اچھا بھئی، ہم جار مجرور کی ترکیب کر رہے تھے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ جار مجرور جب بھی کلام میں آ جائیں وہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ متعلق ہوں گے، اور وہ آٹھ چیزیں کیا ہیں؟ نمبر ایک: فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اِسْمِ فَاعِل، نمبر چار: اِسْمِ مَفْعُول، نمبر پانچ: صِفَتِ مُشَبَّہ، نمبر چھ: اِسْمِ تَفْضِیل، نمبر سات: مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ: اِسْمِ فِعْل بھئی۔ تو اگر ان میں سے کوئی عبارت میں ذکر ہو اور جار مجرور اس سے جڑے تو اس سے جوڑ دیں گے، اور اگر ان میں سے کوئی بھی عبارت کے اندر ذکر نہ ہو تو پھر محذوف نکالنا پڑے گا بھئی۔
اور جار مجرور کا متعلق اگر عبارت میں ذکر ہو تو اسے ظرفِ لغو کہتے ہیں، اور اگر محذوف ہو تو اسے ظرفِ مستقر کہتے ہیں۔ اور جو محذوف نکالیں وہ اَفْعَالِ عَامَّہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں اور اَفْعَالِ خَاصَّہ میں سے بھی۔ اَفْعَالِ عَامَّہ مشہور چار ہیں بھئی، کَون، ثُبُوت، وُجُود اور حُصُول۔ جبکہ باقی افعال جو ہیں وہ اَفْعَالِ خَاصَّہ کہلاتے ہیں۔ یہ اَفْعَالِ عَامَّہ اس لیے کہلاتے ہیں کیونکہ ہر فعل کے اندر ان کا معنی پایا جاتا ہے، اور ان چاروں کا معنی ہے ہونا۔ کَون، ثُبُوت، وُجُود اور حُصُول، سب کا معنی ہے ہونا۔
اور ان میں سے پھر آپ فعل بھی نکال سکتے ہیں اور صفت کا صیغہ بھی نکال سکتے ہیں۔ البتہ فرق اتنا ہے کہ وُجُود جو ہے اس کے اندر فِعْلِ مَجْہُول نکالنا پڑے گا جبکہ باقیوں کے اندر فِعْلِ مَعْرُوف۔ اور اگر صفت کا صیغہ نکالیں تو باقیوں میں اِسْمِ فَاعِل نکالیں گے اور جبکہ وُجُود کے اندر اِسْمِ مَفْعُول نکالیں گے بھئی۔
اس کے بعد گزشتہ سبق میں میں نے ایک اور ضابطہ بھی ذکر کیا تھا کہ اگر نکرہ کے بعد فعل آ جائے یا نکرہ کے بعد جار مجرور آئے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو، تو وہ اس نکرہ کے لیے صفت بنیں گے۔ وہ فعل بھی کیا بنے گا؟ جملہ ہو کر صفت بنے گا، اور جار مجرور بھی محذوف سے متعلق ہو کر اس کے لیے صفت بن جائیں گے۔ اور اگر معرفہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے حال بنے گا، اور اسی طرح معرفہ کے بعد اگر جار مجرور آئے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو وہ بھی اس سے حال بنے گا بھئی حال۔
اس کے بعد ہم ترکیب کر رہے تھے، میں نے ایک ترکیب آپ کو لکھوائی تھی گزشتہ سبق میں بھئی، وہ حل کی ہے بھئی؟ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے۔ کیا جملہ تھا؟ ”جَاءَنِي قَاضِيَانِ مِنْ لَاهُورَ“۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے۔
”جَاءَ“ فِعْل۔ نون وقایہ۔ ”یَا“ ضمیر متکلم، اعراب اس کا؟ مَرْفُوع مَحَلًّا؟ یا ضمیر مَرْفُوع مَحَلًّا؟ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل بن رہا ہے؟ آپ نے جتنی بھی گردانیں پڑھیں ان میں کوئی ”جَاءَنِي“ صیغہ آیا تھا؟ مثلاً ”ضَرَبَنِي“، ”ضَرَبَنِي“ کوئی صیغہ آیا ہے بھئی؟ پھر؟ ”جَاءَ“ یہ تو فِعْلِ مَاضِي ہے اور یہ ”یَا“ ضمیر، یہ تو متکلم کی ہے۔ ”جَاءَ“ صیغہ ہے غائب کا اور ”یَا“ ضمیر کس کی ہے؟ متکلم کی، تو یہ اس کے لیے مفعول تو بن سکتی ہے، فاعل نہیں بھئی۔ ”یَا“ ضمیر مَنْصُوب مَحَلًّا۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول ہے، اور محلاً کیوں؟ کیونکہ مبنی ہے۔
آگے، جی کیجیے ترکیب بھئی، دوبارہ شروع سے کریں بھئی۔ ”جَاءَ“ فِعْل، نون وقایہ، ”یَا“ ضمیر متکلم کی مَنْصُوب مَحَلًّا۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ مَفْعُول بِہ بن رہا ہے اور مَفْعُول بِہ منصوب ہوتا ہے، جی۔ ”قَاضِيَانِ“ مَرْفُوع لَفْظًا فَاعِل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ ”قَاضِيَانِ“ میں تو نون کے نیچے زیر پڑھ رہا ہوں؟ ہاں، یہ تثنیہ ہے، اس کا رفع الف کے ساتھ آتا ہے جبکہ نصب اور جر یا کے ساتھ۔ تو یہ مَرْفُوع لَفْظًا فَاعِل۔
آگے، ”مِنْ“ جَارَّہ، ”لَاهُورَ“ مَجْرُور لَفْظًا۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر ”مِنْ“ جَارَّہ داخل ہے۔ لفظاً؟ کیونکہ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ کر کے دکھائیے؟ ”مِنْ لَاهُورٍ“؟ یاد رکھو، یہ جتنے شہروں وغیرہ کے نام ہیں، ملکوں کے نام ہیں، یہ غَیْر مُنْصَرِف ہوتے ہیں۔ عموماً یہ سب کیا ہیں؟ غَیْر مُنْصَرِف ہیں بھئی۔ ایک تو ان میں علمیت ہے سبب اور دوسرا تانیث ہے، تانیث۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ ”بُقْعَةٌ“ کی تاویل میں ہے۔ یہ چلیں یہ بات تو آگے آ جائے گی۔ بس اتنا، بقعہ جگہ کو کہتے ہیں، تو شہر بھی کیا ہے؟ جگہ کا نام، ملک بھی کیا ہے؟ جگہ کا نام، اور ”بُقْعَةٌ“، با ہے، قاف دو نقطوں والا، عین اور گول تا، ”بُقْعَةٌ“۔ تو اس میں دیکھو گول تا آخر میں آ رہی ہے۔ اور ”بُقْعَةٌ“ کا کیا معنی؟ جگہ، زمین کا ایک ٹکڑا۔ تو یہ جگہ، اس اعتبار سے، ”بُقْعَةٌ“ کے اعتبار سے دیکھو اس کے آخر میں گول تا آ رہی ہے، تانیث بھی آ گئی اور نیز علمیت بھی ہے، تو دو سبب آ گئے اور اس کی وجہ سے یہ کیا بن گیا؟ غَیْر مُنْصَرِف بھئی۔ اب آپ بتائیے مجھے، کیسے پڑھیں گے اس کو بھئی؟ ”مِنْ لَا“ کیسے؟ ”مِنْ لَاهُورَ“، کیونکہ غَیْر مُنْصَرِف ہے۔ غَیْر مُنْصَرِف کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ ضمہ کے ساتھ، اور نصب اور جر کس کے ساتھ آتا ہے؟ فتحہ کے ساتھ۔ تو لہٰذا ”مِنْ لَاهُورَ“۔ اب بتائیے بھئی، آپ کو پتہ چل گیا ”مِنْ لَاهُورَ“ پڑھنا ہے۔ اب اعراب بتاؤ دوبارہ، ”لَاهُورَ“؟ مَجْرُور مَحَلًّا اب ہو گیا بھئی؟ اچھا، مجرور کیوں؟ کیونکہ ”مِنْ“ جَارَّہ داخل ہے، ٹھیک ہے، اور محلاً کیوں؟ آپ بتائیے؟ مَجْرُور تَقْدِیرًا؟ ہاں، آپ بتائیے بھئی؟ لفظاً لفظاً! ”مِنْ لَاهُورَ“، آپ کو پتہ چلا ہے یا نہیں میں نے کیا پڑھا ہے؟ زبر پڑھی ہے یا نہیں؟ زبر کا پتہ چل رہا ہے یا نہیں چل رہا؟ مبنی میں تو پتہ ہی نہیں چلتا اعراب کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”جَاءَنِي هٰؤُلَاءِ“، ”رَأَيْتُ هٰؤُلَاءِ“، ”مَرَرْتُ بِهٰؤُلَاءِ“، تینوں صورتوں میں ایک جیسی حرکت، ایک جیسی حالت رہتی ہے۔ جبکہ معرب، معرب کے اندر آپ نے پڑھا، کچھ ایک میں اعراب تقدیری آتا ہے جیسے ”جَاءَنِي مُوسَى“، ”رَأَيْتُ مُوسَى“، ”مَرَرْتُ بِمُوسَى“، تو وہاں اعراب تقدیری کہتے ہیں۔ تو یہ مبنی تو ہے نہیں، معرب ہے، اور معرب میں اعراب یا لفظاً آتا ہے یا تقدیراً۔ اور یہاں پر اگر یہ مضموم ہوتا، مرفوع ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ ”لَاهُورُ“، اور نصب ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ ”لَاهُورَ“، اور جر کیسے پڑھتے؟ ”لَاهُورَ“، تو دیکھو فرق آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ ”لَاهُورَ“ پڑھنے سے پتہ چل گیا کہ اس پر رفع نہیں ہے، رفع نہیں ہے۔ اس نصب پر باقاعدہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس کا یہ اس پر جر جو ہے آتا ہی نصب کی صورت میں ہے اور یہ اعراب لفظی ہے، یہ تو میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں آپ کو بھئی۔ تو یہ اعراب کیا ہے؟ لفظی ہے، اس پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ نہ کہیں یہ منصوب ہے ”لَاهُورَ“، منصوب نہیں مجرور، اس کا جر آتا ہی اس شکل میں ہے۔ جیسے ”قَاضِيَانِ“ پیچھے گزرا، اس کے آخر میں کسرہ تھا لیکن آپ نے کیا کہا؟ مرفوع ہے، کیوں مرفوع؟ کیونکہ اس کا رفع آتا ہی الف کی صورت میں ہے، الف تو ہوتا ہے، نون پہ تو زیر نون تو اعراب ہے ہی نہیں نون پر، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی طرح غَیْر مُنْصَرِف پر جر آتا ہی کس شکل میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں، اور اس پر آپ تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ تو لہٰذا معلوم ہوا اعراب کون سا ہے؟ لفظاً ہے، اور یہ منصوب نہیں ہے، مجرور ہی ہے، اس کا جر جر کی شکل ہی یہ ہے اس کی۔ تو اب بتائیے، ”لَاهُورَ“؟ مَجْرُور لَفْظًا، شاباش۔
اب سمیٹیے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”جَاءَ“ فِعْل کے، جار مجرور، یہ کہہ رہے ہیں بھئی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”جَاءَ“ فِعْل کے ساتھ۔ ”جَاءَ“ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ آنا۔ اچھا، اور میں نے بتایا تھا طریقہ کیا ہے دیکھنے کا جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ متعلق یعنی جار مجرور کو پکڑو اور متعلق، متعلق کون ہے؟ ”مِنْ لَاهُورَ“، اور متعلق کون ہے؟ ”جَاءَ“، اور اب ذرا ترجمہ کرو، ”جَاءَ مِنْ لَاهُورَ“، وہ آیا ”مِنْ لَاهُورَ“، لاہور سے، ترجمہ صحیح بن رہا ہے یا غلط ہے؟ صحیح بن رہا ہے بھئی، معلوم ہوا یہ اسی سے جڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”جَاءَ“ فِعْل کے ساتھ۔ اب سمیٹیے سب کو۔ ”جَاءَ“ فِعْل اپنے فاعل اور مَفْعُول بِہ اور متعلق، اس کو بھی تو جوڑا ہے آپ نے، تو ”جَاءَ“ فِعْل اپنے فاعل اور مَفْعُول بِہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے سب کو پڑھ دو: ”جَاءَنِي قَاضِيَانِ مِنْ لَاهُورَ“۔ معنی کیا ہوا؟ ترجمہ کیجیے: ”جَاءَنِي“ میرے پاس، میرے پاس لاہور سے دو قاضی آئے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
اگلا جملہ لکھیے: ”أَكْرَمْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ“، ”مِنْ قُرَيْشٍ“۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے آپ۔ ”أَكْرَمْتُ“ فِعْل بَافَاعِل، ”تَا“ ضمیر مَرْفُوع مَحَلًّا اس کا فاعل، شاباش۔ آگے، ”رَجُلًا“ مَنْصُوب لَفْظًا مَفْعُول بِہ۔ منصوب کیوں؟ مَفْعُول بِہ ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، جی۔ آگے، ”مِنْ“ جَارَّہ، ”قُرَيْشٍ“ مَجْرُور لَفْظًا، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”أَكْرَمْتُ“ فِعْل کے ساتھ، کیونکہ جار مجرور کسی نہ کسی چیز سے متعلق ہوتا ہے اور کتنی چیزیں ہیں وہ؟ آٹھ ہیں، نمبر ایک: فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اِسْمِ فَاعِل، نمبر چار: اِسْمِ مَفْعُول، نمبر پانچ: صِفَتِ مُشَبَّہ، نمبر چھ: اِسْمِ تَفْضِیل، نمبر سات: مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ: اِسْمِ فِعْل۔ تو ان میں سے ایک فعل یہاں موجود ہے اور وہ کیا ہے؟ ”أَكْرَمْتُ“۔ اب ہم نے دیکھنا ہے کہ یہ اس سے جڑتا ہے یا نہیں جڑتا۔ متعلق کون ہے؟ ”مِنْ قُرَيْشٍ“، اور متعلق کس کو آپ بنانا چاہتے ہیں؟ ”أَكْرَمْتُ“۔ ذرا ان دو کو الگ کرو: ”أَكْرَمْتُ مِنْ قُرَيْشٍ“۔ ”أَكْرَمْتُ“ میں نے اکرام کیا، ”مِنْ قُرَيْشٍ“ قریش سے، میں نے اکرام کیا قریش سے۔ ہاں، بتائیے، جڑ رہا ہے؟ معنی صحیح بن رہا ہے؟ کچھ سمجھ میں آ رہا ہے آپ کو؟ جڑ رہا ہے کہ نہیں جڑ رہا مجھے یہ بتائیے آپ بھئی؟ نہیں جڑ رہا، معنی ہی نہیں صحیح بن رہا۔ ”أَكْرَمْتُ مِنْ قُرَيْشٍ“، میں نے اکرام کیا، کس سے؟ قریش سے، یہ تو کوئی بات ہی نہیں بنتی بھئی۔
اچھا، معلوم ہوا یہ اس سے متعلق نہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں جی یہ جار مجرور متعلق ہو گا ”رَجُلٌ“ سے۔ ”رَجُلٌ“ مجھے بتائیے فعل ہے؟ فعل نہیں۔ اچھا، مصدر ہو گا؟ مصدر بھی نہیں ہے۔ اِسْمِ فَاعِل ہے؟ ”ضَارِبٌ“، ”فَاتِحٌ“، ”مَانِعٌ“ جیسا؟ وہ بھی نہیں ہے۔ اِسْمِ مَفْعُول ہے؟ ”مَضْرُوبٌ“، ”مَفْتُوحٌ“ وغیرہ؟ وہ بھی نہیں۔ اسم تفضیل بھی نہیں ہے یہ ”أَضْرَبُ“ وغیرہ، مبالغے کا صیغہ بھی نہیں، صِفَتِ مُشَبَّہ بھی نہیں۔ رجل تو ذات کا نام ہے۔ ہاں، اب کیا کریں گے؟ اچھا، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَ“ سے، کیوں کیا کرنا کیا بنائیں گے آپ اس کو پھر؟ میں نے ضابطے بتائے وہ ضابطے ذہن میں نہیں ہیں؟ ابھی میں نے سارے ضابطے ذکر کیے۔ کیا کریں گے بھئی؟ کیا بنائیں گے؟ حال؟ حال کیوں بنائیں گے؟ جار مجرور جب کس کے بعد آئیں؟ معرفہ، معرفہ کے بعد آئیں اور کسی سے نہ جڑ رہے ہوں تو حال بنتے ہیں۔ معرفہ کیا آیا ہے یہاں پر؟ رجل معرفہ ہے؟ یہ ضمیر ہے؟ اسم اشارہ ہے؟ اسم موصول ہے؟ کسی کا نام ہے؟ پھر؟ ہاں، تو نکرہ کے بعد جار مجرور آئے اور کسی سے نہ جڑ رہا ہو، یہ بھی کسی سے نہیں جڑ رہا تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، شاباش۔
تو ”رَجُلًا“ مَنْصُوب لَفْظًا مَوْصُوف۔ ”مِنْ“ جَارَّہ، ”قُرَيْشٍ“ مَجْرُور لَفْظًا۔ جار مجرور مل کر موصوف کی صفت؟ صفت نہیں صفت تو بنے گی لیکن براہ راست نہیں، اس نے متعلق تو ضرور ہونا ہے، ہر حال میں ہونا ہے، جو کچھ بھی بنانا چاہتے ہو پہلے متعلق کرو۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ”ثَبَتَ“ فعل سے۔ کس سے متعلق؟ ”ثَبَتَ“ فعل۔ اب کیجیے ترکیب۔ ”ثَبَتَ“ فِعْل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مَرْفُوع مَحَلًّا اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق، ”ثَبَتَ“ فِعْل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت۔ آپ پورے جملے کو صفت بنانا چاہتے ہیں، ہاں آپ بتائیے بھئی یہ صفت بن سکتا ہے؟ عائد نہیں آپ نے بتلایا، جملے کو جس جملہ اور شبہ جملہ جس سے بھی جوڑنا ہو اس کے لیے کیا چاہیے؟ عائد۔ انہوں نے عائد نہیں بتایا تھا، اب بتائیے: ”هُوَ“ ضمیر مَرْفُوع مَحَلًّا جو لوٹ رہی ہے ”أَكْرَمْتُ“ فعل کو؟ فعل کی طرف ضمیر لوٹا رہے ہو! جوڑنا ہے ”رَجُلًا“ سے اور لوٹا دی ضمیر کس کو؟ فعل کو! ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹے گی؟ ”رَجُلًا“ کو بھئی ”رَجُلًا“ کو، یہ عائد آ گیا۔ تو فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر مَفْعُول بِہ۔ اب سمیٹ دیں سب کو: ”أَكْرَمْتُ“ فِعْل اپنے فاعل اور مَفْعُول بِہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے اس کو پڑھ دیں: ”أَكْرَمْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ“۔ شاباش۔ اب اگر آپ سے کوئی پوچھے: ”ثَبَتَ مِنْ قُرَيْشٍ“ اس جملہ، یہ جو جملہ فعلیہ آیا تھا درمیان میں اس کا کیا اعراب ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ ”ثَبَتَ مِنْ قُرَيْشٍ“ کیا اعراب ہو گا؟ مَرْفُوع مَحَلًّا؟ مرفوع کیوں؟ خبر کا ذکر کب جملہ مبتدا خبر کوئی آئے ہیں یہاں پر؟ مبتدا خبر الگ قسم ہے جملے کی، یہاں تو نہ مبتدا گزرا ہی نہیں ہے تو خبر کہاں سے بن گئی؟ ہاں، آپ بتائیے اعراب بھئی؟ مَنْصُوب مَحَلًّا، شاباش۔ منصوب کیوں؟ صفت ہے، کیونکہ یہ ”رَجُلًا“ کی صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف کیا تھا؟ منصوب، تو صفت بھی کیا ہو گی؟ منصوب ہو گی۔ ترجمہ اب کیجیے اس کا بھئی: میں نے اکرام کیا دو مردوں کا قریش کے؟ آپ کریں ترجمہ بھئی: میں نے اکرام کیا مرد کا قریش سے، جی۔ آپ کریں ترجمہ: دو مرد کدھر ہیں؟ قریش کے مردوں کا اکرام کیا، جمع کدھر ہے یہاں پر؟ بھئی میں نے تو موصوف صفت کے ترجمے کا بھی طریقہ بتایا تھا، بس چند دن گزر گئے تو سب نکل گیا ذہن سے۔ میں نے اکرام کیا، یہ نکرہ ہے نا تو نکرہ والے میں کیا طریقہ تھا؟ کیا لفظ لے آؤ موصوف سے پہلے؟ ایسا یا ایسی۔ ”أَكْرَمْتُ“ میں نے اکرام کیا، ”رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ“ ایسے آدمی کا ”مِنْ قُرَيْشٍ“ جو کس قبیلے سے ہے؟ جو قبیلہ قریش سے ہے، یعنی قریشی ہے۔ یعنی میں نے ایک آسان لفظوں میں یوں کہو: میں نے ایک قریشی آدمی کا اکرام کیا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
اب آپ ترکیب کیجیے بھئی، اسی جملے کی ترکیب کریں دوبارہ، اور اب آپ نے ”ثَبَتَ“ نہیں نکالنا، صفت کا صیغہ نکالنا ہے، چلیے۔ ”أَكْرَمْتُ“ فِعْل بَافَاعِل، ”تَا“ ضمیر مَرْفُوع مَحَلًّا اس کا فاعل، ”رَجُلًا“ مَنْصُوب لَفْظًا مَوْصُوف، شاباش۔ جی آگے، ”مِنْ“ جَارَّہ، ”قُرَيْشٍ“ مَجْرُور لَفْظًا، جار مجرور بغیر متعلق ہوئے کچھ نہیں ہوتے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَابِتٌ“ صیغہ اِسْمِ فَاعِل کے ساتھ، شاباش۔ ”ثَابِتٌ“ صیغہ اِسْمِ فَاعِل، ”هُوَ“ ضمیر مَرْفُوع مَحَلًّا اس کے اندر اس کا فاعل جو لوٹ رہی ہے ”رَجُلًا“ موصوف کو۔ اچھا، ”هُوَ“ ضمیر رجل کو، ضمیر مرجع میں مطابقت ہے؟ رجل بھی مفرد مذکر، ”هُوَ“ ضمیر بھی مفرد مذکر، معلوم ہوا یہ ضمیر لوٹ سکتی ہے اس کو، شاباش۔ اب سمیٹیے بھئی۔ ”ثَابِتٌ“ صیغہ اِسْمِ فَاعِل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، شبہ جملہ ہو کر صفت۔ بھئی ”ثَابِتٌ مِنْ قُرَيْشٍ“، توجہ ہے سبق کی طرف؟ ”ثَابِتٌ مِنْ قُرَيْشٍ“ اس کو آپ کس کی صفت بنا رہے ہیں؟ ”رَجُلًا“ کی۔ یہ کیسی صفت ہے؟ موصوف ہے منصوب ”رَجُلًا“ اور صفت ہے ”ثَابِتٌ“ مرفوع، مرفوع! حالانکہ موصوف صفت میں مطابقت ہوتی ہے اعراب کے اندر بھی۔ تو اب کیا کریں گے؟ آپ ”رَجُلًا“ کی صفت بنا رہے ہیں ”ثَابِتٌ“ کو، ”رَجُلًا“ منصوب ہے، ”ثَابِتٌ“ مرفوع ہے، یہ تو موصوف صفت بن ہی نہیں سکتے۔ اب کیا کریں گے؟ جی آپ بتائیے کیا کریں گے؟ ”ثَابِتًا“! ہاں آسان سی بات ہے بھئی، یہ ”ثَابِتٌ“ آپ نے نکالا ہے تو منصوب نکال دو، معلوم ہوا آپ نے مرفوع نکال کر غلطی کی، تو کیا نکالو؟ ”ثَابِتًا“۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب ”ثَابِتًا“ مَنْصُوب لَفْظًا صیغہ اِسْمِ فَاعِل۔ اب آپ سے کوئی پوچھے منصوب کیوں؟ آپ کیا کہیں گے؟ صفت ہے، اور صفت ہے ”رَجُلًا“ کی، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ تو ”ثَابِتًا“ صیغہ اِسْمِ فَاعِل جس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر جو لوٹ رہی ہے رجل کو، صیغہ اِسْمِ فَاعِل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر مَفْعُول بِہ، فعل اپنے فاعل اور مَفْعُول بِہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ وہی ہو گا جو ”ثَبَتَ مِنْ قُرَيْشٍ“ میں تھا: ”أَكْرَمْتُ رَجُلًا ثَابِتًا مِنْ قُرَيْشٍ“۔ ترجمہ کیا ہو گا؟ میں نے اکرام کیا ایسے آدمی کا جو قبیلہ قریش سے ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو جب آپ نے ”ثَبَتَ“ نکالا تھا تو وہ تھا مَنْصُوب مَحَلًّا، اور جب آپ نے ثابت نکالا تو یہ تو مفرد ہے جملہ نہیں، جملہ تو مبنی ہوتا ہے، جب یہ مفرد ہے اور معرب ہے تو اس پر اعراب بھی آئے گا اسی کے مطابق، تو اب ”ثَابِتٌ“ یہاں نہیں نکالیں گے بلکہ کیا نکالیں گے؟ ”ثَابِتًا“۔ ہاں، ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، یہاں کیا ترکیب کی تھی؟ جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہیں؟ ”ثَابِتٌ“ سے، وہاں مرفوع نکالا تھا ”ثَابِتٌ“، کیوں؟ کیونکہ وہ خبر تھی، ”زَيْدٌ“ تھا مبتدا اور ”ثَابِتٌ فِي الدَّارِ“ کیا تھی؟ خبر۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیں ایک اور ترکیب کر لیں بھئی: ”اَلرَّجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسَانِ“، ”فِي الْمَسْجِدِ جَالِسَانِ“۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے آپ بھئی۔ ”اَلرَّجُلَانِ“ مَرْفُوع لَفْظًا مُبْتَدَا۔ مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ ”اَلرَّجُلَانِ“ یہاں تو میں تو زیر پڑھ رہا ہوں؟ ہاں یہ تثنیہ ہے، اس کا رفع الف کے ساتھ آتا ہے اور الف پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں، ”اَلرَّجُلَانِ“، شاباش۔ آگے، ”فِي“ جَارَّہ، ”اَلْمَسْجِدِ“ مَجْرُور لَفْظًا۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پہ حرفِ جر داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں باقاعدہ، تلفظ کر کے دکھائیے؟ ”اَلْمَسْجِدِ“، جی شاباش۔ کرتے جائیے ترکیب۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَا“ فعل کے ساتھ، شاباش۔ ”ثَبَتَا“ سے کیوں متعلق کیا آپ نے؟ وجہ کیا؟ ”ثَبَتَا“ فعل، شاباش، ”ثَبَتَا“ تثنیہ کا صیغہ آپ نے نکالا۔ جی، سمیٹیے بھئی، کیجیے ترکیب کرتے جائیے۔ ”ثَبَتَا“ فعل، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَا“ فعل کے ساتھ، ”ثَبَتَا“ تثنیہ کا صیغہ، فعل، اس کے اندر الف ضمیر مَرْفُوع مَحَلًّا اس کا فاعل، جی۔ بھئی سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ نے جار مجرور کے لیے محذوف کیوں نکالا؟ آپ بتائیے بھئی، جار مجرور کے لیے محذوف کیوں نکالا انہوں نے؟ بھئی، جار مجرور نے متعلق ہونا ہے آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، وہ آٹھ چیزیں ذرا دہراؤ پھر بھئی: نمبر ایک فعل، تو یہاں کوئی فعل ہے؟ نہیں، ”اَلرَّجُلَانِ“ یہ تو مبتدا گزر گیا، اس کے علاوہ اس کے علاوہ کوئی فعل ہے؟ نہیں، اچھا، اور پھر مصدر کوئی ہے؟ مصدر بھی نہیں، اِسْمِ فَاعِل؟ ”جَالِسٌ“، ”ضَارِبٌ“، یہ اِسْمِ فَاعِل ہے کہ نہیں ہے بھئی؟ جالس کا معنی بیٹھنے والا، بیٹھا ہوا، تو یہ اِسْمِ فَاعِل موجود ہے، تو آپ نے اس سے کیوں نہیں جوڑ کر دیکھا اس کو؟ مقدم سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں، مؤخر سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں، بعد والے آنے والے بعد میں آنے والے لفظ سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں بھئی۔ ہاں ہو گا ان کے پاس پاس ہی، یا ان سے پہلے ہو گا یا ان کے بعد ہو گا بھئی۔ تو جوڑ کر دیکھیں۔ ”جَالِسَانِ“ ادھر جوڑ کر دیکھیں اور ترتیب دے دیں، جار مجرور کو ذرا مؤخر کر دیں: ”جَالِسَانِ فِي الْمَسْجِدِ“، بیٹھے ہوئے ”فِي الْمَسْجِدِ“، کس میں؟ مسجد میں، جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ جڑ رہا ہے، شاباش۔ تو یہ جار مجرور مل کر متعلق ہوں گے ”جَالِسَانِ“ کے ساتھ۔ اب کیجیے ترکیب آگے: ”جَالِسَانِ“ مَرْفُوع لَفْظًا صیغہ اِسْمِ فَاعِل، جی۔ ”هُمَا“ ضمیر مَرْفُوع مَحَلًّا اس کے اندر اس کا فاعل جو لوٹ رہی ہے ”اَلرَّجُلَانِ“ کو، شاباش، یہ انہوں نے عائد بتلا دیا۔ کرتے جائیے ترکیب: ”هُمَا“ ضمیر لوٹ رہی ہے ”اَلرَّجُلَانِ“ مبتدا کو، جی۔ ”جَالِسَانِ“ صیغہ اِسْمِ فَاعِل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ٹھیک ہے، ترتیب ذرا خود ذہن میں دے دیا کریں: ”اَلرَّجُلَانِ جَالِسَانِ فِي الْمَسْجِدِ“۔ ”جَالِسَانِ“ کی جگہ آپ کیا نکالتے تھے؟ ”ثَابِتَانِ“ نکالتے تھے یا نہیں نکالتے تھے؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ اب جب ”جَالِسَانِ“ خود موجود ہے تو اب ”ثَابِتَانِ“ نکالنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ تو ہم تب نکالتے تھے جب ان کا متعلق عبارت میں نہیں ہوتا تھا۔ تو یہ مذکور ہے، لہٰذا معلوم ہوا یہ ”فِي الْمَسْجِدِ“ یہ ظرفِ لغو ہے یا ظرفِ مستقر ہے؟ ظرفِ لغو ہے کیونکہ ان کا متعلق عبارت میں ذکر ہے۔ اگر محذوف ہو تو پھر یہ ظرفِ مستقر کہلاتے ہیں، اور اگر ذکر ہو تو ظرفِ لغو۔ تو ”جَالِسَانِ“ صیغہ اِسْمِ فَاعِل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ عائد انہوں نے بتلا دیا تھا ورنہ شبہ جملہ خبر نہ بن سکتا اگر عائد نہ ہوتا تو۔ ترجمہ کیجیے، پہلے روانی سے پڑھ دیں: ”اَلرَّجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسَانِ“۔ ترجمہ کیجیے: وہ دو مرد مسجد میں بیٹھے ہیں، ”اَلرَّجُلَانِ“ الف لام آیا معلوم ہوا کوئی دو خاص آدمی ہیں تو کیا کہیں گے وہ دو، وہ دو مرد ”فِي الْمَسْجِدِ جَالِسَانِ“ مسجد میں بیٹھے ہیں، اردو میں ترتیب دے دیں: وہ دو مرد مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔