وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ جَوَازًا كَقَوْلِكَ لِلْقَادِمِ خَيْرَ مَقْدَمٍ أَيْ قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ وَوُجُوْبًا سِمَاعًا نَحْوُ سَقْيًا وَشُكْرًا وَحَمْدًا وَرَعْيًا أَيْ سَقَاكَ اللهُ سَقْيًا وَشَكَرْتُكَ شُكْرًا وَحَمِدْتُكَ حَمْدًا وَرَعَاكَ اللهُ رَعْيًا۔
گزشتہ سبق میں ہم نے منصوبات کی بحث شروع کی تھی اور صاحبِ ہدایۃ النحو نے آپ کو بتلایا تھا کہ منصوبات جو ہیں وہ بارہ ہیں بھئی، بارہ۔ اور ان بارہ میں سے سب سے پہلے ہم نے مفعولِ مطلق کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ آپ نے پڑھا کہ مفعولِ مطلق وہ مصدر کا نام ہے، ایسا مصدر کہ جس سے پہلے اسی کا ہم معنی فعل ہو بھئی، اسی کا ہم معنی فعل ہو۔ اور تو دونوں کا ہم معنی ہونا ضروری ہے، باب بھی الگ ہو سکتے ہیں اور دونوں کا مادہ بھی الگ ہو سکتا ہے، البتہ معنی ایک ہی ہو گا دونوں کا۔ تو یہ مفعولِ مطلق ہے اور یہ منصوب ہوتا ہے، اس پر نصب آئے گا۔ اور اس کے فائدے کیا ہیں؟ تین فائدے انہوں نے آپ کو بتلائے بھئی، کہ کبھی کبھار مفعولِ مطلق کو ذکر کیا جاتا ہے تاکید کے لیے۔ کیا معنی تاکید؟ یعنی مجاز کے احتمال کو ختم کرنے کے لیے، جیسے: ضَرَبْتُ ضَرْبًا۔ اس ضَرْبًا نے آ کر بتلا دیا کہ ضَرَبْتُ سے ضرب ہی مراد ہے، ڈانٹنا وغیرہ مراد نہیں۔
اور اسی طرح کبھی آپ مثلاً کہتے ہیں کبھی کبھار یہ نوع بیان کرنے کے لیے آتا ہے، جیسے: جَلَسْتُ جِلْسَةَ الْقَارِئِ، میں بیٹھا قاری کی طرح۔ اور کبھی کبھار یہ عدد بیان کرنے کے لیے، اس فعل کا عدد بیان کرتا ہے کہ یہ فعل ایک مرتبہ ہوا، دو مرتبہ ہوا یا تین مرتبہ، جیسے: جَلَسْتُ جَلْسَةً، جَلَسْتُ جَلْسَتَيْنِ اور جَلَسْتُ جَلَسَاتٍ۔
اب آگے آپ کو بتلا رہے ہیں: وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ۔ ذکر یہ کر رہے ہیں کہ بھئی ایک ہے مفعولِ مطلق اور ایک ہے ماقبل اس کا فعل جو اسی کا ہم معنی فعل ہے، اور وہ فعل عمل کر رہا ہے اور اس مفعولِ مطلق کو نصب دے رہا ہے۔ تو کیا اس ماقبل والے فعل کو حذف کر سکتے ہیں؟ مفعولِ مطلق کو باقی رکھیں اور اس کے فعل کو حذف؟ تو کہتے ہیں: ہاں بھئی، اس کے فعل کو حذف کر سکتے ہیں، اور یہ حذف کرنا دو قسم پر ہے: کبھی حذف کرنا جائز ہوتا ہے اور بعض اوقات حذف کرنا واجب ہوتا ہے۔ اس فعل کا حذف بعض اوقات واجب ہوتا ہے۔
تو بعض اوقات اس فعل کا حذف جائز ہوتا ہے اور یہ کہاں ہو گا؟ کہتے ہیں: جہاں قرینہ موجود ہو۔ کیا موجود ہو؟ قرینہ موجود ہو، کوئی قرینہ ہو، کوئی چیز ایسی ہو جو بتلا رہی ہو کہ یہاں پر یہ والا فعل حذف ہے۔ جب وہ چیز موجود ہے تو آپ اس کو ذکر نہ بھی کریں سننے والے کو خود بخود پتہ چل جاتا ہے، تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اس کو حذف کر سکتے ہیں۔ جیسے کوئی مہمان آیا آپ کے پاس، آپ نے کہا: خَيْرَ مَقْدَمٍ، خَيْرَ مَقْدَمٍ۔ اصل میں کلام تھا: قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ۔ توجہ ہے؟ ذرا دیکھ لیں عبارت بھئی: قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ۔ تو کس طرح ہے ترکیب؟ قَدِمْتَ، قَدِمْتَ فعل با فاعل، قَدِمْتَ فعل با فاعل اور تا ضمیر، توجہ نہیں میرا خیال سبق کی طرف؟
بھئی یہ ذکر یہ کر رہے ہیں کہ کبھی کبھار مفعولِ مطلق کے فعل کو حذف کر، حذف کیا جا سکتا ہے اور یہ حذف کرنا جائز ہے، کس وقت؟ جب کوئی قرینہ موجود ہو۔ قرینہ کسے کہتے تھے؟ میں نے تعریف آپ کو لکھوائی تھی: الْقَرِيْنَةُ هُوَ أَمْرٌ يُشِيْرُ إِلَى الْمَطْلُوْبِ۔ قرینہ وہ چیز ہے جو مطلوب کی طرف اشارہ کرے، جو مقصود کی طرف اشارہ کرے۔ آپ کہنا چاہتے تھے: قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ۔ توجہ ہے؟ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور آپ کہنا چاہتے تھے: قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ۔ قَدِمْتَ کا معنی ہے: آپ تشریف لائے، آپ آئے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو اب آپ اس قَدِمْتَ کو حذف کر لیتے ہیں، کیوں حذف کرتے ہیں؟ کیونکہ وہ آپ کے سام، وہ سب کے سامنے آیا ہے، اندر آیا ہے، تو اس کا آنا ہی اس کا آنا سامنے ہے سب کے، اس کا ہاں سب کے سامنے ہے، یا اس کے وہ اس کو بھی پتہ ہے میں ابھی آیا ہوں۔ تو یہاں لہٰذا قَدِمْتَ، آپ آئے ہیں، یہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ تو اس کو آپ نے کیا کر لیا؟ حذف۔ تو قرینہ کوئی بھی ایسی چیز ہو جو اس فعل کے بارے میں بتلا رہی ہو تو آپ اس کو حذف کر سکتے ہیں۔
تو مثلاً دیکھو وہ آپ کے پاس آیا، کوئی شخص آیا، آپ نے کہا: خَيْرَ مَقْدَمٍ، خَيْرَ مَقْدَمٍ، یہ آپ نے کہا۔ اور اصل میں پورا کلام یوں تھا: قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ۔ ترکیب کیسے ہو گی؟ قَدِمْتَ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، قُدُوْمًا منصوب لفظاً موصوف، منصوب لفظاً موصوف، کیونکہ قُدُوْمًا ہے نکرہ اور آگے خَيْرَ مَقْدَمٍ یہ بھی کیا ہے؟ نکرہ، اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ اس کی عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو یہ قُدُوْمًا منصوب ہے، کیوں منصوب ہے؟ کیونکہ مفعولِ مطلق ہے بھئی، مفعولِ مطلق، اور آگے اس کی صفت آ گئی، جب یہ منصوب ہے تو اس کی صفت بھی کیا ہو گی؟ منصوب۔ تو قُدُوْمًا منصوب لفظاً موصوف۔ منصوب کیوں ہے؟ مفعولِ مطلق ہے۔ اور موصوف کیسے آپ کو پتہ چلا؟ کیونکہ نکرہ کے بعد نکرہ آیا۔ آگے دیکھو: خَيْرَ مَقْدَمٍ، خَيْرَ مضاف ہے، مَقْدَمٍ مضاف الیہ۔ تو یاد رکھنا یہ خَيْرَ یہ بھی نکرہ اور مَقْدَمٍ یہ بھی نکرہ، اور نکرہ کی نکرہ کی طرف اضافت ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے تو وہ معرفہ بنتا ہے، لیکن اگر نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ تو خَيْرَ مَقْدَمٍ اگرچہ مضاف مضاف الیہ ہیں لیکن یہ ہے نکرہ ہی، تو لہٰذا یہ قُدُوْمًا کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔
تو قُدُوْمًا منصوب لفظاً موصوف، خَيْرَ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ مضاف، اور مَقْدَمٍ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے، مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے، اور لفظاً ہے اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ قُدُوْمًا کے لیے۔ موصوف صفت مل کر یہ مفعولِ مطلق۔ فعل اپنے فاعل اور مفعولِ مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بھئی جیسے اردو میں بھی ہے، مہمان آتا ہے آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ خوش آمدید، آپ خیر سے تشریف لائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ اسی طرح کا جملہ ہے، تو عرب اس طرح کہتے ہیں بھئی۔ تو اب دیکھیے کلام پورا یہ تھا: قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ، لیکن آپ نے صرف کیا کہا؟ خَيْرَ مَقْدَمٍ۔ تو یاد رکھو یہ خَيْرَ مَقْدَمٍ یہ صفت ہے، کس کی؟ قُدُوْمًا کی، اور قُدُوْمًا کیا تھا؟ مفعولِ مطلق۔ تو گویا یوں کہیں گے: خَيْرَ مَقْدَمٍ یہ مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوفِ محذوف کے۔
خَيْرَ مَقْدَمٍ یہ مفعولِ مطلق ہے۔ یہ خود ہے یا اس سے ماقبل موصوف محذوف وہ ہے مفعولِ مطلق؟ اس سے ماقبل جو قُدُوْمًا آیا تھا وہ کیا تھا؟ وہ مفعولِ مطلق ہے، یہ تو اس کی صفت۔ اس کو حذف کر دیا اور صفت کو اس کا قائم مقام کر دیا، تو اصل میں مفعولِ مطلق کون ہے؟ وہ قُدُوْمًا، وہ جو محذوف ہے، تو یوں کوئی آپ سے پوچھے یا آپ کسی کو بتائیں تو یوں بتائیں گے کہ یہ خَيْرَ مَقْدَمٍ مفعولِ مطلق ہے کس اعتبار سے؟ موصوفِ محذوف کے اعتبار سے۔ دہرائیں زبان سے: یہ مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوفِ محذوف کے۔ پھر دہرائیں: یہ مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوفِ محذوف کے۔ تو یہاں پر دیکھو قَدِمْتَ قُدُوْمًا سارے کو حذف کر لیا گیا، کس لیے؟ کیونکہ قرینہ موجود تھا۔ قرینہ کیا تھا؟ کہ وہ شخص سب کے سامنے ابھی آیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آنا معلوم تھا تو اس کو حذف کر دیا۔
تو کہتے ہیں: وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ، اور کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے فِعْلُهُ، اس مفعولِ مطلق کے فعل کو، لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ، کس وجہ سے؟ قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے، جَوَازًا، اور یہ حذف کرنا کس طرح ہوتا ہے؟ جوازاً ہوتا ہے، أَيْ حَذْفًا جَوَازًا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ، اور کبھی کبھار اس کے فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے، حَذْفًا جَوَازًا، کس قسم کا حذف؟ جوازی حذف ہوتا ہے۔ کیا بتلانا چاہتا ہوں؟ کہ یہ جَوَازًا، جَوَازًا یہ بھی مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوفِ محذوف کے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کیا؟ جَوَازًا اس کا موصوف کیا ہے؟ حَذْفًا، اور وہ حَذْفًا مفعولِ مطلق ہے، اس کا فعل کون سا ہے؟ وَقَدْ يُحْذَفُ، پیچھے آیا ہے یا نہیں؟ تو ذرا حَذْفًا کو نکال لو: وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ، اور کبھی کبھار اس کے فعل کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر دیا جاتا ہے۔ کیوں حذف کیا جاتا ہے؟ لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ، قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے، حَذْفًا جَوَازًا، کس قسم کا حذف؟ جوازی حذف۔ تو حَذْفًا کیا ہے؟ مصدر، اور ماقبل میں يُحْذَفُ اسی کا ہم معنی فعل گزرا ہے یا نہیں گزرا؟ اور وہ مصدر جس کے ماقبل اسی کا ہم معنی فعل ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعولِ مطلق، اور وہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو یہ حَذْفًا بھی کیا ہے؟ منصوب، اور آگے جَوَازًا اس کی صفت بھی منصوب۔ اس حَذْفًا کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا، اور جَوَازًا کو اس کا قائم مقام کر دیا۔ تو جَوَازًا کوئی آپ سے پوچھے یہ جَوَازًا کیا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوفِ محذوف کے۔ دیکھا تو یہاں دو مثالیں آ گئیں اس کی۔
كَقَوْلِكَ لِلْقَادِمِ، جیسے کہ آپ کا کہنا لِلْقَادِمِ آنے والے سے، قادم آنے والا، جیسے کہ آپ کا کہنا آنے والے سے، کیا کہتے ہیں آپ اس کو؟ خَيْرَ مَقْدَمٍ، یہ کہتے ہیں۔ أَيْ قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ، یعنی آپ کا آنا خیر والا ہے، آپ خیر کے ساتھ آئے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَوُجُوْبًا، یہ اس کا عطف کس پر ہے؟ جَوَازًا پر، اور کبھی کبھار وہ حذف وجوباً ہوتا ہے، یعنی واجب ہوتا ہے۔ مفعولِ مطلق کے فعل کا حذف واجب ہوتا ہے۔ سِمَاعًا، لیکن یہ واجب کہاں ہو گا؟ کہتے ہیں: یہ سِمَاعًا سماع پر موقوف ہے۔ اس کا کوئی ضابطہ نہیں، بس جہاں جہاں ہم نے عربوں سے سنا ہے وہاں پر حذف ہم بھی کریں گے، کوئی ضابطہ کوئی نہیں۔ بھئی جس کا ضابطہ نہ ہو نا ضابطہ، اول یا تو علماء غور و فکر کرتے ہیں کلامِ عرب میں اور پھر اس سے ضابطہ بنا لیتے ہیں، جیسے فاعل پر رفع آئے گا، فاعل پر پیش پڑھیں گے، رفع آئے گا، یہ علماء نے کس طرح یہ کہا؟ انہوں نے کلامِ عرب میں غور کیا، انہوں نے دیکھا عرب کے کلام میں جہاں جہاں بھی فاعل آ رہا ہے اس پر وہ رفع پڑھتے ہیں، معلوم ہوا فاعل کلامِ عرب میں کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔
ایک عربی بولنے والا آدمی ہو، پیدائش عرب کی ہو، اس سے کہیں نا کہ فاعل مرفوع ہو گا، منصوب ہو گا، مجرور ہو گا، تو وہ حیران ہو کر آپ کو دیکھے گا: بھئی مرفوع کسے کہتے ہیں؟ منصوب کسے کہتے ہیں؟ مجرور کسے کہتے ہیں؟ یعنی جس نے پڑھا نہیں ہے، کیونکہ یہ تو علمِ نحو کی اصطلاحات ہیں، تو اس کو مرفوع کا بھی نہیں پتہ، منصوب کا بھی نہیں پتہ اور مجرور، یہ اصطلاحی معنی کا نہیں پتہ ہو گا اس کو۔ لیکن وہ جب بھی پڑھے گا فاعل پر ہمیشہ رفع پڑھے گا، وہ جب بھی باتیں کر رہا ہو گا جہاں مفعول آئے گا اس پر کیا بولے گا؟ نصب، اور جہاں بھی مضاف الیہ مضاف الیہ آئے گا اس پر کیا پڑھے گا؟ جر۔ بھئی اس کو مرفوع کا بھی نہیں پتہ، منصوب کا بھی نہیں پتہ، مجرور کا بھی نہیں پتہ، لیکن اعراب وہ صحیح پڑھتا جا رہا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھو تو یہ عرب کی عرب زبان تو پہلے تھی لیکن یہ ضابطے اس طرح مدون نہیں تھے، البتہ وہ بولتے اسی طرح تھے، انہی ضابطوں کے مطابق ساری ان کی گفتگو ہوتی تھی، اور پھر علماء نے غور کر کر کے ایک ایک ضابطہ معلوم کیا اور یہ اس طرح علمِ نحو کو ترتیب دیا، تو اللہ تعالیٰ ان تمام علماء کے کروڑہا درجات بلند فرمائے بھئی، انہوں نے کتنا آسان کر دیا! اب دیکھیے غور کرتے رہے مثالوں میں اور ایک آسان سا ضابطہ ہمیں بتا دیا کہ الْفَاعِلُ مَرْفُوْعٌ، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ اب آپ جتنے جملے بناتے جائیں بے فکر ہو کر: ضَرَبَ زَيْدٌ، شَرِبَ عَمْرٌو، قَالَ خَالِدٌ، دیکھو رفع پڑھتے جا رہے ہیں آپ سکون سے۔
تو یہ ضابطے ہیں، اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے علماء غور کرتے ہیں لیکن کوئی ضابطہ نہیں بن پاتا، کوئی ضابطہ نہیں بن پاتا۔ غور کرتے ہیں، ضابطہ نہیں بن پاتا کہ مثلاً کلامِ عرب میں ایک چیز ہے، مثلاً دیکھو یہ مثال سامنے ہے آپ کے، کوئی عرب ہے وہ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہے گا تو یوں کہے گا: شُكْرًا۔ جب بھی وہ آپ کا شکریہ ادا کرے گا کیا کہے گا؟ شُكْرًا، تو اصل میں تو ہے: شَكَرْتُكَ شُكْرًا، شَكَرْتُكَ شُكْرًا، میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ لیکن وہ شَكَرْتُكَ اس فعل اور مفعول کو ذکر نہیں کرتا بلکہ صرف کیا کہتا ہے؟ شُكْرًا، صرف مفعولِ مطلق ذکر کرتا ہے۔ اب علماء نے غور کیا کہ یہ کیوں حذف کیوں کرتے ہیں؟ جتنے بھی عرب، عربوں سے سنا گیا، ان کے کلام کو دیکھا گیا، ہر ایک نے شُكْرًا ہی کہا، کسی ایک نے بھی شَكَرْتُكَ کو ساتھ ذکر نہیں کیا۔ معلوم ہوا اس شُكْرًا کے سے ماقبل جو فعل ہے، شَكَرْتُكَ، اس کو حذف کرنا واجب ہے، لازم ہے۔ اگر لازم نہ ہوتا کوئی ایک عرب تو ذکر کر دیتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کوئی بھی ذکر نہیں کرتا، سب صرف کیا کہتے ہیں؟ شُكْرًا کہتے ہیں، معلوم ہوا یہ حذف کرنا واجب ہے، واجب نہ ہوتا کوئی ایک تو ذکر کرتا۔ اچھا واجب کیوں ہے؟ ضابطہ کیا ہے؟ وہ کون سی جگہ ہے جہاں پر حذف کرنا واجب ہے تاکہ ہم بھی ان جیسی جگہوں پر حذف کریں؟ غور کیا لیکن کوئی ضابطہ نہیں بن پاتا بھئی، تو اس کو پھر وہ کہتے ہیں سماعی ہے، کیا کہتے ہیں؟ سماعی، یعنی سننے پر موقوف ہے، عربوں سے ہم نے اسی طرح سنا ہے، ضابطہ نہیں کوئی اس کا، کوئی ضابطہ نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
گویا مفعولِ مطلق جو ہے اس کے فعل کا حذف دو قسم پر ہے: یہ حذف جوازاً بھی ہو سکتا ہے اور وجوباً۔ جوازاً کہاں ہو گا؟ جہاں کوئی قرینہ موجود ہو۔ اور وجوباً کہاں ہو گا؟ کہتے ہیں: وہ سماع پر موقوف ہے، اس میں وہ سماع پر موقوف ہے، کچھ جگہیں ہیں اور کوئی ضابطہ وغیرہ نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: وَوُجُوْبًا سِمَاعًا، اور یہ حذف وجوباً ہو گا اور سماع پر موقوف ہے، نَحْوُ سَقْيًا وَشُكْرًا وَحَمْدًا وَرَعْيًا۔ جیسے سَقْيًا، یہ آگے سب کی مثالیں، پورا پورا جملہ بھی دیا ہوا ہے: سَقْيًا، شُكْرًا، حَمْدًا، رَعْيًا۔ آگے ہے: أَيْ سَقَاكَ اللهُ سَقْيًا، یہ سَقْيًا اصل میں کیا تھا جو پہلے گزرا؟ سَقَاكَ اللهُ سَقْيًا۔ اللہ آپ کو سیراب کرے، عرب کسی کو دعا دیتے ہیں تو کیا کہتے ہیں؟ سَقْيًا۔ یہ نہیں کہتے سَقَاكَ اللهُ سَقْيًا، کہنا تو یوں چاہیے سَقَاكَ اللهُ سَقْيًا لیکن وہ ہمیشہ کیا کہتے ہیں؟ سَقْيًا، کبھی بھی سَقَاكَ اللهُ کو ساتھ ذکر نہیں کرتے۔ معلوم ہوا اس مفعولِ مطلق کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے اور کوئی ضابطہ نہیں اس کا، بس ہم کچھ جگہیں ہیں جہاں پر ہم نے عربوں سے سنا ہے وہ اسی طرح حذف کرتے ہیں اور یہ ان میں سے ایک مقام ہے بھئی، تو ہم بھی اس میں حذف ہی کریں گے، ظاہر کریں گے تو یہ غلط ہو گا، درست نہیں بھئی۔
تو سَقْيًا، کوئی دعا دیتا ہے کسی کو، اللہ آپ کو سیراب کرے، کیا کہتے ہیں عرب؟ سَقْيًا، سَقْيًا کہیں گے، بس۔ کسی کا شکریہ ادا کرنا ہو تو کیا کہیں گے؟ شُكْرًا۔ کسی کی تعریف کرنی ہو تو کہتے ہیں: حَمْدًا، اصل میں ہے: حَمِدْتُكَ حَمْدًا، میں آپ کی تعریف کرتا ہوں، میں نے آپ کی تعریف کی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ میں آپ کی تعریف کرتا ہوں، تو کیا کہیں گے؟ حَمْدًا کہیں گے، حَمِدْتُكَ حَمْدًا نہیں، دیکھا اس کے فعل کو، مفعولِ مطلق تو موجود ہے لیکن اس کے فعل کو حذف کیا، اور ہر جگہ ہمیشہ حذف کرتے ہیں، معلوم ہوا یہ حذف واجب ہے۔ وَرَعْيًا، اسی طرح رَعْيًا یہ بھی دعا ہے۔ عرب نے جب کسی کو دعا دینی ہو کہ اللہ آپ کی حفاظت کرے، اللہ آپ کی رعایت کرے، یعنی اللہ آپ کی حفاظت کرے، تو کہتے ہیں: رَعْيًا، اور اصل کلام کیا ہے؟ رَعَاكَ اللهُ رَعْيًا، اللہ آپ کی حفاظت کرے۔ جتنے بھی عرب ہیں ہم سے ہم نے رَعْيًا ہی سنا ہے، کسی نے بھی رَعَاكَ اللهُ رَعْيًا پورا ذکر نہیں کیا، معلوم ہوا اس کے فعل کو حذف کرنا بھی واجب ہے اور ضابطہ کوئی نہیں۔ معلوم ہوا ان کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے لیکن ضابطہ نہیں ہے، یہ کس پر موقوف ہے؟ سماع پر، تو یہ حذف وجوبی اور سماعی ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا اب مجھے بتائیے: سَقْيًا کی ترکیب کریں، کوئی آپ سے کہے: سَقْيًا کی ترکیب کرو، کیسے کریں گے؟ ہاں سَقْيًا، آپ یوں کہیں گے: سَقْيًا مفعولِ مطلق ہے باعتبار، مفعولِ مطلق ہے فعلِ محذوف کے لیے، یہاں تو موصوف نہیں ہے نا، یہاں سیدھا یہ مفعولِ مطلق ہے کس کے لیے؟ فعلِ محذوف کے لیے، اور کلام اصل میں کیا تھا؟ سَقَاكَ اللهُ سَقْيًا۔ جی اب کیجیے ترکیب: سَقَاكَ، جی سَقَا فعل، کاف ضمیر، ہاں؟ معنی پر غور نہیں کرتے آپ؟ سیراب کرے، کون سیراب کرے؟ اللہ، تو فاعل لفظِ اللہ آگے آ رہا ہے بھئی، اور کس کو کرے؟ آپ کو، یہ مخاطب کی ضمیر کیا ہے؟ مفعول ہے۔ تو جی کیجیے: سَقَا فعل، کاف ضمیر اعراب بتاؤ؟ منصوب محلاً مفعول بہ، لفظِ اللہ فاعل، اعراب بھئی؟ مرفوع لفظاً فاعل، اور سَقْيًا منصوب لفظاً مفعولِ مطلق۔ فعل اپنے فاعل، مفعول اور مفعولِ مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ، فعلیہ انشائیہ ہوا، دعا ہے نا دعا، دعا کس کی قسم میں سے ہے؟ انشائیہ۔
اچھا کوئی آپ سے پوچھے: شُكْرًا، یہ کیا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ کہ یہ مفعولِ مطلق ہے اور اس کا فعل محذوف ہے، اور پورا کلام کس طرح ہے؟ شَكَرْتُكَ شُكْرًا۔ ترکیب کیجیے: شَكَرْتُ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، کاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، اور شُكْرًا منصوب لفظاً مفعولِ مطلق۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعولِ مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ، فعلیہ، فعلیہ انشائیہ ہوا۔ تو لفظاً خبریہ ہے، ویسے انشائیہ ہے، انشائے شکر ہے، انشائے شکر ہے بھئی، جی۔ اسی طرح حَمِدْتُكَ حَمْدًا ہے اور رَعَاكَ اللهُ رَعْيًا، ان میں بھی اسی طرح ترکیب ہو گی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا سمجھے آپ؟ مفعولِ مطلق کے فعل کو کبھی کبھار حذف کیا جاتا ہے جبکہ قرینہ موجود ہو۔ نہیں، اس سے پہلے یوں کہیں، اور یہ حذف دو قسم پر ہے: ایک جوازاً ہے، ایک وجوباً ہے۔ جوازاً کہاں ہو گا؟ جہاں، جب کوئی قرینہ موجود ہو تو پھر حذف کرنا بھی جائز، ذکر کرنا بھی جائز۔ سمجھ میں آیا؟ ذکر کر، ذکر بھی، آپ کوئی آیا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَيْرَ مَقْدَمٍ، اور آپ حذف کرنا چاہیں تو حذف بھی کر سکتے ہیں اور کیا کہہ سکتے ہیں: خَيْرَ مَقْدَمٍ، تو یہ حذف کرنا جائز ہے، واجب نہیں۔ اور بعض جگہیں ہیں وہاں پر حذف کرنا واجب ہے، اور وہ جگہیں کون سی ہیں؟ کہتے ہیں سماع پر موقوف ہے، کوئی ضابطہ نہیں۔ اور جیسے اس کی کیا مثال ہے؟ سَقْيًا، شُكْرًا، حَمْدًا اور رَعْيًا۔ تو دیکھا آج آپ کو پتہ چل گیا یہ جو عرب شُكْرًا شُكْرًا بولتے ہیں یہ کیا ہے دراصل؟ مفعولِ مطلق ہے، اور یہ منصوب اسی لیے ہے کیونکہ مفعولِ مطلق ہے اور مفعولِ مطلق کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے۔
فَصْلٌ: اَلْمَفْعُوْلُ بِهِ وَهُوَ اسْمُ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ فِعْلُ الْفَاعِلِ كَـ: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، وَقَدْ يَتَقَدَّمُ عَلَى الْفَاعِلِ كَـ: ضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌ، وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ جَوَازًا۔
اب منصوبات میں سے دوسری قسم آ گئی، وہ مفعول بہ ہے بھئی۔ مفعولِ مطلق گزر گیا، اب مفعول، مفعول بہ۔ مفعول بہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ اسْمُ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ فِعْلُ الْفَاعِلِ، هُوَ اسْمُ مَا وہ اس چیز کا نام ہے، وَقَعَ عَلَيْهِ فِعْلُ الْفَاعِلِ جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ مفعول بہ وہ اس چیز کا نام ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو، كَـ: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا۔ بھئی زید نے پٹائی کی عمرو کی، تو زید کی پٹائی کس پر واقع ہوئی؟ عمرو پر، تو یہ عمرو کیا ہے؟ مفعول بہ۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، پٹائی کس نے کی؟ زید نے، اور کس کی کی؟ عمرو کی، تو عمرو کیا ہے؟ مفعول بہ ہے، تو دیکھو یہ وہ اسم جس پر فاعل کا فعل واقع ہوا ہے۔
تو کہتے ہیں: اَلْمَفْعُوْلُ بِهِ وَهُوَ اسْمُ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ فِعْلُ الْفَاعِلِ، وہ نام ہے اس چیز کا، وَقَعَ عَلَيْهِ فِعْلُ الْفَاعِلِ جس پر فاعل کا فعل واقع ہو، كَـ: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، جیسے کہ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا۔ كَـ: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، جی ترکیب کیجیے ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا: ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل، عَمْرًا منصوب لفظاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو مفعول بہ کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جس پر فاعل کا، اس چیز کا نام ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔
وَقَدْ يَتَقَدَّمُ عَلَى الْفَاعِلِ، اور کبھی کبھار یہ مفعول بہ فاعل پر بھی مقدم ہو جاتا ہے، كَـ: ضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌ، جیسے کہ ضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌ۔ دیکھیے وہی سارا کچھ ہے لیکن عَمْرًا جو مفعول تھا اس کو فاعل یعنی زید پر مقدم کر دیا۔ تو فاعل ہونا، اصل تو کیا ہے؟ فاعل مقدم ہوتا ہے اور مفعول بہ مؤخر، لیکن مفعول کو بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ فاعل پر مقدم، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ ضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌ، ترکیب کیجیے: ضَرَبَ فعل، عَمْرًا منصوب لفظاً مفعول بہ، زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ جَوَازًا، اور کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے اس مفعول بہ کے فعل کو لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ کسی قرینے کی وجہ سے، جَوَازًا اور یہ حذف کرنا جوازی ہوتا ہے یعنی جائز ہوتا ہے، یعنی نہ کریں تو بھی درست اور حذف کر لیں تو بھی درست، نَحْوُ زَيْدًا جیسے زَيْدًا۔ زَيْدًا، دیکھو میں نصب پڑھ رہا ہوں، توجہ ہے ادھر؟ زَيْدًا، نصب پڑھ رہا ہوں۔ بھئی یہ مفعول بہ ہے اور مفعول بہ منصوب ہوتا ہے اس لیے میں نصب کے ساتھ پڑھ رہا ہوں: زَيْدًا۔ اور اس کا فعل محذوف ہے اس کو حذف کر لیا، اور کیوں حذف کیا؟ کیونکہ قرینہ موجود تھا۔ مثلاً آپ نے مجھ سے پوچھا: مَنْ أَضْرِبُ؟ میں کس کی پٹائی کروں؟ آپ نے مجھ سے کیا پوچھا؟ مَنْ أَضْرِبُ؟ میں نے آپ کو پٹائی کا کہا تھا کہ پٹائی کریں، آپ نے پوچھا: مَنْ أَضْرِبُ؟ میں کس کی پٹائی کروں؟ میں نے کہا: زَيْدًا۔ اصل میں کلام تھا: اِضْرِبْ زَيْدًا، تو زید کی پٹائی کر۔ لیکن میں نے اِضْرِبْ کو حذف کر دیا، کیوں؟ کیونکہ قرینہ، وہ سوال میں أَضْرِبُ آیا تھا یا نہیں ابھی؟ ضرب کا ذکر آیا تھا، آپ نے سوال میں ضرب ہی کا تو پوچھا تھا: مَنْ أَضْرِبُ؟ میں کس کی پٹائی کروں؟ تو میں نے کیا کہا: زَيْدًا۔ ہاں میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں: اِضْرِبْ زَيْدًا، اور میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں: زَيْدًا، تو یہ حذف واجب نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔ تو یہاں اِضْرِبْ میں اشتباہ نہیں کیونکہ آپ کا سوال بھی کس چیز کے بارے میں تھا؟ پٹائی کرنے کے بارے میں ہی تھا، اور معلوم ہوا یہاں پر بھی ضرب والا فعل ہی محذوف ہے، زَيْدًا أَيْ اِضْرِبْ زَيْدًا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
نَحْوُ زَيْدًا، جیسے زَيْدًا، فِي جَوَابِ مَنْ قَالَ، اس شخص کے جواب میں جس نے کہا تھا: مَنْ أَضْرِبُ؟ کہ میں کس کی پٹائی کروں؟ مَنْ أَضْرِبُ؟ میں نے کہا تھا پٹائی کرو، آپ نے کہا: مَنْ أَضْرِبُ؟ میں کس کی پٹائی کروں؟ میں جواب میں کیا کہا میں نے؟ زَيْدًا۔ یہ زَيْدًا کیوں منصوب ہے؟ مفعول بہ ہے، اور اس کے فعل کو میں نے حذف کر دیا، کیوں حذف کیا؟ قرینہ موجود تھا۔ کیا قرینہ؟ یہ آپ نے ابھی سوال ہی کیا تھا مجھ سے: مَنْ أَضْرِبُ؟ وہاں پر ضرب کا ذکر آیا ہے یا نہیں؟ جی، تو پتہ چلا بات ضرب کی ہی چل رہی ہے، البتہ کس کی ضرب ہو اس کا پتہ نہیں تھا، تو میں نے بتلا دیا کس کی ضرب ہونی چاہیے؟ زید کی، تو اصل میں ہے: اِضْرِبْ زَيْدًا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ترکیب کیجیے اِضْرِبْ زَيْدًا: اِضْرِبْ فعلِ امر، جی انت ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اور زَيْدًا منصوب لفظاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ، امر ہے امر ہے اِضْرِبْ زَيْدًا، جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ زید کی پٹائی کر، یہ میں کوئی بات آپ کو نہیں بتلا رہا بلکہ ایک حکم دے رہا ہوں، تو یہ جملہ انشائیہ ہے۔ جیسے ابھی ماقبل میں گزرا تھا شَكَرْتُكَ، جیسے شُكْرًا، وہاں پر میں آپ کو کوئی خبر نہیں، بات نہیں بتلا رہا تھا کہ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا، بلکہ میں شکریے کو وجود دے رہا تھا، آپ کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی میں حکم دے رہا، یہ حکم ہے، تو امر ہے اور امر جو ہے وہ انشاء کے قبیل سے ہے۔
اچھا یہ کس کی ترکیب کی آپ نے؟ اِضْرِبْ زَيْدًا، کون سا جملہ ہوا؟ جملہ انشائیہ۔ اچھا دوسرے جملے کی ترکیب کرو، آپ نے پوچھا تھا: مَنْ أَضْرِبُ؟ مَنْ أَضْرِبُ؟ ترکیب کیجیے۔ یاد رکھو مَنْ یہ استفہامیہ ہے، سوال کے لیے ہے نا، مَنْ أَضْرِبُ؟ میں کس کی پٹائی کروں؟ تو یہ مَنْ کون سا ہے؟ استفہامیہ، اور یاد رکھو یہاں اس وقت یہ مفعول بہ بن رہا ہے۔ آپ خود غور کر لیں: أَضْرِبُ میں پٹائی کروں، مَنْ کس کی، میں پٹائی کروں مَنْ کس کی، دیکھو مفعول بن رہا ہے یا نہیں بن رہا؟ جی، تو یہ ضرب یعنی جس پر ضرب واقع ہو اس کا آپ پوچھ رہے ہیں مَنْ کے ذریعے، تو یہ وہی ہے۔ تو مَنْ، مَنْ تو مبنی ہے نا مبنی ہے، منصوب محلاً مفعول بہ، مَنْ استفہامیہ منصوب محلاً مفعول بہ مقدم، اور أَضْرِبُ فعل با فاعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم سے مل کر جملہ جملہ، جملہ استفہامیہ، ہاں استفہام ہے، جملہ فعلیہ استفہامیہ، استفہامیہ تو ہوا ٹھیک ہے، انشاء یا خبر یہ بتاؤ؟ جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، جملہ فعلیہ ہے نا وہ مفعول مقدم کیا ہوا ہے، مَنْ جو ہے مفعول ہے اصل میں، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اچھا جی، یہ معنی ہے اب دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: وَقَدْ يُحْذَفُ فِعْلُهُ لِقِيَامِ قَرِيْنَةٍ جَوَازًا، اور کبھی کبھار مفعول بہ کے فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے جوازاً، اور یہ حذف کرنا جوازی ہوتا ہے، جائز ہوتا ہے، یعنی نہ کریں تو بھی درست اور حذف کر لیں تو بھی درست، نَحْوُ زَيْدًا، جیسے کہ زَيْدًا، یہ مفعول بہ ہے اور اس کے فعل کو کیا کر لیا گیا؟ حذف۔ یہ زَيْدًا جو کہاں آیا؟ فِي جَوَابِ مَنْ قَالَ، یہ اس شخص کے جواب میں آیا تھا جس نے کہا: مَنْ أَضْرِبُ؟ کہ میں کس کی پٹائی کروں؟ جی، تو یہ حذف کیسا تھا؟ جوازی۔
وَوُجُوْبًا، اور کبھی کبھار مفعول بہ کے فعل کو حذف کیا جاتا ہے وجوباً، وجوبی طور پر، فِي أَرْبَعَةِ مَوَاضِعَ، کتنی جگہوں میں؟ چار جگہوں میں حذف کرنا واجب ہے۔ ایک جگہ جوازی اور چار جگہیں وجوبی۔ جوازی کہاں، جوازاً حذف کہاں جائز؟ جہاں قرینہ ہو۔ اور وجوباً وہ کون سی جگہیں ہیں وہ آگے ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: اَلْأَوَّلُ سِمَاعِيٌّ، پہلی جگہ جو ہے وہ سماعی ہے۔ بھئی ادھر دیکھیے، بتایا مفعول بہ کا فعل حذف کیا جا سکتا ہے اور یہ حذف دو قسم پر ہے: نمبر ایک جوازاً، اور یہ جوازاً کہاں ہو گا؟ جہاں قرینہ ہو۔ اور دوسری جگہ وجوباً ہے حذف کرنا، وہاں حذف کرنا واجب ہے، آپ فعل کو ذکر نہیں کر سکتے، اگر ذکر کریں گے تو آپ غلط کر رہے ہیں، کلامِ عرب میں کے اعتبار سے غلط ہی کر رہے ہیں آپ، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ دوسری جگہ وجوباً ہے۔ ہاں اور یہ وجوباً پھر کتنی قسم پر ہے؟ یہ کن جگہوں پر وجوباً ہے؟ کہتے ہیں: وہ چار جگہیں ہیں، کتنی ہیں؟ چار۔ ان چار میں سے ایک جگہ سماعی ہے، کیا معنی سماعی ابھی میں نے اتنی لمبی تقریر کی تھی؟ جہاں جس کا تعلق سننے سے ہے، کوئی ضابطہ وغیرہ وہاں پر نہیں۔ تو ایک جگہ سماعی ہے چار میں سے اور تین قیاسی ہیں، تین کیا ہیں؟ قیاسی، یعنی آپ بھی اسی پر قیاس کرتے ہوئے اس جیسی جگہوں پر حذف کرنا آپ کے لیے بھی واجب ہو گا۔ کتنی جگہیں ہیں وجوبی حذف کی؟ چار، چار میں سے ایک کیا ہے؟ سماعی، سماعی کیا معنی؟ سننے سے ہم نے سنا اس طرح ہے، کوئی ضابطہ وغیرہ ہم نہیں بنا سکے، کوئی ضابطہ نہیں۔ اور تین جگہیں کیا ہیں؟ قیاسی، یعنی باقاعدہ ہم نے ضابطہ بنا لیا، آپ کے پاس بھی ان جیسی کوئی جگہ آئے ان تین جیسی تو آپ پر بھی کے لیے بھی اس فعل کو حذف کرنا واجب ہو گا کیونکہ وہ قیاسی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں ان چار جگہوں میں سے: اَلْأَوَّلُ سِمَاعِيٌّ، پہلی جگہ سماعی ہے، نَحْوُ مثال کے طور پر: اِمْرَأً وَنَفْسَهُ، پہلی مثال، وَانْتَهُوْا خَيْرًا لَّكُمْ، دوسری مثال، أَهْلًا وَسَهْلًا، تیسری مثال۔ یہ سماعی ہیں۔ وَالْبَوَاقِي قِيَاسِيَّةٌ، اور باقی تین جگہیں قیاسی ہیں۔
اِمْرَأً وَنَفْسَهُ، اصل میں کلام یوں ہے، یہ اِمْرَأً یہ منصوب ہے، مفعول بہ ہے، اور نَفْسَهُ یہ اس پر عطف ہے اور تو اِمْرَأً ہوا معطوف علیہ۔ امرؤ کسے کہتے ہیں؟ آدمی کو، اور امرأۃ عورت کو۔ تو یہ جو پہلے آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اِمْرَأً وَنَفْسَهُ، واؤ حرفِ عطف ہے، تو اِمْرَأً یہ کیا ہے؟ معطوف علیہ، اس پر عطف کیا گیا ہے، معطوف علیہ اس پر عطف کیا گیا ہے، اور نَفْسَهُ یہ کیا ہے؟ معطوف۔ تو اور آپ نے پڑھا ہے معطوف کا وہی اعراب ہوتا ہے جو معطوف علیہ، تو اِمْرَأً منصوب تو نَفْسَهُ بھی منصوب۔ اور یہ پھر یہ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ مفعول ہے اُتْرُكْ فعل کے لیے۔ اُتْرُكْ چھوڑ دے، تَرَكَ يَتْرُكُ کے معنی ہیں چھوڑنا، اسی سے فعلِ امر ہے اُتْرُكْ چھوڑ دے، تا دو نقطوں والی، را اور چھوٹا کاف، تَرَكَ، چھوڑنا۔ بھئی آپ اردو میں بھی کہتے ہیں، کوئی ساتھی آپس میں جھگڑ رہے ہوں یا کوئی ساتھی دوسرے کو تنگ کر رہا ہو یا کوئی اور وجہ ہو، آپ اس کو کہتے ہیں: بھئی چھوڑو بھئی اس کو جانے دو، بات کو چھوڑ دو، بات کو ختم کر دو، آپ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ تو عربی میں کہتے ہیں: اِمْرَأً وَنَفْسَهُ، أَيْ اُتْرُكِ امْرَأً وَنَفْسَهُ، آدمی کو اور اس کی جان کو چھوڑ دو۔ اُتْرُكْ چھوڑ دو اِمْرَأً آدمی کو وَنَفْسَهُ اور اس کی جان، آدمی اور اس کی ذات کو چھوڑ دو، یعنی اس آدمی کو چھوڑ دو، جانے دو بس۔ لیکن عرب کبھی بھی اُتْرُكْ نہیں بولتے ساتھ بلکہ ہمیشہ کیا کہتے ہیں؟ اِمْرَأً وَنَفْسَهُ۔ اصل کلام تو ہے: اُتْرُكِ امْرَأً وَنَفْسَهُ، آدمی اور اس کی، یعنی آدمی اور اس کی جان کو چھوڑ دو، یہ تو لفظی معنی ہے، با محاورہ اردو میں تو یوں ہی کہیں گے نا: بس اس آدمی کو چھوڑ دو، جانے دو۔ تو عرب کبھی بھی اُتْرُكْ ساتھ ذکر نہیں کرتے، معلوم ہوا اس اُتْرُكْ کو حذف کرنا واجب ہے۔ یعنی اِمْرَأً وَنَفْسَهُ یہ ایسا مفعول، مفعول بہ ہے جس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے، اور ضابطہ کیا؟ ضابطہ کوئی نہیں، سماعی، ہم نے عربوں سے اسی طرح سنا ہے، کوئی ضابطہ ہماری سمجھ میں ابھی تک نہیں آیا، وہ اس پر اس کے کبھی بھی اس کے فعل کو ذکر نہیں کرتے۔
ترکیب کیجیے: اُتْرُكْ فعلِ امر، انت ضمیر اس کے اندر، چھوڑ تو چھوڑ دینا، فعلِ امر ہے، اُتْرُكْ فعلِ امر، انت ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اِمْرَأً منصوب لفظاً معطوف علیہ، منصوب کیوں؟ مفعول بہ ہے، اور لفظاً کیوں؟ نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، معطوف علیہ ہوا، اور واؤ حرفِ عطف، نَفْسَهُ، نَفْسَ اعراب منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ معطوف ہے، کیونکہ یہ معطوف ہے اور معطوف علیہ اور معطوف کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، نَفْسَ۔ مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ ہاں جس اسم کے ساتھ بھی کیا جڑی ہوئی ہو؟ ضمیر، وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں، تو یہ مضاف ہوا۔ آگے؟ ہاں شاباش، ہو نہیں کہا آپ نے یہ اچھا کیا، معلوم ہوا اتنا آپ کو پتہ چل گیا، عموماً طلباء اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ جو حرکت جیسی ہوتی ہے اسی طرح پڑھ دیتے ہیں: ہو ضمیر، یہ زیر ہو تو کہتے ہیں: ہی ضمیر، نہیں بھئی، یہ ایک حرف ہے، ایک حرف پر جو اسم مشتمل ہو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو حروفِ تہجی میں تھا، اور وہاں یہ ہا ہے بھئی۔ تو ہا، اعراب بتاؤ؟ ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ مضاف الیہ ہے، محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے، شاباش۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مفعول بہ ہوا اُتْرُكْ فعل کے لیے۔ اُتْرُكْ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ، جملہ فعلیہ، امر ہے، جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔
وَانْتَهُوْا خَيْرًا لَّكُمْ، وَانْتَهُوْا خَيْرًا لَّكُمْ، تو یاد رکھیے وَانْتَهُوْا خَيْرًا لَّكُمْ یہ قرآن کی آیت ہے، قرآن کا حصہ ہے اور یہ عیسائیوں کو خطاب ہے، عیسائیوں سے کہا جا رہا ہے۔ بھئی اسلام تو ہمیں بڑا آسان اور سیدھا سادھا عقیدہ دیتا ہے جس میں کوئی مشکل نہیں، اور کیا بتلاتا ہے اسلام؟ کہ اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے، اور جبکہ عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام اور جبرائیل علیہ السلام، یہ تینوں خدا ہیں، اور بعض مریم کو ملاتے ہیں ساتھ، تو یہ تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں دراصل ایک ہیں۔ یہ تینوں دراصل ایک ہیں، تو یہ تینوں ایک ہے اور ایک دراصل تین ہیں، ہم کہتے ہیں یہ کیا معنی ہوا؟ ایک تین اور تین ایک کیسے ہو سکتا ہے؟ جو ایک ہے وہ تین نہیں اور جو تین ہے وہ ایک نہیں۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ہاں یہ بات تو ہماری سمجھ میں بھی آج تک نہیں آئی لیکن ہے اسی طرح، ایک تین ہے اور تین ایک۔ ان کے آج کل کے بھی دور کے مناظرے، بعض بڑے بڑے مناظرے، ان میں وہ ان کے پادری وغیرہ بڑی طویل بحث کے بعد بالآخر خود اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہاں بات ایسی ہی ہے، یہ عقیدہ ہماری سمجھ میں بھی آج تک نہیں آیا کہ تین ایک کیسے ہو سکتا ہے اور ایک تین کیسے ہو سکتا ہے، لیکن بہرحال ہے اسی طرح، بس تعصب کی وجہ سے اپنے اس عقیدے پر جمے ہوئے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں قرآن نے، اسلام نے ہمیں کتنا سیدھا عقیدہ دیا کہ اللہ ایک ہے، معبودِ حقیقی ایک ہے، وہی خالق ہے، وہی رازق ہے، وہی سب کچھ کرنے والا ہے بھئی۔
تو لہٰذا تو یہ جو عیسائیوں کا عقیدہ ہے، تین کو ایک کہتے ہیں اور ایک کو تین، یہ اس کو کہتے ہیں تثلیث۔ تثلیث، سمجھ میں آیا بھئی؟ تثلیث، وہی ثلاثہ سے ہے تثلیث۔ تو اس عقیدے کا کیا نام ہوا؟ تثلیث، تو یہ تثلیث ہے۔ تو قرآن میں ان سے کہا گیا: اِنْتَهُوْا عَنِ التَّثْلِيْثِ، انتہیٰ کے معنی ہیں باز آ جانا، باز آ جاؤ اے عیسائیو! عَنِ التَّثْلِيْثِ تثلیث سے، اے عیسائیو، اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اے عیسائیو، عقیدۂ تثلیث سے باز آ جاؤ۔ اور آگے ہے: خَيْرًا لَّكُمْ، اس کا فعل محذوف ہے: أَيِ اقْصِدُوْا خَيْرًا لَّكُمْ، قَصَدَ يَقْصِدُ کے معنی ہیں ارادہ کرنا، اور تم ارادہ کرو خَيْرًا لَّكُمْ اس چیز کا جو تمہارے لیے بہتر ہے، یعنی اسلام کا۔ کس کی طرف آ جاؤ؟ اسلام۔ تو قرآن میں عیسائیوں کا جو عقیدۂ تثلیث ہے، عیسائیوں کو کیا کہا گیا؟ عیسائیوں کا جو عقیدۂ تثلیث ہے تو قرآن میں ان کو کیا کہا گیا؟ اِنْتَهُوْا، اِنْتَهُوْا عَنِ التَّثْلِيْثِ، عَنِ التَّثْلِيْثِ محذوف ہے بھئی، تو اِنْتَهُوْا تم باز آ جاؤ، کس چیز سے؟ عقیدۂ تثلیث سے، تین کو ایک اور ایک کو تین کہنا چھوڑ دو۔ اور آگے ہے: خَيْرًا لَّكُمْ، اور یہ کلام کس طرح ہے دراصل؟ وَاقْصِدُوْا خَيْرًا لَّكُمْ، اور تم ارادہ کرو خَيْرًا اس چیز کا جو بہتر ہے لَّكُمْ تمہارے لیے، یعنی اسلام کا۔
تو مقامِ استشہاد ہے یہاں پر: خَيْرًا، یہ خَيْرًا منصوب ہے، مفعول بہ ہے بھئی، مفعول بہ، اور یہ مفعول بہ ہے کس فعل کے لیے؟ فعلِ محذوف کے لیے: اِقْصِدُوْا خَيْرًا لَّكُمْ، اِقْصِدُوْا فعلِ امر ہے، تم لوگ کیا کرو؟ ارادہ کرو۔ سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اِنْتَهُوْا، تم باز آ جاؤ کس چیز سے؟ تثلیث سے، عَنِ التَّثْلِيْثِ وہ محذوف ہے۔ اور خَيْرًا لَّكُمْ یہ مفعول بہ ہے، اس کا فعل محذوف ہے: اِقْصِدُوْا خَيْرًا لَّكُمْ، ارادہ کرو تم لوگ اس چیز کا جو تمہارے لیے بہتر ہے۔ تو مقامِ استشہاد میں نے بتایا کیا ہے؟ خَيْرًا، اس کے فعل کو حذف کر، حذف کیا گیا بھئی۔ تو اس کے، تو اس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے، اور کیا ضابطہ ہے؟ کوئی ضابطہ نہیں، یہ کس پر موقوف ہے؟ سماع پر، اسی طرح ہم نے سنا ہے بھئی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِنْتَهُوْا، تم باز آ جاؤ، اس کے لیے وہ جو عَنِ التَّثْلِيْثِ کو محذوف نکالا، کس چیز سے باز آؤ؟ تثلیث سے، اور خَيْرًا کے لیے مفعول، خَيْرًا کے لیے فعل الگ نکالا، اس خَيْرًا کو اِنْتَهُوْا کے لیے ہی مفعول کیوں نہیں بنا دیتے؟ سوال، اشکال سمجھ میں آیا؟ تو جواب یہ کہ وہ مفعول نہیں چاہتا، مفعول نہیں چاہتا بھئی، وہ مفعول نہیں، اسی لیے اِنْتَهُوْا عَنِ التَّثْلِيْثِ، عَنْ درمیان میں لے کر آیا، عَنْ درمیان میں لاتے ہیں بھئی۔ اور نیز اگر یہ بن بھی جاتا تو پھر معنی خراب ہو جاتا بھئی، کس طرح؟ اے عیسائیو، اِنْتَهُوْا تم کیا کرو؟ باز آ جاؤ۔ کس چیز سے؟ خَيْرًا لَّكُمْ جو تمہارے لیے بہتر ہے، اے عیسائیو، جو چیز تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کیا کرو؟ باز آ جاؤ، یہ کوئی بات بنتی ہے؟ تو اس صورت میں معنی ہی صحیح نہیں رہتا، اسی لیے اِنْتَهُوْا کے لیے عَنِ التَّثْلِيْثِ محذوف نکالیں گے اور خَيْرًا کے لیے فعل محذوف نکالیں گے: اِقْصِدُوْا خَيْرًا لَّكُمْ۔
اگلی مثال ہے: وَأَهْلًا وَسَهْلًا، عربوں سے بھی آپ نے سنا ہے جب کوئی مہمان آتا ہے وہ کیا کہتے ہیں؟ أَهْلًا وَسَهْلًا۔ تو آج آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ أَهْلًا یہ بھی مفعول بہ ہے اور سَهْلًا یہ بھی کیا ہے؟ مفعول بہ ہے، اور ان کے فعل کو حذف کیا جاتا ہے اور اس کا حذف واجب ہے۔ واجب ہے، کیوں؟ واجب کیسے ہے، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ نہیں، واجب کیسے ہے؟ اگر کوئی آپ سے پوچھ لے کیسے واجب ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ ہاں ہم نے عربوں سے کبھی آج تک نہیں سنا کہ انہوں نے پورا جملہ بولا ہو بلکہ ہمیشہ کیا کہتے ہیں؟ أَهْلًا وَسَهْلًا، حالانکہ پورا جملہ یوں ہے: أَتَيْتَ أَهْلًا وَوَطِئْتَ سَهْلًا، أَتَيْتَ أَهْلًا وَوَطِئْتَ سَهْلًا، لیکن کبھی کسی سے آپ یہ پورا جملہ نہیں سنیں گے، جس سے بھی سنیں گے کیا وہ کہے گا؟ أَهْلًا وَسَهْلًا کہے گا، أَهْلًا وَسَهْلًا۔
اچھا تو أَهْلًا یہ مفعول بہ ہے اور اس کا فعل کیا ہے؟ محذوف۔ اہل کس کو کہتے ہیں؟ گھر والے۔ جب کوئی مہمان آتا ہے عرب اس کو کہتے ہیں: أَهْلًا، أَيْ أَتَيْتَ أَهْلًا، أَتَى يَأْتِي کے معنی ہوتے ہیں آنا، أَتَيْتَ تو آیا ہے أَهْلًا، کہاں پر؟ گھر والوں میں۔ بھئی مہمان آیا آپ کے گھر آیا، اردو میں بھی آپ کہتے ہیں آپ کے پاس کوئی مہمان آئے آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو اپنا گھر ہی سمجھیے گا، کوئی آپ کی تکلی، یہاں تکلیف نہیں ہو گی، جس چیز کی ضرورت ہو آپ ہمیں فوراً بتائیے گا، اس کو اپنے گھر کی طرح ہی سمجھیں، آپ کہتے ہیں یا نہیں کہتے مہمان کو؟ تو یہ عرب بھی یہی کہہ رہے ہیں: أَهْلًا، مہمان آیا اس کو کیا کہا؟ أَتَيْتَ أَهْلًا، تو آیا ہے أَهْلًا گھر والوں میں، یعنی یہ آپ کا ہی گھر ہے تو گھر والوں میں ہی آیا ہے۔ اور آگے ہے: سَهْلًا، سَہل کہتے ہیں نرم کو، نرم، اور اس کے لیے ایک فعل ہے: وَطِئْتَ، وَطِئَ يَطَأُ کے معنی ہوتے ہیں روندنا، وَطِئَ يَطَأُ کے معنی روندنا، اسی سے وَطِئَ، کیسے ہو گی گردان؟ وَطِئَ، وَطِئَا، وَطِئُوْا، وَطِئَتْ، وَطِئَتَا، وَطِئْنَ، وَطِئْتَ، وَطِئْتَ، دیکھو ہمزہ ہے اور ماقبل کسرہ ہے طا کے نیچے، اور اسی ہمزہ سے ماقبل کسرہ ہو تو ہمزہ کو یا سے بدلنا جائز ہے، تو کیا پڑھیں گے؟ وَطِيْتَ، تو وَطِئْتَ بھی پڑھ سکتے ہیں اور وَطِيْتَ، اور وَطِئَ کا معنی روندنا، یعنی قدم اوپر رکھنا۔ تو وَطِئْتَ سَهْلًا، تو نے نرم زمین کو روندا ہے یعنی نرم زمین پر قدم رکھا ہے، یعنی یہ جگہ آپ کے لیے نرمی والی ہے، سختی والی نہیں، یہاں آپ کو سہولت اور آرام ہی ملے گا، تکلیف نہیں ملے گی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو أَهْلًا وَسَهْلًا، جی تو أَهْلًا وَسَهْلًا یہ کیا ہیں؟ مفعول بہ ہیں بھئی۔ ترکیب کریں: أَتَيْتَ أَهْلًا، أَتَيْتَ فعل با فاعل، أَهْلًا منصوب لفظاً مفعول بہ، واؤ حرفِ عطف، وَطِئْتَ سَهْلًا، وَطِئْتَ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، سَهْلًا منصوب لفظاً مفعول، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خب۔ تو کہتے ہیں: وَالْبَوَاقِي قِيَاسِيَّةٌ، اور باقی تین کیا ہیں؟ قیاسی۔ خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ کہ مفعول بہ وہ نام ہے اس چیز کا جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ اور یہ کبھی کبھار فاعل پر بھی مقدم ہو جاتا ہے۔ اور اس کے فعل کو حذف کر، اس کے فعل کو حذف کیا جا سکتا ہے اور یہ حذف دو قسم پر ہے: کبھی یہ حذف جوازی ہوتا ہے اور کبھی وجوباً۔ جوازی کہاں ہو گا، جوازاً؟ جہاں قرینہ موجود ہو۔ اور وجوباً چار جگہیں ہیں، ان چار میں سے ایک جگہ ہم نے پڑھ لی اور وہ کون سی ہے؟ سماعی ہے، یعنی وہاں کوئی ضابطہ وغیرہ نہیں، ہم نے عربوں سے اسی طرح سنا ہے وہ ان مقامات پر مفعول بہ کو صرف ذکر کرتے ہیں، اس کے فعل کو ذکر نہیں، کوئی ایک بھی ذکر نہیں کرتا، معلوم ہوا یہ حذف واجب ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔