Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

كافية · dars-003

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
لکھیے مولانا! لکھیے؛ مبتدا خبر میں مطابقت کے لیے ط کے ساتھ: مطابقت ط کے ساتھ، م ط الف با ق دو نقطوں والا ط، مبتدا۔ مبتدا خبر میں مطابقت کے لیے چار شرائط ہیں۔ مطابقت کے لیے چار شرائط ہیں۔ شرط اول، شرط اول؛ خبر مشتق کا صیغہ ہو۔ خبر مشتق کا صیغہ ہو۔ بھئی مشتقات جانتے ہیں یا نہیں جانتے آپ لوگ؟ اسم فاعل ہے ضارب وغیرہ۔ اسم مفعول ہے مضروب وغیرہ۔ صفت مشبہ ہے ظریف، کریم، شریف وغیرہ۔ اس میں تفضیل ہے، سمجھ میں آیا؟ اضرب، انصر۔ اچھا، اور جی اور ظرف وغیرہ ہیں بھئی، اس میں اعلیٰ وغیرہ، جی۔ نمبر ایک کیا لکھی شرط بھئی؟ خبر مشتق کا صیغہ ہو۔ لہٰذا "الكلمة لفظ" کا اعتراض ختم ہوا، کہ الکلمۃ مبتدا مؤنث ہے اور لفظ جو خبر ہے، لفظ خبر مذکر ہے، کیونکہ یہاں پہلی شرط نہیں پائی جا رہی، کیونکہ لفظ مشتق نہیں بلکہ مصدر ہے۔ شرط ثانی؛ اس مشتق میں کوئی ضمیر ہو جو مبتدا کی جانب لوٹ رہی ہو۔ اس میں کوئی ضمیر ہو جو مبتدا کی جانب لوٹ رہی ہو۔ جیسے مثلاً؛ زینب قائمۃ۔ ترکیب اس کی آپ کو آ رہی ہے بھئی؟ آتی ہے یا نہیں ترکیب؟ زینب کیا بنے گا؟ مبتدا۔ اور قائمۃ خبر ہے اس کی، اور قائمہ کا صیغہ یہ کیا کون سا ہے؟ مشتق کا ہے، اس میں فاعل ہے تو اس میں فاعل کیا ہوتا ہے؟ مشتق ہوتا ہے تو پہلی شرط پائی گئی کہ خبر کیا ہو؟ مشتق کا صیغہ۔ دوسری شرط کیا تھی اس مشتق میں کیا ہو کوئی ضمیر ہو جو کس کی طرف لوٹے؟ مبتدا کی طرف۔ تو قائمۃ کے اندر بھی ایک ضمیر ہے، ہیا ضمیر جو اس کا فاعل ہے۔ قائمہ خود کیا ہے؟ اسم فاعل، اور اسم فاعل کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے؟ فاعل وہ اس کے اندر ہیا ضمیر ہے، جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ زینب کو۔ تو دوسری شرط بھی پائی گئی، اب مطابقت ضروری ہوئی، تو زینب مؤنث ہیں تو قائمۃ بھی کیا ہے؟ مؤنث ہے بھئی۔ بھئی دیکھو؛ جیسے فعل معروف کے لیے فاعل چاہیے، ضربا کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل اور وہ اس کے اندر کیا ہوگی؟ ضربا میں کیا ہے؟ ہوا ضمیر ہے۔ تو فعل معروف کے لیے فاعل چاہیے، آپ نے پڑھا ہے فعل کبھی فاعل کے بغیر نہیں آ سکتا، اسی طرح فعل مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے، ضرب کے اندر کیا ہے؟ ہوا ضمیر، نائب فاعل۔ جی دوبارہ دہرائیں، فعل معروف کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل اور فعل مجہول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے۔ نائب فاعل چاہیے اور وہ اس کے اندر کیا ہوگی؟ ہوا ضمیر ہوگی، لیکن کبھی کبھار ضمیر اس میں نہیں ہوتی جبکہ فاعل آگے خود آ جائے، اب میں کہتا ہوں ضرب زید، زید نے پٹائی کی، اب آپ مجھے بتائیے ضرب کے اندر ضمیر ہے؟ اب نہیں ہے کیونکہ آگے اس کا فاعل خود آ رہا ہے، خود آ رہا ہے اس میں ظاہر، تو فاعل تو اس کے لیے ہمیں ہر حال میں چاہیے تھا، تو فاعل یا تو اس کے اندر ضمیر ہوگی یا آگے کیا ائے گا اس میں ظاہر آ جائے گا، فاعل ہمیں ہر حال میں چاہیے، چاہے وہ ضمیر کی صورت میں آئے چاہے وہ اس میں ظاہر کی صورت میں آئے۔ اسی طرح فعل مجہول کے لیے ہمیں نائب فاعل چاہیے ہر حال میں، چاہے وہ اس کے اندر ضمیر ہو، چاہے آگے اس کے اس میں ظاہر آ جائے، ضرب، اس کے اندر کیا ہے؟ ہوا، وہ اس کے لیے کیا ہے؟ نائب فاعل اور یا ضرب زید اب ضرب کے اندر کوئی ضمیر ہے؟ نہیں، تو یہ کیا ہوا فعل مجہول ہے، اور آگے اس کا فاعل نائب فاعل کیا ہے؟ اس میں ظاہر آ رہا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ کوئی فعل کبھی فاعل یا نائب فاعل کے بغیر آ سکتا ہے؟ نہیں، اس کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ ہاں ہر فعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ فاعل یا فاعل یا نائب فاعل چاہیے، وہ فاعل یا نائب فاعل کی آنے کی کتنی صورتیں ہیں؟ دو صورتیں ہیں۔ دو صورتیں ہیں، یا کس صورت میں؟ ضمیر کی صورت میں یا اس میں ظاہر کی صورت میں۔ ہاں، یعنی اس کو ایسا ایک لفظ چاہیے جو اس کو رفع دے۔ کیا دے؟ رفع دے۔ کیونکہ فاعل اور نائب فاعل کیا ہوتے ہیں؟ مرفوع ہوتے ہیں۔ تو جیسے فعل معروف فاعل چاہتا ہے، اور فعل مجہول نائب فاعل چاہتا ہے، اسی طرح یاد رکھو، اسم فاعل کا جو صیغہ ہے، وہ بھی ہمیشہ فاعل کو چاہتا ہے۔ اور اسم مفعول کا صیغہ ہمیشہ کس کو چاہتا ہے؟ نائب فاعل کو چاہتا ہے۔ تو ضارب آپ جب بھی کہیں گے، اس کے اندر ہمیشہ کیا ہوگی؟ ضمیر۔ ضمیر وہ اس کی کیا بنے گی؟ فاعل بنے گی۔ تو ضارب یہ نہیں ہو سکتا اس میں فاعل تو آ جائے اور اس کا فاعل جیسے یہ نہیں ہو سکتا کہ فعل تو آ جائے، لیکن اس کا فاعل یا نائب فاعل نہ آئے۔ اسی طرح اس میں فاعل بھی بغیر فاعل کے نہیں۔ ہاں وہ آپ کو نظر نہیں آئے گا عبارت میں اکثر کیونکہ اسی کے اندر ضمیر ہے۔ ضارب کے اندر کیا ہے؟ ہوا ضمیر ہے، وہ کیا ہے اس کا؟ فاعل۔ اور مضروب کے اندر اس کا نائب فاعل ہے اور وہ کیا ہے؟ ہوا ضمیر بھئی۔ کیا ہے؟ ضمیر۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ কিন্তু آپ نے پڑھا تھا کبھی کبھار ضرب کے اندر ضمیر نہیں ہوتی، کب؟ جب آگے اس کا فاعل کیا آ جائے اسم ظاہر۔ مضروب کے اندر کبھی ضمیر نہیں ہوتی کب جبکہ اس کا نائب فاعل آگے ظاہر آ جائے۔ اسی طرح ضارب کبھی کبھی کبھی فاعل اسم ظاہر آ جاتا ہے، مضروب کا نائب فاعل بھی کبھی کبھی کیا آ جاتا ہے اسم ظاہر۔ پھر اس صورت میں ان میں ضمیر نہیں ہوگی کیونکہ نائب فاعل ان کو نائب فاعل یا فاعل چاہیے تھا چاہے وہ ضمیر کی صورت میں آئے چاہے اس میں ظاہر کی صورت میں۔ اب مثلاً میں کہتا ہوں: زید ضارب ابوہ۔ زید ضارب ابوہ۔ اب ترکیب کیسے ہوگی؟ زید مبتدا، ضارب صیغہ اسم فاعل، اور اسم فاعل کیا چاہتا ہے؟ فاعل۔ اور آگے ابوہ یہ اس کے لیے کیا آ رہا ہے؟ اب اس کے اندر ضمیر نہیں۔ تو ابو ابو اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے، اس کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ واو کے ساتھ آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ تو یہ مرفوع ہے، اب اگر آپ سے کوئی پوچھے اس ابو کو رفع کس نے دیا؟ آپ فورا کیا کہیں گے؟ اسم فاعل نے دیا۔ کس نے دیا؟ اسم فاعل نے۔ کیونکہ یہ اس کا فاعل ہے، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، لہٰذا ابو بھی کیا ہے؟ مرفوع۔ تو ابو مضاف، ھا ضمیر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر ضارب کے لیے فاعل، اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر کیا ہوا؟ خبر، خبر ہوا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آپ مجھے بتائیے، پہلی شرط ہے خبر کیا ہو؟ مشتق۔ تو خبر دراصل ضارب ہے، ابوہ نہیں خبر مولانا، ابوہ تو اس کے لیے فاعل ہے، وہ اس سے جڑ رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ضارب کیا ہے؟ ف خبر ہے۔ جی، پہلی شرط پائی جا رہی ہے؟ تو خبر مشتق کو پائی جا رہی ہے۔ دوسری شرط کیا ہے؟ اس میں ضمیر ہو جو کس کو لوٹے؟ مبتدا کو۔ اور ضارب میں بھی ایک ضمیر ہے جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو لوٹ رہی ہے۔ تیسری شرط کے بھی یہ خلاف نہیں ہے کہ مؤنث کے ساتھ یہ وصف خاص نہیں۔ زخمی مرد بھی ہو سکتا ہے، زخمی عورت بھی ہو سکتی ہے۔ چوتھی شرط اس میں نہیں پائی جا رہی اور وہ کیا ہے؟ وہ مشتق ایسا صیغہ نہ ہو جو مذکر اور مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہو، کیونکہ وہ چار ہی صیغے ہیں اور ان میں سے ایک کیا ہے؟ فاعل بمانی مفعول۔ اور یہ بھی جریح بمانی مجروح۔ تو الرجل جریح، الامراۃ جریح، مذکر کے لیے بھی جریح، مؤنث کے لیے بھی جریح۔ کیونکہ یہ فاعل ہے، اور بمانی مفعول مجروح کے ہے، اور عربی کا ضابطہ ہے کہ جو فاعل بمانی مفعول کے ہو، اس کو آپ نے بدلنا نہیں، مذکر کے لیے بھی ویسے ہی اور مؤنث کے لیے بھی ویسے ہی۔ ویسے ہی۔ اب کوئی آپ سے پیشکش کرتا ہے: الامراۃ جریح، یہ تو مبتدا خبر میں مطابقت نہیں ہے، آپ فورا کیا کہیں گے؟ یہاں پر چوتھی شرط نہیں۔ چوتھی شرط نہیں۔ پہلی شرط بھی ہے، مشتق کا صیغہ ہے۔ دوسری شرط بھی ہے، اس میں ایک ضمیر بھی ہے جو کس کی طرف لوٹ رہی ہے؟ مبتدا کی طرف۔ بھئی یاد رکھو، اسم فاعل میں بھی ضمیر ہوتی ہے، اسم مفعول میں بھی ضمیر ہوتی ہے، صفت مشبہ اس کے اندر بھی ضمیر ہوتی ہے، اور اس میں تفضیل میں بھی ضمیر ہوتی ہے۔ کن کن میں؟ اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اور اسم تفضیل۔ یاد رہیں گے یا نہیں رہیں گے بھئی؟ جی۔ تو یہ جریح شریف ہے، مولانا شریف وزن پر ہے۔ الحمدللہ۔ یہ هدیکم اللہ یصلحکم۔ अच्छा، تو یہ کیا ہے مولانا؟ جی۔ کیا بات چل رہی تھی؟ ہاں شریف کی بات چل رہی ہے۔ جریح بر وزن شریف کے ہے، کریم کے ہے، اور وہ کیا ہے مولانا؟ صفت مشبہ ہے۔ صفت مشبہ۔ تو صفت مشبہ میں بھی کیا ہوتی ہے؟ ضمیر، لہٰذا ایک ضمیر ہے جو لوٹ رہی ہے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف۔ اب آپ پہ کوئی اشکال کرے تو آپ کہیں گے کہ بھئی یہاں پہلی یہ مشتق بھی ہے، ٹھیک ہے ہم مانتے ہیں صفت مشبہ ہے۔ دوسری اس کے اندر ایک ضمیر بھی ہے جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ مبتدا کی طرف۔ تیسری شرط کے بھی یہ خلاف نہیں ہے کہ مؤنث کے ساتھ یہ وصف خاص نہیں۔ زخمی مرد بھی ہو سکتا ہے، زخمی عورت بھی ہو سکتی ہے۔ چوتھی شرط اس میں نہیں پائی جا رہی اور وہ کیا ہے؟ وہ مشتق ایسا صیغہ نہ ہو جو مذکر اور مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہو، کیونکہ وہ چار ہی صیغے ہیں اور ان میں سے ایک کیا ہے؟ فاعل بمانی مفعول، اور یہ بھی جریح بمانی مجروح، تو الرجل جریح، الامراۃ جریح کہیں گے۔ دوسرا وہ کون سا صیغہ ہے بھئی؟ فعول بمانی فاعل کے، جیسے صبور مولانا۔ جب میں کہتا ہوں الرجل صبور مرد کیا ہے؟ وہ مرد صبر کرنے والا ہے، الامراۃ صبور وہ عورت کیا ہے صبر کرنے والی ہے، آپ کوئی اشکال کرتا ہے کہ یہاں تو مبتدا خبر میں مطابقت نہیں، الامراۃ مؤنث ہے اور صبور کیا ہے؟ مذکر، آپ کیا کہیں گے کہ یہاں چوتھی شرط نہیں پائی جا رہی کیونکہ یہ کیا ہے؟ فعول بمانی فاعل کے ہے اور وہ فعول جب بمانی فاعل کے ہو، وہاں مذکر مؤنث دونوں کے لیے کیا ہے دونوں یکساں رہتا ہے یہ۔ تیسرا کیا ہے؟ ضراب بھئی، مبالغے کا صیغہ بھی مذکر مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہے، آپ کہتے ہیں الرجل ضراب وہ آدمی بہت پٹائی کرنے والا ہے، الامراۃ ضراب وہ عورت اس کی جو ہے، اس کی وہ عورت اس کی بہت زیادہ کیا ہے؟ پٹائی کرنے والی ہے، کوئی نہ کوئی تو ایسی بھی آئے گی بھئی۔ پٹائی کرے گی بھئی۔ تو وہ عورت بہت پٹائی کرنے والی ہے، تو اب ضراب فورا کہیں اشکال ہوتا ہے بھئی، ضراب، الامراۃ مؤنث ہے، اور ضراب تو کیا ہے؟ خبر ہے، مطابقت نہیں ہے بظاہر آپ کہیں گے چوتھی شرط نہیں۔ ہم نے کہا تھا ایسا صیغہ نہ ہو جو جو کیا ہو؟ مذکر مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہو۔ یہ تو ایسا صیغہ ہے جو مذکر اور مؤنث کے لیے کیا رہتا ہے؟ یکساں رہتا ہے۔ چوتھی چوتھی صورت کیا تھی؟ اس میں تفضیل من کے ساتھ، بھئی اس میں تفضیل کے کتنے طریقے ہیں استعمال کے؟ تین طریقے ہیں، الف لام کے ساتھ، من کے ساتھ اور اضافت کے ساتھ۔ یاد رکھو، اس میں تفضیل جب من کے ساتھ آ رہا ہو تو مبتدا، تو وہ مذکر کے لیے بھی اسی طرح رہتا ہے، مؤنث کے لیے بھی اسی طرح، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آیا کرتی مولانا، میں مثلاً؛ میں کہتا ہوں: الرجل اکبر منکا، وہ آدمی تم سے بڑا ہے، پھر میں کہتا ہوں: الامراۃ اکبر منکا، وہ عورت تجھ سے بڑی ہے۔ الامراۃ اکبر منکا، آپ فورا اشکال کریں گے: الامراۃ مؤنث ہے، اور اکبر تو کیا ہے اس میں تفضیل مذکر کا صیغہ ہے، کیا ہونا چاہیے کبریٰ ہونا چاہیے تھا۔ آپ نے اذان پڑھی ہے یا نہیں بھئی؟ جی۔ اور مؤنث من ہو کبریٰ بنے گا، ضربا۔ تو یہ تو کبریٰ ہونا چاہیے تھا، آپ کیا جواب دیں گے کوئی یہ اشکال کرے کہ یہ اکبر کے کس کے ساتھ آ رہا ہے؟ من کے ساتھ، من آ رہا ہے یا نہیں آگے؟ اور وہ اس میں تفضیل جو من کے ساتھ استعمال ہو، مذکر ہو، مؤنث ہو، مفرد ہو، تثنیہ ہو، جمع ہو، سب کے لیے اکبر ہی رہے گا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تو لہٰذا اشکال ختم ہوا۔ الصلاۃ خیر من النوم، الصلاۃ کیا ہے؟ مؤنث ہے اور خیر تو مذکر ہے، تو دونوں میں مطابقت نہیں، آپ کیا جواب دیں گے؟ کہ اس میں تفضیل من کے ساتھ آ رہا ہے، اور وہ اس میں تفضیل جو من کے ساتھ آئے، وہ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے کیا رہتا ہے؟ یکساں رہتا ہے۔ یہ باتیں سب کو سمجھ میں آ گئیں؟ جی۔ چلیے جی ہذا واللہ اعلم بحقیقت الكلام
20 approved lectures · 3 of 20