آپ نے جملہ اسمیہ کی ترکیب بھی پڑھی اور جملہ فعلیہ کی ترکیب بھی۔ جملہ اسمیہ کے اندر آپ نے پڑھا کہ ایک مبتدا ہوتا ہے اور ایک خبر بھئی، جبکہ جملہ فعلیہ کے اندر فعل اور اس کے لیے فاعل چاہیے بھئی۔ اور مبتدا خبر میں سے مبتدا اور خبر دونوں مرفوع ہوتے ہیں، اسی طرح جملہ فعلیہ کے اندر جو فاعل یا نائب فاعل ہو وہ بھی مرفوع ہوتا ہے۔
اب تھوڑی اور ترکیب کی گہرائی میں ہم جائیں گے۔ یاد رکھیے، یاد رکھیے بھئی: مبتدا کی خبر ابھی تک جو آپ نے پڑھی وہ مفرد تھی، ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ یا ”زَيْدٌ رَجُلٌ“۔ تو دیکھو ابھی تک جو ترکیب آپ نے پڑھی خبر جو تھی وہ مفرد تھی، ایک لفظ ہوتا تھا وہ خبر بنتی تھی، یا موصوف صفت ہوتے تھے وہ خبر بنتے۔ اب آگے یاد رکھیے کبھی کبھار مبتدا کی خبر پورا جملہ ہوتا ہے۔ ایک تو مبتدا آیا، پھر آگے جو خبر آ رہی ہے وہ کیا ہوتی ہے؟ پورا جملہ ہو گی، اور جملہ تو دو قسم پر ہے: یا جملہ اسمیہ ہے یا جملہ فعلیہ۔ تو آگے خبر پھر وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ فعلیہ۔ اگر خبر جملہ اسمیہ ہوئی تو پھر اس کے اندر ایک مبتدا آئے گا، ایک خبر آئے گی، پھر وہ آپس میں مل کر پھر خبر بنیں گے مبتدائے اول کے لیے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کبھی کبھار مبتدا کی خبر کیا ہوتی ہے؟ پورا جملہ۔ اور وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتا ہے وہ خبر اور جملہ فعلیہ بھی۔ اگر وہ خبر جملہ اسمیہ ہے تو جملہ اسمیہ کے اندر تو دو جز ہوتے ہیں: ایک ہوتا ہے مبتدا اور ایک خبر۔ تو لہٰذا اس خبر کے اندر ایک مبتدا آئے گا اور ایک خبر آئے گی، پھر وہ مبتدا اور خبر مل کر پھر پہلے مبتدا کے لیے کیا بن جائیں گے؟ خبر بن جائیں گے۔ اسی طرح مبتدا کی خبر کبھی کبھار جملہ فعلیہ ہو گی، اور جملہ فعلیہ کے اندر کیا ہوتا ہے؟ فعل ہوتا ہے اور اس کا فاعل یا نائب الفاعل۔ تو پھر فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر پھر یہ خبر بنے گا مبتدا کے لیے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب اس میں ایک اور بات بھی یاد رکھیے۔ یاد رکھیے جملہ مستقل ہوتا ہے، اس میں بات پوری ہوتی ہے: ”زَيْدٌ رَجُلٌ“، زید مرد ہے، دیکھو بات پوری ہے۔ جب جملہ پورا ہے، اس میں بات پوری ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، اس کو کسی کے ساتھ جڑنے کی ضرورت نہیں۔ مفرد تو ہوا ہے نا، مفرد میں تو بات پوری نہیں ہوتی، اس کے لیے ایک دوسرا جز چاہیے ہوتا ہے تاکہ اس سے مل کر بات پوری ہو جائے۔ میں صرف زید کہوں، آپ کہیں گے کیا ہوا زید کو؟ میں صرف رجل کہوں، آپ کہیں گے کیا ہے رجل کو؟ لیکن جب میں کہوں گا ”زَيْدٌ رَجُلٌ“، اب آپ کو بات پوری سمجھ میں آ گئی کہ زید مرد ہے، زید آدمی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مفرد ہے وہ تو اس سے تو بات پوری واضح نہیں ہوتی، اس کے لیے تو دوسرا جز چاہیے ہوتا ہے جس سے مل کر بات پوری ہو جائے، لیکن جملہ، جملے کے اندر تو بات پوری ہوتی ہے اور وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، ”زَيْدٌ رَجُلٌ“ کسی اور لفظ کی ضرورت ہے یہاں؟ کسی اور کے ساتھ جڑنے کا یہ محتاج ہے؟ نہیں، بات پوری ہے اس کے اندر۔
لیکن آپ نے ابھی پڑھا، مبتدا کی خبر کیا ہوتی ہے بعض اوقات؟ پورا جملہ۔ جب پورا جملہ ہے اس پورے جملے کو آپ جوڑ رہے ہیں پہلے مبتدا کے ساتھ۔ وہ جو خبر ہے جملہ اسمیہ یا جملہ فعلیہ، اس پورے جملے کو آپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ پہلے مبتدا کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، حالانکہ یہ جملہ تو جڑنے کا محتاج نہیں تھا۔ تو جب آپ اس کو جوڑ رہے ہیں اس مبتدا کے ساتھ تو درمیان میں ربط چاہیے، کیا چاہیے؟ ربط چاہیے بھئی، جوڑ چاہیے۔ جیسے ایک ریل کا انجن ہوتا ہے اور پیچھے بہت سارے ڈبے ہوتے ہیں، تو ریل کے انجن اور ڈبوں میں کیا چاہیے؟ جوڑ چاہیے، ربط چاہیے، پھر ہی پوری ساری ریل گاڑی چلے گی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح جب مبتدا کی خبر پورا جملہ ہے اور جملہ تو مستقل وہ تو کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں لیکن آپ اس کو خبر بنا رہے ہیں، آپ اس کو جوڑ رہے ہیں مبتدا کے ساتھ، تو درمیان میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے۔ یاد رکھیے وہ چیز جو ان میں ربط دے اس کو عائد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عائد کہتے ہیں: ع، ا، ء، د، عائد، تو اس کو عائد کہتے ہیں۔
اور تو جب بھی خبر جملہ اسمیہ ہو یا جملہ فعلیہ ہو تو اس میں ایک عائد ہوگا، ایک چیز ہوگی جو لوٹ رہی ہوگی کس کی طرف؟ مبتدائے اول کی طرف۔ یعنی وہ ربط دے رہی ہوگی، جوڑ بنا رہی ہوگی ان دونوں کے درمیان۔ اور یہ جو عائد ہے اس کی بہت سی صورتیں ہیں، بہت سی صورتیں، لیکن سب سے عام صورت جو زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ یہ کہ اس جملے کے اندر جو خبر بن رہا ہے، جملہ اسمیہ ہے یا جملہ فعلیہ اور بن کیا رہا ہے؟ خبر، اس کے اندر کوئی غائب کی ضمیر ہوگی جو لوٹ رہی ہوگی مبتدا کی طرف۔
میں نے آپ کو پہلے بتایا تھا کہ ضمیریں تین قسم پر ہیں: یا متکلم کی ضمیر ہوتی ہے، یا مخاطب کی ہوتی ہے، یا غائب کی۔ اور ان تین میں سے صرف غائب کی ضمیر کے لیے مرجع چاہیے، متکلم اور مخاطب کی ضمیر کے لیے مرجع نہیں چاہیے۔ میں آپ سے کہتا ہوں ”أَنَا قَائِمٌ“، تو دیکھو ”أَنَا“، انا سے میری ذات مراد ہے، اس میں کسی قسم کا شبہ ہوا کہ انا سے کون مراد ہے؟ نہیں، آپ فوراً سمجھ گئے کہ انا سے یہ اپنے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح اگر میں آپ سے کہتا ہوں ”أَنْتَ قَائِمٌ“، آپ کھڑے ہیں، تو کیا انت میں کوئی شبہ آیا کہ اس سے کون مراد ہے؟ نہیں، سننے والا فوراً سمجھ گیا کہ اس سے میں مراد ہوں بھئی، جو سننے والا ہے وہ مراد۔ تو متکلم اور مخاطب کی ضمیر میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا، کیونکہ متکلم بات کرنے والا ہوتا ہے اور مخاطب اس کے سامنے موجود ہوتا ہے، تو دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، تو انا انت یعنی متکلم اور مخاطب وغیرہ کی ضمیروں میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہوتا۔ لیکن غائب کی ضمیر ہے ”هُوَ“، میں کہتا ہوں ”هُوَ قَائِمٌ“، آپ حیران ہوں گے کہ پتہ نہیں ہوا سے کون مراد ہے، تو اس کے لیے مرجع چاہیے بھئی، ہوا سے کون مراد ہے؟ زید مراد ہے، عمرو مراد ہے، بکر مراد ہے، خالد مراد ہے، کوئی اور چیز مراد ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مرجع صرف کس کے لیے چاہیے؟ غائب کے لیے۔ تو یاد رکھیں ہمیشہ آپ نے مرجع جب بھی کوئی پوچھے ضمیر کا، تو صرف غائب کی ضمیر کا مرجع ہوا کرتا ہے، متکلم اور مخاطب کی ضمیر کا مرجع نہیں، متکلم بات کرنے والا ہوتا ہے، مخاطب اس کے سامنے ہوتا ہے، وہاں کوئی اشتباہ نہیں، کوئی شک و شبہ نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
لہٰذا جملہ مستقل ہے وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن آپ اس کو جوڑ رہے ہیں پہلے مبتدا کے ساتھ اور اس کے لیے خبر بنا رہے ہیں تو درمیان میں ربط چاہیے، اور وہ چیز جو ربط دینے والی ہو وہ عائد کہلاتی ہے۔ اور عائد کی کئی صورتیں ہیں، لیکن سب سے زیادہ عام استعمال ہونے والی صورت کیا ہے کہ وہ جملہ جو خبر بن رہا ہے اس کے اندر کوئی غائب کی ضمیر ہوگی جو کس کی طرف لوٹ رہی ہوگی؟ مبتدا کی طرف۔ اور پھر ضمیر اور مرجع میں مطابقت بھی ہونی چاہیے بھئی، اگر پہلا مبتدا مفرد تھا، مذکر تھا، تو ضمیر بھی کون سی چاہیے اگلے جملے میں؟ مفرد مذکر کی چاہیے۔ اگر وہ مبتدا جو ہے مفرد مؤنث ہے تو پھر ضمیر کون سی چاہیے جملے میں؟ واحد مؤنث کی ضمیر چاہیے بھئی۔ تو جس قسم کا مبتدا ہوگا اسی قسم کی ضمیر چاہیے آگے آنے والے جملے میں جو کہ خبر بن رہا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ضمیر جب مبتدائے اول کی طرف لوٹے گی تو درمیان میں ربط آ جائے گا، جوڑ آ جائے گا۔
چلیے اب کچھ ترکیبیں کر لیجیے بھئی، ساتھ ساتھ اور چیزیں بھی میں بتاتا رہوں گا اور ترکیبیں بھی اس کے مطابق ہم کرتے رہیں گے بھئی۔
پہلے ترکیب لکھیے: ”قَامَ زَيْدٌ“
اب تو اب ترکیب میں کافی بہتر ہو گئے ہیں، ذرا جلدی جلدی ترکیب کیجیے۔ جی کیجیے ترکیب بھئی: ”قَامَ“ فعل، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل بن رہا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ جی اب روانی سے پڑھیے: ”قَامَ زَيْدٌ“۔ ترجمہ کیجیے: زید کھڑا ہے یا زید کھڑا ہوا، موقع کے مطابق ہوگا۔
اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”زَيْدٌ قَامَ“
چلیے بھئی، اب اس جملے کی ترکیب کیجیے بھئی: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آپ نے اس کو مبتدا بنایا، ایک طالب علم نے فوراً اعتراض کر دیا کہ یہ مبتدا نہیں ہے یہ قام کے لیے فاعل ہے، تو آپ جواب کیا دیں گے؟ کہ فاعل ہمیشہ فعل کے بعد آتا ہے اس پر مقدم نہیں ہو سکتا، مفعول وغیرہ مقدم ہو سکتے ہیں لیکن فاعل نہیں مقدم ہو سکتا۔ اور یہ قام تو فعلِ لازم ہے اس کے لیے تو مفعول چاہیے ہی نہیں ہوتا، تو لہٰذا مفعول بھی نہیں بنا سکتے کیونکہ قام کے لیے مفعول نہیں چاہیے، یہ فعلِ لازمی ہے اس کے لیے مفعول نہیں ہوتا۔ تو ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے: ”قَامَ“ فعلِ ماضی ہے اور ماضی مبنی ہے، آپ نے پڑھا یا نہیں؟ ہدایت النحو میں آپ نے پڑھا کہ مبنی الاصل کتنی چیزیں ہیں؟ تین چیزیں ہیں: فعلِ ماضی، فعلِ امر حاضر، اور تمام حروف بھئی، یہ مبنی الاصل ہیں بھئی۔ تو لہٰذا مبنی جو ہوتا ہے اس پر اعراب کس طرح آتا ہے؟ محلاً۔ تو ”قَامَ“ پورا جملہ جب بن جائے پھر اعراب بتانا۔ ”قَامَ“ فعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ مبنیات میں سے ہے۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر۔ لیکن یاد رکھو خبر آپ نہیں بنا سکتے اس کو، اب کیا کریں بھئی؟ مبتدا ایک گزر چکا، آپ قام کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ خبر۔ اور قام کیا ہے، مفرد ہے یا پورا جملہ ہے؟ پورا جملہ ہے، جملہ فعلیہ ہے یا نہیں؟ اور جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، عائد چاہیے، آپ جب تک ربط نہیں دیں گے آپ اس کو خبر نہیں بنا سکتے۔ ربط دیں: کہ وہ ”هُوَ“ ضمیر جو ہے آپ صرف اتنا بتا دیں یہ ”هُوَ“ ضمیر جو ہے وہ عائد ہے، وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو، اور اب یہ بھی دیکھ لیں ”هُوَ“ ضمیر ہے مفرد مذکر کی اور کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو اور وہ بھی کیا ہے؟ مفرد مذکر، تو یہ مرجع صحیح ہوا، معلوم ہوا یہ ضمیر لوٹ سکتی ہے زید کو تو یہ اس کو لوٹ رہی ہے۔ اور تو یہ عائد آ گیا، ربط آ گیا۔ تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آپ سے کوئی پوچھتا ہے کہ اس قام جملے کا اعراب بتاؤ، آپ فوراً بتا دیں یہ کیا بن رہا ہے؟ خبر، اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع، تو اس کا اعراب کیا ہے؟ مرفوع محلاً، کیونکہ جملہ ہے اور جملہ مبنیات میں سے ہے۔ تو یہ مرفوع محلاً ہے خبر بھئی۔
اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”عَمْرٌو ضَرَبَ أَبُوهُ بَكْرًا“
چلیے بھئی، ترکیب کیجیے بھئی: ”عَمْرٌو“ مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! ”عَمْرٌو“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے: ”ضَرَبَ“ فعل بافاعل، فاعل بتاؤ؟ ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف، واؤ کے ساتھ اس کا رفع آتا ہے: ”أَبُوهُ“، واؤ پر تلفظ کر رہے ہیں، تو ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف۔ آگے ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، کیونکہ مبنی ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل ہوا ضرب کے لیے۔ ”بَكْرًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ، کیونکہ فاعل کے بعد جب فاعل آ جائے پھر آگے مرفوعات نہیں آتے، منصوبات آتے ہیں: ”بَكْرًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، نہیں بھئی! خبر یہ نہیں بن سکتا یہ جملہ، کیوں نہیں بن سکتا بھئی؟ ربط نہیں دیا، جملے کو بغیر ربط کے جوڑ ہی نہیں سکتے کسی چیز سے، ربط چاہیے ہمیں! ربط بتائیں بھئی: ہا ضمیر، ”أَبُوهُ“، یہ ہا ضمیر غائب کی ہے اور لوٹانی کس کو ہے؟ عمرو کو، عمرو کیا ہے؟ مفرد مذکر، تو ہا ضمیر بھی مفرد مذکر کی ضمیر ہے تو یہ ربط آ گیا، یہ اس کی طرف لوٹ رہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی ربط آ گیا، تو پھر یہ پورا جملہ فعلیہ اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیں: ”عَمْرٌو ضَرَبَ أَبُوهُ بَكْرًا“۔ طریقہ آ گیا سمجھ میں بھئی؟ اب ترجمہ کرو بھئی: عمرو، پٹائی کی اس کے باپ نے بکر کی، یعنی عمرو کے باپ نے بکر کی پٹائی کی۔
اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“
چلیے بھئی، ترکیب کیجیے بھئی: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، آگے ”قَائِمٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: ”قَائِمٌ“۔ اسمِ فاعل ہوا، آگے اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور وہ لوٹ رہی ہے زید کو، اس نے ربط دے دیا۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ترجمہ کیجیے: زید کھڑا ہے۔
اگلا جملہ لکھیے: ”عَمْرٌو ذَاهِبٌ“
کیجیے ترکیب بھئی: ”عَمْرٌو“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”ذَاهِبٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل خبر، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو لوٹ رہی ہے عمرو کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے: ”عَمْرٌو ذَاهِبٌ“، ترجمہ: عمرو جا رہا ہے۔
اگلا جملہ لکھیے: ”بَكْرٌ آكِلٌ“
کیجیے ترکیب بھئی: ”بَكْرٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”آكِلٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو لوٹ رہی ہے بکر کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے: ”بَكْرٌ آكِلٌ“، ترجمہ کیجیے: بکر کھا رہا ہے۔
تو مشق کریں اس کی خوب، جتنی زیادہ مشق کر سکتے ہیں بھئی کریں، اپنی طرف سے جملے بنائیں، کہیں مشکل پیش آتی ہے مجھ سے پوچھیں اور ترکیب کریں، یہ ضابطے بڑھتے جائیں گے آہستہ آہستہ اور ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے ترکیب کوئی مشکل ہے ہی نہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، وَهٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔