لکھیے مولانا لکھیے الف لام کی اقسام الف لام کی اقسام الف لام دو قسم پر ہے الف لام دو قسم پر ہے الف لام اسمی اور الف لام حرفی اور الف لام حرفی الف لام اسمی
الف لام اسمی وہ ہے الف لام اسمی وہ ہے الف لام اسمی وہ ہے جس میں فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہوتا ہے جس میں فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہوتا ہے یہ دراصل یہ دراصل
اس میں موصول ہے موصول ہوتا ہے یہ دراصل اس میں موصول ہوتا ہے جو الف لام کی صورت میں آتا ہے جو الف لام کی صورت میں آتا ہے تو چونکہ یہ اسم موصول ہے
تو چونکہ یہ اسم موصول ہے اس لیے اسے الف لام اسمی کہتے ہیں اس لیے اسے الف لام اسمی کہتے ہیں تو الضارب تو الضارب
و معنی الذی یضرب کے ہے و معنی الذی یضرب کے ہے اور المضروب یعنی ترجمہ بھی لکھ لیں یعنی وہ جو کہ پٹائی کرتا ہے
اور المضروب اور المضروب و معنی الذی یضرب کے ہے و معنی الذی یضرب کے ہے یعنی وہ جس کی پٹائی کی جاتی ہے
یعنی وہ جس کی پٹائی کی جاتی ہے الف لام حرفی الف لام حرفی الف لام حرفی
الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی اسم کو معرفہ بنایا جاتا ہے
جس کے ذریعے کسی اسم کو معرفہ بنایا جاتا ہے اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے
اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے یہ چار قسم پر ہے یہ چار قسم پر ہے
الف لام جنسی الف لام جنسی الف لام استغراقی الف لام استغراقی الف لام عہد خارجی الف لام عہد خارجی
اور الف لام عہد ذہنی اور الف لام عہد ذہنی الف لام جنسی
الف لام جنسی وہ ہے جس کے ذریعے کسی جنس ماہیت
اور حقیقت کی طرف اشارہ کیا جائے اور حقیقت کی طرف اشارہ کیا جائے
اور افراد مراد نہیں ہوتے اور افراد مراد نہیں ہوتے جیسے
الرجل خیر من المراتی یعنی جنس رجل جنس امرأۃ سے بہتر ہے
یعنی جنس رجل جنس امرأۃ سے بہتر ہے یہاں افراد مراد نہیں
اگر افراد مراد ہوں پھر تو یہ بات درست نہیں اگر افراد مراد ہوں تو پھر تو یہ بات درست نہیں
کیونکہ جنس امرأۃ کے بہت سے افراد مردوں سے بہتر ہیں مردوں سے بہتر ہیں جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
کہ ان کا مقام تو اتنا اعلی اور رفع ہے کہ ان کا مقام تو اتنا اعلی اور رفع ہے کہ بعد والا کوئی مرد بھی
کہ بعد والا کوئی مرد بھی ان کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا ان کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا
یا جیسے ایک مومنہ عورت یا جیسے ایک مومنہ عورت کہ وہ تمام دنیا کے کافروں سے کافر مردوں سے بہتر ہے
کہ وہ تمام دنیا کے کافر مردوں سے بہتر ہے کہ وہ تمام دنیا کے کافر مردوں سے بہتر ہے
الف لام استغراقی الف لام استغراقی وہ ہے جس کے ذریعے
کسی جنس کے کسی جنس کے تمام افراد کی جانب اشارہ کیا جائے تمام افراد کی جانب اشارہ کیا جائے
جیسے قرآن میں ہے ان الانسان لفی خسر ان الانسان لفی خسر
الا الذین آمنوا الا الذین آمنوا یہاں الانسان پر الف لام استغراقی ہے
یہاں الانسان پر الف لام استغراقی ہے ترجمہ کیا ہوگا یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں تمام افراد مراد ہیں
یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں مگر وہ لوگ جو ایمان لائے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے
الف لام عہد خارجی الف لام عہد خارجی وہ ہے جس کے ذریعے
جس کے ذریعے کسی جنس کے کسی جنس کے متعین فرد
متعین فرد یا افراد کی طرف اشارہ کیا جائے مثلاً آپ کہتے ہیں
مثلاً آپ کہتے ہیں جاءنی رجل جاءنی رجل
جاءنی رجل فأکرمت الرجل فأکرمت الرجل یعنی میرے پاس آدمی آیا میرے پاس ایک آدمی آیا
یعنی میرے پاس ایک آدمی آیا تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا
یہاں پہلے جملے میں رجل کا تذکرہ آیا پہلے جملے میں رجل کا ذکر آیا تو
اب وہ متعین ہو گیا تو دوسرے جملے میں
الرجل الف لام کے ساتھ الرجل الف لام کے ساتھ اسی متعین رجل کی طرف اشارہ کیا گیا اسی متعین رجل کی طرف اشارہ کیا گیا
الف لام عہد ذہنی الف لام عہد ذہنی الف لام عہد ذہنی وہ ہے
جس کے ذریعے جس کے ذریعے کسی جنس کے کسی جنس کے فرد غیر معین کی طرف اشارہ کیا جائے
فرد غیر معین کی طرف اشارہ کیا جائے جیسے قرآن میں ہے
جیسے قرآن میں ہے انی اخاف انی اخاف ان یأکلہ الذئب ان یأکلہ الذئب
تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ مجھے خوف ہے کہ مجھے خوف ہے
کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے گا کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے گا تو یہاں الذئب پر الف لام عہد ذہنی ہے
الف لام عہد ذہنی ہے یعنی ذہن میں یعنی ذہن میں
جنس بھیڑیے کے ایک فرد کا تصور کر کے تصور کر کے
الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا
نیز یہ بات یاد رکھیے کہ وہ اسم جس پر الف لام عہد ذہنی داخل ہو
کہ وہ اسم جس پر الف لام عہد ذہنی داخل ہو وہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ ہو جاتا ہے
وہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ ہو جاتا ہے لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ ہی رہتا ہے
لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ ہی رہتا ہے لہٰذا الذئب
لہٰذا الذئب کا ترجمہ ہوگا کوئی بھیڑیا یا کوئی کوئی ایک بھیڑیا
کوئی ایک بھیڑیا یہ چار قسمیں ہیں نیز ایک اور بات بھی یاد رکھیے الگ مولانا الگ سے
کبھی کبھار الف لام حرفی کو الف لام حرفی کو صرف لفظ کو مزین کرنے کے لیے بھی لایا جاتا ہے
لفظ کو مزین کرنے اور خوبصورت اور حسین بنانے کے لیے بھی لایا جاتا ہے
جیسے نام ہے علی نام ہے علی اس پر الف لام داخل کر کے العلی کہتے ہیں العلی کہتے ہیں
یا جیسے الزبیر یا جیسے الزبیر تو الف لام حرفی تو
تو الف لام حرفی تو لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے لاتے ہیں لیکن زبیر اور علی
لكن زبیر اور علی وغیرہ جیسے نام زبیر اور علی وغیرہ جیسے نام یہ تو پہلے ہی معرفہ ہیں
یہ تو پہلے ہی معرفہ ہیں تو یہاں الف لام کو صرف لفظ کو مزین کرنے کے لیے ملایا گیا
یہ تو یہاں الف لام کو صرف لفظ کو مزین کرنے کے لیے ملایا گیا بس مولانا بس بات سمجھ میں آگئی بھئی الف لام کی قسمیں سمجھ میں آئیں سب کو بھئی بھئی بڑی آسان یہ ترتیب ہے یاد رکھیں اس کو ہمیشہ الف لام دو قسم پر ہے ایک اسمی اور ایک حرفی الف لام اسمی کس پر داخل ہوتا ہے
اسم فاعل اور اسم مفعول اور یہ کس کے معنی میں ہوتا ہے اسم موصول الذی تو جب یہ اسم موصول ہے تو یہ الف لام کیا کہلایا اسمی اسم موصول ہے نا
صورت الف لام کی ہے لیکن دراصل کیا ہے اسم ہے اسم موصول ہے تو الضارب کا کیا معنی
الذی یضرب اور المضروب کا کیا معنی الذی یضرب
الآکل کا کیا معنی الذی یأکل المأکول کا کیا معنی الذی یأکول
سمجھ میں آیا تو یہ صرف کس پر اسم فاعل کا جو صیغہ ہوتا ہے ضارب ناصر فاتح مکرم
سمجھ میں آیا مستخرج وغیرہ جو ہیں ان پر جو الف لام ہمیشہ آئے گا وہ کون سا ہوگا اسمی بمانی الذی کی یا اسم مفعول کا صیغہ ہو
اس کے علاوہ باقی الف لام کون سے ہیں حرفی الف لام حرفی کو کس لیے لایا جاتا ہے کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے
معارفہ بنانے کے لیے اور اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے کسی چیز کی طرف اشارہ یہ جملہ آپ نے یاد رکھنا ہے الف لام حرفی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے
اب اشارہ یا تو جنس کی طرف ہوگا افراد سے قطع نظر افراد مراد نہیں یا مولانا افراد مراد ہوں گے
اگر افراد مراد ہیں پھر تو یہ بات درست نہیں اگر افراد مراد ہوں تو پھر تو یہ بات درست نہیں کیونکہ جنس امرأۃ کے بہت سے افراد
مردوں سے بہتر ہیں مردوں سے بہتر ہیں جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
کہ ان کا مقام تو اتنا اعلی اور رفع ہے کہ ان کا مقام تو اتنا اعلی اور رفع ہے
کہ بعد والا کوئی مرد بھی کہ بعد والا کوئی مرد بھی ان کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا
ان کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا یا جیسے ایک مومنہ عورت یا جیسے ایک مومنہ عورت کہ وہ تمام دنیا کے کافروں سے
کافر مردوں سے بہتر ہے کہ وہ تمام دنیا کے کافر مردوں سے بہتر ہے
کہ وہ تمام دنیا کے کافر مردوں سے بہتر ہے الف لام استغراقی
الف لام استغراقی وہ ہے جس کے ذریعے کسی جنس کے تمام افراد کی جانب اشارہ کیا جائے
تمام افراد کی جانب اشارہ کیا جائے جیسے قرآن میں ہے
ان الانسان لفی خسر ان الانسان لفی خسر
الا الذین آمنوا الا الذین آمنوا یہاں الانسان پر الف لام استغراقی ہے
یہاں الانسان پر الف لام استغراقی ہے ترجمہ کیا ہوگا یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں تمام افراد مراد ہیں
یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں مگر وہ لوگ جو ایمان لائے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے
الف لام عہد خارجی الف لام عہد خارجی وہ ہے جس کے ذریعے
جس کے ذریعے کسی جنس کے
کسی جنس کے متعین فرد متعین فرد یا افراد
کی طرف اشارہ کیا جائے مثلاً آپ کہتے ہیں
مثلاً آپ کہتے ہیں جاءنی رجل جاءنی رجل
جاءنی رجل فأکرمت الرجل فأکرمت الرجل یعنی میرے پاس آدمی آیا میرے پاس ایک آدمی آیا
یعنی میرے پاس ایک آدمی آیا تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا
یہاں پہلے جملے میں رجل کا تذکرہ آیا
پہلے جملے میں رجل کا ذکر آیا تو
اب وہ متعین ہو گیا تو دوسرے جملے میں
الرجل الف لام کے ساتھ الرجل الف لام کے ساتھ اسی متعین رجل کی طرف اشارہ کیا گیا
اسی متعین رجل کی طرف اشارہ کیا گیا الف لام عہد ذہنی
الف لام عہد ذہنی الف لام عہد ذہنی وہ ہے جس کے ذریعے
جس کے ذریعے کسی جنس کے
کسی جنس کے فرد غیر معین کی طرف اشارہ کیا جائے فرد غیر معین کی طرف اشارہ کیا جائے
جیسے قرآن میں ہے جیسے قرآن میں ہے
انی اخاف انی اخاف ان یأکلہ الذئب ان یأکلہ الذئب
تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا
کہ مجھے خوف ہے کہ مجھے خوف ہے کہ اسے
کوئی بھیڑیا کھا جائے گا کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے گا
تو یہاں الذئب پر الف لام عہد ذہنی ہے الف لام عہد ذہنی ہے
یعنی ذہن میں یعنی ذہن میں
جنس بھیڑیے کے ایک فرد کا تصور کرکے تصور کرکے
الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا
نیز یہ بات یاد رکھیے کہ وہ اسم جس پر الف لام عہد ذہنی داخل ہو
کہ وہ اسم جس پر الف لام عہد ذہنی داخل ہو وہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ ہو جاتا ہے
وہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ ہو جاتا ہے لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ ہی رہتا ہے
لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ ہی رہتا ہے لہٰذا الذئب
لہٰذا الذئب کا ترجمہ ہوگا کوئی بھیڑیا یا کوئی ایک بھیڑیا
کوئی ایک بھیڑیا یہ چار قسمیں ہیں نیز ایک اور بات بھی یاد رکھیے
अलग مولانا الگ سا کبھی کبھار الف لام حرفی کو
الف لام حرفی کو صرف لفظ کو مزین کرنے کے لیے بھی لایا جاتا ہے
لفظ کو مزین کرنے اور خوبصورت اور حسین بنانے کے لیے بھی لایا جاتا ہے
جیسے نام ہے علی نام ہے علی اس پر الف لام داخل کر کے العلی کہتے ہیں العلی کہتے ہیں
یا جیسے الزبیر یا جیسے الزبیر تو الف لام حرفی تو
تو الف لام حرفی تو لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے لاتے ہیں لیکن زبیر اور علی
لیکن زبیر اور علی وغیرہ جیسے نام زبیر اور علی وغیرہ جیسے نام یہ تو پہلے ہی معرفہ ہیں
یہ تو پہلے ہی معرفہ ہیں تو یہاں الف لام کو صرف لفظ کو مزین کرنے کے لیے ملایا گیا
یہ تو یہاں الف لام کو صرف لفظ کو مزین کرنے کے لیے ملایا گیا
بس مولانا بس بات سمجھ میں آگئی بھئی الف لام کی قسمیں سمجھ میں آئیں سب کو بھئی بھئی بڑی آسان یہ ترتیب ہے یاد رکھیں اس کو ہمیشہ الف لام دو قسم پر ہے ایک اسمی اور ایک حرفی الف لام اسمی کس پر داخل ہوتا ہے
اسم فاعل اور اسم مفعول اور یہ کس کے معنی میں ہوتا ہے اسم موصول الذی تو جب یہ اسم موصول ہے تو یہ الف لام کیا کہلایا اسمی اسم موصول ہے نا
صورت الف لام کی ہے لیکن دراصل کیا ہے اسم ہے اسم موصول ہے تو الضارب کا کیا معنی
الذی یضرب اور المضروب کا کیا معنی الذی یضرب
الآکل کا کیا معنی الذی یأکل المأکول کا کیا معنی الذی یأکول
سمجھ میں آیا تو یہ صرف کس پر اسم فاعل کا جو صیغہ ہوتا ہے ضارب ناصر فاتح مکرم
سمجھ میں آیا مستخرج وغیرہ جو ہیں ان پر جو الف لام ہمیشہ آئے گا وہ کون سا ہوگا اسمی بمانی الذی کی یا اسم مفعول کا صیغہ ہو
اس کے علاوہ باقی الف لام کون سے ہیں حرفی الف لام حرفی کو کس لیے لایا جاتا ہے کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے
معارفہ بنانے کے لیے اور اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے کسی چیز کی طرف اشارہ یہ جملہ آپ نے یاد رکھنا ہے الف لام حرفی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے
اب اشارہ یا تو جنس کی طرف ہوگا افراد سے قطع نظر افراد مراد نہیں یا مولانا افراد مراد ہوں گے
اگر افراد مراد ہیں پھر تو یہ بات درست نہیں اگر افراد مراد ہوں تو پھر تو یہ بات درست نہیں کیونکہ جنس امرأۃ کے بہت سے افراد
مردوں سے بہتر ہیں مردوں سے بہتر ہیں جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
کہ ان کا مقام تو اتنا اعلی اور رفع ہے کہ ان کا مقام تو اتنا اعلی اور رفع ہے
کہ بعد والا کوئی مرد بھی کہ بعد والا کوئی مرد بھی ان کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا
ان کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا یا جیسے ایک مومنہ عورت یا جیسے ایک مومنہ عورت کہ وہ تمام دنیا کے کافروں سے
کافر مردوں سے بہتر ہے کہ وہ تمام دنیا کے کافر مردوں سے بہتر ہے
کہ وہ تمام دنیا کے کافر مردوں سے بہتر ہے الف لام استغراقی
الف لام استغراقی وہ ہے جس کے ذریعے کسی جنس کے تمام افراد کی جانب اشارہ کیا جائے
تمام افراد کی جانب اشارہ کیا جائے جیسے قرآن میں ہے
ان الانسان لفی خسر ان الانسان لفی خسر
تو بعض افراد انسان خسارے میں ہیں یا تمام انسان تمام تو یہاں جنس نہیں مراد افراد مراد ہیں سارے انسان سارے افراد انسان کس چیز میں ہیں
مگر وہ جو ایمان لائے بس یہ الف لام استغراقی پھر اس کے بعد الف لام عہد خارجی ہے الف لام عہد خارجی وہ ہے جس کے ذریعے اشارہ کیا جائے کسی جنس کے
متعین فرد یا افراد کی طرف جو ایک چیز پہلے متعین ہو چکی ہے اس کی طرف اشارہ کر دیں
مصلحتاً میں نے مثال لکھوائی جاءنی رجل میرے پاس ایک آدمی آیا فاکرمت الرجل میں نے آدمی کا اکرام کیا
بھئی بتائیے آپ میں نے اسی آدمی کا اکرام کیا یا اکرام کسی اور کا کیا اسی آدمی کا کیا تو پہلے ایک دفعہ ذکر ہو چکا تھا متعین ہو چکا ہے میں اپنے کلام میں اس کا ذکر کر چکا ہوں آپ کو بتلا چکا ہوں تو آپ میں اور مجھ میں ایک چیز متعین ہو گئی آپ بھی اب اس کو جانتے ہیں اور میں بھی اس کو میں تو جانتا ہی ہوں آپ نے بھی اب جان لیا
اب میں الف لام کے ذریعے اسی رجل کی طرف اشارہ کر رہا ہوں کسی اور کی طرف اشارہ تو اس کو کیا کہتے ہیں الف لام عہد خارجی اس کے ذریعے کسی متعین چیز یا متعین افراد کی طرف کیا کیا جاتا ہے اشارہ کیا جاتا ہے
اور چوتھی قسم کیا ہے الف لام عہد ذہنی الف لام عہد ذہنی میں یاد رکھو ذہن میں جنس کا کوئی فرد تصور کرکے اس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اس لیے اس کو عہد ذہنی کہتے ہیں ذہن میں آپ نے کیا کیا تصور کرکے اس کی طرف اشارہ کیا دیکھئیے جیسے انہوں نے قرآن میں مثال ہے حضرت یعقوب علیہ السلام نے کیا فرمایا انی اخاف ان یأکلہ الذئب میں ڈرتا ہوں مجھے خوف ہے کہ اس کو کون کھا جائے گا بھیڑیا
کوئی خاص بھیڑیا متعین بھیڑیا مراد تھا چلو شروع سے کرتے ہیں صحیح ہو سارے جنس سے بھیڑیا مراد ہو سکتا ہے اس الف لام سے جنس کسی چیز کی کھائے گی یا اس کا فرد فرد بھیڑیا کھائے گا بھئی جو خارج میں موجود ہے وہ کیا ہے
جی فرد مولانا تو وہ فرد بھیڑیا کسی کا کھائے گا اس کی حقیقت نہیں اچھا پھر بتائیے مولانا
کوئی ایک دو چار مل سکتے ہیں یا پوری دنیا کے بھیڑیا مل کر کھائیں گے کیا مراد ہے کوئی ایک خاص فرد معلوم ہوا الف لام استغراقی بھی نہیں اچھا تو کوئی خاص بھیڑیا متعین ہے جس کو وہ سارے لوگ جانتے ہیں وہ والا بھیڑیا
ہاں نہیں متعین بھی نہیں مراد معلوم ہوا یہاں الف لام کونسا ہے عہد ذہنی ہے کوئی بھیڑیا کھا جائے گا
جنس سے بھیڑیے کا ایک فرد تصور کیا ذہن میں کوئی ایک اور وہ اس کو کیا کر لیں گے خوف ہے کہ وہ ان کو کھا لے گا تو یہ لفظوں کے اعتبار سے تو الذئب معرفہ بن گیا الف لام آ گیا اب یہ نکرہ نہیں بلکہ کیا ہے لیکن لفظوں کے اعتبار سے معنی کے اعتبار سے ابھی بھی یہ کیا ہے
کیوں معرفہ تو وہ ہے جس کی آپ کو پہچان ہو گئی معرفت حاصل ہو گئی مولانا متعین ہو گیا اور یہ کوئی متعین ہے جب یہ تو یہ پھر معنی کے اعتبار سے ابھی بھی نکرہ ہے اسی لیے اس کا ترجمہ میں نے کیا کوئی بھیڑیا اس کو کوئی ایک بھیڑیا اس کو کھا جائے گا
سمجھ میں آیا بھئی اور اسی طرح میں نے بتایا کبھی کبھار الف لام کو کس لیے لایا جاتا ہے لفظ کو مزین کرنے کے لیے بھی اس کو ذکر کیا جاتا ہے
جیسے الزبیر العلی وغیرہ وغیرہ تو علم علم جو نام ہوتے ہیں ان پر جو الف لام داخل ہو جائے یہ کون سا ہے
صرف تزئین لفظ کے لیے ہے مولانا لفظ کو مزین کرنے کے لیے کیونکہ یہ الف لام حرفی ہے یہ اسم فاعل پر تو نہیں داخل ہو رہا اسم مفعول پر تو داخل تو پھر یہ الف لام حرفی ہوا اور الف لام حرفی تو کس لیے آتا ہے کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے اور یہ تو نام ہے علی تو اس کا نام ہے مولانا زبیر تو نام ہے اور نام کیا ہوتا ہے وہ تو
معارفہ ہی ہے تو یہاں پر جو الف لام آیا وہ کون سا ہوگا صرف تزئین لفظ کے لیے ہوگا مولانا سمجھ میں آیا بھئی چلیے ہذا واللہ اعلم بحقیقت الكلام