Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-003

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”أَمَّا الْمُقَدِّمَةُ فَفِي الْمَبَادِئِ الَّتِي يَجِبُ تَقْدِيمُهَا لِتَوَقُّفِ الْمَسَائِلِ عَلَيْهَا، وَفِيهَا فُصُولٌ ثَلَاثَةٌ۔ فَصْلٌ: النَّحْوُ عِلْمٌ بِأُصُولٍ يُعْرَفُ بِهَا أَحْوَالُ أَوَاخِرِ الْكَلِمِ الثَّلَاثِ مِنْ حَيْثُ الْإِعْرَابِ وَالْبِنَاءِ، وَكَيْفِيَّةُ تَرْكِيبِ بَعْضِهَا مَعَ بَعْضٍ۔ وَالْغَرَضُ مِنْهُ صِيَانَةُ الذِّهْنِ عَنِ الْخَطَإِ اللَّفْظِيِّ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ، وَمَوْضُوعُهُ الْكَلِمَةُ وَالْكَلَامُ“۔ گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایت النحو نے آپ کو بتایا تھا کہ قافیہ جو تھی اس کی عبارت واضح نہیں تھی، اس کے اندر مثالیں ہر مسئلے کی ذکر نہیں تھیں، اور جس کی وجہ سے ابتدائی طلبہ کے لیے اس کا سمجھنا مشکل تھا، تو ضرورت تھی کہ ایک ایسی کتاب لکھی جائے جو قافیہ سے پہلے طلبہ کو پڑھائی جائے، جس کی عبارت واضح ہو، جس میں ہر مسئلے کے ساتھ اس کی خوب مثالیں بھی ذکر کی گئی ہوں، تاکہ طالب علم کو وہ باتیں آسانی سے سمجھ میں آ جائیں اور پھر اس کے اندر قافیہ سمجھنے کی استعداد پیدا ہو جائے بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ میں نے اپنی اس کتاب کو قافیہ کی ترتیب پر لکھا ہے، واضح عبارت کے ساتھ، مثالیں ذکر کی ہیں، دلیلیں اور علتیں میں نے ذکر نہیں کیں تاکہ کہیں ابتدائی طالب علم کا ذہن تشویش میں نہ پڑ جائے اور اسے مسائل ہی سمجھ میں نہ آئیں۔ اور میں نے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے ایک مقدمے پر اور تین اقسام پر، تو اب وہ مقدمہ آگے شروع ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْمُقَدِّمَةُ“، تو مقدمہ جو ہے، ”فَفِي الْمَبَادِئِ“، مبادئ ابتدائی باتیں۔ تو مقدمہ جو ہے ففی المبادئ، ان ابتدائی باتوں کے بارے میں، ”الَّتِي يَجِبُ تَقْدِيمُهَا“، کہ جن کو واجب ہے مقدم کرنا، ”لِتَوَقُّفِ الْمَسَائِلِ عَلَيْهَا“، اس لیے کیونکہ مسائل ان پر موقوف ہیں۔ تو مقدمہ جو ہے اس میں مصنف فرما رہے ہیں کچھ میں ایسی ابتدائی باتیں ذکر کروں گا جن کو مقدم کرنا ضروری ہے، جن کو پہلے ذکر کرنا ضروری ہے، اس لیے کیونکہ آگے آنے والے مسائل ان پر موقوف ہیں، تو وہ مسائل اس پر موقوف ہوئے اور یہ مقدمہ موقوف علیہ ہوا۔ یہ سمجھ میں آئے گا تو مسائل سمجھ میں آئیں گے، تو وہ مسائل اس پر موقوف اور یہ مقدمہ کیا موقوف علیہ، اور موقوف علیہ کیا ہوتا ہے موقوف پر مقدم ہوتا ہے۔ تو اسی لیے کہا: ”أَمَّا الْمُقَدِّمَةُ فَفِي الْمَبَادِئِ الَّتِي يَجِبُ تَقْدِيمُهَا لِتَوَقُّفِ الْمَسَائِلِ عَلَيْهَا“، تو مقدمہ جو ہے ان ابتدائی باتوں کے بیان میں کہ جن کو مقدم کرنا واجب ہے بوجہ موقوف ہونے مسائل کے ان پر، ”وَفِيهَا فُصُولٌ ثَلَاثَةٌ“، اور اس کے اندر تین فصلیں ہیں بھئی۔ یہ مقدمے میں کچھ باتیں ذکر کریں گے، ان کو سمجھ لیں گے تو آگے مسائل کا سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ تو پہلی فصل ذکر کر رہے ہیں، یاد رکھیے اس پہلی فصل کے اندر وہ علمِ نحو کی تعریف ذکر کریں گے، علمِ نحو کی غرض و غایت یعنی اس کا مقصد ذکر کریں گے کہ علمِ نحو سیکھنے کا مقصد کیا ہے، اور اس کا موضوع ذکر کریں گے کہ اس علم کا موضوع کیا ہے، کس چیز کے بارے میں اس علم میں بحث کی جائے گی۔ تو سب سے پہلے تعریف کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: ”النَّحْوُ عِلْمٌ بِأُصُولٍ“۔ علم کا معنی ہے جاننا، اصول جمع ہے اصل کی، اور اصل کہتے ہیں قانون کو اور ضابطے کو۔ تو ”النَّحْوُ عِلْمٌ بِأُصُولٍ“، علمِ نحو جو ہے وہ جاننا ہے ایسے اصولوں کو، ”يُعْرَفُ بِهَا أَحْوَالُ أَوَاخِرِ الْكَلِمِ الثَّلَاثِ“، کہ جس کے ذریعے پہچانا جائے گا تین کلموں کے آخر کو۔ دوبارہ ترجمہ سنیں بھئی: علمِ نحو ان قوانین کے جاننے کا نام ہے کہ جن کے ذریعے جانا جائے گا تین کلموں کے آخر کے احوال کو، ”مِنْ حَيْثُ الْإِعْرَابِ وَالْبِنَاءِ“، معرب اور مبنی ہونے کی حیثیت سے، کہ مبنی ہے یا معرب ہے، اور پھر اگر معرب ہے تو اس کے آخر میں اس کو کس طرح پڑھنا ہے۔ ”وَكَيْفِيَّةُ تَرْكِيبِ بَعْضِهَا مَعَ بَعْضٍ“۔ ترکیب کا معنی ہوتا ہے جوڑنا، جوڑنا۔ بعض کو بعض کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت۔ ”وَكَيْفِيَّةُ تَرْكِيبِ بَعْضِهَا مَعَ بَعْضٍ“، بعض کو بعض کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت، بلکہ با محاورہ ترجمہ یوں کریں: ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت۔ یعنی کلموں کو آپس میں جوڑیں گے تو کس طرح جوڑیں گے؟ کس طرح جوڑیں گے؟ مثلاً فعل کے بعد فاعل آنا ہے، اس کے بعد کس کو لانا ہے؟ مفعول لانا ہے، اور فاعل پر کیا اعراب آئے گا؟ مفعول پر کیا اعراب آئے گا؟ اور ”إِنَّ“ کو کس پر داخل کریں گے؟ اسم پر یا فعل پر؟ یہ ہمیں بتلائیں گے۔ اور اسی طرح حروفِ جارہ کس پر داخل ہوں گے؟ اور ”أَنْ“ مصدریہ وغیرہ یہ کس پر داخل ہوں گے؟ ان کو آپس میں کیسے جوڑا جائے گا بھئی؟ یہ ساری چیزیں اس میں ذکر کریں گے بھئی۔ تو دیکھیے، دوبارہ ترجمہ سن لیں: کہ علمِ نحو وہ جاننا ہے ایسے قوانین کو کہ جن کے ذریعے پہچانا جائے گا تین کلموں کے آخر کے احوال کو معرب اور مبنی ہونے کی حیثیت سے، اور کیا جانا جائے گا؟ ”وَكَيْفِيَّةُ تَرْكِيبِ بَعْضِهَا مَعَ بَعْضٍ“، ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت، یعنی اسم، فعل، حرف وغیرہ کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت کو جانا جاتا ہے۔ یاد رکھیے یہ کیفیت کا عطف ہو رہا ہے احوال پر۔ کس پر؟ احوال پر۔ علمِ نحو وہ جاننا ہے ایسے قوانین کا، ”يُعْرَفُ بِهَا“ کہ اس کے ذریعے جانا جاتا ہے، کس چیز کو؟ تین کلموں کے احوال کو، اور ان کے جوڑنے کی کیفیت کو، اس کو جانا جاتا ہے۔ ”وَكَيْفِيَّةُ تَرْكِيبِ بَعْضِهَا مَعَ بَعْضٍ“، اور ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت کو جانا جاتا ہے۔ ”وَالْغَرَضُ مِنْهُ“، اور غرض جو ہے منہ اس علم کے ذریعے، اس علمِ نحو کے ذریعے، یعنی اس کی غرض کیا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اس کا فائدہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”صِيَانَةُ الذِّهْنِ عَنِ الْخَطَإِ اللَّفْظِيِّ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ“۔ صیانت کا معنی بچانا، حفاظت کرنا۔ کہ اس کا مقصد جو ہے اس علم کا، ”صِيَانَةُ الذِّهْنِ“ وہ ذہن کو بچانا ہے، ”عَنِ الْخَطَإِ اللَّفْظِيِّ“ لفظی غلطی سے، ”فِي كَلَامِ الْعَرَبِ“ کس کے اندر؟ عربی کلام۔ عرب کا جو کلام ہے، عرب کی جو زبان ہے اس کے اندر ذہن کو لفظی غلطی سے بچانا یہ اس علم کا مقصد ہے، کہ یہ علم آپ کو آتا ہوگا تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس لفظ پر رفع پڑھنا ہے، نصب پڑھنا ہے یا جر پڑھنا ہے، تو یہ اس علم کے ذریعے پتہ چلے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم تو بہت سے طلبہ کو دیکھتے ہیں وہ اس علم کو پڑھ کر آئے ہوتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی کیا کرتے ہیں؟ کلامِ عرب میں غلطی کرتے ہیں، انہیں پتہ نہیں چلتا کہ کہاں رفع پڑھنا ہے، کہاں نصب پڑھنا ہے اور کہاں جر پڑھنا ہے۔ اور آپ نے تو ہمیں کیا بتلایا کہ یہ علم جو پڑھ لے گا وہ اس کی غلطیوں سے کلامِ عرب میں اس کو اس کی غلطیوں سے یہ علم حفاظت کرے گا۔ تو جواب یہ کہ بھئی وہ علم اور اس کے قوانین ذہن میں حاضر بھی ہونے چاہییں، ذہن میں حاضر ہوں گے تو وہ غلطی سے بچائیں گے۔ اگر وہ ذہن میں حاضر ہی نہیں ہیں یعنی طالب علم پڑھ کر ان کو بھول گیا ہے، پھر تو یہ غلطی سے حفاظت بھی نہیں کریں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالْغَرَضُ مِنْهُ صِيَانَةُ الذِّهْنِ عَنِ الْخَطَإِ اللَّفْظِيِّ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ“، اور علمِ نحو کی غرض جو ہے وہ ذہن کو بچانا ہے لفظی غلطی سے، کس میں؟ کلامِ عرب میں۔ لفظی غلطی یعنی تلفظ میں غلطی ہم نہ کریں، رفع، نصب، جر وغیرہ کہاں پڑھنا ہے کس طرح پڑھنا ہے۔ ”وَمَوْضُوعُهُ الْكَلِمَةُ وَالْكَلَامُ“، اور اس علم کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔ اس علمِ نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے، اعتراض ہوتا ہے کہ یہ تو صاحبِ ہدایت النحو نے دو موضوع ذکر کر دیے اس علم کے، حالانکہ کسی علم کا موضوع ایک چیز ہوا کرتی ہے، تو جب دو موضوع آ گئے تو اس کا تو مطلب یہ ہے کہ یہ دو علم ہیں بھئی، دو علم۔ حالانکہ نحو دو علم تو نہیں، نحو تو ایک ہی علم ہے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ جتنے موضوع ہوں گے اتنے علموں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ اور ایک موضوع ہوگا تو ایک علم، دو موضوع ہیں تو دو علم، تین موضوع ہیں تو تین علم۔ تو یہاں تو دو موضوع ذکر کر دیے، تو جواب یہ کہ بھئی یہ کلمہ اور کلام بظاہر دو ہیں لیکن درحقیقت ایک ہی ہیں بھئی۔ کیونکہ وہی لفظ اکیلا ہو تو وہ کلمہ ہے، اور وہی لفظ دو یا زیادہ ہوں اور ان میں اسناد ہو تو وہی کیا ہے؟ کلام ہے، کلام ہے۔ تو یہ ایک ہی چیز ہے، کلمہ وہی مفرد ہونے کی حالت میں اور کلام وہ ترکیب کی حالت میں بھئی۔ کیونکہ کلام کئی کلموں سے ہی مل کر بنتا ہے بھئی، دیکھنے میں تو دو لیکن درحقیقت کیا ہیں؟ ایک ہی ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”فَصْلٌ: الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“۔ ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ“، سب سے پہلے تو وضع کا معنی سمجھ لو، وضع کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے تعریف کیا کی؟ کلمہ ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو مفرد معنی کے لیے۔ وضع کا معنی سمجھ لیں بھئی، وضع کسے کہتے ہیں۔ یاد رکھیے وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ وضع کا کیا معنی ہے؟ مقرر کرنا۔ دیکھو ہر زبان والوں نے ہر معنی کے لیے کوئی لفظ مقرر کیا ہوتا ہے۔ مثلاً یہ جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہ دیوار بھئی، دیوار۔ تو یہ جو اینٹوں سے بنی ہوئی سیدھی دیوار کھڑی ہے، اس کو اردو زبان والے کیا کہتے ہیں؟ دیوار بھئی۔ اس کے لیے انہوں نے دیوار کا لفظ مقرر کیا ہوا ہے۔ اور اسی طرح وہ برتن جس میں ہم پانی پیتے ہیں اس کو گلاس کہتے ہیں، اس کے لیے کیا لفظ مقرر کیا ہے؟ گلاس۔ جیسے ہی گلاس کہا، فوراً آپ کے ذہن میں وہ برتن آ گیا جس میں پانی پیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح وہ برتن جس میں چائے پی جاتی ہے اس کا نام انہوں نے پیالی رکھا یا کپ رکھا بھئی، سمجھ میں؟ تو جیسے ہی وہ لفظ بولیں وہ آپ کے ذہن میں آتا ہے کیونکہ اس معنی کے لیے یہ لفظ مقرر کیا ہوا ہے۔ اسی طرح دیکھو، آسمان پر یہ جو گول جسم چمک رہا ہے اور جس کی وجہ سے دن کا اجالا ہے ہر طرف، اس کا نام اردو والوں نے، اردو زبان والوں نے کیا مقرر کیا ہے؟ سورج۔ اس کو سورج، جیسے ہی میں لفظ سورج کہتا ہوں فوراً آپ کے ذہن میں یہ گول ٹکیہ چمکدار روشن ٹکیہ آ جاتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ دیکھو ہر زبان والوں نے ہر ذات کے لیے یا ہر معنی کے لیے کوئی ایک لفظ مقرر کیا ہوتا ہے، اور یہ مقرر کرنا کیا کہلاتا ہے؟ وضع کہلاتا ہے۔ یعنی اس زبان والوں نے اس لفظ کو اس معنی کے لیے وضع کیا ہے۔ دیوار کہیں تو یہ والا معنی ذہن میں آتا ہے، گلاس کہیں تو وہ والا معنی ذہن میں آتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہی لفظ اگر آپ کسی عرب کے سامنے کہیں اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ انہوں نے ان چیزوں کے لیے یہ لفظ وضع نہیں کیے، یہ لفظ مقرر نہیں کیے، ان کی اپنی زبان ہے۔ انہوں نے سورج کے لیے شمس کا لفظ مقرر کیا ہوا ہے، انہوں نے دیوار کے لیے جدار کا لفظ مقرر کیا ہوا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ہر زبان والوں نے چیزوں کے لیے اور مختلف معانی کے لیے اپنے اپنے لفظ مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں، اس مقرر کرنے کو کیا کہتے ہیں؟ وضع۔ یہ جو ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے یا ایک ذات کے لیے مقرر کر دیا جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ وضع کہتے ہیں، وضع کہتے ہیں۔ تو تعریف اب دیکھیے: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، کلمہ ایسا لفظ ہے جس کو مقرر کیا گیا ہو، یعنی وضع کیا گیا ہو یعنی مقرر کیا گیا ہو، ”لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“ مفرد معنی کے لیے، کسی مفرد معنی کے لیے۔ یعنی معلوم ہوا کلمہ ایسا لفظ ہوگا جس کا کوئی معنی ہوگا، کلمہ ایسا لفظ ہوگا جس کا کوئی معنی ہوگا۔ بھئی ایک ہے لفظ۔ لفظ وہ ہے جس پر ہم تلفظ کرتے ہیں، زبان سے بولتے ہیں، چاہے معنی ہو چاہے معنی نہ ہو۔ مثلاً میں اردو میں استعمال کرتے ہیں: روٹی شوٹی، یا روٹی ووٹی۔ اب دیکھو روٹی، یہ تو مقرر ہے، اس کا تو معنی ہے، لیکن اگلا لفظ ووٹی یا شوٹی بولتے ہیں اس کا کوئی معنی نہیں، لیکن یہ لفظ ہے کیونکہ ہم اس پر کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ تو لفظ کسے کہتے ہیں؟ جس کا زبان پر تلفظ کیا جائے۔ تو لفظ عام ہے، اس کا ہو سکتا ہے اس کا کوئی معنی ہو، ہو سکتا ہے اس کا کوئی معنی نہ ہو۔ لیکن انہوں نے لفظ کے ساتھ وضع کی قید لگا دی: ایسا لفظ جس کا کوئی معنی ہو، جس کو جو کسی معنی کے لیے یا کسی چیز کے لیے مقرر کیا گیا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ۔ معلوم ہوا کلمہ ہمیشہ ایسے لفظ کو کہیں گے جس کا کوئی معنی ہوگا۔ اگر معنی نہیں تو اس کو کلمہ بھی نہیں کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یاد رکھیے بھئی! ”لَفْظٌ“ نکرہ آیا، نکرہ آیا۔ بھئی معرفہ کی اقسام آپ نے پڑھی ہوں گی، معرفہ چھ سات قسمیں معرفہ کی: ضمیر وہ بھی کیا ہے؟ ضمیریں بھی معرفہ، اسمِ اشارہ بھی معرفہ، اور اسمِ موصول بھی معرفہ، اور اسی طرح اسی طرح عَلَم کسی کا نام جو ہوتا ہے زید، عمرو، بکر یہ بھی کیا ہیں؟ معرفہ۔ اور اسی طرح جس اسم پر الف لام داخل ہو جائے، الرَّجُلُ، یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ۔ اور ان میں سے کسی کی طرف کوئی اسم مضاف ہو جائے وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ معرفہ۔ ”غُلَامُ هَٰذَا“، دیکھو غلام کا لفظ نکرہ ہے لیکن وہ مضاف ہے کس کی طرف؟ ھذا کی طرف، ھذا اسمِ اشارہ ہے اور وہ معرفہ ہے، اور معرفہ کی طرف جو لفظ مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ یا اسی طرح ”غُلَامُهُ“، دیکھو ہا ضمیر کی طرف مضاف تو معرفہ بن گیا، یا ”غُلَامُ زَيْدٍ“ عَلَم کی طرف اضافت ہوئی تو یہ غلام کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ تو یہ معرفہ کی اقسام آپ نے پڑھ لی ہیں بھئی۔ تو یہ ”لَفْظٌ“ بھئی دیکھیے، ”لَفْظٌ“ نکرہ آیا، لفظٌ کیا آیا؟ نکرہ۔ یاد رکھیے ضابطہ: نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ اس کی صفت بنتا ہے۔ لفظٌ نکرہ ہے اور ”وُضِعَ“ اس کے بعد فعل آیا، تو نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔ اور دیکھیے یہاں لفظٌ نکرہ ہے، یہ اسمِ اشارہ بھی نہیں، یہ ضمیر بھی نہیں، یہ اسمِ موصول بھی نہیں، اس پر الف لام بھی نہیں داخل، یہ کسی کا نام بھی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ان میں سے کسی کی طرف مضاف بھی نہیں، تو یہ لفظٌ ہوا نکرہ، اور نکرہ کے بعد کیا آ گیا؟ فعل، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس نکرہ کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو پھر اس کا ترجمہ، یاد رکھیے بھئی! نکرہ جو ہے نکرہ، نکرہ کے بعد اگر صفت آ جائے تو اس کے دو طریقے ہیں ترجمہ کرنے کے۔ عربی میں صفت مؤخر ہوتی ہے لیکن اردو میں صفت مقدم ہو جاتی ہے۔ مثلاً دیکھیے: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، رجل کا معنی آدمی، مرد، اور شجاع کا معنی بہادر۔ تو عربی میں دیکھو رجل موصوف پہلے ہے اور شجاع اس کی صفت بعد میں ہے، لیکن اسی کا آپ اردو میں ترجمہ کریں تو آپ کہیں گے: بہادر آدمی۔ دیکھو وہ بہادر کا لفظ عربی میں مؤخر تھا اور آدمی کا لفظ مقدم تھا، لیکن اردو میں اس کا برعکس کر دیا: بہادر کو مقدم کر دیا اور آدمی کو مؤخر۔ تو اردو میں موصوف صفت کا ترجمہ کس طرح کرتے ہیں؟ کہ صفت کو موصوف پر مقدم کر دیتے ہیں، ایک طریقہ یہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے نکرہ کے اندر موصوف صفت کا ترجمہ کرنے کا کہ آپ صفت کو مقدم نہ کریں۔ عربی میں موصوف مقدم تھا اور صفت مؤخر، اردو میں بھی آپ اسی طرح رکھتے ہیں: موصوف کو مقدم ہی رکھتے ہیں اور صفت کو مؤخر ہی رکھتے ہیں، لیکن پھر موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، موصوف کون؟ رجل، اس سے پہلے ایسا کا لفظ لے آؤ: ایسا آدمی، شجاع جو کہ بہادر ہے۔ دیکھا یہ، ایک طریقہ کیا تھا؟ صفت کو اردو میں مقدم کر دو اور کیسے ترجمہ کرو؟ بہادر آدمی۔ دوسرا طریقہ کیا ہے؟ ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔ طریقہ آ گیا؟ ایک طریقے میں صفت کو مقدم کر دیا، دوسرے میں صفت کو مؤخر ہی رکھا، موصوف کو مقدم ہی رکھا، البتہ موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا لفظ موقع کے مطابق لے آتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی دیکھیے: ”لَفْظٌ“ نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد فعل آیا، اور آپ نے ضابطہ پڑھ لیا نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو یہاں اس موقع پر یہ دوسرا طریقہ استعمال کر لیتے ہیں ترجمہ کرنے کا: کلمہ ایسا لفظ ہے ”وُضِعَ لِمَعْنًى“ جس کو مقرر کیا گیا ہو یعنی جس کو وضع کیا گیا ہو، ”لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“ کسی مفرد معنی کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو لفظ وہ اس کا معنی بھی ہو سکتا ہے اس کا معنی ہو، ہو سکتا ہے اس کا معنی نہ ہو، لیکن جب آپ الکلمۃ کہتے ہیں تو پھر اس کا با معنی ہونا ضروری ہے، اس کا کوئی نہ کوئی معنی ہوگا۔ اچھا اب ایک اور بات یاد رکھیے: یہ مفرد جو ہے مفرد، یہ معنی کی بھی صفت ہو سکتا ہے اور لفظ کی بھی صفت ہو سکتا ہے۔ اگر اس کو بناؤ لفظ کی صفت، تو موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ لفظٌ پر پیش ہے، تنوین ہے، مرفوع ہے، تو صفت بھی مرفوع آئے گی۔ پھر کیسے پڑھیں گے؟ مفردٌ، تو عبارت یوں ہوئی: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٌ“۔ مفردٌ پڑھیں گے، کیونکہ یہ صفت ہے کس کی؟ لفظٌ کی، اور لفظٌ مرفوع اس پر رفع آپ پڑھ رہے ہیں تو مفردٌ پر بھی رفع پڑھیں گے۔ اب ترجمہ کیسے کریں گے؟ دو صفتیں آ گئیں لفظٌ کی: ایک ”وُضِعَ لِمَعْنًى“ اور ایک ”مُفْرَدٌ“۔ اب ہم دونوں طریقے استعمال کر لیتے ہیں، دونوں طریقے کس طرح؟ ایک صفت کو لفظ پر مقدم کر دیں گے اور ایک کے لیے ایسا کا لفظ لے آئیں گے، اس کو مؤخر ہی رکھیں گے لیکن اس کے لیے ایسا کا لفظ لے آئیں گے۔ تو مفرد یہ بھی لفظ کی صفت، اور وضع بھی لفظ کی صفت۔ یہ مفرد کو لفظ پر مقدم کر دو: مفرد لفظ، اور دوسرا وضع کے لیے ایسا کا لفظ لے آؤ: ایسا مفرد لفظ، ”وُضِعَ لِمَعْنًى“ جس کو معنی کے لیے وضع مقرر کیا گیا ہو، وضع کیا گیا ہو۔ اب ترجمہ دیکھیے بھئی: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٌ“، کلمہ ایسا مفرد لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کسی معنی کے لیے، یعنی اس کا کوئی نہ کوئی معنی ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ دوسری دوسرا طریقہ، دوسری ترکیب: دوسری ترکیب یہ کہ اس مفرد کو معنی کی صفت بنائیں بھئی، مفرد کو معنی کی صفت بنائیں، اور معنی پر لام جارہ داخل ہے تو یہ معنی مجرور ہے۔ یہ اسمِ مقصور ہے بھئی: جَاءَنِي مُوسَى، رَأَيْتُ مُوسَى، مَرَرْتُ بِمُوسَى، جس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیا ہوتا ہے؟ تقدیری۔ اور یہ مَعْنًى کے آخر میں الف موجود تھا لیکن وہ اجتماعِ ساکنین سے گر گیا ہے بھئی، اجتماعِ ساکنین سے۔ دیکھو لام داخل ہوا اور لام جارہ ہے اور حرفِ جر کیا کرتا ہے؟ اپنے بعد والے اسم کو جر دیتا ہے، تو یہ اصل میں تھا ”لِمَعْنَيِنْ“ کیونکہ جر آئے گا نا، ”لِمَعْنَيِنْ“ تھا، اور اس کے آخر میں تنوین بھی آ رہی ہے ”لِمَعْنَيِنْ“، تنوین آ رہی ہے یا نہیں؟ اور تنوین یاد رکھو نونِ ساکن کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام ہے۔ کس طرح نونِ ساکن کا نام ہے؟ دیکھو میں آپ کے سامنے ایک لفظ لکھتا ہوں، غور سے آپ نے اس کو دیکھنا ہے اور پھر اس کو پڑھنا ہے۔ میں نے آپ کے سامنے لکھی: ز، اور پھر میں نے لکھی: ی اور اس کے ساتھ دال بھی ملا دیا: ز، ی، د۔ اور پھر اس دال کے اوپر میں نے دو پیش لگا دیے یعنی تنوین لگا دی۔ اب اس کو ذرا پڑھو: زَيْدٌ۔ بھئی یہ نون آپ آخر میں کہاں سے پڑھ رہے ہیں؟ میں نے تو صرف ز، ی اور دال لکھی، لیکن آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ زیدٌ، آپ نون بھی آخر میں پڑھ رہے ہیں دال کے بعد: زیدٌ۔ معلوم ہوا یہ جو نون ہے یہ کیا ہے دراصل؟ وہ تنوین ہے جو اس کے اوپر میں نے لکھی بھئی۔ تو معلوم ہوا تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن، اور یہ نون ساکن ہے آخر میں آ رہا ہے تو یہ تنوین ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ کیا تھا؟ ”لِمَعْنَيِنْ“، اور یا کے نیچے تنوین ہے یعنی یوں کہو: یا کے بعد ایک نونِ ساکن ہے، یا کے بعد ایک نونِ ساکن ہے۔ اور آپ نے صرف کے اندر ضابطہ پڑھا ہے کہ واؤ یا یا متحرک ہوں، جیسے قَال میں پڑھا ہوگا، قال کا قانون بھئی، اور اسی طرح رَمَى میں، رَمَى۔ واؤ یا یا متحرک ہو اور ما قبل والے حرف پر فتحہ ہو یعنی زبر ہو، تو اس واؤ اور یا کو الف سے بدلتے ہیں۔ جیسے قَالَ اصل میں قَوَلَ تھا، واؤ متحرک ہے یعنی اس پر حرکت ہے اور ما قبل میں قاف پر زبر ہے تو اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ قَالَ ہوا۔ اسی طرح رَمَى اصل میں کیا تھا؟ رَمَیَ، یا متحرک تھی یعنی اس پر حرکت تھی اور ما قبل میں میم پر زبر تھی تو اس یا کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ رَمَى۔ تو یہاں بھی وہی قانون لگے گا: ”لِمَعْنَيِنْ“، اب یا یا کے نیچے حرکت ہے یا یا ساکن ہے؟ ”لِمَعْنَيِنْ“، یا کے نیچے کسرہ ہے، یا متحرک ہے اس وقت اس پر حرکت ہے، اور اس سے ما قبل جو نون ہے اس پر کیا ہے؟ فتحہ، تو وہی قانون لگ گیا: یا متحرک ما قبل فتحہ آیا تو اس کو کس سے بدلا؟ الف سے، الف سے۔ اور آخر میں وہ تنوین والا نون بھی ہے تو کیا بن گیا؟ ”لِمَعْنَانْ“۔ کیا بن گیا؟ ”لِمَعْنَانْ“۔ ”لِمَعْنَيِنْ“ تھا، یا الف سے بدل گئی کیا بن گیا؟ ”لِمَعْنَانْ“، اور پھر الف بھی ساکن، نون بھی ساکن، تو اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ آیا تو الف گر گیا، کیا بن گیا؟ ”لِمَعْنًى“۔ تو دیکھو اس وقت یہ کیا ہے؟ ”لِمَعْنًى“۔ تو الف یہاں تقدیراً ابھی بھی موجود ہے اور وہ گرا ہے صرف اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے، اور جس اسم کے آخر میں الف موجود ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسمِ مقصور کہتے ہیں، جس کے آخر میں الف ہو بھئی، اسمِ مقصور۔ اور اسمِ مقصور جیسے موسیٰ، اس کا اعراب آپ نے پڑھا ہے تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے: جَاءَنِي مُوسَى، رَأَيْتُ مُوسَى، مَرَرْتُ بِمُوسَى۔ لہٰذا یہ لام جارہ ہے اور مَعْنًى اس وقت کیا ہے؟ مجرور، مجرور تقدیراً ہے۔ تو جب یہ مجرور ہے تو جب مفرد مفرد کو اس کی صفت بنا رہے ہیں تو وہ بھی کیا ہوگا؟ مجرور۔ لیکن اس کے آخر میں تو الف نہیں ہے، لہٰذا اس پر اعراب آئے گا اور اس پر کسرہ آئے گا: ”لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ”لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، تو اب کیسے پڑھیں گے؟ ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“۔ مفردٍ سنتے ہی آپ کو پتہ چل گیا، یہ مفرد کو میں نے کس کی صفت بنایا ہے؟ معنیٰ کی، شاباش۔ اور اگر میں یوں پڑھوں: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٌ“، سنتے ہی آپ کو پتہ چل گیا کہ مفرد کو میں نے کس کی صفت بنایا؟ لفظٌ کی، کیونکہ وہ بھی مرفوع یہ بھی مرفوع۔ تو پہلے ہم نے صفت بنایا تھا لفظ کی اور کیا ترجمہ کیا تھا؟ کلمہ ایسا مفرد لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کسی معنی کے لیے۔ اور اگر آپ مفرد کو صفت بناتے ہیں معنی کی، ”لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، اب ترجمہ یوں ہوگا: اب مفرد کا لفظ لفظ کے سے پر مقدم نہیں کرنا، کیونکہ مفرد لفظ کی بات نہیں ہو رہی، مفرد معنی کی بات ہو رہی ہے، مفرد معنی کی صفت ہے۔ تو اب یوں کریں گے: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ“، کلمہ ایسا لفظ ہے ”وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“ جس کو وضع کیا گیا ہو کسی مفرد معنی کے لیے، کسی ایک معنی کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَهِيَ مُنْحَصِرَةٌ فِي ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: اسْمٌ وَفِعْلٌ وَحَرْفٌ“۔ اور ھِیَ ضمیر راجع ہے کلمہ کو۔ انحصر ینحصر کے معنی ہوتے ہیں بند ہونے کے۔ اور یہ جو کلمہ ہے، منحصرۃ یہ بند ہے فی ثلاثۃ اقسام تین قسموں میں، یعنی اس کی تین ہی قسمیں ہیں، چار قسمیں نہیں۔ یہ تین قسموں میں بند ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ مُنْحَصِرَةٌ فِي ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ“، اور یہ کلمہ جو ہے یہ بند ہے تین قسموں میں، اور وہ تین قسمیں یہ ہیں: ”اسْمٌ“، ایک اسم ہے، ”وَفِعْلٌ“، اور فعل ہے، ”وَحَرْفٌ“، اور حرف ہے۔ تو اس کو پڑھیں گے ایسے بھئی: ”اسْمٌ وَّفِعْلٌ وَّحَرْفٌ“۔ کیوں؟ بھئی وجہ یہ کہ اسمٌ کے آخر میں تنوین ہے اور تنوین کس چیز کا نام؟ نونِ ساکن کا نام۔ فعلٌ کے آخر میں بھی تنوین ہے اور تنوین کس چیز کا نام؟ نونِ ساکن کا۔ اور اس نونِ ساکن کے بعد واؤ آ رہا ہے: ”اسْمٌ وَّفِعْلٌ“، تو واؤ آ رہا ہے۔ اور آپ نے صرف میں قانون پڑھا ہوگا کہ حروفِ یرملون، یعنی ی، ر، م، ل، و، ن، حروفِ یرملون: ی، ر، م، ل، و، ن۔ ان حروف سے پہلے اگر نونِ ساکن آ جائے تو اس نون کو بھی اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کر دیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی کیا آیا: اسمٌ، آخر میں کیا آیا؟ نونِ ساکن، اور اس کے بعد کیا آیا؟ واؤ، اور واؤ حروفِ یرملون میں سے ہے، دیکھو یرملون اس میں واؤ آ رہا ہے یا نہیں؟ تو اس واؤ سے پہلے کیا آیا؟ نونِ ساکن، اور ضابطہ کیا پڑھا کہ جب ان حروف سے پہلے نونِ ساکن آئے تو نون کو بھی اسی حرف میں بدل کر اس میں ادغام کریں گے، تو اس نون کو بھی واؤ کر کے واؤ میں ادغام کر دیا۔ جو حرف آ رہا ہوگا اسی کی طرح اس کو بدل دیں گے نون کو، تو اس نون کے بعد کیا تھا؟ واؤ، تو اس نون کو بھی کس سے بدلا؟ واؤ سے، اور پھر دو واؤ آ گئے تو دونوں کا آپس میں کیا کر دیا؟ ادغام۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ ”اسْمٌ وَّفِعْلٌ“۔ ”اسْمٌ وَّفِعْلٌ وَّحَرْفٌ“، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ فعلٌ کے بعد بھی اسی طرح نون کو واؤ کر کے واؤ میں ادغام کیا گیا۔ تو کہتے ہیں یہ کلمہ جو ہے بند ہے تین اقسام میں: اسم اور فعل اور حرف۔ آگے وجہِ حصر ذکر کر رہے ہیں بھئی، وجہِ حصر۔ وجہِ حصر یعنی یہ جو کلمہ کی تین ہی قسمیں کیوں بنائی گئیں، چار قسمیں کیوں نہیں بنائیں، پانچ قسمیں کیوں نہیں بنائیں؟ تو اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ حصر کا معنی بند کرنا، تو اس کو تین ہی قسموں میں کیوں بند کیا؟ یعنی تین ہی قسمیں کیوں بنائیں، اس کی وجہ ذکر کریں گے اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ وجہِ حصر، وجہِ حصر کہتے ہیں کہ اس کی تین ہی قسمیں کیوں ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا إِمَّا أَنْ لَا تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“، اس لیے کیونکہ ہا ضمیر راجع ہے کلمہ کو، اس لیے کیونکہ یہ کلمہ جو ہے ”إِمَّا أَنْ لَا تَدُلَّ“ یا تو یہ دلالت نہیں کرے گا ”عَلَى مَعْنًى“ کسی معنی پر ”فِي نَفْسِهَا“ جو اس کی ذات میں ہو۔ ذات، یاد رکھیے یہ فی بمعنی با کے ہے۔ تو ترجمہ یوں ہوگا کہ یا تو کلمہ جو ہے وہ دلالت نہیں کرے گا ”عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“ ای بنفسہا، یعنی خود بخود، خود کسی معنی پر دلالت نہیں کرے گا، یا خود دلالت کرے گا۔ دو ہی صورتیں بنتی ہیں نا، یا تو کلمہ خود کسی معنی پر دلالت کرے گا یا خود دلالت نہیں کرے گا۔ اگر خود دلالت نہیں کرتا تو وہ حرف ہے، حرف ہے۔ حرف خود اکیلا کسی معنی پر دلالت نہیں کرتا جب تک کہ اس کے ساتھ کوئی اور کلمہ نہ ملایا جائے۔ تو کلمہ یا تو وہ خود اپنے معنی پر دلالت خود کسی معنی پر دلالت نہیں کرے گا یا پھر کرے گا۔ اور اگر کرتا ہے پھر دو حالتیں ہیں: یا تو جس معنی پر یہ دلالت کر رہا ہے اس پر اس کے ساتھ کوئی زمانہ ملا ہوا ہے یا زمانہ ملا ہوا نہیں؟ اگر زمانہ ملا ہوا ہے تو وہ فعل ہے، اور اگر زمانہ نہیں ملا ہوا تو وہ اسم۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا حرف اپنے معنی پر خود دلالت نہیں کرتا جب تک اس کے ساتھ کوئی اور کلمہ نہ ملے۔ فعل اپنے معنی پر خود دلالت کرتا ہے اور اس کے معنی کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ بھی ملا ہوتا ہے، یعنی یعنی ماضی، حال یا مستقبل، ان زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوگا۔ اور اسم جو ہے وہ بھی اپنے معنی پر خود دلالت کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ یا تو وہ کلمہ جو ہے وہ دلالت نہیں کرے گا ”عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“ ای بنفسہا، کسی معنی پر خود، کسی معنی پر خود دلالت نہیں، یاد رکھیے حرف اپنے معنی پر خود دلالت نہیں کر سکتا اکیلا بھئی۔ مثال سے بات آپ کو سمجھ میں آئے گی۔ بھئی میں ایک لفظ آپ کے سامنے بولنے لگا ہوں، دیکھیے آپ کو اس کا معنی سمجھ میں آتا ہے یا نہیں: ابتداء۔ ابتداء کا کیا معنی ہے؟ شروع کرنا۔ دیکھو اپ کو اس کا ابتداء لفظ بولتے ہی آپ کو اس کا معنی سمجھ میں آ گیا۔ تو ابتداء کا معنی بھی شروع کرنا۔ اسی طرح مِنْ جو ہے، مِن حرف ہے، اس کا معنی بھی شروع کرنا ہے، لیکن میں آپ کے سامنے کہوں: مِنْ، آپ کو کوئی شروع کرنا سمجھ میں آیا؟ نہیں، کیونکہ یہ حرف اکیلا اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا۔ ہاں، اس کے ساتھ ایک دو کلمے اور جوڑ دیں، اب شروع کرنے کا معنی سمجھ میں آئے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”سِرْتُ مِنَ الدَّارِ إِلَى الْمَسْجِدِ“، میں گھر سے مسجد تک یا مسجد کی طرف گیا۔ تو ”سِرْتُ مِنَ الدَّارِ“، میں چلا، کہاں سے چلا؟ ”مِنَ الدَّارِ“، گھر سے۔ معلوم ہوا یہ چلنے کی ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے؟ گھر سے، یہ کس نے بتایا؟ مِن نے۔ کس نے بتایا؟ مِن نے بتایا، تو دیکھو مِن نے بھی ابتداء والا معنی ادا کیا، اور لفظِ ابتداء بھی یہی ابتداء والا معنی ادا کرتا ہے، لیکن ابتداء کا لفظ وہ خود بخود اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے وہاں کسی اور کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں، لیکن مِن کے اندر لفظ کو جوڑنے کی ضرورت ہے کہ کہاں سے آغاز ہو رہا ہے؟ تو مِن کے بعد الدار آیا، معلوم ہوا کہ آغاز، ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے؟ دار سے۔ اور کس چیز کی ابتداء ہو رہی ہے؟ اس کے لیے ما قبل میں ”سِرْتُ“ آ گیا کہ میں چلا، یعنی چلنے کی ابتداء ہو رہی ہے۔ تو مِن بھی ابتداء کا معنی ادا کرتا ہے اور لفظِ ابتداء بھی، لیکن لفظِ ابتداء اپنے ساتھ کسی دوسرے کلمے کو جوڑنے کا محتاج نہیں یہ معنی ادا کرنے کے لیے، وہ خود بخود کیا کر دیتا ہے؟ اس معنی کو ادا کر دیتا ہے اور اس پر دلالت کر دیتا ہے اور وہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اور مِن بھی ابتداء کا معنی ادا کرتا ہے، ابتداء کے معنی کے لیے آتا ہے، لیکن اس سے مِن سے ابتداء کا معنی سمجھ میں نہیں آتا جب تک اس کے ساتھ اور کلمے کو نہ جوڑا جائے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهَا إِمَّا أَنْ لَا تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“۔ تو معلوم ہوا بھئی! حرف خود اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے کہ نہیں کرتا؟ نہیں، خود نہیں کرتا، بلکہ کس کا محتاج ہے؟ کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کلمے کو جوڑا جائے، اور اسم اور فعل کسی دوسرے کلمے کے جوڑنے کے محتاج نہیں۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهَا إِمَّا أَنْ لَا تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“، اس لیے کیونکہ وہ کلمہ یا تو وہ دلالت نہیں کرے گا کسی معنی پر خود بخود، ”وَهُوَ الْحَرْفُ“، اور وہ کون ہے؟ وہ حرف ہے۔ ”أَوْ تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“، یا وہ کلمہ دلالت کرے گا ”عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“ ای بنفسہا، کسی معنی پر، وہ دلالت کرے گا کسی معنی پر خود بخود، ”وَيَقْتَرِنُ مَعْنَاهَا بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ“، اور ملا ہوا ہوگا، اقترن کے معنی ملنے کے، اور ملا ہوا ہوگا ”مَعْنَاهَا“ اس کلمے کا معنی، ”بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ“ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ، ”وَهُوَ الْفِعْلُ“، اور وہ فعل ہے۔ ”أَوْ تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“، یا وہ کلمہ دلالت کرے گا کسی معنی پر ”فِي نَفْسِهَا“ ای بنفسہا خود ہی، ”وَلَمْ يَقْتَرِنْ مَعْنَاهَا بِهِ“، اور نہیں ملا ہوا ہوگا اس کلمے کا معنی بہ، بہ کی ہا ضمیر راجع ہے احد الازمنۃ الثلاثۃ کو، نہیں ملا معنی اس کلمے کا معنی، نہیں ملا ہوگا اس کلمے کا معنی بہ ای باحد الازمنۃ الثلاثۃ تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ۔ اگر تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ اس کلمے کا معنی ملا ہوا ہو تو وہ فعل، اور اگر اپنے معنی پر خود دلالت تو کر رہا ہے لیکن تین زمانوں میں سے کسی معنی کے ساتھ وہ زمانہ ملا ہوا نہیں ہے تو وہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ تو دوبارہ دیکھ لیں بھئی، اسم کے اسم کا جو آخر میں بیان کر رہے ہیں: ”أَوْ تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“، یا وہ کلمہ خود بخود کسی معنی پر دلالت کرے گا، ”وَلَمْ يَقْتَرِنْ مَعْنَاهَا بِهِ“، اور ملا ہوا نہیں ہوگا اس کلمے کا معنی تین زمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، ”وَهُوَ الِاسْمُ“، اور وہ اسم ہے بھئی، اسم ہے۔ بھئی یاد رکھیے، ”وَهُوَ الِاسْمُ“ یوں نہیں پڑھنا، ”وَهُوَ الِاسْمُ“ یوں نہیں پڑھنا، بلکہ یہ لام کے نیچے کسرہ دے دیں گے، کسرہ پڑھیں گے۔ الف لام کا ہمزہ بھی وصلی وہ بھی گر جائے گا، درمیانِ عبارت میں آپ نے پڑھا ہوگا، سنا ہوگا کہ ہمزۂ وصل جو ہوتا ہے وہ درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے، درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے۔ تو الف لام کا ہمزہ وصلی وہ گر گیا، اور آگے اسم کا ہمزہ بھی وصلی ہے وہ بھی گر گیا۔ تو اب لام رہ گیا اور لام تو ساکن ہے، اَلْ اَلْ، اَلْ تھا نا، ہمزہ شروع کا گر گیا تو لام کیا رہ گیا؟ ساکن۔ میں پڑھتا ہوں: الْقَلَمُ، الْقَلَمُ، دیکھو شروع میں ہمزہ پر تو کیا ہے؟ زبر، اور لام کیا ہے؟ ساکن۔ تو یہ لام کیا ہوتا ہے؟ ساکن، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ ہمزہ تو گر گیا اور لام کیا ہے؟ ساکن، اور آگے اسم کا ہمزہ بھی گر گیا اور آگے سین بھی ساکن، لام بھی ساکن اور سین بھی ساکن اور دونوں ہمزہ گر گئے ہیں، تو دو ساکن اکٹھے ہو گئے۔ تو یاد رکھیے اس صورت میں پھر پہلے حرف کو حرکت دیتے ہیں اور ضابطہ ہے: ”السَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، کہ ساکن کو جب حرکت دی جاتی ہے تو وہ اس کو کسرہ والی حرکت دیتے ہیں بھئی۔ تو لام کو کون سی حرکت دے دیں گے؟ کسرہ والی، تو کیسے پڑھیں گے؟ ”لِسْمُ“، ”لِسْمُ“، اور سارا کیسے پڑھیں گے؟ ”وَهُوَ لِسْمُ“، ”وَهُوَ لِسْمُ“۔ سمجھ میں آیا طریقہ بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ الِاسْمُ“، اور وہ اسم ہے۔ تو اب دیکھیے بھئی، وجہِ حصر انہوں نے ذکر کر دی۔ وجہِ حصر کیا ذکر کی؟ کہ کلمہ یا تو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے گا یا دلالت نہیں کرے گا۔ اگر خود بخود دلالت نہیں کرتا وہ حرف ہے، اور اگر خود دلالت کرتا ہے تو پھر اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہوگا یا ملا ہوا نہیں۔ اگر ملا ہوا ہے تو وہ فعل ہے، اور اگر ملا ہوا نہیں تو وہ اسم ہے۔ تو یہ وجہِ حصر ذکر کر دی، اور اسی سے آپ کو تینوں کی تعریف بھی سمجھ میں آ گئی۔ حرف کا پتہ چل گیا کہ وہ خود اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتا، فعل کا پتہ چل گیا وہ خود اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے، اور اسم کی بھی تعریف سمجھ میں آ گئی کہ وہ اپنے معنی پر خود دلالت کرتا ہے اور تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا۔ تعریف سمجھ میں آ گئی؟ اب وہی بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَحَدُّ الِاسْمِ“، حد کہتے ہیں تعریف کو، کسے کہتے ہیں؟ جامع مانع تعریف بھئی۔ اچھا، بس آپ آسان لفظوں میں یاد رکھیے: حد تعریف کو کہتے ہیں۔ کیسے پڑھیں گے؟ ”فَحَدُّ الِاسْمِ“ یوں نہیں پڑھنا، بلکہ یوں پڑھیں: ”فَحَدُّ لِسْمِ“، ”فَحَدُّ لِسْمِ“۔ دیکھیں تیز پڑھیں گے کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا، وہ سمجھ وہ سمجھ رہا ہے شاید آپ فحد الاسم پڑھ رہے ہیں حالانکہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ فحد لِسم۔ تو کہتے ہیں: ”فَحَدُّ الِاسْمِ“، تو اسم کی تعریف جو ہے وہ یہ ہے: ”كَلِمَةٌ تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا غَيْرِ مُقْتَرِنٍ بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ، أَعْنِي الْمَاضِيَ وَالْحَالَ وَالِاسْتِقْبَالَ“۔ دیکھو کلمۃٌ نکرہ آیا، اور نکرہ کے بعد تدل فعل آیا، اور میں نے ابھی ضابطہ بتایا نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور پھر کیا کرتے ہیں ایسے معنی موقع پر ترجمہ کس طرح کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی۔ تو کہتے ہیں: ”فَحَدُّ الِاسْمِ“، اسم کی تعریف جو ہے وہ یہ: ”كَلِمَةٌ تَدُلُّ“، وہ ایسا کلمہ ہے، اسم ایسا کلمہ ہے، ”تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“، جو دلالت کرتا ہے ایک معنی پر خود ہی، ”غَيْرِ مُقْتَرِنٍ بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ“، ملا ہوا نہیں ہوتا تین زمانوں میں سے، ہاں وہ معنی تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا۔ ”غَيْرِ“ مجرور پڑھا، غیرِ، را کے نیچے کیا پڑھ رہے ہیں؟ کسرہ۔ معلوم ہوا یہ معنی کی صفت ہے، کیونکہ معنی پر علی جارہ داخل ہے اور علی کیا کرتا ہے؟ جر، جر دیتا ہے، تو مَعْنًى کیا ہوا؟ مجرور۔ مجرور ہے تو سوال پیدا ہوا اس پہ جر کیوں نہیں آیا؟ جواب یہ کہ اس پہ جر اس کا جر تقدیری ہے، کہ یہ کیونکہ یہ کیا ہے؟ اسمِ مقصور ہے اور اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری آتا ہے۔ دوبارہ ترجمہ سنو: اب معنی موصوف ہے اور غیر مقترن کیا ہے اس کی صفت، اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لے کر آتے ہیں؟ ایسا، تو یہاں بھی ایسا لائیں گے اور کلمہ سے پہلے بھی ایسا کا لفظ لائیں گے کیونکہ اس کے آگے بھی تدل اس کی صفت ہے۔ تو دیکھیے: ”فَحَدُّ الِاسْمِ“، تو اسم کی تعریف جو ہے: ”كَلِمَةٌ“، ایسا کلمہ، ”تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى“، جو دلالت کرتا ہے خود ہی ایسے معنی پر، ”غَيْرِ مُقْتَرِنٍ بِأَحَدِ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ“، جو ملا ہوا نہیں ہوتا تین زمانوں میں سے کسی کسی ایک زمانے کے ساتھ۔ بھئی وہ تین زمانے کون سے ہیں؟ کہتے ہیں: ”أَعْنِي الْمَاضِيَ وَالْحَالَ وَالِاسْتِقْبَالَ“، یعنی کہ ماضی، حال اور استقبال۔ اعنی، کبھی یعنی کہہ دیتے ہیں اور کبھی اعنی۔ اعنی اصل میں متکلم کا صیغہ ہے: اعنی، میری مراد یہ ہے، تین زمانوں سے میری مراد ماضی، حال اور استقبال ہے۔ تو اعنی متکلم کا صیغہ، اس کے اندر انا ضمیر فاعل کی ہے اور آگے الماضی والحال والاستقبال یہ اس کے لیے مفعول بن رہے ہیں اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”كَرَجُلٍ وَعِلْمٍ“، جیسے کہ رجل اور علم۔ دو مثالیں ذکر کر دیں اسم کی، دیکھو رجل: رجل بولتے ہی آپ کو معنی سمجھ میں آ گیا اور زمانہ ساتھ کوئی نہیں ملا ہوا، تو یہ کیا ہے؟ اسم۔ اسی طرح علم: علم کسے کہتے ہیں؟ آپ کو سنتے ہی معنی سمجھ میں آ گیا اور زمانہ کوئی نہیں ساتھ ملا ہوا، تو یہ بھی کیا ہے؟ اسم۔ تو صاحبِ ہدایت النحو نے دو مثالیں ذکر کر دیں: ایک رجل اور ایک علم بھئی۔ اور رجل وہ ایسی چیز کا نام ہے جس کی اپنی ذات الگ موجود ہے، مرد کیا ہے؟ اس کا اپنا رجل کا اپنا الگ وجود ہے، اور علم اس کا اپنا الگ وجود نہیں، یہ کسی کی صفت بنتی ہے۔ آپ کہتے ہیں: زید بڑا عالم ہے، معلوم ہوا وہ علم والا ہے، علم کیا ہے؟ اس کی صفت، تو علم کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے۔ تو دو مثالیں ذکر کر دیں: ایک ایسی چیز کی جس کا اپنا الگ وجود ہے، اور ایک ایسی چیز کی جس کا اپنا الگ وجود نہیں وہ غیر کی صفت بنتا ہے، اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ چلیے، بس کریں، بس بھئی۔ ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
104 approved lectures · 3 of 104