Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-016

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱۶ ‎وَبَلاغَةُ الْمُتَكَلِّمِ مَلَكَةٌ يَقْتَدِرُ بِهَا عَلَى التَّعْبِيرِ عَنِ الْمَقْصُودِ بِكَلَامٍ بَلِيغٍ فِي أَيِّ غَرَضٍ كَانَ.‎ ‎وَيُعْرَفُ التَّنَافُرُ بِالذَّوْقِ، وَمُخَالَفَةُ الْقِيَاسِ بِالصَّرْفِ، وَضَعْفُ التَّأْلِيفِ وَالتَّعْقِيدُ اللَّفْظِيُّ بِالنَّحْوِ.‎ گزشتہ سبق میں بلاغت کی بحث چل رہی تھی۔ آپ نے پڑھا عربی زبان میں بلاغت کا معنی پہنچنے کے ہوتا ہے بھئی، پہنچنے کے۔ اور اصطلاح کے اندر بلاغت اس کو کہتے ہیں کہ کلام جو ہے وہ مقتضائے حال کے مطابق ہو اس حال میں کہ کلام فصیح بھی ہو بھئی۔ کلام فصیح ہو اور فصاحت کے ساتھ ساتھ وہ مقتضائے حال کے مطابق بھی ہو، تو یہ ہے کلامِ بلیغ۔ یعنی موقع و محل جس قسم کے کلام کا تقاضا کرتا ہے، آپ بھی ویسا ہی کلام لے آئے تو آپ کا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہوا اور اس میں شرط تھی کلام فصیح ہونا چاہیے، تو آپ کا کلام موقع و محل کے مطابق بھی ہوا اور اگر فصیح بھی تھا تو اب دونوں باتیں پوری ہو گئیں، تو اب آپ کے اس کلام کو کلامِ بلیغ کہیں گے بھئی، کلامِ بلیغ۔ پھر یہ بھی بیان ہوا تھا کہ ایک ہے نفسِ بلاغت، ایک ہے کمالِ بلاغت بھئی۔ نفسِ بلاغت، نفسِ مطابقت سے آئے گی اور کمالِ بلاغت، کمالِ مطابقت سے آئے گی بھئی۔ اور جتنی جتنی مطابقت بڑھتی جائے گی کلام کی مقتضائے حال کے ساتھ، تو جتنی مطابقت زیادہ ہوگی کلام کی، بلاغت کے اعتبار سے اس کا مقام اتنا ہی اونچا ہوگا بھئی، اتنا ہی اونچا۔ اور جتنی مطابقت کم ہوگی بلاغت کے اعتبار سے کلام کا رتبہ کم ہوگا بھئی۔ اور یہ بھی آپ کو میں نے بتایا کہ قرآن جو ہے فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین معیار پر ہے، اعلیٰ ترین بھئی۔ یعنی کسی موقع کے لیے کوئی بات جو کہی جا سکے کہی جا سکے، اس موقع پر قرآن نے جو جو بھی موقع تھا جو جو لفظ اور جو جو تعبیر استعمال کی اور جو طریقہ اختیار کیا، اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں بھئی۔ اس سے بہتر، بہترین طریقہ ہر چیز کے لیے ہر چیز میں۔ لہٰذا قرآن کا مقابلہ کرنا، یہ انسانی بس سے باہر ہے۔ اسی لیے قرآن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ کہا جاتا ہے، معجزہ ہے۔ معجزہ کیا معنی؟ جو سب کو عاجز کر دے۔ معاجز کر دے، تو قرآن بھی سب کو عاجز کر دینے والا ہے۔ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے قرآن میں بار بار چیلنج دیا گیا اہل مکہ اور عرب کو۔ عرب جو اپنے آپ کو فصیح و بلیغ کہتے تھے اور دوسرے سارے دنیا والوں کو عجم کہتے تھے، یعنی یہ گونگے ہیں۔ ہماری زبان اتنی فصیح و بلیغ و اعلیٰ ہے کہ ہمارے کلام کے مقابلے میں یہ لوگ کیا ہیں، گویا گونگے ہیں، ان کا کلام لا کلام ہے، اس کا تو کوئی درجہ ہی نہیں ہے۔ لیکن جب قرآن آیا، بار بار چیلنج ہوا، لیکن وہ کبھی بھی انہوں نے قرآن کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں کی بھئی، ہمت نہیں کی۔ عجیب بھئی عجیب! قرآن کو سنتے ہی وہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ انسان کے بس سے ہی باہر ہے، اتنا عمدہ، اتنا اعلیٰ کلام! حتیٰ کہ روایات میں آتا ہے کہ جب سورۃ الکوثر نازل ہوئی جو قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے، صرف تین آیتوں پر مشتمل ہے۔ صرف تین آیتیں، چھوٹی سی، چند چند لفظ ہیں اس میں بھئی۔ إنا أعطيناك الكوثر۔ تو یہ سورت کسی نے لکھ کر بیت اللہ کے اندر لٹکا دی بھئی، بیت اللہ کے اندر لٹکا دی۔ تو بیت اللہ کے اندر یہ سورت لکھی ہوئی لٹک رہی ہے اور کیا لکھا ہوا ہے؟ إنا أعطيناك الكوثر، فصل لربك وانحر، إن شانئك هو الأبتر۔ وہ عرب پڑھ رہے تھے اس کو، حیران ہوتے تھے، ایک نے اس کے نیچے آ کر لکھ دیا۔ ما هذا كلام البشر۔ ما هذا كلام البشر، یہ بشر، یہ انسان کا کلام ہی نہیں ہے۔ تو اندازہ لگائیے بھئی، اندازہ لگائیے۔ چھوٹی سی سورت بھئی! وہ خود اعتراف کر رہے ہیں، انسانی بس سے ہی باہر ہے بھئی۔ تو دیکھو سب کے آخر میں "را" آ رہی تھی بھئی۔ لکھنے والے نے بھی اسی انداز کا کلام ذکر کیا۔ ما هذا كلام البشر۔ یہ انسانی کلام نہیں ہے بھئی۔ اور قرآن کی اتنی لذت! روایات میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیت اللہ کے پاس جب عبادت میں مشغول ہوتے، سب لوگ جب سو جاتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں عبادت میں مشغول ہوتے اور قرآن کی تلاوت فرماتے تھے، جتنا حصہ قرآن کا نازل ہو چکا، اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ تو جو بڑے بڑے مشرکین تھے، کے سردار تھے، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن تھے، حتیٰ کہ ابو جہل تک کے بارے میں آتا ہے، وہ چھپ کر آتے تھے اور اس قرآن کو سنا کرتے تھے بھئی، قرآن کو سنا کرتے تھے۔ اور کیسے اس کلام میں لذت نہ ہو، جبکہ یہ خالقِ ارض و سما کا کلام ہے اور پھر اس کو پڑھنے والی زبان سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ تو وہ بھی آ کر سنتے تھے، ان کو بھی پتہ تھا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے۔ انسانی بس سے ہی باہر ہے کہ اتنا حسین و جمیل کلام بنائے بھئی، اتنا حسین و جمیل۔ لیکن بس ضد پر اڑے ہوئے تھے، ضد تھی۔ یہ ضد انسان کو، یہ تعصب انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ وہ حق کو جانتا بھی ہے لیکن ضد میں آ کر حق کی طرف آتا ہی نہیں ہے۔ تو یہ نہیں کہ وہ مشرکین جانتے نہیں تھے بھئی، وہ بھی جانتے تھے۔ سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے تھا، لیکن ضد تھی، ہٹ دھرمی تھی۔ ابو جہل سخت ترین دشمن ہے لیکن راتوں کو قرآن سننے کے لیے آتا ہے بھئی۔ تو صرف ضد کی وجہ سے، تعصب کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لاتے تھے بھئی۔ تو بلاغتِ کلام کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلام مقتضائے حال کے مطابق ہو اور کلام کیا ہو؟ شرط ہے کہ وہ فصیح بھی ہونا چاہیے۔ آج ہم بلاغتِ متکلم کے بارے میں پڑھیں گے۔ وبلاغة المتکلم ملکة یقتدر بها علی التعبر عن المقصود بکلام بلیغ فی أی غرض کان۔ اور بلاغت فی المتکلم جو ہے، ملکة وہ ایسا ملکہ ہے۔ ایسا پختہ وصف ہے۔ میں نے بتایا تھا انسان کو جو ابتداءً وصف حاصل ہو، وہ حال کے درجے میں ہوتا ہے، آتا ہے، وصف حاصل ہوا اور گزر جاتا ہے۔ لیکن اسی وصف میں اگر وہ محنت کرے تو یہ وصف اس کے ساتھ پختہ ہو جاتا ہے۔ تو اب یہ کیا کہلائے گا؟ ملکہ کہلائے گا۔ آسان لفظوں میں میں نے بتلایا تھا ملکہ کہتے ہیں صلاحیت اور مہارت کو بھئی، صلاحیت اور مہارت۔ ایک کام آپ سیکھ رہے ہیں، تھوڑا سا سیکھیں گے اور چھوڑ دیں گے تو بھول جائیں گے۔ لیکن اگر آپ اس پر محنت کرتے رہتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ آپ میں اس کام کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، آپ کو پوری مہارت ہو جاتی ہے اس کام کی، اب آپ چھوڑ بھی دیں، اب یہ صلاحیت آپ سے جدا نہیں ہوتی، مہارت آپ کے پاس ہی ہے بھئی۔ تو یہ ہے ملکہ بھئی، ملکہ۔ تو بتلایا یہ بلاغت فی المتکلم یہ ملکے کا نام ہے۔ ایک دفعہ، دو دفعہ، دس دفعہ کوئی بلیغ کلام کر لے جو مقتضائے حال کے مطابق ہے، تو اس کو رجلِ بلیغ نہیں کہیں گے، بلکہ جب تک اس میں پختہ صلاحیت نہ ہو کہ وہ اپنے ہر کلام کو کس کے ساتھ ادا کر سکے؟ کس صورت میں؟ کلامِ بلیغ کی صورت میں ادا نہ کر سکے، اس کو رجلِ بلیغ نہیں کہیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وبلاغة المتکلم ملکة، ملکہ نکرہ آیا اور اس کے بعد یقتدر فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کریں تو کیسے کرتے ہیں؟ ہاں، موصوف سے پہلے "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں بلاغت فی المتکلم جو ہے ایسا ملکہ ہے یقتدر بها کہ قادر ہوتا ہے بها، أي بسببها، اس ملکے کی وجہ سے، اس کی وجہ سے قادر ہوتا ہے وہ متکلم علی التعبر عن المقصود کہ وہ اپنے مقصود سے تعبیر کر سکے یعنی اس کو ادا کر سکے بکلام بلیغ، کس کے ساتھ؟ کلامِ کہ وہ اپنے مقصود کو تعبیر کر سکے کلامِ بلیغ کے ساتھ اس ملکے کے ذریعے، فی أی غرض کان، جس غرض میں بھی ہو۔ ایک مخصوص قسم کا کلام نہیں، بلکہ اپنی ہر غرض، ہر قسم کا معنی، چاہے وہ کسی کی تعریف کرنا چاہتا ہے، چاہے کسی کی مذمت کرنا چاہتا ہے، چاہے کسی کو حکم دینا چاہتا ہے، چاہے کسی کو روکنا چاہتا ہے، جو جس قسم کا بھی کلام ہو، وہ اس کو کیا کر سکے؟ کلامِ بلیغ کے ساتھ اس کو ادا کر سکے اس غرض کو، تو اس آدمی کو متکلمِ بلیغ کہیں گے، رجلِ بلیغ کہیں گے، شاعرِ بلیغ کہیں گے بھئی۔ تو شاعرِ بلیغ جو بلیغ کلام کے ساتھ ہر قسم کے شعر کہہ سکے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ایک دو دفعہ کی بات نہیں اور یہ ملکے کا نام ہے، بالفعل بلیغ کلام کرنا ضروری نہیں۔ ایک آدمی میں صلاحیت ہے لیکن خاموش بیٹھا ہے، بولتا ہی نہیں، تو آپ یہ نہ کہیں اب یہ رجلِ بلیغ نہیں۔ صلاحیت تو ہے اور بس ہم نے بھی صلاحیت کی بات کی تھی کہ اس میں صلاحیت ہونی چاہیے، جب صلاحیت ہے تو اس آدمی کو کیا کہیں گے؟ رجلِ بلیغ، اگرچہ وہ زبان سے ایک لفظ نہ کہے۔ جی، تو کہتے ہیں: وبلاغة المتکلم ملکة یقتدر بها علی التعبر عن المقصود، تعبیر کا لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے، تعبیر کا کیا معنی ہے؟ ادا کرنا۔ تو بلاغت فی المتکلم ایسے ملکے کا نام ہے کہ قادر ہوتا ہے اس کی وجہ سے متکلم اپنے مقصود کو تعبیر کرنے پر بکلام بلیغ، کلامِ بلیغ کے ساتھ، فی أی غرض کان، جس غرض میں بھی ہو۔ ویعرف التنافر بالذوق وبمخالفة القیاس بالصرف، یہاں سے اب بتلا رہے ہیں کہ پیچھے ہم نے بہت سی چیزیں ذکر کر دیں، تو کس چیز کو کس علم کے ذریعے جانا جائے گا؟ اور یہ علمِ بیان اور علمِ معانی کی ضرورت کیوں پیش آئی جو آگے آنے والے ہیں؟ علمِ بیان اور علمِ معانی کی ضرورت کیوں پیش آئی، وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ اور یہ بھی بیان کریں گے کہ بلاغت سیکھنے والے کو بلاغت میں سیکھنے کے لیے کن کن علوم میں اس کو مہارت ہونی چاہیے۔ بھئی دیکھیے، پیچھے بہت سی چیزیں آئیں کہ کلامِ بلیغ کو پہچاننے کے لیے آپ کو ان سب کی پہچان ہونی چاہیے۔ کلامِ بلیغ کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلام فصیح ہو اور مقتضائے حال کے مطابق ہو۔ اچھا، کلامِ فصیح آیا لفظ، وہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں تین عیب نہ ہوں اور اس کے تمام کلمات کیا ہوں؟ فصیح، تو کلماتِ فصیح کا لفظ آ گیا۔ کلمہ فصیح کس کو کہتے ہیں؟ جس میں تین عیب نہ ہوں۔ تو دیکھو وہ شروع سے جہاں سے بات چلی تھی، وہاں تک جو جو چیزیں آئیں، ان کا، ان کو ہم دیکھیں گے۔ سب سے پہلے فصاحتِ کلمہ، فصاحتِ کلمہ کے لیے کتنے عیوب سے اس کا خالی ہونا ضروری تھا؟ تین عیب، کون کون سے؟ تنافرِ حروف، مخالفت القیاس اور غرابت، تین عیب بھئی تین، ان سے خالی ہونا ضروری۔ اچھا بھئی، ذرا ان کو ترتیب ہم دیتے ہیں، چلیے، اچھا بھئی! آپ لوگوں کے پاس میں امانت رکھوا رہا ہوں، آپ نے ابھی واپس کرنی ہے بھئی۔ آپ کے پاس تنافرِ حروف امانت رکھوا دی، ٹھیک ہے بھئی؟ دوسرا عیب کس سے خالی ہونا ضروری تھا؟ مخالفت القیاس، ہاں بھئی، آپ کے پاس مخالفت القیاس ہے، یہ امانت ہے، ابھی آپ سے واپس لیں گے۔ اگلا عیب کون سا تھا بھئی؟ غرابت، بھئی آپ کے پاس ہے بھئی، غرابت۔ یہ تو ہو گئے کلامِ، کلمہ فصیح میں۔ آگے چلیے، کیا آیا تھا؟ اگلی تعریف کلامِ فصیح آیا تھا۔ کلامِ فصیح میں اس کے سارے کلمات فصیح ہونے چاہئیں اور اس کے لیے یہ تین چیزوں کی ضرورت تھی، یہ جو ابھی میں نے امانتیں رکھوائیں۔ ہاں، باقی اور کن چیزوں سے کلامِ فصیح کا خالی ہونا ضروری تھا؟ تنافرِ کلمات، تنافرِ کلمات بھئی آپ کے پاس ہے بھئی، یہ آپ رکھیں۔ اگلا کون سا عیب تھا جس سے خالی ہونا ضروری؟ ضعفِ تالیف، وہ آپ کے پاس امانت ہے بھئی۔ اگلا عیب کون سا؟ تعقید، تعقید دو قسم کی تھی آپ نے پڑھا، کبھی تعقیدِ لفظی ہوگی، کبھی تعقیدِ معنوی ہوگی۔ تو تعقیدِ لفظی آپ کے پاس امانت ہے بھئی اور تعقیدِ معنوی آپ کے پاس امانت ہے بھئی۔ جی، اور آگے کیا پڑھا تھا اس کے بعد؟ یہ تو فصاحتِ کلام، فصاحتِ کلام، آگے فصاحتِ متکلم، اس میں کوئی چیز نئی نہیں آئی۔ آگے کیا آئی؟ بلاغت، بلاغتِ کلام، بلاغتِ کلام کس کو کہتے تھے؟ کہ کلام فصیح ہو اور مقتضائے حال کے مطابق ہو بھئی، تو یہ مقتضائے حال کے مطابق ہونا، یہ ایک نئی چیز آ گئی، یہ آپ کے پاس امانت ہے بھئی۔ جی، یہ کتنے ساتھی ہو گئے جن کے پاس امانتیں ہیں؟ نو ساتھی ہو گئے بھئی، جن کے پاس امانتیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیں گے ہم کہ کون سی چیز کا پتہ کیسے چلتا ہے۔ بھئی دیکھیں اب دیکھتے جائیے۔ آپ کے پاس کیا ہے بھئی؟ تنافرِ حروف ہے ان کے پاس، تنافرِ حروف کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ ذوق سے پتہ چلتا ہے بھئی، یہ ذوق آپ کے پاس امانت ہے بھئی۔ یہ دوسرے ساتھی کے پاس یہ ذوق میں نے امانت رکھوا دیا بھئی۔ اگلا عیب بھئی، ساتھی کے پاس کیا رکھوایا تھا؟ مخالفت القیاس، مخالفت القیاس کس کو کہتے تھے؟ کہ کلمہ صرفی قانون کے خلاف ہو، معلوم ہوا اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ علمِ صرف سے، بھئی علمِ صرف آپ کے پاس امانت ہے بھئی۔ جی، آگے بھئی! غرابت ان کے پاس تھی بھئی غرابت امانت۔ اب اس غرابت کا پتہ کس سے چلے گا؟ غرابت کہتے کس کو تھے؟ کہ لفظ کی دلالت اپنے معنی پر واضح نہ ہو، لفظ کے معنی کا پتہ ہی نہیں چل رہا، معلوم ہوا لفظ کے معنی کا انسان کو پتہ ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ پتہ ہونا چاہیے بھئی، اور اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ لفظ کے معنی کا پتہ لغت سے، آپ لغت اٹھاتے ہیں بھئی ڈکشنری عربی کی اٹھاتے ہیں، اس میں دیکھتے ہیں، تو لفظوں کے معنی کا وہاں سے پتہ چلتا ہے۔ تو غرابت کا پتہ کس سے چلے گا؟ علمِ لغت سے، بھئی لغت آپ کے پاس امانت آ گئی بھئی، علمِ لغت بھئی۔ اچھا، اگلا، آگے آپ کے پاس کون سا عیب تھا بھئی؟ تنافرِ کلمات، ایسے کلمات جمع ہو گئے جن کی وجہ سے لفظ زبان پر ثقیل ہوا، اس کا پتہ کس سے چلتا تھا؟ اس کا پتہ بھی تو ذوق سے ہی چلتا تھا، کس سے؟ اور ذوق تو میں امانت رکھوا چکا ہوں، اسی سے اس کا پتہ لگ جائے گا بھئی۔ آگے آپ کے پاس کون سا عیب، چیز تھی بھئی؟ ضعفِ تالیف، کلام کا مشہور نحوی قانون کے خلاف ہونا، کلام کا مشہور نحوی قانون کے خلاف ہونا۔ تو اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ اس کا پتہ علمِ نحو سے چلے گا، تو علمِ نحو آپ کے پاس امانت ہو گیا بھئی۔ آگے کون سا عیب تھا؟ تعقیدِ لفظی، تعقیدِ لفظی لفظوں کی وجہ سے معنی سمجھ میں نہیں آ رہا معنی مراد بھئی۔ اس کا پتہ بھی کس سے چلے گا؟ اس کا، اس کا پتہ بھی علم نحو سے چلے گا کہ آپ کیا کرتے ہیں، بہت سی چیزیں کہیں ذکر کرنا اور کہیں ذکر چاہیے تھا، وہاں آپ نے حذف کر دیا، ایک کو مقدم ہونا چاہیے تھا، آپ نے اس کو مؤخر کر دیا ہے اور اسی طرح کہیں اسم لانا چاہیے تھا، آپ ضمیر لے آئے ہیں اور کیا چیز تھی مثلاً؟ آپ موصوف صفت کو ملا ہونا چاہیے تھا، آپ نے ان میں فصل کر دیا ہے، یہ چیزیں تھیں۔ ان سب کا پتہ بھی کس سے چلتا ہے؟ علم نحو سے ہی پتہ چلتا ہے، علم نحو میں ان کے پاس امانت رکھوا چکا ہوں۔ آگے کون سی چیز ہے؟ تعقید معنوی، تعقید معنوی۔ یاد رکھیے یہ ایک چیز رہ گئی۔ دوسری آپ کے پاس کیا چیز رہ گئی؟ کلام کا مقتضائے حال کے مطابق ہونا، یہ دو چیزیں رہ گئیں۔ یہ ان کا پتہ نہ صرف سے چل رہا ہے، نہ نحو سے، نہ علم لغت سے، نہ ذوق وغیرہ کسی چیز سے پتہ نہیں چل رہا، تو ان دو کے لیے ہمیں باقاعدہ دو علوم بنانے پڑے۔ کیا کرنے پڑے؟ دو علوم۔ ایک رہ گیا تھا تعقید معنوی، یاد رکھیے اس کا بیان علم بیان میں آئے گا۔ اس کی تفصیل کہاں آئے گی؟ علم بیان کی ضرورت اس لیے مانپ پڑی، کیونکہ یہاں پر تعقید معنوی کا پتہ اس سے چلے گا اور کوئی علم نہیں جس سے تعقید معنوی کا پتہ چلے۔ اور دوسری کیا چیز تھی بھئی آپ کے پاس؟ مقتضائے حال کے مطابق ہونا، اس کا پتہ بھی ان علوم میں سے کسی علم سے نہیں چلتا، تو اس کے لیے ہمیں علم معانی کی ضرورت پڑی۔ کس کی ضرورت پڑی؟ علم معانی۔ بھئی چیزیں پوری ہو گئی ہیں یا کسی کے پاس اور بھی امانت تھی کوئی "یا" وغیرہ یا کوئی چیز؟ پوری ہو گئیں؟ دیکھا! تو علم معانی اور علم بیان کی ضرورت کیوں ہے، آپ کو وجہ سمجھ میں آ گئی کہ ایک کے ذریعے ہمیں تعقید معنوی کا پتہ چلے گا اور کسی سے پتہ ہی نہیں چل رہا، تو ایک علم اس کے لیے باقاعدہ بنانا پڑا۔ اور مقتضائے حال کے مطابق ہونا، اس کا پتہ بھی کسی اور علم سے نہیں چل رہا تھا، تو اس کے لیے کون سا علم بنانا پڑا؟ علم معانی بنانا پڑا بھئی، علم معانی بھئی۔ تو بھئی علم بیان، یہ آپ کے پاس امانت بھئی اور علم معانی، آپ کے پاس امانت بھئی۔ اب دیکھیے یہ جن جن چیزوں کی ضرورت تھی، یہ الگ میں نے طلباء کے پاس امانت کے طور پر رکھوایا، اب دیکھتے ہیں کن کن چیزوں کی ضرورت ہے بلاغت کو سمجھنے کے لیے۔ سب سے پہلے بھئی کیا رکھوایا آپ کے پاس؟ ذوق، ذوق ہونا چاہیے، صحیح ذوق ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ ذوق درست اور صحیح ذوق والا ہو انسان بھئی، اگر ذوق صحیح نہیں تو پھر کام نہیں چلے گا یہاں پر۔ بھئی آپ کے پاس کیا رکھوایا؟ علم الصرف، ذوق بھی صحیح ہو، علم صرف میں بھی مہارت ہو، علم صرف جاننے والا ہو۔ آپ کے پاس آگے کیا رکھوایا تھا؟ علم لغت، علم لغت کو بھی جاننے والا ہو، کون سا لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے، آگے بھئی؟ علم نحو، علم نحو بھی ہونا چاہیے اس کے پاس، اس سے کہ تعقید لفظی کا بھی پتہ چلے گا اور ضعف تالیف کا بھی۔ آگے بھئی، علم بیان بھی اور علم معانی، یہ ساری چیزیں بلاغت کے اندر ضروری ہیں، تمام علوم کا جاننا بھئی۔ تفصیل سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے کتاب پر: "وَ يُعْرَفُ التَّنَافُرُ بِالذَّوْقِ" اور جانا جائے گا تنافر کو ذوق سے۔ تنافر کا پتہ کس سے چلے گا؟ ذوق سے۔ اور صاحب کتاب نے تنافر حروف نہیں کہا، تنافر کلمات نہیں کہا، "التَّنَافُرُ" کہہ دیا، یعنی ہر طرح کا تنافر، چاہے وہ تنافر حروف ہے، چاہے وہ تنافر کلمات، دونوں کا پتہ ذوق سے چلے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَ يُعْرَفُ التَّنَافُرُ بِالذَّوْقِ" اور جانا جائے گا تنافر کو ذوق سے، "وَ مُخَالَفَةُ الْقِيَاسِ بِالصَّرْفِ" اور مخالفت القیاس کو علم صرف سے، "وَ ذَعْفُ التَّأْلِيفِ وَ التَّعْقِيدُ اللَّفْظِيُّ بِالنَّحْوِ" اور ضعف تالیف اور تعقید لفظی کو جانا جائے گا علم نحو سے۔ کس سے؟ علم نحو سے۔ ان سب کا عطف پیچھے وہ جو تنافر آیا تھا "يُعْرَفُ التَّنَافُرُ"، آگے آیا "وَ يُعْرَفُ ذَعْفُ التَّأْلِيفِ" جانا جائے گا ضعف تالیف اور تعقید لفظی کو بالنحو، "وَ الْغَرَابَةُ بِكَثْرَةِ الِاطِّلَاعِ عَلَى كَلَامِ الْعَرَبِ" اور غرابت کو جانا جائے گا کلام عرب پر کثرت اطلاع سے۔ انسان کثیر الاطلاع ہو، کس پر؟ کلام عرب کو خوب جاننے والا ہو، خوب مطالعہ کیا ہو کتابوں کا، کلام عرب کا، اس سب کا مطالعہ کیا ہو بھئی، کس کا؟ انہوں نے کیا ذکر کیا، غرابت کا پتہ کس سے چلے گا؟ کہ کلام عرب پر انسان کثیر الاطلاع ہو۔ جب خوب کلام عرب کا آپ نے شعر و شاعری، ان کی کلام وغیرہ ہر چیز کا خوب مطالعہ کیا ہو گا، تو آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ یہ عرب یہ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں اپنے کلام میں عام طور پر اور ان کے علاوہ جو ہیں، وہ کیا ہیں؟ ان میں غرابت ہے۔ جو ان کے نے کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔ تو معلوم ہوا وہ کلمہ کیا ہے؟ غریب ہے اس کے اندر، تو کثرت اطلاع ہونی چاہیے۔ اور میں نے کیا بتلایا تھا، غرابت کا پتہ کس سے چلے گا؟ علم لغت، بھئی علم لغت بھی آگے خود بھی یہ بیان کریں گے۔ آپ کلام عرب پر کثیر الاطلاع ہوں تو اس میں علم لغت کی ضرورت پڑے گی یا نہیں؟ آپ کو قدم قدم پر عربی سیکھنے کے لیے دیکھنا پڑے گا لغت میں کہ اس لفظ کو یہ کلام میں لا رہے ہیں اس کا کیا معنی ہے، یہ والا لفظ لا رہے ہیں اس کا کیا معنی ہے، تو وہ علم لغت کی بھی ضرورت پڑے گی اس میں بھئی۔ تو کثیر الاطلاع بنیں گے ہی تب جب آپ کو علم لغت کا پتہ ہو، ہر لفظ کے معنی کا پتہ ہو گا تو ان کے کلام کو سمجھیں گے ورنہ تو سمجھ میں ہی نہیں آئے گا۔ تو علم لغت کا بھی علم ہو آپ کو اور کثیر الاطلاع بھی ہوں، کیوں کثیر الاطلاع ہوں؟ غرابت کس کو کہتے تھے؟ ایسا لفظ کلام میں لانا جو مانوس نہیں، عرب اس کو، عربوں کو بھی اس کے معنی کا پتہ نہیں چلتا، معلوم ہوا عرب کبھی اس طرح کا لفظ استعمال کرتے ہی نہیں، کرتے ہی نہیں۔ تو جب آپ ان کے سارے کلام کا مطالعہ ہو گا تو آپ کو لفظ سامنے آتے ہی پتہ لگ جائے گا کہ عربوں نے تو کبھی یہ لفظ استعمال کیا ہی نہیں، معلوم ہوا اس میں کیا ہے؟ غرابت ہے، تو کثیر الاطلاع ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ معنی ہے "وَ الْغَرَابَةُ بِكَثْرَةِ الِاطِّلَاعِ عَلَى كَلَامِ الْعَرَبِ" اور غرابت کو جانا جائے گا کلام عرب پر کثرت اطلاع سے، "وَ التَّعْقِيدُ الْمَعْنَوِيُّ بِالْبَيَانِ" اور تعقید معنوی کو کس سے جانا جائے گا؟ علم بیان سے، "وَ الْأَحْوَالُ وَ مُقْتَضَيَاتُهَا بِالْمَعَانِي" اور احوال اور مقتضائے احوال جو ہیں، ان کو کس سے جانا جائے گا؟ علم معانی سے۔ "مُقْتَضَيَاتُهَا"، "هَا" ضمیر احوال کو راجع ہے۔ احوال اور مقتضیات احوال، مقتضیات جمع ہے مقتضیٰ مقتضیٰ کی بھئی، تو احوال اور مقتضیات احوال جو ہیں، ان کو جانا جائے گا علم معانی سے۔ "فَوَجَبَ عَلَى طَالِبِ الْبَلَاغَةِ" پس واجب ہوا علم بلاغت کے طالب پر، جو طالب علم علم بلاغت سیکھنا چاہتا ہے، اس پر واجب ہے، کیا واجب ہے؟ "مَعْرِفَةُ اللُّغَةِ" کس کا جاننا؟ علم لغت کا جاننا، یعنی کون سا لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے، "وَ الصَّرْفِ" اور علم صرف کا جاننا، "وَ النَّحْوِ" اور علم نحو کا جاننا، "وَ الْمَعَانِي" اور علم معانی کا جاننا، "وَ الْبَيَانِ" اور علم بیان کا جاننا "مَعَ كَوْنِهِ سَلِيمَ الذَّوْقِ" ساتھ اس کے سلیم الذوق ہونے کے، یعنی وہ طالب علم کیا ہونا چاہیے؟ سلیم الذوق، سلیم کا معنی درست، صحیح۔ سلیم الذوق، درست ذوق والا ہو، ذوق میں کوئی خرابی نہ ہو، ساتھ اس کے درست ذوق والا ہونے کے، "كَثِيرَ الِاطِّلَاعِ" اور کیا ہونے کے؟ کثیر الاطلاع ہو وہ "عَلَى كَلَامِ الْعَرَبِ"، کس پر؟ کلام العرب پر، تو وہ کثیر الاطلاع بھی ہونا چاہیے بھئی۔ بھئی یہ لفظ آیا: "بِكَثْرَةِ الِاطِّلَاعِ"، "وَ الْغَرَابَةُ بِكَثْرَةِ الِاطِّلَاعِ" دیکھیے کیسے پڑھیں گے؟ "بِكَثْرَةِ لِاطِّلَاعِ"، لام کے نیچے کسرہ آ جائے گا، "بِكَثْرَةِ لِاطِّلَاعِ"، لیکن عموماً پڑھتے کیسے ہیں؟ "بِكَثْرَةِ الْاِطِّلَاعِ"، حالانکہ ہمزہ وصلی گرنا چاہیے۔ اسی طرح نیچے آیا: "كَثِيرَ لِاطِّلَاعِ"، "كَثِيرَ"، را پر اسی طرح فتحہ رہے گا اور "لِاطِّلَاعِ"، "كَثِيرَ لِاطِّلَاعِ"۔ اچھا بھئی، سبق اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔