Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-044

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 39
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَفِي الدَّارِ رَجُلٌ، وَسَلَامٌ عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ أَحَدُ الِاسْمَيْنِ مَعْرِفَةً وَالْآخَرُ نَكِرَةً فَاجْعَلِ الْمَعْرِفَةَ مُبْتَدَأً وَالنَّكِرَةَ خَبَرًا الْبَتَّةَ كَمَا مَرَّ، وَإِنْ كَانَا مَعْرِفَتَيْنِ فَاجْعَلْ أَيَّهُمَا شِئْتَ مُبْتَدَأً وَالْآخَرَ خَبَرًا، نَحْوُ: اللّٰهُ تَعَالَى إِلٰهُنَا، وَمُحَمَّدٌ نَبِيُّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآدَمُ أَبُونَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“۔ گزشتہ سبق میں آپ پڑھ رہے تھے کہ مبتدا کے اندر اصل ہے معرفہ ہونا اور خبر کے اندر اصل ہے نکرہ ہونا۔ اور نکرہ جو ہے وہ بھی مبتدا بن سکتا ہے بشرطیکہ اس میں تخصیص پیدا کر دی جائے، اور تخصیص کے چھ طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ کیا ہے؟ ”تَخْصِيصٌ بِالصِّفَةِ“ کہ نکرہ کی صفت لے آؤ تو اس سے اس میں تخصیص پیدا ہو جائے گی۔ اور دوسرا طریقہ تخصیص کا ہے ”تَخْصِيصٌ بِعِلْمِ الْمُتَكَلِّمِ“، اور یہ تخصیص کہاں پر آتی ہے؟ جہاں پر ہمزۂ استفہام آ جائے امِ متصلہ کے ساتھ۔ اور تیسرا مقام جب نکرہ تحت النفی آ جائے تو اس کی وجہ سے عموم پیدا ہو جائے گا اور یہ ”تَخْصِيصٌ بِالْعُمُومِ“ ہے۔ اور اس پر سوال پیدا ہوا تھا کہ تخصیص اور عموم تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، تو عموم کے ذریعے کیسے تخصیص پیدا ہوئی؟ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تخصیص کی تعریف یاد رکھیں: تخصیص کہتے ہیں دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا۔ اور جب نکرہ تحت النفی آئے گا تو وہاں دیگر احتمالات بالکل ختم ہو گئے، تو اس وجہ سے وہاں عموم آیا اور باقی احتمالات ختم ہوئے، اور اس وجہ سے اس میں تخصیص آ گئی تو اس کا مبتدا بننا صحیح ہے۔ اور چوتھا طریقہ تخصیص کا تھا ”تَخْصِيصٌ بِالْعُدُولِ مِنَ الْجُمْلَةِ الْفِعْلِيَّةِ إِلَى الْجُمْلَةِ الِاسْمِيَّةِ“، اور اس کی مثال تھی ”شَرٌّ أَهَرَّ ذَا نَابٍ“۔ آج پانچواں طریقہ ہم پڑھیں گے تخصیص کا۔ تخصیص کا پانچواں طریقہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِتَقْدِيمِ الْخَبَرِ“، خبر کو مقدم کرنے سے تخصیص آ جائے، جیسے ”وَفِي الدَّارِ رَجُلٌ“۔ فی حرفِ جر، الدار مجرور، جار مجرور مل کر یہ خبرِ مقدم ہے، اور ”رَجُلٌ“ یہ مبتدائے مؤخر ہے۔ یاد رکھیے جو جار اور مجرور ہیں، یہ خبر تو بن سکتے ہیں مبتدا نہیں بن سکتے۔ اسی طرح ان، کان وغیرہ جو آئیں گے آگے آپ پڑھیں گے، ان کے بعد بھی بعض اوقات جار مجرور آ جاتے ہیں، تو یاد رکھنا ان کے بعد بھی اگر جار مجرور آئے تو اس کو ان کی خبرِ مقدم بنانا ہے، اس کو ان کا اسم نہیں بنانا۔ اسی طرح یہاں بھی جار مجرور آیا، مقدم یہ ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کو مبتدا بنائیں، بلکہ یہ خبر بن سکتے ہیں مبتدا نہیں بن سکتے، تو ان کو کیا بناؤ؟ خبرِ مقدم، اور ”رَجُلٌ“ کو مبتدائے مؤخر بھئی۔ ترکیب بھی سمجھ لیں اس کی بھئی: ”فِي الدَّارِ رَجُلٌ“۔ فی جارہ، الدار اسمِ مجرور ہے، مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہوا ہے۔ اور کون سا مجرور؟ مجرور لفظاً۔ جار اور مجرور یاد رکھیے ہمیشہ متعلق ہوتے ہیں کسی فعل سے متعلق ہوں گے یا صفت وغیرہ کے صیغے سے، تو یہاں فعل وغیرہ تو ہے نہیں تو محذوف نکالنا پڑے گا، اور سب سے عام جو ہے وہ ”ثَبَتَ“ نکال لیتے ہیں، تو کیا بن گیا؟ ”ثَبَتَ فِي الدَّارِ رَجُلٌ“۔ تو فی الدار متعلق ہوا کس سے؟ ”ثَبَتَ“ سے، اور ”ثَبَتَ“ فعل آ گیا اور ہر فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو اس کے لیے بھی فاعل چاہیے، اور آگے تو فاعل ہے کوئی نہیں تو اسی کے اندر ضمیر: ”هُوَ“ ضمیر۔ اور ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ شاباش، کیونکہ خبر ہے، خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر ہے جو لوٹ رہی ہے ”رَجُلٌ“ کو۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ”هُوَ“ ضمیر پہلے اور ”رَجُلٌ“ مرجع بعد میں، تو یہ تو اضمار قبل الذکر ہوا، یعنی مرجع سے پہلے ہی ضمیر کو لے آنا اور یہ تو جائز نہیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں تنازع فعلین کے باب میں کہ اضمار قبل الذکر جائز نہیں ہے، ہاں تنازع فعلین کے اندر وہ جائز تھا بھئی۔ تو یہاں پر بھی اشکال ہوا کہ یہ تو اضمار قبل الذکر لازم آیا، ضمیر پہلے آئی اور اس کا مرجع جو ”رَجُلٌ“ ہے وہ بعد میں آ رہا ہے؟ تو یاد رکھیے، اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہاں رجل لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ مؤخر ہے لیکن وہ مبتدا ہے اور مبتدا کا درجہ کہاں ہوتا ہے؟ پہلے ہوتا ہے، تو درجے کے اعتبار سے یہ مقدم ہے۔ لہٰذا لفظاً تو اگرچہ اضمار قبل الذکر ہے لیکن رتبۃً اضمار قبل الذکر نہیں ہے، لہٰذا یہ درست ہے بھئی۔ تو ”ثَبَتَ“ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی، اور ”رَجُلٌ“ یہ مبتدائے مؤخر۔ اب آپ سے کوئی پوچھے ”ثَبَتَ فِي الدَّارِ“ اس جملے کا اعراب بتاؤ، آپ کیا جواب دیں گے؟ یہ پورا جملہ کیا بن رہا ہے؟ خبر، اور خبر کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو یہ ”ثَبَتَ فِي الدَّارِ“ پورا جملہ مرفوع ہے، یہ نہ کہنا صرف ”ثَبَتَ“ مرفوع ہے، ”ثَبَتَ“ نہیں مرفوع، پورا جملہ مرفوع ہے خبر ہونے کی بنا پر۔ تو یہ مرفوع اور کون سا مرفوع ہو گا؟ محلاً، کیونکہ جملہ ہے اور جملہ مبنیات میں سے ہے۔ اور ہم نے تو ”ثَبَتَ“ نکالا، یاد رکھیے آپ صفت کا صیغہ ”ثَابِتٌ“ بھی نکال سکتے ہیں۔ فعل بھی نکال سکتے ہیں اور ”ثَابِتٌ“ صیغہ بھی نکال سکتے ہیں۔ تو ”ثَابِتٌ“ صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر اس کا فاعل جو راجع ہے ”رَجُلٌ“ مبتدائے مؤخر کو۔ تو اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق یعنی جار مجرور سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب جب آپ نے ”ثَابِتٌ“ نکالا نا، تو یہاں دیکھو ”ثَابِتٌ“ پر میں باقاعدہ رفع پڑھ رہا ہوں۔ ”ثَبَتَ فِي الدَّارِ“ جب ”ثَبَتَ“ نکالا تھا تو پورا جملہ محلاً مرفوع تھا، لیکن ”ثَابِتٌ“ یہ مفرد خبر بن رہی ہے تو اس پر باقاعدہ وہ رفع ظاہر ہو گا۔ تو ”ثَابِتًا“ نہیں کہنا، ”ثَابِتٍ“ نہیں کہنا، بلکہ کیا نکالنا ہے؟ ”ثَابِتٌ“، کیونکہ ”ثَابِتٌ“ کیا ہے؟ خبر ہے۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ تھا یا نہیں بھئی؟ تو یہ ”قَائِمٌ“ کی طرح کیا ہے؟ ”ثَابِتٌ“ بھی اسم فاعل ہے اور اس پر کیا آیا؟ رفع آیا۔ تو یہ خبر ہے، ہاں صرف فرق یہ ہے: ”ثَبَتَ“ جب نکالا تھا تو یہ جملہ بنا تھا، اور ”ثَابِتٌ“ نکالا ہے تو شبہ جملہ ہے یعنی مفرد ہے، جملہ نہیں ہے، شبہ جملہ ہے۔ ”وَسَلَامٌ عَلَيْكَ“، جی یہ اگلا طریقہ آ گیا۔ اچھا، تو یہ جو گزرا ”وَفِي الدَّارِ رَجُلٌ“، اس میں دیکھیے خبرِ مقدم، خبر کو مقدم کرنے کی وجہ سے رجل میں کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی۔ بھئی یاد رکھیے ایک ضابطہ ہے مشہور: ”تَقْدِيمُ مَا حَقُّهُ التَّأْخِيرُ يُفِيدُ الْحَصْرَ وَالْقَصْرَ وَالتَّخْصِيصَ“۔ یہ ضابطہ آپ کو یاد ہونا چاہیے، جگہ جگہ آپ کو کام آئے گا۔ تقدیم، مقدم کرنا ما اس چیز کو حقہ التاخیر جس کا حق کیا تھا؟ مؤخر ہونا۔ جس کو مؤخر ہونا چاہیے تھا اس کو مقدم کرنا، ”يُفِيدُ الْحَصْرَ وَالْقَصْرَ وَالتَّخْصِيصَ“، یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے، قصر کا فائدہ دیتا ہے، اور تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ حصر، قصر، تخصیص، تینوں کا ایک معنی ہے، اس لیے میں نے تینوں لفظ ذکر کر دیے تاکہ آپ کو یاد رہے۔ تو قصر اس کا معنی بھی تخصیص، اور حصر بند کرنا تخصیص کرنا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ضابطہ کیا ذکر ہوا: ”تَقْدِيمُ مَا حَقُّهُ التَّأْخِيرُ يُفِيدُ الْحَصْرَ وَالْقَصْرَ وَالتَّخْصِيصَ“۔ اس چیز کو مقدم کر دینا جس کا حق مؤخر کرنا تھا، یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ حصر، قصر، اور تخصیص کا۔ تو یہاں پر بھی خبر کا مقام کیا تھا، اس کو مقدم ہونا چاہیے تھا یا مبتدا سے مؤخر ہونا چاہیے تھا؟ اس کو مؤخر ہونا چاہیے تھا، لیکن کیا کر دیا گیا؟ مقدم۔ جب مقدم کیا تو تقدیم ما حقہ التاخیر آ گیا، وہ چیز جس کا حق مؤخر کرنا تھا اس کو مقدم کر دیا گیا اور اس صورت میں یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ حصر، قصر اور تخصیص کا، تو اس کی وجہ سے تخصیص آ گئی۔ جب تخصیص آ گئی تو اب رجل کا مبتدا بننا صحیح ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَسَلَامٌ عَلَيْكَ“، یہ چھٹا طریقہ تخصیص کا۔ یہ ہے ”تَخْصِيصٌ بِنِسْبَةٍ إِلَى الْمُتَكَلِّمِ“، متکلم کی طرف نسبت کرنے کی وجہ سے تخصیص آ گئی بھئی۔ یاد رکھیے یہ اصل میں تھا: ”سَلَّمْتُ سَلَامًا عَلَيْكَ“، یہ جملہ فعلیہ تھا: ”سَلَّمْتُ سَلَامًا عَلَيْكَ“۔ ”سَلَّمْتُ“ فعل با فاعل، اور آگے ”سَلَامًا“ یہ مفعول مطلق ہے۔ آپ نے پڑھا ہو گا: وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو اسے مفعول مطلق کہتے ہیں، جیسے ”ضَرَبْتُ ضَرْبًا“، تو یہ لفظِ ”ضَرْبًا“ کیا ہے؟ مصدر، اور اس سے پہلے کیا آیا؟ فعل، اور یہ مصدر اسی کے ہم معنی ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق، اور اس پر کیا پڑھتے ہیں؟ نصب پڑھتے ہیں۔ تو یہ اصل میں کیا تھا: ”سَلَّمْتُ سَلَامًا عَلَيْكَ“۔ پھر ”سَلَّمْتُ“ کو حذف کر دیا اور کیا رہ گیا؟ ”سَلَامًا عَلَيْكَ“۔ پھر ”سَلَامًا عَلَيْكَ“، یہ ”سَلَامًا“ کا نصب بتلا رہا ہے کہ یہ جملہ فعلیہ تھا۔ فعل کو حذف کیا یا نہیں کیا آپ نے؟ تو یہ جملہ فعلیہ ہے، ”سَلَامًا“ کا نصب بتلا رہا ہے کیونکہ مفعول مطلق ہے۔ پھر اس کو ”سَلَامٌ عَلَيْكَ“ کر دیا گیا تاکہ یہ جملہ اسمیہ بن جائے، کیا بن جائے؟ جملہ اسمیہ۔ کیونکہ جملہ فعلیہ جو ہے حدوث پر دلالت کرتا ہے، اور جملہ اسمیہ جو ہے ثبوت اور دوام پر دلالت کرتا ہے۔ جملہ فعلیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث پر۔ حدوث کا معنی ہوتا ہے ایک چیز کا ہونا، پہلے نہیں تھی اور پھر ہوئی اور پھر گزر بھی گئی۔ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، میں نے زید کی پٹائی کی، معلوم ہوا پہلے ضرب نہیں تھی ایک زمانے میں، پھر میں نے پٹائی کی اور پھر وہ گزر بھی گئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک چیز کا ہونا جو پہلے نہ ہو، پھر ہو اور گزر جائے، یہ ہے حدوث۔ تو ”سَلَّمْتُ سَلَامًا عَلَيْكَ“، پھر اس میں سے ”سَلَّمْتُ“ حذف کیا تو کیا رہ گیا؟ ”سَلَامًا عَلَيْكَ“۔ ”سَلَامًا عَلَيْكَ“ جملہ فعلیہ ہے اور جملہ فعلیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث پر، معلوم ہوا مخاطب دوسرے سامنے والے کو سلام کر رہا ہے اور کیا کہتا ہے: میری طرف سے تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو۔ اور کون سا جملہ لایا؟ جملہ فعلیہ، اور جملہ فعلیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث پر، معلوم ہوا پہلے سلامتی نہیں تھی، سلامتی آئی، ہو اور پھر گزر گئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جملہ اسمیہ وہ ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ کس پر؟ ثبوت پر۔ جیسے میں کہتا ہوں ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، یہ کون سا جملہ ہے؟ جملہ اسمیہ، اور یہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ثبوت پر، یہ اتنا بتا رہا ہے زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ یہ نہیں بتا رہا کہ پہلے نہیں تھا پھر آیا اور پھر ختم بھی ہو گیا، نہیں۔ صرف اتنا بتا رہا ہے زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے۔ جملہ فعلیہ میں ذکر تھا: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، معلوم ہوا پہلے ضرب نہیں تھی، پھر میں نے ضرب لگائی اور پھر ضرب گزر گئی۔ تو وہ حدوث پر دلالت کرتا ہے، لیکن جملہ اسمیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ثبوت پر۔ ایک چیز ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کے لیے کس چیز کا ثبوت ہے؟ قیام کا۔ پہلے تھا کہ نہیں تھا؟ کوئی ذکر نہیں۔ بعد میں ختم ہو گیا کہ ہے؟ کوئی ذکر نہیں، صرف اتنا ذکر کیا کہ زید کے لیے کس چیز کا ثبوت ہے؟ قیام کا۔ اور پھر یہی جملہ اسمیہ بعض اوقات دوام پر بھی دلالت کرتا ہے، کس پر؟ دوام پر۔ جیسے ”زَيْدٌ طَوِيلٌ“، زید لمبے قد والا ہے، زید لمبا ہے۔ اب بتائیے، لمبا قد جب کسی کا ہو تو یہ تھوڑی دیر رہتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے یا مسلسل رہتا ہے پھر؟ مسلسل، دوام کے ساتھ رہتا ہے۔ تو دیکھو جملہ اسمیہ پھر کبھی کبھار دوام پر بھی دلالت کرتا ہے۔ تو یہ بھی چونکہ دعا ہے اور دعا میں کیا بہتر ہے کہ انسان دوسرے پر سلامتی کی دعا دے تو مسلسل دائمی سلامتی کی دعا دے یا تھوڑی دیر کی سلامتی کی دعا دے؟ دائمی، کہ ہمیشہ تم پر کیا ہو؟ سلامتی ہو۔ لہٰذا جملہ فعلیہ دلالت کرتا ہے کس پر؟ حدوث پر، اور جملہ اسمیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ثبوت اور دوام پر، ثبوت اور دوام پر۔ لہٰذا یہ تھا ”سَلَّمْتُ سَلَامًا عَلَيْكَ“، ”سَلَّمْتُ“ حذف ہو گیا، کیا رہ گیا؟ ”سَلَامًا عَلَيْكَ“۔ کس پر دلالت کر رہا ہے یہ ”سَلَامًا“؟ حدوث پر، ”سَلَامًا“ بتلا رہا ہے کہ یہ کون سا جملہ تھا؟ جملہ فعلیہ۔ تو اس کو بدل دیا گیا، ”سَلَامٌ عَلَيْكَ“ کر دیا گیا، تو ”سَلَامٌ“ ہوا مبتدا اور ”عَلَيْكَ“ ہوئی اس کی خبر۔ تو جملہ فعلیہ کے بجائے کون سا جملہ بنا دیا گیا اس کو؟ جملہ اسمیہ، کس لیے؟ تاکہ حدوث کے بجائے کس پر دلالت کرے؟ ثبوت اور دوام پر، کہ جو میں تمہیں سلامتی کی دعا دے رہا ہوں یہ تھوڑی دیر کے لیے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے، تم پر ہمیشہ کے لیے سلامتی ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں تخصیص کیوں آئی کہ یہ سلامتی ہر ایک کی طرف سے ہے یا متکلم کی طرف سے ہے؟ یہ دعا اس کو ہر ایک دے رہا ہے یا متکلم دے رہا ہے؟ متکلم دے رہا ہے، تو اس وجہ سے یہاں پر کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی: ”سَلَامٌ عَلَيْكَ“ میں کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی، حالانکہ سلام نکرہ ہے۔ لیکن بہرحال اس میں ایک عام ضابطہ یہ ہے کہ مقامِ دعا اور بددعا میں نکرہ بھی مبتدا بن سکتا ہے۔ مقامِ دعا اور بددعا میں نکرہ بھی کیا بن سکتا ہے؟ مبتدا، تو یہ بھی چونکہ مقامِ دعا ہے: ”سَلَامٌ عَلَيْكَ“، اس لیے سلام نکرہ یہ مبتدا بن رہا ہے۔ اور یہ دعا کس کی طرف سے ہے؟ متکلم کی طرف سے ہے، تو اس کی طرف نسبت ہونے کی وجہ سے اس میں تخصیص آ گئی کہ سلامتی ہو علیک تم پر، یہ سلامتی ہو کس کی طرف سے؟ متکلم کی طرف سے۔ یہ تھے تخصیص کے چھ طریقے۔ یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ ترکیب کیا ہو گی؟ ”سَلَامٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”عَلَيْكَ“، علی جارہ، کاف ضمیر مجرور محلاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر ”عَلَى“ داخل ہوا ہے۔ تو جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہو گا ”ثَابِتٌ“ سے، ”ثَابِتٌ“ صیغہ اسم فاعل، مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ ”عَلَيْكَ“ اسی سے متعلق ہو رہا ہے، تو یہ ”ثَابِتٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر جو لوٹ رہی ہے ”سَلَامٌ“ مبتدا کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق یعنی جار مجرور سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دعا ہے، لہٰذا لفظاً تو یہ خبر ہے لفظوں کے اعتبار سے یہ خبر ہے جملہ خبریہ ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے جملہ انشائیہ ہے، جملہ انشائیہ ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُ الِاسْمَيْنِ مَعْرِفَةً وَالْآخَرُ نَكِرَةً“، بھئی میں نے آپ کو بتلایا اوپر صاحبِ ہدایت النحو نے بھی آپ کو بتایا کہ مبتدا میں اصل کیا ہے؟ معرفہ ہونا، اور خبر میں اصل کیا ہے؟ نکرہ ہونا۔ تو لہٰذا آپ کے پاس اگر دو اسم ہوں اور ان سے مل کر بات پوری ہو رہی ہے جملہ پورا ہے، اور ان میں سے ایک معرفہ ہے اور ایک نکرہ ہے، تو یاد رکھو ہمیشہ معرفہ کو مبتدا بنانا اور نکرہ کو کیا بنانا؟ خبر بنانا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُ الِاسْمَيْنِ مَعْرِفَةً وَالْآخَرُ نَكِرَةً فَاجْعَلِ الْمَعْرِفَةَ مُبْتَدَأً وَالنَّكِرَةَ خَبَرًا الْبَتَّةَ كَمَا مَرَّ“، اور اگر دو اسموں میں سے ایک جو ہے معرفہ ہو اور دوسرا نکرہ ہو تو بنا دے معرفہ کو مبتدا اور نکرہ کو خبر قطعی طور پر، جیسے کہ بات گزر گئی ہم نے اوپر آپ کو بتلایا بھی تھا کہ مبتدا میں اصل کیا ہے؟ معرفہ ہونا اور خبر میں اصل ہے نکرہ ہونا۔ ”وَإِنْ كَانَا مَعْرِفَتَيْنِ“، اب دوسری صورت: بھئی آپ کے پاس ایک کلام ہے دو لفظوں سے مل کر بن رہا ہے اور وہ ان سے مل کر بات پوری ہو رہی ہے پورا جملہ ہے اور دونوں معرفہ ہیں، دونوں لفظ کیا ہیں؟ معرفہ۔ تو پھر کس کو مبتدا بنائیں، کس کو خبر بنائیں؟ کہتے ہیں بھئی جس کو چاہے آپ مبتدا بنا دیں کیونکہ دونوں معرفہ ہیں، اور جس کو چاہے خبر بنا دیں۔ دونوں جب معرفہ ہیں تو جس کو چاہے مبتدا بنا دیں جس کو چاہے خبر، لیکن جس کو مبتدا بنانا ہے اس کو مقدم رکھنا، جس کو مبتدا بنانا ہے اس کو مقدم رکھنا اور جس کو خبر بنانا ہے اس کو مؤخر۔ وجہ یہ کہ فرض کریں اگر آپ چاہتے ہیں جی دونوں معرفہ ہیں میں بعد والے کو کیا بناتا ہوں؟ مبتدا، اور جو پہلے آیا اس کو کیا بناتا ہوں؟ خبر۔ تو سننے والے کو تو نہیں پتہ چلے گا، وہ تو دونوں لفظ معرفہ ہیں دونوں مبتدا بن سکتے ہیں، وہ تو یہی سمجھے گا شاید پہلا لفظ کیا ہے؟ مبتدا ہے اور دوسرا کیا ہے؟ خبر، کیونکہ مبتدا میں اصل ہے مقدم ہونا اور خبر میں اصل ہے مؤخر ہونا، تو وہ پہلے کو مبتدا سمجھے گا۔ اور کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جس سے فرق کیا جا سکے دونوں میں، لہٰذا جب دونوں لفظ معرفہ ہوں آپ جس کو چاہے مبتدا بنائیں جس کو چاہے خبر بنائیں، لیکن جس کو بھی مبتدا بنانا چاہتے ہیں اس کو کیا کر دیں؟ مقدم کر دیں اور دوسرے کو مؤخر کر دیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَا مَعْرِفَتَيْنِ فَاجْعَلْ أَيَّهُمَا شِئْتَ مُبْتَدَأً وَالْآخَرَ خَبَرًا“، اور اگر دونوں اسم معرفہ ہوں تو بنا دے ان دونوں میں سے جس کو چاہے مبتدا اور دوسرے کو خبر، ”نَحْوُ: اللّٰهُ تَعَالَى إِلٰهُنَا“۔ آپ کے پاس دو لفظ ہیں بھئی: اللہ تعالیٰ اور الہنا۔ اور جس کو چاہے مبتدا بنائیں، لیکن جس کو مبتدا بنائیں اس کو مقدم کر دیا، تو اللہ تعالیٰ یہ کیا ہے؟ مبتدا، اور الہنا اس کی خبر، الہنا اس کی خبر۔ ترکیب کیسے ہو گی؟ لفظِ اللہ مرفوع لفظاً، آگے ”تَعَالَى“ فعل آیا۔ بھئی میں نے آپ کو ایک ضابطہ بتلایا تھا: نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔ شروع کتاب میں کئی جگہ یہ ضابطہ ذکر ہوا، خصوصاً کلمہ کی تعریف میں بھی ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، تو وہاں پر بھی میں نے ذکر کیا تھا: نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے۔ اور معرفہ کے بعد اگر فعل آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے حال بنتا ہے۔ اور لفظِ اللہ کیا ہے؟ معرفہ، کیونکہ علم ہے، بلکہ لفظِ اللہ علی الاطلاق أعرف المعارف ہے، تمام معرفہ میں سے سب سے زیادہ تعریف کس کے اندر ہے؟ لفظِ اللہ کے اندر ہے، تو یہ أعرف المعارف ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ امام سیبویہ بھئی بہت بڑے نحو کے امام گزرے ہیں بھئی، وفات کے بعد ان کو خواب میں کسی نے دیکھا اور پوچھا کہ اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو جواب میں فرمانے لگے کہ اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا کس بات پر اللہ نے آپ کی مغفرت فرمائی؟ تو فرمانے لگے کہ میں اس بات کا قائل تھا کہ لفظِ اللہ علی الاطلاق أعرف المعارف ہے، اس میں تمام معرفوں سے زیادہ تعریف سب سے زیادہ معرفہ کون سا ہے بڑا جس میں تعریف سب سے زیادہ ہے؟ وہ لفظِ اللہ ہے، میں چونکہ اس بات کا قائل تھا اس لیے اس بات پر اللہ نے میری مغفرت فرما دی بھئی۔ تو لفظِ اللہ تو یہ معرفہ ہے اور معرفہ کے بعد ”تَعَالَى“ یہ فعل آ گیا، اور معرفہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ حال۔ تو لفظِ اللہ کو ابھی مبتدا نہ بنائیں ابھی کیا کہیں؟ یہ ذوالحال ہے۔ لفظِ اللہ مرفوع لفظاً ذوالحال، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ ذوالحال، آگے ”تَعَالَى“ فعل۔ ”تَعَالَى“ فعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، تو اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے ذوالحال کو، یہ عائد ہم نے بتلا دیا کیونکہ یہ جملہ حال بنے گا اور جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑا جائے درمیان میں کیا ضروری ہے؟ عائد اور ربط کا ہونا ضروری ہے۔ تو ”هُوَ“ ضمیر راجع ہے ذوالحال کو، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر مبتدا۔ اور ”إِلٰهُنَا“، جی اب آگے آپ ترکیب کیجیے بتائیے بھئی: الہ معبود، نا ضمیر ہے۔ اعراب بتاؤ: ”إِلٰهُ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: ”إِلٰهُ“۔ اور مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا؟ جس اسم کے ساتھ بھی کیا آ جائے؟ ضمیر متصل، تو مضاف ہوا۔ نا ضمیر کا اعراب بتاؤ بھئی: مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے مبنیات میں سے ہے۔ تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر، مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب دیکھیے، لفظِ اللہ بھی معرفہ، الہنا یہاں بھی الہ لفظ کس کی طرف مضاف ہے؟ ضمیر کی طرف، اور ضمیر کی طرف جو لفظ مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ، تو دونوں معرفہ ہیں۔ لفظِ اللہ بھی معرفہ اور الہنا بھی معرفہ۔ تو جس کو مبتدا بنائیں گے اس کو مقدم رکھیں گے، اور الہنا کو جس کو خبر بنایا تو اس کو مؤخر رکھا۔ آپ چاہتے ہیں الہنا کو مبتدا بنائیں تو اس کو مقدم کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَمُحَمَّدٌ نَبِيُّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“۔ جی، دیکھیے لفظِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی معرفہ، اور ”نَبِيُّنَا“ یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ۔ ترکیب کیجیے بھئی جلدی جلدی کیجیے: ”مُحَمَّدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اور ”نَبِيُّنَا“، ”نَبِيُّ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ مضاف، آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے؟ اس اسم کے ساتھ ضمیر متصل جڑی ہوئی ہے تو مضاف۔ اور نا ضمیر کا اعراب بتاؤ: مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ محلاً کیوں؟ ضمیر ہے مبنیات میں سے ہے۔ تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ”اللّٰهُ تَعَالَى إِلٰهُنَا“، اللہ تعالیٰ ہمارے معبود ہیں، ”وَمُحَمَّدٌ نَبِيُّنَا“، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پیغمبر ہیں۔ ”وَآدَمُ أَبُونَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، اور حضرت آدم علیہ السلام ہمارے باپ ہیں۔ تو ”آدَمُ“ اعراب بھئی؟ مرفوع لفظاً مبتدا، اس پر تنوین نہیں آئی کیونکہ یہ غیر منصرف ہے۔ غیر منصرف کے دو اسباب کیا؟ ایک تو یہ نام ہے، علمیت ہے، دوسرا عجمہ ہے عجمی نام ہے عجمی نام، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام تو سب سے پہلے بھیجے گئے، اور اس وقت ابھی عربی زبان کا وجود ہی نہیں تھا جب وہ آئے بھئی، عربی زبان تو بہت بعد میں بنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے بعد بھئی۔ تو یہ عجمی نام ہے۔ تو مرفوع لفظاً مبتدا۔ ”أَبُونَا“، جی اعراب سب سے پہلے بھئی: ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کیا ہے اس کا رفع؟ واؤ ہے، کیونکہ اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یائے متکلم۔ تو یہ مضاف، نا ضمیر کا اعراب: مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دو اسم ہوں ایک معرفہ اور ایک نکرہ ہو تو کس کو مبتدا بناؤ؟ معرفہ کو، اور دوسرے کو خبر۔ اور اگر دونوں معرفہ ہوں تو جس کو چاہے مبتدا بنا دیں لیکن جس کو مبتدا بنائیں اس کو مقدم رکھیں۔ ”وَقَدْ يَكُونُ الْخَبَرُ جُمْلَةً اسْمِيَّةً“، اور کبھی کبھار خبر وہ جملہ اسمیہ ہوتی ہے، میں نے آپ کو بتایا تھا کبھی کبھار خبر کیا ہوتی ہے؟ جملہ ہوتی ہے، اور وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ فعلیہ بھی۔ یہ دیکھو دونوں بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَكُونُ الْخَبَرُ جُمْلَةً اسْمِيَّةً نَحْوُ: زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ“، اور کبھی کبھار خبر جو ہے وہ جملہ اسمیہ ہوتی ہے، ”أَوْ فِعْلِيَّةً نَحْوُ: زَيْدٌ قَامَ أَبُوهُ“، یا کبھی کبھار خبر جملہ فعلیہ ہوتی ہے جیسے ”زَيْدٌ قَامَ أَبُوهُ“، ”أَوْ شَرْطِيَّةً نَحْوُ: زَيْدٌ إِنْ جَاءَنِي فَأَكْرَمْتُهُ“، یا خبر کبھی کبھار جملہ شرطیہ ہوتی ہے، ”أَوْ ظَرْفِيَّةً نَحْوُ: زَيْدٌ خَلْفَكَ وَعَمْرٌو فِي الدَّارِ“، یا خبر کبھی کبھار جملہ ظرفیہ ہوتی ہے بھئی۔ تو خبر کبھی کبھار جملہ ہوتی ہے، پھر وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتی ہے، جملہ فعلیہ بھی، جملہ شرطیہ بھی، اور جملہ ظرفیہ بھی۔ اب ترکیب آپ نے کرنی ہے بھئی: ”زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ“، جملہ اسمیہ ہے۔ ترکیب کیجیے بھئی جلدی جلدی: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، آگے ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدائے ثانی ہے۔ اور مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے؟ اس کے ساتھ ضمیر متصل آ رہی ہے یہ ہا ضمیر ہے۔ آگے ہا ضمیر کا اعراب بتاؤ: ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدائے ثانی، شاباش۔ آگے ”قَائِمٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ جی، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل جو لوٹ رہا ہے ”أَبُوهُ“ کی طرف۔ شاباش! ”قَائِمٌ“ کو ہم نے ”أَبُوهُ“ سے جوڑنا ہے کہ ”زَيْدٌ“ سے جوڑنا ہے؟ ”قَائِمٌ“ ”أَبُوهُ“ کی خبر ہے، پھر یہ پورا جملہ خبر کس کی بنے گا؟ ”زَيْدٌ“ کی، تو لہٰذا ”قَائِمٌ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ ”أَبُوهُ“ کو۔ تو صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، عائد ہم نے بتا دیا کہ ”هُوَ“ ضمیر تھی، تو خبر۔ اب ”أَبُوهُ“ مبتدا اپنی خبر ”قَائِمٌ“ سے ملا، تو مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر خبر کس کے لیے؟ ”زَيْدٌ“ کے لیے۔ کیسے ”زَيْدٌ“، پورے جملے کو آپ خبر بنا رہے ہیں اور کوئی ربط دیا آپ نے؟ پورے جملے کو ربط نہیں دیا ”زَيْدٌ“ کے ساتھ بھی جوڑنا ہے یا نہیں جوڑنا؟ جملے اور شبہ جملے کو جب بھی کسی سے جوڑنا ہو کیا چاہیے درمیان میں؟ ربط، عائد چاہیے، اور عموماً کس صورت میں ہوتا ہے؟ غائب کی ضمیر ہوتی ہے، بتائیے اب! ہا ضمیر، ہاں یہ ”أَبُوهُ“، یہ ہا ضمیر آپ کو نظر آئی کہ نہیں بھئی؟ یہ کیوں لے کر آئے یہاں پر؟ اگر یہ ضمیر نہ ہوتی ربط ہی نہیں آنا تھا، جڑنا ہی نہیں تھا جملہ۔ یہ ہا ضمیر یہاں نہ ہوتی تو یہ جملہ خبر بن ہی نہیں سکتا تھا اس کے لیے، تو یہ ہا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ یہ ”أَبُوهُ“ کے آخر میں جو ہا ضمیر ہے یہ لوٹ رہی ہے ”زَيْدٌ“ کو۔ اور دیکھو ہا ضمیر بھی مفرد مذکر اور زید بھی کیا ہے؟ مفرد مذکر، لہٰذا ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے۔ تو لہٰذا یہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب آپ سے کوئی پوچھے ”أَبُوهُ قَائِمٌ“ اس پورے جملے کا اعراب بتاؤ، کیا جواب دیں گے؟ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے یہ جملہ، اور محلاً کیوں؟ کیونکہ جملہ ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ خبر ہونے کی بنا پر یہ مرفوع محلاً ہے، یہ ”أَبُوهُ“ پر رفع اس وجہ سے نہیں آیا، ”قَائِمٌ“ پر رفع اس وجہ سے نہیں وہ ان کا اپنا رفع ہے مبتدا خبر ہونے کی بنا پر، خبر ہونے کی بنا پر وہ رفع یہاں نہیں ہے وہ محلاً مرفوع ہے یہ۔ اچھی طرح ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ اب ذرا معنی بھی کر دو بھئی: ”زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ“۔ زید کہ اس کا باپ کھڑا ہے، زید کہ کھڑا ہے اس کا والد، یعنی آسان لفظوں میں کہو: زید کے والد کھڑے ہیں۔ اور قائم کون ہے؟ اس کا باپ، اور قائم میں ضمیر بھی کس کو لوٹی تھی؟ ”أَبُوهُ“ کو۔ ”أَوْ فِعْلِيَّةً“، یا کبھی کبھار خبر کیا ہو گی؟ جملہ فعلیہ جیسے ”زَيْدٌ قَامَ أَبُوهُ“۔ چلیے جی، ترکیب کیجیے: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے ”قَامَ“ فعل، ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے ”قَامَ“ کے لیے، اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں اور رفع اس کا کیا ہے؟ واؤ۔ ”أَبُو“ واؤ بتلا رہا ہے کہ یہ مرفوع ہے۔ مضاف ہے، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل آ جائے تو وہ مضاف اور مضاف الیہ بنتے ہیں۔ تو ہا ضمیر کا بھی اعراب بتاؤ: مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل ”قَامَ“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ ہاں بتائیے بھئی، یہ جملہ فعلیہ زید کے لیے خبر بن سکتا ہے؟ ہا ضمیر لوٹے گی زید کو۔ شاباش، انہوں نے عائد نہیں بتلایا تھا اب بتا دیا، جملے کو جب جوڑنا ہے بغیر عائد کے نہیں، یہ اسی لیے یہ ہا ضمیر لے کر آئے اس کے بغیر بات بنتی ہی نہیں ہے۔ تو یہ ہا ضمیر لوٹ رہی ہے مبتدا کو، تو ”قَامَ أَبُوهُ“ پورا جملہ اس کے اندر ہمیں ایک ضمیر چاہیے تھی اور وہ ضمیر کیا ہے؟ ”أَبُوهُ“ کے آخر میں ہا ضمیر، جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ مبتدا کو۔ تو یہ جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب آپ سے کوئی پوچھے ”قَامَ أَبُوهُ“ اس پورے جملے کا اعراب بتاؤ، آپ کیا کہیں گے؟ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے، اور محلاً کیوں؟ کیونکہ جملہ ہے۔ تو یہ نہ کہنا کہ ”قَامَ“ مرفوع ہے، ”قَامَ“ نہیں مرفوع، ”قَامَ أَبُوهُ“ پورا جملہ مرفوع ہے، پورا جملہ کیا ہے؟ مرفوع ہے خبر ہونے کی بنا پر۔ ترجمہ کرو: ”زَيْدٌ قَامَ أَبُوهُ“، زید کے کھڑا ہوا اس کا والد، یعنی آسان لفظوں میں کہو: زید کے والد کھڑے ہوئے۔ زید کے کھڑے ہونے کی بات نہیں ہو رہی، زید کو ویسے ذکر کیا ہے، کس کے کھڑے ہونے کی بات ذکر ہو رہی ہے؟ اس کے والد کے کھڑے ہونے کی۔ پچھلے جملے میں بھی اسی طرح تھا: ”زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ“، زید کہ کھڑا ہے اس کا باپ، زید ویسے ذکر کر دیا، بتلانا کیا مقصد ہے کہ زید کا باپ کھڑا ہے۔ اب ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ دیکھا، اب یہ آگے ہم چلتے جائیں گے ترکیب بڑھتی جائے گی، وہ ضابطوں پر کبھی کبھی ان کو تکرار کرتے رہنا، آپ دیکھتے جائیں گے آپ کی ترکیب بہتر سے بہتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اب جو بات ہو گی آپ کے سر کے اوپر سے نہیں گزرے گی، سمجھ آئے گی کم از کم آپ کو۔ تو یہ ضابطے ان کا تکرار بھی کرتے رہو اور یہ جو آج ترکیبیں ہوئیں ان کو بھی خوب اچھی طرح دہراؤ بھئی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 44 of 104