Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱۷ علم المعانی هو علم يعرف به احوال اللفظ العربي التي بها يطابق مقتضى الحال، فتختلف صور الكلام لاختلاف الاحوال. مثال ذلك قوله تعالى: "وانا لا ندري اشر اريد بمن في الارض ام اراد بهم ربهم رشدا". اج ہم علم معانی شروع کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے علم معانی کی تعریف اپ کو بتلا رہے ہیں۔ هو علم يعرف به احوال اللفظ وہ ایسا علم ہے کہ جانا جاتا ہے اس کے ذریعے لفظ عربی کے احوال کو۔ وہ ایسا علم ہے۔ بھئی دیکھیے، علم نکرہ ایا اور نکرہ کے بعد يعرف فعل ایا اور نکرہ کے بعد فعل ائے تو وہ اپس میں کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت۔ اور ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے کیا لے آتے ہیں؟ "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ۔ تو کہتے ہیں: هو علم يعرف، وہ ایسا علم ہے کہ جانا جاتا ہے به، یہ ضمیر علم کو راجع ہے، اس کے ذریعہ۔ وہ ایسا علم ہے کہ اس کے ذریعہ جانا جاتا ہے۔ کس چیز کو جانا جاتا ہے؟ احوال اللفظ العربي، لفظ عربی کے احوال کو۔ التي بها يطابق مقتضى الحال۔ بھئی دیکھیے، لفظ عربی کے بہت سے احوال ہیں۔ مثلاً اپ صرف میں پڑھتے ہیں کہ دو حرف ایک جنس کے آئیں تو ان کا اپس میں ادغام کیا جاتا ہے۔ چنانچہ "مد" اصل میں کیا تھا؟ "مدد"۔ دو دال آئے ایک جنس کے، ان کا اپس میں ادغام کیا گیا تو "مد" ہوا۔ اسی طرح تعلیل ہوتی ہے۔ اپ کو بتاتے ہیں "قال" اصل میں "قول" تھا۔ اور قانون ہے واؤ یا یا متحرک ہو اور ماقبل فتحہ ہو تو اس کو الف سے بدلتے ہیں تو "قال" ہوا- تو یہ ادغام، تعلیل وغیرہ، یہ کیا ہیں؟ یہ بھی لفظ عربی کے احوال ہیں۔ لیکن ان کی بحث یہاں نہیں ہوگی، اس کی بحث علم صرف میں ہوتی ہے۔ اسی طرح لفظ عربی کا ایک حال یہ بھی ہے کہ کبھی اس کے آخر میں رفع آتا ہے، کبھی نصب آتا ہے، کبھی جر آتا ہے۔ ضرب زيد، زید پر کیا آیا؟ رفع۔ ضربت زيدا، زید پر کیا آیا؟ نصب آیا۔ مررت بزيد، زید پر کیا آیا؟ جر آیا۔ تو رفع، نصب، جر، یہ بھی لفظ عربی کے احوال ہیں۔ لیکن ان سے بھی یہاں بحث نہیں کی جائے گی، بلکہ اس کی بحث اپ علم نحو میں پڑھتے ہیں۔ اسی طرح علم بدیع بھئی، اس کے اندر کچھ محسنات ذکر ہوتے ہیں، کچھ چیزیں جن سے کلام میں مزید حسن پیدا ہوتا ہے۔ کیا پیدا ہوتا ہے؟ مزید حسن پیدا ہوتا ہے۔ اور اسی طرح یہ بھی لفظ عربی کے احوال میں سے ہے کہ وہ کس طرح مقتضائے حال کے مطابق ہوگا؟ تو لفظ عربی کے بہت سے احوال ہیں، جیسے میں نے ذکر کر دیا مثلاً ادغام، تعلیل وغیرہ، یہ بھی لفظ عربی کے احوال میں سے۔ رفع، نصب یا جر آئے گا، یہ بھی لفظ عربی کے احوال ہیں۔ کس طرح مقتضائے حال کے مطابق ہوگا، یہ بھی لفظ عربی کے احوال ہیں۔ اور مزید حسن کلام میں کیسے پیدا ہوگا اور مختلف صنعتیں جن سے کلام میں مزید حسن پیدا ہوتا ہے، یہ بھی لفظ عربی کے احوال بھئی۔ تو اس طرح لفظ عربی کے بہت سے احوال ہیں لیکن یہاں اپ کو بتائیں گے باقی احوال سے یہاں بحث نہیں کریں گے، صرف ان احوال سے بحث کریں گے جن کے ذریعے لفظ عربی مقتضائے حال کے مطابق ہوتا ہے۔ لفظ عربی کس کے مطابق ہوتا ہے؟ مقتضائے حال کے مطابق ہوتا ہے۔ دیکھیے، یہی بتلا رہے ہیں۔ هو علم يعرف به احوال اللفظ العربي وہ ایسا علم ہے کہ جانا جاتا ہے اس کے ذریعے لفظ عربی کے احوال کو۔ التي، وہ احوال بها، یہ ضمیر راجع ہے احوال کو، کہ ان احوال کی وجہ سے يطابق، مطابق ہو جاتا ہے، ضمیر اس کی راجع لفظ کو، وہ لفظ جو ہے کیا ہے؟ مطابق ہو جاتا ہے مقتضى الحال، کس کے؟ مقتضائے حال کے۔ تو يطابق، مطابق ہوتا ہے۔ کون مطابق ہوتا ہے؟ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ اللفظ، پیچھے لفظ جو پیچھے آیا بھئی۔ تو یہ ضمیر اس کو لوٹ رہی ہے۔ تو معلوم ہوا، علم معانی وہ ایسا علم ہے جس کے ذریعے لفظ عربی کے ان احوال کو جانا جاتا ہے جن کے ذریعے وہ لفظ مقتضائے حال کے مطابق ہو جاتا ہے۔ وہ لفظ کیا ہے؟ مقتضائے حال کے مطابق، تو اس میں وہ احوال ذکر ہوں گے اور احوال ذکر نہیں ہوں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، میرے سامنے منکر ہے، منکر، تو اس کے سامنے مجھے کلام کس قسم کا ذکر کرنا چاہیے؟ تاکید والا۔ اگر میرے سامنے خالی ذہن ہے تو مجھے کس قسم کا کلام کرنا چاہیے؟ بغیر تاکید کے۔ اگر میرے سامنے متردد ہے تو پھر مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ تاکید لانا مستحسن ہے، پسندیدہ ہے۔ اگر میرے سامنے ذہین ہے تو مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ مختصر کلام کرنا چاہیے۔ اور اگر میرے سامنے کمزور ذہن والا ہے تو مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ لمبا کلام کرنا چاہیے۔ اگر میں کسی کی مدح کر رہا ہوں، تعریف کر رہا ہوں تو مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ لمبا کلام۔ تو یہ لفظ عربی کے وہ احوال ہیں جن سے لفظ مقتضائے حال کے مطابق ہو جاتا ہے۔ ان کے بارے میں بحث ہوگی یہاں پر۔ یہاں پر اپ کو وہ چیزیں بتائیں گے جن سے وہ لفظ کیا ہوگا؟ مقتضائے حال کے مطابق ہو جائے گا کہ کس موقع پر کس قسم کا کلام اپ کو کرنا چاہیے، یہ اپ کو بتائیں گے بھئی۔ یہ لفظ ان موقعوں پر استعمال ہوتا ہے، اپ کو بتاتے جائیں گے بھئی۔ یہ لفظ ان ان موقعوں پر استعمال ہوتا ہے، یہ لفظ ان ان موقعوں پر استعمال ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: علم المعانی هو علم يعرف به احوال اللفظ العربي التي بها يطابق مقتضى الحال علم معانی وہ ایسا علم ہے کہ اس کے ذریعے جانا جاتا ہے لفظ عربی کے ان احوال کو کہ جن کے ذریعے وہ لفظ مطابق ہو جاتا ہے مقتضائے حال کے۔ فتختلف صور الكلام لاختلاف الاحوال پس مختلف ہوتی ہیں، صور جمع ہے صورت کی، پس مختلف ہو جاتی ہیں کلام کی صورتیں لاختلاف الاحوال احوال کے اختلاف کی وجہ سے۔ پس مختلف ہوتی ہیں کلام کی صورتیں احوال کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ بھئی مقتضائے احوال جب مختلف ہیں تو ان کا مقتضا بھی الگ الگ ہوگا اور ہر مقتضا کے مطابق کلام لائیں گے تو وہ کلام بھی کیا ہوگا؟ الگ الگ قسم کا ہوگا بھئی۔ تو چونکہ احوال بہت زیادہ بھئی، احوال احوال بہت زیادہ تو کلام بھی اسی کے مطابق مختلف ہوں گے ایک دوسرے سے بھئی۔ احوال چونکہ مختلف ہیں، یوں کہیں احوال بدلتے ہیں تو کلام کی صورتیں بدلتی ہیں۔ احوال بدلتے ہیں تو کلام کی، ہاں۔ تو ترجمہ کیا کیا؟ فتختلف صور الكلام بدلتی ہیں یا یوں کہیں مختلف ہوتی ہیں، ایک ہی بات ہے۔ بدلتی ہیں کلام کی صورتیں لاختلاف الاحوال احوال کے بدلنے سے بھئی۔ کلام کی صورتیں بدلتی ہیں، احوال بدلتے ہیں تو کلام کی صورتیں بھی بدلتی ہیں بھئی۔ مثال ذلك قوله تعالى اس کی مثال اللہ تعالی کا یہ قول ہے: وانا لا ندري اشر اريد بمن في الارض ام اراد بهم ربهم رشدا۔ وانا، اور ہم لا ندري، ہم نہیں جانتے اشر اريد بمن في الارض، شر، تکلیف بھئی، نقصان، اشر اريد، کیا؟ ہمزہ استفہام کے لیے ہے۔ کیا شر کا ارادہ کیا گیا ہے بمن في الارض ان کے ساتھ جو زمین میں ہیں ام اراد بهم ربهم یا ارادہ فرمایا ہے ان کے ساتھ ان کے پروردگار نے رشدا، ہدایت کا۔ یا ان کے پروردگار نے ان کے ساتھ ہدایت، بھئی، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ وانا لا ندري اشر اريد بمن في الارض ام اراد بهم ربهم رشدا، اور ہم نہیں جانتے کیا نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں یا ان کے پروردگار نے ان کے ساتھ ہدایت کا ارادہ فرمایا ہے۔ ہدایت کا ارادہ فرمایا ہے۔ اب دیکھیے یہاں پر، ذرا آیت پہ نظر رکھیں۔ درمیان میں آیت کے "ام" ا رہا ہے، "ام"۔ "ام" سے ماقبل ذرا نظر ڈالیں اور "ام" کے مابعد کلام کی صورتیں الگ الگ ہیں۔ "ام" سے ماقبل دیکھیے "اريد"، "اريد" آیا۔ اور "اريد" کون سا فعل ہے؟ فعل معروف ہے یا فعل مجہول ہے؟ یہ فعل مجہول ہے، فعل مجہول۔ یعنی اس کے فاعل کا ذکر نہیں۔ اس فعل کے فاعل کا ذکر نہیں، تو یہ ہوا یہاں پر فعل ارادہ ہوا مبنی للمجہول بھئی۔ فعل ارادہ کیا ہوا یہاں پر؟ مبنی للمجہول، یعنی اس کی بناء کی گئی ہے مجہول فاعل کے لیے، اس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا گیا بھئی۔ اور اس کے بعد "ام" کے بعد دیکھیں "اراد"، یہ فعل معروف ہے اور "ربهم" اس کے لیے فاعل ہے۔ تو "ام" کے بعد فعل معروف لایا گیا، یعنی مبنی للمعلوم لایا گیا فعل ارادہ "ام" کے بعد۔ تو "ام" سے پہلے ہوا فعل ارادہ مبنی للمجہول اور "ام" کے بعد ہوا فعل ارادہ مبنی للمعلوم۔ یعنی "ام" سے پہلے ہے فعل مجہول، آسان لفظوں میں۔ "ام" سے پہلے کیا ہے؟ فعل مجہول اور "ام" کے بعد کیا ہے؟ فعل معروف ہے۔ تو یہ الگ الگ انداز اپنایا گیا بھئی۔ "ام" سے ماقبل مجہول والا انداز اپنایا گیا، "ام" کے مابعد معروف والا انداز اپنایا گیا۔ وجہ اس کی کیا ہے؟ کس چیز نے اس بات کا تقاضا کیا؟ تو یاد رکھیے، چونکہ "ام" سے پہلے شر کا ذکر ا رہا ہے، شر کا۔ اور "ام" کے بعد جو ہے ہدایت یعنی خیر کا، خیر کی بات ا رہی ہے۔ ویسے تو سب کچھ کرنے والی اللہ ہی کی ذات ہے، کسی کو نفع پہنچے، کوئی ہدایت پر آئے، یہ سب کرنے والی ذات کون سی؟ اللہ تعالی کی اور اگر کسی کو تباہ و برباد بھی کیا جاتا ہے، نقصان بھی پہنچتا ہے، یہ کس کے ارادے سے؟ اللہ تعالی کے ارادے سے۔ اگر اللہ نہ چاہیں، ساری دنیا بھی مل جائے، کسی کو ایک ذرہ نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اللہ نہ چاہیں تو ساری دنیا بھی مل جائے تو کسی کو ایک ذرہ نفع نہیں پہنچا سکتی۔ تو ہر چیز اللہ کے قدرت میں، اللہ کے اختیار میں ہے بھئی۔ کسی قوم کو دنیا کے اندر عروج نصیب فرماتے ہیں تو کسی قوم کی دنیا کے اندر تباہی و بربادی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ تو یہ سب کچھ کرنے والی اللہ تعالی کی ذات ہیں، لیکن شر کی نسبت اللہ کی طرف کرنا بے ادبی ہے بھئی۔ نقصان کی نسبت اللہ کی طرف کرنا بے ادبی ہے۔ خیر کی نسبت، اچھی چیز کی نسبت تو اللہ کی طرف کی جاتی ہے، لیکن شر کی نسبت اللہ کی طرف کرنا بے ادبی ہے بھئی، بے ادبی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بات یہ ذکر ہو رہی ہے کہ خیر جو ہے اس کی نسبت تو اللہ کی طرف کی جاتی ہے اور کسی کو نقصان دینا ہے، کسی کو تباہ و برباد کرنا ہے، یہ سب اللہ ہی کے ارادے سے ہوتا ہے، لیکن اس نقصان کی نسبت اللہ کی طرف کرنا بے ادبی ہے۔ تو چونکہ آیت کے اندر ماقبل کے اندر شر اور نقصان کا ذکر تھا، اس لیے وہاں پر فعل مجہول لایا گیا۔ اگر فعل معروف لایا جاتا تو پھر کیا؟ اراد، اراد۔ الشر اراد، شر کا ارادہ کیا، کس نے کیا؟ فاعل کا بھی ذکر کرنا پڑتا۔ کیا کرنا پڑتا؟ اور کس نے نقصان کا ارادہ کیا؟ ربهم، ان کے پروردگار۔ تو اس صورت میں شر کی نسبت، نقصان کی نسبت کس کی طرف ہو جاتی؟ اللہ۔ اگرچہ کرنے والے تو اللہ ہی ہیں، لیکن یہ نسبت کرنا اللہ کی طرف یہ بے ادبی کی بات ہے۔ تو اس وجہ سے ماقبل میں فعل مجہول کو ذکر کیا گیا اور فعل مجہول وہ فعل ہوتا ہے جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ تو اب دیکھیے، ترجمہ ہو گیا: اشر اريد بمن في الارض، کیا شر کا ارادہ، نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے ان لوگوں کے ساتھ جو زمین؟ کس نے کیا، یہ ذکر ہی نہیں، کیونکہ فعل مجہول میں فاعل کا ذکر ہی نہیں کیا جاتا بھئی۔ تو یہاں چونکہ شر کی نسبت تھی ماقبل میں، اس لیے فعل مجہول لایا گیا تاکہ اللہ کی طرف نسبت کرنا لازم نہ آئے بھئی۔ لفظوں کے اندر اللہ کی طرف نسبت نہ، نسبت کرنا لازم نہ آئے، اگرچہ میں نے بتایا کرنے والی سب کچھ اللہ ہی کی ذات ہے۔ اور اس کے بعد آگے چونکہ "ام" کے مابعد رشد، ہدایت اور راہ راست پر لانے کا ذکر تھا تو اس لیے وہاں پر فعل معروف کو لایا گیا اور فعل معروف کے لیے تو فاعل چاہیے ہوتا ہے، تو آگے "ربهم" فاعل کو ذکر کیا گیا کہ کس نے ارادہ کیا ہے ہدایت کا؟ ان کے، یا ان کے ارادہ کیا ہے ان کے ساتھ ان کے رب نے، ان کے پروردگار نے ہدایت کا بھئی۔ تو ماقبل کا مقتضا اور تھا، مابعد کا مقتضا اور تھا۔ ماقبل میں شر کی نسبت تھی، اس کا مقتضا یہ تھا کہ فاعل کو ذکر نہ کیا جائے اور مابعد کے اندر خیر کی نسبت تھی تو وہاں پر مقتضا کیا تھا کہ نسبت فاعل کی طرف کی جائے بھئی، اللہ کی طرف کی جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو دیکھیے، مقتضا بدلا تو کلام کی صورت بدل گئی بھئی، کلام کی صورت بدل گئی بھئی۔ اب دیکھیے بھئی، فان ماقبل ام صورة من الكلام تخالف صورة ما بعدها پس "ام" سے ماقبل جو ہے، صورة من الكلام کلام کی صورت ہے تخالف صورة ما بعدها جو مخالف ہے اس کے مابعد کی صورت کے۔ فان ماقبل ام پس بے شک "ام" سے پہلے، "ام" سے ماقبل صورة من الكلام کلام کی ایسی صورت ہے، دیکھو آگے تخالف ا رہا ہے، یہ صورت کی صفت ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ صفت۔ فان ماقبل ام پس بے شک "ام" سے پہلے کلام کی ایسی صورت ہے تخالف صورة ما بعدها جو مخالف ہے "ام" کے مابعد کی صورت کے۔ ما بعدها، "ہا" ضمیر کس کو راجع؟ "ام" کو۔ اور "ام" کیا ہے؟ حرف اور حروف عربی میں عموماً مؤنث استعمال ہوتے ہیں تو مؤنث ضمیر اس کو لوٹائی۔ ما بعدها، یعنی ما بعد ام۔ اور "ام" کے مابعد کی صورت وہ مخالف ہے "ام" کے ماقبل کی صورت کے۔ لان الاولى فيها فعل الارادة مبني للمجهول اس لیے کیونکہ پہلی صورت جو ہے اس میں فعل ارادے کا جو فعل ہے وہ مبنی للمجہول ہے، یعنی اس کی بناء مجہول کے لیے ہوئی ہے، یعنی فعل مجہول ہے۔ والثانية فيها والثانية منصوب پڑھنا بھئی، اس کا عطف الاولى پر ہے اور الاولى پر ان داخل ہوا تھا، ان کیا کرتا ہے اپنے اسم کو؟ نصب دیتا ہے، تو اس لیے الثانية منصوب ہوگا۔ اور دوسری صورت جو ہے اس میں فعل ارادہ کس قسم کا ہے؟ مبنی للمعلوم ہے، یعنی فعل معروف ہے۔ اب یہ کس وجہ سے ہے، وہ بیان کرنے لگے ہیں کہ حال چونکہ ان کا الگ الگ ہے۔ والحال الداعي لذلك، بھئی حال کیا ہوتا ہے؟ وہ تقاضا کرنے والا ہوتا ہے، حال کیا ہوتا ہے؟ تقاضا کرنے والا۔ اور جس چیز کا تقاضا کرے، اس کو کیا کہتے تھے؟ مقتضائے حال، مقتضائے حال۔ تو تقاضا کون کرتا تھا؟ حال۔ یعنی دعوت کون دیتا تھا اس چیز کی؟ حال دعوت دیتا تھا، یعنی تقاضا کرتا تھا۔ یہ بات بیان کر رہے ہیں: وَالْحَالُ الدَّاعِي لِذَلِكَ، اور وہ حال جو دعوت دینے والا ہے اس بات کی طرف، کس بات کی طرف؟ کہ ’أم‘ سے ماقبل فعلِ مجہول ہونا چاہیے اور ’أم‘ کے مابعد فعلِ معروف۔ وہ حال جو ہے، تو وہ حال جو دعوت دینے والا ہے اس بات کی طرف، وہ نِسْبَةُ الْخَيْرِ إِلَيْهِ سُبْحَانَهُ فِي الثَّانِيَةِ، وہ خیر کی نسبت ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف دوسری صورت میں۔ وَمَنْعُ نِسْبَةِ الشَّرِّ إِلَيْهِ فِي الْأُولَى، اور شر کی نسبت کو منع کرنا ہے پہلی صورت میں کہ شر کی نسبت نہ ہو جائے اللہ کی طرف، بھئی۔ سب کو پوری بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ اس آیت کا شانِ نزول اور واقعہ یاد رکھیے، یہ بعض جنات نے کہا تھا۔ کس نے کہا تھا؟ بعض جنات نے، بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے، آپ کو نبوت ملنے اور آپ کو بھیجنے سے پہلے شیاطین اور جنات نے آسمانوں میں ٹھکانے بنا رکھے تھے، وہ نیچے سے اوپر جاتے، وہاں جگہیں بنائی ہوئی تھیں، وہاں بیٹھ جاتے اور اوپر فرشتوں کی باتیں سنا کرتے تھے چھپ کر، بھئی، فرشتوں کی باتیں! اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا تو وہ فرشتے اس کو آپس میں اس کے بارے میں باتیں کرتے کہ اللہ کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا ہے، اس حکم کو نافذ کرنا ہے۔ بھئی، جیسے دنیا کے اندر ایک حکومت ہوتی ہے اور حکومت کی طرف سے، بادشاہ کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری ہوتا ہے اور پھر وہ محکموں کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور پھر وہ متعلقہ محکمے کیا کرتے ہیں اس حکم کو پورے ملک میں نافذ کر دیتے ہیں، اس پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی ایک عظیم الشان حکومت اور سلطنت بنائی ہوئی ہے جس کے اندر فرشتے ہیں جو اللہ کے بتلائے ہوئے احکام کے مطابق عمل درآمد کرتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے احکامات دیے جاتے ہیں کہ دنیا میں اس اس طرح کر دیا جائے، اگلے ایک ہزار سال تک، ہزار سال تک کے احکامات فرشتوں کو دے دیے جاتے ہیں کہ مثلاً فلاں قوم جو ہے دنیا کے اندر، وہ اس وقت عروج پر ہے لیکن اس کو تباہ کر دو، ختم کر دو۔ دوسری قوم کے بارے میں بڑی مظلوم ہوتی ہے، اللہ کی طرف سے کسی وجہ سے حکم آ جاتا ہے، حکمتیں تو اللہ ہی خوب جانتے ہیں، اللہ کی طرف سے ان کے بارے میں حکم آ جاتا ہے: ان کو عروج دینا ہے دنیا کے اندر، ان کو بادشاہی دینی ہے، ان کو حکومت دینی ہے وغیرہ۔ تو جو جو جس... یہ ویسے بطورِ مثال کے میں نے ذکر کیا، جو جو جس جس قسم کے بھی حکم اور فیصلے ہوتے ہیں اگلے ایک ہزار سال میں جو کچھ دنیا کے اندر اللہ کو مقصود ہوتا ہے، وہ فیصلے فرشتوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں، بھئی۔ وہ فیصلے فرشتوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔ اگرچہ اللہ اس نظام کے محتاج نہیں لیکن ایک سلطنت کی طرح ایک عظیم الشان نظام اللہ نے بنا رکھا ہے، بھئی، اپنی عظمت دکھلانے کے لیے کہ میری عظیم بادشاہی ہے، عظیم حکومت ہے، اگرچہ اللہ ان چیزوں کے محتاج نہیں۔ تو اس عظیم نظام کے تحت جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا، فرشتوں کے حوالے حکم کر دیا جاتا کہ یہ یہ چیزیں دنیا کے اندر نافذ کر دو، اس طرح کر دو دنیا کے اندر، وہ فرشتے پھر آپس میں آسمان پر باتیں کرتے آپس میں کہ اللہ کی طرف سے فلاں حکم نازل ہوا ہے یا فلاں حکم نازل ہوا ہے۔ وہ شیاطین اور جنات چھپ کر بیٹھے ہوتے، وہ ان فرشتوں کی باتیں سن لیتے اور پھر وہاں سے نیچے آتے اور نیچے جو جادوگر اور کاہن وغیرہ جو اس طرح کے لوگ ہوتے تھے، وہ جنات وہ جو بات سنی ہوتی، اس میں بہت سا جھوٹ ملا کر اپنی طرف سے بھی باتیں بنا کر وہ ان کو بتا دیتے، اب وہ جو کاہن اور جادوگر ہوتے تھے، وہ پھر لوگوں کو وہ باتیں اس میں مزید اپنی طرف سے جھوٹ اور چیزیں ملا کر لوگوں کو سناتے، اب بہت سی باتیں تو جھوٹی ہوتیں لیکن وہ ایک آدھی بات جو فرشتوں سے سنی ہوتی، وہ سچی وہ بھی تو انہی میں ہوتی تھی، چنانچہ جب وہ اس جیسا واقعہ دنیا میں پیش آ جاتا تو وہ کاہن اور جادوگر اور لوگوں پر رعب جماتے کہ دیکھا، میں نے کہا نہیں تھا کہ ایسا ہونے والا ہے اور ایسا ہی ہوا؟ تو لوگ ان کے اور معتقد ہو جاتے، بھئی! تو یہ شیاطین اور جنات اس طرح باتیں سن کر نیچے آتے تھے، بھئی۔ لیکن جب خاتم النبیین، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا زمانہ قریب آیا، قرآن کے نزول شروع ہونے والا تھا تو اس وقت جو ہے اللہ کی طرف سے سخت احکامات آ گئے، آسمانوں پر پہرے بڑھا دیے گئے اور جنات کی آمد و رفت کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔ آسمانوں پر شدید پہرے بٹھا دیے گئے، جنات کی آمد و رفت کا سلسلہ روک دیا گیا۔ اب کوئی جنات اور شیاطین اوپر جا کر وہاں باتیں سننے کی کوشش کرتے تو فرشتے ان کو مار بھگاتے، وہاں ان کو بیٹھنے کا موقع، باتیں سننے کا موقع ہی نہ ملتا اور اگر کوئی ایک آدھ ان میں سے چھپ کر کوئی بات سننے میں کامیاب ہو بھی جاتا اور سن کر نکلنے لگتا تو ایک آگ کا گولا اس کے پیچھے لپکتا اور اس کو جلا کر راکھ کر دیتا تھا، بھئی۔ تو چونکہ یہ خاتم النبیین کا زمانہ تھا، ان کی بعثت کا زمانہ تھا تو آسمانوں پر بڑی سختی کر دی گئی کہ اب جنات اور شیاطین یہاں سے باتیں نہ لے جا سکیں، بھئی، باتیں! تو شیاطین نے جب یہ معاملہ دیکھا تو بڑے پریشان ہوئے کہ یہ کیا ہوا ہے؟ کس وجہ سے کوئی کیا معاملہ پیش آیا کہ آسمانوں پر ہمارے جانے کو روک دیا گیا، بند کر دیا گیا؟ تو انہوں نے کہا: کوئی بات تو بڑی بات ضرور ہوئی ہے، ذرا پتہ کرتے ہیں۔ کہتے ہیں شیاطین اور جنات کی بہت بڑی میٹنگ ہوئی، بھئی، اور وہ شیاطین اس میں اکٹھے ہوئے کہ کیا ماجرا ہوا، اب ہمارا آسمانوں پر جانا کیوں بند کر دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ضرور کوئی خاص واقعہ پیش آیا ہے، چنانچہ بڑی بہت سی جماعتیں جنات کی بنا دی گئیں کہ جاؤ دنیا کے اندر پھیل جاؤ، ایک ایک کونے کا چکر لگاؤ، پتہ کرو یہ ہوا کیا ہے جس وجہ سے اتنی سختی ہو گئی، بھئی۔ چنانچہ جنات کی جماعتیں پوری دنیا کے اندر پھیل گئیں، اس تلاش میں ہیں، اس جستجو میں ہیں کہ یہ ہوا کیا ہے، کس وجہ سے اتنی سختی کر دی گئی، بھئی۔ ایسے ہی جنات کی ایک جماعت بطنِ نخلہ، ایک وادی ہے، وہاں سے گزر رہی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اہلٹی طائف کو دعوت دینے کے بعد واپس تشریف لا رہے تھے۔ بطنِ نخلہ وادی کے اندر فجر کا وقت ہے، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم وہ فجر کی جماعت کروا رہے ہیں، چند ایک صحابہ ہمراہ ہیں، وہ ساتھ پیچھے نماز میں مصروف ہیں۔ تو ایک جنات کی جماعت وہاں سے گزری۔ قرآن کا اعجاز دیکھو، بھئی! قرآن کی فصاحت و بلاغت دیکھو، قرآن کا لطف دیکھو، بھئی! اور پھر بالخصوص جب تلاوت ہو قرآن کی اور تلاوت کرنے والی ذات ہو سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی، تو اس میں کتنا اثر ہوگا، اس میں کتنا سوز ہوگا! حضور صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت فرما رہے ہیں فجر کی نماز میں، وہ جنات کی ایک جماعت وہاں سے گزری، پانچ یا سات یا نو جنات تھے، مختلف روایات ہیں، بھئی۔ تو وہ جنات وہاں سے گزر رہے تھے تو وہ تلاوت کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ رک گئے وہیں پر، بھئی! تھوڑی سی تلاوت سنی تو آپس میں کہنے لگے: یقیناً یہ ہے وہ چیز جس کی وجہ سے ہمارے اوپر سختی کر دی گئی ہے اور آسمانوں پر ہمارا جانا بند کر دیا گیا ہے، بھئی! تو چند آیتیں سننے سے ہی ان کو پتہ چل گیا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ وہ جنات پھر وہیں پر ایمان لے آئے، بھئی، مسلمان ہو گئے اور پھر واپس اپنی قوم میں مبلغ بن کر گئے، دعوت دینے گئے، بھئی، کہ تم بھی مسلمان ہو جاؤ، اللہ کے پیغمبر تشریف لائے ہیں اور قرآن جیسی عظیم کتاب اپنے ہمراہ لائے ہیں، بھئی۔ تو یہ ان جنات نے اس موقع پر جب قرآن کو سنا اور اس پر ایمان لے کر آئے، اس موقع پر انہوں نے چند باتیں کیں، ان باتوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نقل فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو علم نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور بتلایا کہ جنات نے قرآن سنا ہے اور انہوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں، بھئی۔ تو ان کی جو باتیں قرآن میں ذکر ہوئیں، ان میں ایک یہ جملہ بھی ہے: وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا۔ وہ جنات کہتے ہیں، بھئی، کہ ہمارے اوپر جو سختی کی گئی، ہمارا آسمانوں پر جانا بند کر دیا گیا، وَأَنَّا لَا نَدْرِي اور ہم نہیں جانتے، أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ کیا نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں، أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا یا ارادہ فرمایا ہے ان کے ساتھ ان کے پروردگار نے ہدایت کا؟ تو یہ ان کا کلام ہے ان جنات کا، بھئی، انہوں نے کہا۔ اب اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، دو معنی۔ ایک معنی تو یہ، ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم نہیں جانتے تھے، پہلے ہم نہیں جانتے تھے کہ ماجرا کیا ہے، یہ سختی کیوں بڑھائی گئی؟ کیا زمین والوں پر کوئی تباہی و بربادی آنے والی ہے، ان کے نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے لیے ان کے رب نے ہدایت کا ارادہ فرمایا ہے؟ ہمیں پتہ نہیں تھا یہ سختی کس لیے کی گئی ہے، اب ہمیں پتہ چل گیا کہ اللہ کے پیغمبر تشریف لائے ہیں، اللہ کا کلام لے کر آئے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یا تو جنات کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ ہم پہلے نہیں جانتے تھے کہ کیا نقصان، تباہی و بربادی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ہدایت، اب تو ہمیں پتہ چل گیا، پیغمبر آئے ہیں، معلوم ہوا ہدایت کا ارادہ فرمایا ہے اللہ نے، بھئی۔ اللہ سب لوگوں کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہدایت پر لانا چاہتے ہیں۔ یا تو یہ معنی، یا اس کلام کا یہ معنی کہ ہمیں یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ پیغمبر تشریف لائے ہیں، اس لیے سختیاں بڑھا دی گئیں، پہرے بڑھا دیے گئے، لیکن ہمیں پتہ نہیں، اب آگے کیا ہوگا؟ کیا زمین والوں کی تباہی کا فیصلہ ہو چکا ہے یا ان کے پروردگار نے ہدایت کا ارادہ کیا ہے؟ تباہی کے ارادے کا کیا معنی؟ معنی یہ کہ اللہ کے پیغمبر آ گئے ہیں، اللہ کا کلام لے کر آئے ہیں، اگر دنیا والے نہیں ملیں... نہیں مانیں گے تو یقیناً اللہ کا عذاب ان پر آئے گا اور ان کو تباہ و برباد کر دیا جائے گا، اور اگر یہ پیغمبر کی دعوت کو مان لیں گے تو کس پر آ جائیں گے؟ راہِ راست پر آ جائیں گے اور اللہ کی رضا ان کو حاصل ہو جائے گی۔ تو ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ کس وجہ سے ہے، اب تو ہمیں پتہ چل گیا، یہ کس وجہ سے ہے؟ یہ پہرے کیوں بڑھائے گئے؟ اس پیغمبر کی وجہ سے اور یہ جو اللہ کا کلام لے کر آئے ہیں، لیکن ہمیں نہیں پتہ، یہ پیغمبر جو آئے ہیں اور کلام لے کر آئے ہیں، اس کے ذریعے دنیا والے ہدایت پر آئیں گے یا تباہی سے دوچار ہوں گے انکار کرنے کی وجہ سے؟ یا انکار کرنے کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہوں گے، یہ ہمیں نہیں پتہ، بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو ایک صورت میں گویا اس جملے کا تعلق ماضی کے ساتھ ہے اور دوسری صورت میں جملے کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہے۔ کس کے ساتھ ہے؟ بھئی، جنات نے کلام کیا، دو احتمال، ہو سکتا ہے انہوں نے یہ بات ماضی کے حوالے سے کی ہو کہ ابھی تک تو ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اتنی سختیاں کیوں کر دی گئی ہیں زمین والوں کے ساتھ، کوئی نقصان ان کو دینے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کو ان کا پروردگار ہدایت دینا چاہتا ہے؟ ہمیں ابھی تک پتہ نہیں تھا، اب ہمیں پتہ لگ گیا، ہم نے پیغمبر کو دیکھ لیا، ہم نے تلاوت سن لی ان کے... اللہ کے کلام کو ان کے زبان سے سن لیا، معلوم ہوا پیغمبر تشریف لائے ہیں، اللہ لوگوں کو ہدایت دینا چاہتے ہیں، ہدایت پر لانا چاہتے ہیں، تو ان کے ساتھ خیر، انعام اور فضل کا معاملہ فرمانے والے ہیں۔ پہلے تو ہمیں پتہ نہیں تھا، اب ہمیں پتہ چل گیا۔ تو کس سے تعلق ہے اس جملے کا؟ ماضی کے ساتھ، پہلے ہمیں پتہ نہیں تھا، اب ہمیں پتہ چل گیا۔ اور دوسرا احتمال یہ کہ ہو سکتا ہے یہ مستقبل کے بارے میں وہ کہہ رہے ہوں جنات، بھئی، مستقبل کے بارے میں۔ کہ سختیاں کیوں تھیں، یہ تو ہمیں پتہ چل گیا کہ یہ پیغمبر تشریف لائے ہیں، اس لیے سختیاں تھیں، لیکن اب آگے کیا ہوگا؟ کیا ان کے ساتھ زمین والوں کے ساتھ نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب ان کو ہدایت دینا چاہتا ہے؟ آگے مستقبل میں ہمیں پتہ نہیں ہے، اگر یہ... یہ پیغمبر تو آ گئے ہیں، اگر دنیا والے ان کی ان کو ان کا ان کا انکار کریں گے، ان پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کا معنی ہے دنیا والوں کے ساتھ نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے، کیونکہ جب وہ پیغمبر کی بات نہیں مانیں گے، ان پر ایمان نہیں لائیں گے تو یقیناً غضبِ الٰہی کا شکار ہوں گے اور تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ اور اگر یہ پیغمبر کی بات مان لیتے ہیں اور ان پر ایمان لے آتے ہیں تو اس صورت میں پھر یقیناً یہ لوگ کامیاب و کامران ہوں گے اور اللہ کے مزید فضل و انعام کے مستحق بن جائیں گے، بھئی۔ تو اس صورت میں اس کا تعلق کس سے ہے؟ مستقبل سے ہے، کہ مستقبل میں ابھی ہمیں پتہ نہیں کہ لوگ اس پیغمبر کی بات مانتے ہیں یا نہیں مانتے، بھئی۔ پہلی صورت میں تھا، ماضی کے ساتھ تعلق تھا ترجمے کا کہ ابھی تک ہمیں نہیں پتہ تھا، اب پتہ چل گیا کہ پیغمبر آئے ہیں، معلوم ہوا اللہ نے ہدایت کا معاملہ فرمایا ہے۔ دوسرے کے مطابق ترجمہ مستقبل والا ہے کہ ہمیں یہ تو پتہ لگ گیا سختیاں اس وجہ سے تھیں کہ یہ پیغمبر تشریف لائے ہیں، لیکن آگے کیا ہونے والا ہے، یہ ابھی ہمیں پتہ نہیں، لوگ ان پر ایمان لائیں گے یا نہیں لائیں گے؟ ایمان لائیں گے تو مزید فضل و انعام کے مستحق اور اگر ایمان نہیں لاتے تو پھر تباہی سے دوچار ہوں گے، بھئی۔ معنی اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ تو یہ دو مفہوم، بھئی، اس کلام کے۔ جی، اب کتاب پر دیکھیے: وَيَنْحَصِرُ الْكَلَامُ عَلَى هَذَا الْعِلْمِ فِي ثَمَانِيَةِ أَبْوَابٍ وَخَاتِمَةٍ، اور بند ہے کلام اس علم پر، یعنی اس علم میں، آٹھ ابواب اور ایک خاتمے پر۔ یعنی اس کتاب میں مصنف کیا کریں گے؟ اس علم کے اندر آٹھ ابواب اور ایک خاتمہ ذکر فرمائیں گے، یہ علم ان آٹھ ابواب اور ایک خاتمے پر بند ہے، یعنی یہی چیزیں اس کے اندر ذکر ہیں، بھئی۔ بھئی، اچھی طرح سبق حل ہو گیا؟ [unclear] اندر واصل۔ ہاں؟ بھئی، کرنے والی اللہ ہی کی ذات ہے لیکن لفظوں میں یہ کہنا کہ اللہ نے نقصان کا ارادہ کیا ہے، یہ بے ادبی ہے۔ کرنے والے تو ہر چیز اللہ ہی کی قدرت میں ہے، بھئی، سب کچھ کرنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو سب کچھ کرنے والی ذات اللہ ہی کی ہے، اگر یوں کہا جائے: أَشَرٌّ أَرَادَ رَبُّهُمْ، ان کے پروردگار نے ان کے کیا ان کے ساتھ نقصان کا ارادہ فرمایا؟ بات پھر بھی ٹھیک ہے، غلط تو نہیں ہے بات، لیکن بے ادبی ہے، کیا ہے؟ بے، تو کرنے والی ذات تو اللہ ہی کی ہے لیکن یہ بے ادبی ہے کہ نسبت کس کی طرف کی جائے؟ اللہ، تو پسندیدہ چیزوں کی امور کی نسبت تو اللہ کی طرف کی جاتی ہے، ناپسندیدہ امور کی طرف کی نسبت اللہ کی طرف کرنا بے ادبی ہے، بھئی، بے ادبی ہے۔ تو دیکھو، جنات بھی کتنے باادب تھے، بھئی! شر کی نسبت شر کی نقصان کی بات آئی تو اللہ کی طرف نسبت نہیں فرمائی اور خیر کی بات آئی تو اللہ کی طرف نسبت کی انہوں نے، بھئی، نسبت کی۔ چلیے، بس، بھئی! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔