Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

كافية · dars-018

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گذشتہ سبق میں صاحبِ کافیہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ ونحو جوارین رفعاً وجرًّا كقاضٍ کہ جوارین جیسے جو الفاظ ہیں وہ حالتِ رفعی اور حالتِ جَرّی کے اندر قاضی کی طرح ہے۔ جوارین جیسے الفاظ سے کیا مراد ہے؟ میں نے بتلایا تھا، وہ جَمْعِ ناقص جو مم... جو جس کا وزن کیا ہو؟ جموع منتہی الجموع والا ہو، وہ جَمْعِ ناقص۔ اور حالتِ رفعی اور جَرّی میں قاضم کی طرح ہے کیا معنیٰ؟ یعنی جیسے قاضی کی یا حالتِ رفعی، جَرّی میں گر جاتی ہے جاءنی قاضن اور مررت بقاضن، یہ یا گر گئی مولانا استلتقاء ساکنین کی وجہ سے۔ بہ... سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ تو اس کی طرح ہے بھئی۔ البتحۃ، اس کی طرح ہے۔ آب یہ حالت میں مُنصَرِف ہے یا غیرُ مُنصَرِف علماء کے دو گروہ ہیں بھئی۔ حالتِ نصبی میں تو یہ بالاتفاق غیرُ مُنصَرِف ہے۔ رأيت جوارية یہ کیا ہے؟ غیرُ مُنصَرِف۔ لیکن یہ حالتِ رفعی اور حالتِ جَرّی میں یہ مُنصَرِف ہے یا غیرُ مُنصَرِف؟ تو بعض علماء کہتے ہیں یہ مُنصَرِف ہے، بعض کہتے ہیں غیرُ مُنصَرِف۔ جو کہتے ہیں مُنصَرِف ہے وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ ایک ہے اعلال اور ایک ہے مولانا منع، اور اعلال مقدّم ہے کس پر؟ منع سرّ پر۔ تو پھر یہ لفظ اصل میں تھا جواریون۔ پھر جوا... تو سمجھ... آيا؟ جواریون ہوۂ۔ و۔۔۔ پھر کیا کیا مولانا؟ یا پر ضمّہ ثقیل تھا گرا دیا، کیا بن گیا؟ جوارین۔ پھر یا گر گئی استلتقاء ساکنین کی وجہ سے، کیا رہ گیا؟ جوارن۔ دیکھو جوارن رہ گیا جیسے اس وقت لکھا ہوا ہے۔ تو یا گر گئی استلما... ساکنین کی وجہ سے۔ گر گئی۔ تو کہتے ہیں اعلال مقدّم ہے منع سرف پر۔ کیوں؟ یہ کیوں کہا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اگر یہ آپ کہتے جواریون تھا، تو جواریون کیسے بھئی؟ یہ تو جواریون، بھئی الفِ جمع کے بعد کتنے لفظ آ رہے ہیں؟ دو۔ یہ تو غیرُ مُنصَرِف ہو... آپ اس پر تنوین آپ کہاں سے پڑھ رہے ہیں؟ تو کہتے ہیں بھئی، یہ منع سرف بعد میں آيا گی، پہلے اعلال ہو گا، ابھی کلمہ بن رہا ہے، کیا ہے؟ کلمہ بن رہا ہے۔ تو اعلال ہوا، اور اعلالِ حرفِ علّت میں کوئی تبدیلی کریں، اس کو حذف کریں، اس کو بدلیں، وغیرہ یہ کیا کہلاتا ہے اعلال۔ تو یہ مقدّم ہے بھئی! بعد میں پہلے اعلال ہو گا، پھر ہم حکم لگائیں گے آخر میں جا کر دیکھیں گے، جو کلمہ بن جائے، پھر حکم لگائیں گے کہ یہ منسرِف ہے یا غیرُ منسرِف۔ تو پہلے اعلال ہوا، اور حر اسم میں اصل کیا ہے؟ منسرِف ہونا، تو اصل کے اعتبار سے اس پر کیا آيی؟ جاءنی جواریون، کیا آيی؟ تنوین۔ تو پھر اعلال پہلے کرنا ہے، ابھی غیرُ منسرِف کا حکم نہیں لگانا، اعلال ہو سکتا ہے تو کر دو۔ تو یا پر ضمّہ ثقیل تھا گرا دیا، کیا رہ گیا؟ نونِ ساکن تنوین والا بھی ہے، جوارین رہ گیا، کیا رہ گیا؟ جوارین۔ پھر مولانا! یا کو گر... اور نون اس اجتماعِ ساکنین علی غیرِ حدّہ آيا، یا کو کیا کر دیا؟ گرا دیا، کیا بن گیا؟ جوارن۔ آب مولانا کہتے ہیں، آب اس پر حکم لگائے، اعلال ہو گیا، آب حکم لگاؤ منسرِف ہونے کا یا غیرُ منسرِف ہونے کا۔ کہتے ہیں آب تو منسرِف ہی رہیگا، غیرُ منسرِف یہ نہیں۔ کیوں نہیں ہو سکتا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ آب یہ وزن ہی جمعِ منتہی الجموع ولا نہیں رہا، آب تو الفِ جمع کے بعد ایک حرف ہے، را۔ ایک حرف۔ جوارن، بروزنِ کلامن، سلامن۔ کلام او سلام مفرد ہے یا جمع ہے؟ مفرد ہے۔ تو یہ تو مفرد کے وزن پر آ گیا، اور جمعِ منتہی الجموع کا وزن ہی باقی نہیں رہا۔ لہٰذا یہ منسرِف ہے۔ دوسرے کہتے ہیں نہیں، یہ غیرُ منسرِف ہے اس وقت بھی۔ اس وقت بھی کیا ہے؟ غیرُ منسرِف۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ منع سرف مقدّم ہے اعلال پر۔ منع سرف مقدّم ہے۔ پر! بھئی یہ جوارن پر کیسے ہوا؟ وہ یا تو گری تھی کس کی وجہ سے؟ اجتماعِ ساکنین۔ اگر یہ پہلے سے غیرُ منسرِف ہو، تو پھر تو یا نہیں گر سکتی بھئی۔ جاءنی جواریوک۔ تنوین ہی نہیں آيی۔ جب تنوین نہیں آيی تو یا نہیں گری۔ آپ نے پہلے سے اس کو غیرُ منسرِف بنایا ہوا ہے تو یا نہیں گرے گی، یہ پھر کیسے گر گئی؟ جاءنی جوارن عرب تو پڑھتے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں بھئی، اصل تو یہ ہے کہ منع سرف مقدّم ہے کس پر؟ اعلال اعلال پر۔ تو یہ اصل میں جواریو ہے. جوار... جاءنی جواریو غیرُ منسرِف ہے یا نہیں؟ جی۔ تو یا پر کیا ہے؟ ضمّہ۔ اور ضمّہ کیا ہے یا پر؟ ثقیل۔ اسی طرح حالتِ جَرّ میں مررت بجواریْ، یا پر کسرہ کیا ہے؟ ثقیل، گرا دیا. پھر ضمّہ اور کسرہ کو گرانت کے بعد کیا رہ گیا؟ جواری، جاءنی جواری۔ پھر مولانا اس یا پر ہم تنوین لے آيے۔ کیوں لے آيے تنوین؟ بھئی وہ حرکت آپ نے ایک نہیں گرائی، اس کا عوض لے آيے بھئی۔ اس کا کیا؟ عوض لے آيے۔ اور پھر بھئی تو تنوین کو کیوں لیکر آيے؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے لیکر آيے ہیں کہ اس تنوین کی وجہ سے یا گر جاۓ گی، اور کلمہ میں کیا پیدا ہو جاۓ گی؟ خفیف پیدا ہو جاۓ۔ تو خفیف کے لیے ہم تنوین لے آيے۔ تو اس تنوین کی وجہ سے پھر اجتماعِ ساکنین آيا، اور پھر اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے یا گر گئی، اور کیا رہ گیا؟ جوارِن۔ تو اس وقت بھی یا تقدیرًا موجود ہے، لہٰذا یہ کلمہ غیرُ منسرِف ہی ہے بھئی۔ کیا ہے؟ غیرُ منسرِف اصل میں کیا تھا جواریو، تنوین تھی، منع سرف پڑھ... اس کو غیرُ منسرِف قرار دے دیا ہے ہم نے، کیا قرار دے دیا ہے؟ غیرُ منسرِف۔ پھر کیا کیا؟ اعلال اب بعد میں کر رہے ہیں بھئی! یا پر ضمّہ ثقیل تھا گرایا، یا کسرہ ثقیل تھا گرایا، پھر اس کے بعد تنوین لاۓ، تنوین کیوں لاۓ؟ کیونکہ ہم یا کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ گرانا چاہتے ہیں، تاکہ کلمہ کیا ہو جائے؟ خفیف ہو جائے۔ تو پھر تنوین لاۓ، پھر یا گر گئی، جوارین رہ گیا مولانا۔ تو یہ منسرِف ہے یا غیرُ منسرِف؟ غیرُ منسرِف غیرُ منسرِف ہے بھئی، غیرُ منسرِف ہے۔ یا تقدیرًا اب بھی موجود۔ دیکھیے آگے مولانا، التَّرْكِيبُ شَرْطُهُ الْعَلَمِيَّةُ وَأَلَّا يَكُونَ بِإِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ مِثْلُ بَعْلَبَكَّ. أسبابِ منع سرف میں سے ایک ترکیب ہے مولانا ترکیب۔ بعض اوقات دو اسم مل جاتے ہیں مولانا، اور ایک کلمہ بن جاتا ہے، ایک اسم بن جاتا ہے، یہ ترکیب ہے، مرکّب ہو جاتا ہے۔ تو یہ مرکّب جو ہے مولانا، یہ سبب بن، یہ ترکیب یہ سبب بنے گی غیرُ منسرِف ہونے کا، لیکن شَرْطُهُ الْعَلَمِيَّةُ اس کی شرط کیا ہے؟ علميَّت۔ علميَّت کی شرط اس لیے لگائی مولانا کہ دو کلمے آپس میں جُڑے ہیں، اب جُڑنے کے بعد پھر علیحدہ ہو سکتے ہیں، لیکن جب علم بنا دیا تو علم کے اندر کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، تو آب مولانا یہ زوال سے محفوظ ہو گئے مولانا، آب ان میں اتصال کیا ہو گیا؟ پکا ہو گیا۔ اس لیے علميَّت کی شرط لگائی۔ تو ترکیب کی شرط یہ ہے کہ اس کے اندر علميَّت ہو، ایک شرط یہ۔ وَأَلَّا يَكُونَ بِإِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ ونیز مولانا اضافت بھی نہ ہو اور اسناد بھی نہ ہو، یہ دوسری شرط ہے۔ ایک علميَّت کا ہونا، اور عدمی نہ ہونا، وہ کیا ہے؟ اضافت اور اسناد کا۔ بھئی! یہ اضافت اور اسناد کی شرط کیوں لگائی کہ یہ نہیں ہونے چاہِئینگے؟ جیسے عبد اور لفظِ اللہ تو آپ نے ملایا، کیا بن گیا؟ عبداللہ، آب ایک آدمی کا نام رکھدیا۔ جاءنی عبداللہ تو کیا یہ منسرِف ہے یا غیرُ منسرِف؟ جی، منسرِف ہے۔ منسرِف ہے یا غیرُ منسرِف؟ منسرِف، منسرِف ہے مولانا۔ حالانکہ اس میں دو اسباب موجود ہیں، ایک ترکیب اور دوسرا علميَّت۔ لیکن یہ مؤثر، یہ ترکی... ترکیَّ اثر نہیں، یہ اصرّ نہیں دکھا رہی، کیوں؟ کیونکہ اس کی شرائط پوری نہیں۔ اس کی کیا شرائط تھی؟ پہلی شرط تھی علميَّت، وہ تو پوری ہے، دوسری شرط کیا تھی؟ اضافت نہ ہو، اور اس کے اندر تو کیا ہے؟ اضافت ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ترکیب موجود، لیکن افنصرّ نہیں دکھا رہی مؤثر نہیں مولانا، کیونکہ شرائط نہیں پوری۔ تو اضافت نہ ہو۔ بھئی یہ کیوں شرط لگائی، اضافت کیوں نہ ہو، اضافت سے کیا ہو جاۓ گا؟ کہتے ہیں بھئی، اسم کے اندر اصل ہے منسرِف ہونا، اصل کیا ہے؟ منسرِف ہونا۔ اور یہ اضافت اسم کا بڑا خاصّہ ہے، آپ کو میں نے بتلایا تھا یا نہیں؟ اسم کے دو بڑے خاصّے ہیں، کیا؟ الفِ لام کا داخل ہونا اور اضافت کا ہونا بھئی۔ کیوں؟ بڑے خاصّے کیوں ہیں؟ کیونکہ یہ مدلول اسم کو کیا کر دیتے ہیں؟ مدلول دیتے ہیں، غلام، ہر غلام کو کہہ سکتے تھے، لیکن الغلام، کوئی خاص غلام ہو، یا غلامِ زید کیا ہو گا؟ کوئی خاص غلام ہو گا، تو یہ مدلول اسم کو بدل دیتے ہیں، تو اضافت کی وجہ سے تو غیرُ منسرِف بہ کیا بن جایا کرتا ہے؟ منسرِف بن جایا کرتا ہے بعض کے نزدیک۔ نیز اسناد بھی نہ ہو، بھئی! یہ کیوں شرط لگائی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اسناد سے وہ جملہ بن جاۓ گا، اور جملہ تو مبنی ہوتا ہے، اور ہماری بحث تو کس کے اندر ہو رہی ہے؟ معرب کے اندر ہو رہی ہے، تو وہ تو ہماری بحث سے خارج ہو جاۓ گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسناد بھی نہ ہو، کیونکہ جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ کیا بن جاتا ہے بھئی؟ مبنی، مبنی ہوتا ہے، یاد رکھو جملہ مبنی ہے، اس، یہاں تک کہ بعض علماء تو فرماتے ہیں یہ مبنیُّ الاصل ہے بھئی۔ جیسے بھئی آپ نے پڑھا تھا، ایک عورت کے بالوں کی دونوں چوٹیاں سفید ہو گئیں؛ تو اس کا نام ہی کیا رکھدیا؟ شابکرنھا۔ شابکرنھا شابق کا معنیٰ سفید ہونا، قرن کہتے ہیں مہندی کو، بالوں کی چوٹی۔ شابکرنھا، اس کی دونوں چوٹیاں سفید ہو گئیں، دونوں چوٹیاں سفید ہو گئیں. تو یہ جملہ تھا، یہ پورا جملہ اس عورت کا نام رکھدیا، تو یہ جب جملہ ہے، اس میں اسناد آ گیا، جب اسناد آيَا تو آب یہ غیرُ منسرِف ہونے کا سبب نہیں بنےکا، کیونکہ یہ تو جملہ ہے، اور یہ جملہ کس کے حکم میں ہے؟ یہ مبنی ہے، اور ہماری بحث کس کے اندر چل رہی ہے؟ معرب میں چل رہی ہے، تو یہ مبنی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاۓ گی۔ تو کہتے ہیں التَّرْكِيبُ شَرْطُهُ الْعَلَمِيَّةُ وَأَلَّا يَكُونَ بِإِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ مِثْلُ بَعْلَبَكَّ اس کی شرط علميَّت ہے وَأَلَّا يَكُونَ بِإِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ اور یہ کہ نہ اضافت کے ساتھ ہو اور نہ اسناد کے ساتھ ہو مِثْلُ بَعْلَبَكَّ جیسے کہ بعلبكّ ہے، یہ ایک شہر کا نام ہے، بعل ایک بت کا نام تھا، اور بکّ اس... کوئی آدمی کا نام تھا بھئی۔ واں کوئی بڑا مشہور آدمی ہو گا یا اس بسانِ آباد کرنے والا، تو فیر بال بت اور بکّ اس آدمی کا نام، ان دونوں کو ملا دیا مولانا، تو کیا بن گیا؟ بعلبكّ۔ آب اس کے اندر مولانا اضافت... علميَّت بھی آ گئی بعلبكّ پورے شہر کا نام بعلبكّ مرکّب کر کے رکھدیا، شہر کا نام۔ اور اس کے اندر اس اضافت بھی نہیں، بعلبكّ آپس میں مضاف مضافلہ ہے؟ نہیں، اور نہ اسناد بھی نہیں، یہ پورا جملہ بھی نہیں۔ لہٰذا یہ غیرُ منسرِف ہوُگا۔ ایک علميَّت ہے اور دوسری ترکیب۔ الْأَلِفُ وَالنُّونُ إِنْ كَانَتَا فِي اسْمٍ فَشَرْطُهُ الْعَلَمِيَّةُ كَعِمْرَانَ أَوْ صِفَةٍ فَانْتِفَاعُ فَعْلَانَةٍ وَقِيلَ وُجُودُ فَعْلَى وَمِنْ ثَمَّ اُخْتُلِفَ فِي رَحْمَانَ دُونَ سَكْرَانَ وَنَدْمَانِنْ. الف نون زائداتان۔ بھئی! الف نون زائداتان جو ہیں، یاد رکھو یا تو اسم کے اندر آيينگے یا یہ صفت کے اندر آيينگے بھئی۔ ایک ہوتا ہے اسم جو صرف نام ہے کسی چیز کا، وہ کسی وصف پر دلالت نہیں کرتا، جیسے رجل، فرس۔ اور ایک ہوتی ہے صفات جو ذات معَ الوصف پر دلالت کرتی ہے، جیسے قائم۔ قائم کس پر دلالت کرتا ہے؟ ایک ذات جس کے ساتھ کیا قائم، کیا ثابت ہو؟ قيام۔ ضارب کس پر دلالت کرتا ہے؟ ایک ذات جس کے ساتھ کیا قائم ہو؟ ضاربیَّت قائم ہو، زرب قائم ہو، سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو ایک ہے اسم، ایک ہے صفت۔ تو یہ... الف نون زائداتان یا تو اسم کے اندر آيينگے یا کس کے اندر آيينگے؟ صفت کے اندر۔ اسم کے اندر آيے تو اس کی شرط ہے علميَّت۔ اسم کے اندر آيے تو اس کی شرط کیا ہے؟ علميَّت شرط ہے، پھر یہ سبب بنينگے غیرُ منسرِف ہونے کا، جیسے مولانا عمران۔ عمران نام ہے بھئی، اور اس کے اندر اس کے.. اس میں کیا آ رہے ہیں؟ الف نون زائداتان آ رہے ہیں، اور الف نون زائداتان کے کس میں؟ اسم میں ہیں یا صفت میں ہیں؟ اسم میں۔ اور اس کے لیے شرط کیا تھی؟ علميَّت۔ اور عمران میں علميَّت ہے یا نہیں؟ ہے، تو یہ سبب بنينگے مولانا۔ تو عمران غیرُ منسرِف دو سبب کیا ہوے؟ ایک علميَّت اور دوسرا الف نون زائداتان۔ اور سمجھ میں آيا؟ اور ایک ہے جیسے سعدان بھئی۔ ہدایۃ النحو میں مثال آيی تھی، سعدان ایک بوٹیک، ایک پودے کا نام ہے بھئی۔ سعدان۔ آب یہ منسرِف ہوُگا یا غیرُ منسرِف ہوُگا بھئی؟ منسرِف۔ یہ منسرِف ہے، غیرُ منسرِف نہیں۔ اگرچہ سعدان کے اندر الف نون زائداتان بھی ہیں، الف نون زائداتان موجود ہیں، لیکن یہ سبب نہیں۔ کیوں؟ اس کے لیے شرط کیا تھی؟ علميَّت شرط تھی، تو دوسرا سبب ہی کوئی نہیں۔ تو حال... اور... تو سعدان میں علميَّت نہیں ہے بھئی۔ نہیں؟ کیوں نہیں ہے؟ علم اس کو کہتے ہیں جو ذاتِ معيّن پر دلالت کرے بھئی، اور یہ تو ایک پودا یہ اگا ہوا ہے، ایک وہ اگا ہوا ہے، ایک وہ اگا ہوا ہے، دس جگہ ہوا اگا ہوا ہے، آپ سے کوئی پوچھے یہ کیا ہے، آپ کہينگے سعدان، وہ کیا ہے؟ سعدان، وہ کیا ہے؟ سعدان۔ اگر علم ہوتا تو اس میں شرکت ہوتی؟ نہ، پھر تو ایک پودے کا نام ہوتا سعدان، باقیوں کا نہ ہوتا۔ لیکن اس قسم کا جو بھی پودا ہے سعدان ہے بھئی۔ تو۔ اور اگر مولانا الف نون زائداتان صفت کے اندر آيیں، تو پھر تو بعض علماء کہتے ہیں یہ سبب بنينگے غیرُ منسرِف ہونے کا، بشرطیکہ اس کی مؤنَّث فعلاناتُن وزن پر نہ آئے۔ بعض عدمی شرط لگاتے ہیں مولانا، کیا شرط لگائی انہوں نے؟ کہ اس صفت کی مؤنَّث فعلاناتُن وزن پر نہ آئے۔ عدمی ہے دیکھو، عدمی شرط لگا رہے ہیں۔ بعض وجودی شرط لگاتے ہیں کہ اس کی مؤنَّث فعلى وزن پر آيے بھئی۔ تو بھئی اگر الف نون زائداتان صفت میں آيیں، تو کِت... بعض... کتنی شرطیں لگاتے ہیں بھئی؟ دو... دو گروہ ہیں، بعض علماء کیا شرط لگاتے ہیں؟ علميَّت... ایک شرط ایک ہی شرط کی شرط لگاتے ہیں، لیکن گروہ دو ہیں، ایک گروہ کیا شرط لگاتا ہے علماء کا؟ عدمی شرط، وہ کیا؟ فعلاناتُن... جس کی مؤنَّث فعلاناتُن وزن پر نہ آئے۔ دوسرا گروہ کیا شرط لگاتا ہے؟ وجودی، کیا شرط؟ فعلى، جس کی مؤنَّث کس وزن پر آيے؟ فعلى وزن پر آيے بھئی۔ کہتے ہیں الأَلِفُ وَالنُّونُ إِنْ كَانَتَا فِي اسْمٍ الف نون زائداتان اگر اسم کے اندر ہوں، فَرَشَرْطُهُ الْعَلَمِيَّةُ تو اس کی شرط کیا ہے؟ علميَّت ہے كَعِمْرَانَ جیسے کہ عمران جیسے عمران ہے، اَوْ صِفَةٍ أي إن كانت في صفة یہ اسم پر عطفور ہے، یا وہ الف نون زائداتان صفت میں آيیں، فَانْتِفَاعُ فَعْلَانَةٍ أي فشرطہ انتفاع فعلاناتِن تو اس کی شرط کیا ہے؟ فعلانا کا منتفی ہونا، فعلانا وزن کا نہ آنا (یعنی اس کے مؤنَّث فعلانا وزن پر نہ آتی ہو) وَقِيلَ وُجُودُ فَعْلَى أي وقيل شرطه وجود فعلى بعضوں نے کیا کہا اس کی شرط کیا ہے؟ فعلى کا وجود (یعنی اس کی مؤنَّث کس وزن پر آيے؟ فعلى وزن پر آيے بھئی) وَمِنْ ثَمَّ اُخْتُلِفَ فِي رَحْمَانَ دُونَ سَكْرَانَ وَنَدْمَانِنْ۔ بھئی، رحمان میں اختلاف کیا گیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک سمّا ہے ایک سمّّا، سمّّا... سمّا تو حرفِ عطف ہے، اور سمّّا کیا ہے؟ اسمِ اشارہ ہے، اسمِ اشارہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا، میں کہتا ہوں سمّّا زید وہ کون ہے؟ زید ہے۔ وَمِنْ ثَمَّ اور اسی وجہ سے اختلف في رحمان اختلاف کیا گیا ہے، کس کے اندر؟ رحمان کے لفظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بھئی رحمان میں اختلاف کیا گیا ہے، بعض کہتے ہیں منسرِف ہے، بعض کیا کہتے ہیں؟ غیرُ منسرِف۔ اختلاف کیوں کیا گیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ علماء کے دو قول تھے، بعض علماء نے کیا شرط لگائی تھی؟ یہ رحمان صفت کا صیغہ ہے مولانا۔ اور اس کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ الف نون زائداتان، اور الف نون زائداتان صفت میں آيے تو بعضوں نے کیا شرط لگائی تھی؟ فعلانا کے وزن پر نہ آئے۔ اور اس کی مؤنَّث رحمانۃً، فعلانۃً کے وزن... فعلانا کے وزن پر... اس کی مؤنَّث رحماناتُن نہیں آتی، فعلاناتُن کے وزن پر... اس کی مؤنَّث رحمانۃً، فعلانۃً کے وزن... فعلانا کے وزن پر اس کی مؤنَّث رحمانۃُ تُن... نہیں آتی، فعلاناتُن کے وزن پر... جب نہیں آيی تو شرط پوری ہو گئی، تو لہٰذا کیا ہوا؟ غیرُ منسرِف ہوا۔ دوسرے گروہ نے کیا شرط لگائی تھی؟ اس کی مؤنَّث فعلى پر آيے، اور اس کی مؤنَّث تو فعلى کے وزن پر... نہیں آتی، تو شرط پوری نہ ہوئی، تو ان کے نزدیک بھی یہ الف نون ہے تو، لیکن مؤثر نہیں دکھائینگے۔ آب صرف وصفیَّت ہے، الف نون زائداتان ہیں، لیکن مؤثر نہیں۔ تو کیا کلمہ کیا بن جاۓ گا؟ کیا رہےگا کلمہ؟ منسرِف ہی رہے گا۔ اختلاف سمجھ میں آیا دونوں بھئی علماء کے گروہ کا؟ لیکن عجیب بات یہ ہے مولانا، رحمان میں اختلاف ہے، کہ یہ بعض کہتے ہیں منسرِف ہے، اور بعض کیا کہتے ہیں؟ غیرُ منسرِف۔ اور آپ آگے پڑھینگے صاحبِ کافیہ آپ کو بتلائینگے، کہ غیرُ منسرِف پر بھی الف لام داخل ہو جاۓ، یا اس کی اضافت ہو جاۓ، تو اس پر کسرہ آ جاتا ہے۔ کیا آ جاتا ہے؟ کسرہ آ جاتا ہے مولانا، اگرچہ غیرُ منسرِف پر کتنی چیزوں کا آنا منع تھا؟ دو چیزوں کا، ایک تھی تنوین اور ایک کسرۃ۔ آپ الف لام کے آنے کے بعد تنوین آ سکتی ہے؟ نہیں! اضافت کے بعد تنوین آ سکتی ہے؟ نہیں! تو تنوین کی تو بات ہی نہیں، صرف کسرۃ رہ گیا، اور الف لام اس پر داخل ہو جاۓ، یا اس کی اضافت ہو جاۓ، تو غیرُ منسرِف پر بھی کیا داخل ہو جاتا ہے؟ کسرۃ داخل ہو جاتا ہے۔ تو چنانچہ بلکہ بعض کو کہتے ہیں یہ منسرِف ہی بن جاتا ہے، جب اس پر الف لام آ جاۓ تو کیا بن جاۓ گا؟ منسرِف، اور یا اضافت ہو جاۓ تو کیا بن جاۓ گا؟ منسرِف بن جاۓ گا، تھا غیرُ منسرِف لیکن الف لام اور اضافت کی وجہ سے کیا ہوا؟ منسرِف بنگیا۔ اور رحمان کے بارے میں کہا، بعض علماء کہتے ہیں منسرِف، بعض کیا کہتے ہیں؟ غیرُ منسرِف۔ لیکن عجیب بات یہ ہے، پوری عَرِب کلامِ عرب کے اندر رحمانا بغیر الف لام کے استعمال ہی نہیں ہے۔ یہ صفت ہے، صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے۔ مخلوق میں سے کسی کے لیے یہ صفت استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ الرّحمن جہاں بھی آيا، الرّحمن آيا ہے، کہین بھی بغیر الف لام کے نہیں۔ ہاں بعض اس کے مقابلہ میں، وہ مسیلمۃُ کذّاب تھا ایک مت... جھوٹا، نبوّۃ کا دعوے کرنے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں، اس کا نام بعضوں نے رکھا تھا، وہ اس کے جو... کیا تھے؟ اس پر... اس کو... اس کی نبوّۃ کو جو تسلیم کرنے والے تھے، وہ اس کو رحمانُ اليمامۃ کہتے تھے۔ کیا کہتے تھے؟ رحمانُ اليمامۃ۔ اگرچہ شرعاً رحمان کا لفظ کسی پر جائز نہیں استعمال کرنا۔ تو وہ کرتے تھے بھئی استعمال، رحمانُ اليمامۃ کہتے تھے۔ لیکن اس صورت میں بھی اضافت ہو رہی ہے مولانا، کیا ہو رہی ہے؟ اضافت۔ معلوم ہوا رحمانا کا لفظ شرعاً تو صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، الف لام اس کے... اور ہمیشہ کیا آتا ہے اس پر؟ الف لام۔ اور اگر بعضوں نے ویسے دوسرے کے... لیے... مسیلمۃُ کذّاب علیہ اللّعنۃ کے لیے بھی استعمال کیا ہے، لیکن وہاں پر بھی وہ کس کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے؟ اضافت کے ساتھ۔ معلوم ہوا یہ نزاعِ لفظی ہے، بس اس کا ثمرۃ کوئی نہیں۔ سمجھ میں آیا، یہ تو جب بھی آيے گا یا تو الف لام کے ساتھ، سکر ہمیشہ آيے گا، یا بعضوں نے استعمال کیا تھا کس کے ساتھ؟ اضافت کے ساتھ، دو ہی صورتیں ہیں، اور ان دونوں صورتوں میں تو کیا ہوتا ہے، بعض کہتے ہیں غیرُ منسرِف بھی کیا بن جاتا ہے؟ منسرِف بن جاتا ہے۔ دون سکرانا۔ اختلاف ہے رحمانا میں، سکرانا اور ندمانِن کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے، سکرانا کے غیرُ منسرِف ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اور ندمانِن کے منسرِف ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ سب کہتے ہیں سکرانا غیرُ منسرِف، سب کہتے ہیں ندمان کیا ہے؟ منسرِف ہے۔ بھئی! کیوں؟ اس میں دونوں کے نزدیک شرائط پوری۔ بھئی سکران مدہوش کو کہتے ہیں، سکران۔ تو یہ صفت ہوئی، اور صفت کے اندر کیا ہے؟ شرط کیا لگائی تھی بعض علماء نے کہ اس کی مؤنَّث کیا نہیں آنی چاہِئیے؟ فعلاناتُن نہیں آنی چاہِئیے، اور سکرانا کی مؤنَّث بھی سکراناتُن... نہیں آتی، تو شرط پوری ہوئی، ان کے نزدیک یہ کیا ہوا؟ غیرُ منسرِف۔ دوسرے گروہ نے کیا شرط لگائی تھی اس کی مؤنَّث فعلى پر آيے، اور اس کی مؤنَّث کیا آتی ہے؟ فعلى ہی آتی ہے، سکراناتُن نہیں آتی بلکہ کیا آتی ہے؟ فعلى، تو ان کی شرط بھی پوری ہوئی مولانا، تو دونوں کے نزدیک یہ کیا ہوا؟ غیرُ منسرِف۔ اور ندمان کے اندر دونوں کی شرائط پوری نہیں، لہٰذا یہ منسرِف رہا۔ ندمان۔ ندمان کس کو کہتے ہیں مولانا؟ شرمندہ، یا ہم نشین کو بھی کہتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ شم نشین۔ تو جب یہ بمانے... کس معنیٰ میں ہو؟ یہ بمانے... ہم نشین کے ہو، ہم مجلس کے ہو، تو پھر یہ منسرِف ہے بھئی۔ کیوں؟ بھئی دونوں کی شرائط تھیں پوری، بعضوں نے کیا کہا تھا؟ ایسا فعلان ہو تو اس کی مؤنَّث کیا نہیں آنی چاہِئیے؟ فعلاناتُن نہ آنی چاہِئیے، اور اس کی فعلاناتُن آتی ہے، اس کی مؤنَّث کیا ہے؟ ندمانا تو شرط پوری ہوئی... شرط پوری نہ ہوئی۔ جب نہ ہوئی تو کیا رہیگا یہ الف نون مؤثر ہوُگا؟ نہیں! اور بعضوں نے کیا شرط لگائی تھی؟ اس کی مؤنَّث فعلى پر آيے، اور اس کی مؤنَّث تو کیا آ رہی ہے؟ ندماناتُن آ رہی ہے، فعلاناتُن آتی ہے فعلى... نہ آتی تو ان کی بھی شرط پوری نہ ہوئی، تو ان کے نزدیک بھی یہ الف نون ہے تو، لیکن مؤثر... لہٰذا منسرِف رہا۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی، اچھی طرح؟ تو اسی لیے اختلاف ہے رحمانا میں، دون سکرانا وندمانِن، لیکن سکرانا کے غیرُ منسرِف ہونے میں اور ندمان کے منسرِف ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ چلیے مولانا، ھٰذَا ھُو الْمَرَام، اَللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
20 approved lectures · 18 of 20