ہم مبتدا اور خبر کی بحث پڑھ رہے تھے بھئی۔ آج بھی ہم ترکیب کر لیں گے۔ آپ نے پڑھا کہ جملہ اسمیہ جو ہے اس میں دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک مبتدا اور ایک خبر۔ یعنی جتنے بھی لفظ آئیں جملہ اسمیہ کے اندر، مل ملا کر بالاخر دو چیزیں آخر میں بنیں گی: ایک مبتدا اور ایک خبر۔ اور آپ نے پڑھا کہ مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے اور خبر بھی مرفوع ہوتی ہے۔ جب آپ کو یہ پتہ چل جائے یا کوئی آپ کو بتا دے کہ یہ مبتدا ہے یا یہ خبر ہے، تو ساتھ ہی دوسری بات کا بھی آپ کو فوراً علم ہو جاتا ہے کہ اس پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے، رفع پڑھنا ہے۔
اور پھر رفع آپ نے پڑھا کبھی ”مَحَلًّا“ ہوتا ہے، کبھی ”لَفْظًا“ ہوتا ہے اور کبھی ”تَقْدِيرًا“ ہوتا ہے۔ رفع جو ہے وہ مبنی کے اندر آتا ہے ”مَحَلًّا“، اور ”لَفْظًا“ اور ”تَقْدِيرًا“ جو ہے وہ معرب کے اندر آتا ہے۔ اور کس معرب میں ”لَفْظًا“ آئے گا اور کس میں ”تَقْدِيرًا“ آئے گا، وہ نحو میر کی سولہ قسمیں آپ کو یاد ہونی چاہییں، یا یہ جو ہدایت النحو میں انہوں نے نو قسمیں آپ کو گنوائیں، ان سولہ کو سمیٹ کر کتنی قسمیں بنا دیا؟ نو قسمیں بنا دیا اعراب کے اعتبار سے۔ تو یہ آپ کو ہر وقت ذہن میں ہوں گی تو آپ کو فوراً پتہ چل جائے گا کہ اس اسم پر جو کہ معرب ہے ”لَفْظًا“ رفع آئے گا یا ”تَقْدِيرًا“ آئے گا۔
اور ”لَفْظًا“ رفع کا کیا معنی ہے؟ کہ اس کے رفع پر ہم باقاعدہ کیا کرتے ہیں تلفظ، یعنی سننے سے ہی دوسرے کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس وقت اس پر رفع پڑھا جا رہا ہے، یا نصب ہے یا جر ہے بھئی۔ تو اس طرح کا جو اعراب ہو جس سے تلفظ باقاعدہ اعراب پر ہو اسے اعرابِ لفظی کہتے ہیں۔ اگر مبنی ہو تو اس کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ ”مَحَلًّا“، کیونکہ مبنی پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا، اس کی جو آخر میں جو حرکت ہے وہ مبنی کی حرکت کہلائے گی اس کو اعراب نہیں کہتے اور وہ بدلتی نہیں ہے۔ لیکن وہاں پر پھر کیسے بتاتے ہیں؟ کہ یہ مرفوع ہے ”مَحَلًّا“، یا منصوب ہے ”مَحَلًّا“، یا مجرور ہے ”مَحَلًّا“۔ محل یعنی جگہ جگہ، یعنی جگہ کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، یہ جگہ تو رفع والی ہے لیکن یہ مبنی ہے اس لیے اس پر اعراب ظاہر نہیں ہو رہا۔ ”مَحَلًّا“ کا معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ مبتدا کے اندر اصل یہ ہے کہ معرفہ ہو، اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ نکرہ ہو، اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ مبتدا کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مقدم ہوگا اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مؤخر ہوگی بھئی، مؤخر ہوگی۔ تو جب آپ نے پڑھ لیا کہ مبتدا کے اندر اصل معرفہ ہونا ہے اور خبر کے اندر نکرہ ہونا، تو اب آپ کو معرفہ کی پہچان ہونی چاہیے بھئی۔ اور وہ یقیناً آپ کو یاد ہوگی، کئی دفعہ ہم تکرار کر چکے ہیں کہ معرفہ جو ہیں کتنے ہیں؟ سات ہیں۔ نمبر ایک کیا ہیں؟ تمام ضمیریں ہیں، اور اسی طرح اسمائے اشارہ ہیں، اور اسمائے موصولہ ہیں، اور علم ہے، اور معرف باللام ہے، اور ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو، اور اسی طرح معرفہ بالندا ہے بھئی۔
اور نیز یہ آپ نے اعراب کے بارے میں بھی پڑھ لیا کہ اعراب کبھی ”مَحَلًّا“ آتا ہے، کبھی ”لَفْظًا“ اور کبھی ”تَقْدِيرًا“ آتا ہے۔ اور ”مَحَلًّا“ جو ہے مبنی کے اندر آتا ہے جبکہ ”لَفْظًا“ اور ”تَقْدِيرًا“ معرب کے اندر۔ تو لہٰذا اب آپ کو مبنی کی بھی پہچان ہونی چاہیے بھئی۔ مبنیات تو آگے چل کر صاحبِ ہدایت النحو آپ کو بتائیں گے کہ سات آٹھ ہیں، لیکن تین جو عام استعمال ہوتے ہیں وہ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونے چاہییں، اور وہ کون کون سے ہیں؟ تمام ضمیریں ہیں، اسمائے اشارہ ہیں اور اسمائے موصولہ ہیں بھئی۔ یہ تین تو ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونے چاہییں۔ تو لہٰذا ضمیر آ جائے یا اسمِ اشارہ آ جائے یا اسمِ موصول آ جائے تو اس پر جو بھی اعراب آپ نے بتانا ہے ہمیشہ ”مَحَلًّا“ بتانا ہے، اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی بھئی۔
اور پھر آپ نے ایک دو ترکیبیں بھی کی تھیں۔ پہلی ترکیب کیا تھی؟ ”اَللّٰهُ أَحَدٌ“۔ لفظِ ”اَللّٰهُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا، ”أَحَدٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ خبر۔ اعراب آپ نے ہر ایک لفظ کا بتانا ہے بھئی۔ اور مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ پھر اس کو روانی سے پڑھیں گے جملے کو، جب ایک ایک لفظ کا اعراب ہم حل کر لیں پھر اسے روانی سے پڑھیں گے تو کیا بنا؟ ”اَللّٰهُ أَحَدٌ“، اللہ ایک ہے، اللہ یکتا ہے۔
اب یاد رکھیے، ترکیب کو تھوڑا بڑھاتے ہیں بھئی، اب ساتھ موصوف صفت کی ترکیب بھی شامل کر لیتے ہیں۔ آپ نے پڑھا ہے کہ جو اعراب موصوف پر آتا ہے وہی اعراب صفت پر بھی آتا ہے۔ موصوف اگر مرفوع ہو تو صفت بھی مرفوع ہوتی ہے، موصوف اگر منصوب ہو تو صفت بھی منصوب ہوتی ہے، اور موصوف اگر مجرور ہو تو صفت بھی مجرور ہوتی ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا کہ موصوف پر اگر موصوف اور صفت مثلاً دونوں پر رفع ہے تو مرفوع تو دونوں ہوں گے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک پر رفع ”لَفْظًا“ ہے تو دوسرے پر بھی رفع ”لَفْظًا“ آئے، یا ایک پر رفع ”مَحَلًّا“ ہے تو دوسرے پر بھی رفع ”مَحَلًّا“ آئے، یہ نہیں ضروری۔ آئے گا رفع ہی دونوں پر، لیکن رفع ہر لفظ کے مطابق آئے گا۔ اگر وہ مبنی ہوا تو پھر اس پر رفع کس طرح کا آئے گا؟ ”مَحَلًّا“، اور صفت اگر معرب ہوئی تو اس پر پھر رفع ”لَفْظًا“ یا ”تَقْدِيرًا“ آئے گا۔ ہاں دونوں پر آئے گا رفع، یعنی اعراب ایک جیسا ہی ہوگا بھئی۔ جب موصوف مرفوع ہے تو صفت بھی مرفوع آئے گی۔
تو موصوف صفت کی ترکیب بھی آج ساتھ شامل کر لیتے ہیں۔ بھئی، یاد رکھیے ضابطہ کہ ایک معرفہ کے بعد اگر پھر کوئی معرفہ آ جائے، چاہے ایک آئے، دو آئیں، تین آئیں، چار آئیں، تو یہ سارے آپس میں موصوف صفت بنیں گے۔ پہلے کو موصوف بنائیں گے اور باقیوں کو اس کی صفت بنا لیں گے بھئی۔ کیا ضابطہ ہوا؟ اگر کئی معرفہ اکٹھے آ جائیں تو پہلے کو کیا بناؤ؟ موصوف، اور باقیوں کو صفت بنائیے۔ اسی طرح یاد رکھیے اگر کئی نکرہ اکٹھے آ جائیں چاہے دو ہوں، تین ہوں، چار ہوں، پانچ ہوں، تو پہلے کو عموماً کیا بنائیں گے؟ موصوف، اور باقی نکرہ اس کی صفت بنیں گے بشرطیکہ آخری نکرہ کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے۔ کئی نکرہ اکٹھے آ جائیں تو پہلے کو کیا بنائیں گے؟ موصوف، اور باقیوں کو صفت، بشرطیکہ جو آخری نکرہ آ رہا ہے اس کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے، یعنی ضمیر، اسمِ اشارہ، اسمِ موصول وغیرہ ان میں سے کوئی نہ آئے۔ اگر آخری نکرہ کے بعد کوئی معرفہ آ گیا پھر عموماً وہ مضاف و مضاف الیہ بنیں گے سارے آپس میں، موصوف صفت نہیں بنیں گے بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ کیا ضابطہ ہوا؟ اگر کئی معرفہ اکٹھے آئیں تو وہ آپس میں موصوف صفت، اور اگر کئی نکرہ اکٹھے آئیں تو وہ بھی موصوف صفت، بشرطیکہ آخری نکرہ کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے۔ اگر کوئی معرفہ آخر میں آ گیا تو پھر یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف و مضاف الیہ بنیں گے بھئی، مضاف اور مضاف الیہ۔
اور پھر موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرنا ہے؟ یاد رکھیے، ترجمہ موصوف صفت کا، موصوف صفت کا ترجمہ ایسا کرنا ہے کہ پورا جملہ نہیں ہے وہ، تو اس کے مطابق ہی ترجمہ ہوگا بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”اَلرَّجُلُ الْعَالِمُ“، ”اَلرَّجُلُ الْعَالِمُ“، تو دیکھو ”اَلرَّجُلُ“ معرفہ ہے، اس پر الف لام داخل، ”اَلْعَالِمُ“ پر بھی کیا داخل؟ الف لام، وہ بھی معرفہ، اور ہم نے ضابطہ پڑھا ہے کہ دو معرفہ اکٹھے آئیں تو عموماً وہ کیا ہوں گے؟ موصوف صفت۔ ہاں ایک اور بات یاد رکھنا، یہ جتنے ضابطے ترکیب کے میں بیان کروں گا یہ کلی نہیں ہیں، ہر جگہ ایسا ہی نہیں ہوگا۔ بعض اوقات وہ دو معرفہ اکٹھے آئے ہیں وہ مبتدا خبر بھی ہو سکتے ہیں، ایک مبتدا ہوگا اور دوسرا کیا ہوگی؟ خبر ہوگی۔ لیکن یہ جو ضابطے میں ذکر کر رہا ہوں اس سے آپ کی اکثر مثالیں حل ہو جائیں گی۔ کہیں ایسا ہوگا کہ دونوں معرفہ ہیں اور مبتدا خبر بن رہے ہیں، عموماً کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ تو یہ ضابطے جتنے ذکر ہوں گے اکثری ہیں، کلی نہیں ہیں بھئی، کلی نہیں ہیں۔
تو مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں، موصوف صفت لے کر آتا ہوں: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“۔ ”رَجُلٌ“ بھی نکرہ دیکھو، یہ ضمیر بھی نہیں، یہ اسمِ اشارہ بھی نہیں، یہ اسمِ موصول بھی نہیں، یہ علم کسی کا نام بھی نہیں ہے، یہ معرف باللام بھی نہیں اور ان میں سے کسی کی طرف مضاف بھی نہیں، تو معلوم ہوا یہ نکرہ ہے۔ اور آگے ”شُجَاعٌ“ وہ بھی اسی طرح ہے، وہ نکرہ ہے، تو معلوم ہوا یہ دونوں آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ تو ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، تو اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ یاد رکھیے پہلے، موصوف صفت کے ترجمے کا طریقہ میں پہلے بھی ایک دو مرتبہ ذکر کر چکا ہوں کہ عربی کے اندر صفت مؤخر ہوتی ہے، ”رَجُلٌ“ دیکھو موصوف ہے اور ”شُجَاعٌ“ اس کی صفت بعد میں آ رہی ہے۔ لیکن اردو کے اندر صفت مقدم ہوتی ہے، تو ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“ اردو میں اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ بہادر آدمی، بہادر آدمی۔ یہ نہیں ترجمہ کرنا آپ نے: وہ بہادر آدمی ہے، یہ تو آپ نے پورا جملہ بنا دیا بھئی! سمجھ میں آئی بات؟ جملہ وہ ہوتا ہے جس میں بات پوری ہو جاتی ہے حالانکہ یہاں بات پوری نہیں ہے، یہاں صرف موصوف صفت ہیں۔ تو ترجمہ اس کا ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، اس کا کیا ترجمہ ہوگا؟ بہادر آدمی۔ دیکھو بات پوری نہیں ہے، سننے والا فوراً کہے گا: ہاں بھئی، بات تو پوری کریں، بہادر آدمی کو کیا ہوا؟ تو یہ جملہ پورا نہیں ہے۔ تو ”رَجُلٌ“ موصوف ہے اور ”شُجَاعٌ“ اس کی صفت ہے، تو ترجمہ کیسے ہوگا؟ بہادر آدمی۔ دیکھو ”شُجَاعٌ“ کا معنی تھا بہادر، اور ”رَجُلٌ“ کا معنی تھا آدمی یا مرد، اور وہ مقدم تھا عربی میں اور ”شُجَاعٌ“ کا لفظ مؤخر تھا، لیکن اردو میں آپ نے بہادر کو کیا کر دیا ہے؟ مقدم کر دیا ہے، اور آدمی کے لفظ کو مؤخر کر دیا ہے، تو بہادر آدمی۔
موصوف صفت کا ایک تو یہ طریقہ ہے ترجمے کا کہ صفت کو کیا کر دو اردو میں؟ موصوف پر مقدم کر دو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے نکرہ کے اندر کہ اردو میں بھی آپ عربی کی طرح رکھیں یعنی موصوف کو مقدم ہی رکھیں، صفت کو اردو میں بھی مؤخر ہی رکھیں لیکن موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ۔ کس سے پہلے؟ موصوف سے پہلے۔ تو دوسرا ترجمہ اب اس کا کیا ہوگا؟ ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“: ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔ اب یہ "ہے" کی وجہ سے آپ دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ شاید یہ تو پورا جملہ ہے، نہیں، ہرگز نہیں، ابھی بھی پورا جملہ نہیں ہے۔ ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، کوئی پوری بات کی میں نے؟ کوئی بات سمجھ میں آئی میں کیا کہنا چاہتا تھا؟ نہیں، بس ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو کہ بہادر ہے، آگے اس کو کیا ہوا؟ وہ بات ہے ہی نہیں، جملہ پورا نہیں۔ مثلاً میں یوں کہتا ہوں، اب جملہ پورا ہوگا دیکھیے، مثال کے طور پر میں کہتا ہوں: ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، ایک ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے میرا دوست ہے۔ اب دیکھو بات پوری ہو گئی، اب آپ کو بات سمجھ میں آ گئی۔ پہلے کیا تھا: ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، تو سننے والا فوراً کہے گا: ہاں بھئی، بات تو پوری کریں، تو اب بات پوری ہو گئی: ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے میرا دوست ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ تو تھا نکرہ کے اندر۔ معرفہ کے اندر بھی وہی طریقہ ہے، مثلاً اسی کو اب ہم معرفہ بنا دیتے ہیں: ”اَلرَّجُلُ الشُّجَاعُ“۔ ”اَلرَّجُلُ“ پر بھی الف لام داخل، ”اَلشُّجَاعُ“ پر بھی الف لام داخل، تو یہ موصوف صفت ہیں، اور موصوف صفت کا ایک تو وہی طریقہ جو پہلے ذکر ہوا کہ صفت کو کیا کر دو؟ مقدم کر دو۔ تو ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“ بغیر الف لام کے، یعنی جب نکرہ تھے کیا ترجمہ کیا تھا؟ بہادر آدمی۔ اچھا، ”اَلرَّجُلُ الشُّجَاعُ“ اس کا بھی اسی طرح ترجمہ کرو کیا ہوگا؟ اب آپ کہیں گے: بہادر آدمی، تو بھئی فرق کیا ہوا دونوں کے اندر؟ ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“ اس کا ترجمہ بھی آپ نے کیا: بہادر آدمی، اور ”اَلرَّجُلُ الشُّجَاعُ“ کا ترجمہ بھی آپ کیا کر رہے ہیں؟ بہادر آدمی۔ فرق ہونا چاہیے معرفہ اور نکرہ کے اندر۔ بھئی دیکھیے معرفہ معرفت سے ہے، معرفت کا کیا معنی؟ پہچان، جس کی آپ کو پہچان ہوتی ہے، جو متعین ہوتا ہے۔ تو لہٰذا اس میں عموماً "وہ" کا لفظ بڑھا دیا کرو: ”اَلرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، وہ بہادر آدمی۔ دیکھو کسی معین شخص کی طرف اشارہ ہو گیا۔ کسی معین شخص کی طرف اشارہ ہوا تو دیکھو یہ متعین ہے بھئی۔ اب فرق سمجھ میں آیا؟ ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“ کیا معنی؟ نکرہ ہے: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، بہادر آدمی، اور ”اَلرَّجُلُ الشُّجَاعُ“: وہ بہادر آدمی۔
اور نکرہ کے اندر دوسرا طریقہ کیا تھا؟ ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، پہلا طریقہ ذکر کرو ذرا: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، بہادر آدمی۔ دوسرا طریقہ ذکر کرو ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“: ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔ معرفہ کے اندر پہلا طریقہ ذکر کرو ”اَلرَّجُلُ الشُّجَاعُ“: وہ بہادر آدمی۔ دوسرا طریقہ معرفہ کے اندر: نکرہ میں، معرفہ کے اندر دوسرا طریقہ: موصوف کو مقدم ہی رکھیں اردو میں بھی اور صفت کو مؤخر ہی رکھیں جیسے عربی میں ہے، لیکن نکرہ میں کیا لفظ لائے تھے؟ ایسا یا ایسی، معرفہ میں "وہ" کا لفظ لے آئیں، وہ، تاکہ معین کی طرف اشارہ ہو جائے۔ کیا ترجمہ ہوگا؟ وہ آدمی جو کہ بہادر ہے۔ اب آئے گا پورا، اب دیکھو بات یہاں پوری نہیں، اس لفظِ "ہے" کی وجہ سے پھر یہ دھوکے میں آپ نہ پڑنا کہ یہ تو شاید پورا جملہ ہے، نہیں بھئی، پوری بات کہاں ہے یہاں؟ وہ آدمی جو کہ بہادر ہے، سننے والا فوراً کہے گا: ہاں کیا ہوا اس کو؟ اب بات تو پوری کریں۔ تو آپ پھر کہیں گے: میرا ساتھی ہے۔ وہ آدمی جو کہ بہادر ہے میرا ساتھی ہے۔ اب بات پوری ہو گئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ اردو میں کیا کرتے ہیں؟ صفت کو مقدم کرتے ہیں، اور دوسرا طریقہ کیا ہے؟ نکرہ کے اندر موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا یا ایسی، اور معرفہ کے اندر کیا لفظ لے آؤ؟ وہ کا لفظ لے آئے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
جی اب ہم ترکیبیں کچھ کر لیتے ہیں لیکن ایک اور ضابطہ بھی یاد رکھ لینا۔ یاد رکھو جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے تو وہ آپس میں مضاف اور مضاف الیہ بنیں گے۔ کیا ضابطہ ہوا؟ جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے، کوئی ضمیر جڑی ہوئی آ جائے تو وہ دونوں آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف و مضاف الیہ بنیں گے بھئی۔ فعل کی بات نہیں کر رہا، فعل کے ساتھ تو جڑی ہوئی ضمیر آتی ہے وہ فاعل کی ہوتی ہے، اسی طرح فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ضمیر آتی ہے وہ مفعول کی بھی ہوتی ہے۔ تو اسم کے ساتھ جب بھی ضمیرِ متصل آ جائے تو وہ آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف اور مضاف الیہ بنیں گے، اور مضاف اور مضاف الیہ کا ترجمہ آتا ہے یا نہیں آتا؟ کہ اردو میں مضاف الیہ کو مقدم کر دیتے ہیں اور مضاف کو مؤخر اور درمیان میں کا، کے، کی وغیرہ لفظ لے آتے ہیں۔ عموماً، ہر جگہ تو ایسا نہیں ہوتا لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”كِتَابُ زَيْدٍ“، یہ آپس میں مضاف اور مضاف الیہ ہیں تو کیا ترجمہ ہوگا ”كِتَابُ زَيْدٍ“؟ زید کی کتاب۔ دیکھو زید مضاف الیہ تھا اس کو آپ نے اردو میں مقدم کر دیا اور کتاب مضاف تھا اس کو مؤخر کر دیا اور درمیان میں کی کا لفظ بڑھا دیا: زید کی کتاب۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اچھا اب کچھ ترکیبیں کیجیے، لکھیے بھئی: ”اَلسُّلْطَانُ عَادِلٌ“، ”اَلسُّلْطَانُ عَادِلٌ“۔ یاد رکھو جب دو اسم آپ کے پاس ہوں اور ایک معرفہ ہو اور ایک نکرہ ہے اور پورا جملہ بن رہا ہے تو ہمیشہ معرفہ کو کیا بناتے ہیں؟ مبتدا، اور نکرہ کو کیا بناتے ہیں؟ خبر، کیونکہ مبتدا کے اندر اصل کیا ہے؟ معرفہ ہو، اور خبر کے اندر اصل کیا ہے؟ نکرہ ہو۔ چلیں جی، اب ترکیب شروع کیجیے بھئی۔ اعراب ہر لفظ کا بتانا ہے۔ ”اَلسُّلْطَانُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا۔ اب آپ مجھے بتائیے ایک ایک چیز کی وجہ: مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، شاباش۔ رفع پہ ذرا تلفظ کرو: ”اَلسُّلْطَانُ“۔ نصب پہ تلفظ کریں: ”اَلسُّلْطَانَ“۔ جر پہ تلفظ کریں: ”اَلسُّلْطَانِ“۔ دیکھا، معلوم ہوا اس کا اعراب تینوں حالتوں میں ”لَفْظًا“ آتا ہے۔ تو ”اَلسُّلْطَانُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مبتدا ہے؟ ہاں، کیونکہ ہمارے پاس دو لفظ تھے اور ان دونوں سے پورا جملہ بن رہا ہے، اور دونوں اسم ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ کون سا جملہ بنے گا؟ جملہ اسمیہ بنے گا بھئی۔ جملہ فعلیہ کے اندر تو پہلا جز کیا ہوتا ہے؟ فعل، تو یہ جملہ اسمیہ بنے گا، اور جملہ اسمیہ میں تو دو ہی چیزیں ہوتی ہیں: ایک ہوتا ہے مبتدا اور ایک ہوتی ہے خبر، اور مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے اور خبر بھی مرفوع ہوتی ہے، اور مبتدا کے اندر اصل ہے معرفہ ہونا اور خبر کے اندر اصل ہے نکرہ ہونا۔ تو دو لفظ ہیں، ایک معرفہ ہے ہمارے پاس ایک نکرہ ہے، تو معرفہ کو کیا بنا دیں گے؟ مبتدا بنا دیں گے۔ جی آگے کیجیے: ”اَلسُّلْطَانُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا۔
”عَادِلٌ“، شاباش، اعراب سب سے پہلے: ”عَادِلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صیغہ اسمِ فاعل۔ جی، ”هُوَ“ ضمیر اس کا فاعل، شاباش۔ میں نے بتایا تھا جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری، اسی طرح یہ جو صفت کے صیغے ہیں، اسمِ فاعل ہے، اسمِ مفعول ہے، صفتِ مشبہ ہے، اسمِ تفضیل ہے اور مبالغے کے صیغے ہیں، ان کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ تو ”عَادِلٌ“ دیکھو ”عَادِلٌ“، ”فَاتِحٌ“، ”مَانِعٌ“، دیکھو اسی اسمِ فاعل ہے، دیکھو اسی وزن پر آ رہا ہے۔ تو ”عَادِلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صیغہ اسمِ فاعل۔ اچھا، پہلے یہ بتائیے مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ اس نے خبر بننی ہے، یہ خبر ہے بھئی، خبر ہے۔ اعراب کی وجہ کیا ہے رفع کی؟ کیونکہ یہ کیا ہے؟ خبر ہے، اور خبر پر رفع پڑھتے ہیں۔ پھر آپ نے کہا مرفوع ”لَفْظًا“، اس لفظاً کہنے کی کیا وجہ ہے؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھاؤ: ”عَادِلٌ“۔ نصب پہ کرو: ”عَادِلًا“۔ جر پہ کریں: ”عَادِلٍ“۔ معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کا اعراب ”لَفْظًا“ آتے ہیں: رفع بھی، نصب بھی اور جر بھی۔ تو ”عَادِلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صیغہ اسمِ فاعل۔
جی آگے: اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کا فاعل بھئی، اس کا فاعل۔ اچھا، مرفوع کیوں کہا ”هُوَ“ ضمیر کو؟ کیونکہ فاعل ہے، اور فاعل ہم پڑھ چکے کس میں سے ہے؟ مرفوعات میں سے۔ ”مَحَلًّا“ کیوں کہا؟ شاباش، کیونکہ ”هُوَ“ ضمیر ہے، اور ضمیر پر اعراب کیا ہے؟ ”مَحَلًّا“ آتا ہے۔ ”هُوَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ فاعل۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے ملتا ہے تو جملہ بنتا ہے، لیکن یہ صفت کے صیغے اپنے فاعل یا نائب فاعل سے ملیں تو بھی یہ مفرد ہی رہتے ہیں تو اس میں پھر کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ کہتے ہیں۔ تو یہ شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب ایک ایک لفظ کا آپ نے اعراب نکال لیا، اب اس کو روانی سے پڑھ دو: ”اَلسُّلْطَانُ عَادِلٌ“۔ ترجمہ کیجیے: وہ بادشاہ جو کہ عادل ہے، اس کو کیا ہوا؟ بات تو پوری نہیں۔ وہ بادشاہ جو کہ عادل ہے، یہ تو آپ نے موصوف صفت والا ترجمہ کیا، اور ترکیب آپ نے کوئی موصوف صفت بنائے یہاں پر؟ کوئی موصوف تھا، آگے اس کی صفت آئی؟ آپ نے تو ایک کو بنایا مبتدا، دوسرے کو کیا بنایا؟ خبر، اور ترجمہ آپ کون سا کر رہے ہیں؟ موصوف صفت، نہیں، مبتدا خبر والا ترجمہ کرو: بادشاہ عادل ہے، بادشاہ عادل ہے۔ دیکھو بات پوری ہو گئی کہ نہیں؟ اور اگر آپ کہیں: وہ بادشاہ جو کہ عادل ہے، دوسرا کہے گا: ہاں اس کو کیا ہوا؟ بات تو پوری کریں۔ لیکن آپ نے کیا کہا: بادشاہ عادل ہے، بات پوری ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن ابھی بھی ایک کمی ہے۔ آپ نے ترجمہ کیا: بادشاہ عادل ہے، حالانکہ ”اَلسُّلْطَانُ“ الف لام آیا، اور الف لام کسی لفظ پہ داخل ہو اسے کیا بنا دیتا ہے؟ معرفہ، اور معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین ذات پر دلالت کرتا ہے، جس کی پہچان ہوتی ہے۔ تو اس کا ترجمہ پھر "وہ" ساتھ ملائیں گے: وہ بادشاہ، کسی معین بادشاہ کی طرف اشارہ ہوا، وہ بادشاہ عادل ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”اَلْجَبَلُ“، ہاں لفظ بولو کس کی بات کر رہے ہو؟ ”اَلْجَبَلُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا۔ مرفوع کیوں کہا؟ مبتدا ہے، اور مبتدا مرفوع ہوا کرتا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھائیے: ”اَلْجَبَلُ“، شاباش۔ تو یہ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مبتدا ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس دو اسم ہیں اور ان دونوں سے مل کر بات پوری ہو رہی ہے، اور ان میں سے ایک معرفہ ہے اور ایک نکرہ ہے تو معرفہ کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا، اور نکرہ کو کیا بنائیں گے؟ خبر۔ جی آگے: ”عَظِيمٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ خبر۔ مرفوع کیوں؟ خبر، شاباش، خبر پر رفع آتا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھائیے: ”عَظِيمٌ“۔ نصب پہ ذرا تلفظ کرو: ”عَظِيمًا“۔ جر پہ کیجیے: ”عَظِيمٍ“، شاباش، معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کے اعراب ”لَفْظًا“ آتے ہیں: رفع بھی، نصب بھی اور جر بھی۔ اور ”عَظِيمٌ“ بھئی آپ نے کہا مرفوع ”لَفْظًا“ خبر، بھئی ”عَظِيمٌ“ بر وزنِ شریف ہے، شریف، اور شریف کیا ہے؟ صفتِ مشبہ ہے، صفتِ مشبہ۔ یہ صفتِ مشبہ کا سب سے مشہور وزن یہی ہے، تو شریف، فعیل وزن آ جائے آپ فوراً سمجھ جایا کریں یہ صفتِ مشبہ ہے، اور صفتِ مشبہ تو صفت کا صیغہ ہے اور صفت کے صیغے کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، تو لہٰذا وہ بھی نکالیں بھئی۔ ”عَظِيمٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفتِ مشبہ۔ آگے: ”هِيَ“ کیوں؟ ”هُوَ“ ضمیر، ہاں، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کا فاعل، جی۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ ”مَحَلًّا“ کیوں کہا؟ ضمیر ہے، شاباش، ضمیر ہے۔ اچھا، مرفوع ”مَحَلًّا“ فاعل، صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر، شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ایک ایک لفظ کا اعراب پتہ چل گیا، روانی سے پڑھو: ”اَلْجَبَلُ عَظِيمٌ“۔ ترجمہ کیجیے: وہ پہاڑ بڑا ہے، وہ پہاڑ بڑا ہے، شاباش، دیکھا۔ وہ پہاڑ، دیکھا، ”اَلْجَبَلُ“ آیا نا کسی معین پہاڑ کی طرف اشارہ ہے، وہ مراد ہے، تو ”اَلْجَبَلُ“ وہ پہاڑ ”عَظِيمٌ“ بڑا ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، بس کریں، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔