Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-061

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 63
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَقَدْ يَكُونُ الْفَاعِلُ مَعْنَوِيًّا نَحْوُ: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“؛ لِأَنَّ مَعْنَاهُ: ”زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، وَكَذَا الْمَفْعُولُ بِهِ نَحْوُ: ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“؛ فَإِنَّ مَعْنَاهُ: ”الْمُشَارُ إِلَيْهِ قَائِمًا هُوَ زَيْدٌ“. گذشتہ سبق میں ہم نے حال کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ آپ نے پڑھا کہ حال بھی منصوبات میں سے ہے، لہٰذا جب کسی لفظ کے بارے میں آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ حال بن رہا ہے تو ساتھ ہی اس کا اعراب بھی آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اس پر کیا پڑھنا ہے؟ نصب پڑھنا ہے بھئی۔ اور حال کسے کہتے ہیں؟ صاحبِ ہدایت النحو نے آپ کو بتایا کہ حال وہ لفظ ہے جو فاعل یا مفعول بہ یا دونوں کی حالت بیان کرے، یعنی آسان لفظوں میں یوں کہو کہ صاحبِ ہدایت النحو کے نزدیک ذوالحال کا فاعل یا مفعول بہ ہونا ضروری ہے، کیونکہ حال کی کیا تعریف کی کہ فاعل یا مفعول بہ کی حالت بیان کرتا ہے اور جس کی حالت بیان کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذوالحال۔ معلوم ہوا ذوالحال ہمیشہ کیا ہوگا؟ یا فاعل ہوگا یا مفعول بہ ہوگا۔ جیسے گذشتہ مثالوں میں آپ نے دیکھا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ رَاكِبًا“، یہ ”زَيْدٌ“ کیا تھا؟ فاعل تھا ”جَاءَ“ کے لیے، اور ”ضَرَبْتُ زَيْدًا مَشْدُودًا“، یہ زید کیا تھا یہاں پر؟ مفعول بہ تھا بھئی، اور ”لَقِيتُ عَمْرًا رَاكِبَيْنِ“، یہاں ”رَاكِبَيْنِ“ فاعل اور مفعول دونوں سے حال بن رہا ہے۔ تو دیکھا معلوم ہوا ذوالحال ہمیشہ کیا ہوگا؟ یا فاعل ہوگا یا مفعول بہ ہوگا۔ یاد رکھیے یہ مذہب ہے صاحبِ کافیہ علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ کا بھی اور اسی طرح صاحبِ ہدایت النحو وغیرہ نحوی حضرات کا، تو یہ بعض نحوی حضرات یہ کہتے ہیں کہ حال ہمیشہ فاعل یا مفعول بہ سے آئے گا، یعنی ذوالحال ہمیشہ کون ہوگا؟ یا فاعل ہوگا یا مفعول بہ ہوگا۔ لیکن ان کے مذہب پر اشکال ہوتا ہے کہ بہت سی جگہ پر حال آتا ہے ایک ایسی چیز سے جو نہ فاعل ہوتی ہے نہ مفعول بہ ہوتی ہے، جیسے: ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہاں دیکھیے: ”هٰذَا زَيْدٌ“ یہ زید ہے ”قَائِمًا“ اس حال میں کہ یہ کھڑا ہے۔ اب دیکھیے ”هٰذَا“ ہے مبتدا، ”زَيْدٌ“ ہے اس کی خبر، ترکیب پر نظر ہے؟ ”هٰذَا زَيْدٌ“ یہ زید ہے، تو ”هٰذَا“ ہے مبتدا اور ”زَيْدٌ“ ہے خبر، اسی لیے مرفوع ہے لفظاً، اور ”قَائِمًا“ اس زید سے حال بن رہا ہے، تو گویا دیکھو یہ حال ”قَائِمًا“ کس سے بنا؟ خبر سے، زید سے جو کہ خبر ہے۔ حالانکہ انہوں نے ہمیں کیا بتایا تھا کہ حال تو صرف کس سے آئے گا؟ یا فاعل سے آئے گا یا مفعول بہ سے، اور اس جملے کے اندر تو یہ خبر سے حال آ گیا، تو آپ کی بات تو درست نہ رہی۔ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہ زید اگرچہ لفظوں کے اعتبار سے خبر ہے لیکن یہ معنیٰ کے اعتبار سے مفعول بہ ہے۔ کس اعتبار سے؟ معنیٰ کے اعتبار سے مفعول بہ ہے، کیونکہ جب آپ نے کہا ”هٰذَا“ یہ، تو گویا آپ اشارہ کر رہے ہیں اور گویا فعل یہاں آ گیا اور وہ کیا؟ ”أُشِيرُ“ میں اشارہ کر رہا ہوں، یا ”أُنَبِّهُ“ میں متنبہ کر رہا ہوں آپ کو، کس پر؟ ”زَيْدًا“ زید پر، ”أُشِيرُ زَيْدًا“ میں کس کی طرف اشارہ کر رہا ہوں؟ زید کی طرف، تو ”هٰذَا“ کے ذریعے اشارہ ہوا اور آپ ہیں اشارہ کرنے والے جو بات کر رہے ہیں، اور اشارہ کیا کس کی طرف؟ زید کی طرف، تو زید کیا بن گیا؟ مفعول بہ بن گیا۔ تو وہ کہتے ہیں دیکھا، زید لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ خبر ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے مفعول بہ ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، کس کی بات چل رہی ہے؟ زید کی، زید یہاں خبر ہے اور اس سے کیا حال آ رہا ہے؟ ”قَائِمًا“، تو اشکال ہوا کہ اے صاحبِ کافیہ! اے صاحبِ ہدایت النحو! آپ نے تو ہمیں بتایا حال کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل کی یا مفعول بہ کی، اور یہ ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، اس میں زید سے حال آ رہا ہے اور زید ترکیب میں اس وقت نہ فاعل بن رہا ہے اور نہ مفعول بہ بن رہا ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہ لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ ٹھیک ہے نہ فاعل ہے نہ مفعول بہ ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ مفعول بہ ہے۔ کیونکہ جب آپ نے کہا ”هٰذَا“ تو گویا آپ اشارہ کر رہے ہیں اور یوں کہہ رہے ہیں: ”أُشِيرُ زَيْدًا“ میں کس کی طرف اشارہ کر رہا ہوں؟ زید کی طرف، تو معنیٰ کے اعتبار سے دیکھو یہاں ”أُشِيرُ“ فعل موجود ہے اور اس کے اعتبار سے زید کیا ہے؟ مفعول بہ ہے، اور اس سے آگے ”قَائِمًا“ حال آیا، تو حال مفعول بہ سے آیا، کسی اور چیز سے نہیں آیا، جواب سمجھ میں آیا؟ گویا وہ کہنا یہ چاہتے ہیں صاحبِ کافیہ اور صاحبِ ہدایت النحو کہ حال ہمیشہ فاعل یا مفعول بہ کی حالت بیان کرے گا لیکن وہ فاعل یا مفعول بہ لفظوں کے اعتبار سے ہونا ضروری نہیں، بعض اوقات معنیٰ کے اعتبار سے بھی وہ فاعل یا مفعول بہ ہوں گے، لفظوں کے اعتبار سے بے شک نہ ہوں لیکن کس اعتبار سے مفعول بہ ہوں گے؟ معنیٰ کے اعتبار سے، یا فاعل ہوں گے کس اعتبار سے؟ معنیٰ کے اعتبار سے، جیسے ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، لفظوں کے اعتبار سے زید خبر ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے کیا ہے یہ؟ مفعول بہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ صاحبِ کافیہ اور صاحبِ ہدایت النحو فرماتے ہیں کہ حال صرف اور صرف فاعل کی حالت بیان کرتا ہے یا مفعول بہ کی حالت بیان کرتا ہے، چاہے وہ فاعل یا مفعول بہ لفظوں کے اعتبار سے ہوں چاہے وہ معنیٰ کے اعتبار سے ہوں، لیکن ہوں گے فاعل یا مفعول بہ ہی، انہی کی یہ حالت بیان کرے گا حال۔ جبکہ دیگر بعض بڑے نحوی حضرات جیسے ابن مالک رحمہ اللہ اور بڑے بڑے نحوی حضرات ہیں وہ فرماتے ہیں نہیں، حال فاعل یا مفعول بہ سے آنا ضروری نہیں بلکہ حال مطلقاً حالت بیان کرنے کے لیے آتا ہے اور وہ کسی چیز کی بھی حالت ہو سکتی ہے۔ تو ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہاں زید بے شک خبر ہے لیکن اس سے حال آ سکتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک حال فاعل یا مفعول بہ سے آنا ضروری نہیں بلکہ مطلقاً کسی بھی چیز کی حالت بیان کرنے کے لیے حال آ سکتا ہے، لہٰذا ان کے نزدیک کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، صاحبِ ہدایت النحو پر اشکال ہوتا ہے کہ ”هٰذَا زَيْدٌ“ میں ”زَيْدٌ“ تو کیا ہے؟ خبر ہے، اس سے حال کیسے آیا؟ آپ نے تو ہمیں کہا تھا یہ صرف فاعل سے حال آتا ہے یا مفعول بہ سے۔ ان پر اشکال ہوتا ہے اور پھر وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ معنیٰ کے اعتبار سے مفعول بہ ہے، جبکہ ابن مالک رحمہ اللہ وغیرہ اور بڑے جو نحوی حضرات ہیں وہ فرماتے ہیں کہ نہیں، کسی تاویل کی ضرورت نہیں، فاعل یا مفعول بہ سے نہیں آتا بلکہ حال مطلقاً کسی بھی چیز کی حالت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، تو ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، تو زید بھی کیا ہے؟ خبر ہے اور اس سے کیا آ گیا؟ حال آ گیا، کوئی اشکال ہی نہیں، کیونکہ انہوں نے کہا ہی نہیں کہ فاعل یا مفعول بہ ہونا ضروری ہے، تو ان کے نزدیک اس میں کسی تاویل وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ صاحبِ کافیہ اور علامہ ابن حاجب کو بعض اوقات تاویل کرنا پڑتی ہے کسی چیز کو فاعل یا مفعول بہ بنانے کے لیے تاکہ اس سے آگے حال کا آنا صحیح ہو جائے، تاویل کرنا پڑتی ہے۔ یہی بات آگے اب صاحبِ ہدایت النحو بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَكُونُ الْفَاعِلُ مَعْنَوِيًّا“، اور کبھی کبھار فاعل جو ہوتا ہے معنوی ہوتا ہے، یعنی معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہوتا ہے، لفظوں کے اعتبار سے فاعل نہیں ہوتا۔ ”نَحْوُ: زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، اب دیکھیے: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، ”زَيْدٌ“ ہے مبتدا، ”فِي الدَّارِ“ ہے اس کی خبر، اور ”قَائِمًا“ یہ حال ہے زید سے۔ ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“ زید گھر میں ہے اس حال میں کہ کھڑا ہے، یا یوں کہو زید گھر میں کھڑا ہے۔ اب یہاں اشکال ہوتا ہے: اے صاحبِ ہدایت النحو! یہ زید سے حال کیسے آ گیا ”قَائِمًا“، زید تو مبتدا ہے؟ تو وہ جواب دے رہے ہیں: ”وَقَدْ يَكُونُ الْفَاعِلُ مَعْنَوِيًّا“ کہ فاعل کبھی کبھار معنوی یعنی معنیٰ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ زید اگرچہ یہاں مبتدا ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ فاعل ہے۔ بھئی کس طرح فاعل ہے؟ کہتے ہیں دیکھیے، ترکیب یاد ہے بھول گئے جار مجرور کی؟ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”فِي“ جارہ، ”الدَّارِ“ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے؟ اچھا، آپ کہہ رہے ہیں جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”قَائِمًا“ سے، ٹھیک ہے کیونکہ آپ نے پڑھا ہے جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک چیز سے ضرور متعلق ہوتا ہے، ان آٹھ میں سے ایک کیا ہے؟ اسمِ فاعل بھی ہے، لیکن پھر آپ اس طرح کریں گے تو پھر پھنس جائیں گے بھئی، کیوں؟ ٹھیک ہے ”فِي الدَّارِ“ تو متعلق ہو گیا ”قَائِمًا“ سے، سوال پیدا ہوگا یہ ”قَائِمًا“ کیوں منصوب ہے؟ آپ کہیں گے یہ حال ہے، اچھا ٹھیک ہے گویا ”فِي الدَّارِ“ کا تعلق حال سے ہے، یعنی حال کا جزء ہے، جس سے جڑ گیا نا اسی کا جزء بن گیا، تو گویا ”فِي الدَّارِ قَائِمًا“ یہ سارا حال ہے، تو خبر کدھر گئی؟ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ لہٰذا ”فِي الدَّارِ“ کو ”قَائِمًا“ سے نہیں جوڑیں گے، اگر آپ نے اس سے جوڑ دیا پھر تو صرف ”زَيْدٌ“ مبتدا آ رہا ہے خبر ہے ہی کوئی نہیں، بات پوری ہی نہیں حالانکہ یہ تو پورا کلام ہے، مبتدا اور خبر ہوں گے تو بات پوری ہوگی، ان کے بغیر بات پوری ہی نہیں، یہ ”قَائِمًا“ بے شک نہ ہو لیکن ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“ ضرور ہونا چاہیے، یعنی مبتدا اور خبر ہونے چاہئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ ہمیں ضرور چاہیے، کلام پھر ہی پورا ہوگا اس کے بغیر کلام پورا ہی نہیں ہوتا، لہٰذا ”فِي الدَّارِ“ کو خبر ہی بنانا پڑے گا، اور جب خبر بنا رہے ہیں کس کو بنا رہے ہیں؟ ”فِي الدَّارِ“ کو، اور ”قَائِمًا“ کو کیا بنا رہے ہیں؟ حال۔ تو حال کو الگ رکھو وہ الگ چیز ہے، یہ صرف ”فِي الدَّارِ“ کو اب دیکھو۔ ”زَيْدٌ“ ہوا مبتدا، ”قَائِمًا“ ہوا حال، اور درمیان میں ”فِي الدَّارِ“ کیا ہے؟ خبر۔ اس خبر میں اس کے ساتھ کوئی فعل ہے؟ نہیں، اس میں فاعل بھی نہیں، اس میں مفعول، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل، مبالغے کا صیغہ یا مصدر کوئی بھی چیز نہیں ہے حالانکہ جار مجرور نے تو آٹھ چیزوں میں سے ایک سے ضرور جڑنا تھا، تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالیں گے، اور محذوف کیا نکال سکتے ہیں؟ ”ثَبَتَ“ بھی نکال سکتے ہیں اور ”ثَابِتٌ“ بھی نکال سکتے ہیں، صفت کا صیغہ بھی نکال سکتے ہیں اور فعل بھی نکال سکتے ہیں۔ صفت کا صیغہ نکالیں گے تو شبہ جملہ بنے گا اور فعل نکالیں گے تو جملہ بنے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب کیجیے ترکیب: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”فِي“ جارہ، ”الدَّارِ“ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ”ثَبَتَ“ فعل سے، ”ثَبَتَ“ فعل اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ جو زید کو راجع، یہ عائد آ گیا۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر، ہاں آگے ”قَائِمًا“ بھی ہے بھئی۔ تو لہٰذا ”ثَبَتَ“ کے اندر جو ”هُوَ“ ضمیر تھی وہ ”ثَبَتَ“ کے لیے فاعل ہے اور وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو۔ توجہ ہے؟ ”ثَبَتَ“ کے اندر ضمیر ہے ”هُوَ“ کی، ثابت ہے ”فِي الدَّارِ“ گھر میں، یعنی گھر میں ہے۔ میں نے آپ کو بتایا تھا نا: ثبوت، وجود، حصول سب کا کیا معنی ہے؟ ہونا۔ تو ”ثَبَتَ فِي الدَّارِ“ یعنی گھر میں ہے۔ گھر میں ثابت ہے یوں نہ کہو، یہ ثابت اردو میں نہیں استعمال اس طرح ہوتا، ویسے سمجھانے کے لیے بے شک آپ بول لیں لیکن با محاورہ یوں کہیں گھر میں ہے یا گھر میں موجود ہے، جو بھی آپ کر لیں لیکن ثابت عموماً استعمال نہیں ہوتا، تو بے شک آپ کہہ بھی لیں حرج بھی کوئی نہیں۔ گھر میں ہے، کون ہے؟ یہ ”هُوَ“ کس کو لوٹ رہی تھی؟ زید کو، معلوم ہوا گھر میں کون ہے؟ زید۔ تو زید اس وقت اگرچہ مبتدا ہے لیکن ”ثَبَتَ هُوَ“، ثابت ہے کون؟ زید، ”هُوَ“ سے مراد زید ہی ہے تو گویا زید معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے۔ توجہ ہے؟ فاعل تو اس وقت ”هُوَ“ ضمیر ہے، زید کا لفظ تو فاعل نہیں، زید کا لفظ تو مبتدا ہے لیکن یہ ”هُوَ“ زید ہی کو لوٹ رہی ہے تو معلوم ہوا ثابت کون ہے؟ زید ہی ہے، تو گویا یہی ”ثَبَتَ“ کا فاعل ہے تو گویا یہ معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے۔ توجہ ہے؟ اشکال کیا ہوا تھا کہ یہ زید سے حال آ رہا ہے اور زید تو مبتدا ہے، تو جواب کیا کہ معنیٰ کے اعتبار سے کیا ہے زید؟ فاعل۔ کس طرح معنیٰ کے اعتبار سے فاعل کس طرح ہے؟ کیونکہ ”ثَبَتَ فِي الدَّارِ“ اور ”ثَبَتَ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر، اور ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو، تو ”هُوَ“ ضمیر تو ہے فاعل اور اس ”هُوَ“ سے کون مراد؟ زید ہی تو مراد ہے، تو گویا زید ہی معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ لہٰذا اب پوری ترکیب کریں بھئی، پوری ترکیب کس طرح ہوگی؟ ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”فِي“ جارہ، ”الدَّارِ“ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ”ثَبَتَ“ فعل کے ساتھ، ”ثَبَتَ“ فعل اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے اور یہ ہے ذوالحال، یہ ”هُوَ“ ضمیر کیا ہے؟ ذوالحال، اور ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ذوالحال کو، حال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ ذوالحال سے، تو ”هُوَ“ ضمیر راجع ہے ذوالحال کو، اور ذوالحال کون تھا؟ وہ جو ”ثَبَتَ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر تھی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، اور ”ثَبَتَ“ کے اندر جو ”هُوَ“ ضمیر وہ ذوالحال تھی، تو وہ اپنے حال سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ”ثَبَتَ“ فعل کے لیے۔ ”ثَبَتَ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق یعنی جار مجرور سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ زید گھر میں ہے اس حال میں کہ وہ کھڑا ہے۔ ”لِأَنَّ مَعْنَاهُ: زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، اس لیے کیونکہ اس کلام کا معنی یہ ہے: ”زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ“. بھئی ہم نے ”ثَبَتَ“ فعل نکالا، میں نے بتایا تھا افعالِ عامہ چار ہیں: ثبوت، وجود، حصول اور کون۔ ثبوت سے فعل آتا ہے ”ثَبَتَ“، وجود سے ”وُجِدَ“، حصول سے ”حَصَلَ“، اور کون سے ”كَانَ“، اور ان سب کا معنی ہے ہونا۔ میں نے بتایا تھا آپ کو کہ ان سے صفت کا صیغہ بھی آپ نکال سکتے ہیں اور فعل بھی: ثبوت سے ”ثَبَتَ“ فعل بھی نکال سکتے ہیں اور ”ثَابِتٌ“ بھی، وجود سے ”وُجِدَ“ فعلِ مجہول بھی نکال سکتے ہو اور اسمِ مفعول ”مَوْجُودٌ“ بھی نکال سکتے ہو، حصول سے ”حَصَلَ“ فعل بھی نکال سکتے ہو اور ”حَاصِلٌ“ اسمِ فاعل بھی، اور کون سے ”كَانَ“ اور ”كَائِنٌ“، سب کا معنی ایک ہی ہے۔ یہ زیادہ تر عام استعمال ہوتے ہیں، اور اسی طرح ایک اور ہے لفظِ ”اسْتَقَرَّ“، اور یہ بھی کس میں سے ہے؟ افعالِ عامہ میں سے، اس کا معنی بھی ہونا، قرار پکڑنا یعنی ہونا۔ انہوں نے دیکھا کہ لفظِ ”اسْتَقَرَّ“ ذکر کر دیا: ”زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، ”اسْتَقَرَّ“ اور ”ثَبَتَ“ کا ایک معنی ہے۔ ہم نے کیا ترکیب کی: ”زَيْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، اور انہوں نے کیا ذکر کر دیا: ”زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“. کیسے پڑھیں گے؟ ”زَيْدٌ“ تو اس کے آخر میں تنوین ہے اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا، اور آگے ہے ”اسْتَقَرَّ“ فعل، اور ”اسْتَقَرَّ“ فعل ہے یہ ثلاثی مزید فیہ میں سے، اس کا ہمزہ وصلی ہے، یہ ہمزہ گر جائے گا تو آگے سین ساکن ہے۔ ”اسْتَقَرَّ“ کا ہمزہ گر گیا آگے سین کیا ہے؟ ساکن، اور ماقبل میں ”زَيْدٌ“ تنوین کا نون ساکن ہے، تو نون اور سین دونوں ساکن اکٹھے ہو گئے، تو جب دو ساکن ہوں تو پہلے کو کون سی حرکت دیتے ہیں؟ کسرہ کی۔ ”السَّاكِنُ إِذَا احْتَاجَ إِلَى التَّحْرِيكِ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، تو ان میں سے پہلے کو نون کو کسرہ والی حرکت دے دی تو کیا بن گیا: ”زَيْدُ نِاسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“. تو لہٰذا جب دو ساکن جمع ہو جائیں، اگر ان میں پہلا حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، اور اگر اول حرفِ مدہ نہ ہو تو پہلے کو کسرہ والی حرکت دیتے ہیں۔ بھئی جیسے چار پانچ سبق پہلے مثال آئی تھی: ”وَلَلْمُشَبَّهَتَيْنِ“، یہاں میں نے تفصیل بیان کی تھی: ”فَصْلٌ: اِسْمُ مَا وَلَا الْمُشَبَّهَتَيْنِ“، نکالیں بھئی جلدی یہ سبق: ”اِسْمُ مَا وَلَا الْمُشَبَّهَتَيْنِ“، جہاں منصوبات شروع ہونے والے ہیں اس کے پاس ہے، مل گیا بھئی؟ ”اِسْمُ مَا وَلَا الْمُشَبَّهَتَيْنِ“، یہاں تو میں نے بتایا تھا: ”اِسْمُ مَا وَلَا، اَلْمُشَبَّهَتَيْنِ“ ہے، ”لَا“ کے آخر میں کیا ہے؟ الف، اور ”اَلْمُشَبَّهَتَيْنِ“ کے شروع میں کیا ہے؟ الف لام، الف لام کا ہمزہ بھی وصلی وہ گر گیا، ”اَلْمُشَبَّهَتَيْنِ“ میں سے ہمزہ گر گیا تو آگے لام ساکن ہے، اور پیچھے کیا تھا؟ ”لَا“، ”لَا“ کا الف بھی ساکن، تو الف بھی ساکن آگے لام بھی ساکن، تو کیا بن گیا؟ ”لَالْمُشَبَّهَتَيْنِ“. پھر اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدہ آیا، تو پھر اول کو یا تو حرکت دیتے ہیں یا اول حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں۔ یہاں اول کیا تھا؟ الف، اور یہ الف حرفِ مدہ ہے اس سے پہلے زبر ہے، واؤ سے پہلے پیش ہو تو وہ واؤ حرفِ مدہ ہے، یا سے ماقبل کسرہ ہو تو وہ یا کیا ہے؟ حرفِ مدہ، تو لہٰذا وہ گر جاتے ہیں، تو یہاں پر بھی الف گر گیا اور کیسے پڑھیں گے؟ ”وَلَلْمُشَبَّهَتَيْنِ“، پہلے تو تھا نا ”لَالْمُشَبَّهَتَيْنِ“ الف بھی تھا، اب الف گر گیا کیسے پڑھیں گے؟ ”وَلَلْمُشَبَّهَتَيْنِ“. تو حرفِ مدہ کو گراتے ہیں اگر دو ساکن اکٹھے ہو جائیں اور ان میں سے پہلا کیا ہو؟ حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، اور اگر ان میں سے پہلا حرفِ مدہ نہیں ہے تو پھر پہلے کو کون سی حرکت دے دیتے ہیں؟ کسرہ والی جیسے ”زَيْدُ نِاسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“. چلیے اب آئیے سبق پر بھئی: ”زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، ترکیب اس کی بھی وہی ہوگی۔ ترکیب کیجیے: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”اسْتَقَرَّ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اور وہی کیا ہے؟ ذوالحال ہے۔ ”فِي“ جارہ، ”الدَّارِ“ مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ”اسْتَقَرَّ“ فعل کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ ”اسْتَقَرَّ“ کو ہم نے نکالا ہی اس لیے کہ ”فِي الدَّارِ“ جار مجرور نے جڑنا تھا کسی نہ کسی کے ساتھ اور یہاں پر کوئی بھی نہیں تو ہمیں کیا نکالنا پڑا؟ ”اسْتَقَرَّ“، چاہے ”اسْتَقَرَّ“ نکال لیں چاہے ”ثَبَتَ“ جیسے میں نے ذکر کیا تھا، بات ایک ہی ہے۔ آگے ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ جو ذوالحال ہے اس کو لوٹ رہی ہے ضمیر، اور وہ ذوالحال کون تھا؟ ”اسْتَقَرَّ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر تھی، تو اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر فاعل ہوا کس کے لیے؟ ”اسْتَقَرَّ“ کے لیے۔ ”اسْتَقَرَّ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق، کون ہے متعلق؟ ”فِي الدَّارِ“، ہاں تو یہ ”فِي الدَّارِ“ سے مل کر یہ جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ معنیٰ اس کا بھی وہی ہے: زید گھر میں کھڑا ہوا ہے یا زید گھر میں ہے اس حال میں کہ وہ کھڑا ہے۔ تو انہوں نے کیا بتلایا آپ کو؟ ”وَقَدْ يَكُونُ الْفَاعِلُ مَعْنَوِيًّا“، کبھی کبھار فاعل کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ معنیٰ کے اعتبار سے ہوتا ہے جیسے ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، اس میں یہ زید معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے ”لِأَنَّ مَعْنَاهُ: زَيْدٌ اسْتَقَرَّ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، اس لیے کیونکہ اس کا معنی کیا ہے؟ زید نے قرار پکڑا گھر میں اس حال میں کہ وہ کھڑا ہے، تو ”اسْتَقَرَّ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو، تو گویا زید ہی کیا ہے معنیٰ کے اعتبار سے؟ فاعل ہے۔ ”وَكَذَا الْمَفْعُولُ بِهِ“، اور اسی طرح مفعول بہ بھی ہے، یعنی کبھی کبھار معنیٰ کے اعتبار سے مفعول بہ ہوتا ہے، لفظوں کے اعتبار سے مفعول بہ نہیں ہوتا۔ ”نَحْوُ: هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ زید ہے اس حال میں کہ یہ کھڑا ہے۔ یہ پھر وہی اشکال کا جواب، اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں کیا کہا؟ حال کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل کی یا مفعول بہ کی، حالانکہ یہاں پر ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ ”قَائِمًا“ ”زَيْدٌ“ سے حال آ رہا ہے اور ”زَيْدٌ“ تو خبر ہے، نہ یہ فاعل ہے نہ یہ مفعول بہ ہے، اور آپ نے تو کیا کہا تھا؟ حال کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل یا مفعول بہ کی، اور یہ زید نہ فاعل ہے اور نہ مفعول بہ۔ تو اسی کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی جیسے کبھی کبھار فاعل معنیٰ کے اعتبار سے ہوتا ہے، اسی طرح کبھی کبھار مفعول بہ بھی معنیٰ کے اعتبار سے ہوتا ہے، یہاں یہ جو زید ہے یہ مفعول بہ ہے کیونکہ ”هٰذَا“ کا کیا معنی ہے؟ یہ، یعنی آپ اشارہ کر رہے ہیں، تو گویا یہ فعل موجود ہے یہاں پر: ”أُشِيرُ“ میں اشارہ کر رہا ہوں ”زَيْدًا“ کس کی طرف؟ زید کی طرف، تو دیکھو یہ مفعول بہ ہے معنیٰ کے اعتبار سے، لفظوں میں تو زید خبر ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے کیا ہے؟ مفعول بہ ہے۔ توجہ ہے؟ ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ زید لفظوں کے اعتبار سے خبر لیکن معنیٰ کے اعتبار سے مفعول بہ ہے بھئی۔ جی ترکیب کیجیے: ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ کس معنیٰ میں ہوا؟ ”أُشِيرُ زَيْدًا قَائِمًا“، ہاں اب اس کی ترکیب کیجیے: ”أُشِيرُ“ فعل با فاعل، میں اشارہ کر رہا ہوں، متکلم کا صیغہ ہے، ”أُشِيرُ“ فعل با فاعل، اس کے اندر ”أَنَا“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور لفظِ ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ ہے اور ذوالحال ہے، کیا ہے؟ ذوالحال ہے، تو پہلے حال کو جوڑ لیتے ہیں پھر اس کو مفعول بہ بنا لیں گے، ہے بہرحال یہ مفعول بہ، ہمارے ہاں ترکیب یوں کرتے ہیں: پہلے اس سے کس کو جوڑتے ہیں؟ حال کو، پھر جا کر کہتے ہیں ذوالحال اپنے حال سے مل کر کیا ہوا؟ مفعول بہ ہوا۔ ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً ذوالحال، منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول بہ ہے بھئی۔ اچھا، آگے ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ حال ہے، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ذوالحال کو یعنی ”زَيْدًا“ کو۔ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر مفعول بہ، اور ”أُشِيرُ“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یہ ترکیب تھی کن کے مذہب پر؟ علامہ ابن حاجب جو صاحبِ کافیہ ہیں جنہوں نے کافیہ جیسی عظیم الشان کتاب لکھی اور اسی طرح صاحبِ ہدایت النحو وغیرہ نحویوں کا، جبکہ علامہ ابن مالک رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کسی تاویل کی ضرورت نہیں: ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، ”هٰذَا“ مبتدا، ”زَيْدٌ“ خبر اور یہ ذوالحال ہے، اور ”قَائِمًا“ اس سے کیا ہے؟ حال ہے، کوئی فاعل یا مفعول بنانے کی ضرورت نہیں۔ تو وہ فرماتے ہیں کوئی تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، حال مطلقاً حالت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، تو ان کے نزدیک ترکیب گویا یوں ہوئی: ”هٰذَا“ مبتدا، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً ذوالحال، اور اس سے ”قَائِمًا“ شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْمَفْعُولُ بِهِ“، اور اسی طرح مفعول بہ بھی بعض اوقات معنیٰ کے اعتبار سے ہوتا ہے: ”نَحْوُ: هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا، فَإِنَّ مَعْنَاهُ: الْمُشَارُ إِلَيْهِ قَائِمًا هُوَ زَيْدٌ“، اس لیے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے: ”هٰذَا زَيْدٌ قَائِمًا“، اس کا معنی کیا ہے؟ ”الْمُشَارُ إِلَيْهِ“ وہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ”قَائِمًا“ اس حال میں کہ وہ کھڑا ہے ”هُوَ زَيْدٌ“ وہ کون ہے؟ زید۔ اور اوپر نون لکھا ہوا ہے اس پوری عبارت پر، لمبا سا نون لکھا ہوا ہے، یہ نون عبارت ہے نسخے سے۔ بعض ہدایت النحو کے نسخوں میں یہ عبارت ہے: ”الْمُشَارُ إِلَيْهِ قَائِمًا هُوَ زَيْدٌ“، اور بعض نسخوں میں یہ عبارت ہے جو کنارے پر دی ہوئی ہے: ”أُشِيرُ وَأُنَبِّهُ زَيْدًا قَائِمًا“، وہی جو ابھی ہم نے ترکیب کی تھی، کنارے پر ملی کہ نہیں بھئی؟ بھئی اندر کی طرف جہاں جس طرف کتاب کی سلائی ہوئی ہے نا اس طرف اندر کی طرف آپ کنارے پر دیکھیں آپ کو یہ عبارت مل جائے گی، مل گئی بھئی؟ ”أُشِيرُ وَأُنَبِّهُ زَيْدًا قَائِمًا“، تو بعض نسخوں میں یہ عبارت ہے اور بعض نسخوں میں ”الْمُشَارُ إِلَيْهِ قَائِمًا هُوَ زَيْدٌ“ والی عبارت ہے بھئی، اور ہم نے بھی ابھی ترکیب کر لی، کون سی کی؟ ”أُشِيرُ زَيْدًا قَائِمًا“، چاہے آپ کر لیں ”أُنَبِّهُ زَيْدًا قَائِمًا“ بعینہٖ وہی ترکیب ہوگی۔ ”وَالْعَامِلُ فِي الْحَالِ فِعْلٌ أَوْ مَعْنَى فِعْلٍ“، یہاں سے اب یہ بیان کر رہے ہیں کہ حال کے اندر عامل کون ہوتا ہے؟ توجہ ہے؟ یہ تو انہوں نے آپ کو بتا دیا کہ حال کس کی حالت بیان کرے گا؟ فاعل کی یا مفعول کی، لیکن حال پر خود بھی تو نصب آ رہا ہے اور نصب تو بغیر وجہ کے نہیں آتا، تو یہ کس کی وجہ سے نصب آیا؟ ٹھیک ہے یہ حالت تو فاعل کی بیان کر رہا ہے، یہ حالت کس کی بیان کر رہا ہے؟ مفعول بہ کی، حالت تو ان کی بیان کر رہا ہے یہ بات تو ہمیں تسلیم ہے لیکن خود اس پہ جو نصب آیا وہ نصب کس عامل کی وجہ سے آیا؟ تو جواب دے رہے ہیں آپ کو بتلا رہے ہیں کہ حال میں جو عمل کرنے والی چیز ہوتی ہے وہ فعل ہوتا ہے، یا معنیٰ فعل ہوتا ہے، فعل ہوتا ہے یا معنیٰ فعل۔ معنیٰ فعل سے کیا مراد ہے؟ وہ جو کئی چیزیں میں نے ذکر کی تھیں: اسمِ فاعل ہے، اسمِ مفعول ہے، صفتِ مشبہ ہے، اسمِ تفضیل ہے، مبالغے کے صیغے وغیرہ، یہ سارے بھی کس معنیٰ میں ہوتے ہیں؟ فعل کے معنیٰ میں ہی ہوتے ہیں، فعل جیسا ہی یہ سارے عمل کرتے ہیں، تو حال کے اندر عامل فعل بھی ہو سکتا ہے اور معنیٰ فعل یعنی اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، اس ”قَائِمًا“ کے اندر اس کو نصب کس نے دیا؟ اس میں عامل کون ہے؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ کون سا فعل؟ ”ثَبَتَ“، جو یہاں پر کیا ہے ”ثَبَتَ“، یا جو صاحبِ کتاب نے نکالا ”اسْتَقَرَّ“، جو بھی ذکر کر دیں، آپ کہہ دیں اس میں ”ثَبَتَ“ عامل ہے یا کیا کہہ دیں ”اسْتَقَرَّ“، یا صفت کا صیغہ اسمِ فاعل بتا دیں اس میں ”ثَابِتٌ“ عامل ہے، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ بلکہ آپ کو اور گہرائی میں لے جاؤں، یاد رکھو ابھی میں نے آپ کو کیا بتایا: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا“، اس ”قَائِمًا“ میں کون عامل؟ ”ثَبَتَ“ فعل، یا ”ثَابِتٌ“ ہے، یا ”اسْتَقَرَّ“، جو بھی اس جیسا لفظ نکال لیں وہ عامل ہے۔ لیکن گہرائی میں لے جاؤں آپ کو، یاد رکھو یہاں کوئی ”ثَبَتَ“ نہیں ہے، یہاں کوئی ”ثَابِتٌ“ نہیں ہے، ”ثَبَتَ“ تھا ختم ہو چکا اس کی جگہ ”فِي الدَّارِ“ نے پکڑ لی۔ آپ کو میں نے بتایا تھا جار مجرور جو ہیں ان کے لیے ہمیشہ متعلق چاہیے، اور وہ متعلق آٹھ چیزوں میں سے ایک ہوگا، اگر وہ کلام میں موجود ہو تو یہ اس سے جڑ جائیں گے اور اس صورت میں ان کو ظرفِ لغو کہتے ہیں جب ان کا متعلق عبارت میں ذکر ہو، اور جب ان کا متعلق عبارت سے محذوف ہو تو پھر ان کو ظرفِ مستقر کہتے ہیں۔ اور کیوں کہتے ہیں؟ کہ اس نے اس کی جگہ پر قرار پکڑا ہوا ہے، تو اصل میں یہ ظرفِ مستقِر ہونا چاہیے بھئی، ظرفِ مستقر وہ ظرف جس نے قرار پکڑا ہوا ہے اس کی جگہ پر۔ لہٰذا جو بھی عمل پہلے ”ثَبَتَ“ یا ”ثَابِتٌ“ کر رہا تھا اب یہ سارے عمل ”فِي الدَّارِ“ کر رہا ہے، ”ثَبَتَ“ چلا گیا اور ”فِي الدَّارِ“ نے اس کی جگہ لے لی، اور وہ سارے عمل جو ”ثَبَتَ“ کر رہا تھا اب کون کر رہا ہے؟ ”فِي الدَّارِ“ کر رہا ہے، اسی لیے اس کو ظرفِ مستقر کہتے ہیں۔ اور ”ثَبَتَ“ کیا کیا عمل کر رہا تھا؟ وہ ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر تھی اس کو بھی رفع دے رہا تھا، وہ ”هُوَ“ ضمیر بھی اب ”فِي الدَّارِ“ میں چھپ گئی، اور اس کو رفع اب یہ ”فِي الدَّارِ“ دے رہا ہے یہ ظرفِ مستقر۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ویسے آپ کو بتلا رہا ہوں اگر کبھی آپ کے ذہن میں رہے کہ وہ ”فِي الدَّارِ“ یہ ظرفِ مستقر ہے، یہ اس کی جگہ لے چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی: ”وَالْعَامِلُ فِي الْحَالِ فِعْلٌ أَوْ مَعْنَى فِعْلٍ“، اور عامل جو ہوتا ہے حال کے اندر وہ فعل ہوتا ہے ”أَوْ مَعْنَى فِعْلٍ“ یا معنیٰ فعل ہوتا ہے، معنیٰ فعل سے کیا مراد ہے میں نے آپ کو بتلا دیا: اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل، مبالغے کے صیغے وغیرہ بھئی، تو وہ مراد ہیں بھئی۔ ”وَالْحَالُ نَكِرَةٌ أَبَدًا وَذُو الْحَالِ مَعْرِفَةٌ غَالِبًا“، اور حال جو ہوتا ہے وہ نکرہ ہوتا ہے ابداً یعنی ہمیشہ، اور ذوالحال جو ہوتا ہے وہ معرفہ ہوتا ہے غالباً یعنی اکثر اوقات۔ تو حال ہمیشہ نکرہ ہوتا ہے، جیسے ان مثالوں میں ”قَائِمًا“ کا لفظ آیا تھا یہ نکرہ تھا، اور اگر کبھی کبھار لفظوں کے اعتبار سے حال معرفہ نظر بھی آئے تو اس کو بھی تاویل کر کے نکرہ بنا لیا جاتا ہے۔ جیسے کل میں نے مثال ذکر کی تھی: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَحْدَهُ“، یہ ”وَحْدَهُ“ یہ مضاف اور مضاف الیہ ہیں اور یہ حال ہے، اور ضمیر کی طرف جو چیز مضاف ہو جائے وہ بھی معرفہ بن جاتی ہے، تو ”وَحْدَ“ کا لفظ کیا بن گیا؟ معرفہ، تو حال معرفہ بن گیا حالانکہ حال تو کیا ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے، تو لہٰذا اس کو تاویل کر کے اب ہم کیا بنائیں گے؟ ”مُنْفَرِدًا“ کے معنیٰ میں ہے ہم کہیں گے، تو نکرہ بنا لیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَالُ نَكِرَةٌ أَبَدًا وَذُو الْحَالِ مَعْرِفَةٌ غَالِبًا“، اور حال جو ہے ہمیشہ نکرہ ہوتا ہے اور ذوالحال معرفہ ہوتا ہے غالباً، ”كَمَا رَأَيْتَ فِي الْأَمْثِلَةِ الْمَذْكُورَةِ“، جیسا کہ آپ نے دیکھا مذکورہ مثالوں میں۔ ”فَإِنْ كَانَ ذُو الْحَالِ نَكِرَةً يَجِبُ تَقْدِيمُ الْحَالِ عَلَيْهِ“، لیکن کبھی کبھار جو ہے ذوالحال نکرہ آ جاتا ہے، اور یاد رکھو یہ آگے آپ کو بتائیں گے جب ذوالحال نکرہ آئے تو حال کو اس پر مقدم کرنا واجب ہے۔ ”جَاءَ زَيْدٌ رَاكِبًا“، ”زَيْدٌ“ ذوالحال اور ”رَاكِبًا“ اس سے حال، یہاں پر ذوالحال معرفہ ہے، اگر ذوالحال نکرہ ہو تو پھر حال کو مقدم کریں گے، مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: ”جَاءَ رَجُلٌ رَاكِبًا“، ”رَجُلٌ“ ہے ذوالحال اور ”رَاكِبًا“ کیا ہے اس سے حال، تو ذوالحال کون ہے؟ ”رَجُلٌ“، اور وہ نکرہ ہے، اور جب ذوالحال نکرہ ہو تو حال کو مقدم کرنا واجب، لہٰذا یوں کہوں گا: ”جَاءَ رَاكِبًا رَجُلٌ“. طریقہ سمجھ میں آیا؟ ”جَاءَ رَاكِبًا رَجُلٌ“، ترکیب اسی طرح ہوگی: ”جَاءَ“ فعل، ”رَاكِبًا“ کو بھی چھوڑ دیں، آگے ”رَجُلٌ“ مرفوع لفظاً فاعل ہے نا؟ ذوالحال ہوا، اب پھر ”رَاكِبًا“ پہ آ جائیں: ”رَاكِبًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ذوالحال کو، ذوالحال کون ہے؟ ”رَجُلٌ“. سوال: ضمیر پہلے آ گئی اور مرجع بعد میں آ رہا ہے، کیا جواب دیں گے؟ کہ لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ ”رَجُلٌ“ مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے کیا ہے؟ مقدم ہے، تو یہ اضمار قبل الذکر لفظاً تو ہے لیکن رتبۃً نہیں ہے، رتبے کے اعتبار سے نہیں اور یہ جائز ہے بھئی۔ ترکیب آ گئی؟ سوال پیدا ہوتا ہے: ”جَاءَ رَاكِبًا رَجُلٌ“، یہ ذوالحال پر حال کو مقدم کرنے کی شرط کیوں لگائی گئی جبکہ ذوالحال نکرہ ہو؟ سوال سمجھ میں آیا؟ کیوں مقدم کیا جاتا ہے ذوالحال پر حال کو جب وہ نکرہ ہو؟ کون جب نکرہ ہو؟ ذوالحال، میں کہہ رہا ہوں نا توجہ نہیں ہے سبق کی طرف۔ انہوں نے کیا قید لگائی؟ کہ جب ذوالحال نکرہ ہو تو پھر اس پر حال کو مقدم کرنا واجب۔ سوال یہ کہ یہ ذوالحال پر حال کو مقدم کرنا کیوں واجب ہوتا ہے جس وقت ذوالحال نکرہ ہو؟ تو وجہ اس کی یہ کہ حالتِ نصبی میں موصوف صفت کا شبہ پڑتا ہے، موصوف صفت معلوم ہوتے ہیں اگر آپ مقدم نہیں کریں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”رَأَيْتُ رَجُلًا رَاكِبًا“، میں نے ایک آدمی کو دیکھا ”رَاكِبًا“ اس حال میں کہ وہ سوار ہے، اب یہ ”رَاكِبًا“ کو میں حال بنانا چاہتا ہوں کس سے؟ ”رَجُلًا“ سے، تو ”رَجُلًا“ بھی منصوب، آگے ”رَاكِبًا“ بھی منصوب، ”رَجُلًا“ بھی نکرہ آگے ”رَاكِبًا“ بھی نکرہ ہے، تو جو بھی اس جملے کو دیکھے گا وہ کبھی بھی ان کو ذوالحال اور حال نہیں بنائے گا وہ ان کو موصوف صفت بنائے گا، کیونکہ ”رَجُلًا“ بھی نکرہ بھی ہے اور منصوب ہے اور آگے ”رَاكِبًا“ نکرہ بھی ہے اور منصوب ہے، تو بظاہر یوں ہی لگتا ہے یہ آپس میں موصوف صفت ہیں۔ لہٰذا چونکہ حالتِ نصبی میں موصوف صفت ہونے کا شبہ پڑتا ہے اس لیے حال کو مقدم کرنا واجب قرار دیا گیا۔ اب جب یوں کہا: ”جَاءَ رَاكِبًا رَجُلٌ“، اب موصوف صفت کا شبہ نہیں کیونکہ صفت کبھی اپنے موصوف پر مقدم نہیں ہوتی، اب پتہ چل گیا کہ ”رَاكِبًا“ یہ حال ہے اور آگے جو ”رَجُلٌ“ یا ”رَجُلًا“ مفعول بہ ہے وہ ذوالحال ہے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ جب حالتِ نصبی کے اندر یہ ضابطہ بنا دیا گیا کہ ذوالحال پر حال کو مقدم کرنا ہے، تو حالتِ رفعی میں بھی یہی ضابطہ جاری کر دیا گیا تاکہ ہر جگہ ایک ہی جیسی صورت رہے، یہ نہیں کہ کہیں تو مقدم کرنا ضروری ہو اور کہیں مقدم کرنا ضروری نہ ہو بلکہ ذوالحال جب بھی نکرہ ہو حال کو اس پر ہمیشہ کیا کریں گے؟ مقدم کریں گے، اگرچہ التباس تو صرف کون سی صورت میں تھا موصوف صفت والا؟ ہاں جب ذوالحال بھی منصوب ہو، حال تو ہوتا ہی منصوب ہے، ذوالحال بھی اگر منصوب ہے تو پھر کیا شبہ پڑ سکتا تھا؟ موصوف صفت کا، لہٰذا حال کو مقدم کرنا واجب قرار دیا گیا، اور جب حالتِ نصبی کے اندر حال کو مقدم کرنا واجب قرار دیا گیا تو حالتِ رفعی کے اندر بھی حال کو مقدم کرنا واجب قرار دیا گیا تاکہ تمام صورتیں ایک جیسی ہو جائیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَ ذُو الْحَالِ نَكِرَةً يَجِبُ تَقْدِيمُ الْحَالِ عَلَيْهِ“، اور اگر ذوالحال جو ہے وہ نکرہ ہو تو واجب ہے حال کو اس پر مقدم کرنا، ”نَحْوُ: جَاءَنِي رَاكِبًا رَجُلٌ“، تو اس حال کو مقدم کرنا واجب ہے ذوالحال پر جیسے ”جَاءَنِي رَاكِبًا رَجُلٌ“. کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِئَلَّا تَلْتَبِسَ بِالصِّفَةِ فِي حَالَةِ النَّصْبِ“، تاکہ یہ حال اس کا التباس نہ آئے یعنی اشتباہ تاکہ اس کا نہ آئے صفت کے ساتھ ”فِي حَالَةِ النَّصْبِ“ حالتِ نصبی میں، ”فِي مِثْلِ قَوْلِكَ: رَأَيْتُ رَجُلًا رَاكِبًا“، آپ کے اس جیسے قول میں: ”رَأَيْتُ رَجُلًا رَاكِبًا“. دیکھا اگر یوں لکھو گے تو ”رَاكِبًا“ کو اگر مقدم نہیں کرو گے تو موصوف صفت معلوم ہوں گے، اور جو بھی دیکھے گا وہ یہی سمجھے گا یہ آپس میں موصوف صفت ہیں، ”رَجُلًا“ موصوف ہے اور ”رَاكِبًا“ اس کی صفت ہے، لیکن ”رَاكِبًا“ کو جب مقدم کریں گے اب کوئی موصوف صفت والی ترکیب نہیں کرے گا کیونکہ صفت کبھی بھی موصوف پر مقدم نہیں ہوتی۔ اچھا اب اس کی ترکیب کیجیے: ”رَأَيْتُ رَجُلًا رَاكِبًا“، ”رَأَيْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً موصوف بنائیں گے یا ذوالحال بنائیں گے؟ موصوف، کیوں؟ ذوالحال کیوں نہیں بناتے؟ ہاں ذوالحال بھی نکرہ ہے اور حال بھی نکرہ ہے، پھر آپ ترکیب کر رہے ہیں کوئی آپ پر اشکال کر دے تو جواب تو آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے نا! آپ کیا بنا رہے ہیں؟ ”رَجُلًا“ کو موصوف، ”رَاكِبًا“ کو اس کی صفت۔ سوال: ”رَجُلًا“ کو ذوالحال کیوں نہیں بناتے اور ”رَاكِبًا“ کو اس سے حال کیوں نہیں بناتے؟ جواب: یہ جو ابھی ضابطہ پڑھا یہ ذکر کریں گے جواب میں کہ بھئی جب ذوالحال نکرہ ہو تو حال کو مقدم کرنا واجب، اور یہ تو مقدم نہیں کیا گیا لہٰذا معلوم ہوا یہ حال نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ صفت ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً موصوف، ”رَاكِبًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، منصوب کیوں؟ کیونکہ صفت ہے، موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ تو ”رَاكِبًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ موصوف کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ چلیے بس کریں، بس بھئی! هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 61 of 104