Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

كافية · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 40
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا مَوْلَانَا أَسْبَابُ مَنْصَرِفِ شَالْرَہیں۔ أَسْبَابِ مَنْصَرِفِ آپ نے پڑھا نو ہیں، ان میں سب سے پہلا عَدْل ہے۔ عَدْل کے بارے میں آپ نے پڑھا، وہ کس کو کہتے ہیں؟ اسْم کا نکلنا اپنے صِیغَۂ اَصْلِیّہ۔ صِیغَۂ اَصْلِیّہ کس کو کہتے ہیں؟ جو قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا ہو۔ پھر عَدْل کتنی قسم پر ہے؟ تحقیقِی اور تقدِیرِی۔ تحقیقِی عَدْل کس کو کہتے ہیں؟ جس میں مَوْجُود ہو اور تقدِیرِی کس کو کہتے ہیں؟ جس میں مَوْجُود نہ ہو۔ اور پھر بتلایا تھا مولانا یہ وَصْفِیَّت کے ساتھ بھی جمع ہو سکتا ہے، وَصْف کے ساتھ بھی اور عَدْل کے ساتھ بھی، عَلم کے ساتھ بھی جمع ہو سکتا ہے، لیکن وَزْنِ فِعْل کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا۔ کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیونکہ فِعْل کے اپنے اَوْزَان اور عَدْل کے اپنے اَوْزَان ہیں۔ کون کون سے اَوْزَان ہیں مولانا؟ شَابَاش۔ مَفْعَل، فُعَال، فَعَال، فِعْل، فَعْل، فُعْل مولانا۔ یہ چھ اَوْزَان ہیں۔ اس کے بعد ہم نے کس کے بارے میں پڑھا تھا؟ وَصْف کے بارے میں۔ وَصْف کے بارے میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ عَلم کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا، اِسلیے کہ وَصْف دِلَالَت کرتا ہے ذَاتِ مُبْہَم پر، اور عَلم دِلَالَت کرتا ہے ذَاتِ مُعَیَّن پر، اور ایک ہی چیز مُبْہَم بھی اور مُعَیَّن بھی، یہ نہیں ہو سکتا۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ تب کب مؤثر ہوگا، جبکہ یہ کیا ہو اَصْلِ وَصْف جِی اَصْلِ وَصْف شرط کیا تھی کہ اَصْلِ وَزْن میں کیا ہونا چاہیے؟ اَصْلِ وَزْن۔ اور اس اَصْلِ وَزْن میں اس کا وَصْف ہونا یقینی ہونا چاہیے، وُہْمِی نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا بعد میں اگر غَلَبۂ اِسْمِیَّت آ بھی جائے تو بھی اس سے کوئی نقصان نہیں۔ یہ وَصْف پھر بھی مؤثر رہے گا، اپنا اَصَر دکھائے گا اور اسْم اور سَبَب بنے گا کس کے لیے؟ غَیْرِ مُنْصَرِف ہونے کے لیے۔ فِر اس کے بعد تَاْنِیْث کے بارے میں ہم نے پڑھا بھئی۔ تَاْنِیْث بتلایا تھا میں نے کہ تَاْنِیْث دو قسم پر ہے، ایک تَاْنِیْثِ لَفْظِی اور ایک تَاْنِیْثِ مَعْنَوِی۔ اور تَاْنِیْثِ لَفْظِی پھر دو قسم پر ہے مولانا، تَاْنِیْث بِالتَّاء اور تَاْنِیْث بِالْأَلِف۔ پھر تَاْنِیْث بِالْأَلِف پھر دو قسم پر ہے، اَلِفِ مَمْدُودَة اور اَلِفِ مَقْصُورَة۔ تو کل چار قسم کی تَاْنِیْث ہوئی۔ تَاْنِیْثِ مَعْنَوِی، تَاْنِیْث بِالتَّاء، تَاْنِیْث بِالْأَلِفِ مَقْصُورَة اور بِالْأَلِفِ مَمْدُودَة۔ اَب بِالْأَلِفِ مَمْدُودَة مولانا۔ جِی، ان میں سے جو تَاْنِیْث بِالْأَلِف ہے چاہے اَلِفِ مَمْدُودَة کے ساتھ ہو یا اَلِفِ مَقْصُورَة کے ساتھ، وہ خود قَائِم مَقَام کس سَبَب کے ہے؟ دو کے۔ اس کے لیے کوئی شرط نہیں۔ باقی رہ گئی تَاْنِیْث بِالتَّاء اور تَاْنِیْثِ مَعْنَوِی، تو ان دونوں کے لیے شرط کیا ہے؟ عَلَمِیَّة شرط ہے۔ تو تَاْنِیْث بِالتَّاء جو ہے، اس کے ساتھ عَلَمِیَّة آ جائے، تو یہ مُؤَثِّر ہوگی۔ کیا ہوگی؟ مُؤَثِّر ہوگی۔ وُجُوباً مُؤَثِّر ہوگی۔ لیکن تَاْنِیْثِ مُؤَنَّثِ مَعْنَوِی جو ہے، اس کے اندر کیا آ جائے؟ عَلَمِیَّة آ جائے، تو پھر یہ سَبَب بنے گا کس چیز کا؟ یہ تَاْنِیْث سَبَب بنے گی غَیْرِ اِنْصِرَاف کا، لیکن وُجُوباً یا جَوَازاً؟ جَوَازاً۔ جَائِز ہوگا اس کو مُنْصَرِف پڑھنا بھی جَائِز اور غَیْرِ مُنْصَرِف پڑھنا بھی جَائِز۔ بھئی وُجُوباً تَاثِیر کے لیے کیا شرط ہے اگلی؟ تین چیزوں میں سے، یہ تین باتوں میں سے ایک پوری ہو جائے، تین شَرطوں میں سے ایک شَرط پوری ہو جائے، وہ کیا؟ اَوَّل کیا؟ تین حُرُوف سے زَائِد ہو۔ اگر تین سے زَائِد نہ ہو تو پھر مُّتَحَرِّک الْوَسَط ہو۔ اگر درمیان والا مُتَحَرِّک بھی نہ ہو تو پھر عَجَمِی لفظ ہونا چاہیے، یعنی عربی نہ ہو۔ یہ کہہ دیں کیوں لگاتے ہیں آپ بھئی یہ شَرطیں؟ تاکہ کَلِمے میں ثِقَل آ جائے۔ کَلِمے میں ثِقَل آ جائے، کیونکہ غَیْرِ مُنْصَرِف کا حُکم یہ ہے، اس پر كَسْرَہ اور تَنْوِین نہیں آتی۔ کیوں نہیں آتی؟ کیونکہ وہ سَقِیل ہو گیا، اس میں دو سَبَب آگئے، تو اب كَسْرَہ اور تَنْوِین اور اس کو سَقِیل بنا دیں گے، تو ہم نے حُکم لگا دیا کہ ان پہ كَسْرَہ اور تَنْوِین نہ رکھی نہیں آئے گی۔ تو اگر یہ کَلِمَہ جو ہے تَاْنِیْثِ مَعْنَوِی لفظوں میں تو کچھ ہے ہی نہیں۔ لفظوں میں کچھ آیا ہے؟ جب لفظوں میں آیا ہی نہیں تو ثِقَل نہیں آیا، لیکن بہرالْحَال تَاْنِیْث تو آ گئی۔ تو اس ثِقَل کے لیے پھر ہم وُجُوباً تاکہ وہ اَسَر انداز ہو، کتنی شَرطیں لگائیں؟ تین میں سے کوئی ایک پوری۔ تین سے زیادہ ہو جائے تو بھی ثِقَل ہو جائے گا، چار حُرُوف کا پڑھنا کیا ہوتا ہے؟ ثَخِیف، تین کی بنسبت، درمیان والا مُتَحَرِّک ہو جائے پھر بھی کم از کم کیا آجائے گا؟ ثِقَل۔ اگر یہ بھی نہیں ہے تو پھر کم از کم کیا ہو؟ عَجَمِی لفظ ہو کیونکہ تو غَیْرِ زُبَان کا لفظ ہو، اور غَیْرِ زُبَان کا لفظ کسی زُبَان والوں کے لیے کیا ہوتا ہے؟ ثَقِیل ہوتا ہے۔ پھر صاحبِ کافیہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر کسی مُذَکَّر کا نام کیا رکھ دیں؟ مُؤَنَّثِ مَعْنَوِی ایک لفظ ہے، وہ وہ کیا ہے؟ مُؤَنَّثِ اِسْم ہے، وہ مُؤَنَّثِ مَعْنَوِی ہے، اب یہ آپ نے اٹھا کر کسی مُذَکَّر کا نام رکھ دیا، تو کیا اس کے اندر جو تَاْنِیْث ہے، اب بھی مُؤَثِّر ہوگی یا مُؤَثِّر نہیں ہوگی بھئی؟ غَیْرِ مُنْصَرِف کا سَبَب بنے گی یا نہیں بنے گی؟ تو صاحبِ کافیہ نے بتلایا کہ اس کے لیے شرط ہے کہ کم از کم کتنے حُرُوف ہوں؟ چار ہوں۔ چار ہوں، یعنی تین سے زَائِد ہوں، تین سے زَائِد ہوں۔ کیوں بھئی یہ تین سے زَائِد کی شَرْط کیوں لگائی؟ چوتھا حَرْف کس کے قَائِم مَقَام ہو جائے گا؟ تَاِیْ تَاْنِیْث کے قَائِم مَقَام، تو گویا کہ اب تَاِیْ تَاْنِیْث آگئی اور عَلَمِیَّة آگئی، تو اب کیا بنے پڑھیں گے اس کو غَیْرِ مُنْصَرِف۔ اور اگر تین سے زَائِد نہیں تو پھر وہ کیا رہے گا؟ مُنْصَرِف رہے گا۔ اَلْمَعْرِفَةُ شَرْطُهَا اَنْ تَكُونَ عَلَمِيَّةً بھئی۔ مَعْرِفَة، تَعْرِیف مولانا، تَعْرِیف مَعْرِفَة ہونا بھئی، یہ سَبَب ہے کس چیز کا؟ غَیْرِ مُنْصَرِف ہونے کا، کس چیز کا؟ بھئی ابھی تک آپ نے پڑھا جب بھی میں نے آپ سے پوچھا بھئی اِبْرَاہِیم غَیْرِ مُنْصَرِف ہے، اس کے اندر دو سَبَب کیا؟ آپ کہتے ہیں بھئی ایک اس میں عُجْمَہ ہے، ایک عَلَمِیَّة ہے۔ میں نے کہا زَیْنَب غَیْرِ مُنْصَرِف ہے، کیا وجہ؟ آپ کہتے ہیں کہ اس میں تَاْنِیْث ہے، ایک عَلَمِیَّة ہے۔ اسی طرح کہتے ہیں نا آپ؟ آپ عَلَمِیَّة بتاتے ہیں، لیکن صاحبِ کتاب بتا رہے ہیں عَلَمِیَّة نہیں، مَعْرِفَة ہونا بھئی! کیا ہونا؟ مَعْرِفَة ہونا۔ تو یاد رکھو، اَصْل سَبَب ہے تَعْرِیف۔ اس اِسْم کا کیا ہونا؟ مَعْرِفَة ہونا، یہ سَبَب ہے۔ لیکن مَعْرِفَة کی چونکہ کئی قِسْمیں ہیں، اور ان میں سے کیا ہے مولانا؟ اسْمِ اِشَارَہ بھی ہے، اسْمِ مَوْصُول بھی ہے، اَلْ لَام کے سَمَعَرَّب بِاللَّام بھی ہے، اور کیا ہے؟ مُنَادَى بھی ہے، اور اِضَافَت کے ساتھ بھی ہے، عَلم وغیرہ یہ ساری۔ لیکن ان میں سے صرف کون سی تَعْرِیف سَبَب بنے گی؟ عَلَمِیَّة۔ عَلَمِیَّة والی تَعْرِیف جو ہے، وہ سَبَب بنے گی کس چیز کا؟ غَیْرِ مُنْصَرِف کا۔ اِسلیے عَلَمِیَّة ہی سے تَعْبِیر کر دیتے ہیں بھئی۔ آپ سے پوچھا زَیْنَب کے اندر کیا ہیں دو سَبَب؟ آپ کو یوں کہنا چاہیے تَعْرِیف اور تَاْنِیْث۔ تَعْرِیف اور تَاْنِیْث۔ لیکن آپ تَعْرِیف نہیں کہتے بلکہ کیا کہتے ہیں؟ عَلَمِیَّة کہتے ہیں۔ اِسلیے کہ تَعْرِیف کی کئی اَقْسَام ہیں، اور ان میں سے صرف کون سی مُؤَثِّر ہے؟ عَلَمِیَّة۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اَصْل سَبَب ہے تَعْرِیف بھئی غَیْرِ اِنْصِرَاف کا۔ سمجھ میں آیا؟ اَصْل سَبَب ہے تَعْرِیف۔ اَلْمَعْرِفَةُ مَعْرِفَة جو ہے شَرْطُهَا شَرْط اس کی کیا ہے؟ اَنْ تَكُونَ عَلَمِيَّةً عَلَمِیَّة کا ہونا ہے بھئی، پھر وہ غَیْرِ سَبَب بنے گا۔ عُجْمَة کی بات آئی۔ تو عُجْمَة بھی سَبَب بنے گا کس چیز کا؟ غَیْرِ اِنْصِرَاف کا۔ غَیْرِ اِنْصِرَاف کا سَبَب بنے گا۔ لیکن عُجْمَة کے لیے... عُجْمَة کے لیے دو شَرْطیں ہیں۔ وہ دو شَرْطیں ہیں مولانا۔ وہی شَرْطیں ہیں جو آپ نے کہاں پڑھی تھیں؟ حِدَایَةُ النَّحْوِ میں۔ دو شَرْطیں۔ ایک یہ کہ وہ اِسْم وہ عُجْمَہ میں عَلم ہونا چاہیے۔ عُجْمَہ میں کیا ہونا چاہیے؟ عَلم ہونا چاہیے۔ یعنی عُجْمِی لَفْظ ہو کیا ہو؟ لَفْظ کا عُجْمِی ہونا، لَفْظ کا غَیْرِ عَرَبِی ہونا۔ تو شَرْط یہ ہے کہ عَجْمِی زَبَان میں بھی وہ کیا ہو عَلم ہو۔ عَلم ہو۔ تو ایک شَرْط یہ کہ عَلم ہو۔ دُوسری شَرْط یہ کہ تین حَرْف، تین حُرُوف سے زَائِد ہو، یا اگر تین سے زَائِد نہیں تو درمیان والا مُتَحَرِّک ہو۔ دُوسری شَرْط کیا؟ تین حَرْف سے زَائِد ہونا چاہیے اس عَلم کو، اگر تین سے زَائِد نہیں تو کم از کم درمیان والا مُتَحَرِّک ہونا چاہیے۔ یہ تو بھئی مَتْن میں ہی آ جائیں گی یہ باتیں، سمجھنا۔ معلوم ہے مُطَالَعَہ نہیں کر کے آئے وہ۔ ہیں؟ عِبَارَت ہی دیکھ لیتے، مُطَالَعَہ نہ کرتے بھئی۔ اچھا۔ چلو آپ لوگ بھی تو مَصْرُوف ہیں، دَس بارہ تیرہ چودہ کتابیں تو میرا خیال آپ پڑھ رہے ہیں، تو چلو ان کا تَکْرَار کم از کم کر لو۔ اچھا، کیا بات چل رہی تھی؟ ہاں، عُجْمَة کے لیے کتنی شَرَائِط؟ دو۔ اَوَّل کیا شَرْط ہے؟ عَجْمِی زَبَان میں بھی وہ عَلم ہو۔ عَجْمِی زَبَان میں بھی وہ عَلم ہو۔ جِی، تو عَرَبِی میں بھی کیا ہو؟ عَلم ہوگا۔ اور دوسرا کیا ہے؟ تین حَرْف سے زَائِد ہو۔ ہاں، تین سے یا کم از کم زَائِد ہو، یا تین ہو تو پھر درمیان والا مُتَحَرِّک ہو۔ بَس، یہ دو شَرْطیں جب پوری ہوئیں تو یہ مُؤَثِّر ہو جائے گا عُجْمَة، اور سَبَب بنے گا کس چیز کا؟ غَیْرِ مُنْصَرِف ہونے کا۔ بھئی یہ ہم نے عَلَمِیَّة کی قَيْد کیوں لگائی؟ کہ عُجْمَة میں شَرْط ہے کہ عَعْمِی زَبَان میں بھی کیا ہو؟ عَلم ہو، عَلم ہو۔ بھئی وہی پُرانی باتیں چل رہی ہیں، کوئی نئی بات نہیں۔ وَجْہ یہ، کہ آپ لَفْظ کون سا اِسْتِعْمَال کر رہے ہیں؟ غَیْرِ عَرَبِی۔ کس میں لائے ہیں؟ عَرَبِی میں۔ تو جب ایک زَبَان کا لَفْظ دُوسری زَبَان میں جاتا ہے، تو دُوسری زَبَان والے اُس کو اپنے تَلَفُّظ، اپنی زَبَان کے مُطَابِق ڍھال لیتے ہیں، اس کو کیا کر دیتے ہیں؟ ڍھالتے ہیں، اس کو تَبْدِیل کر دیتے ہیں، تَبْدِیل کر دیتے ہیں۔ مَثَلًا، ڈاکٹر کا لَفْظ عَرَبِی میں گیا، کیا بنا دیا انہوں نے؟ دُکْتُور۔ دُکْتُور، کیا؟ دُکْتُور۔ اچھا۔ ٹيليوِیژَن کا لَفْظ عَرَبِی میں گیا، کیا بنایا؟ تِيليڤِيزْيُون۔ تِيليڤِيزْيُون۔ سَمْجھ میں آیا؟ تو جو بھی غَیْرِ زَبَان کا لَفْظ ایک زَبَان میں جاتا ہے، تو وہ زَبَان والے کیا کرتے ہیں اس میں؟ تَبْدِیلِی کرتے ہیں۔ سَمْجھ میں آیا بھئی؟ تَبْدِیلِی کرتے ہیں۔ جِی۔ تو ہم نے کہا جب تَبْدِیلِی کر دیں گے، تو وہ لَفْظ زَبَان کے مُطَابِق ہو جائے گا، جب زَبَان کے مُطَابِق ہو جائے گا تو اس کا سِقْل کیا ہوگا؟ خَتْم ہو جائے گا۔ تو ہم نے کہا عَلم ہو عُجْمَة میں بھی، جب عَعْمِی زَبَان میں بھی وہ عَلم ہوگا، تو عَرَبِی میں لا کر بھی کوئی اس میں تَبْدِیلِی نہیں ہوئی۔ کیونکہ عَلم میں کوئی تَبْدِیلِی کرتا نہیں۔ جب تَبْدِیلِی نہیں کرے گا، تو یہ تو اس زَبَان کا لَفْظ ہے تَبْدِیلِی بھی نہیں ہوئی، تو یہ عَرَبوں کے لیے کیا بن جائے گا؟ ثَقِیل آ جائے گا، سِقْل آ جائے گا، اور میں نے بتایا تھا کہ یہ غَیْرِ مُنْصَرِف کا سَبَب کیوں بنتے ہیں، یہ ہے سَبَب ہیں سارے سِقْل کے، یہ کیا ہیں؟ سِقْل کے ہیں۔ تو لَفْظ میں سِقْل آ جائے گا، تو اس وَجْہ سے ہم نے شَرْط لگائی کیا ہونا چاہیے؟ کہ عَجْمِی زَبَان میں بھی وہ کَلِمَہ کیا ہو؟ عَلم ہو، تو اب تَبْدِیلِی نہیں ہوگی۔ اب آپ مجھے بتائیے مولانا، نُوحٌ عَرَبِی لَفْظ ہے عَعْمِی ہے؟ عَعْمِی ہے۔ عَعْمِی ہے؟ وہ کیسے؟ قُرْآن میں نہیں آیا نُوحٌ؟ فِر؟ عَعْمِی۔ عَعْمِی کہاں سے ہے؟ قُرْآن میں نہیں پڑھا آپ نے؟ اِبْرَاهِيمُ عَعْمِی عَرَبِی ہے؟ عَعْمِی عَعْمِی عَعْمِی۔ قُرْآن میں نہیں پڑھتے؟ کیا؟ بھئی یہ عَجْمِی لَفْظ ہیں، عَرَبِی نہیں ہیں۔ عَعْمِی عَرَبِی زَبَان تو شُرُوع ہوئی ہے، حَضْرَت اِسْمَاعِیل عَلَیْہِ السَّلَام کے بعد کہیں جا کے کافی عَرْصَہ بعد جا کر شُرُوع ہوئی ہے عَرَبِی زَبَان۔ اور حَضْرَت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام تو بہت پہلے کے ہیں۔ اِبْرَاهِيم عَلَیْہِ السَّلَام بھی ہیں پہلے کے ہی ہیں اس زَبَان سے۔ تو وہ عَرَب تھے یا عَجْم تھے؟ عَجْم۔ وہ عرب تھے ہی نہیں اس وَقْت، عَرَبِی تھی ہی نہیں، تو عَرَبِی ہونے کا کیا اِمْكَان ہے؟ ایک چیز ہے ہی نہیں بھئی۔ تو یہ سارے کیا ہیں کیا؟ مُنصَرِف؟ اس وَقْت کون سی زَبَان؟ اس وَقْت اور تھی بھئی عَبْرَانِی تھی، تَوْرَانِی تھی۔ سُرْیَانِی اور یہ بڑی فَصِیح و بَلِیغ زَبَانیں تھیں بھئی۔ سَمْجھ میں آیا؟ اچھا۔ تو عَبْرَانِی، سُرْیَانِی وُغَيْرَہ یہ زَبَانیں تھیں۔ تو یہ اس وَقْت عَرَبِی تھی نہیں یہ غَرِ عَرَب، عَعْمِی ہے مولانا۔ اب لیکن اِسْتِعْمَال عَرَبِی میں ہو رہے ہیں، تو یہ کیا ہے؟ ان کے اندر عُجْمَة ہے، یہ کیا ہیں؟ عَجْمِی لَفْظ ہیں، ان میں کیا ہے؟ عُجْمَة۔ اور عُجْمَة تو یہ بتائیے اب آپ، نُوحٌ کے اندر عُجْمَة مُؤَثِّر ہے یا نہیں، سَبَب بنے گا غَیْرِ اِنْصِرَاف کا یا سَبَب نہیں بنے گا؟ مُنصَرِف بنے گا۔ ہالَانکہ نُوح میں دو چِیزیں ہیں، ایک عَلَمِیَّة، ایک عُجْمَة، لیکن پھر بھی آپ اس نُوحٌ پڑھتے ہیں، تَنْوِین کے ساتھ، معلوم ہوا یہ غَیْرِ مُنْصَرِف نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ مُنْصَرِف ہے، کیوں؟ دُوسری شَرْط نہیں۔ آں، ٹِھیک ہے۔ عَلَمِیَّة بھی مَوْجُود ہم مَانْتِیں، عُجْمَة بھی مَوْجُود ہم مَانْتِیں، لیکن اس عُجْمَة کا کوئی اَصَر نہیں۔ اس عُجْمَة کا اَصَر نہیں۔ کیونکہ اس کے مُؤَثِّر ہونے کے لیے کیا شَرْط تھی؟ دو شَرْط۔ اَوَّل کیا تھی؟ عَلم ہو۔ اَوَّل شَرْط کیا تھی؟ عَجْمِيَّت میں بھی عَلم ہونا۔ عُجْمَة میں عَلم ہو۔ وہ شَرْط تو پُوری، ہمیں تَسْلِيم۔ دُوسری شَرْط کیا تھی؟ تین حَرْف سے زَائِد ہو۔ تو تین حَرْف سے زَائِد ہے؟ نہیںَ۔ چلو درمیان والا مُتَحَرِّک ہوگا۔ نہیںَ۔ تو دُوسری شَرْط ہی پُوری نہیں۔ جب دُوسری شَرْط پُوری نہیں، تو عُجْمَة اس میں مُؤَثِّر نہیں۔ لِهَاذَا نُوحٌ مَنْصَرِف۔ اَچّھا۔ تو چلیے دیکھیے الْعُجْمَةُ عُجْمَة جو ہے، شَرْطُهَا اس کی شَرْط کیا ہے؟ یعنی اس کے مُؤَثِّر ہونے کی شَرْط کیا ہے؟ اَنْ تَكُونَ عَلَمِيَّةً کہ عَلَمِیَّة کا ہونا کس کے اندر؟ عُجْمَة کے اندر۔ اَحَا، جِ عُجْمَة کا عُجْمَة ہونا، عُجْمَة کے اندر عُجْمَة۔ وَتَحَرُّكُ الْأَوْسَطِ دَرْمِیَان والے حَرْف کا مُتَحَرِّک ہونا۔ اَوِ الزِّيَادَةُ عَلَى الثَّلَاثَةِ يَا تین حُرُوف پَر زِیَادَة۔ فَنُوحٌ مَنْصَرِفٌ پَس نُوح کیا ہے؟ مُنصَرِف ہے۔ فَسْنَوح کیا ہے؟ مُنصَرِف ہے۔ کیونکہ اس میں دُوسری شَرْط نہیں پَائِی جَارہی۔ وَشَطَرُ شَطَر مولانا نَام ہے مولانا، ایک قِلْعہ کا۔ تو ہے عَعْمِی نَام، تو یہ عُجْمَة ہے، اس میں پہلی شَرْط عَلَمِیَّة وہ پَائِی جَارہی۔ دُوسری شَرْط پَائِی جَارہی ہے یا نہیں؟ پَائِی جَارہی ہے۔ لِهَاذَا یہ غَیْرِ مُنْصَرِف۔ اِبْرَاهِيمُ یہ بھی مولانا عَرَب سے پہلے کا نَام۔ تو فِر یہ، اس میں پہلی شَرْط کیا ہے؟ عَلَمِیَّة۔ دُوسری شَرْط کیا ہے؟ تین حَرْف سے زَائِد ہے۔ لِهَاذَا یہ مُنْصَرِ اِيْک عَلَمِیَّة آگئی، ایک عُجْمَة آگیا، تو یہ غَیْرِ مُنْصَرِف۔ یہی بَتْلَا رَہْیں وَشَطَرُ وَاِبْرَاهِيمُ مُمْتَنِعٌ یہ کیا ہیں؟ مُمْتَنِعُ۔ کیا مُمْتَنِع ہے؟ صَرْف۔ ہاں، مُمْتَنِع ہے ان کی صَرْف، یعنی یہ مَنَع صَرْف... یہ غَیْرِ مُنْصَرِف ہوں گے۔ سَمْجھ میں آیا بھئی؟ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلامِ.
20 approved lectures · 15 of 20