تو وہ عدد ہوگا، یا کیل ہوگا، یا تو وہ عدد ہوگا یعنی گنا جاتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں بعض چیزوں کو گنا جاتا ہے، بعض چیزوں کو گن کر بیچا جاتا ہے، جیسے آپ انڈے لینے جاتے ہیں تو ایک درجن کے حساب سے آپ خریدتے ہیں، آپ کیلے لینے گئے، مالٹے لینے گئے تو ایک درجن کے حساب سے ملتے ہیں، تو یہ درجن کیا ہے؟ عدد ہے، سمجھ میں آیا؟ تو بعض چیزوں کو گن کر بیچا جاتا ہے۔ ”أَوْ كَيْلٍ“، کیل کہتے ہیں ماپنے کو، بھئی بعض چیزوں کو ماپ کر بیچا جاتا ہے، وزن نہیں کیا جاتا، ماپ کر بیچا جاتا ہے، جیسے دودھ ہے، آپ لینے جاتے ہیں ایک لیٹر لیتے ہیں یا دو لیٹر لیتے ہیں یا تین لیٹر، یہ کیا ہے؟ یہ ماپ کر، یہ ایک خاص برتن ہوتا ہے اس میں بھر کر وہ ایک پیمانہ دیتا ہے یا آپ دو پیمانے لیتے ہیں یا تین پیمانے لیتے ہیں، اور وہ برتن کیا ہے؟ لیٹر کہلاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ خاص مقدار، یا اسی طرح بھئی گندم کا، گندم وغیرہ جو غلہ بیچا جاتا تھا قدیم طریقہ جو اب بھی بعض دیہاتوں میں رائج ہے کہ آج کل تو اس کو تول کر بیچتے ہیں، پہلے ایک خاص برتن ہوتا تھا اس برتن میں اس کو ماپ کر ایک برتن اتنے کا، دو برتن اتنے کے ہیں، تین برتن اتنے کے، اس کو عربی میں قفیز کہتے ہیں، قفیز بھئی۔ تو عربی میں اس کو قفیز کہتے ہیں بھئی، تو اس کے ساتھ ماپ کر اس غلے کو، گندم وغیرہ کو بیچا جاتا تھا اور یہ بھی کیا ہے؟ کیل ہے، دیکھو وہ برتن کے اندر پیمائش کر کے اس کو ماپا جاتا تھا۔
اسی طرح ایک مقدار ہے وزن، بعض چیزوں کا وزن کیا جاتا ہے، آپ چینی لینے گئے وزن کر کے لیتے ہیں، تو وہ تول کر آپ خریدتے ہیں، ایک کلو لیتے ہیں، دو کلو یا تین کلو، تو یہ کس چیز کا نام ہے؟ وزن کا نام ہے۔ اور بعض چیزوں کی پیمائش کی جاتی ہے، مثلاً زمین ہے اس کی بھی پیمائش کی جاتی ہے، کتنی چوڑائی ہے، اتنی لمبائی ہے، یا اسی طرح کپڑا آپ خریدتے ہیں تو اس کی بھی پیمائش کر کے خریدتے ہیں کہ ایک گز لینا ہے، دو گز لینا ہے یا تین گز۔ تو یہ چار قسم کی مقداریں ہیں، اور پانچویں قسم وہ انہی میں اندازہ ہے، اندازہ لگانا۔
تو ان سب کے اندر دیکھو ابہام ہوتا ہے، آگے تمیز آ کر اس ابہام کو دور کر دیتی ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں نے بیس خریدے، عدد ذکر کیا، آپ کہیں گے بھئی عدد ذکر کر رہے ہیں، معدود یعنی تمیز کو تو آپ ذکر ہی نہیں کر رہے، کیا چیز مراد ہے بیس سے؟ آگے میں ذکر کر دیتا ہوں مثلاً کہ میں نے بیس کتابیں خریدیں، تو دیکھو اس نے آ کر کیا کیا؟ اس عدد سے ابہام کو دور کر دیا۔ یا اسی طرح بعض اوقات ماپ، کسی چیز کو ماپتے ہیں اس میں ابہام ہوتا ہے، مثلاً آپ کہتے ہیں بیس لیٹر، اب بھئی بیس لیٹر کیا چیز ہے؟ دودھ بھی ہو سکتا ہے، پٹرول بھی ہو سکتا ہے، اس جیسی کوئی اور چیز بھی ہو سکتی ہے بہنے والی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح وزن کرتے ہیں، بیس کلو ہے یا تیس کلو ہے، بھئی کیا چیز ہے؟ چینی بھی ہو سکتی ہے، آٹا بھی ہو سکتا ہے، اس جیسی کوئی بھی چیز وزن والی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بعض اوقات چیزوں کی پیمائش کی جاتی ہے، آپ کہتے ہیں بیس گز، بھئی بیس گز سے کیا مراد ہے؟ کپڑا مراد ہے یا زمین مراد ہے یا کیا چیز مراد ہے؟ تو لہٰذا ان سب، یہ جتنی مقداریں ہیں ان کے اندر ان میں ابہام ہوتا ہے اور آگے ان کے بعد ایک نکرہ آتا ہے جو ان کے ابہام کو آ کر دور کر دیتا ہے اور بتلا دیتا ہے کہ اس مقدار سے کون سی چیز مراد ہے، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ تمیز کہتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”اَلتَّمْيِيْزُ هُوَ نَكِرَةٌ تُذْكَرُ بَعْدَ مِقْدَارٍ“، تمیز وہ ایسا نکرہ ہے جس کو مقدار کے بعد ذکر کیا جائے، بھئی کون سی مقدار؟ کہتے ہیں: ”مِنْ عَدَدٍ أَوْ كَيْلٍ أَوْ وَزْنٍ أَوْ مَسَاحَةٍ“، ”مِنْ“ بیان ہے کس کا؟ مقدار کا، اور اس کا ترجمہ یعنی کے ساتھ کرتے ہیں۔ تمیز وہ، دوبارہ سنیں بھئی، تمیز ایسا نکرہ ہے جس کو مقدار کے بعد ذکر کیا جائے یعنی کہ عدد اور کیل یعنی ماپ، ”أَوْ وَزْنٍ“، یا وزن، ”أَوْ مَسَاحَةٍ“، یا پیمائش، ”أَوْ غَيْرِ ذٰلِكَ“، یا ان کے علاوہ، ”مِمَّا فِيْهِ إِبْهَامٌ“، جس کے اندر ابہام ہو، ”تَرْفَعُ ذٰلِكَ الْإِبْهَامَ“، اور تمیز کیا، وہ نکرہ کیا کرتا ہے؟ اس ابہام کو دور کر دیتا ہے، ”نَحْوُ عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ دِرْهَمًا“، میرے پاس بیس درہم ہیں۔
جی، ترکیب کیجیے: ”عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ دِرْهَمًا“، یاد رکھیے یہ ”عِنْدَ“ ظرف ہے ظرف، اور ہر ظرف کے لیے کیا چاہیے؟ عامل چاہیے، جیسے ہر جار مجرور کے لیے کیا چاہیے؟ متعلق چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ظرف کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ مفعول فیہ پڑھ چکے ہیں یا بھول گئے؟ ظرف کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے۔ جی، اور یہاں ہے ”عِنْدِيْ“، تو ”عِنْدَ“ منصوب تقدیراً مضاف، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ ہوا، اس کے لیے بھی عامل چاہیے اور وہی آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک ہونی چاہیے اور یہاں کوئی بھی نہیں تو وہ محذوف نکالیں گے، تو یہ مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ فعل محذوف ”ثَبَتَ“ کے لیے، ”ثَبَتَ“ کے لیے۔ اور ”ثَبَتَ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ”عِشْرُوْنَ دِرْهَمًا“ جو مبتدائے مؤخر ہے اس کی طرف راجع۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مقدم۔ تو جار مجرور اور ظرف یہ خبر تو بن سکتے ہیں ظرف مستقر ہو کر، یہ مبتدا نہیں بن سکتے، اور یہاں تو یہ شروع میں آیا تو پھر اس کو مبتدا نہیں بنانا بلکہ کیا بناؤ؟ خبر مقدم، تو یہ خبر مقدم۔ اور ”عِشْرُوْنَ“ مرفوع لفظاً ممیز، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ مبتدا ہے، شاباش، اچھا، اور ممیز کیوں کہا میں نے؟ کیونکہ اس کے بعد تمیز آ رہی ہے، اس میں ابہام ہے، اس ابہام کو وہ تمیز آ کر دور کرے گی، تو ”عِشْرُوْنَ“ مرفوع لفظاً ممیز، اور ”دِرْهَمًا“ منصوب لفظاً تمیز، منصوب کیوں؟ کیونکہ تمیز ہے اور تمیز کس میں سے ہے؟ منصوبات میں سے۔ آپ کو کوئی شخص بتا دے کہ یہ حال بن رہا ہے آپ سمجھ جاتے ہیں کہ کون سا اعراب پڑھنا ہے، نصب، اسی طرح جب آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ لفظ تمیز بن رہا ہے تو آپ کو فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ اس پر کون سا اعراب پڑھنا ہے، نصب۔ تو ”دِرْهَمًا“ منصوب لفظاً تمیز، ممیز اپنی تمیز کے ساتھ مل کر مبتدا، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”عِنْدِيْ عِشْرُوْنَ دِرْهَمًا“، میرے پاس بیس درہم ہیں بھئی۔
”وَقَفِيْزَانِ بُرًّا“، أَيْ: ”عِنْدِيْ قَفِيْزَانِ بُرًّا“، ”عِنْدِيْ“ کو بار بار نہیں ذکر کر رہے بھئی۔ ترکیب کیجیے: ”عِنْدِيْ قَفِيْزَانِ بُرًّا“، جی، ”عِنْدَ“ منصوب تقدیراً مضاف، جی، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ ”ثَبَتَ“ فعل کے لیے، ”ثَبَتَ“ فعل، جی، ”ثَبَتَ“ فعل اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ ”قَفِيْزَانِ“، قفیز کسے کہتے ہیں؟ وہ پیمانہ، وہ پیمانہ، وہ جو برتن ہوتا تھا جس میں ماپ کر گندم اور غلے وغیرہ کو بیچا جاتا تھا اس کو کہتے ہیں قفیز، اور ”قَفِيْزَانِ“ یہ کیا ہے؟ اس کی تثنیہ ہے، تثنیہ ہے۔ تو ضمیر آپ کون سی لوٹا رہے ہیں؟ ”هُوَ“، اور ”قَفِيْزَانِ“ کیا ہے؟ تثنیہ، اور ضمیر اور مرجع میں مطابقت بھی تو دیکھنی ہے تو ہمیں تو تثنیہ والی ضمیر چاہیے، کیا کریں گے؟ ”ثَبَتَا“، شاباش، تثنیہ کا فعل نکال لیں گے، ”ثَبَتَا“ فعل، اس کے اندر الف ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ”قَفِيْزَانِ“ مبتدائے مؤخر کو۔ اس پر اشکال ہوگا تو یہ تو ضمیر پہلے آ گئی، مرجع بعد میں آیا، یہ تو اضمار قبل الذکر ہے، کیا جواب دیں گے؟ ہاں، کیونکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ رتبے کے اعتبار سے مقدم ہوتا ہے، اور ”عِنْدِيْ“ کیا ہے؟ خبر، اور خبر رتبے کے اعتبار سے مؤخر ہے، تو اگرچہ ”قَفِيْزَانِ“ لفظوں کے اعتبار سے ”عِنْدِيْ“ سے مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے اور لہٰذا اس لیے اس کی طرف ضمیر لوٹانا ٹھیک ہے بھئی۔
جی، آگے ”قَفِيْزَانِ“، اچھا وہ ضمیر لوٹ رہی ہے ”قَفِيْزَانِ“ کو ”ثَبَتَا“ کے اندر، پھر فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مقدم، اور ”قَفِيْزَانِ“ مرفوع لفظاً ممیز، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ مبتدا ہے، اور لفظاً کیوں کہا؟ ”قَفِيْزَانِ“ میں تو جر پڑھ رہا ہوں؟ ہاں، اس کا اعراب الف کے ساتھ ہے، یہ رفع ہے، یہ نون کے نیچے حرکت ہے اعراب نہیں ہے، تو یہ مرفوع ہے اور ممیز ہے، دو پیمانے، بھئی کس چیز کے دو پیمانے؟ آگے ”بُرًّا“، بُر گندم کو کہتے ہیں، کس کے؟ گندم کے دو پیمانے، ”عِنْدِيْ قَفِيْزَانِ بُرًّا“، میرے پاس گندم کے دو پیمانے ہیں، دو قفیز ہیں۔ اچھا، تو ”بُرًّا“ منصوب لفظاً تمیز، منصوب کیوں؟ کیونکہ تمیز ہے اور تمیز منصوب ہوتی ہے، ممیز اپنی تمیز سے مل کر مبتدا، اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ”عِنْدِيْ قَفِيْزَانِ بُرًّا“، ترجمہ کیجیے: میرے پاس دو قفیز گندم ہے، میرے پاس دو قفیز گندم ہے۔
”وَمَنَوَانِ سَمْنًا“، اس کو بھی اسی طرح کر لیجیے، ”عِنْدِيْ مَنَوَانِ سَمْنًا“، جی، ”عِنْدِيْ“ منصوب تقدیراً مضاف، اور بہرحال یہ تو اب دیکھنا پڑے گا مجھے کہ ”عِنْدَ“ کہیں مبنی نہ ہو، ”عِنْدَ“ ظرف ہے نا، ظرف ہے، تو یہ مبنی، اگر مبنی ہوا، ہے تو ظرف ہی، تو ہے تو یہ منصوب ہی، تو اگر یہ مبنی ہوا تو پھر کیسے اعراب بتاؤ گے؟ محلاً، اور اگر معرب ہے تو تقدیراً، تو بہرحال یہ دیکھنا پڑے گا بھئی۔ تو ”عِنْدِيْ“ اعراب بھئی، ”عِنْدِيْ“ ہے نا، اسی طرح پڑھو، ”عِنْدِيْ“ منصوب تقدیراً مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول فیہ ہے، اچھا، اور منصوب تقدیراً کیوں؟ کیونکہ جو اسم بھی یا متکلم کی طرف مضاف ہو جائے اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے تو یہ منصوب تقدیراً ہے۔ آگے یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ مضاف الیہ ہے، شاباش، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ، مفعول فیہ کس کے لیے؟ ”ثَبَتَا“ فعل کے لیے، ”ثَبَتَا“ فعل، ہاں آگے ”مَنَوَانِ“ تثنیہ آ رہا ہے تو فعل بھی کون سا چاہیے؟ تثنیہ کی ضمیر چاہیے، وہ تثنیہ والا فعل لاؤ، ”ثَبَتَا“، ”ثَبَتَا“ فعل، اس کے اندر الف ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ”مَنَوَانِ“ جو مبتدائے مؤخر ہے اس کو راجع، جی، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مقدم۔ ”مَنَوَانِ سَمْنًا“، اچھا جی ”مَنَوَانِ“، ”مَنَوَانِ“ مرفوع لفظاً ممیز، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے، لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کیا ہے اس کا رفع؟ الف ہے، شاباش، اور ممیز آپ کو کیسے پتہ چلا ممیز ہے یہ؟ کیونکہ یہ مقدار ہے اور آگے تمیز آ رہی ہے، اور ”سَمْنًا“ منصوب لفظاً تمیز، منصوب کیوں؟ تمیز ہے، ممیز اپنی تمیز سے مل کر مبتدا مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ”عِنْدِيْ مَنَوَانِ سَمْنًا“، سمن گھی کو کہتے ہیں، میرے پاس دو من گھی ہے، ”عِنْدِيْ“، میرے پاس، ”مَنَوَانِ سَمْنًا“، دو من گھی ہے۔
”وَجَرِيْبَانِ قُطْنًا“، یہ بھی اسی طرح: ”عِنْدِيْ جَرِيْبَانِ قُطْنًا“، ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بعینہٖ وہی ترکیب ہے۔ اور قطن کہتے ہیں روئی کو بھی اور کپاس کو بھی، میرے پاس دو جریب کپاس ہے۔ جریب یہ زمین کی مقدار ہے، زمین کی مقدار، کتنی مقدار ہے؟ ساٹھ ذراع چوڑائی ہو اور ساٹھ ذراع لمبائی ہو تو یہ ایک جریب ہے بھئی، ایک جریب زمین۔ جریب آپ سنتے ہوں گے، بعض لوگ بولتے ہیں اور خصوصاً یہ افغانستان، ایران وغیرہ ان علاقوں میں بھی اب بھی یہی طریقہ رائج ہے، یہاں تو ہے نا کنال ہے اور مرلہ ہے، کنال ہے اور اس کے بعد ایکڑ ہے اور اس کے بعد مربع ہے، تو یہ پیمائشیں چلتی ہیں، اور وہاں جریب چلتا ہے بھئی جریب، اور جریب کسے کہتے ہیں کہ زمین کتنی ہو؟ ساٹھ ذراع لمبائی اور ساٹھ ذراع چوڑائی ہو تو یہ ایک جریب ہے بھئی۔ اور ذراع آپ جانتے ہیں بھئی، ذراع کسے کہتے ہیں؟ ذراع شرعی گز کا نام ہے اور یہ ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے، ڈیڑھ فٹ کا، یعنی جو آج کل گز رائج ہے وہ تین فٹ کا ہوتا ہے یعنی وہ دو شرعی گز کے برابر ہے، سمجھ میں آئی بات؟ بلکہ آج کل تو میٹر رائج ہے، میٹر گز سے کوئی تین انچ بڑا ہوتا ہے، میٹر گز سے تین انچ بڑا اور گز دو ذراع کے برابر ہے بھئی، دو ذراع کے برابر۔ تو سمجھ گئے بھئی؟ ساٹھ ذراع کتنا بن گیا؟ فٹوں کے حساب سے ذرا بنائیں: ڈیڑھ فٹ اور ضرب ساٹھ، نوے فٹ، نوے فٹ چوڑائی اور نوے فٹ لمبائی، لیکن نہیں، یہ ذراع یہ تو شرعی ذراع کی بات چل رہی ہے، وہ ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے، جبکہ یہ جریب جو زمین کی پیمائش میں جو گز استعمال ہوتا ہے وہ ملک کسریٰ کا ذراع ہوتا تھا، وہ اس عام شرعی ذراع سے تھوڑا سا بڑا ہوتا تھا، شرعی ذراع سے تھوڑا سا بڑا ہوتا تھا۔ شرعی ذراع کتنا؟ ڈیڑھ فٹ، بھئی یہ ایک متوسط درجے کا آدمی یہ اس کی کہنی سے لے کر، ہاتھ یوں کرے، کہنی سے لے کر انگلیاں سیدھی رکھے تو کہنیوں سے لے کر انگلیوں کے سرے تک یہ ڈیڑھ فٹ ہے تقریباً، یہ ایک شرعی گز بنتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہاں سے کہاں تک؟ کہنی سے لے کر، کہنی کی ہڈی سے لے کر انگلیوں کے سرے تک یہ ایک ذراع ہے، اور ایک ذراع یہ چھ مٹھی کے برابر ہے، چھ مٹھی، آپ مٹھی بند کریں اور اس کو یوں رکھیں، پھر اس کے اوپر دوسری مٹھی رکھیں، ایک مٹھی میں کتنی انگلیاں؟ چار، دوسری میں کتنی ہو گئیں؟ چار اور، تو کتنی ہو گئیں؟ آٹھ، پھر اس کے اوپر تیسری مٹھی رکھیں، یہ کتنی ہو گئیں؟ بارہ، تو اس طرح چھ مٹھی رکھیں تو یہ بن جاتا ہے چوبیس انگل چوڑائی، گویا ایک ذراع کی لمبائی جو ہے وہ چوبیس انگل کے برابر ہے بھئی، تو یعنی چھ، چھ مٹھیاں، بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن جو ملک کسریٰ کا ذراع رائج تھا وہ سات مٹھی کے برابر تھا، تو اور ایک مٹھی میں چار انگلیاں تو سات چوکے اٹھائیس، تو شرعی گز جو ہے وہ چوبیس انگلی کے برابر لمبائی میں، چوبیس انگلیاں چوڑائی میں ہوں تو اس کے برابر ہے ایک شرعی گز، اور ملک کسریٰ والا ذراع کتنا تھا؟ اٹھائیس انگلی کے برابر بھئی، یعنی سات مٹھیاں رکھیں ایک دوسرے کے اوپر تو اتنی اس کی لمبائی تھی، تو یہ ملک کسریٰ کا ذراع مراد ہے، ساٹھ ذراع چوڑائی اور ساٹھ ذراع لمبائی ملک کسریٰ کے ذراع کے ساتھ تو یہ ایک جریب ہوا، تو یہ ہے جریب بھئی۔ تو کوئی شخص کیا کہتا ہے: ”عِنْدِيْ جَرِيْبَانِ قُطْنًا“، میرے پاس دو جریب کپاس ہے، یعنی اتنی زمین میں میں نے کیا اگائی ہے؟ کپاس اگائی ہے بھئی۔
دیکھیے ساری مقداروں کی انہوں نے مثالیں ذکر کر دیں: ”عِشْرُوْنَ“ یہ عدد ہے، ”قَفِيْزَانِ“ یہ کیل ہے، پیمانہ ہے، ”مَنَوَانِ“ یہ وزن کا نام ہے من، من، اور ”جَرِيْبَانِ“ یہ کس کا نام ہے؟ پیمائش کا نام ہے بھئی۔ اور پانچویں قسم ہے اندازہ بھئی: ”وَعَلَى التَّمْرَةِ مِثْلُهَا زُبْدًا“، اور کھجور پر اسی کے مثل مکھن ہے، زَبَدًا یا زُبْدًا یہ مکھن کو کہتے ہیں، ”عَلَى التَّمْرَةِ“، کھجور پر، ”مِثْلُهَا زُبْدًا“، اسی کے مثل مکھن ہے۔ عرب کے ہاں جب کوئی بڑا مہمان، خاص مہمان آتا تھا تو کیا کرتے تھے؟ کھجور کو کاٹ کر اس میں سے گٹھلی نکال کر اسی کے برابر، کھجور کے برابر اس پر، کھجور کو کھول کر رکھا اور اس پر اسی کے برابر مکھن رکھ دیا بھئی، تو اس طرح وہ یہ پلیٹ بھر کر مہمان کے سامنے، بڑے مہمان کے سامنے پیش کی جاتی تھی بھئی۔
ترکیب کیجیے: ”وَعَلَى التَّمْرَةِ مِثْلُهَا زُبْدًا“، ”عَلَى“ جارہ، ”اَلتَّمْرَةِ“ مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَ“ فعل کے ساتھ، ”ثَبَتَ“ فعل اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ”مِثْلُهَا“ کو جو مبتدائے مؤخر ہے اس کو راجع۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مقدم، اور ”مِثْلُهَا زُبْدًا“ یہ کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر، اس میں بھی ”مِثْلُ“ ہے مبتدا اصل میں، کون ہے؟ ”مِثْلُ“۔ جی، ”مِثْلُهَا زُبْدًا“ ترکیب کیجیے: ”مِثْلُ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے، شاباش، لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے؟ ہاں جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل آ جائے تو وہ مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں، تو ”مِثْلُ“ مرفوع لفظاً مضاف، ”هَا“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر ممیز، ”زُبْدًا“ منصوب لفظاً تمیز، ممیز اپنی تمیز سے مل کر مبتدا، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ”عَلَى التَّمْرَةِ“، کھجور پر، ”مِثْلُهَا“، یہ ”هَا“ ضمیر راجع ہے تمرہ کو، کھجور پر کھجور ہی کے برابر ”زُبْدًا“، مکھن ہے، کھجور پر کھجور کے برابر ہی مکھن ہے۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟
”وَقَدْ يَكُوْنُ عَنْ غَيْرِ مِقْدَارٍ“، اور کبھی کبھار تمیز غیر مقدار سے بھی آ جاتی ہے۔ یہ تو ساری مقداریں تھیں نا پانچ: عدد، کیل، وزن، مساحت اور اندازہ، اندازہ، یہ پانچ قسم کی مقداریں ہیں۔ دیکھو کھجور پر اسی کے برابر مکھن ہے یہ اندازے سے کہہ رہے ہیں نا کہ پورا برابر ہے اس کے، اندازہ ہے کہ اندازاً اس کے برابر ہے، اس کے لگ بھگ ہی اس کا مکھن اس پر رکھا ہوا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ کھجوریں بھی یہ کھجوریں نہیں ہوتیں یہ جو آپ کھاتے ہیں چھوٹی چھوٹی کھجوریں بھئی، عرب کے خاص بڑی بڑی کھجوریں ہوتی تھیں بھئی، یہ عام شاید تین چار کھجوریں ملائیں تو اتنی ایک کھجور بنے گی بھئی۔
تو دیکھیے یہ ساری مقداریں تھیں، ”وَقَدْ يَكُوْنُ عَنْ غَيْرِ مِقْدَارٍ“، اور کبھی کبھار تمیز غیر مقدار سے بھی آ جاتی ہے یعنی ایسی چیز سے جو مقدار نہیں ہوتی، ”نَحْوُ: هٰذَا خَاتَمٌ حَدِيْدًا“، ”هٰذَا خَاتَمٌ“، یہ انگوٹھی ہے۔ بھئی انگوٹھی تو لوہے کی بھی ہو سکتی ہے، چاندی کی بھی ہو سکتی ہے، سونے کی بھی ہو سکتی ہے، کس چیز کی ہے؟ اس میں ابہام تھا، تو آگے ”حَدِيْدًا“، حدید لوہے کو کہتے ہیں، اس نے آ کر اس ابہام کو کیا کر دیا؟ دور کر دیا، ”هٰذَا خَاتَمٌ حَدِيْدًا“، یہ لوہے کی انگوٹھی ہے، تو یہ تمیز ہے بھئی خاتم سے۔ تو یہ خاتَم اور خاتِم دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بھئی، تا پر زبر بھی اور زیر بھی، یہ انگوٹھی کو کہتے ہیں، ”هٰذَا خَاتَمٌ حَدِيْدًا“، یہ لوہے کی انگوٹھی ہے۔
ترکیب کیجیے: ”هٰذَا“ مرفوع محلاً مبتدا، شاباش، ”هٰذَا“ مرفوع محلاً مبتدا۔ بھئی جار مجرور آئیں نا جار مجرور یا ظرف ہو تو وہ خبر مقدم بنتے ہیں، سمجھ میں آئی بات؟ اس لیے وہاں ہم نے خبر مقدم ان کو بنایا تھا کیونکہ وہ مبتدا بن ہی نہیں سکتے، جبکہ یہ ”هٰذَا“ یہ تو اسم ہے، معرفہ ہے، اسم اشارہ ہے، یہ مبتدا بن سکتا ہے بھئی، تو ”هٰذَا“ مرفوع محلاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے، محلاً کیوں؟ مبنی ہے، اسم اشارہ ہے، ہاں تو ”هٰذَا“ مرفوع محلاً مبتدا، آگے ”خَاتَمٌ“ مرفوع لفظاً، صیغہ اسم فاعل یہاں نہ بنائیں بس اس انگوٹھی کا نام ہی کیا ہے؟ خاتم ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں اس کا نام ہی رکھ دیا گیا، اب نام رکھ دیا اب اس میں وہ والا معنی نہیں ہے اسم فاعل والا، جی، تو ”خَاتَمٌ“ مرفوع لفظاً ممیز، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے، اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، بھئی مبتدا آ گیا نا تو اس کے لیے خبر بھی تو چاہیے، تو یہ خبر ہے اور یہ مرفوع ہے، اور ممیز کیوں؟ کیونکہ آگے تمیز آ رہی ہے جو اس کے ابہام کو دور کر رہی ہے، اور ”حَدِيْدًا“ منصوب لفظاً تمیز، ممیز تمیز مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ”هٰذَا خَاتَمٌ حَدِيْدًا“، یہ لوہے کی انگوٹھی ہے۔
”وَسِوَارٌ ذَهَبًا“، سوار کنگن کو کہتے ہیں بھئی، جو عورتیں پہنتی ہیں زینت کے لیے کنگن بھئی، اور اس کو سوار، اور ذہب کہتے ہیں سونے کو، أَيْ: ”هٰذَا سِوَارٌ ذَهَبًا“، یہ سونے کا کنگن ہے۔ ترکیب کیجیے: ”هٰذَا“ مرفوع محلاً مبتدا، ”سِوَارٌ“ مرفوع لفظاً ممیز، ”ذَهَبًا“ منصوب لفظاً تمیز، منصوب کیوں؟ تمیز ہے، جی، ممیز تمیز مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ بھئی آپ نے عائد کوئی نہیں بتلایا، خبر کیسے بنا دیا ”سِوَارٌ ذَهَبًا“ کو؟ جواب، کیا جواب دیں گے؟ آپ کہیں گے بھئی کہ عائد کی ضرورت پیش آتی ہے جب جملے یا شبہ جملہ کو کسی چیز سے جوڑنا ہو، اور یہ ”سِوَارٌ ذَهَبًا“ نہ یہ جملہ ہے اور نہ شبہ جملہ ہے، لہٰذا یہاں عائد کی کوئی ضرورت نہیں۔ تو ”هٰذَا سِوَارٌ ذَهَبًا“، یہ سونے کا کنگن ہے۔
تو انہوں نے آپ کو بتلا دیا: تمیز وہ مقدار سے ابہام کو دور کرتی ہے اور کبھی کبھار غیر مقدار سے بھی تمیز آ جاتی ہے، جیسے یہاں پر ”خَاتَمٌ“، یہ کوئی مقدار نہیں ہے انگوٹھی، انگوٹھی تو ایک چیز کا نام ہے، لیکن پھر بھی اس میں ابہام تھا، ”حَدِيْدًا“ نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا۔ اسی طرح ”سِوَارٌ“، سوار کنگن کو کہتے ہیں، اس میں کنگن یہ تو کسی مقدار کا نام نہیں ہے، یہ تو ایک چیز کا نام ہے لیکن پھر بھی اس میں ابہام تھا کہ یہ کنگن چاندی کا ہے، سونے کا ہے، لوہے کا ہے، کس چیز کا ہے؟ ”ذَهَبًا“ نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا، تو یہ تمیز آئی، اور یہ تمیز کس سے ہے؟ مقدار سے ہے یا غیر مقدار سے؟ غیر مقدار سے ہے یہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی جنت میں بھی جنتیوں کو کنگن پہنائے جائیں گے سونے، موتی، ہیرے، جواہرات وغیرہ کے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ، اللہ ہم سب کو بغیر حساب کتاب کے جنت نصیب فرمائے بھئی۔ وہاں جنت میں ان شاء اللہ ہم آپ کی دعوت کریں گے، تو جب آپ دعوت میں آئیں گے آپ نے سونے، موتیوں کے اور ہیرے جواہرات کے کنگن پہنے ہوں گے بھئی، بڑے ہی حسین و جمیل بھئی۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ مرد ہو اور کنگن پہنے ہو یہ تو عجیب لگے گا بھئی؟ نہیں بھئی، عجیب وہاں لگتا ہے جہاں عادت نہ ہو، جب سب نے پہنے ہوں، عادت ہو تو پھر وہ چیز عجیب نہیں لگتی، جیسے آپ دیکھ لیں بھئی، یہ آپ سب نے ہاتھوں پر گھڑی پہنی ہوئی ہے، یہ بھی تو کنگن جیسی چیز ہے ایک اور زینت والی بھی ہے، خوبصورت خوبصورت قسم کی لوگ پہنتے ہیں، لیکن چونکہ سب نے پہنی ہوتی ہے لہٰذا یہ ذرا بھی عجیب نہیں لگتی بھئی۔
تو کہتے ہیں تمیز کبھی کبھار مقدار سے آتی ہے اور کبھی غیر مقدار سے آتی ہے، ”وَفِيْهِ الْخَفْضُ أَكْثَرُ“، اور اس کے اندر جر اکثر ہوتا ہے، یہ جو غیر مقدار سے تمیز آتی ہے نا تو اس میں اکثر جر پڑھتے ہیں یعنی یہ مضاف مضاف الیہ بن جاتے ہیں: ”هٰذَا خَاتَمٌ حَدِيْدًا“، عموماً ایسا نہیں استعمال ہوگا بلکہ مضاف مضاف الیہ بنا دیں گے: ”هٰذَا خَاتَمُ حَدِيْدٍ“، اور ”هٰذَا سِوَارُ ذَهَبٍ“، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر ترکیب کیا ہوگی؟ ”هٰذَا“ مرفوع محلاً مبتدا، ”خَاتَمُ“ مرفوع لفظاً مضاف، اور ”حَدِيْدٍ“ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو ترکیب اس طرح ہوگی، البتہ اتنا آپ کو پتہ ہے کہ یہ ”حَدِيْدٍ“ یہ خاتم سے ابہام کو دور کر رہا ہے یہ اس سے تمیز ہے، لیکن ترکیب کے اعتبار سے اس وقت یہ تمیز نہیں ہے، معنیٰ کے اعتبار سے تمیز ہے لیکن ترکیب کے اعتبار سے اب تمیز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِيْهِ الْخَفْضُ أَكْثَرُ“، اور اس کے اندر، یہ جو غیر مقدار سے تمیز آتی ہے، اس میں اکثر جر ہوتا ہے۔
”وَقَدْ يَقَعُ بَعْدَ الْجُمْلَةِ“، اور کبھی کبھار تمیز جملے کے بعد بھی واقع ہوتی ہے، پہلے تو انہوں نے کہا تھا نا کہ تمیز مقدار کے بعد آئے گی، اب کیا بتا رہے ہیں؟ کبھی کبھار تمیز کس کے بعد آئے گی؟ جملے کے بعد آئے گی، ”لِرَفْعِ الْإِبْهَامِ عَنْ نِسْبَتِهَا“، تاکہ ابہام کو دور کرے، ”لِرَفْعِ الْإِبْهَامِ“، تاکہ ابہام کو دور کرے ”عَنْ نِسْبَتِهَا“، اس جملے کی نسبت سے، اس جملے کے اندر جو نسبت ہے اس نسبت کے اندر ابہام ہوتا ہے، اس سے تمیز آ کر ابہام کو دور کر دیتی ہے۔ مثلاً بھئی میں نے کہا: ”قَامَ زَيْدٌ“، زید کھڑا ہوا، تو یہ دیکھو ”قَامَ“ فعل ہے اور ”زَيْدٌ“ اس کے لیے فاعل، اور یہ ”قَامَ“ کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف، اسی کو اسناد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اسناد۔ یا اسی طرح میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ”زَيْدٌ“ مبتدا ہے اور ”قَائِمٌ“ اس کی خبر، اور دونوں کے درمیان کیا ہے؟ اسناد ہے، دونوں اس کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں، تو اسناد اور یہ جو نسبت ہوتی ہے اس نسبت کے اندر کبھی کبھار ابہام ہوتا ہے تو تمیز آ کر اس ابہام کو کیا کر دیتی ہے؟ دور کر دیتی ہے۔
یہ معنیٰ ہے، کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَقَعُ بَعْدَ الْجُمْلَةِ لِرَفْعِ الْإِبْهَامِ عَنْ نِسْبَتِهَا“، اور کبھی کبھار تمیز جملے کے بعد بھی واقع ہوتی ہے تاکہ اس کی نسبت کے اندر جو ابہام ہے اس کو دور کر دے، ”نَحْوُ: طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا، أَوْ عِلْمًا، أَوْ أَبًا“، یہ تین مثالیں ہیں دراصل، ایک ہے: ”طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا“، دوسری میں کچھ لفظ حذف کر دیے کیونکہ ماقبل میں ذکر تھے، أَيْ: ”طَابَ زَيْدٌ عِلْمًا“، اور تیسری مثال کیا ہے؟ ”طَابَ زَيْدٌ أَبًا“، وہی ”طَابَ زَيْدٌ“ سب کے ساتھ جوڑتے جائیں، تین مثالیں بن گئیں: پہلی کیا؟ ”طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا“، دوسری؟ ”طَابَ زَيْدٌ عِلْمًا“، اور تیسری؟ ”طَابَ زَيْدٌ أَبًا“، تو تین مثالیں ہیں۔ ”طَابَ يَطِيْبُ“ کے معنیٰ ہوتے ہیں خوش ہونے کے، ”طَابَ زَيْدٌ“، زید خوش ہوا، بھئی کس اعتبار سے خوش ہوا؟ ابہام تھا، ”نَفْسًا“ نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا کہ زید اپنی ذات کے اعتبار سے خوش ہوا، ”طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا“، زید خوش ہوا ”نَفْسًا“، ذات کے اعتبار سے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی زید کی ذات خوش ہوئی۔ یا اسی طرح ”طَابَ زَيْدٌ عِلْمًا“، زید خوش ہوا، بھئی کس اعتبار سے خوش ہوا؟ ”عِلْمًا“، اس تمیز نے آ کر ابہام کو دور کر دیا کہ زید اپنے علم کے اعتبار سے خوش ہوا یعنی اس پر خوش ہوا کہ اس کے پاس علم ہے، یا ”طَابَ زَيْدٌ أَبًا“، زید خوش ہوا، بھئی کس اعتبار سے خوش ہوا؟ ”أَبًا“ نے آ کر اس ابہام کو دور کر دیا کہ زید خوش ہوا باپ ہونے کے اعتبار سے، یعنی خوش ہوا کہ وہ باپ ہے، یا یہ معنیٰ خوش ہوا کہ اس کا باپ ہے یعنی زندہ ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دونوں معنیٰ کا اس میں احتمال ہے۔ تو زید خوش ہوا یعنی باپ ہونے کے اعتبار سے کہ وہ باپ ہے، تو دیکھا؟ اس نسبت میں ابہام تھا، تمیز نے آ کر کیا کیا؟ اس ابہام کو دور کر دیا بھئی۔
”طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا“، ”طَابَ“ ہے فعل، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً کیا ہے؟ جی، نہیں، ”طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا“، یہاں یاد رکھنا یہ ”زَيْدٌ“ اس کو ممیز نہ بنانا بھئی، اس میں نہیں ابہام، یہ تمیز نسبت سے ہے، نسبت سے ہے، ذات سے نہیں ہے، کسی نکرہ سے نہیں ہے، ماقبل میں، ماقبل میں وہ جو نکرہ ہوتا تھا اس میں ابہام ہوتا تھا، ”عِشْرُوْنَ“، کیا ہے ”عِشْرُوْنَ“؟ آگے ”دِرْهَمًا“ نے ابہام کو دور کیا۔ ”قَفِيْزَانِ“، کیا چیز ہے دو قفیز بھئی؟ ”بُرًّا“ نے آ کر کیا کیا؟ ابہام کو دور کیا۔ یا اسی طرح تھا ”خَاتَمٌ“، انگوٹھی، بھئی کس چیز کی انگوٹھی ہے؟ ”حَدِيْدًا“ نے آ کر کیا کیا؟ ابہام کو دور کیا۔ تو وہ ان چیزوں میں سے ابہام کو تمیز دور کر رہی تھی، یہاں زید کی ذات میں کوئی ابہام نہیں ہے بلکہ یہاں ”طَابَ“ خوش ہونے کی جو نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف، اس نسبت کے اندر ابہام ہے، تو یہ ”نَفْسًا“ کیا ہے؟ اس سے تمیز ہے بھئی، تو یہ نسبت سے تمیز ہے، تو ”طَابَ“ فعل ہے، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل ہے، اور ”نَفْسًا“ منصوب لفظاً یہ تمیز ہے، کس سے؟ جو ”طَابَ“ کی نسبت ہو رہی ہے زید کی طرف اس نسبت سے یہ تمیز ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو فعل اپنے فاعل اور تمیز سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ یا اسی طرح ”طَابَ زَيْدٌ عِلْمًا“، ”طَابَ“ فعل، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل، اور ”عِلْمًا“ نسبت سے تمیز، فعل اپنے فاعل اور تمیز سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، یا ”طَابَ زَيْدٌ أَبًا“، فعل اپنے فاعل اور تمیز سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ باقی زیادہ تفصیل ان شاء اللہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے، تمیز کی بحث ذرا مشکل ہے لیکن بہرحال یہاں اتنا ہی سمجھ لیں، اتنا ہی یاد رکھیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔