گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ بعض اوقات مبتدا کی خبر جو ہے وہ جملہ ہوتی ہے بھئی۔ تو پورا جملہ کیا بنتا ہے؟ مبتدا کی خبر بنتا ہے۔ اور وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ فعلیہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور اگر وہ جملہ اسمیہ ہے تو پھر جملہ اسمیہ کے اندر ایک مبتدا ہوتا ہے اور ایک خبر وہ اس میں آئے گی، اور اگر وہ جملہ فعلیہ ہے تو وہاں پر فعل کے ساتھ ساتھ فاعل یا نائب فاعل بھی آئے گا بھئی۔
اور میں نے آپ کو بتلایا کہ جملہ مستقل ہوتا ہے، اس میں بات پوری ہوتی ہے، وہ کسی اور لفظ کے ساتھ جوڑنے کا محتاج نہیں، لیکن جب اس کو خبر بنایا جائے تو آپ اس کو جوڑ رہے ہیں مبتدا کے ساتھ۔ تو جب جملے کو جوڑ رہے ہیں مبتدا کے ساتھ تو اب درمیان میں ربط چاہیے، اور جو چیز ربط دے اس کو عائد کہتے ہیں عائد۔
اور وہ عائد اس کی کئی صورتیں ہیں، لیکن سب سے عام استعمال ہونے والی صورت کیا ہے؟ کہ کوئی غائب کی ضمیر ہو گی جو اس مبتدا کی طرف لوٹے۔ تو اسی فعل کے اندر ضمیر ہونا ضروری نہیں، بلکہ پورے جملے کے اندر کیا ہونی چاہیے؟ کوئی ضمیر ہونی چاہیے، چاہے وہ فاعل بن رہی ہو، چاہے مفعول بن رہی ہو، کچھ بھی بن رہی ہو، لیکن بہرحال کوئی ضمیر چاہیے جو اس مبتدا کی طرف لوٹے۔
تو لہٰذا جو بھی غائب کی ضمیر آئے، آپ کو اس کا مرجع تلاش کرنا ہے اب۔ یہ ترکیب میں سب سے ضروری چیز ہے، عموماً طلبہ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے، اور جس کی وجہ سے ترکیب میں مشکل پیش آتی ہے۔ تو جب بھی غائب کی ضمیر آئے، اس کا مرجع تلاش کرنا ہے کہ یہ ”هُوَ“ ہے، یا ”هُمَا“ ہے، یا ”هُمْ“ ہے، یا ”هِيَ“ ہے، وغیرہ جو بھی غائب کی ضمیر آئے، آپ نے دیکھنا ہے کہ یہ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے، اس کا مرجع کیا ہے۔
اور نیز یہ بھی میں نے آپ کو بتایا کہ جس طرح جملے کو کسی چیز سے جوڑنے کے لیے ربط اور عائد چاہیے، اسی طرح جو شبہ جملہ ہے، یعنی جو صفت وغیرہ کا صیغہ آئے اور وہ اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ شبہ جملہ، اس کو بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو تو درمیان میں عائد کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو جملے کو بھی کسی چیز سے جوڑیں تو کیا ضروری ہے اس میں؟ عائد کا ہونا، اور شبہ جملہ کو بھی کسی چیز سے جوڑیں تو عائد کا ہونا ضروری ہے بھئی۔
ابھی تک آپ نے جتنی ترکیبیں کیں ان کے اندر ہم نے عائد کو نہیں دیکھا کیونکہ ابھی آپ ابتدائی ترکیب ابھی سیکھ رہے ہیں لیکن اب یہ ضابطہ آپ نے پڑھ لیا، اب جب بھی شبہ جملہ کو کسی سے جوڑنا ہے یا جملے کو کسی سے جوڑنا ہے تو آپ نے عائد ضرور بتلانا ہے بھئی، عائد ضرور بتلانا ہے۔ لہٰذا جملہ یا شبہ جملہ، چاہے وہ خبر بنے، چاہے وہ صلہ بنے، چاہے وہ حال بنے، اور چاہے صفت بنے، تو جس چیز سے جوڑ رہے ہیں، اس کے ساتھ اس کا ربط ضروری ہے۔
لہٰذا اگر جملہ خبر بنے، تو خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے، لہٰذا عائد ہونا ضروری ہے جو مبتدا کو لوٹے۔ اور اگر جملہ جو ہے وہ صفت بن رہا ہے، تو صفت کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ موصوف کے ساتھ، تو اس میں موصوف کی طرف لوٹنے والی ایک ضمیر ہو۔ اور اگر جملہ جو ہے وہ حال بن رہا ہے، تو حال کو ذوالحال سے جوڑا جاتا ہے، تو اس میں ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو ذوالحال کی طرف لوٹے۔ اور جملہ جب صلہ بن رہا ہو تو صلے کو موصول سے جوڑا جاتا ہے، تو اس میں ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو موصول کی طرف لوٹے بھئی۔
اب آگے کچھ اور ترکیبیں کیجیے بھئی، لکھیے: ”خَالِدٌ أَخُوكَ“۔ جی، ترکیب کیجیے بھئی شروع۔ طلبہ نے ترکیب شروع کی: ”خَالِدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا ہے۔ آپ نے فرمایا: شاباش! ”خَالِدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: ”خَالِدٌ“۔ جی آگے؟ طلبہ نے کہا: ”أَخُو“ مضاف ہے۔ آپ نے فرمایا: اعراب بھئی؟ طلبہ نے کہا: مرفوع لفظاً مضاف ہے۔ فرمایا: ”أَخُو“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے شاباش! لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کیا ہے اس کا رفع؟ واؤ ہے شاباش۔ اور نصب اس کا کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف کے ساتھ، اور جر؟ یا کے ساتھ۔
آگے، اور مضاف آپ نے کہا، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ طلبہ نے کہا: جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہو۔ فرمایا: ہاں، جس اسم کے ساتھ، فعل کی بات نہیں کر رہا میں بار بار کہتا ہوں بھئی توجہ رکھنی ہے آپ نے، فعل نہیں بلکہ اسم، فعل کے ساتھ تو فاعل بھی آ سکتی ہے ضمیر، فعل کے ساتھ تو مفعول کی بھی ضمیر آ سکتی ہے، یہاں اسم کے ساتھ جب ضمیر متصل آ جائے تو وہ مضاف اور مضاف الیہ بنتے ہیں۔ تو ”أَخُو“ مرفوع لفظاً مضاف، آگے؟ طلبہ نے کہا: کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ ہے۔
فرمایا: ہاں، کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ محلاً کیوں کہہ رہے ہو؟ کیونکہ ضمیر ہے، اور ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے ہے۔ جی، اب سمیٹیے! مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا کے لیے خبر، ہاں، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر، مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
اب کوئی طالب علم آپ پر اشکال کر دیتا ہے، وہ کہتا ہے ”أَخُوكَ“ اس کو آپ نے خبر بنایا اور عائد کوئی نہیں بتلایا، آپ کیا جواب دیں گے؟ طلبہ نے کہا: کاف ضمیر۔ آپ نے فرمایا: پھر وہی بات! پھر وہی بات کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں کاف ضمیر! مرجع صرف غائب کی ضمیر کا ہوا کرتا ہے، صرف غائب کی! بھئی آسان سی بات ہے، آپ کہیں ”أَخُوكَ“ نہ یہ جملہ ہے، نہ شبہ جملہ ہے۔ جملہ ہوتا تو عائد چاہیے ہوتا، شبہ جملہ ہوتا تو عائد چاہیے تھا، تو یہ نہ جملہ ہے نہ شبہ جملہ ہے، لہٰذا یہاں عائد کی کیا ضرورت ہے بھئی! بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے: ”خَالِدٌ أَخُوكَ“۔ جی ترجمہ کیجیے: خالد آپ کا بھئی ہے۔ کیا مشکل ہے، کیوں کس سوچ میں پڑے ہو، ”خَالِدٌ أَخُوكَ“، کیجیے ترجمہ، کیا مشکل ہے؟ کس کی بات کر رہے ہیں؟ مبتدا وہ جس کے بارے میں بات کی جائے اور خبر وہ جو بات کہی جائے۔ کس کی بات ہو رہی ہے؟ خالد مبتدا کی، وہ کون ہے؟ خالد۔ اور کیا بات ہو رہی ہے؟ آپ کا بھئی ہے۔ کریں اب اس کو پورا کر دیں: خالد آپ کا بھئی ہے۔ جب مبتدا بھی آ گئے، خبر بھی آ گئے، تو بات پوری ہو گئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ”خَالِدٌ أَخُوكَ“، خالد آپ کا بھئی ہے۔
اگلا جملہ لکھیے: ”الرَّجُلَانِ قَائِمَانِ“۔ جی، ترکیب کیجیے بھئی! طلبہ نے کہا: ”الرَّجُلَانِ“ منصوب ہے۔ فرمایا: منصوب کیوں؟ اب بتائیے! طلبہ نے کہا: ”الرَّجُلَانِ“ مرفوع لفظاً مبتدا ہے۔ فرمایا: بھئی میں تو ایسا لفظ بھی نہیں استعمال کرتا جس کا معنی آپ کو نہ آتا ہو، پھر آپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں؟ الرجل کا معنی آتا ہے یا نہیں آتا؟ آتا ہے۔ پھر ”الرَّجُلَانِ“ یہ بھی آپ کو پتہ ہے کہ نہیں کہ یہ تثنیہ ہے؟ یہ بھی پتہ ہے۔ اور ترکیب ہم کس کی کر رہے ہیں؟ مبتدا اور خبر کی، پھر کیا سوچ رہے ہو بھئی؟ ہاں، کریں ترکیب!
طلبہ نے کہا: ”الرَّجُلَانِ“ مرفوع لفظاً مبتدا ہے۔ فرمایا: ہاں، کیوں اتنا لمبا اتنی دیر سوچتے ہو بھئی، کوئی مشکل نہیں ہے۔ ”الرَّجُلَانِ“ مرفوع لفظاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ ”الرَّجُلَانِ“، میں تو نون پر زیر پڑھ رہا ہوں؟ طلبہ نے کہا: یہ تو حرکت ہے اس کی۔ فرمایا: ہاں پھر رفع کدھر ہے؟ تثنیہ کا رفع الف کے ساتھ آتا ہے، ”الرَّجُلَانِ“۔ منصوب یا مجرور ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ ”الرَّجُلَيْنِ“، معلوم ہوا اس کا اعراب تینوں حالتوں میں لفظی ہے، اس پر باقاعدہ ہم تلفظ کرتے ہیں، یہ الف اور یا ہے، اس کو ہم پڑھتے ہیں۔
تو ”الرَّجُلَانِ“ مرفوع لفظاً مبتدا، آگے؟ طلبہ نے کہا: ”قَائِمَانِ“ مرفوع لفظاً خبر ہے۔ فرمایا: ”قَائِمَانِ“ مرفوع لفظاً خبر، پوری ترکیب نہیں کر رہے۔ ”قَائِمَانِ“ کون سا صیغہ ہے؟ طلبہ نے کہا: تثنیہ کا۔ فرمایا: تثنیہ تو ہے، صیغہ کون سا؟ ”قَائِمٌ“ یہ کون سا صیغہ ہے؟ صیغہ بتاؤ مجھے۔ طلبہ نے کہا: صیغہ اسم فاعل ہے۔ فرمایا: ہاں، اسم فاعل، اور اسی کے الف نون لگا دیا، ”قَائِمَانِ“، یہ کیا ہے؟ تثنیہ، تو وہی اسم فاعل ہے یہ۔ تو ”قَائِمَانِ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل ہے۔
اور مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”قَائِمَانِ“۔ ذرا نصب اور جر پہ تلفظ کریں: ”قَائِمَيْنِ“، دیکھا سننے سے ہی دوسرے کو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ رفع نہیں پڑھ رہا، نصب یا جر پڑھ رہا ہے۔ تو ”قَائِمَانِ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، آگے؟ طلبہ نے کہا: ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے۔ فرمایا: ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل؟ بھئی ”هُوَ“ ضمیر، آپ بتائیے بھئی؟ شاباش، تثنیہ کا صیغہ ہے تو تثنیہ کی ضمیر اس میں نکالو گے بھئی۔
اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ فعل کے اندر جو الف آتا ہے، ”ضَرَبَا“، یہ فعل میں جو الف آتا ہے یہ تثنیہ کی ضمیر ہوتی ہے، لیکن اسم فاعل، اسم مفعول وغیرہ صفت کے صیغوں میں جو الف آتا ہے، وہ ضمیر نہیں ہوتی وہ صرف تثنیہ کی علامت ہے، وہ کیا ہے؟ تثنیہ کی علامت ہے۔ اور پتہ کیسے چلا کہ یہ ضمیر نہیں ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ حالت نصبی جری میں بدل جاتی ہے، ”قَائِمَيْنِ“، وہی الف کس سے بدل گیا؟ یا سے۔ اگر یہ ضمیر ہوتی، ضمیر تو مبنی ہے اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں آتی، اس کا بدلنا ہی بتلا رہا ہے کہ یہ ضمیر نہیں یہ صرف کیا ہے؟ تثنیہ کی علامت ہے۔
اگر میں آپ سے کہتا ”ضَرَبَا“ ترکیب کرو، آپ کیا کہیں گے؟ ”ضَرَبَا“ فعل با فاعل، اور فاعل کیا ہے؟ الف ضمیر۔ لیکن یہاں پر میں آپ سے پوچھ رہا ہوں ”قَائِمَانِ“، آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ صیغہ اسم فاعل، لیکن اس میں الف کو فاعل نہیں کہنا بلکہ اس کے اندر ضمیر الگ نکالنی ہے، کون سی ضمیر؟ شاباش، ”هُمَا“ ضمیر۔ ”قَائِمَانِ“ صیغہ اسم فاعل اور اس کے اندر ”هُمَا“ ضمیر، اس کا اعراب بتاؤ! طلبہ نے کہا: مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے۔ فرمایا: مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ وہ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے اور ضمیر مبنیات میں سے ہے، جی آگے؟
طلبہ نے کہا: صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہے۔ فرمایا: صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، ہاں بھئی اب بتائیے، خبر بن سکتی ہے یہ؟ جب تک عائد نہیں بتاؤ گے شبہ جملہ خبر نہیں بن سکتا، شبہ جملہ کسی سے نہیں جڑ سکتا، یا اسی طرح جملہ ہو تو وہ بھی جب تک عائد نہیں بتلاؤ گے کسی سے نہیں جڑ سکتا۔ تو ”هُمَا“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ طلبہ نے کہا: ”الرَّجُلَانِ“ کو۔ فرمایا: ہاں یہ عائد آ گیا، ”هُمَا“ ضمیر لوٹ رہی ہے ”الرَّجُلَانِ“ کو۔
میں نے بتایا غائب کی جو ضمیر ہے اس کا مرجع تلاش کرو بھئی، تو یہ لوٹ رہی ہے ”الرَّجُلَانِ“ کو۔ اور یہ بھی دیکھ لیا کرو لوٹ سکتی ہے یا نہیں، ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے یا نہیں؟ ”هُمَا“ بھی تثنیہ مذکر، ”الرَّجُلَانِ“ بھی کیا ہے؟ تثنیہ مذکر ہے۔ ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے، یہی ضمیر لوٹے گی تو یہ عائد آ گیا۔ اب سمیٹیے! طلبہ نے کہا: صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہے۔ فرمایا: اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھو بھئی: ”الرَّجُلَانِ قَائِمَانِ“۔
ترجمہ کیجیے! طلبہ نے کہا: وہ دو مرد کھڑے ہیں۔ فرمایا: شاباش! دیکھا یہ ترجمہ اب آپ کو ترجمے کا طریقہ بھی آ گیا۔ اگر کوئی اور طالب علم سے کہیں ترجمہ کریں، وہ کرے گا دو آدمی کھڑے ہیں، نہیں بھئی، دو آدمی یہ تو آپ نکرہ والا ترجمہ کر رہے ہیں۔ معرفہ کے لیے کیا لفظ لے کر آؤ، متعین کی طرف اشارہ کرو: وہ دو آدمی۔ مثلاً میرے اور آپ کے درمیان دو آدمیوں کی بات چل رہی تھی اور میں نے پھر آپ کو بتایا وہ دو آدمی کھڑے ہیں۔ یہ نہیں کہ میں ہاتھ سے اشارہ کر رہا ہوں، ہاتھ سے اشارہ نہیں، ”الرَّجُلَانِ“ یہ الف لام کیا کر رہا ہے؟ اس کی طرف اشارہ کہ وہ جن دو کی بات ابھی چل رہی تھی، وہ دو آدمی کھڑے ہیں۔ تو ”الرَّجُلَانِ قَائِمَانِ“، وہ دو آدمی کھڑے ہیں۔
جی، اگلا جملہ لکھیے: ”غُلَامِي كَاتِبٌ“۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے بھئی! طلبہ نے کہا: ”غُلَامِي“ مرفوع تقدیراً مبتدا ہے۔ فرمایا: پوری بات نہیں کی آپ نے، ”غُلَامِي“ مرفوع تقدیراً، آگے؟ طلبہ نے کہا: مضاف ہے۔ فرمایا: شاباش! ”غُلَامِي“ مرفوع تقدیراً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ تقدیراً کیوں کہا؟ طلبہ نے کہا: کیونکہ اس کا اعراب تقدیری ہے۔ فرمایا: تقدیراً کیوں کہا؟ ہم نے پڑھا ہے کوئی بھی اسم جب مضاف ہو علاوہ جمع مذکر سالم کے کس کی طرف؟ یا کی طرف، اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے۔
تو یہ بھی مضاف ہو رہا ہے اس لیے اس کا اعراب بھی چاہے رفع ہوتا، چاہے اس پہ نصب ہوتا، چاہے جر۔ تو ”غُلَامِي“ مرفوع تقدیراً مضاف۔ آپ نے کہا مضاف، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ طلبہ نے کہا: کیونکہ اس کے بعد ضمیر متصل آ رہی ہے۔ فرمایا: ہاں، کیونکہ اس اسم کے ساتھ ضمیر متصل آ رہی ہے، اور جب اسم کے ساتھ ضمیر متصل آئے تو کیا بنتے ہیں؟ مضاف اور مضاف الیہ۔ جی، تو ”غُلَامِي“ مرفوع تقدیراً مضاف، آگے؟ طلبہ نے کہا: یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ ہے۔
فرمایا: ہاں، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ جب آپ کو پتہ چل جائے یہ مضاف الیہ ہے، ساتھ ہی دوسری کس بات کا پتہ چل جاتا ہے؟ کہ اس پر جر پڑھنا ہے۔ تو مجرور، محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ ضمیر ہے، مبنیات میں سے ہے۔ سمیٹیے اب! مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، آگے؟ طلبہ نے کہا: ”كَاتِبٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل ہے۔ فرمایا: ”كَاتِبٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، جی مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”كَاتِبٌ“۔ نصب پہ کیجیے تلفظ: ”كَاتِبًا“۔ جر پہ تلفظ کیجیے: ”كَاتِبٍ“۔
معلوم ہوا اس کا اعراب تینوں حالتوں میں لفظی ہوتا ہے۔ صیغہ اسم فاعل، آگے؟ طلبہ نے کہا: ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً فاعل ہے۔ فرمایا: ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ مبنیات میں سے ہے۔ جی، اب آگے؟ طلبہ نے کہا: ”كَاتِبٌ“ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہے۔ فرمایا: ہاں بھئی، یہ خبر بن سکتی ہے؟ نہیں بن سکتی بھئی۔ خرابی کیا ہے، کیوں نہیں بن سکتی یہ خبر؟ ایک بات آپ بتانا بھول گئے کہ ”هُوَ“ ضمیر لوٹ رہی ہے غلام کو، کس کو؟ یعنی مبتدا کو۔
یہ ربط نہیں دیا تھا آپ نے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ”كَاتِبٌ“ صیغہ اسم فاعل ہے، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر اس کا فاعل ہے، اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ عائد آپ نے بتا دیا اس سے خبر بن گئی۔ پھر مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پڑھ دو پورے جملے کو! طلبہ نے پڑھا: ”غُلَامِي كَاتِبٌ“۔ فرمایا: ”غُلَامِي كَاتِبٌ“، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک ایک لفظ کا اعراب آپ نے نکال لیا، اب اس کو روانی سے پڑھ دیا: ”غُلَامِي كَاتِبٌ“۔ ترجمہ کیجیے: میرا غلام لکھنے والا ہے، میرا غلام کاتب ہے۔
ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ ہاں، آپ نے یہ دیکھا ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے یا نہیں؟ ”هُوَ“ ضمیر آپ نے لی، اور کس کو لوٹی؟ غلام کو۔ اور غلام بھی کیا ہے؟ واحد مذکر ہے۔ ضمیر بھی واحد مذکر، مرجع بھی واحد مذکر، تو لہٰذا ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے، لہٰذا معلوم ہوا آپ نے عائد درست بتلایا بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے: ”عِيسَى رَجُلٌ شَرِيفٌ“۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے! طلبہ نے کہا: ”عِيسَى“ مرفوع تقدیراً مبتدا ہے۔ فرمایا: شاباش! ”عِيسَى“ مرفوع تقدیراً مبتدا، مرفوع کیوں؟ کیونکہ اس نے مبتدا بننا ہے۔ تقدیراً کیوں کہا؟
طلبہ نے کہا: یہ اسم مقصور ہے۔ فرمایا: یہ اسم مقصور ہے، اسم مقصور اسے کہتے ہیں جس کے آخر میں الف آئے، اور اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے۔ تو مرفوع تقدیراً مبتدا۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مبتدا ہے؟ طلبہ نے کہا: موصوف ہے۔ فرمایا: جی؟ موصوف ہے؟ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے؟ جو کہو گے، جواب دینا پڑے گا، کہ آپ نے بغیر سوچے سمجھے بات نہیں کی۔ میں نے بتایا جب بھی کوئی جملہ آئے سب سے پہلے کن کو الگ کرو؟ معرفہ اور نکرہ، اور اسی طرح مبنی اور معرب، یہ دو چیزیں تو اولاً آپ نے دیکھنی ہوتی ہیں۔
انہی سے فیصلہ ہو جاتا ہے کس کو مبتدا، کس کو خبر بنانا ہے، کس کو موصوف بنانا ہے، کس کو صفت بنانا ہے وغیرہ بھئی۔ طلبہ نے کہا: ”عِيسَى“ مبتدا ہے۔ فرمایا: کیوں، مبتدا کیوں ہے؟ آسان سی بات ہے بس مجھے سمجھا دو۔ ہمارے پاس تین لفظ ہیں اور ان سے مل کر جملہ پورا ہو رہا ہے، اور اس میں ہم نے دیکھا کہ ”عِيسَى“ یہ نام ہے، یہ معرفہ ہے، ”رَجُلٌ“ بھی نکرہ، ”شَرِيفٌ“ بھی نکرہ، اور مبتدا میں اصل کیا ہے؟ معرفہ، اور خبر میں اصل کیا ہے؟ نکرہ، تو لہٰذا معرفہ کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا، اور نکرہ کو خبر۔ آسان سی بات ہے بھئی!
تو ”عِيسَى“ مرفوع تقدیراً مبتدا، آگے؟ طلبہ نے کہا: ”رَجُلٌ“ مرفوع لفظاً موصوف ہے۔ فرمایا: ”رَجُلٌ“ مرفوع لفظاً موصوف، مرفوع کیوں؟ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تلفظ کر کے دکھائیے: ”رَجُلٌ“ شاباش۔ اور موصوف کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے؟ طلبہ نے کہا: ہمارے پاس دو نکرہ آ رہے ہیں۔ فرمایا: ہاں، جب ہمارے پاس دو یا زیادہ نکرہ آ جائیں بشرطیکہ آخر میں کوئی معرفہ نہ آئے تو پھر یہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ موصوف اور صفت۔ تو پہلے کو موصوف بنایا، آگے؟
طلبہ نے کہا: ”شَرِيفٌ“ مرفوع لفظاً صفت مشبہ ہے۔ فرمایا: شاباش! ”شَرِيفٌ“ مرفوع لفظاً صفت مشبہ، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے، اور موصوف اور صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف مرفوع تھا تو صفت بھی مرفوع ہو گی۔ لفظاً کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”شَرِيفٌ“۔ پھر کیا بتایا آپ نے؟ صفت مشبہ ہے یہ بھئی شاباش، کیونکہ فعیل وزن ہے جو سب سے عام استعمال ہوتا ہے صفت مشبہ میں۔ آگے؟ طلبہ نے کہا: ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل ہے۔
فرمایا: ”هُوَ“ ضمیر، اعراب اس کا؟ طلبہ نے کہا: مرفوع محلاً۔ فرمایا: ہاں، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جی مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ ضمیر مبنیات میں سے ہے، شاباش۔ جی آگے؟ طلبہ نے کہا: اور وہ لوٹ رہا ہے موصوف کو۔ فرمایا: ہاں! ”هُوَ“ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ رجل موصوف کو! جس سے جوڑنا ہے، اس کی طرف ضمیر لوٹے گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ”هُوَ“ ضمیر رجل کو لوٹ رہی ہے، موصوف کو۔ صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، ربط آ گیا۔
موصوف اور صفت مل کر؟ خبر بن گئے مبتدا کے لیے، اور مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھو: ”عِيسَى رَجُلٌ شَرِيفٌ“۔ ترجمہ کیجیے! طلبہ نے کہا: عیسیٰ شریف مرد ہے۔ فرمایا: عیسیٰ شریف آدمی ہے؟ نہیں بھئی، یہ ترجمہ نہیں ہو گا۔ عربی کا شریف الگ ہے، اردو میں تو شریف کا اور معنی کرتے ہیں۔ عربی میں شریف کا معنی ہوتا ہے معزز، شرف والا، یہ شرف سے ہے نا، شرف والا یعنی معزز آدمی۔ تو عیسیٰ معزز آدمی ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ عیسیٰ معزز آدمی ہے۔
ایک اور جملہ کر لیجیے بھئی: ”مُسْلِمِيَّ مُجْتَهِدُونَ“۔ چلیے بھئی، ترکیب کیجیے! طلبہ نے کہا: ”مُسْلِمِيَّ“ مرفوع تقدیراً مضاف ہے۔ فرمایا: کوئی مشکل نہیں بھئی، جی جلدی جلدی کریں، ہاں! طلبہ نے کہا: مرفوع تقدیراً مبتدا ہے۔ فرمایا: چلو یہ ترکیب آپ نے پھر حل کر کے مجھے کل بتانی ہے بھئی، ٹھیک ہے بھئی؟ ہاں یہ آپ نے حل کر کے مجھے کل یہ ترکیب سنانی ہے۔ بس یہ اب آپ غور کریں، حل کریں، مجھے کل بتائیے۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔