Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-046

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 38
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آج ہم جار مجرور کی ترکیب پڑھیں گے بھئی۔ یاد رکھیے! جار مجرور جب بھی کلام میں آ جائیں وہ کسی چیز کے ساتھ متعلق ہونا چاہتے ہیں۔ جار مجرور ہمیشہ کسی سے متعلق ہوتے ہیں، اور کس سے متعلق ہوں گے؟ تو یاد رکھیے کہ جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ متعلق ہوں گے۔ اور وہ آٹھ چیزیں ہر وقت آپ کو یاد ہونی چاہئیں، وہ ایسا نہیں ہے کہ سبق کے لیے یاد ہوئیں یا امتحان کے لیے یاد ہوئیں یا کسی اور، نہیں نہیں۔ وہ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہوں کیونکہ آپ جب بھی عربی پڑھیں گے، لکھیں گے، تو وہاں آپ کو اس کی ضرورت پیش آئے گی بھئی۔ جو بھی کتاب آپ اٹھا کر پڑھیں گے، آپ کو اس کی ضرورت پیش آئے گی، تو وہ ہر وقت ذہن میں ہونی چاہئیں۔ تو جار مجرور جب بھی کلام میں آئے گا، آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ضرور متعلق ہو گا۔ وہ آٹھ چیزیں یہ ہیں: نمبر ایک ہے فِعْل۔ نمبر ایک ہے فِعْل (ف، ع، ل)۔ نمبر دو مَصْدَر۔ نمبر دو مَصْدَر۔ دکھاؤ بھئی، مَصْدَر کیسے لکھا آپ نے؟ ذرا قریب کرو۔ ہاں، شاباش! آپ نے کیسے لکھا ہے بھئی؟ ہاں، ٹھیک ہے۔ آپ دکھاؤ بھئی، ہاں، شاباش، ص کا اپنا ایک دندانہ ہوتا ہے، شاباش۔ نمبر تین ہے اِسْمِ فَاعِل۔ نمبر تین اِسْمِ فَاعِل۔ نمبر چار اِسْمِ مَفْعُول، اِسْمِ مَفْعُول۔ نمبر پانچ صِفَتِ مُشَبَّہ، نمبر پانچ صِفَتِ مُشَبَّہ۔ نمبر چھ اِسْمِ تَفْضِیل۔ اِسْمِ تَفْضِیل، ض کے ساتھ ہے بھئی۔ اِسْمِ تَفْضِیل، ض کا ایک اپنا دندانہ ہو گا، پھر ایک ی کا دندانہ ہو گا بھئی، تَفْضِیل۔ نمبر سات ہے مُبَالَغے کا صیغہ، مُبَالَغے کا صیغہ، ضَرَّابٌ وغیرہ۔ اور نمبر آٹھ ہے اِسْمِ فِعْل، نمبر آٹھ ہے اِسْمِ فِعْل۔ آپ نے پڑھا ہو گا، نیز صاحبِ ہدایۃ النحو بھی آپ کو بتلائیں گے کہ بعض اوقات اسم جو ہے، بعض اسم ایسے ہیں جو فعل والا معنیٰ ادا کرتے ہیں، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ اسمِ فعل۔ ہیں اسم، لیکن معنیٰ کس کی طرح، عمل کس کی طرح؟ فعل کی طرح بھئی۔ تو جار مجرور جب بھی کلام کے اندر آئیں، آٹھ چیزوں میں سے ایک کے ساتھ ضرور متعلق ہوں گے۔ وہ آٹھ چیزیں یہ ہیں: نمبر ایک ہے فِعْل، نمبر دو ہے مَصْدَر، نمبر تین اِسْمِ فَاعِل، نمبر چار اِسْمِ مَفْعُول، نمبر پانچ صِفَتِ مُشَبَّہ، نمبر چھ اِسْمِ تَفْضِیل، نمبر سات مُبَالَغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ اِسْمِ فِعْل۔ تو اگر جملے میں ان میں سے کوئی ایک موجود ہو تو جار مجرور اس سے متعلق ہو جائے گا۔ اور اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو جملے کے اندر تو پھر جو ہے مَحْذُوف نکالنا پڑے گا۔ کیونکہ انہوں نے متعلق تو ہر حال میں ہونا ہے، اور ان کا مُتَعَلَّق، جس سے یہ متعلق ہوتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مُتَعَلَّق۔ تو یہ آٹھ چیزیں متعلق ہیں بھئی، متعلقات۔ تو ان آٹھ میں سے اگر کوئی کلام میں ہو تو فَبِھَا، اچھی بات ہے، جار مجرور اس سے جڑ جائے گا۔ اور اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہیں، تو چاہیے تو ہر حال میں، تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنا پڑے گا، محذوف نکالنا پڑے گا۔ اب یاد رکھیے، جار مجرور کا متعلق اگر جملے میں مذکور ہے، تو اس جار مجرور، میں نے آپ کو بتایا تھا بھئی، جار مجرور کو بھی ظرف کہتے ہیں مجازاً۔ جار مجرور کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ظرف کہتے ہیں۔ تو اگر جار مجرور کا متعلق جملے میں مذکور ہو، تو اس کو ظَرْفِ لَغْو کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظَرْفِ لَغْو (ل، غ، و)۔ اس کو ظَرْفِ لَغْو کہتے ہیں۔ اور اگر جار مجرور کا متعلق محذوف ہو، تو پھر اس جار مجرور کو ظَرْفِ مُسْتَقَرّ کہتے ہیں۔ متعلق اگر محذوف ہو تو جار مجرور کو ظَرْفِ مُسْتَقَرّ (م، س، ت ہے دو نقطوں والی، ق ہے دو نقطوں والا اور ر مشدد ہے، مُسْتَقَرٌّ، مُسْتَقَرٌّ)۔ جار مجرور کا متعلق اگر جملے میں مذکور ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ ظَرْفِ لَغْو، اور اگر متعلق محذوف ہو تو اسے ظَرْفِ مُسْتَقَرّ، ظَرْفِ مُسْتَقَرٌّ۔ اچھا، اس کے بعد ایک اور بات یاد رکھیے! وہ جو محذوف ہے متعلق، جس کو نکالنا ہے، ذکر کرنا ہے، یاد رکھیے اسے اَفْعَالِ عَامَّہ میں سے نکالنا بھی جائز ہے اور اَفْعَالِ خَاصَّہ سے نکالنا بھی جائز ہے۔ یعنی وہ افعالِ عامہ میں سے بھی آپ ذکر کر سکتے ہیں، افعالِ خاصہ۔ اور افعالِ عامہ مشہور چار ہیں، یہ لکھ لیں بھئی: افعالِ عامہ مشہور چار ہیں، مشہور چار ہیں۔ نمبر ایک: کَوْن (چھوٹا ک، و، ن)، کَوْن۔ اسی سے وہ فعلِ ناقص استعمال ہوتا ہے کَانَ، کَانَ۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ نمبر ایک کَوْن۔ نمبر دو: ثُبُوت، ثُبُوت ث کے ساتھ۔ نمبر تین: حُصُول، حُصُول (ح، ص، و، ل)، حُصُول۔ اور نمبر چار جو ہے وُجُود بھئی، وُجُود۔ ان سب کا معنیٰ ہے ہونا، ہونا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کَوْن کا معنیٰ بھی ہونا، ثُبُوت کا معنیٰ بھی ہونا، حُصُول کا معنیٰ بھی ہونا اور وُجُود کا معنیٰ بھی ہونا۔ ان کو افعالِ عامہ کہتے ہیں، کیونکہ ہر فعل میں ان کا معنیٰ پایا جاتا ہے۔ کیا کہتے ہیں؟ افعالِ عامہ، کیونکہ ہر فعل میں ان کا معنیٰ پایا جاتا ہے۔ دیکھیے آپ خود غور کر لیں۔ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ میں نے زید کی پٹائی کی، تو بتائیے مجھے، ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ اس میں کسی چیز کا ثبوت ہے یا نہیں؟ اس میں ضرب کا ثبوت ہے۔ اس میں کسی چیز کا وجود ہے کہ نہیں؟ وجود اس میں ضرب کا وجود ہے۔ اسی طرح اس میں ضرب کا حصول ہے، اسی طرح اس میں ضرب کا کون ہے یعنی اس کا ہونا۔ تو دیکھو، کیونکہ کون، ثبوت، حصول، وجود، سب کا کیا معنیٰ ہے؟ ہونا۔ تو کسی چیز کا اس میں دیکھو ہونا پایا گیا۔ اسی طرح کوئی اور کوئی اور فعل آپ پکڑ لیں: ”قَرَأْتُ كِتَابًا“، اب دیکھو ”قَرَأْتُ“ اس میں کسی چیز کا ثبوت ہے، کس چیز کا؟ قراءت کا، پڑھنے کا۔ اور اسی طرح اس میں قراءت کا حصول ہے، اور اسی طرح اس میں قراءت کا وجود ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی طرح میں مثلاً کہتا ہوں ”شَرِبْتُ“، ”شَرِبْتُ الْمَاءَ“، تو دیکھو شرب، شرب پینا، اس میں کسی چیز کا ہونا ہے، اس میں کسی چیز کا حصول ہے، شرب پیا گیا، اس میں کسی چیز کا ایک فعل کا وجود ہے۔ تو اس فعل کا اس میں وجود بھی ہوتا ہے، حصول بھی، کون بھی، ثبوت بھی، کیونکہ ان کا کیا معنیٰ ہے کون، ثبوت، وجود، حصول؟ ہونا۔ تو یہ دیکھو ”قَرَأْتُ“، دیکھو ایک چیز کا ہونا ہے، کس چیز کا ہونا ہے؟ قراءت کا۔ ”ضَرَبْتُ“، اس میں بھی کسی چیز کا ہونا، کس چیز کا ہونا؟ ضرب کا۔ اسی طرح ”شَرِبْتُ“، اس میں بھی کسی چیز کا ہونا ہے۔ ہر فعل میں اسی طرح ہے ان کا معنیٰ پایا جائے گا۔ جبکہ ان کے علاوہ باقی افعال اَفْعَالِ خَاصَّہ کہلاتے ہیں۔ یہ تھے افعالِ عامہ یعنی عام ہیں، ہر فعل میں ان کا معنیٰ پایا جاتا ہے، اور باقی افعال کیا کہلاتے ہیں؟ افعالِ خاصہ۔ ان کا معنیٰ ہر فعل میں نہیں پایا جائے گا۔ مثلاً دیکھیے، شرب، شرب کا کیا معنیٰ؟ پینا، پینا۔ اب بتائیے، ”قَرَأْتُ كِتَابًا“، اس ”قَرَأْتُ“ میں کوئی شرب والا معنیٰ ہے؟ نہیں۔ اور شرب میں ”قَرَأْتُ“ والا معنیٰ تھا؟ نہیں۔ اچھا، ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، اب اس ”ضَرَبْتُ“ میں کوئی شرب والا معنیٰ ہے؟ نہیں۔ کوئی قراءت والا معنیٰ ہے؟ نہیں۔ لیکن وجود، ثبوت، حصول اور کون ہر ایک میں پایا جا رہا ہے۔ تو باقی سارے افعال کیا کہلاتے ہیں؟ افعالِ خاصہ۔ وہ چار کیا ہیں؟ افعالِ عامہ جو مشہور ہیں۔ اسی طرح صاحبِ ہدایۃ النحو آپ کو بتائیں گے: ”اسْتَقَرَّ“، ”اسْتَقَرَّ“۔ وہ افعالِ عامہ میں سے کیا نکالیں گے؟ ”اسْتَقَرَّ“۔ تو استقرار کا معنیٰ بھی ہونا کسی چیز کا۔ لیکن بہرحال مشہور یہ زیادہ چار ہیں، میں نے یہ ذکر کر دیے، تو اور بھی بعض ہیں بھئی۔ یہ مشہور ہیں زیادہ۔ اب ان میں سے جو ان کا متعلق آپ نے محذوف نکالنا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“۔ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”فِي“ جارہ، ”الدَّارِ“ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر اب دیکھیے اس جملے میں آپ غور کریں، ”فِي الدَّارِ“ یہ تو جار مجرور ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی فعل ہے؟ ان کے علاوہ تو صرف زید کا لفظ ہے، وہ تو فعل نہیں ہے، فعل بھی نہیں ہے۔ مصدر؟ مصدر بھی کوئی نہیں، زید تو نام ہے۔ اور ان کے علاوہ کوئی اسمِ فاعل ہے؟ ”ضَارِبٌ“، ”فَاتِحٌ“ وغیرہ، وہ بھی نہیں ہے۔ اسمِ مفعول؟ ”مَضْرُوبٌ“، ”مَفْتُوحٌ“، وہ بھی نہیں ہے۔ اچھا، صفتِ مشبہ ہو گی؟ صفتِ مشبہ بھی نہیں اس جملے میں۔ اسمِ تفضیل ہے کوئی؟ ”أَضْرَبُ“، ”أَفْتَحُ“، ”أَمْنَعُ“، کوئی بھی نہیں ہے۔ مبالغے کا کوئی صیغہ ہے؟ ”ضَرَّابٌ“ وغیرہ، ”صِدِّيقٌ“، نہیں، کوئی بھی مبالغے والا بھی نہیں۔ اور اسی طرح اسمِ فعل بھی نہیں، اور چاہیے تو ہمیں ضرور کیونکہ جار مجرور آیا ہے، انہوں نے متعلق ہونا ہے، تو اب ہمیں محذوف نکالنا پڑے گا۔ اور معلوم ہوا یہ جار مجرور ظرفِ مستقر ہیں۔ کیا ہیں؟ ظرفِ مستقر۔ یہاں ان کا عامل موجود تھا، عامل چلا گیا اور انہوں نے اس کی جگہ پر قرار پکڑ لیا تو یہ ظرفِ مستقر۔ اور عامل اب ہم نے نکالنا ہے جس سے یہ متعلق یہ متعلق ان کا جو ہے، تو یہ افعالِ عامہ میں سے نکال عام طور پر افعالِ عامہ میں سے نکالتے ہیں۔ افعالِ خاصہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں موقع محل کے مطابق بھئی، لیکن عموماً کس سے نکالتے ہیں؟ افعالِ عامہ میں سے نکال لیتے ہیں۔ تو بہرحال بات میں نے اب ذکر کر دی، کوئی افعالِ عامہ میں سے ذکر کر دے گا، کوئی افعالِ خاصہ میں سے ذکر کر دے گا، تو پریشان نہیں ہونا، بس طریقہ آپ کو آنا چاہیے بھئی۔ اب افعالِ عامہ میں سے فعل بھی نکال سکتے ہیں اور صفت کا صیغہ بھی نکال سکتے ہیں۔ مثلاً کَوْن، پہلا جو تھا پہلا (ک، و، ن)، کَوْن، اس سے چاہیں تو فعل کا صیغہ نکال لیں: ”كَانَ“، ”أَيْ: زَيْدٌ كَانَ فِي الدَّارِ“۔ ”كَانَ“، اور ”كَانَ“ فعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر فاعل جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ کیونکہ یہ خبر خبر ہے، اور اس جار مجرور نے اس سے متعلق ہو کر پھر یہ سارا کیا بنے گا؟ خبر، اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو اس کے اندر فعل آ گیا اور فعل کے لیے فاعل ضرور چاہیے تو ”هُوَ“ ضمیر ہے اور وہ لوٹ رہی ہے کس کو؟ زید کو۔ اور پھر اس یہ فعل ”كَانَ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔ اب آپ سے کوئی پوچھ لے ”كَانَ فِي الدَّارِ“ یہ کون سا جملہ، اس جملے کا محلِ اعراب کیا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ اس کا اعراب کیا ہے اس جملے کا؟ مرفوع، اور کون سا مرفوع؟ محلاً، کیونکہ جملہ ہے، مبنی ہے بھئی۔ تو یہ جو مرفوع آپ کہتے ہیں، میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا، یہ نہ کہنا یہ صرف ”كَانَ“ مرفوع ہے، نہیں نہیں نہیں، ”كَانَ“ نہیں، بلکہ پورا جملہ کیا ہے؟ مرفوع ہے، پورا جملہ مرفوع ہے بھئی۔ یہ تو ہم نے فعل نکالا: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، ”فِي الدَّارِ“ کو کس سے جوڑا؟ ”كَانَ“ سے، فعل نکالا۔ آپ چاہیں تو اسمِ فاعل نکال لیں: ”كَائِنٌ“۔ ”كَانَ“ کی گردان کیسے ہو گی؟ ”كَانَ يَكُونُ كَوْنًا فَهُوَ كَائِنٌ“، تو آپ چاہیں ”كَائِنٌ“ نکال لیں، ”كَائِنٌ“ کس وزن پر ہے؟ وہی ”ضَارِبٌ“، ”فَاتِحٌ“، اسمِ فاعل نکال لیا۔ اور یہ جار مجرور اس سے متعلق ہو جائیں گے، اور اسمِ فاعل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل، تو اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر ہے، جو صیغہ ہو گا اس کے مطابق ضمیر۔ اگر آپ کو تثنیہ کی ضمیر چاہیے تو پھر ”كَائِنَانِ“ نکالیں، اور فعل کون سا نکالیں پھر؟ ”كَانَا“، ”كَانَا“ الف کے ساتھ، صورت سمجھ میں؟ جمع ہو تو ”كَانُوا“، اور اسمِ فاعل اگر جمع نکالنا ہو وہ کیا نکالیں گے؟ ”كَائِنُونَ“، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو پھر فرق صرف کیا تھا؟ ”كَانَ“ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ بنے گا، جبکہ ”كَائِنٌ“ وغیرہ یہ کیا ہیں؟ شبہ جملہ بنیں گے، یہ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ۔ اور جملے کو بھی جوڑنے کے لیے ربط اور عائد چاہیے، اور شبہ جملہ کو بھی جوڑنے کے لیے ربط اور عائد چاہیے۔ تو دیکھا؟ کَوْن، کَوْن تھا افعالِ عامہ میں سے، آپ چاہیں اس سے فعل نکال لیں ”كَانَ“، چاہے اس سے کیا نکال لیں؟ اسمِ فاعل یعنی ”كَائِنٌ“۔ دوسرا افعالِ عامہ میں سے کیا ہے؟ ثُبُوت، اس سے بھی چاہیں تو آپ فعل نکال لیں ”ثَبَتَ“، اور آپ چاہیں تو کیا نکال لیں؟ ”ثَابِتٌ“۔ مثلاً فعل نکالتے ہیں ہم: ”زَيْدٌ ثَبَتَ فِي الدَّارِ“۔ اور اگر آپ صفت کا صیغہ نکالیں تو کیا نکالیں گے؟ ”زَيْدٌ ثَابِتٌ فِي الدَّارِ“۔ تیسرا کیا ہے؟ حُصُول۔ تو آپ فعل نکال لیں چاہیں حصول سے یعنی ”حَصَلَ“، ”زَيْدٌ حَصَلَ فِي الدَّارِ“، یا آپ چاہیں تو اسمِ فاعل نکال لیں: ”زَيْدٌ حَاصِلٌ فِي الدَّارِ“۔ اور اسی طرح وُجُود، لیکن وجود میں فرق یہ ہے کہ آپ نے باقی جو فعل ہیں وہ فعل نکالیں گے تو فعلِ معروف نکالیں گے، جیسے کَوْن سے کیا نکالا تھا فعلِ معروف؟ ”كَانَ“، ثُبُوت سے ”ثَبَتَ“، اور حُصُول سے ”حَصَلَ“، لیکن وُجُود سے جب فعل نکالیں گے تو فعلِ مجہول نکالیں گے: ”وُجِدَ“، ”ضُرِبَ“، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”فُعِلَ“ وزن ہے ”فُعِلَ“ وزن۔ تو ”وُجِدَ“، ”أَيْ: زَيْدٌ وُجِدَ فِي الدَّارِ“، اور ”وُجِدَ“ کے اندر کون سی ضمیر؟ ”هُوَ“، وہ اس کا فاعل نہیں بلکہ نائب الفاعل، کیونکہ فعلِ مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے۔ اور اگر آپ اس سے صفت کا صیغہ نکالنا چاہتے ہیں تو باقیوں سے آپ نے کیا نکالا تھا؟ اسمِ فاعل، اس سے اسمِ مفعول نکالیں گے کیونکہ فعلِ مجہول سے کیا بنتا ہے؟ اسمِ مفعول بنتا ہے، تو کیا نکالیں گے؟ ”مَوْجُودٌ“، ”زَيْدٌ مَوْجُودٌ فِي الدَّارِ“۔ دیکھا، سب کا معنیٰ ایک ہے یا نہیں؟ ”زَيْدٌ ثَابِتٌ فِي الدَّارِ“، ”زَيْدٌ مَوْجُودٌ فِي الدَّارِ“، ”زَيْدٌ حَاصِلٌ فِي الدَّارِ“، ”زَيْدٌ كَائِنٌ فِي الدَّارِ“، بات سمجھ میں آ گئی؟ افعالِ عامہ مشہور کتنے ہیں؟ چار: نمبر ایک کَوْن، نمبر دو ثُبُوت، نمبر تین حُصُول، نمبر چار وُجُود۔ اور ان سے آپ چاہیں تو فعل نکال لیں اور چاہیں تو صفت کا صیغہ۔ فعل نکالیں گے تو کون سا فعل؟ فعلِ معروف نکالیں گے، لیکن وجود کے لیے فعلِ مجہول نکالیں گے اگر وہ آپ نے نکالنا ہے، اور اگر صفت کا صیغہ نکالنا ہے تو پہلے تین کے لیے اسمِ فاعل نکالیں گے اور آخری وجود کے لیے اسمِ مفعول ”مَوْجُودٌ“ نکالیں گے۔ اب ترکیب کیجیے بھئی۔ جی، جملہ لکھیے: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ لکھ لیا بھئی؟ کیسے لکھا، مجھے بھی دکھاؤ ذرا۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“، یہ الف نہیں آئے گا، یہ تو اللہ آپ نے لکھ دیا۔ ہاں، صرف الف کو گرا دینا، ٹھیک ہے؟ اور پہلے لام کے نیچے زیر لکھ دیں تاکہ وضاحت ہو جائے: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“۔ بعض طلبہ غلطی کرتے ہیں ایک تیسرا لام بھی شروع میں ملا دیتے ہیں، سمجھ میں آئی بات؟ تین لام نہیں آئیں گے، اسی طرح جیسے لفظِ اللہ میں دو لام ہیں اور ایک ہا ہے آخر میں، وہی لکھیں گے بس شروع میں الف نہیں آئے گا بھئی، ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“۔ اچھا، اب ترکیب کیجیے بھئی، شروع کیجیے! ”اَلْحَمْدُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے؟ لام جارہ، لفظِ اللہ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں بھئی؟ لفظِ اللہ مجرور کیوں ہے؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہوا ہے اور حرفِ جر کیا ہے، جس پر داخل ہوتا ہے اسے جر دیتا ہے۔ جی، جار مجرور، اب دیکھیے جار مجرور نے متعلق ہونا ہے کسی سے، اور یہاں مبتدا تو گزرا ہے اور اس کے علاوہ نہ فعل ہے، نہ مصدر ہے، نہ اسمِ فاعل ہے، نہ اسمِ مفعول ہے، نہ صفتِ مشبہ ہے، نہ اسمِ تفضیل ہے، نہ مبالغے کا صیغہ ہے، اور نہ اسمِ فعل، تو ہمیں محذوف نکالنا پڑے گا۔ جی! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَ“ فعل کے ساتھ۔ ”ثَبَتَ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، مرفوع کیوں ہے؟ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے، مبنیات میں سے ہے اسم۔ اور یہ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ ”اَلْحَمْدُ“ مبتدا کو، شاباش! انہوں نے عائد بھی بتا دیا، ربط آ گیا بھئی۔ ”ثَبَتَ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق (متعلق کیا ہے؟ ”لِلّٰهِ“ یہ جار مجرور) سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ”اَلْحَمْدُ“، حمد پر الف لام ہے، اس کا اور یہ الف لام استغراقی یا جنسی ہے، تو استغراقی تمام تعریفیں ”لِلّٰهِ“ کس کے لیے ہیں؟ اللہ کے لیے۔ تو دیکھو آپ نے ”ثَبَتَ“ نکالا، اور ثبوت کا کیا معنیٰ میں نے بتایا تھا؟ ہونا۔ تو دیکھو حمد اللہ کے لیے ہے، یہ ہونا سے کیا ہے؟ ہے۔ یہ اسی سے ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ حمد اللہ کے لیے ہے، یا یوں کہو حمد اللہ کے لیے ثابت ہے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”اَلشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ“۔ ”اَلشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ“ (الف لام ہے شروع میں، پھر س، م، الف اور ہمزہ)، ”اَلشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ“۔ چلیے بھئی، آپ ترکیب کیجیے۔ ”اَلشَّمْسُ“ مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! ”اَلشَّمْسُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے؟ ”فِي“ جارہ، جی آگے؟ ”السَّمَاءِ“ مجرور لفظاً، شاباش! ”السَّمَاءِ“ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر ”فِي“ جارہ داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھائیے: ”السَّمَاءِ“، شاباش! جی، اب کیجیے آگے! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَبَتَ“ فعل کے ساتھ؟ ”ثَبَتَ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو لوٹ رہی ہے ”اَلشَّمْسُ“ کو؟ بھئی، ”الشَّمْسُ“ کا لفظ عربی میں مؤنثِ سماعی ہے یعنی عرب اس کو مؤنث استعمال کرتے ہیں۔ فاعل کی بحث میں مصنف نے مثالیں مثال ذکر کی تھی، میں نے وہاں بھی آپ کو بتایا تھا کہ شمس کا لفظ عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے، اسی طرح دار کا لفظ بھی کیا ہے عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے، تو اس کے لیے ہمیں مؤنث کی ضمیر چاہیے۔ ”ثَبَتَتْ“، شاباش! دیکھا؟ ”ثَبَتَ“ میں تو ”هُوَ“ ضمیر تھی، ہمیں ایسا فعل چاہیے، نکالنا ہم نے اپنی مرضی سے ہے، تو ہم وہ فعل نکالیں گے جس میں ”هِيَ“ ضمیر ہو، اور ”هِيَ“ ضمیر تو چوتھے صیغے میں ہوتی ہے، تو ”ثَبَتَ ثَبَتَا ثَبَتُوا ثَبَتَتْ“، تو ”ثَبَتَتْ“ فعل، شاباش! ”ثَبَتَتْ“ فعل، اس کے اندر ”هِيَ“ ضمیر، اس کا اعراب بتاؤ: مرفوع محلاً، کیونکہ فاعل ہے، جو لوٹ رہی ہے ”الشَّمْسُ“ کو۔ اب ضمیر اور مرجع میں مطابقت آ گئی اور انہوں نے ربط بھی دے دیا، عائد بھی بتلا دیا۔ آگے اب کیجیے! ”ثَبَتَتْ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، اب روانی سے پڑھ دیجیے: ”اَلشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ“۔ ترجمہ کیجیے: سورج آسمان میں ہے بھئی۔ ”فِي السَّمَاءِ“ آسمان میں، اور کس کی بات ہم کر رہے ہیں، مبتدا کون ہے؟ ”الشَّمْسُ“، اس کی بات کر رہے ہیں۔ تو سورج آسمان میں ہے، یہ "ہے" کہاں سے آیا؟ وہی ”ثَبَتَتْ“ جو آپ نے نکالا بھئی۔ چلیے جی، اب آپ کیجیے ترکیب۔ یہی ترکیب کیجیے ذرا دوبارہ، اب آپ نے اسمِ فاعل نکالنا ہے۔ جی! ”اَلشَّمْسُ“ مرفوع لفظاً مبتدا، جلدی جلدی کریں اب تو آ گئی ترکیب۔ ”فِي“ جارہ، را مشدد ہے، ”فِي“ جارہ۔ ”السَّمَاءِ“ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ حرفِ جر داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، شاباش! کر کے دکھائیے: ”السَّمَاءِ“۔ جی، سمیٹیے اب! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ثَابِتٌ“ صیغہ اسمِ فاعل؟ صیغہ اسمِ فاعل، ہاں، اس کا بھی اعراب بتاؤ: ”ثَابِتٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے، یہ کیا ہے؟ خبر مرفوع ہوتی ہے۔ جی، تو صیغہ اسمِ فاعل، اچھا آگے؟ ”ثَابِتٌ“ میں ”هِيَ“ ضمیر کب ہوتی ہے؟ وہ صیغہ لاؤ جس میں مؤنث کی ضمیر ہو۔ کیا مشکل ہے بھئی، کیوں سوچ میں ڈوب گئے؟ آپ بتائیے بھئی: ”ثَابِتَةٌ“، صرف بولتا مؤنث والی مثلاً ”ضَارِبٌ“ پٹائی کرنے والا، ”ضَارِبَةٌ“ پٹائی کرنے والی، اسمِ فاعل کی گردان آپ نے پڑھی ہے بھئی؟ تو ”ثَابِتَةٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هِيَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو لوٹ رہی ہے ”الشَّمْسُ“ کو، شاباش! عائد بھی انہوں نے بتلا دیا۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر اوہو! ”ثَابِتَةٌ“ ہے، جملہ کہاں سے ہوا؟ ہاں، شبہ جملہ ہو کر خبر بنی مبتدا کی، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے پڑھیے: ”اَلشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ“۔ ترجمہ کیجیے: وہی ترجمہ ہو گا بھئی، آسمان میں سورج جو لفظ لکھے ہوئے ہیں نا صرف ان کا ترجمہ کر دو: ”اَلشَّمْسُ فِي السَّمَاءِ“ سورج آسمان میں ہے بھئی۔ کیوں سوچ میں ڈوب گئے؟ ”ثَبَتَتْ“ میں بھی وہی معنیٰ تھا، ”ثَابِتَةٌ“ میں بھی وہی معنیٰ۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگلا جملہ لکھیے: ”خَتَمَ اللّٰهُ“۔ ”خَتَمَ“ (خ، ت دو نقطوں والی اور م)، ”خَتَمَ“۔ ”خَتَمَ اللّٰهُ“، ”خَتَمَ“ آگے لفظِ اللہ بھئی، ”عَلَى“، ”عَلَى“، ”قُلُوبِهِمْ“، ”قُلُوبِهِمْ“۔ چلیے جی، آپ ترکیب کیجیے بھئی! ”خَتَمَ“ فعل، لفظِ اللہ مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ میں نے بتایا تھا پہلا اور چوتھا صیغہ صرف ان کا فاعل اسمِ ظاہر آ سکتا ہے، باقی بارہ صیغوں کا فاعل ہمیشہ ضمیر ہو گی، اور ”خَتَمَ“ بھی کون سا صیغہ ہے؟ پہلا صیغہ، تو اس لیے لفظِ اللہ یہ اسمِ ظاہر ہے، یہ فاعل بنے گا اس کے لیے۔ آگے بھئی: ”عَلَى“ جارہ، ”قُلُوبِ“ مجرور لفظاً مضاف۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ ہاں، جس اسم کے ساتھ ضمیر متصلہ آ جائے تو وہ مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں، تو ”قُلُوبِ“ مجرور لفظاً مضاف۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: ”قُلُوبِ“، دیکھا؟ جی، آگے بھئی! ”هِمْ“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ تو ”هِمْ“ ضمیر نہ پڑھنا، ”هِمْ“ کوئی ضمیر نہیں ہے، یہ صرف ماقبل میں کسرہ تھا اس لیے اس پر حرکت کون سی پڑھ دی؟ کسرے کی ”قُلُوبِهِمْ“، تو الگ جب کرو گے تو پھر وہی ”هُمْ“ پڑھو۔ ”هُمْ“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ یہ ضمیر ہے، مبنیات میں سے ہے۔ سمیٹیے اب بھئی! مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا ”عَلَى“ جارہ کے لیے۔ جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا ”ثَبَتَ“ فعل کے؟ جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا کس سے؟ آپ بتائیے بھئی، آپ بتائیے بھئی: ”خَتَمَ“ فعل۔ بھئی میں نے بتایا تھا آٹھ چیزوں میں سے کسی سے متعلق ہو گا، وہ عبارت میں ذکر نہ ہوں تو پھر آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنا پڑے گا، اور اگر وہ موجود ہیں تو پہلے ان سے جوڑنے کی کوشش کریں، جڑتا ہے یا نہیں۔ اچھا، جڑنے کی بھی ایک بات یاد رکھنا، مثلاً جملے میں ایک فعل بھی آ رہا ہے، ایک اسمِ فاعل بھی ہے اور جار مجرور ہے۔ اب پہچانیں گے کیسے، کس سے یہ جڑے گا؟ یہ تو فعل سے بھی جڑ سکتا ہے فعل بھی موجود ہے، یہ اسمِ فاعل سے بھی جڑ سکتا ہے وہ بھی موجود ہے، اور فرض کرو اس میں مفعول بھی ایک موجود ہے، تو پہچانیں گے کیسے کہ یہ کس سے جڑ رہا ہے؟ کیونکہ یہ تینوں سے جڑ سکتا ہے۔ تو اس وقت پھر یاد رکھو طریقہ یہ ہے کہ وہ جو جار مجرور ہیں، جیسے یہاں پر کیا ہے جار مجرور؟ ”عَلَى قُلُوبِهِمْ“، پورا پورا، صرف قلوب پہ داخل ہے یا یہ سارے مجموعے پہ داخل ہو رہا ہے؟ تو اس سارے کو پکڑ لیں ”عَلَى قُلُوبِهِمْ“ جار مجرور کو پکڑ لیں، اور جس سے جوڑنا چاہتے ہیں صرف اس کو پکڑ لیں، باقی جملے کے لفظ دس ہوں یا پندرہ ہوں یا بیس ہوں ساروں کو ختم کر دیں، صرف کن کو پکڑ لیں؟ جار مجرور جس کو جوڑنا ہے، اور جس سے جوڑنا آپ دیکھنا چاہتے ہیں یہ اس سے جڑ رہا ہے یا اس سے جڑ رہا ہے یا اس سے جڑ رہا ہے، تو ایک ایک کے ساتھ باری باری اس کو جوڑ کر دیکھیں۔ تو کس کو جوڑنا ہے؟ ”عَلَى قُلُوبِهِمْ“ کو، اور کس سے آپ دیکھنا چاہتے ہیں؟ مثلاً یہاں ”خَتَمَ“ ہے، تو صرف ان دو کو پکڑیں، اب کیا بن گیا؟ ”خَتَمَ عَلَى قُلُوبِهِمْ“۔ اب ترجمہ کر کے دیکھو: ”خَتَمَ“ مہر لگانا، ”خَتَمَ“ مہر لگائی ”عَلَى قُلُوبِهِمْ“ ان کے دلوں پر، جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ معنیٰ صحیح بنے گا، آپ خود غور کر لیں گے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو ”خَتَمَ عَلَى قُلُوبِهِمْ“ کیا معنیٰ؟ مہر لگائی ان کے دلوں پر، معلوم ہوا یہ اسی سے جڑ رہا ہے۔ جی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ”خَتَمَ“ فعل کے ساتھ۔ اب سمیٹیے بھئی! ”خَتَمَ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پڑھیے بھئی: ”خَتَمَ اللّٰهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ“۔ ترجمہ کیجیے: مہر لگائی اللہ نے ان کے دلوں پر، ہاں، اللہ نے مہر لگائی ان کے دلوں پر۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”اشْتَرَيْتُ هٰذِهِ الدَّارَ مِنْ زَيْدٍ“ (ز، ی، د)۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے بھئی، جلدی جلدی ذرا کریں بھئی، اب تو آپ ترکیب کے ماشاء اللہ ماہر ہوتے جا رہے ہیں بھئی۔ ”اشْتَرَيْتُ“ فعل بافاعل، ت ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ آگے؟ ”هٰذِهِ“ مضاف؟ اعراب مجرور لفظاً؟ چلیے بھئی، بس بھئی بس بھئی، باقی یہ ترکیب آپ نے حل کر کے لانی ہے، ہر ایک سے میں پوچھوں گا اور الگ الگ کرنی ہے، ایک دوسرے کو نہیں بتانی، یہ حل کر کے لائیں کل بھئی۔ اور مغرب کے بعد یا عشاء کے بعد بھی ان شاء اللہ پھر سبق پڑھیں گے، ٹھیک ہے؟ چلیے، بس بھئی، ھٰذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِیقَۃِ الْکَلَامِ۔
104 approved lectures · 46 of 104