اب دیکھو مولانا!
میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ضابطہ کہ نکرہ کے بعد فعل آجائے تو وہ فعل عموماً اس نکرہ کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔ لفظ نکرہ ہے، وضع فعل اس کے بعد آیا، تو یہ صفت بنے گا اس کے لیے۔ لفظ موصوف، وضع لماً اس کے لیے صفت۔ جملہ، تو یہ پورا جملہ اس کی صفت ہے۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ لفظ تو مرفوع ہے، تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ جملے پر بھی رفع آنا چاہیے۔ ہمیں تو نظر نہیں آرہا بھئی رفع۔ موصوف کا جو اعراب ہوتا ہے وہی کس کا اعراب ہوتا ہے؟ صفت کا بھئی۔ تو لہٰذا یہ جملہ بھی مرفوع ہونا چاہیے، ہمیں تو رفع نظر نہیں آرہا۔ بھئی یاد رکھو جملہ مبنیات میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ مبنی۔ اور مبنی کا اعراب محلاً ہوا کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں جاءنی ھٰذا۔ تو ھٰذا کیا ہے؟ فاعل ہے، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ لیکن یہ چونکہ مبنی ہے، اور مبنی تو پر تو اعراب ظاہر نہیں ہوتا تو وہ محلاً مرفوع ہوتا ہے۔ اب کہیں گے ھٰذا کیا ہے؟ مرفوع محلاً۔
اور جاء ھٰذا، رایتُ ھٰذا، مررتُ بہٰذا۔ تینوں حالتوں میں یکساں ہے مولانا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تینوں حالتوں میں یکساں ہے۔ تو یہ جملہ بھی مبنی ہے، اور تمھارے تو یہ پورا جملہ محلاً کیا ہے؟ مرفوع ہے، کیونکہ اس کا موصوف کیا ہے؟ مرفوع۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟
اس کے بعد یاد رکھو ایک اور نحوی ضابطہ ترکیب کے لیے جو بڑا ضروری ہے۔ آپ نے جملے کو صفت بنایا، پورے جملے کو کیا بنایا؟ صفت۔ یاد رکھو جملہ مستقل ہے، یعنی اپنا پورا معنی ادا کرتا ہے۔ جملہ کہتے ہی اس کو ہیں جو کیا کرے؟ جو کیا کر رہا ہے؟ معنی کو اپنے ادا کر رہا ہو بھئی۔ ایک چیز کا حکم لگایا جو ہے دوسری چیز پر بھئی۔
تو جملہ مستقل ہوتا ہے، اور آپ اس جملے کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ صفت بنانا چاہتے ہیں، معلوم ہو موصوف کے ساتھ جوڑ رہے ہیں اس کو۔ کیا کر رہے ہیں؟ موصوف کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ اسی طرح کبھی جملے کو خبر بناتے ہیں، تو معلوم ہوا اس جملے کو آپ کس سے جوڑنا چاہتے ہیں؟ مبتدا کے ساتھ۔ اسی طرح کبھی جملے کو حال بناتے ہیں، معلوم ہوا اس جملے کو آپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ ذوالحال سے۔ اسی طرح کبھی جملے کو صلہ بناتے ہیں، معلوم ہوا آپ جملے کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ موصول کے ساتھ۔ تو درمیان میں ربط چاہیے مولانا۔ ریل گاڑی کا انجن ہو اور پیچھے پوری ریل گاڑی ہو، درمیان میں ربط نہ ہو تو کوئی فائدہ ہے؟ نہیں، ربط ضرور چاہیے تو یہاں بھی جملہ مستقل ہے، اس کو کسی سے جڑنے کی حاجت نہیں، لیکن آپ اس کو جوڑ رہے ہیں، جب جوڑ رہے ہیں تو درمیان میں ربط دے دو۔ درمیان میں کیا دے دو؟ ربط۔ اور تو کوئی ایسی چیز جملے میں رکھ دو، جس سے اس ماقبل کے ساتھ یہ جڑ جائے، تو وہ چیز جس کی وجہ سے جملہ ماقبل سے جڑے گا، وہ عائد کہلاتی ہے۔
کیا کہلاتی ہے؟ عائد۔ بھئی وہ ریل کا وہ جو ڈبوں کے درمیان کیا ہوگا مولانا؟ انجن اور باقی ریل میں وہ زنجیر وغیرہ جو بھی چیز ہے جس کے ساتھ باندھا گیا ہے، وہ کیا ہے گویا کہ عائد ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اسی طرح جملے کو آپ جب جوڑیں گے، تو وہ چیز جو آپ نے جملے میں رکھی، جس کی وجہ سے جملہ کس سے جڑ گیا؟ ماقبل سے، موصوف سے جڑ گیا، یا مبتدا سے جڑ گیا، یا ذوالحال سے جڑ گیا، یا موصول سے جڑ گیا، وہ چیز کیا کہلائے گی؟ عائد۔ اور جملے میں جب کسی سے جوڑیں گے تو اس میں عائد کا ہونا ضروری۔ اور یہ عائد عموماً ضمیر کی شکل میں آیا کرتا ہے۔ کس کی شکل میں؟ ضمیر۔ معلوم ہوا، جب آپ نے اس جملے کو صفت بنایا، تو اس کے اندر ایک ضمیر کا ہونا ضروری، جو اس ماقبل کی طرف لوٹ رہی ہو۔ اب آپ بتائیے، وضع لماً کو ہم کیا بنا رہے ہیں؟ صفت بنا رہے ہیں۔ معلوم ہو آپ اس کا ربط کس سے دینا چاہتے ہیں؟ موصوف سے، تو اب اس جملے میں ایک ضمیر ہونا ضروری ہے جو کس کو لوٹے؟ موصوف کی طرف۔ آپ جب جملے کو خبر بنائیں، تو آپ اس کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو اس جملے میں ایک ضمیر کا ہونا ضروری جو کس کو لوٹے؟ مبتدا کو۔ جب آپ جملے کو موصول کے ساتھ جوڑتے ہیں، تو اس میں ایک ضمیر کا ہونا ضروری جو کس کو لوٹے؟ موصول کو۔ صلہ بنا رہے ہیں نا موصول کا۔ اسی طرح جب آپ جملے کو کس سے جوڑیں؟ حال بنائیں مولانا، تو آپ اس کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ ذوالحال سے، تو لہٰذا اس میں کیا ہونا ضروری؟ ایک ضمیر کا ہونا ضروری جو کس کو لوٹے؟ ذوالحال کو۔ یعنی عموماً ضمیر ہوگی وہ عائد ہوگا کس کی صورت میں ہوگا؟ ضمیر۔ اب دیکھیے یہاں پر بھی وضع لماً، وضع فعل مجہول، ہو ضمیر اس کے اندر نائب فاعل، اور وہ کس کو راجع ہے؟ کس کو وضع کیا گیا ہے؟ لفظ کو، تو یہ موصوف کو راجع، یہ عائد ہے مولانا۔
یہ کیا ہے؟ عائد۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ اس نے ربط دے دیا۔
وضع کیا، لماً، وضع ایسا لفظ ہے جسے وضع کیا گیا ہو، ایسے معنی کے لیے مفرد ان جو کیا ہو؟ مفرد ہو۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟
تو میں نے بتلایا تھا الکلمہ کے اندر الف لام جنسی ہے مولانا کیونکہ تاریخ کس کی ہو رہی ہے؟ جنس کی۔ حقیقت کی، ماہیت کی۔ تاریخ کس کی کی جاتی ہے مولانا؟ حقیقت اور ماہیت کی کی جاتی ہے تو یہ الف لام جنسی ہوا۔
اس کے بعد پھر آپ کو افراد بتلائے تھے بھئی، کلمے کی حقیقت آپ کو پتہ چل گئی، اب اس کے افراد کون ہیں بھئی؟ پتہ تو چلے۔ کہتے ہیں بھئی وہ اسم ہے، اور فعل ہے، اور حرف ہے۔
اب دیکھو مولانا!
ھیا ضمیر راجع ہے کس کو بھئی؟
ھیا اسم و فعل و حرف، ھیا ضمیر کس کو راجع ہے بھئی؟ کلمہ کو۔ کس کو راجع ہے؟ کلمہ کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کلمہ کو۔
اور اس کی خبر کیا ہے؟ یہ مبتدا ہے، ھیا کیا ہے؟ اور اس کی خبر کیا ہے؟ اسم و فعل و حرف۔
تو بھئی خبر تو ہے مذکر، اسم بھئی، یہ مذکر ہے لفظ اسم یا مونث ہے؟ مذکر ہے۔ مونث کی کتنی علامتیں ہیں؟ یہ چار۔ تائے ملفوظہ، تائے مقدرہ، الف مقصورہ، اور الف ممدودہ جو تانیث کے لیے ہوتے ہیں بھئی وہ والے، ہر ایک ہر الف مقصورہ نہیں، جو تانیث کے لیے ہو۔ ان میں سے کوئی ہے ان میں؟ تا ملفوظہ بھی نہیں، مقدرہ بھی نہیں ہے، الف مقصورہ و ممدودہ بھی نہیں۔ تو خبر ہے مذکر۔
اور ضمیر آپ کیا لے کر آ رہے ہیں؟ اس کے لیے مبتدا کیا لا رہے ہیں؟ مونث لا رہے ہیں۔
تو یاد رکھو مولانا، جب ضمیر دائر ہو جائے بین المرجع والخبر، ضمیر مرجع اور خبر کے بیچ آجائے مولانا، مرجع کون اس کا؟ الکلمہ، اور خبر کون اس کی؟ اسم و فعل و حرف۔ تو ضمیر جب دائر ہو جائے مرجع اور خبر کے درمیان، تو یہاں پر مرجع کی رعایت رکھنا بھی جائز، اور خبر کی رعایت رکھنا بھی جائز ہے۔
समझ में आई बात भئی؟
ضمیر کس کے درمیان دائر ہوئی ہے مولانا؟ مرجع اور خبر۔ اور مرجع کیا ہے؟ مونث، لہٰذا ضمیر کیا لا سکتے ہیں آپ؟ مونث، اور خبر کیا ہے؟ مذکر، تو ضمیر آپ کیا لا سکتے ہیں؟ مذکر بھی لا سکتے ہیں۔
بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟
समझ में आया؟ भئی ایک نے ایک سے تو اس تو اختلاف ہو گئی مولانا، ایک سی مخالفت ایک کی تو ہوگی، اگر آپ مرجع کی رعایت رکھتے ہیں، تو مرجع تو ہے مونث ضمیر مونث لائیں گے، تو خبر سے مخالفت ہو گئی مولانا، کیونکہ خبر تو کیا ہے؟ مذکر۔ اور اگر آپ خبر کی رعایت رکھتے ہیں، ھوا ضمیر لاتے ہیں، تو پھر مرجع سے مخالفت ہوئی مولانا مرجع کی، کیونکہ مرجع تو کیا ہے؟ مونث ہے۔ تو اس صورت میں کیا لکھتے ہیں علماء؟ کہ دونوں کی رعایت رکھنا جائز، آپ چاہیں تو خبر کی رعایت رکھیں مذکر لے آئیں، آپ چاہیں تو مرجع کی رعایت رکھیں اور مونث لے آئیں۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟
اب یہاں ایک اشکال ہوتا ہے مولانا،
و ھیا اسم و فعل و حرف۔
ھیا کس کو راجع ہے؟ کلمہ کو۔ کلمہ اسم اور فعل اور حرف ہے۔
کلمہ اسم اور فعل اور حرف ہے۔
معلوم بھئی دیکھو، اسم اور فعل اور حرف یہ تینوں مل کر کیا بن رہے ہیں مبتدا کے لیے؟ خبر بن رہا ہے۔ تینوں مل کر، اور مبتدا کیا ہے؟ کلمہ۔
کلمہ کیا ہے؟ بھئی ھیا ضمیر کلمہ کو ہی راجع ہے نا، تو کلمہ مراد ہے، تو کلمہ کیا ہے؟ اسم، فعل اور حرف۔ معلوم وہ ایک ہی چیز اسم بھی ہو، فعل بھی ہو، حرف بھی ہو، پھر وہ کلمہ ہے، ورنہ وہ کلمہ نہیں۔
صورت سمجھ میں آرہی ہے؟
اب کوئی ایسا کلمہ ڈھونڈو کلام عرب میں، جو ایک ہی وقت میں اسم بھی ہو، فعل بھی ہو، حرف بھی ہو، وہ کلمہ ہے، اور کوئی نہیں۔
خرابی سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ کیا خرابی لازم آرہی ہے؟ کہ اسم و فعل و حرف یہ کیا ہے مولانا؟ ھیا کی خبر، معطوف معطوف علیہ ہیں، تو یہ مل کر کیا بن رہے ہیں؟ خبر بن رہے ہیں۔ معلوم ہوا، ایک ہی کلمہ وہ کیا ہوگا؟ اسم بھی ہو، فعل بھی ہو، اور حرف بھی ہو۔
حالانکہ ایسا ہے؟ نہیں۔ ایک ہی وقت میں کچھ ہو سکتا ہے کوئی ایک کلمہ اسم بھی ہو، فعل بھی ہو اور حرف بھی ہو؟ نہیں ہو سکتا، یا وہ اسم ہوگا، یا فعل ہوگا، یا حرف ہوگا۔
جواب اس کا یہ ہے مولانا کہ تقسیم دو قسم پر ہے۔
تقسیم دو قسم پر ہے۔
نمبر ایک تقسیم ال، تقسیم الشے الی اجزائه۔
نمبر ایک تقسیم الشے الی اجزائه،
اور نمبر دو تقسیم الشے الی افرادہ۔
تقسیم الشے الی افرادہ۔
لکھ لیا بھئی؟ اب بات کو سمجھ لیں بھئی، دیکھو بھئی، کبھی شے کی تقسیم کرتے ہیں اس کے اجزاء کی طرف، کبھی افراد کی طرف تقسیم کرتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں بھئی، چائے۔ چائے کس چیز کا نام ہے بھئی؟ دودھ ہو، پتی ہو، چینی ہو، اور پانی ہو۔ چار چیزیں ہیں۔ تو یوں کہیں گے، چائے، دودھ اور چینی اور پتی اور پانی ہے، پانی کا نام ہے۔
سمجھ میں آیا؟
یہ تقسیم الشے الی اجزائه ہے۔ یہ سارے چیزیں چائے کے کیا ہیں؟ اجزاء ہیں۔ کیا ہیں؟ اجزاء ہیں۔ تو یہ تقسیم شے کی افراد کی طرف ہوئی یا اجزاء کی طرف؟ اجزاء کی طرف۔ اور یاد رکھو جب شے کی تقسیم اجزاء کی طرف ہو تو عطف مقدم ہوتا ہے حکم پر یا حمل پر۔
جب شے کی تقسیم کس کی طرف ہو؟ اجزاء کی طرف۔
جب شے کی تقسیم اجزاء کی طرف ہو،
تو عطف مقدم ہوتا ہے حکم پر۔
حکم اور حمل پر، حکم اور حمل ایک معنی۔
حکم پر،
یا حمل پر۔
کیا لکھا آپ نے مولانا جب تقسیم ہو شے کی اس کے اجزاء کی طرف تو کیا مقدم ہے؟ عطف مقدم ہے کس پر؟ حکم پر۔ حکم پر یا حمل پر۔ دیکھو، میں یوں کہہ سکتا ہوں، حمل کرتا ہوں۔ بھئی، مبتدا کیا تھا؟ چائے۔
اور خبر کیا تھی مولانا؟ دودھ اور چینی اور پتی اور پانی ہے۔
تو یہ چائے کی تقسیم کس کی طرف ہو رہی ہے؟ اجزاء کی طرف۔ اور اجزاء کی طرف تقسیم ہو تو کیا مقدم ہوتا ہے؟ عطف۔ تو پہلے میں ان سب کا عطف ایک دوسرے پر کروں گا مولانا۔ کیا سب کو ملا لوں گا، ان ساروں کا مجموعہ، اب اس کا حمل کس پہ کر دوں گا؟ مبتدا پر، یہ سارے کیا ہیں؟ چائے ہیں۔ یہ سارے کیا ہیں؟ چائے ہیں۔
تو کیا مقدم ہوا؟ عطف پہلے کیا یا حمل پہلے کیا؟ عطف پہلے کیا۔ عطف پہلے کیا۔ آپ ذرا حمل پہلے کرکے دکھائیں، ایک کو اٹھا کر صرف عطف ابھی نہیں کیا، ایک کو اٹھا کر حمل کرو، چائے دودھ ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے؟ نہیں۔ اچھا، چائے پتی ہے۔ نہیں ٹھیک۔ چائے چینی ہے۔ چائے پانی ہے۔ تو عطف سے پہلے آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ حمل، تو پھر پہلے حمل جائز نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا، پھر کلام صحیح نہیں۔ تو جب شے کی تقسیم ہو اس کے اجزاء کی طرف، تو پہلے کیا ہوتا ہے؟ عطف، پھر اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ حمل ہوتا ہے۔ ساروں کو ملایا، مجموعہ بنایا، اور اس کا حمل اس پر کر دیا، تو چائے انھی چیزوں ہی کا مجموعہ ہے، کلام صحیح رہا آپ کا۔
اور یاد رکھو جب شے کی تقسیم اس کے افراد کی طرف ہو تو پھر حمل مقدم ہوتا ہے عطف پر۔
اور جب شے کی تقسیم اس کے
اور جب شے کی تقسیم اس کے افراد کی طرف ہو،
تو حمل مقدم ہوتا ہے عطف پر۔
تو حمل مقدم ہوتا ہے عطف پر۔
समझ में आया؟
اور یہاں مولانا،
و ھیا اسم و فعل و حرف، یہاں کیا ہے؟ کلمے کی تقسیم کس کی طرف ہو رہی ہے؟ افراد کی طرف۔ کلمے کی تقسیم ہو رہی ہے افراد کی طرف، اسم بھی کس کا فرد ہے؟ کلمے کا۔ فعل بھی کس کا فرد ہے؟ کلمے کا۔ حرف بھی کس کا فرد ہے؟ کلمے۔
تو افراد کی طرف ہے، یہ معنی نہیں ہے کہ اسم، فعل، حرف تینوں ملیں گے تو پھر کیا کہلائیں گے؟ تینوں مل کر کلمہ کہلاتے ہیں یا ان میں سے ہر ایک کلمہ کہلاتا ہے؟ ہر ایک کلمہ کہلاتا ہے۔ ہر ایک کلمہ کہلاتا ہے، معلوم ہوا یہ اجزاء کی طرف تقسیم نہیں، بلکہ افراد و جزئیات کی طرف تقسیم ہے۔ آپ خود حمل کر کے دیکھیں، آپ کو پتہ چل جائے گا۔ اس میں آپ نے حمل کیا تھا، چائے چینی ہے، حمل صحیح بنتا تھا؟ نہیں بنتا تھا۔ لیکن یہاں یوں کہو، کلمہ اسم ہے۔ بنتا ہے یا نہیں بنتا؟ بنتا ہے۔ کلمہ فعل ہے۔ کلمہ حرف ہے۔
تو یہاں پر کیا مقد معلوم ہوا یہ کس کی تقسیم ہو رہی ہے؟ کلمے کی تقسیم کس کی طرف؟ اپنے افراد کی طرف۔ لہٰذا اب کیا مقدم ہے؟ حمل مقدم ہے کس پر؟ عطف پر۔ تو پہلے حمل ہوگا، بعد میں پھر کیا ہوگا ان کا؟ عطف ہوگا۔ اشکال ختم ہوا۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟
چلیے مولانا، بس بھئی، ھذا واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔