Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 50
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أَمَّا الْجَمْعُ: فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَى صِيغَةِ مُنْتَهَى الْجُمُوعِ، وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ أَلِفِ الْجَمْعِ حَرْفَانِ كَمَسَاجِدَ، أَوْ حَرْفٌ مُشَدَّدٌ مِثْلُ دَوَابَّ، أَوْ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ أَوْسَطُهَا سَاكِنٌ غَيْرُ قَابِلٍ لِلْهَاءِ كَمَصَابِيحَ، فَصَيَاقِلَةٌ وَفَرَازِنَةٌ مُنْصَرِفٌ لِقَبُولِهِمَا الْهَاءَ، وَهُوَ أَيْضًا قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ: الْجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَا. أَمَّا التَّرْكِيبُ: فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا بِلَا إِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ كَبَعْلَبَكَّ، فَعَبْدُ اللَّهِ مُنْصَرِفٌ، وَمَعْدِي كَرِبَ غَيْرُ مُنْصَرِفٍ، وَشَابَ قَرْنَاهَا مَبْنِيٌّ. أَمَّا الْأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ: إِنْ كَانَتَا فِي اسْمٍ فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا كَعِمْرَانَ وَعُثْمَانَ، فَسَعْدَانٌ اسْمُ نَبْتٍ مُنْصَرِفٌ لِعَدَمِ الْعَلَمِيَّةِ، وَإِنْ كَانَتَا فِي صِفَةٍ فَشَرْطُهُ أَنْ لَا يَكُونَ مُؤَنَّثُهُ عَلَى فَعْلَانَةَ كَسَكْرَانَ، فَنَدْمَانٌ مُنْصَرِفٌ لِوُجُودِ نَدْمَانَةٍ. اسبابِ منعِ صرف بیان ہو رہے ہیں، سب سے پہلے انہوں نے عدل کے بارے میں بتلایا، پھر وصف کے بارے میں بتلایا، اور اس کے بعد تانیث، معرفہ اور عجمہ کا بیان ہوا بھئی۔ آج ہم جمع کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا اسبابِ منعِ صرف میں سے ایک کیا ہے؟ ایک سبب جمع ہے۔ کہتے ہیں: أَمَّا الْجَمْعُ تو باقی جمع جو ہے: فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَى صِيغَةِ مُنْتَهَى الْجُمُوعِ، تو اس کی شرط یہ ہے کہ وہ منتہی الجموع کے صیغہ پر ہو۔ منتہی الجموع کے صیغہ پر ہو یعنی جمع کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ جمع منتہی الجموع کے صیغے پر ہو بھئی۔ بھئی منتہی الجموع کسے کہتے ہیں؟ خود بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں: وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ أَلِفِ الْجَمْعِ حَرْفَانِ، اور وہ یہ کہ الفِ جمع کے بعد دو حرف آئیں بھئی، كَمَسَاجِدَ جیسے مساجد بھئی۔ دیکھیے یہ مساجد کس کی جمع ہے؟ مسجد کی، مسجد کی۔ تو مسجد کی جمع ہے، تو مسجد میں دیکھیے میم کے بعد سین ہے اور سین کے بعد جیم ہے، جیم ہے، اور پھر کیا کیا گیا؟ اس سین کے بعد الف کا اضافہ کر دیا گیا۔ تو یہ جمع کے اندر الف کا اضافہ کیا جا رہا ہے تو یہ الفِ جمع ہے بھئی۔ کس کے لیے الف لے کر آئے ہیں ہم؟ جمع کے لیے۔ تو یہ الفِ جمع ہے، اور انہوں نے کیا کہا کہ الفِ جمع کے بعد کتنے حروف آنے چاہئیں؟ دو حروف، تو مساجد دیکھو الفِ جمع کے بعد جیم بھی ہے اور دال بھی ہے، دو حروف آ گئے۔ تو یہ منتہی الجموع کا صیغہ ہے بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ آپ کو آگے چل کر بتائیں گے کہ یہ جو جمع ہے یہ خود دو سببوں کے قائم مقام ہے بھئی، لہٰذا جب یہ آ جائے تو پھر وہ لفظ یہ سبب آ جائے تو پھر وہ لفظ غیر منصرف ہوگا بھئی، یعنی پھر وہاں دوسرا سبب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سبب خود کیا ہے؟ دو سببوں کے قائم مقام ہے بھئی۔ اسی لیے كَمَسَاجِدَ اس پر کاف جارہ داخل ہے، اور اس کے باوجود اس پر کسرہ بھی نہیں آ رہا اور تنوین بھی نہیں آ رہی بلکہ كَمَسَاجِدَ۔ تو کہتے ہیں منتہی الجموع وہ ہے صیغہ کہ اس کے میں الفِ جمع کے بعد کتنے حروف آئیں؟ دو حروف آئیں جیسے کہ مساجد۔ أَوْ حَرْفٌ مُشَدَّدٌ مِثْلُ دَوَابَّ، یا الفِ جمع کے بعد کوئی حرفِ مشدد آ جائے جیسے دَوَابَّ۔ اب یہاں پر دیکھیے دَوَابَّ الفِ جمع کے بعد با مشدد آ رہی ہے، تو یہ حرفِ مشدد بھی دراصل کتنے حروف ہوتے ہیں؟ دو حروف ہوتے ہیں۔ تو یہ دو حروف ہوتے ہیں، تو اس کو مصنف نے صراحتاً ذکر کر دیا کہ حرفِ مشدد آ جائے الف کے بعد تو یہ بھی کیا ہے؟ منتہی الجموع کا صیغہ ہے اور یہ دراصل دو حروف ہی ہیں بھئی۔ تو مِثْلُ دَوَابَّ دیکھیے اس پر بھی کسرہ بھی نہیں آیا اور تنوین بھی نہیں آئی۔ أَوْ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ أَوْسَطُهَا سَاكِنٌ، یا الفِ جمع کے بعد تین ایسے حروف ہوں أَوْسَطُهَا سَاكِنٌ کہ ان کا درمیان ساکن ہو۔ الفِ جمع کے بعد کتنے حروف آئیں؟ تین حروف، لیکن ان تین میں سے جو درمیان والا ہو وہ ساکن ہو، غَيْرَ قَابِلٍ لِلْهَاءِ، اس حال میں کہ وہ جمع جو ہے غیر قابل للھاء، ہا کو قبول کرنے والی نہ ہو۔ قابل: قبول کرنے والا، غیر قابل للھاء وہ ہا کو قبول کرنے والی نہ ہو بھئی، وہ نہ ہو۔ كَمَصَابِيحَ جیسے مصابیح، یہ جمع ہے مصباح کی، جیسے اوپر دَوَابُّ جمع تھی دَابَّةٌ کی بھئی، تو مصابیح جمع ہے مصباح کی اور مصباح چراغ کو کہتے ہیں۔ اور دَابَّةٌ زمین پر چلنے والی ہر چیز جو ہے دابہ بھئی، اور بعد میں یہ چوپایوں کے ساتھ خاص ہو گیا۔ تو جیسے مصابیح بھئی، اس میں دیکھیے یہ جمع ہے مصباح کی، درمیان میں الفِ جمع لے کر آئے اور الفِ جمع کے بعد کتنے حروف ہیں؟ تین حروف ہیں: با، یا اور حا، اور ان تین میں سے جو درمیان والا ہے یعنی یا وہ ساکن ہے بھئی، ساکن ہے۔ اور نیز ایک شرط انہوں نے اور بھی ذکر کر دی کہ وہ ہا کو قبول نہ کرے بھئی، ہا کو قبول نہ کرے۔ یاد رکھیے ہا سے مراد گول تا ہے، گول تا جو حالتِ وقف میں ہا بن جاتی ہے، جیسے قَائِمَةٌ، اسی کو وقف کریں اس پر کیا بنے گا؟ قَائِمَهْ، تو دیکھو یہ گول تا کس سے بدل گئی وقف کی صورت میں؟ ہا کے ساتھ بدل گئی، تو یہ وہ ہا مراد ہے یعنی وہ گول تا بھئی۔ تو گویا یوں کہیں جمع کی شرط کیا ہوئی کہ کون سا صیغہ ہونا چاہیے؟ منتہی الجموع کا صیغہ ہونا چاہیے، اور منتہی الجموع کا صیغہ کیا ہے کہ الفِ جمع کے بعد دو حرف ہوں، یا حرفِ مشدد ہو، یا تین حرف ہوں جن میں درمیان والا ساکن ہو، اور ایک اور شرط بھی ذکر کر دی کہ وہ ہا کو قبول نہ کرتا ہو بھئی۔ وہ جو وزن آیا ہے اس وہ ہا کو قبول نہ کرتا ہو، اگر اس کے ساتھ وہ تھا یعنی گول تا، گول تا اگر وہ جڑ جاتی ہے کسی صورت میں تو پھر اس صورت میں وہ غیر منصرف نہیں رہے گا بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ پھر وہ غیر منصرف نہیں رہے گا۔ اس لیے کیونکہ آخر میں اگر تا جڑ جائے تو پھر یہ مفرد کے ساتھ اس کی مشابہت ہو جاتی ہے، کیونکہ آخر میں یہ جو تا آئی تو یہ تا کس لیے آیا کرتی ہے؟ مفرد کے مفرد کے اوزان میں یہ گول تا آیا کرتی ہے، تو اگر اس صیغے کے آخر میں کیا جڑ جاتی ہو؟ تا جڑ جاتی ہو تو اس کی مشابہت کس کے ساتھ ہوئی؟ مفرد کے ساتھ، اور یہ تو تھی جمع اور مشابہت آ گئی مفرد کے ساتھ، تو اس لیے اب وہ جمع جو ہے اپنا اثر نہیں دکھائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ غَيْرَ قَابِلٍ لِلْهَاءِ اس حال میں کہ وہ جمع ہا کے قابل نہ ہو، وہ جمع ہا کے قابل نہ ہو۔ یاد رکھیے یہ غَيْرَ قَابِلٍ لِلْهَاءِ یہ حال ہے جمع سے، کس سے؟ ہاں یہ جو يَكُونَ پیچھے آیا تھا: فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَى صِيغَةِ مُنْتَهَى الْجُمُوعِ، تو اس جمع کی شرط یہ ہے کہ أَنْ يَكُونَ کہ وہ جمع جو ہے، يَكُونَ کے اندر ضمیر ہے جو کس کو راجع؟ جمع کو، کہ وہ جمع جو ہے عَلَى صِيغَةِ مُنْتَهَى الْجُمُوعِ کس صیغہ پر ہو؟ منتہی الجموع کے صیغہ پر ہو، اس حال میں غَيْرَ قَابِلٍ لِلْهَاءِ کہ وہ جمع ہا کو قبول کرنے والی نہ ہو۔ تو یہ حال ہے کس سے؟ يَكُونَ کے اندر ھُوَ ضمیر جو کس کو راجع؟ جمع کو راجع۔ تو گویا یہ دو شرطیں ذکر کر دیں: ایک تو یہ کہ وہ جمع کس صیغے پر ہو؟ منتہی الجموع، اور نیز دوسری شرط گویا یہ ہو گئی کہ وہ جمع ہا کو قبول کرنے والی نہ ہو، تو دو شرطیں ہو گئیں۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ جمع جو ہے وہ بھی غیر انصراف کا سبب ہے اور دو سببوں کے قائم مقام ہے، دو سببوں کے قائم مقام، لیکن اس کی شرط انہوں نے یہ ذکر کی کہ منتہی الجموع کا صیغہ ہو اس حال میں کہ وہ ہا کو قبول نہ کرتا ہو، گویا دو شرطیں ذکر کر دیں: ایک شرط تو یہ کہ وہ صیغہ کون سا ہونا چاہیے؟ منتہی الجموع والا، اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس ہا کو بھی قبول نہ کی کر قبول کرنے والا نہ ہو یعنی ہا سے کیا مراد ہے؟ وہ تائے تانیث مراد ہے تا جو وقف کی صورت میں کیا بن جاتی ہے؟ ہا بن جاتی ہے۔ تو دوسری شرط یہ ہو گئی کہ وہ ہا کو بھی قبول کرنے والی نہ وہ جمع ہا کو بھی قبول نہ کرے بھئی۔ وجہ اس کی یہ کیونکہ یہ جو ہا جو ہے آخر میں آ جائے یعنی آخر میں تائے تانیث آ جائے تو اس صورت میں یہ تائے تانیث مفرد میں آیا کرتی ہے۔ یہ تائے تانیث کس میں آتی ہے؟ مفرد، اور مفرد اور جمع تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، جو مفرد ہے وہ جمع نہیں، جو جمع ہے وہ مفرد نہیں۔ تو یہاں سبب بن رہا تھا جمع، اور وہ جمع جب اس میں تائے تانیث آ گئی تو اس کی مشابہت مفرد کے ساتھ ہو گئی، تو جمع والی جانب کمزور ہو گئی، جب جمع والی جانب کمزور ہو گئی اب یہ غیر انصراف کا سبب نہیں بنے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایک لفظ تھا کس وزن پر آ رہا ہے؟ منتہی الجموع کے وزن پر، تو لہٰذا اب یہ غیر منصرف ہوگا، لیکن اگر یہ تا کو قبول کر لیتا ہے تو اس نے تو کس جیسے کس کی مشابہت اختیار کر لی؟ مفرد کی مشابہت اختیار کر لی، تو کون سی جانب کمزور ہوئی؟ جمع والی جانب کمزور ہو گئی، اور جمع ہی نے تو کیا بننا تھا؟ غیر انصراف کا سبب، جب وہ جانب کمزور ہو گئی تو اب یہ غیر انصراف کا سبب نہیں بنے گی بلکہ وہ لفظ کیا رہے گا؟ منصرف رہے گا، وجہ اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فَصَيَاقِلَةٌ وَفَرَازِنَةٌ مُنْصَرِفٌ، تو صَیَاقِلَہ اور فَرازِنَہ کا لفظ دیکھو منصرف ہے، صیاقلہ اور فرازنہ کا لفظ منصرف ہے، لِقَبُولِهِمَا الْهَاءَ اس وجہ سے کہ یہ دونوں کس کو قبول کر لیتے ہیں؟ ہا کو قبول کر لیتے ہیں، ہا کو قبول کر لیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَصَيَاقِلَةٌ وَفَرَازِنَةٌ مُنْصَرِفٌ لِقَبُولِهِمَا الْهَاءَ، تو صیاقلہ اور فرازنہ کا لفظ جو ہے منصرف ہے اس وجہ سے کہ یہ دونوں قبول کر لیتے ہیں ہا کو۔ وَهُوَ أَيْضًا قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ اور یہ جمع جو ہے یہ بھی دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ میں نے تو آپ کو پہلے بتایا تھا لیکن مصنف نے تو ابھی آپ کو نہیں بتایا تھا کہ یہ جمع کیا ہے؟ دو سببوں کے قائم مقام ہے، وہ اب بیان کر دیا۔ کہتے ہیں: وَهُوَ أَيْضًا قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ اور یہ جمع بھی دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ وہ دو سبب کیا ہیں؟ تانیث میں پڑھا تھا: تانیث دو سببوں کے قائم مقام ہے: ایک تانیث اور ایک لزومِ تانیث بھئی، یہاں بھی اسی طرح ہے: الْجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَا، ایک جمع ہونا اور ایک یوں کہو جمعیت اور ایک لزومِ جمعیت کہ جمع اس کے ساتھ لازم ہے۔ بھئی دیکھیے اردو میں تو ایسا ہوتا ہے ایک لفظ ہے اس کی ایک آگے جمع آ جاتی ہے یا دو قسم کی جمعیں آ جائیں گی، لیکن عربی میں ایسا دیکھیں گے آپ کہ ایک لفظ کی ایک جمع آ جاتی ہے، پھر آگے اس جمع کی جمع آ جاتی ہے، پھر آگے اس جمع کی آگے کیا آ جاتی ہے؟ جمع آ جاتی ہے، تو بعض اوقات یہ سلسلہ دو تین تک چلا جاتا ہے اور جمع کی جمع اور پھر جمع کی جمع آگے آتی چلی جاتی ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہ جو منتہی الجموع کا صیغہ ہے، منتہی الجموع کا صیغہ یہ جو ابھی ذکر کیا: الفِ جمع کے بعد دو حرف ہوں یا ایک حرفِ مشدد ہو یا تین حروف ہوں جن کا درمیان والا حرف ساکن ہو، یہ جو ہے یہ عموماً جو ہے دوسرے درجے میں آتی ہے، کس درجے میں آتی ہے؟ دوسرے درجے میں آ جاتی ہے، کبھی پہلے میں بھی آ جاتی ہے لیکن عموماً کہاں آتی ہے؟ دوسرے درجے میں اتی ہے: پہلے ایک لفظ کی ایک جمع آئے گی اور پھر اگلی جمع کیا آ جائے گی؟ جمع منتہی الجموع آ جائے گی۔ اور دیکھیے بھئی ایک لفظ کی جب جمع اتی ہے تو اپ خود دیکھتے ہیں اس کی اس کا صیغہ بدل جاتا ہے، مفرد کا وزن ٹوٹ جاتا ہے۔ مفرد کا وزن اپ نے پڑھا ہی نہیں: ایک جمع سالم ہے ایک جمع مکسر ہے، جمع سالم جس کے اندر مفرد کا وزن سلامت رہتا ہے اور جمع مکسر جس کے اندر مفرد کا وزن ٹوٹ جاتا ہے، جیسے رَجُلٌ کی جمع رِجَالٌ، رجل میں دیکھو را پر زبر ہے رجال میں را کے نیچے زیر ہے، دیکھو معلوم ہوا وزن خراب ہو گیا وزن بدل گیا ٹوٹ گیا بھئی، اور رجل میں جیم پر پیش ہے رجال میں جیم پر زبر ہے، اور رجل میں جیم کے بعد لام ہے اور رجال میں جیم کے بعد الف ایا الفِ جمع ا گیا، صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو دیکھو ایک لفظ کی میں نے بتایا یہ منتہی الجموع جو ہے یہ پہلے درجے میں بھی ا جاتی ہے لیکن عموماً کس درجے میں اتی ہے؟ دوسرے درجے میں اتی ہے بھئی، دوسرے درجے میں اتی ہے۔ مثلاً ایک مفرد تھا اس کی جمع ائی، جب جمع ائی تو مفرد کا وزن کیا ہوا؟ ٹوٹ گیا، پھر اس جمع کی اگے جمع ائی تو اس میں اس جمع کا وزن ٹوٹ جائے گا۔ اب کس کی جمع ا رہی ہے؟ جمع کی جمع، تو اس پہلی جمع کا وزن اگلی جمع میں کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا۔ پھر مثلاً اس جمع کی اگے جمع اتی ہے تو اس دوسری جمع کا وزن اس تیسری جمع میں جا کر ٹوٹ جائے گا، صورت سمجھ میں ا رہی ہے؟ تو وزن اس طرح ٹوٹتا چلا جائے گا یعنی بدلتا جائے گا نیا نیا وزن اتا جائے گا۔ لیکن یہ جو جمع منتہی الجموع کا صیغہ ہے یہ جب ایک دفعہ ا جائے تو اس سے اگے پھر جمع کا وزن ٹوٹتا نہیں۔ اس سے اگے پھر جمع کا وزن نہیں ٹوٹے گا، اسی کی اگے جمع سالم ا جائے گی، کیا ا جائے گی؟ اور جمع سالم میں تو وزن نہیں ٹوٹتا، اور ہم تو بات کس کی کر رہے ہیں کہ وزن ٹوٹے، تو لہٰذا اس کو منتہی الجموع کہتے ہیں جس پر جمعوں کی انتہا ہو رہی ہے، منتہیٰ جہاں پر انتہا ہو رہی ہے۔ تو منتہی الجموع وہ جس پر جمعوں کی انتہا ہو رہی ہے، کیا معنی انتہا ہو رہی ہے؟ یعنی اس سے اگے کوئی نیا وزن نہیں ائے گا، یہ ٹوٹے گا نہیں یہ وزن، اسی سے اگے جمع سلامت تو ا سکتی ہے لیکن جمع مکسر اگے چاہے یہ پہلے درجے پہ ا جائے اگے پھر وزن نہیں ٹوٹے گا اگے جمع سالم ا سکتی ہے جمع مکسر نہیں، چاہے دوسرے نمبر پر ا جائے اگے جمع سالم ا سکتی ہے جمع مکسر نہیں ا سکتی، بات سمجھ میں ا گئی؟ لہٰذا معلوم ہوا کہ جمع منتہی الجموع جو ہے اس کا وزن پھر دوبارہ ٹوٹتا نہیں، ٹوٹتا، گویا اس کی اگے جمع تکسیر نہیں ا سکتی، جمع سالم ا سکتی ہے جمع تکسیر نہیں ا سکتی۔ یہاں تک بات سمجھ میں ا گئی؟ اب اس مقام کو سمجھو بھئی، یہ مشکل مقام ہے کوئی بھی اپ سے سوال پوچھ سکتا ہے اپ پر اعتراض کر سکتا ہے اپ کے ذہن میں جواب ہونا چاہیے: انہوں نے کہا: وَهُوَ أَيْضًا قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ، یہ جو جمع ہے یہ جو منتہی الجموع والی یہ بھی کیا ہے؟ دو سببوں کے قائم مقام، بھئی وہ دو سبب کیا ہیں؟ کہتے ہیں: الْجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَا، وَامْتِنَاعُ أَنْ يُجْمَعَ مَرَّةً أُخْرَى، ایک تو جمعیت اور ایک لزومِ جمعیت، اور ایک ممتنع ہونا اس بات کا کہ أَنْ يُجْمَعَ مَرَّةً أُخْرَى یعنی یہ ممتنع ہے یہ ممتنع یعنی ناممکن ہے کہہ لیں یا منع ہے کہ أَنْ يُجْمَعَ مَرَّةً أُخْرَى کہ پھر ایک مرتبہ اس کی جمع لائی جائے، کون سی جمع؟ جمع التکسیر، جمعِ تکسیر، معلوم ہوا اگے اس کا جمع تکسیر انا ممتنع ہے پھر جمع تکسیر اگے نہیں ائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے انہوں نے ہمیں کہا کہ یہ منتہی الجموع کا جو صیغہ ہے ایا اور یہ والی جو جمع ہے یہ خود دو سببوں کے قائم مقام، وہ دو سبب کیا ہیں؟ اگے دو سبب بیان کرنے چاہئیں، انہوں نے تین بیان کر دیے! اعتراض سمجھ میں ایا؟ یہ کس کے قائم مقام ہے؟ دو سببوں کے، تو کتنے سبب اگے ذکر ہونے چاہئیں؟ دو، انہوں نے تین ذکر کر دیے: الْجَمْعِيَّةُ: ایک، وَلُزُومُهَا: دو، وَامْتِنَاعُ أَنْ يُجْمَعَ مَرَّةً أُخْرَى جَمْعَ التَّكْسِيرِ: یہ تیسرا، تین بیان کر دیے! اشکال سمجھ میں ایا؟ تو کوئی بھی اپ سے یہ اشکال کر سکتا ہے اپ پر اعتراض کر سکتا ہے کہ انہوں نے تو دو سبب کہے یہ تین کیسے بیان کر رہے ہیں؟ تو یاد رکھنا یہ جو لُزُومُهَا کے بعد وَامْتِنَاعُ ا رہا ہے یہ عطفِ تفسیری ہے، یہ کیا ہے؟ یہ لُزُومُهَا کے لیے عطفِ تفسیری ہے۔ عطفِ تفسیری یاد رکھیے اس کو کہتے ہیں جس میں اگے انے والا معطوف، جو پہلے اتا ہے اس کو کہتے ہیں معطوف علیہ، اس پر عطف کیا جا رہا ہے، اور بعد والے کو کہتے ہیں معطوف، تو یہاں پر امتناع کا عطف ہے لزوم پر، تو لُزُومُهَا ہوا معطوف علیہ اور امتناع کیا ہوا؟ معطوف۔ تو عطفِ تفسیری اس کو کہتے ہیں جس میں معطوف جو ہوتا ہے معطوف کون سا ہے؟ امتناع، معطوف وہ تفسیر بیان کرتا ہے معطوف علیہ کی، یعنی اسی کا معنی بیان کرتا ہے، اسی کی تفسیر کرتا ہے یعنی اسی کا معنی بیان کرتا ہے۔ وہ کوئی الگ چیز نہیں ہوتی اسی معطوف علیہ کا معنی ذکر کیا جاتا ہے لیکن کس صورت میں؟ عطف کی صورت میں، کس صورت میں؟ عطف کی صورت میں ذکر کر دیا جاتا ہے۔ تو یہ وَامْتِنَاعُ أَنْ يُجْمَعَ مَرَّةً أُخْرَى جَمْعَ التَّكْسِيرِ یہ تفسیر ہے، یہ معنی ذکر ہو بیان ہو رہا ہے کس کا؟ لُزُومُهَا کا، کس کا؟ تو یہ الگ چیز ہے ہی نہیں اسی لزوم کا معنی بیان ہوا، تو چیزیں وہی دو ہیں: الْجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَا، سبب وہی دو ہیں بھئی: ایک جمعیت اور ایک لزومِ جمعیت۔ لزومِ جمعیت کا معنی بیان کر دیا، کیا معنی جمعیت لازم ہے اس کے ساتھ؟ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ جو جمع ا گئی، کون سی جمع ائی ہے ابھی؟ یہ جو ابھی جمع ا گئی کون سی جمع؟ منتہی الجموع، یہ والی جو جمع ا گئی یہ اب اس کے ساتھ لازم ہو گئی، اگے پھر یہ ٹوٹ کر نیا وزن نہیں ائے گا۔ تو دیکھو ایک ہی بات ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ اس جمع کے لازم ہونے کا کیا معنی؟ بھئی ایک لفظ تھا اس کی ایک جمع ائی پھر دوسری جمع ائی پھر تیسری جمع ا گئی، مثلاً یہ منتہی الجموع ا گئی تیسرے درجے میں، تو یہ جمعیت اس لفظ کے ساتھ اب لازم ہے یعنی یہ وزن اب اس لفظ کے ساتھ لازم ہو گیا جو تیسرے نمبر پر ایا، اب دوبارہ یہ وزن ٹوٹ کر نیا وزن نہیں، جب نیا وزن نہیں ائے گا معلوم ہوا یہ وزن اس کے ساتھ اب لازم ہو گیا، معنی سمجھ میں ا گیا؟ یہ معنی ہے لُزُومُهَا کا کہ جمعیت اس کے ساتھ لازم ہے، کیا معنی کہ یہ جمعیت اس کے ساتھ لازم ہے اور یہ بات ممتنع ہے کہ ایک مرتبہ پھر اس کی اگے جمع تکسیر لائی جائے یعنی جمع مکسر لائی جائے۔ یہ جگہ اچھی طرح سمجھ میں ا گئی کہ امتناع ان یجمع مرۃ اخری جمع التکسیر یہ کیا ہے؟ عطفِ تفسیری ہے، کس کے لیے؟ لزومھا کے لیے۔ کیا معنی عطفِ تفسیری؟ کہ یہ معطوف کیا کر رہا ہے؟ اسی معطوف علیہ کا معنی بیان کر رہا ہے، اسی کی تفسیر بیان کر رہا ہے اور اس عطف کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری۔ تو کہتے ہیں یہ جمع بھی دو سببوں کے قائم مقام ہے: الجمعیۃ ولزومھا، ایک جمع ہونا اور ایک لزومِ جمعیت، اور لزومِ جمعیت کیا ہے کہتے ہیں: وامتناع ان یجمع مرۃ اخری جمع التکسیر، وہ ممتنع ہونا ہے اس بات کا کہ ایک مرتبہ پھر اس کی جمع تکسیر لائی جائے، فَكَأَنَّهُ جُمِعَ مَرَّتَيْنِ تو گویا یہ اسی طرح ہے کہ اس کی جمع لائی گئی ہو دو مرتبہ، اس کی جمع لائی گئی ہو دو مرتبہ۔ بھئی میں نے اپ کو بتایا یہ جمع منتہی الجموع کا صیغہ عموماً دوسرے درجے میں اتا ہے، کبھی پہلے میں بھی ا جاتا ہے کبھی تیسرے میں بھی ا جائے گا لیکن عموماً کس میں ائے گا؟ دوسرے درجے میں ائے گا، معلوم ہوا لفظ کی پہلے ایک جمع ائے گی پھر اس کا اس جمع سے اگے دوسرا وزن جمع کا کیا ائے گا؟ جمع منتہی الجموع کا وزن ائے گا، تو یہ کس درجے میں اتی ہے؟ دوسرے درجے میں اتی ہے، تو جب دوسرے درجے میں ا رہی ہے تو یہ عموماً اتی دوسرے درجے میں ہے، کس میں ہے؟ جب دوسرے درجے میں ائی تو گویا کہ دو مرتبہ جمع کیا گیا لفظ کو: پہلے مفرد تھا ایک جمع ا گئی، تو ایک مرتبہ جمع ا گئی یا نہیں ا گئی؟ پھر دوبارہ جمع کے اگے جمع ائی وہ جمع منتہی الجموع ا گئی، تو کتنے درجے میں ائی؟ دوسرے، گویا لفظ کو کتنی دفعہ جمع کیا گیا؟ دو مرتبہ، جب دو مرتبہ جمع کیا گیا تو گویا ایک مرتبہ جمع وہ ایک سبب بن گئی اور دوسری مرتبہ جمع دوسرا سبب بن گئی، صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: فَكَأَنَّهُ جُمِعَ مَرَّتَيْنِ، تو گویا کہ اس کو جمع کیا گیا ہے مَرَّتَيْنِ کتنی مرتبہ؟ دو مرتبہ۔ اور میں نے بتایا یہ ضروری نہیں ہے دوسرے ہی درجے میں یہ جمع ائے، پہلے میں بھی ا جاتی ہے لیکن عموماً کس درجے میں اتی ہے؟ دوسرے درجے میں اتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں ا گئی؟ معلوم ہوا جمع سبب بنے گی غیر منصرف ہونے کا، اور اس کی شرط کیا ہے کہ صیغہ کون سا ہو؟ منتہی الجموع والا، اور نیز وہ ہا کو قبول نہ کرے کیونکہ اگر ہا کو قبول کرے گا تو اس کی مشابہت کس کے ساتھ ہو گئی؟ مفرد کے ساتھ، اور حالانکہ یہ تو جمع ہے اس نے سبب بننا ہے، جب اس کی مفرد کے ساتھ مشابہت ا جائے گی تو پھر وہ جمع والی جانب اس کی کیا ہو جائے گی؟ کمزور ہو جائے گی تو پھر یہ اثر نہیں دکھائے گی اپنا اور وہ لفظ غیر منصرف نہیں ہوگا۔ تو دو شرطیں ہو گئیں: ایک تو یہ کہ صیغہ کون سا ہو منتہی الجموع، اور نیز دوسری شرط کیا کہ وہ ہا کو قبول نہ کرتا ہو۔ اگلا سبب دیکھیے، کہتے ہیں: أَمَّا التَّرْكِيبُ، اگلا سبب ا گیا ترکیب بھئی۔ ترکیب کا معنی ہے جوڑنا: رَكَّبَ يُرَكِّبُ تَرْكِيبًا، اور ترکیب اسے کہتے ہیں کہ دو لفظوں کو جوڑ کر ایک بنا لیا جائے، دو لفظوں کو جوڑ کر ایک بنا لیا جائے۔ جیسے اگے مثال ائے گی: بَعْلَبَكَّ: بعل یہ بت کا نام تھا اور بکا ایک ادمی کا نام تھا، لیکن ان پھر ان دونوں کو جوڑ کر ایک نام بنا لیا گیا، اور جس علاقے میں یہ تھا اس شہر کی اس نے ایک شہر کی اس نے بنیاد رکھی ایک بستی کی، تو اس بستی کا نام ہی بعلبک پڑ گیا، کیا نام پڑ گیا؟ بعلبک۔ تو دیکھو بعلبک میں دو لفظوں کو جوڑ کر ایک لفظ بنا لیا گیا، تو یہ ہے ترکیب بھئی، ترکیب۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا التَّرْكِيبُ فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا، باقی ترکیب جو ہے فَشَرْطُهُ تو اس کی شرط یہ ہے أَنْ يَكُونَ عَلَمًا کہ علم ہونا چاہیے، وہ جو دو لفظوں کو جوڑ کر ملایا گیا ہے ان لفظ اب اس کو کیا ہونا چاہیے؟ اس مرکب کو علم ہونا چاہیے، بِلَا إِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ بغیر اضافت کے اور بغیر اسناد کے، یعنی دیکھیے بھئی یہ دو لفظوں کو جوڑ کر ملایا ہے اور جوڑ کر کسی کا نام رکھا گیا ہے، نام رکھا گیا ہے، لیکن یہ جو دو لفظوں کو جوڑا گیا ان دو لفظوں کے درمیان اضافت نہ ہو کہ پہلا لفظ مضاف بن رہا ہو اور دوسرا مضاف الیہ، ایسا نہیں ہونا چاہیے: بِلَا إِضَافَةٍ بغیر اضافت کے ہو، وَلَا إِسْنَادٍ اور ان دونوں میں اسناد بھی نہ ہو یعنی یہ پورا جملہ بھی نہ ہو کیونکہ اسناد ہو جہاں ا جاتی ہے وہ کیا ہوتا ہے پورا جملہ: زَيْدٌ قَائِمٌ دیکھو قائم کا اسناد ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف، تو کیونکہ پھر یہ جملہ بن جائے گا۔ تو اب ترکیب کی کیا شرط انہوں نے بیان کی کہ وہ مضاف کہ وہ علم ہو کہ وہ کیا ہو؟ علم ہو اور بغیر اضافت اور بغیر اسناد کے۔ سوال یہ ان دونوں کی نفی کیوں کی؟ اضافت بھی نہیں ہونی چاہیے، اسناد بھی نہیں ہونا چاہیے، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں وجہ اس کی یہ بھئی اس لیے کیونکہ اضافت اپ کو میں نے پہلے بھی بتلایا تھا کہ یہ غیر منصرف پر بھی الف لام داخل ہو جائے تو وہ کس کے حکم میں ہو جاتا ہے؟ منصرف یعنی اس پر کسرہ ا جاتا ہے، تنوین تو نہیں ا سکتی کیونکہ مضاف پر تنوین داخل نہیں ہوتی اور الف لام کے ساتھ بھی تنوین جمع نہیں ہوتی، اور نیز اسی طرح اگر غیر منصرف مضاف بن جائے اس کی اضافت کر دی جائے اگے کسی لفظ کی طرف تو اس صورت میں بھی یہ منصرف کے حکم میں ہو جاتا ہے یعنی اس پر پھر کسرہ ا جاتا ہے، تو معلوم تو اسی لیے انہوں نے کہا کہ ان دو لفظوں میں اضافت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اضافت تو غیر انصراف کے منافی ہے، اضافت جب ا جائے گی پھر تو وہ کس کے حکم میں ہو جاتا ہے؟ منصرف، اسی لیے کہا وہ دو لفظ جن کو جوڑا گیا ہے ان کے درمیان اضافت نہ ہو، اور نیز کہا اسناد بھی نہ ہو، وجہ اس کی یہ کہ جب اسناد ا جائے گی تو معلوم ہوا یہ پورا جملہ ہے اور جملہ یاد رکھیے مبنی ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ مبنی، حتیٰ کہ بعض علماء نے تو فرمایا کہ جملہ مبنی الاصل ہے۔ جملہ کیا ہے؟ اپ نے پڑھا تھا مبنی الاصل کتنی چیزیں ہیں؟ تمام حروف ہیں اور فعلِ ماضی ہے اور فعلِ امر حاضر ہے: تمام حروف، فعلِ ماضی اور فعلِ امر حاضر بھئی۔ اپ نے پڑھا یہ مبنی الاصل ہیں، لیکن بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ جملہ بھی کیا ہے؟ مبنی الاصل۔ تو لہٰذا یہ کہتے ہیں کہ اسناد بھی نہ ہو اس مرکب کے درمیان اس لیے کیونکہ اگر اس میں اسناد ہوئی تو وہ تو جملہ ہوگا اور جب جملہ ہوگا تو پھر وہ کیا ہوگا؟ مبنی، اور ہماری بحث تو معرب کے اندر چل رہی ہے، مبنی کا باب تو اگے انے والا ہے اور تو یہ غیر منصرف معرب ہوتا ہے یا مبنی ہوتا ہے؟ معرب ہوتا ہے، تو وہ تو پھر مبنی بن جائے گا بھئی، اس لیے اسناد نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اسناد ہوگی تو وہ کیا بن جائے گا؟ جملہ، اور جملہ کیا ہوتا ہے؟ مبنی یعنی یہ مبنی بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا التَّرْكِيبُ فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا بِلَا إِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ، تو ترکیب جو ہے اس کی شرط یہ ہے کہ وہ علم ہو بلا اضافت ولا اسناد بغیر اضافت کے اور بغیر اسناد کے، كَبَعْلَبَكَّ جیسے بعلبک۔ تو دیکھیے میں نے بتایا کہ یہ بعل بت کا نام تھا اور بکا ادمی کا نام تھا اور ان دونوں کو جوڑ کر کیا بنا لیا گیا؟ بعلبک شہر کا نام۔ فَعَبْدُ اللَّهِ مُنْصَرِفٌ، پس عبداللہ کا لفظ منصرف ہے۔ عبداللہ بھئی ایک ادمی کا نام اپ رکھتے ہیں عبداللہ، لفظِ عبد اور لفظِ اللہ ان دونوں کو جوڑ کر ایک مرکب بنا لیا، ترکیب ا گئی یا نہیں ا گئی؟ ترکیب کا بھی کیا معنی تھا؟ جوڑنا، اور ان دونوں لفظوں کو جوڑ کر ایک شخص کا نام رکھ دیا، عبداللہ نام استعمال کرتے ہیں یا نہیں کرتے اپ؟ عبداللہ، تو دیکھو یہ مرکب ہے، تو لہٰذا ترکیب ا گئی، اور ترکیب کی شرط کیا تھی؟ علم ہونا چاہیے، علم بھی ہے عبداللہ بھی کیا ہے؟ کسی کا نام ہے، تو اس کو غیر منصرف ہونا چاہیے، لیکن غیر منصرف نہیں، کیوں نہیں غیر منصرف بھئی؟ کیونکہ اس میں اضافت ہے بھئی، عبد کا اضافت ہو رہی ہے لفظِ اللہ کی طرف بھئی۔ اسی لیے کہا: فَعَبْدُ اللَّهِ مُنْصَرِفٌ تو عبداللہ منصرف ہے، وَمَعْدِي كَرِبَ غَيْرُ مُنْصَرِفٍ اور معدی کرب کیا ہے؟ غیر منصرف ہے، یہ بھی دو لفظ معدی اور کرب کو ملایا بھئی، کیونکہ اس میں اضافت بھی نہیں ہے اور اسناد بھی نہیں ہے بھئی۔ وَشَابَ قَرْنَاهَا مَبْنِيٌّ، اور شاب قرناھا یہ مبنی ہے۔ بھئی شَابَ يَشِيبُ کا معنی سفید ہونا، قَرْنٌ کہتے ہیں بالوں کی مینڈھی بھئی، عورتیں بالوں کو رسی کی طرح جو بنا لیتی ہیں بالوں کی چوٹی اس کو کیا کہتے ہیں؟ قرن، اور یہ تثنیہ ہے: قَرْنَانِ، قَرْنٌ الف نون ساتھ ملایا: قَرْنَانِ، اور ہا کی طرف اضافت کر دی تو نون اضافت سے گر گیا: قَرْنَاهَا۔ شَابَ قَرْنَاهَا: سفید ہو گئیں اس کی دونوں چوٹیاں، اس عورت کی دونوں مینڈھیاں یا دونوں چوٹیاں کیا ہیں؟ سفید ہو گئیں۔ اب دیکھیے شَابَ فعل اور قَرْنَاهَا اس کے لیے فاعل، تو یہاں اسناد ا گیا، اب یہ بھئی کوئی عورت تھی اس کے بالوں کی یہ دونوں چوٹیاں سفید ہو گئی تھیں تو کسی نے ذکر کسی عورت نے یہ بات کہہ دی: شاب قرناھا، اس کی دونوں چوٹیاں سفید ہو گئی ہیں، بس اس کا نام ہی یہ پڑ گیا، اب سارے اس کو کیا کہتے تھے؟ شاب قرناھا، نام پڑ گیا اس کا۔ تو دیکھو اس سارے شَابَ الگ لفظ قَرْنَاهَا الگ لفظ، لیکن اس سارے کو جوڑ کر اس کا نام رکھ دیا گیا اور تو ترکیب ا گئی، اور ترکیب میں شرط کیا تھی؟ علمیت بھی پائی جا رہی ہے، لیکن یہاں پر اسناد موجود ہے اور ہم نے تو کیا کہا تھا؟ اسناد موجود نہ ہو، جب اسناد موجود ہے پھر تو یہ معرب رہا ہی نہیں، جملہ بن گیا اور جملہ کیا ہوتا ہے؟ مبنی ہوتا ہے تو یہ مبنی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَشَابَ قَرْنَاهَا مَبْنِيٌّ، اور شاب قرناھا کیا ہے؟ مبنی ہے بھئی۔ أَمَّا الْأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ إِنْ كَانَتَا فِي اسْمٍ فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا، ترکیب کا بیان بھی مکمل ہوا، اب الف نون زائدتان کا بیان ایا بھئی، الف نون زائدتان۔ اچھا بھئی الف نون زائدتان بھئی یہ کسی لفظ کے اخر میں الف نون زائد کر دیے بڑھا دیے جاتے ہیں، اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ الف نون زائدتان، تو یہ زائد ہوتے ہیں حرفِ اصلی سے، حرفِ اصلی نہیں ہوتے زائد ہوتے ہیں۔ اور یہ الف نون زائدتان غیر انصراف کا سبب بنیں گے، لیکن اس میں کی بھی شرط ہے، شرط پوری ہوگی تو یہ سبب بنیں گے، اگر شرط پوری نہیں تو پھر بے شک یہ ا جائیں ان کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوگا۔ تو تفصیل یاد رکھیے کہ یہ الف نون زائدتان ہیں یا تو یہ اسمِ محض کے اندر ائیں گے یا صفت کے اندر ائیں گے، کس کے اندر ائیں گے؟ یا تو اسمِ محض، ایک اسم ہے صفت نہیں ہے یا تو اس کے اندر الف نون زائدتان ائیں گے یا کس کے اخر میں ائیں گے؟ صفت کے اخر میں ائیں گے۔ اگر اسمِ محض کے اخر میں الف نون زائدتان اتے ہیں تو وہ پھر علم ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ علم ہونا چاہیے۔ کیا بات میں نے کی؟ کہ یہ الف نون زائدتان سبب بنیں گے غیر انصراف کا، لیکن کب؟ جب ان کی شرط پوری ہو، شرط پوری ہو، اور شرط کیا ہے؟ میں نے تفصیل بتائی کہ یہ کس میں اتے ہیں؟ کبھی اسم میں اتے ہیں الف نون زائدتان کبھی کس میں اتے ہیں؟ صفت میں۔ اگر اسم میں یہ ا رہے ہیں تو یہ غیر انصراف کا سبب بنیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ علم ہونا چاہیے، وہ اسم کیا ہونا چاہیے؟ علم ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ صفت میں ا رہے ہیں الف نون زائدتان تو یہ الف نون زائدتان سبب بنیں گے غیر انصراف کا جبکہ شرط پوری ہو، اور شرط کیا کہ اس لفظ کی مؤنث فَعْلَانَةٌ وزن پر نہیں انی چاہیے۔ اگر اسم میں ائیں تو پھر کیا شرط کہ وہ علم ہونا چاہیے، اور صفت میں ائیں تو بھی سبب بنیں گے لیکن پھر کیا شرط ہے کہ اس صفت کی مؤنث فَعْلَانَةٌ وزن پر نہیں انی چاہیے، اگر ائے گی پھر یہ مؤثر نہیں ہوگا اپنا اثر نہیں دکھائے گا، بات سمجھ میں ا گئی؟ دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: أَمَّا الْأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ باقی وہ الف اور نون جو زائدتان ہیں، إِنْ كَانَتَا فِي اسْمٍ اگر یہ دونوں کس میں ہوں الف نون زائدتان؟ اسم میں ہوں، فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا تو شرط اس کی یہ ہے أَنْ يَكُونَ عَلَمًا کہ وہ علم ہو، كَعِمْرَانَ وَعُثْمَانَ جیسے عمران اور عثمان۔ بھئی دیکھیے عمران وہی ع، م، ر کے اخر میں الف نون زائدتان ا گئے، عثمان میں بھی اسی طرح ہے، اور یہ دونوں بھئی اسم ہیں، صفات نہیں۔ اور اسم کے اندر الف نون زائدتان ا جائیں تو اس کے مؤثر ہونے کے لیے کیا شرط تھی؟ علم ہونا، اور یہ عمران اور عثمان یہ بھی کیا ہیں؟ علم ہیں، لہٰذا یہ غیر منصرف تھے، اسی لیے كَعِمْرَانَ کاف جارہ داخل ہے لیکن عمران پر کسرہ بھی نہیں اور تنوین بھی نہیں، اسی طرح عثمان پر بھی کسرہ بھی نہیں اور تنوین بھی نہیں۔ فَسَعْدَانٌ اسْمُ نَبْتٍ مُنْصَرِفٌ، اور سعدان جو ہے یہ ایک پودے کا نام ہے، نبت کسے کہتے ہیں؟ پودے کو، تو یہ منصرف ہے لِعَدَمِ الْعَلَمِيَّةِ علمیت نہ ہونے کی وجہ سے۔ سعدان بھی بھئی یہ اسمِ محض اور اس کے اخر میں کیا کس کا اضافہ کر دیا؟ الف نون زائدتان کا اضافہ کر دیا گیا، تو یہ ایک پودے کا نام ہے لیکن اس میں علمیت نہیں ہے اس لیے یہ کیا ہے؟ منصرف، ہم نے تو کیا کہا تھا؟ علم ہونا چاہیے اگر اسم کے اندر الف نون زائدتان ائیں۔ فَسَعْدَانٌ اسْمُ نَبْتٍ، تو سعدان ایک پودے کا نام ہے، اپ کے ذہن میں اشکال ائے گا کہ جب یہ پودے کا نام ہے پھر تو یہ علم ہوا، اشکال سمجھ میں ا رہا ہے؟ اپ نے کیا کہا تھا کہ اسمِ محض کے اندر اگر الف نون زائدتان ائیں تو کیا شرط ہے؟ علم ہونا چاہیے، تو سعدان بھی ایک پودے کا نام ہے، جب نام ہے تو نام کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ علم کہتے ہیں، تو یہ علمیت والی شرط تو پوری ہے، لیکن یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ اس میں علمیت نہیں؟ بھئی یاد رکھو علم جو ہوتا ہے نا کسی معین ذات پہ دلالت کرتا ہے، کس پر دلالت کرتا ہے؟ معین ذات پہ۔ مثلاً اپ کا ایک ساتھی ہے زید، ایک ہے بکر، ایک ہے خالد، ایک ہے یوسف، میں نے جیسے ہی زید کا نام لیا اپ کے ذہن میں فوراً کس کا تصور ایا؟ زید کا ہی ایا۔ میں نے جیسے ہی خالد کا نام لیا اپ کے ذہن میں خالد ہی کا تصور ایا، زید یا یوسف وغیرہ کا تصور نہیں، دیکھو یہ ایک یہ اس معین ذات پہ دلالت کر رہا ہے، یہ کیا کر رہا ہے؟ اس معین ذات پر دلالت کر رہا ہے معین ذات پر۔ جبکہ سعدان اس طرح نہیں ہے، سعدان ایک پودے کا نام ہے، وہ پودا ایک پودا اپ کے دائیں طرف لگا ہے، ایک سامنے لگا ہوا ہے، ایک بائیں طرف لگا ہوا ہے، کوئی اپ سے پوچھے دائیں طرف والے پودے کے بارے میں یہ کون سا پودا ہے؟ اپ کہیں گے: سَعْدَانٌ، سامنے لگا ہے پوچھے گا یہ کون سا ہے؟ اپ کہیں گے: سَعْدَانٌ، تیسری طرف لگا ہے اس کا کیا نام ہے؟ وہ اپ بھی کہیں گے: سَعْدَانٌ، دیکھو سب پہ سعدان بول رہے ہیں یا نہیں؟ جبکہ زید، عمر، بکر دو یا تین ادمیوں پہ بولا جاتا ہے یا ایک ایک ہی فرد کا نام ہے؟ یہ ایک ایک ہی فرد کا نام ہے، صورت سمجھ میں ا گئی؟ ہاں تو یہ وہ یہ علم نہیں ہے بھئی، علم نہیں ہے، پودے کا نام ضرور ہے اس کا اسم ضرور ہے لیکن اس کا علم نہیں، اگر علم ہوتا تو کسی ایک معین اس پہ دلالت کرتا، دوسرے اور تیسرے پہ یہ دلالت نہ کرتا، صورت سمجھ میں ا گئی۔ تو کہتے ہیں: فَسَعْدَانٌ اسْمُ نَبْتٍ مُنْصَرِفٌ لِعَدَمِ الْعَلَمِيَّةِ، یہ منصرف ہے کس وجہ سے؟ علمیت کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ وَإِنْ كَانَتَا فِي صِفَةٍ، اور اگر یہ الف نون زائدتان کسی صفت کے اندر ا جائیں: فَشَرْطُهُ أَنْ لَا يَكُونَ مُؤَنَّثُهُ عَلَى فَعْلَانَةَ، تو اس کی شرط اس کے مؤثر ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس اسم کی جو ہے مؤنث اس صفت کی جو ہے مؤنث فَعْلَانَةٌ وزن پر نہ ائے، كَسَكْرَانَ جیسے کہ سکران۔ بھئی سکران کہتے ہیں مدہوش کو جو نشے میں ہو۔ اب سکران کے اخر میں کیا ا رہا ہے؟ الف نون، اور یہ الف نون صفت میں ا رہا ہے اسم میں نہیں، تو یہ غیر انصراف کا سبب بنے گا یا نہیں بنے گا؟ تو اپ غور کر لیں: سکران کی مؤنث سکرانہ اتی ہے یا نہیں؟ ہم نے دیکھا نہیں سکران کی مؤنث سکرانہ نہیں اتی، شرط پوری ہو گئی، ہم نے بھی کیا کہا تھا کہ صفت میں کیا ائے؟ الف نون زائدتان، تو وہ مؤثر ہوگا، سبب بنے گا، اس لفظ کو غیر منصرف بنا دے گا جبکہ شرط پوری ہو، اور شرط کیا کہ مؤنث فَعْلَانَةٌ وزن پر نہ ائے، اس کی بھی مؤنث فَعْلَانَةٌ وزن پر نہیں اتی، لہٰذا یہ كَسَكْرَانَ اس کو اپ نے غیر منصرف پڑھنا ہے کیونکہ اس صفت میں کیا ہے؟ شرط پوری ہے۔ فَنَدْمَانٌ مُنْصَرِفٌ لِوُجُودِ نَدْمَانَةٍ، جبکہ ندمان کا لفظ منصرف ہے لِوُجُودِ نَدْمَانَةٍ، ندمانہ کے پائے جانے کی وجہ سے، کیونکہ اس ندمان کی مؤنث کیا اتی ہے؟ نَدْمَانَةٌ، ندمانۃ اتی ہے، تو لہٰذا ندمان کے اخر میں بھی الف نون زائدتان لیکن یہ مؤثر نہیں ہوں گے، الف نون زائدتان تو ہیں لیکن اپنا اثر نہیں دکھائیں گے یعنی غیر انصراف کا سبب نہیں بنیں گے، کیوں نہیں بنیں گے؟ کیونکہ یہ دونوں صفت میں ا رہے ہیں اور صفت کے اندر کیا شرط تھی کہ اس کی مؤنث فَعْلَانَةٌ وزن پر نہ ائے، حالانکہ اس کی مؤنث تو فَعْلَانَةٌ: نَدْمَانَةٌ ا رہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ چلو بھئی اب شروع سے ذرا جلدی جلدی ہم سارے دہرا لیتے ہیں جتنے اب تک پڑھے ہیں بھئی: اسبابِ منعِ صرف میں سب سے پہلے اپ نے عدل کے بارے میں پڑھا، عدل کسے کہتے تھے کہ کسی لفظ کو پھیرنا اس کے صیغہ اصلیہ سے دوسرے صیغہ کی طرف، اور یہ دو قسم پر ہے: ایک عدلِ تحقیقی اور ایک عدلِ تقدیری۔ عدلِ تحقیقی وہ ہے جس کی ہمارے پاس دلیل موجود ہو، عدلِ تقدیری وہ ہے جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو، اور اپ نے پڑھا تھا یہ وزنِ فعل کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا عدل کیونکہ عدل کے اپنے اوزان اور وزنِ اور فعل کے اپنے اوزان، اور نیز یہ کس کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے؟ علم کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے جیسے عمر اور زفر، اور نیز یہ وصف کے ساتھ بھی جمع ہو سکتا ہے جیسے ثلاث اور مثلث، اخر اور جمع وغیرہ۔ اس کے بعد دوسرا اپ نے وصف پڑھا تھا، وصف جو ہے یہ غیر انصراف کا سبب بنتا ہے اور یہ اپ نے پڑھا کہ یہ علم کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا، کیوں؟ کیونکہ وصف دلالت کرتا ہے ذاتِ مبہم پر اور علم دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر، تو دونوں ایک دوسرے کے ایک دوسرے کی ضد ہیں جمع ہو ہی نہیں سکتے۔ اور پھر وصف جو ہے اس کے لیے اپ نے شرط پڑھی تھی کہ وصف جو ہے مؤثر ہوگا بشرطیکہ اصلِ وضع میں کیا ہو وہ لفظ؟ اصلِ وضع کے اعتبار سے وہ وصف ہونا چاہیے یعنی اس کو جب بنایا ہی گیا تھا کس طور پر بنایا گیا تھا؟ اس لفظ کو بطورِ وصف کے۔ اگر اس کو بنایا تو وصف کے طور پر نہ گیا ہو وضع تو وصف کے طور پر نہیں کیا لیکن بعد میں وصف کے طور پر استعمال ہونے لگا تو یہ بعد کا اعتبار نہیں ہے بلکہ کس کا اعتبار ہے؟ اصلِ وضع کا ہے۔ لہٰذا مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعٍ دیکھو نِسْوَةٍ أَرْبَعٍ، اربعین اس کی صفت ہے تو دیکھو وصفیت بھی ایک سبب وصفیت ا گئی، اور دوسرا سبب وزنِ فعل ہے: أَرْبَعَ: أَكْرَمَ وزن ہے بھئی، تو دونوں سبب پائے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی اپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعٍ کسرہ بھی پڑھ رہے ہیں اور تنوین بھی پڑھ رہے ہیں، بھئی کیا وجہ ہے دو سبب تو ہیں؟ بھئی وجہ یہ ٹھیک ہے دو سبب ہیں لیکن یہ دوسرا سبب مؤثر نہیں، یہ اپنا اثر نہیں دکھائے گا کیونکہ اصلِ وضع میں اربع کا لفظ وصف کے لیے نہیں وضع بلکہ یہ تو کس کے لیے وضع ہے؟ عدد کے لیے، تو اس وقت وصفیت اگرچہ ہے بھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا، تو اسان لفظوں میں اب یوں ہی کہو اس کے اندر ایک ہی سبب ہے، دوسرا سبب ہے ہی نہیں کیونکہ اس کی شرط نہیں پوری، جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، جیسے وضو نماز کے لیے شرط ہے وضو نہیں تو نماز بھی نہیں، ایک ادمی بغیر وضو کے اتا ہے اور ا کر دیکھو اسی طرح اللہ اکبر کہتا ہے، قیام بھی کرتا ہے، قرات بھی کرتا ہے، رکوع، سجدہ سارا کچھ کر لیتا ہے لیکن اپ مجھے بتائیے کیا اس کی نماز ہوئی؟ نماز نہیں ہوئی کیونکہ شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ اس کے بعد تیسرا سبب جو ہم نے پڑھا تھا وہ تانیث تھا بھئی، تانیث اپ کو میں نے بتایا دو قسم پر ہے: ایک تانیثِ لفظی اور ایک تانیثِ معنوی۔ تانیثِ لفظی جو ہے وہ تین قسم پر ہے: تانیث بالتاء یا تانیث بالالف المقصورۃ اور تانیث بالالف الممدودۃ، جبکہ تانیثِ معنوی وہ ہے جس کے اندر لفظوں کے اندر کوئی کسی قسم کی علامت نہ ہو۔ اس میں سے اپ نے پڑھا کہ تانیث بالالف جو ہے وہ خود دو سببوں کے قائم مقام ہے: ایک تانیث اور ایک لزومِ تانیث، جبکہ تانیث بالتاء اس کے اندر شرط ہے کہ وہ کیا ہو؟ علم ہو تاکہ یہ تا اس لفظ سے جدا نہ ہو سکے، اور تانیثِ معنوی کے اندر دو شرطیں تھیں بھئی: ایک شرط کیا تھی کہ وہ لفظ کیا ہو؟ علم ہونا چاہیے، اور دوسری شرط یہ کہ تین باتوں میں سے ایک بات پوری ہو: وہ لفظ کیا ہو؟ تین حروف سے زائد ہو، یا اگر تین پر ہے تو درمیان والا متحرک ہو، اور اگر درمیان والا متحرک بھی نہیں ہے تو پھر کم از کم کیا ہو؟ عجمی ہونا چاہیے، تو اگر یہ دونوں شرطیں پوری ہوں علمیت والی شرط بھی پوری اور یہ تین میں سے کوئی ایک بات بھی پوری ہو تو اس لفظ کو غیر منصرف پڑھنا واجب، اور اگر ان پہلی شرط علمیت والی تو پوری ہے دوسری شرط میں سے کوئی حصہ بھی پورا نہیں ہو رہا تو پھر اس کو منصرف بھی پڑھ سکتے ہیں اور غیر منصرف بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد اسبابِ منعِ صرف میں سے ہم نے معرفہ پڑھا تھا، اور اپ نے پڑھا تھا کہ معرفہ کی پانچ چھ قسموں میں سے صرف علم جو ہے وہ سبب بنے گا غیر انصراف کا، اس لیے کیونکہ باقی اسباب باقی جو معرفہ ہیں وہ کچھ تو مبنی ہیں اور یہ تو معرب کی قسم چل رہی ہے، اور کچھ وہ ہیں جن میں اضافت ہے یا الف لام ائے گا، اور اضافت اور الف لام یہ دونوں تو کیا ہیں؟ غیر انصراف کے منافی ہیں، غیر منصرف پر بھی الف لام ا جائے تو وہ کس کے حکم میں ہو جاتا ہے؟ منصرف کے، تو اضافت اور الف لام کیا ہیں؟ غیر انصراف کے منافی ہیں، تو صرف علمیت رہ گئی تو وہ علم رہ گیا تھا تو اس لیے ہم نے کہا کہ علمیت جو ہے وہ سبب بنے گی، اور یہ بھی اپ نے پڑھا کہ یہ علمیت وصف کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی کیونکہ علم دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر اور وصف دلالت کرتا ہے ذاتِ مبہم پر۔ اس کے بعد عجمہ کے بارے میں اپ نے پڑھا تھا کہ عجمہ بھی سبب بنے گا غیر انصراف کا، لیکن اس کے لیے بھی شرط تھی ایک شرط بھئی، ایک تو یہ کہ عجمی زبان میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ علم ہونا چاہیے، اور دوسری شرط کیا کہ تین حروف سے زائد ہو، اور اگر تین سے زائد نہیں تو پھر درمیان والا حرف کیا ہونا چاہیے؟ متحرک ہونا چاہیے، اور میں نے اپ کو بتایا تھا عجمی زبان میں علم ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ کیا ضروری ہے کہ عربی میں جب پہلی دفعہ استعمال ہو تو بطورِ علم کے استعمال ہو تاکہ اس میں تبدیلی نہ ہو سکے، جب تبدیلی نہیں ہوگی تو عربوں کے لیے اس کی ادائیگی دشوار ہوگی۔ اس کے بعد اج ہم نے اسبابِ منعِ صرف میں سے جمع پڑھی، اور جمع جو ہے اپ نے پڑھا کہ یہ خود دو سببوں کے قائم مقام ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ صیغہ کون سا ہو؟ منتہی الجموع والا، اور نیز وہ ہا کو قبول نہ کرتا ہو۔ اور اس کے بعد پھر اپ نے ترکیب پڑھی، اور ترکیب کے بارے میں پڑھا کہ وہ غیر انصراف کا سبب بنے گی لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ علم ہو، کیا ہو؟ علم ہو اور کیسا علم ہو؟ بغیر اس میں اضافت بھی نہ ہو اور اسناد بھی نہ ہو، اس لیے کیونکہ اضافت غیر انصراف کے منافی ہے اور اسناد کی صورت میں تو وہ مبنی بن جائے گا اور غیر منصرف تو معرب کی قسم ہے وہ تو بحث ہی سے نکل جائے گا۔ اس کے بعد الف نون زائدتان کے بارے میں پڑھا کہ الف نون زائدتان یا تو یہ کس کے اندر ائیں گے؟ اسم میں ائیں گے یا صفت میں، اگر اسم میں ائیں تو شرط کیا؟ کہ علم ہونا چاہیے، اور اگر صفت میں ائیں تو پھر شرط کیا ہے کہ فَعْلَانَةٌ وزن پر اس اسم کی مؤنث نہ اتی ہو تو پھر یہ اپنا اثر دکھائے گا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 17 of 104