Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

كافية · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 30
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
لانها اما تدل علی معنی فی نفسہا اولی یہاں سے مولانا وجہ حصر دلیل حصر ذکر کر رہے ہیں یہاں سے کیا ذکر کر رہے ہیں دلیل حصر ذکر کر رہے ہیں حصر کا معنی ہے بند کرنا حصر کا کیا معنی ہے بھئی پیچھے انہوں نے کہا یسمع و فعل و حرف کلمہ اسم ہے اور فعل ہے اور حرف ہے کتنی قسمیں بنائیں تین تو کلمے کو بند کر دیا کتنی قسموں میں تین قسموں میں بند کر دیا کہ یہ ہے بس کلمہ تو یہ تین قسموں میں کیوں کلمہ آپ نے بند کیا اب دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ انہی تین قسموں میں بند ہے اور اس کی یہ وجہ ہے اس کی یہ دلیل ہے بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی تو یہ دلیل حصر ہے لانھا اس لیے کہ ہا ضمیر راجع ہے کلمے کو اس لیے کہ کلمہ جو ہے اما تدل علی معنا فی نفسھا ای علی معنا ثابتا یا حاصلا فی نفسھا یہ فی نفسھا جار مجرور ہے مولانا اور جار مجرور نکرہ کے بعد آئیں تو عموما اس کی صفت بنا کرتے ہیں جار مجرور کس کے بعد آئیں تو عموما اس کی صفت بنا کرتے ہیں تو یہاں بھی معنا کیا ہے معرفہ ہے نکرہ ہے نکرہ ہے بھئی وہ چھ سات قسمیں جو ہیں معرفہ کی ان میں سے نہیں اور اس کے بعد آ رہا ہے جار مجرور تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا صفت بنے گا اب کیا کریں مولانا آپ کو ترکیب کروائیں یا کافیہ پڑھائیں بھئی اور موصوف کا ترجمہ صف موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے لفظ ایسا یا ایسی لے آتے ہیں موصوف سے پہلے کیا لے آتے ہیں ایسا یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں تو دیکھو اس لیے کہ کلمہ یا تو وہ دلالت کرے گا علی معنا فی نفسھا ایسے معنی پر جو اس کی ذات میں ہے ہا ضمیر کس کو راجع ہے مولانا کلمے کو ایسے معنی پر جو اس کلمے کی ذات میں ہے اولی یہ دلالت اولی تدل یا دلالت نہیں کرے گا بھئی دیکھو کلمہ اپنے معنی پر دلالت کرے گا کبھی اور کبھی دلالت نہیں کرے گا یعنی اس کی ذات میں معنی ہوگا اس پر دلالت کرے گا یا دلالت نہیں کرے گا ایسے معنی پر مثلا اسم ہے دیکھو مولانا میں کہتا ہوں ذہبت من المسجد الی البیت میں چلا میں گیا مسجد سے گھر کی طرف میرے جانے کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے مسجد سے اور اختتام کہاں ہو رہا ہے گھر تو ابتدا میرے جانے کی ہو رہی ہے مسجد سے اور اس کا پتہ کس نے بتایا بھئی کس چیز نے آپ کو بتایا من نے کس نے بتایا من نے کہ چلا میں کہاں سے ہوں یہ کس نے بتایا من نے تو من یہاں ابتدا کا معنی ادا کر رہا ہے کس کا معنی ادا کر رہا ہے ابتدا کا اچھا اب آپ سارا دن من من اپنے ساتھی کے سامنے کرتے رہیں کبھی اس کو اس سے ابتدا سمجھ میں آئے گی نہیں سمجھ میں آئے گی تو معلوم ہوا کلمے نے ایسے معنی ایسے معنی پر دلالت نہیں کر رہا جو اس کی ذات میں ہو اگر اس کی ذات میں ہوتا وہ معنی تو من کہتے فورا دوسرا کیا سمجھ جاتا ابتدا ہے جیسے میں لفظ ابتدا کہتا ہوں آپ کے سامنے ابتدا آپ کو ابتدا سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں مولانا جی تو اب من بھی ابتدا کے لیے آتا ہے لفظ ابتدا خود بھی ابتدا کے لیے آتا ہے لیکن معنی کس سے سمجھ میں آیا آپ کو ابتدا سے اور من سے سمجھ میں نہیں آیا تو ابتدا نے دلالت کی ایسے معنی پر جو اس کی ذات سے ہمیں کیا ہے ذات میں ہی حاصل ہو رہا ہے کسی اور کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے نہیں بات سمجھ میں آئی سب کو دیکھیے بھئی لانھا اس لیے کہ کلمہ جو ہے اما تدل علی معنا فی نفسھا یا تو وہ دلالت کرے گا ایسے معنی پر فی نفسھا جو اس کی ذات میں ہوگا تو ابتدا نے کس معنی پر دلالت کی جو اس کی اپنی ذات میں تھا کسی اور کلمے کو ملانے کی ضرورت پڑی نہیں اولی یا ایسے معنی پر جو اس کی ذات میں ہو اس پر دلالت نہیں کرے گا تو من ابتدا کے لیے آتا ہے دلالت تو کرتا ہے لیکن اکیلا ہو تو پھر دلالت نہیں کرتا بھئی الثانی الحرف ثانی کیا ہے بھئی جو دلالت نہیں کر رہا وہ کیا ہے حرف ہے پھر جو دلالت کر رہا ہے وہ دو حال سے خالی نہیں دو حال سے خالی نہیں اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہوگا یا زمانہ ملا ہوا نہیں ہوگا اگر زمانہ ملا ہوا ہے تو وہ فعل اگر زمانہ نہیں ملا ہوا تو وہ اسم ہے تو یہ وجہ حصر ہیں مولانا سمجھ میں آیا بھئی حصر یاد رکھو مولانا دو قسم پر ہے ایک حصر عقلی ایک حصر استقرائی چلو یہ نئی بحث بیچ میں آگئی ایک حصر عقلی ہے ایک حصر استقرائی ہے حصر عقلی وہ ہے جو دائر ہو بین النفی والاسبات جو دائر ہو بین النفی والاسبات اور حصر استقرائی استقراء کا معنی ہے تلاش جستجو تلاش جستجو تو حصر استقرائی یہ ہے کہ ایک چیز کو چند انواع میں آپ بند کر دیں ایک چیز کو چند اقسام کے اندر آپ بند کر دیں اس لیے کہ آپ نے اور قسمیں تلاش کیں تو آپ کو ملی ہی نہیں کیونکہ تلاش کے بعد آپ کو صرف یہی قسمیں ملیں کیونکہ تلاش کے بعد آپ کو صرف یہی قسمیں ملیں سمجھ میں آیا بھئی تو حصر اگر یہ مولانا حصر استقرائی ہو انہوں نے بند کیا کلمے کو کتنی قسموں میں تین قسموں میں کیا کہا اسم ہوگا یا فعل ہوگا یا حرف ہوگا اگر یہ حصر استقرائی ہے تو کیا معنی ہمیں اور ہم نے پوری عربی چھان ماری ہمیں اور کوئی قسم ملی ہی نہیں تو پھر یہ کیا بن جائے گا حصر استقرائی آپ کو اگر کوئی مل جائے تو اضافہ کر سکتے ہو ہم نے تو چھان ماری ہمیں اور کوئی قسم ملی نہیں اور اگر حصر عقلی ہو تو معلوم ہوا اور اور کوئی صورت ممکنی ہی نہیں حصر عقلی میں نفی یا اسبات ہوتا ہے ایسا ہے یا ایسا نہیں اور یہاں انہوں نے حصر عقلی بیان کیا کیسے کہ کلمہ ایسے معنی پر دلالت کرے گا جو اس کی ذات میں ہو یا دلالت نہیں کرے گا تو یہ نفی اور اسبات آیا یا کرے گا یا نہیں کرے گا یہ کیا ہے حصر عقلی ہو تو کلمہ ایسے معنی پر جو اس کی ذات میں ہے اس پر دلالت کرے گا یا دلالت نہیں کرے گا اگر نہ کرے وہ کیا ہے حرف اگر کرے گا پھر وہ دو حال سے خالی نہیں مولانا یا اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ ملا ہوا ہوگا یا ملا ہوا نہیں ہوگا اگر ملا ہوا ہے تو وہ فعل اگر ملا ہوا نہیں تو وہ اسم ہے دیکھو ضرب یا مولانا زید زید اپنے معنی یا اپنے مسمى پر کیا کر رہا ہے بھئی آپ زید کہتے ہیں فورا زید کا تصور آتا ہے یا نہیں ذہن میں ذہن میں فورا اس کا تصور آتا ہے تو اس نے دلالت کی کسی اور کلمے کے ساتھ ملانے کی حاجت نہیں نہیں پھر آپ غور کرو تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہے نہیں تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہے نہیں معلوم ہوا یہ کیا ہے اسم ہے اور فعل میں اب ضرب غور کرو بھئی ضرب کا ضرب سے بنا ہے اس کا کیا معنی ہے پٹائی کرنا پٹائی کرنا تو ضرب کا معنی ہے پٹائی کرنا لیکن صرف پٹائی کرنا یا اس کے ساتھ کسی زمانے کا بھی ذکر ہے زمانے زمانے کا ذکر ہے کہ یہ پٹائی کرنا کب پایا گیا ماضی میں یعنی پٹائی تھی تو معنی الگ ہوگا جو فعل ہے اس کا معنی کیا ہوگا الگ ہوگا اس معنی کے ساتھ زمانہ ملا ہوا ہوگا مولانا کیا ہوگا زمانہ ملا ہوا ہوگا معلوم ماضی خارج ہوا لفظ ماضی خارج ہوا مستقبل بھی خارج ہوا کیونکہ ماضی تو خود عین زمانے کا نام ہے کس کا نام ہے اور ہم نے کہا تھا فعل کا معنی ماضی نہیں فعل کا معنی تین زمانوں میں سے ایک نہیں ہوگا اس کا معنی اپنا ہوگا ہاں اس آئینے کے ساتھ کیا ملا ہوگا اب ضرب کا کیا معنی ہے پٹائی کرنا لیکن زمانہ کون سا مل گیا ساتھ یضرب کا معنی بھی پٹائی کرنا لیکن اب کون سا زمانہ مل گیا حال یا مستقبل کے ساتھ تو پٹائی کرتا ہے یا پٹائی سمجھ میں آرہی ہے بات سب کو تو معنی اور ہوگا ہاں اس معنی کے ساتھ زمانہ ملے گا جس پہ دلالت صیغہ کرے گا بھئی ضرب یہ صیغہ ہوگا تو معلوم ہوا گزشتہ ہے یضرب یہ صیغہ ہے تو معلوم ہوا حال بھی ہے اور حال بھی ہو سکتا ہے اور مستقبل بھی ہو سکتا ہے اور اضرب ہو تو پھر معلوم ہوا صرف کیا ہے مستقبل ہی ہے سمجھ میں آئی بات بھئی جی لانھا اس لیے کہ کلمہ جو ہے اما تدل علی معنا فی نفسھا یا تو وہ دلالت کرے گا ایسے معنی پر جو اس کی ذات میں ہوگا اولی یا دلالت اولی تدل یا دلالت نہیں کرے گا تدل کو حذف کردیا اللہ اس پر دلالت کر رہا ہے سمجھ میں آیا بھئی الثانی الحرف ثانی کیا ہے مولانا حرف ہے یعنی جو دلالت نہیں کر رہا وہ کیا ہے حرف ہے اور وہ اول جو دلالت کر رہا ہے پھر وہ دو حال سے خالی نہیں والاول اما ان یقرن باحد الازمینہ الثلاثہ کہ اول وہ یا تو ملا ہوا ہوگا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ اولی یا ملا ہوا نہیں ہوگا تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوگا الثانی الاسم الثانی الاسم الاسم مولانا یاد رکھو یہ الثانی اس کو پڑھتے ہیں الثانی الف الثانیل کس طرح پڑھیں گے بھئی روانی سے الاسم پڑھتے ہیں عموما اس کو الاسم پڑھنا درست نہیں مولانا اس کو کیوں کیونکہ اسم کا ہمزہ کیا ہے وصلی اور الف لام کا ہمزہ بھی کیا ہے وصلی تو الاسم تھا الاسم تھا پہلا ہمزہ بھی گر گیا ہاں اگر شروع عبارت میں ہے پھر تو پہلا ہمزہ نہیں گرے گا دوسرا ہمزہ کیا ہے ہمزہ وصلی درمیان عبارت میں گرتا ہے شروع عبارت میں درمیان عبارت میں تو اگر شروع سے عبارت یوں جاری الاسم ہذا وغیرہ تو اب اسم والا ہمزہ جو ہے وہ تو درمیان میں آیا اس پر کیا آچکا ہے الف لام وہ تو گر جائے گا لیکن الف لام والا ہمزہ نہیں گرے گا کیسے پڑھیں گے لام کو کسرہ دے دیں گے کیونکہ لام بھی ساکن ہوا سین بھی ساکن ہوا تو ساکن اذا حرکہ حرکہ بال تو کیسے پڑھیں گے الاسم الاسم سمجھ میں آیا اور اگر درج عبارت میں ہے تو اب یہ الف لام والا ہمزہ بھی گر جائے گا تو لسم ہو جائے گا کیا پڑھیں گے لسم اگر ما قبل سے جڑنے کی کوئی صورت ہے ورنہ تو الثانی لسم الثانی یہاں ما قبل سے جڑنے کی بھی کوئی صورت نہیں تو ثانی اسم ہے والاول الفعل اور پہلا کیا ہے فعل ہے مولانا ہدایۃ النحو کی ہدایۃ النحو ہے آپ لوگوں کے پاس کسی کے پاس ہے بھئی ہدایۃ النحو آپ کے پاس ہونی چاہیے سمجھ میں آیا بھئی ساتھ لے کر ساتھ رکھو بھئی کسی دن اچانک اس میں سے بھی پڑھیں گے پھر اس میں دیکھیں گے ہدایۃ النحو بڑی پیاری کتاب ہے وہ بھی مولانا بڑے آسان باتیں کافیہ والے کیونکہ کافیہ اونچی کتاب ہے ذرا وہ مشکل انداز کے اختیار کرتے ہیں تو کبھی کبھی ہم ادھر سے حل کریں گے اور پھر ادھر کافیہ سے اس کو پڑھ لیں گے وہاں تفصیل بھی بہت زیادہ اچھی بات وفات کر دیتے ہیں جی زیادہ اچھی کر دیتے ہیں اچھا جی تو الثانی لسم ثانی اسم ہے والاول الفعل اور پہلا کیا ہے فعل ہے وقد علم بذالک اور تحقیق جان لیا گیا اس کے سبب سے کس کے سبب سے مولانا یہ جو دلیل حصر ذکر ہوئی ذالک کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف دلیل حصر اور تحقیق جان لیا گیا اس دلیل حصر کے سبب سے حد کل واحد منھا ان میں سے ہر ایک ہی تعریف حد کا کیا معنی تعریف جامع مانع تعریف کیا کہلاتی ہے حد کہلاتاتی ہے بھئی اسم فعل حرف تینوں کی تعریف کو جان لیا گیا اس دلیل حصر سے پتہ چل رہا ہے یا نہیں دلیل حصر سے پتہ چل گیا حرف جو ہوگا وہ ایسے معنی پر دلالت نہیں کرے گا جو اس کی ذات سے حاصل ہو رہا ہو دلالت اور اسم اور فعل وہ دلالت کریں گے پھر اسم کیا ہوگا مولانا اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے ایک زمانہ ملا ہوا نہیں اور فعل میں تین زمانوں میں سے ایک زمانہ ساتھ کیا آپ کو پتہ چلا یا نہیں اوپر والی دلیل حصر سے جی یہ بھی پتہ چل گیا یہی بات کر رہے ہیں اور تحقیق جان لیا گیا اس کے ذریعے ہر ان تینوں میں سے ہر ایک کی تعریف کو تعریف کا جامع مانع ہونا ضروری ہے مولانا جامع مانع جانتے ہو بھئی کس کہتے ہیں جی جامع جمع کرنے والی مانع منع کرنے والی یعنی ایسی تعریف ہو تو سارے افراد کو جمع کر دے بھئی کوئی بھی فرد خارج نہ ہو اب اسم کی تعریف کر رہے ہیں ایسے لفظ لائیں کہ وہ دنیا کے ہر اسم پر صادق آئیں بھئی تو سارے اسم اس میں آپ نے کیا کر دیے گویا جمع کر دیے کوئی ایک بھی خارج نہ ہو اور مانع ہونی چاہیے کوئی غیر اس میں نہ آئے ایسی تعریف نہ کرو کہ فلاں فعل بھی اس کے اندر داخل ہو رہا ہے فعل اسم ہے نہیں جی نہیں تو اس کو داخل ہونا چاہیے نہیں لھذا تعریف ایسی ہونی چاہیے جو اپنوں کے لیے جامع اور غیر کے لیے کیا ہو مانع اس کو کیا کہتے ہیں جامع مانع تاریخ بات سمجھ میں آئی بھئی یہ ہے جامع مانع تاریخ بھئی ایک قیمتی نقطہ آپ کو بتلائیں بھئی الازمینۃ الثلاثہ آیا مولانا ازمینہ کیا ہے مولانا موصوف ثلاثہ کیا ہے صفت بھئی یہ جو تا آرہی ہے یہ کس لیے آیا کرتی ہے یہ تا کس کے لیے آتی ہے ہاں آج تک آپ نے یہ پڑھا ہے کہ یہ گول تا تانیث کے لیے آتی ہے آج آپ کو بتاتے ہیں مولانا یہ کبھی تذکیر کے لیے بھی آتی ہے یہ گول تا کس کے لیے آتی ہے کبھی تذکیر کے لیے بھی آیا کرتی ہے مولانا عجیب نقطہ ہے وہ عجیب بات ثلاثہ سے لے کر عشرہ تک عدد کے اندر جو تا ہے یہ تذکیر کے لیے ہے ثلاثہ سے لے کر عشرہ تک عدد میں جو تا ہے وہ کس لیے ہے مولانا تذکیر کے لیے ہے لکھ لیا بھئی عشرہ تک یہ تا کس کے لیے ہے بھئی تذکیر کے لیے ہے مولانا بھئی آپ دیکھتے نہیں ثلاثہ سے لے کر عشرہ تک کی تمیز آپ نے پڑھا ہوگا مذکر کے لیے بتا آ یہ جو عدد آئے گا مذکر کے لیے تا کے ساتھ آئے گا اور مونث کے لیے بغیر تا کے آپ کیا کہتے ہیں تین آدمی یوں کہیں گے ثلاثۃ رجال اور آپ کہنا چاہتے ہیں تین عورتیں تو کیا کہیں گے ثلاث نسوت بغیر تا کے آپ کہنا چاہتے ہیں تین پانچ کتابیں کتاب مذکر ہے مونث جی مذکر ہے مذکر ہے بھئی کس سوچ میں ڈوب گئے کتاب کیا ہے مذکر اب بتانا چاہتے ہیں پانچ کتابیں کیا کہیں گے آپ خمسۃ کتب کیا لے کر آئیں گے تا کیونکہ یہ تا کس چیز کی ہے تذکیر کی ہے تو کتاب مذکر ہے تو اس کے لیے عدد بھی کیسا لائیں گے بتا لائیں گے مذکر لائیں گے اور آپ کہنا چاہتے ہیں تین کاپیاں اور کراسہ کہتے ہیں کاپی کو اور کراسہ کیا ہے مونث ہے تو آپ کیا کہیں گے ثلاثۃ کراساتین کیا کہیں گے تو مونث کے لیے بغیر تا کے اور مذکر کے لیے تا کے معلوم ہوا یہ ثلاثہ سے لے کر عشرہ تک یہ جو تا ہے یہ تذکیر کے لیے ہے یا تانیث کے لیے تذکیر کے لیے ہے یہ بات سمجھ میں آ گئی سب کو یہ صرف یہ تا ہے جو تذکیر کی ہے مولانا سمجھ میں آئی سب کو بات اب دیکھیے مولانا کتاب کی عبارت الازمینۃ کیا بن رہا ہے موصوف اور السلاثہ کیا ہے صفت اور الازمینۃ کے آخر میں بھی کیا آ رہی ہے اور یہ تا کس چیز کی علامت یہ تا تانیث یہ تانیث کی علامت اور السلاثہ کے اندر بھی تا آ رہی ہے یہ کس چیز کی علامت تذکیر کی تو معلوم ایک الازمینۃ ہے موصوف السلاثہ ہے صفت تو یہ موصوف صفت میں مطابقت نہ رہی موصوف آیا مونث اور صفت کیا آئی مذکر اعتراض سمجھ میں آیا سب کو بھئی جواب یہ مولانا کہ یاد رکھو جب عدد یہ صفت بن کر آتا ہے تو موصوف کے مفرد کے تابع ہوا کرتا ہے جب عدد کیا ہو جب یہ صفت بن کر آئیں گے تو موصوف کے مفرد کے تابع ہوں گے سمجھ میں آیا بھئی اچھا بھئی موصوف کون ہے بھئی اسی عبارت کے اندر ازمینا اور ازمینا کا مفرد کیا ہے زمان کیا ہے زمان اور زمان مذکر ہے مونث ہے بھئی مذکر ہے تو لہذا السلاثہ بھی کیا لے کر آئے مذکر لے کر آئے بات سب کو سمجھ میں آئی میں نے آپ کو بتایا کہ ثلاثہ ثلاثہ سے لے کر عشرہ تک جو تا آتی ہے وہ تذکیر کی علامت ہے اور جب یہ صفت بن کر آئے تو موصوف کے مفرد کے تابع ہوگا اور یہاں آ رہا ہے الازمینۃ السلاثہ ازمینا تو جمع ہے اس کا مفرد نکالو کیا بن جائے گا زمانون تو وہ مذکر تھا تو اس لیے ہم السلاثہ بھی کیا لے کر آئے مذکر لے کر آئے سمجھ میں آیا اس کے بجائے کوئی مونث بناؤ بھئی کیا بنائیں گے المسلمات المسلمات الثلاث کیا کہیں گے یا الم تو المسلمات الثلاث کہیں گے بھئی کیا کہیں گے یہ اشکال ہوگا ہاں ہاں اس میں معدود کا مفرد نکالو بھئی وہ کیا ہے مسلمۃ اور مسلمۃ کیا ہے مونث تو السلاث بھی کیا لے کر آئے مونث بغیر تا کے لائے سمجھ میں آیا تو اس طرح آپ اور مثالیں بنا سکتے ہیں سب کو سمجھ آگئی بات جی چلیے جی ہمارا اول امر واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
20 approved lectures · 6 of 20