Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱۲ وقوله: سأطلب بعد الدار عنكم لتقربوا، وتسكب عيناي الدموع لتجمدا. حيث كنى بالجمود عن السرور، مع أن الجمود يكنى به عن البخل وقت البكاء. وفصاحة المتكلم ملكة يقتدر بها على التعبير عن المقصود بكلام فصيح في أي غرض كان. ہم تاکید کے بارے میں پڑھ رہے تھے اور تاکید میں نے آپ کو بتایا اسے کہتے ہیں کہ کلام کی دلالت معنی مراد پر واضح نہ ہو۔ کلام کا ایک لغوی معنی ہوتا ہے اور ایک مرادی معنی۔ لغوی معنی تو وہ ہے وہ جو ایک ایک لفظ اپنے لغوی معنی جو اس کا اس زبان کے اعتبار سے عربی زبان کے اعتبار سے اس کا جو معنی سمجھ میں آئے اور پھر پورے کلام کا جو معنی بنے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ لغوی معنی۔ اور ایک ہے مرادی معنی، جس کا اس کلام سے ارادہ کیا جائے بھئی۔ کہنے والا جو اس سے ارادہ کرے، وہ ہے مرادی معنی۔ اور میں نے بتایا کہ کبھی مرادی معنی اور لغوی معنی ایک ہی ہوگا، جیسے میں کہتا ہوں: زید بہادر آدمی ہے۔ تو یہاں لغوی معنی اور مرادی لغوی معنی کیا ہے کہ زید جو جو بات میں آپ سے کہہ رہا ہوں، سیدھی آپ کو سمجھ میں آ رہی ہے، یہ لغوی معنی۔ اور مراد بھی یہی ہے، میں کہنا بھی یہی چاہتا ہوں کہ زید بہادر آدمی ہے۔ تو یہاں لغوی اور مرادی معنی ایک ہوا اور کبھی کبھار لغوی اور مرادی معنی الگ الگ ہوتے ہیں، جیسے میں آپ سے کہتا ہوں: میں نے شیر دیکھا۔ اب یہاں لغوی معنی تو ہے جنگلی درندہ دیکھا، لیکن میں میری مراد کیا ہے اس سے؟ بہادر آدمی۔ تو میں نے بہادر آدمی دیکھا، یہ اس کا مرادی معنی ہوا۔ تو کلام سے سب سے پہلے اس کا لغوی معنی سمجھ میں آتا ہے، وہ پہلے ذہن میں آتا ہے اور پھر ذہن اس لغوی معنی سے منتقل ہوتا ہے مرادی معنی کی طرف۔ کس کی طرف؟ اور یہ خود بخود انتقال نہیں ہوگا، میں نے بتایا تھا کہ یہاں قرینے ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ قرینے۔ وہ بتلاتے ہیں کہ یہاں لغوی معنی کا ارادہ نہیں کیا گیا بلکہ دوسرے معنی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تو ان قرینوں کے ذریعے رہنمائی ہوتی ہے مرادی معنی کی طرف۔ تو اگر کلام ایسا ہے کہ کلام کو سنتے ہی فوراً ذہن لغوی معنی سے مرادی معنی کی طرف منتقل ہو جائے، تو کہیں گے کہ کلام میں تاکید نہیں ہے، اس کا مرادی معنی فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے۔ لیکن اگر کلام ایسا ہے کہ جہاں پر ذہن لغوی معنی سے مرادی معنی کی طرف فوراً منتقل نہیں ہوتا یا منتقل تو ہوتا ہے لیکن بڑی دیر سے منتقل ہوتا ہے، تو کہیں گے کہ اس کلام کے اندر تاکید ہے۔ یہ اپنے مرادی معنی پر واضح طور پر دلالت نہیں کر رہا، ورنہ اگر اس کی دلالت واضح ہوتی، تو اس کو تو سنتے ہی فوراً مرادی معنی ذہن میں آ جانا چاہیے تھا، لیکن ذہن اس کی طرف منتقل ہی نہیں ہوتا، معلوم ہوا کچھ خلل ہے یا خرابی ہے۔ اور یہ خلل اور خرابی یا تو لفظوں کے اندر ہوگی، اس ترکیب کے اندر، وہ جو لفظ جوڑے ہیں، مقدم و مؤخر کیے ہیں، ان یا ان میں فصل وغیرہ کیا ہے یا حذف کیا ہے، اس وجہ سے ہوگا تو پھر یہ تاکید کیا کہلائے گی؟ لفظی۔ اور اگر خلل لفظوں کے اندر نہ ہو، معنی کے اندر ہو تو پھر یہ کیا کہلائے گی؟ تاکید معنوی کہلائے گی۔ تو گزشتہ سبق میں ہم تاکید معنوی کے بارے میں پڑھ رہے تھے اور اس کی مثال ذکر کی تھی کہ مثال کے طور پر کوئی شخص ایسے مجازات و کنایات استعمال کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے مراد سمجھ میں نہیں آتی، تو یہ تاکید معنوی ہے۔ میں نے بتایا تھا: ایک ہے مجاز، ایک ہے کنایہ۔ مجاز کے اندر بھی لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے اور کنایہ کے اندر بھی لفظ جو ہے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ موضوع لہ اور غیر موضوع لہ معنی بھئی، یہ بھی میں نے بتلایا تھا۔ جس معنی کے لیے لفظ کو کسی زبان میں مقرر کیا گیا ہو، وہ اس کا معنی لغوی ہے۔ شیر کا لفظ اردو زبان میں جنگلی درندے کے لیے متعین ہے، تو جنگلی درندہ جو ہے، وہ جو مخصوص متعین جنگلی درندہ ہے، وہ اس کا لغوی معنی ہوا۔ لغوی معنی بھئی! اور وہ معنی موضوع لہ ہے، جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے، متعین کیا گیا ہے۔ اور اگر اس شیر کے لفظ سے میں بہادر آدمی مراد لیتا ہوں، تو بہادر آدمی کے لیے تو اس کو مقرر نہیں کیا گیا تھا، لیکن آپ اس کا ارادہ کر رہے ہیں۔ تو یہ جو ہے، معنی غیر موضوع لہ ہوا اس کا بھئی۔ شیر کا معنی کیا کریں؟ بہادر آدمی، یہ اس کا کون سا معنی ہے؟ غیر موضوع لہ۔ تو مجاز کے اندر بھی لفظ اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، کنایہ کے اندر بھی لفظ کس میں استعمال ہوتا ہے؟ معنی غیر موضوع لہ میں بھئی۔ اور کنایہ میں نے بتلایا تھا کہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ اور پھر فرق بھی دونوں میں بتلایا تھا کہ مجاز کے اندر بھی لفظ سے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ ہوتا ہے، کنائے کے اندر بھی لفظ سے غیر موضوع لہ کا ارادہ ہوتا ہے۔ پھر دونوں میں فرق کیسے کریں گے؟ کہ مجاز کے اندر معنی موضوع لہ کا ارادہ اس مقام پر ٹھیک ہوگا ہی نہیں، بنے گا ہی نہیں۔ اور کنائے کے اندر اگر اس اسی موقع پر اگر کون سے معنی کا ارادہ بنے؟ معنی موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے، تو اس صورت میں بھی کلام صحیح ہو جائے گا بھئی۔ مجاز کی مثال، جیسے: میں نے شیر کو بندوق چلاتے ہوئے دیکھا۔ اب یہاں پر شیر سے بہادر آدمی ہی کا معنی کرنا پڑے گا، اس کا اگر شیر سے وہ جنگلی درندے والا معنی کرتے ہیں، وہ بنتا ہی نہیں؛ کیونکہ جنگلی درندہ تو بندوق نہیں چلا سکتا بھئی۔ لیکن اس کے مقابلے میں کنایہ ہے، مثلاً میں نے کہا: زید لمبی حمائل والا ہے اور میری مراد کیا ہے؟ زید لمبے قد والا ہے۔ تو میں نے ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ لیکن اگر میں معنی موضوع لہ کا ارادہ کروں یہاں پر، معنی موضوع لہ کیا ہوگا؟ وہی کہ لمبی لمبی حمائل والا ہے، تو میری مراد بھی یہی ہو، میں اس کی حمائل کے بارے میں بتلا رہا ہوں کہ وہ لمبی ہے۔ تو وہ معنی بھی یہاں پر صحیح بنتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ فرق تھا مجاز اور کنائے میں بھئی اور یہ معنی یہاں پر معنی مراد سمجھ میں نہیں آئے گا بھئی؛ کیونکہ وہ قرینے خفی ہوں گے قرینے۔ اور میں نے بتایا تھا قرینہ کس کو کہتے ہیں؟ وهو أمر يشير إلى المطلوب، وہ چیز جو مطلوب کی طرف اشارہ کر دے، اسے قرینہ کہتے ہیں۔ مثلاً میں نے کہا: میں نے ایک شیر کو بندوق چلاتے ہوئے دیکھا۔ تو شیر کا لفظ بول کر اس سے میں نے کس معنی کا ارادہ کیا؟ بہادر آدمی۔ تو یہ بہادر آدمی کا جو ہے، یہ ہوا میرا مقصود اور اس مقصود کی طرف کوئی چیز اشارہ کرنے والی ہو، صرف بولنے والے کے ارادے سے کچھ نہیں ہوگا، سننے والے کو بھی تو سمجھ میں آنا چاہیے۔ اس کے لیے جو بھی چیز اس اس بات کی طرف اشارہ کر دے، اس کو بتلا دے کہ یہاں شیر کے لفظ سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، اس کو کیا کہیں گے؟ قرینہ کہیں گے۔ تو جو بھی چیز مقصود کی طرف اشارہ کر رہی ہو اور اور یہاں پر کیا لفظ یہاں پر وہ لفظ اشارہ کر رہے ہیں بندوق کا چلانا بھئی، یہ بندوق کا چلانا یہ بتلا رہا ہے کہ شیر سے بہادر آدمی مراد ہے، جنگلی درندہ مراد نہیں ہے۔ تو جو بھی چیز مقصود کی طرف اشارہ کر رہی ہو، وہ قرینہ کہلاتی ہے، قرینہ۔ اور اس کی ایک مثال انہوں نے ذکر کی بھئی کہ: نشر الملك ألسنته في المدينة، پھیلا دیں بادشاہ نے اپنی زبانیں شہر کے اندر۔ اور آپ کا اس قول کے ذریعے ارادہ کس کا ہے؟ زبان بول کر کیا مراد ہے؟ جاسوس، جاسوس۔ تو یہاں پر یہ اس کلام کے اندر تاکید ہے؛ کیونکہ زبان کا لفظ سننے سے جاسوس کے معنی کی طرف ذہن فوراً منتقل نہیں ہوتا، اس سے جاسوس سمجھ میں نہیں آتا۔ ہاں، اس کی جگہ اگر کیا ہوتا؟ آنکھیں پھیلا دیں یا کان پھیلا دیے، ہاں اس سے ذہن منتقل ہوتا ہو جاتا کس کی طرف؟ جاسوس کی طرف بھئی۔ آج ہم اس کی دوسری مثال پڑھیں گے۔ وقوله: سأطلب بعد الدار. وقولَه میں نے قول کو مجرور پڑھا بھئی؛ کیونکہ اس کا عطف ہے پیچھے جو آیا تھا: نحو قَولِك، تو یہ جو قَولِك آیا، اس پر عطف ہے۔ اور یہ قَولِك تو مجرور تھا، مضاف الیہ تھا نحو کے لیے۔ تو لہذا یہ وقولِه، یہ بھی کیا ہوگا؟ مجرور ہوگا، یہ بھی نحو کے لیے مضاف الیہ ہے بھئی۔ وقوله: اور کسی شاعر کا یہ قول بھئی: سأطلب بعد الدار عنكم لتقربوا، وتسكب عيناي الدموع لتجمدا. سأطلب، بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ فعل مضارع پر جب سین یا سوف داخل ہو جائے، تو وہ اس کو مستقبل کے معنی میں کر دے گا۔ مضارع میں دو معنی ہوتے ہیں: حال والا معنی بھی اور استقبال۔ ایک وقت میں ایک ہی معنی مراد ہوتا ہے، لیکن استعمال دونوں میں سے جس کے لیے بھی چاہیں، آپ کر سکتے ہیں۔ لیکن جب استعمال کریں گے، تو اس وقت کسی ایک معنی میں استعمال کریں گے۔ یا حال مراد ہوگا یا استقبال۔ تو معلوم ہوا مضارع سے دونوں معنی مراد لیے جا سکتے ہیں، لیکن آپ نے پڑھا جب اس پر سین یا سوف داخل ہو جائے، پھر یہ کس کے ساتھ خاص ہو جائے گا؟ مستقبل کے ساتھ خاص ہو جائے گا، مستقبل کے ساتھ۔ تو سأطلب سے یہ نہ سمجھیے کہ اب یہ سأطلب مستقبل کے ساتھ خاص ہو گیا کہ میں طلب کروں گا، مستقبل والا ترجمہ کریں، نہیں۔ یاد رکھیے، یہ سین تاکید کے لیے ہے، یہ وہ استقبال والا سین نہیں ہے، مستقبل والا سین نہیں، بلکہ یہ تاکید کے لیے ہے، تاکید پیدا کرنے کے لیے۔ اور أطلب، یہ حال ہی کے معنی میں ہے، حال ہی۔ أطلب، میں طلب کر رہا ہوں بھئی، حال والا ترجمہ کریں۔ بعد الدار، اس گھر کی دوری کو، میں طلب کر رہا ہوں اس گھر کے الدار سے کوئی خاص گھر مراد ہے، الف لام اس پر داخل ہوا، میں طلب کر رہا ہوں اس گھر کی دوری کو۔ کس گھر کی؟ یاد رکھیے، الدار، اس کے اندر یہ الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے۔ یہاں ایک مضاف الیہ موجود تھا، اس کو حذف کر دیا گیا اور اس کے عوض میں الف لام شروع میں لے آئے بھئی۔ تو یہ اصل میں تھا: داری، یا متکلم کی جو مضاف الیہ تھی، وہ آخر میں موجود تھی، میرا گھر، داری: میرا گھر۔ پھر اس یا کو حذف کر دیا گیا اور اس کے عوض شروع میں کیا لے آئے؟ الف لام لے آئے، تو کیا بن گیا؟ الدار۔ یہ بعض نحویوں کا مذہب ہے بھئی۔ جی تفصیل یاد رکھیے، علمائے نحو کے اس سلسلے میں دو مذاہب ہیں، دو مذاہب۔ دونوں گروہ یہ کہتے ہیں کہ دار بول کر داری مراد ہے یہاں پر۔ دار بول کر داری، کوئی اور گھر نہیں مراد، متکلم کا اپنا گھر مراد ہے، متکلم کا اپنا۔ لیکن کس طرح مراد ہے؟ وہ اس میں فرق کرتے ہیں۔ ایک گروہ کا قول میں نے ذکر کر دیا، ایک گروہ والے کیا کہتے ہیں؟ کہ یہ الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے، یہ اصل میں کیا تھا؟ داری، پھر یا کو حذف کر کے دار کے شروع میں کیا لے آئے؟ الف لام، تو یہ الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے۔ دوسرے گروہ والے کہتے ہیں: نہیں، الف لام کبھی مضاف الیہ کا عوض نہیں ہوتا۔ عوض نہیں، پھر وہ کس طرح بتلاتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں: یہ الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ اشارہ۔ تو الدار کا کیا معنی ہوا؟ وہ گھر، کوئی مخصوص گھر ہے، اس کی طرف اشارہ ہے الف لام کے ذریعے، الف لام کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ اشارہ۔ تو کوئی مخصوص گھر ہے اور کون سا گھر ہے؟ وہ کہتے ہیں: داری، متکلم کا اپنا گھر ہے بھئی، داری کی طرف اشارہ ہے، متکلم کے گھر کی طرف اشارہ ہے۔ تو پہلے گروہ والے بھی کہتے ہیں الدار سے داری مراد ہے۔ دوسرے گروہ والے بھی کہتے ہیں الدار سے داری مراد، ہاں تقریر الگ الگ کرتے ہیں۔ پہلے گروہ والے کیا کہتے ہیں؟ الف لام عوض ہے اس یا کی، جگہ آیا ہے۔ دوسرے گروہ والے کہتے ہیں: نہیں، یا کی جگہ نہیں آیا بلکہ الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے داری کی طرف کہ دار سے ہر دار نہیں مراد بلکہ داری مراد ہے، تو اس کی طرف اشارہ ہے بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے: سأطلب بعد الدار عنكم، میں طلب کر رہا ہوں بعد داری، کس چیز کو؟ اپنے گھر کے دور ہونے کو، عنکم: تم سے۔ اے میرے مخاطب! میں تم لوگوں سے اپنے گھر کی دوری کو طلب کر رہا ہوں کہ میرا گھر تم لوگوں سے دور ہو جائے۔ لتقربوا، تاکہ تم لوگ قریب ہو جاؤ، یعنی تم لوگ میرے قریب ہو جاؤ۔ میں اپنے گھر کی دوری کو طلب کر رہا ہوں تاکہ تم لوگ میرے قریب ہو جاؤ۔ وتسكب عينايا، سکب يسكب کے معنی ہوتے ہیں بہانا، آنسو بہانا۔ وتسکب، اور بہا رہی ہیں عينايا، یہ اصل میں کیا تھا؟ عینان، عینان، یہ فاعل ہے۔ تثنیہ کا صیغہ ہے، عین کی تثنیہ کیا آئے گی؟ عینان اور پھر اس کی اضافت ہوئی یا ضمیر کی طرف اور وہ تثنیہ کا نون آپ نے پڑھا اضافت میں گر جاتا ہے، تو کیا رہ گیا؟ عينايا، اور بہا رہی ہیں میری دو آنکھیں، یہ فاعل ہے عينايا تسکب کے لیے، بہا رہی ہیں میری دونوں آنکھیں الدموع: آنسوؤں کو۔ دموع، دمع کی جمع ہے، آنسو کو کہتے ہیں۔ اور بہا رہی ہیں میری دونوں آنکھیں آنسو لتجمدا۔ تجمدا، جمود سے ہے جمود۔ جمود، یعنی خشک ہو جانا، کسی چیز کا سوکھ جانا، خشک ہو جانا۔ اور میری دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں لتجمدا، دیکھیے آخر میں الف آیا، تثنیہ کا صیغہ ہے، تاکہ دونوں خشک ہو جائیں، سوکھ جائیں۔ کس کی طرف ضمیر لوٹ رہی ہے؟ عينايا کی طرف، تاکہ میری دونوں آنکھیں سوکھ جائیں، خشک ہو جائیں۔ ترجمہ دوبارہ دیکھیے: سأطلب بعد الدار عنكم لتقربوا وتسكب عيناي الدموع لتجمدا، میں طلب کر رہا ہوں اپنے گھر کی دوری کو عنکم: تم سے، لتقربوا: تاکہ تم لوگ قریب ہو جاؤ، وتسكب عيناي الدموع: اور بہا رہی ہیں میری دونوں آنکھیں آنسو، لتجمدا: تاکہ یہ خشک ہو جائیں۔ یہ تو لفظوں کا ترجمہ ہوا، لفظوں کا ترجمہ۔ یاد رکھیے، خشک ہونے سے مراد ہے خوش ہو جانا، خوشی کا حاصل ہو جانا۔ آنکھوں کے خشک ہونے سے کیا مراد ہے شاعر کے؟ خوش ہو جانا، خوشی کا حاصل ہو جانا۔ تو شاعر کہتا ہے: میں تم لوگوں سے اپنے گھر کی دوری کو طلب کر رہا ہوں کہ میرا گھر تم لوگوں سے دور ہو جائے، لتقربوا: تاکہ تم لوگ قریب ہو جاؤ میرے اور میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں لتجمدا: تاکہ یہ تاکہ یہ خشک ہو جائیں، یعنی انہیں خوشی حاصل ہو جائے، یعنی میں خوش ہو جاؤں۔ مراد کیا ہے؟ میری آنکھیں خوش ہوں گی، یعنی میں خوش ہوں۔ تو میں اپنے گھر کی دوری کو تم لوگوں سے طلب کر رہا ہوں تاکہ تم لوگ میرے قریب ہو جاؤ اور میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں تاکہ مجھے خوشی حاصل ہو جائے، میں خوش ہو جاؤں۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے بھئی، شعر کا مفہوم اور تشریح یہ ہے: شاعر یہ کہنا چاہتا ہے، دنیا میں کسی حالت کو بقا نہیں ہے۔ آج کوئی خوش ہے تو کل غمگین ہے اور آج کوئی غمگین ہے تو کل وہ خوش ہوگا، آج کوئی مالدار ہے تو کل غریب ہوگا اور آج کل آج کوئی غریب ہے تو وہ کل امیر۔ دنیا میں احوال ایک جیسے بدلتے رہتے ہیں۔ امیر جو ہے وہ غریب بن جاتا ہے، اور غریب کیا ہے؟ امیر بن جاتا ہے، آپ بھی دیکھتے ہیں۔ اور اسی طرح کوئی شخص کبھی خوش ہوتا ہے، تو دوسرے دن ہی آپ اسے دیکھتے ہیں غمزدہ بیٹھا ہوتا ہے یا ایک دن وہ غمزدہ بیٹھا ہے، اگلے دن آپ اس کو خوش دیکھیں گے۔ تو یہ دنیا جو ہے اس کے اندر احوال ایک جیسے نہیں، احوال بدلتے رہتے ہیں۔ احوال کیونکہ یہاں کسی حالت کو بقا نہیں ہے بھئی، بقا نہیں ہے۔ تو شاعر کہتا ہے کہ آج اگر میں اپنے احباب، اپنے جو محبین ہیں ان لوگوں کے ساتھ کو اختیار کر لوں، ان کے ساتھ رہنے کو، ان کے قرب کو میں اگر اختیار کر لوں، تو قرب بھی ایک حالت ہے۔ آج میں قرب کو اختیار کروں گا تو یہ قرب ایک حالت ہے اور کسی حالت کو بقا نہیں ہے، تو یہ قرب کل کس سے بدل جائے گا؟ یقیناً بعد سے بدلے گا بھئی کیونکہ کسی حالت کو بقا نہیں۔ تو قرب اس وقت اگر میں قرب کو اختیار کر لوں اور خوشی کو اختیار کر لوں، تو کل اس قرب کے بعد بعد آئے گا اور بعد کی صورت میں غم آئے گا بھئی، اور خوشی کے بعد غم برداشت کے قابل نہیں ہوتا بھئی۔ لہٰذا آج میں، آج میں قرب کو اختیار نہیں کرتا، آج بلکہ میں بعد کو اختیار کرتا ہوں اور آج جب میں بعد کو اختیار کروں گا، تو بعد بھی ایک حالت ہے اور دنیا میں کسی حالت کو بقا نہیں، تو جب آج میں بعد کو اختیار کروں گا، تو کل یقیناً قرب حاصل ہوگا اور قرب کے اندر خوشی ہے۔ تو آج بعد، یعنی غم کو میں اختیار کروں گا تو کل پھر کیا ہوگا اس کے بعد مجھے خوشی حاصل ہوگی، اور غم کے بعد خوشی کی لذت بہت بڑھ جاتی ہے بھئی۔ تو اس وقت شاعر کہتا ہے میں قرب کو نہیں بلکہ کس کو اختیار کر رہا ہوں؟ بعد کو اختیار کر رہا ہوں تاکہ کل کیا حاصل ہو جائے؟ خوشی حاصل ہو جائے بھئی، خوشی حاصل ہو جائے اور نیز اس لیے بھی کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اس وقت اگر میں صبر کروں گا، غم کو اختیار کر لوں گا صبر کے ساتھ، تو کل پھر ہمیشہ کی خوشی مجھے حاصل ہو جائے گی بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہی بات شاعر کہہ رہا ہے۔ سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ عَنْكُمْ لِتَقْرُبُوا، میں طلب کر رہا ہوں اپنے گھر کی دوری کو تم سے تاکہ تم کل کیا ہو جاؤ؟ قریب ہو جاؤ۔ وَتَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُُّمُوعَ، اور میری دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اس وقت، یعنی میں غم کو اختیار میں نے کیا ہوا ہے، لِتَجْمُدَا تاکہ کل وہ سوکھ جائیں، خشک ہو جائیں، یعنی مجھے خوشی حاصل ہو جائے بھئی، خوشی حاصل ہو جائے۔ شعر کا مفہوم اور معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں دیکھیے شاعر نے دوسرے مصرعے کے اندر دو کنائے کیے، دو کنائے۔ پہلا کنایہ ہے وَتَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُُّمُوعَ، میری دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔ یہ کنایہ ہے غم سے۔ یہ کنایہ ہے کس سے؟ بھئی آنکھوں کا آنسو بہانا اس کے ساتھ غم لازم ہے۔ آنکھوں سے آنسو کب بہتے ہیں عموماً؟ جب انسان غمزدہ ہوتا ہے، تو یہ وہ اس کے ساتھ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ یہ ہوا کنایہ اولیٰ۔ تو آنکھوں سے آنسوؤں کے بہنے کو ذکر کیا اور ارادہ کس چیز کا کیا؟ غم کا کہ میں غم کو اختیار کر رہا ہوں، میں غمزدہ ہوں اس وقت۔ یہ پہلا کنایہ ہے اور اس میں شاعر اپنے مقصد میں کامیاب رہا کہ اس آنکھوں سے آنسوؤں کے بہنے کی بات سنتے ہی ذہن سمجھ جاتا ہے کہ یہ شخص غمزدہ ہے۔ اس کو سنتے ہی ذہن کیا سمجھ جاتا ہے؟ کہ یہ شخص غمزدہ ہے بھئی۔ معنی تو تھا آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا، لیکن یہ مراد نہیں۔ مراد اس کی کیا ہے؟ غم سے وہ غمزدہ ہے اور یہ پہلا کنایہ، اور اس میں کسی قسم کی تاکید نہیں، سنتے ہی ذہن فوراً معنی مراد یعنی غم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ یہ شخص غمزدہ ہے بھئی۔ دوسرا کنایہ کیا شاعر نے لِتَجْمُدَا میں بھئی، لِتَجْمُدَا تاکہ یہ دونوں آنکھیں کیا ہو جائیں؟ خشک ہو جائیں۔ یہ ہے کنایہ ثانیہ۔ خشک ہو جائیں اور مراد کیا ہے اس سے شاعر کی؟ خوشی کا حاصل ہونا اور اس کنائے کے اندر تاکید ہے بھئی۔ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن خوشی کی طرف منتقل نہیں ہوتا، ذہن میں خوشی کا معنی نہیں آتا بلکہ غم ہی کی حالت کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے بھئی، غم ہی کی حالت میں اس کی طرف۔ بھئی انسان پر جب بڑے غم آتے ہیں، آپ اردو میں بھی سنتے ہیں کوئی شخص کہتا ہے کہ اتنے غم آئے مجھ پر، اتنی تکالیف آئیں کہ روتے روتے اب تو آنکھیں بھی خشک ہو گئی ہیں۔ آنکھیں بھی خشک ہو گئی ہیں۔ اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ کیا خوشی آ گئی ہے؟ نہیں، معنی یہ ہوتا ہے کہ اتنے غم آئے، اتنے غم آئے کہ اب غم تو ہے لیکن میری آنکھیں آنسو بہانے میں بھی اب بخل کرنے لگی ہیں بھئی۔ اتنے آنسو انہوں نے بہا دیے کہ اب وہ آنسو بہانے میں بھی کیا کر رہی ہیں؟ بخل اور کنجوسی کر رہی ہیں، اب وہ آنسو بھی نہیں بہا رہیں، تو حالت اب بھی غم ہی کی ہے لیکن میری آنکھیں یہ وقت تو رونے ہی کا ہے لیکن اس وقت اب میری آنکھیں آنسو بہانے میں بخل کر رہی ہیں۔ تو دیکھیے کہ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن خوشی کی طرف منتقل نہیں ہوتا بلکہ اس بات کی طرف منتقل ہوتا ہے کہ شاید حالت اب بھی غم والی ہے اور رونے کا وقت ہی ہے لیکن آنکھیں بخل کر رہی ہیں بھئی۔ تو غم ہی کی حالت ہے گویا، خوشی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن خوشی کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو اس کنائے میں شاعر کے تاکید ہے، تاکید ہے۔ تو خلل ہے۔ تاکید کیوں ہے؟ کس اعتبار سے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں معنی لغوی اور معنی مراد کے درمیان واسطے زیادہ آ گئے۔ ایک معنی لغوی تھا، لِتَجْمُدَا کا معنی لغوی کیا؟ خشک ہو جانا، اور معنی مرادی کیا ہے شاعر کا؟ خوش ہو جانا۔ ان دونوں معانی کے درمیان واسطے آ گئے اور واسطے زیادہ آنے کی وجہ سے ذہن اس تک پہنچ نہیں رہا۔ کس طرح زیادہ واسطے آئے؟ دیکھیے بھئی، یہ لکھ لیجیے بلکہ اپنی کتاب پر بھئی۔ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن اولاً منتقل ہوا، آنکھوں کے خشک ہو جانے سے، آنکھوں کے خشک ہو جانے سے اولاً ذہن منتقل ہوا آنسوؤں کے رک جانے کی طرف، آنسوؤں کے رک جانے کی طرف۔ پھر اس سے منتقل ہوگا ذہن، پھر اس سے منتقل ہوگا ذہن غم نہ ہونے کی طرف، غم نہ ہونے کی طرف۔ اور غم نہ ہونے سے ذہن منتقل ہوگا خوشی کی طرف، اور غم نہ ہونے سے ذہن منتقل ہوگا خوشی کی طرف جو مراد ہے شاعر کی، جو مراد ہے شاعر کی۔ لکھ لیا بھئی؟ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن منتقل ہوگا آنسوؤں کے ختم ہو جانے کی طرف، اور آنسوؤں کے ختم ہو جانے سے ذہن منتقل ہوگا غم کے نہ ہونے کی طرف، اور غم کے نہ ہونے سے ذہن منتقل ہوگا خوشی کی طرف بھئی۔ جی، اب ادھر دیکھیے بھئی لکھنا بند کیجیے بھئی۔ تو یہاں دیکھیے، ذکر ہے آنکھوں کا خشک ہونا اور معنی مراد ہے خوشی کا حاصل ہو جانا، بیچ میں دو واسطے آ گئے۔ کتنے واسطے آ گئے؟ دو واسطے آ گئے۔ دیکھیے، یہ ہے معنی لغوی، آنکھوں کا خشک ہونا اور یہ آخر میں ہے، یہ ہے معنی مراد۔ ذہن نے منتقل ہونا اس معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف، لیکن درمیان میں واسطے آ گئے بھئی، زیادہ واسطے اس آنکھوں کے خشک ہو جانے سے ذہن فوراً خوشی کی طرف منتقل ہو ہی نہیں سکتا، درمیان میں واسطے ہیں۔ کس طرح؟ آنکھوں کے خشک ہو جانے سے اولاً ذہن منتقل ہوا آنکھیں خشک ہیں، معلوم ہوا آنسو ختم ہیں۔ آنسو بند ہیں بھئی۔ پہلے اس کی طرف منتقل ہوا، پھر اس سے منتقل ہوا آنسو بند ہیں، معلوم ہوا غم نہیں ہے۔ معلوم ہوا غم نہیں ہے۔ غم نہیں ہے اس سے پھر ذہن منتقل ہوا خوشی کی طرف، جب غم نہیں ہے تو یقیناً کیا ہے؟ خوشی ہے۔ تو دیکھیے جمود، جمود خشک ہونا اور سرور جو مرادی معنی تھا، جمود اور سرور کے درمیان دو واسطے آ گئے۔ جمود سے ذہن منتقل ہوا انتفائے دموع کی طرف کہ دموع آنسو نہیں ہیں، اور انتفائے دموع سے ذہن منتقل ہوا فقدِ غم کی طرف کہ غم نہیں ہے بھئی، اور فقدِ غم سے ذہن منتقل ہوا سرور کی طرف بھئی۔ درمیان میں کتنے واسطے آئے؟ دو واسطے آئے بھئی۔ تو اس دو واسطے آنے کی وجہ سے اب کلام، اب ذہن جو ہے فوراً اور جلدی منتقل نہیں ہوتا معنی مراد کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں شاعر سے غلطی ہوئی، اس کنائے کے اندر اس سے فوراً معنی مراد یعنی خوشی والا معنی سمجھ میں نہیں آتا بھئی۔ تو جب بھی واسطے بڑھیں وہ عموماً جو ہیں اس کی وجہ سے معنی مراد میں خفا آتا چلا جائے گا، وہ ذہن جلدی اس کی طرف، ذہن اس جلدی اس کی طرف منتقل نہیں ہوگا بھئی۔ لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ واسطے جب بھی زیادہ ہوں ذہن منتقل نہ ہو۔ بھئی بعض اوقات واسطے زیادہ ہوتے ہیں لیکن بڑے ظاہر ہوتے ہیں۔ جب ظاہر ہوں تو ذہن فوراً منتقل ہو جائے گا معنی مراد کی طرف۔ یہاں پر واسطے دو ہیں، واسطے بھی دو ہیں اور پھر ان میں خفا بھی ہے، پوری طرح ظاہر نہیں ہے، اس لیے ذہن پوری طرح منتقل نہیں ہوا خوشی کی طرف۔ بعض اوقات واسطے زیادہ ہوں گے لیکن ظاہر ہوں گے، خوب واضح ہوں گے، تو ذہن فوراً منتقل ہو جائے گا، جیسے عربی میں کہتے ہیں جب کوئی شخص بڑا سخی ہو تو کہتے ہیں فُلَانٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ۔ فُلَانٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ، ر، ا، م، ی، ا، د بھئی رماد۔ مثلاً زید بڑا سخی ہے تو ایک آدمی کہتا ہے زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ۔ رماد کہتے ہیں راکھ کو بھئی راکھ کو۔ زید بڑی راکھ والا ہے۔ زید بڑی راکھ، اور مراد اس سے سخاوت ہوتی ہے اور عرب اس کو سنتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے کہ وہ آدمی بڑا سخی ہے بھئی۔ جیسے میں نے کہا تھا شیر آ گیا، بہادر آدمی آیا تھا۔ میں نے کہا شیر آ گیا، آپ فوراً سمجھ گئے کہ کون آیا ہے؟ بہادر۔ اسی طرح عربوں کے سامنے کہیں فُلَانٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ، وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ کیا مراد ہے کہ وہ بڑا سخی ہے اس کا لغوی معنی، وہ کیا ہے؟ زیادہ راکھ والا۔ کَثِيرُ الرَّمَادِ کا کیا معنی؟ اور یہ لیکن مراد کیا ہے؟ سخی۔ تو زیادہ راکھ والا ہونا اور سخاوت، ان کے درمیان بہت سے واسطے ہیں، لیکن پھر بھی ذہن فوراً زیادہ راکھ سے سخاوت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ کس طرح بہت سے واسطے ہیں؟ دیکھیے بھئی۔ زیادہ راکھ ہونے سے ذہن فوراً منتقل ہوا اس بات کی طرف کہ معلوم ہوا اس شخص کے ہاں لکڑیاں زیادہ جلتی ہیں، اور زیادہ لکڑیاں جلنے سے فوراً منتقل ہوا، زیادہ لکڑیاں جلتی ہیں معلوم ہوا اس کے ہاں کھانا زیادہ پکتا ہے۔ اس کی طرف منتقل ہوا، کھانا زیادہ پکنے کی طرف، اور کھانا زیادہ پکنے سے ذہن منتقل ہوا کھانا زیادہ پکتا ہے، معلوم ہوا مہمان زیادہ آتے ہیں۔ اس کی طرف منتقل ہوا، اور زیادہ مہمان آنے سے منتقل ہوا ذہن سخاوت کی طرف، معلوم ہوا یہ سخی آدمی ہے، جبھی اس کے ہاں مہمان زیادہ آتے ہیں۔ اگر یہ بخیل آدمی ہوتا تو کوئی ایک دفعہ آنے کے بعد دوبارہ کبھی اس کے گھر نہ آتا بھئی۔ معلوم ہوا کہ یہ شخص کیا ہے؟ سخی ہے۔ تو دیکھیے کتنے واسطے بیچ میں آ گئے۔ زیادہ راکھ سے ذہن منتقل ہوا زیادہ لکڑی جلنے کی طرف، اور زیادہ لکڑی جلنے سے منتقل ہوا ذہن زیادہ کھانا پکنے کی طرف، اور زیادہ کھانا پکنے سے ذہن منتقل ہوا زیادہ مہمانوں کی طرف، اور زیادہ مہمانوں سے ذہن منتقل ہوا کس کی طرف؟ سخاوت۔ تو یہاں دیکھو تین واسطے بیچ کے بیچ میں آ گئے، لیکن پھر بھی ذہن فوراً منتقل ہو گیا اس لیے کیونکہ یہ واسطے کیا ہیں؟ خوب ظاہر ہیں، ان میں کسی قسم کا خفا نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اردو میں تاکید کی مثال بھئی اردو میں۔ ایک شاعر کہتا ہے: مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا دیکیھے، سنتے ہی معنی سمجھ میں نہیں آتا، کیا کہنا چاہتا ہے شاعر؟ مگس کہتے ہیں شہد کی مکھی کو۔ شاعر کہتا ہے شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دینا، کہیں ناحق پروانے کا، یہ جو پروانے جو آگ پر آتے ہیں پتنگے وغیرہ، کہ ناحق پروانے کا خون ہو جائے گا، وہ بیچارہ مارا جائے گا۔ بھئی اب شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟ پتہ نہیں چل رہا، یہ ہے تاکید بھئی۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو، اس لیے کیونکہ یہ باغ کے اندر جائے گی تو وہاں یہ پھولوں کا رس چوسے گی اور پھر اپنا چھتا بنائے گی اور اس پھولوں کے رس سے اس چھتے کے اندر شہد بنائے گی۔ جب اس چھتے کے اندر شہد ہوگا انسان اس کو دیکھے گا تو وہ آ کر اس شہد کو اتارے گا۔ جب اس شہد اور چھتے کو وہ اتار لے گا تو شہد تو اس میں سے نکال کر انسان استعمال کر لے گا، کھا لے گا، لیکن جو چھتا بچ جائے گا اس سے وہ موم بنائے گا اور اس موم سے پھر وہ موم بتی بنا لے گا، اور موم بتی کو جب وہ جلائے گا اور روشن کرے گا تو آگ ہوگی اور پروانے آگ کے پاس آتے ہیں تو وہ پروانے آئیں گے اور اس آگ پر جل کر بیچارے مر جائیں گے۔ اس لیے شہد کی مکھی کو باغ ہی میں نہ جانے دو تاکہ نہ موم بتی بنے اور نہ پروانے جلیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو کتنے واسطے بیچ میں آ گئے بھئی۔ مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا اسی طرح ایک اور مثال ہے تاکید کی اردو میں بھئی: میری لیلیٰ کو کر دیا مجنوں اے سکندر میں تجھ کو کیا کوسوں؟ میری لیلیٰ کو کر دیا مجنوں اے سکندر میں تجھ کو کیا کوسوں؟ یعنی کیا برا بھلا کہوں تجھے؟ شاعر کیا کہہ رہا ہے؟ کہ اے سکندر، تو نے میری لیلیٰ کو مجنوں بنا دیا ہے تو میں تجھ کو کیا کوسوں، کیا برا بھلا کہوں اب میں تجھے؟ یہ تو ہوا لغوی معنی۔ کہنا کیا چاہتا ہے شاعر؟ کی مراد کیا ہے؟ وہ سمجھ میں نہیں آتی۔ دراصل یہ سکندر بادشاہ جو گزرا ہے، کہتے ہیں یہ آئینہ جس میں آپ اپنی صورت دیکھتے ہیں، شیشہ، یہ آئینہ جو ہے یہ سکندر نے ایجاد کیا تھا، اس نے بنایا تھا بھئی، اس کی طرف نسبت مشہور ہے اس کی طرف۔ تو شاعر کہتا ہے کہ شاعر کہتا ہے کہ اے سکندر، میں تھا عاشق، میں تھا مجنوں اور جو میری معشوقہ تھی وہ لیلیٰ ہے۔ لیلیٰ کون تھی بھئی؟ معشوقہ تھی نا، اور عاشق کون تھا؟ مجنوں۔ تو میں مجنوں تھا اور میری وہ جو تھی معشوقہ تھی، یعنی وہ میری لیلیٰ تھی، لیکن اے سکندر، تو نے شیشہ آئینہ بنا دیا، ایک دن میری معشوقہ کے ہاتھ آئینہ آ گیا۔ اس نے آئینے کے اندر، آئینے کے اندر اپنی صورت دیکھی تو اپنے بے انتہا حسن و جمال کو دیکھ کر وہ خود ہی اپنی عاشق بن گئی بھئی، خود ہی کیا بن گئی؟ اپنی عاشق بن گئی اور اپنی صورت سے اسے محبت ہو گئی، تو پہلے تو تھی وہ معشوقہ لیلیٰ، اب وہ عاشق بن گئی، مجنوں بن گئی، کیا بن گئی؟ مجنوں بن گئی، اپنی عاشق بن گئی اور اے سکندر، یہ سارا کچھ تیری وجہ سے ہوا، اب میں تجھے کیا برا بھلا کہوں، تیری وجہ سے کتنا مسئلہ خراب ہو گیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ میری لیلیٰ کو کر دیا مجنوں اے سکندر میں تجھ کو کیا کوسوں؟ یہ اردو میں ایک دو مثالیں ہیں بھئی۔ بدلتے رہتے ہیں۔ امیر جو ہے وہ غریب بن جاتا ہے اور غریب کیا ہے؟ امیر بن جاتا ہے، آپ بھی دیکھتے ہیں۔ اور اسی طرح کوئی شخص کبھی خوش ہوتا ہے، تو دوسرے دن ہی آپ اسے دیکھتے ہیں غمزدہ بیٹھا ہوتا ہے یا ایک دن وہ غمزدہ بیٹھا ہے، اگلے دن آپ اس کو خوش دیکھیں گے۔ تو یہ دنیا جو ہے اس کے اندر احوال ایک جیسے نہیں، احوال بدلتے رہتے ہیں۔ احوال کیونکہ یہاں کسی حالت کو بقا نہیں ہے بھئی، بقا نہیں ہے۔ تو شاعر کہتا ہے کہ آج اگر میں اپنے احباب، اپنے جو محبین ہیں ان لوگوں کے ساتھ کو اختیار کر لوں، ان کے ساتھ رہنے کو، ان کے قرب کو میں اگر اختیار کر لوں، تو قرب بھی ایک حالت ہے۔ آج میں قرب کو اختیار کروں گا تو یہ قرب ایک حالت ہے اور کسی حالت کو بقا نہیں ہے، تو یہ قرب کل کس سے بدل جائے گا؟ یقیناً بعد سے بدلے گا بھئی کیونکہ کسی حالت کو بقا نہیں۔ تو قرب اس وقت اگر میں قرب کو اختیار کر لوں اور خوشی کو اختیار کر لوں، تو کل اس قرب کے بعد بعد آئے گا اور بعد کی صورت میں غم آئے گا بھئی، اور خوشی کے بعد غم برداشت کے قابل نہیں ہوتا بھئی۔ لہٰذا آج میں، آج میں قرب کو اختیار نہیں کرتا، آج بلکہ میں بعد کو اختیار کرتا ہوں اور آج جب میں بعد کو اختیار کروں گا، تو بعد بھی ایک حالت ہے اور دنیا میں کسی حالت کو بقا نہیں، تو جب آج میں بعد کو اختیار کروں گا، تو کل یقیناً قرب حاصل ہوگا اور قرب کے اندر خوشی ہے۔ تو آج بعد، یعنی غم کو میں اختیار کروں گا تو کل پھر کیا ہوگا اس کے بعد مجھے خوشی حاصل ہوگی، اور غم کے بعد خوشی کی لذت بہت بڑھ جاتی ہے بھئی۔ تو اس وقت شاعر کہتا ہے میں قرب کو نہیں بلکہ کس کو اختیار کر رہا ہوں؟ بعد کو اختیار کر رہا ہوں تاکہ کل کیا حاصل ہو جائے؟ خوشی حاصل ہو جائے بھئی، خوشی حاصل ہو جائے اور نیز اس لیے بھی کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اس وقت اگر میں صبر کروں گا، غم کو اختیار کر لوں گا صبر کے ساتھ، تو کل پھر ہمیشہ کی خوشی مجھے حاصل ہو جائے گی بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہی بات شاعر کہہ رہا ہے۔ سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ عَنْكُمْ لِتَقْرُبُوا، میں طلب کر رہا ہوں اپنے گھر کی دوری کو تم سے تاکہ تم کل کیا ہو جاؤ؟ قریب ہو جاؤ۔ وَتَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُُّمُوعَ، اور میری دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اس وقت، یعنی میں غم کو اختیار میں نے کیا ہوا ہے، لِتَجْمُدَا تاکہ کل وہ سوکھ جائیں، خشک ہو جائیں، یعنی مجھے خوشی حاصل ہو جائے بھئی، خوشی حاصل ہو جائے۔ شعر کا مفہوم اور معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں دیکھیے شاعر نے دوسرے مصرعے کے اندر دو کنائے کیے، دو کنائے۔ پہلا کنایہ ہے وَتَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُُّمُوعَ، میری دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔ یہ کنایہ ہے غم سے۔ یہ کنایہ ہے کس سے؟ بھئی آنکھوں کا آنسو بہانا اس کے ساتھ غم لازم ہے۔ آنکھوں سے آنسو کب بہتے ہیں عموماً؟ جب انسان غمزدہ ہوتا ہے، تو یہ وہ اس کے ساتھ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ یہ ہوا کنایہ اولیٰ۔ تو آنکھوں سے آنسوؤں کے بہنے کو ذکر کیا اور ارادہ کس چیز کا کیا؟ غم کا کہ میں غم کو اختیار کر رہا ہوں، میں غمزدہ ہوں اس وقت۔ یہ پہلا کنایہ ہے اور اس میں شاعر اپنے مقصد میں کامیاب رہا کہ اس آنکھوں سے آنسوؤں کے بہنے کی بات سنتے ہی ذہن سمجھ جاتا ہے کہ یہ شخص غمزدہ ہے۔ اس کو سنتے ہی ذہن کیا سمجھ جاتا ہے؟ کہ یہ شخص غمزدہ ہے بھئی۔ معنی تو تھا آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا، لیکن یہ مراد نہیں۔ مراد اس کی کیا ہے؟ غم سے وہ غمزدہ ہے اور یہ پہلا کنایہ، اور اس میں کسی قسم کی تاکید نہیں، سنتے ہی ذہن فوراً معنی مراد یعنی غم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ یہ شخص غمزدہ ہے بھئی۔ دوسرا کنایہ کیا شاعر نے لِتَجْمُدَا میں بھئی، لِتَجْمُدَا تاکہ یہ دونوں آنکھیں کیا ہو جائیں؟ خشک ہو جائیں۔ یہ ہے کنایہ ثانیہ۔ خشک ہو جائیں اور مراد کیا ہے اس سے شاعر کی؟ خوشی کا حاصل ہونا اور اس کنائے کے اندر تاکید ہے بھئی۔ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن خوشی کی طرف منتقل نہیں ہوتا، ذہن میں خوشی کا معنی نہیں آتا بلکہ غم ہی کی حالت کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے بھئی، غم ہی کی حالت میں اس کی طرف۔ بھئی انسان پر جب بڑے غم آتے ہیں، آپ اردو میں بھی سنتے ہیں کوئی شخص کہتا ہے کہ اتنے غم آئے مجھ پر، اتنی تکالیف آئیں کہ روتے روتے اب تو آنکھیں بھی خشک ہو گئی ہیں۔ آنکھیں بھی خشک ہو گئی ہیں۔ اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ کیا خوشی آ گئی ہے؟ نہیں، معنی یہ ہوتا ہے کہ اتنے غم آئے، اتنے غم آئے کہ اب غم تو ہے لیکن میری آنکھیں آنسو بہانے میں بھی اب بخل کرنے لگی ہیں بھئی۔ اتنے آنسو انہوں نے بہا دیے کہ اب وہ آنسو بہانے میں بھی کیا کر رہی ہیں؟ بخل اور کنجوسی کر رہی ہیں، اب وہ آنسو بھی نہیں بہا رہیں، تو حالت اب بھی غم ہی کی ہے لیکن میری آنکھیں یہ وقت تو رونے ہی کا ہے لیکن اس وقت اب میری آنکھیں آنسو بہانے میں بخل کر رہی ہیں۔ تو دیکھیے کہ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن خوشی کی طرف منتقل نہیں ہوتا بلکہ اس بات کی طرف منتقل ہوتا ہے کہ شاید حالت اب بھی غم والی ہے اور رونے کا وقت ہی ہے لیکن آنکھیں بخل کر رہی ہیں بھئی۔ تو غم ہی کی حالت ہے گویا، خوشی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن خوشی کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو اس کنائے میں شاعر کے تاکید ہے، تاکید ہے۔ تو خلل ہے۔ تاکید کیوں ہے؟ کس اعتبار سے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں معنی لغوی اور معنی مراد کے درمیان واسطے زیادہ آ گئے۔ ایک معنی لغوی تھا، لِتَجْمُدَا کا معنی لغوی کیا؟ خشک ہو جانا، اور معنی مرادی کیا ہے شاعر کا؟ خوش ہو جانا۔ ان دونوں معانی کے درمیان واسطے آ گئے اور واسطے زیادہ آنے کی وجہ سے ذہن اس تک پہنچ نہیں رہا۔ کس طرح زیادہ واسطے آئے؟ دیکھیے بھئی، یہ لکھ لیجیے بلکہ اپنی کتاب پر بھئی۔ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن اولاً منتقل ہوا، آنکھوں کے خشک ہو جانے سے، آنکھوں کے خشک ہو جانے سے اولاً ذہن منتقل ہوا آنسوؤں کے رک جانے کی طرف، آنسوؤں کے رک جانے کی طرف۔ پھر اس سے منتقل ہوگا ذہن، پھر اس سے منتقل ہوگا ذہن غم نہ ہونے کی طرف، غم نہ ہونے کی طرف۔ اور غم نہ ہونے سے ذہن منتقل ہوگا خوشی کی طرف، اور غم نہ ہونے سے ذہن منتقل ہوگا خوشی کی طرف جو مراد ہے شاعر کی، جو مراد ہے شاعر کی۔ لکھ لیا بھئی؟ آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن منتقل ہوگا آنسوؤں کے ختم ہو جانے کی طرف، اور آنسوؤں کے ختم ہو جانے سے ذہن منتقل ہوگا غم کے نہ ہونے کی طرف، اور غم کے نہ ہونے سے ذہن منتقل ہوگا خوشی کی طرف بھئی۔ جی، اب ادھر دیکھیے بھئی لکھنا بند کیجیے بھئی۔ تو یہاں دیکھیے، ذکر ہے آنکھوں کا خشک ہونا اور معنی مراد ہے خوشی کا حاصل ہو جانا، بیچ میں دو واسطے آ گئے۔ کتنے واسطے آ گئے؟ دو واسطے آ گئے۔ دیکھیے، یہ ہے معنی لغوی، آنکھوں کا خشک ہونا اور یہ آخر میں ہے، یہ ہے معنی مراد۔ ذہن نے منتقل ہونا اس معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف، لیکن درمیان میں واسطے آ گئے بھئی، زیادہ واسطے اس آنکھوں کے خشک ہو جانے سے ذہن فوراً خوشی کی طرف منتقل ہو ہی نہیں سکتا، درمیان میں واسطے ہیں۔ کس طرح؟ آنکھوں کے خشک ہو جانے سے اولاً ذہن منتقل ہوا آنکھیں خشک ہیں، معلوم ہوا آنسو ختم ہیں۔ آنسو بند ہیں بھئی۔ پہلے اس کی طرف منتقل ہوا، پھر اس سے منتقل ہوا آنسو بند ہیں، معلوم ہوا غم نہیں ہے۔ معلوم ہوا غم نہیں ہے۔ غم نہیں ہے اس سے پھر ذہن منتقل ہوا خوشی کی طرف، جب غم نہیں ہے تو یقیناً کیا ہے؟ خوشی ہے۔ تو دیکھیے جمود، جمود خشک ہونا اور سرور جو مرادی معنی تھا، جمود اور سرور کے درمیان دو واسطے آ گئے۔ جمود سے ذہن منتقل ہوا انتفائے دموع کی طرف کہ دموع آنسو نہیں ہیں، اور انتفائے دموع سے ذہن منتقل ہوا فقدِ غم کی طرف کہ غم نہیں ہے بھئی، اور فقدِ غم سے ذہن منتقل ہوا سرور کی طرف بھئی۔ درمیان میں کتنے واسطے آئے؟ دو واسطے آئے بھئی۔ تو اس دو واسطے آنے کی وجہ سے اب کلام، اب ذہن جو ہے فوراً اور جلدی منتقل نہیں ہوتا معنی مراد کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں شاعر سے غلطی ہوئی، اس کنائے کے اندر اس سے فوراً معنی مراد یعنی خوشی والا معنی سمجھ میں نہیں آتا بھئی۔ تو جب بھی واسطے بڑھیں وہ عموماً جو ہیں اس کی وجہ سے معنی مراد میں خفا آتا چلا جائے گا، وہ ذہن جلدی اس کی طرف، ذہن اس جلدی اس کی طرف منتقل نہیں ہوگا بھئی۔ لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ واسطے جب بھی زیادہ ہوں ذہن منتقل نہ ہو۔ بھئی بعض اوقات واسطے زیادہ ہوتے ہیں لیکن بڑے ظاہر ہوتے ہیں۔ جب ظاہر ہوں تو ذہن فوراً منتقل ہو جائے گا معنی مراد کی طرف۔ یہاں پر واسطے دو ہیں، واسطے بھی دو ہیں اور پھر ان میں خفا بھی ہے، پوری طرح ظاہر نہیں ہے، اس لیے ذہن پوری طرح منتقل نہیں ہوا خوشی کی طرف۔ بعض اوقات واسطے زیادہ ہوں گے لیکن ظاہر ہوں گے، خوب واضح ہوں گے، تو ذہن فوراً منتقل ہو جائے گا، جیسے عربی میں کہتے ہیں جب کوئی شخص بڑا سخی ہو تو کہتے ہیں فُلَانٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ۔ فُلَانٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ، ر، ا، م، ی، ا، د بھئی رماد۔ مثلاً زید بڑا سخی ہے تو ایک آدمی کہتا ہے زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ۔ رماد کہتے ہیں راکھ کو بھئی راکھ کو۔ زید بڑی راکھ والا ہے۔ زید بڑی راکھ، اور مراد اس سے سخاوت ہوتی ہے اور عرب اس کو سنتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے کہ وہ آدمی بڑا سخی ہے بھئی۔ جیسے میں نے کہا تھا شیر آ گیا، بہادر آدمی آیا تھا۔ میں نے کہا شیر آ گیا، آپ فوراً سمجھ گئے کہ کون آیا ہے؟ بہادر۔ اسی طرح عربوں کے سامنے کہیں فُلَانٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ، وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ کیا مراد ہے کہ وہ بڑا سخی ہے اس کا لغوی معنی، وہ کیا ہے؟ زیادہ راکھ والا۔ كَثِيرُ الرَّمَادِ کا کیا معنی؟ اور یہ لیکن مراد کیا ہے؟ سخی۔ تو زیادہ راکھ والا ہونا اور سخاوت، ان کے درمیان بہت سے واسطے ہیں، لیکن پھر بھی ذہن فوراً زیادہ راکھ سے سخاوت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ کس طرح بہت سے واسطے ہیں؟ دیکھیے بھئی۔ زیادہ راکھ ہونے سے ذہن فوراً منتقل ہوا اس بات کی طرف کہ معلوم ہوا اس شخص کے ہاں لکڑیاں زیادہ جلتی ہیں، اور زیادہ لکڑیاں جلنے سے فوراً منتقل ہوا، زیادہ لکڑیاں جلتی ہیں معلوم ہوا اس کے ہاں کھانا زیادہ پکتا ہے۔ اس کی طرف منتقل ہوا، کھانا زیادہ پکنے کی طرف، اور کھانا زیادہ پکنے سے ذہن منتقل ہوا کھانا زیادہ پکتا ہے، معلوم ہوا مہمان زیادہ آتے ہیں۔ اس کی طرف منتقل ہوا، اور زیادہ مہمان آنے سے منتقل ہوا ذہن سخاوت کی طرف، معلوم ہوا یہ سخی آدمی ہے، جبھی اس کے ہاں مہمان زیادہ آتے ہیں۔ اگر یہ بخیل آدمی ہوتا تو کوئی ایک دفعہ آنے کے بعد دوبارہ کبھی اس کے گھر نہ آتا بھئی۔ معلوم ہوا کہ یہ شخص کیا ہے؟ سخی ہے۔ تو دیکھیے کتنے واسطے بیچ میں آ گئے۔ زیادہ راکھ سے ذہن منتقل ہوا زیادہ لکڑی جلنے کی طرف، اور زیادہ لکڑی جلنے سے منتقل ہوا ذہن زیادہ کھانا پکنے کی طرف، اور زیادہ کھانا پکنے سے ذہن منتقل ہوا زیادہ مہمانوں کی طرف، اور زیادہ مہمانوں سے ذہن منتقل ہوا کس کی طرف؟ سخاوت۔ تو یہاں دیکھو تین واسطے بیچ کے بیچ میں آ گئے، لیکن پھر بھی ذہن فوراً منتقل ہو گیا اس لیے کیونکہ یہ واسطے کیا ہیں؟ خوب ظاہر ہیں، ان میں کسی قسم کا خفا نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اردو میں تاکید کی مثال بھئی اردو میں۔ ایک شاعر کہتا ہے: مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا دیکیھے، سنتے ہی معنی سمجھ میں نہیں آتا، کیا کہنا چاہتا ہے شاعر؟ مگس کہتے ہیں شہد کی مکھی کو۔ شاعر کہتا ہے شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دینا، کہیں ناحق پروانے کا، یہ جو پروانے جو آگ پر آتے ہیں پتنگے وغیرہ، کہ ناحق پروانے کا خون ہو جائے گا، وہ بیچارہ مارا جائے گا۔ بھئی اب شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟ پتہ نہیں چل رہا، یہ ہے تاکید بھئی۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو، اس لیے کیونکہ یہ باغ کے اندر جائے گی تو وہاں یہ پھولوں کا رس چوسے گی اور پھر اپنا چھتا بنائے گی اور اس پھولوں کے رس سے اس چھتے کے اندر شہد بنائے گی۔ جب اس چھتے کے اندر شہد ہوگا انسان اس کو دیکھے گا تو وہ آ کر اس شہد کو اتارے گا۔ جب اس شہد اور چھتے کو وہ اتار لے گا تو شہد تو اس میں سے نکال کر انسان استعمال کر لے گا، کھا لے گا، لیکن جو چھتا بچ جائے گا اس سے وہ موم بنائے گا اور اس موم سے پھر وہ موم بتی بنا لے گا، اور موم بتی کو جب وہ جلائے گا اور روشن کرے گا تو آگ ہوگی اور پروانے آگ کے پاس آتے ہیں تو وہ پروانے آئیں گے اور اس آگ پر جل کر بیچارے مر جائیں گے۔ اس لیے شہد کی مکھی کو باغ ہی میں نہ جانے دو تاکہ نہ موم بتی بنے اور نہ پروانے جلیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو کتنے واسطے بیچ میں آ گئے بھئی۔ مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا اسی طرح ایک اور مثال ہے تاکید کی اردو میں بھئی: میری لیلیٰ کو کر دیا مجنوں اے سکندر میں تجھ کو کیا کوسوں؟ میری لیلیٰ کو کر دیا مجنوں اے سکندر میں تجھ کو کیا کوسوں؟ یعنی کیا برا بھلا کہوں تجھے؟ شاعر کیا کہہ رہا ہے؟ کہ اے سکندر، تو نے میری لیلیٰ کو مجنوں بنا دیا ہے تو میں تجھ کو کیا کوسوں، کیا برا بھلا کہوں اب میں تجھے؟ یہ تو ہوا لغوی معنی۔ کہنا کیا چاہتا ہے شاعر؟ کی مراد کیا ہے؟ وہ سمجھ میں نہیں آتی۔ دراصل یہ سکندر بادشاہ جو گزرا ہے، کہتے ہیں یہ آئینہ جس میں آپ اپنی صورت دیکھتے ہیں، شیشہ، یہ آئینہ جو ہے یہ سکندر نے ایجاد کیا تھا، اس نے بنایا تھا بھئی، اس کی طرف نسبت مشہور ہے اس کی طرف۔ تو شاعر کہتا ہے کہ شاعر کہتا ہے کہ اے سکندر، میں تھا عاشق، میں تھا مجنوں اور جو میری معشوقہ تھی وہ لیلیٰ ہے۔ لیلیٰ کون تھی بھئی؟ معشوقہ تھی نا، اور عاشق کون تھا؟ مجنوں۔ تو میں مجنوں تھا اور میری وہ جو تھی معشوقہ تھی، یعنی وہ میری لیلیٰ تھی، لیکن اے سکندر، تو نے شیشہ آئینہ بنا دیا، ایک دن میری معشوقہ کے ہاتھ آئینہ آ گیا۔ اس نے آئینے کے اندر، آئینے کے اندر اپنی صورت دیکھی تو اپنے بے انتہا حسن و جمال کو دیکھ کر وہ خود ہی اپنی عاشق بن گئی بھئی، خود ہی کیا بن گئی؟ اپنی عاشق بن گئی اور اپنی صورت سے اسے محبت ہو گئی، تو پہلے تو تھی وہ معشوقہ لیلیٰ، اب وہ عاشق بن گئی، مجنوں بن گئی، کیا بن گئی؟ مجنوں بن گئی، اپنی عاشق بن گئی اور اے سکندر، یہ سارا کچھ تیری وجہ سے ہوا، اب میں تجھے کیا برا بھلا کہوں، تیری وجہ سے کتنا مسئلہ خراب ہو گیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ میری لیلیٰ کو کر دیا مجنوں اے سکندر میں تجھ کو کیا کوسوں؟ یہ اردو میں ایک دو مثالیں ہیں بھئی۔ بھئی شعر کا میں نے کیا ترجمہ کیا تھا؟ شاعر کیا کہنا چاہتا تھا؟ کہ دنیا میں کسی حالت کو بقا نہیں۔ میں اس وقت غم کو اختیار کر رہا ہوں تاکہ بعد میں مجھے ہمیشہ کی خوشی حاصل ہو کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے کیونکہ کسی حالت کو بقا نہیں، حالتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آج غم اختیار کروں گا کل خوشی ملے گی اور غم کے بعد خوشی کی لذت بے انتہا ہوتی ہے۔ اگر آج میں خوشی کو اختیار کر لوں تو غم مل جائے گا کل، اور خوشی کے بعد تو غم برداشت کے قابل نہیں ہوتا بھئی۔ یہ پہلا معنی تھا شعر کا۔ بعضوں نے اس شعر کا اور ترجمہ کیا، اور ترجمہ کیا۔ وہ ترجمہ یہ ہے، شاعر یہ کہتا ہے کہ زمانہ اور یہ جو لوگ ہیں یہ سارے میرے رقیب ہیں، میرے مخالف ہیں بھئی۔ میں جو بھی کام کرنے لگتا ہوں یہ ہر میرے کام کے اندر رکاوٹ ڈالتے ہیں، میرے مقصد کے اندر۔ ان کی کوشش ہوتی ہے میں اپنے مقصد میں کسی طرح بھی کامیاب نہ ہوں۔ یہ سارے کیا ہیں میرے؟ رقیب ہیں، میرے مخالف ہیں۔ اور ہر وقت یہ مجھے تکلیف دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، یہ مجھے میرے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیتے، ہر جگہ رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ لہٰذا آج سے اب میں دوسری ترکیب اختیار کرتا ہوں۔ میرا جو مقصد ہوگا، میں اس کا جو عکس اور اس کی جو ضد ہوگی، اس کا اظہار کروں گا اور یوں دکھلاؤں گا جیسے میرا مقصد تو یہ ہے۔ میرا مقصد تو جیسے مثلاً اگر میرا مقصد خوشی ہے تو میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ میرا مقصد خوشی کہ مجھے خوشی مل جائے اس لیے کیونکہ پھر باقی لوگ اور زمانہ میرے کام میں رکاوٹ ڈالیں گے، مجھے خوشی نہیں حاصل ہونے دیں گے۔ تو میں ان کے سامنے یوں ظاہر کروں گا جیسے میرا مقصد غم ہے کہ مجھے کیا حاصل ہو جائے؟ غم۔ تو وہ دیکھیں گے اس کا مقصد تو غم ہے تو اب وہ ہمارے ہر کام میں، ہر مقصد میں رکاوٹ بنتے ہیں، تو وہ غم کے اندر رکاوٹ بن جائیں گے اور مجھے تکلیف نہیں دیں گے کہ کسی طرح اس کو غم نہ، یہ غم لینا چاہتا ہے ہم اس کو غم نہیں لینے دیں گے۔ اور جب غم نہیں لینے دیں گے تو مجھے کیا حاصل ہو جائے گی؟ خوشی۔ اور وہی تو دراصل میرا مقصد ہوگا جسے میں نے چھپا کر دل میں رکھا تھا بھئی۔ تو اس طرح میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چنانچہ یہی بات کہہ رہا ہے: سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ عَنْكُمْ لِتَقْرُبُوا میں تم سے اپنے گھر کی دوری کو طلب کر رہا ہوں، یہ بظاہر میں کر رہا ہوں تاکہ یہ زمانہ اور رقیب دوری نہ ہونے دیں، لِتَقْرُبُوا تو تم کیا ہو جاؤ گے؟ قریب ہو جاؤ۔ وَتَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُُّمُوعَ اور میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، یعنی کیا کس کا اظہار ہے؟ غم کا کہ غم مجھے بڑا محبوب ہے، میں ان کو یہ دکھا رہا ہوں۔ تو وہ کوشش کریں گے کہ نہیں بھئی اب اس کو غم اس کا مقصود ہے تو اور غم مجھے نہیں دیں گے، تکالیف نہیں دیں گے کہ یہ غم کو پسند کر رہا ہے۔ تو اس سے لِتَجْمُدَا میری آنکھیں خشک ہوں گی یعنی مجھے خوشی حاصل ہوگی۔ دوسرا ترجمہ جو میں نے کیا، اسی کو کسی نے اردو شعر میں ادا کیا ہے: مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ شاعر کہتا ہے: مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی۔ ہجر، جدائی۔ یار، محبوب۔ شاعر کہتا ہے میری دعا کے اندر اثر نہیں ہے، قبولیت نہیں ہے بھئی۔ اثر کو میری دعا کے ساتھ مخالفت ہے اور اس میں قبولیت اسی وجہ سے نہیں، چنانچہ میں اپنے محبوب سے ملاقات کی دعا کرتا ہوں لیکن میری دعا میں چونکہ اثر نہیں ہے تو اس لیے میری ملاقات نہیں ہوتی اس سے۔ اب میں اس کا عکس کروں گا کہ اب کیا دعا کروں گا؟ اب محبوب سے جدائی کی دعا کروں گا اور اثر کو تو میری دعا کے ساتھ دشمنی ہے، وہ سمجھے گا کہ شاید اس کا مقصد کیا ہے، محبوب سے دور ہونا چاہتا ہے۔ جب محبوب سے دور ہونا چاہتا ہے تو پھر یہ دور ہونے کی دعا قبول نہیں ہوگی اور جب دور ہونے کی دعا قبول نہیں ہوگی تو پھر یقیناً کیا ہوگا اس کا عکس ہوگا اور میرا مقصد حاصل ہو جائے گا، محبوب سے ملاقات ہو جائے گی بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ تو شاعر نے یہاں پر بھئی دو کنائے کیے، کنایہ اولیٰ جو ہے آنسو بہانا، اس کو کنایہ کیا غم سے اور یہ کنایہ صحیح ہے، اس سے بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اور دوسرا کنایہ کیا شاعر نے لِتَجْمُدَا کے اندر کہ جمود سے کس چیز سے کنایہ کیا؟ سرور اور خوشی سے، اور اس کے اندر تاکید ہے، اس کے معنی کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ جمود آنکھوں کے خشک ہونے سے ذہن جو ہے وہ خوشی اور سرور کی طرف منتقل نہیں ہوتا بلکہ ذہن منتقل ہوتا ہے اس بات کی طرف کہ وقت تو اب بھی غم ہی کا ہے لیکن آنکھیں آنسو بہانے میں بخل سے کام لے رہی ہیں۔ وقت تو بکاء کا ہی ہے، رونے کا ہی ہے لیکن آنکھیں کیا کر رہی ہیں؟ آنسو بہانے سے، آنسو بہانے میں بخل کر رہی ہیں، آنسو نہیں بہا رہی ہیں بھئی۔ جیسے میں نے ذکر کیا کہ اردو میں بھی کہتے ہیں کہ اب تو آنکھیں بھی آنسو، اب تو آنسو بھی خشک ہو گئے ہیں۔ تو وہاں پر بھی دیکھیے آنسوؤں کا خشک ہونا یہ ذکر ہوتا ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ غم ختم ہو گیا اور خوشی آ گئی ہے بلکہ یہ بھی کون سی حالت ہوتی ہے؟ غم ہی کی حالت ہوتی ہے، رونے ہی کا وقت ہوتا ہے لیکن آنکھیں آنسو بہانے میں بخل کرنے لگتی ہیں بھئی۔ دیکھیے یہی بات بتلا رہے ہیں: حَيْثُ كَنَى بِالْجُمُودِ عَنِ السُُّرُورِ اس حیثیت سے کہ شاعر نے کنایہ کیا جمود کے ذریعے سرور سے، خوشی سے اور اس میں تاکید ہے۔ مَعَ أَنَّ الْجُمُودَ يُكْنَى بِهِ عَنِ الْبُخْلِ وَقْتَ الْبُكَاءِ باوجود اس کے کہ جمود جو ہے اس کے ذریعے کنایہ کیا جاتا ہے بخل سے وقت البکاء، روتے وقت۔ جب روتے وقت آنکھیں کیا کریں؟ بخل کریں، تو اس کو اس کا کنایہ جمود کے ساتھ کیا جاتا ہے، جمود کے ساتھ اس کو ذکر کیا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ وقت روتے کا ہی ہوتا ہے وقت البکاء، وقت کیا ہوتا ہے؟ رونے، لیکن اس وقت بخل کرتی ہیں آنکھیں آنسو کے بہانے سے بھئی۔ تو ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ حَيْثُ كَنَى بِالْجُمُودِ عَنِ السُُّرُورِ مَعَ أَنَّ الْجُمُودَ يُكْنَى بِهِ عَنِ الْبُخْلِ وَقْتَ الْبُكَاءِ اس حیثیت سے کہ شاعر نے کنایہ کیا جمود کے ذریعے سرور سے، خوشی سے باوجود اس کے کہ جمود جو ہے اس کے ذریعے کنایہ کیا جاتا ہے روتے وقت بخل کرنے سے، یعنی آنکھوں کے آنسو بہانے میں بخل کرنے سے اور وقت کون سا ہوتا ہے؟ رونے ہی کا۔ تو یہ اس سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ چلیے بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔