گزشتہ سبق میں ہم نے جار مجرور کی ترکیب شروع کی تھی، اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ جار مجرور جب بھی کلام میں آجائیں وہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ متعلق ہوں گے، اور وہ آٹھ چیزیں ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونی چاہئیں۔ وہ آٹھ چیزیں یاد ہیں؟ نمبر ایک: فِعْل، نمبر دو: مَصْدَر، نمبر تین: اِسْمِ فَاعِل، نمبر چار: اِسْمِ مَفْعُول، نمبر پانچ: صِفَتِ مُشَبَّہ، نمبر چھ: اِسْمِ تَفْضِیل، نمبر سات: مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ: اِسْمِ فِعْل۔ یہ آٹھ چیزیں ہر وقت ذہن میں ہوں بھئی۔ تو جب بھی جار مجرور کلام میں آئے گا وہ ان آٹھ میں سے کسی ایک سے ضرور متعلق ہوگا۔ اگر جملے کے اندر ان میں سے کوئی ایک موجود ہے تو جار مجرور اس سے متعلق ہو جائے گا، اور اگر جملے میں ان میں سے کوئی بھی موجود نہیں تو پھر ہمیں محذوف نکالنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
اور جار مجرور کو میں نے بتایا تھا ظرف کہتے ہیں مجازاً۔ اور ان کا متعلَّق جو ہے، یہ خود تو کیا ہیں؟ متعلِّق، اور جس سے جڑیں گے وہ ہے متعلَّق۔ تو ان کا متعلَّق اگر کلام کے اندر ذکر ہو تو ان کو کہتے ہیں ظرفِ لغو۔ ان کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ لغو۔ اور اگر ان کا متعلَّق محذوف نکالنا پڑے تو پھر ان کو کہتے ہیں ظرفِ مستقر بھئی، ظرفِ مستقر۔ تو یہ جو ظرف ہے اس نے بھی اپنے متعلَّق کی جگہ پر قرار پکڑا ہوا ہے۔ ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، اصل میں کیا تھا؟ ”زَيْدٌ ثَابِتٌ فِي الدَّارِ“، تو ”ثَابِتٌ“ چلا گیا اور یہ ”فِي الدَّارِ“ نے اس کی جگہ پر قرار پکڑ لیا، تو اس لیے یہ کیا ہے؟ ظرفِ مستقر ہے بھئی، ظرفِ مستقر۔ اور اگر اپنے عامل کی جگہ پر، اپنے متعلَّق کی جگہ پر قرار نہیں پکڑا تو پھر وہ ظرفِ لغو ہے۔
اور پھر میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ جو محذوف نکالیں گے، یہ افعالِ عامہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں اور افعالِ خاصہ میں سے بھی۔ اور افعالِ عامہ مشہور چار ہیں، مشہور چار۔ اور وہ کون کون سے ہیں؟ کَوْن، ثُبُوت، حُصُول اور وُجُود۔ تو ان سے فعل بھی نکال سکتے ہیں اور صفت کا صیغہ بھی نکال سکتے ہیں۔ تو کَوْن سے اگر فعل نکالنا ہو تو عموماً کیا نکالتے ہیں؟ ”كَانَ“، اور اگر صفت کا صیغہ نکالنا ہو تو ”كَائِنٌ“۔ اور ثُبُوت سے اگر فعل نکالنا ہو تو ”ثَبَتَ“، اور اگر صفت کا صیغہ نکالنا ہو تو ”ثَابِتٌ“۔ اور حُصُول سے اگر فعل نکالنا ہو تو ”حَصَلَ“، اور اگر صفت کا صیغہ نکالنا ہو تو ”حَاصِلٌ“۔ اور وُجُود میں البتہ فرق پڑے گا کہ وہاں پر فعلِ مجہول نکالنا ہے اور صفت کا صیغہ اسمِ فاعل نہیں نکالنا بلکہ اسمِ مفعول۔ تو ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“ اَی ”زَيْدٌ“ وجود سے بنائیں: ”زَيْدٌ وُجِدَ فِي الدَّارِ“، ”زَيْدٌ وُجِدَ فِي الدَّارِ“۔ یا اگر صفت کا صیغہ نکالنا ہے تو ”زَيْدٌ مَوْجُودٌ فِي الدَّارِ“، اسمِ مفعول نکالیں گے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
اس کے بعد ایک ضابطہ جو پہلے بھی ذکر ہو چکا وہ بھی یاد رکھیں بھئی۔ یاد رکھیے: نکرہ کے بعد اگر فعل آجائے تو وہ فعل عموماً اس نکرہ کے لیے صفت بنے گا۔ کیا بنے گا؟ صفت۔ کس کے بعد اگر فعل آئے؟ نکرہ کے بعد اگر فعل آجائے۔ کیونکہ فعل، ہاں، ایک بات رہ گئی۔ یہ جو افعالِ عامہ نکال رہے ہیں آپ، ”ثَبَتَ“ بھی نکال سکتے ہیں ”ثَابِتٌ“ بھی، اور ”كَانَ“ بھی نکال سکتے ہیں ”كَائِنٌ“ بھی، ”حَصَلَ“ بھی نکال سکتے ہیں ”حَاصِلٌ“ بھی، ”وُجِدَ“ بھی نکال سکتے ہیں اور ”مَوْجُودٌ“۔ لیکن فرق یہ ہے، جب فعل نکالیں گے تو فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل وغیرہ سے مل کر جملہ بنے گا، لیکن صفت کا صیغہ نکالیں گے تو وہ جملہ نہیں بنے گا، وہ مفرد کا مفرد ہی رہے گا، تو وہ، اسے پھر شبہ جملہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ۔ یاد رکھو! فعل کے ساتھ جب فاعل یا نائب فاعل ملتا ہے اور جتنی بھی چیزیں مل جائیں تو وہ جملہ بنتا ہے، لیکن یہ جو صفت کے صیغے ہیں ان کے ساتھ چاہے ہزار چیزیں جڑ جائیں یہ پھر بھی مفرد کے مفرد ہی رہتے ہیں۔ تو لہٰذا اس کو پھر جملہ نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ شبہ جملہ کہیں گے، شبہ جملہ۔
اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ صفت کے صیغے کے لیے بھی فعل کی طرح فاعل یا نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے۔ اسمِ فاعل کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے؟ فاعل۔ اور اسمِ مفعول کے لیے؟ نائب الفاعل چاہیے ہوتا ہے۔ تو وہ ضابطہ میں ذکر کر رہا تھا ابھی، کہ نکرہ، نکرہ کے بعد اگر فعل آجائے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے عموماً؟ صفت بنتا ہے۔ کس طرح صفت بنے گا؟ فعل کے، جب فعل آیا نکرہ کے بعد تو وہ فعل اس کے لیے پھر کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل۔ وہ پورا جملہ بنے گا اور پھر پورا جملہ ہو کر وہ اس نکرہ کی صفت بنے گا۔ کیا بنے گا؟ صفت۔ اس سے ایک اور بات کا بھی پتہ چل گیا کہ جملہ جو ہے وہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ جملے کے اپنے اندر خود چاہے دس معرفہ آ رہے ہوں، لیکن جب پورا جملہ بن گیا اب وہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے۔ جملے کے اندر تو معرفہ کئی موجود ہیں لیکن جب پورا جملہ بن گیا اب وہ معرفہ نہ رہا، اب کیا بن گیا؟ نکرہ۔ اور جب نکرہ بن گیا تو نکرہ کے بعد نکرہ آگیا۔ نکرہ کے بعد فعل تھا نا؟ جی۔ وہ فعل کیا بن گیا؟ جملہ، اور جملہ بھی کیا؟ نکرہ۔ تو یہ بھی نکرہ ہوا اور ماقبل میں بھی کیا آیا تھا؟ نکرہ۔ تو لہٰذا جب نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ کیا بنتے ہیں آپس میں؟ موصوف صفت بنتے ہیں، تو یہ بھی موصوف صفت بنیں گے۔
جبکہ معرفہ کے بعد اگر فعل آجائے تو وہ عموماً اس سے حال بنتا ہے۔ کیا بنتا ہے؟ حال بنتا ہے۔ وہ جو معرفہ ہے، وجہ کیوں حال کیوں بنے گا؟ کیونکہ ماقبل میں آیا معرفہ اور مابعد میں کیا آیا؟ فعل، اور فعل کیا بنے گا؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ۔ تو ماقبل میں ہے معرفہ اور یہ ہے نکرہ، تو نکرہ تو معرفہ کی صفت نہیں بن سکتا، تو صفت نہیں بنے گا، پھر کیا بناتے ہیں اس کو؟ حال بناتے ہیں۔ اسی لیے ”قَالَ اللهُ تَعَالَىٰ“، لفظِ ”اللهُ“ کے بعد ”تَعَالَىٰ“، یہ فعل آگیا۔ ”تَعَالَىٰ“ کیا ہے؟ فعل، بابِ تَفَاعُل ہے۔ بابِ تفاعل۔ تو یہ فعل آیا تو اس کو پھر کیا بناتے ہیں؟ حال بناتے ہیں۔ لفظِ ”اللهُ“ کو ذوالحال اور ”تَعَالَىٰ“ کو اس سے حال بناتے ہیں بھئی۔
تو ضابطہ سمجھ میں آیا؟ کیا؟ نکرہ کے بعد اگر فعل آئے تو عموماً کیا بنے گا اس کے لیے؟ صفت۔ اور معرفہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے حال بنے گا۔ اور بالکل اسی طرح ہے جار مجرور بھی۔ نکرہ کے بعد اگر جار مجرور آجائیں، کس کے بعد؟ نکرہ کے بعد، اور وہ جار مجرور کسی سے جڑ نہ رہا ہو، یہ بھی یاد رکھنا ساتھ، کہ نکرہ کے بعد کون آئے؟ جار مجرور، اور وہ جار مجرور کسی سے جڑ نہ رہا ہو تو پھر وہ بھی اس نکرہ کے لیے صفت بنے گا۔ بات سمجھ میں آئی؟ کون آئے نکرہ کے بعد؟ جار مجرور، اور وہ جار مجرور کسی سے جڑ نہ رہا ہو یعنی محذوف نکالنا پڑے آپ کے لیے اس کے متعلَّق کو، تو پھر وہ بھی عموماً کیا بنتا ہے اس نکرہ کے لیے؟ صفت بنتا ہے۔ اور معرفہ میں بعینہٖ اسی طرح، معرفہ کے بعد اگر جار مجرور آئے اور وہ کسی سے جڑ نہ رہا ہو تو پھر وہ اس معرفہ سے حال بنے گا۔ کیا بنے گا؟ حال بنے گا۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا نکرہ کے بعد فعل آجائے یا جار مجرور آجائے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو یہ دونوں نکرہ کے لیے صفت بنتے ہیں۔ اور معرفہ کے بعد اگر فعل آجائے یا جار مجرور آجائے اور وہ جار مجرور کسی سے نہ جڑ رہا ہو، محذوف نکالنا پڑے اس کا متعلَّق، تو وہ فعل یا وہ جار مجرور اس معرفہ کے لیے حال بنیں گے بھئی۔ ضابطہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ چلیے اب کچھ ترکیبیں کر لیجیے بھئی۔
اچھا، گزشتہ ترکیب میں نے دی تھی کوئی؟ جی، کیا ترکیب تھی؟ جملہ ذرا پڑھیں۔ ”اِشْتَرَيْتُ هٰذِهِ الدَّارَ مِنْ زَيْدٍ“۔ ”اِشْتَرَيْتُ“، اچھا بھئی میں نے ترکیب دی تھی پچھلے سبق میں ”اِشْتَرَيْتُ هٰذِهِ الدَّارَ مِنْ زَيْدٍ“۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے بھئی، آپ حل کیے ہیں بھئی؟ کوشش کی ہے حل کرنے کی؟ ہاں، چلیں کیجیے بھئی۔ ”اِشْتَرَيْتُ“ کا معنی آتا ہے کہ نہیں آتا؟ ہاں، ”اِشْتَرَيْتُ“ کا معنی خریدنے کے بھی اور بیچنے کے بھی، دونوں معنی ہیں اس کے۔ لیکن زیادہ تر یہ استعمال خریدنے کے لیے ہوتا ہے۔
”اِشْتَرَيْتُ“ فعل بافاعل، تا ضمیر اس کا فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ وہ فاعل ہے۔ کیونکہ فاعل ہے، شاباش۔ محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ وہ ضمیر ہے۔ کیونکہ ضمیر ہے مبنیات میں سے، بھئی تا پر تو میں پیش باقاعدہ پڑھ رہا ہوں، پھر آپ محلاً کیوں کہہ رہے ہیں، لفظاً کیوں نہیں کہتے؟ ہاں، یہ اس کی حرکت ہے، یہ اس کا اعراب نہیں ہے بھئی۔ آگے: ”هٰذِهِ“ منصوب محلاً موصوف۔ منصوب کیوں؟ جی؟ شاباش۔ یہ منصوب محلاً موصوف، منصوب محلاً موصوف۔ منصوب کیوں؟ فعل کے بعد، ہاں فاعل مرفوع، ہاں اب آگے مفعول آئے گا، شاباش، یہ مفعول بنے گا، کیونکہ فاعل گزر گیا۔ فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل یا نائب فاعل مرفوع ہوتے ہیں، پھر آگے سارے آگے منصوبات یا مجرورات ہوتے ہیں۔ تو لہٰذا مرفوع تو یہ ہو نہیں سکتا، یا یہ منصوب ہے یا یہ مجرور ہے۔ اور مجرور تو صرف دو ہی ہیں، جس پر حرفِ جر داخل ہو یا جس پر مضاف آئے، یعنی مضاف الیہ ہو وہ، اور نہ اس پر حرفِ جر داخل ہے اور نہ اس سے پہلے کوئی مضاف گزرا ہے، تو یہ مضاف الیہ بھی نہیں اور حرفِ جر بھی اس پر داخل نہیں، تو لہٰذا یہ مجرور نہیں بلکہ منصوب ہے، مفعول بہ بنے گا۔ اچھا، منصوب محلاً کیوں کہا آپ نے؟ ہاں، یہ اسمِ اشارہ ہے اور اسمِ اشارہ کیا ہے؟ کس میں سے ہے؟ مبنیات۔ مبنیات تین چار چیزیں میں نے ذکر کی تھیں: نمبر ایک، تمام، ترتیب سے، تمام ضمیریں ہیں۔ نمبر دو: اسمائے اشارہ ہیں۔ نمبر تین: اسمائے موصولہ۔ یہ تو ہر وقت آپ کے ذہن میں ہوں: تمام ضمیریں، اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ، یہ مبنیات میں سے ہیں، ان کا اعراب ہمیشہ محلاً بتلانا ہے۔ تو ”هٰذِهِ“ منصوب محلاً موصوف۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے؟ ہمارے پاس دو لفظ آ رہے ہیں اور وہ دونوں معرفہ ہیں۔ شاباش، دونوں معرفہ ہیں اور جب دو معرفہ اکٹھے آجائیں تو عموماً پہلے کو موصوف بناتے ہیں اور بعد میں جتنے بھی معرفہ ہوں وہ اس کی صفت بنتے ہیں۔ تو ”هٰذِهِ“ منصوب محلاً موصوف، آگے۔ ”الدَّارَ“ منصوب لفظاً صفت، ہاں ”الدَّارَ“ منصوب لفظاً صفت۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ صفت بن رہا ہے۔ کیونکہ صفت ہے اور صفت موصوف کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف منصوب تھا تو صفت بھی منصوب ہوگی۔ اور آگے کیا کہا؟ کون سا منصوب ہے؟ لفظاً، لفظاً کیوں کہا؟ اس کے نصب پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ اس کے نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، ذرا کر کے دکھائیے: ”الدَّارَ“۔ جی، جر پہ ذرا تلفظ کریں: ”الدَّارِ“۔ ذرا پیش پر، ضمے پر تلفظ کریں: ”الدَّارُ“۔ تو یہ ”الدَّارَ“ منصوب لفظاً صفت، جی۔ موصوف صفت مل کر مفعول بہ، شاباش، موصوف صفت مل کر مفعول بہ، کیونکہ آگے اب جار مجرور الگ آنے والے ہیں تو ان کو سمیٹ دیا۔ موصوف صفت مل کر مفعول بہ۔ آگے۔ ”مِنْ“ جارہ، ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً، بس پھر بس دوبارہ مجرور کہنے کی ضرورت نہیں۔ ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہوا اور وہ جر دیتا ہے تو یہ مجرور ہوا۔ لفظاً کیوں کہا؟ اس کے جر پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ اس کے جر پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”زَيْدٍ“، ”زَيْدٍ“، شاباش، تو مجرور لفظاً۔ جی، اب سمیٹیے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”اِشْتَرَيْتُ“ فعل کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ”اِشْتَرَيْتُ“ فعل سے۔ میں نے کیا بتایا تھا؟ جار مجرور کتنی چیزوں سے متعلق ہونا چاہتا ہے؟ آٹھ میں سے کسی ایک چیز کے ساتھ، ان میں سے کوئی چیز تھی؟ ان آٹھ چیزوں میں سے کیا چیز گزری یہاں پر؟ فعل، تو اس فعل سے ہم جوڑ کر دیکھتے ہیں، اور میں نے جوڑنے کا طریقہ بھی بتایا تھا، کس طرح جوڑ کر دیکھیں گے؟ صرف متعلَّق کو پکڑیں اور متعلِّق یعنی جار مجرور کو پکڑیں، باقی لفظوں کو ختم کر دیں۔ متعلَّق کون ہے یہاں پر؟ ”اِشْتَرَيْتُ“، اور متعلِّق کون ہے؟ ”مِنْ زَيْدٍ“، باقی لفظوں کو ختم کر دیں: ”اِشْتَرَيْتُ مِنْ زَيْدٍ“، اور ترجمہ کر کے دیکھیں اس کا ذرا: ”اِشْتَرَيْتُ مِنْ زَيْدٍ“۔ میں نے خریدا زید سے۔ میں نے خریدا زید سے، بات صحیح بن رہی ہے کہ نہیں بن رہی؟ صحیح بن رہی ہے، معلوم ہوا ہم صحیح جوڑ رہے ہیں۔ بعض اوقات آپ جوڑیں گے آپ کو خود پتہ لگ جائے گا یہ تو معنی ہی نہیں صحیح بن رہا، اس سے جڑ ہی نہیں سکتا، تو یہ ترجمہ کر کے دیکھ لیا کرو۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو ”اِشْتَرَيْتُ مِنْ زَيْدٍ“، ”اِشْتَرَيْتُ“ میں نے خریدا، ”مِنْ زَيْدٍ“ زید سے، ترجمہ صحیح ہو رہا ہے؟ معلوم ہوا یہ اسی سے جڑے گا بھئی۔ تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”اِشْتَرَيْتُ“ فعل سے۔ اب سمیٹیے بھئی سارے کو۔ فعل اپنے فاعل سب سے پہلے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور اپنے متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ہاں، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب اس کو ذرا روانی سے پڑھ دو، ایک ایک لفظ کا اعراب آپ نے نکال لیا۔ ”اِشْتَرَيْتُ هٰذِهِ الدَّارَ مِنْ زَيْدٍ“۔ ”اِشْتَرَيْتُ هٰذِهِ الدَّارَ مِنْ زَيْدٍ“، ترجمہ کیجیے۔ میں نے زید سے اس گھر کو خریدا۔ ہاں، ”اِشْتَرَيْتُ“ میں نے خریدا، ”هٰذِهِ الدَّارَ“ یہ گھر، ”مِنْ زَيْدٍ“ زید سے، میں نے یہ گھر زید سے خریدا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب یہاں ایک اور اشکال ہوتا ہے، ”هٰذِهِ“ یہ تو مؤنث کا اسمِ اشارہ ہے، ”هٰذَا“ مذکر کے لیے اور ”هٰذِهِ“ مؤنث کے لیے، اور ”الدَّارَ“ یہاں یہ تو مذکر ہے تو یہ تو موصوف صفت میں مطابقت نہیں، کیا جواب دیں گے؟ ہاں، یہ ”الدَّارَ“ اگرچہ اس میں آخر میں گول تا نہیں ہے، مؤنث کی کوئی علامت نہیں ہے، لیکن عرب اس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں، ہم نے عربوں سے مؤنث ہی اس کو سنا ہے، اس کو کہتے ہیں مؤنثِ سماعی۔ تو لہٰذا یہاں مطابقت ہے، موصوف، موصوف اگر مؤنث ہے تو صفت بھی کیا ہے؟ مؤنث ہے بھئی، شاباش۔
تو موصوف صفت میں اعراب میں بھی مطابقت ہوتی ہے، موصوف اگر مرفوع ہو تو صفت بھی مرفوع، موصوف اگر منصوب ہو تو صفت بھی منصوب، موصوف اگر مجرور ہو تو صفت بھی مجرور۔ نیز تذکیر و تانیث میں بھی مطابقت ہوتی ہے، موصوف مذکر تو صفت بھی مذکر، موصوف مؤنث تو صفت بھی مؤنث۔ اور واحد، تثنیہ، جمع ہونے میں بھی مطابقت ہوتی ہے، موصوف اگر مفرد ہو تو صفت بھی مفرد ہوگی، موصوف اگر تثنیہ تو صفت بھی تثنیہ، موصوف اگر جمع تو صفت بھی جمع۔ ہاں، ایک اور ضابطہ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ جمع بتاویلِ جماعتٍ کے کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث، لہٰذا اگر موصوف جمع ہو، موصوف کیا ہو؟ جمع ہو، تو اس کی صفت واحد مؤنث آسکتی ہے، جیسے پیچھے مثال گزری تھی: ”كُتُبًا جَيِّدَةً“۔ ”كُتُبًا“ کیا تھا؟ جمع، اور ”جَيِّدَةً“ واحد مؤنث۔ تو جواب آپ نے وہاں کیا دیا تھا؟ کہ یہ جمع بتاویلِ جماعتٍ کے کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث، جب یہ واحد مؤنث ہے تو صفت بھی ”جَيِّدَةٌ“ واحد مؤنث لے آئے۔
اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”اَلْمَاءُ يَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ“۔ ”اَلْمَاءُ“، ”اَلْمَاءُ يَجْرِي“، یا، جیم، را اور پھر یا، ”يَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ“، ”عَلَى“ اور ”الْأَرْضِ“۔ ”اَلْمَاءُ يَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ“۔ چلیے بھئی آپ ترکیب کیجیے۔ جَرَیٰ يَجْرِي کے معنی ہوتے ہیں بہنا، بہنا، جیسے پانی کیا ہے زمین پر بہتا ہے۔ اچھا جی، کیجیے بھئی، ترکیب کیجیے۔ ”اَلْمَاءُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ ”اَلْمَاءُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”اَلْمَاءُ“۔ ”اَلْمَاءُ“، جی شاباش، تو ”اَلْمَاءُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے۔ ”يَجْرِي“ فعل ہے فعل ہے، جَرَیٰ يَجْرِي۔ ”يَجْرِي“ فعل، آگے، ہاں بھئی آپ کیجیے۔ ”عَلَى“ اچھا ”عَلَى“ جارہ، ”الْأَرْضِ“ مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”يَجْرِي“ فعل کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ”يَجْرِي“ فعل کے، اور؟ ”يَجْرِي“ فعل اپنے ہوا ضمیر جو کہ اس کا فاعل، ہاں ہوا ضمیر پہلے تو آپ نے نہیں بتائی، بھئی جب بھی فعل آئے سب سے پہلے کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل یا نائب فاعل کو۔ یہ فعلِ معروف ہے، اس کے لیے تو فاعل چاہیے ہوگا۔ تو لہٰذا یوں کہیں: ”يَجْرِي“ فعل بافاعل۔ چلیے اب کیجیے ترکیب بھئی، دوبارہ شروع سے کریں۔ ”اَلْمَاءُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ ”اَلْمَاءُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ ”يَجْرِي“ فعل بافاعل۔ ”يَجْرِي“ فعل بافاعل، جی، فاعل اب بتائیے۔ ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ”يَجْرِي“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، شاباش۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ کیونکہ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے، شاباش۔ آگے۔ ”عَلَى“ حرفِ جارہ، ”عَلَى“ جارہ، ”الْأَرْضِ“ مجرور، کون سا مجرور؟ لفظاً۔ ہاں، ”الْأَرْضِ“ مجرور لفظاً، جی، مجرور کیوں؟ کیونکہ حرفِ جر داخل ہے۔ کیونکہ حرفِ جر داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ ہم اس کے جر پر تلفظ کر رہے ہیں۔ ہم اس کے جر پر تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”الْأَرْضِ“، ”الْأَرْضِ“، جی، سمیٹیے اب۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”يَجْرِي“ فعل سے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”يَجْرِي“ فعل کے ساتھ، بھئی جوڑ کر دیکھیں ذرا جڑتا ہے یا نہیں؟ ”يَجْرِي“ بہتا ہے، ”عَلَى الْأَرْضِ“ زمین پر، جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ جی؟ بتائیے، اتنی کوئی مشکل بات ہے؟ معنی صحیح ہو رہا ہے یا غلط ہو رہا ہے؟ بہتا ہے زمین پر۔ ہاں، جڑ رہا ہے، سوچ میں کیوں ڈوب جاتے ہو؟ بھئی آسان سی بات ہے: بہتا ہے زمین پر، چیز جڑ رہا ہے، تو یہ اس سے جڑ جائے گا، شاباش۔
فعل اپنے فاعل، فعل اپنے فاعل اور اپنے متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر۔ ہاں، ”يَجْرِي“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر لوٹ رہی ہے ”اَلْمَاءُ“ کو، یہ انہوں نے عائد بتلا دیا، کیونکہ میں نے بتایا تھا جب خبر جملہ ہو یا شبہ جملہ ہو تو پھر عائد کا ہونا ضروری، جس چیز سے بھی آپ اس کو جوڑ رہے ہیں۔ تو ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ ”اَلْمَاءُ“ کو، اور ضمیر مرجع میں مطابقت ہے وہ بھی دیکھنا ہے: ”هُوَ“ ضمیر بھی مفرد مذکر، ”اَلْمَاءُ“ بھی مفرد مذکر، دونوں میں مطابقت بھی ہے۔ تو یہ عائد بتلا دیا، ربط آگیا، اب یہ خبر بن سکتی ہے۔ تو فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ”يَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ“ یہ جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی، اور پھر مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ، اب اس جملہ اسمیہ بنے گا، تو خبر کیا آئی؟ جملہ فعلیہ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اچھا، اب روانی سے اس کو پڑھ دیجیے پورے جملے کو۔ ”اَلْمَاءُ يَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ“۔ ”اَلْمَاءُ يَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ“، جی، ترجمہ کیجیے۔ پانی زمین پر بہتا ہے۔ پانی زمین پر بہتا ہے، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اب آپ سے اگر کوئی پوچھ لے: ”يَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ“ اس پورے جملے کا اعراب بتاؤ، آپ کیا بتائیں گے؟ مرفوع محلاً۔ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں؟ شاباش، کیونکہ یہ خبر ہے، اور محلاً کیوں؟ جملہ ہے۔ کیونکہ جملہ ہے اور جملہ بھی کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، حتیٰ کہ بعض علماء نے تو کہا یہ مبنی الاصل ہے، لیکن جمہور کے نزدیک مبنی الاصل نہیں، مبنی ضرور ہے لیکن مبنی الاصل نہیں، مبنی الاصل صرف تین چیزیں ہیں: فعلِ ماضی، فعلِ امرِ حاضر معروف اور تمام حروف بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آگئی بھئی؟
اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”زَيْنَبُ فِي الدَّارِ“۔ ”زَيْنَبُ فِي الدَّارِ“، ”فِي الدَّارِ“، ”فِي الدَّارِ“۔ چلیے بھئی ترکیب کیجیے بھئی۔ ”زَيْنَبُ“ مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش۔ ”زَيْنَبُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تلفظ کر کے دکھائیے: ”زَيْنَبُ“، ”زَيْنَبُ“۔ سوال پیدا ہوتا ہے تنوین کیوں نہیں پڑھی: ”زَيْنَبٌ“، تنوین کیوں نہیں لائے؟ معرفہ پر تنوین نہیں آتی؟ ”زَيْدٌ“، ”زَيْدٌ“ بھی تو معرفہ ہے، اس پر تو تنوین آتی ہے۔ آپ بتائیے: ہاں، یہ غیر منصرف ہے، غیر منصرف ہے۔ اور اسبابِ منعِ صرف کیا کیا ہیں اس کے اندر؟ ایک علمیت ہے، نام ہے، یہ تو سب سے آسان ہوتا ہے، علمیت۔ اور دوسرا؟ تانیث ہے، یہ مؤنث کا نام ہے، دو سبب آگئے، لہٰذا اور جو غیر منصرف ہوتا ہے اس پر کسرہ بھی نہیں آتا، تنوین بھی نہیں آتی۔ جی، تو ”زَيْنَبُ“ مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش۔ آگے بھئی: ”فِي“ جارہ، ”الدَّارِ“ مجرور، پوری بات کیا کریں بھئی، اب کیوں ادھوری کرتے ہیں؟ ”الدَّارِ“ مجرور لفظاً۔ ہاں، ”الدَّارِ“ مجرور لفظاً۔ اب سمیٹیے: جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَتْ“ فعل سے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ”ثَبَتَتْ“ فعل سے۔ بھئی میں نے آپ کو ایک ضابطہ بتلایا تھا، وہ ضابطہ کیا تھا؟ نکرہ کے بعد جار مجرور آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور معرفہ کے بعد جار مجرور آئے تو اس کے لیے حال۔ لیکن یہاں ہم آپ کو کوئی کہہ دے حال کیوں نہیں بناتے؟ حال کیوں نہیں بناتے؟ تو وجہ یہ کہ یہ پورا جملہ ہے۔ کیا ہے؟ پورا جملہ ہے، اور اگر ہم اس کو حال بنا دیں پھر تو مبتدا تو آجائے گا، خبر کدھر گئی؟ ”زَيْنَبُ“ زینب، اس حال میں کہ ”فِي الدَّارِ“ وہ کہاں ہے؟ گھر میں، آگے کیا بات ہوئی؟ بات تو ہے ہی نہیں، خبر تو ہے ہی نہیں یہاں پر، لہٰذا یہاں پر یہ ایسا نہیں کریں گے بلکہ یہاں اس کو کیا بنائیں گے؟ خبر۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ہاں، وہ ضابطہ بھی آپ کو جگہ، بعض جگہ وہ کام آئے گا اور یہ کہ معرفہ کے بعد جار مجرور آئے، کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو اس کے لیے کیا بنے گا؟ حال، وہاں پھر اگر وہ مبتدا خبر ہیں تو خبر الگ آ رہی ہوگی، یہاں تو اور کوئی خبر ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کو حال نہیں بنائیں گے، اس کو کیا بنائیں گے؟ خبر بنائیں گے کیونکہ بات پوری ہے: ”زَيْنَبُ فِي الدَّارِ“، زینب کہاں پر ہے؟ گھر میں ہے۔ ہاں، میں نے بتایا تھا معنی میں بھی غور کیا کرو، کچھ معنی سے ترکیب کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ زینب گھر میں ہے۔ جب گھر میں زینب، کس کی بات کی؟ زینب کی، اور کیا بات کی؟ کہ گھر میں ہے، معلوم ہوا جس کی بات کی وہ بنے گا مبتدا اور جو بات کی وہ کیا بنے گی؟ خبر، اور اگر حال بناتے ہیں تو ذوالحال حال سے مل کے مبتدا بن جائے گا، آگے خبر بھی تو چاہیے ہمیں، تو پھر تو ادھوری بات ہے۔ تو آپ نے کس میں غور کرنا ہے؟ معنی میں بھی غور کرنا ہے، اس سے ترکیب حل ہوگی۔ جی، تو ”فِي الدَّارِ“ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ”ثَبَتَتْ“ فعل، ”ثَبَتَتْ“، اچھا شاباش، اب انہوں نے بدل لیا، پہلے ”ثَبَتَ“ کہا تھا، اب ”ثَبَتَتْ“، دیکھا؟ ترکیب میں آپ غور کریں گے آپ کو خود اپنی غلطیوں کا اندازہ ہوگا، اب ماشاءاللہ ترکیب اپنی ہی غلطی کو بھی پکڑ لینا فوراً سوچ کر، معلوم ہوا ترکیب آپ کی بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَتْ“ فعل کے ساتھ، شاباش۔ آگے۔ ”ثَبَتَتْ“ فعل بافاعل، جس میں، جب فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہو ضمیر یا اس کے اندر چھپی ہوئی ہو تو تعبیر کس سے کرنا ہے؟ فعل بافاعل، تو ”ثَبَتَتْ“ فعل بافاعل۔ اب آپ سے کوئی پوچھے فاعل کیا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ ”هِيَ“ ضمیر، اس کا اعراب بھئی: ”هِيَ“ ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ ہاں، ”هِيَ“ ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ کیونکہ فاعل ہے، شاباش۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ مبنی ہے۔ کیونکہ مبنی ہے، اور کس کو لوٹ رہی ہے یہ ضمیر؟ زینب کو، دیکھا انہوں نے عائد بھی بتلا دیا، اور ضمیر مرجع میں مطابقت بھی دیکھنی ہے: زینب مفرد مؤنث، ایک عورت ہے نا، اس کا نام ہے، مفرد مؤنث، اور ”هِيَ“ ضمیر بھی کون سی؟ مفرد مؤنث، تو معلوم ہوا ضمیر مرجع میں بھی مطابقت ہے، یہ ضمیر اس کو لوٹ سکتی ہے۔ اب آگے: فعل اپنے فاعل اور اپنے متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر۔ ہاں، اچھا دیکھیں انہوں نے ”فِي الدَّارِ“ کے لیے ”ثَبَتَتْ“ فعل نکالا کیونکہ ”فِي الدَّارِ“ کیا ہے؟ جار مجرور، اور جار مجرور نے کتنی چیزوں سے متعلق ہونا ہوتا ہے؟ آٹھ میں سے ایک سے، اور ان آٹھ میں سے کوئی ایک بھی یہاں پر نہیں ہے۔ زینب تو ہے مبتدا، اس کے علاوہ، اس کے علاوہ نہ کوئی فعل ہے یہاں پر، نہ کوئی مصدر ہے، نہ اسمِ فاعل کوئی آیا، نہ اسمِ مفعول آیا، نہ صفتِ مشبہ، نہ اسمِ تفضیل، نہ کوئی مبالغے کا صیغہ اور نہ اسمِ فعل، اور جڑنا تو اس نے ضرور ہے، تو لہٰذا اس مجبوراً ہمیں کیا کرنا پڑا؟ محذوف نکالنا پڑا۔ تو معلوم ہوا یہ ”فِي الدَّارِ“ یہ ظرفِ لغو ہے یا ظرفِ مستقر ہے؟ ظرفِ مستقر ہے کیونکہ اس کا عامل کیا ہے؟ اس کا متعلَّق کیا ہے؟ محذوف ہے، یعنی اس نے اس کی جگہ پہ قرار پکڑا ہوا ہے۔ تو یہ متعلق ہوئے ”ثَبَتَتْ“ سے، ”ثَبَتَتْ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب آپ سے کوئی پوچھ لے ”ثَبَتَتْ فِي الدَّارِ“ یہ جملہ ہے جملہ فعلیہ، اس کا اعراب بھی ہمیں بتا دو، تو آپ کیا کہیں گے؟ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر بن رہا ہے۔ ہاں، کیونکہ یہ پورا جملہ خبر کی جگہ آ رہا ہے اور خبر پر کون سا اعراب ہوتا ہے؟ رفع، تو یہ مرفوع ہے۔ تو یہ خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔ اب روانی سے پڑھیے۔ ”زَيْنَبُ فِي الدَّارِ“۔ ”زَيْنَبُ فِي الدَّارِ“، ترجمہ کیجیے۔ زینب گھر میں ہے۔ زینب گھر میں ہے، شاباش۔
اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”زَيْدٌ يَمْشِي فِي السُّوقِ“۔ ”زَيْدٌ“، ”يَمْشِي“، ”يَمْشِي فِي السُّوقِ“، ”فِي“ اور ”السُّوقِ“، الف، لام، سین، واؤ اور قاف دو نقطوں والا۔ ”زَيْدٌ يَمْشِي فِي السُّوقِ“۔ مَشَىٰ يَمْشِي کا معنی ہوتا ہے چلنا، پیدل چلنا۔ چلیے بھئی ترکیب کیجیے۔ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ ہاں، مبتدا ہے اور اس کے رفع پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے۔ ”يَمْشِي“ فعل بافاعل۔ ”يَمْشِي“ فعل بافاعل۔ ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ہاں، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے۔ ”فِي“ حرفِ جر، ”فِي“ جارہ، ”السُّوقِ“ مجرور لفظاً، سُوق بازار کو کہتے ہیں، ”السُّوقِ“ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہے۔ کیونکہ حرفِ جر داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے جر پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ اس کے جر پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں، شاباش۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”يَمْشِي“ فعل کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”يَمْشِي“ فعل کے ساتھ، بھئی جڑتے بھی ہیں یا نہیں؟ متعلَّق کون ہے؟ ”يَمْشِي“، اور متعلِّق کون ہے؟ ”فِي السُّوقِ“، ذرا ان کو الگ کر دو: ”يَمْشِي فِي السُّوقِ“، چل رہا ہے بازار میں، جڑ رہا ہے کہ نہیں جڑ رہا؟ معنی صحیح ہو رہا ہے؟ ہاں، معلوم ہوا یہ اسی سے جڑ جائے گا۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”يَمْشِي“ فعل کے ساتھ، اب؟ ”يَمْشِي“ کی ضمیر لوٹ رہی ہے زید مبتدا کو۔ ہاں، ”يَمْشِي“ کی ضمیر لوٹ رہی ہے زید مبتدا کو، یہ انہوں نے عائد بتلا دیا، اب یہ جملہ خبر بن سکتا ہے۔ ”يَمْشِي“ اپنے، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر۔ ”يَمْشِي“ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، اب روانی سے پڑھ دیں۔ ”زَيْدٌ يَمْشِي فِي السُّوقِ“۔ ”زَيْدٌ يَمْشِي“، ”زَيْدٌ“ کے آخر میں کیا ہے؟ تنوین۔ تنوین یعنی نونِ ساکن ہے، اور اس کے بعد کیا ہے؟ یا، تو یا سے ماقبل نونِ ساکن آگیا اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ حروفِ يَرْمُلُونَ یعنی یا، را، میم، لام، واؤ، نون، ان سے پہلے نونِ ساکن آئے تو اس نون کو بھی اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کرتے ہیں۔ تو وہ نون بھی یا ہو کر یا میں ادغام ہو جائے گا، تو کیسے پڑھیں گے؟ ”زَيْدٌ يَّمْشِي فِي السُّوقِ“۔ ”زَيْدٌ يَّمْشِي فِي السُّوقِ“، دیکھا یہ قرآن میں جب آپ پڑھتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں، یہ اسی انہی ضابطوں کے ساتھ لفظوں کو ملایا جاتا ہے۔ ہاں، پھر وہاں پر کیا کیا جاتا ہے؟ وہاں پھر وہ شد، زبر وغیرہ یہ چیزیں ڈال دیتے ہیں جس سے پڑھنے والے کو پتہ چلتا ہے، اگرچہ اس نے یہ ضابطے نہیں پڑھے ہوتے لیکن پھر وہ ان اعراب کے ذریعے، وہ جو حرکتیں اوپر لگی ہوتی ہیں ان سے پہچانتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب آپ کو تو پتہ ہے اس کو کیا پڑھنا ہے: ”زَيْدٌ يَّمْشِي فِي السُّوقِ“، لیکن جس کو ضابطے کا نہیں پتہ وہ تو ”زَيْدٌ يَمْشِي“ پڑھے گا، تو پھر کیا کرتے ہیں؟ یا کے اوپر شد ڈال دیتے ہیں۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، یہ یہی ضابطے سارے۔ علمائے نحو پر اللہ کروڑہا رحمتیں نازل فرمائیں بھئی، کتنا آسان کر دیا انہوں نے اس عربی، عربی پڑھنے کو، سمجھنے کو، تمام لوگوں کے لیے بھئی۔ ”زَيْدٌ يَمْشِي فِي السُّوقِ“، زید بازار میں چل رہا ہے۔
اگلا جملہ لکھیے: ”جَاءَنِي قَاضِيَانِ مِنْ لَاهُورَ“۔ ”جَاءَنِي قَاضِيَانِ“، قاضی نہیں ہے، قاضی، ضاد کے ساتھ، اسی کی تثنیہ، ”قَاضِيَانِ مِنْ لَاهُورَ“، ”مِنْ لَاهُورَ“۔ ”جَاءَنِي قَاضِيَانِ“، ”جَاءَنِي قَاضِيَانِ مِنْ لَاهُورَ“۔ ”جَاءَ“ کا معنی ہوتا ہے آنا، آنا۔ چلیے یہ ترکیب آپ نے حل کرنی ہے بھئی، اگلے سبق میں میں آپ سے پوچھوں گا بھئی، ہر ایک الگ الگ حل کرے اس کو بھئی۔ چلیے بس بھئی: هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔