گزشتہ سبق میں، مولانا، ہم نے عدل کے بارے میں پڑھا۔ صاحبِ کافیہ نے آپ کو بتلایا، عدل کہتے ہیں خروجُ الاسم عن صِيغَتِہ الاَصْلِيَّۃِ، اسم کا نکلنا کس سے صِيغَۃِ اَصْلِيَّۃ سے نکلنا اور ایک نئی صورت اختیار کر لینا، اور صِيغَۃِ اَصْلِيَّہ کس کو کہتے ہیں مولانا؟ جس کا تقاضا قانون اور ضابطہ کر رہا ہو، اُس ضابطے سے قانون جس وزن کا تقاضا کیا، اُس سے صِيغَۃ نکل جائے۔ پھر یہ مولانا یہ خروج کتنی قسم پر ہوگا؟ یا تحقیقی ہوگا یا تقدیری۔ تحقیقی کس کو کہتے ہیں؟ جس کی ہمارے پاس کوئی ددلیل ہو اور تقدیری کس کو کہتے ہیں؟ کوئی دلیل موجود نہ ہو۔
تو دو قسم پر آیا، تقدیراً ہوگا یا تحقیقا، تحقیقاً جس کی ہمارے پاس دلیل موجود ہو، تقدیراً وہ جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو مولانا۔ تو جیسے ثُلاثَ اور مَثْلَثَ ہے، یہ دراصل کیا تھا مولانا؟ ثَلاثَۃٌ ثَلاثَۃٌ، کیونکہ اس کا معنی ہے تین تین، معلوم ہوا یہ لفظ بھی دو تھے، معنی بھی دو ہوئے۔ پھر مولانا اِس ثَلاثَۃٌ ثَلاثَۃٌ سے عدُول کرکے، اس کو اس کو عدل، اِس کا عدل کیا گیا مولانا، پھر آگیا اور ایک نیا وزن ثُلاثَ اور ایک مَثْلَثَ بنا لیے گئے۔
تو ثُلاثَ کا معنی بھی تین تین، مَثْلَثَ کا معنی بھی تین تین۔ اسی طرح اُخَر ہے مولانا، یہ جمع ہے اُخْرَى کی، اُخْرَى مؤنث ہے آخَر کی، اور آخَر اسم تفضیل ہے، لیکن یہ استعمال غیرُہ کے معنی میں ہوتا ہے۔ غیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے بھئی۔
تو یہ مولانا اِس میں تفضیل کی جمع ہوئی مؤنث کی، اور اِس میں تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں، الف لام کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ یا مِنْ کے ساتھ۔ معلوم ہوا اضافت والی حالت چھوڑ دیں، باقی دو حالتیں، یا تو یہ اُخَر مِنْ سے معدول ہے یا یہ اَلالْ اُخَر سے معدول ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟
اور پھر آگے بتلایا جُمَع، یہ جُمَع مولانا، یہ جمع ہے کس کی؟ جَمْعَاء کی۔ اور جَمْعَاء دو قسم پر ہے، ایک جَمْعَاء کون سا ہے؟ صفتِ مشبہ ہے، اور ایک ویسے اسم ہے۔ تو جو صفتِ مشبہ ہے، جیسے بِيض بَيْضَاء، اس کی جمع کیا آتی ہے؟ فُعْلُن، کیا آتی ہے؟ فُعْلُن، جیسے بِيض، یہ اصل میں کیا تھا؟ بَيْضَاء۔ بَيْضَاء کی جمع ہے بِيض، جیسے حمراء کی جمع کیا ہے؟ حُمْر، حُمْر۔
تو حُمْر، بِيض ایک ہی وزن ہے مولانا، یہاں کسرہ ي کی وجہ سے دیا، سمجھ میں آیا؟ جی، ورنہ یہ بھی فُعْلُن ہوتا، فَعْلُن نہیں۔
تو فَعْلَا کی جمع فُع اگر وہ صفت ہو تو فُعْلُن آتی ہے، اور اگر اسمِ محض ہو تو پھر اس کی جمع کیا آتی ہے؟ فَعَالَى اور فَعَالِوَاتْ، سَحْرَ سَحْرَاء ہے، اس کی جمع آتی ہے سَحَارَى اور سَحَرَوَاتْ۔ تو معلوم ہوا، یہ تو ان میں سے کوئی بھی نہیں معلوم ہوا ان میں سے کسی ایک سے معدول ہے، یا تو یہ فُعْلُن سے معدول ہے یہ جُمَع، یا یہ مولانا فَعَالَا جَمْعَاء سے معدول ہے، یا یہ فَعَالِوَاتْ جَمْعَاوَاتْ سے معدول ہے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تقدیر کی مثال جیسے عُمَرُ زُفَرُ، یہ تقدیر جس کے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ نحویوں نے فرض کر لیا صرف اپنے قانون کو بچانے کے لیے۔ نحوی قانون ہے بھئی کہ غیر منصرف صرف اُس کو پڑھیں گے، جس میں دو اسبابِ منعِ صرف ہوں یا ایک قائم مقام دو کے ہو۔ اِس کے اندر دیکھا کہ کوئی ایک اِس میں تو صرف ایک علمیت ہے، دوسرا سبب بھی کوئی نہیں۔ اور عربوں سے ہم جب بھی سنتے ہیں ہمیشہ یہ کیا سنتے ہیں اِس کو؟ غیر منصرف سنتے ہیں۔ اب مجبور ہوئے اِس میں ایک اور سبب مانا جائے، ورنہ اِس کا لازم آئے گا اس کو غیر منصرف پڑھنا ایک سبب کی وجہ سے، اور ایک سبب کی وجہ سے تو غیر منصرف نہیں، تو مجبور ہوکر اس میں عدل کو مان لیا، فرض کر لیا بھئی۔ اور عدل کے علاوہ اور کوئی وسف اور کوئی سبب اِس میں ماننا ممکن نہیں تھا مولانا۔
اور ایک چوتھی ایک تیسری چوتھی نئی بات جو بتائی کہ عدل تقدیر ہی ہے کس کے اندر بابِ قَتَامَ کے اندر بھئی، قَتَامَ یہ آپ نے نئی بات پڑھی۔ قَتَامَ کے باب سے کیا مراد ہے مولانا؟ جس میں وہ فَعَّال، وہ فَعَّال، جس کے اندر کتنی شرائط ہوں؟ چار ہوں۔ نمبر ایک کیا؟ اسم، اسم ہو، نمبر دو علم ہو، نمبر تین مؤنث ذات کا نام ہو، نمبر چار آخر میں را نہ ہو، اگر را ہو وغیرہ تو پھر وہ مبنی بن جائے گا جیسے حَذَامِ، سمجھ میں آیا؟ را نہ ہو۔ تو اس میں بھی عدلِ تقدیر ہے بھئی۔
پھر اس کے بعد میں نے بتلایا دو باتیں اور بھی ہم نے ہدایتُ النَّحْو میں پڑھی تھیں، ایک یہ کہ یہ اگرچہ وہ بات مثالوں سے ظاہر ہو رہی ہے یہاں پر۔ کیا؟ کہ یہ وصفیت، وصف اور علمیت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔ دیکھو، ثُلاثَ، مَثْلَثَ، اُخَر، جُمَع، یہ سارے اوصاف معلوم ہوا عدل وصف کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے، عمر اور قطام یہ دونوں علم ہیں مولانا، معلوم ہوا یہ کس کے ساتھ عدل جمع ہوجاتا ہے؟ علم کے ساتھ۔ البتہ وزنِ فعل کے ساتھ یہ کبھی جمع نہیں ہوتا۔ کیوں نہیں جمع ہوتا بھئی؟ وزن اس کے اپنے فعل کے اپنے اوزان ہیں، جن میں سے کوئی بھی وزن عدل کا، عدل کے چھ اوزان ہیں، ان میں سے کوئی بھی وزن فعل والا نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ کون کون سے ہیں بھئی؟ مَفْعَل، فَعَّال، جی، مَفْعَل ہے، فَعَّال ہے، فَعَّال، فَعْل، فَعْل اور فِعْل ہے مولانا، چھ اوزان۔
آج وصف کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ کہتے ہیں: اَلْوَصْفُ شَرْطُہُ اَنْ يَكُونَ فِي الاَصْلِ، وصف کے لیے شرط یہ ہے کہ ہو مولانا اصل میں، یعنی بااعتبارِ اصلِ وضع کے وہ کیا ہونا چاہیے؟ وصف ہونا چاہیے، بات اصلِ وضع میں تو وصف نہیں، بعد میں بطورِ وصف کے استعمال ہونے لگا، یہ مراد ہے، یہ اب وصفیت تو ہے، لیکن منعِ صرف کا سبب بننے میں مؤثر نہیں۔
تو وصف کی شرط یہ ہے مولانا کہ وہ اصلِ وضع کے اندر کیا ہونا چاہیے؟ وصف۔ اور مولانا یاد رکھو، یہ اصلِ وضع میں وصف ہونا کیا ہو؟ یقینی ہو، وہمی نہ ہو۔ اصلِ وضع میں وصف ہونا کیا ہو؟ یقینی ہو، کوئی وہمی بات نہ ہو۔
جیسے اس پر آگے آنے والا ہے مسئلہ، وہ پھر اس وقت ذکر کروں گا۔ تو کہتے ہیں اصلِ وضع میں وصف ہونا چاہیے۔ فَلَا تَضُرُّہُ الغَلَبَةُ، اَي غَلَبَةُ الاِسْمِيَّتِ۔ الغَلَبَۃُ الاسْمِيَّتِ۔
لہٰذا پھر اِس کو غلبہِ اسمیت نقصان نہیں دیتا۔ غلبہ اسمیت کس کو کہتے ہیں؟ تعریف لکھ لیجیے بھئی۔
غلبہ اسمیت کہتے ہیں تَخْصِيصُ اللَّفْظِ بِبَعْضِ مَا وُضِعَ لَہُ۔
تَخْصِيصُ اللَّفْظِ بِبَعْضِ مَا وُضِعَ لَہُ۔
تَخْصِيصُ اللّفْظِ، لَفْظِ بِبَعْضِ مَا وُضِعَ لَہُ، بِبَعْضِ مَا وُضِعَ لَہُ۔
لکھ لیا بھئی؟ غلبہ اسمیت کس کو کہتے ہیں کہ لفظ کا خاص کر دینا اپنے بعضِ موضوع لہ کے ساتھ۔ اپنے بعضِ موضوع لہ کے ساتھ خاص کر دینا، یہ کیا کہلاتا ہے مولانا؟ غلبہ اسمیت کہلاتا ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی لفظ کا اپنے کچھ افراد کے ساتھ خاص کر دینا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ غلبہ اسمیت۔ دیکھو مولانا! عربی کے اندر اسود، اسود کا لفظ وضع تھا ہر کالی چیز کے لیے۔ کوئی بھی کالی چیز ہو، آپ اس کو کیا کہیں گے؟ اسود، یہ کالی ہے، تو یہ اسود کا لفظ وضع تھا کس کے لیے؟ ہر کالی چیز کے لیے۔ لیکن بعد میں اس کی تخصیص آ گئی بعض افراد کے ساتھ۔ تو ہر چیز کالی ہو، اسے اسود کہتے ہیں۔ ایک سانپ کی قسم بھی تھی، وہ کالا ہے، وہ بھی اس کے افراد میں سے ہوا۔ اس کے بارے میں بھی آپ کیا کہیں گے: ھٰذَا اَسْوَد، یہ کیا ہے؟ بھئی، جیسے یہ بستہ کالا ہے، یہ ٹوپی کالی ہے، یہ کپڑے کالے ہیں، یہ دیوار کالی ہے، یہ قلم کالا ہے، یہ سانپ کالا ہے۔ تو کتنے افراد ہیں اس کے اسود کے مولانا؟ بہت سے افراد تھے۔ انہی میں ایک فرد کیا تھا؟ سانپ بھی تھا۔ وہ بھی جب کالا ہے تو کہیں گے: ھٰذَا اَسْوَد، یہ کیا ہے؟ کالا۔ تو یہ اس کے افراد میں سے تھا، لیکن پھر اس لفظ کو جو عام تھا، بہت سے افراد کو شامل تھا، اس کو ان افراد کے ساتھ خاص کر دیا گیا۔ یہ جو کالے سانپ تھے، اس کے لیے خاص کر دیا گیا مولانا۔
اس کو کیا، یہ کیا ہوا اِس میں مولانا؟ غلبہ اسمیت آ گیا۔ تھا تو وصف، لیکن کیا ہوا؟ غلبہ اسمیت آ گیا، اس کو کیا بنا دیا آپ نے؟ نام بنا دیا۔ اُس کالے سانپ کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ اسود رکھ دیا۔ بھئی، یہ لفظ تو عام تھا، تو اس کی تخصیص کر دی کس کے ساتھ؟ بعض افراد۔ اب اِس نوع کا سانپ نظر آتا ہے تو آپ کہتے ہیں اسود، ہٰذا اسود مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو اس کے ساتھ یہ خاص ہوا۔ نام ہی ہو گیا اس کے لیے۔
صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اسم ہوا ہے، علم نہیں ہوا۔ اسم اور علم جانتے ہو بھئی؟ علم کا ایک فرد ہوتا ہے، اسم میں مولانا بہت سے افراد ہوتے ہیں۔ بھئی ایک کالا سانپ آیا آپ نے وہی قسم جو خاص تھی، آپ نے کیا کہا: ہٰذا اسود، یہ کیا ہے؟ کہا یا نہیں کہا آپ نے؟ ایک اور آ گیا آپ نے کہا: ہٰذا اسود، یہ بھی کیا ہے؟ اسود ہے۔ وہی سانپ کا دوسرا اس جیسا ایک اور آیا، تیسرا آ گیا آپ پھر کیا کہیں گے: ہٰذا اسود یہ بھی کیا ہے؟ معلوم ہوا علم نہیں ہے۔ علم ہوتا تو ایک ہی فرد ہوتا، یہاں تو کتنے افراد آ گئے؟ تین افراد آ گئے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اسم ایک نوع کا نام بن گیا سارا کا سارا بھئی، اسود۔
تو کہتے ہیں: بھئی، اصلِ وضع میں یہ کیا تھا؟ صفت، اور بعد میں کیا آیا اس پر غلبہ اسمیت؟ کہتے ہیں بعد میں غلبہ اسمیت آ بھی جائے تو کوئی نقصان نہیں۔ اب بھی یہ وصفی، اگرچہ یہ اس وقت نام بن چکا ہے، لیکن پھر بھی وصفیت معتبر ہے اس کے اندر مولانا۔ اس کے اندر جو وصفیت تھی وہ کیا ہے؟ اور وہ غیر منصرف کا سبب بنے گی یا نہیں بنے گی؟ بنے گی۔ بنے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لہٰذا اسود غیر منصرف ہوا۔ ایک تو اس میں کیا آیا؟ وصف۔ دوسرا کیا ہے؟ وزنِ فعل ہے مولانا، اکرام وزن ہے۔
بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور اگر ایک لفظ اصلِ وضع میں وصف نہیں ہے، بعد میں بطورِ وصف کے استعمال ہونے لگا، اب یہ وصف تو ہے اس کے اندر، لیکن کیا مؤثر ہے؟ نہیں، غیر منصرف کا سبب بننے میں؟ نہیں، نہیں۔ جیسے مولانا مرارْتُ بِنِسْوَةٍ اَرْبَعِینَ آپ نے کہا بھئی۔ ارباع کا لفظ لے کر آئے، نسوہ کے لیے صفت بنائی۔ نسوہ موصوف کتنی عورتیں تھیں؟ چار۔ تو ارباع صفت، اب یہ لفظوں میں بھی صفت بن رہی ہے، اور وزنِ فعل بھی ہے مولانا، تو کہنا کیا چاہیے تھا: مرارْتُ بِنِسْوَةٍ اَرْبَاعَ تو سبب آ گئے مولانا، وصف بھی موجود اور وزنِ فعل لیکن یہ وصفیت معتبر نہیں۔ ہے تو ہم مانتے ہیں یہ وصف ہے، اس وقت، لیکن معتبر نہیں۔ یعنی غیر منصرف کا سبب نہیں بنے گی یہ۔ کیوں؟ کیونکہ غیر منصرف کے لیے وہ وصف مولانا معتبر ہے، وہ سبب بنتا ہے جو اصلِ وضع میں کیا ہو؟ وصف، اور یہ ارباع کا لفظ تو وضع تھا چار کے عدد کے لیے، یہ ایک عدد کا نام ہے، جو تین سے بڑا ہو اور پانچ سے چھوٹا ہو، اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ چہار۔ تو یہ مولانا عدد کا نام ہے یا یہ وصف ہے اصل میں؟ اصل میں یہ کیا ہے عد د کا نام، یہ ایک مخصوص عدد ہے، اور تو اس معلوم ہوا اصلِ وضع میں یہ وصف نہیں۔ اب چاہے یہ وصفیت اس میں آ بھی جائے بعد میں، تو معتبر نہیں۔
یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
اَلْوَصْفُ شَرْطُہُ اَنْ يَكُونَ فِي الاَصْلِ، وصف کے لیے شرط یہ ہے مولانا، کہ ہونا چاہیے وہ اصلِ وضع کے اندر، فَلاَ تَضُرُّہُ الغَلَبَةُ، اَیْ غَلَبَةُ الاِسْمِيَّتِ، پس اس کو ضرر نہیں دے گا غلبہ، یعنی غلبہ اسمیت، فَلِذٰلِكَ اِسِيْفَا، مُنْتَصِرِف ہوگا، مرارْتُ بِنِسْوَةٍ اَرْبَعِينْ، دیکھا، یہ اربعین کیا ہوگا؟ منصرِف ہوگا، وَامْتَنَاء اور ممتنع ہوگا، یعنی سَرف، یعنی من, غیر منصرِف ہوگا۔ ممتنع ہوگی، کیا چیز ممتنع ہوگی؟ صرف مولانا، صرف ممتنع ہوگی، کس کی صرف ممتنع ہوگی؟ اسود کی، کس کے؟ اسود کی۔ ہاں، یعنی اس کو منصرِف پڑھنا ممتنع ہوگا۔ جائز نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ وَامْتَنَاء اور مُمْتَنِع، اور غیر منصرِف ہوگا کون مولانا؟ اسودُ، یہ کالے سانپ کا نام، وَأَرْقَمُ، اسود و ارقم للحیَّةِ، اسود اور ارقم جو کس کے لیے ہیں؟ سانپ کے لیے۔ بھئی، اسود وہ سانپ، جو کالا سا، خاص قسم کا کالا ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسود۔ ایک مولانا چھت کبرا سانپ ہوتا ہے، نشان ہوتے ہیں، کالے اور سفید بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کو ارقم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ارقم कहते ہیں بھئی۔
وَأَذْهَمُ لِلْقَيْدِ، اور اسی طرح ممتنع ہے سرف کس کس، ممتنع ہے سرف بھئی اَدْھَمْ کی، کس کی؟ ادہم۔ ادہم، وہ ادہم، اصلِ وضع میں تو تھا مولانا کالی چیز کے لیے، سیاہ چیز کے لیے، جس میں سیاہی ہو، مولانا، اس کو کیا کہتے تھے؟ ادہم، جس میں بھی سیاہی آئی، تاریکی سیاہی، اس کو کہا ادہم، لیکن بعد میں بیڑی کا نام رکھ دیا۔ کس کا نام رکھ دیا؟ بیڑیاں جانتے ہیں نا جو قیدیوں کو پہناتے ہیں، بھئی، وہ مراد ہے۔ تو بیڑی کا نام کیا رکھ دیا؟ ادہم، کیونکہ اس میں بھی کیا ہوتی ہے؟ سیاہی ہوتی ہے۔ تو اس کے افراد تو یہ اس میں بھی غلبہ اسمیت ہیں، ادہم ہر ایسی چیز جس میں سیاہی ہو، اور انہی میں ایک کیا تھی؟ بیڑی بھی تھی، پھر اس کا نام خاص ہو گیا کس کے ساتھ؟ ان بیڑیوں کے ساتھ، بھئی، وہ بیڑیاں، زنجیریں وغیرہ جو ہیں۔
اور مُمْتَنِع ہے سرف سے، مولانا، غیر منصرِف پڑھا جائے گا یعنی کون، کس کی سرف ممتنع ہے؟ اسود کی، ارقم کی، اور ادہم کی، لِلْقَيْدِ ادہم جو کس کے لیے ہے؟ بیڑی کے لیے ہے۔
سب کو یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کوئی مشکل تو نہیں۔
وَضَعْفَ مَنْعِ اَفْعَالِ الحَيَّةِ، اور ضعیف ہے منعِ سَرْف مولانا، ضعیف ہے منِ سرف، یعنی غیر منصرِف پڑھنا ضعیف ہے کس کو؟ اَفْعَا کو لِلْحَيَّةِ، کس کے لیے؟ یہ سانپ کا نام ہے، وَأَجْدَلَ لِلصَّقْرِ، اور اجدل یہ نام ہے مولانا شکری کا، شکرہ جانتے ہو بھئی؟ عقاب کی ایک قسم،
عقاب کی نسل کی عقاب کی چھوٹا ہوتا ہے ذرا سمجھ میں آیا بھئی.
وَأَخْيَلُ لِلطَّائِرِ اور اسی طرح ضعیف ہے أَخْيَلُ جو نام ہے کس کا ایک پرندے کا بھئی کس کا نام ہے؟ بَيْعُ أَفْعَاءَ سانپ کا نام ہے، أَجْدَلُ صَقْرِ شکرے کا نام ہے، أَخْيَلُ یہ پرندے کا نام ہے۔ اب دیکھو ان سب میں دیکھو أَفْعَاءَ کے اندر وزنِ فعل بھی ہے، وصفیت بھی ہے، أَجْدَلُ کے اندر مولانا وصفیت بھی ہے، وزنِ فعل بھی ہے، أَخْيَلُ کے اندر وزنِ فعل بھی ہے اور وصفیت بھی ہے لیکن ان کا غیرِ منصرف پڑھنا کیسا ہے؟ ضعیف ہے.
دیکھو أَفْعَاءَ سانپ کا نام ہے کیوں ضعیف ہے مولانا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ان کا اصل وزن میں وصف ہونا یقینی نہیں وہمی ہے۔ وہم پڑتا ہے کہ شاید یہ اصل وزن میں کیا ہوں؟ وصف ہوں لیکن کوئی یقینی بات نہیں ہے.
میں نے آپ کو بتلایا تھا نا کہ اصل وزن میں وصف ہونا کیا ہو؟ یقینی ہو وہمی نہ ہو اور ان کا اصل وزن میں وصف ہونا وہمی ہے یقینی نہیں۔ دیکھیے کیسے؟
أَفْعَاءَ اس میں شبہ پڑتا ہے شاید یہ بھی وصف ہے مولانا، صفتِ مشبہ ہے کس سے؟ فَاعُوَةٌ سے بنی ہے۔ کس سے بنی ہے؟ فَاعُوَةٌ سے بنی ہے اور فَاعُوَةٌ کہتے ہیں خُبْس کو مولانا، خُبْس، خباسَت، خُبْس، فَاعُوَةٌ تو یہ أَفْعَاءَ ایک سانپ ہے بڑا خطرناک اور زہریلا قسم کا تو چونکہ اس میں بھی خطر وہ خطرناک سانپ ہے زہریلا ہے اس میں خباسَت ہے تو ہو سکتا ہے شاید یہ أَفْعَاءَ کس سے بنایا ہو؟ فَاعُوَةٌ سے کس سے؟ تو أَفْعَاءَ کہتے ہیں ہر خبیث چیز کو اور یہ سانپ بھی چونکہ بڑا خطرناک اور زہریلے تھا تو یہ بھی اس کے افراد میں سے تھا لیکن پھر اس کو أَفْعَاءَ کو اس کا نام بنا دیا گیا لیکن کیا یہ بات قطعی ہے یا صرف وہمی ہے؟ قطعی طور پر یہ بات طے نہیں، جب طے نہیں تو اس کا غیرِ منصرف پڑھنا بھی ضعیف ہے۔
دیکھیے أَجْدَلُ مولانا شکرے کا نام ہے أَجْدَلُ اس میں وہم ہے شاید یہ جَدْل سے ماخوذ ہو کس سے؟ جَدْل طاقت کو کہتے ہیں قوت کو تو چونکہ شکرے بھی اوقات کی ایک قسم ہے بڑا طاقتور پرندہ ہے دوسرے پرندوں کا شکار کرتا ہے تو ہو سکتا ہے اس جَدْل طاقت اور قوت سے صفت بنا لی ہو أَجْدَلُ طاقت والا اب جو بھی طاقت والا ہے وہ کیا ہے؟ أَجْدَلُ کا فرد ہے جو بھی طاقت والا ہے بھئی پہلے اصلِ وزن کی بات کر رہا ہوں نا أَجْدَلُ طاقت والا اگر یہ کس سے ماخوذ ہو؟ جَدْل سے تو ہر طاقت والے کو کیا کہیں گے؟ أَجْدَلُ لیکن پھر اس کو خاص کر دیا کس کے ساتھ؟ شکرے کے ساتھ غلبہ اسمیت آیا تو مولانا تو اس کا اصلِ وزن میں وصف ہونا یقینی ہے یا وہمی ہے؟ وہمی ہے۔ یقینی نہیں۔ اگر یقینی ہوتا پھر تو ہم اس کو کیا پڑھتے؟ غیرِ منصرف ہی پڑھتے لیکن یقینی نہیں، لہذا اب میں غیرِ منصرف پڑھنا بھی ضعیف ہے اس لیے أَجْدَلِينَ پڑھیں گے.
وَأَخْيَلُ لِلطَّائِرِ اسی طرح أَخْيَلُ مولانا یہ بنا ہے خِیلَانَ سے۔ أَخْيَلُ کس سے؟ خِیلَانَ جمع ہے خَال کی شاید اس سے بنا ہو، وہم ہے یقینی نہیں۔ خِیلَانَ جمع ہے خَال کی اور خَال کہتے ہیں داغ کو نشان کو مولانا۔ یہ ایک پرندہ ہوتا ہے اس کے جسم پر بڑے داغ نشان ہوتے ہیں تو اس کا نام ہی أَخْيَلُ رکھتی ہے.
تو اس میں شبہ ہے، امکان ہے، شاید یہ أَخْيَلُ کس سے بنا ہو؟ خِیلَانَ سے اور خِیلَانَ جمع ہے کس کی؟ خَال کی اور خَال کیا ہے؟ داغ داغ تو معنی کیا ہوا داغوں والا۔ أَخْيَلُ کا کیا معنی؟ داغوں والا۔ اب دنیا کی کوئی بھی چیز تھی أَخْيَلُ داغوں والی تھی اس پہ کیا صادق آتا تھا کہ یہ کیا ہے؟ أَخْيَلُ ہے اس پرندے میں بھی چونکہ داغ تھے یہ بھی کیا ہوا أَخْيَلُ ہوا پھر اس لفظ کو خاص کر دیا کس کے ساتھ اس پرندے کے ساتھ تو وہم آیا یا نہیں آیا مولانا؟ لیکن کیا یہ کوئی قطعی بات ہے یا صرف وہم ہے؟ وہمی بات ہے، قطعی نہیں۔ جب قطعی نہیں تو اس کا غیرِ منصرف ہونا بھی ضعیف ہے۔ سمجھ میں آیا؟ سب کو اچھی طرح بحث سمجھ میں آ گئی؟
تو أَخْيَلُ یہ ایک پرندہ ہے مولانا عرب میں عرب اس کو بڑا منحوس سمجھتے تھے۔ بڑا منحوس سمجھتے ہیں حتیٰ کہ ضربُ المَثَل بن گیا ہے نحوست میں اس کا نام کوئی کہنا ہو کسی کے بارے میں کہ وہ بڑا ہی منحوس ہے تو کہتے ہیں فَلَانٌ أَشْأَمُ مِنْ أَخْيَلَ فلان تو أَخْيَلُ پرندے سے بھی زیادہ منحوس ہے تو یہ نحوست کی علامت بن گئی ہے.
جی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کوے کی خاص قسم ہے بھئی اس کو أَخْيَلُ کہتے ہیں.
هِدَايَةُ النَّحْوِ میں ایک دو باتیں اور بھی آپ نے پڑھی تھیں وہ کیا وصف کے بارے میں کہ وصف عالمیت کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہو سکتا۔ وصف کبھی عالمیت کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا۔ کیوں نہیں جمع ہو سکتا؟ کیونکہ عَلَم دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر اور وصف دلالت کرتا ہے ذاتِ غيرِ معین پر یعنی ذاتِ مبہم پر اور یہ دونوں آپس میں ضدین ہیں جمع نہیں ہو سکتے یہ نہیں ہو سکتا ایک ہی چیز معین کیا ہو؟ معین بھی ہو اور مبہم بھی ہو تو یہ دونوں آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔ کیا وجہ ہوئی؟ وَسَالَم کس پہ دلالت کرتا ہے؟ معین پر اور وصف کس پہ دلالت کرتا ہے؟ ذاتِ مبہم پر مولانا یا ذاتِ غیرِ معین پر لہذا دونوں جمع نہیں ہو سکتے.
بحث سمجھ میں آئی بھئی؟ خلاصہ بحث کیا ہوا وصف کے بارے میں کہ اس کو اصلِ وزن میں کیا ہونا چاہیے؟ وصف لہذا بعد میں اگر غلبہ اس غلبہ اسمیت آ بھی جائے تو یہ بھی نقصان دہ نہیں اسی لیے أَرْبَعِينَ کا لفظ کیا ہے؟ منصرت ہی پڑھا جائے گا کیونکہ یہ اصلِ وزن میں وصف نہیں۔ اور جب کہ أَسْوَدُ، أَرْقَمُ، اور أَدْهَمُ یہ سارے کیا ہوں گے؟ منصرت کیونکہ یہ اصلِ وزن میں کیا ہیں؟ وصف ہیں اصلِ وزن میں بعد میں اگرچہ غلبہ اسمیت آ گیا ہے جبکہ أَفْعَاءَ، أَجْدَلُ، اور أَخْيَلُ ان کا غیرِ منصرف پڑھنا ضعیف کیوں؟ کیونکہ ان کا وصف ہونا یقینی نہیں بلکہ کیا ہے صرف وہمی ہے۔ ہٰذا ھُوَ المَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ