Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

كافية · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 38
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
صاحب کافیہ نے مولانا اعراب کی سولہ قسمیں آپ کو بتلائیں تھیں۔ سولہ میں سے کچھ قسموں میں لفظی اعراب آتا تھا، کچھ میں تقدیدی اعراب آتا تھا۔ صاحب قافیہ نے آپ کو ایک ضابطہ بتلا دیا کہ تقدیدی اعراب دو جگہوں پہ آئے گا۔ ایک وہ جہاں اعراب کا پڑھ لانا کیا ہو؟ ناممکن ہو اور دوسرا جہاں اعراب کا لانا ثقیل ہو۔ یہ دو جگہیں ہیں اور یہ پھر کون کون سی جگہیں ہیں وہ بھی آپ کو بتلا دیں بھئی۔ تو سولہ کی سولہ قسمیں انہوں نے شمار کروادیں۔ اور بڑی مختصر عبارت میں، بڑی مختصر عبارت میں یہی انداز ہو رہے گا ساری کتاب میں مولانا۔ اب غیر منصرق کی بحث شروع کرنے لگے ہیں بھئی۔ تو فرماتے ہیں غیر المنصرق ما غیر منصرق وہ اسم ہے، ما سے مراد اسم۔ وہ اسم ہے فیہ علتانی، جس میں کتنی علتیں ہوں؟ دو علتیں ہوں من تسع، ای من علل تسع، موصوف محذوف ہے۔ کتنی علتوں میں سے؟ نو۔ غیر منصرق وہ ہے جس میں نو میں سے دو علتیں پائی جائیں، او واحدۃ منھا، ہا ضمیر راجع ہے تسع کو۔ یا مولانا ان نو میں سے ایک ہو، ایسی ایک تقوم مقامھما، جو دو علتوں کے قائم مقام ہو۔ تو غیر منصرق کی کیا تعریف ہوئی مولانا؟ وہ ہے کہ جس میں نو علتوں میں سے کوئی دو علتیں پائی جائیں یا کوئی ایک ایسی علت پائی جائے، پائی جائے جو دو کے قائم مقام ہو بھئی۔ قائم مقام۔ وھی اور وہ یہ ہیں مولانا، شعر۔ شعر کی صورت میں ذکر کریں۔ عدل و وصف و تانیث و معرفہ وعجمۃ ثم جمع ثم ترکیب والنون زائدۃ من قبلہا ألف ووزن الفعل وھذا القول قریب۔ اشعار کی صورت میں بھئی۔ تو وہ نو علتیں یہ ہیں نمبر ایک عدل ہے، نمبر دو وصف ہے، تانیث ہے مولانا، پھر معرفہ ہے، عجمہ ہے، ثم جمع، پھر کیا ہے؟ جمع ہے۔ بھئی باقیوں میں واؤ ذکر کیا، جمع سے پہلے ثم، ترکیب سے بھی پہلے ثم۔ بھئی یہ ثم یہاں پر صرف وزن شعر کی وجہ سے لائے اور کوئی وجہ اس کی نہیں۔ اگر واؤ لاتے، وجمع و ترکیب تو شعر کا وزن نہیں برابر ہوتا تھا، تو لہذا وہ واؤ کی بجائے کیا لے آئے؟ ثم لے آئے اور کوئی وجہ نہیں اس کے لانے کی۔ سمجھ میں آیا؟ اشعار کے اوزان ہوتے ہیں مولانا باقاعدہ اوزان انشاءاللہ آپ اگلے درجوں میں پڑھیں گے۔ تو اس وزن اگر واؤ لاتے تو پھر وہ وزن برقرار نہ رہتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ خاص اوزان ہوتے ہیں ترنم ہوتا ہے مولانا ان میں خاص روانی اور ترنم ہوتا ہے، اگر ایک لفظ ادھر ادھر ہو جائے تو سارا وزن ٹوٹ جاتا ہے اور شعر خراب ہو جاتا ہے بھئی۔ تو اسی لیے ثم لائے، ثم پھر جمع ہے مولانا، ثم ترکیب، اور کیا ہے؟ ترکیب ہے مولانا۔ والنون اور نون ہے زائدۃ اس حال میں کہ زائدہ ہو۔ زائدہ کیا بن رہا ہے نون سے؟ حال بن رہا ہے نون سے حال۔ اور نون حرف ہے اور حرف کیا ہے؟ مذکر مونث کیا ہیں بھئی؟ دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں دونوں طرح۔ تو زیادہ مونث استعمال ہوتے ہیں۔ اور نون اس حال میں کہ زائدہ ہو من قبلھا اس نون سے پہلے الف ہو کیا زائدہ ہو؟ یہ فاعل ہے زائدہ کا۔ آپ نے پڑھا ہے یا نہیں مولانا؟ جیسے فعل کے لیے فاعل چاہیے، اس میں فاعل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو زائدہ کون سا صیغہ ہے؟ اسم فاعل مونث کا صیغہ ہے، تو لہذا اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل۔ اور وہ فاعل کیا ہے؟ الف۔ بھئی ضرب زید۔ ضرب کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ کیونکہ کوئی نہ کوئی ضرب لگانے والا چاہیے۔ تو ضارب کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل۔ کوئی نہ کوئی ضارب ہونا چاہیے۔ مضروب کے لیے کیا ہمیشہ چاہیے؟ نائب فاعل۔ کوئی نہ کوئی مضروب ہوگا۔ تو وہ اس کے اندر عموماً ضمیر ہوتی ہے۔ عموماً اسم فاعل میں کیا ہوتی ہے؟ ضمیر۔ لیکن کبھی کبھار وہ فاعل آگے ظاہر بھی ہو جاتا ہے، جیسے یہاں مولانا زائدۃ کے اندر اب ضمیر نہیں کیونکہ آگے الف اس کا فاعل آ رہا ہے بھئی۔ اور نون اس حال میں کہ وہ زائدہ، کہ زائدہ ہو اس سے پہلے الف بھئی، اس سے پہلے کیا زائدہ ہو؟ الف۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا الف اور نون دونوں زائد ہوں گے۔ الف اور نون کیا ہیں؟ دونوں زائد ہوں گے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں مثلاً؟ جاءني زيد، جاءني زيد راکباً من قبلہ أخوہ۔ کیا کہتے ہیں؟ آیا میرے پاس زید اس حال میں کہ سوار تھا اس سے پہلے اس کا بھئی۔ جاءني زيد آيا میرے پاس زید راکباً اس حال میں کہ سوار تھا، کون سوار تھا؟ فاعل آگے آ رہا ہے۔ سوار تھا اس، اس سے پہلے، زید سے پہلے کون سا وار تھا؟ أخوہ زید کا بھئی۔ تو یہ کلام دلالت کرتا ہے کہ سوار ہونے کے اندر دونوں شریک ہیں بھئی۔ البتہ اس کا بھئی اس سے پہلے آیا ہے۔ سوار ہونے میں کیا ہیں؟ دونوں شریک ہیں۔ البتہ اس کا بھئی اس سے پہلے ہے۔ تو یہاں بھی بعینہ اسی قسم کی عبارت ہے کہ نون اس حال میں کہ زائدہ ہو اس سے پہلے کیا؟ الف۔ معلوم ہوا زائدہ کا وصف میں دونوں شریک ہیں، زائد ہونے میں۔ جیسے رکوب کے اندر زید اور اس کا بھئی دونوں کیا تھے؟ شریک تھے۔ بات عبارت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ شریک تھے۔ अच्छा एक और बात भी आपको बतला दूं, भई ये जायदतन को मैंने क्या बनाया؟ हाल बनाया। किससे बनाया؟ नून से। समझ में आया؟ नून से हाल बना। आप चाहें तो इसको सिफत बना दें नून के लिए। والनून زائَدَةٌ۔ والنون زائدۃ۔ اس پہ اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا کہ بھئی ان نون معرفہ ہے اور زائدہ کیا ہے؟ صفت موصوف میں تعریف اور تنکیر میں مطابقت نہیں۔ بھئی میں نے آپ کو الف لام کی قسمیں لکھوائی تھیں، یاد ہیں کچھ؟ اس میں ایک الف لام عہد ذہنی کا بھی آیا تھا اور وہ میں نے بتایا تھا لفظوں کے اعتبار سے معرفہ ہوتا ہے لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ ہوتا ہے۔ تو اگر اس الف النون پر ہم الف لام عہد ذہنی مراد لے لیں تو لفظوں کے اعتبار سے تو یہ معرفہ ہے لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ۔ اور صفت میں ہم نے معنی کی رعایت رکھ لی بھئی۔ صفت میں کس کی رعایت رکھ لی؟ معنی کی۔ ہاں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے عربی میں بھئی معنی کی رعایت رکھ لی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس کو صفت بنانا بھی جائز بھئی۔ تو چاہے صفت بنا دیں پھر بھی فاعل الف بنے گا۔ تو صفت آپ نے کیپوڑی ہے دو قسم پر ہے مولانا ایک صفت بحالی اور صفت ایک صفت بحال غیري۔ زید جی رجل قائم کیا معنی؟ ایسا آدمی جو کھڑا ہے۔ تو بتاؤ یہ قیام کس کے اندر ہے؟ کس کے اس کے ساتھ کون متصف ہو رہا ہے؟ رجل۔ لیکن میں کہتا ہوں رجل قائم أبوه۔ یہ ابو یہ قائم کے لیے کیا آ گیا؟ فاعل آ گیا۔ کیا آ گیا؟ فاعل۔ اس کو رفع کس نے دیا؟ قائم نے۔ کس نے؟ قائم نے۔ تو اب دیکھو ایسا آدمی قائم کہ کھڑا ہے أبوه اس کا باپ۔ کھڑا ہے اس کا باپ۔ یہ کیا ہوئی صفت بحال قائم۔ دیکھو لفظوں میں صفت قائم صفت ہے رجل کی۔ اور معنی کے اعتبار سے کس کی صفت ہے؟ اس کے باپ کی بھئی۔ قیام رجل میں پایا جا رہا ہے یا اس کے باپ کے ساتھ اس کا باپ اس سے متصف ہو رہا ہے؟ سمجھ میں آیا؟ تو آپ نے صفت کی تعریف بھی یاد ہو اگر آپ کو کہ صفت اسے کہتے ہیں جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو اس کے مجموع میں پایا جائے یا اس کے مجموع کے متعلق میں پایا جائے۔ کسے کہتے ہیں صفت؟ جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جائے؟ مجموع میں۔ رجل قائم یہ قائم کیا ہے؟ صفت۔ یہ کس پہ دلالت کر رہی ہے؟ قیام پہ۔ اور وہ قیام کس میں پایا جا رہا ہے؟ رجل میں۔ تو صفت کس کو کہتے ہیں جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جائے اس کے مجموع یا مجموع کے متعلق میں پایا جائے مولانا۔ رجل قائم أبوه۔ اب قائم کون ہے مولانا؟ اس شخص کا باپ۔ تو دیکھو تو ترکیب یوں ہے: رجل ہے موصوف، قائم ہے صیغہ اسم فاعل، ابوہ ہے اس کا فاعل۔ اسم صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر رجل کے لیے صفت ہوئی۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ ترکیب کو جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ تو یہ اس کے لیے صفت ہوئی مولانا۔ تو آپ یہ قیام مولانا کس کے اندر ہے؟ رجل کے اندر ہے یا اس کے باپ میں ہے بھئی؟ اس کے باپ۔ تو دیکھو صفت یا تو دلالت کرتی ہے ایسے معنی پر جو مجموع میں پایا جاتا ہے یا مجموع کے متعلق میں تو رجل کا باپ اس کے متعلقین میں سے ہے۔ وہ بھی کیا ہے اس کے؟ تو اب یہ قیام مجموع میں نہیں پایا جا رہا ہے، مجموع کے متعلق میں پایا جا رہا ہے۔ اس کو کہتے ہیں صفت بحال متعلقہ۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو صفت کتنی قسم پر ہے؟ ایک بحالہ اور ایک بحال تعالی۔ تو یہ الزائدۃ من قبلہا الف یہ الف اس کے لیے آگے فاعل آ گیا تو زائدہ کیا ہوئی صفت بحال متعلقہ۔ समझ में आया भई؟ या हाल बनाएँ फिर भी مولانا اسی طرح ہے۔ ووزن فعل، اور کیا ہے مولانا؟ وزن فعل ہے وھذا القول قریب، اور یہ قول قریب مصدر ہے مولانا۔ یہ قول قریبی ہے، یعنی درستگی کے قریب ہے۔ درست اي مقرب مقرب الی الصواب۔ قریب مصدر ہے اور مصدر کس معنی میں ہوتا ہے؟ کبھی اسم فاعل کے معنی میں بھی آ جاتا ہے اور کبھی اس میں مفعول کے معنی میں بھی آ جاتا ہے، تو یہاں اس کو اس میں مفعول کے معنی میں لے لیں۔ وھذا القول مقرب اور یہ قول قریب کیا گیا ہے کس کے؟ الی الصواب درستگی کے۔ یہ قول زیادہ قریب ہے کس کے؟ در اصل انہوں نے نو علتیں انہوں نے کیا کہا بھئی علتیں کل کتنی ہیں؟ نو ہیں۔ اس میں علماء کے اور بھی کئی اقوال ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں دس ہیں۔ بعض فرماتے ہیں گیارہ ہیں۔ بعض فرماتے ہیں تیرہ ہیں۔ بعض فرماتے ہیں صرف دو ہیں۔ تو کئی اقوال ہوئے دس، گیارہ، تیرہ، بعض کہتے ہیں دو، اور بعض کہتے ہیں نو، اور صاحب قافیہ نے بھی کتنے ذکر کیے؟ نو۔ اور کہا کہ باقی اور بھی اقوال ہیں لیکن حق اور درستگی کے یہ والا قول زیادہ قریب ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ جی جی۔ یا مولانا تو میں نے کیا بتلایا یہ تقریب کس معنی میں؟ مقرب کے معنی میں اور مقرب الی الصواب ہے۔ قریب کس کے کیا گیا ہے؟ صواب کے۔ یا یہ مولانا یہ قول مقرب الی الاذھان ہے، ذہنوں کے قریب کیا گیا ہے یاد کرنے میں۔ یہ قول کس کے قریب کیا گیا ہے؟ ذہن کے زیادہ قریب ہے، کیا معنی ذہن کے زیادہ قریب ہے؟ کہتے ہیں اس کو یاد کرنا آسان ہے۔ اس کو یاد کرنا۔ کیوں یاد کرنا آسان ہے؟ کیا خاص بات ہے اس میں؟ کہتے ہیں بھئی یہ شعر کی صورت میں ہیں۔ اور شعر کیا ہوتے ہیں آدمی کو جلدی یاد ہو جاتے ہیں۔ جلدی یاد ہو جاتے ہیں، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور تادیر یاد رہتے ہیں مولانا۔ تو اس کاش اس کو یہ جو ہم نے نو علتیں ذکر کیں، یہ شعر کی صورت میں ہیں تو لہذا یہ ذہنوں کے زیادہ قریب ہوئیں یاد کرنے میں بھئی۔ تو مقرب الی الاذھان ہے فی الحفظ مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پہلا قول کیا ذکر کیا؟ مقرب الی الصواب ہیں کہ اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں لیکن یہ والا قول جو نو والا ہے یہ زیادہ درستگی کے صواب کے معنی درستگی مولانا۔ अच्छा जी, उसके बाद मिसालें ذكر कर रहे हैं भई ये शेर आप लोगों ने याद करने हैं, कल मैं सुनूंगा सबसे भाई। सबसे भाई। مثل عمر و احمرا، جی سب کی ترتیب سے مثالیں ذکر کر رہے ہیں۔ عمر یہ کس کی مثال ہے؟ عدل کی۔ تو ایک تو اس میں عدل ہوا، دوسرا علمیت غیر منصرق وأحمرا، یہ کس کی مثال ہے؟ وصف کی اور دوسری علت کیا ہے اس کے اندر؟ وزن فعل مولانا اکرم کا وزن ہے شاباش۔ وطلحتا، یہ کس کی مثال ہے؟ تانیث کی۔ اور پھر آپ نے پڑھا ہے تانیث دو قسم پر ہے، ایک تانیث لفظی ہے اور ایک تانیث معنوی ہے۔ تانیث لفظی کی کتنی چیزوں کے ساتھ آتی ہے؟ جے۔ چار۔ تین چیزیں ہیں بھئی تین۔ چاہے انہی کو چار بھی بنا لیتے ہیں کس تین چیزیں کون کون سی ہیں؟ تا ہے۔ الف مقصورہ ہے اور الف مقصورہ، تو یہ تین چیزیں ہوئیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو طلحہ کے اندر یہ تانیث لفظی آگئی، تا آ گئی مولانا۔ اور زینب یہ کس کی مثال ہے تانیث معنوی؟ تو تانیث کی دو مثالیں ذکر کیں، ایک تانیث لفظی کی اور دوسری تانیث معنوی کی بھئی۔ تو طلحہ میں کون کون سے دو سبب ہوئے؟ تانیث لفظی اور علمیت۔ اور زینب میں تانیث معنوی اور علمیت۔ جی تو طلحہ میں تانیث لفظی اور علمیت اور زینب میں تانیث معنوی اور علمیت۔ وإبراھیما، یہ کس کی مثال ہے؟ بھئی پیچھے دیکھو۔ عدل کی مثال عمر۔ وصف کی مثال احمر۔ تانیث کی دو مثالیں طلحہ اور زینب۔ اس کے بعد کیا آیا؟ معرفہ۔ معرفہ کی مثال انہوں نے کیوں نہیں ذکر کی؟ معرفہ سے کیا مراد ہے؟ علمیت۔ معرفہ کی کئی اسباب نے مانا ان میں سے صرف علمیت مراد ہے تو۔ بھئی اس کو علیحدہ اس لیے نہیں کیا کہ ہر ایک کی ضمن میں علم خود بخود آ رہا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ اس کو علیحدہ ذکر نہیں کیا بھئی۔ ومساجدا، یہ کس کی مثال ہے؟ جمع کی۔ یہ جمع منتہی الجموع کا صیغہ ہے۔ اس میں دوسرا سبب کیا ہے مولانا؟ شاباش۔ یہ وہ یہ خود ہی علت قائم مقام کتنے کے ہے؟ دو کے۔ ومعدیکرب، یہ کیا ہے؟ ترکیب ہے مولانا شاباش۔ دو اسموں۔ समझ में आया؟ تو ترکیب اور علمیت ہے۔ وعمرانا، یہ کیا ہے؟ شاباش الف نون زائدتان، دوسرا سبب کیا ہے؟ علمیت۔ وأحمدا، وزن فعل اور علمیت۔ تو سب کی مثالیں بھی انہوں نے ذکر کر دیں بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آئی بھئی؟ وحکمہ، اور حکم اس کا یہ ہے کہ اس پر نہ کسرہ آئے گا اور نہ تنوین۔ بھئی غیر منصرق کی تعریف کر دی کہ جس کے اندر دو علتیں پائی جائیں یا ایک قائم مقام دو کے ہو نو علتوں میں سے۔ اب اس کا اور پھر ہر اس کے وہ کون سی نو علتیں وہ شعر میں بیان کر دی، پھر ہر ایک کی مثال ذکر کر دی، اب اس کا حکم بیان کرنے لگے ہیں کہ اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتا بھئی، تنوین بھی نہیں۔ اللہ کسرۃ، بھئی آپ پڑھ سکتے ہیں جاءنی احمد؟ نہیں جی۔ کیوں؟ کیونکہ یہ غیر منصرق ہے اور غیر منصرق پر تنوین نہیں آتی۔ آپ کہہ سکتے ہیں مررت بأحمد؟ نہیں تنوین نہیں آئے گی، پھر کیا پڑھیں گے؟ بأحمد بأحمد۔ اس پر کسرہ بھی نہیں آتا۔ تو لا کسرۃ ولا تنوینا، یہ عبارت مولانا لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی طرح ہے۔ جیسے وہاں پانچ وجہیں پڑھنا جائز تھا یہاں بھی پانچ وجہیں پڑھنا جائز بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لا کسرۃ ولا تنوینا، تو لا کسرۃ ولا تنوین وغیرہ پانچ صورتیں بن جاتی ہیں مولانا۔ لا حول ولا قوۃ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ اس کی کیا بھئی کون سی صورت ہے یہ؟ لا نفی جنس ہو اور اس کا تکرار ہو، لا نفی جنس کا دیکھو یہاں بھی تکرار ہے: لا کسرۃ ولا تنوین۔ اور اس کے ساتھ نکرہ ملا ہوا ہو بھئی تکرار اسم بھی ہو، تو اس صورت کے اندر دیکھو لا کسرۃ اس کا اسم نکرہ ہے اور ساتھ ملا ہوا ہے ولا تنوین اور یہ بھی کیا ہے نکرہ ہے اور ساتھ ملا ہوا؟ تو اس صورت میں جب جہاں بھی ایسی جگہ آ جائے، تو وہاں کیا پڑھنا جائز؟ پانچ وجہیں پڑھنا جائز بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لا کسرۃ ولا تنوینا، ایک صورت یہ ہو گئی مولانا۔ دوسری لا کسرۃ ولا تنویناً، دوسری ہو گئی۔ تیسری لا کسرۃ ولا تنوینن۔ کتنی ہو گئیں؟ تین۔ تین ہو گئیں مولانا۔ تین۔ یا مولانا ولا کسرۃ ولا تنوینا، چار ہو گئیں یا لاک ولا کسرۃ ولا تنوین پانچ صورتیں ہیں بھئی۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ میں تفصیل آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جی۔ لا نفی جنس کی جہاں بحث آئے گی، وہاں ذکر کریں گے۔ ويجوز صرفہ للضرورۃ أو للتناسب، جی، یہاں سے بڑی قیمتی بات بتلا دی صاحب قافیہ نے۔ یہ نئی بات ہے مولانا جو آپ نے ہدایۃ النحو میں نہیں پڑھی بھئی۔ وہ بتلا رہے ہیں کہ یہ غیر منصرق کو کبھی منصرق پڑھنا بھی جائز ہے للضرورۃ۔ ويجوز صرفہ، غیر منصرق کی صرف بھی جائز، یعنی اس کو منصرق پڑھنا بھی جائز ہے للضرورۃ، کس بنا پر؟ ضرورت کی بنا پر، ضرورت شعری کی بنا پر، ضرورت شعری کی بنا پر۔ بھئی میں نے آپ کو بتایا اشعار کے خاص اوزان ہوتے ہیں، ضرب۔ ایک حرکت بڑھ گئی یا ایک حرکت کم ہو گئی تو اس سے شعر کا وزن سارا خراب ہو جائے گا۔ خاص اوزان ہیں، اس کے مطابق ذکر کے آتے ہیں اشعار بھئی۔ تو کبھی کبھار ضرورت پڑ جاتی ہے کہ کلمہ آیا غیر منصرق، اور اب اس کو اگر ہم غیر منصرق پڑھیں تو اس پر تنوین نہیں پڑھیں گے۔ تنوین نہیں پڑھیں گے تو شعر کا وزن صحیح نہیں رہتا، تو پھر ضرورت شعری کی بنا پر اجازت دی جاتی ہے کہ یہاں پر اب آپ اس غیر منصرق کو کیا پڑھ سکتے ہیں؟ منصرق بھی۔ جاءنی احمدً مثلاً، احمدً بھی وہاں پڑھ سکیں گے۔ کیونکہ اگر احمدُ پڑھتے ہیں تو پھر شعر کا وزن باقی نہیں رہتا۔ समझ में आया؟ तो अशعار کے اندر مولانا بہت سے ایسے امور کی اجازت ہے کرنے کی، ایسے امور کا کا کرنا جائز ہے جن کا عام کلام میں۔ وہ طریقہ اختیار کرنا صحیح نہیں۔ انہی میں سے ایک یہ ہے مولانا کہ اشعار میں غیر منصرق کو آپ کیا پڑھ سکتے ہیں ضرورت کی بنا پر منصرق۔ لیکن عام کلام کے اندر ایسا نہیں ہو سکتا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ضرورت پیش آ گئی اور الضرورۃ ترد الاشیاء الی اصولھا، ضرورت چیزوں کو ان کی اصل کی طرف لوٹا دیتی ہے بھئی۔ تو یاد رکھو مولانا، غیر منصرق کو تو منصرق پڑھنا جائز ہے، لیکن منصرق کو ضرورت شعری کی بنا پر غیر منصرق پڑھنا جائز نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اسم میں اصل کیا ہے؟ منصرق ہونا یا غیر منصرق ہونا؟ منصرق ہونا۔ منصرق ہونا، تو غیر منصرق ہونا خلاف الأصل ہوا، تو اس خلاف الأصل سے آپ اصل کی طرف تو لوٹ سکتے ہیں ضرورت کی بنا پر۔ تو اس پر تنوین پڑھ دیں گے بھئی۔ لیکن اگر اصل ہے کیا؟ منصرق، وہ کلمہ ہے منصرق، اور ضرورت کی بنا پر آپ اس کو کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ غیر منصرق تو وہ اصل ہے، تو ضرورت کی وجہ سے اصل کی طرف لوٹایا جاتا ہے نہ کہ غیر اصل کی طرف۔ یہ بات یاد رہے گی بھئی؟ جی۔ ويجوز صرفہ للضرورۃ، اور جائز ہے منصرق پڑھنا غیر منصرق کا للضرورۃ کس کی وجہ سے؟ ضرورت شعر کی، ضرورت شعری کی بنا پر۔ اور للتناسب یا مناسبت کی بنا پر بھئی۔ کس کی بنا پر؟ مناسبت۔ अच्छा، بھئی کبھی کبھار غیر منصرق کی منصرق کے ساتھ مناسبت آ جاتی ہے جس کی وجہ سے۔ इस गैर منصرق کو بھی کیا پڑھ دیا جاتا ہے؟ منصرق۔ مناسبت کا کیا معنی؟ بھئی یعنی اس کے پڑوس میں آ جاتا ہے۔ اور منصرق پر تو ہم تنوین پڑھتے ہیں۔ اور منصرق پر تنوین پڑی اور اس کے پڑوس میں کیا آ رہا ہے غیر منصرق، تو اس کی مناسبت آ گئی منصرق کے ساتھ اس کے پڑوس میں ہوا، تو جب اس پر تنوین پڑی تو اس غیر منصرق پر بھی کیا پڑھ دی؟ تنوین پڑھ دی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی۔ देखو قرآن مثل سلاسلاً وأغلالاً، سلاسلاً واغلال یہ قرآن میں آیا ہے مولانا۔ اب اغلالاً یہ منصرق ہے مولانا اس پر کیا آ رہی ہے؟ تنوین۔ اشکال ہوتا ہے سلاسلاً۔ یہ تو مساجد فاعل۔ جے۔ تو یہ وزن صوری بن گیا مولانا، سمجھ میں آیا؟ کس کی صورت بن گئی؟ جمع منتہی الجموع کا صیغہ ہے اور جمع منتہی الجموع کیا ہے؟ غیر منصرق۔ یہ تو دو علتوں کے قائم مقام تو اس کو غیر منصرق ہونا چاہیے اس پر تنوین نہیں آنی چاہیے سلاسلاً واغلالاً ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں اس کو منصرق بنایا گیا کس کی وجہ سے؟ مناسبت کی وجہ سے۔ اس کی مناسبت ہے اغلالاً کے ساتھ۔ مناسبت سے کیا مراد ہے مولانا؟ اس کے پڑوس میں آ گیا، کس میں آ گیا؟ پڑوس۔ تو السلاسل کس کے پڑوس میں ہے؟ اغلالاً کے، اور اغلالاً کیا ہے؟ منصرق اور اس پر کیا پڑھنا جائز؟ تنوین تو اس کے ساتھ پڑوس میں آیا اس سے مناسبت ہو گئی تو اس پر بھی کیا پڑھ دی گئی؟ تنوین پڑھ دی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو؟ جی۔ مثل سلاسلاً واغلالاً۔ بھئی غیر منصرق کی تعریف بھی ہوئی۔ نو علتیں بھی بیان ہوئیں۔ ان کی مثالیں بھی گزر گئیں۔ اس کا حکم بھی گزر گیا۔ حکم کیا گذرا کہ غیر منصرق پر کسرہ اور تنوین نہیں۔ البتہ ضرورت شعری کی بنا پر اور اسی طرح مناسبت کی بنا پر غیر منصرق کو منصرق پڑھنا بھی جائز جائز ہے۔ ساری باتیں گزر گئیں۔ اب درمیان میں بھئی وہاں آیا تھا کیا؟ کہ کبھی کبھار ایک تعریف میں ایک علت قائم مقام ہوتی ہے کتنے کے؟ دو کے۔ وہ کون کون سی ہیں؟ تو صاحب قافیہ وہ بتلانا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں وما يقوم مقامھما، اور وہ جو علت جو قائم مقام دو علتوں کی ہوتی ہے، وہ کیا ہے؟ وہ دو ہیں مولانا۔ الجمع، ایک کیا ہے؟ جمع ہونا یعنی منتہی الجموع کا صیغہ، یہ کس کے قائم مقام مقام ہے؟ دو علت۔ و ألف التانیث، اصل میں تھا الفان التانیث۔ تثنیہ ہے نا؟ جی۔ تو تانیث کی کتنے الف ہیں؟ دو۔ ایک الف ممدودہ اور دوسرا الف۔ مقصورہ۔ تو یہاں پر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو پھر کیا پڑھیں گے اس کو؟ الف التانیث بھئی۔ الف التانیث، الف گر جائے گا مولانا التقاءِ ساکنین کی وجہ سے بھئی۔ التقاءِ ساکنین کی وجہ سے۔ الف التانیث۔ تو وہ علتیں جو کہ قائم مقام ہیں دو علتوں کے وہ دو ہیں مولانا، ایک جمع اور دوسرا J۔ الف التانیث۔ الف التانیث۔ अच्छा بھئی، اعراب تو بتاؤ ذرا۔ الجمع اس کا اعراب کیا ہے؟ جے۔ مرفوع ہے۔ او و ألف التانیث اس کا عطف بھی جمع پر ہو رہا ہے، معلوم ہوا یہ بھی کیا ہے؟ یہ بھی مرفوع ہے۔ یہ بھی مرفوع ہے۔ بھئی پھر آپ نے پڑھا ہے اعراب تین قسم پر ہے۔ لفظی ہوگا یا تقدیدی ہوگا یا محلا ہوگا بھئی۔ لفظی اعراب جاءني زيد، رأيت زيداً، مررت بي۔ تقدیدی اعراب جاءني موسی، رأيت موسی، مررت بي۔ موسی۔ اور محلا اعراب یہ مبنی میں آیا کرتا ہے، جاءني ھؤلاء، رأيت ھؤلاء، مررت بھؤلاء۔ یہ بات بھی پتہ ہے آپ کو۔ अब आप मुझे बताइए ألف التانیث کی بھئی۔ अच्छा तो الجمع اس کا اعراب لفظاً ہے یا تقدیرًا ہے؟ لفظًا۔ لفظًا ہے۔ و ألف التانیث یہ کیا ہوگا مولانا؟ اس کا بھی اعراب لفظاً؟ جے۔ لفظًا۔ لفظًا نہیں۔ الفا 16 قسموں میں کیا ہے مجھے یہ بتاؤ؟ تثنیہ ہے۔ اور تثنیہ کا اعراب کیا آتا ہے؟ حالت رفعی میں، حالت نصبی جری میں۔ تو وہ لفظی ہے یا تقدیدی ہے؟ لفظی ہے۔ لفظی ہے، تو بتائیے یہاں کیا اعراب ہوا بھئی؟ لفظی۔ لفظی۔ क्यों؟ کیونکہ جمع کا اعراب لفظی تھا۔ جملہ کہاں ہے بھئی؟ جملہ کہاں سے؟ تانیث کے دو الف مضاف مضاف الیہ ہیں۔ جملہ نہیں ہے، جملہ نہیں ہے بھئی۔ جملہ ہوتا تو پھر تو مبنی تھا، مبنی کا اعراب تو محلی ہوتا ہے، تقدیدی تو نہیں ہوتا۔ تانیث کے دو جو دو قائم مقام کون ہیں؟ نمبر ایک جمع۔ نمبر دو تانیث کے دو۔ یہی ترجمہ بنتا ہے نا؟ جملہ تو نہیں ہے پورا۔ جی، یاد رکھو یہ اعراب الف کا تقدیدی ہوگا۔ کیا ہوگا؟ تقدیدی ہوگا۔ تقدیدی ہوگا بھئی۔ بھئی کیسے تقدیدی ہوگا؟ یہ تو تثنیہ والا اعراب ہے۔ کہتے ہیں بھئی یہ وہ قسم ہے جو اعراب میں ذکر نہیں کی انہوں نے۔ یہ قلیل ہے اس لیے اس کو ذکر نہیں۔ یا انہی میں سے کسی ایک میں ہم داخل کر لیں گے تاویل کر کے۔ اسی تقدیدی کی صورت میں کیا کر لیں گے؟ بھئی یہ تقدیدی کیوں ہے؟ بھئی تقدیدی اس لیے۔ تثنیہ کا اعراب حالت رفعی میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف۔ میں پڑھ رہا ہوں ألف التانیث۔ وہ الف ہے، یہ گر چکا ہے؟ گر چکا ہے۔ ج۔ تو اس پہ تلفظ ہو رہا ہے؟ نہیں۔ تو یہ تلفظ نہیں تو اعراب لفظی نہیں، تو معلوم ہوا یہ کون سا اعراب ہے؟ تقدیدی اعراب ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو لفظی اعراب تو وہ جس پہ آپ تلفظ کرتے ہیں رفع پر یا الف پر یا واو پر۔ یہ اسی طرح ہے مولانا۔ مثلاً کیا مثال بنائیں؟ جاءني أخو الحسن۔ جاءني أخو ال۔ حسن۔ بھئی یہ اخو الاخ کا اعراب یہاں تقدیدی ہے۔ اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے، لیکن یہ اعراب اس کا تقدیدی ہے یہاں، کیوں؟ کیونکہ حالت رفعی میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ و کے ساتھ۔ اور میں پڑھ آگے الف لام آگیا، تو کیا پڑھیں گے؟ أخو الحسن۔ اب وہ و میں پڑھ رہا ہوں یا وہ و واو اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر چکا ہے؟ گر چکا ہے۔ گر چکا ہے۔ تو بھئی اعراب پر تو آپ تلفظ کر ہی نہیں رہے تو معلوم ہوا اعراب لفظی نہیں بلکہ اعراب کیا ہے؟ تقدیدی ہے۔ صورت سب کو سمجھ میں آگئی؟ جی۔ چلیے مولانا ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
20 approved lectures · 11 of 20