پڑھئیے مولانا!
و العاتقي کیوں پڑھ رہے ہو؟ یہ یاۓ مشدد تو نہیں ہے؟
العامل ما بہ یتقوم المعنی المقتضی للإعراب.
مقتضی للإعراب۔ فالْمفرد المنصرف والجمع المکثر المنصرف بالضمة رفعاً وبالفتحة نصباً وبالکسرة جراً.
رفعاً والفتحة! بائ نون ساکنہ ہے واؤ سے پہلے تو اس کو بھی واؤ کر کے واؤ میں ادغام کرو رفعاً والفتحة.
رفعاً والفتحة نصباً والکسرة جراً. جمع المؤنث السالم بالضمة بالضمة والکسرة غیر المنصرف بالضمة بالضمة والک یہاں تو تنوین نہیں ہے۔
بالضمة والکسرة غیر المنصرف بالضمة والفتحة في أبُوکا و أبُوکا و أخُوکا و حموکا و حموکی و هنوکا و فُوکا و و هنوکی و فُوکا و هنوکی و فوکا و ذو مال. مضافاً إلی غیر یاء المتکلم بالیاء والألف والیاء.
المثنی و کلا مضافاً إلی مضمر واثنان واثنتا بالیاء بالیاء والیاء جمع المذکر السالم وولو عشرون وأخواتها بالیاء والیاء تقدیر فیما بالیاء والیاء آگے الگ بات کر رہا ہے۔
التقدیر فیما تعذر كعصا و غلام کعصا و غلامی مطلقاً مطلقاً اچھا وہ شوشوش.
پھر معرب کی بات چل رہی ہے، سب سے پہلے معرب کی انہوں نے تاریخ ذکر کر دی، پھر حکم بھی اس کا بتلا دیا مولانا کہ اس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے، پھر یہ بدلنا دو قسم پر ہوگا مولانا کبھی لفظاً بدلے گا اور کبھی تقدیرًا بدلے گا۔
تقدیرًا بدلے گا، اعراب کی بھی تاریخ کر دی کہ وہ ہے جس کے ذریعے اسم کا آخر بدلے وہ کیا ہیں؟ اعراب ہیں اور وہ تا کہ وہ دلالت کرتے ہیں، وہ کس پر دلالت کرتے ہیں؟ وہ معنی جو اسم پر پے در پے آ رہے ہوں مولانا اور پھر بتلایا تھا اس کی تین قسمیں ہیں: رفع، نصب اور جر۔
پھر صاحبِ کافیہ نے آپ کو یہ بھی بتلا دیا کہ رفع علامت ہے فاعل ہونے کی، نصب علامت ہے مفعول ہونے کی اور جر علامت ہے مضاف اضافت کی یعنی مضاف الیہ ہونے کی۔
اب عامل کی بات کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں العامل ما بہ یتقوم المعنی المقتضی للإعراب.
عامل وہ ہے کہ یتقوم کہ جس کے ساتھ قائم ہوتا ہے یعنی حاصل ہوتا ہے حاصل ہوتا ہے۔
کہ جس کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے وہ معنی المقتضی جو تقاضا کرنے والا ہے للإعراب کس کا؟
عامل وہ ہے کہ جس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے وہ معنی جو اعراب کا تقاضا کرتا ہے۔
دیکھیے مولانا، میں نے کہا جاءنی زید.
جاءنی زید تو جاء کے لیے زید کیا واقع ہو رہا ہے؟
فاعل۔ کیا واقع ہو رہا ہے؟ فاعل۔
اور فاعل، اور اس فاعلیت نے کیا تقاضا کیا کہ زید کو کیا ہونا چاہیے؟
مرفوع۔ اس پر کیا پڑھنا چاہیے؟ رفع۔
تو جاء کی وجہ سے زید میں فاعلیت آئی اور اس فاعلیت نے تقاضا کیا کس چیز کا؟ کہ اس کو مفعول کہ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ مرفوع۔ اس پر رفع آنا چاہیے۔
تو یہ جو جاء ہے یہ عامل ہے۔
جاء کیا ہے؟ عامل۔
کیوں؟ اس کی وجہ سے کیا حاصل ہوئی؟
فاعلیت۔ زید میں کیا آئی مولانا؟ فاعلیت آئی۔
فاعلیت آئی اور پھر اس فاعلیت نے آگے تقاضا کس چیز کا کیا؟ کہ اس پر رفع آنا چاہیے، تو اس کو مرفوع ہونا چاہیے۔
میں کہتا ہوں ضربت زیداً.
اس ضربت کی وجہ سے زید میں کون سا معنی آیا؟
مفعولیت کا، مفعولیت کا مولانا مفعول ہونے کا معنی آگیا۔
اور اس مفعول ہونے نے کیا تقاضا کیا کہ زید کو کیا ہونا چاہیے؟
منسوب ہونا چاہیے۔
تو یہ مفعولیت جو زید میں آئی کس کی وجہ سے آئی؟
فعل کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ فعل کی وجہ سے۔
کیونکہ وہ فعل اس پر واقع ہوا ہے مولانا فعل کیا ہوا ہے اس پر؟ واقع ہوا ہے۔
अच्छा
یا یوں کہو مررت بزید مولانا، میں کس پر گزرا؟ زید پر۔ زید پر گزرا۔
تو یہ آپ کے مرور کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟
زید۔ یعنی زید مضاف الیہ۔
مضاف الیہ، اس کی طرف اضافت کی گئی، اس کو بھی مضاف یہ بھی مضاف الیہ ہوتا ہے اور غلام زید کے اندر جو زید آیا ہے یہ بھی کیا ہوتا ہے؟ مضاف الیہ۔
دونوں کی طرف نسبت ہوتی ہے، ہاں البتہ اصطلاح میں غلام زیدین کو کہتے ہیں مضاف مضاف الیہ اور بزیدین کو کیا کہتے ہیں جار مضاف الیہ یہ بھی مضاف الیہ ہے ہدایت النحو میں پڑھا یا نہیں پڑھا آپ نے؟ دونوں مضاف الیہ ہیں۔
تو اب دیکھیے مولانا! یہ جو زید مضاف الیہ ہوا یہ کس کی وجہ سے ہے؟ کس کے سبب سے ہے؟ با کے سبب سے۔ کس کے سبب سے؟ با۔
اس با نے اس میں کون سا معنی پیدا کیا؟
مضاف الیہ ہونا، مضاف اضافت ہوئی۔
اور اس مضاف الیہ ہونے نے کس چیز کا تقاضا کیا؟
کس کا؟ جر کا۔ تو یہ با کیا ہوئی، عامل ہوئی۔
جیسے مولانا جاء زید کے اندر مولانا یہ فاعلیت کہاں سے آئی؟
جاء کی وجہ سے، جاء عامل۔ ضربت زیداً کے اندر زیداً میں جو مفعولیت آئی وہ کس کی وجہ سے آئی؟
ضربت تو ضربت اس میں کیا ہوا؟ عامل ہوا۔
اور مررت بزید اس میں اضافت جو آئی وہ کس کی وجہ سے آئی؟ با کی وجہ سے تو با کیا ہوئی؟ عامل ہوئی۔
فاعلیت جاء کی وجہ سے آئی فاعلیت اور اس فاعلیت نے تقاضا کس چیز کا کیا؟
بھئی دیکھو نا! جاءنی زید، جاء نے تقاضا کیا فاعلیت کا۔
جاء نے کون سا معنی پیدا کر دیا اس میں؟
فاعلیت کا۔ تو یہ فاعلیت کا معنی کہاں سے حاصل ہوا؟
جاء سے۔ اور اس فاعلیت نے کس چیز کا تقاضا کیا آگے؟ کہ اس پر رفع آنا چاہیے، تو اس کو مرفوع ہونا چاہیے۔
تو عامل یہ ہے، اس کے سبب سے یہ معنی حاصل ہوا اور اس معنی نے تقاضا کیا مرفوع ہونے کا، تین چیزیں ہیں یہاں۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
عامل ہے، عامل کے سبب سے ایک معنی فہوا آیا اور اس معنی نے تقاضا کیا کہ کس چیز کا؟ مرفوع ہونے کا۔
دیکھیے بھئی! سب کو سمجھ میں آ گئی؟
کہتے ہیں العامل ما عامل وہ چیز ہے بہ یتقوم کہ اس کے ساتھ حاصل ہوتا ہے المعنی کیا حاصل ہوتا ہے؟ معنی۔ وہ کون کون سا ہے؟ فاعلیت والا یا مفعولیت والا یا اضافت والا۔
المقتضی للإعراب اور یہ معنی کس چیز کا تقاضا کرنے والا ہے؟ اعراب کا۔
فالمفرد المنصرف والجمع المکثر المنصرف یہ اعراب کی قسمیں شروع ہیں مولانا! نحومیر میں آپ نے سولہ قسمیں پڑھی تھیں۔
وہ سولہ کی سولہ قسمیں صاحبِ کافیہ آپ کو شمار کروائیں گے مولانا۔
سمجھ میں آیا بھئی! شمار کرنا اور صاحبِ کافیہ کے پاس الفاظ نہیں ہیں بھئی، وہ لفظ ضائع نہیں کرتے۔
مختصر سے مختصر ترین عبارت کی کوشش کریں گے اور لمبی سے اس کے ذریعے لمبی سے لمبی بات حل کریں گے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ کسی لفظ کو بیکار ضائع نہیں کرنے ہونے دیں گے بھئی۔
کم سے کم لفظوں میں لمبی سے لمبی بات ہو جائے بھئی۔
دیکھیے بھئی! کہتے ہیں فالمفرد المنصرف پس مفرد منصرف جو ہے والجمع المکثر المنصرف اور جمع مقصر المنصرف۔
بھئی! آپ نے کل کے سبق میں جو پڑھا تھا ہدایت النحو میں اس میں کہا تھا فالمفر مفرد المنصرف ایک اور قید تھی یا نہیں؟
کیا؟ نہیں صاحبِ کافیہ نے نہیں لگائی، کہتے ہیں صحیح کہہ دوں گا تو پھر مجھے جاری مجریہ صحیح کا بھی ذکر کرنا پڑے گا علیحدہ سے اور یہ اس کو علیحدہ ذکر اسی میں سمیٹ لیا۔
مفرد منصرف چاہے صحیح ہو چاہے قائم مقام دونوں آ گئے اس میں۔
سمجھ میں آیا؟
والجمع المکثر المنصرف اور جمع مقصر۔
منصرف بالضمة رفعاً وبالفتحة نصباً وبالکسرة جراً.
اس کا اعراب ضمہ کے ساتھ ہوگا رفعاً مولانا! اس کو حال بناؤ مولانا! حالا كونه مرفوعاً.
ان تینوں قسموں کا مفرد منصرف صحیح، جاری مجریہ صحیح اور جمع مقصر منصرف کا اعراب آپ نے کیا پڑھا تھا حالتِ رفعی میں کس کے ساتھ؟
یہی بات کر رہے ہیں بالضمة حال كونه مرفوعاً، یا یوں کہو اس حال میں حالتِ رفعی میں مولانا! حال بنایا یا نہیں رفعاً کو ہم نے؟
تو حالتِ رفعی میں کس کے ساتھ؟ ضمہ کے ساتھ۔
تو یہ عبارت کیوں ہوئی مولانا! بالضمة حال كونه مرفوعاً والفتحة نصباً وبالفتحة حال كونه منصوباً.
والکسرة جرّاً وبالکسرة حال كونه مجروراً.
عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ رفع ہے مصدر اور مصدر کبھی اس میں فاعل کے معنی میں آتا ہے اور کبھی اس میں مفعول اور یہاں اس میں مفعول کے معنی میں کرو۔
رفعاً اي مرفوعاً، نصباً اي منصوباً، جراً اي مجروراً.
تو اس کا اعراب ضمہ کے ساتھ کب ہوگا؟ حالتِ جبھی حالتِ رفعی میں جب یعنی مرفوع ہوگا اور فتحہ کے ساتھ کب ہوگا؟
حالتِ نصبی میں، یعنی جب یہ منسوب ہوگا۔
اور کسرہ کے ساتھ کس حالت میں ہوگا؟ حالتِ جری میں، جب یہ مجرور ہوگا۔
یہی بات کی ہے نا صاحبِ کافیہ نے بھئی۔
اور کتنی مختصر عبارت!
بالضمة حال كونه مرفوعاً والفتحة حال كونه منصوباً والکسرة حال كونه مجروراً.
جمع المؤنث السالم.
المؤنث مضاف الیہ ہے اس پہ کیا پڑھو؟ کسرہ۔ اور السالم پر رفع پڑھو۔
کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے جمع کی۔
صفت کس کی ہے؟ جمع کی۔ سالم وہ مؤنث سالم ہو یا وہ جمع سالم ہو بھئی؟
آپ بتائیے بھئی! مؤنث سالم ہونا چاہیے یا وہ جمع جو بنا رہے ہیں وہ جمع سالم ہو؟ جمع سالم۔ تو یہ جمع کی صفت ہے۔
اور جمع مرفوع ہے تو السالم بھی مرفوع ہوگا۔
اور مولانا دیکھو جمع آپ کہیں گے نکرہ ہے اور السالم معرفہ ہے، بھئی! نکرہ نہیں ہے جمع، جمع کی اضافت ہو گئی ہے المؤنث کی طرف اور المؤنث پر کیا داخل ہے؟ الف لام، وہ معرفہ ہے اور معرفہ کی طرف جب کسی چیز کی اضافت کی جائے وہ بھی کیا بن جاتی ہے؟ معرفہ۔
غلام نکرہ ہے لیکن جب میں نے کہ غلام زیدین یہ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ تو یہ بھی جمع المؤنث معرفہ بن گیا، اب اس کی صفت بھی السالم لے آئے کیا؟ معرفہ۔
تو ایسی جمع کی مؤنث، ایسی جمع السالم جو کیا ہو؟ سالم ہو۔
بالضمة والکسرة. لو بھئی! اور اختصار کر دیا صاحبِ کافیہ نے۔
اس کا اعراب ضمّے اور کسرے کے ساتھ آئے گا بس۔
کن حالتوں میں آئے گا؟ بھئی! وہ تو خود کر لیں آپ۔ استاد کے ذمے چھوڑ دیا۔ پڑھنے والے کے لیے کیا؟
بالضمة زمّے کے ساتھ کب آتا ہے جمع مؤنث سالم کا اعراب؟
حالتِ رفعی میں۔
ہاں! تو یہاں ہوا بالضمة رفعاً بھئی بالضمة رفعاً ای حال كونه مرفوعاً تو بالضمة حال كونه مرفوعاً والکسرة اور کسرے کے ساتھ کس حالت میں آئے گا؟ حالتِ جری میں۔
فبال والکسرة نصباً وجراً نصباً وجراً اور پھر پوری عبارت کیسے بنے گی؟
والکسرة حال كونه منصوباً و حال كونه مجروراً.
अच्छा जी। و غیر المنصرف بالضمة والفتحة.
اور غیر منصرف کا اعراب کیا ہوگا مولانا؟
حالتِ رفعی میں ضمہ، حالتِ نصبی میں نصب بھی، جری میں فتحہ۔
تو عبارت کیسے بنائیں گے؟ بالضمة والفتحة.
بالضمة رفعاً وبالفتحة نصباً وجراً.
پہلے مختصر عبارت نکالو! بالضمة رفعاً.
والفتحة نصباً وجراً.
اب پوری عبارت بالضمة حال كونه مرفوعاً والفتحة حال كونه منصوباً و حال كونه مجروراً.
دیکھو کتنی مختصر عبارت۔
أبوك و أخوك و حموکی.
إدھر حموکی پڑھیں گے مولانا! کاف پہ کسرہ پڑھیں گے، اس لیے کہ حم کہتے ہیں خاوند کی طرف سے جو عورت کا رشتہ دار ہو۔
خاوند کی طرف سے قریبی رشتہ دار ہو اس کو حم کہتے ہیں، تو وہ کس کا رشتہ دار ہوا؟ عورت کا ہوا یا مرد کا؟
مرد کا تو ہے ہی ہے بھئی، اب کس وقت کہتے کس کو ہیں جو عورت کے اعتبار سے اس کو کہا جاتا ہے، یہ عورت کا حم ہے یعنی خاوند کی طرف سے اس کا قریبی رشتہ دار۔
تو حموکی اس لیے مؤنث کی ضمیر لے آئے۔
اور اسی طرح هنوکا، هنوکا بھی ہے هنو۔
تو ہن ایسی چیز جس کا ذکر قبیح ہو مولانا۔
جس کا ذکر قبیح ہو۔ بعضوں نے کہا فرج المرأة کو بھی ہن کہتے ہیں، اسی لیے هنوکی مؤنث پڑھ سکتے ہیں۔
अच्छा هنوکی و فوکا، فُوکا.
کیا ہے؟ فامُوک۔
جی و ذو مال بھئی۔
کتنے ہو گئے؟ چھ۔
مضافاً إلی غیر یاء المتکلم اس حال میں کہ یہ مضاف ہو کس کی طرف؟ یاء متکلم کے علاوہ کی طرف بھئی، علاوہ کی طرف۔
بھئی! آپ نے کیا پڑھا تھا؟
أسماء ستہ اس میں پھر کتنی قہریں تھیں؟ مبر اہو۔
اول مکبرہ، دوم مکبرہ۔
واحد اور تثنیہ جمع نہ ہو۔
تیسرا مضاف إلی غیر یاء المتکلم.
انہوں نے نام نہیں لیا أسماء ستہ کیوں نہیں لیا؟
شین کے چھ کو ذکر ہی کر دیا کہ یہ چھ۔
یہ نہیں کہا أسماء ستہ بلکہ چھ کو ذکر کیا۔
دوسری شرط، دوسری شرط ادھر کیا تھی مولانا! پہلی شرط مكبرہ۔
یعنی مصغر نہ ہو۔
بھئی! انہوں نے مکبر ذکر نہیں کیے کیوں؟ صیغے ہی مکبر والے لے آئے، تصغیر کسی کی بھی نہیں۔
نہیں لائے، سمجھ میں آیا؟ جی۔
تصغیر نہیں لائے بھئی، بھئی! اخ جیسے کہتے ہیں بھئی کو، اس کی تصغیر کیا آئے گی؟
اخيہ.
اخيہ۔
تو سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
اخيہ۔
تو تصغیر نہیں لائے، معلوم ہوا کون مصغر مراد ہیں وہ مکبر؟
مکبر مراد ہیں۔ اس لیے یہ بھی ذکر نہیں کیا یہ بات عبارت سے سمجھ میں آرہی ہے۔
دوسری اگلی شرط کیا تھی؟
مفرد اور تثنیہ جمع یہ بھی نہیں ذکر کیے کیونکہ یہ لفظوں میں سب کو مفرد لائے ہیں کسی کو بھی تثنیہ جمع نہیں۔
تو ان کی طرف لفظوں میں اشارہ کر دیا، آخری قید رہ گئی تھی اس کو عبارت میں ذکر کر دیا، اس حال میں کہ وہ مضاف ہوں کس کی طرف؟ غیر یاء المتکلم کی طرف۔
ان کا اعراب بالواو والألف والياء. واو، الف اور یا۔
بالواو رفعاً، والألف نصباً، والیاء جراً.
الجزء المثنی وکلا مضافاً إلی مضمر واثنان واثنتا.
جی، ان سب کا اعراب بالالف والیاء کس کے ساتھ ہے؟
الف اور یا کے ساتھ۔
پوری عبارت بالالف رفعاً، والیاء نصباً وجراً.
अच्छा آگے آیا جمع المذكر السالم، جمع مذکر سالم کا اعراب وولو اور عشرون.
بھئی! ولو بتلایا تھا آپ کو، ولو کو واؤ کے ساتھ لکھنا چاہیے الف واؤ لام واؤ، اسی طرح ہے آپ کی کتابوں میں؟
جی۔
هونا چاہیے اسی طرح، اسی طرح ہونا چاہیے، ولو کو ہمیشہ واؤ سے لکھتے ہیں۔
یہ غلط ہے اگر واؤ نہ لکھا۔
واؤ کے ساتھ کیوں لکھتے ہیں؟
بھئی! دیکھو حالتِ رفعی میں پڑھتے ہیں ولو، حالتِ نصبی جری میں پڑھتے ہیں ولی۔
اگر واؤ نہ لکھا جائے تو پھر ولی کو کوئی الہ پڑھ جائے گا بھئی اسے پتہ ہی نہیں چلے گا۔
کلا اور ولی ایک جیسا لکھا جائے گا یا نہیں مولانا؟
جی۔
تو فرق کرنے کے لیے انہوں نے ولی اور الہ میں ولی کے بعد الف کے ہمزہ کے بعد ایک واؤ لکھ دیا۔
اب کوئی اس کو الہ نہیں پڑھے گا، جب واؤ آ جائے گا پتہ چل جائے گا یہ الہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ ولی ہے۔
اب جب ایک حالت میں واؤ لے آئے تو طبعاً باقی دو حالتوں میں بھی واؤ لکھتے ہیں تا کہ تمام حالتیں یکساں ہو جائے کہیں واؤ ہے کہیں نہیں تا کہ ایک دوسرے الگ الگ نہ رہیں۔
سور، مسئلہ سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟
جمع مذکر سالم ولو وعشرون اور اس طرح عشرون کا اعراب واخواتہا.
اخوات سے کیا مراد ہے مولانا؟
جو اس کے مشابہ ہیں، جو اس کے مشابہ ہیں۔
بھئی! اخوات اس لیے، اخوات کیوں کہا؟
بھئی کلمہ ہے نا، کلمہ کیا ہوتا ہے؟ عشرون کلمہ ہے مولانا اور کلمہ کا لفظ کیا ہے؟ مونث۔
اور اخوات سے مراد یہاں مشابہ ہیں۔
اس کے جو عشرون کے جو اخوات ہیں، کیا معنی ہے جو اس کے مشابہ مشابہت مشابہ ہیں۔
ثلاثون، اربعون، خمسون وغیرہ۔
اور اخوات سے کیوں تعبیر کیا؟ کیونکہ بہنیں بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں بھئی۔
تو عشرون اور اس کے جو اخوات ہیں (یعنی عشرون کلمہ اور جو اس کے مشابہ مشابہات، مشابہ ہیں)
ان کا اعراب بالواو بالواو والياء. کس کے ساتھ آئے گا؟ واؤ اور یا کے ساتھ۔
अच्छा, اب یہ عبارت پوری کرو مولانا! بالواو رفعاً، مسلمون کا اعراب بالواو رفعاً، والياء نصباً وجراً.
بالواو رفعاً والیاء نصباً وجراً بھئی۔
کتنی قسمیں گنوائی صاحبِ کافیہ نے ذرا آؤ بھئی! شمار کرو۔
16 قسمیں ہم نے پوری کرنی ہیں بھئی۔
مفرد المنصرف اس میں کتنی آ گئیں؟ دو آ گئیں۔ مفرد المنصرف صحیح بھی اور جاری مجریئے۔
آگے جمع مکسر المنصرف تین۔
جمع مؤنث سالم چار۔
غیر منصرف پانچ۔
اسماء ستہ مکبرہ چھ۔
अच्छा, تثنیہ کلا اور اثنانی اثناتانی سات۔
چھ اور تین نو۔
اور جمع مذکر سالم ولو وعشرون۔
نو اور تین بارہ۔
بارہ آ گئی بارہ قسمیں گزر گئیں بھئی۔
التقدیر اب بتا رہے ہیں تقدیمی اعراب کہاں آئے گا مولانا؟ کہتے ہیں التقدیر فیما تعذر.
تقدیمی اعراب اس جگہ، اس اسم میں آئے گا کہ فیما جس میں کیا ہو؟ متعذر ہو جائے اعراب بھئی۔
نہ ممکن ہو جائے، متعذر کا کیا معنی؟
جہاں اعراب کا لانا نہ ممکن ہو جائے، اس اسم میں کون سا اعراب آئے گا؟ اعراب آ ہی نہیں سکتا۔
جیسے عصا ہے۔
بھئی! عصا کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ الف اور الف پر اعراب آ سکتا ہے؟ رفع نصب جر کچھ آ سکتا ہے؟ الف تو ہمیشہ ساکن رہے گا مولانا۔
اس پر کوئی حرکت آ ہی نہیں سکتی۔
تو اعراب اس پر ممکن ہے لانا؟ ممکن ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟
غلامی۔
غلامی کے اندر بھی اعراب لانا ممکن نہیں۔ کیوں؟
کیونکہ اعراب سے پہلے اضافت ہو چکی ہے۔
اعراب سے پہلے اضافت ہو چکی۔
ابھی اعراب نہیں آیا، مضاف مضاف الیہ بنا دیا۔ اس کی اضافت کس کی طرف کی؟ یا کی طرف غلام کی اضافت کی اور یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے؟ کسرہ۔ تو یا آپ سے کسرہ دے دی، کسرہ دے دی گئی یا سے ماقبل کو کیا بن گیا؟ غلامی بن گیا، کیا بن گیا؟ غلامی۔
آپ مولانا! آپ اس کو اعراب دینا چاہتے ہیں۔
رفع دے سکتے ہیں؟ نہیں
نصب دے سکتے ہیں؟ نہیں
جر دے سکتے ہیں؟ نہیں
تو کوئی صورت نہیں مولانا اعراب دینے کی اس کو۔
समझ में आया؟
کیونکہ وہ کسرہ آ چکا ہے پہلے سے۔
بھئی! اس پہ اشکال ہوتا ہے اچھا بھئی، دو حالتیں رفعی نصبی میں تو تقدیر اعراب ہے، حالتِ جری میں تو چلو مان لو، یوں کہہ دو کہ یہی وہ کسرہ ہے جو کس کی وجہ سے آیا ہے؟ عامل کی وجہ سے۔
اس میں لفظ تو لفظی بنانا ممکن ہے یا نہیں ممکن مولانا؟
لیکن آپ کہہ رہے ہیں تینوں حالتوں میں تقدیر ہے۔
کہتے ہیں بھئی! یہ جو کسرہ ہے، یہ یا کی وجہ سے پہلے ہی آ چکا ہے۔
لذا اب اس کو اعراب والا کسرہ قرار دینا صحیح نہیں۔
समझ में आया؟
تو یہاں پر بھی آپ اس کو پڑھ سکتے ہیں، مسلمو یا، لیکن پھر کیا ہو جائے گا؟
ثقیل ہو جائے گا مولانا مسلمو تو پھر وہ کیا کرتے ہیں؟ واؤ کا یا میں واؤ کو یا کر کے یا میں واؤ اور یا جمع ہو جائیں اور واؤ سے اول ساکن ہو تو اس کو یا سے بدل کر کیا کر کیا کرتے ہیں؟ یا میں اور ماقبل کو کسرہ دیتے ہیں مسلمیہ ہوا۔
تو اس رفع یہ حالتِ رفعی میں تقدیری اعراب ہے۔
تو بھئی قاضی کی بھی حالت ذکر کر دی، کس حالت میں؟ رفعی میں اور حالتِ جری بھی ذکر کر دی۔ حالتِ نصبی رہ گئی تھی؟
جی۔
اور مسلمیہ کی کتنی حالتیں رہ گئیں؟ دو۔
تو کہتے ہیں ان میں لفظی ہوگا۔ خود بتا رہے ہیں واللفظی فيما عداه، یہ جو
نہیں، ان کے علاوہ نہیں کہہ رہے، ان کو تو بتا دیا۔
پیچھے کہا تھا تقدیری اعراب کتنی جگہ آئے گا؟
دو۔
اول جہاں اعراب کا لانا ناممکن ہو۔ دوسرا ثقیل ہو۔
ان جگہوں کے علاوہ باقی تمام جگہوں میں لفظی اعراب آئے گا۔
ان دو جگہوں کے علاوہ باقی تمام جگہ کیا آئے گا؟ لفظی اعراب آئے گا۔
پچھے گزرا ہے نا، سب میں لفظی تھا مولانا۔
سمجھ میں آیا؟
تو کہتے ہیں واللفظی فيما عداه، لفظی اعراب ان دو کے علاوہ میں ہے۔
اس پہ اشکال ہوتا ہے ادا ہو میں تو مفرد کی ضمیر راجع ادا ہوما کہنا چاہیے تھا ان دو حالتوں کے علاوہ میں باقی ہر جگہ کیا آئے گا؟ لفظی اعراب آئے گا۔
اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟
بھئی تقدیری اعراب کتنی کی جگہوں پہ آنا تھا؟
دو۔
اول جہاں اعراب کا لانا ممکن نہ ہو۔ دوسرا ثقیل ہو۔
ان دو کے علاوہ باقی ہر جگہ کیا آئے گا؟ لفظی اعراب۔ تو یہ دو ہیں نا تو ان کی طرف کون سی ضمیر راجع ہونی چاہیے؟
تثنیہ کی۔ اور یہ کیا راجع کر رہے ہیں؟ فيما عداه، مفرد کی ضمیر راجع کر رہے ہیں مولانا۔
تو جواب یہ مولانا کہ ان دو میں او آیا ہے۔
فيما تعذر أو استثقل.
او آیا ہے یا نہیں آیا مولانا؟
او آیا۔
تو جب دو چیزوں میں عطف او کے ساتھ آ جائے، تو ان کی طرف مفرد کی ضمیر لوٹائی جاتی ہے۔
کیونکہ وہ بتاوی وہ احد الامرین کی تاویل میں ہیں۔
کس کی تاویل میں ہیں؟ احد الامرین۔ اور احد کیا ہے؟ مفرد ہے یا تثنیہ یا جمع ہے؟
مفرد ہے۔ تو اس کی طرف کون سی ضمیر لوٹے گی؟
مفرد۔ تقدیری اعراب یوں عبارت کیوں بن گئی؟ تقدیری اعراب
احد الامرین میں سے کسی ایک صورت میں آئے گا۔
یوں بن گئی نا؟
تقدیری اعراب ہوگا کس میں؟ احد الامرین میں، ان دو چیزوں میں سے کسی ایک میں۔
اور وہ دو چیزیں کیا ہیں؟ جہاں اعراب کا لانا ممکن ہی نہ ہو یا اعراب کا لانا ثقیل ہو۔ تو یہ تاویل میں ہوا احد الامرین۔ اور احد الامرین کی طرف پھر کون سی ضمیر لوٹائی جائے گی؟ مفرد کی ضمیر۔ احد کیا ہے؟
مفرد ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے سب کو بھئی؟
جی۔
अच्छा مولانا! پہلے کتنی قسمیں گنی تھی؟ 16 پوری کرنی ہیں۔
12 گزر گئی تھی؟
جی۔
اب بتائیے دیکھیے، عصا و غلامی، عصا سے کیا مراد ہے اس میں منقوص غلامی سے وہ اسم جو مضاف ہو کس کی طرف؟ یاء متکلم کی طرف۔ علاوہ کس کے؟ جمع مذکر سالم۔ کتنے ہو گئے؟ 14۔
قاضی بھئی اس میں منقوص کتنا ہوا؟
15 اور مسلمیہ یہ کیا ہوا؟ 16 قسمیں۔
صاحبِ کافیہ نے کمال کیا مولانا! کمال کیا بھئی۔
کتنی عبارت ذکر ہوئی آپ کی کتاب میں؟ دو صفحے ہیں۔
جی۔
डेڑھ صفحہ ہے بس اور 16 کی 16 قسمیں بیان یہ اتنا موٹا موٹا لکھا ہوا ہے اگر اس کو ذرا باریک لکھو
تو یہ تو میرا خیال ہے چند دو، تین، چار، ستر ہی بنے گی بس۔
تین، چار سطروں میں،
پانچ سطروں میں 16 قسمیں بیان کر دینا۔
حالانکہ صاحبِ ہدایت النحو نے اس کو کتنے تین چار صفوں میں بیان کیا، چار صفیں تو ہیں ہی غالباً کم از کم۔
چار صفحہ۔
تو یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے مولانا! ھزا ھو المرام, واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔