Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-037

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مبتدا اور خبر کی ترکیب ہم کر رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے اور خبر بھی مرفوع۔ جیسے ہی کسی لفظ کے بارے میں آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ مبتدا ہے، ساتھ ہی ایک دوسری بات کا بھی آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے۔ اور اسی طرح جب کسی لفظ کے بارے میں پتہ چل جائے کہ یہ خبر ہے، تو ساتھ ہی ایک دوسری بات کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اس پر رفع پڑھنا ہے، یہ مرفوع ہے بھئی، مرفوع۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے موصوف صفت کی بھی ترکیب آپ کو کروائی۔ آپ نے پڑھا کہ دو معرفہ یا زیادہ معرفہ اکٹھے آ جائیں تو پہلے کو موصوف بنائیں گے اور باقیوں کو صفت، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر موصوف مرفوع ہو گا تو صفت بھی مرفوع ہو گی، اگر موصوف منصوب ہو گا تو صفت بھی منصوب ہو گی، اور اگر موصوف مجرور ہو تو صفت بھی مجرور ہو گی بھئی۔ تو معرفہ کی صفت ہمیشہ معرفہ ہی آتی ہے، جبکہ نکرہ کی صفت نکرہ آتی ہے۔ تو اگر دو، تین یا چار نکرہ اکٹھے آ جائیں اور ان کے بعد کوئی معرفہ نہ آ رہا ہو، تو یہ بھی آپس میں عموماً موصوف صفت بنتے ہیں۔ تو پہلے نکرہ کو موصوف بناتے ہیں اور بعد والوں کو صفت۔ اور اگر آخر میں کوئی معرفہ آ جائے، مثلاً کوئی ضمیر آ گئی، اسمِ موصول آ گیا وغیرہ، تو پھر یہ موصوف صفت نہیں بنیں گے بلکہ آپس میں مضاف اور مضاف الیہ بنیں گے۔ پہلا مضاف بنے گا اگلے کے لیے اور اگلا لفظ پہلے کے لیے مضاف الیہ ہو گا اور اگلے لفظ کے لیے مضاف بنے گا، اس طرح بھئی۔ اور پھر موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرنا ہے؟ میں نے آپ کو طریقہ بتلایا کہ اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے، لہٰذا عربی میں جو صفت ہے، جو مؤخر ہے، اس کو اردو ترجمے میں مقدم کر دیں۔ جیسے ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، کیا ترجمہ کریں گے؟ بہادر آدمی، بہادر آدمی۔ اور معرفہ کے اندر ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، اس میں کیسے ترجمہ کریں گے؟ وہ بہادر آدمی، کسی متعین کی طرف اشارہ ہو گا بھئی، متعین کی طرف۔ دوسرا طریقہ اردو میں موصوف صفت کے ترجمے کا یہ ہے کہ عربی میں موصوف مقدم تھا، آپ اردو میں بھی اس کو مقدم رکھیں، اور صفت مؤخر تھی، اردو میں بھی صفت کو مؤخر ہی رکھیں، مقدم نہ کریں۔ البتہ نکرہ کے اندر موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، کیا ترجمہ ہو گا؟ ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔ اور ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“ معرفہ ہو تو اس میں ایسا یا ایسی کا لفظ نہ لائیں بلکہ موصوف سے پہلے وہ کا لفظ لے آئیں: ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، کیا ترجمہ ہو گا؟ وہ آدمی جو کہ بہادر ہے۔ یہ ابھی صرف موصوف صفت ہیں، خبر نہیں کہ اس کو کیا ہوا، وہ خبر آگے ہے بھئی۔ اسی طرح میں نے ایک ضابطہ آپ کو لکھوایا تھا کہ جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے تو وہ آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف اور مضاف الیہ بنیں گے، اور مضاف الیہ پر ہمیشہ کون سا اعراب آئے گا؟ جر آئے گا، مضاف الیہ مجرور، کیونکہ مجرور دو ہی ہیں: ایک وہ جس پر حرفِ جر داخل ہو جائے اور ایک مضاف الیہ۔ تو جیسے ہی آپ کو پتہ چلے کسی لفظ کے بارے میں کہ یہ مضاف الیہ ہے، ساتھ ہی دوسری بات پتہ چل جائے گی کہ اس پر کیا پڑھنا ہے؟ جر پڑھنا ہے۔ اور پھر یہ جو رفع ہے، نصب ہے، جر ہے، میں نے بتلایا تھا کہ یہ محلاً بھی ہو سکتا ہے، یہ لفظاً بھی ہو سکتا ہے، یہ تقدیراً بھی ہو سکتا ہے۔ محلاً رفع، نصب اور جر یہ کس میں آئے گا؟ مبنیات میں۔ تو آپ کو مبنیات کی پہچان ہونی چاہیے، البتہ ان میں سے تین جو ہیں وہ تو بہت ہی عام استعمال ہوتے ہیں، وہ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونے چاہئیں۔ ان میں سے پہلا کیا ہے؟ تمام ضمیریں ہیں، دوسرے نمبر پر اسمائے اشارہ ہیں، تیسرے نمبر پر اسمائے موصولہ ہیں بھئی۔ اسی طرح معرفہ اور نکرہ کی بھی آپ کو پہچان ہونی چاہیے، تو معرفہ کل کتنے ہیں؟ سات ہیں۔ نمبر ایک: تمام ضمیریں، نمبر دو: اسمائے اشارہ، نمبر تین: اسمائے موصولہ، یہ تین تو وہی ہیں جو مبنی میں نے آپ کو بتلائے۔ اور چوتھے نمبر پر علم ہے، پانچویں پر معرف باللام یعنی جس پر الف لام آئے، اور چھٹے نمبر پر جو ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو، اور اسی طرح معرفہ بالنداء ہے بھئی۔ تو آپ کو معرفہ کی بھی پہچان ہونی چاہیے، جو بھی لفظ آئے آپ اس کو دیکھ لیا کریں پہلے کہ یہ معرب ہے یا مبنی ہے، اور پھر دیکھ لیا کریں یہ معرفہ ہے یا نکرہ ہے، یعنی کہیں یہ ضمیر تو نہیں، اسمِ اشارہ تو نہیں، اسمِ موصول تو نہیں وغیرہ، یہ چیزیں دیکھ لیں اور پھر اس کے بعد باقی ترکیب اس کے بعد کریں بھئی۔ اسی طرح اس سے پہلے ہم جملہ فعلیہ کی ترکیب کر چکے ہیں بھئی۔ جہاں فاعل کی بات آئی تھی وہاں میں نے آپ کو جملہ فعلیہ کی ترکیب بتلائی تھی کہ آپ نے پڑھا تھا فاعل کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جس سے پہلے کیا آئے؟ فعل ہو یا صفت کا صیغہ ہو، اور اس فعل یا صفت کے صیغے کا اسناد ہو اس لفظ کی طرف اس طور پر کہ یہ اسم اس کے ساتھ وہ فعل یا صفت قائم ہو، اس پر واقع نہ ہو۔ تو لہٰذا فعل کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے، یہ فعلِ معروف میں ہے، جبکہ فعلِ مجہول کے لیے نائب الفاعل چاہیے بھئی۔ اور فاعل بھی مرفوع ہوتا ہے اور نائب الفاعل بھی مرفوع ہوتا ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہو: ہر فعل چاہتا ہے کہ کسی اسم کو رفع دے، اسی طرح ہر صفت چاہتی ہے کہ کسی اسم کو رفع دے، اور جس کو یہ رفع دیتے ہیں وہ یا تو ان کا فاعل ہو گا یا نائب الفاعل۔ فاعل ہو گا فعلِ معروف کے لیے، یا اسمِ فاعل کے لیے، یا صفتِ مشبہ کے لیے، یا اسمِ تفضیل کے لیے، یا مبالغے کے صیغے کے لیے۔ جبکہ نائب الفاعل کس کے لیے ہو گا؟ فعلِ مجہول کے لیے اور اسی طرح اسمِ مفعول کے لیے بھئی۔ تو لہٰذا ہر فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب الفاعل ہوتا ہے۔ صفت کے بھی ہر صیغے کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب الفاعل ہوتا ہے۔ اور صفت کے صیغے کون کون سے ہیں؟ اسمِ فاعل ہے، اور اسمِ مفعول ہے، اور صفتِ مشبہ ہے، اور اسمِ تفضیل ہے، اور مبالغے کے صیغے ہیں۔ یہی چیزیں جو میں دہرا رہا ہوں بار بار، ان کا آپ نے ہر روز تکرار کرنا ہے، بالکل آپ کو زبانی یاد ہوں بھئی۔ معرفہ کون کون سے ہیں، مبنی کون کون سے تین معروف مشہور مبنی ہیں، وہ آپ کے ذہن میں ہوں، یہ جو میں ضابطے لکھوا رہا ہوں ان کا ہر روز تکرار کرنا ہے۔ جن جملوں کی ہم ترکیب کر لیا کریں آپ نے اس کی بیٹھ کر ترکیب کرنی ہے، بلکہ اپنی طرف سے کچھ زائد بھی کوشش کیا کریں، کچھ جملے خود بنا کر اس کی آپس میں ترکیب کیا کریں بھئی۔ جتنی مشق کریں گے اتنی جلدی آپ سیکھ لیں گے، تو یہ ساری چیزیں جو میں ذکر کر رہا ہوں یہ مبتدا خبر کی جو بحث چل رہی ہے کتاب میں اس کے اندر مصنف بھی ذکر کریں گے۔ تو یہ جب سب چیزیں آپ کے ذہن میں ہوں گی وہ سبق سمجھنا آپ کے لیے آسان ہو جائے گا بھئی۔ تو ہر فعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب الفاعل ہوتا ہے۔ فعلِ معروف کے لیے فاعل، فعلِ مجہول کے لیے نائب الفاعل۔ اچھا، ان میں فعل کے صیغوں میں پھر کون کون سی ضمیر ہو گی بھئی؟ کون کون سی ضمیر ہو گی؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا فعلِ ماضی کے اندر بھی: ”ضَرَبَ“ کے اندر، اس کے اندر کون سی ضمیر ہو گی؟ فاعل کی ضمیر ”هُوَ“ ہو گی۔ اور ”ضُرِبَ“ فعلِ مجہول ہو تو اس کے اندر نائب الفاعل اس کے اندر بھی ”هُوَ“ ضمیر نائب الفاعل ہو گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، فعل، دوسرا ”ضَرَبَ“ کے بعد ”ضَرَبَا“، دوسرا صیغہ ماضی کا، اس میں فاعل کیا ہے؟ یہ الف ہے، الف۔ یہاں ”هُمَا“ نہیں کہنا بھئی، ہو سکتا ہے آپ کو سمجھانے کے لیے اساتذہ نے شروع میں کہا ہو کہ ”هُمَا“ ضمیر ہے، لیکن ”هُمَا“ ضمیر نہیں، یہ جو الف ہے یہ کیا ہے؟ ضمیر ہے۔ اس کا کوئی اعراب آپ سے پوچھ لے، آپ کیا کہیں گے؟ یہ مرفوع ہے کیونکہ فاعل ہے اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ البتہ یہ مرفوع محلاً ہے کیونکہ مبنی ہے، ضمیر ہے بھئی۔ تو ”ضَرَبَا“ کے اندر یہ الف ضمیر، کون سی ضمیر ہے؟ جونسا صیغہ ہو وہی بول دیا کریں۔ ”ضَرَبَ ضَرَبَا“، یہ ”ضَرَبَا“ کون سا صیغہ ہے؟ تثنیہ مذکر غائب، تو لہٰذا یہ الف ضمیر بھی کون سی ہے؟ تثنیہ مذکر غائب کی۔ ”ضَرَبُوا“ کے اندر یہ واؤ ضمیر ہے فاعل بھئی، اور کون سی ضمیر ہے؟ جمع مذکر غائب۔ ”ضَرَبَتْ“ یاد رکھیے اس صیغے کے اندر بس تھوڑا سا یاد رکھنا ہے آپ نے کہ یہ تا فاعل نہیں ہے، یہ صرف تانیث کی علامت ہے۔ اس کے اندر ”هِيَ“ ضمیر ہے، کیا ہے؟ ”هِيَ“ ضمیر ہے مؤنث کی بھئی۔ اور ”ضَرَبَتَا“، اس کے اندر بھی یہ جو تا آ رہی ہے وہی والی تا ہے، البتہ آگے الف کیا ہے؟ ضمیر ہے، فاعل ہے، اور کون سی ضمیر ہے یہ؟ تثنیہ مؤنث غائب۔ ”ضَرَبَا“ والا الف اور تھا، یہ الف اور ہے، یہ مؤنث کی ضمیر ہے وہ مذکر کی ضمیر۔ اس کے بعد اگلا صیغہ آیا: ”ضَرَبْنَ“، اس کے اندر نون ضمیر، کون سی ضمیر ہے؟ جمع مؤنث غائب۔ اگلا صیغہ: ”ضَرَبْتَ“، اس کے اندر تا ضمیر، تا زبر کے ساتھ نہیں کہنا، صرف تا حرف، کیوں؟ کیونکہ یہ ایک حرف ہے اور جو کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو حروفِ تہجی الف با تا ثا کے اندر تھا۔ اور ”ضَرَبْتَ“ کے آخر میں یہ کون سا حرف آ رہا ہے؟ تا آ رہی ہے بھئی: الف، با، تا، تو یہ تا ضمیر ہے اور کون سی ضمیر ہے؟ واحد مذکر حاضر۔ ”ضَرَبْتُمَا“، اس کے اندر ”تُمَا“ ضمیر، کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ مذکر حاضر۔ ”ضَرَبْتُمْ“ کے اندر تم ضمیر ہے، جمع مذکر حاضر۔ ”ضَرَبْتِ“ کے اندر پھر تا کہنا ہے، تی نہیں کہنا بھئی، عموماً طلبہ تی کہتے ہیں تی ضمیر، نہیں بھئی، تا ضمیر اور یہ کون سی ضمیر ہے؟ واحد مؤنث حاضر، جو صیغہ وہی ضمیر ہے۔ ”ضَرَبْتُمَا“، یہ کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ، ہاں معلوم ہوا یہ ”تُمَا“ ضمیر مشترک ہے بھئی: ”ضَرَبْتَ ضَرَبْتُمَا“، اب یہاں بھی آیا ”ضَرَبْتِ ضَرَبْتُمَا“، تو یہ تثنیہ مذکر حاضر کے لیے بھی اور تثنیہ مؤنث حاضر کے لیے بھی۔ ”ضَرَبْتُنَّ“ میں ”تُنَّ“ ضمیر ہے، کون سی ضمیر ہے؟ جمع مؤنث حاضر۔ اور ”ضَرَبْتُ“ میں تا ضمیر ہے، کون سی ضمیر ہے؟ واحد متکلم۔ اور ”ضَرَبْنَا“ میں نا ضمیر ہے، کون سی ضمیر؟ جمع متکلم۔ تو یہ جتنی ضمیریں ذکر ہوئیں ”ضَرَبَ“ سے لے کر ”ضَرَبْنَا“ تک ماضی کے سارے صیغوں میں، یہ ساری فاعل کی ضمیریں ہیں کیونکہ کس صیغے میں آئیں؟ فعلِ معروف کے اندر آئی ہیں، فعلِ معروف۔ جبکہ ماضی مجہول کے اندر یہی ساری ضمیریں نائب الفاعل کی ہیں۔ ماضی معلوم میں کس کی تھیں؟ فاعل کی، کیونکہ فعلِ معروف کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل۔ اور ماضی مجہول میں یہ ساری ضمیریں کس کی ہوں گی؟ نائب الفاعل کی ہوں گی کیونکہ فعلِ مجہول کس کو رفع دیتا ہے؟ نائب الفاعل کو۔ لہٰذا ”ضُرِبَ“ کے اندر کون سی ضمیر ہے نائب الفاعل؟ ”هُوَ“۔ ”ضُرِبَا“ تثنیہ میں؟ الف۔ ”ضُرِبُوا“ میں؟ واؤ۔ ”ضُرِبَتْ“ میں؟ یہاں تا نہیں وہی ”هِيَ“ ضمیر۔ اور ”ضُرِبَتَا“ میں؟ الف۔ ”ضُرِبْنَ“؟ نون۔ ”ضُرِبْتَ“؟ تا۔ ”ضُرِبْتُمَا“؟ ”تُمَا“ ضمیر۔ ”ضُرِبْتُمْ“؟ اس میں تم ضمیر۔ ”ضُرِبْتِ“؟ تا ضمیر۔ ”ضُرِبْتُمَا“؟ پھر ”تُمَا“ ضمیر۔ ”ضُرِبْتُنَّ“؟ اس میں ”تُنَّ“ ضمیر۔ ”ضُرِبْتُ“؟ تا ضمیر۔ ”ضُرِبْنَا“؟ نا ضمیر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، یہ تو ماضی کی بات تھی۔ ماضی میں آپ نے دیکھا ”ضَرَبْتَ“، اس میں کون سی ضمیر؟ تا۔ ”ضَرَبْتِ“، اس میں بھی تا۔ ”ضَرَبْتُ“، اس میں بھی تا ضمیر ہے، تا ضمیر ہے۔ تو تینوں کا نام کیا ہے؟ وہی کیونکہ یہ تا حرف جو ہے وہی نام لیں گے جو کلمہ ہے، ایک حرف پر مشتمل ہے تو الف با تا۔ ہاں، ان میں آپ فرق کرنا چاہتے ہیں، فرق کرنا چاہتے ہیں: ”ضَرَبْتَ“ میں بھی تا، ”ضَرَبْتِ“ میں بھی تا، ”ضَرَبْتُ“ میں بھی تا، فرق کرنا چاہتے ہیں تو پھر خاص نام لینا چاہتے ہیں۔ کیا نام لینا چاہتے ہیں؟ یہ تا تو مشترک نام ہوا نا تینوں کا نام ہے، پہلا بھی تا ”ضَرَبْتَ“ بھی تا، ”ضَرَبْتِ“ بھی تا، ”ضَرَبْتُ“ بھی تا۔ اگر ان کا الگ الگ نام لینا چاہتے ہیں تو پھر جو حرف ہے اس پر جو حرکت ہے، اسی جیسے دو حرف آگے اور ملا دو۔ مثلاً ”ضَرَبْتُ“، تا پر کیا ہے؟ پیش۔ اب آپ اس کا نام لینا چاہتے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں تا، تو اس میں تو وہ تینوں کس میں آ جاتی ہیں، آپ اس کا خاص نام لینا چاہتے ہیں تو تا پر پیش ہے اور پیش کے مناسب الف ہے، واؤ ہے، یا حرفِ یا ہے؟ پیش کے؟ پیش کے ساتھ، ضمہ کے ساتھ کس کی مناسبت ہے؟ الف کی، واؤ کی یا یائے حرف کی؟ واؤ کی، تو دو واؤ ساتھ ملا دو، تو بن گیا ”توو“، کیا بن گیا؟ ”توو“۔ دیکھو تین حروف کر لو کیونکہ نام کم از کم تین حروف پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب آپ اس کا نام لیتے تھے نا، پہلا نام میں نے کیا بتایا ”ضَرَبْتَ“ میں کون سی ضمیر ہے؟ تا، کیسے لکھتے ہیں؟ ت، ا، ء: تاء، دیکھو تین حروف ہیں یا نہیں؟ تو ایک نام جب کسی چیز کا لیا جاتا ہے وہ کم از کم تین حروف پر مشتمل ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اب اس کا خاص نام ہم لینا چاہتے ہیں تا کے اوپر پیش ہے ”ضَرَبْتُ“ میں تا پر پیش، تو دو اور حرف ساتھ ملا دو، اور پیش کے مناسب کیا ہے؟ واؤ، تو کتنے حروف ہو گئے؟ تین۔ اب آپ سے کوئی پوچھے ”ضَرَبْتُ“ کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں تا، اور آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں ”توو“۔ کیا کہہ سکتے ہیں؟ ”توو“ ضمیر بھی کہہ سکتے ہیں واؤ دو واؤ ساتھ ملا دیے اور پھر ان کا ادغام کر دیا، کیونکہ ایک جنس کے حروف میں کیا کرتے ہیں؟ ادغام کرتے ہیں۔ اور ”ضَرَبْتِ“، اس کے اندر کوئی پوچھے کون سی ضمیر ہے؟ تو آپ اگر عام نام لینا چاہتے ہیں جو سب کا مشترک ہے تو کہہ دیں تا ضمیر ہے، اور اگر خاص نام لینا چاہتے ہیں تو تا کے نیچے زیر ہے، زیر کے مناسب کون سا حرفِ علت ہے؟ یا، تو دو یا ساتھ ملا دو: ”تیی“، کیا بن گیا؟ ”تیی“۔ اور وہ جو جس تا پر زبر ہے تو وہاں الف اور وہ اسی طرح رہے گا: ”تَاءٌ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”ضَرَبْتَ“ اور ”ضَرَبْتِ“ اور ”ضَرَبْتُ“، اس کا عام نام کیا ہے یہ جو ضمیر آ رہی ہے؟ تا ضمیر۔ اور اگر خاص نام لینا چاہیں ہر ایک کا الگ الگ تاکہ فرق ہو جائے، تو ”ضَرَبْتُ“ میں ”توو“، ”ضَرَبْتِ“ میں ”تیی“، اور ”ضَرَبْتَ“ میں ”تَاءٌ“ بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو فعلِ معروف کے اندر فاعل کی ضمیریں تھیں اور فعلِ مجہول میں نائب الفاعل کی ضمیریں۔ اسی طرح مضارع کے اندر آ جاؤ بھئی: ”يَضْرِبُ“ کے اندر کون سی ضمیر؟ ”هُوَ“ ضمیر۔ ”يَضْرِبَانِ“، دیکھو یہ مضارع کے اندر جو نون آتا ہے نا آخر میں یہ نون اعرابی ہے، کیا ہے؟ نون اعرابی ہے، یہ ضمیر نہیں ہے، اس سے ماقبل میں ضمیر ہوتی ہے۔ صرف جو جمع مؤنث کے صیغے ہیں نا: ”يَضْرِبْنَ“، ”تَضْرِبْنَ“، اس میں یہ جو نون آ رہا ہے یہ ضمیریں ہیں، باقی ”يَضْرِبَانِ“، ”يَضْرِبُونَ“، ”تَضْرِبِينَ“، یہ ساری کیا ہیں؟ نون اعرابی ہیں۔ تو لہٰذا ”يَضْرِبُ“ میں کون سی ضمیر ہے فاعل کی؟ ”هُوَ“۔ ”يَضْرِبَانِ“ میں؟ نون تو ہوا اعرابی اور فاعل کی ضمیر کون سی؟ الف ہے۔ ”يَضْرِبُونَ“ میں؟ نون اعرابی ہے اور ضمیر کون سی؟ واؤ ہے بھئی۔ اور ”تَضْرِبُ“ میں؟ ”هِيَ“ ضمیر، ”تَضْرِبُ“ کیونکہ ض، ر، ب یہ تو فعل کا اپنا مادہ ہے، آگے کوئی حرف ہے ہی نہیں تو اس کے اندر ”هِيَ“ ضمیر ہے۔ ”تَضْرِبَانِ“ میں؟ الف ضمیر ہے اور نون اعرابی ہے۔ ”يَضْرِبْنَ“ میں؟ جمع کا صیغہ، مؤنث کا صیغہ، اس میں نون ضمیر ہے بھئی، اعرابی نہیں ہے۔ اور پھر ”تَضْرِبُ“ میں؟ ”أَنْتَ“ ضمیر، مخاطب کا صیغہ ہے وہی ضمیر نکالیں گے: ”أَنْتَ“ ضمیر ہے اس کے اندر۔ اور ”تَضْرِبَانِ“ میں؟ الف ہے۔ ”تَضْرِبُونَ“ میں؟ واؤ ہے۔ ”تَضْرِبِينَ“ میں؟ یا ہے۔ ”تَضْرِبِينَ“ میں یا ہے۔ پھر ”تَضْرِبَانِ“ میں؟ الف ہے۔ پھر ”تَضْرِبْنَ“ میں؟ نون ہے۔ پھر ”أَضْرِبُ“ میں؟ ”أَنَا“، شاباش! کیونکہ ض، ر، ب تو فعل کا مادہ ہے، آگے کوئی حرف ہی نہیں جڑا ہوا، تو ”أَضْرِبُ“ میں ”أَنَا“، اور ”نَضْرِبُ“ میں ”نَحْنُ“۔ اور یہ ساری جو ضمیریں ذکر کیں یہ فاعل کی ضمیریں ہیں کیونکہ یہ فعلِ معروف ہے اور فعلِ معروف کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے؟ فاعل، تو یہ ساری فاعل کی ضمیریں ہیں۔ فعلِ مجہول میں یہی ضمیریں نائب الفاعل کی کہلائیں گی، نائب الفاعل ہوں گی۔ ”يُضْرَبُ“ میں نائب الفاعل کیا ہے؟ ”هُوَ“۔ ”يُضْرَبَانِ“ میں؟ الف۔ ”يُضْرَبُونَ“ میں؟ واؤ۔ ”تُضْرَبُ“ میں؟ ”هِيَ“۔ ”تُضْرَبَانِ“؟ الف۔ ”يُضْرَبْنَ“؟ نون۔ ”تُضْرَبُ“ میں؟ ”تُضْرَبُ“ میں ”أَنْتَ“، جو صیغہ ہے اس کے مطابق ”أَنْتَ“ ضمیر۔ ”تُضْرَبَانِ“ میں؟ الف۔ ”تُضْرَبُونَ“ میں؟ واؤ۔ ”تُضْرَبِينَ“؟ یا۔ ”تُضْرَبَانِ“؟ الف۔ ”تُضْرَبْنَ“؟ نون۔ ”أُضْرَبُ“؟ ”أَنَا“، فاعل ہے یا نائب الفاعل ہے؟ نائب الفاعل، کیونکہ فعلِ مجہول ہے بھئی، اور ”نُضْرَبُ“ میں؟ ”نَحْنُ“ ہے، شاباش! ضمیروں کی پہچان ہو گئی؟ فعلِ معروف میں کیا فاعل ہے اور فعلِ مجہول میں کیا نائب الفاعل ہے، آپ کو پتہ چل گیا۔ اس کے بعد میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ فعل جو ہیں وہ دو قسم پر ہیں: کچھ ایک فعلِ لازم ہے، ایک فعلِ متعدی۔ فعلِ لازم وہ ہے جہاں صرف فاعل پر بات پوری ہو جائے، اور فعلِ متعدی وہ ہے جہاں فاعل پر بات پوری نہیں ہوتی، معنی پورا نہیں ہوتا، اس کے لیے مفعول بھی چاہیے۔ فعلِ لازم میں صرف کس پر بات پوری ہو جاتی ہے؟ فاعل پر، اور فعلِ متعدی میں؟ مفعول بھی چاہیے، پھر کبھی ایک مفعول چاہیے ہوتا ہے، کبھی دو مفعول چاہیے ہوتے ہیں، اور کبھی تین مفعول چاہیے ہوتے ہیں۔ اور آپ اس فعل پہ غور کر لیا کریں آپ کو خود پتہ چل جائے گا، مثلاً میں کہتا ہوں: زید نے پٹائی کی۔ اب آپ بتائیے مجھے، ضرب بغیر مضروب کے ہو سکتی ہے؟ نہیں، تو معلوم ہوا مضروب ضرور چاہیے، ایک مفعول چاہیے بھئی۔ اور ایک ہی چاہیے، دو یا تین نہیں چاہیے، کیا پٹائی کے لیے دو یا تین کا ہونا ضروری ہے یا ایک ہی بہت ہے؟ ایک ہی ہو تو ضرب کا فعل پایا جائے گا: ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، تو دیکھا ایک مفعول چاہیے تھا۔ ہاں، یہ مفعول فضلہ ہوتا ہے، کیا؟ فضلہ، ضاد کے ساتھ ہے، فضلہ زائد چیز ہے، تو اس کو کبھی عبارت میں ذکر کرتے ہیں، کبھی حذف کر دیتے ہیں۔ ”ضَرَبَ زَيْدٌ“: زید نے پٹائی کی۔ عمراً کو ذکر نہیں کیا، اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ فعلِ لازم بن گیا، نہیں، فعلِ متعدی ہی ہے، سمجھ میں آیا؟ مفعول کو ذکر کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ فعل کے لازم یا متعدی ہونے کا تعلق نہیں ہے، فعل کے مفہوم پہ آپ غور کر لیا کریں کہ اس فعل کے لیے مفعول چاہیے یا نہیں۔ آپ ”ضَرَبَ“ پہ صرف غور کر لیں، ”ضَرَبَ“ کے لیے ایک ضارب بھی چاہیے تبھی ضرب ہو سکتی ہے، اور ایک مضروب بھی چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب آپ مجھے بتائیے، شرب، پینا، اس کے لیے ایک تو شارب چاہیے، پینے والا، اور کیا چاہیے؟ مشروب بھی چاہیے، بغیر مشروب کے کوئی شرب کر سکتا ہے؟ نہیں، کوئی پینے والی، پی جانے والی چیز ہو، چاہے پانی ہو، چاہے دودھ ہو، چاہے چائے ہو، کچھ نہ کچھ مشروب ہو گا پینے والا، پھر ہی یہ شرب کا فعل پایا جا سکتا ہے۔ تو فعلِ لازم کسے کہتے ہیں؟ جہاں فاعل پر بات پوری ہو جائے، اور فعلِ متعدی کسے کہتے ہیں؟ جہاں مفعول کو بھی وہ چاہے، اور آپ نے خود غور کرنا ہے کہ مفعول اس کے لیے چاہیے یا نہیں چاہیے؟ مثلاً میں کہتا ہوں: زید بھاگا، کسی مفعول کی ضرورت ہے؟ نہیں، بات پوری ہو گئی۔ زید کھڑا ہوا، کسی مفعول کی ضرورت ہے؟ نہیں، دیکھا، خود آپ غور کر لیں۔ زید نے عمرو کو، دیکھو بعض اوقات دو تین مفعول چاہیے ہوتے ہیں: زید نے عمرو کو بتایا، بات پوری ہو گئی یا ابھی بھی ادھوری ہے؟ ابھی بھی ادھوری ہے، کیا بتایا بھئی؟ بات تو پوری کریں! زید نے عمرو کو بتایا کہ خالد کھڑا ہے، دیکھو تین مفعول چاہیے۔ زید، بتانے والا کون؟ زید، وہ تو فاعل ہو گیا۔ کس کو بتایا؟ عمرو کو بتایا، ایک مفعول۔ کیا بتایا؟ کہ خالد، اور کیا بتایا خالد کو کیا ہے؟ کھڑا ہے، تو عمرو مفعول اول ہوا، خالد مفعول ثانی ہوا، اور قائم، کھڑا ہے، یہ کیا ہوا؟ مفعول ثالث ہوا، تو فعل کے آپ نے مفہوم پہ غور کرنا ہے۔ یہ نہیں دیکھنا کہ جملے میں مفعول ذکر ہے یا نہیں ہے، جملے میں چاہے ذکر ہو یا نہ ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ مفعول کیا ہوتا ہے؟ فضلہ، اس کو کیا کر لیتے ہیں بعض اوقات کلام سے؟ حذف بھی کر لیتے ہیں، تو حذف کرنے کا یہ معنی نہیں کہ وہ فعلِ لازم بن گیا، نہیں، مفعول ابھی بھی اس کا ہے، ہم نے لفظوں میں ذکر نہیں کیا کیونکہ آپ کو پتہ تھا۔ مثلاً آپ کو اتنا پتہ ہے کہ پٹائی عمرو کی ہوئی ہے، اتنا آپ کو پتہ ہے، اب آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کس نے پٹائی کی؟ میں آپ کو کہتا ہوں: ”ضَرَبَ زَيْدٌ“، کس نے پٹائی کی؟ زید نے، اور یہ تو آپ کو پتہ تھا کس کی پٹائی کی ہے، عمرو کی، اس لیے میں نے اس کو ذکر نہیں کیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی نہیں کہ مفعول اب اس کے لیے چاہیے ہی نہیں، مفعول محذوف ہے، ذکر نہیں ہے۔ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ فعلِ لازم جہاں صرف فاعل پر بات پوری ہو جائے، اور فعلِ متعدی جہاں فاعل کے ساتھ ساتھ کون چاہیے؟ مفعول بھی چاہیے، اور مفعول کو کبھی کیا کر لیتے ہیں؟ حذف بھی کر لیتے ہیں، لیکن معنی کے اندر وہ، نیت کے اندر وہ مراد ہوتا ہے، یہ نہیں کہ حذف کر لیا تو وہ مراد ہی نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اب ضابطہ یاد رکھنا، یہ چیزیں پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں پہلے بھی، ان سب کا آپ نے خوب اچھی طرح تکرار کرنا ہے بھئی۔ یاد رکھو، فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آتا ہے، باقی سب منصوب آئیں گے یا مجرور آئیں گے، اور مجرور تو کتنے ہیں؟ دو: ایک جس پر حرفِ جر داخل ہو اور دوسرا مضاف الیہ۔ اور مرفوع کون ہو گا؟ فاعل یا نائب الفاعل ہوتا ہے۔ تو فعل کے آنے کے بعد فاعل یا نائب الفاعل مرفوع ہو گا، اگر کسی پر حرفِ جر داخل ہوا ہے یا وہ مضاف الیہ ہیں تو وہ مجرور ہوں گے، باقی سارے کیا ہوں گے؟ منصوب ہوں گے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فعل کے آنے کے بعد مرفوع صرف کون ہو گا؟ فاعل یا نائب الفاعل ہوتا ہے۔ باقی جب اس کا آپ کو پتہ چل گیا، جب آپ کو فاعل یا نائب الفاعل کا پتہ چل گیا کہ یہ والا لفظ فاعل یا نائب الفاعل بن رہا ہے، تو باقی جتنے لفظ ہیں اس جملے کے اندر اس میں اتنا آپ کو ضرور پتہ چل جانا چاہیے کہ باقیوں پہ رفع نہیں پڑھنا، نصب پڑھنا ہے یا جر پڑھنا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کس کا جب آپ کو پتہ چل جائے؟ فاعل کا یا نائب، فعلِ معروف ہو تو کس کا پتہ چل جائے؟ فاعل، باقی کیا ہوں گے سارے؟ منصوب یا مجرور۔ اور فعلِ مجہول کے آنے کے بعد جب آپ کو نائب الفاعل کا پتہ چل جائے، یہ کیا ہے؟ نائب الفاعل ہے، اس پر رفع پڑھنا ہے، تو باقی لفظوں کا اتنا پتہ چل گیا کہ ان پر رفع نہیں پڑھنا کیا پڑھنا ہے؟ وہ سارے کیا ہوں گے؟ مجرور ہوں گے یا منصوب ہوں گے۔ اس کے بعد آپ نے یہ بھی پڑھا تھا بھئی کہ یہ جو فعل کے لیے فاعل یا نائب الفاعل چاہیے، یہ ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی ہو سکتا ہے۔ اور اسمِ ظاہر کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا، جو بھی اسم ہو اور ضمیر نہ ہو وہ اسمِ ظاہر ہے۔ تو اسمِ ظاہر گویا ضمیر کے مقابلے میں ہے، کوئی بھی اسم آپ کے سامنے آ جائے، ہو اسم، فعل یا حرف نہیں ہے اسم ہے، اور وہ اس میں پھر آپ دیکھ لیں وہ ضمیر ہے یا نہیں۔ اگر وہ ضمیر ہے تو اسمِ ظاہر معلوم ہوا یہ نہیں ہے، اور اگر وہ ضمیر نہیں تو وہ کیا ہو گا؟ اسمِ ظاہر ہو گا۔ مجھے بتائیے، کتاب ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ یہ ضمیر ہے، کتاب؟ ضمیر تو نہیں ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔ قلم کیا ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔ کراسۃ، کاپی، یہ کیا ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔ امرأۃ؟ اسمِ ظاہر ہے۔ رجل؟ اسمِ ظاہر ہے۔ انسان؟ اسمِ ظاہر ہے۔ زید؟ اسمِ ظاہر ہے۔ بکر؟ خالد؟ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ جو ضمیر نہیں وہ کیا ہے؟ اگر اسم ہے تو پھر اسمِ ظاہر ہے۔ تو فعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب الفاعل، یہ فاعل یا نائب الفاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی ہو سکتا ہے۔ اور ضمیر کس فعل میں آئے گی؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ماضی ہو، چاہے معروف ہو چاہے مجہول، مضارع ہو، معروف ہو یا مجہول، ان میں سے دو صیغے ایسے ہیں جن کے لیے فاعل یا نائب الفاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی، اور وہ کون کون سے صیغے بتلائے تھے میں نے آپ کو؟ پہلا اور چوتھا صیغہ۔ پہلا صیغہ کون سا ہے؟ واحد مذکر غائب کا، اور چوتھا صیغہ کون سا ہے؟ واحد مؤنث غائب کا۔ یہ دو صیغے ہیں، ان کے لیے فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے۔ باقی جو بارہ صیغے ہیں، چاہے ماضی معروف کے ہیں، چاہے ماضی مجہول کے ہیں، چاہے مضارع معروف کے ہیں، چاہے مضارع مجہول کے ہیں، ان بارہ صیغوں کے اندر فاعل یا نائب الفاعل ہمیشہ ضمیر ہو گی، جو اسی صیغے کے ساتھ اسی لفظ کے ساتھ اسی فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہو گی یا اس کے اندر چھپی ہوئی ہو گی بھئی۔ گویا خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اسمِ ظاہر کتنے صیغوں کے لیے فاعل بن سکتا ہے؟ دو صیغے: پہلے اور چوتھے۔ باقی بارہ صیغوں کے لیے اسمِ ظاہر فاعل یا نائب الفاعل نہیں بن سکتا۔ لہٰذا اگر پہلا یا چوتھا صیغہ آ جائے تو پھر آپ جملے میں تلاش کریں کہ کوئی اسمِ ظاہر ان کے لیے فاعل ہے یا فاعل نہیں؟ اگر اسمِ ظاہر فاعل یا نائب الفاعل مل جائے تو اس کو تو فاعل یا نائب الفاعل بنا دیں گے اور پھر اس صیغے کے اندر ضمیر نہیں ہو گی کیونکہ فاعل یا نائب الفاعل ایک چاہیے تھا وہ آگے ہمیں مل گیا ہے اب اس کے اندر ضمیر نہیں۔ کتنے صیغوں میں؟ دو: پہلا اور چوتھا۔ اور اگر آپ کو آگے اسمِ ظاہر فاعل یا نائب الفاعل نہیں ملتا تو پھر اسی صیغے کے اندر فاعل یا نائب الفاعل کی ضمیر نکال لیں گے۔ جبکہ باقی بارہ صیغوں کے اندر فاعل یا نائب الفاعل کیا ہو گا ہمیشہ؟ ضمیر، اسی کے ساتھ متصل ہو گی ضمیر یا اسی کے اندر چھپی ہوئی ہو گی بھئی ضمیر، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا بارہ صیغوں میں سے کوئی صیغہ آ جائے تو آپ کو تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں فاعل یا نائب الفاعل کو، انہی کے اندر چھپی ہوئی ضمیر ہو گی یا اسی کے ساتھ جڑی ہوئی ضمیر۔ ہاں، پہلا یا چوتھا صیغہ آ جائے پھر آپ کو ذرا تلاش کرنا پڑے گا کہ کہیں آگے کوئی اسمِ ظاہر تو نہیں اس کے لیے فاعل یا نائب الفاعل بن رہا؟ اگر بن رہا ہو اس کو بنا دیں اور فعل کے اندر ضمیر نہیں ہو گی، اور اگر نہیں بن آگے کوئی اسمِ ظاہر فاعل یا نائب الفاعل نہیں آ رہا تو پھر اسی کے اندر کیا نکال لو؟ ضمیر نکال لو۔ چلیے، اب دو چار جملے ذرا ترکیب کے بھی کر لیں بھئی، اور پھر آگے ہم ترکیب بڑھاتے جائیں گے آہستہ آہستہ۔ جملہ لکھیے بھئی: ”قَامَ زَيْدٌ“۔ ”قَامَ زَيْدٌ“۔ چلیے بھئی، آپ ترکیب کیجیے۔ ”قَامَ“: فعل۔ ”زَيْدٌ“: اعراب پہلے، جو لفظ آئے اس کا اعراب: ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً اس کا فاعل، شاباش! ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے اور فاعل مرفوع ہوتا ہے بھئی۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ کر کے دکھاؤ: ”زَيْدٌ“۔ نصب پہ کرو: ”زَيْدًا“۔ جر پہ کریں: ”زَيْدٍ“۔ معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کا اعراب لفظاً آتا ہے، ہم اس پر باقاعدہ تلفظ کرتے ہیں، سننے سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ اچھا، آپ نے کہا مرفوع لفظاً فاعل، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ فاعل ہے؟ کیونکہ اس سے پہلے فعل آ رہا ہے اور فعل کون سا صیغہ ہے، بارہ میں سے ہے یا دو میں سے ہے؟ دو میں سے ہے، اور اس کے لیے فاعل اسمِ ظاہر آ سکتا ہے، تو زید اس کے لیے فاعل بن سکتا ہے۔ ایک طالب علم نے آپ پر اشکال کر دیا، اعتراض کر دیا، وہ کہتا ہے نہیں، ”قَامَ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر آپ بھول گئے بھئی، ضرب، قاما، پہلا صیغہ اس کے اندر تو کون سی ضمیر ہوتی ہے؟ ”هُوَ“ ضمیر، تو وہ آپ نے نہیں نکالی؟ آپ کیا کہیں گے جواب میں؟ کہ بھئی، اس کے لیے ایک فاعل چاہیے تھا، فاعل ہمیشہ کتنے آئیں؟ فاعل یا نائب الفاعل ایک ہی آئے گا، ایک ہی اسم کو یہ رفع دے گا، دو یا تین کو رفع نہیں دے سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ایک فاعل آگے اسمِ ظاہر جب آ گیا تو اب اس کے اندر ضمیر نہیں ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا پھر کیا کرتے؟ اسی کے اندر ضمیر نکالتے کیونکہ فاعل تو ضرور چاہیے اس کے لیے۔ تو ”قَامَ“ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پڑھ دیں جملہ: ”قَامَ زَيْدٌ“۔ ترجمہ کیجیے: زید کھڑا ہوا، ماضی کا صیغہ ہے۔ بھئی دیکھیے، معنی میں بھی غور کرتے رہا کریں ہمیشہ: زید کھڑا ہوا، کون کھڑا ہوا؟ زید، معلوم ہوا وہ فاعل ہے۔ دیکھا، ترجمے سے ہی آپ فاعل کا پتہ لگا لیا کریں۔ زید نے پٹائی کی، کس نے کی؟ زید نے، بس فاعل یہ ہو گیا، پتہ لگ گیا، وہیں سے ترجمے سے ہی آپ کو فاعل کا پتہ لگ جائے گا۔ خالد نے چائے پی، کس نے پی؟ خالد نے، فاعل کا پتہ لگ گیا بھئی جو فعل کرنے والا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو فعل کے ترجمے پہ بھی آپ نے نظر رکھنی ہے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“۔ ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“۔ عمرو کے آخر میں واؤ لکھتے ہیں بھئی؟ جی واؤ لکھنا ہے، عمر سے تاکہ فرق ہو جائے۔ چلیے بھئی، اب آپ ترکیب کیجیے بھئی۔ ”ضَرَبَ“: فعل۔ ”زَيْدٌ“: مرفوع لفظاً فاعل، شاباش! ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”زَيْدٌ“۔ آگے۔ ”عَمْرًا“: اعراب بھئی: منصوب لفظاً، شاباش! منصوب لفظاً مفعول بہ۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول ہے، شاباش، اور مفعول پر کیا آتا ہے؟ نصب، یہ ابھی صاحبِ ہدایت النحو بھی آگے چل کر آپ کو بتائیں گے۔ اور منصوب لفظاً کیوں؟ اس کے نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”عَمْرًا“، شاباش! اب ایک اور بات یاد رکھنا کتابت کی، ایک بات یاد رکھنا: عمرو کے ساتھ واؤ لکھتے ہیں یا نہیں؟ لکھتے ہیں۔ کیوں لکھتے ہیں یہ واؤ؟ تاکہ عمر سے فرق ہو جائے، کس سے؟ عمر سے، کیونکہ اس میں بھی عین میم را ہیں، عمرو میں بھی عین میم را ہیں، اور پہلے ابتدا میں جب عربی لکھی جاتی تھی یہ زبر، زیر، پیش یہ تو بعد میں علمائے اسلام نے ان کو ترتیب دیا تاکہ لوگوں کو قرآن وغیرہ پڑھنے میں آسانی ہو، پہلے زیر زبر پیش نہیں، عرب تو اس کو دیکھتے خود ہی پڑھ لیتے تھے۔ تو انہوں نے پھر عمر اور عمرو میں فرق کرنے کے لیے کیا کیا؟ عمرو کے آخر میں واؤ بڑھا دی بھئی۔ تو لہٰذا حالتِ رفعی میں بھی واؤ لکھتے ہیں ”عَمْرٌو“، واؤ لکھتے ہیں، حالتِ جری میں بھی واؤ لکھتے ہیں ”عَمْرٍو“، اور حالتِ نصبی میں تو آپ جانتے ہیں کہ جب تنوین آ رہی ہو آخر میں نصب ہو تو الف ڈالتے ہیں یا نہیں ڈالتے؟ الف لکھتے ہیں، تو لہٰذا حالتِ نصبی میں یہاں الف آ جاتا ہے اور پھر واؤ نہیں لکھتے، پھر واؤ نہیں لکھتے۔ کیوں نہیں لکھتے؟ کیونکہ یہ الف ہی بتلا دیتا ہے کہ یہ عمر نہیں ہے، عمرو ہے، کیونکہ عمر تو غیر منصرف ہے اس پہ تو تنوین نہیں آتی، جب تنوین نہیں آتی تو الف آ ہی نہیں سکتا آخر میں، یہ الف ہی کیا کر دیتا ہے؟ بتلا دیتا ہے کہ یہ عمرو ہے۔ لہٰذا حالتِ نصبی میں ہے تو اب واؤ نہیں لکھنا، الف لکھنا ہے صرف بھئی۔ اچھا، ایک طالب علم نے آپ پہ اشکال کر دیا کہ ”زَيْدٌ“ بھی فاعل ہے، ”عَمْرٌو“ بھی فاعل ہے بھئی، آپ نے کیا کیا کہ ایک کو فاعل بنا دیا ایک کو مفعول بنا دیا، آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ فعل کے لیے صرف ایک فاعل چاہیے، وہ ایک ہو سکتا ہے، یا زید ہو سکتا ہے یا عمرو ہو سکتا ہے، دو فاعل نہیں ہو سکتے۔ عطف کے ذریعے ہو سکتے ہیں: ”ضَرَبَ زَيْدٌ وَعَمْرٌو وَبَكْرٌ وَخَالِدٌ“، لیکن وہ حرفِ عطف ان کو پھر ایک کر دیتا ہے جوڑ کر، کیا کر دیتا ہے؟ ایک کر دیتا ہے۔ تو ”ضَرَبَ زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، تو ”ضَرَبَ“ زید کو رفع دے رہا ہے اور عمرو کا زید پر عطف ہو رہا ہے اس سے وہ معطوف ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں بھی ”ضَرَبَ“ ایک ہی اسم کو رفع دے رہا ہے۔ جی، اب ایک ایک لفظ کا اعراب آپ نے نکال لیا، اب روانی سے پڑھیں: ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“۔ ترجمہ کیجیے: مارا زید نے عمرو کو، پٹائی کی زید نے عمرو کی۔ اور میں نے آپ کو ایک فرق بھی بتلایا تھا فعلِ لازم اور فعلِ متعدی کا، اردو ترجمے سے بھی آپ کو پتہ چل جائے گا۔ فعلِ متعدی کا ترجمہ کریں گے تو نے کا لفظ آئے گا: زید نے چائے پی، اب مجھے بتاؤ یہ پینا، یہ لازمی ہے یا متعدی ہے؟ متعدی، کس طرح؟ نے لفظ آ رہا ہے: زید نے چائے پی۔ زید نے پٹائی کی، معلوم ہوا پٹائی کرنا کیا ہے؟ فعلِ متعدی ہے۔ زید بھاگا، اب مجھے بتاؤ بھاگنا فعلِ لازم ہے یا فعلِ متعدی؟ فعلِ لازم، کیونکہ نے نہیں آیا۔ بکر دوڑا، اب مجھے بتاؤ دوڑنا؟ فعلِ لازم ہے کیونکہ نے نہیں آ رہا۔ عامر نے سبق یاد کیا، اب بتائیے یاد کرنا؟ متعدی، کیسے پتہ چلا؟ نے کا لفظ آ رہا ہے، شاباش! بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، تو یہ بھی ایک نشانی ہے، جی تو نے آئے گا اردو ترجمے میں۔ اچھا، سمیٹیے بھئی: فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، شاباش بھئی! اگلا جملہ لکھیے: ”ضَرَبَ بَكْرٌ خَالِدًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ“۔ با، کاف، را: بکر۔ خالد۔ ”يَوْمَ الْجُمُعَةِ“: آخر میں گول تا ہے۔ جی، اب ذرا مشکل ترکیب آ گئی، چلیے کیجیے بھئی ترکیب بھئی۔ یاد رکھو بھئی، پہلے ہی بتا دیتا ہوں: جس لفظ میں جگہ یا زمانے والا معنی آ جائے، وہ مفعول فیہ بنتا ہے، ظرف بنتا ہے۔ جس میں کیا آ جائے؟ جگہ والا معنی یا زمانے والا معنی، جی تو وہ عموماً مفعول، ہمیشہ نہیں مفعول فیہ بنے گا، اکثر وہ مفعول فیہ بنے گا، اکثر مفعول فیہ بنے گا۔ چلیے جی، ترکیب کیجیے۔ ”ضَرَبَ“: فعل۔ ”بَكْرٌ“: اعراب بھئی: ”بَكْرٌ“ مرفوع لفظاً اس کا فاعل، شاباش! ”بَكْرٌ“ مرفوع لفظاً فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے اور فاعل مرفوعات میں سے ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”بَكْرٌ“۔ نصب پہ کریں: ”بَكْرًا“۔ جر پہ کریں: ”بَكْرٍ“۔ معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کے اعراب آتے ہیں لفظاً بھئی۔ اور آگے۔ ”خَالِدًا“: اعراب بھئی: ”خَالِدًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ، شاباش! منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول بہ ہے، فاعل گزر گیا، فاعل کے آنے کے بعد اب صرف منصوبات اور مجرورات ہی رہتے تھے، تو یہ منصوب مفعول بہ ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ اس کے نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”خَالِدًا“۔ جی، اس کے رفع پہ ذرا تلفظ کریں: ”خَالِدٌ“۔ اس کے ذرا جر پہ تلفظ کریں: ”خَالِدٍ“۔ دیکھا، اس پہ تینوں طرح کا اعراب لفظاً آتا ہے۔ آگے۔ ”يَوْمَ“: اعراب بھئی: ”يَوْمَ“ منصوب لفظاً مضاف، شاباش! مرفوع کیوں؟ مضاف کہنے سے تو اعراب کا پتہ نہیں چلتا، اعراب چاہیے اس کا۔ ایک ضابطہ میں نے ابھی آپ کو بتایا: فاعل کے آنے کے بعد آگے صرف کیا آئیں گے؟ منصوب یا مجرور، مرفوع تو نہیں آ سکتا، معلوم ہوا یہ منصوب ہے یا مجرور، اور مجرور تو دو ہی ہیں: جس پر حرفِ جر داخل ہو یا جس پر مضاف آئے یعنی وہ مضاف الیہ بنے، نہ اس پر حرفِ جر داخل ہے نہ یہ مضاف الیہ بن رہا ہے، تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ منصوب۔ اور پھر ویسے بھی آپ غور کر لیں: یوم کس چیز کا نام ہے؟ دن، زمانے کا نام ہے، اور جو زمانہ ہوتا ہے یا جگہ ہو وہ کیا بنتا ہے؟ مفعول فیہ ہوتا ہے یعنی منصوب ہوتا ہے، جی۔ ”يَوْمَ“: منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول فیہ ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ ”يَوْمَ“ اس کے نصب پر ہم کیا کر رہے ہیں باقاعدہ؟ تلفظ۔ ”يَوْمَ الْجُمُعَةِ“، اس کے ذرا رفع پہ تلفظ کرو: ”يَوْمُ الْجُمُعَةِ“، اس کے جر پہ کرو: ”يَوْمِ الْجُمُعَةِ“، معلوم ہوا اس پہ اعراب تینوں طرح کے آ سکتے ہیں، تو منصوب لفظاً مضاف۔ اب آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے؟ آپ کہیں گے یوم کا لفظ ہے نکرہ، اور اس کے بعد کیا آ گیا؟ معرفہ، اور نکرہ کے بعد معرفہ ہے تو عموماً کیا بنتے ہیں؟ مضاف اور مضاف الیہ۔ اور اضافت کے بعد پھر یہ یوم کا لفظ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔ لیکن اب اکیلا یوم نہیں، ”يَوْمَ الْجُمُعَةِ“ اس میں جو یوم ہے وہ معرفہ ہے، اکیلا یوم کیا ہے؟ نکرہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مضاف۔ آگے: ”الْجُمُعَةِ“: اعراب: مجرور لفظاً مضاف الیہ، شاباش! ”الْجُمُعَةِ“ مجرور لفظاً، سمجھ میں آیا بھئی؟ مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ اب سمیٹتے جائیے: مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ ”ضَرَبَ“ فعل کے لیے۔ اب فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب دیکھا، ایک ایک لفظ کا اعراب نکال لیا، اس کو روانی سے پڑھ دیں ذرا: ”ضَرَبَ بَكْرٌ خَالِدًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ“۔ پتہ لگ گیا؟ لیکن پھر وہ ایک اعراب میں، ایک ضابطہ رہ گیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا یرملون والا ضابطہ: ”خَالِدًا“، آخر میں کیا آ رہا ہے؟ دال آ رہی ہے آخر میں؟ تنوین ہے، تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا۔ تو ”خَالِدًا“ کے آخر میں کیا آیا؟ نونِ ساکن، اور آگے کیا ہے؟ یوم کی یا، اور یا کس میں سے ہے؟ یرملون میں سے ہے: ی، ر، م، ل، و، ن، ان سے پہلے اگر نونِ ساکن آ جائے تو اس کو بھی انہی حرف کے، اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں کیا کرتے ہیں؟ ادغام کرتے ہیں۔ تو ”خَالِدًا“ کا نون بھی یا سے بدل کر یا میں کیا کر دیں گے؟ ادغام کر دیں گے۔ کیسے پڑھیں گے؟ ”ضَرَبَ بَكْرٌ خَالِدًا يَّوْمَ الْجُمُعَةِ“، طریقہ آ گیا؟ پڑھیں: ”ضَرَبَ بَكْرٌ خَالِدًا يَّوْمَ الْجُمُعَةِ“۔ جی، ترجمہ کیجیے: پٹائی کی بکر نے خالد کی جمعہ کے دن، ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ چلیے بس کرتے ہیں، بس بھئی۔ هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 37 of 104