”فَصْلٌ: الْكَلَامُ لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالْإِسْنَادِ۔
وَالْإِسْنَادُ نِسْبَةُ إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ إِلَى الْأُخْرَى، بِحَيْثُ تُفِيدُ الْمُخَاطَبَ فَائِدَةً تَامَّةً، يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا، نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، وَ”قَامَ زَيْدٌ““۔
سب سے پہلے انہوں نے آپ کو کلمہ کے بارے میں بتایا کہ کلمہ کسے کہتے ہیں: ”لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، کہ کلمہ ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کسی مفرد معنی کے لیے۔ اور پھر اس کی تین قسمیں بھی بیان کر دیں کہ وہ اسم ہوگا یا فعل ہوگا یا حرف ہوگا۔ پھر ہر ایک کی تعریف بھی ذکر کر دی، اور علامتیں بھی ذکر کر دیں، اور وجہِ تسمیہ بھی ذکر کر دی کہ ان کا یہ نام کیوں ہے، اسم کو اسم کیوں کہتے ہیں، فعل کو فعل کیوں کہتے ہیں اور حرف کو حرف کیوں کہتے ہیں۔
تو اب یہ فصل جو ذکر کر رہے ہیں اس کے اندر کلام کے بارے میں آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ کلام کسے کہتے ہیں۔
کہتے ہیں: ”الْكَلَامُ لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ“، کلام ایسا لفظ ہے ”تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ“ جو متضمن ہو دو کلموں کو یعنی مشتمل ہو دو کلموں پر، ”بِالْإِسْنَادِ“، کس کے ساتھ؟ اسناد کے ساتھ، اسناد ہو ان کے اندر بھئی، بغیر اسناد کے نہیں، بغیر اسناد کے تو پھر وہ کلام نہیں ہوگا۔
تو کیا تعریف کی؟ ”الْكَلَامُ لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالْإِسْنَادِ“، یہ ہے کلام کی تعریف: کلام ایسا لفظ ہے دیکھو لفظٌ نکرہ ہے اور میں نے آپ کو ذکر کیا تھا بتلایا تھا کہ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ عموماً کیا بنیں گے آپس میں؟ موصوف صفت بنیں گے۔ نکرہ بنے گا موصوف اور آگے فعل اپنے فاعل سے مل کر بنے گا جملہ، توجہ ہے سبق کی طرف؟ فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بن جائے گا؟ جملہ، اور جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ جملے کے اندر چاہے دس معرفہ آ جائیں وہ تو معرفہ ہیں لیکن جب پورے جملے کو آپ ملا لیں گے جوڑ لیں گے تو اب یہ نکرہ کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں؟ نکرہ کے۔ تو لہٰذا تضمن آیا اور تضمن فعل ہے، یہ اپنے فاعل سے ملے گا، فاعل سے مل کر کیا بن جائے گا؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں، تو لہٰذا یہ لفظٌ کے لیے کیا بن جائے گا؟ صفت۔ کیونکہ دو نکرہ یا تین یا چار نکرہ اکٹھے آ جائیں تو وہ پھر آپس میں موصوف صفت بنتے ہیں بشرطیکہ کہ ان کے آخر میں کوئی معرفہ نہ آئے۔
یہ ترکیب کی باتیں ہیں بھئی چھوٹی چھوٹی باتیں، ان کو یاد کرتے جاؤ۔ آگے ان شاء اللہ جب ہم یہ کتاب مکمل کر لیں گے تو پھر اس کے بعد ترکیب بھی کریں گے، لیکن یہاں یہ چھوٹی چھوٹی کچھ باتیں آپ یاد کرتے جائیں، ٹھیک ہے؟ نکرہ کے دو تین چار یا پانچ نکرہ آئیں، بلکہ معرفہ سے شروع کریں۔ اگر دو یا تین یا چار یا پانچ معرفہ اکٹھے آئیں تو پھر اکثر جو ہے پہلا موصوف بنتا ہے اور بعد والے اس کی صفت بنتے ہیں۔ اسی طرح اگر دو تین یا چار یا پانچ نکرہ اکٹھے آ جائیں تو پہلا موصوف بنتا ہے اور بعد والے صفت، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ ان نکروں کے بعد آخر میں کوئی معرفہ نہ آئے۔ ان نکروں کے بعد کوئی آخر میں معرفہ نہ آئے، اگر معرفہ آیا تو پھر وہ موصوف صفت نہیں بنیں گے پھر عموماً وہ مضاف مضاف الیہ بنیں گے، عموماً کیا بنیں گے؟ مضاف مضاف الیہ۔ دوبارہ دہراؤ بھئی ضابطے کو: اگر دو یا تین یا چار معرفہ آ جائیں اکٹھے تو عموماً پہلا کیا بنے گا؟ موصوف، اور بعد والے کیا بنیں گے؟ صفت بنیں گے صفت۔ اور اگر دو یا تین یا چار نکرہ اکٹھے آ جائیں تو پہلا کیا بنے گا؟ موصوف، اور بعد والے صفت، بشرطیکہ کہ ان کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے۔ اگر معرفہ آیا پھر یہ نکرہ جو ہیں یہ موصوف صفت نہیں بنیں گے بلکہ مضاف مضاف الیہ بنیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور ترجمہ بھئی، موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں یہ بھی یاد رکھو۔ موصوف صفت کا ترجمہ کرنے کا طریقہ: بھئی یاد رکھیے موصوف صفت کے اردو میں ترجمہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ عربی میں صفت مؤخر ہوتی ہے لیکن اردو کے اندر صفت مقدم ہو جاتی ہے۔ عربی میں صفت مؤخر: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، دیکھو رجلٌ موصوف، شجاعٌ اس کی صفت اور صفت بعد میں آ رہی ہے۔ لیکن اردو میں عموماً صفت موصوف پر مقدم ہو جاتی ہے، تو ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“ ترجمہ کیسے کریں گے؟ بہادر آدمی، بہادر مرد۔ تو دیکھو بہادر کا لفظ مقدم ہو گیا اور مرد کا لفظ کیا ہوا؟ مؤخر ہو گیا۔ تو اردو میں عموماً موصوف صفت کا ترجمہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ کہ صفت پہلے مقدم کو پہلے ذکر کرتے ہیں اور موصوف کو بعد میں ذکر کرتے ہیں۔
اب طریقہ سمجھو معرفہ اور نکرہ اگر موصوف ہوں اس کا ترجمہ کیسے کریں گے بھئی۔ دیکھیے مثلاً ہمارے پاس موصوف بھی معرفہ اور اس کی صفت بھی معرفہ: ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، تو یاد رکھیے اس کے ترجمہ اگر موصوف صفت معرفہ ہوں تو ترجمہ کرنے کا ایک طریقہ یہ کہ لفظِ وہ لے آؤ: وہ، اور اسی طرح صفت کو موصوف پر مقدم کر دو، یوں کہیں گے: وہ بہادر آدمی، وہ بہادر آدمی۔ بھئی یہ وہ کے ذریعے جو ہم اشارہ کر رہے ہیں نا، یہ اشارہ کر رہے ہیں کیونکہ معرفہ کسی معین ذات پہ دلالت کرتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زیدٌ، آپ کے ایک ساتھی کا نام زید ہے۔ جیسے ہی میں نے زید کا نام لیا آپ کے فوراً ذہن میں کون آ گیا؟ زید کا تصور آ گیا۔ تو دیکھو معرفہ کسی معین ذات پہ دلالت کرتا ہے، تو یہاں پر بھی میں کسی معین کی طرف اشارہ کر رہا ہوں: ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، وہ بہادر آدمی، وہ بہادر آدمی۔ تو موصوف صفت اگر معرفہ ہوں تو ترجمہ کرنے کا ایک طریقہ وہی جو عام ضابطہ ہے کہ صفت کو کیا کر دو موصوف پر مقدم، اور کیسے کہو؟ اور شروع میں وہ کا لفظ لے آؤ: وہ بہادر آدمی۔
دوسرا طریقہ: کہ موصوف کو مقدم ہی رکھیں، جیسے عربی کے اندر موصوف مقدم تھا اور صفت کیا تھی؟ مؤخر تھی، اردو میں بھی کیا کرو؟ موصوف کو مقدم ہی رکھو اور صفت کو مؤخر رکھو، لیکن موصوف سے پہلے اسی طرح وہ کا لفظ لے آؤ: ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، وہ آدمی جو کہ بہادر ہے، وہ آدمی جو کہ بہادر ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ دونوں طریقے: پہلا طریقہ کیا؟ وہ بہادر آدمی، دوسرا طریقہ کیا؟ وہ آدمی جو کہ بہادر ہے، یہ تھا طریقہ معرفہ کے اندر موصوف صفت کا ترجمہ اس طرح کریں۔
اور نکرہ کے اندر بھئی، نکرہ میں۔ نکرہ میں اسی طرح نکرہ میں وہ کا لفظ نہ لاؤ، بس صرف پہلا طریقہ یہ کہ صفت کو موصوف پر مقدم کر دو: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، رجلٌ بھی نکرہ، شجاعٌ اس کی صفت بھی نکرہ۔ تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ صرف صفت کو موصوف پر مقدم کر دو، کیا کہو؟ بہادر آدمی۔ معرفہ کے اندر آپ نے کیا کہا تھا؟ وہ بہادر آدمی، اور نکرہ میں کیا کہو؟ کیونکہ وہ متعین تھا وہ کے ذریعے اس کی طرف اشارہ ہو رہا تھا، اور نکرہ میں کیا کہو؟ بہادر آدمی، بس۔ بہادر دیکھو ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، رجلٌ موصوف مقدم تھا، شجاعٌ صفت کیا تھی عربی میں؟ مؤخر تھی، لیکن اردو میں کیا کر دیا؟ بہادر کو مقدم کر دیا اور موصوف کو مؤخر: بہادر آدمی۔
دوسرا طریقہ نکرہ کے ترجمہ موصوف صفت کا ترجمہ کرنے کا یہ ہے کہ معرفہ میں آپ لفظ لائے تھے وہ، اور نکرہ میں لے آؤ لفظ ایسا یا ایسی، ایسا یا ایسی۔ موصوف کو اسی طرح مقدم رکھو جیسے عربی میں مقدم ہے، اور صفت کو اسی طرح مؤخر رکھو جیسے کہ عربی کے اندر صفت کیا تھی؟ مؤخر۔ کیسے ترجمہ کریں گے؟ ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“: ایسا آدمی، دیکھو رجلٌ وہاں مقدم ہے شجاعٌ کیا ہے؟ مؤخر۔ مقدم کو مقدم رکھو مؤخر کو مؤخر، اردو میں بھی اسی طرح رکھو: ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
جی، اب مجھے بتاؤ: ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، پہلا طریقہ کیا کہیں گے ترجمہ کرتے ہوئے؟ وہ بہادر آدمی، وہ بہادر آدمی۔ دوسرا طریقہ ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ“ اسی کا دوسرا طریقہ کیا ترجمہ کرنے کا؟ وہ آدمی جو کہ بہادر ہے، شاباش شاباش۔ اور نکرہ میں اب دیکھو: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، پہلا طریقہ: بہادر آدمی، اور دوسرا طریقہ ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“؟ ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، شاباش۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اب دیکھیے کتاب پر آئیے: ”الْكَلَامُ لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالْإِسْنَادِ“۔ دیکھو لفظٌ آیا نکرہ، نکرہ کے بعد تضمن فعل آیا، فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنے گا؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے۔ لہٰذا یہ نکرہ کے بعد نکرہ آ گیا تو یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت، اور موصوف صفت کا پھر یہاں ایسے موقع پر عموماً وہ ایسا یا ایسی کے ساتھ ترجمہ بڑا بہترین بنتا ہے۔ ”الْكَلَامُ“، کلام جو ہے، ”لَفْظٌ“، ایسا لفظ ہے، ”تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ“، جو مشتمل ہو دو کلموں پر، ”بِالْإِسْنَادِ“، کس کے ساتھ؟ اسناد کے ساتھ۔ یعنی اس میں اسناد کا ہونا ضروری، یعنی ایک مسند الیہ ہو اور ایک کیا ہو؟ مسند ہو، کیونکہ کلام بغیر مسند اور مسند الیہ کے پورا نہیں ہوتا۔ کلام جب بھی پورا ہوگا کس کے ساتھ ہوگا؟ مسند اور مسند الیہ۔ اور مسند کس کو کہتے ہیں؟ جس کا اسناد کیا گیا، اور مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کی طرف اسناد کیا گیا۔ تو اسناد ہوگا تو ایک مسند بنے گا ایک مسند الیہ بنے گا، معلوم ہوا کہ کلام اسناد کے بغیر نہیں بھئی، چاہے دو لفظ ہوں چاہے دس لفظ ہوں، جب تک درمیان میں اسناد نہیں آئے گا کلام پورا نہیں ہوگا، کلام پورا نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”الْكَلَامُ لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالْإِسْنَادِ“، کلام ایسا لفظ ہے جو مشتمل ہوتا ہے دو کلموں پر اسناد کے ساتھ۔
لفظٌ سے آپ کے ذہن میں اشکال نہ آئے: کلام ایسا لفظ ہے، کہ لفظ تو مفرد ہے اور آگے کہہ رہے ہیں دو کلمے ہیں، کتنے کلمے ہوں گے؟ دو، اور لفظ تو کیا ہے؟ مفرد۔ یہ کہہ رہے ہیں نا کلام ایسا لفظ ہے تو آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ لفظ تو کیا ہے؟ مفرد، لفظ سے تو پتہ چلا کلام ایک لفظ ہوگا اور آگے کلمتین سے پتہ چلا کتنے لفظ ہوں گے؟ دو، نہیں بھئی نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یہ لفظ مصدر ہے، مصدر ہے، اور مصدر اسمِ جنس ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ اسمِ جنس، اور اسمِ جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پہ ہوتا ہے، لہٰذا لفظٌ کا بھی اطلاق سب پہ ہو سکتا ہے۔ دو دو دو کلمے ہوں پھر بھی ہم کہیں گے یہ لفظ، ایک ہو پھر بھی کہیں گے لفظ ہے، دو کلمے ہوں پھر بھی کیا کہیں گے؟ یہ لفظ ہے، تین ہوں پھر بھی کیا کہیں گے؟ یہ لفظ ہے، چار ہوں پھر بھی کیا کہیں گے؟ یہ لفظ ہے۔ تو لفظ کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر کیا ہوتا ہے؟ اسمِ جنس، اور اسمِ جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے، چاہے ایک لفظ ہو چاہے دو ہوں چاہے تین ہوں چاہے چار ہوں، سب کو کیا کہیں گے؟ لفظ کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کلام ایسا لفظ ہے جو مشتمل ہوتا ہے دو کلموں پر اسناد کے ساتھ، یعنی اس میں اسناد ہوتا ہے۔
یاد رکھیے چاہے دو کلمے حقیقتاً ہوں، چاہے دو کلمے حکماً ہوں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زیدٌ مسند الیہ یعنی مبتدا، قائمٌ اس کی خبر یعنی مسند، مسند۔ اور تو یہ پورا کلام ہوا، کیونکہ قائمٌ کا اسناد کس کی طرف ہے؟ زید کی طرف، تو اسناد آ گیا۔ اور یہ دو کلمے ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، حقیقتاً دو کلمے ہیں: زید الگ کلمہ، قائم الگ کلمہ۔ تو حقیقتاً کتنے کلمے ہیں اس کلام کے اندر؟ دو۔ تو کبھی کلام کے اندر حقیقتاً دو یا زیادہ، کم از کم دو ہونے چاہییں بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ کلمتین سے یہ نہ کہیں کہ کلام میں ہمیشہ دو ہی کلمے ہوں گے، بلکہ میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ فِي الدَّارِ“، دیکھو یہ بھی کلام ہے یا نہیں؟ تو کم از کم دو کلمے ضرور ہونے چاہییں، کلمتین کا یہ معنی، کم از کم کتنے چاہیے؟ دو، کیونکہ ایک نے کیا بننا ہے؟ مسند الیہ، دوسرے نے کیا بننا ہے؟ مسند بننا ہے۔ تو یہ دو کلمے کبھی تو حقیقتاً ہوں گے جیسے ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، اور کبھی کبھار یہ حکماً دو کلمے ہوں گے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”اِضْرِبْ“، تو ”اِضْرِبْ“ لفظوں کے اعتبار سے ایک کلمہ ہے، لیکن اس کے اندر انتَ ضمیر ہے، ہے یا نہیں؟ یہ مخاطب کا صیغہ ہے، اس کے اندر انتَ ضمیر ہے جو کہ مسند الیہ ہے، تو لہٰذا یہ حکماً دو کلمے ہیں، کیا ہیں؟ اور یہ پورا کلام ہے، ”اِضْرِبْ“ کیا ہے؟ پورا کلام ہے: اضرب فعل، انت ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا کیونکہ امر ہے اور امر کس کی قبیل سے ہے؟ انشاء کی قبیل سے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی، تو لفظٌ سے اشکال تو اب ذہن میں نہیں آئے گا بھئی، اور دوسرا کلمتین کا کیا معنی؟ دو ہی ہونا ضروری ہیں یا کم از کم دو ہوں گے؟ کم از کم دو ہوں گے، اور حقیقتاً بھی دو ہو سکتے ہیں اور حکماً بھی دو ہو سکتے ہیں، اور نیز ان دو کلموں میں کیا ہونا ضروری؟ اسناد کا ہونا ضروری ہے بھئی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے: اسناد کسے کہتے ہیں بھئی؟ اسناد کسے کہتے ہیں؟ تو اسناد کی بھی آگے تعریف کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْإِسْنَادُ نِسْبَةُ إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ إِلَى الْأُخْرَى، بِحَيْثُ تُفِيدُ الْمُخَاطَبَ فَائِدَةً تَامَّةً“۔ اسناد کہتے ہیں نسبت کرنا ”إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ“ دو کلموں میں سے ایک کی ”إِلَى الْأُخْرَى“ دوسرے کی طرف، ”بِحَيْثُ“ اس طور پر، ”تُفِيدُ الْمُخَاطَبَ فَائِدَةً تَامَّةً“ کہ وہ فائدہ دے وہ مخاطب کو ”فَائِدَةً تَامَّةً“، کس قسم کا فائدہ؟ پورا فائدہ۔ اسناد کسے کہتے ہیں؟ بھئی دیکھیے یہ دو کلمے ہیں آپ کے پاس، دو کلمے ہیں، تو اسناد کہتے ہیں ایک کلمے کی نسبت کرنا دوسرے کی طرف اس طور پر کہ سننے والے کو پورا فائدہ حاصل ہو، سننے والے کو پورا فائدہ۔ یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں: اس کو بات پوری سمجھ میں آ جائے، پورا فائدہ حاصل ہونے کا کیا معنی؟ اس کو بات پوری سمجھ میں آ جائے، یہ نہ وہ کہے کہ مجھے بات نہیں سمجھ میں آئی آپ نے کیا کہا ہے۔ میں نے آپ سے کہا: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کھڑا ہے، بات پوری سمجھ میں آ گئی یا نہیں آ گئی آپ کو؟ پوری بات سمجھ میں آ گئی۔ میں نے آپ سے کہا: ”اِضْرِبْ“، اضرب کا کیا معنی؟ آپ پٹائی کریں، آپ ماریں۔ دیکھو بات پوری سمجھ میں آ گئی یا نہیں؟ معلوم ہوا میں آپ سے ضرب طلب کر رہا ہوں کہ اس شخص کی کیا کرو؟ پٹائی کرو، تو بات پوری سمجھ میں آ گئی آپ کو۔ تو یہ یہ ہے فائدۂ تامہ کہ مخاطب کو کیا حاصل ہوا؟ پورا فائدہ، یعنی کیا معنی پورا فائدہ حاصل ہوا؟ اس کو پوری بات سمجھ میں آ جائے!
اب مجھے بتاؤ میں آپ کے سامنے کلام کرتا ہوں، آپ مجھے بتائیں کہ یہ کلام ہے یا کلام نہیں: وہ آدمی جس کو آپ نے کل میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا، اب بتائیں بات پوری سمجھ میں آ گئی؟ وہ آدمی جس کو آپ نے کل میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا، کیا بات سمجھ میں آئی؟ دیکھو یہ تھا اور ہے کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑ جانا، آپ کہیں یہ شاید پورا کلام ہے آخر میں تھا آ رہا ہے یا آخر میں ہے آ رہا ہے، نہیں نہیں نہیں۔ دیکھو یہ نامکمل کلام ہے: وہ آدمی جس کو آپ نے کل میرے ساتھ دیکھا تھا وہ بہت بڑا عالمِ دین ہے، اب بات پوری ہوئی۔ پہلے پوری تھی؟ نہیں، پہلے ادھوری، ہاں میں نے آپ کو اس آدمی کی پہچان تو کروا دی: وہ آدمی جس کو آپ نے کل میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا، آپ کہیں گے ہاں اب بات تو پوری کریں اس کو کیا ہوا؟ آدمی آپ کے ذہن میں آ گیا یا نہیں؟ جب دیکھو جب میں نے پہلا جزء کہا نا صرف وہ آدمی آپ کے ذہن میں آیا، میں نے آپ سے یہ کہا: وہ آدمی جو کل آپ نے میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا، ہاں اب وہ آدمی آپ کے ذہن میں آ گیا، آگے کیا بات کر رہا ہوں وہ تو میں نے کی ہی نہیں ابھی، ہاں وہ اب میں آگے کہتا ہوں وہ بہت بڑا عالمِ دین ہے، اب کیا ہوئی؟ بات پوری ہو گئی۔ تو لفظوں کو نہیں دیکھنا آپ نے، سمجھ میں آئی بات؟ کہ حکم کیا لگایا جا رہا ہے ایک کیا خبر دی جا رہی ہے یا کیا حکم دیا جا رہا ہے، وہ بات پوری آپ کو سمجھ میں آ جائے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
جی، دوبارہ دہراؤ بھئی: کلام کسے کہتے ہیں؟ کلام ایسا لفظ ہے جو مشتمل ہو دو کلموں پر بالاسناد، کس کے ساتھ؟ اسناد کے ساتھ۔ یہ تعریف آپ کو زبانی یاد ہونی چاہیے۔ اسناد کی آگے تعریف کی، وہ بھی آپ کو زبانی یاد ہونی چاہیے کہ ”وَالْإِسْنَادُ نِسْبَةُ إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ إِلَى الْأُخْرَى، بِحَيْثُ تُفِيدُ الْمُخَاطَبَ فَائِدَةً تَامَّةً“، کہ اسناد کہتے ہیں ایک کلمے کی نسبت کرنا دوسرے کی طرف کہ اس طور پر کہ وہ مخاطب کو پورا فائدہ دے دے، پورا فائدہ دے دے۔ یعنی اس کو کیا معنی پورا فائدہ دے؟ میں نے آسان لفظوں میں کیا بتایا؟ اس کو پوری بات سمجھ میں آ جائے کہ یہ آدمی کیا کہنا چاہتا ہے، کیا کہہ رہا ہے۔
خود آگے بتا رہے ہیں: ”يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا“، یاد رکھیے یہ فائدۂ تامہ کی تعریف کر رہے ہیں، کہ فائدۂ تامہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا“، جس پر سکوت کرنا یعنی خاموش ہو جانا صحیح ہو۔ میں نے آپ سے کہا: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، اب میں خاموش ہو گیا، بات پوری کر دی۔ آپ کو سمجھ میں آ گئی کہ نہیں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ فائدۂ تامہ ہے یہاں پر، بات پوری سمجھ میں آ رہی ہے، بات پوری سمجھ میں آ رہی ہے۔ اگر میں نے میں صرف آپ سے یہ کہتا ہوں: وہ آدمی جس کو آپ نے کل مسجد میں میرے ساتھ دیکھا تھا، اب اس پر سکوت کرنا صحیح نہیں، وہ آدمی تو آپ کے ذہن میں آ گیا لیکن کیا بات کی ہے اس کے اس کو ہوا کیا ہے، وہ زندہ ہے، مر گیا ہے، کہیں چلا گیا ہے، بات تو میں نے پوری کی ہی نہیں، میں نے تو صرف آدمی کی پہچان کروائی آپ کو: وہ آدمی جو کل آپ نے میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا، اب آپ فوراً کہیں گے بھئی بات تو آپ پوری کریں اس کو کیا ہوا؟ پھر آگے جب میں بتاؤں گا کہ وہ لاہور چلا گیا ہے، یا وہ میرا بھئی ہے، یا وہ بڑا عالمِ دین ہے، جو بھی آگے خبر آئے گی پھر بات کیا ہو جائے گی؟ پوری ہو جائے گی، آپ کو بات سمجھ میں آ گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ اسناد کسے کہتے ہیں کہ ایک کلمے کی نسبت ہو دوسرے کلمے کی طرف اس طور پر کہ مخاطب کو کیا ہو؟ فائدۂ تامہ حاصل ہو۔ کیا معنی فائدۂ تامہ؟ کہ اس کو پوری بات سمجھ میں آ جائے، پوری بات سمجھ میں آ جائے۔
چنانچہ وہ فائدۂ تامہ کسے کہتے ہیں اس کی بھی آگے تعریف کر دی کہ فائدۂ تامہ وہ ہے: ”يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا“، کہ اس پر سکوت کرنا صحیح ہو یعنی خاموش ہو جانا صحیح ہو کیونکہ پوری بات ہو چکی ہے۔
اب دوبارہ ترجمہ ذرا سن لو: کہتے ہیں: ”وَالْإِسْنَادُ نِسْبَةُ إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ إِلَى الْأُخْرَى، بِحَيْثُ تُفِيدُ الْمُخَاطَبَ فَائِدَةً تَامَّةً يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا“، اور اسناد وہ نسبت کرنا ہے دو کلموں میں سے ایک کی الی الاخریٰ ای الی الکلمۃ الاخریٰ دوسرے کلمے کی طرف، بحیث تفید المخاطب اس طور پر کہ وہ فائدہ دے مخاطب کو، فائدۃ تامۃ ایسا پورا فائدہ، یصح السکوت علیہا کہ اس پر سکوت کرنا صحیح ہو۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھو فائدۃً موصوف، تامۃً اس کی صفتِ اول، اور پھر آگے ایک اور یصح فعل آ گیا یہ اس کی صفتِ ثانی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اب ہم دونوں طریقے استعمال کر لیتے ہیں ترجمے کے: نکرہ ہے نا، فائدہ بھی نکرہ، تامۃ بھی نکرہ، یصح السکوت علیہا یہ پورا جملہ ہے اور جملہ بھی کس کے حکم میں؟ نکرہ کے، تین نکرہ اکٹھے آ گئے۔ لہٰذا پہلا بنے گا موصوف، بعد والے اس کی صفت۔ اور موصوف صفت اگر نکرہ ہوں ترجمہ کرنے کا کیا طریقہ تھا اردو میں؟ صفت وہ نہیں لانا، وہ معرفہ میں لاتے ہیں۔ صفت کو کیا کر دو موصوف پر مقدم، ایک طریقہ۔ دوسرا کیا تھا؟ صفت کو مؤخر ہی رہنے دو، موصوف کو مقدم ہی رہنے دو، جیسے عربی میں تھے اسی طرح رکھو، لیکن موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا یا ایسی، نکرہ کے اندر۔ معرفہ میں وہ لانا تھا اور نکرہ میں ایسا یا ایسی۔ اب دو صفتیں آ گئیں، لہٰذا اب ہم دونوں طریقے ملا کر استعمال کر لیتے ہیں، کس طرح؟ ”تَامَّةً“ اس کو اٹھا کر فائدہ پر مقدم کر دو اردو میں: ”فَائِدَةً تَامَّةً“، کیا ترجمہ ہوا؟ پورا فائدہ۔ تامہ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پورا۔ ”فَائِدَةً تَامَّةً“، اردو میں کیا ترجمہ ہوا؟ پورا فائدہ۔ اور دوسرے کے لیے ہم شروع میں ایسا لے آتے ہیں: ایسا پورا فائدہ ”يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا“ کہ اس پر سکوت کرنا صحیح ہو۔ یہ ضابطے یاد رکھو، آپ کو ترجمے میں بہت آسانی ہو جائے گی، جوں جوں آپ آگے جائیں گے ان کو یاد کرتے جائیں، قدم قدم پر آپ دیکھیں گے نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے، نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے، وہ موصوف صفت بنیں گے اور وہاں اس طرح ایسا یا ایسی کے ساتھ ترجمہ کرتے جانا۔
”نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ““، جیسے کہ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“۔ دیکھو زید مبتدا، قائم اس کی خبر، تو قائم کا اسناد کس کی طرف؟ زید کی طرف، زید کھڑا ہے۔ تو دیکھو یہ جملہ اسمیہ کی مثال ہے، جملہ اسمیہ جس کا پہلا جزء کیا ہو؟ اسم۔
”وَ”قَامَ زَيْدٌ““، یہ جملہ فعلیہ کی مثال: قام فعل، زید اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں مثالیں ذکر کر دیں، اور دونوں کے اندر اسناد ہے، بغیر اسناد کے جملہ بن ہی نہیں سکتا بھئی۔
”وَيُسَمَّى جُمْلَةً“، اور اس کو جملہ بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ کلام کو جملہ بھی کہتے ہیں۔
”فَعُلِمَ أَنَّ الْكَلَامَ لَا يَحْصُلُ إِلَّا مِنِ اسْمَيْنِ، نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، وَيُسَمَّى جُمْلَةً اسْمِيَّةً، أَوْ مِنْ فِعْلٍ وَاسْمٍ، نَحْوُ: ”قَامَ زَيْدٌ“، وَيُسَمَّى جُمْلَةً فِعْلِيَّةً، إِذْ لَا يُوجَدُ الْمُسْنَدُ وَالْمُسْنَدُ إِلَيْهِ مَعًا فِي غَيْرِهِمَا“۔
بھئی دیکھیے، کلام کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ ایک مسند اور ایک مسند الیہ، اس کے بغیر کلام ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ تو کلام کے لیے ہمیں مسند بھی چاہیے اور مسند الیہ بھی چاہیے۔
اب کلمہ کتنی قسم پر تھا؟ تین قسم پر: اسم، فعل اور حرف۔ اب ہمیں ان دو دو ہم دو دو کو ملاتے جائیں تو چھ صورتیں بنتی ہیں۔ اور چھ میں سے صرف دو کے اندر کلام حاصل ہوتا ہے، باقی چار کے اندر کلام حاصل ہوتا ہی نہیں۔
کلام کے لیے کتنے کلمے کم از کم چاہیے؟ دو۔ کلام کے لیے کتنے کلمے ہمیں چاہیے؟ دو۔ تین کیوں؟ دو، کلام کے لیے کتنے کلمے ہمیں چاہیے؟ دو، کم از کم دو کلمے: ”تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ“، کم از کم کتنے کلمے؟ دو کلمے چاہیے، اور اسم بھی کلمہ ہے یا نہیں؟ فعل بھی کیا ہے؟ کلمہ، حرف بھی کیا ہے؟ کلمہ۔ تو دو دو کو ملا کر دیکھتے جاؤ کس صورت میں کلام حاصل ہوتا ہے، کس صورت میں کلام حاصل نہیں ہوتا۔ دیکھو: دو اسم ہوں، ایک صورت۔ دونوں کلمے فعل ہوں، دوسری صورت۔ دونوں کلمے حرف ہوں، تیسری صورتیں ہو گئیں؟ اب ان کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑو: ایک کلمہ کیا ہو؟ اسم، دوسرا کیا ہو؟ فعل، چار صورتیں ہو گئیں۔ پانچویں صورت: ایک کلمہ فعل ہو اور دوسرا حرف ہو، کتنی ہو گئیں؟ پانچ صورتیں ہو گئیں، اور چھٹی صورت کیا؟ کہ ایک کلمہ اسم ہو اور ایک حرف ہو۔ آپ ان تینوں کو ملائیں نا، خود بعد میں آپ غور کر لینا، کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ چھ۔ کلمے کم از کم کلام کے لیے کتنے چاہیے؟ دو، دو تو ضرور چاہیے، ایک نے مسند بننا ہے ایک نے مسند الیہ۔ تو کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ چھ۔
نمبر ایک: دونوں کیا ہوں؟ اسم۔ دوسری صورت: دونوں کلمے ہی فعل ہوں۔ تیسری صورت: دونوں حرف ہوں۔ چوتھی صورت اب ان کو آپس میں ملاؤ ایک دوسرے کے ساتھ: ایک اسم اور ایک فعل۔ اچھا اور اگلی قسم: ایک فعل اور ایک حرف، اور چھٹی صورت: ایک اسم اور ایک حرف۔ اب دیکھو:
سب سے پہلی صورت: اگر دونوں اسم ہوں، دونوں کیا ہوں؟ اسم۔ تو کیا ہمیں مسند اور مسند الیہ دونوں مل جائیں گے؟ اسم کے علامتوں میں آپ نے پڑھا تھا کہ وہ مسند الیہ بن سکتا ہے، کیا بن سکتا ہے؟ مسند الیہ، اور نیز میں نے آپ کو بتایا تھا وہ مسند بھی بن سکتا ہے، مسند بھی۔ تو معلوم ہوا جب دونوں کیا ہوں؟ اسم، دونوں اسم ہوں، ہمیں مسند الیہ بھی مل سکتا ہے اور مسند بھی، کیونکہ اسم مسند الیہ بھی بنتا ہے اور مسند بھی بنتا ہے۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کیا ہے؟ مسند الیہ، اور قائم کیا ہے؟ مسند۔ تو دیکھو دونوں مل کلام بن گیا یا نہیں بن گیا؟ دیکھا، معلوم ہوا دونوں اسم ہوں تو کلام بن سکتا ہے۔
دوسری صورت ایک نکال لیتے ہیں: دونوں اگر فعل ہوں، دونوں کیا ہوں دونوں کلمے؟ فعل۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ دونوں کلمے کیا ہوں؟ فعل۔ تو فعل کیا بنتا ہے؟ مسند الیہ بنتا ہے؟ نہیں، صرف کیا بنتا ہے؟ مسند، آپ نے پڑھا تھا: ”أَنْ يَصِحَّ الْإِخْبَارُ بِهِ لَا عَنْهُ“، اخبار بہ تو اس کے ساتھ صحیح ہو اخبار عنہ صحیح نہ ہو۔ مسند بہ تو وہ بن سکتا ہے مسند الیہ؟ تو دونوں اگر ہمارے پاس فعل ہوں، دونوں کلمے، تو مسند بہ تو ہمیں مل سکتا ہے لیکن مسند الیہ نہیں مل سکتا، معلوم ہوا اس صورت میں کلام حاصل نہیں ہو سکتا۔
اگر دونوں کلمے حرف ہوں، تو حرف تو نہ مسند الیہ بنتا ہے نہ مسند بہ، اس صورت میں بھی کلام حاصل نہیں کیونکہ کلام کے لیے دونوں چاہیے: مسند بھی چاہیے اور مسند الیہ بھی۔
تیسری صورت: ایک اسم ہو اور ایک فعل ہو۔ ”قَامَ زَيْدٌ“، قام فعل، زید اس کا فاعل۔ دیکھو قام مسند بن جائے گا اور زید کیا بن جائے گا؟ مسند الیہ، دیکھو اس صورت میں بھی کلام پورا حاصل ہو گیا۔
پانچویں صورت، پانچویں: فعل اور حرف۔ فعل مسند بہ تو بن جائے گا مسند الیہ تو نہیں، تو مسند بہ ہمیں مل گیا۔ آگے حرف نہ وہ مسند الیہ بن سکتا ہے نہ مسند بہ، معلوم ہوا اس صورت میں بھی کلام حاصل نہیں۔
اور آخری صورت کیا تھی؟ اسم اور حرف۔ اسم ٹھیک ہے وہ مسند یا مسند الیہ دونوں میں سے ایک بن جائے گا، لیکن حرف تو نہ مسند بن سکتا ہے نہ مسند الیہ، تو پھر بھی دیکھو کلام پورا حاصل نہیں۔
معلوم ہوا چھ صورتوں میں سے صرف دو صورتوں میں ہمیں کلام پورا حاصل ہوگا: یا دونوں اسم ہوں دونوں کلمے، یا ایک اسم اور ایک فعل ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات ذکر کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: ”فَعُلِمَ“، پس یہ بات جان لی گئی، ”أَنَّ الْكَلَامَ لَا يَحْصُلُ إِلَّا مِنِ اسْمَيْنِ“، کہ کلام وہ حاصل نہیں ہوتا مگر دو اسموں سے، ”نَحْوُ: ”زَيْدٌ قَائِمٌ““، جیسے ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ”وَيُسَمَّى جُمْلَةً اسْمِيَّةً“، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ جملہ اسمیہ۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، جملہ اسمیہ وہ ہے جس کا پہلا جزء کیا ہو؟ اسم ہو۔ اور اس کو جملہ اسمیہ کہتے ہیں۔ ”أَوْ مِنْ فِعْلٍ وَاسْمٍ“، یا کلام حاصل نہیں ہوگا مگر کس سے؟ فعل اور اسم سے، ”نَحْوُ: ”قَامَ زَيْدٌ““، جیسے ”قَامَ زَيْدٌ“، ”وَيُسَمَّى جُمْلَةً فِعْلِيَّةً“، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ جملہ فعلیہ، جس میں ایک فعل ہو اور ایک فاعل یا نائب فاعل ہو۔
بھئی صرف انہی کلام کلام صرف انہی دو صورتوں میں حاصل ہوگا: یا دونوں کیا ہوں؟ اسم، یا ایک اسم اور ایک فعل ہو۔ باقی صورتوں میں کلام حاصل نہیں ہوگا، کیوں نہیں ہوگا؟ وجہ مجھے آپ بتائیں۔ کیونکہ باقی صورتوں میں مسند اور مسند الیہ دونوں ہمیں نہیں ملتے، اور ہمیں تو کلام کے لیے دونوں چاہییں۔ یہی وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”إِذْ لَا يُوجَدُ الْمُسْنَدُ وَالْمُسْنَدُ إِلَيْهِ مَعًا فِي غَيْرِهِمَا“، اس لیے کہ مسند اور مسند الیہ معاً اکٹھے نہیں پائے جاتے، ”لَا يُوجَدُ“ کیونکہ نہیں پائے جاتے مسند اور مسند الیہ معاً اکٹھے ”فِي غَيْرِهِمَا“ ان دو صورتوں کے علاوہ۔ ان دو صورتوں کے علاوہ کے علاوہ مسند اور مسند الیہ اکٹھے نہیں پائے جاتے، حالانکہ دونوں کا اکٹھے ہونا ضروری ہے پھر ہی کلام بنے گا۔ ”وَلَا بُدَّ لِلْكَلَامِ مِنْهُمَا“، اور ضروری ہے، لابد کا معنی ضروری، اور ضروری ہے کلام کے لیے منھما ان دونوں کا ہونا یعنی مسند کا بھی اور مسند الیہ کا بھی ہونا ضروری ہے بھئی۔
تو خلاصۂ کلام یہ ہوا اج کے سبق کا: کہ آپ نے کلام کی تعریف پڑھی: ”الْكَلَامُ لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالْإِسْنَادِ“۔ اور پھر آپ نے اسناد کی تعریف پڑھی، یاد رکھیے یہ دونوں عربی میں آپ نے یاد کرنی ہیں تعریفیں بھئی، یاد کرنی ہیں۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ دو کلمے ہونے کی چھ صورتیں بنتی ہیں، اور چھ میں سے صرف کتنی صورتوں میں کلام حاصل ہوتا ہے؟ دو میں، کیونکہ کلام کے لیے کیا ضروری ہے؟ مسند اور مسند الیہ دونوں کا ہونا ضروری ہے، اور باقی چار صورتوں میں یہ دونوں ہمیں نہیں ملتے اس لیے ان صورتوں میں کلام حاصل نہیں ہوگا۔
چلیے، بس بھئی بس۔ ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔